اللہ کے 99 ناموں کی فضیلت:
اللہ کے وہ حسین نام جن سے اسے پکارا جائے تو جنت واجب ہوجاتی ہے:
حدیث نمبر 1
حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِن لله تِسْعَة وَتِسْعين اسْما مائَة غير وَاحِد مَا مِنْ عَبْدٍ يَدْعُو بِهَذِهِ الْأَسْمَاءِ إِلَّا وَجَبت لَهُ الْجنَّة۔
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، نہیں ہے کوئی بندہ جو پکارے ان ناموں سے لیکن اس کیلئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔
[طبقات الصوفية للسلمي(م412ھ) : صفحہ331]
[حلية الأولياء وطبقات الأصفياء-أبو نعيم الأصبهاني (م430ھ): ج10 / ص380، حديث إن لله تسعة وتسعين اسما لأبي نعيم الأصبهاني(م430ھ): حدیث نمبر 91]
[تقريب البغية-الهيثمي (م807ھ) : حدیث نمبر4210]
[العجالة في الأحاديث المسلسلة-علم الدين الفاداني (م1411ھ) : ص108]
القرآن:
اور اسمائے حسنی (اچھے اچھے نام) اللہ ہی کے ہیں۔ لہذا اس کو انہی ناموں سے پکارو۔
[سورۃ الاعراف:180]
شرح للمناوي:
(بے شک اللہ عزوجل کے 99 نام ہیں)
"اسم" اس کلمہ کو کہتے ہیں جو کسی مسمی (نام والی ذات) کے مقابلے میں رکھا گیا ہو، کہ جب وہ بولا جائے تو اس سے وہ مسمی سمجھی جائے۔
(سو میں سے ایک کم) ۔
امام رافعی نے اپنی کتاب "أمالی" میں کہا: یہ اس بات کو دور کرنے کے لیے کہا گیا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ تعداد قریب قریب ہے (یعنی تقریبا 99 ہے) اور اشتباہ دور کرنے کے لیے۔
امام بیضاوی نے کہا: تاکید کی فائدہ یہ ہے کہ قیاس کے ذریعے اس میں اضافے کی ممانعت میں مبالغہ کیا جائے، یا اس لیے کہ کاتب کی غلطی اور قلم کی چوک سے 99 کو 97 یا 77 یا 79 کے ساتھ اشتباہ نہ ہو، جس سے مسطور (لکھی ہوئی) سے مسموع (سنی ہوئی) میں اختلاف پیدا ہو جائے۔ "واحدة" کو مؤنث لانے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے "کلمہ" یا "صفة" یا "تسمية" مراد ہے۔
یہ تعداد یہاں حصر (حدود) پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ کتاب اللہ میں "الرب، المولى، النصیر، المحیط، الکافی، العلام" وغیرہ ثابت ہیں، اور سنت میں "الحنان، المنان، الجمیل" وغیرہ ثابت ہیں۔ ان ناموں کو خاص کر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ کے اعتبار سے زیادہ مشہور اور معنی کے اعتبار سے زیادہ واضح ہیں۔ یہ بات قاضی (بیضاوی) نے ذکر کی ہے، اور عنقریب طیبی کی بات آئے گی جو اس کی تردید کرے گی۔
(بے شک وہ وتر ہے) یعنی یکتا اور اکیلا ہے۔ (وتر کو پسند کرتا ہے) یعنی اس پر ثواب دیتا ہے، اسے پسند کرتا ہے اور قبول کرتا ہے۔
(اور کوئی بندہ) یعنی کوئی انسان (ان (ناموں) کے ساتھ) اللہ سے (دعا نہیں کرتا مگر اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے) یعنی سابقین کے ساتھ جنت میں داخلہ، یا بغیر عذاب کے پہلے ہی داخلہ، بشرطیکہ اس کی نیت سچی ہو اور اس کا ارادہ خالص ہو۔
(تنبیہ:) ابن عربی نے کہا: علمِ الٰہی میں جو بھی حکم ذات کے لیے ثابت ہوتا ہے وہ دراصل الوہیت (الٰہ ہونے) کے لیے ہوتا ہے، اور وہ احکام، نسبتیں، اضافے اور سلبی صفات ہیں۔ پس کثرت نسبتوں میں ہے نہ کہ تعداد میں۔ یہاں ان لوگوں کا قدم پھسل گیا جنہوں نے صفات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس ذات میں شرک کیا ہے جو شرک قبول کرتی ہے اور اس میں جو شرک قبول نہیں کرتی، ان میں فرق نہیں کیا۔ انہوں نے ان امورِ جامعہ پر اعتماد کیا جو دلیل، حقیقت، علت اور شرط ہیں، اور ان کے ذریعے غائب اور شاہد (دونوں) پر حکم لگایا۔ شاہد (دنیا) میں تو یہ بات کبھی درست ہو سکتی ہے، لیکن غائب (اللہ کی ذات) میں ہرگز درست نہیں۔
(اس حدیث کو امام ابونعیم نے حلیۃ الاولیاء میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے)۔
[فيض القدير شرح جامع الصغير-للمناوي:2369]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات:
1. اسم کی تعریف: اسم وہ لفظ ہے جو کسی ذات کے لیے وضع کیا گیا ہو اور اس کے بولنے سے اس ذات کا علم حاصل ہو۔
2. تعداد کی حکمت: اللہ کے 99 ناموں کے ذکر میں "سو میں سے ایک کم" کہہ کر تاکید کی گئی ہے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ تعداد قریب قریب ہے، اور تحریر کی غلطیوں سے بچا جا سکے۔
3. حصر نہیں: یہ تعداد اللہ کے ناموں کے حصر (حدود) کے لیے نہیں ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں اس سے زیادہ نام موجود ہیں۔ یہ صرف ان مشہور ناموں کا ذکر ہے جو لفظی و معنوی اعتبار سے زیادہ واضح ہیں۔
4. اللہ وتر ہے: اللہ تعالیٰ یکتا اور اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ طاق عدد کو پسند فرماتا ہے۔
5. دعا کی قبولیت: جو شخص اللہ کے ان ناموں کے ساتھ خلوصِ نیت سے دعا کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
6. کثرت نسبتوں میں ہے، ذات میں نہیں: اللہ کی صفات اور نام اگرچہ کثیر ہیں، لیکن اس کی ذات ایک اور واحد ہے۔ کثرت صرف نسبتوں، اضافوں اور اعتبارات میں ہے۔
7. شرک سے بچاؤ: اللہ کی صفات پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں ایسی بات نہ کہی جائے جس سے ذاتِ باری تعالیٰ میں کسی قسم کی کثرت یا ترکیب کا وہم پیدا ہو۔
8. غائب پر شاہد کو قیاس نہ کریں: دنیوی مشاہدات کو اللہ کی ذات پر قیاس کرنا درست نہیں۔ اللہ کی ذات و صفات کا علم صرف وحی کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
9. اسماء حسنیٰ کی جامعیت: یہ نام اللہ کی صفاتِ کمالیہ کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کے ذریعے اللہ سے دعا مانگنے کا حکم ہے۔
10. سند کا مرتبہ: اس حدیث کو امام ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور علماء نے اس کے حسن یا ضعف پر مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔
اللہ کے 99 ناموں کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" (إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا , مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا) (¬1) (إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ (¬2)) (¬3) (مَنْ حَفِظَهَا) (¬4) [ وفي رواية: مَنْ أَحْصَاهَا] (¬5) (كُلَّهَا) (¬6) (دَخَلَ الْجَنَّةَ) (¬7) "
ترجمہ
"بے شک اللہ کے ننانوے نام ہیں، سو میں سے ایک کم۔(¬1) بے شک وہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔(¬2)(¬3) جس شخص نے انہیں حفظ کیا(¬4) [یا دوسری روایت میں: جس نے ان کا احصاء کیا(¬5)] سب کو(¬6)، وہ جنت میں داخل ہوگا۔"(¬7)
---
حواشی اور تخریج
(¬1) مسند أحمد:10532، صحیح بخاری:2736-7392، صحيح مسلم:2677، سنن ابن ماجة:3860، سنن الترمذي:3506-3508، صحيح ابن حبان:807، مسند البزار:7747-8733-8860-9846-9847-9925-10038، السنن الكبرى للنسائي:7612، المعجم الأوسط-للطبراني:981-2295-4070-4900، السنن الكبرى للبيهقي:11455-19816-19817، شرح السنة للبغوي:1256
(¬2) (الْوِتْر) بِفَتْحِ الْوَاو وَكَسْرهَا: الْفَرْد , وَمَعْنَى (يُحِبّ) أَيْ: مِنْ الْأَذْكَار وَالطَّاعَات مَا هُوَ عَلَى عَدَد الْوِتْر , وَيُثِيب عَلَيْهِ لِاشْتِمَالِهِ عَلَى الْفَرْدِيَّة.
ترجمہ:
"الوتر" (واؤ کے فتح اور کسر دونوں کے ساتھ) کے معنی ہیں طاق (فرد)۔ اور "محبت" سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اذکار اور طاعات میں سے ان کو پسند فرماتا ہے جو وتر (طاق) عدد پر ہوں، اور ان پر ثواب عطا فرماتا ہے کیونکہ ان میں فردیت (یکتائی) پائی جاتی ہے۔
[حاشیہ السندی علی ابن ماجہ - (ج 7 / ص 243)]
(¬3) سنن ابن ماجہ:3861، السنن الكبرى للنسائي:7612، مسند احمد:7502-8146، صحيح ابن حبان:808، الدعاء للطبراني:107-109-110، مسند الشاميين للطبراني:3286، التوحيد لإبن منده:154-156-242-346، المستدرك الحاكم:41، الأسماء والصفات للبيهقي:5-21، السنن الكبرى للبيهقي:11455-19816، شعب الإيمان-للبيهقي:101، شرح السنة للبغوي:1256
(¬4) مسند الحميدي:1164، صحیح مسلم:2677، صحیح البخاري:6047، سنن ابن ماجہ:3861، مسند ابویعلیٰ:6277، التوحید لإبن منده:155، الأسماء والصفات للبيهقي:4
(¬5) مسند أحمد:10532، صحیح بخاری:2736-7392، صحيح مسلم:2677، سنن ابن ماجة:3860، سنن الترمذي:3506-3508، صحيح ابن حبان:807، مسند البزار:7747-8733-8860-9846-9847-9925-10038، السنن الكبرى للنسائي:7612، المعجم الأوسط-للطبراني:981-2295-4070-4900، السنن الكبرى للبيهقي:11455-19816-19817، شرح السنة للبغوي:1256
شرح البغوي:
قَوْلُهُ: «مَنْ أحصاها»، قِيلَ: أَرَادَ عَدَّهَا، وَقِيلَ: مَعْنَاهُ: عَرَفَهَا، وَعَقَلَ مَعَانِيهَا، وَآمَنَ بِهَا، يُقَالُ: فُلانٌ ذُو حَصَاةٍ وَأَصَاةٍ: إِذَا كَانَ عَاقِلا مُمَيِّزًا.
وَفِي بَعْضٍ الرِّوَايَاتِ: «مَنْ حَفِظَهَا دخل الْجَنَّةَ» وَقَوْلُهُ: {وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا} [ الْجِنّ: 28]
أَيْ: عَلِمَ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ.
وَقِيلَ: مَنْ أحصاها، أَيْ: أَطَاقَهَا، كَقَوْلِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى: {عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ} [ المزمل: 20]
أَيْ: تُطِيقُوهُ، يَقُولُ: مَنْ أَطَاقَ الْقِيَامَ بِحَقِّ هَذِهِ الأَسَامِي، وَالْعَمَلَ بِمُقْتَضَاهَا، كَأَنَّهُ إِذَا قَالَ: الرَّزَّاقُ، وَثِقَ بِالرِّزْقِ، وَإِذَا قَالَ: الضَّارُّ النَّافِعُ، عَلِمَ أَنَّ الْخَيْرَ وَالشَّرَّ مِنْهُ، وَعَلَى هَذَا سَائِرُ الأَسْمَاءِ.
ترجمہ:
"مَنْ أَحْصَاهَا" (جس نے ان کا احصاء کیا) کے بارے میں کہا گیا ہے:
· بعض نے کہا: اس سے مراد ہے انہیں گننا (تعداد شمار کرنا)۔
· اور بعض نے کہا: اس کا معنی ہے: انہیں جاننا، ان کے معانی سمجھنا، اور ان پر ایمان لانا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے: "فلانٌ ذُو حَصَاةٍ" یعنی وہ عقلمند اور ممیز ہے۔
· اور بعض روایات میں لفظ "مَنْ حَفِظَهَا" (جس نے انہیں یاد کیا) ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا} [الجن:28] یعنی اس نے ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے، یا ہر چیز کی تعداد کا علم رکھتا ہے۔
· اور کہا گیا: "مَنْ أَحْصَاهَا" سے مراد ہے: جو ان پر عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: {عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ} [المزمل: 20] یعنی تم اسے ہرگز طاقت نہیں رکھ سکتے (یعنی قیام اللیل کی پابندی نہیں کر سکتے)۔
· گویا معنی یہ ہے: جو شخص ان ناموں کے حقوق ادا کرنے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ مثلاً جب وہ کہتا ہے "الرزاق" تو وہ رزق پر بھروسہ کرے، جب کہتا ہے "الضار النافع" تو جان لے کہ خیر اور شر سب اسی کی طرف سے ہے۔ اور اسی طرح تمام ناموں کے ساتھ معاملہ کرے۔
[شرح السنة للبغوي:1256]
قَالَ الْأَصِيلِيّ: الْإِحْصَاء لِلْأَسْمَاءِ الْعَمَل بِهَا لَا عَدّهَا وَحِفْظهَا؛ لِأَنَّ ذَلِكَ قَدْ يَقَع لِلْكَافِرِ الْمُنَافِق , كَمَا فِي حَدِيث الْخَوَارِج يَقْرَءُونَ الْقُرْآن لَا يُجَاوِز حَنَاجِرهمْ.
ترجمہ:
امام اصیلی فرماتے ہیں: اسماء کا احصاء (شمار) سے مراد ان پر عمل کرنا ہے، نہ کہ محض انہیں گننا اور حفظ کرنا۔ کیونکہ یہ (محض گننا اور حفظ کرنا) کافر اور منافق کو بھی حاصل ہو سکتا ہے، جیسا کہ خوارج کے بارے میں حدیث میں ہے کہ وہ قرآن پڑھتے ہیں لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔
وَقَالَ اِبْن بَطَّال: الْإِحْصَاء يَقَع بِالْقَوْلِ وَيَقَع بِالْعَمَلِ , فَاَلَّذِي بِالْعَمَلِ أَنَّ لِلَّهِ أَسْمَاء يَخْتَصّ بِهَا , كَالْأَحَدِ وَالْمُتَعَال وَالْقَدِير وَنَحْوهَا، فَيَجِب الْإِقْرَار بِهَا وَالْخُضُوع عِنْدهَا، وَلَهُ أَسْمَاء يُسْتَحَبّ الِاقْتِدَاء بِهَا فِي مَعَانِيهَا: كَالرَّحِيمِ وَالْكَرِيم وَالْعَفُوّ وَنَحْوهَا، فَيُسْتَحَبّ لِلْعَبْدِ أَنْ يَتَحَلَّى بِمَعَانِيهَا لِيُؤَدِّيَ حَقّ الْعَمَل بِهَا , فَبِهَذَا يَحْصُل الْإِحْصَاء الْعَمَلِيّ، وَأَمَّا الْإِحْصَاء الْقَوْلِيّ فَيَحْصُل بِجَمْعِهَا وَحِفْظهَا وَالسُّؤَال بِهَا , وَلَوْ شَارَكَ الْمُؤْمِن غَيْره فِي الْعَدّ وَالْحِفْظ، فَإِنَّ الْمُؤْمِن يَمْتَاز عَنْهُ بِالْإِيمَانِ وَالْعَمَل بِهَا.
ترجمہ:
ابن بطال نے فرمایا: احصاء قول سے بھی ہوتا ہے اور عمل سے بھی۔
· عملی احصاء یہ ہے کہ اللہ کے بعض نام ایسے ہیں جو خاص اسی کے ساتھ مخصوص ہیں، جیسے الاحد، المتعال، القدیر وغیرہ، تو ان کا اقرار کرنا اور ان کے سامنے عاجزی کرنا واجب ہے۔ اور بعض نام ایسے ہیں جن کے معانی میں اقتداء مستحب ہے، جیسے الرحیم، الکریم، العفو وغیرہ، تو بندے کے لیے مستحب ہے کہ وہ ان کے معانی سے متصف ہو کر ان پر عمل کرے۔ اس طرح عملی احصاء حاصل ہوتا ہے۔
· قولی احصاء ان ناموں کو جمع کرنے، حفظ کرنے اور ان کے ساتھ دعا مانگنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ مومن دوسرے (کافر) کے ساتھ گنتی اور حفظ میں شریک ہو سکتا ہے، لیکن مومن ان پر ایمان اور عمل کی وجہ سے اس سے ممتاز ہو جاتا ہے۔
[فتح الباری لابن حجر - (ج 20 / ص 466)]
وَنُقِلَ عَنْ إِسْحَاق بْن رَاهْوَيْهِ أَنَّ جَهْمًا قَالَ: لَوْ قُلْت إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَة وَتِسْعِينَ اِسْمًا لَعَبَدْت تِسْعَة وَتِسْعِينَ إِلَهًا، قَالَ فَقُلْنَا لَهُمْ: إِنَّ اللَّه أَمَرَ عِبَاده أَنْ يَدْعُوهُ بِأَسْمَائِهِ، فَقَالَ (وَلِلَّهِ الْأَسْمَاء الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا) وَالْأَسْمَاء جَمْعٌ أَقَلُّه ثَلَاثَة , وَلَا فَرْق فِي الزِّيَادَة عَلَى الْوَاحِد بَيْن الثَّلَاثَة وَبَيْن التسعة وَالتِّسْعِينَ.
ترجمہ:
اسحاق بن راہویہ سے منقول ہے کہ جہم (بن صفوان) نے کہا: اگر میں کہوں کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں تو میں ننانوے معبودوں کی عبادت کروں گا۔ (راوی) کہتے ہیں: ہم نے ان سے کہا: اللہ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اسے اس کے ناموں سے پکاریں، چنانچہ فرمایا: {وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا} (الاعراف: 180) (اور اللہ کے لیے اچھے نام ہیں، اسے انہی سے پکارو)۔ اور "اسماء" جمع ہے جس کی کم از کم تین ہے، اور ایک سے زیادہ میں تین اور ننانوے میں کوئی فرق نہیں۔
[فتح الباری لابن حجر - (ج 20 / ص 466)]
(¬6) مسند احمد:9513-10481، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔
(¬7) صحیح بخاری:2585، صحیح مسلم:2677
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. اللہ کے ناموں کی تعداد: حدیث میں صراحت ہے کہ اللہ کے ننانوے (99) نام ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کے نام صرف انہیں تک محدود ہیں، بلکہ یہ کہ ان مخصوص ناموں کا احصاء جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے .
2. اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یکتا اور اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ اذکار اور طاعات میں طاق عدد کو پسند فرماتا ہے [c: حاشیہ السندی].
3. "احصاء" کے معنی: علماء نے "احصاء" کے کئی معانی بیان کیے ہیں [c: فتح الباری]:
· قولی احصاء: ناموں کو جمع کرنا، حفظ کرنا اور ان کے ساتھ دعا مانگنا۔
· عملی احصاء: ان ناموں کے معانی کو سمجھنا اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا۔
4. محض حفظ کافی نہیں: امام اصیلی نے واضح کیا کہ احصاء سے مراد محض گننا اور حفظ کرنا نہیں، بلکہ ان پر ایمان لانا اور عمل کرنا ہے، ورنہ کافر اور منافق بھی حفظ کر سکتے ہیں۔
5. اسماء کی دو قسمیں (ابن بطال کا نکتہ):
· اسماء مختصہ: جو صرف اللہ کے ساتھ مخصوص ہیں (الاحد، المتعال، القدیر) – ان کا اقرار اور ان کے سامنے عاجزی واجب ہے۔
· اسماء اقتداء: جن کے معانی میں بندہ اقتداء کر سکتا ہے (الرحیم، الکریم، العفو) – ان کے معانی سے متصف ہونا مستحب ہے۔
6. اسماء کا کثرت پر دلالت: اسحاق بن راہویہ کے حوالے سے واضح کیا گیا کہ اللہ کے ایک سے زیادہ نام ہونا شرک نہیں، بلکہ وہ ایک ہی ذات کے مختلف صفاتی نام ہیں۔
7. جنت میں داخلے کا ذریعہ: ان ناموں کا صحیح معنوں میں احصاء (یاد، ایمان، عمل اور دعا) کرنا جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔
8. حدیث کی صحت: یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں ہے اور انتہائی صحیح ہے۔
اس حدیث میں اسماء کی فہرست نہیں بلکہ صرف تعداد بتائی گئی ہے۔
---
وہ خوبصورت نام کیا/کتنے ہیں؟
اللہ کے 99 ناموں کی فضیلت:
حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، جو انہیں گھیرے گا جنت میں داخل ہوگا۔
هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ الْمَلِکُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْغَفَّارُ الْقَهَّارُ الْوَهَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْحَکَمُ الْعَدْلُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ الْغَفُورُ الشَّکُورُ الْعَلِيُّ الْکَبِيرُ الْحَفِيظُ الْمُقِيتُ الْحَسِيبُ الْجَلِيلُ الْکَرِيمُ الرَّقِيبُ الْمُجِيبُ الْوَاسِعُ الْحَکِيمُ الْوَدُودُ الْمَجِيدُ الْبَاعِثُ الشَّهِيدُ الْحَقُّ الْوَکِيلُ الْقَوِيُّ الْمَتِينُ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ الْمُحْصِي الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْمُحْيِي الْمُمِيتُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ الْوَاجِدُ الْمَاجِدُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمُقَدِّمُ الْمُؤَخِّرُ الْأَوَّلُ الْآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْوَالِيَ الْمُتَعَالِي الْبَرُّ التَّوَّابُ الْمُنْتَقِمُ الْعَفُوُّ الرَّئُوفُ مَالِکُ الْمُلْکِ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ الْمُقْسِطُ الْجَامِعُ الْغَنِيُّ الْمُغْنِي الْمَانِعُ الضَّارُّ النَّافِعُ النُّورُ الْهَادِي الْبَدِيعُ الْبَاقِي الْوَارِثُ الرَّشِيدُ الصَّبُورُ
ترجمہ:
وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ بہت مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے، وہ بادشاہ ہے، وہ پاک ومنزّہ، سلامتی دینے والا، امن دینے والا، نگہبان، غالب، جبار و متکبر، پیدا کرنے والا، عدم سے وجود میں لانے والا، تصویر کشی کرنے والا، بخشنے والا، تمام مخلوق پر غالب، عطا کرنے والا، رزق دینے والا، فیصلہ کرنے والا، جاننے والا، تنگی دور کرنے والا، فراخی کرنے والا، اوپر کرنے والا، عزت دینے والا، ذلت دینے والا، دیکھنے والا، حکم دینے والا، عدل کرنے والا، باریک بین، خبر رکھنے والا، عظمت والا، بخشنے والا، قدر دان، بلند، بڑا، حفاظت کرنے والا، نگرانی کرنے والا، کفایت کرنے والا،، شان و بزرگی والا، سخی داتا، حفاظت کرنے والا، دعائیں قبول کرنے والا، کشائش والا، حکمت والا، محبت رکھنے والا، شان و شوکت والا، مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنے والا، حاضر، ثابت، کارساز، قوی، طاقت والا، مددگار، قابل ستائش، احاطہ کرنے والا، پہلی بار پیدا کرنے والا، دوبارہ پیدا کرنے والا، مارنے والا، زندگی بخشنے والا، قائم رہنے اور قائم رکھنے والا، پالنے والا، بزرگی والا، یکتا، تنہا، بے نیاز، قادر و مقتدر، آگے کرنے والا، پیچھے کرنے والا، اول، آخر، ظاہر، باطن، تمام اشیاء کا مالک، بلند تر، احسان کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا ، انتقام لینے والا، درگزر کرنے والا، شفقت کرنے والا، شہنشاہ، عظمت و اکرام والا، روز قیامت جمع کرنے والا، غنی بے نیاز کرنے والا، روکنے والا، نقصان پہنچانے والا، نفع دینے والا، مجسّم نور، راہ دکھانے والا، بے مثال، پیدا کرنے والا، باقی رکھنے والا، وارث، راہنمائی کرنے والا، بہت برداشت کرنے والا۔
تشریح علامہ مناوی:
"إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ"
ترجمہ:
"بے شک اللہ عزوجل کے 99 نام ہیں، جو شخص ان کا احصاء کرے گا (انہیں شمار کرے گا / یاد کرے گا / ان پر عمل کرے گا) وہ جنت میں داخل ہوگا۔"
---
تخریج و حوالہ:
· ت (ترمذی) فی الدعوات
· حب (ابن حبان)
· ك (حاکم)
· هب (بیہقی)
· سب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
· امام ترمذی نے اسے "غریب" کہا ہے۔
· امام نووی نے فرمایا: "یہ حدیث حسن ہے" (الأذکار)
---
شرح الاسماء (ناموں کی تشریح):
1. "مَنْ أَحْصَاهَا" کے معانی:
· عام معنی: ان ناموں کو ترتیل کے ساتھ پڑھنا، گویا انہیں گننا۔
· خاص معنی: ان کے معانی پر غور کرنا اور ان کی حقیقت تک پہنچنا۔
· اخص معنی: ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا، یعنی ان کے معانی کو سمجھ کر اپنے نفس کو ان کے مطابق ڈھالنا۔
· پہلا معنی عوام کے لیے، دوسرا علماء کے لیے، تیسرا اولیاء کے لیے ہے۔
2. "دَخَلَ الْجَنَّةَ":
جو شخص ان ناموں کو شمار کرے، ان پر ایمان لائے، ان کے ذریعے اللہ سے دعا کرے، اور ان کے ساتھ اللہ کی تعریف و ثنا کرے، وہ جنت کا مستحق ہوگا۔
---
اسماء الحسنیٰ کی تفصیلی تشریح:
1. (اللہ)
· یہ اسم ذات ہے جو تمام الٰہی صفات کو جامع ہے۔
· اصل میں سریانی زبان کا لفظ "لاہا" ہے جو عربی میں آیا، یا عربی زبان کا خاص اسم ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔
2. (الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ)
· رحمت سے مشتق ہیں۔ رحمت کا مطلب ہے: انعام و احسان کا ارادہ یا خود انعام و احسان۔
· الرحمٰن: سب سے زیادہ مہربان، یہ صفت صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔
· الرحیم: ہمیشہ رحم کرنے والا، یہ صفت دوسروں کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
· بندے کا حصہ: اللہ پر توکل کرنا، اسی سے مدد مانگنا، اور اللہ کے بندوں پر رحم کرنا۔
3. (الْمَلِكُ)
· بادشاہ، جس کے پاس کامل قدرت ہے اور وہ ہر چیز پر تصرف رکھتا ہے۔
· مراد: پیدا کرنے، ایجاد کرنے، موت دینے اور زندگی دینے پر قدرت رکھنے والا۔
4. (الْقُدُّوسُ)
· ہر عیب اور نقص سے پاک، تقدیس (پاکی) والا۔
· حقیقت: تغیر و تبدل سے بلند و بالا۔
5. (السَّلَامُ)
· اپنے بندوں کو ہلاکتوں سے محفوظ رکھنے والا، یا جنت میں سلامتی دینے والا، یا ہر آفت و نقص سے پاک ذات۔
6. (الْمُؤْمِنُ)
· اپنے رسولوں کی تصدیق کرنے والا، یا اپنی مخلوق کو امن دینے والا، یا قیامت کے دن ابرار کو بڑی گھبراہٹ سے امان دینے والا۔
7. (الْمُهَيْمِنُ)
· نگرانی کرنے والا، حفاظت کرنے والا۔
· معنی: شاہد، عالم، یا اپنی مخلوق کے اعمال، رزق اور عمر پر نگہبان۔
8. (الْعَزِيزُ)
· عزت والا، غالب، قاہر، نایاب، یا ہر ممکن چیز پر غالب۔
· اس میں قدرت کے معنی ہیں۔
9. (الْجَبَّارُ)
· جبر سے ماخوذ، جس کے معنی ہیں کسی چیز کو قہر کے ساتھ درست کرنا۔
· معنی: مخلوق کے امور کی اصلاح کرنے والا، یا متکبرین کو نیچا دکھانے والا، یا سب سے بلند و بالا۔
10. (الْمُتَكَبِّرُ)
· کبریائی والا، جو اپنے سوا ہر چیز کو حقیر سمجھے۔
· یہ صفت صرف اللہ کے لیے ہے، کسی اور کے لیے نہیں۔
11. (الْخَالِقُ)
· پیدا کرنے والا، اصل معنی: کسی چیز کا اندازہ لگانا، پھر عدم سے وجود میں لانا۔
· ہر چیز کا خالق وہی ہے۔
12. (الْبَارِئُ)
· پیدا کرنے والا، بنانے والا، جو مخلوق کو عدم سے وجود میں لائے۔
· اس کی تخلیق میں کوئی تفاوت اور تنافر نہیں۔
13. (الْمُصَوِّرُ)
· صورت بنانے والا، جو ہر مخلوق کو اس کی مناسب صورت عطا کرے۔
· حکمت والا۔
14. (الْغَفَّارُ)
· بہت بخشنے والا، گناہوں پر پردہ ڈالنے والا، دنیا میں پردہ پوشی کرنے والا اور آخرت میں عفو کرنے والا۔
15. (الْقَهَّارُ)
· سب پر غالب، جس کی قدرت کے سامنے ہر چیز مغلوب ہو، جس نے جباروں کو ذلیل کیا۔
16. (الْوَهَّابُ)
· بہت دینے والا، ہمیشہ عطا کرنے والا، جس کی نعمتیں مسلسل ہیں۔
17. (الرَّزَّاقُ)
· روزی دینے والا، ہر طرح کی جسمانی اور روحانی روزی عطا کرنے والا۔
18. (الْفَتَّاحُ)
· فیصلہ کرنے والا، کھولنے والا، خیر کے دروازے کھولنے والا، فتح و نصرت دینے والا۔
19. (الْعَلِيمُ)
· سب کچھ جاننے والا، علم ہر معلوم پر محیط، مخلوق کے وجود سے پہلے بھی ان کا علم رکھنے والا۔
20. (الْقَابِضُ)
· قبضہ کرنے والا، جس کا معنی ہے: روزی تنگ کرنے والا، یا جان قبض کرنے والا۔
21. (الْبَاسِطُ)
· پھیلانے والا، روزی کشادہ کرنے والا، یا روحوں کو جسموں میں پھیلانے والا۔
22. (الْخَافِضُ)
· نیچا کرنے والا، کافروں کو ذلت و خواری دے کر پست کرنے والا۔
23. (الرَّافِعُ)
· بلند کرنے والا، مومنوں کو عزت دے کر بلند کرنے والا، دوستوں کو قرب دے کر سرفراز کرنے والا۔
24. (الْمُعِزُّ)
· عزت دینے والا، حقیقی عزت دینے والا، جو بندے کو نفسانی خواہشات کی غلامی سے نجات دے کر عزت بخشے۔
25. (الْمُذِلُّ)
· ذلیل کرنے والا، جسے چاہے ذلیل کر دے۔
26. (السَّمِيعُ)
· سننے والا، ہر آواز سننے والا۔
27. (الْبَصِيرُ)
· دیکھنے والا، ہر چیز دیکھنے والا۔
28. (الْحَكَمُ)
· فیصلہ کرنے والا، جس کے فیصلے کو کوئی رد نہ کر سکے، حق و باطل میں فرق کرنے والا۔
29. (الْعَدْلُ)
· انصاف کرنے والا، جو صرف وہی کرے جو کرنے کے قابل ہے۔
30. (اللَّطِيفُ)
· باریک بین، جو چیزوں کی باریکیوں سے واقف ہو، یا نرمی سے فائدہ پہنچانے والا۔
· مثال: حضرت یوسف علیہ السلام کو غلامی کے لباس میں بادشاہی دینا۔
31. (الْخَبِيرُ)
· باخبر، چھپی ہوئی باتوں سے واقف، باطن کا علم رکھنے والا۔
32. (الْحَلِيمُ)
· بردبار، جسے غصہ نہ آئے، عذاب دینے میں جلدی نہ کرنے والا۔
33. (الْعَظِيمُ)
· عظیم، جس کی عظمت کا اندازہ نہ ہو سکے، جس کی حقیقت کو عقل نہ پا سکے۔
34. (الْغَفُورُ)
· بہت بخشنے والا، گناہوں پر پردہ ڈالنے والا۔
35. (الشَّكُورُ)
· قدر کرنے والا، تھوڑے عمل پر بہت ثواب دینے والا، اپنے مطیع بندوں کی تعریف کرنے والا۔
36. (الْعَلِيُّ)
· بلند، سب سے بلند مرتبہ والا، جس سے بڑھ کر کوئی نہیں۔
37. (الْكَبِيرُ)
· بڑا، سب سے بڑا، جس کی کوئی نظیر نہیں۔
38. (الْحَفِيظُ)
· بہت حفاظت کرنے والا، مخلوقات کو زوال سے بچانے والا۔
39. (الْمُقِيتُ)
· روزی دینے والا، جسمانی اور روحانی خوراک دینے والا، یا قدرت والا، یا نگہبان۔
40. (الْحَسِيبُ)
· کافی، حساب لینے والا، شریف۔
41. (الْجَلِيلُ)
· جلال والا، بزرگی والا، صفات میں کامل۔
42. (الْكَرِيمُ)
· کریم، بہت سخی، بغیر مانگے دینے والا، درگزر کرنے والا۔
43. (الرَّقِيبُ)
· نگران، ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا، جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں۔
44. (الْمُجِيبُ)
· قبول کرنے والا، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرنے والا۔
45. (الْوَاسِعُ)
· کشادہ، جس کی رحمت وسیع ہو، جس کا علم ہر چیز پر محیط ہو۔
46. (الْحَكِيمُ)
· حکمت والا، علم میں کامل، عمل میں محکم، ہر کام حکمت سے کرنے والا۔
47. (الْوَدُودُ)
· محبت کرنے والا، بہت محبت کرنے والا، مخلوق سے خیرخواہی کرنے والا، اپنے دوستوں سے محبت کرنے والا۔
48. (الْمَجِيدُ)
· بزرگی والا، کرم میں وسعت والا۔
49. (الْبَاعِثُ)
· اٹھانے والا، قبروں سے زندہ کر کے اٹھانے والا، رزق دینے والا۔
50. (الشَّهِيدُ)
· حاضر و ناظر، گواہ، ہر چیز پر گواہ۔
51. (الْحَقُّ)
· حق، ثابت، جس کا وجود برحق ہے۔
52. (الْوَكِيلُ)
· کارساز، بندوں کے امور کا منتظم، سب کچھ سنبھالنے والا۔
53. (الْقَوِيُّ)
· طاقتور، جس میں کسی قسم کی کمزوری نہ ہو۔
54. (الْمَتِينُ)
· مضبوط، کامل قوت والا، جس کی قوت کوئی زائل نہ کر سکے۔
55. (الْوَلِيُّ)
· دوست، مددگار، بندوں کا کارساز۔
56. (الْحَمِيدُ)
· خوبیوں والا، تعریف کے لائق۔
57. (الْمُحْصِي)
· شمار کرنے والا، ہر چیز کا شمار رکھنے والا۔
58. (الْمُبْدِئُ)
· شروع کرنے والا، پہلی بار پیدا کرنے والا۔
59. (الْمُعِيدُ)
· دوبارہ پیدا کرنے والا، معدوم کو دوبارہ وجود میں لانے والا۔
60. (الْمُحْيِي)
· زندہ کرنے والا، زندگی دینے والا۔
61. (الْمُمِيتُ)
· موت دینے والا، جان لینے والا۔
62. (الْحَيُّ)
· زندہ، ہمیشہ زندہ، کبھی نہ مرنے والا۔
63. (الْقَيُّومُ)
· قائم رکھنے والا، خود قائم، سب کو قائم رکھنے والا۔
64. (الْوَاجِدُ)
· پانے والا، جو چاہے پا لے، جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہ ہو، بے نیاز۔
65. (الْمَاجِدُ)
· بزرگی والا، کرم والا۔
66. (الْوَاحِدُ)
· یکتا، جس کا کوئی شریک نہیں، جو تقسیم نہ ہو سکے۔
67. (الْأَحَدُ)
· ایک، واحد، جس کی ذات میں کسی قسم کی کثرت نہیں۔
68. (الصَّمَدُ)
· بے نیاز، سردار، جس کی طرف تمام مخلوق حاجت مند ہو۔
69. (الْقَادِرُ)
· قدرت والا، جس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔
70. (الْمُقْتَدِرُ)
· کامل قدرت والا، غالب۔
71. (الْمُقَدِّمُ)
· آگے کرنے والا، جسے چاہے آگے کر دے۔
72. (الْمُؤَخِّرُ)
· پیچھے کرنے والا، جسے چاہے پیچھے کر دے۔
73. (الْأَوَّلُ)
· اول، سب سے پہلے، جس سے پہلے کچھ نہیں۔
74. (الْآخِرُ)
· آخر، سب سے آخر، جس کے بعد کچھ نہیں۔
75. (الظَّاهِرُ)
· ظاہر، اپنی نشانیوں سے ظاہر۔
76. (الْبَاطِنُ)
· باطن، اپنی ذات میں پوشیدہ۔
77. (الْوَالِي)
· مالک، کارساز، سب کا انتظام کرنے والا۔
78. (الْمُتَعَالِي)
· بلند و بالا، سب سے بلند، ہر عیب سے پاک۔
79. (الْبَرُّ)
· نیکی کرنے والا، احسان کرنے والا۔
80. (التَّوَّابُ)
· توبہ قبول کرنے والا، گناہ گاروں کی توبہ قبول کرنے والا، توبہ کی توفیق دینے والا۔
81. (الْمُنْتَقِمُ)
· بدلہ لینے والا، گناہ گاروں سے انتقام لینے والا۔
82. (الْعَفْوُ)
· معاف کرنے والا، گناہ مٹانے والا۔
83. (الرَّؤُوفُ)
· بہت مہربان، رحمت میں شدت رکھنے والا۔
84. (مَالِكُ الْمُلْكِ)
· بادشاہوں کا بادشاہ، جس کا حکم اس کی بادشاہت میں چلتا ہے۔
85. (ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ)
· جلال و اکرام والا، جس کی ذات جلالت والی ہے اور جو عزت و کرم کرنے والا ہے۔
86. (الْمُقْسِطُ)
· انصاف کرنے والا، مظلوموں کا حق دلانے والا۔
87. (الْجَامِعُ)
· جمع کرنے والا، تمام مخلوقات کو قیامت کے دن جمع کرنے والا۔
88. (الْغَنِيُّ)
· بے نیاز، کسی کا محتاج نہیں۔
89. (الْمُغْنِي)
· غنی کرنے والا، جسے چاہے بے نیاز کر دے۔
90. (الْمَانِعُ)
· روکنے والا، جسے چاہے روک دے، حفاظت کرنے والا۔
91. (الضَّارُّ)
· نقصان پہنچانے والا، جسے چاہے نقصان پہنچائے۔
92. (النَّافِعُ)
· نفع پہنچانے والا، جسے چاہے نفع پہنچائے۔
93. (النُّورُ)
· روشنی، جو خود روشن ہے اور دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔
94. (الْهَادِي)
· ہدایت دینے والا، راستہ دکھانے والا۔
95. (الْبَدِيعُ)
· بدیع، نئے نمونے بنانے والا، جس کی کوئی مثال نہیں۔
96. (الْبَاقِي)
· باقی رہنے والا، ہمیشہ رہنے والا۔
97. (الْوَارِثُ)
· وارث، سب کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا۔
98. (الرَّشِيدُ)
· ہدایت دینے والا، راہنمائی کرنے والا، جس کی تدبیر انتہائی درست ہو۔
99. (الصَّبُورُ)
· صبر کرنے والا، عذاب دینے میں جلدی نہ کرنے والا۔
---
نتیجہ:
اللہ تعالیٰ کے یہ 99 نام اس کی صفات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا احصاء (شمار/یاد/عمل) جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔ بندے پر واجب ہے کہ وہ ان ناموں کو سمجھے، ان کے معانی پر غور کرے، اور ان کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارے۔
۔۔۔
دیگر مختلف احادیث:
حدیث نمبر 4
ترجمہ:
اللہ اللہ اسم ذات
الواحد یکتا واحد
الصمد بے نیاز سب سے بے نیاز
الأول اول سب سے پہلے
الآخر آخر سب سے آخر
الظاهر ظاہر واضح
الباطن باطن پوشیدہ
الخالق پیدا کرنے والا
البارئ بنانے والا
المصور صورت گر
الملك بادشاہ
الحق حق
السلام سلامتی والا
المؤمن امن دینے والا
المهیمن نگہبان
العزیز زبردست
الجبار جبار
المتكبر بڑائی والا
الرحمن رحمان
الرحیم رحیم
اللطیف باریک بین
الخبیر باخبر
السمیع سننے والا
البصیر دیکھنے والا
العلیم جاننے والا
العظیم عظیم
البار نیکی کرنے والا
المتعال بلند و بالا
الجلیل جلیل
الجمیل خوبصورت
الحی زندہ
القیوم قائم رکھنے والا
القادر قدرت والا
القاهر غالب
العلی بلند
الحكیم حکمت والا
القریب قریب
المجیب قبول کرنے والا
الغنی بے نیاز
الوهاب بہت دینے والا
الودود محبت کرنے والا
الشكور قدر کرنے والا
الماجد بزرگی والا
الواجد پانے والا
الوالی مالک
الراشد ہدایت دینے والا
العفو معاف کرنے والا
الغفور بخشنے والا
الحلیم بردبار
الكریم کریم
التواب توبہ قبول کرنے والا
الرب رب
المجید مجید
الولی دوست
الشهید حاضر و ناظر
المبین واضح کرنے والا
البرهان دلیل
الرؤوف مہربان
المبدئ شروع کرنے والا
المعید دوبارہ پیدا کرنے والا
الباعث اٹھانے والا
الوارث وارث
القوی طاقتور
الشدید سخت
الضار نقصان پہنچانے والا
النافع نفع دینے والا
الباقی باقی رہنے والا
الواقی بچانے والا
الخافض نیچا کرنے والا
الرافع بلند کرنے والا
القابض قبضہ کرنے والا
الباسط پھیلانے والا
المعز عزت دینے والا
المذل ذلیل کرنے والا
المقسط انصاف کرنے والا
الرازق روزی دینے والا
ذوالقوة قوت والا
المتین مضبوط
القائم قائم رہنے والا
الدائم دائمی
الحافظ حفاظت کرنے والا
الوكیل کارساز
السامع سننے والا
المعطی دینے والا
المحیی زندہ کرنے والا
الممیت موت دینے والا
المانع روکنے والا
الجامع جمع کرنے والا
الهادی ہدایت دینے والا
الكافی کافی
الأبد ہمیشہ
العالم جاننے والا
الصادق سچا
النور نور
المنیر روشن کرنے والا
التام کامل
القدیم قدیم
الوتر طاق
الأحد احد
الصمد صمد
الذی لم یلد ولم یولد... جس نے نہ جنا اور نہ جنایا گیا.
