Thursday, 29 January 2026

عوامی مغالطے Common Fallacies

 

ذیل میں کچھ عام منطقی مغالطے دیے جا رہے ہیں — ایسی غلط استدلالیں جو دلائل کو کمزور کرتی ہیں۔ میں نے واضح کرنے کے لیے انہیں گروپوں میں تقسیم کیا ہے اور مختصر مثالیں بھی شامل کی ہیں۔

---

🔹 متعلقہ مغالطے

یہ اصلی مسئلے سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔


1. ذاتی حملہ – دلیل پر نہیں، شخص پر حملہ کرنا

      "آپ عالم نہیں ہیں، اس لیے آپ کی بات غلط ہے۔"

2. ڈراؤنا ہیولا – کسی دلیل کو غلط طور پر پیش کرکے اسے تنقید کا نشانہ بنانا

      "وہ ضابطے چاہتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ آزادی سے نفرت کرتا ہے۔"

3. اپیل بہ اتھارٹی – کسی ایسی شخصیت کا سہارا لینا جو اس میدان کی ماہر نہ ہو

      "ایک فلمی ستارہ کہتا ہے کہ یہ دوا کام کرتی ہے۔"

4. اپیل بہ جذبات – منطق کے بجائے خوف، ہمدردی یا غصے کو استعمال کرنا

      "اگر آپ متفق نہیں ہوں گے تو بہت برا ہوگا۔"



---


🔹 کمزور استقرائی مغالطے


یہ ناکافی شواہد پر انحصار کرتے ہیں۔


1. جلدبازی میں تعمیم – بہت کم ڈیٹا سے نتیجہ اخذ کرنا

      "دو افراد بدتمیز تھے، اس لیے وہاں ہر شخص بدتمیز ہے۔"

2. غلط سبب – تعلق کو سبب سمجھ لینا

      "میں نے یہ انگوٹھی پہنی تھی اور پاس ہوگیا — لہٰذا انگوٹھی نے یہ کروایا۔"

3. پھسلواں ڈھلان — یہ دعویٰ کہ ایک قدم انتہائی نتائج کی طرف لے جائے گا

      "اگر ہم نے اس کی اجازت دے دی تو معاشرہ تباہ ہوجائے گا۔"

---


🔹 مفروضاتی مغالطے


یہ بغیر ثبوت کے کسی چیز کو مان لیتے ہیں۔


1. دور استدلال

      "یہ قانون اچھا ہے کیونکہ یہ بہترین قانون ہے۔"

2. جعلی دو راہ – صرف دو آپشنز پیش کرنا جب کہ زیادہ موجود ہوں

      "یا تو میری بات مانو، ورنہ تم ہمارے خلاف ہو۔"

3. بھرا ہوا سوال – ایک ایسا سوال جس میں ایک مفروضہ پہلے سے شامل ہو

       "کیا تم نے دھوکہ دینا بند کردیا ہے؟"


---


🔹 شکلی مغالطے


منطقی ساخت میں غلطیاں۔


1. نتیجہ کی تصدیق

       "اگر بارش ہوئی تو زمین گیلی ہوگی۔ زمین گیلی ہے، لہٰذا بارش ہوئی ہے۔"

2. مقدم کی تردید

       "اگر میں پڑھائی کروں تو پاس ہوجاؤں گا۔ میں نے پڑھائی نہیں کی، اس لیے میں فیل ہوگیا۔"

---



لفظ "حالانکہ" کا استعمال عام طور پر پہلے بیان کردہ خیال (جو عموماً عام تاثر یا غلط فہمی ہوتی ہے) کے برعکس، ایک نئے، زیادہ درست یا حقیقت پر مبنی خیال کو پیش کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ ایک تضاد یا اصلاح کا فقرہ ہے۔

مثلاً:

· "وہ بہت خاموش لگتے ہیں، حالانکہ دراصل وہ تقریبوں کی جان ہوتے ہیں۔"

  (پہلا تاثر: خاموش، حقیقت: تقریبوں کی جان)

---

ایسے ہی دیگر الفاظ/فقرے جو مغالطہ کی اصلاح یا تضاد ظاہر کرتے ہیں:

1. لیکن / مگر

   · سب سے عام فقرے، مخالف یا محدود کرنے والا خیال دیتے ہیں۔

        مثال: "بارش ہو رہی تھی، لیکن ہم سیر کو نکل گئے۔"

2. بلکہ

   · پہلے بیان کو رد کرکے اس کی جگہ زیادہ صحیح بات بتاتا ہے۔

        مثال: "یہ صرف مشکل نہیں ہے، بلکہ ناممکن ہے۔"

3. اگرچہ / اگرچہ کہ

   · تسلیم کرتا ہے کہ پہلی بات جزوی طور پر درست ہے، لیکن اس کے باوجود دوسری بات زیادہ اہم ہے۔

        مثال: "اگرچہ وہ تھکا ہوا تھا، پھر بھی اس نے کام جاری رکھا۔"

4. باوجود اس کے / اس کے باوجود

   · پہلی حالت یا توقع کے برعکس نتیجہ بتاتا ہے۔

        مثال: "ہر مشکل کے باوجود، وہ کامیاب رہا۔"

5. البتہ / البتہ

   · کسی بات کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر ایک ریزرویشن یا مخالف نقطہ پیش کرتا ہے۔

        مثال: "وہ قیمتی ہے، البتہ معیار بہت اچھا ہے۔"

6. گو / گو کہ

   · "اگرچہ" کے قریب، ادبی اور رسمی انداز میں استعمال ہوتا ہے۔

        مثال: "گو وہ جوان ہے، مگر سمجھدار ہے۔"

7. دراصل / درحقیقت / اصل میں

   · غلط فہمی دور کرکے حقیقت بتاتے ہیں۔

        مثال: "لوگ سمجھتے ہیں وہ سخت ہے، دراصل وہ بہت نرم دل ہے۔"

8. ہاں یہ تو ہے مگر / یہ صحیح ہے پر

   · بول چال میں استعمال ہونے والے فقرے جو پہلے نقطے کو تسلیم کرکے اس پر اہم بات جوڑتے ہیں۔

9. سچ تو یہ ہے کہ / حقیقت یہ ہے کہ

   · کسی غلطی کو درست کرنے یا اصل حقیقت بیان کرنے کے لیے۔

10. نہ صرف یہ کہ... بلکہ یہ بھی

    · پہلی بات کو کم تر ظاہر کرکے دوسری زیادہ اہم بات کو نمایاں کرتا ہے۔

---

نوٹ: ان تمام الفاظ میں تضاد، اصلاح، ترمیم، یا رکاوٹ کے معنیٰ پائے جاتے ہیں۔ ان کا انتخاب جملے کے سیاق و سباق، رسمی یا غیر رسمی انداز اور زور دینے کے مقصد پر منحصر ہے۔

































عوامی مغالطہ:
﴿تالی ہمیشہ دو ہاتھوں سے بجتی ہے﴾
"A clap always requires both hands."

اس کے متبادل انگریزی محاورے یہ ہیں:
"It takes two to tango."
"It takes two to make a quarrel.")

یہ کہاوت کہ *﴿تالی ہمشیہ دو ہاتھوں سے بجتی ہے﴾*، کہہ کر جھگڑنے والے دونوں فریقوں کو برابر یا مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم قرار دینے کی دجالیت منوائی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ صرف اسی صورت میں درست ہے جب جھگڑنے والے دونوں (1)طاقت (2)مالداری (1)حق رکھنے میں برابر ہوں۔ ورنہ عادتاً طاقتور کمزور پر، مالدار غریب پر اور غیرمستحق حقدار پر زیادتی کرنے میں عادتاً پہل اور تسلسل جاری رکھتا ہے۔




تفصیلی وضاحت:

1. عقلی و منطقی دلائل

· طاقت کے عدم توازن کا اصول: ہر تنازعہ ایک "سسٹم" میں ہوتا ہے جہاں طاقت (Political)، معاشی (Economic)، سماجی (Social) اور نفسیاتی (Psychological) وسائل برابر تقسیم نہیں ہوتے۔ جب ایک فریق کے پاس وسائل زیادہ ہوں، تو وہ تنازعہ پیدا کرنے، برقرار رکھنے اور اپنے حق میں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
· پہل اور تسلسل کا فرق: ظالم (طاقتور) فریق میں پہل کرنے اور تسلسل جاری رکھنے کی استعداد ہوتی ہے۔ مظلوم (کمزور) فریق کا رد عمل صرف دفاعی یا مجبوری ہوتا ہے۔ دونوں کے اقدامات کو "برابر کا قصور" قرار دینا منطقی مغالطہ (Fallacy of False Equivalence) ہے۔
· مثال: ایک باس جو ملازم پر چیختا ہے (طاقت کا استعمال) اور ملازم جو خاموش رہ کر یا بعد میں شکایت کر کے رد عمل دیتا ہے۔ دونوں "ہاتھ" تو ہیں، لیکن ایک ہاتھ مارنے والا ہے، دوسرا صرف منہ چھپانے والا۔

2. نفسیاتی و سماجی دلائل

· Victim Blaming (مظلوم کو قصوروار ٹھہرانا): یہ کہاوت اکثر مظلوم کو قصوروار ٹھہرانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ نفسیات کے مطابق، طاقتور اکثر اپنی زیادتی کو جواز دینے کے لیے مظلوم میں کوئی نہ کوئی "خرابی" ڈھونڈتا ہے (جیسے: "تم نے مجھے غصہ دلایا"، "تمہاری کمزوری نے میری طاقت کو دعوت دی")۔
· سماجی ڈھانچہ: پدرانہ سماج (Patriarchy) میں عورت پر مرد کی زیادتی اور مادرانہ سماج (Matriarchy) میں مدد پر عورت کی زیادتی کے معاملات
[قرآنی حوالہ»سورۃ البقرۃ:233]
یا سرمایہ دارانہ نظام میں مزدور کے استحصال کے معاملات
ان میں طاقت کا ڈھانچہ ایک فریق کو دوسرے پر برتری دیتا ہے۔ ایسے میں "تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے" کا جملہ ظالم سماجی ڈھانچے کو تحفظ دیتا ہے۔

3. شرعی و اخلاقی دلائل (نقلی دلائل)

· اسلام میں انصاف کا اصول: اسلام میں انصاف کا بنیادی اصول مظلوم کی مدد اور ظالم کی مخالفت ہے۔
  · قرآن میں ہے: وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ (الحجرات:9)
    ترجمہ: "اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ، پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔"
    · یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ "باغی" (زیادتی کرنے والا) اور مظلوم برابر نہیں ہیں۔ حکم ہے کہ ظالم سے لڑو جب تک وہ باز نہ آجائے۔ یہ "تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے" کے عمومی اور غیر مشروط استعمال کی واضح نفی ہے۔
  · حدیث: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک صحابی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! مظلوم کی تو مدد کر لوں، لیکن ظالم کی مدد کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے ظلم سے روکو (یہی اس کی مدد ہے۔)" (بخاری)
    · اس حدیث میں ظالم و مظلوم کے درمیان فرق کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ مدد کا طریقہ ہی بدل جاتا ہے۔

4. عملی مثالیں

1. گھریلو تشدد: ایک عورت جو سالوں کی نفسیاتی اذیت کے بعد اپنے ظالم شوہر پر چیخ اٹھے۔ دونوں "آوازیں" بلند کر رہے ہیں، لیکن اسے "دونوں کا جھگڑا" کہنا ظلم کو normalize کرنا ہے۔
2. استحصالی ملازمت: نوکری چھوڑنے کی استعداد نہ رکھنے والا ملازم جو ہاں میں ہاں ملاتا ہے، پھر دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔ باس اس کی "منافقت" پر الزام لگا سکتا ہے، لیکن یہ معاشی غلامی کا نتیجہ ہے، برابر کا قصور نہیں۔
3. بچہ اور بالغ: اگر ایک بالغ اور بچہ جھگڑا کریں، تو کیا بچے کو "جھگڑالو" کہیں گے؟ ظاہر ہے نہیں، کیونکہ طاقت، تجربہ اور ذمہ داری میں واضح فرق ہے۔

خلاصہ

یہ کہاوت صرف اسی صورت میں معقول ہے جب:

1. دونوں فریق میں طاقت (باڈی، اتھارٹی، معاشی) کا توازن ہو۔
2. دونوں میں حق رکھنے کی حیثیت برابر ہو۔
3. دونوں کے پاس تنازعہ سے نکلنے کے یکساں مواقع ہوں۔

ورنہ، یہ کہاوت ایک خطرناک مغالطہ بن جاتی ہے جو:

· ظالم کو اخلاقی برابری (Moral Equivalence) دیتی ہے۔
· مظلوم کے جائز غصے یا دفاعی ردعمل کو "قصور" بنا کر پیش کرتی ہے۔
· سماجی ناانصافی کے ڈھانچے کو مضبوط کرتی ہے۔

لہٰذا، آپ کا تجزیہ نہ صرف عقلی و سماجی علوم سے متفق ہے، بلکہ اسلامی تعلیمات میں انصاف کے بنیادی اصول سے بھی ہم آہنگ ہے۔ ایک ذمہ دار انسان کا کام ہر تنازعے میں طاقت کے تعلقات (Power Dynamics) کو سمجھنا اور مظلوم کی آواز کو ترجیح دینا ہے، نہ کہ بے سوچے "دونوں ہاتھوں" والی عمومی کہاوت کو لاگو کرنا۔







اغلاط العوام:
موجودہ دور میں عوام میں بعض ایسے غلطیاں مشہور ہیں جن کی کوئی شرعی اصل(دلیل) نہیں اور وہ ان کا ایسا یقین کئے ہوئے ہیں کہ ان کو اس میں کوئی شبہ بھی نہیں پڑتا۔ تاکہ علماء سے تحقیق ہی کرلیں؛ اور اکثر علماء کو بھی ان غلطیوں میں عوام کے مبتلا ہونے کی اطلاع نہیں تاکہ وہی وقتاً فوقتاً ان کا ازالہ کرتے رہیں۔ جب نہ عوام کی طرف سے تحقیق ہو اور نہ علماء کی طرف سے تنبیہہ ہو تو ان غلطیوں کی اصلاح کی کوئی صورت ہی نہ رہے۔ یہ رسالہ فقہیات کا مجموعہ موضوعات ہے اور گو یہ مسائل مختلف ابواب کے ہیں مگر ترتیب وار لکھنا دشوار سے خالی نہ تھا اس لئے مختلف طور پر لکھ دیا ہے۔

یہ کتاب ”اغلاط العوام” ایک علمی اور اصلاحی کتاب ہے جسے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے عوام میں رائج غلط فہمیوں اور غیر مستند عقائد و اعمال کو درست کرنے کے لئے تصنیف کیا ہے۔ یہ کتاب معتبر علمائے کرام کی عرق ریزی اور تحقیق کا ثمرہ ہے، جو عقائد و عبادات اور معاملات کے متعلق افراط و تفریط سے پاک اور درست نظریات فراہم کرتی ہے۔ اس میں ایسے اصول بیان کیے گئے ہیں جو دین کے صحیح راستے پر گامزن رہنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور عامۃ المسلمین کی اصلاح کے لئے نہایت اہم ہیں۔

ڈاؤن لوڈ لنک

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰

قرآن مجید سے فال نکالنا۔
سؤال:
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری والدہ صا حبہ جو کام کرتی ہیں کہتی ہیں کہ پہلے قرآن پاک سے فال نکالو پھر کام کرو۔کیا شریعت کی رو سے قرآن مجید سے فال نکالنا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب:
قرآن مجید سے فال نکالنے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں اس لئے فال نکالنا صحیح نہیں ہے۔قرآن مجید کا مقصد حلال وحرام میں تمیز اور ضابطہ حیا ت کی طر ف ر اہنمائی ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ اگر قرآن سے فال نکالا اور بعد میں وہ بات غلط ثابت ہوئی تو اس غلط بات کی نسبت قرآن مجید کی طرف کی جائے گی جو موجب کفر ہے۔

لما فی قولہ تعالی:
إِنَّ هٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيْرًا۔
(الاسراء: ۹)
وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ۔
(الاعراف: ۱۵۷)

