Monday, 16 April 2012

شفاعت کا بیان

عقیدۂ شفاعت»
قیامت کے دن اللہ کی اجازت کے سوا کوئی کسی کی سفارش نہ کرسکے گا۔
القرآن:
۔۔۔کوئی اس کی اجازت کے بغیر (اس کے سامنے) کسی کی سفارش کرنے والا نہیں۔۔۔
[سورۃ یونس:3]
القرآن:
لوگوں کو کسی کی سفارش کرنے کا اختیار بھی نہیں ہوگا، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے خدائے رحمن سے کوئی اجازت حاصل کرلی ہو۔
[سورۃ مریم:87]

اللہ جس سے راضی ہوگا،اسی کی سفارش ہوسکے گی۔
القرآن:
وہ ان کی تمام اگلی پچھلی باتوں کو جانتا ہے اور وہ کسی کی سفارش نہیں کرسکتے، سوائے اس کے جس کے لیے اللہ کی مرضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے سہمے رہتے ہیں۔
[سورۃ الانبیاء:28]

حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
((يجاء بالعالم والعابد فيقال للعابد: ((ادخل الجنة)) ويقال للعالم: ((قف حتى تشفع للناس)) )) . 
ترجمہ:
(قیامت کے دن) لایا جائے گا عالم اور عابد کو پھر کہا جائے گا عابد کو ((داخل ہونا جنت میں)) اور کہا جائے گا عالم کو: ((ٹھہرجا، یہاں تک کہ تم شفاعت کرو لوگوں کی))۔
[الترغيب للاصبهاني:2157، الترغيب للمنذري:133]
[تفسیر روح البیان:7/455، سورۃ الصافات:25]
[تفسیر المظھری:10/133،سورہ المدثر:44]





(1)حافظِ قرآن کے فضائل»
حضرت علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَفِظَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدِ اسْتَوْجَبُوا النَّارَ .
ترجمہ:
جس نے قرآن پڑھا اور اسے یاد کیا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی۔
[سنن ابن ماجہ:216، مسند احمد:1278، الشريعة للآجري:816، المعجم الأوسط-للطبراني:5130، الترغيب-لابن شاهين:189، شعب الایمان-للبيهقي:2436]
تشریح:

"جس نے قرآن پڑھا" یعنی زبانی یاد ہو یا نظر سے (مصحف دیکھ کر)، "اور اسے حفظ کیا" یعنی اس پر عمل کرنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ یا "حفظ" سے مراد زبانی تلاوت کرنا ہے۔ "اور" (واو) ترتیب کی طرف اشارہ نہیں کرتی، لہذا ممکن ہے کہ معنی یہ ہو کہ جس نے قرآن کو حفظ کیا اور پھر اس کی تلاوت پر مداومت کی اور اسے ترک نہیں کیا۔ یا ممکن ہے کہ معنی یہ ہو کہ جس نے اس کی تلاوت پر مداومت کی یہاں تک کہ اسے حفظ کر لیا۔ دونوں صورتوں میں اس کے ساتھ عمل کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ بغیر عمل کے شخص کو جاہل شمار کیا جاتا ہے۔ ترمذی کی روایت اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ زبانی تلاوت معتبر ہے اور اس کی تصدیق کرتی ہے۔ 

"اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا" یعنی ابتدائی طور پر، ورنہ ہر مومن آخر کار جنت میں داخل ہوگا۔ "اور اس کی شفاعت قبول کرے گا" (شفّعہ میں فاء مشدد ہے) یعنی اس کی شفاعت کو قبول فرمائے گا۔ "وہ جہنم کا مستحق ہو چکا تھا" یعنی گناہوں کی وجہ سے، کفر کی وجہ سے نہیں۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
[حاشية السندي على سنن ابن ماجة:289]







حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”‏‏‏‏میری امت کے دو قسم کے افراد کے حق میں میری شفاعت قبول نہیں ہوگی: (١)انتہائی ظالم {دوسروں کو بے وقوف بنا کر جو ہاتھ لگے لے لینا والا} راہنما اور (٢)ہر وہ شخص {دین میں} غالی یعنی حد سے بڑھنے والا ہو، نکلنے والا ہو اس(دین) سے۔

[مساوئ الأخلاق للخرائطي:612، المعجم الكبير للطبراني:8079، صَحِيح الْجَامِع:3798، صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:2218، الصَّحِيحَة:470]







































حدیث نمبر 1

(حم) , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَمْلَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " رَأَيْتُ مَا تَلْقَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي (١) وَسَفْكَ بَعْضِهِمْ دِمَاءَ بَعْضٍ (٢) وَسَبَقَ ذَلِكَ مِنْ اللهِ تَعَالَى كَمَا سَبَقَ فِي الْأُمَمِ (٣) فَأَحْزَنَنِي وَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيَّ، فَسَأَلْتُ اللهَ تَعَالَى أَنْ يُوَلِّيَنِي فِيهِمْ شَفَاعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَفَعَلَ (٤) " (٥)

ترجمہ:

(حم) ، ام حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں نے (وحی یا نمائشی طور پر) دیکھا کہ میری امت میرے بعد کیا (فتنے اور مصیبتیں) پائے گی (١) اور ان کا ایک گروہ دوسرے کا خون بہائے گا (٢) اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے مقدر ہے جیسا کہ پچھلی امتوں میں مقدر تھا (٣) پس اس نے مجھے غمگین کیا اور یہ میرے اوپر گراں گزرا، تو میں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ قیامت کے دن ان (کی بخشش) میں میری شفاعت قبول فرما لے، پس اس نے ایسا ہی کیا (٤)" (٥)

حوالہ جات:

(١) یعنی: اللہ نے مجھے وحی کے ذریعے، یا نمائشی (رویائی) طور پر اطلاع دی۔ (فیض القدیر، جلد 1، صفحہ 613)
(٢) یعنی: اللہ نے مجھے وہ (مناظر) دکھائے جو ان کے درمیان فتنوں اور جنگوں کی صورت میں واقع ہوں گے، یہاں تک کہ ان میں سے بعض بعض کا خون بہائیں گے۔ (فیض القدیر، جلد 1، صفحہ 614)
(٣) یعنی: یہ کہ ان کا ایک دوسرے کا خون بہانا اللہ کے پہلے سے مقدر کردہ فیصلے میں شامل ہے، جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کے ساتھ واقع ہوا۔ (فیض القدیر، جلد 1، صفحہ 614)
(٤) یعنی: اس نے مجھے وہ عطا کر دیا جو میں نے اس سے مانگا تھا۔ (فیض القدیر، جلد 1، صفحہ 614)
(٥) (مسند الإمام أحمد: 27450) ، (صحیح الجامع: 918) ، (الصحیحة: 1440) ملاحظہ کریں۔




حدیث نمبر 2

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقَيْلٍ - رضي الله عنه - قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ قَائِلٌ مِنَّا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا سَأَلْتَ رَبَّكَ مُلْكًا كَمُلْكِ سُلَيْمَانَ؟ , " فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّ لِصَاحِبِكُمْ عِنْدَ اللهِ أَفْضَلَ مِنْ مُلْكِ سُلَيْمَانَ , إِنَّ اللهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلَّا أَعْطَاهُ دَعْوَةً فَمِنْهُمْ مَنِ اتَّخَذَهَا دُنْيَا , فَأُعْطِيهَا، وَمِنْهُمْ مَنْ دَعَا بِهَا عَلَى قَوْمِهِ إِذْ عَصَوْهُ , فَأُهْلِكُوا بِهَا، وَإِنَّ اللهَ أَعْطَانِي دَعْوَةً , فَخَبَّيْتُهَا عِنْدَ رَبِّي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
ترجمہ:
اور عبد الرحمٰن بن ابی عقیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا آپ نے اپنے رب سے سلیمان علیہ السلام کی سی بادشاہت نہیں مانگی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، پھر فرمایا: شاید تمھارے ساتھی (یعنی مجھے) کے لیے اللہ کے پاس سلیمان کی بادشاہت سے بہتر (چیز) ہے۔ بے شک اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اسے ایک دعا عطا فرمائی، تو ان میں سے بعض نے اسے دنیا کے لیے اختیار کیا تو اسے دے دی گئی، اور ان میں سے بعض نے اپنی قوم کے خلاف اس دعا کا استعمال کیا جب انہوں نے اس کی نافرمانی کی تو وہ اس دعا کے ذریعے ہلاک کر دیے گئے، اور بے شک اللہ نے مجھے دعا عطا فرمائی ہے، تو میں نے اسے اپنے رب کے پاس محفوظ رکھا ہے، (یعنی) قیامت کے دن اپنی امت کے لیے شفاعت کی دعا۔