[جامع الاحادیث-للسیوطی: حدیث نمبر 8242]
حوالہ: سنن ابن ماجہ (3861)
---
(5)
ترجمہ:
الرحمن بے پناہ رحم کرنے والا دنیا میں تمام مخلوق پر رحم کرنے والا
الرحیم بے انتہا مہربان آخرت میں صرف مومنین پر رحم کرنے والا
الإله معبود ہر عبادت کے لائق صرف ایک ذات
الرب پروردگار پالنے والا، تربیت کرنے والا
الملک بادشاہ تمام جہان کا مالک
القدوس نہایت پاک ہر عیب اور نقص سے پاک
السلام سلامتی والا تمام آفات سے سلامتی دینے والا
المؤمن امن دینے والا اپنے بندوں کو امن عطا کرنے والا
المهیمن نگہبان ہر چیز پر نگہبان
العزیز زبردست غالب، ناقابلِ شکست
الجبار جبروت والا نہایت اقتدار والا
المتكبر بڑائی والا حقیقی کبریائی کا مالک
الخالق پیدا کرنے والا عدم سے وجود میں لانے والا
البارئ ٹھیک بنانے والا بہترین انداز سے بنانے والا
المصور صورت گر اشکال و صورتیں بنانے والا
الحكیم حکمت والا پوری حکمت سے کام کرنے والا
العلیم سب کچھ جاننے والا ہر چیز کا علم رکھنے والا
السمیع سننے والا ہر آواز سننے والا
البصیر دیکھنے والا ہر چیز دیکھنے والا
الحی زندہ ہمیشہ زندہ، کبھی نہ مرنے والا
القیوم قائم رکھنے والا ساری کائنات کو قائم رکھنے والا
الواسع کشادہ والا وسعت والا
اللطیف باریک بین باریک چیزوں کا علم رکھنے والا
الخبیر باخبر اندرونی باتوں سے باخبر
الحنان نہایت مشفق بندوں پر بہت مہربان
المنان عطا کرنے والا بغیر مانگے دینے والا
البدیع نئے نمونے بنانے والا بے مثال تخلیق کرنے والا
الودود محبت کرنے والا اپنے بندوں سے محبت کرنے والا
الغفور بخشنے والا بہت زیادہ معاف کرنے والا
الشكور قدر کرنے والا تھوڑے عمل کی بھی قدر کرنے والا
المجید بزرگی والا عظمت و بزرگی کا مالک
المبدئ شروع کرنے والا پہلی بار پیدا کرنے والا
المعید دوبارہ پیدا کرنے والا دوبارہ زندہ کرنے والا
النور روشنی ہدایت کی روشنی دینے والا
الأول اول سب سے پہلے
الآخر آخر سب کے بعد
الظاهر ظاہر واضح اور روشن
الباطن پوشیدہ نگاہوں سے مخفی
العفو معاف کرنے والا درگزر کرنے والا
الغفور بخشنے والا (مکرر)
الوهاب بہت دینے والا مسلسل عطا کرنے والا
الفرد یکتا بے مثال
الأحد ایک اکیلا
الصمد بے نیاز سب سے بے نیاز، سب اس کے محتاج
الوكیل کارساز تمام کاموں کا انتظام کرنے والا
الكافی کافی سب کے لیے کافی
الباقی باقی رہنے والا ہمیشہ رہنے والا
الحمید خوبیوں والا ہر تعریف کے لائق
المقیت روزی دینے والا خوراک پہنچانے والا
الدائم دائمی ہمیشہ رہنے والا
المتعالی بہت بلند سب سے بلند و بالا
ذوالجلال والاكرام جلال و اکرام والا عظمت اور بزرگی کا مالک
الولی دوست اپنے بندوں کا مددگار
النصیر مددگار مدد کرنے والا
الحق حق ثابت و برحق
المبین واضح کرنے والا حق کو ظاہر کرنے والا
المنیب توبہ قبول کرنے والا رجوع کرنے والوں کو قبول کرنے والا
الباعث اٹھانے والا مردوں کو زندہ کرنے والا
المجیب قبول کرنے والا دعائیں قبول کرنے والا
المحیی زندہ کرنے والا زندگی دینے والا
الممیت موت دینے والا جان لینے والا
الجمیل خوبصورت پوری خوبصورتی کا مالک
الصادق سچا ہمیشہ سچ
الحفیظ حفاظت کرنے والا سب کی حفاظت کرنے والا
المحیط احاطہ کرنے والا ہر چیز پر محیط
الكبیر بڑا سب سے بڑا
الرقیب نگران ہر چیز پر نگران
القریب قریب بندوں کے بہت قریب
الفتاح کھولنے والا بندھے ہوئے کام کھولنے والا
التواب توبہ قبول کرنے والا بار بار توبہ قبول کرنے والا
القدیم قدیم ابتدا سے موجود
الوتر طاق اکیلا، جس کا کوئی جوڑ نہیں
الفاطر پھاڑنے والا پیدا کرنے والا
الرزاق روزی دینے والا سب کو روزی دینے والا
العلام بہت جاننے والا سب کچھ جاننے والا
العلی بلند سب سے بلند
العظیم عظیم سب سے عظیم
الغنی بے نیاز کسی کا محتاج نہیں
الملیك بادشاہ (الملک کی طرح)
المقتدر قدرت والا پوری قدرت رکھنے والا
الاكرم بہت کریم سب سے زیادہ سخی
الرؤوف نہایت مہربان بہت رحم کرنے والا
المدبر تدبیر کرنے والا تمام کاموں کی تدبیر کرنے والا
المالك مالک (الملک کی طرح)
القاهر غالب سب پر غالب
الهادی ہدایت دینے والا راستہ دکھانے والا
الشاكر قدر کرنے والا (الشکور کی طرح)
الكریم کریم بہت سخی
الرفیع بلند سب سے بلند
الشهید حاضر و ناظر ہر چیز پر گواہ
الواحد واحد ایک
ذوالطول بزرگی والا فضل و کرم والا
ذوالمعارج بلندیوں والا عروج والا
ذوالفضل فضل والا بزرگی والا
الخلاق بہت پیدا کرنے والا مسلسل تخلیق کرنے والا
الكفیل ذمہ دار سب کا ذمہ دار
الجلیل جلیل عظمت والا
[جامع الاحادیث-للسیوطی:حدیث نمبر 8240]
حوالہ: الحاکم (1/63، رقم 42)، احمد (2/499، رقم 10486)، الأسماء والصفات للبيهقي:10
---
تشریح امام بیہقی:
(1) اللہ
اس کا معنی ہے وہ ذات جس کے لیے الوہیت (معبودیت) ہے، اور وہ اعیان (موجودات) کو ایجاد کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(2) الرحمٰن
وہ ذات جس کے لیے رحمت ہے۔
(3) الرحیم
بہت رحم کرنے والا۔ "فعیل" ہے "فاعل" کے معنی میں مبالغہ کے لیے۔
اور کہا گیا: الرحمٰن وہ ہے جو دنیا میں ہر جاندار کے رزق کا ارادہ کرنے والا ہے، اور الرحیم وہ ہے جو آخرت میں مومنین کو جنت سے نوازنے کا ارادہ کرنے والا ہے۔ پس ان کا معنی ارادہ کی صفت کی طرف لوٹتا ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم صفت ہے۔
(4) الملک
وہ ذات جس کی بادشاہت کامل ہو۔
(5) المالک
وہ ذات جو بادشاہی میں خاص ہو۔ اللہ عزوجل کی صفت میں ان دونوں کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایجاد پر قادر ہو۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(6) القدوس
وہ عیوب سے پاک، اولاد اور ہمسروں سے منزہ ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(7) السلام
وہ ذات جو ہر عیب سے سالم اور ہر آفت سے پاک ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔ اور کہا گیا: وہ ذات جس سے مومنین اس کے عذاب سے محفوظ ہیں۔
(8) المؤمن
وہ ذات جس نے اپنی ذات کی تصدیق کی اور اپنے مومن بندوں کی تصدیق کی۔
· اپنی ذات کی تصدیق کا مطلب: اس کا علم ہے کہ وہ سچا ہے۔
· بندوں کی تصدیق کا مطلب: اس کا علم ہے کہ وہ سچے ہیں۔
اور کہا گیا: المؤمن وہ ہے جو اپنی ذات کو واحد مانے، یہ اس کی صفات ذاتیہ میں سے ہے۔
اور کہا گیا: المؤمن وہ ہے جو اپنے مومن بندوں کو قیامت کے دن اپنے عذاب سے امن دے گا۔
(9) المہیمن
وہ اپنی مخلوق پر گواہ ہے جو کچھ ان سے قول و عمل میں صادر ہوتا ہے۔ یہ اس کی صفات ذاتیہ میں سے ہے۔
اور کہا گیا: وہ امانت دار ہے۔
اور کہا گیا: وہ چیز پر نگہبان اور حفاظت کرنے والا ہے۔
(10) العزیز
وہ غالب ہے جو مغلوب نہیں ہوتا، اور منیع (ناقابل دسترس) ہے جس تک پہنچا نہیں جا سکتا۔
اور کہا گیا: وہ قادر اور قوی ہے۔
اور کہا گیا: وہ ذات جس کی کوئی مثال نہیں۔ یہ صفات ذاتیہ میں سے ہے۔
(11) الجبار
وہ ذات ہے جس تک ہاتھ نہیں پہنچ سکتے، اور اس کی بادشاہت میں اس کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ان صفات میں سے ہے جن کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
اور کہا گیا: وہ جس نے مخلوق کو اپنی مرضی پر جبر کیا۔
اور کہا گیا: وہ جو مخلوق کی حاجتوں کو پورا کرنے والا ہے۔ اس معنی پر یہ اس کی صفات فعلیہ میں سے ہے۔
(12) المتکبر
وہ مخلوق کی صفات سے بلند و بالا ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
اور کہا گیا: وہ جو اپنی مخلوق کے سرکشوں پر تکبر کرتا ہے، جب وہ اس سے عظمت کا مقابلہ کرتے ہیں تو انہیں توڑ دیتا ہے۔
(13) الخالق
وہ ایجاد کرنے والا، مخلوق کو بغیر کسی سابقہ مثال کے پیدا کرنے والا۔
(14) البارئ
خالق ہے، اور اس کی خصوصیت اعیان کو قلب کرنا (ایک حالت سے دوسری حالت میں لے جانا) ہے۔
(15) المصور
وہ جس نے اپنی مخلوق کو مختلف صورتوں پر پیدا کیا۔
(16) الغفار
وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو بار بار ڈھانپنے والا ہے۔
(17) القهار
بہت زیادہ قہر کرنے والا، قادر ہے۔ اس کا معنی قدرت کی صفت کی طرف لوٹتا ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم صفت ہے۔
اور کہا گیا: وہ جس نے مخلوق کو اپنی مرضی پر قہر کیا۔
(18) الوهاب
وہ جو بغیر کسی بدلے کے بہت زیادہ عطا کرنے پر جود و سخا کرنے والا ہے۔
(19) الرزاق
وہ ہر نفس پر قائم ہے اس کی خوراک سے جو اسے قائم رکھتی ہے۔ اور جس چیز سے نفع اٹھانے کا موقع دیا ہے، خواہ مباح ہو یا غیر مباح، وہ اس کے لیے رزق ہے۔
(20) الفتاح
وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔ اور الفتاح وہ ہے جو بندوں کے دین و دنیا کے بند معاملات کھول دیتا ہے۔ اور یہ ناصر (مددگار) کے معنی میں بھی آتا ہے۔
(21) العلیم
بہت زیادہ علم والا۔ علم اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔
(22) القابض
(23) الباسط
وہ رزق کو کشادہ اور تنگ کرنے والا ہے۔ اپنے جود و رحمت سے اسے پھیلاتا ہے، اور اپنی حکمت سے اسے روکتا ہے۔
اور کہا گیا: القابض وہ ہے جو بندوں پر لکھی ہوئی موت کے ساتھ روحوں کو قبض کرتا ہے۔ اور الباسط وہ ہے جو روحوں کو جسموں میں پھیلاتا ہے۔
(24) الخافض
(25) الرافع
الخافض وہ ہے جسے چاہے اپنے انتقام سے پست کر دے۔
الرافع وہ ہے جسے چاہے اپنے انعام سے بلند کر دے۔
(26) المعز
(27) المذل
وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے، جسے چاہے ذلت دیتا ہے۔ کوئی اسے ذلیل نہیں کر سکتا جسے وہ عزت دے، اور کوئی اسے عزت نہیں دے سکتا جسے وہ ذلیل کرے۔
(28) السمیع
وہ جس کے لیے سمع ہے جس سے مسموعات کو درک کرتا ہے۔ سمع اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔
(29) البصیر
وہ جس کے لیے بصر ہے جس سے مرئیات کو دیکھتا ہے۔ بصر اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔
(30) الحکم
فیصلہ کرنے والا۔ اس کا حکم اس کی خبر ہے، اور اس کی خبر اس کا قول ہے۔ پس اس کا معنی کلام کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔ اور یہ اس کے فعل کی صفت بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی کو نعمت اور کسی کو مصیبت کا حکم دیتا ہے۔
(31) العدل
وہ ذات جس کے لیے یہ حق ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(32) اللطیف
وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ یہ اس کی صفات فعلیہ میں سے ہے۔ اور یہ چیزوں کی باریکیوں کے علم کے معنی میں بھی آتا ہے، تو اس صورت میں یہ صفات ذاتیہ میں سے ہے۔
(33) الخبیر
وہ چیز کی تہہ کا علم رکھنے والا، اس کی حقیقت سے باخبر۔ اور کہا گیا: الخبیر خبر دینے والا ہے، یہ اس کی صفات ذاتیہ میں سے ہے۔
(34) الحلیم
وہ جو مستحقین پر عذاب کو مؤخر کرتا ہے، پھر کبھی انہیں معاف کر دیتا ہے۔
(35) العظیم
وہ بلندی و رفعت، جلال و عظمت، اور ہر آفت سے پاک ہونے کی صفات کا مستحق ہے۔ یہ ان صفات میں سے ہے جن کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(36) الغفور
وہ جو بہت زیادہ مغفرت کرنے والا ہے۔
(37) الشکور
وہ جو تھوڑی سی طاعت پر شکر کرتا ہے اور اس پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے۔ اس کا شکر اپنے بندے پر اس کی ثنا کے معنی میں ہوتا ہے، تو اس کا معنی کلام کی صفت کی طرف لوٹتا ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔
(38) العلی
وہ بلند و بالا، قاہر ہے۔ اور کہا گیا: وہ جو بلند و بالا ہے، اس کی صفات مخلوق کی صفات سے متصف ہونے سے منزہ ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(39) الکبیر
وہ جلال اور بڑے شان سے متصف ہے، اس کے جلال کے مقابلے میں ہر بڑا چھوٹا ہے۔ اور کہا گیا: وہ جو مخلوق کے مشابہ ہونے سے بڑا ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(40) الحفیظ
وہ ہر اس چیز اور شخص کی حفاظت کرنے والا ہے جس کی حفاظت کا وہ ارادہ کرے۔ اور کہا گیا: وہ جو اپنے علم کی ہوئی چیز کو بھولتا نہیں، تو اس کا معنی علم کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔
(41) المقیت
وہ صاحب اقتدار ہے، تو اس کا معنی قدرت کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔ اور کہا گیا: مقیت حفاظت کرنے والا ہے۔ اور کہا گیا: خوراک دینے والا ہے، تو یہ صفات فعلیہ میں سے ہے۔
(42) الحسیب
کافی ہے۔ اور کہا گیا: حساب لینے والے کے معنی میں ہے۔
(43) الجلیل
جلال اور عظمت والا۔ اس کا معنی قدرت کے جلال اور شان کی عظمت کی طرف جاتا ہے۔ وہ جلیل ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر جلیل چھوٹا ہے، اور اس کے ساتھ ہر بلند پست ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(44) الکریم
وہ ہر پستی سے منزہ ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
اور کہا گیا: کریم بہت زیادہ خیر والا ہے۔
اور کہا گیا: وہ احسان کرنے والا جو اپنے ذمہ لازم نہیں ہے، اور اس حق سے درگزر کرنے والا جو اس کے ذمہ واجب ہو گیا تھا۔ اس معنی پر یہ اس کی صفات فعلیہ میں سے ہے۔
(45) الرقیب
نگران، حفاظت کرنے والا جس سے کوئی چیز غائب نہیں۔ تو اس کا معنی علم کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔
(46) المجیب
وہ جو مضطر کی دعا قبول کرتا ہے، اور فریادی کی پکار سن کر اس کی فریاد رسی کرتا ہے۔
(47) الواسع
عالم ہے، تو اس کا معنی علم کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔ اور کہا گیا: غنی ہے جس کی بے نیازی مخلوق کی حاجتوں کو گھیرے ہوئے ہے۔
(48) الحکیم
وہ چیزوں کی تخلیق کو محکم بنانے والا ہے۔ اور یہ اپنے افعال میں درست (مصیب) ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے۔
(49) الودود
وہ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے، اور اس کے مومن بندے اس سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ کی اپنے بندوں سے محبت ان پر رحمت اور ان کی تعریف کرنے کا ارادہ ہے، تو اس کا معنی ارادہ اور کلام کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔ اور یہ ان پر انعام کے معنی میں بھی ہوتا ہے، اور اس کے انعام میں سے یہ ہے کہ وہ انہیں اپنی مخلوق سے محبت دلاتا ہے۔ اس معنی پر یہ اس کی صفات فعلیہ میں سے ہے۔
(50) المجید
جلیل، بلند مرتبہ، بہت احسان کرنے والا، بہت نیکی کرنے والا۔ "مجْد" لغت میں شرف کے معنی میں آتا ہے اور وسعت کے معنی میں بھی۔ پہلے معنی پر یہ صفت ذاتیہ ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(51) الباعث
وہ جو بندوں کو موت کے بعد جزا کے لیے اٹھائے گا، اور ان میں سے جسے چاہے گرنے کے بعد اٹھائے اور چوٹ کھانے کے بعد سنبھالے۔
(52) الشہید
وہ جس سے کوئی چیز غائب نہیں۔ اور کہا گیا: عالم اور دیکھنے والا۔ تو اس کا معنی علم اور رؤیت کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔
(53) الحق
وہ حقیقت میں موجود ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(54) الوکیل
کافی ہے، اور وہ سپرد کردہ کام کو خود ہی سنبھالنے والا ہے۔ اور کہا گیا: رزق کا ذمہ دار اور مخلوق کی اصلاح کے لیے ان پر قائم ہے۔
(55) القوی
قادر ہے، اور وہ کامل قدرت والا ہے کہ کسی حالت میں اس پر عجز طاری نہیں ہوتا۔ اس کا معنی قدرت کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔
(56) المتین
سخت قوت والا جس کی قوت منقطع نہیں ہوتی، اور نہ اسے اپنے افعال میں کوئی تکان پہنچتی ہے۔ اس کا معنی بھی قدرت کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔
(57) الولی
مددگار۔ اور کہا گیا: کام کو سنبھالنے والا اور اس پر قائم رہنے والا۔
(58) الحمید
محمود، تعریف کا مستحق۔ اور کہا گیا: جس کے لیے مدح اور کمال کی صفات ہیں۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(59) المحصی
جس نے ہر چیز کو اپنے علم سے شمار کیا۔ اس کا معنی علم کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔
(60) المبدئ
جس نے انسان کو شروع کیا، یعنی اسے ایجاد کیا۔
(61) المعید
جو مخلوق کو زندگی کے بعد موت کی طرف لوٹاتا ہے، پھر انہیں موت کے بعد دوبارہ زندگی دیتا ہے۔
(62) المحیی
جو مردہ نطفہ کو زندہ کرتا ہے اور اس سے زندہ انسان پیدا کرتا ہے، اور پرانی ہڈیوں کو دوبارہ روح پھونک کر زندہ کرتا ہے، اور دلوں کو معرفت کے نور سے زندہ کرتا ہے، اور زمین کو بارش نازل کر کے اور رزق اگا کر زندہ کرتا ہے۔
(63) الممیت
جو زندوں کو موت دیتا ہے، اور موت کے ذریعے طاقتوروں کی قوت کو کمزور کر دیتا ہے۔
(64) الحی (فی صفۃ اللہ)
وہ جو ہمیشہ سے موجود ہے اور زندگی سے متصف ہے۔ زندگی اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔
(65) القیوم
وہ قائم رہنے والا، دائمی ہے جسے زوال نہیں۔ اس کا معنی بقا کی صفت کی طرف لوٹتا ہے، اور بقا صفت ذاتیہ ہے۔
اور کہا گیا: وہ تدبیر کرنے والا اور دنیا میں ہونے والے تمام امور کو سنبھالنے والا ہے۔ اس معنی پر یہ صفات فعلیہ میں سے ہے۔
(66) الواجد
غنی ہے جو محتاج نہیں۔ "وجد" غنا کو کہتے ہیں۔ اور یہ وجود سے بھی ہو سکتا ہے، وہ ذات جس پر کوئی چیز طلب کرنا گراں نہیں، اور نہ اس کے اور مطلوب کے درمیان کوئی چیز حائل ہوتی ہے۔ اور یہ عالم کے معنی میں بھی آتا ہے۔
(67) الماجد
مجید ہے، اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔
(68) الواحد
وہ یکتا ہے جو ہمیشہ سے اکیلا ہے بغیر کسی شریک کے۔ اور کہا گیا: جس کی ذات میں کوئی تقسیم نہیں، نہ اس کا کوئی ہمسر ہے اور نہ شریک۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(69) الصمد
وہ سردار جس کی طرف تمام امور میں رجوع کیا جائے، اور حاجتوں کے لیے اسے پکارا جائے۔ اور کہا گیا: وہ باقی ہے جو زائل نہیں ہوتا۔ یہ صفات ذاتیہ میں سے ہے۔
(70) القادر
جس کے لیے کامل قدرت ہے۔ قدرت اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔
(71) المقتدر
کامل قدرت والا، جس پر کوئی چیز دشوار نہیں۔
(72) المقدم
(73) المؤخر
وہ چیزوں کو ان کے مقام پر رکھنے والا۔ جسے چاہے اور جسے چاہے آگے کرتا ہے، اور جسے چاہے اور جسے چاہے پیچھے کرتا ہے۔
(74) الأول
وہ جس کے وجود کی کوئی ابتدا نہیں۔
(75) الآخر
وہ جس کے وجود کی کوئی انتہا نہیں۔ یہ دو صفتیں ہیں جن کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(76) الظاہر
وہ اپنی روشن دلیل اور روشن براہین اور اپنی نشانیوں کے شواہد سے ظاہر ہے جو اس کی ربوبیت کے ثبوت اور اس کی وحدانیت کی صحت پر دلالت کرتے ہیں۔ اور ظہور بلندی و رفعت کے معنی میں بھی آتا ہے، اور غلبے کے معنی میں بھی۔
(77) الباطن
وہ جس پر کیفیت کا کوئی وہم غالب نہیں آ سکتا۔ اور ظاہر کا معنی ظاہر امور کا علم ہو سکتا ہے، اور باطن کا معنی پوشیدہ غیوب پر مطلع ہونا۔ یہ دونوں صفات ذاتیہ میں سے ہیں۔
(78) الوالی
وہ چیزوں کا مالک اور ان کا متولی ہے۔ اور یہ بار بار احسان کرنے والے کے معنی میں بھی آتا ہے۔
(79) المتعالی
وہ مخلوق کی صفات سے منزہ ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔ اور یہ قہر کے ساتھ اپنی مخلوق سے بلند ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے۔
(80) البر
وہ اپنی مخلوق پر احسان کرنے والا ہے۔ ان سب کو اپنے رزق سے نوازا، اور ان میں سے جسے چاہا اپنی ولایت سے مخصوص کیا، اور اس کی طاعت پر ثواب کو دوگنا کیا، اور اس کی معصیت سے درگزر فرمایا۔
(81) التواب
وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے توبہ قبول کرتا ہے۔
(82) المنتقم
وہ اپنے دشمنوں سے بدلہ لیتا ہے اور انہیں ان کی معصیتوں پر عذاب دے کر جزا دیتا ہے۔ اور یہ انہیں ہلاک کرنے والے کے معنی میں بھی آتا ہے۔
(83) العفو
عفو میں مبالغہ ہے۔ اور یہ محو (مٹانے) کے معنی میں ہے، تو اس کا معنی گناہ سے درگزر کرنا ہے۔ اور یہ فضل کرنے والے کے معنی میں ہے تو بہت زیادہ فضل عطا کرتا ہے۔
(84) الرؤوف
رحیم ہے۔ اور "رأفت" رحمت کی شدت ہے۔ اور اللہ کی رحمت اس کا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے انعام کا ارادہ کرنا ہے، تو اس کا معنی ارادہ کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔ پھر اس نعمت کو رحمت کہا جاتا ہے۔
(85) مالک الملک
اس کا معنی یہ ہے کہ بادشاہی اسی کے ہاتھ میں ہے، جسے چاہے دے۔ اور یہ بادشاہوں کے مالک کے معنی میں ہے، اور یہ اس دن بادشاہی کے وارث ہونے کے معنی میں ہے جب کوئی بادشاہی کا دعویٰ نہیں کرے گا اور نہ اس میں کوئی اس سے جھگڑا کرے گا۔ اس کا اس کا مستحق ہونا صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(86) ذو الجلال والاکرام
یعنی وہ اس قابل ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اسے بزرگ مانا جائے، نہ کہ اس کا انکار کیا جائے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔ اور اکرام اس کے اہل ولایت کو دنیا میں معرفت اور آخرت میں جنت دے کر اکرام کرنے کے معنی میں بھی ہوتا ہے، تو یہ صفات فعلیہ میں سے ہے۔
(87) المقسط
اپنے حکم میں عادل ہے۔
(88) الجامع
وہ جو مخلوق کو اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ یہ صفات فعلیہ میں سے ہے۔ اور کہا گیا: وہ جس نے مدح کی تمام صفات جمع کر رکھی ہیں، یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(89) الغنی
وہ جو مخلوق سے بے نیاز ہے۔ اور کہا گیا: وہ جو اپنے مرادوں میں اپنی مرضی نافذ کرنے پر قادر ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(90) المغنی
وہ جو مخلوق کی حاجتیں پوری کرتا ہے۔ اور یہ کفایت کرنے والے کے معنی میں بھی آتا ہے۔
(91) المانع
وہ مددگار ہے جو اپنے دوستوں کی حفاظت اور مدد کرتا ہے۔ اور کہا گیا: وہ جو ایک قوم سے عطا روکتا ہے اور دوسروں سے بلا۔
(92) الضار
وہ جسے تکلیف پہنچانا چاہے پہنچاتا ہے۔
(93) النافع
وہ جسے نفع پہنچانا چاہے پہنچاتا ہے۔
(94) النور
ہادی ہے۔ اور کہا گیا: روشن کرنے والا، یہ صفات فعلیہ میں سے ہے۔ اور کہا گیا: وہ حق ہے۔ اور کہا گیا: وہ جو اپنے دوستوں پر دلیل سے پوشیدہ نہیں، اور اس کی آنکھوں سے رویت صحیح ہے۔ یہ صفت ہے جس کا اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(95) الہادی
وہ جس کی ہدایت سے اس کے دوست ہدایت پاتے ہیں، اور جس کی ہدایت سے جانور اپنی مصلحت کی طرف رہنمائی پاتے ہیں اور نقصان دہ چیزوں سے بچتے ہیں۔
(96) البدیع
وہ جس نے مخلوق کو ایجاد کیا، بغیر کسی سابقہ مثال کے۔ یہ صفات فعلیہ میں سے ہے۔ اور یہ بے مثال ہونے کے معنی میں بھی ہے، تو یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(97) الباقی
وہ جس کا وجود دائمی ہے۔ بقا اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔ اور اسی معنی میں "الوارث" ہے۔
(98) الرشید
راہنمائی کرنے والا، ہادی ہے۔ اور یہ حکیم کے معنی میں ہے جو کامل تدبیر اور اپنے افعال میں درست ہو۔
(99) الصبور
وہ جو گناہگاروں کو جلد سزا نہیں دیتا۔ یہ حلیم کے معنی کے قریب ہے، اور حلیم کی صفت اس کے عذاب سے سلامتی میں زیادہ بلیغ ہے۔
---
وہ اسماء جو عبدالعزیز بن الحصین کی روایت میں ہیں جو ولید بن مسلم کی روایت میں نہیں ہیں:
(100) الرب
سردار۔ اور کہا گیا: مالک۔ اور کہا گیا: وہ ہر مخلوق کو اس کی تکمیل کی حد تک پہنچانے والا جو اس نے اس کے لیے مقدر کیا تھا۔ اس معنی پر یہ صفات فعلیہ میں سے ہے، اور پہلے معنی پر صفات ذاتیہ میں سے ہے۔
(101) الحنان
رحمت والا۔
(102) المنان
بہت زیادہ عطا کرنے والا۔
(103) البادی
مبدئ کے معنی میں۔
(104) الأحد
جس کی کوئی نظیر اور مثال نہیں۔
(105) الواحد
جس کا کوئی شریک اور عدیل نہیں۔
اور دوسری عبارت میں "الاحد" سے تعبیر کیا گیا، اور وہ معنوی اعتبار سے منفرد ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں، اور "الواحد" ذاتی اعتبار سے منفرد ہے کہ اس کے ساتھ کوئی نہیں۔ یہ دونوں صفات ہیں جن کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(106) الکافی
وہ جو اپنے بندوں کی اہم کاموں کو کفایت کرتا ہے اور ان سے پریشانیاں دور کرتا ہے۔
(107) المغیث
وہ جو اپنے بندوں کو سختیوں میں پا کر نجات دیتا ہے۔
(108) الدائم
وہ موجود ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا معنی بقا کی صفت کی طرف لوٹتا ہے۔
(109) المولیٰ
مددگار اور معاون۔
(110) المبین
وحدانیت میں اس کا معاملہ واضح ہے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(111) الصادق
اس کا قول سچا ہے اور اس کا وعدہ سچا ہے۔ یہ صفات ذاتیہ میں سے ہے۔
(112) المحیط
جس کی قدرت تمام مقدورات پر محیط ہے، اور اس کا علم تمام معلومات پر محیط ہے۔ قدرت اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے، اور علم اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔
(113) القریب
اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے علم سے اپنی مخلوق کے قریب ہے، اور دعا کرنے والے کے قریب ہے اس کی دعا قبول کر کے۔
(114) القدیم
وہ موجود ہے ہمیشہ سے۔ یہ صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(115) الوتر
وہ یکتا ہے جس کا کوئی شریک اور نظیر نہیں۔ یہ بھی صفت ہے جس کا وہ اپنی ذات سے مستحق ہے۔
(116) الفاطر
جس نے مخلوق کو پیدا کیا، یعنی ان کی تخلیق شروع کی۔
(117) العلام
علیم کے معنی میں۔ اور "فعال" کا وزن کثرت کے لیے ہے۔ علم اللہ کے لیے صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔
(118) الملیک
مالک میں مبالغہ ہے، اور یہ الملک کے معنی میں بھی ہے۔ ان کے معانی گزر چکے ہیں۔
(119) الأکرم
وہ کہ کوئی کریم اس کے برابر نہیں، نہ کوئی نظیر اس کا مقابلہ کر سکے۔ اور یہ الکریم کے معنی میں بھی ہے۔
(120) المدبر
وہ امور کے انجام اور ان کے عواقب کا علم رکھنے والا، تقدیروں کو مقرر کرنے والا اور انہیں ان کی انتہا تک پہنچانے والا۔ وہ اپنی حکمت سے امور کی تدبیر کرتا ہے اور انہیں اپنی مشیت کے مطابق چلاتا ہے۔
(121) ذو المعارج
معارج درجات ہیں، اور وہ سیڑھیاں ہیں جن پر فرشتے چڑھتے ہیں۔
(122) ذو الطول
(123) ذو الفضل
یعنی طول و فضل والا۔ "ذو" نسبت کا حرف ہے جیسے {ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ}۔
(124) الجمیل
خوبصورت بنانے والا، حسن دینے والا۔
(125) الرفیع
یہ رافع کے معنی میں ہو سکتا ہے، جسے چاہے درجات بلند کرتا ہے، تو یہ صفات فعلیہ میں سے ہے۔ اور اس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بلند مرتبہ والا نہیں، اور وہ مدح و ثنا کے درجات کا مستحق ہے، اور ان کے اقسام کا اس کے سوا کوئی مستحق نہیں، تو یہ صفات ذاتیہ میں سے ہے۔
---
امام بیہقی رحمہ اللہ کا اختتامیہ:
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا:
"ان اسماء کے معانی میں ہمارے ذکر کردہ کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا گیا ہے۔ ہم نے ان میں سے بعض کو کتاب الاسماء والصفات میں ذکر کیا ہے، اور بعض کو کتاب الجامع میں۔ اور ان کے معانی میں جو وجوہات ہم نے ذکر کی ہیں وہ سب صحیح ہیں، اور ہمارا رب جلیل ہے اس کی شان، اس کے نام مقدس ہیں، وہ ان تمام باتوں سے متصف ہے۔
اسی کے لیے اچھے نام اور اعلیٰ صفات ہیں، اس کی مخلوق میں اس کا کوئی ہمسر نہیں، اس کی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک نہیں، اس جیسی کوئی چیز نہیں، اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔"
[الاعتقاد للبیہقی: 1/59-69]
اللہ کے ۹۹ ناموں کی تفصیل، ان کے معانی اور خواص
شرح للمناوي:
(إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا)
(بے شک اللہ کے ننانوے نام ہیں) – اسم کی حقیقت: اسم وہ کلمہ ہے جو کسی مسمی (نام والی ذات) کے لیے رکھا گیا ہو۔ بعض نے کہا: اسم کا مفہوم کبھی خود ذات اور حقیقت کے اعتبار سے ہوتا ہے، کبھی اجزاء کے اعتبار سے لیا جاتا ہے (جو اللہ کی ذات کے لیے محال ہے کیونکہ وہ ترکیب سے پاک ہے)، اور کبھی صفات، افعال، سلبی صفات اور اضافوں کے اعتبار سے لیا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ناموں کی کثرت میں کوئی اشکال نہیں۔
(مَنْ أَحْصَاهَا كُلَّهَا)
(ترجمہ: جس نے ان سب کا احصاء کیا) یعنی انہیں علم و ایمان کے ساتھ شمار کیا، یا انہیں مکمل طور پر گنا تاکہ کسی نام پر نہ رکے، بلکہ اللہ کی ثنا کرے اور تمام ناموں سے دعا مانگے۔ ابن مردویہ کی روایت میں "من أحصاها" کی جگہ "من دعا بها" (جس نے ان کے ساتھ دعا کی) ہے۔
(دَخَلَ الْجَنَّةَ)
(ترجمہ: وہ جنت میں داخل ہوگا) یعنی سابقین اولین کے ساتھ، یا بغیر عذاب کے۔
(أَسْأَلُ اللَّهَ)
(ترجمہ: میں اللہ سے سوال کرتا ہوں) یعنی اس ذات سے جو واجب الوجود ہے۔ ثعلب نے کہا: یہ مفرد (اکیلا) ہے جس میں توحید مجرد ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور مقاصدِ محمودہ (ذات، صفات اور افعال میں) آسان ہو جاتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: جو شخص ہر روز ہزار مرتبہ "یا اللہ یا ہو" کہے، اللہ اسے کامل یقین عطا کرے۔ ادریسیہ اربعین میں ہے: "یا اللہ المحمود فی کل فعالہ"۔ سہروردی نے کہا: جو شخص جمعہ کے دن غسل اور پاکیزگی کے ساتھ دو سو بار تنہا یہ کلمہ پڑھے، اللہ اس کی حاجت پوری کرے گا، خواہ وہ کتنی ہی مشکل ہو۔ اور اگر کوئی مریض پڑھے جس کا علاج اطباء سے مشکل ہو تو وہ شفاء پائے گا، جب تک اس کی موت کا وقت نہ آیا ہو۔
اسماء کی تفصیل:
(الرَّحْمَنُ)
"فعلان" ہے رحمت سے، جو اللہ کے حکم کا مخلوق میں نرمی کے ساتھ ظہور ہے۔ خاصیت: پڑھنے والے سے مکروہات دور ہوتی ہیں۔ ہر نماز کے بعد سو بار تنہائی یا جماعت میں پڑھنے سے غفلت اور بھول دور ہوتی ہے۔ ادریسیہ اربعین میں ہے: "یا رحمن کل شیء وراحمہ" – زعفران اور مشک سے لکھ کر اس گھر میں دفن کیا جائے جہاں بداخلاقی ہو، تو اخلاق نرم ہو جاتے ہیں اور حیاء، رحمت، شفقت اور مسکنت پیدا ہوتی ہے۔
(الرَّحِيمُ)
"فعیل" ہے رحمت سے۔ بعض نے کہا: یہ "الرحمٰن" سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ اس کا تقاضا امداد (مدد) ہے اور یہ وجود میں لانے کے بعد ہے۔ اس کے دو معنی ہیں اور دو تعلقات ہیں۔ چونکہ امداد کا اثر مخلوق میں ظاہر ہوتا ہے، اس لیے یہ نام مومنین کے ساتھ خاص ہے جیسا کہ فرمایا: {وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا} (الاحزاب: 43) اور کافر کی امداد استدراج ہے: {إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا} (آل عمران: 178) پس کافر کی امداد نقمت ہے اور مومن کی رحمت۔ خاصیت: دل نرم ہوتا ہے اور مخلوق پر رحم آتا ہے۔ جو شخص ہر روز سو بار پڑھے، اسے یہ ملتا ہے۔ اگر کسی برائی سے ڈرے تو اسے پچھلے نام کے ساتھ پڑھے۔ سہروردی نے کہا: اگر اسے لکھ کر پانی میں حل کیا جائے اور درخت کی جڑ میں ڈالا جائے تو اس میں برکت ظاہر ہوتی ہے، اور جو پانی پیے وہ لکھنے والے کا مشتاق ہو جاتا ہے۔
(الْإِلَهُ)
وہ جو الوہیت میں یکتا ہے۔ اِقلیشی نے کہا: صحیح یہ ہے کہ "اللہ" اور "إله" دو الگ الگ نام ہیں۔ اللہ "إله" سے موسوم ہوتا ہے، لیکن "لاه" سے نہیں۔ اگرچہ "اللہ" کی اصل "إله" ہو سکتی ہے، لیکن اس کا حکم منتقل ہو گیا۔ "اللہ" اس کا نام ہے اور "إله" بھی اس کے لیے ثابت ہے۔ "إله" وہ ہے جس کی طرف ہر چیز پناہ لے (اللجأ)، اسی لیے ہر موجود کی طرف اضافت کی جاتی ہے۔ اور "اللہ" وہ ہے جس کی طرف عقولِ عالمہ متحیر ہو کر رجوع کرتی ہیں۔
(الرَّبُّ)
مالک، سردار، یا کام کو سنبھالنے والا اور اصلاح کرنے والا، یا تربیت کرنے والا۔
(الْمَالِكُ)
مخلوقات میں قضا و قدر اور تدبیروں سے تصرف کرنے والا، بغیر کسی احتیاج، روک، یا شرکت کے، عظمت و جلال کی صفت کے ساتھ۔ جو شخص یہ جان لے کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے جس پر سب امیدیں ختم ہوتی ہیں، وہ اپنی ہمت اسی پر لگا دیتا ہے اور ہر کام میں اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ خاصیت: دل کی صفائی، غنا حاصل ہونا، اور امرت (قائد وں) جیسی چیزیں۔ جو شخص ظہر کے وقت روزانہ سو بار پڑھے، اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور کدورت دور ہوتی ہے۔ جو شخص فجر کے بعد روزانہ ۱۲۰ بار پڑھے، اللہ اسے اپنے فضل سے غنی کر دیتا ہے۔
(الْقُدُّوسُ)
"فعول" ہے "قدس" سے، مبالغے کا صیغہ۔ حقیقت: تغیر قبول کرنے سے بلند ہونا۔ خاصیت: جمعہ کی نماز کے بعد روٹی پر "سبوح قدوس رب الملائکہ والروح" لکھ کر کھانے سے اللہ اس کے لیے عبادت کھول دیتا ہے اور آفات سے بچاتا ہے۔
(السَّلَامُ)
ہر آفت اور نقص سے پاک۔ حقیقت سلامتی: معاملے کا استواء اور رحمت و محنت کے دو طرفوں کے درمیان وسط، اور منعم علیہ اور منتقم کے درمیان حالتِ وسط۔ خاصیت: مصائب اور آلام دور ہوتے ہیں۔ اگر مریض پر ۱۲۱ بار پڑھا جائے تو شفاء ملتی ہے جب تک موت نہ آئی ہو، یا تخفیف ہوتی ہے۔
(الْمُؤْمِنُ)
تصدیق کرنے والا اپنے حکم سے اس کی خبر دینے والے کی، اس کی صداقت کی دلیلیں ظاہر کر کے۔ امام الحرمین نے کہا: یہ قول و فعل کے مجموعے سے امن دینے کی طرف لوٹتا ہے۔ اسے "السلام" کے ساتھ اس لیے رکھا گیا کہ "سالم" پر امن دینے کے معنی میں زیادتی ہے، کیونکہ اس میں اقبال اور قبول ہے۔ خاصیت: امن ملتا ہے، صدق اور تصدیق حاصل ہوتی ہے۔ خوف زدہ ۳۶ بار پڑھے تو اپنی جان و مال پر امن پاتا ہے، اور قوت و ضعف کے لحاظ سے تعداد بڑھائی جا سکتی ہے۔
(الْمُهَيْمِنُ)
گواہ، محیط اس کی باطنی باتوں پر جس کی گواہی دی گئی ہو۔ جو شخص جان لے کہ وہ "المہیمن" ہے، وہ اس کے جلال کے سامنے عاجزی کرتا ہے اور ہر حال میں اس کی نگرانی کرتا ہے۔ خاصیت: باطن کی عزت و شرف حاصل ہوتی ہے، ہمت بلند ہوتی ہے۔ غسل اور نماز کے بعد سو بار تنہائی میں پڑھے اور اپنے ارادے کو جمع کرے۔
(الْعَزِيزُ)
قابلِ ادراک نہ ہونے والا، اپنے معاملے میں غالب، مخلوق کی صفات سے بلند۔ جو شخص جان لے کہ وہ "العزیز" ہے، وہ اپنی ہمت مخلوق سے بلند کر لیتا ہے۔ مرسی نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے عزت نہیں دیکھی سوائے ہمت کو مخلوق سے بلند کرنے میں۔ ابن عطاء اللہ نے کہا: جب تو غیر اللہ کی طرف جھکے گا تو وہ تجھے کھو دے گا، اپنے الٰہ کو دیکھ جس پر تو جم گیا تھا۔ خاصیت: غنا اور عزت حاصل ہوتی ہے، خواہ صورت میں ہو یا حقیقت یا معنی میں۔ جو شخص چالیس دن تک روزانہ چالیس بار پڑھے، اللہ اسے غنی اور عزیز کر دیتا ہے اور کسی کا محتاج نہیں رکھتا۔
(الْجَبَّارُ)
"جبر" سے، جو کسی معاملے کے بگڑنے پر اسے سنوارنا ہے، یا "اجبار" سے جو حکم نافذ کرنا ہے۔ خاصیت: سفر و حضر میں ظالموں اور زیادتی کرنے والوں کے ظلم سے حفاظت۔ صبح و شام پڑھے۔
(الْمُتَكَبِّرُ)
اپنی کبریائی کو بندوں پر ظاہر کرنے والا، اپنے حکم کے ظہور سے یہاں تک کہ کسی اور کی کبریائی باقی نہ رہے۔ امام الحرمین نے کہا: یہ اسم تنزیہی معانی کو جمع کرنے والا ہے، اور ان ناموں میں سے ہے کہ فطرتیں اس کے معنی پر یقین رکھنے پر پیدا کی گئی ہیں۔ خاصیت: جلالت اور برکت۔ جو شخص رات کو اپنی بیوی کے پاس جانے سے پہلے دس بار پڑھے، اسے نیک اور صالح بیٹا ملتا ہے۔
(الْخَالِقُ)
کائنات کو وجود میں لانے والا، انہیں قائم رکھنے والا۔ تخلیق: ممکن کو وجود میں لانا۔ یہ قدرت کے معانی میں سے ہے۔ خاصیت: رات کے وقت پڑھنے سے دل اور چہرہ منور ہوتا ہے۔
(الْبَارِئُ)
ہر ممکن کو اس کی صورت قبول کرنے کے لیے تیار کرنے والا۔ یہ ارادے کے معانی میں سے ہے۔ خاصیت: سات دن متواتر روزانہ سو بار پڑھنے سے آفات سے سلامتی ملتی ہے۔
(الْمُصَوِّرُ)
ہر مخلوق کو اس کی وجودی صورت دینے والا اپنی حکمت سے۔ یہ "حکیم" کے معانی میں سے ہے۔ ان تین ناموں سے وجود ظاہر ہوتا ہے۔ خاصیت: عجیب صنعتوں میں مدد ملتی ہے اور ثمرات ظاہر ہوتے ہیں۔ بانجھ عورت اگر سات دن روزہ رکھے، ہر روز مغرب سے افطار سے پہلے ۲۱ بار پڑھے اور افطار پانی پر کرے تو اس کی بانجھ پن دور ہو جاتا ہے اور اس کے رحم میں بچہ بنتا ہے۔
(الْحَكِيمُ)
چیزوں کو محکم کرنے والا یہاں تک کہ وہ اس کے علم و ارادے، قضا و قدر کے مطابق متقن طور پر صادر ہوں۔ خاصیت: مصیبتوں کو دور کرتا ہے اور حکمت کا دروازہ کھولتا ہے۔
(الْعَلِيمُ)
"عالم" کے معنی میں۔ عالم وہ ہے جس پر علم قائم ہو۔ یہ معنوی صفت ہے جس کا تعلق معلومات سے ہے (واجب، جائز، محال)۔ خاصیت: علم و معرفت حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص اس کا التزام کرے، اللہ کو اس طرح پہچانتا ہے جو اس کے شایانِ شان ہے۔
(السَّمِيعُ)
جس کی صفت سمع نے ہر موجود کو کھول دیا، پس وہ ہر مسموع (کلام وغیرہ) کا ادراک کرنے والا ہے۔ خاصیت: دعا کی قبولیت۔ جو شخص جمعرات کے دن چاشت کی نماز کے بعد ۵۰۰ بار پڑھے، اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔
(الْبَصِيرُ)
ہر موجود کو اپنی رؤیت سے ادراک کرنے والا۔ خاصیت: توفیق کا حصول۔ جو شخص جمعہ کی نماز سے پہلے ۱۰۰ بار پڑھے، اللہ اس کی بصیرت کی آنکھ کھول دیتا ہے اور اسے اچھے قول و عمل کی توفیق دیتا ہے۔
(الْحَيُّ)
زندگی سے متصف، جس پر فنا، موت، قصور، عجز، اونگھ یا نیند نہیں آتی۔ خاصیت: ہر چیز میں زندگی کا ثبوت۔
(الْقَيُّومُ)
قائم بذاتہ، دوسروں کا محتاج نہیں۔ حرالی نے کہا: "قیام" سے مبالغے کے صیغے کے ساتھ مؤکد، امور کے اول و آخر، باطن و ظاہر پر قیام کی خبر دیتا ہے۔ خاصیت: قیام اور قیومیت ذات، وصف، قول اور فعل میں حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص اسے خالص کر کے پڑھے، اس سے نیند دور ہوتی ہے۔
(الْوَاسِعُ)
جس کا علم اور رحمت ہر چیز پر وسیع ہے۔ حرالی نے کہا: وسعت سے، جو قدرت، علم اور رحمت کے معنی میں ہر چیز کا احاطہ ہے۔ خاصیت: وسعت، جاہ، سینے کی کشادگی، قناعت، اور حرص، کینہ، حسد سے سلامتی حاصل ہوتی ہے۔
(اللَّطِيفُ)
ادراک سے پوشیدہ، یا پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا۔ خاصیت: درد و الم دور کرتا ہے۔ جو شخص اسے اس کی تعداد کے ساتھ جلالت کا مشاہدہ کرتے ہوئے پڑھے، مقام پر اثر ہوتا ہے۔ جو شخص روزانہ ۱۰۰ یا ۱۳۰ یا ۸۰ بار پڑھے، اس کی تنگی کشادہ ہوتی ہے اور اس کے ساتھ لطف کیا جاتا ہے۔
(الْخَبِيرُ)
چیزوں کی باریکیوں کا جاننے والا، جن تک کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکتا سوائے اختیار یا حیلہ کے۔ حرالی نے کہا: خبرہ سے، یعنی چیزوں میں جو پوشیدہ ہے اسے وفا کے ساتھ ظاہر کرنا۔ خاصیت: ہر چیز کی خبر ملتی ہے۔ جو شخص سات دن پڑھے، اس کے پاس روحانیت آتی ہے جو اسے ہر خیر کی خبر دیتی ہے جس کا وہ ارادہ کرے، جیسے سنت، بادشاہوں، اور دلوں کی خبریں۔ جو شخص کسی ایسے کے قبضے میں ہو جو اسے تکلیف دے، وہ اسے کثرت سے پڑھے۔
(الْحَنَّانُ)
اپنے بندوں پر بہت مہربان۔
(الْمَنَّانُ)
اپنے بندوں کو احسان سے نوازنے والا، عظیم انعام و احسان کے ساتھ۔
(الْبَدِيعُ)
ایجاد کرنے والا، یا جس کی کوئی مثال نہیں۔ خاصیت: حاجتیں پوری ہوتی ہیں اور آفات دور ہوتی ہیں۔ جو شخص ستر ہزار بار پڑھے، اسے یہ ملتا ہے۔
(الْوَدُودُ)
بندوں سے بہت محبت کرنے والا، اور ان سے محبت کا اظہار کرنے والا نعمتیں اتار کر، نقمتیں ہٹا کر، خیرات پہنچا کر، برائیوں کو دور کر کے۔ خاصیت: محبت قائم ہوتی ہے، خاص طور پر میاں بیوی کے درمیان۔ جو شخص کھانے پر ہزار بار پڑھ کر اپنی بیوی کے ساتھ کھائے، اس کی محبت اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ اس کی اطاعت کے سوا کچھ نہیں کر سکتی۔
(الْغَفُورُ)
"الغفار" کے معنی میں، لیکن "الغفار" زمانوں اور افراد میں عموم کا تقاضا کرتا ہے، اور "الغفور" کثرت مغفرت میں مبالغہ کا۔ خاصیت: درد دور کرتا ہے۔ بخار والے کے لیے تین بار لکھا جائے تو وہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر "سید الاستغفار" لکھ کر اس شخص کو پلایا جائے جس کی موت مشکل ہو، تو اس کی زبان کھل جاتی ہے اور موت آسان ہو جاتی ہے۔
(الشَّكُورُ)
تھوڑے عمل پر بہت زیادہ خیر دینے والا۔ حرالی نے کہا: شکر سے، جو باطنی خیر کو فعل یا قول سے ظاہر کرنا ہے۔ خاصیت: کشادگی اور جسمانی عافیت ملتی ہے۔ اگر کوئی شخص نفسیاتی تنگی، جسمانی تھکاوٹ یا بوجھ میں مبتلا ہو، اسے لکھ کر پانی میں گھول کر پینے اور جسم پر ملنے سے شفاء ملتی ہے۔
(الْمَجِيدُ)
کامل شرف والا، وسیع ملک والا، جس کی کوئی انتہا نہیں، نہ اس میں اضافہ ممکن ہے نہ اس کی کسی چیز تک رسائی۔ خاصیت: جلالت، مجد، اور ظاہری و باطنی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ برص والے اگر بیماری کے دنوں میں روزہ رکھ کر ہر روز افطار پر کثرت سے پڑھیں تو شفاء پاتے ہیں (بشرطیکہ برص پچاس سال سے زیادہ نہ ہو، ورنہ اس کا علاج موت پر موقوف ہے)۔
(الْمُبْدِئُ)
کائنات کو عدم سے وجود میں لانے والا۔ خاصیت: حاملہ کے پیٹ پر سحر کے وقت ۲۹ بار پڑھنے سے حمل محفوظ رہتا ہے اور گرتا نہیں۔
(الْمُعِيدُ)
عدم کے بعد موجودات کو لوٹانے والا۔ خاصیت: بھولی ہوئی چیز یاد آنے کے لیے کثرت سے پڑھے، خاص طور پر "الأول" کے ساتھ ملا کر۔
(النُّورُ)
اعیان کو عدم سے وجود میں لانے والا۔ حرالی نے کہا: مظاہر کو ظاہر کرنے والا، ہر چیز کی ذات کو واضح کرنے والا۔ خاصیت: دل اور اعضاء میں نور پیدا کرتا ہے۔
(الْبَارِئُ)
پہلے گزرا۔
(الْأَوَّلُ)
جس کے وجود کی کوئی ابتدا نہیں۔
(الْآخِرُ)
جس کے وجود کی کوئی انتہا نہیں، اس کی قدمت اور عدم کے استحالے کی وجہ سے۔ ہر چیز اسی سے شروع ہوئی اور اسی کی طرف لوٹتی ہے۔ خاصیت: جمعیت (مقاصد کا جمع ہونا)۔ مسافر ہر جمعہ کو ہزار بار پڑھے تو اس کی منتشر حالات جمع ہو جاتے ہیں۔ اور روزانہ سو بار پڑھنے سے دل غیر اللہ سے صاف ہو جاتا ہے۔
(الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ)
ربوبیت دلائل سے واضح، تکلف اور اوہام سے پوشیدہ۔ پس وہ تعریف کی طرف سے ظاہر ہے، تکلف کی طرف سے باطن ہے۔ "الحکم" میں کہا: وہ ہر چیز سے زیادہ ظاہر ہے کیونکہ وہ باطن ہے، اور اس نے ہر چیز کے وجود کو طے کیا کیونکہ وہ ظاہر ہے۔ خاصیت پہلے کی: پڑھنے والے کے قلب اور قالب پر نور ولایت ظاہر کرنا۔ دوسرے کی: جو شخص روزانہ تین بار (ہر بار ایک گھڑی) پڑھے، اسے انس حاصل ہوتا ہے۔
(الْعَفْوُ)
گناہ پر مؤاخذہ چھوڑ دینے والا یہاں تک کہ اس کا کوئی اثر باقی نہ رہے، چنانچہ وہ اس کے اثر کو مٹا دیتا ہے۔ "عفا الاثر" سے ماخوذ، یعنی نشان مٹ گیا۔ خاصیت: جو شخص کثرت سے پڑھے، اس کے لیے رضا کا دروازہ کھلتا ہے۔
(الْغَفَّارُ)
بہت زیادہ بخشنے والا، مغفرت گناہوں پر پردہ ڈالنا اور مؤاخذہ نہ کرنا ہے۔ خاصیت: مغفرت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ جو شخص جمعہ کی نماز کے بعد سو بار پڑھے، اس پر مغفرت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔
(الْوَهَّابُ)