عن ابن عباس قال کان رسول اﷲﷺ یتفاول ولایتطیر وکان یحب الاسم الحسن۔
وفی المشکوۃ (صـ۳۹۲)
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
فال کی شرعی حیثیت
سؤال
کیافرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوتے ہیںجن کے پاس ایک طوطا اور چند لفافے ہوتے ہیں۔کیا ان سے فال نکلوانا صحیح ہے ؟بعض لوگ کہتے ہیں کہ فال نکالنا صحیح ہے کیونکہ روایات سے یہ ثابت ہے؟
الجواب:
صورت مسئولہ میں مروجہ فال کا طریقہ ناجائز ہے جو کسی بھی صورت میں جائز نہیں اور روایات میں جس فال کا ذکر ہے اس سے مراد کوئی اچھا کلمہ یا اچھی تعبیر ہے یعنی آپ نے کوئی کام شروع کیا یا شروع کرنے کا ارادہ کیا اس کے بعد آپ نے کوئی اچھا کلمہ سن لیا اور نیک فالی کے طور پر آپ نے اس سے اچھی تعبیر لے لی تو یہ صحیح ہے۔

کما فی المشکوۃ (صـ۳۹۳):
عن ابی ھریرۃ ؓ قال قال رسول اﷲﷺ من اتی کاھنا فصدقہ بمایقول …… فقد بریٔ مما انزل علی محمد۔
وفیہ ایضا (صـ۲۹۲): عن ابن عباس ؓ قال کان رسول اﷲﷺ یتفاؤل ولا یتطیر وکان یحب الاسم الحسن ……عن انس ان النبیﷺ کان یعجبہ اذاخرج لحاجۃ ان یسمع یاراشد یانجیح۔
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
مسجد کے محراب کی مٹی زخم کے لئے استعمال کرنا۔
سؤال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں ہمارے علاقے میں یہ رواج ہے کہ جب چہرے یا سر پر ایک خاص قسم کا زخم ہوتاہے تو مسجد کے محراب کی مٹی استعمال کرتے ہیں کیا اس طرح علاج کرنا ثابت ہے یا نہیں ؟ اگر ثابت نہیں تو بھی اس کوپاک ومقدس مٹی سمجھ کر استعمال کیا جائے توکیا حکم ہے؟
الجواب:
علاج کے لئے مٹی استعمال کرنا جائز ہے البتہ یہ عقیدہ رکھنا کہ شفا مٹی میں ہے یا کسی خاص مٹی میں ہے یہ درست نہیں۔
لما فی الصحیح للبخاری (۲/۸۵۵): حدثنا علی بن عبداﷲ ……عن عائشۃ رضی اللہ عنھاان النبیﷺ کان یقول للمریض بسم اﷲ تربۃ ارضنا وریقۃ بعضنا یشفی سقیمنا۔



🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
آٹے کی گولیوں پر سورۃ مزمل پڑھ کر سمندر میں پھینکنے کی رسم۔
سؤال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا کہنا ہے کہ آٹے کی گولیوں پر سورہ مزمل پڑھنا اور انہیں جاری پانی جیسے سمندر وغیرہ میں پھینکنا جائز ہے،جبکہ بکر کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیںہے،اب ان دونوں میں جو بات صحیح ہو اس کی وضاحت فرمادیں، اللہ تعالی آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
الجواب:
یہ عمل صفر کے مہینے میں کیا جاتا ہے ،اوراس مہینے کے متعلق لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ اس مہینے میں مصائب وبلائیں اور بیماریاں کثرت سے نازل ہوتی ہیں،اور ان سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ سورہ مزمل آٹے کی گولیوں پر پڑھ کر سمندر وغیرہ میں ڈالی جائیں تاکہ مچھلیاں ان کو کھائیں اور ہم ان مصائب سے محفوظ رہیں۔ لہٰذا سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی یہ مہینہ منحوس ہے کہ اس میں مصائب کثرت سے نازل ہوتے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ماہ صفر کے متعلق نحوست اور مصائب کے نزول کا عقیدہ لوگوں کا من گھڑت اور جاہلانہ عقیدہ ہے، جس کی شریعت اور دین اسلام میں کوئی اصل نہیں ہے، احادیث مبارکہ میں اس قسم کے عقائد سے منع کیا گیا ہے، لہذا ماہ صفر بلکہ کسی چیز کے بارے میں بھی نحوست کا عقیدہ رکھنا جائز نہیں کیونکہ غم وخوشی ،صحت وبیماری وغیرہ سب اللہ تعالی کی مرضی و منشاء اور بندوں کی آزمائش کے طور پر آتے ہیں اس میں نہ تو کسی چیز کی نحوست کا دخل ہے اور نہ کسی اور چیز کا،بلکہ فاعل حقیقی صرف اللہ تعالی کی ذات گرامی ہے۔اس بات کو سمجھ لینے کے بعد یہ سمجھئے کہ اگر مذکورہ عمل بھی ماہ صفر کی نحوست کی بناء پر کیا جاتا ہو تو جائز نہیں کیونکہ ماہ صفر کے بارے میں نحوست کا عقیدہ رکھنا ہی جائز نہیں تو یہ بناء فاسد علی الفاسد کی قبیل سے ہوجائے گا۔اور اگر صرف مقصود مچھلیوں ہی کو کھلانا ہے تو سورہ مزمل کی تخصیص کی کیاو جہ ہے؟ آپ ویسے ہی سمندر میں ڈال دیں البتہ ماہ صفر میں ڈالنے میں پھر بھی پرہیز بہتر ہے تاکہ ان لوگوں سے مشابہت بھی نہ ہو جو مذکورہ عقیدے کی وجہ سے یہ عمل کرتے ہیں۔