[ظلال الجنة: 824، صحيح الترغيب والترهيب: 3635]




حدیث نمبر 3

(خ م حم) , وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ) (١) (قَدْ دَعَا بِهَا لِأُمَّتِهِ) (٢)

وفي رواية: (دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ , فَاسْتُجِيبَ لَهُ , وَإِنِّي اخْتَبَأتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ , فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهُ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا ") (٣)

ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ("ہر نبی کی ایک دعا ہوتی ہے جو قبول کی جاتی ہے) (١) (اس نے اسے اپنی امت کے لیے مانگا) (٢)

اور ایک روایت میں ہے: (اس نے اپنی امت کے لیے دعا مانگی تو اس کی قبول ہوئی، اور میں نے اپنی دعا چھپا کر رکھی ہے اپنی امت کے لیے قیامت کے دن شفاعت کرنے کے واسطے، پس وہ (شفاعت) پہنچے گی انشاء اللہ اس شخص کو جو ان میں سے مرا اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا") (٣)

🔗 حوالہ جات:
(١) (صحیح البخاری: 5945)
(٢) (مسند الإمام أحمد: 13305) ، (سنن ابن ماجة: 4307) ، اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
(٣) (صحیح مسلم: 199) ، (صحیح البخاری: 7036)


📖 تشریح:
یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر بے پناہ شفقت اور دوراندیشی کو ظاہر کرتی ہے۔ دیگر انبیاء علیہم السلام نے اپنی یہ خصوصی قبولیتِ دعا دنیاوی امور مثلاً دشمن کے ہلاک ہونے یا عظیم ملک کے لیے استعمال کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نادر موقع کو محفوظ رکھا تاکہ روزِ قیامت اپنی امت، بالخصوص توحید پر قائم رہنے والے گناہگاروں، کے لیے شفاعت فرماسکیں۔ یہ شفاعت ان کے گناہوں کی مغفرت، جہنم سے نجات یا جنت میں بلند درجات کا سبب بنے گی۔




حدیث نمبر 4

(س حم) , وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رضي الله عنه - قَالَ: (" صَلَّى رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لَيْلَةً , فَقَرَأَ بِآيَةٍ) (١) (فَرَدَّدَهَا حَتَّى أَصْبَحَ) (٢) (يَرْكَعُ بِهَا , وَيَسْجُدُ بِهَا) (٣) (وَالْآيَةُ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ , وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ , فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} (٤)) (٥) (فَلَمَّا أَصْبَحَ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ , مَا زِلْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآية حَتَّى أَصْبَحْتَ , تَرْكَعُ بِهَا وَتَسْجُدُ بِهَا , فَقَالَ: " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي - عز وجل - الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي , فَأَعْطَانِيهَا , وَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهُ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ - عز وجل - شَيْئًا ") (٦)

ترجمہ:

اور ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ("رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز پڑھی، تو آپ نے ایک آیت پڑھی) (1) (اور اسے بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی) (2) (اسی آیت کے ساتھ رکوع کرتے اور سجدہ کرتے رہے) (3) (اور وہ آیت یہ تھی: {اگر آپ انہیں عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں، اور اگر آپ انہیں بخش دیں تو بے شک آپ ہی غالب حکمت والے ہیں} (4)) (5) (پھر جب صبح ہوئی) تو میں نے عرض کیا: 'یا رسول اللہ، آپ صبح تک اس آیت کو پڑھتے رہے، اسی کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرتے رہے'، تو آپ نے فرمایا: "بے شک میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی امت کے لیے شفاعت کی درخواست کی، تو اس نے وہ مجھے عطا فرما دی، اور وہ (شفاعت) انشاء اللہ اس شخص کو پہنچے گی جو اللہ عزوجل کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو") (6)

(1) (مسند الإمام أحمد: 21366) ، (السنن الصغرى للنسائي: 1010) ، (سنن ابن ماجة: 1350) ، اور الارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔
(2) (مسند الإمام أحمد: 21425) ، (السنن الصغرى للنسائي: 1010) ، (سنن ابن ماجة: 1350) ، اور الارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔
(3) (مسند الإمام أحمد: 21366)
(4) [سورۃ المائدہ، آیت: 118]
(5) (السنن الصغرى للنسائي: 1010) ، (مسند الإمام أحمد: 21366) ، (مصنف ابن أبي شيبة: 8368) ، (مستدرک الحاكم: 879)
(6) (مسند الإمام أحمد: 21366) ، (مصنف ابن أبي شيبة: 31767) ، (سنن البيهقي الكبرى: 4717) ، (صفة الصلاة، صفحہ: 121)


📖 حدیث کا خلاصہ اور اہم نکات:
یہ حدیث نبی اکرم ﷺ کی امت پر بے پناہ شفقت، محبت اور فکر مندی کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ آپ ﷺ نے ایک پوری رات صرف ایک ہی آیت کو پڑھتے، اس پر غور کرتے اور اللہ کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے گزار دی، اور اس کا مرکزی موضوع اپنی امت کی مغفرت اور بخشش کی دعا تھا۔

آپ ﷺ کے اس عمل سے درج ذیل اہم باتیں سامنے آتی ہیں:

امت کی فکر: آپ ﷺ کا دل اپنی امت کی آخرت کی نجات کے لیے بے چین رہتا تھا۔

اللہ سے راز و نیاز: یہ آپ ﷺ اور آپ کے رب کے درمیان ایک انتہائی خصوصی مناجات تھی۔

شفاعت کا وعدہ: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی یہ عاجزانہ درخواست قبول فرما لی اور آپ کو قیامت کے دن شفاعت کا حق عطا فرما دیا۔

شفاعت کی شرط: آپ ﷺ نے واضح فرما دیا کہ یہ عظیم شفاعت صرف اور صرف توحید پر قائم رہنے والے افراد (یعنی شرک سے بچنے والے) ہی حاصل کر پائیں گے۔





حدیث نمبر 5

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: " عَرَّسَ (١) بِنَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ذَاتَ لَيْلَةٍ " , فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ , قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَى بَعْضِ الْإِبِلِ , فَإِذَا نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لَيْسَ قُدَّامَهَا أَحَدٌ , فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ قَيْسٍ - رضي الله عنهما - قَائِمَانِ , فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -؟ , فَقَالَا: مَا نَدْرِي , غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي مِثْلُ هَزِيزِ [الرَّحَا] (٢) فَقُلْتُ: امْكُثُوا يَسِيرًا , " ثُمَّ جَاءَنَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي, فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ, وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ "، فَقُلْنَا: نَنْشُدُكَ اللهَ وَالصُّحْبَةَ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ , قَالَ: " فَإِنَّكُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي " , قَالَ: فَأَقْبَلْنَا مَعَانِيقَ (٣) إِلَى النَّاسِ , فَإِذَا هُمْ قَدْ فَزِعُوا وَفَقَدُوا نَبِيَّهُمْ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ مِنْ رَبِّي آتٍ , فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ , وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ , وَإِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , نَنْشُدُكَ اللهَ وَالصُّحْبَةَ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ , فَلَمَّا أَضَبُّوا عَلَيْهِ (٤) قَالَ: " فَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنَّ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي " (٥)

ترجمہ:

عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: "ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ رات گزاری (١)"، پس ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سواری کا ہاتھ بچھا لیا۔ کہا: میں اونٹوں میں سے کچھ کے پاس پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی تھی جس کے سامنے کوئی نہ تھا، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا تو معاذ بن جبل اور عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہما کھڑے تھے، میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: ہمیں معلوم نہیں، البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصے میں چکی کی آواز جیسی آواز سنی ہے (٢)۔ میں نے کہا: ذرا ٹھہرو، پھر ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: "بے شک آج رات میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا، اس نے مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو جائے یا (پوری امت کے لیے) شفاعت، پس میں نے شفاعت کو اختیار کیا۔" ہم نے عرض کیا: ہم آپ کو اللہ اور صحبت کی قسم دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنی شفاعت والوں میں شامل کر لیں۔ آپ نے فرمایا: "تم میرے شفاعت والوں میں سے ہو۔" کہا: پھر ہم لوگوں کی طرف تیزی سے (٣) لوٹے تو وہ گھبرائے ہوئے تھے اور اپنے نبی ﷺ کو نہیں پا رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک آج رات میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا، اس نے مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو جائے یا شفاعت، اور میں نے شفاعت کو اختیار کیا ہے۔" تو انہوں (صحابہ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم آپ کو اللہ اور صحبت کی قسم دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنی شفاعت والوں میں شامل کر لیں، پھر جب انہوں نے آپ پر اصرار کیا (٤) تو آپ نے فرمایا: "پس میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے ہے جو مرا اور اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا ہو۔" (٥)

🔍 حواشی و حوالہ جات
(١) التعريس: مسافر کا رات کے آخری حصے میں آرام اور نیند کے لیے قیام کرنا۔ (حاشية السندي على ابن ماجه - جلد 1 / صفحہ 305)
(٢) (مسند الإمام أحمد: 19634) ، اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔
(٣) یعنی: تیزی سے۔
(٤) یعنی: آپ کے گرد جمع ہو گئے۔
(٥) (مسند الإمام أحمد: 24048) ، (الجامع الصحيح للترمذي: 2441) ، (صحيح الجامع: 56) ، (صحيح الترغيب والترهيب: 3637) ، (مشكاة المصابيح: 5600) ملاحظہ کریں۔







حدیث نمبر 6

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -: مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لَا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلَ مِنْكَ , لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ , خَالِصًا (١) مِنْ قَلْبِهِ , أَوْ نَفْسِهِ " (٢)
ترجمہ:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: "قیامت کے دن آپ کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت مند کون ہوگا؟" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے ابوہریرہ، میں نے تو یہی گمان کر لیا تھا کہ اس حدیث کے بارے میں تم سے پہلے مجھ سے کوئی نہ پوچھے گا، کیونکہ میں نے حدیث (کے حصول) میں تمہاری حرص دیکھی ہے۔ قیامت کے دن میری شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت مند وہ شخص ہوگا جس نے 'لا إله إلا الله' کہا ہو، خالص طور پر (١) اپنے دل سے، یا اپنے نفس سے۔" (٢)
---
🔍 حواشی و حوالہ جات
(١) آپ کے قول (خَالِصًا) میں منافق سے احتراز (یعنی اس کو مستثنیٰ کرنا) مقصود ہے۔ (فتح الباري، حدیث نمبر: 99)
(٢)(صحیح البخاری: 4999, 6201) ، (مسند الإمام أحمد: 8845)

---
📖 حدیث سے حاصل اسباق و نکات:
اس حدیث مبارکہ سے مندرجہ ذیل اہم اسباق اور نکات حاصل ہوتے ہیں:

1.  شفاعت کی اہمیت: قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ایک عظیم نعمت اور اعلیٰ ترین سعادت ہے، جسے پانے کی ہر مؤمن کو سعی کرنی چاہیے۔

2.  شرطِ اوّل: توحید خالص: شفاعتِ نبوی کی بلند ترین منزل تک پہنچنے کی پہلی، اہم ترین اور بنیادی شرط کلمہ توحید ('لا إله إلا الله') پر خالص عقیدہ رکھنا ہے۔ یہ شرط تمام دیگر اعمال کی بنیاد ہے۔

3.  خلوصِ نیت کا معیار: محض زبان سے کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ اس کا اقرار دل کی گہرائیوں (قلب) اور اندرونی وجود (نفس) سے ہونا چاہیے۔ اس میں ریا، دکھاوا یا کسی قسم کا نفاق شامل نہیں ہونا چاہیے۔

4.  علم کی قدر اور حرص: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حدیث کے علم کے حصول میں شدید شوق و حرص کی تعریف فرمائی۔ یہ علم دین سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

5.  سوال کا درجہ: اچھے اور مفید سوال کرنا علم میں اضافے کا باعث ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اہم سوال کی وجہ سے پوچھنے والے کی تحسین فرمائی۔

6.  شفقتِ نبوی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی ذہنی اور علمی صلاحیتوں سے واقف تھے اور ان کی خوبیوں کا اعتراف فرما کر انہیں مزید ترغیب دیتے تھے۔

7.  نفاق سے خطرہ: حدیث میں لفظ "خَالِصًا" کی تشریح سے واضح ہوتا ہے کہ منافقین جو ظاہر میں کلمہ پڑھتے ہیں مگر ان کے دل ایمان سے خالی ہوتے ہیں، وہ اس اعلیٰ شفاعت کے مستحق نہیں ہوں گے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ آخرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت اور شفاعت پانے کا راستہ خالص توحید اور علم دین کے حصول میں سچی لگن سے ہو کر گزرتا ہے۔



حدیث نمبر 7

عَنِ ابْنِ دَارَّةَ , مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ: إِنَّا لَبِالْبَقِيعِ (١) مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - إِذْ سَمِعْنَاهُ يَقُولُ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَتَدَاكَّ النَّاسُ عَلَيْهِ (٢) فَقَالُوا: إِيهِ (٣) يَرْحَمُكَ اللهُ؟ , قَالَ: " يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَقِيَكَ يُؤْمِنُ بِي , وَلَا يُشْرِكُ بِكَ " (٤)
اردو ترجمہ
ابن دارہ سے روایت ہے، جو عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے کہا: ہم بقیع (١) میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ اچانک ہم نے انہیں یہ کہتے سنا: "میں قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا شخص ہوں۔" (راوی) کہتے ہیں: تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے (٢) اور کہنے لگے: ارے! (٣) اللہ آپ پر رحم فرمائے (بتائیے تو)! انہوں (ابوہریرہ) نے کہا: "(نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ) فرمائیں گے: 'اے اللہ، ہر اس مسلمان بندے کو بخش دے جو تیری ملاقات (یعنی موت) پر تیرے رسول ہونے پر ایمان رکھتا تھا اور تیرا شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔'" (٤)
________________________________________
🔍 حواشی و حوالہ جات
(١) الْبَقِيع: مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا قبرستان۔
(٢) یعنی: (لوگ) ان کے گرد جمع ہو گئے۔
(٣) یعنی: (ہمیں) بتائیے، وہ (مستحقین) کون ہیں؟۔
(٤) (مسند الإمام أحمد: 10478) ، اور شیخ شعیب الأرنؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔

________________________________________
📖 حدیث سے حاصل اسباق و نکات
اس حدیث مبارکہ سے درج ذیل قیمتی اسباق اور نکات حاصل ہوتے ہیں:
1. شفاعت کی عملی تصویر: حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی شفاعت کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔ آپ اللہ کے حضور یہ جامع دعا فرمائیں گے جس میں آپ کی پوری امت کے مخلص مؤمن شامل ہوں گے۔
2. شفاعت کا وسیع دائرہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا دائرہ انتہائی وسیع ہے— "ہر مسلمان بندے" کے لیے۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے جو بنیادی شرط پوری کرتے ہوں۔
3. شرطِ شفاعت: ایمان بلا شرک: شفاعت پانے کی دو بنیادی شرطیں ہیں:
o رسول پر ایمان: "مجھ پر ایمان رکھتا تھا" سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر کامل یقین اور اقرار ہے۔
o توحید خالص: "تیرا شریک نہیں ٹھہراتا تھا" سے مراد زندگی بھر ہر طرح کے شرک (چھوٹے یا بڑے) سے بچنا اور صرف اللہ کی عبادت کرنا ہے۔ یہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر شفاعت قائم ہے۔
4. صحابہ کا علم کا شوق: حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علم دین کے حصول کے لیے بے چین رہنے کا منظر پیش کرتی ہے۔ جیسے ہی انہیں علم کا کوئی نیا پہلو معلوم ہوا، وہ فوراً جمع ہو گئے اور سیکھنے کے لیے بے تاب ہو گئے۔
5. حضرت ابوہریرہ کا فخرِ علم: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ "میں سب سے زیادہ جانتا ہوں" علم کی فضیلت پر اعتماد اور فخر ہے، ناکہ غرور۔ یہ ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خصوصی علم پانے کی خوشی اور اس علم کو پھیلانے کا جذبہ ظاہر کرتا ہے۔
6. موت پر خاتمہ کی اہمیت: دعا کے الفاظ "لَقِيَكَ" (تیری ملاقات پر) اشارہ کرتے ہیں کہ انسان کا انجام اور موت کے وقت اس کا عقیدہ نہایت اہم ہے۔ شفاعت اس شخص کے لیے ہے جس کی موت ایمان اور توحید کی حالت پر ہوئی۔
خلاصہ: یہ حدیث ہمیں یہ قیمتی سبق دیتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم الشان شفاعت سے وابستہ ہونے کا حق ایمانِ رسالت اور توحید خالص ہی خریدتا ہے۔ ساتھ ہی یہ صحابہ کے علم کے جذبے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے آداب کی بھی عکاسی کرتی ہے۔