"ہبہ" سے، جو عطیہ ہے بغیر کسی سبب، استحقاق، مقابلے یا جزا کے۔ اس کے صیغے میں مبالغہ ہے۔ خاصیت: غنا، قبولیت، ہیبت اور جلال حاصل ہوتا ہے۔ جو شخص چاشت کی نماز کے سجدے میں اس کا ورد کرے، اسے یہ ملتا ہے۔ اور اسے "الکریم ذی الطول الوہاب" کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے مال و جاہ میں برکت ہوتی ہے۔
(الْفَرْدُ)
جس کا کوئی جوڑ نہ ہو، بیوی یا اولاد سے، کیونکہ اس کی مانند کوئی نہیں۔ خاصیت: عالم قدرت اور اس کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص طہارت کے ساتھ تنہائی میں ہزار بار پڑھے، تو اس پر عجیب و غریب چیزیں ظاہر ہوتی ہیں۔
(الْأَحَدُ)
جس کی تقسیم محال ہے۔ افلشی نے کہا: فرق "الواحد" اور "الاحد" میں یہ ہے کہ "الواحد" وہ ہے جو تقسیم پذیر نہ ہو اور نہ متحیز ہو، یہ اس کی ذات کے لیے اسم ہے، اس میں ذات سے کثرت کی نفی ہے۔ "الأحد" اس کی ذات کی صفت ہے، اس میں نظیر اور شریک کی نفی ہے۔ سہیلی نے کہا: "أحد" زیادہ بلیغ اور عام ہے۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ "ما فی الدار أحد" (گھر میں کوئی نہیں) "ما فیھا واحد" سے زیادہ بلیغ ہے۔ بعض نے کہا: "الواحد" ذات، صفات اور افعال میں ایک ہے، اور "الأحد" وحدانیت میں ایک ہے کیونکہ وہ تغیر اور مشابہت قبول نہیں کرتا۔
(الصَّمَدُ)
جس کی طرف حاجتوں میں رجوع کیا جاتا ہے۔ خاصیت: کامیابی اور اصلاح ملتی ہے۔ جو شخص سحر کے وقت روزانہ ۱۲۵ بار پڑھے، اس پر صدق اور صدیقی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔
(الْوَكِيلُ)
بندوں کے مصالح کا ذمہ دار، ان کے لیے ہر معاملے میں کافی۔ حرالی نے کہا: وکالت سے، جو ترتیب و تدبیر کو سنبھالنا ہے۔ خاصیت: حوائج اور مصائب دور ہوتے ہیں۔ جو شخص آندھی یا بجلی گرنے سے ڈرے، اسے کثرت سے پڑھے، وہ اس سے دور ہو جاتی ہے اور خیر و رزق کے دروازے کھلتے ہیں۔
(الْكَافِي)
اپنے بندے کے لیے کافی، ہر آفت کو دور کرنے والا۔
(الْحَسِيبُ)
"حسب" (سرداری اور کامل شرف) سے، یا "حسب" (کفایت) سے، یعنی اپنے بندوں کو ان کی کفایت دینے والا، یا "حساب" سے، یعنی بندوں کے اعمال کا حساب لینے والا۔ خاصیت: رشتہ داروں میں امن قائم ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی قریبی کے بارے میں خوف رکھتا ہو، وہ ہر روز طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب کے بعد ۷۷ بار پڑھے تو اللہ اسے ایک ہفتے کے اندر امن دے گا، اور آغاز جمعرات سے کرے۔
(الْبَاقِي)
جس پر عدم اور فنا جائز نہیں۔ خاصیت: جو شخص ہزار بار پڑھے، وہ اس کے ضد (غم، پریشانی) سے نجات پاتا ہے۔
(الْحَمِيدُ)
بلند صفات سے متصف، جس کی تعریف کسی اور کے لیے صحیح نہیں، اور اس کے سوا کسی کی حقیقت میں ثناء نہیں کی جا سکتی۔ خاصیت: اخلاق، افعال اور اقوال میں خوبیاں حاصل ہوتی ہیں۔
(الْمُقِيتُ)
ہر موجود کو وہ چیز دینے والا جس سے اس کا قوام ہو، خواہ حسی قوت ہو یا معنوی۔ خاصیت: قوت اور غنا ملتی ہے۔ روزہ دار اگر اسے لکھ کر مٹی پر ڈال کر تر کرے اور سونگھے تو اسے طاقت ملتی ہے۔ اور جو شخص اسے سات بار پڑھ کر کوزے پر لکھے اور سفر میں اس میں پانی پیے تو سفر کی وحشت سے محفوظ رہتا ہے، خاص کر اگر اس کے ساتھ سورۃ قریش صبح و شام پڑھے۔
(الدَّائِمُ)
فنا قبول نہیں کرتا، اس کی دوام کی کوئی انتہا نہیں۔ اِقلیشی نے کہا: یہ صفت ذاتیہ سلبی ہے جیسے "الباقی"، لیکن "الدائم" میں زیادہ معنی ہے کہ وہ ایک حالت پر باقی ہے، اور دوام اس کے لیے ضروری ہے۔ بعض نے کہا: "الدائم" وہ ہے جس کے وجود کی کوئی انتہا نہیں اور نہ اس کی بقا کا کوئی انقطاع۔
(الْمُتَعَالِي)
اپنی کبریائی، عظمت اور مجد کی بلندی میں ہر اس چیز سے بلند جو اس کی مخلوق کی صفات سے سمجھی یا سمجھی جا سکتی ہے۔ خاصیت: رفعت اور حال کی اصلاح ملتی ہے۔ حائضہ اگر ایام حیض میں اس کا ورد کرے تو اللہ اس کے حال کی اصلاح کر دیتا ہے۔
(ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ)
جس کے لیے عظمت، کبریائی اور کامل فضل ہے۔ خاصیت: عزت و کرامت ملتی ہے اور جلالت ظاہر ہوتی ہے۔
(الْوَلِيُّ)
اپنے خاص بندوں کے امور کو سنبھالنے والا۔ {وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ} (الجاثیہ: 19)، {اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ} (البقرہ: 257)۔ خاصیت: ولایت قائم رہتی ہے، حساب آسان ہوتا ہے اور امور میں آسانی ہوتی ہے۔ جو شخص ہر جمعہ ہزار بار پڑھے، اس کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔
(النَّصِيرُ)
اپنے دوستوں کی بہت مدد کرنے والا، نعم المولیٰ ونعم النصیر۔
(الْحَقُّ)
ثابت الوجود، اس طرح کہ زوال، عدم اور تغیر کو قبول نہ کرے۔ سب کچھ اسی سے ہے اور اسی کی طرف ہے۔ اس کے سوا ہر چیز باطل ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا: "الا کل شیء ما خلا اللہ باطل"۔ خاصیت: مربع کاغذ پر اس کے چار کونوں پر لکھ کر سحر کے وقت ہتھیلی میں رکھ کر آسمان کی طرف اٹھائے تو اللہ اس کی فکر کو دور کر دیتا ہے۔
(الْمُبِينُ)
صراط مستقیم کو ظاہر کرنے والا جسے وہ ہدایت دینا چاہے۔ جو شخص ہر روز سو بار "لا الہ الا اللہ الملک الحق المبین" کا ورد کرے، وہ اپنی فقر سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور اس کا کام آسان ہو جاتا ہے۔
(الْبَاعِثُ)
کسی حالت، وصف، حکم، نیند یا کسی اور چیز میں ٹھہری ہوئی چیز کو حرکت دینے والا۔ پس وہ رسولوں کو احکام دے کر بھیجنے والا ہے، اور نیند سے بیدار کرنے والا ہے۔ خاصیت: عالم غیب کو بیدار کرنا۔ جو شخص سوتے وقت ہاتھ سینے پر رکھ کر سو بار پڑھے، اللہ اس کے دل کو نور دیتا ہے اور اسے علم و حکمت عطا کرتا ہے۔
(الْمُجِيبُ)
سائل کی درخواست کو اس کے فضل کے مطابق فوراً اور انجام میں پورا کرنے والا، اسے اس کی مراد دے کر، یا اس سے بہتر، زیادہ محفوظ یا اس کے علم میں زیادہ مناسب دے کر۔ خاصیت: دعا کی جلد قبولیت، خاص کر "السمیع" کے ساتھ ملا کر۔
(الْمُحْيِي)
زندگی کا خالق، اور جسے چاہے زندگی دینے والا، اور جسے چاہے اس کی زندگی جاری رکھنے والا۔ خاصیت: الفت پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص جدائی یا قید سے ڈرے، وہ اسے اپنے جسم پر پڑھے۔
(الْمُمِيتُ)
موت کا خالق، اور جسے چاہے زندوں پر مسلط کرنے والا۔ یہ معنوی طور پر دلوں کو معرفت کے نور سے زندہ کرتا ہے اور غفلت وغیرہ سے مارتا ہے۔ خاصیت: حد سے بڑھنے والا اور جس کا نفس اطاعت پر آمادہ نہ ہو، وہ اسے کثرت سے پڑھے۔
(الْجَمِيلُ)
اپنی ذات، صفات اور افعال میں خوبصورت۔ اقلیشی نے کہا: یہ صفت ذاتیہ سلبیہ ہے، کیونکہ مخلوق میں "جمیل" وہ ہے جس کی صفات اچھی ہوں اور برائیاں اس سے دور ہوں۔ اور یہ صفت فعل بھی ہو سکتی ہے بمعنی "مجمل" (خوبصورت بنانے والا)۔
(الصَّادِقُ)
اپنے وعدے اور وعید میں سچا۔
(الْحَفِيظُ)
مخلوقات کا منتظم، انہیں ہلاکتوں سے بچانے والا، یا تمام معلومات کا عالم، اس علم کے ساتھ جو تبدیل نہیں ہوتا۔ خاصیت: جو شخص اسے لے کر چلے یا مشکل مقامات میں پڑھے، اس کی برکت پاتا ہے۔ اگر کوئی اسے تعویذ بنا کر لٹکائے اور درندوں میں سوئے تو وہ اسے نقصان نہیں پہنچاتے۔
(الْمُحِيطُ)
اپنی تمام مخلوقات اور ان کے ظاہر و باطن سے محیط۔
(الْكَبِيرُ)
جس کی صفت کے ذکر پر اس کے سوا ہر چیز چھوٹی ہو جائے، پس وہ ہر چیز کو اپنی کبریائی کے مقابلے میں حقیر کر دیتا ہے۔ خاصیت: علم و معرفت کا دروازہ کھلتا ہے۔ اگر کھانے پر پڑھ کر میاں بیوی کھائیں تو ان میں صلح اور موافقت ہوتی ہے۔
(الْقَرِيبُ)
جس سے کوئی مسافت دور نہیں کرتی، نہ کوئی غیبت اور نہ کوئی حجاب۔
(الرَّقِيبُ)
جو غافل نہیں ہوتا، نہ بھولتا ہے، اسے کسی منتظم یا متنبہ کی ضرورت نہیں۔ خاصیت: گم شدہ چیزیں مل جاتی ہیں، اہل و مال محفوظ رہتے ہیں۔ جو شخص گم شدہ چیز کے لیے کثرت سے پڑھے، اسے پا لیتا ہے۔ جو شخص ماں کے پیٹ میں بچے کے بارے میں ڈرے، سات بار پڑھے تو بچہ محفوظ رہتا ہے۔ جو شخص سفر کا ارادہ کرے اور اپنے اہل یا بچوں میں سے جس پر فساد کا اندیشہ ہو، اس کی گردن پر ہاتھ رکھ کر سات بار پڑھے تو وہ محفوظ رہتا ہے۔
(الْفَتَّاحُ)
خیر اور کشادگی کو تنگی اور بندش کے بعد ظاہر کرنے والا۔ خاصیت: کام آسان ہوتے ہیں، دل منور ہوتا ہے، فتح کے اسباب ملتے ہیں۔ جو شخص فجر کی نماز کے بعد ہاتھ سینے پر رکھ کر ۷۱ بار پڑھے، اس کا دل صاف ہوتا ہے، اس کا باطن منور ہوتا ہے، اس کا کام آسان ہوتا ہے، اور رزق میں آسانی کا راز ہے۔
(التَّوَّابُ)
بندوں پر بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا۔ خاصیت: ظلم دور کرتا ہے اور توبہ حقیقی بناتا ہے۔ جو شخص چاشت کی نماز کے بعد ۳۶۰ بار پڑھے، اس کی توبہ قبول ہوتی ہے۔ جو شخص ظالم پر دس بار پڑھے، اس کا مظلوم اس سے نجات پاتا ہے۔
(الْقَدِيمُ)
جس کے وجود کی کوئی ابتدا نہیں۔
(الْوِتْرُ)
توحید میں یکتا۔
(الْفَاطِرُ)
ایجاد کرنے والا، آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا، صفات فعل سے۔
(الرَّزَّاقُ)
ہر موجود کو وہ چیز دینے والا جس سے اس کی صورت اور مادہ محفوظ رہے، جسموں کو غذا، عقلوں اور دلوں کو فہم، اور روحوں کو تجلیات۔ خاصیت: رزق کی کشادگی۔ فجر کی نماز سے پہلے گھر کے ہر کونے میں (قبلہ رخ ہو کر) دس بار پڑھے، دائیں سے شروع کرے۔
(الْعَلَّامُ)
ہر معلوم میں علم کی انتہا کو پہنچنے والا۔ خاصیت: علم و معرفت حاصل ہوتی ہے۔ جو اس کا ورد کرے، وہ اللہ کو اس کے شایانِ شان پہچانتا ہے۔
(الْعَلِيُّ)
عقول اور ان کی حدوں سے بلند، اپنی ذات، صفات اور افعال میں۔ پس اس کی ذات کی مانند کوئی ذات نہیں، اس کی صفت کی مانند کوئی صفت نہیں، اس کے نام کی مانند کوئی نام نہیں، اس کے فعل کی مانند کوئی فعل نہیں۔ خاصیت: پست چیزوں سے بلندی کی طرف اٹھاتا ہے۔ چھوٹے بچے پر لکھ کر لٹکانے سے وہ بڑھتا ہے، غریب پر پڑھنے سے وہ غنی ہو جاتا ہے۔
(الْعَظِيمُ)
جس کی صفت کے ذکر پر اس کے سوا ہر چیز حقیر ہو جائے، پس وہ مطلق عظیم ہے۔ خاصیت: عافیت اور بیماری سے شفاء ملتی ہے، جب تک موت نہ آئی ہو۔
(الْغَنِيُّ)
کسی چیز کا محتاج نہیں، نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ افعال میں۔ خاصیت: ہر چیز میں عافیت ملتی ہے۔ اگر کسی بیماری یا مصیبت پر پڑھے تو اللہ اسے دور کر دیتا ہے۔ اس میں اسم اعظم کا راز ہے۔
(الْمُغْنِي)
غنا دینے والا، یعنی کفایت، جسے چاہے۔ خاصیت: غنا حاصل ہوتا ہے۔ مخلوق سے مایوس شخص روزانہ ہزار بار پڑھے تو اللہ اسے غنی کر دیتا ہے۔ اگر دس جمعوں تک ہر جمعہ کی رات دس ہزار بار پڑھے تو اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔
(الْمَلِيكُ)
"الملک" کی مبالغہ، کیونکہ "فعیل" اسم فاعل میں مبالغہ کے لیے ہے۔
(الْمُقْتَدِرُ)
"القادر" کے معنی میں، یا اس سے خاص۔ خاصیت: اس کے مولیٰ کی طرف سے تدبیر ہوتی ہے۔ جو شخص نیند سے بیدار ہوتے ہوئے اسے پڑھے، اللہ اس کے لیے تدبیر کرتا ہے۔
(الْأَكْرَمُ)
سب سے زیادہ کریم۔
(الرَّؤُوفُ)
"رأفت" سے، جو شدید رحمت ہے۔ رأفت باطنِ رحمت ہے۔ رحمت ارادی صفات میں سے خاص ہے کیونکہ رحمت نقصان دور کرنے اور برائی ہٹانے کا ارادہ ہے، اور رأفت میں لطف و نرمی کی زیادتی ہے۔ خاصیت: غصہ دور کرتا ہے۔ جو شخص غصہ کے وقت دس بار پڑھے اور اتنا ہی درود پڑھے، اس کا غصہ سکون پاتا ہے۔
(الْمُدَبِّرُ)
اپنی مخلوق کے اسرار کی تدبیر کرنے والا، جس سے عقلیں حیران ہو جائیں۔ اسم فاعل ہے "دبر یدبر" سے، جب وہ امور کے انجام پر نظر ڈالے۔ خاصیت: اللہ کی طرف سے تدبیر ہوتی ہے۔ جو اس کا ورد کرے، وہ دیکھتا ہے کہ تدبیر تدبیر ترک کرنے میں ہے۔
(الْمَالِكُ)
یہ اسم اعلیٰ صفات کے معانی اور علم و اقتدار کے احاطے کو جمع کرنے والا ہے۔ جو اسے مخلوق سے تعبیر کرے، اس نے اس کے معنی کا ایک حصہ لیا، اور جو قدرت سے تعبیر کرے بھی ایسا ہی ہے۔ خاصیت: دل کی صفائی اور کدورات سے نجات۔
(الْقَاهِرُ)
قہر سے، جو کسی چیز پر اس کے ظاہر (بادشاہی و سلطنت) اور باطن (بلندی مقام اور حجت قائم ہونے) سے غلبہ ہے۔ اللہ نے فرمایا: {وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ} (الانعام: 18)۔ خاصیت: دنیا کی محبت اور غیر اللہ کی عظمت دل سے نکل جاتی ہے، نفس کی دنیاوی تعلقات سے کمزوری ہوتی ہے۔ جو کثرت سے پڑھے، اسے یہ ملتا ہے اور دشمن پر قہر کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔
(الْهَادِي)
بندوں کو امر اور توفیق سے راہ دکھانے والا۔ {الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى} (طہ: 50)۔ خاصیت: پڑھنے والے اور اس کے دل کی ہدایت، اور اسے شہروں میں تصرف کی حکومت ملتی ہے۔
(الشَّاكِرُ)
اپنے بندوں کے نیک عمل پر ان کی تعریف کرنے والا اور انہیں اپنے انعام کے سمندر سے ثواب دینے والا۔
(الْكَرِيمُ)
بلند مرتبہ، عظیم الشان۔ اس کے معنی میں کرم ذات اور کرم افعال ہے، سوال سے پہلے عطا کرنا، بغیر حد کے دینا۔ اللہ تعالیٰ ذاتاً، صفاتاً اور فعلاً کریم ہے۔ خاصیت: کرم اور اکرام ملتا ہے۔ جو شخص سوتے وقت اس کا ورد کرے، اللہ لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت ڈال دیتا ہے۔
(الرَّفِيعُ)
مرتبے کی بلندی میں حد کو پہنچنے والا۔
(الشَّهِيدُ)
حاضر، جس سے کوئی معلوم، مرئی، یا مسموع غائب نہیں، اسے کسی تعریف کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ہر چیز کا معرف ہے۔ {أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ} (حم السجدہ: 53)۔ خاصیت: باطل سے حق کی طرف لوٹنا۔ اگر نافرمان بیٹے کی پیشانی کے بال لے کر اس پر ہزار بار پڑھے، یا بیوی پر پڑھے تو ان کا حال درست ہو جاتا ہے۔
(الْوَاحِدُ)
اپنی ذات، صفات اور افعال میں یکتا۔ پس وہ ذات میں احد ہے (تقسیم نہیں ہوتا)، صفات میں ایک ہے (کسی چیز سے مشابہ نہیں، کوئی چیز اس سے مشابہ نہیں)، افعال میں ایک ہے (نہ کوئی شریک، نہ نظیر)۔ خاصیت: دل سے مخلوق کو نکالنا۔ جو شخص روزانہ ہزار بار پڑھے، وہ مخلوق کو دل سے نکال دیتا ہے، اور دل کے خوف سے بچ جاتا ہے جو ہر بلا کی جڑ ہے۔
(ذُو الطَّوْلِ)
اضافت اس لیے ہے کہ "طول" غنا اور فضل کی وسعت ہے۔ کہا جاتا ہے "طال علیھم یطول" یعنی اس نے ان پر فضل کیا۔ چونکہ وہ اپنے بندوں پر اپنے طول سے فضل کرتا ہے اور انہیں عطائے جزیل سے کشادگی دیتا ہے، اس لیے اسے "ذوالطول" کہا گیا۔
(ذُو الْمَعَارِجِ)
یعنی بلندیاں۔ اقلیشی نے کہا: زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اضافت ملکیت کی ہے، یا "معارج" وہ سیڑھیاں ہیں جن پر فرشتے چڑھتے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ صفت کی موصوف کی طرف اضافت ہو، تو "معارج" بلند درجات اور فاضل صفات ہیں جو اس نے اپنی ذات سے حاصل کر رکھے ہیں۔
(ذُو الْفَضْلِ)
عطا میں زیادتی والا۔
(الْخَلَّاقُ)
بہت زیادہ مخلوقات پیدا کرنے والا۔
(الْكَفِيلُ)
اپنی مخلوق کے مصالح کا ذمہ دار۔
(الْجَلِيلُ)
جس کا حکم نافذ ہو، بات چلتی ہو، اور جلال کی صفات رکھتا ہو جیسے الملک، الغنی۔
یہاں تک اس حدیث میں مذکور اسماء کی شرح مکمل ہوئی۔
حافظ ابن حجر نے کہا: یہ ترتیب اور زیادتی و نقصان میں ترمذی کی روایت کے خلاف ہے۔ ان اسماء کے درمیان عطف چھوڑنے کا اشارہ اس طرف ہے کہ ان میں سے ہر صفتِ کمالیہ اپنے طور پر مستقل ہے، اور ان میں سے کوئی ایک اسم "اللہ" کے تمام مفہوم کو ادا نہیں کرتا۔ کبھی مناسبت اور اجتماع کے اظہار کے لیے عطف ذکر کیا جاتا ہے، اور کبھی تنوع کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے ذہن متوجہ ہوتا ہے۔
(تخریج) اس حدیث کو امام حاکم (ك) نے عبدالعزیز بن حصین کی سند سے، انہوں نے ابوب اور ہشام بن حسان سے، ان دونوں نے ابن سیرین سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ نیز ابوالشیخ (ابن حبان) اصفہانی، ابن مردویہ (دونوں نے تفسیر میں)، اور ابونعیم حافظ (فی الاسماء الحسنى) نے بھی ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔
امام حاکم نے کہا: عبدالعزیز ثقہ ہیں۔ لیکن حافظ ابن حجر نے اس پر نقد کرتے ہوئے کہا: بلکہ ان کے ضعف پر اتفاق ہے، بخاری اور مسلم اور ابن معین نے انہیں ضعیف کہا ہے۔ میزان میں بخاری سے مروی ہے: "لیس بالقوی عندہم" اور ابن معین سے: "ضعیف"، اور مسلم سے: "ذاهب الحدیث"، اور ابن عدی سے: "الضعف على روایاته بین" پھر انہوں نے ان روایات میں سے یہ حدیث بھی گنوائی ہے جس کا انکار کیا گیا ہے۔
[فيض القدير شرح جامع الصغیر-للمناوي: حديث نمبر 2368]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. اسماء الحسنیٰ کی اہمیت: اللہ کے نام اس کی صفاتِ کمالیہ کو ظاہر کرتے ہیں اور ان کا احصاء (علم، ایمان، دعا اور عمل) جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔
2. اسماء کی دو قسمیں: بعض نام ذات کے ساتھ خاص ہیں (مثلاً "الواحد"، "الأحد") اور بعض میں بندے کے لیے ان کے معانی سے متصف ہونا مستحب ہے (مثلاً "الرحیم"، "الکریم")۔
3. علم و عمل کا تعلق: محض نام گن لینا کافی نہیں، بلکہ ان کے معانی کو سمجھنا، ان پر ایمان لانا اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔
4. اسماء کے خواص: ہر نام کے ساتھ مخصوص روحانی فوائد (خواص) بیان کیے گئے ہیں، جو ذکر اور دعا میں ان کی برکت کو ظاہر کرتے ہیں۔
5. توحید کی حفاظت: اسماء کی کثرت ذات میں کثرت نہیں بلکہ صفات اور افعال کے اعتبار سے ہے۔ اللہ اپنی ذات میں واحد و احد ہے۔
6. سند کی تحقیق: اس حدیث کی سند میں عبدالعزیز بن حصین ضعیف ہیں، اس لیے یہ روایت قابل حجت نہیں، البتہ اس کے مضامین دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔
7. ترمذی کی روایت سے اختلاف: اس روایت میں اسماء کی ترتیب اور تعداد ترمذی سے مختلف ہے، جو راویوں کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔
8. دعا کی قبولیت: اللہ کے ناموں سے دعا کرنا مستحب ہے اور اس میں خلوص اور یقین شرط ہے۔
9. اصلاحی پہلو: ان ناموں کے خواص میں کئی عملی ہدایات ہیں جو مسلمانوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں (مثلاً ازدواجی تعلقات، بیماری، خوف، وغیرہ) کی اصلاح میں معاون ہیں۔
10. تنبیہ: ابن عربی کے حوالے سے واضح کیا گیا کہ صفات میں کثرت نسبتوں میں ہے نہ کہ ذات میں، اور اللہ پر مخلوق کی صفات کو قیاس کرنا درست نہیں۔
---
(5)
إن لله تسعة وتسعين اسما كلهن فى القرآن من أحصاهن دخل الجنة
[جامع الاحادیث-للسیوطی، حدیث نمبر 8241]
حوالہ: تفسیر طبری (15/183)
اس حدیث میں اسماء کی فہرست نہیں بلکہ بتایا گیا کہ یہ سب اسماء قرآن میں موجود ہیں۔
---
نتیجہ
اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ بے شمار ہیں، لیکن ان میں سے 99 نام خاص طور پر جنت میں داخلے کا ذریعہ ہیں۔ مختلف صحابہ سے مروی احادیث میں ناموں کی فہرست میں تھوڑا بہت فرق ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے مختلف مواقع پر الگ الگ انداز میں ان کا ذکر فرمایا۔
مسلمان کو چاہیے کہ ان ناموں کو یاد کرے، ان کے معانی سمجھے، ان کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارے، اور انہیں وسیلہ بنا کر اللہ سے دعا مانگے۔
واللہ اعلم بالصواب
اللہ کے ناموں کی وسعت:
اللہ کے نام صرف ۹۹ تک محدود نہیں، بلکہ اور بھی ہیں جو اس کے علم غیب میں ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"مَا قَالَ عَبْدٌ قَطُّ إِذَا أَصَابَهُ هَمٌّ أَوْ حَزَنٌ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ غَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا"
ترجمہ:
"کوئی بندہ جب کبھی غم یا پریشانی میں مبتلا ہو کر یہ دعا پڑھتا ہے:
'اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری باندی کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، مجھ پر تیرا حکم نافذ ہے، مجھ پر تیری قضا عادلانہ ہے۔ میں تجھ سے ہر اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنے لیے رکھا، یا اپنی کتاب میں نازل کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا، یا اپنے علم غیب میں اپنے پاس محفوظ رکھا، (میں سوال کرتا ہوں کہ) تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کی دوری اور میری پریشانی کا خاتمہ بنا دے۔'
تو اللہ تعالیٰ اس کا غم دور فرما دیتا ہے اور اس کی پریشانی کو خوشی میں بدل دیتا ہے۔"
صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم ان کلمات کو سیکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں، جس نے بھی یہ کلمات سنے، اسے انہیں سیکھنا چاہیے۔"
---
تخریج و حوالہ جات
یہ حدیث درج ذیل کتب میں مروی ہے:
· مصنف ابن ابی شیبہ: حدیث نمبر 29318
· مسند احمد: حدیث نمبر 3712 (شیخ شعیب ارناؤوط نے اسے صحیح قرار دیا)
· صحیح ابن حبان: حدیث نمبر 972
· مسند الدیلمی: حدیث نمبر 1895
· الأسماء والصفات للبیہقی: ص 7-8
· تفسیر ابن کثیر: 3/465 (سورۃ الأعراف: 180)
· تفسیر الثعالبی: 5/70 (سورۃ ص: 41)
· صحيح الترغيب: حدیث نمبر 1822
· سلسلة الأحاديث الصحيحة: حدیث نمبر 199
حكم الحديث:
یہ حدیث صحیح ہے۔ امام احمد، ابن حبان، حاکم، ابن قیم، ابن کثیر، البانی وغیرہ محدثین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
---
تشریح علامہ سندی:
1. "نَاصِيَتِي بِيَدِكَ"
میرے پیشانی کے بال تیرے قبضے میں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت اور اس کے مکمل اختیار کی کنایہ ہے کہ وہ جس طرح چاہے میرے ساتھ تصرف کر سکتا ہے۔
2. "مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ"
تیرا حکم میرے بارے میں نافذ ہے، کوئی تیری قضا کو رد نہیں کر سکتا۔
3. "عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ"
تیری قضا میرے حق میں عادلانہ ہے، کیونکہ تو ہر لحاظ سے مالک ہے، تیرے فیصلے میں ظلم کا کوئی امکان نہیں۔
4. "بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ"
یہاں "اسم" کی صفت "ہو لک" کے ساتھ عموم کے لیے ہے، جیسے "ولا طائر یطیر" میں عموم پایا جاتا ہے۔
5. "أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ"
"کتاب" سے مراد جنس ہے، یعنی تمام آسمانی کتابیں۔
6. "اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ"
استأثرت کا معنی ہے: تو نے اسے خاص کر لیا، چن لیا، اور اپنے علم غیب میں اپنے پاس محفوظ رکھا۔
7. "رَبِيعَ قَلْبِي"
ربیع (بہار) سے مراد وہ مقام ہے جہاں دل کی راحت، نشوونما اور نفع ہو، جیسے بہار میں زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ یہاں قرآن کو دل کی بہار بنانے کا مطلب ہے کہ دل کو قرآن کی تلاوت، علوم، حکمتیں اور لطائف سے منور فرما دے۔
8. "جَلَاءَ حُزْنِي"
جلاء (کسرہ ج کے ساتھ) کے معنی دور کرنے والا، صاف کرنے والا۔
---
امام غزالی کا اہم نکتہ (المقصد الأسنى: 1/166)
"اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ" اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ کے نام صرف ان مشہور روایات تک محدود نہیں ہیں جو ۹۹ ناموں میں آئی ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے اور بھی نام ہیں جو صرف اسی کے علم میں ہیں۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. دعا کی قبولیت کا یقین: یہ دعا پڑھنے والے کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کا غم دور فرما دے گا اور اسے خوشی عطا کرے گا۔
2. بندے کی عاجزی: دعا میں انسان اپنی کمزوری اور اللہ کی قدرت کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ محض بندہ ہے، اس کی ماں باپ بھی اللہ کے بندے ہیں۔
3. اللہ کی صفات کا اعتراف:
· "ناصیتی بیدک": اللہ کی کامل قدرت
· "ماض فی حکمك": اللہ کا نافذ حکم
· "عدل فی قضاؤك": اللہ کی عادلانہ قضا
4. اللہ کے ناموں کی وسعت: اللہ کے نام صرف ۹۹ تک محدود نہیں، بلکہ اور بھی ہیں جو اس کے علم غیب میں ہیں۔
5. قرآن کی عظمت: قرآن کو دل کی بہار، سینے کا نور، غم کی دوری اور پریشانی کا خاتمہ بنانے کی دعا مانگی گئی ہے۔
6. صحابہ کا جذبہ: صحابہ کرام کا یہ پوچھنا کہ کیا ہم یہ کلمات سیکھیں؟ ان کے علم کے شوق اور دعاؤں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
7. دعا کی تعلیم کی اہمیت: نبی ﷺ کا حکم کہ جس نے بھی یہ دعا سنی، اسے سیکھنا چاہیے۔
8. غم اور خوشی کا تعلق: دنیا میں غم اور پریشانی آتی رہتی ہے، لیکن اللہ سے مانگنا چاہیے کہ وہ انہیں خوشی میں بدل دے۔
9. دعا میں توحید و رسالت: دعا کے شروع میں بندگی کا اقرار اور آخر میں قرآن کی فضیلت کا ذکر ہے۔
10. علم غیب کا اثبات: اللہ کے پاس ایسے نام ہیں جو اس نے اپنے علم غیب میں محفوظ رکھے ہیں۔
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل وقت میں اللہ کی بارگاہ میں جھکنا چاہیے، اس کی قدرت اور عدل کا اعتراف کرنا چاہیے، اور قرآن کو اپنا نور اور راحت بنانے کی دعا مانگنی چاہیے۔
الله پاک نے ارشاد فرمایا:
اور اسمائے حسنی (اچھے اچھے نام) اللہ ہی کے ہیں۔ لہذا اس کو انہی ناموں سے پکارو۔ (92) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں ٹیڑھا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ (93) وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس کا بدلہ انہیں دیا جائے گا۔
[سورۃ الاعراف:180]
(92) اس سے پہلی آیت میں نافرمانوں کی بنیادی بیماری یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے سامنے جواب دہی کے احساس سے غافل ہیں۔ اور غور کیا جائے تو اس دنیا میں ہر قسم کی برائی کا اصل سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ اس لیے اب اس بیماری کا علاج بتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور اپنی ہر حاجت اسی سے مانگی جائے۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے کا جو لفظ یہاں استعمال ہوا ہے، وہ دونوں باتوں کو شامل ہے، اس کی تسبیح و تقدیس کے ذریعے اس کا ذکر کرنا، اور اس سے دعائیں مانگنا۔ غفلت کے دور ہونے کا یہی راستہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کو دونوں طریقوں سے پکارے۔ البتہ اس کو پکارنے کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اچھے اچھے نام (اسمائے حسنی) خود اللہ تعالیٰ نے یا اس کے رسول ﷺ نے بتا دئیے ہیں، انہی ناموں سے اس کو پکارا جائے۔ ان اسمائے حسنی کی طرف قرآن کریم نے کئی مقامات پر اشارہ فرمایا ہے.
(دیکھئے سورة بنی اسرائیل 110:17 و سورة طہ 8:20 و سورة حشر 24:59)
اور صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ یہ ننانوے نام ترمذی اور حاکم نے روایت کیے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر انہی اسمائے حسنی میں سے کسی اسم مبارک کے ساتھ کرنا چاہیے اور اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام نہیں گھڑ لینا چاہیے۔
(93) بہت سے کافروں کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کا جو ناقص، ادھورا یا غلط تصور تھا اس کے مطابق انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام یا کوئی صفت بنالی تھی یہ آیت متنبہ کررہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ ان لوگوں کی پیروی میں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا وہ نام یا صفت استعمال کرنا شروع کردیں۔
تفسیر ابن کثیر:-
کچھ کمی زیادتی کے ساتھ اسی طرح یہ نام ابن ماجہ کی حدیث میں بھی وارد ہیں ۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ یہ نام راویوں نے قرآن میں چھانٹ لئے ہیں ۔ واللہ اعلم۔ یہ یاد رہے کہ یہی ننانوے نام اللہ کے ہوں اور نہ ہوں یہ بات نہیں ۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جسے کبھی بھی کوئی غم و رنج پہنچے اور وہ یہ دعا کرے:
(اللھم انی عبدک ابن عبدک ابن امتک ناصیتی بیدک ماض فی حکمک عدل فی قصاوک اسالک بکل اسم ھولک سمیت بہ نفسک وانزلتہ فی کتابک اوعلمتہ احد امن خقک اواستاثرت بہ فی علم الغیب عندک ان تجعل القران العظیم ربیع قلبی ونور صدری و جلاء حزنی و ذھاب ہمی) ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے غم و رنج کو دور کر دے گا اور اس کی جگہ راحت و خوشی عطا فرمائے گا۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ پھر کیا ہم اسے اوروں کو بھی سکھائیں؟ آپ نے فرمایا ہاں بیشک جو اسے سنے اسے چاہئے کہ دوسروں کو بھی سکھائے ۔
امام ابن ابی حاتم اور ابن حبان بستی بھی اس روایت کو اسی طرح اپنی صحیح میں لائے ہیں ۔
امام ابو بکر بن عربی بھی اپنی کتاب الاحوذی فی شرح الترمذی میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ کتاب و سنت سے جمع کئے ہیں جن کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے ، واللہ اعلم ۔
اللہ کے ناموں سے الحاد کرنے والوں کو چھوڑ دو جیسے کہ لفظ اللہ سے کافروں نے اپنے بت کا نام لات رکھا اور عزیز سے مشتق کر کے عُزیٰ نام رکھا ۔ یہ بھی معنیٰ ہیں کہ جو اللہ کے ناموں میں شریک کرتے ہیں انہیں چھوڑو۔ جو انہیں جھٹلاتے ہیں ان سے منہ موڑ لو۔
الحاد کے لفظی معنیٰ ہیں درمیانہ سیدھے راستے سے ہٹ جانا اور گھوم جانا ۔ اسی لئے بغلی قبر کو لحد کہتے ہیں کیونکہ سیدھی کھدائی سے ہٹا کر بنائی جاتی ہے ۔
تفسیر معارف القرآن:- خلاصہ تفسیر اور اچھے اچھے ( مخصوص) نام اللہ ہی کے لئے ( خاص) ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور (دوسروں پر ان ناموں کا اطلاق مت کیا کرو بلکہ) ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے (مذکورہ) ناموں میں کج روی کرتے ہیں (اس طرح سے کہ غیر اللہ پر ان کا اطلاق کرتے ہیں جیسا وہ لوگ ان کو معبود اور الہ اعتقاد کے ساتھ کہتے تھے) ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔ معارف ومسائل پچھلی آیات میں اہل جہنم کا ذکر تھا جنہوں نے اپنی عقل و حواس کو اللہ تعالی کی نشانیوں کے دیکھنے، سننے اور سمجھنے سوچنے میں صرف نہیں کیا اور آخرت کی دائمی اور لازوال زندگی کے لئے کوئی سامان فراہم نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوگیا کہ وہ خداداد عقل و بصیرت کو ضائع کرکے ذکر اللہ کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح و فلاح سے غافل ہوگئے اور جانوروں سے زیادہ گمراہی اور بے وقوفی میں مبتلا ہوگئے۔ مذکورہ آیت میں ان کے مرض کا علاج اور درد کی دوا بتلائی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالی سے دعا اور ذکر اللہ کی کثرت ہے، فرمایا (آیت) وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا، یعنی اللہ ہی کے لئے ہیں اچھے نام، تو تم پکارو اس کو انہی ناموں سے۔ اسماء حسنی کی تشریح: اچھے نام سے مراد وہ نام ہیں جو صفات کمال کے اعلی درجہ پر دلالت کرنے والے ہیں، اور ظاہر ہے کہ کسی کمال کا اعلی درجہ جس سے اوپر کوئی درجہ نہ ہوسکے وہ صرف خالق کائنات جل و عل شانہ ہی کو حاصل ہے اس کے سوا کسی مخلوق کو یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہر کامل سے دوسرا شخص اکمل اور فاضل سے افضل ہوسکتا ہے (آیت) فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ، کا یہی مطلب ہے کہ ہر ذی علم سے بڑھ کر کوئی دوسرا علیم ہوسکتا ہے ۔ اسی لئے اس آیت میں ایسی عبارت اختیار کی گئی جس سے معلوم ہو کہ یہ اسماء حسنی صرف اللہ ہی کی خصوصیت ہے دوسروں کو حاصل نہیں،(آیت) فَادْعُوْهُ بِهَا، یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالی کے لئے اسماء حسنی ہیں اور وہ اسماء اسی کی ذات کے ساتھ خاص ہیں تو لازم ہے کہ اللہ تعالی ہی کو پکارو اور انہی اسماء حسنی کے ساتھ پکارو ۔ پکارنا یا بلانا دعا کا ترجمہ ہے، اور دعا کا لفظ قرآن میں دو معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے، ایک اللہ تعالی کا ذکر اس کی حمد و ثنا، تسبیح و تمجید کے ساتھ، دوسرے حاجات و مشلات کے وقت اللہ تعالی سے اپنی حاجت طلب کرنا اور مصائب وآفات سے نجات اور مشکلات کی آسانی کی درخواست کرنا، اس آیت میں فَادْعُوْهُ بِهَا کا لفظ دونوں معنی کو شامل ہے تو معنی آیت کے یہ ہوئے کہ حمد و ثنا اور تسبیح کے لائق بھی صرف اسی کی ذات پاک ہے اور مشکلات و مصائب سے نجات اور حاجت روائی بھی صرف اسی کے قبضہ میں ہے، اس لئے حمد و ثنا کرو تو اسی کی کرو اور حاجت روائی، مشکل کشائی کے لئے پکارو تو اسی کو پکارو ۔ اور پکارنے کا طریقہ بھی یہ بتلا دیا کہ انہی اسماء حسنی کے ساتھ پکارو جو اللہ تعالی کے لئے ثابت ہیں ۔ دعا کے بعض آداب: اس لئے اس آیت سے دو ہدایتیں امت کو ملیں، ایک یہ کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی ذات حقیقی حمد و ثنا یا مشکل کشائی اور حاجت روائی کے لئے پکارنے کے لائق نہیں، دوسرے یہ کہ اس کے پکارنے کے لئے بھی ہر شخص آزاد نہیں کہ جو الفاظ چاہے اختیار کرلے بلکہ اللہ تعالی نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں وہ الفاظ بھی بتلا دیئے جو اس کے شایاں ہیں اور ہمیں پابند کردیا کہ انہی الفاظ کے ساتھ اس کو پکاریں، اپنی تجویز سے دوسرے الفاظ نہ بدلیں کیونکہ انسان کی قدرت نہیں کہ تمام پہلوؤں کی رعایت کرکے شایان شان الفاظ بنا سکے ۔ بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کے ننانوے (99) نام ہیں جو شخص ان کو محفوظ کرلے وہ جنت میں داخل ہوگیا ، یہ ننانوے نام امام ترمزی اور حاکم نے تفصیل کے ساتھ بتلائے ہیں ۔ اللہ تعالی کے یہ ننانوے نام پڑھ کر جس مقصد کے لئے دعا کی جائے قبول ہوتی ہے اللہ تعالی کا وعدہ ہے (آیت) ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی تم مجھے پکارو توں میں تمہاری دعا قبول کروں گا، حاجات و مشکلات کے لئے دعا سے بڑھ کر کوئی تدبیر ایسی نہیں جس میں کسی ضرر کا خطرہ نہ ، ہو اور نفع یقینی ہو ، اپنی حاجات کے لئے اللہ جل شانہ سے دعا کرنے میں کسی نقصان کا تو کوئی احتمال ہی نہین، اور ایک نفع نقد ہے کہ دعا ایک عبادت ہے ، اس کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے ، حدیث میں ہے الد عاء مخ العبادة یعنی دعا کرنا عبادت کا مغز ہے اور جس مقصد کے لئے اس نے دعا کی ہے اکثر تو وہ مقصد بعینہ پورا ہو جاتا ہے ، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس چیز کو اس نے اپنا مقصد بنایا تھا وہ اس کے حق میں مفید نہ تھی ، اللہ تعالی اپنے فضل سے اس کی دعا کو دوسری طرف پھیر دیتے ہیں جو اس کے لئے مفید ہو ، اور حمد و ثنا کے ساتھ اللہ تعالی کا ذکر کرنا ایمان کی غذا ہے جس کے نیتجہ میں انسان کی رغبت و محبت اللہ تعالی سے وابستہ ہوجاتی ہے اور دنیا کی تکلیفیں اگر پیش بھی آویں تو حقیر اور آسان ہوجاتی ہیں ۔ اسی لئے بخاری ، مسلم ، ترمذی نسائی کی صحیح احادیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو کوئی غم یا بے چینی یا مہم کام پیش آئے اس کو چاہئے کہ یہ کلمات پڑھے ، سب مشکلات آسان ہو جائیں گی وہ کلمات یہ ہیں : لآ الہ الا اللہ العظیم الحلیم ، لآ الہ الا الہ اللہ رب العرش العظیم، لآ الہ الا الہ اللہ رب السموب والارض ورب العرش الکریم، اور مستدرک حاکم میں بروایت انس رضی اللہ عنہ مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہراء سے فرمایا کہ تمہارے لئے اس سے کیا چیز مانع ہے کہ تم میری وصیت کو سن لو ( اور اس پر عمل کیا کرو) وہ وصیت یہ ہے کہ صبح شام یہ دعا کر لیا کرو: یا حی یاقیوم برحمتک استغیث اصلح لی شانی کلہ ولا تکلنی الی نفسی طرفة عین۔ یہ دعا بھی تمام حاجت و مشکلات کے لئے بے نظیر ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ آیت مذکورہ کے اس جملہ میں دو ہدایتیں امت کو دی گئیں ، ایک یہ کہ حمد و ثنا اور مشکلات و حاجات کے لئے صرف اللہ تعالی کو پکارو مخلوقات کو نہیں ، دوسرے یہ کہ اس کو انہی ناموں سے پکارو جو اللہ تعالی کے لئے ثابت ہیں، اس کے الفاظ نہ بدلو ۔ آیت کے اگلے جملہ میں اسی کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ، یعنی چھوڑ یے ان لوگوں کو جو اللہ تعالی کے اسماء حسنی میں الحاد یعنی کجروی کرتے ہیں، ان کو ان کی کجروی کا بدلہ مل جائے گا ، الحاد کے معنی لغت میں میلان اور درمیانی راہ سے ہٹ جانے کے آتے ہیں ، اسی لئے قبر کی لحد کو لحد کہا جاتا ہے کیونکہ وہ درمیانی راہ ہٹی ہوئی ہوتی ہے، قرآن کریم میں لفظ الحاد قرآن کریم کے صحیح معانی کو چھوڑ کر ادھرا دھر کی تاویل و تحریف کرنے کے معنی میں بولا جاتا ہے ۔ اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ آپ ایسے لوگوں سے تعلق بھی چھوڑدیں جو اللہ تعالی کے اسماء حسنی میں الحاد یعنی تحریف اور کجروی سے کام لیتے ہیں ۔ اسماء الہیہ میں کجروی کی ممانعت اور اس کی مختلف صورتیں: اسماء الہیہ میں تحریف یا کجروی کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں وہ سب اس آیت کے مضمون میں داخل ہیں: اول یہ کہ اللہ تعالی کے لئے وہ نام استعمال کیا جائے جو قرآن وحدیث میں اللہ تعالی کے لئے ثابت نہیں، علماء حق کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالی کے نام اور صفات میں کسی کو یہ اختیار نہیں کہ جو چاہے نام رکھ دے یا جس صفت کے ساتھ چاہے اس کی حمد و ثنا کرے بکہ صرف وہی الفاظ ہونا ضروری ہیں جو قرآن وسنت میں اللہ تعالی کے لئے بطور نام یا صفت کے ذکر کئے گئے ہیں، مثلا اللہ تعالی کو کریم کہہ سکتے ہیں، سخی نہیں کہہ سکتے ، نور کہہ سکتے ہیں ابیض نہیں کہہ سکتے ، شافی کہہ سکتے ہیں طبیب نہیں کہہ سکتے ، کیونکہ یہ دوسرے الفاظ منقول نہیں، اگرچہ انہی الفاظ کے ہم معنی ہیں ۔ دوسری صورت الحاد فی الاسماء کی یہ ہے کہ اللہ تعالی کے جو نام قرآن وسنت سے ثابت ہیں ان میں سے کسی نام کو نامناسب سمجھ کر چھوڑ دے، اس کا بے ادبی ہونا ظاہر ہے ۔ کسی شخص کو اللہ تعالی کے مخصوص نام سے موسوم یا مخاطب کرنا جائز نہیں: تیسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالی کے مخصوص ناموں کو کسی دوسرے شخص کے لئے استعمال کرے ، مگر اس میں یہ تفصیل ہے کہ اسماء حسنی میں سے بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو خود قرآن و حدیث میں دوسرے لوگوں کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے ، اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالی کے اور کسی کے لئے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، تو جن ناموں کا استعمال غیر اللہ کے لئے قرآن و حدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لئے بھی استعمال ہوسکتے ہیں جیسے رحیم ، رشید ، علی ، کریم، عزیز وغیرہ ، اور اسماء حسنی میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، وہ صرف اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہیں ان کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا الحاد مذکور میں داخل اور ناجائز وحرام ہے مثلا رحمن، سبحان، رزاق ، خالق، غفار ، قدوس وغیرہ۔ پھر ان مخصوص ناموں کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا اگر کسی غلط عقیدہ کی بناء پر ہے کہ اس کو ہی خالق یا رازق سمجھ کر ان الفاظ سے خطاب کررہا ہے تب تو ایسا کہنا کفر ہے اور اگر عقیدہ غلط نہیں محض بے فکری یا بے سمجھی سے کسی شخص کو خالق ، رازق یا رحمن ، سبحان کہہ دیا تو یہ اگرچہ کفر نہیں مگر مشرکانہ الفاظ ہو نے کی وجہ سے گناہ شدید ہے ۔ افسوس ہے کہ آج کل عام مسلمان اس غلطی میں مبتلا ہیں، کچھ لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے اسلامی نام ہی رکھنا چھوڑ دیئے ، ان کی صورت و سیرت سے تو پہلے بھی مسلمان سمجھنا ان کا مشکل تھا، نام سے پتہ چل جاتا تھا ، اب نئے نام انگریزی طرز کے رکھے جانے لگے ، لڑکیوں کے نام خواتین اسلام کے طرز کے خلاف خدیجہ ، عائشہ ، فاطمہ کے بجائے نسیم ، شمیم ، شہناز ، نجمہ ، پروین ہونے لگے ، اس سے زیادہ افسوس ناک یہ ہے کہ جن لوگوں کے اسلامی نام ہیں ، عبدالرحمن ، عبدالخالق عبدالرزاق ، عبدالغفار ، عبدالقدوس وغیرہ، ان میں تخفیف کا یہ غلط طریقہ اختیار کرلیا گیا کہ صرف آخری لفظ ان کے نام کی جگہ پکارا جاتاہے، رحمن ، خالق، رزاق، غفار کا خطاب انسانوں کو دیا جارہا ہے اور اس سے زیادہ غضب کی بات یہ ہے کہ قدرت اللہ کو اللہ صاحب اور قدرت خدا کو خدا صاحب کے نام سے پکارا جاتا ہے یہ سب ناجائز وحرام اور گناہ کبیرہ ہے ، جتنی مرتبہ یہ لفظ پکارا جاتا ہے اتنی ہی مرتبہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں رہتا۔ یہ گناہ بے لذت اور بے فائدہ ایسا ہے جس کو ہمارے ہزاروں بھائی اپنے شب و روز کا مشغلہ بنائے ہوئے ہیں اور کوئی فکر نہیں کرتے کہ اس ذرا سی حرکت کا انجام کتنا خطرناک ہے جس کی طرف آیت مذکورہ کے آخری جملہ میں تنبیہ فرمائی گئی ہے ، (آیت) سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ، یعنی ان کو اپنے کئے کا بدلہ دیا جائے گا، اس بدلہ کی تعیین نہیں کی گئی ، اس ابہام سے عذاب شدید کی طرف اشارہ ہے۔ جن گناہوں میں کوئی دنیوی فائدہ یا لذت و راحت ہے ان میں تو کوئی کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں اپنی خواہش یا ضرورت سے مجبور ہوگیا ، مگر افسوس یہ ہے کہ آج مسلمان ایسے بہت سے فضول گناہوں میں بھی اپنی جہالت یا غفلت سے مبتلا نظر آتے ہیں جن میں نہ دنیا کا کوئی فائدہ ہے نہ ادنی درجہ کی کوئی راحت ولذت ہے وجہ یہ ہے کہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی طرف دھیان ہی نہ رہا ۔ نعوذبا للہ منہ۔ |
---
1. الرَّحْمَنُ
- ترجمہ: بے انتہا (سب پر) مہربان۔
- تفصیل: ساری کائنات پر رحم کرنے والا۔
- مقصد: اللہ کی وسیع رحمت پر یقین کو مضبوط کرنا۔
- نصیحت: دوسروں کے ساتھ نرمی اور مہربانی سے پیش آئیں۔
- حوالہ:
- "الرَّحْمَـٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ"
وہ رحمان عرش پر جلوہ گر ہے۔
(سورۃ طہ:5)۔
---
2. الرَّحِيمُ
- ترجمہ: خصوصی رحم کرنے والا۔
- تفصیل: مومنوں پر خاص مہربانی کرنے والا۔
- مقصد: گناہوں کی معافی کی امید پیدا کرنا۔
- نصیحت: دوسروں کو معاف کرنے کی عادت اپنائیں۔
- حوالہ:
- "وَهُوَ الرَّحِيمُ الْوَدُودُ" (البروج: 14)
اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔ (الحشر: 22)۔
---
3. المَلِكُ
- ترجمہ: حقیقی بادشاہ۔
- تفصیل: کائنات کی حکومت کا مالک۔
- مقصد: اللہ کی بادشاہت کو تسلیم کرنا۔
- نصیحت: تکبر سے بچیں اور عاجزی اختیار کریں۔
- حوالہ:
- "فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ" (المومنون: 116)۔
- "وہی اللہ ہے، جو حقیقی بادشاہ ہے۔" (الحشر: 23)۔
---