لما فی القران ا لکریم:يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً (البقرہ:۲۰۸)
وفی الصحیح للبخاری(۸۵۹/۲):عن ابی ھریرۃ قال قال النبیﷺ قال لاعدویٰ ولا صفرولاھامۃ۔
وفی الصحیح لمسلم (۲۳۰/۲):عن ابی ھریرۃ ؓ حین قال رسول اللہﷺ لا عدویٰ ولاصفر ولاھامۃ فقال اعرابی یا رسول اللہ فما بال الابل تکون فی الرمل کانھا الظباء فیجیٔ البعیرالاجرب فیدخل فیھا فیجربھا کلھا قال فمن اعدی الاول۔
وفی مرقاۃ المفاتیح (۹/صـ۴):(ولا صفر) قال شارح کانت العرب یزعمون انہ حیۃ فی البطن واللدغ الذی یجدہ الانسان عند جوعۃ من عضہ قال ابوداؤد فی سننہ قال بقیۃ سألت محمد بن راشد عنہ قال کانوا یتشائمون بدخول صفر فقال النبیﷺلاصفر …قال القاضی و یحتمل ان یکون نفیا لما یتوھم ان شھر صفر تکثر فیہ الدواھی والفتن۔
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
دو عیدوں کے درمیان شادی کو منحوس سمجھنا
سؤال
کیافرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میںکہ ہمارے ہاں بعض لوگوں میں یہ بات رائج ہے کہ دوعیدوں کے درمیان شادی نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ اس میں برکت نہیں ہوتی اوریہ منحوس ہوتی ہے لہٰذا جلد طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔ آیا یہ بات درست ہے شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب:
ان لوگوں کا مذکورہ خیال درست نہیں ہے کیونکہ اس کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ملتا بلکہ اس کے خلاف خود رسول اﷲ ﷺ کا عمل موجود ہے کہ آپ نے خود شوال کے مہینے میں شادی کی۔

لما فی الصحیح لمسلم (۴۵۶/۱):
عن عائشۃ رضی اﷲ عنھا قالت تزوجنی رسول اﷲﷺ فی شوال وبنی بی فی شوال فای نساء رسول اﷲﷺ کان احظی عندہ منی قال وکانت عائشۃ تستحب ان تدخل نساء ھا فی شوال۔
قال النووی تحت ھذہ الروایۃ:
فیہ استحباب التزوج والتزویج والدخول فی شوال وقد نص اصحابنا علی استحبابہ بھذالحدیث وقصدت عائشۃ بھذا الکلام رد ماکانت الجاھلیۃ علیہ وما یتخیلہ بعض العوام الیوم من کراھۃ التزوج والتزویج والدخول فی شوال وھذا باطل لااصل لہ وھو من آثار الجاھلیۃ کانوا یتطیرون بذلک لمافی اسم شوال من الاشالۃ والرفع۔


(جاری)


No comments:

Post a Comment