حدیث نمبر 8

 (خ م ت حم) , وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وأبي سَعِيدٍ قَالَا: (كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فِي دَعْوَةٍ) ( 1) (فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَصْعَةٌ ( 2) مِنْ ثَرِيدٍ ( 3) وَلَحْمٍ، فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ - وَكَانَتْ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَيْهِ - فَنَهَسَ ( 4) مِنْهَا نَهْسَةً وَقَالَ:) ( 5) (" إِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْ جُمْجُمَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ( 6) وَلَا فَخْرَ) ( 7) (وَلِوَاءُ الْحَمْدِ بِيَدِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ( 8) وَلَا فَخْرَ , وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ ( 9) وَلَا فَخْرَ) ( 10) (وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمَ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي) ( 11) (وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ) ( 12) (وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ( 13) وَلَا فَخْرَ) ( 14) (ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى فَقَالَ: أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لَا يَسْأَلُونَهُ قَالَ: أَلَا تَقُولُونَ كَيْفَ؟ " , قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟) ( 15) (قَالَ: يَجْمَعُ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ) ( 16) (لِمِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ) ( 17) (فِي صَعِيدٍ ( 18) وَاحِدٍ) ( 19) (قِيَامًا أَرْبَعِينَ سَنَةً , شَاخِصَةً ( 20) أَبْصَارُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ يَنْتَظِرُونَ فَصْلَ الْقَضَاءِ) ( 21) (يُبْصِرُهُمْ النَّاظِرُ , وَيُسْمِعُهُمْ الدَّاعِي) ( 22) (وَنَجِيءُ نَحْنُ عَلَى كَذَا وَكَذَا انْظُرْ ( 23) أَيْ: ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ) ( 24) (وَمَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ ( 25)) ( 26) (وَتَدْنُو مِنْهُمْ الشَّمْسُ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ) ( 27) (وَيُزَادُ فِي حَرِّهَا كَذَا وَكَذَا , يَغْلِي مِنْهَا الْهَوَامُّ كَمَا تَغْلِي الْقُدُورُ) ( 28) (فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ [ وفي رواية: عَلَى قَدْرِ خَطَايَاهُمْ] ( 29) فِي الْعَرَقِ , فَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَرَقُ إِلَى كَعْبَيْهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَرَقُ إِلَى سَاقَيْهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَرَقُ إِلَى وَسَطِهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إلْجَامًا - وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ -) ( 30) (ويُطَوَّلُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ) ( 31) (فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ وَلَا يَحْتَمِلُونَ) ( 32) (فأَمَّا الْكَافِرُ فَيَتَغَشَّاهُ الْمَوْتُ , وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ كَالزَّكْمَةِ ( 33)) ( 34) (وَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمْ الْجَنَّةُ ( 35)) ( 36) (فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ: أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا أَنْتُمْ فِيهِ؟ , أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا بَلَغَكُمْ؟ , أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ؟) ( 37) (لَوْ اسْتَشْفَعْنَا ( 38) إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا) ( 39) (فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ فَيَشْفَعَ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا) ( 40) (قَالَ: فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ , أَنْتَ آدَمُ أَبُو الْبَشَرِ , خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ , وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ( 41)) ( 42) (وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ) ( 43) (أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟، أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا؟) ( 44) (فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا) ( 45) (فَيَقُولُ آدَمُ: وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ آدَمَ؟ ( 46) لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ) ( 47) (إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ , نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي , اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ) ( 48) (فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ) ( 49) (قَالَ: فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ , أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ , وَسَمَّاكَ اللَّهُ {عَبْدًا شَكُورًا} ( 50) اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ , أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟ , أَلَا تَرَى إِلَى مَا بَلَغَنَا؟) ( 51) (فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ) ( 52) (- سُؤَالَهُ رَبَّهُ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ ( 53) -) ( 54) (فَيَقُولُ: إِنَّ رَبِّي - عز وجل - قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُهَا عَلَى قَوْمِي , [ وفي رواية: إِنِّي دَعَوْتُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ دَعْوَةً فَأُهْلِكُوا] ( 55) نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي ( 56) اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ) ( 57) (خَلِيلِ الرَّحْمَنِ) ( 58) (قَالَ: فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ: يَا إِبْرَاهِيمُ، أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ , اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ , أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟) ( 59) (فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ ( 60)) ( 61) (وَإِنِّي قَدْ كُنْتُ كَذَبْتُ ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ ( 62)) ( 63) (- وهي قَوْلَهُ: {إِنِّي سَقِيمٌ} ( 64) وَقَوْلَهُ: {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} ( 65) وَقَوْلَهُ فِي الْكَوْكَبِ: {هَذَا رَبِّي} ( 66)) ( 67) (وَأَتَى عَلَى جَبَّارٍ مُتْرَفٍ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ، فَقَالَ: أَخْبِرِيهِ أَنِّي أَخُوكِ فَإِنِّي مُخْبِرُهُ أَنَّكِ أُخْتِي -) ( 68) (فَيَقُولُ لَهُمْ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ , وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى) ( 69) (عَبْدًا) ( 70) (اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ) ( 71) (وَقَرَّبَهُ نَجِيًّا ( 72)) ( 73) (قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَضَّلَكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ عَلَى النَّاسِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟) ( 74) (فَيَذْكُرُ مُوسَى خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ) ( 75) (فَيَقُولُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا , نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ) ( 76) (عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهُ , وَرُوحِ اللَّهِ وَكَلِمَتِهِ) ( 77) (قَالَ: فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ , وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا , اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ , أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟، فَيَقُولُ عِيسَى: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ - وَلَمْ يَذْكُرْ عِيسَى ذَنْبًا - نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ) ( 78) (عَبْدٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ) ( 79) (وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ , فَإِنَّهُ قَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ، قَالَ عِيسَى: أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ قَدْ خُتِمَ عَلَيْهِ، هَلْ كَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي الْوِعَاءِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ؟ فَيَقُولُونَ: لَا، قَالَ: فَإِنَّ مُحَمَّدًا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ) ( 80) (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: فَيَأْتُونِي، وَإِنِّي لَقَائِمٌ أَنْتَظِرُ أُمَّتِي تَعْبُرُ عَلَى الصِّرَاطِ، إِذْ جَاءَنِي عِيسَى فَقَالَ: هَذِهِ الْأَنْبِيَاءُ قَدْ جَاءَتْكَ يَجْتَمِعُونَ إِلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، وَيَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُفَرِّقَ جَمْعَ الْأُمَمِ إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ اللَّهُ لِغَمِّ مَا هُمْ فِيهِ , فالْخَلْقُ مُلْجَمُونَ فِي الْعَرَقِ) ( 81) (فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، وَخَاتَمُ الَأَنْبِيَاءِ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ) ( 82) (فَلِيَقْضِ بَيْنَنَا) ( 83) (أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا؟) ( 84) (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا) ( 85) (انْتَظِرْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ) ( 86) (فَيَوْمَئِذٍ يَبْعَثُهُ اللَّهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَحْمَدُهُ أَهْلُ الْجَمْعِ كُلُّهُمْ) ( 87) (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ) ( 88) وفي رواية: (فَآتِي بَابَ الْجَنَّةِ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ) ( 89) (فَأُقَعْقِعُهَا , فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ , فَيَفْتَحُونَ لِي وَيُرَحِّبُونَ بِي , فَيَقُولُونَ: مَرْحَبًا) ( 90) (فَإِذَا الْجَبَّارُ - عز وجل - مُسْتَقْبِلِي) ( 91) (فَأَخِرُّ سَاجِدًا) ( 92) (ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ) ( 93) (وَيُلْهِمُنِي) ( 94) (مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي) ( 95) (فَلَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مَا لَمْ يَلْقَ مَلَكٌ مُصْطَفًى وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ، فَأَوْحَى اللَّهُ - عز وجل - إِلَى جِبْرِيلَ: اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ لَهُ:) ( 96) (يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ , وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , وَسَلْ تُعْطَهْ) ( 97) (وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ) ( 98) (قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ: أُمَّتِي يَا رَبِّ، أُمَّتِي يَا رَبِّ , أُمَّتِي يَا رَبِّ ( 99) فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَهُمْ ( 100) شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْأَبْوَابِ ( 101) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ ( 102) مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ ( 103) أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى ( 104)) ( 105) (ثُمَّ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ تُعْرَضُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ ( 106)) ( 107) (فَيُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُولُ: لِيتَتْبَعْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ) ( 108) (مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ) ( 109) (فَيُمَثَّلُ لِصَاحِبِ الصَّلِيبِ صَلِيبُهُ) ( 110) (وَيُمَثَّلُ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ عِيسَى شَيْطَانُ عِيسَى، وَيُمَثَّلُ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ عُزَيْرًا شَيْطَانُ عُزَيْرٍ) ( 111) (وَيُمَثَّلُ لِصَاحِبِ التَّصَاوِيرِ تَصَاوِيرُهُ، وَلِصَاحِبِ النَّارِ نَارُهُ) ( 112) (وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ) ( 113) (وَأَصْحَابُ الْأَوْثَانِ مَعَ أَوْثَانِهِمْ , وَأَصْحَابُ كُلِّ آلِهَةٍ مَعَ آلِهَتِهِمْ) ( 114) (فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ مِنَ الَأَصْنَامِ وَالَأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ , حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ) ( 115) (وَغُبَّرُ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ( 116)) ( 117) وفي رواية: (فَيُدْعَى الْيَهُودُ فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ , قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: كَذَبْتُمْ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ، فَمَا تُرِيدُونَ؟، قَالُوا: عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا، فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ أَلَا تَرِدُونَ؟) ( 118) (اشْرَبُوا) ( 119) (فَيُحْشَرُونَ إِلَى النَّارِ كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا ( 120) فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ , ثُمَّ يُدْعَى النَّصَارَى فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ , قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: كَذَبْتُمْ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ، فَمَا تُرِيدُونَ؟ , فَيَقُولُونَ: عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا، فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ أَلَا تَرِدُونَ؟) ( 121) (اشْرَبُوا , فَيَذْهَبُ أَصْحَابُ الصَّلِيبِ مَعَ صَلِيبِهِمْ) ( 122) (فَيُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ) ( 123) (حَتَّى يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ) ( 124) (مِن هَذِهِ الْأُمَّةِ) ( 125) (مِنْ بَرٍّ ( 126) أَوْ فَاجِرٍ) ( 127) (فِيهَا مُنَافِقُوهَا) ( 128) (وَبَقَايَا أَهْلِ الْكِتَابِ - وَقَلَّلَهُمْ بِيَدِهِ -) ( 129) (فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ - عز وجل - فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ) ( 130) (فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ - وَالْمُؤْمِنُونَ عَلَى كَوْمٍ ( 131) -) ( 132) (فَيَقُولُ لَهُمْ: مَا بَالُ النَّاسِ ذَهَبُوا وَأَنْتُمْ هَاهُنَا؟) ( 133) (مَا يَحْبِسُكُمْ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاسُ؟) ( 134) (مَا تَنْتَظِرُونَ؟) ( 135) (أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ؟) ( 136) (لِتَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ) ( 137) (قَالَ: فلَا يُكَلِّمُهُ إِلَّا الْأَنْبِيَاءُ) ( 138) (فَيَقُولُونَ: فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا عَلَى أَفْقَرِ مَا كُنَّا إِلَيْهِمْ وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ ( 139)) ( 140) (وَإِنَّمَا نَنْتَظِرُ رَبَّنَا) ( 141) (الَّذِي كُنَّا نَعْبُدُ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ) ( 142) (فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ) ( 143) (لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا -) ( 144) (هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا , فَإِذَا أَتَانَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ) ( 145) (- قَالَ: وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ - ") ( 146) (فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَهُ؟ , فَيَقُولُونَ: إِذَا تَعَرَّفَ إِلَيْنَا عَرَفْنَاهُ) ( 147) (فَيَقُولُ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ فَتَعْرِفُونَهُ بِهَا؟) ( 148) (فَيَقُولُونَ: نَعَمْ) ( 149) (السَّاقُ) ( 150) وفي رواية: (ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقُولُ: مَنْ تَنْظُرُونَ؟ , فَيَقُولُونَ: نَنْظُرُ رَبَّنَا , فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ , فَيَقُولُونَ: حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ) ( 151) (فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وهَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ , فَقَالَ: " هَلْ تُضَارُّونَ ( 152) فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ صَحْوًا لَيْسَ مَعَهَا سَحَابٌ؟ "، قُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟ " قُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ) ( 153) (قَالَ: " فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ) ( 154) وفي رواية: (فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا كَمَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا) ( 155) (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ) ( 156) (فَيَتَجَلَّى لَنَا ضَاحِكًا) ( 157) (وَيَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ) ( 158) (فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ إِلَّا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ بِالسُّجُودِ) ( 159) (فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ) ( 160) (وَيَبْقَى كُلُّ مُنَافِقٍ) ( 161) (وَمَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً) ( 162) (يَجْعَلُ اللَّهُ ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً ( 163) كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ خَرَّ عَلَى قَفَاهُ) ( 164) (فلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْجُدَ , فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّه تَعَالَى: {يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فلَا يَسْتَطِيعُونَ} ( 165)) ( 166) (ثُمَّ يَرْفَعُونَ رُءُوسَهُمْ وَقَدْ تَحَوَّلَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَقَالَ: أَنَا رَبُّكُمْ) ( 167) (فَاتَّبِعُونِي) ( 168) (فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا ( 169)) ( 170) (فَيَتْبَعُونَهُ) ( 171) (فَيَقُودُهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ) ( 172) (وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ أَوْ مُؤْمِنٍ نُورًا) ( 173) (فَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ يَسْعَى بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورًا مِثْلَ النَّخْلَةِ بِيَمِينِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورًا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ، حَتَّى يَكُونَ رَجُلٌ يُعْطَى نُورَهُ عَلَى إِبْهَامِ قَدَمِهِ , يُضِيءُ مَرَّةً وَيُطْفِئُ مَرَّةً، فَإِذَا أَضَاءَ قَدَّمَ قَدَمَهُ فَمَشَى , وَإِذَا طُفِئَ قَامَ) ( 174) (ثُمَّ يُؤْتَى بِالْجَسْرِ [ وفي رواية: الصِّرَاط] ( 175) فَيُجْعَلُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ) ( 176) (وَالرَّبُّ - عز وجل - أَمَامَهُمْ يَقُولُ: مُرُّوا ") ( 177) (فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْجِسْرُ؟، قَالَ: مَدْحَضَةٌ مَزَلَّةٌ ( 178)) ( 179) (كَحَدِّ السَّيْفِ) ( 180) [ وفي رواية: مِثْلَ حَدِّ السَّيْفِ الْمُرْهَفِ] ( 181) (وَفِي حَافَّتَيْ الصِّرَاطِ) ( 182) (خَطَاطِيفُ وَكَلَالِيبُ ( 183) وَحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ لَهَا شَوْكَةٌ عُقَيْفَاءُ) ( 184) (مِثْلُ شَوْكٍ) ( 185) (تَكُونُ بِنَجْدٍ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ) ( 186) (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: هَلْ رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ) ( 187) (مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ) ( 188) (فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ) ( 189) (قَالَ: وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ، فَتَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا) ( 190) (قَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ يَوْمَئِذٍ مِنْ الْمُؤْمِنِ) ( 191) (فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ) ( 192) ( [ وفي رواية: فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُهَا] ( 193) [ وفي رواية: فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنْ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ] ( 194) (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: فَيُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ، وَيَنْجُوا الْمُؤْمِنُونَ، فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ كَالْبَرْقِ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ كَذَلِكَ ") ( 195) (فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ , قَالَ: " أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ؟ " , قَالَ: ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ) ( 196) (ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ) ( 197) (وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ ( 198)) ( 199) (وَآخَرُونَ يَسْعَوْنَ سَعْيًا وَآخَرُونَ يَمْشُونَ مَشْيًا) ( 200) (تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ، وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُولُ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ) ( 201) وفي رواية: (وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا الرُّسُلُ , وَدُعَاءُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ) ( 202) (فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ , وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ) ( 203) (وَمِنْهُمْ الْمُخَرْدَلُ ( 204) ثُمَّ يَنْجُو ( 205)) ( 206) (حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ) ( 207) (حَتَّى يَمُرَّ الَّذِي أُعْطِيَ نُورَهُ عَلَى إِبْهَامِ قَدَمَيْهِ , يَحْبُو عَلَى وَجْهِهِ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ , تَخِرُّ رِجْلُ وَتَعْلَقُ رِجْلٌ، وَيُصِيبُ جَوَانُبَهُ النَّارُ) ( 208) (فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا) ( 209) [ وفي رواية: يُسْحَبُ سَحْبًا] ( 210) (فلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَخْلُصَ، فَإِذَا خَلَصَ وَقَفَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ , لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ مَا لَمْ يُعْطِ أَحَدًا أَنْ نَجَّانِي مِنْهَا بَعْدَ إِذْ رَأَيْتُهَا) ( 211) (وَمِنْهُمْ مَنْ يُوبَقُ بِعَمَلِهِ) ( 212) (مَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ) ( 213) (وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُونَ خَرِيفًا) ( 214) (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: فَمِنْهُمْ الْمُؤْمِنُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ) ( 215) (وَمِنْهُمْ الْمُجَازَى حَتَّى يُنَجَّى) ( 216) (ثُمَّ يُقَالُ لِجَهَنَّم: هَلْ امْتَلَأْتِ؟ , فَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ , ثُمَّ يُطْرَحُ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ: هَلْ امْتَلَأْتِ؟ , فَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ , حَتَّى إِذَا أُوعِبُوا فِيهَا وَضَعَ الرَّحْمَنُ قَدَمَهُ فِيهَا ( 217)) ( 218) (فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ( 219) وَتَقُولُ: قَطٍّ قَطٍّ ( 220) بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ) ( 221) (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ ( 222)) ( 223) (فَأَدْخُلُ، فَإِذَا الْجَبَّارُ - عز وجل - مُسْتَقْبِلِي) ( 224) (فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا) ( 225) (وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا , لَا تَحْضُرُنِي الْآنَ , فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ) ( 226) (فَيَدَعُنِي اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ) ( 227) (قَالَ فَأَرْفَعُ رَأْسِي) ( 228) (فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي , فَيَقُولُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ) ( 229) (فَأَدْخِلْهُمْ الْجَنَّةَ) ( 230) (قَالَ: ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي) ( 231) (يَا رَبِّ , أَدْخِلْ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ خَرْدَلَةٌ) ( 232) (فَيَقُولُ: انْطَلِقْ فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا , قَالَ: فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ) ( 233) (فَأَدْخِلْهُمْ الْجَنَّةَ) ( 234) (ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا , فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي) ( 235) (أَدْخِلْ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى شَيْءٍ " - قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -) ( 236) (فَيَقُولُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا , قَالَ: فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ) ( 233) (فَأَدْخِلْهُمْ الْجَنَّةَ) ( 234) (ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا , فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي) ( 235) (أَدْخِلْ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى شَيْءٍ " - قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -) ( 236) (فَيَقُولُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْ النَّارِ , قَالَ: فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ) ( 237) (فَأَدْخِلْهُمْ الْجَنَّةَ) ( 238) (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ ( 239) مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ مِنْ الْخَيْرِ ذَرَّةً) ( 240) (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ) ( 241) (فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ ( 242) وَوَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ) ( 243) (يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) ( 244) (فَيَقُولُ: هَذِهِ لَيْسَتْ لَكَ يَا مُحَمَّدُ وَلَا لِأَحَدٍ، هَذِهِ لِي) ( 245) (وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَرَحْمَتِي لَا أَدَعُ فِي النَّارِ أَحَدًا يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) ( 246) وفي رواية: (فَيَقُولُ الرَّبُّ - عز وجل -: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) ( 247) (يَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا، وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ ") ( 248) (ثُمَّ تَلَا أنَسٌ هَذِهِ الْآية: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} ( 249) قَالَ: وَهَذَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وُعِدَهُ نَبِيُّكُمْ - صلى الله عليه وسلم - ") ( 250) وفي رواية: (حَتَّى إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ) ( 251) (وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ نَجَوْا , فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ) ( 252) (مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً مِنْ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ ( 253)) ( 254) (يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا , كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا , وَيَصُومُونَ مَعَنَا , وَيَحُجُّونَ مَعَنَا , وَيَعْمَلُونَ مَعَنَا) ( 255) (فَأَدْخَلْتَهُمْ النَّارَ) ( 256) (أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ) ( 257) (وَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ الَّذِينَ يُرِيدُ اللَّهُ - عز وجل - إِخْرَاجَهُمْ يُمِيتُهُمْ فِيهَا إِمَاتَةً حَتَّى يَصِيرُوا فَحْمًا) ( 258) (حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنْ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ) ( 259) (وَأَرَادَ رَحْمَةَ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ) ( 260) (مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ) ( 261) [ وفي رواية: أَذِنَ بِالشَّفَاعَةِ] ( 262) (فَقَالَ لَهُمْ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ مِنْهُمْ) ( 263) (وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ) ( 264) (فَكُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ النَّارُ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ , وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ) ( 265) [ وفي رواية: إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ] ( 266) [ وفي رواية: فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ] ( 267) (فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا) ( 268) (مِنْهُم مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ) ( 269) (وَمِنْهُم مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ , وَمِنْهُم مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ) ( 270) (وَمِنْهُم مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ ( 271) وَمِنْهُم مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى عُنُقِهِ) ( 272) (قَدْ امْتُحِشُوا ( 273) وَعَادُوا حُمَمًا ( 274)) ( 275) (فَيُخْرِجُونَ مِنْ النَّارِ خَلْقًا كَثِيرًا) ( 276) (فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ ( 277)) ( 278) (فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ , فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ ( 279) فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ( 280)) ( 281) (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: أَلَا تَرَوْنَ مَا يَكُونُ مِنْ النَّبْتِ إِلَى الشَّمْسِ يَكُونُ أَخْضَرَ، وَمَا يَكُونُ إِلَى الظِّلِّ يَكُونُ أَصْفَرَ؟) ( 282) ( [ وفي رواية: أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَنْبُتُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً] ( 283)؟ ( 284) " (فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ:) ( 285) (يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ كُنْتَ قَدْ رَعَيْتَ الْغَنَمَ؟) ( 286) (قَالَ: " أَجَلْ قَدْ رَعَيْتُ الْغَنَمَ) ( 287) (قَالَ: فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ، فِي أَعْنَاقِهِمْ الْخَاتَمُ: عُتَقَاءُ اللَّهُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ، فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ) ( 288) (ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا مَا بَقِيَ فِيهَا أَحَدٌ مِمَّنْ أَمَرْتَنَا بِهِ , فَيَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ) ( 289) (فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا , ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا أَحَدًا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا) ( 290) (فَيَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ , قَالَ: فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا أَحَدًا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا) ( 291) (فَيَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ، قَالَ: فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا) ( 292) (ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا أَحَدًا، فَيَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ , قَالَ: فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا خَيْرًا، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي فَاقْرَءُوا: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ , وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} ( 293)) ( 294) وفي رواية: (فَإذا فَرَغَ اللَّهُ مِنْ حِسَابِ النَّاسِ وَأَدْخَلَ مَنْ بَقِيَ مِنْ أُمَّتِي النَّارَ مَعَ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ أَهْلُ النَّارِ: مَا أَغْنَى عَنْكُمْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْبَدُونَ اللَّهَ لَا تُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا؟) ( 295) (فَيَقُولُ الْجَبَّارُ - عز وجل -:) ( 296) (شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ، وَشَفَعَ النَّبِيُّونَ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ , وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا شَفَاعَةُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ) ( 297) (فَبِعِزَّتِي لَأُعْتِقَنَّهُمْ مِنْ النَّارِ) ( 298) (فَيَقْبِضُ الْجَبَّارُ - عز وجل - قَبْضَةً مِنَ النَّارِ، فَيُخْرِجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ , قَدْ عَادُوا حُمَمًا) ( 299) (فَيُلْقِيهِمْ فِي نَهَرٍ بِأَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ نَهَرُ الْحَيَاةِ) ( 300) (فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ اللُّؤْلُؤُ، فَيُجْعَلُ فِي رِقَابِهِمْ الْخَوَاتِيمُ) ( 301) (وَيُكْتَبُ بَيْنَ أَعْيُنِهِمْ: هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اللَّهِ - عز وجل -) ( 302) (فَيُذْهَبُ بِهِمْ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ) ( 303) (فَيَعْرِفُهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ) ( 304) (فَيَقُولُونَ: هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ) ( 305) (الَّذِينَ أَدْخَلَهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ , وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ) ( 306) (فَيَقُولُ الْجَبَّارُ: بَلْ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الْجَبَّارُ ( 307)) ( 308) (ثُمَّ يَقُولُ الرَّبُّ - عز وجل -: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ، فَمَا رَأَيْتُمُوهُ فَهُوَ لَكُمْ وَمِثْلَهُ مَعَهُ) ( 309) (فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ: لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا، فَيَقُولُونَ: يَا رَبَّنَا أَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ هَذَا؟ , فَيَقُولُ: رِضَايَ فلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا) ( 310) (ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ مِنْ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ , وَيَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ , وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولًا الْجَنَّةَ , مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ) ( 311) (فَهْوَ يَمْشِي مَرَّةً , وَيَكْبُو ( 312) مَرَّةً , وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً ( 313)) ( 314) (فَيَقُولُ: يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنْ النَّارِ , قَدْ قَشَبَنِي ( 315) رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا ( 316)) ( 317) (فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ، فَيَقُولُ اللَّهُ: لَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ) ( 318) (فَيُعْطِي اللَّهَ مَا يَشَاءُ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ , فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ) ( 319) (فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ , لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنْ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ , قَالَ: فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ , فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلْأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا , وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا , فَيَقُولُ اللَّهُ - عز وجل -: يَا ابْنَ آدَمَ , لَعَلِّي إِنَّ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ , فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ , وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا - وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ - فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا , ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَى , فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا , فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ , أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟) ( 320) (فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا) ( 321) (فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا؟ , فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا - وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ - فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا , ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَيَيْنِ , فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا , لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا , فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ , أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ , قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ , هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا - وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ - قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهَا , فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا) ( 322) (رَأَى بَهْجَتَهَا وَمَا فِيهَا مِنْ النَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ) ( 323) (وَسَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ) ( 324) (فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللَّهُ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ , أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ؟، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ , فَيَضْحَكُ اللَّهُ - عز وجل - مِنْهُ , ثُمَّ يَأْذَنُ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ) ( 325) (فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى , فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى , فَيَقُولُ: اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ , فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى , فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى) ( 326) (فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ ( 327)؟ , أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا) ( 328) (وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا مَعَهَا؟) ( 329) (فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ " , فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - وَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ؟ , فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ؟ قَالَ: " هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - [ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ( 330) "] ( 331) فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حِينَ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ , فَيَقُولُ اللَّهُ - عز وجل -: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ , وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ) ( 332) (قَالَ: فَإِذَا دَخَلَهَا قَالَ اللَّهُ لَهُ: تَمَنَّهْ، فَسَأَلَ رَبَّهُ وَتَمَنَّى) ( 333) (حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ) ( 334) (حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ أُمْنِيَّتُهُ قَالَ اللَّهُ - عز وجل -: تَمَنَّ مِنْ كَذَا وَكذَا) ( 335) (فَيَتَمَنَّى، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ مِنْ كَذَا فَيَتَمَنَّى) ( 336) (- يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ -) ( 337) (حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَكَ ذَلِكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ) ( 338) (قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ) ( 339) (حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَ النَّاسِ رُفِعَ لَهُ قَصْرٌ مِنْ دُرَّةٍ فَيَخِرُّ سَاجِدًا، فَيُقَالَ لَهُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ مَا لَكَ؟ , فَيَقُولُ: رَأَيْتُ رَبِّي أَوْ تَرَاءَى لِي رَبِّي , فَيُقَالُ لَهُ: إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ مِنْ مَنَازِلِكَ , قَالَ: ثُمَّ يَلْقَى رَجُلًا فَيَتَهَيَّأُ لِلسُّجُودِ لَهُ , فَيُقَالَ لَهُ: مَا لَكَ؟ , فَيَقُولُ: رَأَيْتُ أَنَّكَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَيَقُولُ: إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ مِنْ خُزَّانِكَ، عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِكَ , تَحْتَ يَدِي أَلْفُ قَهْرَمَانٍ ( 340) عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ , قَالَ: فَيَنْطَلِقُ أَمَامَهُ حَتَّى يَفْتَحَ لَهُ الْقَصْرَ , وَهُوَ فِي دُرَّةٍ مُجَوَّفَةٍ , سَقَائِفُهَا وَأَبْوَابُهَا وَأَغْلاقُهَا وَمَفَاتِيحُهَا مِنْهَا , تَسْتَقْبِلُهُ جَوْهَرَةٌ خَضْرَاءُ مُبَطَّنَةٌ بِحَمْرَاءَ , كُلُّ جَوْهَرَةٍ تُفْضِي إِلَى جَوْهَرَةٍ عَلَى غَيْرِ لَوْنِ الْأُخْرَى , فِي كُلِّ جَوْهَرَةٍ سُرَرٌ وَأَزْوَاجٌ، وَوَصَائِفُ أَدْنَاهُنَّ حَوْرَاءُ ( 341) عَيْنَاءُ ( 342) عَلَيْهَا سَبْعُونَ حُلَّةً ( 343) يَرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ حُلَلِهَا ( 344) كَبِدُهَا مِرْآتُهُ , وَكَبِدُهُ مِرْآتُهَا , إِذَا أَعْرَضَ عَنْهَا ( 345) إِعْرَاضَةً ازْدَادَتْ فِي عَيْنِهِ سَبْعِينَ ضِعْفًا عَمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا أَعْرَضَتْ عَنْهُ إِعْرَاضَةً ازْدَادَ فِي عَيْنِهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا عَمَّا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ لَهَا: وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتِ فِي عَيْنِي سَبْعِينَ ضِعْفًا، وَتَقُولُ لَهُ: وَأَنْتَ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتَ فِي عَيْنِي سَبْعِينَ ضِعْفًا) ( 346) وفي رواية: (فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ , فَتَقُولَانِ لَهُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ) ( 347) (ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: أَشْرِفْ ( 348) قَالَ: فَيُشْرِفُ، فَيُقَالُ لَهُ: مُلْكُكَ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ يَنْفُذُهُ بَصَرُهُ) ( 349) (فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ) ( 350) (وَذَلِكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً) ( 351) (فَإِذَا أَدْخَلَ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلَ النَّارِ النَّارَ، أُتِيَ بِالْمَوْتِ) ( 352) (كَبْشًا أَمْلَحاً ( 353)) ( 354) (مُلَبَّبًا ( 355) فَيُوقَفُ عَلَى السُّورِ بَيْنَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ) ( 356) (وَجِلِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ) ( 357) (ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ) ( 358) (فَرِحِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ) ( 359) (وَيَرَوْنَ أَنْ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ) ( 360) (فَيُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ) ( 361) (- وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ -:) ( 362) (هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ , فَيَقُولُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ: قَدْ عَرَفْنَاهُ , هُوَ الْمَوْتُ الَّذِي وُكِّلَ بِنَا، قَالَ: فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُضْجَعُ , فَيُذْبَحُ ذَبْحًا عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ) ( 363) (ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلَاهُمَا: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ , خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ، لَا مَوْتَ فِيهَا أَبَدًا، وَيَا أَهْلَ النَّارِ , خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ، لَا مَوْتَ فِيهَا أَبَدًا) ( 364) (فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ) ( 365) [ وفي رواية: فَيَأْمَنُ هَؤُلَاءِ، وَيَنْقَطِعُ رَجَاءُ هَؤُلَاءِ] ( 366) (ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: {وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ , وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ - وَهَؤُلَاءِ فِي غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا - وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ} ( 367)) ( 368) "
_________ 