4. القُدُّوسُ
- ترجمہ: پاکیزہ۔
- تفصیل: ہر عیب اور نقص سے پاک۔
- مقصد: دل کو پاکیزگی کی طرف راغب کرنا۔
- نصیحت: گناہوں سے دور رہیں۔
- حوالہ:
- "هُوَ اللَّهُ ... الْقُدُّوسُ" (الحشر: 23)۔
-"سب تعریفیں قدوس اللہ کے لیے ہیں۔" (الجمعہ: 1)۔
---
5. السَّلَامُ
- ترجمہ: سلامتی دینے والا۔
- تفصیل: امن و سکون کا سرچشمہ۔
- مقصد: اضطراب اور خوف سے نجات۔
- نصیحت: دوسروں کو سلامتی پہنچائیں۔
- حوالہ:
- السَّلَامُ"
وہی اللہ ہے، جو سلام ہے۔
(الحشر: 23)۔
---
6. المُؤْمِنُ
- ترجمہ: امن دینے والا۔
- تفصیل: اپنے بندوں کو یقین دہانی کرنے والا۔
- مقصد: اللہ پر بھروسہ بڑھانا۔
- نصیحت: دوسروں کو امانت دار بنائیں۔
- حوالہ:
- " الْمُؤْمِنُ
وہ امن دینے والا ہے" (الحشر: 23)۔
---
7. المُهَيْمِنُ
- ترجمہ: نگران اور محافظ۔
- تفصیل: ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا۔
- مقصد: اللہ کی نگرانی پر یقین۔
- نصیحت: ہر کام میں دیانتداری سے کام لیں۔
- حوالہ:
- "وہی(اللہ) مهیمن ہے" (الحشر: 23)۔
---
8. العَزِيزُ
معنی: غالب، جسے کوئی شکست نہ دے سکے۔
حوالہ:
- "اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔" (البقرہ: 209)۔
---
9. الجَبَّارُ
معنی: جبروت والا، ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے والا۔
حوالہ:
- "وہی اللہ ہے، جو جبار ہے۔" (الحشر: 23)۔
---
10. المُتَكَبِّرُ
معنی: عظمت والا، جو بزرگی کا حقدار ہے۔
حوالہ:
- "ساری عظمت اسی کے لیے ہے۔" (الحشر: 23)۔
---
11. الخَالِقُ
معنی: پیدا کرنے والا، ہر چیز کا بنیاد رکھنے والا۔
حوالہ:
- "اللہ ہی خالق ہے۔" (الرعد: 16)۔
---
12. البَارِئُ
معنی: وجود میں لانے والا، تخلیق کو شکل دینے والا۔
حوالہ:
- "اللہ ہی بارئ ہے۔" (الحشر: 24)۔
---
13. المُصَوِّرُ
معنی: صورت بنانے والا، ہر چیز کو خاص شکل دینے والا۔
حوالہ:
- "سب سے خوبصورت صورت بنانے والا۔" (الحشر: 24)۔
---
14. الغَفَّارُ
معنی: گناہوں کو معاف کرنے والا۔
حوالہ:
- "اے میرے بندو! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، کیونکہ اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔" (الزمر: 53)۔
---
15. القَهَّارُ
معنی: غالب، جو سب پر حکمرانی کرے۔
حوالہ:
- "اللہ ہی غالب ہے۔" (سورۃ الانعام:61)۔
---
تمام 99 ناموں کے لیے اہم حوالے:
1. قرآن: سورہ الحشر (59:22-24) میں اللہ کے کئی نام بیان ہوئے ہیں۔
2. حدیث: امام ترمذی (3505) میں 99 ناموں کا ذکر ہے۔
3. علماء کی تفسیریں: امام غزالی کی "المقصد الاسنیٰ" میں ہر نام کی عملی تطبیق بیان کی گئی ہے۔
---
عملی تجاویز:
- روزانہ یاد کریں: ہر دن ایک نام کو سیکھیں اور اس کے معنی پر غور کریں۔
- دعا میں استعمال کریں: مثلاً "یا رحیم، میرے گناہ معاف فرما۔"
- زندگی میں اپنائیں: مثال کے طور پر "العَدْلُ" (انصاف کرنے والا) کی صفت پر عمل کرتے ہوئے انصاف کریں۔
✅ خلاصہ:
اسماء الحسنٰی کو سمجھنے اور ان پر عمل سے انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے۔ یہ نام نہ صرف ذکر کا ذریعہ ہیں بلکہ زندگی کی رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔
القرآن:
وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ چھپی اور کھلی ہر بات کو جاننے والا ہے۔ وہی ہے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے۔ وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جو بادشاہ ہے، تقدس کا مالک ہے، سلامتی دینے والا ہے، امن بخشنے والا ہے، سب کا نگہبان ہے، بڑے اقتدار والا ہے، ہر خرابی کی اصلاح کرنے والا ہے، بڑائی کا مالک ہے۔ پاک ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ وہ اللہ وہی ہے جو پیدا کرنے والا ہے، وجود میں لانے والا ہے صورت بنانے والا ہے، اسی کے سب سے اچھے نام ہیں۔ آسمانوں اور زمین میں جتنی چیزیں ہیں وہ اس کی تسبیح کرتی ہیں، اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
[سورۃ الحشر:٢٢-٢٤]
وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ ان تمام باتوں کو جاننے والا ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہیں اور ان باتوں کو بھی جو پوشیدہ نہیں اور وہی بڑا مہربان ہے کہ نیک ہو یا بد سب کو روزی دیتا ہے اور خاص طور پر مومنین پر رحم کرنے والا ہے کہ ان کے گناہ معاف فرمائے گا اور انہیں جنت میں داخل کرے گا۔
اور وہ ایسا بادشاہ ہے کہ اس کی بادشاہت ہمیشہ ہے اور اولاد شریک سے پاک اور سالم ہے کہ اس کی مخلوق جتنا کہ مخلوق پر اس کے افعال کی وجہ سے عذاب واجب ہے اس میں زیادتی سے محفوظ ہے اور اپنی مخلوق کو امن دینے والا ہے یا یہ کہ وہ اپنے اولیاء کو عذاب سے بچانے والا ہے یا یہ کہ بندوں کے اعمال اور ان کی تقدیروں کا نگران ہے اور نگہبانی کرنے والا ہے اور جو ایمان نہ لائے اسے سزا دینے میں زبردست اور اپنے بندوں پر غالب ہے اور بڑی عظمت والا ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کے شرک سے پاک ہے۔
وہ معبود برحق پیدا کرنے والا ہے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدلنے والا ہے اور رحموں میں صورت و شکل لڑکا و لڑکی نیک و بد بنانے والا ہے۔ یا باری کا مطلب یہ ہے کہ نطفہ میں روح ڈالنے والا ہے اس کی بلند وبالا صفتیں ہیں جیسا کہ علم وقدرت، سمع و بصر وغیرہ سو انہیں سے اس کو پکارو۔ تمام مخلوقات اور ہر ایک زندہ چیز اسی کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے۔
[تفسیر ابن عباس]
غیب جو بندوں سے غائب ہو نہ انہوں نے اس کا معائنہ کیا ہو اور نہ اس کو جانتے ہوں، اور الشہادۃ جس کا انہوں نے مشاہدہ کیا ہو اور اس کو جانتے ہوں۔
۔”القدوس“ ہر عیب سے پاک ہر اس چیز سے پاک جو اس کے لائق نہیں۔
” السلام “ جو نقائص سے محفوظ ہو۔
”المومن“ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ ذات جو لوگوں ک واپنے ظلم سے امن دے جو اس پر ایمان لائے اس کو اپنے عذاب سے امن دے۔ یہ امان (امن دینا) سے ہے جو تخویف (ڈرانے) کی ضد ہے۔ جیسا کہ فرمایا ” وآمنھم من خوف “ اور کہا گیا ہے اس کا اپنے رسولوں کی تصدیق کرنا معجزات کو ظاہر کرکے اور مومنین کے لئے سچ کرنے والا ہے جو ان سے ثواب کے وعدے کیے ہیں اور کافروں سے جو عذاب کے وعدے کیے ہیں ان کو سچ کرنے والا ہے۔
”المھیمن “ اپنے بندوں پر ان کے اعمال کا گواہ ہے اور یہ ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ، سدی اور مقاتل رحمہم اللہ کا قول ہے۔ کہا جاتا ہے ”ھیمن، یھیمن، فھو مھیمن“ جب کسی چیز پر نگہبان ہو اور کہا گیا ہے یہ اصل میں مویمن تھا ہمزہ کو ھاء سے تبدیل کردیا ہے۔ ان کے بوقت دھرقت کی طرح اور سای کا مومن ہے اور حسنؒ فرماتے ہیں امین اور خلیل رحمہما اللہ فرماتے ہیں نگہبان حفاظت کرنے ۔۔۔۔ فرماتے ہیں تصدیق کرنے والا۔ سعید بن مسیب اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں فیصلہ کرنے والا۔
اور ابن کیسانؒ فرماتے ہیں یہ کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی تاویل کو زیادہ جانتے ہیں۔
”الجبار “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں الجبار وہ عظیم ہے اور اللہ تعالیٰ کی جبروت اس کی عظمت ہے اور یہ اس قول پر اللہ تعالیٰ کی ذات کی صفت ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ جبر سے اور وہ اصلاح ہے۔ کہا جاتا ہے ” جبرت الکسر ۔۔۔ وجرت العظم “ جب تو ہڈی یا کسی چیز کے ٹوٹنے کے بعد اس کی اصلاح کرے۔ پس وہ فقیر کو غنی کردیتا ہے اور ٹوٹی ہوئی چیز کی اصلاح کرتا ہے۔ سدی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں جبار وہ جو لوگوں پر غالب ہو اور ان کو اپنے ارادہ پر مجبور کردے اور ان میں سے بعض نے بعض سے جبار کا معنی پوچھا تو اس نے کہا وہ ایسا غالب جو جب کسی امر کے کرنے کا ارادہ پر مجبور کردے اور ان میں سے بعض نے بعض سے جبار کا معنی پوچھا تو اس نے کہا وہ ایسا غالب جو جب کسی امر کے کرنے کا ارادہ کرلے تو اس کو کوئی روکنے والا نہ روک سکے۔ ” المتکبر “ جو ہر برائی سے تکبر کرتا ہے اور کہا گیا ہے ہر اس چیز سے عظیم ہے جو اس کے لائق نہیں اور کبر اور کبریاء کی اصل رکنا ہے اور کہا گیا ہے ذوالکبریا اور وہ ملک یہ ہے۔ ” سبحان اللہ عما یشکرون “۔
[تفسیر البغوی]
تردید شرک بتذکرہ صفات باری تعالیٰ:
پھر شرک کی تردید فرمائی اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے مشابہ قرار دیا انکار کیا۔
ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ (وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سواء اور کوئی معبود بننے کے لائق نہیں۔ وہ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا)
نمبر ۔غیبؔ سے سر اور شہادہ سے علانیہ
نمبر 2۔ دنیا و آخرت
نمبر 3۔ معدوم وموجود۔
ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ (وہی بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے)
ھُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّاھُوَ اَلْمَلِکُ (وہی اللہ تعالیٰ ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ ہے) کہ جس کی بادشاہی زائل نہ ہوگی۔
الْقُدُّوْسُ (سب عیبوں سے پاک) تمام قبائح سے منزہ۔ ملائکہ کی تسبیح میں یہ الفاظ ہیں سبوحٌ قدوس رب الملائکۃ والروح۔
السَّلٰمُ (سلامت رہنے والا ہے) زجاج کہتے ہیں السّلام وہ ذات کہ مخلوق جس کے ظلم سے سالم و محفوظ ہے۔ (کیونکہ وہ عادل ہے)
الْمُؤْمِنُ (وہ امن دینے والا ہے) بقول زجاج امن عطاء کرنے والا۔ مخلوق جس کے ظلم سے مامون ہے یا وہ مطیع کو اپنے عذاب سے بچانے اور امن دینے والا ہے۔
الْمُھَیْمِنُ (نگہبانی کرنے والا ہے) ۔ ہر چیز پر نگہبانی کرنے والا۔ اس کی حفاظت کرنے والا۔ یہ الامنؔ مصدر سے مُفَیعل کا صیغہ ہے۔ البتہ یہاں ہمزہ کو ھاءؔ سے بدلا گیا ہے۔
الْعَزِیْزُ (وہ زبردست ہے) وہ غالب ہے مغلوب نہیں۔
الْجَبَّارُ (خرابی کا درست کرنے والا ہے) بلندعظمت والا کہ سب اس کے سامنے جھکنے والے ہیں۔ یا وہ قدرت و سلطنت میں عظیم الشان ہے۔ یا قہار و جبروت والا ہے۔
الْمُتَکَبِّرُ (جو بڑائی و عظمت میں انتہاء کو پہنچنے والا)
سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (وہ کافروں کی شرک آفرینی سے پاک ہے) اس نے اپنی ذات کو ان سب صفات سے منزہ قرار دیا جو مشرکین اس کے متعلق بیان کرتے تھے۔
ھُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ (وہی معبود ہے پیدا کرنے والا) جو اس نے بنانا ہے اس کا اندازہ کرنے والا الْبَارِیُٔ (ٹھیک ٹھیک بنانے والا) ایجاد کرنے والا۔ الْمُصَوِّرُ (صورتیں بنانے والا) مائوں کے رحموں میں لَہُ الْاَسْمَآ ئُ الْحُسنٰی (اسی کے اچھے اچھے نام ہیں) جو اس کی بلند صفات پر دلالت کرنے والے ہیں۔ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (جو چیزیں آسمانوں میں ہیں۔ اور زمین میں ہیں سب اس کی پاکی ظاہر کرتی ہیں۔ اور وہی زبردست ہے حکمت والا ہے)
ایک نکتہ :
تسبیح باری تعالیٰ سے سورت کو شروع کیا گیا۔ اور اسی پر سورت کو ختم فرمایا گیا۔
:
نمبر 1۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے محبوب رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا۔ کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا۔ تم سورة حشر کی آخری آیات لازم پکڑو اور اس کی کثرت سے تلاوت کیا کرو۔ میں نے سوال دہرایا تو آپ نے یہی جواب دہرا دیا۔ میں نے تیسری مرتبہ سوال کو لوٹایا تو آپ نے تیسری بار اسی جواب کو لوٹا دیا۔ [رواہ الثعلبی کمافی الکشاف]
نمبر 2۔ حضرت معقل بن یسار کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ اعوذ باللّٰہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پڑھ کر سورة حشر کی آخری تین آیات کی تلاوت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعا کرنے پر شام تک مقرر فرما دے گا۔ اور اگر اس روز مرجائے گا تو شہیدمریگا۔ اور اگر شام کو پڑھے گا تو تب بھی یہی مرتبہ ملے گا۔[رواہ الترمذی وقال حدیث غریب]
[تفسیر مدارک التنزیل]
6۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کا اسم اعظم اللہ ہی ہے۔ جنات سے حفاظت کا ذریعہ
7۔ ابن مردویہ نے ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کھجور خشک کرنے کی ایک جگہ بنا رکھی تھی اپنے گھر میں۔ آپ نے اس جگہ کو پایا کہ وہ کم ہوگئی ہے۔ یعنی کھجوریں کم ہوگئی ہیں تو جب رات ہوئی تو آپ نے اسے دیکھا تو ایک آدمی محسوس ہوا۔ میں نے اس سے کہا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں جنات میں سے ایک آدمی ہوں۔ ہم نے اس گھر کا ارادہ کیا۔ ہمارا توشنہ ختم ہوگیا۔ اس لیے ہم نے تمہاری کھجوریں لی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان میں سے کچھ بھی کم نہیں کریں گے۔ ابو ایوب انصاری ؓ نے اس سے فرمایا اگر تو سچا ہے تو مجھے اپنا ہاتھ دکھا اس نے اپنا ہاتھ ان کو دکھایا تو اس پر کتے کے بازوں کی طرح بال تھے۔ ابوایوب ؓ نے اس سے فرمایا جو کچھ تو نے ہماری کھجوروں میں سے لیا ہے وہ تیرے لیے حلال ہیں۔ کیا تو مجھ کو ایسی افضل ترین چیز نہیں بتائے گا کہ جس سے انسان، جن سے پناہ حاصل کرے اس نے کہا یہ آیت سورة حشر کے آخر تک پڑھے۔
8۔ ابن مرددویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص سورة حشر کی آخری آیات پڑھے گا پھر اس دن یا اس رات مرجائے تو اس کا یہ عمل اس سے ہر خطا کو مٹادے گا۔
9۔ ابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو حکم فرمایا کہ جب تو اپنے بستر پر سونے لگے تو سورة حشر کی آخری آیات پڑھ لے۔ اور فرمایا اگر تو مرگیا تو شہید ہو کر مرے گا۔
10۔ ابو علی عبدالرحمن بن محمد النیسابوری نے محمد بن الحنفیہ سے روایت کیا براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے کہا میں آپ سے اللہ کے واسطے اس چیز کا سوال کرتا ہوں کہ مجھے خاص طور پر وہ افضل ترین چیز بتائیے جو آپ کو رسول اللہ ﷺ نے خاص طور پر بتائی۔ اس میں سے جو خاص طور پر جبریل (علیہ السلام) نے آپ کو بتائی۔ اس میں سے جس کے ساتھ رحمن نے ان کو بھیجا۔ تو آپ نے فرمایا اے براء ! جب تو اللہ تعالیٰ سے اسم اعظم کے وسیلہ سے دعا مانگے تو سورة حدید کی پہلی دس آیات اور سورة حشر کی آخری آیات کو پڑھ لے۔ پھر یوں کہہ اے وہ ذات جس کی یہ شان ہے اور اس کے سوا کوئی اور اس طرح نہیں میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لیے ایسا ایسا کردے۔ یعنی میرا یہ کام کردیجیے۔ اے براء ! اللہ کی قسم ! اگر تو میرے لیے بددعا بھی کرے تو مجھ کو دھنسا دیا جائے۔
11۔ ابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے تین مرتبہ پناہ مانگے شیطان سے پھر سورة حشر کی آخری آیات پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ستر ہزار فرشتے بھیجتا ہے جو اس سے انسان اور جنات میں سے شیطانوں کو بھگادیتے ہیں۔ اگر رات ہوگی تو صبح تک اور اگر دن ہوگا تو شام تک ایسا ہوتا ہے۔
12۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کیا مگر اس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان سے دس مرتبہ پناہ مانگے۔
13۔ احمد والدارمی والترمذی وحسنہ وابن الضریس والبیہقی نے شعب الایمان میں معقل بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دس مرتبہ صبح کو اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پڑا۔ پھر سورة حشر کی آخری تین آیات پڑھیں۔ تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے اس کے ساتھ مقرر فرمادیتے ہیں جو اس پر شام تک رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں اگر وہ اس دن مرگیا تو شہید ہو کر مرے گا اور جس نے شام کے وقت پڑھا تو وہ بھی اسی رتبہ میں ہوگا۔
14۔ ابن عدی وابن مردویہ والخطیب اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے سورة حشر کی آخری آیات دن میں یا رات میں پڑھیں پھر اس دن میں یا اس رات میں مرگیا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔
15۔ ابن الضریس نے عتیبہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ نے بیان فرمایا جس شخص نے صبح ہوتے ہی سورة حشر کی آخری آیات پڑھیں تو اس نے اسے پالیا جو رات میں اس سے فوت ہوا اور وہ شام تک ہر بلا سے محفوظ رہے گا۔ اور جس نے ان آیات کو شام کے وقت پڑھا تو اس نے اسے پالیا جو دن میں اس سے فوت ہوا۔ اور وہ صبح تک ہر بلا سے محفوظ ہوگا اگر وہ مرگیا تو اس نے اپنے لیے جنت واجب کرلی۔ شہید کا مرتبہ پانے والا۔
16۔ الدارمی وابن الضریس نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے سورة حشر کی آخری تین آیات پڑھیں جب اس نے صبح کی اور اس دن میں وہ مرگیا تو اس پر شہداء کی مہر لگا دی جاتی ہے اور جب اس نے شام کے وقت یہ آیات پڑھیں پھر وہ اسی رات فوت ہوگیا اس پر شہداء کی مہر لگادی جاتی ہے۔
17۔ الدیلمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم سورة حشر کی آخری آیات میں ہے۔
18۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت علم الغیب والشہادۃ کہ وہ غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے۔ یعنی ہر چھیپی ہوئی اور ظاہر چیز کو جاننے والا ہے اور المومن۔ امن دینے والا یعنی وہ اپنی مخلوق کو اس سے امان دینے والا ہے کہ وہ ان پر ظلم کرے اور المہیمن سے مراد ہے شاہد۔
19۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت علم الغیب سے مراد ہے جو ہوگا اور جو کچھ ہونے والا سب کو جانتا ہے۔ القدوس سے مراد ہے کہ فرشتے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔
20۔ عبد بن حمید وابن المنذر اور ابو الشیخ رحمہما اللہ نے العظمہ میں بیان کیا کہ القدوس سے مراد ہے المبارک یعنی برکتیں عطا کرنے والا آیت السلم المومن میں المومن سے مراد ہے اسے امان دینے والا جو اس پر ایمان لایا۔ المہیمن یعنی اس پر شہادت دینے والا العزیز یعنی غالب آنے وال اپنی سزا دینے میں جب وہ انتقام لے آیت الجبار یعنی وہی اپنی مخلوق کو مجبور کرنے والا ہر اس کام پر جو وہ چاہتا ہے اور المتکبر یعنی وہ ہر عیب اور کمزوری سے محفوظ ہے۔
21۔ ابن المنذر نے زید بن علی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا نام المومن اس لیے رکھا ہے کیونہ اس نے ایمان والوں کو عذاب سے امان دی ہے۔
22۔ سعید بن منصور وابن المنذر اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے الجبار بھی ہے کیونکہ وہ مخلوق کو مجبور کرتا ہے اس کام پر جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔
[تفسیر الدر المنثور]

حضرت ابن عباس ؓ نے کہا: وہ راز اور اعلانیہ امور کو جانتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وہ ما کان ( جو کچھ ہوچکا) اور مایکون (جو کچھ ہونے والا ہے) اس کو جانتا ہے۔
سہل نے کہا : وہ آخرت اور دنیا کو جاننے والا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : غیب سے مراد ہے جو کو لوگ نہ جانتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے اسے دیکھا ہوتا ہے اور شہادت سے مراد ہے جس کو لوگ جانتے ہیں اور جسے لوگوں نے دیکھا ہوتا ہے۔
ھو اللہ …… ہر نقص سے منزہ اور ہر عیب سے پاک۔ قدس اہل حجاز کی لغت میں سطل (ایک برتن) کو کہتے ہیں کیونکہ اس کے ساتھ پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے۔ اس سے قادرس ہے یہ لفط اس برتن کے لئے بولا جاتا ہے جس کے ساتھ کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے اور اونٹنی سے مدد لی جاتی ہے۔ سیبو یہ کہا کرتے تھے : قدوس اور سبوح دونوں میں پہلالفظ مفتوح ہے۔ اور ابو حاتم نے یعقوب سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کسائی کے نزدیک ایک فصیح بدو کو سن اجس کو ابو دینار کہتے وہ پڑھ رہا تھا۔ القدوس یعنی قاف پر فتحہ پڑھ رہا تھا۔ ثعلب نے کہا : ہر اسم جو فعول کے وزن پر ہو اس کا پہلا حرف مفتوح ہوتا ہے جس طرح سفرد، کلوب، تنور، سمود، سبو مگر السبو 3 اور القدوس کیونکہ ان دونوں میں اکثر ضمہ آتا ہے۔ بعض اوقات ان دونوں پر فتحہ آتا ہے : اسی طرح ذروح بعض اوقات اس کو فتحہ دیا جاتا ہے۔
السلم وہ نقائص سے سلامت ہے۔ ابن عربی نے کہا : علماء کا اتفاق ہے کہ لفظ السلام جب اللہ تعالیٰ کے بارے میں بولا جائے تو یہ نسبت کے معنی میں ہوگا تقدیر ہوگا ذو السلام ۃ پھر اس اسم منسوب کے ترجمہ میں اختلاف ہے۔ وہ ہر عیب سے سلامت اور ہر نقص سے بری ہے۔ ذوالسلام جنت میں اپنے بندوں کو سلام کرنے والا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سلم قولا من رب رحیم۔ (یس) مخلوق اس کے ظلم سے محفوظ ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ خطابی کا قول ہے اسے اور اسے سے قبل جو اسم ہے اس پر صفات افعال کا اطلاق ہوگا۔ یہ تعبیر کی جائے وہ عیوب و نقائص سے بری ہے تو یہ صفت ذات میں سے ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ السلام کا معنی ہے وہ اپنے بندوں کو سلام کرنے والا ہے۔ المومن وہ اپنے رسولوں کی تصدیق کرنے والا ہے کہ ان کے ہاتھوں سے معجزات کا ظہور فرماتا ہے۔ مومنوں سے ثواب کا جو وعدہ کیا اس کی تصدیق کرنے والا ہے اور کافرین کو جو عقاب کی دھمکی دی اس کو سچ کر دکھانے والا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مومن اسے کہتے ہیں جو اپنے اولیاء کو عذاب سے محفوظ رکھتا ہے اور اپنے بندوں کو ظلم سے محفوظ رکھتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : آمنہ یہ امان سے مشتق ہے جو خوف کی ضد ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ……۔ (القریش) اس سے اسم فاعل مومن ہے۔
مجاہد نے کہا : مومن اسے کہتے ہیں جس نے اپنی وحدانیت کا اظہار اپنے اس ارشاد سے کیا : ……(آل عمران : 18) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب قیامت کا روز ہوگا اللہ تعالیٰ اہل توحید کو آگ سے نکالے گا، سب سے پہلے جہنم سے جو نکلے گا وہ وہ ہوگا جس کا نام نبی کریم ﷺ کے نام کے موافق ہوگا جب جہنم میں کوئی ایسا نہیں رہے گا جس کا نام نبی کریم ﷺ کے موافق ہو تو اللہ تعالیٰ باقی سے فرمائے گا : تم مسلمان ہو اور امین السلام ہوں تم مومنین ہو اور میں مومن ہوں تو اللہ تعالیٰ ان دو ناموں کی برکت سے انہیں جہنم سے باہر نکالے گا۔
المھیمن العزیز سورة مائدہ لیں المھیمن اور مواقع پر العزیز کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ الجبار حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد عظیم ہے (1) ۔ جبروت اللہ سے مراد اس کی عظمت ہے۔ اس تعبیر کی بنا پر یہ صفت ذات ہے۔ اس معنی میں ان کا قول ہے : نخلۃ جبارۃ کھجور کا بڑا درخت۔ یہ اسم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور تقدیس پر دلالت کرتا ہے کہ نقائص اور صفات حادث اس کا لاحق ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جبر سے ماخوذ ہے جس کا معنی اصلطاح ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : جبرت العظم فجبر میں نے ہڈی کو درست کیا تو وہ ہڈی درست ہوگئی۔ یہ جبر سے فعال کے وزن پر ہے۔ جب وہ ٹوٹی ہوئی چیز کو درست کردے اور فقیر کو غنی کردے۔ فراء نے کہا : یہاجبرہ علی الامر سے مشتق ہے جس کا معنی ہے اس پر غلبہ پا لیا۔ کہا : لغت میں باب افعال سے فعال کا وزن نہیں آتا مگر جباریہ اجبر سے اور دراک یہ ادرک سے استعمال ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جبار اسے کہتے ہیں جس کی سطوت کی طاقت نہ رکھی جائے۔
المتکبر وہ اپنی ربوبیت کی وجہ سے متکبر ہے، اس کی مثل کوئی نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ہر برائی سے بالا ہے اور ہر نامناسب چیز جیسے حادث اور مذمت کی صفات سے عظی ہے (2) ۔ کبر اور کبریاء کا اصل معنی رکنا اور اطاعت نہ کرنا ہے۔
کبریاء اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے صفات مدح میں شمار ہوتی ہے اور مخلوق کی صفات میں صفات مذمت میں سے ہے۔ صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کا فرمان حدیث قدسی کی صورت میں بیان کیا ہے : الکبریاء ردای العظمۃ ازاری فمن ………(3) کبریائی میری چادر اور عظمت میرا اعزاز ہے ان دونوں میں جس نے بھی مجھ سے منازعہ کیا میں اسے توڑ کر رکھ دوں گا پھر اسے آگ میں پھینک دوں گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : متکبر کا معنی بلند ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا کا معنی کبیر ہے کیونکہ وہ اس سے عظیم ہے کہ وہ کبر کا تکلف کرے۔ بعض اوقات تظلم، طلم کے معنی میں، تشتم، شتم کے معنی میں اور استقر، قر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح متکبر، کبیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ اس طرح نہیں جس طرح مخلوق کے لئے اس صیغہ کے ساتھ صفت بیان کی جاتی ہے کیونکہ جب کسی مخلوق کی اس صیغہ کے ساتھ صفت بیان کی جائے تو وہ اس میں نہیں پائی جاتی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکی بیان فرمائی فرمایا : …… کرن اپنی عظمت اور جلالت کی پاکی بیان کی۔
ھو اللہ ……… یہاں خالق سے مراد مقدر ہے۔ الباری سے مراد پیدا کرنے والا اور ایجاد کرنے والا ہے۔ المصور صورتی بنانے وال اور مختلف ہستیوں میں ترکیب دینے والا۔ تصور، خلق اور برایۃ پر مرتب ور ان دونوں کے تابع ہے۔ تصویر کا معنی خط لگانا اور شکل بنانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ماں کے رحم میں تین انداز میں پیدا کیا اسے علقہ بنایا، پھر مضفہ بنایا پھر اس کی صورت بنائی یہی تشکیل ہے جس کے ذریعے صورت اور ہئیت ہوتی ہے، جس کے ساتھ اس کی پہنچان ہوتی ہے اور غیر سے اپنی علامت کے ساتھ ممتاز ہوتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین اللہ تعالیٰ کی ذات جو احسن الخالقین ہے وہ بڑی برکتوں والی ہے : بابغہ نے بھی انہیں اسماء کو اپنے شعر میں ذکر کیا ہے :
……………(1) ۔
بعض لوگوں نے خلق کو تصویر کے معنی میں کیا ہے جبکہ بات اس طرح نہیں تصویر آخری مرحلہ میں ہوتی ہے۔ تقدیر سب سے پہلے اور برایۃ یہ درمیان میں ہوتی ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ……(المائدہ :110)
زبیر نے کہا :
…………
شاعر کہتا ہے : تو اندازہ لگاتا ہے جو لگاتا ہے پھر اپنے اندازہ کے مطابق اسے کر گزرتا ہے۔ تیرے سوا آدمی اندازہ لگاتا ہے جو اس کے لئے مکمل نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں اس کی مراد پوری ہوتی ہے یا تو اس کے اندازہ کے تصور میں کوتاہی ہوتی ہے یا وہ اپنی مراد کو مکمل کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔ ہم نے اسکے متعلق تمام بحث الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی میں کردی ہے۔ الحمد اللہ
حضرت حاطب بنی ابی بلتعہ ؓ سے روایت مروی ہے کہ انہوں نے الباری المصور پڑھا یعنی وہ ذات جو مختلف ہستئیوں کے ساتھ اس کو ممتاز کرتی ہے جس کی تصویر بناتی ہے (1) ؛ زمحشری نے اس کا ذکر کیا ہے۔
……۔ اس کے بارے میں گفتگو پہلے (جلد اول) میں گزر چکی ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے خلیل ابو القاسم رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! سورة حشر کے آخری حصہ کو لازم پکڑو اس کو کثرت سے پڑھا کرو۔ “ میں نے رسول اللہ ﷺ کے بارگاہ میں سوال داہریا آپ ﷺ نے اسی کو مجھ پر دہرایا۔ میں نے پھر آپ کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے پھر مجھ پر اسی قول کو دہرایا۔
حضرت جابر بن زید ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم اس آیت کے مکان کی وجہ سے اللہ ہی ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے رات یا دن کے وقت سورة حشر کے آخر کو پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے اس رات یا اس دن اس کی روح قبض کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے جنت کو واجب کردیا “۔
[تفسیر القرطبی]
الغیب (ض)
غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [سورۃ النمل:20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پوشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے۔
الشھادۃ ۔
(1) وہ بات جو کامل علم ویقین سے کہی جائے خواہ وہ علم مشاہدہ بصر سے حاصل ہوا ہو یا بصیرت سے۔
اور آیت کریمہ:
أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ [سورۃ الزخرف:19]
کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے۔
میں مشاہدہ بصر مراد ہے اور پھر ستکتب شھادتھم ( عنقریب ان کی شھادت لکھ لی جائے گی ) سے اس بات پر تنبیہ کی ہے کہ شہادت میں حاضر ہونا ضروری ہوتا ہے۔
اور آیت کریمہ:
وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [سورۃ آل عمران:70]
اور تم اس بات پر گواہ ہو۔
میں تشھدون کے معنیٰ تعلمون کے ہیں یعنی تم اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہو۔
اور آیت کریمہ:
ما أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّماواتِ [سورۃ الكهف:51]
میں نے نہ تو ان کو آسمان کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا۔
میں تنبیہ کی ہے کہ یہ اس لائق نہیں ہیں کہ اپنی بصیرت سے خلق آسمان پر مطع ہوجائیں۔
اور آیت کریمہ:
عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ [سورۃ السجدة:6]
پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے۔
میں غالب سے وہ چیزیں مراد ہیں جن کا ادراک نہ تو ظاہری حواس سے ہوسکتا ہو اور نہ بصیرت سے اور شہادت سے مراد وہ اشیا ہیں جنہیں لوگ ظاہری آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔
الرحم ۔
الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم (یعنی جس پر رحم کیا جائے) پر احسان کی مقتضی ہو۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے:
(لما خلق الله الرحم، قال: أنا الرحمن، وأنت الرحم، شقتت لك اسماً من اسمي، فو عزتي وجلالي لأصلن من وصلك، ولأقطعن من قطعك)
جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا۔
[نوادر الأصول في أحاديث الرسول:]
اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے۔
چناچہ قرآن میں ہے :َ
إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [سورۃ البقرة:182]
بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
اور آنحضرت کے متعلق فرمایا:
لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ
[سورۃ التوبة:128]
لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے (اور) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق (اور) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی
۔
جیسا کہ آیت :۔
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ
[سورۃ الأعراف:156]
ہماری جو رحمت ہے وہ (اہل ونا اہل) سب چیزوں کو شامل ہے، پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے جو پرہیزگاری اختیار کریں گے۔
میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے۔
( س ل م ) السلم والسلامۃ
کے معنی ظاہری اور باطنی آفات سے پاک اور محفوظ رہنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ [ الشعراء/
89] پاک دل ( لے کر آیا وہ بچ جائیگا یعنی وہ دل جو دغا اور کھوٹ سے پاک ہو تو یہ سلامت باطن کے متعلق ہے اور ظاہری عیوب سے سلامتی کے متعلق فرمایا : مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها[ البقرة/ 71] اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو ۔ پس سلم یسلم سلامۃ وسلاما کے معنی سلامت رہنے اور سلمۃ اللہ ( تفعیل ) کے معنی سلامت رکھنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] لیکن خدا نے ( تمہیں ) اس سے بچالیا ۔ ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ان میں سلامتی اور ( خاطر جمع ) سے داخل ہوجاؤ ۔ اسی طرح فرمایا :۔ اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ ۔۔۔ اترآؤ ۔ اور حقیقی سلامتی تو جنت ہی میں حاصل ہوگی جہاں بقائ ہے ۔ فنا نہیں ، غنا ہے احتیاج نہیں ، عزت ہے ذلت نہیں ، صحت ہے بیماری نہیں چناچہ اہل جنت کے متعلق فرمایا :۔ لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے ۔ وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ [يونس/ 25] اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے ۔ يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوانَهُ سُبُلَ السَّلامِ [ المائدة/ 16] جس سے خدا اپنی رضامندی پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے ۔ ان تمام آیات میں سلام بمعنی سلامتی کے ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں السلام اسمائے حسنیٰ سے ہے اور یہی معنی آیت لَهُمْ دارُ السَّلامِ [ الأنعام/ 127] میں بیان کئے گئے ہیں ۔ اور آیت :۔ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ [ الحشر/ 23] سلامتی امن دینے والا نگہبان ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وصف کلام کے ساتھ موصوف ہونے کے معنی یہ ہیں کہ جو عیوب و آفات اور مخلوق کو لاحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے پاک ہے ۔ اور آیت :۔ سَلامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ [يس/ 58] پروردگار مہربان کی طرف سے سلام ( کہاجائیگا ) سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِما صَبَرْتُمْ [ الرعد/ 24] اور کہیں گے ) تم رحمت ہو ( یہ ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے ۔ سلام علی آل ياسین «2» کہ ایسا پر سلام اور اس مفہوم کی دیگر آیات میں سلام علیٰ آیا ہے تو ان لوگوں کی جانب سے تو سلامتی بذریعہ قول مراد ہے یعنی سلام علی ٰ الخ کے ساتھ دعا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے سلامتی بالفعل مراد ہے یعنی جنت عطافرمانا ۔ جہاں کہ حقیقی سلامتی حاصل ہوگی ۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اور آیت :۔ وَإِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً [ الفرقان/ 63] اور جب جاہل لوگ ان سے ( جاہلانہ ) گفتگو کرتے ہیں ۔ تو سلام کہتے ہیں ۔ مٰیں قالوا سلاما کے معنی ہیں ہم تم سے سلامتی چاہتے ہیں ۔ تو اس صورت میں سلاما منصوب اور بعض نے قالوا سلاحا کے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ اچھی بات کہتے ہیں تو اس صورت میں یہ مصدر مخذوف ( یعنی قولا ) کی صٖت ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقالُوا سَلاماً قالَ سَلامٌ [ الذاریات/ 25] جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا ۔ انہوں نے بھی ( جواب میں ) سلام کہا ۔ میں دوسری سلام پر رفع اس لئے ہے کہ یہ باب دعا سے ہے اور صیغہ دعا میں رفع زیادہ بلیغ ہے گویا اس میں حضرت ابراہیم نے اس اد ب کو ملحوظ رکھا ہے جس کا کہ آیت : وَإِذا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْها [ النساء/ 86] اور جب تم کوئی دعا دے تو ( جواب میں ) تم اس سے بہتر ( کا مے) سے ( اسے ) دعا دو ۔ میں ھکم دیا گیا ہے اور ایک قرآت میں سلم ہے تو یہ اس بنا پر ہے کہ سلام سلم ( صلح) کو چاہتا تھا اور حضرت ابراہیم السلام ان سے خوف محسوس کرچکے تھے جب انہیں سلام کہتے ہوئے ۔ ستاتو اس کو پیغام صلح پر محمول کیا اور جواب میں سلام کہہ کر اس بات پر متنبہ کی کہ جیسے تم نے پیغام صلح قبول ہو ۔ اور آیت کریمہ : لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً إِلَّا قِيلًا سَلاماً سَلاماً [ الواقعة/ 25- 26] وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے ار نہ گالی گلوچ ہاں ان کا کلام سلام سلام ( ہوگا ) کے معنی یہ ہیں کہ یہ بات صرف بذیعہ قول نہیں ہوگی ۔ بلکہ اور فعلا دونوں طرح ہوگئی ۔ اسی طرح آیت :: فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/
91] تو ( کہا جائیگا کہ ) تم پر پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام میں بھی سلام دونوں معنی پر محمول ہوسکتا ہے اور آیت : وَقُلْ سَلامٌ [ الزخرف/ 89] اور سلام کہدو ۔ میں بظارہر تو سلام کہنے کا حکم ہے لیکن فی الحققیت ان کے شر سے سللامتی کی دعا کرنے کا حکم ہے اور آیات سلام جیسے سلامٌ عَلى نُوحٍ فِي الْعالَمِينَ [ الصافات/ 79]( یعنی ) تمام جہان میں نوح (علیہ السلام) پر سلام کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام ۔ ۔ سَلامٌ عَلى مُوسی وَهارُونَ [ الصافات/ 120] ابراہیم پر سلام ۔ سَلامٌ عَلى إِبْراهِيمَ [ الصافات/ 109] میں اس بات پر تنبیہ ہی کہ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء ابراہیم کو اس قدر بلند مرتبہ عطا کیا تھا کہ لوگ ہمیشہ ان کی تعریف کرتے اور ان کے لئے سلامتی کے ساتھ دعا کرتے رہیں گے اور فرمایا : فَإِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتاً فَسَلِّمُوا عَلى أَنْفُسِكُمْ [ النور/ 61] اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے ( گھر والوں ) کو سلام کیا کرو ۔ یعنی تم ایک دوسرے کو سلام کہا کرو۔
مھیمن:
اسم فاعل واحد مذکر ہیمنۃ مصدر ۔ نگران ۔ اس کا اصل ا امن فھو مؤامن ہے دوسرا ہمزہ یاء سے اور پہلا ہمزہ ” ہ “ سے بدل دیا گیا۔ اس طرح مہیمن بن گیا۔
العزیز
العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )
الجبر
اصل میں جبر کے معنی زبردستی اور دباؤ سے کسی چیز کی اصلاح کرنے کے ہیں ۔ الجبار انسان کی صفت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ناجائز تعلی سے اپنے نقص کو چھپانے کی کوشش کرنا ۔ بدیں معنی اس کا استعمال بطور مذمت ہی ہوتا ہے ۔ جیسے قران میں ہے : ۔ وَخابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ [إبراهيم/ 15] تو ہر سرکش ضدی نامراد ہ گیا ۔
التکبر ۔ اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ایک یہ فی الحقیقت کسی کے افعال حسنہ زیادہ ہوں اور وہ ان میں دوسروں سے بڑھا ہوا ہو ۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ صفت تکبر کے ساتھ متصف ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ [ الحشر/ 23] غالب زبردست بڑائی ۔ دوم یہ کہ کوئی شخص صفات کمال کا اعاء کرے لیکن فی الواقع وہ صفات حسنہ عاری ہو اس معنی کے لحاظ سے یہ انسان کی صفت بن کر استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ فرمایا ہے ؛فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ [ الزمر/ 72] متکبروں کا کیا بڑا ٹھکانا ہے ۔ كَذلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ [ غافر/ 35] اسی طرح خدا ہر سرکش متکبر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے ۔ تو معنی اول کے لحاظ سے یہ صفات محمود میں داخل ہے اور معنی ثانی کے لحاظ سے صفت ذم ہے اور کبھی انسان کے لئے تکبر کرنا مذموم نہیں ہوتا جیسا کہ آیت ؛سَأَصْرِفُ عَنْ آياتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ [ الأعراف/ 146] جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیردوں گا ۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ تکبر الحق نہ ہو تو مذموم نہیں ہے : اور آیت ؛ عَلى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ [ غافر/ 35] ہر متکبر جابر کے دل پر ۔ اور بعض نے قلب کی طرف مضاف ہے ۔ اور بعض نے قلب تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں متکبر قلب کی صفت ہوگا ۔
سبحان یہ اصل میں غفران کی طرح مصدر ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] سو جس وقت تم لوگوں کو شام ہو اللہ کی تسبیح بیان کرو ۔ تو پاک ذات ) ہے ہم کو کچھ معلوم نہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( سریع) (218) سبحان من علقمۃ الفاخر سبحان اللہ علقمہ بھی فخر کرتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں سبحان علقمۃ ہے اس میں معنی اضافت کو ظاہر کرنے کے لئے زائد ہے اور علقمۃ کی طرف سبحان کی اضافت بطور تہکم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ، ، سبحان اللہ من اجل علقمۃ ہے اس صورت میں اس کا مضاف الیہ محذوف ہوگا ۔ السبوح القدوس یہ اسماء حسنیٰ سے ہے اور عربی زبان میں فعول کے وزن پر صرف یہ دو کلمے ہی آتے ہیں اور ان کو فاء کلمہ کی فتح کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے جیسے کلوب وسمود السبحۃ بمعنی تسبیح ہے اور ان منکوں کو بھی سبحۃ کہاجاتا ہے جن پر تسبیح پڑھی جاتی ہے ۔
( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ
دین میں شریک دو قسم پر ہے
۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔
دوم شرک صغیر
کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے۔
الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
الباری ( پیدا کرنے والا ) یہ اسماء حسنیٰ سے ہے ۔ جیسے فرمایا :۔{ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الحشر 24) ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا ۔ { فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ } ( سورة البقرة 54) تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے تو بہ کرو ۔
الصورۃ
: کسی عین یعنی مادی چیز کے ظاہر ی نشان اور خدوخال جس سے اسے پہچانا جاسکے اور دوسری چیزوں سے اس کا امتیاز ہوسکے یہ دو قسم پر ہیں ( 1) محسوس جن کا ہر خاص وعام ادراک کرسکتا ہو ۔ بلکہ انسان کے علاوہ بہت سے حیوانات بھی اس کا ادراک کرلیتے ہیں جیسے انسان فرس حمار وغیرہ کی صورتیں دیکھنے سے پہچانی جاسکتی ہیں ( 2 ) صؤرۃ عقلیہ جس کا ادارک خاص خاص لوگ ہی کرسکتے ہوں اور عوام کے فہم سے وہ بالا تر ہوں جیسے انسانی عقل وفکر کی شکل و صورت یا وہ معانی یعنی خاصے جو ایک چیز میں دوسری سے الگ پائے جاتے ہیں چناچہ صورت کے ان پر ہر دو معانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ ثُمَّ صَوَّرْناكُمْ [ الأعراف/ 11] پھر تمہاری شکل و صورت بنائی : وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ [ غافر/ 64] اور اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صؤرتیں بھی نہایت حسین بنائیں ۔ فِي أَيِّ صُورَةٍ ما شاء رَكَّبَكَ [ الانفطار/ 8] اور جس صورت میں چاہا تجھے جو ڑدیا ۔ جو ماں کے پیٹ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری صورتیں بناتا ہے ۔ اور حدیث ان اللہ خلق ادم علیٰ صؤرتہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اس کی خصوصی صورت پر تخلیق کیا ۔ میں صورت سے انسان کی وہ شکل اور ہیت مراد ہے جس کا بصرہ اور بصیرت دونوں سے ادارک ہوسکتا ہے اور جس کے ذریعہ انسان کو بہت سی مخلوق پر فضیلت حاصل ہے اور صورتہ میں اگر ہ ضمیر کا مرجع ذات باری تعالیٰ ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف لفظ صورت کی اضافت تشبیہ یا تبعیض کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ اضافت ملک یعنی ملحاض شرف کے ہے یعنی اس سے انسان کے شرف کو ظاہر کرنا مقصود ہے جیسا کہ بیت اللہ یا ناقۃ اللہ میں اضافت ہے جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] میں روح کی اضافت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے اور آیت کریمہ وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ النمل/ 87] جس روز صور پھونکا جائیگا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ صؤر سے قرآن یعنی نر سنگھے کی طرح کی کوئی چیز مراد ہے جس میں پھونکا جائیگا ۔ تو اس سے انسانی صورتیں اور روحیں ان کے اجسام کی طرف لوٹ آئیں گی ۔ ایک روایت میں ہے ۔ ان الصورفیہ صورۃ الناس کلھم) کہ صور کے اندر تمام لوگوں کی صورتیں موجود ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَ«2» میں صرھن کے معنی یہ ہیں کہ ان کو اپنی طرف مائل کرلو اور ہلالو اور یہ صور سے مشتق ہے جس کے معنی مائل ہونے کے ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی پارہ پارہ کرنے کے ہیں ایک قرات میں صرھن ہے بعض کے نزدیک صرتہ وصرتہ دونوں ہم معنی ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ صرھن کے معنی ہیں انہیں چلا کر بلاؤ چناچہ خلیل نے کہا ہے کہ عصفور صؤار اس چڑیا کو کہتے ہیں جو بلانے والے کی آواز پر آجائے ابوبکر نقاش نے کہا ہے کہ اس میں ایک قرات فصرھن ضاد کے ضمہ اور مفتوحہ کے ساتھ بھی ہے یہ صر سے مشتق ہے اور معنی باندھنے کے ہیں اور ایک قرات میں فصرھن ہے جو صریربمعنی آواز سے مشتق ہے اور معنی یہ ہیں کہ انہیں بلند آواز دے کر بلاؤ اور قطع کرنے کی مناسبت سے بھیڑبکریوں کے گلہ کو صوار کہاجاتا ہے جیسا کہ صرمۃ قطیع اور فرقۃ وغیرہ الفاظ ہیں کہ قطع یعنی کاٹنے کے معنی کے اعتبار سے ان کا اطلاق جماعت پر ہوتا ہے۔
الاسم
کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے ۔ یہ اصل میں سمو ہے کیونکہ اس کی جمع اسماء اور تصغیر سمی آتی ہے ۔ اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مسمیٰ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] اور ( نوح (علیہ السلام) نے ) کہا کہ خدا کا نام لے کر ( کہ اس کے ہاتھ میں ) اس کا چلنا ( ہے ) سوار ہوجاؤ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے ) کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔ اور آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] اور اس آدم کو سب ( چیزوں کے ) نام سکھائے ۔ میں اسماء سے یہاں الفاظ و معانی دونوں مراد ہیں ۔ خواہ مفردہوں خواہ مرکب اس اجمال کی تفصیل یہ ہے ۔ کہ لفظ اسم دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ ایک اصطلاحی معنی میں اور اس صورت میں ہمیشہ مخبر عنہ بنتا ہے ۔ جیسے رجل وفرس دوم وضع اول کے لحاظ سے اس اعتبار سے ( کلمہ کی ) انواع ثلاثہ یعنی مخبر عنہ ( اسم ) خبر اور رابطہ ( حرف ) تینوں پر اس معنی مراد ہیں ۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے جس طرح اسماء کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ اسی طرح افعال وحروف کا علم بھی نہیں حاصل ہوگیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کی ذات کا علم حاصل نہ ہو محض نام کے جاننے سے انسان اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکتا ہے مثلا اگر ہم ہندی یا رومی زبان میں چند چیزوں کے نام حفظ کرلیں تو ان چیزوں کے اسماء کے جاننے سے ہم ان کے مسمیات کو نہیں پہچان سکیں گے ۔ بلکہ ہمار علم انہیں چند اصوات تک محدود رہے گا اس سے ثابت ہوا کہ اسماء کی معرفت مسمیات کی معرفت کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی محض اسم سے مسمی ٰ کی صورت ذہن میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ لہذا آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] میں اسماء سے کلام کی انواع ثلاثہ اور صورۃ مسمیات بمع ان کی ذوات کے مراد ہیں اور آیت ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں ک جن اسماء کی تم پرستش کرتے ہو ان کے مسمیات نہیں ہیں ۔ کیونکہ و اصنام ان اوصاف سے عاری تھے ۔ جن کا کہ وہ ان اسماء کے اعتبار سے ان کے متعلق اعتقاد رکھتے تھے ۔ اور آیت : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان سے کہو کہ ( ذرا ) انکے نام تولو ۔ میں سموھم سے یہ مراد نہیں ہے کہ لات ، عزی وغیرہ ان کے نام بیان کرو بلکہ آیت کے معنی پر ہیں کہ جن کو تم الاۃ ( معبود ) کہتے ہو ان کے متعلق تحقیق کرکے یہ تو بتاؤ کہ آیا ان میں ان اسماء کے معانی بھی پائے جاتے ہیں ۔ جن کے ساتھ تم انہیں موسوم کرتے ہو ( یعنی نہیں ) اسی لئے اس کے بعد فرمایا أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ( کہ ) کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں ( کہیں بھی ) معلوم نہیں کرتا یا ( محض ) ظاہری ( باطل اور جھوٹی ) بات کی ( تقلید کرتے ہو ۔ ) اور آیت : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] تمہارے پروردگار ۔۔ کا نام برا بابر کت ہے ۔ میں اسم رب کے بابرکت ہونے کے معنی یہ ہیں ک اس کی صفات ۔ الکریم ۔ العلیم ۔ الباری ۔ الرحمن الرحیم کے ذکر میں برکت اور نعمت پائی جاتی ہے جیسا ک دوسری جگہ فرمایا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ( اے پیغمبر ) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] اور خدا کے نام سب اچھے ہی اچھے ہیں ۔ اور آیت : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا[ مریم/ 7] اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا َ (719) جس کا نام یحیٰ ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا ۔ میں سمیا کے معنی ہم نام ، ، کے ہیں اور آیت :۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں یعنی کیا اس کی کوئی نظیر ہے جو اس نام کی مستحق ہوا اور حقیقتا اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کیا تم کسی بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہوکیون کہ ایسے تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان سے معافی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں ۔ اور آیت : لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى[ النجم/ 27] اور وہ فرشتوں کو ( خدا کی ) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ میں لڑکیوں کے نام سے موسوم کرنے کے معنی یہ ہیں ۔ کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے ہیں ۔
الحسن
ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے۔
السبح
اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر
ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے۔
سماء
ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔
الارض
( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔
العزیز
العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )
حكيم
الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لهذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟
[تفسير الراغب الأصفهاني:1/51، المفردات في غريب القرآن: صفحہ347]
************************
اللہ کا تعارف-معرفت:-
اللہ کی صفات-خوبیوں سے حاصل کرنا۔
۔۔۔۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ
ترجمہ:
۔۔۔۔۔ اور جان لو کہ اللہ ساتھ ہے پرہیزگاروں کے۔
[سورۃ البقرۃ:194]
۔۔۔۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
ترجمہ:
۔۔۔۔ اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔
[سورۃ البقرۃ:196]
۔۔۔۔ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
ترجمہ:
۔۔۔۔ اور جان لو کہ تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤگے۔
[سورۃ البقرۃ:203]
۔۔۔۔ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
ترجمہ:
۔۔۔۔۔ تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔
[سورۃ البقرۃ:209]
۔۔۔۔ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلَاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
ترجمہ:
۔۔۔۔ اور تم جان لو کہ تم سب ملنے والے ہو اس سے اور آپ خوشخبری دیں مومنین کو۔
[سورۃ البقرۃ:223]
۔۔۔۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
ترجمہ:
۔۔۔۔۔ اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
[سورۃ البقرۃ:231]
۔۔۔۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
ترجمہ:
۔۔۔۔۔ اور جان لو کہ اللہ اسے جو تم کرتے ہو دیکھنے والا ہے۔
[سورۃ البقرۃ:233]
۔۔۔۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
ترجمہ:
۔۔۔۔۔ اور جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہاری دلوں میں سو ڈرو اس سے اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے(ڈرنے والوں کیلئے)۔
[سورۃ البقرۃ:235]
۔۔۔۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
ترجمہ:
۔۔۔۔۔ اور جان لو کہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
[سورۃ البقرۃ:244]
۔۔۔۔ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ:
۔۔۔۔۔ میں جان گیا کہ اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔
[سورۃ البقرۃ:259]
اللہ کے ناموں میں سے ایک نام: "العَفُوُّ" (معاف کرنے والا)
اللہ عزوجل کے ناموں میں سے ایک نام "العَفُوُّ" ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
{إِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ} (الحج: 60)
ترجمہ: "بے شک اللہ درگزر کرنے والا، بخشنے والا ہے۔"
[التوحید لابن مندہ: 2/154]
---
لغوی اور شرعی تشریح
الزجاج (متوفی 311ھ) اپنی کتاب "تفسیر اسماء اللہ الحسنى" میں فرماتے ہیں:
"العفو" کہا جاتا ہے: "عَفَوْتُ عَنِ الشَّيْءِ" یعنی میں نے اس چیز کو چھوڑ دیا۔ اور "عَفَا عَنْ ذَنْبِهِ" کا مطلب ہے: اس نے اس کے گناہ پر سزا نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کرنے والا اور ان پر سزا چھوڑ دینے والا ہے۔
[تفسیر اسماء اللہ الحسنى للزجاج: 98]
امام بیہقی (متوفی 458ھ) نے "شعب الایمان" میں دو روایات نقل کی ہیں:
1. "أَنْ يَعْفُوَ عَنِ السَّيِّئَةِ وَيَكْتُبُهَا حَسَنَةً"
ترجمہ: "یعنی اللہ تعالیٰ برائی سے درگزر فرمائے اور اسے نیکی لکھ دے۔"
[شعب الایمان: 6643]
2. "لَا عَفْوَ لِمَنْ لَمْ يَقْدِرْ"
ترجمہ: "اس شخص کے لیے معافی نہیں جو قدرت نہ رکھتا ہو۔"
(یعنی جو شخص بدلہ لینے کی طاقت نہیں رکھتا، اس کا معاف کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ اصل معافی وہ ہے جو قدرت کے باوجود کی جائے۔)
[شعب الایمان: 7968]
---
الغفور اور العفو میں فرق
امام غزالی (متوفی 505ھ) "المقصد الأسنى" میں وضاحت کرتے ہیں:
"العفو" وہ ہے جو برائیوں کو مٹا دے اور گناہوں سے درگزر کرے۔ یہ "الغفور" کے قریب ہے لیکن اس سے زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ "غفران" پردہ پوشی پر دلالت کرتا ہے جبکہ "عفو" مٹانے پر۔ اور مٹانا پردہ پوشی سے زیادہ بلیغ ہے۔
بندے کا اس نام سے حصہ:
بندے پر واجب ہے کہ وہ ہر اس شخص کو معاف کرے جس نے اس پر ظلم کیا، بلکہ اس کے ساتھ احسان کرے، جیسا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دنیا میں گناہ گاروں اور کافروں کے ساتھ احسان کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اللہ ان پر جلد عذاب نہیں کرتا بلکہ شاید انہیں معاف کر دے کہ انہیں توبہ کی توفیق دے۔ اور جب وہ ان پر توبہ کرے تو ان کی برائیاں مٹا دے، کیونکہ "التائب من الذنب كمن لا ذنب له" (توبہ کرنے والا گناہ سے ایسے ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں)۔ اور یہ جرم کو مٹانے کی انتہا ہے۔
[المقصد الأسنى: 1/140]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. اللہ کا اسم "العفو" اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے اور ان پر سزا نافذ نہ کرنے والا ہے۔
2. عفو اور غفران میں فرق: غفران میں گناہ پر پردہ ڈالنا ہے، جبکہ عفو میں گناہ کو مٹا دینا ہے۔ یہ درگزر کی انتہائی صورت ہے۔
3. برائی کو نیکی سے بدلنا: اللہ کا فضل ہے کہ وہ نہ صرف گناہ معاف کرتا ہے بلکہ اسے نیکی میں بھی تبدیل فرما دیتا ہے۔
4. قدرت کے باوجود معافی: حقیقی عفو وہ ہے جو بدلہ لینے کی طاقت ہوتے ہوئے بھی کیا جائے۔ جس میں طاقت نہیں، اس کا معاف کرنا کوئی فضیلت نہیں۔
5. بندے کا عمل: اللہ کے اس اسم سے بندے کو سبق ملتا ہے کہ وہ دوسروں کو معاف کرے، خصوصاً جب وہ بدلہ لینے پر قادر ہو۔
6. توبہ کا اثر: اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ مٹا دیتا ہے اور انہیں ایسا کر دیتا ہے جیسے انہوں نے گناہ کیا ہی نہیں۔
7. احسان کا درجہ: صرف معاف کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ احسان کرنا (برائی کے بدلے بھلائی) اعلیٰ درجہ ہے۔
8. اللہ کی رحمت کی وسعت: اللہ کا عفو و غفران ہر اس شخص کے لیے ہے جو توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرے۔
اپنی اولاد کے نام کون سے رکھیں:
ابو وہب جشمی ؓ، انہیں شرف صحبت حاصل ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انبیاء کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں، اور سب سے سچے نام حارث و ہمام ہیں (١)، اور سب سے ناپسندیدہ و قبیح نام حرب و مرہ ہیں (٢)۔
[سنن ابی داٶد، کتاب الادب، ناموں کو بدلنے کا بیان ، حدیث نمبر:4950]
وضاحت:
(١)کیونکہ یہ دونوں اپنے مشتق منہ سے معنوی طور پر مطابقت رکھتے ہیں چناچہ حارث کے معنی ہیں کمانے والا، اور ہمام کے معنی قصد و ارادہ رکھنے والے کے ہیں، اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو قصد و ارادہ سے خالی ہو، یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں نام سچے ہیں۔
(٢)ان دونوں ناموں میں ان کے ذاتی وصف کے اعتبار سے جو قباحت ہے وہ بالکل واضح ہے۔
صفاتِ الہٰی کے بیان کا قرآنی اسلوب | |
|
وجودِ باری تعالیٰ کے بارے میں انسانوں میں غلط فہمیاں بہت کم پیدا ہوئیں، البتہ صفاتِ الہٰیہ کا صحیح عرفان اور شعور نہ ہونے کی بنا پر لوگ زیادہ کج روی کا شکار ہوئے۔ اس لیے قرآن کریم نے متعدد مقامات پر صفات الہٰی کو بار بار مختلف اسلوب وپیرائے میں بیان کرکے ان کے سلسلہ میں انسانی ذہنوں میں پائی جانے والی کج فہمیوں کا ازالہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق کائنات او رمخلوق کے مابین رشتہ وتعلق کی نوعیت صفات الہٰی ہی سے واضح ہوتی ہے اور ذات بار ی تعالیٰ کا عرفان بھی ان ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔ یہ صفات عظمت الہٰی کی اس بلند ترین حقیقت کو آشکارا کرتی ہیں کہ انسان ذات الہٰی کی حقیقت تک پہنچنے میں کتنا عاجز وبے بس ہے ۔ اسی وجہ سے قرآن نے الله تعالیٰ کو ”الاسمآء الحسنٰی“ سے پکارنے کا حکم دیا ( الاسراء110) اور ”الحاد فی الاسماء“ سے منع فرمایا ( الاعراف:180) کیوں کہ یہ الحاد شرک یا کفر کی طرف لے جاتا ہے۔
قرآن مجید میں الله تعالیٰ کی صفات وافعال اوراس کے انعامات کااتنی کثرت سے ذکر اور اس کا اعادہ وتکرار اور اس قدر شرح وبسط کے ساتھ بیان کا اصل راز یہی ہے، اس لیے کہ صفات ہی محبت وشوق کا سرچشمہ ہیں ، اسی بات کو بعض ائمہ اسلام نے ”نفی مجمل او راثبات مفصل“ سے تعبیر کیا ہے ، یہی اثبات ہے ( یعنی الله تعالیٰ کی صفات کریمہ کا بیان اور اس کے دلائل وشواہد کا ذکر) جس سے انسان کے ذوق وشوق کو غذا ملتی ہے اور محبت جوش مارنے لگتی ہے، اگر نفی، رہبر عقل ہے تو اثبات، رہبرِ دل، اگر الله تعالیٰ کی یہ صفات عالیہ اور اسمائے حسنٰی ہمارے سامنے نہ ہوتے ، جن سے قرآن وحدیث بھرا ہوا ہے … تو یہ دین ایک چوبی یا آہنی نظام اور قانون کی طرح ہوتا، جس کی دلوں میں کوئی جگہ نہ ہوتی ، یہ نہ ان میں کوئی جذبہ اور گرم جوشی پیدا کرسکتا ، نہ ان کے دلوں کو گرم اور آنکھوں کو نم کرنے کی صلاحیت رکھتا … اس کے بغیر خدا اور بندہ کا تعلق ایک مردہ اور محدود تعلق ہے، جس میں نہ کوئی زندگی ہے ، نہ روح ، نہ لچک، نہ وسعت۔
حدیث پاک میں نبی رحمت صلی الله علیہ وسلم کا صفات الہٰی والی احادیث کو یاد کرنے والے لیے جنت کی بشارت بھی درحقیقت انسان کو نہ صرف ان اسماء کے مفاہیم کی معرفت سے آشنا ہونے کا پیغام دیتی ہے، بلکہ انسان کو ان صفات سے متصف ہونے کا درس بھی اس میں پنہاں ہے۔
اس حدیث کی طرف ان سطور میں اشارہ کیا گیا ہے :
یہ ننانوے نام تو الله تعالیٰ کی بے شمار صفات کے ابواب کے عنوانات ہیں۔ صفات الہٰی تو لامتناہی ہیں۔ ہر نیا دن اور ہر نئی تخلیق صفات الہٰیہ میں سے کسی صفت کا پرتو ہوتی ہے ۔ انہی صفات میں سے ہر مخلوق اپنے ظرف کے مطابق فیض یاب ہوتی ہے ، پھر کائنات اور انسان کی ساری سرگرمیاں انہی صفات کا مظہر ہوتی ہیں۔ ان لامتناہی صفات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:صفات ثبوتیہ
وہ صفات جوباری تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں اور الله تعالیٰ کی زیبائی او رجمال کی آئینہ دار ہیں، جیسے علم ، قدرت۔صفات سلبیہ
وہ صفات جن کی خدا سے نفی کی گئی ہے ، جیسے جہل ، عجز۔صفاتِ فعل
وہ صفات جن کا تعلق افعال خدا سے ہے ، جیسے خالق، رازق۔
قرآن کریم میں مختلف احکام کے تذکرہ کے بعد صفاتِ الہٰیہ کا بیان ہوا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ احکام الہٰیہ کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہے ۔ اس کا اندازہ اصمعی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دن انہوں نے یہ آیت پڑھی : ﴿السارقة والسارقة… ﴾ لیکن غلطی سے والله غفور رحیم کہہ دیا۔ ایک اعرابی قریب تھا، اس نے پوچھا کہ یہ کس کا کلام ہے ؟ اصمعی نے کہا الله کا۔ اس نے کہا کہ یہ الله کا کلام کیسے ہو سکتا ہے ؟ اگر الله نے معاف کر دیا اور رحم کیا تو ہاتھ کاٹنے کا حکم کیوں دیا؟ یہ حکم تو اس لیے تھا کہ وہ قدرت وغلبہ کا مالک ہے۔ گویا اعرابی نے صفات کے ذکر میں غلطی کا اندازہ ماقبل سے لگایا۔ اسی طرح ایلاء سے رجوع کرنے والوں کے لیے غفور اور رحیم کی صفات آئیں۔ قسم اٹھا کر عورت کو پریشان کیا اور قسم توڑ کر الله کے نام کی عزت کا پاس نہیں کیا۔ ایسے لوگوں کے لیے انہی صفات کا مژدہ ہونا چاہیے تھا، مگر جو طلاق کا عزم کر لیں ان کے لیے صفات سمیع اور علیم آئیں، کیوں کہ الله تعالیٰ اس ساری گفتگو کو سنتا ہے جو وہ اس سلسلہ میں عوام الناس اور اعزا واقربا سے کرتا ہے۔ وہ لوگوں سے جو چاہے کہے، مگر اس عزم طلاق کے حقیقی محرکات سے خالق کائنات آگاہ ہے ۔
قرآن کریم کی سورتوں اور آیات کے باہمی نظم وربط کو زمانہٴ قدیم سے علماو محققین نے اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے ،اس نظم کی اہمیت تو ہے ہی، مگر سورتوں میں مختلف آیات کے اختتام پر آنے والے اسمائے الہٰیہ کا بھی ماقبل حکم ربی سے مناسبت او رتعلق ضرور ہے۔ یہ بھی اعجاز قرآن کا ایک پہلو ہے۔
آیات کے اختتام پر عموماً صفات الہٰیہ مرکب صورت ( یعنی دو صفاتی ناموں کی صورت میں ) آئی ہیں ۔ صفاتی ناموں کے یہ جوڑے بھی کئی شکلوں میں ہیں۔ یقینا ان میں بھی کوئی نظم وربط او رمناسبت ہو گی۔
یہاں چند ایسے اسماء کااجمالی تذکرہ پیش کیا جاتا ہے۔عزیز
اصل میں عزت کا معنی روکنا ہے ۔ ارض عزاز اس زمین کو کہا جاتا ہے جو بہت سخت ہو ۔ حاشیہ الصاوی علی الجلالین میں ہے:
”عزیز“ لا یعجزہ شیء عن انتقامہ منکم ای لاتفتلون منہ․“
گناہوں کا انتقام لینے میں اسے کوئی عاجز نہیں کر سکتا اور نہ تم اپنے آپ کو اس سے چھڑا سکتے ہو۔
اسی وجہ سے ”عزیز“ کا ترجمہ غالب کیا جاتا ہے۔ امام رازی نے اس لفظ کو زیادہ جامع انداز میں بیان کیا ہے :
”ان العزیز من لا یمنع عن مرادہ، وذلک انما یحصل بکمال القدرة، وقد ثبت انہ سبحانہ وتعالیٰ قادر علی جمیع الممکنات، فکان عزیزا علی الاطلاق․“
عزیز وہ ہے جسے کوئی بھی اس کے ارادے سے روک نہ سکے۔ یہ چیز کمال قدرت سے حاصل ہوتی ہے ۔ یہ ثابت ہے کہ الله تعالیٰ تمام ممکنات پر قادر ہے، اس لیے وہ عزیز مطلق ہے۔
جمال الدین القسامی ”العزیز“ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ھو الغالب بقدرتہ، المستعلی فوق عبادہ، یدبر امرھم بما یرید، فیقع فی ذلک مایشق علیھم ویثقل ویغم ویحزن، فلا یستطیع احد منھم رد تدبیرہ، والخروج من تحت قھرہ وتقدیرہ․“
وہ اپنی قدرت سے غالب ہے او راپنے بندوں پر مکمل تصرف رکھتا ہے ،ان کے معاملات کی جیسے چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں بندوں پر مشقت اور بوجھ بھی آتا ہے اور وہ حزن وملال کے شکار بھی ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی الله تعالیٰ کی تدبیر رد کرنے اور اس کی تقدیر وقہر سے نکلنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
”العزیز“ ذوالعزة وھی القوة، والشدة، والغلبة والرفعة“․
عزیز یعنی عزت والا۔ عزت کے معنی ہیں ، قوت وطاقت ، غلبہ ورفعت۔
یہ اسم مبارک درج ذیل جوڑوں کی شکل میں قرآن میں استعمال ہوا ہے ۔
(الف) حکیم:
صفت ”عزیز“ کے ساتھ سب سے زیادہ استعمال صفت ”حکیم“ کا ہوا ہے ۔ حکیم وہ ہے جو چیز کو اچھے طریقہ پر ایجاد کرے، افضل اشیاء سے بہترین طریقہ پر آگاہ ہو اور غلط کام سے روکے۔
(ب) علیم:
(ج) جبار: قوت وشدت سے اصلاح کرنے والے کو جبار کتے ہیں۔
(د) مقتدر: قدرت تامہ وکاملہ کا مالک قرآن کریم میں صفت عزیز کے ساتھ اس صفت کا ذکر سورة القمر:42 میں آیا ہے۔
(ہ) غفار(و) رحیم (ز) قوی (ح) حمید
یہ استعمالات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ پروردگار جس کو اس کائنات پر کامل غلبہ قوت واقتدار حاصل ہے وہ اس قوت وطاقت کو حکمت ، علم او ررحم کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔
یہاں عزیز اور حکیم کے قرآنی استعمالات او رانسانی زندگی پر اس کے اثرات کا جائزہ پیش خدمت ہے۔
﴿ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلو علیھم اٰیٰتک ویعلمھم الکتٰب والحکمة ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم﴾․ (البقرة:129)
اے ہمارے رب! انہیں میں سے ایک برگزیدہ رسول بھیج تاکہ انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے او رانہیں کتاب اور دانائی کی باتیں سکھائے اورانہیں پاک صاف کر دے بے شک تو ہی بہت زبردست ( اور) حکمت والا ہے۔
یہاں ان دو صفتوں کا حوالہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ جو خدا عزیز وحکیم ہے، اس کی عزت وحکمت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی پیدا کی ہوئی اس مملکت میں سفیر بھیجے جو اس کی رعیت کو اس کے احکام وقوانین سے آگاہ کرے اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دے ۔
﴿فان زللتم من بعد ما جاء تکم البینٰت فاعلموان الله عزیز حکیم﴾․ ( البقرة:209)
اگر روشن دلیلیں آنے کے بعد بھی تم پھسلنے لگو تو جان لو! الله تعالیٰ زبردست ( اور) حکمت والا ہے۔
عزیز کی صفت کے ذکر سے دو حقیقتوں کی طرف اشارہ مقصود ہے ۔ ایک یہ کہ خدا کوئی کم زور وناتواں ہستی نہیں ہے ، بلکہ وہ غالب وتوانا ہے۔ جو لوگ اس کی تنبیہات کے باوجود شیطان کی پیروی کریں گے ان کو وہ اس عذاب میں ضرور پکڑے گا جو شیطان کے پیروؤں کے لیے اس نے مقدر کر رکھا ہے اور جس کی اس نے پہلے خبر دے رکھی ہے۔ دوسری حقیقت یہ کہ جو لوگ ان واضح ہدایات کے بعد بھی راہِ حق کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی اختیار کریں گے وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑیں گے، بلکہ اپناہی بگاڑیں گے، اس لیے کہ خدا عزیز ہے، یعنی نفع ونقصان سے بالاتر۔
اسی طرح حکیم کی صفت بھی یہاں دو حقیقتوں کو نمایاں کر رہی ہے ۔ ایک تویہ کہ اس دنیا کا خالق حکیم ہے او راس کے حکیم ہونے کا بدیہی تقاضا ہے کہ وہ اپنی ہدایت پر جمے رہنے والوں اور اس سے منحرف ہو جانے والوں کے درمیان ان کے انجام کے لحاظ سے امتیاز کرے، اگر وہ ان میں کوئی امتیار نہ کرے، بلکہ دونوں کو ان کے حال پر چھوڑ دے یا دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ حکیم نہیں ہے اور یہ دنیا ایک پر حکمت اور بامقصد کا رخانہ نہیں، بلکہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا ہے ۔ دوسرے یہ کہ بدی اور نیکی کے نتائج کے ظہور میں جو دیر ہوتی ہے وہ سب حکمت پر مبنی ہوتی ہے، بسا اوقات شیطان کے پیرو کاروں کو الله تعالیٰ مہلت دیتا ہے اور بسا اوقات اہل حق کسی آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں اس سے نہ تو اہل باطل کومغرور ہونا چاہیے اور نہ اہل حق کو مایوس ۔ بلکہ یہ یقین رکھنا چاہیے کہ وہ مہلت اور یہ آزمائش دونوں خدائے حکیم ودانا کی حکمت پر مبنی ہے۔
عبدالله یوسف علی نے لکھا ہے:
If you Back-sbide after the conviction has been brought home to you you may cause some inconvenience to the cause, or to these who counted upon you but do not be so arrogant as to suppose that you will defeat God's power and wisdom.
مذکورہ آیت کے مضمون سے ان صفات کے ربط وتعلق کے متعلق مفسرین نے درج ذیل واقعہ بھی نقل کیا ہے۔
أن قاریاً قرأ غفور رحیم، فسمہ أعرابی فأنکرہ، وقال إن کان ھذا کلام الله فلا یقول کذا، الحکیم لا یذکر الغفران عند الزلل؛ لأنہ إغراء علیہ․
ایک قاری قرآن کی یہ آیت پڑھ رہا تھا۔ اس نے بھول کر فاعلموا ان الله غفور رحیم پڑھ لیا۔ ایک اعرابی قرآن پاک سن رہا تھا۔ وہ کہنے لگا کہ یہ الله کا کلام نہیں ہو سکتا ، کیوں کہ پہلے لغزش کا ذکر ہے، اگر اس کے بعد فاعلموا ان الله غفور رحیم ہو تو اس سے لازم آئے گا کہ الله نے خود ہی گناہ پر ابھارا ہے کہ تم گناہ کرتے رہو اور میں بخشتا رہوں گا۔ یہ تو الله تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے۔
﴿ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا الہ الا ھو العزیز الحکیم﴾․ ( آل عمران:6)
وہی ہے جو ( ماؤں کے ) رحموں میں جس طرح چاہتا ہے ، تمہاری تصویریں بناتا ہے، اس کے بغیر کوئی معبود نہیں ( وہی) غالب اور حکمت والا ہے۔
یعنی خدا کو قدرت ہے رحم میں جس طرح چاہے آدمی کا نقشہ تیار کر دے ، خواہ ماں باپ دونوں کے ملنے سے یا صرف قوت منفعلہ سے، اسی لیے آگے فرمایا ﴿ھو العزیز الحکیم﴾ یعنی وہ زبردست ہے، جس کی قدرت کو کوئی محدد نہیں کر سکتا اور حکیم ہے جہاں جیسے مناسب جانتا ہے کرتا ہے ۔ اس نے ” حوا” کو بدون ماں کے ، مسیح کو بدون باپ کے ، آدم کو بدون ماں باپ دونوں کے پیدا کر دیا۔ اس کی حکمتوں کا احاطہ کون کرسکتا ہے۔
علامہ بقاعی کے نزدیک بھی عزیز او رحکیم اس قدرت اور حکمت کو ظاہر کرتے ہیں جس سے باری تعالیٰ مادر رحم میں تصویر سازی کرتا ہے۔
﴿ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم ﴾․ ( المائدہ:118)
اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دے تو بلاشبہ تو ہی سب پر غالب ( اور ) بڑا دانا ہے۔
اس آیت مبارکہ میں عزیز او رحکیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ کا گناہ سے درگزر فرمانا نہ تو کم زوری کی علامت ہے او رنہ اس کی سزا ہی حکمت سے خالی ہوتی ہے۔ علامہ مہائمی نے لکھا ہے کہ یہاں عزت اور حکمت کا ایک تقاضا تو سزا ہے مگرعبودیت کا تقاضا ہے کہ اس سزا کو اٹھا لیا جائے
” تغفرلھم“ کے الفاظ کا تقاضا تو یہ تھا کہ آیت کے آخر پر غفور اور رحیم آتا، مگر یہاں عزیز او رحکیم آیا ہے، بظاہر ان صفات کا ماقبل مضمون سے ربط وتعلق واضح نہیں ہوتا ۔ اس مسئلہ پر امام رازی اور علامہ میبذی نے اپنے اپنے اسلوب میں نفیس اظہار خیال کیا ہے۔
قرآن کریم میں ان دونوں صفتوں کا بالعموم اکٹھا ذکر اور اس کے قبل مضمون سے ربط وتعلق پر مولانا امین احسن اصلاحی کی یہ رائے بہت ہی جامع ہے۔
” قرآن مجید میں الله تعالیٰ کی ان دونوں صفات کا حوالہ بالعموم ایک ساتھ آتا ہے، اس سے اس حقیقت کا اظہار ہوتاہے کہ الله تعالیٰ اس کائنات پر پورے غلبے کے ساتھ حاوی او رمتصرف ہے ، لیکن اس کے غلبہ واقتدار کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اس کے زور میں جو چاہے کر ڈالے، بلکہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اس کا کوئی کام بھی حکمت ومصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔“
امام رازی کے بقول یہ صفات وعید اور وعدہ کی شان لیے ہوئے ہیں ۔ ایک مثال سے صفت ”عزیز“ میں وعید کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : جب باپ بیٹے کو یہ کہے ان عصیتنی فانت عارف لی۔ اگر تم نے میری نافرمانی کی تو تم مجھے جانتے ہو ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے مجھے تم پر قدرت ودبدبہ حاصل ہے ۔ فیکون ھذا الکلام فی الزجر ابلغ من ذکر الضرب وغیرہ اس کلام میں زیادہ دھمکی پائی جاتی ہے جو یہ کہنے میں نہیں ہے کہ اگر تم نے میری نافرمانی کی تو میں تمہیں ماروں گا۔
حکیم میں رب تعالیٰ کے وعدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام رازی لکھتے ہیں : ” رب تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ نیک او رگناہ گار میں فرق کرے اور ساتھ ہی یہ واضح ہوا کہ جس طرح گناہ گار کو عذاب دینا اس کے حکیم ہونے کے مناسب ہے، اسی طرح نیک کو ثواب عطا کرنا بھی اس کی حکمت کے لائق ہے ، بلکہ نیک کو ثواب عطا کرنا زیادہ ہی حکمت کے مناسب ہے او راس کی رحمت کے زیادہ ہی قریب ہے ۔
صفت عزیز انسان کی کم زوری و ناتوانی کی مظہر ہے ۔ یہ صفت انسان کو غروروتکبر سے بچاتی اور عالم اسباب میں گم ہونے سے بچاتی ہے ۔ عزیز کے ساتھ حکیم کی صفت انسان کو مصیبتوں پر صبر سکھاتی ہے اور نعمتوں کے ملنے پر شکر کی طرف راغب کرتی ہے ۔ یہ دونوں صفات حکمران طبقے کو طاقت کے نشہ میں اختیار کے اندھے استعمال سے بھی بچاتی ہیں۔
(ب) غفور:
غفر کا مفہوم ڈھانپنا ہے ۔ صفات افعال میں سے ”غفور“ ظاہر کرتاہے کہ پرورگاد عالم ہماری ظاہری وباطنی نجاستوں کو محض اپنے فضل وکرم کی بنا پر ، چادر رحمت سے ڈھانپ کر روز محشر عذاب جہنم سے بچا لیتا ہے ۔ وہ پردہ پوشی ہی نہیں کرتا ہے بخشتا بھی ہے او رسیئات کو حسنات میں بھی بدل دیتا ہے۔علامہ طیبی کے نزدیک تو فرشتوں کو ہماری بداعمالیاں بھلا دینا بھی اس کے غفور ہونے کا مظہر ہے۔
اپنے عصیاں شعار بندوں پر بے پناہ لطف وکرم کی وجہ سے ہی وہ خیر الغافرین ( سورة الاعراف:155) ہے ۔ یہ اسم مبارک قرآن کریم میں ان جوڑوں کی شکل میں آیا ہے ۔
(الف) رحیم:
قرآن میں اکثر مقامات پر غفور، رحیم سے پہلے آیا ہے، مگر ایک مقام پر الرحیم پہلے ہے۔ (سبا:2)
(ب) حلیم (ج) رب(د) عزیز (ہ) شکور (و) عفو (ز) ودود۔
یہ فہرست ظاہر کرتی ہے کہ ” غفور“ دیگر جن اسماء کے ساتھ بھی استعمال ہوا ہے وہ خالق کی طرف سے مخلوق پر محبت ، رحمت ، درگز ر اور مخلوق کی عزت افزائی کا مظہر ہے۔
صرف غفور اور رحیم کے چند قرآنی استعمالات کا تذکرہ کیا جاتا ہے،تاکہ ان کے مقابل مضمون سے ربط وتعلق اور انسانی زندگی پر اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔
(۱) حلّت وحرمت کے مسائل کے تذکرہ کے بعد حالت اضطرار میں حرام کے استعمال کی اجازت کے بعد غفور او ررحیم کااستعمال ہوا ہے۔
﴿انما حرم علیکم المیتة والدم ولحم الخنزیر وما اہل بہ لغیر الله فمن اضطر غیر باغ ولاعاد فلا اثم علیہ ان الله غفور رحیم﴾․ ( البقرة:173)
الله نے تمہارے اوپر حرام قرار دیا ہے مردہ کو ، خون کو ، سور کے گوشت کو اور ایسے مذبوحہ کے گوشت کو جس پر الله کے سوا کسی او رکا نام لیا گیا ہو۔ جو شخص مجبور ی میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھائے، بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، الله بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
سورة المائدہ: آیت:3، سورة الانعام، آیت:145اور سورة النحل، آیت:150 میں بھی اسی طرح یہ صفات آئی ہیں۔
اس آیت مبارکہ او راسی مضمون کی دیگر آیات کے اختتام پر غفور اور رحیم کی صفات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حالت اضطرار میں حرام کھانے پر الله تعالیٰ تمہارا مواخذہ نہیں کرے گا۔ یہ اس کی صفت غفور کا تقاضا ہے اور یہ رخصت عطا کرنا اس کی صفت رحیم کاتقاضا ہے۔
اسی طرح استغفار کا حکم دیا تو اس کے بعد بھی انہیں صفات کو بیان کیا گیا، تاکہ الله تعالیٰ کی بخشش وعطا اور رحمت وکرم کا پتا چل سکے۔
﴿ثم افیضوا من حیث افاض الناس واستغفروا الله ان الله غفور رحیم﴾․(البقرة:199)
پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو او رالله سے معافی چاہو، یقینا وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
امام رازی فرماتے ہیں:
”فھذا یدل قطعا علی انہ تعالیٰ یغفر لذلک المستغفر، ویرحم ذلک الذی تمسک بحبل رحمتہ وکرمہ“․ (رازی، فخر الدین، مفاتیح الغیب)
اس سے یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ مغفرت طلب کرنے والے کی مغفرت فرماتا ہے او راس شخص پر رحم فرماتا ہے جو اس کے حبل رحمت اور دین کرم کا سہارا لیتا ہے۔
(ب)﴿ واستغفرلھن الله ان الله غفور رحیم﴾ ․ (الممتحنة:12)
اور الله تعالیٰ سے ان ( خواتین) کے لیے مغفرت مانگا کرو۔ بے شک الله تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
الله تعالیٰ اپنے محبوب صلی الله علیہ وسلم کو حکم دیتے ہیں کہ جو عورتیں ان شرائط کو قبول کر لیں او ران باتوں کی پابندی پر آمادہ ہو جائیں تو آپ ان کی بیعت فرما لیں اور اس کے ساتھ ان کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں ۔ بے شک الله تعالیٰ غفور اور رحیم ہے ۔ جب آپ کے ہاتھ اٹھیں گے تو انہیں خالی نہیں لوٹایا جائے گا، بلکہ الله تعالیٰ آپ کی دعا کی برکت سے ان کے عمر بھر کے گناہوں کو ، جن میں شرک وکفر سر فہرست ہے ، بخش دے گا اور ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے گا۔ (جاری ہے)
|

ہم اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی صفات میں توحید کے قائل کس طرح ہوں؟
نام اور صفات کی ضرورت:
کسی بھی ہستی یا چیز کا ایک نام ہوتا ہے، اور اس کی چند صفات ہوتی ہیں، نام سے وہ ہستی جانی جاتی ہے اور دوسروں سے ممتاز ہوجاتی ہے، اور صفات سے اس کا تعارف حاصل ہوتا ہے۔
نام کے بغیر کسی ہستی یا کسی چیز کو آپ دوسروں سے ممتاز نہیں کر سکتے، ایک چیز یا ہستی کو دوسری چیزوں یا ہستیوں سے ممتاز کرنے کےلئے اس کا نام ضروری ہے، اس اعتبار سے ’’اللہ ‘‘باری تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، جب یہ نام بولا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات دوسرے موجودات سے ممتاز ہو کر سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس سے کون مراد لیا جا رہا ہے۔
وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف:۱۸۰)اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى (طہ:۸) هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (۲۲) هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (۲۳) هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(الحشر :۲۴)
صفات کے بغیر تعارف ممکن نہیں ہے:
اور کسی بھی ہستی /یا چیز کا ادراک اور اس کا تعارف اس کی صفات سے ہوتا ہے، کسی بھی ہستی کی مجرد ذات کو اس کی صفت سے علیحدہ کرکے نہ سمجھا جا سکتا ہے نہ سمجھایا جا سکتا ہے، مثلاً دودھ کو سمجھنا یا بیان کرنا ہے، تو اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کی صفت بیان کریں، کہ جیسے: ایک سیال ، جو سفید رنگ کا ہوتا ہے، اور اس کو غذ ا کے طور پر پیا جاتا ہے اس کو دودھ کہتے ہیں۔ یہ تینوں ہی باتیں دودھ کی صفت ہیں، یعنی سیال ہونا، سفید ہونا، اور غذا کے طور پر پیا جانا ، ان صفات کے علاوہ مزید سمجھانے کےلئے یا دودھ کو دوسرے سفید سیالوں سے ممتاز کرنے کےلئے اور بھی صفات کو بڑھایا جا سکتا ہے، لیکن وہ سب باتیں دودھ کی صفات ہی شمار ہوں گی، مگر دودھ کو بغیر صفات بیان کئے ہوئے مجرد سمجھا / یا سمجھایا نہیں جا سکتا، ایسے ہی دوسری کسی بھی چیز کو سمجھانا ہے تو صفات کا بیان ضروری ہے۔
صفات سے مجرد ذات کا اثبات خارج میں ممکن نہیں ہوتا:
صفات سے مجرد ذات کا اثبات خارج میں ممکن نہیں ہے، بلکہ صفات سے مجرد ذات کے اثبات کے نتیجہ میں ہی عقیدہ حلول پیدا ہوتا ہے جو نصاری کے شرک سے بھی بدتر اور صریح کفر ہے۔
فَإِنَّ إِثْبَاتَ ذَاتٍ مُجَرَّدَةٍ عَنْ جَمِيعِ الصِّفَاتِ لَا يُتَصَوَّرُ لَهَا وُجُودٌ فِي الْخَارِجِ، وَإِنَّمَا الذِّهْنُ قَدْ يَفْرِضُ الْمُحَالَ وَيَتَخَيَّلُهُ، وَهَذَا غَايَةُ التَّعْطِيلِ. وَهَذَا الْقَوْلُ قَدْ أَفْضَى بِقَوْمٍ إِلَى الْقَوْلِ بِالْحُلُولِ وَالِاتِّحَادِ، وَهُوَ أَقْبَحُ مِنْ كُفْرِ النَّصَارَى، فَإِنَّ النَّصَارَى خَصُّوهُ بِالْمَسِيحِ، وَهَؤُلَاءِ عَمُّوا جَمِيعَ الْمَخْلُوقَاتِ.
(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۱۱)
تعطیل :
قرآن مجید میں صفات باری تعالیٰ کا اثبات آخرت کے اثبات سے بھی زیادہ بیان کیا گیا ہے۔ اور قرآن نے جو کچھ محکم طور پر بیان کیا ہے اس کو ماننا لاز م اور ضروری ہے۔
اللہ کی صفات کے انکار کرنے کو تعطیل کہتے ہیں ، یعنی اللہ تعالیٰ کو صفات سے مجرد قرار دینا، یا اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کو کم کردینا یہ تعطیل ہے اور کفر ہے، اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں اور قرآن ان کے بیان سے بھرا ہوا ہے۔
وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف :۱۸۰) معنى الزيادة في الأسماء التشبيه والنقصان التعطيل فإن المشبهة وصفوه بما لم يأذن فيه والمعطلة سلبوه ما اتصف به ولذلك قال أهل الحق : إن ديننا طريق بين طريقين لا بتشبيه ولا بتعطيل( تفسیر القرطبی:۷/۲۸۵)وَمَنْ لَمْ يَتَوَقَّ النَّفْيَ وَالتَّشْبِيهَ زَلَّ وَلَمْ يُصِبِ التَّنْزِيهَ(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۶۰)وَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ: مَنْ شَبَّهَ اللَّهَ بِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنْ أَنْكَرَ مَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ فَقَدْ كَفَرَ
(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۴۲)
اللہ کے خوبصورت نام :
جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں یکاّ و تنہا٫ ہے اسی طرح وہ اپنے اسماء و صفات میں بھی منفرد ہے، اس کے جیسے نام اور صفات ہیں اُن میں کوئی بھی اُس کا شریک نہیں ہے، اور اس کی صفات کے بیان کےلئے اس کے خوبصورت نام ہیں، جو اس نےخود اپنے کلام میں اور اپنے رسولوں کے ذریعہ بتلائے ہیں۔
وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف:۱۸۰)اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى
(طہ:۸)
صفات باری تعالیٰ تک انسانی گمان خود سے نہیں جا سکتا:
اللہ تعالیٰ کا تعارف اس کی صفات سے ہی حاصل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ادراک کہ اللہ تعالیٰ کیسے ہیں بندہ کا ذہن و خیال اس تک نہیں جا سکتا، محققین نے اسی کے بارے میں کہا ہے: لَا تَبْلُغُهُ الْأَوْهَامُ، وَلَا تُدْرِكُهُ الْأَفْهَامُ: یعنی نہ وہم و گمان ان کی حقیقت تک جا سکتا ہے، اور نہ ہمارا ناقص فہم ان کا پوری طرح سے ادراک کرسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ اپنی دعاؤں میں کہا کرتے تھے: لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك ۔ اور باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلاَ يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا أُوتِيتُم مِّن الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً۔ اللہ تعالیٰ کا اسم ذات یعنی ’’اللہ‘‘ اس معنی کر بھی ہے کہ :وہ ہستی جس کی کنہ کا ادارک ممکن نہیں ہے اس کو اللہ کہتے ہیں، اس کا ذکر ہم آگے اسم ذات یعنی اللہ کے تحت مستقل بھی کریں گے۔
اسماء و صفات الہٰی میں فرق:
اللہ کے اسماء اس کی صفات پر بنے ہوئے نام ہیں، مثلاً اللہ کی ایک صفت علم ہے، جو آیت : يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ (البقرۃ :۲۵۵)۔ میں بیان کی گئی ہے، اس صفت کا اظہار مثلاً : اللہ کے اسم ’’العلیم‘‘ میں کیا گیا ہے۔ اسی طرح اللہ کی ایک صفت رزق دینا ہے، جو آیت : اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (الشوری:۱۹) ۔ میں بیان ہوئی ہے، اس صفت کا اظہار مثلاً اللہ کے نام ’’الرزاق‘‘ میں ہوا ہے۔
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (الشعراء:۲۲۰) إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ
(الذاریات:۵۸)
اللہ تعالیٰ کی بعض صفات وہ ہیں جن سے بنے ہوئے اسماء اللہ تعالیٰ کےلئے قرآن و سنت میں وارد ہوئے ہیں، اور بعض وہ صفات ہیں جو صفت کے طور پر تو اللہ کےلئے استعمال ہوئے ہیں لیکن ان سے بنا ہوا کوئی اسم اللہ کے لئے استعمال نہیں ہوا ہے، مثلاً ارادہ اور مشیت اللہ کی صفات ہیں، صنعت اللہ کی صفت ہے، اسی طرح محض ’’مقابلہ ‘‘ میں مکر اور خداع بھی اللہ کے صفات فعلی میں استعمال ہوئے ہیں لیکن ان سے بنے اسماء اللہ کےلئے قرآن و سنت میں کہیں استعمال نہیں ہوئے۔
فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ (الأنعام:۱۲۵) وقال تعالى: {وَمَا تَشَاءُونَ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَالتكوير: ۲۹)صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ (البقرۃ:۱۳۸) صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ (النمل:۸۸) يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُم
(النساء: ۱۴۲)
اب اس کا حکم یہ ہے کہ قرآن و سنت نے جو ثابت کیا ہے وہ اللہ کےلئے ثابت ہے، اور قرآن و سنت نے اللہ کےلئے جو ثابت نہیں کیا ہے وہ ثابت نہیں ہے، اس لحاظ سے جن صفات پر کوئی نام اللہ کےلئے قرآن و سنت میں آیا ہے وہ اللہ کے اسماء حسنی کا حصہ ہے، اور جن صفات سے کوئی اسم اللہ کےلئے استعمال نہیں ہوا ہے اس میں محض صفت ثابت ہے ان کےلئے کوئی اسم اپنی طرف سے نہیں بنایا جائے گا۔
وَمَنْ أَنْكَرَ مَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ فَقَدْ كَفَرَ، وَلَيْسَ فِيمَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ وَلَا رَسُولُهُ تَشْبِيهٌ.
(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۴۲)
اسماءو صفات باری تعالیٰ توقیفی ہیں:
اللہ تعالیٰ کی انہیں صفات کا اثبات کیا جائے گا جن کو قرآن و سنت نے بیان کیا ہے، اور ان صفات کی نفی کی جائے گی جن کی قرآن و سنت میں نفی کی گئی ہے، اور ان باتوں کے بارے میں سکوت اختیار کیا جائے گا جن کے بارے میں قرآن و سنت نے سکوت اختیار کیا ہے۔
کیونکہ قرآن و سنت کی تنبیہ ہے کہ بندے اللہ کی صفات اوراس کے نام خود سے وضع نہیں کر سکتے ، اگر وہ ایسا کریں گے تو اس میں صرف غلطی نہیں کریں گے بلکہ اللہ کی شان میں گستاخی کے مرتکب بھی ہو سکتے ہیں، جیسا کہ دنیا کی دیگر مشرک اقوام نے اس راستہ میں ٹھوکر کھائی ہے اور حق سے بہت دور جا پڑے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے اسما٫ و صفات کے بارے میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اس کے متعلق جتنا سکھایا گیا ہے اسی کے دائرہ میں رہیں، یہ توقیفی معاملہ ہیں۔
قال الإمام أحمد رحمه الله: "لا يوصف الله إلا بما وصف به نفسه أو وصفه به رسوله صلى الله عليه وسلم لا نتجاوز القرآن والسنة" (معتقد أهل السنة والجماعة في توحيد الأسماء والصفات:۱/۵۶)وقال شيخ الإسلام ابن تيمية: "وطريقة سلف الأمة وأئمتها أنهم يصفون الله بما وصف به نفسه، وبما وصفه به رسوله صلى الله عليه وسلم"
( منهاج السنة: ۲/۵۲۳)
وأسماء الله عز و جل تؤخذ توقيفا ولا يجوز أخذها قياسا
(اصول الدین: ۱/۱۰۸)
توقیفی امر کے معنی:
امر توقیفی اس بات کو کہتے ہیں کہ: اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے ایک بات مقرر کردی گئی، اور ساتھ ہی یہ بھی طے ہے کہ اس میں بندے اپنی جانب سے کوئی حک و اضافہ اور کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے۔چنانچہ بندے اللہ تعالیٰ کا جتنا تعارف سمجھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام میں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیم میں دے دیا ہےبندوں کو اسی کا پابند رہنا ہے۔
اسماء و صفات کے باب میں اجتہاد و قیاس آرائی کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔اس باب میں قیاس آرائی انسان کو یقینی طور پر حق سے گمراہ کردیتی ہے، باری تعالی کا ارشاد ہے :وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ(الاعراف: ۱۸۰) -باری تعالی کے ناموں کے ساتھ الحاد کی تفسیر میں مفسرین نے یہی لکھا ہے کہ اﷲ کے ایسے نام بتانا جو خود اﷲ سے ثابت نہیں ہیں۔
صفات باری تعالیٰ کو توقیفی کیوں رکھا گیا:
اس معاملہ کو توقیفی اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ کسی بھی شے یا ہستی کا خود سے تعارف وہی دے سکتا ہے جو اس سے پوری طرح واقفیت رکھتا ہو، اور جس کو مکمل تعارف نہ ہو اس سے غلطی بھی ہوسکتی ہے۔
پھر انسان کی عقل ناقص اور اس کی ما فی الضمیر کی ادائیگی میں نقص بھی اس میں رکاوٹ ہے ، اس لئے بھی کہا گیا کہ :اللہ تعالیٰ نے خود اپنی صفات اور اپنا تعارف پیغمبروں کے ذریعہ دے دیاہے، اب اس میں کسی بھی دخل اندازی کی ممانعت ہے۔
تمثیل و تشبیہ:
اللہ تعالیٰ کی صفات ثابت ہیں لیکن اسی طرح جیسا کہ خود اللہ نے اپنے کلام میں بیان کیا ہے، اور پیغمبر ﷺ نے اللہ کے دئے ہوئے علم کے مطابق ان کی تشریح کی ہے، اثبات صفات میں اللہ اور اس کے رسول کی بیان کردہ انہیں حدود میں رہنا ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، لیکن انسانی ذہن صفات کے بارے میں کئی اعتبارات سے غلطی کرتا ہے، صفات کو ثابت کرنے میں قرآن نے ایک اور تنبیہ یہ کی ہے کہ : ’’اللہ کی صفات ثابت ہیں، لیکن اس کا مثل کوئی نہیں ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ کے جیسا کوئی نہیں ہے، نہ ذات میں نہ صفات میں اور نہ ہی افعال میں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی جو خصوصیات ہیں مخلوقات میں کسی کو اس سے متصف نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی اللہ کی صفات میں سے کسی شے میں مخلوقات اس کے مثل ہوسکتی ہیں، اللہ بندوں جیسا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے ارشادہے : لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۔جو لوگ غیر اللہ میں سے کسی کو اللہ کا مثل اور اس کے مشابہ قرار دیتے ہیں اس میں ان پر صاف طور پر رد کردیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے بعض ناموں کے بارے میں عام انسان کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ شائد یہ صفات اللہ میں بندوں جیسی ہے، یا بندوں میں اس جیسی صفات اللہ کے مثل ہیں، لیکن اس طرح کا عقیدہ رکھنا کفر ہے، اللہ کی صفات میں سے ایک صفت خود یہ ہے کہ وہ سب سے جدا ہے، اور اس جیسا کوئی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند و برتر ہے کہ کوئی اللہ کے مثل ہو، اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات اور حقوق میں سب سے یکتا ہے۔
صفات میں یہ بہت اہتمام سے جاننا ہے کہ:جس نے ’’اللہ‘‘ کو مخلوق کے مشابہ کردیا اس نے کفر کیا ہے،اور جس نے ’’مخلوق‘‘ کو اللہ کے مشابہ کردیا اس نے بھی کفر کیا ہے، کیونکہ باری تعالیٰ کے مثل کوئی نہیں ہے۔
فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (الشوری:۱۱) لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَى (النحل:۶۰) وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(الروم:۲۷)
وَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ: مَنْ شَبَّهَ اللَّهَ بِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنْ أَنْكَرَ مَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ فَقَدْ كَفَرَ، وَلَيْسَ فِيمَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ وَلَا رَسُولُهُ تَشْبِيهٌ.وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهْوَيْهِ: مَنْ وَصَفَ اللَّهَ بشيء فَشَبَّهَ صِفَاتِهِ بِصِفَاتِ أَحَدٍ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَهُوَ كَافِرٌ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۴۲)وَمَنْ لَمْ يَتَوَقَّ النَّفْيَ وَالتَّشْبِيهَ زَلَّ وَلَمْ يُصِبِ التَّنْزِيهَ
(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۶۰)
اسماء باری تعالیٰ میں الحاد:
اللہ کے ناموں میں کسی بھی قسم کا تصرف کرنا یہ الحاد ہے، مثلاً اللہ کے ناموں کو بدل دینا جیسے، اللہ سے اس کی مؤنث ’’لات‘‘ بنانا، یا العزیز سے ’’عُزی‘‘ بنانا، اور منان سے ’’مناۃ ‘‘بنانا، یہ اسماء باری تعالیٰ میں الحاد کرنا ہے اور ممنوع ہے۔
اسی طرح اللہ کے نام و صفات میں اپنی عقل سے کچھ اضافہ کرنا یہی تشبیہ ہے، کیونکہ بندہ اضافہ وہی کر سکتا ہے جو وہ سوچ سکتا ہے اور وہ اسی دائرہ میں سوچتا ہے جتنا اس کا مَبْلغِ علم ہے، اس کا مَبْلغِ علم مخلوقات کا دائرہ ہے، اب وہ جو بھی اضافہ کرے گا اسی سے اضافہ کرے گا، اور اس میں وہ لازما اللہ کو مخلوقات کے مشابہ کردے گا، مثلاً اللہ کو باپ ماننا جیسے نصاری نے کیا ہے، یا اللہ کا جسم ماننا جیسے عام طور پر مشرکین کرتے ہیں، آیت کی رو سے یہ سب الحاد میں شامل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا نام بنانا یا کوئی ایسی صفت بیان کرنا جو خود اللہ تعالیٰ اور پیغمبر ﷺ کی تعلیمات میں نہیں ہے یہ کفر اور شرک ہے۔
اور اللہ کی ثابت صفات میں کمی کردینا بھی الحاد ہے، اس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے کہ یہ تعطیل ہے۔
وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف :۱۸۰) معنى الزيادة في الأسماء التشبيه والنقصان التعطيل فإن المشبهة وصفوه بما لم يأذن فيه والمعطلة سلبوه ما اتصف به ولذلك قال أهل الحق : إن ديننا طريق بين طريقين لا بتشبيه ولا بتعطيل
(تفسیر القرطبی: ۷/۲۸۵)
صفات باری تعالیٰ میں الحاد کا نتیجہ:
اسما٫ و صفات باری تعالیٰ کو وضع کرنے میں دخل اندازی نہ کرنے کی اس تنبیہ کو اس اعتبار سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ بندے جب پیغمبرانہ تعلیمات کی پرواہ نہ کرکے اپنے خالق و مالک اور اس کی صفات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اس کے وقار ،تقدیس اور سبحانیت کو پیش نظر رکھ ہی نہیں سکتے، اور اس کی ایسی تصویر کشی کرتے ہیں جس سے بجائے خالق و پروردگار کی تعریف ہونے کے الٹا توہین لازم آتی ہے، مثلاً انسانوں نے خالق و مالک کی قدرت اور انعامات کو بیان کرنا چاہا تو اس کی ایک خیالی مورت بنا کر اس کو کئی سَر دئے دئیے، اور اس کا خود ساختہ جسم بنا کر اس کو کئی ہاتھ دے دئیے، اور اِن ہاتھوں میں پتہ نہیں کیا کچھ تھما دیا، اور اُن کے ساتھ خود ساختہ فلسفے جوڑ دئیے۔ قہاریت و جباریت کے اظہار کےلئے بھیانک چہرے بنا دئیے، جانوروں کی تصویر کو خدا کی تصویر بتلایا، اور کہیں جانوروں کو اس کی سواری بنایا، دنیا کی کوئی بھی قوم جو صفات باری تعالیٰ کے بیان میں پیغمبروں کی تعلیمات تک پابند نہیں رہی ،ان میں سے ہر ایک ایسی کسی نہ کسی بے راہ روی کا شکار رہی ہے۔
اس بارے میں انسانی ذہن کی اُپَچ کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے، کہ ہندو ’’گنیش‘‘کی تصویر سال بسال بناتے رہتے ہیں، اور ہر سال اپنے ذہن سے اسکی قدرت کےاظہار کےلئے جو تنوع اختیار کرتے ہیں وہ انسانی ذہن کے نقص اور دیوالیہ پن کو ظاہر کرنے کےلئے نہایت عبرت انگیز ہے، سر گنیش کا رکھتے ہوئے وہ کہیں اس کا دھڑ رام کا بناتے ہیں، تو کہیں کرشن کا، اور کہیں شیو کا ،تو کہیں کسی پہلوان کے کسرتی بدن پر اس کا سر جوڑ دیتے ہیں، اور اس سے انسان سمجھتا ہے کہ اس نے خدا کی طاقت کا اظہار کردیا، انسانی ذہن کی یہی سب کچھ کارستانیاں اور محدودیت ہوتی ہے، ہر مشرک قوم میں یہ بے ہودگیاں پائی جاتی ہیں، جو خالق کائنات کی تقدیس و سبحانیت کے بالکل برخلاف اور اہانت آمیز طریقہ ہے، اس لئے انسان کو اس بات سے منع کیا گیا کہ وہ صفات باری تعالیٰ کا بیان اس کی تقدیس اور سبحانیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہیں کر سکتا ، بس وہ اسی دائرہ میں محدود رہے جو پیغمبروں کی تعلیمات میں کھینچ دیا گیا ہے۔
تعطیل اور تمثیل و تشبیہ سے اجتناب:
ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کے معاملہ میں تعطیل سے بھی بچتے ہیں، یعنی صفات کا انکار نہیں کرتے، اور تمثیل اور تشبیہ سے بھی بچتے ہیں، اور اللہ کی صفات کو بندوں کی صفات جیسا قرار نہیں دیتے، اور کیفیت سے بھی بچتے ہیں، یعنی جن صفات کی کیفیات کو اپنی جانب سے بیان کرنے میں بظاہر تمثیل اور تشبیہ لازم آتی ہے ان کی کیفیت کو اللہ کے حوالہ کرتے ہیں کہ وہ ان کی حقیقت جانتا ہے، باقی چونکہ اللہ نے ان کو بیان کیا ہے اس لئے ان کو ویسے ہی حقیقی مانتے ہیں جیسا کہ اللہ نے بیان کیا ہے۔
اللہ کے کلمات کی کوئی انتہا٫ نہیں ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: إن لله تسعة وتسعين اسما مائة إلا واحدا من أحصاها دخل الجنة (صحیح بخاری، باب إن لله مائة اسم إلا واحدا، کتاب التوحید) اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو ان پر کاربند ہوجائے یعنی ان کے مطابق علم و عمل بنائے وہ گویا جنت میں داخل ہو گیا۔اس حدیث کے ظاہر متن سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نام اور صفات بس ۹۹ ہی ہیں، کیونکہ افعال اور صفات باری تعالیٰ کی کوئی انتہا نہیں ہے، اس لئے ان کا احصاء و شمار محال اور نا ممکن ہے، بندہ کی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ تمام صفات و افعالِ باری تعالی کا احاطہ کرلے، اسی لئے باری تعالیٰ نے اپنے کلام میں واضح طور پر فرمادیا: قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (کہف:۱۰۹) اسی طرح قرآن مجید میں اس حقیقت کاذکر ایک اور جگہ اس انداز سے فرمایاگیا ہے: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ(لقمان:۲۷)
البتہ اﷲ تعالی نے اپنا اس حد تک تعارف جس کا تحمل اس کے بندے بآسانی کرسکتے ہیں ، اور وہ ان کی لازمی ضرورت بھی ہے اپنے کلام میں تفصیل کے ساتھ کرایا ہے۔ اور اپنے اسماء و صفات کو کھول کھول کر بیان فرمایا ہے ، اور اگر یہ کہا جائے کہ کُل قرآن تعارفِ اِلٰہ اور تعارفِ توحید پر ہی مشتمل ہے تو قطعاً مبالغہ نہیں ہوگا ، قرآن میں یا تو یہ ہے کہ اﷲ کیا ہے(اسماء و صفات)یا اس بات کا ذکر ہے کہ اﷲ تعالیٰ کیاکرتے ہیں(ربوبیت)، یا اس بات کا ذکر ہے کہ اﷲ کیا چاہتے ہیں(توحید قصد و طلب /الوہیت)، یا پھر اس بات کا ذکر ہے کہ خالق و مالک اور رب ذو الجلا ل کے ماننےوالے کون ہیں اور ان کی جزاء کیا ہے، یا اس بات کا ذکر ہے کہ ُاس سے انحراف اور اعراض کرنے والے کون ہیں اور ان کی سزاء کیا ہے۔
پھر اللہ کے بہت سے نام صرف اللہ کے علم میں ہیں:اہل سنت و الجماعت اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان تمام اسما٫ و صفات پر تفصیلی ایمان لاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اور اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں سکھائے ہیں، اور ان ناموں اور صفات پر بھی اس طرح اجمالی ایمان لاتے ہیں جو اللہ نے اپنے علم غیب میں رکھے ہیں کہ وہ ہیں۔
۹۹ ناموں کی تعداد صرف اسماء حسنی سے متعلق ہے، معلوم صفات بھی جن سے اسماء بنے ہوئے نہیں وہ بھی کسی تعداد میں محصور و محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کو قرآن و سنت میں دی گئی تفصیلات میں گننا بھی ممکن نہیں ہے۔
حدیث پاک میں ما ئۃ الا واحدۃ کا مطلب کیا ہے؟
علماء اہل سنت و الجماعت نے اس بارے میں متفقہ طور پر کہا ہے کہ حدیث میں اس عدد کے ذکر سے یہ بیان کرنا مقصد نہیں ہے کہ اسماء الہٰی کی تعداد کیا ہے ، کہ ان ۹۹کے علاوہ اﷲ کے اسماء ہیں ہی نہیں ،بلکہ اصل مقصود ان اسماء کی فضیلت بیان کرنا ہے، کہ جو شخص ان ۹۹اسماء کو یاد کرکے، ان کے مطابق اپنا ایمان اور عمل بنائے تو یہ تعداد بھی اﷲ کے تعارف کےلئے بہت ہے اور ان کے ذریعہ اﷲ کی بابت بننے والا صحیح ایمان اور صحیح عقیدہ مکلف کی نجات اور دخول جنت کےلئے کفایت کرجائے گا، وہ تمام اسماء الہٰی جن کو ہمارے سامنے ذکر نہیں کیا گیا ہے ان کا احاطہ ضروری نہیں ہے۔
اس بات کی تائید کہ اسماء حسنٰی اس تعداد میں محصور نہیں ہیں حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں انھوں نے آپ ﷺکی ایک دعا نقل فرمائی ہے، جس میں ایسے اسماء کا ذکر بھی ہے جو بندوں کو بتلائے بھی نہیں گئے آپ ﷺنے ایک مرتبہ دعاء کرتے ہوئے فرمایا :أسألک بکل اسم ھو لک سمیت بہ نفسک ، أو أنزلتہ فی کتابک أو علّمتہ أحدا من خلقک، أو استأثرت بہ فی علم الغیب عندک۔ (ائے اﷲمیں آپ سے آپ کے ہر اس نام کے واسطے سے دعاء کرتا ہوں جو آپ نے اپنے لئے بیان کیا ہے، یا اپنی کتاب میں اس کو نازل کیا ہے، یا اپنی مخلوقات میں سے کسی کو سکھلایا ہے، یا آپ نے اس کو اپنے علم غیب میں ہی رکھا ہے )امام احمد نے مسند میں اس روایت کی تخریج کی ہے، اور ابن حبان نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے، اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اسماء ایسے بھی ہیں کہ اﷲ نے اپنی کسی مصلحت و حکمت سے بندوں کو ان کا علم نہیں دیا ہے۔اسی طرح کی ایک دعا ء امام مالک نے کعب أحبار سے بھی نقل کی ہے اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ اسماء الہٰی ۹۹عدد میں محصور نہیں ہیں، حاصل یہ کہ جس حدیث میں ۹۹کا ذکر ہے ، اس میں اسماء حسنٰی کی تعداد بتلانا غرض نہیں ہے بلکہ خاص ۹۹اسماء کی فضیلت بتلانا مقصود ہے۔وہ دعا جو امام مالک نے نقل کی ہے وہ یہ ہے:و أسألک بأسمائک الحسنٰی ما علمتُ منھا و ما لا أعلم۔ (ائے اﷲ میں آپ کے اسماء حسنیٰ جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا ان کے واسطہ سے مانگتا ہوں)طبری نے بھی اس کو قتادہ سے نقل کیا ہے۔اور حضرت عائشہ سے بھی ثابت ہے کہ اسی طرح کی دعا ء وہ آپﷺکی موجودگی میں کیا کرتی تھیں ۔
(بیہقی: ص۱۲۔۱۴)
قال الإمام البيهقي بعد أن ساق عدة روايات في هذا الباب وفيها: "من أحصاها دخل الجنة"، قال رحمه الله: وليس في قوله عليه الصلاة والسلام: "إن لله تسعة وتسعين اسماً" نفي غيرها، وإنما وقع التخصيص بذكرها لأنها أشهر الأسماء وأبينها معاني. وفيها ورد الخبر أن من أحصاها دخل الجنة.(الاسماء و الصفات:۱/۱۱)عن عبد الله بن مسعود قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « ما أصاب مسلما قط هم ولا حزن فقال : اللهم إني عبدك وابن عبدك وابن أمتك ، ناصيتي بيدك ، ماض في حكمك ، عدل في قضاؤك ، أسألك بكل اسم هو لك سميت به نفسك أو أنزلته في كتابك أو علمته أحدا من خلقك أو استأثرت به في علم الغيب عندك أن تجعل القرآن ربيع قلبي وجلاء حزني ، وذهاب همي وغمي ، إلا أذهب الله عنه همه وأبدله مكان همه فرحا » ، قالوا : يا رسول الله ألا نتعلم هذه الكلمات ؟ قال : « بلى ينبغي لمن سمعهن أن يتعلمهن
(الاسماء و الصفات:۱/۱۲)
اسما٫ حسنی کی تعیین :
اللہ تعالیٰ کے اسما٫ حسنی قرآن و حدیث میں بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن کسی ایک ہی جگہ یا ایک ہی حدیث میں یہ پورے ۹۹ نام گنوائے گئے ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں تفصیل ہے:اوپر مذکور حدیث ہی سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں منقول ہے جس میں یہ ۹۹ نام موجود ہیں۔
ھو اﷲ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم الملک القدوس السلام المؤمن المھیمن العزیز الجبار المتکبر الخالق الباریئ المصور الغفار القھار الوھاب الرزاق الفتاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل السمیع البصیر الحکم العدل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العلی الکبیر الحفیظ المقیت الحسیب الجلیل الکریم الرقیب المجیب الواسع الحکیم الودود المجید الباعث الشھید الحق الوکیل القوی المتین الولی الحمید المحصی المبدیئ المعید المحیی الممیت الحیی القیوم الواجد الماجد الواحد الصمد القادر المقتدر المقدم المؤخر الأول الآخر الظاھر الباطن الوالی المتعالی البر التواب المنتقم العفو الرؤوف مالک الملک ذو الجلال و الاکرام المقسط الجامع الغنی المغنی الضار النافع النور الھادی البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور
(سنن ترمذی)۔
الله الواحد الصمد الأول الآخر الظاهر الباطن الخالق البارء المصور الملك الحق السلام المؤمن المهيمن العزيز الجبار المتكبر الرحمن الرحيم اللطيف الخبير السميع البصير العليم العظيم البار المتعال الجليل الجميل الحي القيوم القادر القاهر العلي الحكيم القريب المجيب الغني الوهاب الودود الشكور الماجد الواجد الوالي الراشد العفو الغفور الحلم الكريم التواب الرب المجيد الولي الشهيد المبين البرهان الرءوف الرحيم المبدئ المعيد الباعث الوارث القوي الشديد الضار النافع الباقي الواقي الخافض الرافع القابض الباسط المعز المذل المقسط الرزاق ذو القوة المتين القأئم الدائم الحافظ الوكيل الفاطر السامع المعطي المحي المميت المانع الجامع الهادي الكافي الأبد العالم الصادق النور المنير التام القديم الوتر الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يكن له كفوا أحد
(سنن ابن ماجة)
اس کے بارے میں چند محققین کی رائے یہ ہے کہ یہ ۹۹ نام نبی ﷺ کے گنائے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ آپ کے ارشاد پر راویوں کی جانب سے قرآن سے نکالے ہوئے ہیں، اور حدیث میں ان کا اِدْراج ہوا ہے، جس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں بیان کئے ہوئے اوپر مذکورہ بالا اسما٫ اور ان کی ترتیب میں فرق ہے، نیز ان میں کئی ایسے اسماء ہیں جو قرآن و حدیث میں اسم کی شکل میں وارد نہیں ہوئے ہیں، بلکہ انہیں صفات فعلیہ سے اخذ کرکے اسم بنایا گیا ہے، جیسے المعز المذل (یہ تعز من تشاءو تذل من تشاء سے مأخوذ ہیں)، اسی طرح الباسط اورالقابض ( یقبض و یبصط سے مأخوذ ہیں)، اور المبدیٔ اور المعید ہے ( یہ إنہ ھو یبدیٔ و یعید سے مأخوذ ہیں)وغیرہ۔
یہ بات متفق علیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ۹۹ نام قرآن میں ہیں، حافظ ابن حجر عسقلانی نے محققین کی قرآن سے ان ناموں کے استخراج کے بارے میں غیر معمولی تحقیق پیش کی ہے اور اخیر میں قرآن سے نکالے ہوئے ان اسما٫ و صفات کو ذکر کیا ہے۔
اﷲ الرحمن الرحیم الملک القدوس السلام المؤمن المھیمن العزیز الجبار المتکبر الخالق الباریئ المصور الغفار القھار التواب الوھاب الخلاق الرزاق الفتاح العلیم الحلیم العظیم الواسع الحکیم الحیی القیوم السمیع البصیر اللطیف الخبیر العلی الکبیر المحیط القدیر المولی النصیر الکریم الرقیب القریب المجیب الوکیل الحسیب الحفیظ المقیت الودود المجید الوارث الشھید الولی الحمید الحق المبین القوی المتین الغنی المالک الشدید القادر المقتدر القاھر الکافی الشاکر المستعان الفاطر البدیع الغافر الأول الآخر الظاھر الباطن الکفیل الغالب الحکم العالم الرفیع الحافظ المنتقم القائم المحیی الجامع الملیک المتعالی النور الھادی الغفور الشکور العفو الرؤوف الأکرم الأعلی البر الحفی الرب الالہ الواحد الأحد الصمد الذی لم یلد و لم یولدو لم یکن لہ کفوا أحد۔
(فتح الباری)
ہم اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کےاہم صفات کی تصدیق کس طرح کریں؟
مفہوم کے اعتبار سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسما٫ و صفات اس طرح ہیں:
۱-اللہ تعالیٰ کا اسم ذات
لفظ ’’اللہ‘‘ باری تعالیٰ کا اسم عَلَمْ ہے، یعنی وہ اسم جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر دلالت کرتاہے، اسی اسم سے تمام دیگر اسماء و صفات منسوب کئے جاتے ہیں ، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے دیگر تمام صفاتی ناموں کو ’’اللہ‘‘ کی صفت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے رحمن اﷲ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، یہ نہیں کہا جاتا کہ اﷲ رحمن کے ناموں میں سے ہے، یا اسی طرح کہا جاتا ہے عالم الغیب اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، یہ نہیں کہا جاتا کہ اللہ عالم الغیب کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ * هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ * هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الحشر: ۲۲ -۲۴) وللهِ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا (الأعراف : ۱۸۰)عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن لله تسعة وتسعين اسما، مائة إلا واحدًا من أحصاها دخل الجنة"
(رواہ الشیخین)
’’اللہ‘‘ باری تعالیٰ کا ایسا اسم ذات ہے جس سے کسی اور کو موسوم نہیں کیا جاتا، یہ اسم صرف باری تعالیٰ جلّ جلالہ کے لئے خاص ہے، اس اسم کے متعدد معانی ہیں :
(۱) وہ ہستی جس کے آگے عقلیں حیران رہ جاتی ہیں ۔
(۲) وہ ہستی جس سے چمٹا جاتا اور اسی کی جانب رجوع کیا جاتا ہے
(۳) وہ ہستی جس کی پناہ لی جاتی ہے۔
(۴) وہ ہستی جس کے آگے حقیقی سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے
(۵) وہ ہستی جو حقیقتاً بلند تر ین ہے جس کے آگے ہر کوئی ہیچ ہے۔ اللہ اسم ذات ہونے کے ساتھ ان تمام معانی و صفات سے متصف ہے۔
وهو اسم لم يسم به غيره تبارك وتعالى…هو مشتق من وله: إذا تحير، والوله ذهاب العقل؛ يقال: رجل واله، وامرأة ولهى، وماء موله: إذا أرسل في الصحاري، فالله تعالى تتحير أولو الألباب والفكر في حقائق صفاته…وقيل: إنه مشتق من ألهت إلى فلان، أي: سكنت إليه، فالعقول لا تسكن إلا إلى ذكره، والأرواح لا تفرح إلا بمعرفته…وقيل: اشتقاقه من أله الفصيل، إذ ولع بأمه، والمعنى: أن العباد مألوهون مولعون بالتضرع إليه في كل الأحوال، قال: وقيل: مشتق من أله الرجل يأله: إذا فزع من أمر نزل به فألهه، أي: أجاره، فالمجير لجميع الخلائق من كل المضار هو الله سبحانه؛ لقوله تعالى…وقيل: إنه مشتق من الارتفاع.
(ابن کثیر:۱/۱۲۴،۱۲۳)
۲-امہات الصفات
وہ اسماء جو ذات باری تعالی کےلئے ثابت ہیں ان کو صفات ذات اور امہات الصفات کہتے ہیں ، یعنی وہ صفات جن کے بغیر باری تعالیٰ کی ذات کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔یہ صفات حیات، علم، ارادہ، قدرت، سماعت، بصارت، کلام ہیں۔ ان صفات کے لئے اسما٫ مثلاً : الحیی العلیم، القدیر البصیر السمیع وغیرہ ہیں۔اور اسی قسم میں صفات مثلاً وجہ ، عین، ید، رجل ، اصابع وغیرہ بھی شامل ہیں ۔
حیات /الحیی :
حیات اللہ تعالیٰ کی صفت بھی ہے اور اس صفت سے اللہ تعالیٰ کا نام الحیی ہے، اللہ تعالیٰ کی حیات بذاتہ ہے، یعنی وہ خود سے الحیی ہے اس کی حیات کسی کی عطاء نہیں ہے، اور اس کی حیات کامل و مکمل درجہ کی ہے۔ اور اس کی حیات ایسی ہے کہ نہ اس کو موت ہے، اور نہ وہ ہلاک ہونے والا ہے۔
اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ(البقرۃ:۲۵۵)اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (آل عمران:۲)وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ وَكَفَى بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا (الفرقان:۵۸)كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(القصص: ۸۸)
مخلوقات کی حیات اللہ کی تخلیق ہے، چنانچہ اللہ کے علاوہ جس کو بھی حیات حاصل ہے اللہ کی عطاء سے ہے، وہ جسے چاہتا ہےاور جب تک چاہتا ہے زندگی دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے جب چاہتا موت دیتا ہے۔ وہی الحیی اس لائق ہے کہ اسی کی عبادت ہو، اس کے علاوہ کوئی الہ نہیں ہے۔
تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۱) الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (۲)(سورۃ الملک)تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (۲۷)(آل عمران)إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللَّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (۹۵)(الأنعام)قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (۳۱)(یونس)يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ (۱۹)(الروم)هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۶۵)
(الغافر)
اللہ ازلی و ابدی ہیں:
اللہ کو الحیی ماننے میں یہ بھی ماننا ہے کہ اللہ ہمیشہ سے ہیں، اور ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے اپنی اس صفت کو اس طرح بیان کیا ہے کہ وہی اول ہے وہی آخر ہے، اس سے پہلے کوئی نہیں اور اس سے آخر کوئی نہیں ، یعنی ایسا ممکن نہیں کہ وہ کبھی ہلاک ہوجائے اور اس کے بعد کچھ باقی رہ جائے بلکہ باقی رہ جانے والی ہستی صرف اللہ کی ہے، اس کے علاوہ سب کو فنا ہے۔
ہاں جنت و جہنم ابدی ہیں، مگر ازلی نہیں ہیں، اللہ کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے ہیں، اور ان کا ابدی ہونا بھی اللہ کی مشیت کا مرہون منت ہیں، اللہ ان کو ہمیشہ رکھیں گے اس لئے وہ ابدی ہیں ، اسی طرح اہل جنت اور اہل جہنم بھی ازلی نہیں ہیں بلکہ ابدی ہیں، اور ان کا ہمیشہ رہنا اللہ کی عطا٫ سے ہے ذاتی نہیں ہے، اللہ میں قدرت ہے کہ جس وقت چاہے ان کو پھر فنا کردے۔
هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (الحدید:۳) كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (۲۶) وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن:۲۷)كَانَ أَبُو صَالِحٍ يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ وَكَانَ يَرْوِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
(صحیح مسلم:۴۸۸۸،و عن عائشۃ و ام سلمۃ بمعناہ)
اللہ کی صفت حیات میں شرک:
غیر اللہ میں سے جس کسی کو بھی ان مذکورہ معانی میں سے کسی ایک معنی میں ذی حیات مانا جائے یہ اللہ کی صفت حیات میں شرک کرنا ہے، مثلاً یہ ماننا کہ کسی کی حیات ذاتی ہے اللہ کی عطائی نہیں یہ اللہ کی ذات میں شرک کرنا ہے، یا یہ ماننا کہ وہ ازلی ہے یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یا کسی کےلئے یہ ماننا کہ اس کو موت یا فنا نہیں ہے یہ بھی اللہ کی صفت حیات میں شرک کرنا ہے، یا یہ ماننا کہ اللہ کے علاوہ کوئی حیات و موت دے سکتا ہے، یا اللہ کے علاوہ کوئی مردہ کو زندہ کر سکتا ہےیہ بھی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یہ سارے ناقابل معافی جرم ہیں، ان کا بدلہ ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔
قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (یونس:۳۱)ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِ الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الحج:۶) أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ وَهُوَ يُحْيِ الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(الشوری:۹)
علم:
علم اللہ کی صفت بھی ہے اور اس صفت سے اللہ تعالیٰ کا نام العلیم بھی ہے، اللہ تعالیٰ کےلئے اضافت کی شکل میں عالم الغیب و الشھادۃ نام بھی قرآن میں وارد ہوا ہے، اسی طرح علیم بذات الصدور بھی قرآن میں اسم وارد ہوا ہے، اللہ تعالیٰ کی صفت علم کی جو تفصیلات قرآن وحدیث میں وارد ہوئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ:
أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (المائدۃ:۹۷) إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(آل عمران:۱۱۹)
اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی ہے، اللہ تعالیٰ کا علم لا محدود ہے، اور اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے، اللہ تعالیٰ کا علم تمام کلیات و جزئیات کو شامل ہے، اللہ نے اپنے علم کے مطابق مخلوقات کو پیدا کیا ہے، ان کو پیدا کرنے سے پہلے اس کو ان کا علم حاصل تھا، اور پیدا کرنے کے بعد مخلوقات کی ہر بڑی اور چھوٹی چیز اللہ کے علم میں ہے، کائنات میں ایک ذرہ کے برابر شے بھی اس کے علم سے باہر نہیں ہے، ایک درخت سے ایک پتہ بھی گرتا ہے تو وہ اللہ کے علم میں ہے۔جو کام اور باتیں لوگ علانیہ کرتے ہیں اللہ ان کو بھی جانتا ہے ، اور جو کام اور باتیں بندے چُھپ کر کرتے ہیں ان کو بھی اللہ جانتا ہے، بندہ جو بات زبان سے ظاہر کرتا ہے اللہ اس کو بھی جانتے ہیں اور جو بات دل میں چھپا رکھا ہے اس کو بھی جانتے ہیں۔
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ(البقرۃ:۲۵۵) إِنَّمَا إِلَهُكُمُ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا (طہ:۹۸) وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرۃ:۲۸۲) يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (ھود:۵) وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۱۳) أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الملک:۱۴) إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (النحل:۲۸)وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ (النور:۴۱) إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (فاطر:۸) قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ
(یس:۷۹)
جو باتیں پیش آچکی ہیں اللہ ان کو بھی جانتے ہیں، اور جو باتیں پیش آنے والی ہیں اللہ کو ان کا بھی علم ہے، بندوں کے اعمال، بندوں کا سعادت یا شقاوت پر مرنا، ان کے حشر و نشر کے احوال، جنتیوں اور جہنمیوں کی تفصیل اور ابد الآباد تک کے معاملات سب اللہ کے علم کا حصہ ہیں۔قیامت کب واقع ہوگی، بیج بونے کے بعد کھیتی کیسے ہوگی، درخت سے پھل کیسے نکلیں گے، رحم مادر میں پرورش پانے والا جنین شقی ہے یا سعید ہے، اور جنین زندہ پیدا ہوگا اور کب پیدا ہوگا یہ سب اللہ ہی جانتے ہیں۔
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ(البقرۃ:۲۵۵)إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرَاتٍ مِنْ أَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَى وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَائِي قَالُوا آذَنَّاكَ مَا مِنَّا مِنْ شَهِيدٍ (فصلت:۴۷) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ (الأعراف:۶) وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا
(غافر:۷)
اللہ تعالیٰ سب کے احوال اور ان کے معاملات کے علم کا احاطہ رکھتے ہیں، اللہ کا علم سب کو محیط ہے، کوئی نہیں ہے جو اللہ کے علم کا احاطہ کر سکے، مخلوقات اور کوئی بھی بندہ اللہ کے علم سے صرف وہی معلوم کر سکتا ہے جو اللہ اسے بتلانا چاہیں، اللہ تعالیٰ جو نہ بتلانا چاہیں کوئی بندہ ، ولی نبی اس کو معلوم نہیں کر سکتے۔
وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ
(البقرۃ:۲۵۵)
اللہ کی صفت علم میں شرک:
اللہ کے علاوہ سب میں علم : عطائی ، محدود اور حادث ہے، اللہ کےلئے صفت علم مذکورہ بالا جن معانی استعمال ہوا ہے اس کو غیر اللہ کےلئے ماننا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، مثلاً غیر اللہ میں سے کسی کےلئے یہ ماننا کہ : اس کا علم ذاتی ہے یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یا غیر اللہ کےلئے یہ ماننا کہ : اس کا علم لا محدود ہے یہ بھی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ یا غیر اللہ کےلئے یہ ماننا کہ اس کا علم قدیم ہے حادث نہیں ہے یہ بھی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یا یہ ماننا کہ غیر اللہ میں کسی کا علم کلیات و جزئیات سبھی کو شامل ہے یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ یا غیر اللہ میں سے کسی کےلئے یہ ماننا کہ اس کا علم ماضی و مستقل سبھی کو محیط ہے یہ اللہ کے ساتھ اس کو شریک کرنا ہے۔ اور شرک ناقابل معافی جرم ہے ، جس کی سزاء ابد الآباد یعنی ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔
قَالَ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَأُبَلِّغُكُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ
(الأحقاف:۲۳)
غیر اللہ کےلئے صفت علم کو اس طرح ماننا شرک نہیں ہے:
ان معانی سے ہٹ کر صفت علم کو غیر اللہ کےلئے ایسے استعمال کرنا جیسے اللہ اور اس کے رسول نے استعمال کیا ہے شرک نہیں ہے، مثلاً یہ ماننا کہ : بندہ کا علم اللہ کا عطائی ہے، محدود ہے، اور حادث ہے یہ ماننا شرک نہیں ہے۔
بندوں میں معلومات کی سطح الگ الگ ہوتی ہیں، کسی کی کم کسی کی زیادہ، عام آدمی کے مقابلہ میں علماء کا علم زیادہ ہوتا ہے، خیر القرون کا علم بعد والوں کے مقابلہ میں زیادہ راسخ تھا، اور ان میں صحابہ کا علم غیر صحابہ سے زیادہ گہرا اور زیادہ مستحکم تھا، صحابہ سے زیادہ علم انبیاء و رسل کا علم ہے، اور انبیاء و رسل میں سب سے زیادہ علم محمد رسول اللہ ﷺ کا علم ہے، مخلوقات میں کسی کا علم آپ کے علم جیسا نہیں ہے، آپ ﷺکا علم سب سے فائق تر ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو علم اولین و علم آخرین سے نوازا ہے، ………………جو شخص نبی ﷺ کے علم کی صفت میں یہ مانتا ہو کہ آپ کا علم اللہ کا عطاء کردہ ہے، اللہ کے علم کے مقابلہ میں آپ ﷺ کا علم محدود اور حادث ہے تو وہ اللہ کی صفت علم میں شرک کا مرتکب نہیں ہوتا۔
علم غیب:
علم غیب قرآن و سنت کی ایک اصطلاح ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ :’’وہ امور جو اللہ کے علاوہ مخلوقات سے چھپے ہوئے ہوں، مثلاً کل کیا ہونے والا ہے، کسی کی موت کا وقت کیا ہے، قیامت کب واقع ہوگی، مرنے کے بعد کے احوال کیا ہیں ، قیامت کے احوال کیا ہیں ، اور حشر و نشر کے احوال کیا ہیں وغیرہ سب غیبی امور میں سے ہیں۔
غیب کا مکمل علم صرف اللہ کو ہے، یعنی کائن و ما یکون کی کوئی بات اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ پیش آ چکی اور پیش آنے والی ہر بات کو اس کی جملہ تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں، جبکہ اللہ کے علاوہ سبھی اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اللہ ان کے علم میں لانا چاہتا ہے۔
اس لحاظ سے ’’عالم الغیب‘‘ صرف اللہ کا نام اور صرف اللہ کی صفت ہے، قرآن مجید میں یہ اصطلاح صرف اللہ تعالیٰ کےلئے استعمال ہوئی ہے، اور غیر اللہ سے مطلقاً اس صفت اور اسم کی نفی کی گئی ہے کہ غیب کا علم سوائے اللہ کے کوئی نہیں رکھتا، نہ فرشتے نہ جن، یہاں تک کہ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ علم غیب نبیوں کو بھی حاصل نہیں تھا، چنانچہ اولو العزم رسولوں میں سے سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے اس کا اعتراف اپنی قوم سے کیا، جبکہ ان کی قوم ان سے عذاب کا مطالبہ کررہی تھی،انہوں نے اپنی قوم سے خطاب کرکےفرمایا: کہ میرے پاس غیب کا علم نہیں ہے، یہ اللہ جانتا ہے کہ تم پر عذاب بھیجا جائے یا نہیں؟ اور بھیجا جائے تو کب بھیجا جائے۔اسی طرح اولو العزم رسولوں میں سے آخری رسول ، انبیاء و رسل میں سب سے افضل، خاتم النبیین محمد الامین ﷺ کابھی یہی اعتراف قرآن نے نقل کیا ہے:۔اب جب انبیاء و رسل اور اولو العزم رسولوں اور افضل الأنبیاء ﷺ و علیہم السلام غیب کی باتوں کو نہیں جانتے تھے تو پھر دیگر کا کیا شما ر ہے،چنانچہ اس صفت اور نام میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر اللہ کے اسم ’’عالم الغیب‘‘ کا اطلاق جس معنی میں اللہ کےلئے ہوتا ہے اس معنی میں کسی اور کےلئے کیاجائے جیسا کہ بعض غالی لوگ نبیﷺ کی جانب ، اور شیعہ ان کے ائمہ کی جانب اس اسم اور صفت کی نسبت کرتے ہیں یہ صریح شرک ہے۔
قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (النمل:۶۵)هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (الحشر:۲۲)فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ (سبأ:۱۴)عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ (۹) سَوَاءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ (الرعد:۱۰) وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنْفُسِهِمْ إِنِّي إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ (ھود:۳۱)قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ (الأنعام:۵۰)وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (الأنعام:۵۹)قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(الأعراف:۱۸۸)
کیا اللہ کے علاوہ کسی کو غیب کی باتوں کا علم ہوتا ہے؟
جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ: غیبی امور کا ایک حصہ وہ جن کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، دوسرے وہ امور ہیں جن کا علم اللہ نے کسی کو دیا ہے اور کسی کو نہیں دیا ہے۔مثلاً ’’فرشتے‘‘ عام انسانوں کے لئے عالَم غیب کا حصہ ہیں، جن پر ایمان لانا عام مؤمن کےلئے غیب پر ایمان لانا ہے، لیکن انہیں ’’فرشتوں‘‘ میں بعض انبیاء کے لئے عالَم غیب کا حصہ نہیں ہیں، مثلاً حضرت جبرئیل علیہ السلام وغیرہ ، بلکہ وہ انبیاء کے لئے مشہود تھے، اللہ تعالیٰ انہیں پیغام دے کر انبیاء و رسولوں کے پاس بھیجتے تھے، گویا انبیاء کو غیب کے اس حصہ کا علم دیا گیا تھا، ایسا ہی حال چند اور مغیبات کا ہے، جن کا علم اللہ نے اپنے بعض بندوں کو دیا ہے، کسی کو کم کسی کو زیادہ، لیکن اس کے باوجود مغیبات میں سے کسی کو کتنا ہی بڑا حصہ بتلایا گیاہو، اس کے بعد بھی علم کا ایک درجہ وہ ہے جو صرف اللہ کے پاس ہے، اس لحاظ سے مغیبات میں سے تعداد اور مقدار میں کتنی ہی باتیں کوئی جانتا ہو اس کا علم ’’جزئی‘‘ ہے، اور اس کے مقابلہ میں مغیبات کا اللہ کا علم ’’کلی‘‘ ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہر طرح کا علم اللہ کا ہی عطا کردہ ہوتا ہے، کوئی خود سے غیب پر اللہ کی رضا و مشیت کے بغیر مطلع نہیں ہو سکتا، اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نبیوں اور فرشتوں میں سے جتنا چاہتا ہے غیب پر مطلع کرتا ہے، لیکن کسی کو کتنا ہی علم دے دیا جائے وہ اللہ کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا، اس کا علم بہر حال اللہ کے علم کے مقابلہ میں محدود ہی ہوگا۔
مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ (آل عمران:۱۷۹)عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا (۲۶) إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا (۲۷) لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا
(الجن:۲۸)
مخلوقات میں مغیبات کا سب سے زیادہ علم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا ہے:
جس طرح انبیاء میں سب سے افضل نبی اور تمام رسولوں کے سردار ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں اسی طرح اللہ کی جانب سے آپ ہی کو مغیبات کا سب سے زیادہ علم دیا گیا ہے، آپ نے خود فرمایا : مجھ کو اولین و آخرین کا علم دیا گیا ہے۔
آپ ﷺکو وقتاً فوقتاً آپ کے زمانہ میں پیش آنے والے واقعات بتلادئیے گئے، مثلاً بنی ہاشم سے مقاطعہ کا مکہ والوں کا معاہدہ جس کے بارے میں آپ ﷺ نے پیش گوئی فرمائی کہ اس کی عبارت کو دیمک نے کھالیا ہے، اور صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے، آپ کی یہ بات بالکل صحیح ثابت ہوئی، یہ مغیبات کا حصہ تھا۔
آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی، اور اہل سموت کا آپ نے مشاہدہ کیا، آپ کو جنت و جہنم کا مشاہدہ کرایا گیا، آپ سدرۃ المنتہی سے آگے تشریف لے گئے ، جس کے آگے کے امور حضرت جبرئیل علیہ السلام کےلئے مغیبات میں سے ہیں ان امور کو آپ کےلئے مشہود بنایا گیا، جن تک آپ کے علاوہ کسی اور نبی و رسول کی بھی رسائی نہیں ہوئی ۔
ہجرت سے قبل ہی آپ کو قیصر روم کی ایران کے مقابلہ میں فتح کی خبر دی گئی اور اس خبر میں مضمر فتح مکہ کا علم آپ کو دے دیا گیا ، خندق کی کھدائی کے موقع پر ایران اور روم کے علاقوں کا اسلام و مسلمانوں کے زیر نگین آنا آپ کو بتلادیا گیا، جس کی آپ نے پیشین گوئی کی اور وہ صحیح ثابت ہوئیں، یہ آپ کی پیش گوئی کے وقت مغیبات کا حصہ تھا۔
آپ ﷺ نے اپنے وصال کے بعد فتنوں کے رو نما ہونے کی پیش گوئی کی، وہ ایسے ہی برحق ثابت ہوئی یہ پیش گوئی کے وقت مغیبات کا حصہ تھا۔ آپ نے حضرت عمر و حضرت عثمان کی شہادت کی پیش گوئی کی اور وہ صحیح ثابت ہوئی، پیش گوئی کے وقت یہ باتیں مغیبات کا حصہ تھیں۔
قیامت تک پیش آنے والے کتنے ہی واقعات کی آپ نے پیشین گوئی فرمائی ہے، جن میں سے کئی پیش آچکے ہیں، آپ کی پیش گوئی کے وقت وہ واقعات مغیبات کا حصہ تھے، اور کتنے ہی ہیں جنہیں ابھی پیش آنا ہے، وہ ابھی بھی ہمارے لئے مغیبات میں سے ہیں لیکن آپ ﷺ کو ان کا علم پہلے ہی دے دیا گیا تھا۔
قیامت کے احوال ، ما بعد الموت احوال، حشر و نشر کے ہولناک احوال میں سے بہت ساری باتوں کا آپ کو علم دیا گیا تھا، آپ نے فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور اکثر روتے رہتے، یہ سب عالم غیب کے امور کا علم تھا جو آپ کے لئے غیب نہیں رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان کا علم دے دیا تھا۔
مغیبات کے ا س علم میں آپ تمام مخلوقات میں سب سے ممتاز ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام مخلوقات، انبیاء و رسول سب سے لائق اور فائق تر ہیں۔
کیا آپ ﷺ پر عالم الغیب کا اطلاق درست ہے؟
قرآن و حدیث میں عالم الغیب کا طلاق صرف اللہ کےلئے ہوا ہے، باوجود یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو مغیبات میں سے ایک بہت بڑے حصہ کا علم دیا گیا ہے لیکن عالم الغیب کا نام آپ ﷺ کو نہیں دیا گیا ہے، کیونکہ یہ نام اس ہستی کے لئے ہے جس سے کچھ بھی چھپا ہوا اور پوشیدہ نہیں ہےیعنی اللہ تبارک و تعالیٰ، باوجود یہ کہ آپ ﷺکو مخلوقات میں مغیبات پر سب سے زیادہ مطلع کیا گیا تھا لیکن علم الہیٰ کے مقابلہ میں آپ کا علمِ مغیبات جزئی اور عطائی ہی ہے، جبکہ اللہ رب العزت کا علم مغیبات کلی اور ذاتی ہے، جن میں سے ہر جزئیہ رسول اللہ ﷺ کے علم میں نہیں تھا اور نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آپ سے علم غیب کی نفی کی گئی ہے، جیسا اوپر آیت مبارکہ گذری کہ آپ نے فرمایا: ۔ اسی طرح خود آپ کا ارشاد ہے کہ:۔ حشر کے میدان میں شفاعت کبری کے موقع پر جب آپ اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوں گے، اللہ تعالیٰ آپ کے قلب مبارک پر اپنے ایسے ناموں کا القاء فرمائے گا کہ اس سے پہلے آپ ان کو نہ جانتے ہوں، آپ ان کے ذریعہ اللہ سے دعاء مانگیں گے اور اللہ آپ کی شفاعت کو قبو ل فرمائیں گے۔اس لحاظ سے آپ ﷺ کےلئے ’’عالم الغیب‘‘ نام کا استعمال درست نہیں ہے۔
قَالَ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ : مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّهَا ، وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الإِبِلِ الْبُهْمُ فِى الْبُنْيَانِ ، فِى خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ . ثُمَّ تَلاَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - ( إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ) الآيَةَ . ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ ئ رُدُّوهُ . فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا . فَقَالَ : هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِينَهُمْ . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ جَعَلَ ذَلِكَ كُلَّهُ مِنَ الإِيمَانِ .
(صحیح البخاری:رقم حدیث :۵۰)
کیا آپ ﷺ کو عالم الغیب کہنا شرک ہے؟
اگرکوئی آپ ﷺ کے علم کو عطائی، اور اللہ کے علم کے مقابلہ میں محدود مانتا ہے، لیکن ساتھ ہی مغیبات کے عطائی علم کی بنیاد پر عالم الغیب کہتا ہے تو اس کا آپ کو عالم الغیب کہنا درست نہیں ہے (کیونکہ عالم الغیب کی اصطلاح صرف اللہ کےلئے روا ہے)لیکن یہ شرک بھی نہیں ہے، کیونکہ وہ آپ کے علم کو اللہ کا عطائی اور اللہ کے علم کے مقابلہ میں محدود مانتا ہے۔
اور اگر کوئی آپ کو عالم الغیب اس معنی کر مانتا ہے کہ آپ کا علم عطائی تو ہے لیکن محدود نہیں ہے، اور کہتا ہے کہ آپ کا علم ہر جزئیہ کو اس طرح شامل ہے جس طرح اللہ کا علم ہے تو اس معنی کر آپ کو عالم الغیب کہنا بلا شبہ شر ک ہے، کیونکہ علم کے لا محدود ہونے کی یہ صفت صرف اللہ کی ہے، اس کی نسبت اللہ کے علاوہ کسی اور کی جانب کرنا یقیناً شرک مشرک ہے، جس سے خود آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
قال في التاترخانية: وفي الحجة ذكر في الملتقط أنه لا يكفر لان الاشياء تعرض على روح النبي (ص)، وأن الرسل يعرفون بعض الغيب، قال تعالى: * (عالم الغيب فلا يظهر على غيبه أحدا إلا من ارتضى من رسول) * ا ه.قلت: بل ذكروا في كتب العقائد أن جملة كرامات الاولياء الاطلاع على بعض المغيبات، وردوا على المعتزلة المستدلين بهذه الآية على نفيها بأن المراد الاظهار بلا واسطة، والمراد من الرسول الملك: أي لا يظهر على غيبه بلا واسطة إلا الملك، أما النبي والاولياء فيظهرهم عليه بواسطة الملك أو غيره…والله تعالى أعلم.(شامی:۳/۳۰)ولا يصح الزواج بشهادة الله ورسوله، بل قيل: إنه يكفر؛ لأنه اعتقد أن رسول الله صلّى الله عليه وسلم عالم الغيب.
(الفقه الاسلامى و ادلته:۹/۶۸)
دعویٰ علم ِغیب کا حکم:
جو بھی شخص غیب کا دعوی کرے وہ شرک او رکفر ہے، اور جو مدعی علم غیب کی تصدیق بھی شرک اور کفر ہے، جو شخص مال مسروقہ کےعلم کا دعوی کرے علما٫ نے اس کو بھی اسی حکم میں رکھا ہے، اور جو شخص اس کی تصدیق کرے اس کو بھی شرک اور کفر قرار دیا ہے۔او رجو شخص اس بات کا دعوی کرے کہ اس کے پاس جن ہے جو غیب کی باتیں جانتا ہے اور جو کچھ پیش آنے والا ہے وہ اس کی خبر دیتا ہے یہ بھی شرک ہے اور ایسا ماننے والے کی تصدیق کرنا بھی شرک ہے۔
أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة، فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف، والرمال، والمنجم: وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه، والذي يضرب الحصى والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون، والكل مذموم شرعا، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر.وفي البزازية: يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه.
وفي التتارخانية: يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي اه.قلت: فعلى هذا أرباب التقاويم من أنواع الكاهن لادعائهم العلم بالحوادث الكائنة. وحاصله أن دعوى علم الغيب معارضة لنص القرآن فيكفر بها، إلا إذا أسند ذلك صريحا أو دلالة إلى سبب من الله تعالى كوحي أو إلهام، وكذا لو أسنده إلى أمارة عادية بجعل الله تعالى.
(شامی:۴/۲۲۹،۲۲۸)
ارادہ:
ارادہ اللہ کی صفت ذات ہے، لیکن اس صفت سے اللہ کےلئے کوئی ’’اسم‘‘ قرآن وحدیث میں استعمال نہیں ہوا ہے، اس لئے اس صفت سے اللہ کےلئے کوئی ’’اسم‘‘ ہمیں اپنی جانب سے بنانا جائز نہیں ہے، ہاں ’’ارادہ ‘‘اللہ کی صفت کے طور پر قرآن و حدیث میں بے شمار جگہوں پر آیا ہے، تکوین، تخلیق ، تقدیر اور ربوبیت کا ہر کام اللہ کے ارادہ سے جڑا ہوا ہے، کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے اللہ کے ارادہ سے ہور ہا ہے، اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے وہ نہ چاہے تو کچھ نہیں ہوتا۔
عن أنس بن مالك ، رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال : « إذا أراد الله بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا ، وإذا أراد بعبده الشر أمسك عنه بذنبه حتى يوافيه به يوم القيامة
(الاسما٫ و الصفات للبیہقی:۱/۳۴۰)
ہر قسم کا نفع و نقصان اللہ کے ارادہ اور مشیت کے تابع ہے:
ہر قسم کا نفع و نقصان اللہ کے ارادہ اور مشیت کے تابع ہے، دنیا میں کسی چیز کا حاصل ہونا یا کسی چیز سے محروم ہونا انسان کی اپنی محنت و عقل سے جڑی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے ارادہ کے تحت ہے، اللہ جس کو چاہے نفع دے جس کو چاہے نقصان پہنچائے، بغیر اللہ کے ارادہ کے کوئی شے کسی کو نہیں ملتی، اور بغیر اللہ کے ارادہ کے کوئی کسی شے سے محروم نہیں ہوتا۔
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا
(الإسرا٫:۱۸)
کوئی شے اللہ کےارادہ کے بغیر نافذ ہی نہیں ہوتی:
کائنات اللہ کی مملکت ہے، یہاں کوئی شے اللہ کے ارادہ اور اس کی مشیت کے بغیر پوری نہیں ہوتی، کوئی چیز اس کے ارادہ کے بغیر وجود میں نہیں آتی ، کوئی چیز اللہ کے ارادہ کے بغیر پیدا نہیں ہوتی، حتی کے بندوں کے اعمال بھی پورا ہونے کےلئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے پورا ہونے کا ارادہ فرمائے، اور ان کو پورا ہونے کا موقع دے، ارادہ میں اللہ کا کمال یہی ہے کہ ہر چیز اللہ کے ارادہ کے بعد ہی پوری ہو ، اس اعتبار سے اللہ کے ارادہ کی اقسام ہیں۔
ارادہ کی اقسام:
اللہ تعالیٰ کا ارادہ دو طرح کا ہے(۱) ارادہ کونی (۲) ارادہ شرعی
(۱)ارادہ کونی، خلقی و قدری:
اللہ تعالیٰ کا ایک ارادہ وہ ہے جو اس نے اس کائنات کو بنانے ، تخلیق کرنے، مخلوقات کی تقدیر بنانےکےلئے کیا ہے، اس کو ’’ارادہ کونی/ یا ارادہ تکوینی‘‘ کہتے ہیں، اور اسی معنی میں لفظ ’’مشیت‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے، کسی بھی چیز کا وجود اللہ کے ارادہ کے بغیر نہیں ہوتا، یہ اللہ کی مملکت ہے یہاں ہر چیز وجود میں آنے کےلئے اللہ کی مشیت اور اس کے ارادہ کی تابع ہے۔
جس طرح ہر حرکت و سکون اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت کے تابع ہیں، اسی طرح بندوں کے افعال و اعمال بھی اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت سے پورے ہوتے ہیں، بندوں کو چاہنے اور اعمال کا اختیار دیا گیا ہے لیکن ان کی چاہت اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک کہ اللہ اپنی مملکت میں ان کی چاہت کے پوری ہونے کا ارادہ نہ کرے۔
ایمان ، کفر ، عمل صالح اور سیئات سب کے پورا ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کےارادہ کونی کی ضرورت ہے، یعنی اللہ کی مملکت میں کسی بھی شخص کا ارادہ اس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک کہ خود اللہ کی مشیت اس کے ساتھ نہ جڑ جائے۔
(۲) ارادہ شرعی:
مؤمن کے ایمان اور کافر کے کفر کا ارادہ دونوں کےپورا ہونے کےلئے یہ ضرروی ہے کہ اللہ کا ارادہ بھی اس کو قبول کرے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایمان و کفر دونوں اللہ کی نگاہ میں برابر ہیں، بلکہ اللہ ایمان کو پسند کرتا ہے، اور اس سے راضی ہوتا ہے، اور اس معنی کر ایمان اور عمل صالح کے پورا ہونے کےلئے اللہ کا ارادہ ’’ارادۂ شرعی‘‘ ہے، اور کافر کے کفر کےلئے اللہ تعالیٰ کا ’’ارادہ تکوینی‘‘ہوتا ہے، کہ کافر کے ارادہ کے مطابق اس کی خواہش کو پورا کیا جائے تاکہ بندوں کا امتحان پورا ہو۔
مشیت و تقدیر کو گناہوں کےلئے ڈھال بنانا کفر ہے:
اس سے یہ واضح ہوگیا کہ شر کی تکوین اللہ نے امتحان اور آزمائش کی غرض سے کی ہے، اگر خیر کے ساتھ شر کی تخلیق ہی نہیں ہوتی تو امتحان کیسے ہوتا ؟اس لحاظ سے شر کی تخلیق اور اس کا تکوینی ارادہ غلط نہیں ہے، ہاں شر کو اختیار کرنا اور اس کا ارتکاب کرنا غلط ہے، یعنی بندہ اللہ کی پیدا کردہ خیر اور شر کی اقسام میں سے کسی ایک قسم کو اپنے اختیار سے کرتا ہے، اگر وہ شر کو اختیار کرتا ہے تو اس کا شر کو اختیار کرنا غلط ہے، اگر وہ شر کو اختیار کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا کردیتا ہے، اس کو ذبردستی روکتا نہیں ہے، تاکہ امتحان پورا ہو۔
اس اعتبار سے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ شر کو اختیار کرررہا ہے تو یہ اللہ کا ارادہ ہے، کیونکہ یہ اللہ کا ارادہ شرعی نہیں بلکہ تکوینی ہے، یعنی اس کے علم میں گناہ ہور ہا ہے تو وہ اس کو پورا ہونے دے رہا ہے، ذبردستی روک نہیں رہا ہے، کیونکہ اس کو امتحان پورا کرانا ہے، باقی بندہ جو کچھ کررہا ہے اپنے اختیار سے کررہا ہے، اس لئے معاصی اور ذنوب کےلئے مشیت الہٰی کو آڑ بنانا درست نہیں ہے، اور اپنے اختیار سے کرنے والے سیئات /گناہوں کے بارے میں یہ کہنا کہ اللہ نے چاہا ہے اس لئے وہ گناہ کا ارتکاب کررہا ہے ایسا کہنا کفر ہے، کیونکہ اللہ کا ارادہ تکوینی کسی کےلئے جبر کی راہ نہیں کھولتا، جبکہ اس کا ارادہ شرعی اس کو گناہ سے باز رہنے کو بھی کہہ رہا ہے۔ ہاں غیر اختیاری حالات اور مصائب کی نسبت اللہ کی مشیت طرف ہی کی جائے گی، کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں، اور یہی ایمان کا تقاضہ ہے۔
فَإِنَّ الْقَدَرَ يُحْتَجُّ بِهِ عِنْدَ الْمَصَائِبِ، لَا عِنْدَ الْمَعَائِبِ.…… وَأَمَّا الذُّنُوبُ فَلَيْسَ لِلْعَبْدِ أَنْ يُذْنِبَ، وَإِذَا أَذْنَبَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَ وَيَتُوبَ. فَيَتُوبَ مِنَ الْمَعَائِبِ، وَيَصْبِرَ عَلَى الْمَصَائِبِ.
(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لإبن أبی العز:۱/۷۰)
احکام شرعیہ میں اللہ کا ارادہ:
بندوں کو دیئے جانے والے احکام میں بھی اللہ کا ارادہ کافرما ہوتا ہے، جو اللہ چاہے حکم دے سکتا ہے، اور دیتا ہے، کوئی بندہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں اپنا ارادہ اور اپنی خواہش کو لانے کا حق دار نہیں ہے، ہاں اللہ بندوں کو ہر طرح کے احکام میں تخفیف ہی کا ارادہ کرتا ہے، وہ ان کی طاقت سے زیادہ احکام کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ، وہ ان کے حق میں یسر ہی چاہتا ہے، عسر نہیں چاہتا۔
إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ (المائدۃ:۱) يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النسا٫:۲۸) يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ(البقرۃ:۱۸۵)وَاللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَنْ تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا (۲۷) يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا
(النسا٫:۲۸)
صفت ارادہ و مشیت میں شرک:
مذکورہ بالا معانی میں اللہ کی صفت ارادہ و مشیت کسی میں ماننا شرک ہے، کسی کے ارادہ و مشیت کے بارے میں ماننا کہ وہ اللہ کی طرح نافذ ہوتی ہے اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اسی طرح یہ ماننا کہ کسی کے ارادہ یا مشیت کا نفاذ اللہ کی اجازت کے تابع نہیں ہے یہ بھی شرک ہے۔
یہ ماننا کہ بندوں کے افعال کے پورا ہونے کےلئے اللہ کی مشیت کی ضرورت نہیں ہے، اللہ کی صفت اردہ میں کمال اور ’’ارادہ تکوینی ‘‘کی نفی کرنا ہے، اور یہ نفی کرنا یہ ماننا ہے کہ اللہ کی مملکت میں کوئی اس کے اردہ کے بغیر بھی اپنا ارادہ چلا سکتا ہے، ایسا ماننا شرک ہے۔ تاریخ اسلامی میں ایسا ماننے والے قدریہ کہلائے۔
اسی طرح یہ کہنا کہ بندوں کی اپنی کوئی مشیت ہے ہی نہیں ، مشیت تو صرف اللہ کی ہے، اور بندہ اپنے ارادہ اور اختیار کے بغیر حرکت کرتا ہے جیسا کہ کوئی مشین حرکت کررہی ہو، جس کا اختیار کسی اور کے ہاتھ میں ہےیہ اللہ کے’’ارادہ شرعی‘‘ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے عدل کی نفی کرنا ہے، کہ اللہ ظالم ہے اور بندوں پر جبر کرتا ہے ایسا ماننا کفر ہے۔ تاریخ اسلامی میں ایسا ماننے والے جبریہ کہلائے۔
اسی طرح احکام الہٰی میں اپنے ارادہ کو دخل دینا اور سمجھنا کہ ہم بھی آزاد ہیں اپنے ارادہ کو احکام کے مقابلہ میں رکھ سکتے ہیں یہ بھی شرک ہے، کوئی اللہ کے ارادہ کے نفاذ میں مانع نہیں ہو سکتا، غیر اللہ میں کسی کو خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو اللہ کے ارادہ سے آزاد ماننا شرک ہے۔
کسی غیر اللہ میں ارادہ اور مشیت کی صفت کو ان معانی میں ماننا جن معانی میں اللہ اور اس کے رسول نے مانا ہے یہ شرک نہیں ہے، کسی کے بارے میں یہ ماننا کہ: اس کی صفت ارادہ کی عطاء ہے، محدود ہے اور حادث ہے شرک نہیں ہے۔
إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ (المائدۃ:۱)لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (المائدۃ :۱۷)وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ (الرعد:۱۱)عن ابن عباس ، رضي الله عنهما قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يكلمه في بعض الأمر فقال الرجل لرسول الله صلى الله عليه وسلم : ما شاء الله وشئت ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « أجعلتني لله عدلا ؟ بل شاء الله وحده
(الاسماء و الصفات:۱/۳۱۵)
قدرت:
قدرت اللہ کی صفت ذات ہے، اور اس صفت سے اللہ کا اسم القدیر ، القادر، المقتدر وغیرہ ہیں، اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر مکمل قدرت حاصل ہے، کوئی شے اس کو عاجز نہیں کر سکتی، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے، اور سبھی کی تدبیر وہی کرتا ہے، کائنات کی تمام عظیم اور حیرت انگیز مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم ’’کن‘‘ سے پیدا کیا، اور وہی اس کائنات کی تدبیر کررہا ہے، ہر کوئی اس کے آگے مقہور ہے، کوئی اس کے حکم سے باہر نہیں ہے، آسمان و زمین ، سورج و چاند ، خلاؤں میں بکھرے ہوئے سیارے، فضاءیں اور سمندر، پہاڑ و دریا چرند و پرند سب اللہ کے حکم کے تابع فرمان اور مسخر ہیں، کوئی مخلوق اس حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی جس میں اللہ نے اس کو رکھا ہے ۔اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت کو ظاہر کرنے والی قرآن و حدیث میں اور کئی اسماء و صفت استعمال ہوئے ہیں، مثلاً:القیوم اللہ کی اسم و صفت قدرت ہے، اسی طرح القوی، القھار، القاھر، عزت دینا اور ذلت دینا اور ہر طرح کے خیر و شرکا تنہاء مالک ہونا، العزیز، الجبار، المتکبر، ذو القوۃ المتین وغیرہ سبھی اللہ کے اسماءو صفات قدرت ہیں۔
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (الأعراف:۵۴)وَآيَةٌ لَهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ (۳۷۳۸) وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ (۳۹) لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (۴۰) (سورۃ یس)إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ (الذاریات:۵۸) إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (سورة الْبَقَرَةِ آية: ۲۰) وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا
( سورة الْكَهْفِ: ۴۵)
عن جابر بن عبد الله ، رضي الله عنهما قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن يقول : إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل : اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك ، وأسألك من فضلك العظيم ، فإنك تقدر ولا أقدر ، وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب ، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ودنياي ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال في عاجل أمري وآجله - فاقدره لي ويسره لي ، ثم بارك لي فيه ، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال : في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني ، واصرفني عنه ، وعجل لي الخير حيث كان ثم أرضني به
(رواه البخاري)
اللہ کی قدرت میں کمال :
اللہ کی قدرت میں کمال ہے کوئی نقص و عیب نہیں ہے، وہ سوتا اونگھتا یا تھکتا نہیں ہے، اس کو کوئی عاجز نہیں کر سکتا، سب اس کے تدبیر کے محتاج ہیں اور ان کی تدبیر و انتظام اس کو تھکاتی نہیں ہے، اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ، سب اس کے آگے مسخر اور مقہور ہیں ، اور اللہ کی صفت قدرت کی مظہر ہیں۔
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا ( سورة فَاطِرٍ: ۴۴) وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (سورة الْبَقَرَةِ: ۲۵۵)عن ابن مسعود ، رضي الله عنه قال : من قال : الحمد لله الذي تواضع كل شيء لعظمته ، والحمد لله الذي ذل كل شيء لعزته ، والحمد لله الذي استسلم كل شيء لقدرته ، والحمد لله الذي خضع كل شيء لملكه ، كتب الله تعالى له بها ثمانين ألف حسنة ، ومحا عنه بها ثمانين ألف سيئة ورفع له بها ثمانين ألف درجة
(الاسماء و الصفات:۱/۲۶۷)
قائم بنفسہ و مقیم لغیرہ:
اللہ تعالیٰ خود سے قائم ہے، کوئی اس کو تھامے ہوئے نہیں ہے، اس کا وجود و حیات اور بقا٫ کسی اور کی مرہون منت نہیں ہے بلکہ اس کا وجود و بقا٫ ذاتی ہے، جبکہ اس کے علاوہ سب اس کے محتاج ہیں، اللہ کے عطا٫ سے موجود، اور اللہ کی مشیت سے قائم ہیں، وہی ان کو تھامے ہوئے ہے، اور کبھی ان سے غافل نہی ہوتا، اگر اللہ ان سے اپنی توجہ ہٹا لے تو کوئی شے باقی نہ رہے سب فنا ہوجائیں، اسی کی قدرت سے سب کچھ جاری ہے۔
آسمان و وزمین اپنی اپنی جگہ اللہ کی قدرت سے موجود ہیں، پانی سمندر تک اللہ کی قدرت سے محدود ہے، سورج اور چاند اللہ کی قدرت سے مسخر ہیں، پرندے فضا٫ میں اللہ کی قدرت سے پر پھیلائے اڑتے ہیں، رات اور دن اللہ کی قدرت سے بدلتے ہیں، سب کچھ اللہ کی قدرت کے تابع ہے۔
القائم بنفسه والمقيم لغيره، القائم بنفسه فلا يحتاج إلى شيء، وغني عن كل شيء، المقيم لغيره، كل شيء فقير إليه يحتاج إلى إقامته له سبحانه وتعالى، فلولا إقامة الله للسموات والأرض والمخلوقات لتدمرت وفنيت، ولكن الله يقيمها ويحفظها ويمدها بما يصلحها.فجميع الخلق في حاجة إليه (إن الله يمسك السموات والأرض أن تزولا ولئن زالتا إن أمسكهما من أحد من بعده)
[فاطر: ۴۱](شرح العقیدۃ الطحاویۃ للفوزان:۱/۱۴)
افعالِ عبادُاللہ کی قدرت میں شامل ہیں:
بندے جو کچھ کرتے ہیں اللہ ان کو پہلے سے جانتا ہے، اور ان کے ارتکاب کا جب بندے ارادہ کرتے ہیں تو ان کے وجود میں آنے کےلئے خود اللہ کی مشیت ضروری ہے، بندوں کی مشیت پر اللہ کی مشیت سے اجازت مل جائے تو وہ اس کو کر سکتے ہیں ورنہ اللہ کی مشیت نہ ہو تو وہ کچھ نہیں کر سکتے، اس لحاظ سے افعال عباد بھی اللہ کی قدرت کے تحت ہیں۔
ذَلِكَ بِأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَكُلُّ شَىْءٍ إِلَيْهِ فَقِيرٌ، وَكُلُّ أَمْرٍ إليه يَسِيرٌ
(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لإبن أبی العز:۱/۵۹)
اللہ کی صفت قدرت میں شرک:
اللہ کی صفت قدرت میں کوئی شریک نہیں ہے، کسی کو اللہ کی صفت قدرت میں مذکور بالا معانی میں ماننا شرک ہے، کسی غیر اللہ کے بارے میں یہ ماننا کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے شرک ہے، یہ ماننا کہ ہر چیز غیر اللہ کے تابع فرمان ہے یہ بھی شرک ہے، یہ ماننا کہ خود اللہ نے کسی میں ہر چیز کی قدرت دی ہے یہ کفر ہے، کسی غیر اللہ کے بارے میں یہ ماننا کہ کوئی اس کو عاجز نہیں کر سکتا، یا کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا یہ بھی شرک ہے، یا یہ ماننا کہ وہ اللہ کے آگے عاجز مقہور اور مغلوب نہیں ہے یہ بھی شرک ہے، اور افعال عباد کو اللہ کی قدرت سے خارج ماننا کفر و شرک ہے، اور شرک نا قابل معافی جرم ہے جس کی سزاء ابد الآباد یعنی ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔
کس درجہ قدرت غیر اللہ میں ماننا شرک نہیں ہے:
غیر اللہ میں سے کسی میں صفت قدرت اس معنی میں ماننا جس معنی میں اللہ اور اس کے رسول نے ثابت مانی ہے شرک نہیں ہے، مثلاً یہ ماننا کہ : کسی مخلوق میں صفت قدرت ہے لیکن اللہ کی عطاء سے ہے، محدود ہے، اور حادث ہے یہ شرک نہیں ہے، ان شرائط کے ساتھ کسی میں قدرت کا کتنا ہی اونچا درجہ مانا جائے وہ شرک نہیں ہوگا۔
سماعت و بصارت /السمیع و البصیر:
سماعت و بصارت اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، اور ان سے بنے السمیع اور البصیر اللہ کے نام ہیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز دیکھتا ہے اور ہر چیز سنتا ہے۔جو کوئی اللہ کو پکارتا ہے اللہ اس کی پکار سنتا ہے، اور ان کے اعمال دیکھ رہا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (غافر:۲۰) إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ بَصِيرٌ (فاطر:۳۱) وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (النسا٫:۱۳۴)قَالَ لَا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى
(طہ:۴۶ش)
اللہ کی صفات سماعت و بصارت کا امتیاز:
بندوں میں بھی سماعت و بصارت اللہ کی پید کی ہوئی ہے، تبھی وہ دیکھ اور سن سکتے ہیں، لیکن بندوں کی سماعت و بصارت اللہ کی سماعت و بصارت کی طرح نہیں ہے، اللہ کی سماعت و بصارت اس کے لائق شان ہے، اللہ کی یہ صفات ذاتی، لامحدود، اور ہمیشہ سے ہیں، اور اس کو سماعت و بصارت کے لئے کسی آلے /اعضا٫ و جوارح کی حاجت نہیں ہے، جبکہ بندوں کی یہ صفات عطائی، محدود، اور حادث ہیں، اور بندہ سماعت و بصارت کےلئے اعضا٫ و جوارح اور دیگر اسباب کا محتاج ہے۔
سماعت و بصارت ان دونوں صفات پر کچھ کلام آگے ’’صفات متشابہات‘‘عنوان کے تحت بھی آئے گا۔
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(الشوری:۱۱)
اللہ کی صفات سماعت و بصارت میں کفر وشرک:
اللہ تعالیٰ کے لئے سماعت و بصارت ثابت ہے، نصوص ان کے ذکر سے بھری ہوئی ہیں، ان کا انکار کرنا کفر ہے(جیسا کہ معطلہ نے کیا ہے)، اللہ تعالیٰ اپنی صفات کےلئے اعضا٫ و اسباب کا محتاج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی سماعت و بصارت بندوں کی طرح سے نہیں ہے، یعنی ان میں اللہ کو اعضا٫ و جوراح کا محتاج ماننا بھی کفر ہے(جیسا کہ مشبہ نے کہا ہے)، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے، وہ لا محدود ہے، اور ہمیشہ سے ان صفات سے متصف ہے، اللہ تعالیٰ کےلئے جن معانی میں صفات سماعت و بصارت استعمال ہوتی ہیں ان کو غیر اللہ میں ماننا شرک ہے، اللہ کی صفت سماعت اور بصارت ذاتی ، لا محدود، اور قدیم ہیں، غیر اللہ میں سماعت و بصارت عطائی (یعنی اللہ کی عطاء کردہ)، محدود اور حادث ہیں، غیر اللہ میں سماعت و بصارت کی صفات ذاتی ، لا محدود، اور غیر حادث ماننا شرک ہے۔ شرک نا قابل معافی جرم ہے، جس کی سزاء ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔
عن عائشة ، رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في سجوده بالليل مرارا : « سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته(الاسماء و الصفات:۱/۲۷۲)عن أبي موسى الأشعري ، رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « إن الله عز وجل لا ينام ولا ينبغي له أن ينام ، يخفض القسط (۱) ويرفعه ، يرفع إليه عمل الليل قبل النهار ، وعمل النهار قبل الليل ، وحجابه النار لو كشفها لأحرقت سبحات وجهه كل شيء أدركه بصره(الاسماء و الصفات:۱/۴۱۶)عن عمر بن الخطاب ، رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم في حديث الإيمان ، قال : يا محمد ، ما الإحسان ؟ ، قال : أن تعبد الله كأنك تراه ، فإنك إن لم تكن تراه ، فإنه يراك
(رواہ مسلم )
کلام:
کلام اللہ کی صفت ذات ہے، البتہ صفت کلام سے اللہ کا کوئی اسم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کلام فرماتے ہیں، فرشتوں سے کلام فرماتے ہیں، انبیا٫ کرام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے، حضرت موسی سے اللہ نے کلام کیا ہے، معراج میں نبی پاک ﷺ سے اللہ نے کلام فرمایا ہے۔
وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ (التوبة :۶) وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (السجدۃ:۱۳)وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا (النسا٫:۱۲۲)قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ (ص:۸۴)وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا (النسا٫:۱۶۴)تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ…… (البقرة: ۲۵۳) وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ (الشوری:۵۱) وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
(سبأ:۲۳)
عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ کا بندوں سے کلام:
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی صلب سے ان کی تمام ذریت کو ارواح کی شکل میں نکال کر ان سے کلام فرمایا، اور دنیا میں ان وک بھیجنے سے قبل ان سے اپنی ربوبیت کا عہد لیا، جہاں تمام بنی نوع آدم نے اللہ کی ربویت کا اقرار کیاہے، کل کو قیامت کے دن بندے اگر شرک میں مبتلا ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اس عہد کی بنیاد پر بھی ان سے مؤاخذہ فرمائیں گے۔
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (۱۷۲) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ
(الأعراف:۱۷۳)
عن ابن عباس ، رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : « أخذ الله الميثاق من ظهر آدم عليه السلام فأخرج من صلبه ذرية ذراها فنثرهم نثرا بين يديه كالذر ثم كلمهم ، فقال : ( ألست بربكم قالوا بلى شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين أوتقولوا إنما أشرك آباؤنا من قبل وكنا ذرية من بعدهم أفتهلكنا بما فعل المبطلون
(الاسماء و الصفات:۱/۴۶۳)
اللہ کے کلام کا آسمان والوں پر اثر:
جب اللہ تعالیٰ جب وحی کا ارادہ فرماتے ہیں تو وحی کے ذریعہ کلام فرماتے ہیں ، اور جب اللہ تعالیٰ کلام فرماتے ہیں تب تمام آسمانوں پر خوف سے ایک لرزہ طاری ہو جاتا ہے، اور وہ کانپنے لگتے ہیں، اورآسمان والے جب اس وحی کو سنتے ہیں تو ان پر اس کی گرج کی وجہ سے غشی طاری ہو جاتی ہے، اور وہ سب سجدہ میں گر پڑتے ہیں، اس کے اثر سے باہر نکلنے والے سب سے پہلے حضرت جبرئیل ہوتے ہیں، وہ اپنا سر اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے جو چاہتا ہے کلام فرماتا ہے، حضرت جبرئیل سے اس وحی کو لے کر جب کسی آسمان سے گذرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ اللہ نے کیا فرمایا ہے؟ حضرت حبرئیل جواب میں فرماتے ہیں: قال الحق وهو العلي الكبير، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ حق ہے، اور وہ بہت بلند و برتر ہے، جواب میں آسمان والے بھی وہی کہتے ہیں جو حضرت جبرئیل نے فرمایا ہے، اور حضرت جبرئیل اللہ کی وحی وہاں پہنچاتے ہیں جس کا انہیں حکم ہوا ہے۔
عن النواس بن سمعان ، رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « إذا أراد الله عز وجل أن يوحي بأمره تكلم بالوحي ، فإذا تكلم أخذت السماوات رجفة - أو قال رعدة - شديدة خوفا من الله عز وجل ، فإذا سمع بذلك أهل السماوات صعقوا ، وخروا لله سجدا ، فيكون أول من يرفع رأسه جبريل عليه الصلاة والسلام ، فيكلمه الله تعالى من وحيه ما أراد فيمضي جبريل عليه السلام على الملائكة كلما مر بسماء يسأله ملائكتها : ماذا قال ربنا يا جبريل ؟ فيقول جبريل : قال الحق وهو العلي الكبير ، قال : فيقولون كلهم مثل ما قال جبريل ، فينتهي جبريل بالوحي حيث أمره الله عز وجل من السماء والأرض
(الاسماء و الصفات:۱/۴۶۳)
امر و نہی الہٰی:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو امر و نہی کرتا ہے، اور انہیں موعظت کرتا ہے، انہیں اچھائی ، امانتوں کی ادائیگی اور عدل و احسان کا حکم دیتا ، اور فواحش اور منکرات سے روکتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اوامر و نواہی اور موعظت اپنے کلام /اور وحی کے ذریعہ سے کرتا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (النسا٫:۵۸)إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
(النحل:۹۰)
وَأَمَرَهُمْ بِطَاعَتِهِ، وَنَهَاهُمْ عَنْ مَعْصِيَتِهِ
(العقیدۃ الطحاویۃ مع شرحہ لإبن أبی العز:۱/۶۸)
قرآن مجید اللہ کا کلام ہے:
(قرآن مجید ، اور آسمانی کتابوں سے متعلق عقائد آگے مستقل عنوان کے تحت آئیں گے)
قیامت کے دن اللہ کا اپنے بندوں سے کلام:
قیامت کے دن اللہ پاک اپنے بندوں سے کلام فرمائیں گے، انبیا٫ و رسولوں سے خطاب فرمائیں گے، فرشتوں سے خطاب فرمائیں گے، بعض بندے وہ بھی ہوں گے جن کے برے کرتوتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہ ان کی جانب نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان سے کلام فرمائیں گے۔
إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (آل عمران:۷۷) وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
(المائدۃ :۱۶۶)
أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ « هَلْ تُمَارُونَ فِى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ » . قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ « فَهَلْ تُمَارُونَ فِى الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ » . قَالُوا لاَ . قَالَ « فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ ، يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْ . فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الشَّمْسَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الْقَمَرَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الطَّوَاغِيتَ ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا ، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ . فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ . فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا . فَيَدْعُوهُمْ فَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ جَهَنَّمَ ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ ، وَلاَ يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلاَّ الرُّسُلُ ، وَكَلاَمُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ .
(صحیح البخاری)
فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّى فَيُؤْذَنُ لِى وَيُلْهِمُنِى مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا لاَ تَحْضُرُنِى الآنَ ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ .
(صحیح البخاری:کتاب التوحید)
اہل جنت سے اللہ تعالیٰ کا کلام:
اہل جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے اور انہیں وہاں ہر طرح کا عیش و آرام اور جنت کی نعمتیں میسر ہوں گی، اللہ تعالیٰ جنتیوں سے خطاب کریں گے، اہل جنت لبیک و سعدیک و الخیر فی یدیک کہہ کر اللہ کے خطاب کی جانب متوجہ ہوں گے، جو کچھ تمہیں ملا ہے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا : جو کچھ تمہیں ملا ہے کیا تم اس سے راضی اور خوش ہو، جنتی کہیں گے : ائے اللہ !ہم کیوں خوش نہیں ہوں گے، ہمیں تو وہ نعمتیں ملی ہیں جو کسی مخلوق کو نہیں ملیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں اس سے بھی زیادہ بڑی نعمت اور افضل شے تمہیں دوں گا۔ جنتی کہیں گے : ائے اللہ ! اس سے زیادہ افضل شے اور کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں تمہیں اپنی ایسی رضا سے نواز رہا ہوں کہ اس کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔
أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - « إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ . فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِى يَدَيْكَ . فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ . فَيَقُولُ أَلاَ أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ وَأَىُّ شَىْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِى فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا » .
جہنم اور اہل جہنم سے اللہ تعالیٰ کا کلام:
جہنمیوں کو جہنم میں داخل کرایا جائے گا، جب بھی کوئی نئی قوم اس میں داخل ہوگی، اور جب بھی جہنم میں کوئی نیا گروہ داخل ہوگا وہ پہلے والوں کے بارے میں اللہ سے خطاب کرکے کہے گا، ائے ہمارے رب! انہوں نے ہی ہمیں گمراہ کیا تھا انہیں دوہرا عذاب دیجئے، اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائیں گے: ہر ایک لئے دوگنا عذاب ہے۔
اور جب سب جہنمی جہنم میں چلیں جائیں گے ، اللہ تعالیٰ جہنم سے خطاب کرکے کہیں گے: کیا تو بھر گئی، جہنم جواب میں کہیں گی، اور لاؤ۔
يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ (ق:۳۰)قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ فِي النَّارِ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا حَتَّى إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ (۳۸) وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ
(الأعراف:۳۹)
ہم اللہ تعالیٰ کےصفات ِ فعلیہ کی تصدیق کس طرح کریں؟
و ہ اسماء و صفات جو باری تعالی کے افعال پر دلالت کریں، یہ صفات بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت و علم اور اس کی مشیت و ارادہ متعلق ہیں ، یعنی اللہ کی وہ صفات جو اللہ کے کاموں کو ظاہر کرتی ہیں۔مثلاً: پیدا کرنا(الخالق)،رزق دینا(الرازق)، زندگی دینا(المحیی)، مارنا(الممیت) ، نفع پہنچانا(النافع )،کسی مصلحت سے نقصان پہنچانا، عزت دینا،کمزورکرنا، بلند مرتبہ کرنا، انحطاط دینا ہر طرح کی تدبیر و تصرف کرنا، تقدیر بنانا اور فیصلے کرنا وغیرہ، ان تمام صفات کے معانی کو شامل ایک عمومی صفت ’’الرب‘‘ (یعنی پرورش کرنا) ہے۔
اللہ تعالیٰ کا اسم اور صفت ’’الرب‘‘ دیگر تمام اسماء و صفات میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے، اضافت کے ساتھ یہ صفت اسم ذات کی جگہ بھی استعمال ہوتی ہے، جبکہ دوسری صفات قرآن مجید میں اس طرح استعمال نہیں ہوئی ہیں مثلاً :۔ قرآن مجید میں صفت رب اسم ذات یعنی اللہ کے بعد سب سے زیادہ استعمال ہونے والی صفت ہے ،اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو بیان کرنے کےلئے اسم ذات کے علاوہ اسی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
بندوں کی ضروریات کی تکمیل کے جتنے پہلو ہیں سب ربوبیت کا حصہ ہیں، اس کائنات کو پیدا کرنا، اور زندگی اور اس کی بقاء کے کل اسباب کو یہاں مہیا کرنا، سورج چاند سیاروں کی پیدائش، زمین کو ذی حیات مخلوقات کےلئے موزوں بنانا، فضاء میں سورج کی تمازت سے حفاظت کا خول بنانا، چاند کو موسموں میں تبدیلی کا ذریعہ بنانا، زمین میں خشکی سمندر، ندیاں پہاڑ، جنگل و صحراء بنانا، دن و رات کا نظام بنانا ، بارش برسانا، موسموں کی تبدیلی رکھنا، کھیتیاں اور باغات بنانا، فضاؤوں کو بنانا اور ہواؤں کو چلانا، سرد ی و گرمی کےذریعہ کھیتیوں اور باغات کو پکانا، طرح طرح کے اناج اگانا، انواع و اقسام کے پھل پھول پیدا کرنا، جانوروں اور چرند و پرند کو پیدا کرنا، زندگی دینا، موت دینا، صحت دینا، کسی مصلحت سے بیماری دینا، رزق دینا ،اپنی مصلحتوں سے رزق میں کشادگی دینا یا تنگی کرنا، اولاد دینا، نرینہ یا غیر نرینہ اولاد دینا ، ، سورج سے روشنی دینا، معاش کا نظام چلانا، رات سے تاریکی لانا، آرام کا نظم بنانا، نیند کو تھکن ختم کرنے کا ذریعہ بنانا، مخلوقات کو جوڑوں کی شکل میں بنانا، کنبے بنانا، شوہر اور بیوی سے ایک دوسرے کو سکون دینا، اولاد سے خوشیاں دینا، ماں باپ کی شفت و محبت دینا ، جانوروں کو انسانوں کےتابع بنانا اور فائدہ اٹھانے کا اور غذا کا ذریعہ بنانا، ، یہ سب امور اسی صفت ربوبیت کا ظہور ہیں۔
صفت ربوبیت میں جس طرح مادی اور جسمانی ضروریات کی تکمیل شامل ہیں اسی طرح مخلوقات کی باطنی اور روحانی ضروریات کی تکمیل بھی اللہ کی اسی صفت سے جڑی ہے، چنانچہ ہدایت دینا، انبیاء و رسل کو بھیجنا، کتابوں کو ناز ل کرنا، نفس لوامہ کو ہر ایک ساتھ لگانا، عقل و فہم کی صلاحیتیں دینا ، اور توفیق اعمال دینایہ سب بھی اللہ کی ربوبیت میں ہی شامل ہے۔پروردگار عالم نے ہی فواحش ،اثم اور بغی کو حرام قرار دیا ہے، کیونکہ پروردگار ہی ہے جو اپنے پروَردَوں کو ان کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے باز رکھنا چاہتا ہے، اور اسی نے انصاف، فرماں برداری اور اخلاق کی تعلیم دی ہے کیونکہ پرورش کرنے والا ہی اپنے پروَردَوں کو ان کو فائدہ پہنچانے والی چیزوں کی تعلیم دیتا ہے، یعنی اللہ بندو ں کی ظاہری و باطنی جسمانی و روحانی ہر اعتبار سے پرورش کررہا ہے، اور بڑے ناز و نعم میں پال رہا ہے۔
ربوبیت الہٰی ،افعال باری تعالیٰ اور صفات فعلیہ بہت ہی وسیع موضوع ہے، صفت ربوبیت یک گونہ توحید فی الاسماء و الصفات کا حصہ بھی ہے اور ساتھ ہی عقائد کا مستقل عنوان بھی ہے، اس لئے ربوبیت کو مستقل ’’توحید فی الربوبیۃ‘‘ کے عنوان سے بھی ذکر کیا جاتا ہے۔
امہات الصفات اور صفات فعلی کا حکم:
امہات الصفات اور صفات فعلی دونوں ہی صفات اللہ تعالیٰ کے ساتھ ازل سے متعلق ہیں، اور ہمیشہ ہمیشہ متعلق رہیں گی، اللہ کی کوئی صفت ایسی نہیں ہےجو پہلے نہ تھی اور اب ہوگئی ہو، اللہ تعالیٰ کی ہر صفت ازلی و ابدی ہے، ہاں صفات فعلیہ کا ظہور اپنے وقت پر یعنی فعل کے موقع پر ہوتا ہے، لیکن وہ صفت اللہ کے ساتھ ازل سے ہے۔
اہم صفات فعلیہ:
خلق/الخالق: خلق (یعنی پیدا کرنا) اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے، اور الخالق اللہ کا اسم ہے، صفت خلق ہی سے اللہ کا ایک اور اسم الخلّاق بھی ہے، اللہ کی صفت خلق (یعنی پیدا کرنے )میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر شے اللہ کی مخلوق (پیدا کی ہوئی )اور اللہ ان کا خالق (پیدا کرنے والا)ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں پیدا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے تنہاء تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے، مخلوقات کی تخلیق اللہ تعالیٰ کو نہ تھکاتی ہے اور نہ ہی عاجز کر سکتی ہے۔
یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ عاجز بھی ہو سکتا ہے یا مخلوقات کی تخلیق سے تھک جاتا ہے اور اس کو آرام کی ضرورت ہے یہ سب کفریہ عقائد ہیں۔
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
(القصص :۶۸)
لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (الشوری: ۴۹)أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ (ق:۱۵)وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (ق:۳۸)قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا
(مریم:۹)
ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے:
آسمان اور زمین، چاند و سورج، اور سیارے، دن اور رات، روشنی اور تاریکی، زندگی اور موت، فرشتے اور انسان ، جنات و حیوانات ، اور آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان میں موجود ہر چیز اللہ کی مخلوق ہیں، ان میں سے ہر چیز معدوم تھی اللہ کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہے۔
مادہ اللہ کی تخلیق ہے:
یہ سوچنا کہ اللہ پیدا کئے بغیر بھی کوئی چیز پہلے سے تھی جیسا کہ مادہ کے بارے میں ہندوستانی اور یونانی فلاسفہ کی قیاس آرائیاں ہیں کہ وہ بھی قدیم ہے یہ کفر یہ عقیدہ ہے، اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ کوئی چیز نہیں تھی، ہر چیز اللہ کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الانعام:۱)اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا (سورۃ الطلاق:۱۲)الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (سورۃ الملک:۲)سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (۱) الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى (سورۃ الاعلیٰ :۲)هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (یونس:۵)وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (الأنبیاء :۳۳)ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ
)الانعام : ۱۰۲(
خیر و شر کی تخلیق:
ہر خیر کی چیز اللہ نے پیدا کی ہے، اور ہر شر کی چیز کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے، خیر و شر دونوں کا خالق (پیدا کرنے والا) اللہ ہے، یہ کہنا کہ خیر کا خالق اللہ ہے، اور شر کا خالق کوئی اور ہے جیسے مجوسی کہتے ہیں یہ شرک ہے۔
اللہ کے شر کے خالق ہونے سے اللہ تعالیٰ کی کوئی برائی لازم نہیں آتی، اللہ تعالیٰ نے جس طرح خیر کو پیدا کیا ہے اسی طرح اپنی مصلحتوں سے شر کو بھی پیدا کیا ہے، شر کو پیدا کرنا نہیں بلکہ اس کو اختیار کرنا برا ہے، مثلاً : ظلم اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، لیکن اللہ ظالم نہیں ہیں، اگر اللہ ظالم ہوتے تو برائی ہوتی، اسی طرح اللہ نے ظلم کو پیدا کیا ہے لیکن بندوں کو اس کو اختیار کرنے سے منع کیا ہے، اگر اللہ ظلم کو پیدا نہ کرتے تو ظلم سے بچنے کا امتحان کیسے ہوتا ؟ مثلاً ’’امتحان‘‘ یہ شر کو پیدا کرنے کی ایک مصلحت ہے۔
سورة الفلق
(۱)قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (۲) مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
بندوں کے افعال کے خالق اللہ ہی ہیں:
بندوں کے اعمال و افعال بھی اللہ کے پیدا کردہ ہیں، مثلاًاطاعت (فرماں برداری)اللہ کی مخلوق ہے، اور معصیت (نافرمانی)بھی اللہ کی مخلوق ہے، اللہ کے پیدا کئے بغیر کوئی شے وجود میں نہیں آسکتی، ظلم کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے اور انصاف کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے۔
افعال و اعمال کو پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے امتحان کی غرض سے بندوں کو قدرت دی کہ جس کو چاہے اختیار کریں، بندے کسی بھی صورت اور پہلو کو اختیار کرنے میں آزاد ہیں، لیکن حکم اطاعت ،اچھائی اور انصاف کواختیار کرنے کا دیا، اب بندے جس کو اختیار کریں گے اس کی بنیاد پر ان کو بدلہ ملے گا۔یعنی:
پہلا مرحلہ: تخلیق ہے، اللہ نے اطاعت اور نافرمانی دونوں کو پیدا کیا۔
دوسرا مرحلہ: بندوں کو امتحان کی غرض سے دونوں پر قدرت دے دی، کہ وہ جس کو چاہیں اختیار کر سکتے ہیں۔
لیکن امتحان اس بات کا ہے کہ اچھائی کو اختیار کریں اور برائی سے بچیں۔
تیسرا مرحلہ: بندے کے اختیار اور کمائی کا ہے، کہ وہ جس کو اپنے اختیار سے کمائے گا، یعنی اچھائی یا برائی اس کی بنیاد پر اس کو بدلہ ملے گا۔
یہ خیال کہ افعال عباد کے خالق اللہ نہیں بلکہ خود بندے ہیں ، یعنی یہ ماننا ہے کہ اللہ کے ساتھ صفت خلق میں بندے بھی شریک ہیں خواہ اپنے افعال کی حد تک ہی کیوں نہ ہوں یہ شرکیہ عقیدہ ہے۔
تخلیق میں تدریج:
اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحتوں سے بعض مخلوقات کو محض اپنے حکم ’’کن‘‘ سے پیدا کیا ہے، یعنی ایک وقت تھا کہ وہ نہیں تھے اور حکم خدا وندی پر اچانک وجود وجود میں آگئے(جس کی تفصیل آگے آرہی ہے)اور بعض مخلوقات کو اللہ نے تدریجاً مراحل میں پیدا کیا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن یعنی چھ مراحل اور ادوارمیں پیدا کیا ہے۔
بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (البقرۃ:۱۱۷)إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (الأعراف:۵۴)إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
(یونس:۳)
آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے کی مخلوقات :
آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات کو بھی پیدا کیا ہے، جن میں عرش اور پانی شامل ہیں، اور سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا، اور اس کو حکم دیا کہ جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کو لکھ دے، اور اللہ کے حکم اور ہدایت پر قلم نے سب کچھ لکھا۔
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ (ھود:۷)هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرۃ:۲۹) وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(النور:۴۵)
تخلیق میں اللہ کا کمال:
اللہ تعالیٰ اپنی ہر صفت و فعل میں باکمال ہے،اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات اللہ کے علم و حکمت کی نشانیاں ہیں، مخلوقات کی تخلیق میں کہیں کوئی کمزوری اور نقص نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اوران میں گھوم رہے سیاروں کو بغیر کسی ستون کے قائم کیا ہے، تمام مخلوقات میں انسان جتنا غور و فکر کرے گا اس کے آگے اللہ کی صفت تخلیق میں کمال و عظمت ثابت ہوتی جائے گی ، اللہ کی مخلوقات میں کہیں کوئی رخنہ اور عیب نہیں ہے۔
الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ (۳) ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ (سورۃ الملک :۴)خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ
(لقمان:۱۰)
تخلیقات الہٰیہ میں بنی آدم کی فضیلت:
اس کائنات میں عظیم الشان اور محترم دونوں طرح کی مخلوقات ہیں لیکن ان سب میں سب سےقابل اکرام اور فضیلت والی مخلوق اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہے۔ اور اسی طرح انسان کو اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم میں پیدا کیا ہے، اس سے زیادہ اچھی تقویم کسی اور مخلوق کی نہیں ہے۔
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا (الإسراء:۱۷)لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (التین:۴)قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ (۷۵) قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (۷۶) قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ
(ص :۷۷)
اللہ تعالیٰ کی تخلیق بامقصد ہے:
اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو بامقصد پیدا کیا ہے، یہ عظیم الشان کائنات اور یہاں کی ایک ایک چیز ایک مقصد سے پیدا کی گئی ہے، یہ کوئی کھیل نہیں ہے، اس کی ایک ابتداء ہے اور ایک انتہاء ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ایک مدت متعین کی ہوئی ہے، اس مدت میں اس کائنات کا مقصد انسان کا اس سے فائدہ اٹھانا ہے، چنانچہ کائنات کی ہر چیز بندوں کےلئے مسخر کر دی گئی ہے، جو صرف انہیں کے مفادات کی تکمیل میں لگی ہوئی ہے، اپنے وقت مقررہ پر اس کا مقصد پورا ہوجائے گا، اور اللہ تعالیٰ اس کائنات کی بساط کو لپیٹ دے گا۔
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَيَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ (الأنعام:۷۳)هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (یونس:۵) خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ تَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (النحل:۳)وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ (۸۵) إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ (سورۃ الحجر۸۶)وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ (الأنبیاء:۱۶)أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مَا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُسَمًّى وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ لَكَافِرُونَ (الروم:۸) وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
(الذاریات:۵۶)
انسانی تخلیق کا مقصد:
پوری کائنات کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنوں کےلئے پیدا کیا ہے، اور خود انسانوں اور جنوں کو اس لئے پیدا کیا تاکہ ان کی آزمالش ہو کہ ان میں کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔ یعنی انسانوں اور جنوں کو اللہ نے اس لئے پیدا کیا تاکہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔
هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرۃ:۲۹)وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ (ھود:۷)وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
(الذاریات:۵۶)
تخلیقات کا اعادہ:
جس طرح اللہ نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا ہے ویسے ہی اللہ تعالیٰ مخلوقات کو موت دینے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہیں، کوئی چیز اللہ کو عاجز نہیں کر سکتی، اللہ تعالیٰ جن مخلوقات کو چاہیں گے دوبارہ پیدا کریں گے ۔
یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات کو مارنے کے بعد دوبارہ کیسے پیدا کرسکتے ہیں اور اس میں شک کرنا کفریہ عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اس بات پر قادر ہیں کہ مخلوقات کو مارنے کے بعد دوبارہ پیدا کریں۔
قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ (سورۃ یس :۷۹)وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَإِذَا كُنَّا تُرَابًا أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (الرعد:۵)يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ (الانبیاء:۱۰۴)أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ (۷۷) وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ (۷۸) قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ (سورۃ یس :۷۹)أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الأحقاف:۳۳) أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ (ق:۱۵)وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (ق:۳۸)قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا
(مریم:۹)
صفت خلق میں شرک:
صفت خلق اللہ کی خاص صفت ہے، جس میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اللہ نے اپنے بندوں کی ہر ضرورت کو تخلیق کیا ہے، نہ صرف یہ کہ غیر اللہ کی کوئی تخلیق نہیں ہے، بلکہ اللہ کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے پھر کیا خالق اور مخلوق دونوں برابر ہو سکتے ہیں، وہی خالق اس لائق ہے کہ اسی کی عبادت ہو، اللہ کی اس صفت میں کسی کو شریک کرنا بدترین جرم ہے، اور یہ جرم ناقابل معافی ہے جس کی سزاء ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔
أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ (النمل:۶۰) هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (لقمان:۱۱) أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
(النحل :۱۷)
صفت خلق سے ملتی جلتی چند اور صفات:
خلق کے معنی سے ملتی جلتی اللہ تعالیٰ کی چند اور صفات بھی ہیں، مثلاً الباری، المصور، بدیع السموت و الارض، اور فاطر السموت و الارض وغیرہ، یہ صفات باہم قریب قریب معنی بھی ہیں اور ان میں آپس میں فرق بھی ہے، مثلاً : بدیع السموت والارض کسی چیز کو عدم سے وجود بخشنے کے معنی میں آتا ہے، ابداع اس کو کہتے ہیں کہ ایک چیز نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم ’’کن‘‘ سے اس کو وجود بخشا، فاطر السموت و الارض بھی اسی معنی میں آتا ہے، البتہ فاطر خاص ایسی ہستی کو کہتے ہیں جس نے بغیر مثال کے کسی چیز کو پیدا کیا، جبکہ ایک چیز موجود ہے اور اس کی مثال میں ایک دوسری چیز پیدا کی جائے اس کو فاطر نہیں کہتے، اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود بھی بخشا ہے اور بغیر مثال کے بھی پیدا کیا ہے۔ پھر کسی مخلوق کے قالب کو پیدا کرنا اس کو ظاہر کرنے والا اللہ کا نام الباریٔ ہے، اور ان میں تصویر کشی کرنے کی اللہ کی صفت کو ظاہر کرنے والا اللہ کا نام المصور ہے، اورالخالق کے معنی یہ بھی ہیں کہ: چند مادوں کو آپس میں خلط ملط کرکے ان سے ایک اور مخلوق پیدا کرنا، یعنی مثلاً اللہ نے پانی اور مٹی کو اپنے حکم کن سے پیدا کیا یہ اس کی صفت ابداع ہے، پھر ان کو ملا کر انسان کو پیدا کیا یہ اس کی صفت تخلیق ہے، پھر انسان کو پیدا کرنے میں اس کا ایک قالب ڈھالا یہ اس کی صفت إبراء /الباری ہے، اور اس قالب میں تصویر کشی کی یہ اس کی صفت المصور ہے۔
أن المراد بالبارئ قالب الأعيان ، أي أنه أبدع الماء والتراب والنار والهواء لا من شيء ، ثم خلق منها الأجسام المختلفة كما قال جل وعز : ( وجعلنا من الماء كل شيء حي (الأنبياء آية رقم : ۳۰) وقال : ( إني خالق بشرا من طين (ص آية رقم : ۷۱) ، وقال : ( ومن آياته أن خلقكم من تراب
(الروم آية رقم : ۲۰)
تدبیر کائنات :
کائنات کو جس طرح اللہ نے پیدا کیا ہے اسی کے ساتھ یہاں کے سارے نظام کی تدبیر اللہ تعالیٰ ہی فرما رہے ہیں، ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ تعالیٰ ہی پورے نظام کو اللہ تھامے ہوئے ہے، وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرکے الگ ہو کر نہیں بیٹھ گیا ہے بلکہ آسمانوں اور زمین پر اسی کی باداشاہت ہے ، اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو چھائی ہوئی ہے، کوئی شے اس کی اختیار اور قدرت سے باہر نہیں ہے، آسمانوں اور زمین میں سای کی قدرت چلتی ہے،ہر چیز اس کےسامنے ہے، اور ہر چیز اس کے علم میں ہے، وہ مستقل اور مسلسل اپنے بندوں کی نگہبانی کررہا ہے۔
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (یونس:۳)قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمْ مَنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (۳۱) فَذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ (یونس:۳۲) اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ مَا لَكُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ (۴) يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (۵)(السجدۃ) اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
(۲۵۵) (البقرۃ)
ہر چیز اپنے دائرہ اور حد میں اللہ کی تدبیر سے ہے:
آسمانوں اور زمین کو اپنی اپنی جگہ وہی رکھے ہوئے ہے، اسی کی تدبیر و انتظام ہے کہ آسمان زمین پر آگرتا نہیں ہے، اسی کی تدبیر ہے کہ سورج اور چاند اپنے اپنے دائرہ میں گھومتے رہتے ہیں ، اسی کی تدبیر ہے کہ دن و رات اپنے اپنے وقت مقررہ پر نکلتے رہتے ہیں، اس کےعلاوہ کوئی نہیں ہے جو زمین کو آسمان سے بچا سکے، اور اس کےعلاوہ کوئی نہیں ہے جو دن کے بعد رات کو لا سکے یا رات کے بعد دن کو لاسکے، رات دن سورج چاند ستارے اسی کے حکم سے مسخر ہیں۔
فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (۹۶) (الأنعام)تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (۲۷)(آل عمران)وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۱۲) (النحل) قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (۷۲) وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (۷۳) (القصص) إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا (۴۱)
(الفاطر)
مظاہر فطرت اللہ کی تدبیر کا اظہار ہیں:
مخلوقات کو زندگی دینے کے بعد وہی ان کی پرورش کا سامان کررہا ہے، سمندروں سے پانی وہی اٹھاتا ہے، بادل وہی لاتا ہے، بارش وہی برساتا ہے، وہی پانی کو زمین میں محفوظ کرتا ہے، وہی دانے کو پھاڑتا ہے ، اور وہی درخت اور کھیتیاں اگاتا ہے، مخلوقات کی ضرورت کے لحاظ سے اسی نے اناج اور پھل پھول پیدا کرنے کا یہ سارا تدبیری نظام جاری کیا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللَّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (۹۵) (الأنعام)وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ انْظُرُوا إِلَى ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ إِنَّ فِي ذَلِكُمْ لَآَيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (۹۹) وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ (۱۰۰) بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۱۰۱) ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (۱۰۲) (الأنعام) أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ (۴۳)
(النور)
انسانوں کےلئے مخلوقات کا مسخر ہونا اللہ کی تدبیر کا حصہ ہے:
اللہ کی ہی تدبیر و انتظام کا حصہ ہے کہ اس نے خشکی اور سمندر اور فضاء کو اپنی مخلوقات کے لئے مسخر کیا ہے، زمین میں چلنے پھرنے کے راستے اسی نے بنائے ہیں، وہی ہے جو ستاروں کے ذریعہ راستوں کی رہنمائی کرتا ہے، وہی ہے جس نے سمندر کو سفر کےلئے مسخر کیا ہے، اور سمندر میں کسی طوفان سے بچانے کی قوت اسی کے ہاتھ ہے، وہی ہے جو فضاء میں پرندوں کو تھامے ہوئے ہے، اس نے یہ سارا نظام اپنی مخلوقات کے فائدہ اور ان کی زندگی کی بقاء کے لئے جاری کیا ہے۔
هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ (۲۲)(یونس)وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (۱۴) (النحل)أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِي جَوِّ السَّمَاءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (۷۹) (النحل)أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَيُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ (۶۵) (الحج) أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ (۱۹) أَمْ مَنْ هَذَا الَّذِي هُوَ جُنْدٌ لَكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ (۲۰)
(الملک)
تخلیق انسانی میں تدریج:
سب سے پہلے انسان کو مٹی سے اسی نے پیدا کیا ہے، اس کے بعد ان کی زندگی کا سلسلہ اسی کے انتظام و تدبیر سے جاری ہے، اسی نے انسانوں کو جوڑوں کی شکل میں بنایا، اور ان سے ان کی نسل کو جاری کیا، ایک انسان سے دوسرا اور پھر ان سے ان کی نسل اسی کی تدبیر سے جاری ہے، اسی نے گندے پانی کے نطفہ میں یہ صلاحیت رکھی کہ وہ جنین بن سکے، وہی نطفہ کو علقہ اور پھر مضغہ بناتا ہے، پھر وہی اس کو ہڈیوں میں بدلتا ہے، اور وہی ان ہڈیوں پر گوشت چڑھاتا ہے، اور وہی مرد و عورت بناتا ، اور وہی ان کی تصویر کشی کرتا ہے، اور وہی ان کو سننے دیکھنے والا اور صاحب عقل بنا کر دنیا میں لاتا ہے، بچپنا جوانی اور بڑھاپا سب اسی کی تدبیر کا حصہ ہے، زندگی اور موت کا سلسلہ اسی کا جاری کیا ہوا ہے۔
وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الْآَيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ (۹۸) (الأنعام)إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ (۵)هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۶)(آل عمران) هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا شُيُوخًا وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى مِنْ قَبْلُ وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (۶۷) هُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ فَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (۶۸) (غافر) وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ (۱۲) ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ (۱۳) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (المؤمنون:۱۴)قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ (۲۳) قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (۲۴)
(الملک)
عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ ہے:
وہی ہے جس کو چاہتا ہے اپنی مخلوقات میں بلندی و برتری دیتا ہے، اور یہ اس کا فضل ہے، اور جس کو چاہتا ہے نیچے اور کمزور رکھتا ہے، اور یقیناً یہ اس کا عدل والا ہے۔
قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲۶) (آل عمران)مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۲)
(الفاطر)
اللہ نے تدبیر یا تصرف کا کوئی اختیار کسی کے حوالہ نہیں کیا ہے :
تدبیر کا سارا نظام اللہ سے متعلق ہے، اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جو مخلوقات کی تدبیر کرتا ہو، یا تدبیر کے کسی شعبہ میں کوئی عمل دخل رکھتا ہو، اللہ نے کوئی تدبیر اور کوئی تصرف کا اختیار کسی کے حوالہ نہیں کیا ہے، اسی کے حکم سے اس کے فرشتے جو اللہ چاہتا ہے بس وہی کرتے ہیں، اپنے اختیار سے وہ کچھ نہیں کر سکتے، سب اللہ کے محتاج ہیں اور اللہ سب سے بے نیاز ہے۔
يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ (۱۳) إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ (۱۴) يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (۱۵) إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ (۱۶) وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ (۱۷)
(الفاطر)
رزق دینا/الرازق:
رزق یعنی روزی اور انسان کی ہر ضرورت کو پورا کرنا ربوبیت الہٰی کا حصہ ہے، اور یک گونہ تدبیر کائنات میں شامل ہے، البتہ اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو مستقل ذکر کیا جاتا ہے۔
’’الرزاق، اور الرازق‘‘ دونوں اللہ کے نام اور صفت ہیں، اور رزق دینا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، رزق کے اسباب پیدا کرنے والا اور آسمان سے رزق کے خزانے اتارنے والا صرف اللہ ہے،آسمانوں اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں،اور ہر طرح کی عطاء اسی کی جانب سے جاری ہے، جس طرح ہر انسان کا رزق اللہ مہیا کرتا ہے اسی طرح ہر جاندار کا رزق اللہ مہیا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے اور ان کےلئے پاکیزہ رزق مہیا کرتا ہے، اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے ۔
قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (یونس :۳۱) لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (الشوری :۱۲) وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي ا لْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (ھود :۶) وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (العنکبوت :۶۰) قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ (سبأ :۳۹) اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (الشوری :۱۹) قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(الأعراف :۳۲)
اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ سب کو رزق حوالہ نہیں کردیا ہے کہ سب اپنے اپنے رزق کو اٹھائے اٹھائے پھرتے ہوں بلکہ وہ ہر ایک کے مستقل اور عارضی ٹھکانوں سے واقف ہے اور وہیں ہر ایک کا رزق مہیا کیا جاتا ہے، اور سب کا رزق ایک ساتھ پیدا بھی نہیں کردیا جاتا کہ لوگ اس کو حاصل کرکے پھر بغاوت کریں اور فساد مچاتے پھریں بلکہ بقدر ضرورت اللہ رزق اتارتا رہتا ہے۔
وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ (الشوری :۲۷) وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي ا لْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (ھود :۶) وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(العنکبوت :۶۰)
آسمان سے با برکت پانی وہی اتارتا ہے، جن سے باغات اور اناج کے طرح طرح کے دانے اگاتا ہے، ایک دوسرے میں گتھے ہوئے کھجور کے خوشوں کو پروان چڑھاتا ہے، یہ سب اس نے بندوں کےلئے رزق کے طور پر پیدا کیا ہے۔انسان جو کچھ اناج غذا کے طور پر کھاتا ہے اس پر پانی اللہ نے برسایا ہے، اور پھرپودے کو زمین سے پھاڑ کر بھی اللہ ہی نکالتا ہے، اور اس میں سے پھر اناج کے دانے ، انگور، قضب، زیتون، کھجور اور دیگر پھلوں سے لدے ہوئے باغات اور کھیتیاں انسانوں کےلئے ،اور جانوروں کےلئے چارہ اللہ نے ہی پیدا کیا ہے، اور پاک جانوروں کو بھی بطور غذا کے اللہ نے ہی پیدا کیا ہے۔
لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ (۲۸)(الحج)وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ (۳۴) (الحج)اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ (۳۲) (ابراھیم)هُوَ الَّذِي يُرِيكُمْ آيَاتِهِ وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ رِزْقًا وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَنْ يُنِيبُ (۱۳) (غافر)وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا فَأَنْبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ (۹) وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ (۱۰) رِزْقًا لِلْعِبَادِ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا كَذَلِكَ الْخُرُوجُ (۱۱) (ق)فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَى طَعَامِهِ (۲۴) أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا (۲۵) ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا (۲۶) فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا (۲۷) وَعِنَبًا وَقَضْبًا (۲۸) وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا (۲۹) وَحَدَائِقَ غُلْبًا (۳۰) وَفَاكِهَةً وَأَبًّا (۳۱) مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ (۳۲)
(عبس)
رزق کی طرح ہر عطاء اللہ کی جانب سے ہے، رحمت کے خزانے صرف اسی کے ہیں، وہی وہاب ہے، اولاد کا دینا نہ دینا اسی کے ہاتھ میں ہے، اور جسے چاہے نرینہ اولاد دے اور جسے چاہے بیٹیاں دے سب اس کا اختیار ہے۔
لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (۴۹) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (۵۰) (الشوری)أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ (۹) (ص)قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (۳۵)
(ص)
رزق کے معاملہ میں اللہ نے کسی کو کسی پر فضیلت بھی دی ہے، اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے، جس کو وسعت دی ہے وہ اللہ کا فضل ہے، اور جس کو تنگی کی ہے اس کے ساتھ کوئی اہانت کا معاملہ نہیں کیا ہے بلکہ ضرورت کے بقدر سبھی کےلئے مہیا کیا ہے اور یہ اس کا عدل ہے۔
اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَفَرِحُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ (۲۶) (الرعد)اللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ (۷۱) وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ (۷۲) وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ (۷۳)
(النحل)
رزق کے دروازہ جس کے لئے چاہے کھولنا اور جس کےلئے چاہے تنگ کر دینایہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کے علاوہ کوئی رزق کا مالک نہیں ہے رزق کےلئے اللہ کے علاوہ جس کسی کے بھی آگے ہاتھ پھیلایا جاتا ہے وہ خود محتاج ہے، اگر اللہ رزق روک لے تو کوئی اس کو مہیا کرنے والا نہیں ہے۔
إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (۱۷)
(العنکبوت)
اللہ کی صفت رزق میں شرک:
رزق اور کسی عطا٫ میں غیر اللہ کو مؤثر ماننا شرک ہے، مثلاً یہ ماننا کہ کوئی پیر ولی یا نبی و رسول کے اختیار میں ہے کہ وہ بندوں کےلئے رزق کے دروازے کھول سکتے ہیں،ایسا ماننا اللہ کی صفات میں شرک کرنا ہے، اور ایسا مان کر اُن پیر و ولی کو یا نبی و رسول سے سوال کرنا یہ ایک اور دوسرا الوہیت میں شرک کرنا ہے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ رزق اور روزی کا مہیا کرنا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اولاد کا دینا نہ دینا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ان کی نسبت کسی غیر اللہ کی جانب کرنا یہ شرک فی الصفات میں سے ہے۔
وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ (۷۳) (النحل) إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (۱۷) (العنکبوت) لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (۴۹) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (۵۰)
(الشوری)
ہدایت:
ہدایت دینا اللہ کی صفت اور الھادی اللہ کا نام ہے، جس طرح اللہ مخلوقات کی ظاہری نعمتوں کو پورا کرتا ہے اسی طرح وہی مخلوقات کی باطنی نعمتوں کو بھی پورا کرتا ہے، باطنی نعمتوں میں سب سے اہم ہدایت ہے، مخلوقات میں سبھی کو اللہ نے ان کے کاموں کی ہدایت دی ہے، انسان جو اللہ کی مخلوقات میں سب اشرف اور کرامت والی مخلوق ہے اس کی ہدایت کا اللہ نے بہت ہی خاص اہتمام کیا ہے۔انسانوں میں اللہ کی اس صفت ہدایت کا ظہور کئی طرح سے ہوا ہے، انسان میں سلیم فطرت کو ودیعت کرکے انہیں تقوی اور فجور کا الہام کردینا یہ اللہ کی صفت ہدایت کا آغاز ہے، نفس لوّامہ کو ودیعت کرنا یہ بھی اللہ کی صفت ہدایت کا ظہور ہے، نیک اعمال کی توفیق ملتے رہنا یہ بھی اللہ کی صفت ہدایت کا ظہور ہے، ان کے علاوہ رسولوں کو مبعوث فرمانا، او رکتابوں کو نازل کرنا ، اور رسولوں کے پیروکاروں میں حق و انصاف کی تبلیغ کرنے والے نیکوکاروں کو ہر دور میں پیدا کرنا بھی اللہ کی اسی صفت ہدایت کا ظہور ہے۔
قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى (طہ :۵۰) أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُنِيرٍ (۲۰) وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ (۲۱) وَمَنْ يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى وَإِلَى اللَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (لقمان :۲۲) قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ قُلِ اللَّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ أَفَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لَا يَهِدِّي إِلَّا أَنْ يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (یونس :۳۵) رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (النساء:۱۶۵)وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ (ابراھیم :۱۲) وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(النحل :۹)
اللہ ہدایت دینے یا ضلالت دینے کا مطلب:
اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے کہ جس کو چاہے ہدایت دیں اور جس کو چاہیں گمراہ کردیں ، لیکن اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر حق و باطل دونوں کو واضح کردیا ہے، اور بتلا دیا کہ حق کو اختیار کرنے والے کامیاب اور نا حق کو اختیار کرنے والے نا کام ہیں، پھر جو اپنے اختیار سے جس راستہ کو اپنا تا ہے اللہ تعالیٰ اس میں اپنے جبر کو شامل نہیں کرتے، ہاں جو حق کی راہ اختیار کرتا ہے اللہ اس کو ہدایت میں بڑھاوا دیتے ہیں، اور جو ناحق کو اختیار کرلیتا ہے اللہ اس کےلئے اسی کو آسان کردیتے ہیں، اللہ ظلم ، کفر اور فسق کا راستہ اختیار کرنے والوں کو جبر سے ہدایت نہیں دیتے ۔
ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (الزمر :۲۳) وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (غافر :۳۳) يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (المائدۃ :۱۶)وَكَذَلِكَ أَنْزَلْنَاهُ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَأَنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يُرِيدُ (الحج :۱۶) قَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (النور :۴۶) يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (البقرۃ :۱۴۲) وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (البقرۃ :۲۵۸) وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ (البقرۃ :۲۶۴) وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
(المائدۃ :۱۰۸)
جو شخص اپنے اختیار سے کسی راستہ کو اختیار کرلیتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی بندہ اس کو اس راستہ سے ہٹا نہیں سکتا، جب کسی کے اپنے اختیار کردہ طریقہ سے ہدایت مقرر ہوگئی تو اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جب کسی کے اپنے اختیار کردہ طریقہ سے اس کےلئے گمراہی مقدر ہو گئی تو کوئی اس کو ہدایت یاب نہیں کر سکتا، کوئی بندہ خواہ وہ کسی درجہ کا ہو کسی اور بندہ کو ہدایت نہیں دے سکتا ، ہدایت دینا صرف اللہ کی صفت اور اختیار ہے، ہاں بندے ذریعہ کی حد تک کام آ سکتے ہیں جس کی تفصیل’’ایمان بالرسالۃ‘‘ کے عنوان کے تحت آئے گی۔
لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
(البقرۃ :۲۷۲)
مکلفین کی ہدایت ان کی پیدائش سے جاری ہے، جب جب انسان کو اللہ کی ہدایت کی ضرورت رہی ہے اللہ نے انہیں ہدایت دی ہے، اور انہیں کفر و ضلالت کی گمراہیوں سے نکال کر ایمان و ہدایت کے نور تک لایا ہے، اور اس کے راستے اور اسباب بنائے ہیں۔
فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرۃ :۳۸) يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (المائدۃ :۱۶)وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۸۷) ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (۸۸) أُولَئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَإِنْ يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ (۸۹) أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ
(الأنعام :۹۰)
اللہ کی صفت ہدایت میں شرک:
اللہ کی صفت ہدایت میں کسی کو شریک کرنا کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور بھی ہدایت دیتا ہے یہ شرک ہے، لیکن ذریعہ کی حد تک کسی کو ہادی ماننا جس معنی میں خود اللہ نے کسی کو ہادی مانا ہے جیسے اللہ کے رسول اور اللہ کی کتابوں کو ہادی ماننا یہ شرک نہیں ہے ۔
قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ قُلِ اللَّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ أَفَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لَا يَهِدِّي إِلَّا أَنْ يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (یونس :۳۵) وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (القصص :۵۰) بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَنْ يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ (الروم :۲۹) أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا
(الفرقان:۴۳)
اللہ کی صفت ہدایت کا کفر:
اللہ کی صفت ہدایت کا انکار کرنا کہ اللہ نے کوئی ہدایت کا سلسلہ جاری نہیں کیا ہے، یا یہ کہنا کہ انسان کی ہدایت کےلئے ان کے رب کی جانب سے کوئی سلسلہ نہیں تھا ، اور کہنا کہ پہلے انسان تاریکی میں تھا اور بتدریج ہدایت یاب ہوا ہے، اور کسی بھی راستہ کو اختیار کرنا درست ہے سبھی راستے حق کے ہیں یہ سب کفریہ کلمات ہیں۔
قُلْ أَنَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (الأنعام :۷۱) قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
(البقرۃ :۱۲۰)
عدل سے متعلقہ صفات:
امر ،حکم ،اور قضاء ، سب اللہ کی صفات فعلیہ ہیں، یہ سب صفات قریب المعنی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے ان سب افعال میں عدل سے کام لیتے ہیں، اس اعتبار سے عدل کرنا یہ اللہ کی ایک اور صفت ہے اور ان سب صفات میں انجام کار اسی کی اہمیت ہے، ان صفات میں سے صفت حکم سے اللہ کا ایک اسم الحاکم اور احکم الحاکمین ہے۔
حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ (۸۷) (الأعراف)وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ (۱۰۹)
یونس
احکام کا مکلف بنانے میں عدل:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کسی بات کا حکم دینے ، ان کےلئے کسی قانون کو بنانے، کسی چیز کو حلال یا حرام کرنے اور دنیا میں کسی بھی قسم کی عطاء میں عدل کرنے والے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بھی اپنے فیصلوں میں عدل و قسط کا تاکیدی حکم فرمایا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (۵۸) (النساء)إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (۹۰) (النحل)وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (۹)
(الحجرات)
اعمال کی جزا٫ و سزا٫ میں عدل:
اسی طرح بندوں کے اعمال میں ان کو جزاء و سزاء دینے میں بھی اللہ عدل کرنے والے ہیں، قیامت حشر و نشر، حساب، میزان، جنت و جہنم سب اللہ کے صفت عدل کا ہی ظہور ہے ، جن میں اللہ تعالیٰ اپنے بندو ں کے ساتھ عدل و انصاف فرمائیں گے، برائی پر سزاء بندوں کی جانب سے برائی کے ارتکاب پر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں ہیں۔
ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (۱۸۲) (آل عمران)قُلْ لِمَنْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلْ لِلَّهِ كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (۱۲) (الأنعام)إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ (۴) (یونس)لِيَجْزِيَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (۵۱) (ابراھیم)مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (۴۶) (فصلت)فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ (۴۰)أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (۴۱) (الرعد)الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فَالَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (۵۶) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآَيَاتِنَا فَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ (۵۷) (الحج)وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ (۷) أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ (۸) وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ (۹) (الرحمن)الْيَوْمَ تُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (۱۷)
(غافر)
عدل و فضل:
عدل اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، صفت عدل کے ساتھ فضل کا معاملہ کرنا اللہ کی ایک اور صفت ہے، جب بندہ کوئی اچھا عمل کرتا ہے تو اچھا عمل کرنا اس کا فرض ہے کیونکہ یہ اس کے مالک کا حکم ہے، اگر اللہ اس کے فرض کی ادائیگی پر اس کو اچھا بدلہ دیتا ہے تو یہ اس کا فضل ہے، اللہ اس فضل کا پابند نہیں ہے، چاہے تو دے چاہے تو نہ دے چونکہ اس نے اپنی رحمت کو غالب رکھا ہے ، اس لئے وہ فضل کا ہی معاملہ کرتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی بندہ برا عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عدل کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اس کو اس برائی کی سزاء دے، لیکن اگر وہ اپنے فضل کا معاملہ کرکے یہ چھوٹ دیتا ہے کہ برائی کے ارتکاب کے بعد کوئی توبہ کرلے تو وہ اس کو معاف کردے گا، اللہ تعالیٰ کی یہ چھوٹ اس کا فضل ہے، اور اللہ کو اس کا اختیار ہے، اللہ تعالیٰ کسی کو سزاء دینے کا پابند نہیں ہے۔
وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ بَلْ لَهُمْ مَوْعِدٌ لَنْ يَجِدُوا مِنْ دُونِهِ مَوْئِلًا (۵۸) (الکھف)مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ (۴۴) لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (۴۵) (الروم)لِيَجْزِيَ اللَّهُ الصَّادِقِينَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ إِنْ شَاءَ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (۲۴) (الأحزاب)لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (۴) وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آَيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ (۵) (سبأ)وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى (۳۱) (النجم)غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ (۳)
(غافر )
اللہ کی صفات عدل و فضل میں کفر و شرک:
اللہ کی صفات عدل و فضل کا انکار کفر ہے، اور ان صفات کو جن معنی میں یہ اللہ کے لئے استعمال ہوتی کسی او رکی جانب بالذات منسوب کرنا شرک ہے۔ بالذات منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ: اگر کوئی اللہ کے حکم کے تابع فرمان مان کر نبی علیہ السلام کو عادل مانے تو یہ شرک نہیں ہے، اولوا الامر میں سے کسی کو اس کی دین پسندی اور انصاف مزاجی کی وجہ سے عادل مانے تو یہ شرک نہیں ہے۔ لیکن اللہ کے علاوہ ہر کوئی محدودیت کی صفت سے متصف ہے، کال عدل صرف اللہ کی صفت ہے، مثلاً کسی قاتل کو دنیا میں قتل میں قصاص کرنا یہ عدل کا تقاضہ ہے، نبی اولی الامر اس تقاضہ کو حکم الہیٰ کے مطابق دنیا میں پورا کرسکتے ہیں، لیکن مثلاً اگر کوئی شخص ایک سے زائد جیسے تین یا تین سو یا تین ہزار قتل کا مرتکب ہوا ہو، تو اس کی سزا٫ بھی اللہ کے علاوہ دوسرے صرف ایک ہی قصاص کی شکل میں دے سکتے ہیں، تین یا تین سو یا تین ہزار قصاص ایک ہی شخص سے نہیں لے سکتے، لیکن اللہ کامل عدل کرنے والا ہے، اور کل قیامت کے دن ہر ایسے شخص کے ساتھ کامل عدل کیا جائے گا، اور اس کے کئے کی مکمل جزا٫ و سزا٫ اللہ سے پائے گا، اللہ میں صفت عدل اس درجہ کامل و مکمل ہے، اس معنی میں صفت عدل غیر اللہ میں ماننا شرک ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ کےتنزیہی صفات کی تصدیق کس طرح کریں؟
وہ اسماء و صفات جو باری تعالی سے نقص و عیب کی نفی پر دلالت کرتے ہیں ۔ قرآن سنت میں باری تعالیٰ کی تنزیہ کا بیان دو طرح سے ہوا ہے، ایک اللہ تعالیٰ کے چند اسماء ایسے ہیں جو اس کی تنزیہ و تقدیس پر دلالت کرتے ہیں مثلاً : العلی، القدوس، السلام وغیرہ۔ اور دوسرا طریقہ تنزیہ کے بیان میں نفی کا ہے، مثلاً وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا (البقرۃ:۲۵۵) وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (سورہ ق:۳۸) ان آیات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ میں صفت عجز نہیں ہے اور وہ تھکتا نہیں ہے، یہ نفی کا بیان ہے۔
صفات میں نفی و اثبات:
قرآن و سنت میں اللہ کے تعارف میں نفی اور اثبات دونوں طریقے ہیں، مثلاً اوپر صفات ذاتیہ اور صفات فعلیہ میں بالعموم اثبات کا بیان ہوا ہے کہ اللہ کیا ہیں، یہاں نفی کے طریقے کا بیان ہے۔
نفی میں اجمال اور اثبات میں تفصیل:
اللہ تعالیٰ کے تعارف کے بارے میں قرآن و سنت کا طرز ''اثبات میں تفصیل اور نفی میں اجمال'' کا ہے، یعنی اﷲ کیا ہے؟ اس کا ذکر تفصیلی ہے اور اﷲ کیا نہیں ہے اس کا ذکر اجمالاً ہے، اور یہی تعظیم و توقیر اور ادب کا تقاضہ بھی ہے، مثلاً ہم کسی کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں : فلاں شخص بڑا عالم ہے، ذہین ہے، بہادر ہے، منصف ہے، وغیرہ وغیرہ ، یہ نہیں کہتے: فلاں حجام نہیں ہے، دربان نہیں ہے، موچی نہیں ہے، ظالم نہیں ہے، چور نہیں ہے، بدمعاش نہیں ہے۔ پہلا طریقہ اثبات کہلاتا ہے ، یعنی اس بات کا بیان کہ وہ کیا ہے؟ اور دوسرا نفی کہلاتا ہے یعنی اس کا بیان کہ وہ کیا نہیں ہے،نفی میں تفصیل اور اثبات میں اجمال بجائے تعریف کہ توہین کرنا شمار ہوتا ہے، جیسا کہ اوپر کے منفی جملہ پڑھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے ، کسی کا تعارف اگر اس طرح نفیاً کیا جائے تو وہ اس کی تعریف کے بجائے اس کی تحقیر اور توہین ہوتی ہے۔
تعریف تو یہ ہے کہ محاسن اور خوبیاں معروضی اور ایجابی انداز میں بیان کی جائیں ، اس لئے آسمانی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے تعارف کے بیان میں اثبات میں تفصیل اور نفی میں اجمال ہے۔ باری تعالی کی صفات کے بیان میں ''نفی میں اجمال''کی مثال میں ہم پورے قرآن میں صرف چند جملے بیان کر سکتے ہیں مثلاً: لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ……وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا (البقرۃ:۲۵۵) وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (ق:۳۸)، أَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (آل عمران :۱۸۲)وغیرہ۔جبکہ اس طرح کے چند جملوں کے علاوہ کل تعارف تفصیلی اثبات کے طرز پر ہے، مثلاً: اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ……لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ……وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقرۃ:۲۵۵)، وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (البقرۃ:۱۶۳)، اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲۶) تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (آل عمران: ۲۷)۔اسی طرح هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (۲۲) هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (۲۳) هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الحشر:۲۴) اسی طرح سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۱) لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲) هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۳) هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (۴) لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ (۵) يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۶) (سورۃ الحدید) وغیرہ، قرآن مجید میں عام طور پر تعارف اِلٰہ اسی خوبصورت انداز میں ہے، جس میں باری تعالیٰ کی عظمت و جلالت شان کا صحیح تعارف حاصل ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ میں اور نقص و عیب سے پاک ہونے کی صفات مثلاً قرآن میں یہ بیان کی گئی ہیں کہ:
اللہ تعالیٰ پر اس کی کمال حیات اور کمال قیومیت کی وجہ سے کبھی اس پر اونگھ او ر نیند طاری نہیں ہوتی۔
لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ
( البقرۃ:۲۵۵)
اور اس کی کمال قوت و قدرت کی وجہ سے اس پر کبھی کوئی تھکن طاری نہیں ہوتی۔
وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ( البقرۃ:۲۵۵) وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ
(سورہ ق:۳۸)
اور اس کے کمال علم کی وجہ سے کوئی شے اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں ہے۔
لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ
(سورۃ سبأ:۳)
اور اس کے کمال عدل کی وجہ سے وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
(سورۃ الکہف:۴۹)
اس کے جلال و عظمت اور کبریائی کا کمال ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں۔
لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ
(سورۃ الأنعام:۱۰۳)
یہ سب اللہ تعالیٰ کی تنزیہی صفات ہیں، ان صفات کو جو شخص اللہ کے علاوہ کسی اور میں مانے اس نے شرک کیا، اور جو شخص اللہ کےلئے ان صفات کا انکار کرے اس نے کفر کیا ۔
بندوں اور اللہ کے لئے استعمال ہونے والی مشترک صفات اور دونوں میں فرق:
اللہ تعالیٰ کے لئے خاص اسماء و صفات کو بندوں کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں ہے، مثلاً الرحمن ، اللہ کا نام ہے، اب اس اسم پر کسی انسان کا نام رحمن نہیں رکھا جا سکتا، لیکن اللہ تعالیٰ کی وہ اسماء و صفات جو اللہ تعالیٰ کےلئے خاص نہیں ہیں ، اور خود قرآن و حدیث نے انہیں اللہ کے علاوہ دوسروں کےلئے استعمال کیا ہے ان کو دوسروں کےلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بعض صفات جن کو بندوں کےلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، مثلاً : حَيّ، عَلِيم، قَدِير، رءوف، رَحِيم، عَزِيز، سَمِيع، بَصِير، مَلِك، مُؤْمِن، جَبَّار، مُتَكَبِّر وغیرہ ، مثلاً ایک جگہ قرآن پاک میں ارشاد ہے: يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ، اس میں غیر اللہ کے لئے الْحَيّ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا: فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ، اس میں غیر اللہ کے لئے حَلِيم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا: وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ، اس میں غیر اللہ کے لئے عَلِيم کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ایک اور جگہ فرمایا: بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ، اس میں نبی ﷺ کے لئے رَءُوفٌ رَحِيمٌ صفات استعمال ہوئی ہیں، ایک اور جگہ فرمایا:فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا، اس میں غیر اللہ کے لئے سمیع و بصیر صفات استعمال ہوئی ہیں، ایک اور جگہ فرمایا:قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ، اس میں غیر اللہ کے لئے الْعَزِيز کا لفظ استعمال ہوا ہے ،ایک اور جگہ فرمایا:وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ، اس میں غیر اللہ کے لئے مَلِك کا لفظ استعمال ہوا ہے، ایک اور جگہ فرمایا:أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا، اس میں غیر اللہ کے لئےمؤمن کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا:كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ۔ اس میں غیر اللہ کے لئےمُتَكَبِّر و جَبَّار صفات استعمال ہوئی ہیں ۔
لیکن بندوں کےلئے ان صفات میں یہ فرق ملحوظ رہے کہ: بندوں میں صفت حیّ اللہ الحیّ کے مثل نہیں ہے، اور بندوں میں صفت عزیز اللہ العزیز کے مثل نہیں ہے، اسی طرح بندوں میں صفت علیم اللہ العلیم جیسی نہیں ہے، اور ایسے ہی ان تمام اسما٫ کا حال ہے جن کو بندوں کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
مثلاً اللہ العلیم ہے، تو اس کے علم کی صفت ان آیات میں بیان کی گئی ہیں،باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ، ایک او رجگہ ارشاد ہے أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ، ایک اور جگہ ارشاد ہے وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَى وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ۔
اللہ کے علم کے مقابلہ میں بندوں کا گویا کوئی علم ہی نہیں ہے، مثلاً حدیث مبارکہ میں اس بات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے، حضرت جابر ؓسے منقول ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمیں ہر معاملہ میں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے ایسے جیسے آپ ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے تھے، آپ فرماتے جب تم میں سے کوئی کسی معاملہ کا ارادہ کرے تو دو رکعات نفل ادا کرے، اور پھر یہ دعا٫ پڑھے، اور اس میں اپنی حاجت کا ذکر کرے :
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ.
(صحیح بخاری) ۔
اسی طرح حضرت عمار بن یاسر سے ایک اور حدیث میں یہ دعا٫ منقول ہے:
اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ الْكَرِيمِ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ۔
اسی طرح ایک اور جگہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً، اور ایک دوسری جگہ فرمایا: وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِمَا عَلَّمْنَاهُ۔ ظاہر ہے یہاں علم اور قوت سے مراد اللہ کے علم و قوت کے مثل علم اور قوت نہیں ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت الحیی ہے، اس کی صفت حیات بندہ کی صفت حیات سے کیسے کیسے ممتاز ہے بہت تفصیل طلب ہے لیکن چند بنیادی امتیازات میں مثلاً بندہ کی حیات کو موت لاحق ہے، لیکن اللہ کی حیات کو موت لاحق نہیں ہے، باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ۔
یہی مثال دوسری صفات کی بھی ہے، اس بارے میں اصول یہ ہے کہ بندوں کی صفات عطائی، حادث، اور محدود ہیں، جبکہ اللہ کی یہ صفات بھی بندوں کی صفات سے اس طرح ممتاز ہیں کہ وہ ذاتی، قدیم اور لا محدود ہیں۔
ہم اللہ تعالیٰ کےصفاتِ متشابہات کےکس طرح قائل ہوں؟
متشابہ اسماء و صفات ثابت ہیں:
قرآن و سنت میں یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ، ہاتھ،پنڈلی، انگلیاں، آنکھیں اور پیر ہیں، اللہ ہنستے ہیں، اللہ عرش پر مستوی ہیں، اللہ تعالیٰ سب سے اوپر ہیں، اللہ الظاہر ہیں، اللہ الباطن ہیں، اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ حشر کے میدان میں فرشتوں کی صفوں کے جھرمٹ میں جلوہ افروز ہوں گے۔ اللہ کے رسولﷺ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے جب یہ صفات قرآن و حدیث میں آئیں تھیں تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو بعینہ قبول کرلیا ، وہ اس پر ایمان لائے، اور ان کو یہ سب ماننے میں کوئی شبہ پیش نہیں آیا ، ہم بھی انہیں کی پیروی میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو بعینہ مانتے ہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی بر حق صفات ہیں۔
اسماء متشابہات کا مفہوم:
بعد کے ادوار میں فلسفیانہ مذاہب میں جب اسلام پھیلا تو ان کی فلسفیانہ موشگافیوں سے اور کچھ یہودیوں کی سازش سے اعتقادی فتنے عام کرنے کی کوشش کی گئی، انہیں میں سے ایک یہ بحث بھی ہے، ان کی جانب سے اس بحث میں جو فتنہ پردازی کی گئی وہ یہ شبہ ہے کہ: ایسی صفات کے حاملین میں سے ہم جن کو جانتے ہیں ، وہ سب ذی جسم ہوتے ہیں، اور ’’ذی جسم حادث ہوتا ہے قدیم نہیں ہوتا ‘‘اسی طری ’’ذی جسم جہات میں محدود ہوتا ہے ‘‘وغیرہ، جبکہ حادث ہونا اور جہات میں محدود ہونا عیوب اور نقائص ہیں، اور اللہ تعالیٰ نقائص اور عیوب سے منزہ ہے، ان نقائص و عیوب سےاللہ کی تنزیہ لازمی ہے۔
اسماء متشابہات میں سلف کا طرز عمل:
سلف کے علماء متقدمین نےاس شبہ کا جو بے تکلف مضبوط جواب دیا وہ یہ ہے کہ: یہ صفات ثابت ہیں ، ہمارا ایمان ہے کہ یہ اللہ کی صفات ہیں، باقی رہی یہ بات کہ ان کی کیفیت کیا ہے وہ ہمیں نہیں بتائی گئی، اس لئے انہیں ہمیں ایسے ہی ماننا ہے، کیفیات کی بحث میں نہیں جانا ہے، ذی جسم ہونا نہ ہونا اور جہات میں محدود ہونا نہ ہونا، اس کا تعلق کیفیت سے ہے، ہمارے محدود علم میں یہ صفات ذی جسم کی اور محدود ہوتی ہیں، ممکن ہے اللہ کے علم میں اس کی اور بھی کیفیت ہو، جن کا ہماری عقل ناقص ادراک نہیں کرسکتی، اسی لئے اس کو قرآن و سنت نےمبہم رکھا ہے، ہمیں اس کو ایسے ہی ماننا ہے جیسے بیان کیا گیا ہے، کہ : وہ ہیں۔
اسما٫ متشابہات کی کیفیت کی تحقیق بدعت ہے:
رہی بات ان کی کیفیات کے بارے میں سوال جواب کہ وہ صفات کیسی ہیں؟ اللہ کا چہرہ کیسا ہے؟ ہاتھ کیسا ہے؟ آنکھیں کیسی ہیں ؟ وغیرہ یہ تمام سوالات اس طبقہ میں نہیں اٹھے تھے جن پر اسلام نازل ہوا، یعنی صحابہ کا طبقہ، بلکہ اُن کے سامنے اِن صفات کو جیسے ذکر کیا گیا وہ ان پر ویسے ایمان لے آئے، اور وہی دور قابل اتباع ہے، ان کی کیفیات کے بارے میں سوال بعد کی اختراع اور بدعت ہے، جس سے اجتناب لازمی ہے۔ یہی متقدمین کی اس عبارت الاستواء معلوم، و الکیف مجھول، و السوال عنہ بدعۃ کا مفہوم ہے۔
اس میں الاستواء معلوم، و الکیف مجھول عبارت کا جزء حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے موقوفا اور مرفوعاً بھی ثابت ہے۔ اور و السوال عنہ بدعۃ کا جزء کہ کیفیت کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے امام مالک اور دیگر ائمہ اسلام سے منقول ہے۔
اور یہ معاملہ صرف استواء کا نہیں ہے، بلکہ ایسی ہر صفت جس کا ظاہر متشابہ ہو اس کا یہی حکم ہے۔
مثلاً :الوجہ معلوم/ أو ثابت ،و الکیف مجھول ،و السوال عنہ بدعۃ۔ الید معلوم/ أو ثابت ،و الکیف مجھول ،و السوال عنہ بدعۃ۔ الأعین معلوم/ أو ثابت ،و الکیف مجھول ،و السوال عنہ بدعۃ۔ العلو و الفوقیۃ معلوم/ أو ثابت ،و الکیف مجھول ،و السوال عنہ بدعۃ۔ النزول معلوم/ أو ثابت ،و الکیف مجھول ،و السوال عنہ بدعۃ۔ المجیٔ معلوم/ أو ثابت و الکیف مجھول و السوال عنہ بدعۃ۔ وغیرہ
اسما٫ متشابہات کی توجیہ :
بعض علماء نے اسماء متشابہات کے حل کےلئے ان کی افہام و تفہیم کےلئے مناسب توجیہ کی کوشش کی ہے، جیسے اشعری علماء نے یہ طریقہ اختیار کیا، اور انہوں نے مثلاًکہا کہ: وجہ سے مراد اللہ کی عظمت ہے۔ ید سے مراد اللہ کی قدرت ہے۔ اعین سے مراد اللہ کا علم ہے۔ استواء سے مراد استیلاءاور انتظام ہے۔ اور نزول سے مراد توجہ ہے۔ وغیرہ وغیرہ لیکن بہت سے محققین اسلام نے ان توجیہات کی کوشش کو پسند نہیں کیا، اور کہا کہ یہ اللہ کے کلام کو اس کے ظاہر سے ہٹانے کی کوشش ہے، اور بعضوں نے ان توجیہات کی کوشش کو بہت شدت سے رد کیا ہے، حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفات اپنے ظاہر پر محمول ہیں ، کہ ہاں واقعی اللہ میں وجہ ید اور اعین وغیرہ ہیں، ان کا استواء نزول اور قیامت کے دن فرشتوں کی صف کے درمیان ان کی آمد یقینی ہے، البتہ ان کی کیفیات ہمارے لئے متشابہات میں سے ہے، اس لئے ان کی کیفیات کی تفتیش سے گریز کرنا چاہئے، باقی رہی یہ صفات تو مسلم امر ہے کہ اللہ کےلئے وہ سب کچھ ہے جو خود اللہ نے اپنے تعارف میں بیان کیا ہے، کیسے ہے وہ اللہ ہی جانتا ہے، اس نے ان کی کیفیات کوہمیں بیان نہیں کیا ہے، اور اس کی صفات و اسماء میں ہماری خود سے دخل اندازی کو اور بغیر علم کے ظن و تخمینہ سے تبیین و تشریح کو منع کیا ہے اور اس کو الحاد قرار دیا ہے اس لئے اس سے گریز لازمی ہے۔
(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لإبن أبی العز:۱/۱۸۷)
صفات ’’علو اور استوا٫‘‘اور ان کے دلائل :
ان صفات کو ظاہر پر رکھنے والوں اور ان کی توجیہ / اور تاویل کرنے والوں کے درمیان ان صفات میں سے بہت زیادہ زیر بحث رہنے والی صفات ’’علو‘‘ ’’فوق‘‘ اور ’’استواء‘‘ہیں۔ یہ صفات ثابت ہیں، جس کے دلائل درج ذیل ہیں:
(۱) :يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ (سورۃ النحل:۵۰)۔اس میں فوقیت کی تصریح موجود ہے، جس کو حرف اداۃ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
(۲) : تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ (سورۃ المعارج:۴)۔اس میں فوقیت کی تصریح ہے جس میں حرف اداۃ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔
(۳) : إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ (سورۃ الفاطر:۱۰)۔ فرشتے اس کے یہاں عروج کی منزلیں طے کرکے جاتے ہیں۔ اس میں عروج کس معنی کو ظاہر کررہا ہے۔ انہیں الفاظ کے ساتھ حدیث بھی وارد ہوئی ہے: ۔
(۴) : إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ (سورۃ الفاطر:۱۰)۔ اللہ کی جانب کلمات طیبات کا صعود ہوتا ہے، یہ صعود علو کی جانب نہیں تو پھر کہاں ہوتا ہے۔
(۵) نبی ﷺ کی معراج خود باری تعالیٰ کےلئے علو کو ثابت کرتی ہے، پھر معراج میں نبی ﷺ کا حضرت موسی علیہ السلام کے پاس متعدد بار آنا اور متعدد بار صعود کرکے تخفیف صلاۃ کےلئے اللہ کے پاس جانا علو کو بے تکلف ثابت کرتی ہے۔
(۶) : بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ (سورۃ النساء:۱۵۸)۔ : إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ (سورۃ آل عمران:۵۵)۔ ان آیات میں رفع کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب رفع کہا ہے، اس میں الیٰ صلہ کے ساتھ رفع سے کیا سمت علو کا اثبات نہیں ہے؟
(۷) : وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (سورۃ البقرۃ:۲۵۵)، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ (سورۃ سبأ:۲۳)، إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ (سورۃ الشوری: ۵۱)۔ مطلق علو کے اثبات کی یہ آیات ہر طرح کے علو کو ثابت کررہی ہیں۔
(۸) تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (سورۃ غافر:۲)، تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (سورۃ الزمر:۱)، تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (سورۃ فصلت:۲)، تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ (سورۃ فصلت:۴۲)، قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ (سورۃ النحل:۱۰۲)، حم وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ (سورۃ الدخان:۱-۵)۔ ان آیات میں اور دیگر آیات میں قرآن مجید اللہ کی جانب سے ’’نازل ہوا‘‘ ہے متعدد مرتبہ وارد ہوا ہے جن سے علو کا اثبات بے تکلف ہو جاتا ہے۔
(۹) : إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ(الأعراف :۲۰۶). وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ عِنْدَهُ(الأنبیا٫:۱۹)چند مخلوقات اللہ کے پاس ہیں ، وہ کہاں ہیں، علو میں یا سفل میں ؟ حدیث میں بھی اس طرح کے الفاظ ا س کتاب کے بارے میں آئے ہیں جو اللہ کے پاس ہے، جس میں فوقیت کی صراحت ہے: أنه عنده فوق العرش ۔
(۱۰) متعدد آیات میں استواء علی العرش کی صراحت ۔
(۱۱) دعاء میں مانگنے کے لئے ہاتھ اٹھانے کا ذکر بتلاتا ہے کہ دعاء قبلہ علو ہے۔
(۱۲) ہر رات اللہ کا آسمان دنیا پر نازل ہونا علو کو ثابت کرتا ہے۔
(۱۳) حجۃ الوداع کے موقع پر جب آپ نے صحابہ کو اپنی رسالت کی ذمہ داری کی ادائیگی پر گواہ بنایا اور صحابہ نے گواہی دی تو رسول اللہ ﷺ نے آسمان کی جانب انگلی اٹھائی اور کہا : ۔
(۱۴) رسول اللہ ﷺ کا اس باندی کے لئے ایمان کی شہادت دینا جو آسمان کی جانب اشارہ کرکے کہتی ہے کہ اللہ وہاں ہے۔
(۱۵) جنت میں جنتیوں کا اللہ کو سر اٹھا کر ایسے دیکھنا جیسے چودھویں کے چاند کو دیکھتا ہے، علو کو بے تکلف ثابت کرتا ہے۔
نصوص میں اس فوقیت و علو کا اللہ کےلئے انکار ممکن نہیں ہے، چنانچہ تمام اہل سنت والجماعت اللہ تعالیٰ کی ان صفات یعنی علو فوقیت اور استوا٫ پر ایمان رکھتے ہیں ، جن تمام فقہا٫ و محدثین سبھی شام ہیں، شیخ الاسلام ابو اسماعیل انصاری نے اپنی کتاب ’’الفاروق‘‘ میں اپنی سند سے مطیع بلخی سے نقل کیا ہے کہ: انہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا جو کہتا ہے کہ: اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ امام صاحب نے اس کے بارے میں جواب دیا کہ وہ کافر ہے، کیونکہ اللہ فرماتے ہیں کہ: الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى۔ اور اللہ کا عرش ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے۔ مطیع بلخی کہتے ہیں کہ: میں نے امام صاحب سے پھر پوچھا: اگر کوئی کہے کہ اللہ تو عرش پر ہے، لیکن ساتھ ہی کہے کہ لا أدري العرش في السماء أم في الأرض اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ امام صاحب نے کہا کہ : وہ بھی کافر ہے، کیونکہ وہ عرش کے آسمانوں کے اوپر ہونے کا منکر ہے، تو گویا جس نے اللہ کے آسمانوں کے اوپر ہونے کا انکار کیا گویا اس نے کفر کیا۔
اس مشہور واقعہ سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ امام صاحب اور ان کے تلامذہ علو کے قائل تھے، جو امام ابو یوسف اور بشر مریسی کے بارے میں مشہور طور پر منقول ہے کہ: بشر مریسی نے اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا انکار کیا تھا، جس پر امام ابو یوسف نے اس کو توبہ کروائی تھی، اس واقعہ کو عبد الرحمن بن ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔
لیکن ان صفات کی کیفیت کیا ہے کہ اللہ کےلئے علو فوقیت اور استوا٫ کا مفہوم کس معنی میں ہے اسی طرح مجہول ہے جس طرح ’’وجہ ید اور ساق ‘‘وغیرہ کی کیفیت مجہول ہے، اور ان کی کیفیت کا اس طرح بیان کے جہات ستہ سے ان کی تبیین اور تشریح کی جائے یہ صفات باری تعالیٰ میں صریح الحاد کرنا ہے۔
(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لإبن أبی العز:۱/۱۸۶،۱۸۵)
علو اور فوقیت کے لئے جہت کے اثبات کی بے راہ روی :
یہ اوپر گذر چکا کہ تمام اہل سنت و الجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ ’’استوا٫ اور علو ثابت ہے، لیکن ان کی کیفیت کیا ہے وہ اللہ کے علم میں ہے، اور کیفیت کا سوال بدعت ہے‘‘۔ لیکن اِدھر کچھ عرصہ سے استوا٫ علو اور فوقیت کے بارے میں ایسی بیان بازی ہوئی ہے کہ ایک گروہ کی جانب سے یہ پروپیگینڈہ کیا گیا ہے کہ احناف ان صفات کے قائل نہیں ہیں، جبکہ یہ خلاف حقیقت ہے، اوپر امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف سے منقول روایات نقل کی جا چکی ہیں، دوسرے ابن ابی العزکے حوالہ سےاوپر ان صفات کے حق میں دلائل بالتفصیل ذکر کئے گئے ہیں، پھر بھی احناف پر ان صفات کا الزام ایک جھوٹا اور بناوٹی الزام ہے، جو احناف کو بد نام کرنے کےلئے دیگر اور کوششیں کی جاتی ہیں ان میں سے ایک ہے۔ البتہ ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی ضروری ہے کہ ان صفات کااثبات تمام اہل سنت و الجماعت کے یہاں بلا کیفیت ہوتا ہے، جبکہ اس زمانہ کے ایک گروہ کی جانب سے جو احناف کے خلاف پروپیگینڈہ میں مشغول ہےوہ خود تمام اہل سنت و الجماعت ، قرآن و سنت ، صحابہ ، فقہا٫ و محدثین کے بالکل خلاف اس عقیدہ کا اثبات اس طرح کررہا ہے کہ اس سے ’’جہت‘‘ کا اثبات لازم آرہا ہے، اور جب تک ’’جہت‘‘ کو ثابت نہ کیا جائے تب تک انہیں اطمینان ہی نہیں ہوتا، جبکہ دلائل سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ ’’جہت‘‘ کا اثبات کیفیت کے باب دخل اندازی ہے، اور یہ اہل سنت والجماعت / اور صحابہ اور سلف کے طریقہ کے بالکل خلاف طرز عمل ہے، اور جو لوگ ’’صحیح عقیدہ ‘‘ کے نام پر استوا٫ اور علو کی بحث میں جہت سے کمتر پر رازی ہی نہیں ہوتے، ان کا اہل سنت والجماعت کے سواد اعظم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور ان کے موقف کو تسلیم کر لینا گویا کیفیت کی تفتیش میں پڑنا ہے جیسا کہ حضرت ام سلمہ کا منقول گذر چکا ہے کہ کیفیت ہمارے لئے مجہول ہے، اور امام مالک سے اس بارے میں گذر چکا کہ کیفیت کی تحقیق بدعت ہے، اس لئے اس باب میں نہایت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کہ ’’صحیح عقیدہ‘‘ کے نام پر عقائد بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اللہ تمام مسلمانوں کو اس گمراہی سے محفوظ رکھے آمین۔
===========================================
لفظ "رب" کا غلط استعمال:
بےعلم لوگ مخلوق کو رب بناتے ہیں، جبکہ ان سے اگر پوچھا جائے کہ رب کسے کہتے ھیں تو اپنے غیر ثابت جاہلانہ خیالات کے سوا کوئی علم نہیں رکہتے۔
وجود صانع کی تقریر:
قَالَ رَبُّنَا الَّذِیۡۤ اَعۡطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلۡقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی ﴿طه:۵۰﴾
کہا رب ہمارا وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو اُسکی صورت پھر راہ سجھائی [۴۸]
یعنی ہر چیز کو اس کی استعداد کے موافق شکل صورت ، قویٰ ، خواص وغیرہ عنایت فرمائے ۔ اور کامل حکمت سے جیسا بنانا چاہئے تھا بنایا۔ پھر مخلوقات میں سے ہر چیز کے وجود و بقا کے لئے جن سامانوں کی ضرورت تھی ۔ مہیا کئے اور ہر چیز کو اپنی مادی ساخت اور روحانی قوتوں اور خارجی سامانوں سےکام لینے کی راہ سمجھائی۔ پھر ایسا محکم نظام دکھلا کرہم کو بھی ہدایت کر دی کہ مصنوعات کے وجود سے صانع کے وجود پر کس طرح استدلال کرنا چاہئے۔ فلہ الحمد والمنہ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یعنی کھانے پینےکو ہوش دیا۔ بچہ کو دودھ پینا وہ نہ سکھائے تو کوئی نہ سکھا سکے۔"
الَّذِیۡۤ اَطۡعَمَہُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ۬ۙ وَّ اٰمَنَہُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ ﴿قريٍش:۴﴾
جس نے اُنکو کھانا دیا بھوک میں اور امن دیا ڈر میں۔

No comments:
Post a Comment