ترجمہ:

(1) (خ م ت حم) ، اور ابو ہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ:

(2) "ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ثرید اور گوشت کا ایک قصعہ رکھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بکری کا) ذراع (بازو کا گوشت) لیا --- اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری کا سب سے زیادہ پسندیدہ حصہ تھا --- تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک لقمہ لیا اور فرمایا:"

(3) "بے شک میں قیامت کے دن پہلا شخص ہوں گا جس کی کھوپڑی کے لیے زمین شق ہوگی"

(4) "اور میں فخر نہیں کرتا۔ اور قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا، اور میں فخر نہیں کرتا۔ اور میں پہلا شفاعت کرنے والا اور پہلا ایسا ہوں جس کی شفاعت قبول کی جائے گی، اور میں فخر نہیں کرتا۔ اور اس دن کوئی نبی نہیں ہوگا، آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ (سبھی) مگر وہ میرے جھنڈے تلے ہوں گے۔ اور میں قیامت کے دن سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والا ہوں اور فخر نہیں کرتا۔ اور میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں اور فخر نہیں کرتا۔"

(5) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور لقمہ لیا اور فرمایا: میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آپ کے اصحاب آپ سے نہیں پوچھ رہے تو آپ نے فرمایا: تم کیوں نہیں پوچھتے کہ کیسے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیسے؟

(6) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو ایک مقررہ دن کے لیے اکٹھا کرے گا،

(7) ایک ہم وار میدان میں،

(8) چالیس سال کھڑے رہیں گے، ان کی نظریں آسمان کی طرف اٹھی ہوں گی، فیصلے کے منتظر ہوں گے۔

(9) دیکھنے والا انہیں دیکھے گا اور پکارنے والا ان کی بات سنے گا۔

(10) اور ہم اس طرح اور اس طرح (بلند مقام پر) آئیں گے... دیکھو

(11) یعنی: لوگوں سے اوپر۔

(12) اور لوگ آپس میں گڈمڈ ہوں گے۔

(13) اور سورج ان کے قریب ایک میل کے فاصلے پر لایا جائے گا،

(14) اور اس کی تپش میں اتنا اضافہ کر دیا جائے گا کہ اس کی تپش سے کیڑے مکوڑے اس طرح ابلنے لگیں گے جیسے ہانڈیاں ابلتی ہیں۔

(15) پس لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں گھرے ہوں گے۔

(16) [وفي رواية: عَلَى قَدْرِ خَطَايَاهُمْ] (اور ایک روایت میں ہے: اپنے گناہوں کے مطابق)

(17) پسینہ کچھ لوگوں کے ٹخنوں تک ہوگا، کچھ کے پنڈلیوں تک، کچھ کے کمر تک، اور کچھ کو پسینے کی لگامیں پڑ جائیں گی --- اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا ---

(18) اور قیامت کا دن لوگوں پر لمبا کر دیا جائے گا،

(19) یہاں تک کہ لوگوں پر غم اور تکلیف اس قدر غالب آ جائے گی جس کی ان میں طاقت نہ ہوگی اور نہ وہ اسے برداشت کر سکیں گے۔

(20) سو کافر پر تو موت طاری ہو جائے گی، اور مومن پر یہ تکلیف زکام کی طرح ہوگی۔

(21) اور مومن کھڑے رہیں گے یہاں تک کہ ان کے لیے جنت قریب کر دی جائے گی۔

(22) پس بعض لوگ کہیں گے: کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہارا کیا حال ہے؟ ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم کس مقام پر پہنچ گئے ہو؟ ، کیا تم کسی کو نہیں دیکھتے جو تمہارے لیے تمہارے رب سے شفاعت کرے؟

(23) کاش! ہم اپنے رب سے شفاعت طلب کریں تاکہ وہ ہمیں اپنی جگہ سے راحت بخشے۔

(24) پس بعض ان میں سے بعض سے کہیں گے: چلو ہم آدم علیہ السلام کے پاس چلیں جو بنی آدم کے باپ ہیں تاکہ وہ ہمارے لیے ہمارے رب سے شفاعت کریں اور ہمارے درمیان فیصلہ کر دیں۔

(25) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے آدم! آپ آدم ہیں، بنی نوع انسان کے باپ، اللہ نے اپنے ہاتھ سے آپ کو پیدا کیا، اور آپ میں اپنی روح سے پھونکا،

(26) اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے، اور اپنے فرشتوں کو آپ کو سجدہ کروایا، اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا۔

(27) کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مقام پر پہنچ گئے ہیں؟

(28) پس آپ ہمارے لیے اپنے رب کے ہاں شفاعت کیجیے تاکہ وہ ہمیں اس مقام سے راحت بخشے۔

(29) اس پر آدم علیہ السلام کہیں گے: کیا تمہیں جنت سے تمہارے باپ آدم کے گناہ کے سوا کسی اور چیز نے نکالا تھا؟ میں اس (شفاعت) کا اہل نہیں ہوں۔

(30) بے شک میرے رب نے آج ایسا غضب کیا ہے جیسا اس سے پہلے کبھی نہیں کیا، اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب کرے گا، اور اس نے مجھے درخت (کے کھانے) سے منع کیا تھا اور میں نے نافرمانی کی، میرا اپنا اپنا اپنا (اپنا ہی بھلا چاہیے)۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔

(31) کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے زمین والوں کی طرف بھیجا۔

(32) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے نوح! آپ زمین والوں کے لیے پہلے رسول ہیں، اور اللہ نے آپ کو "شکر گزار بندہ" کہا ہے۔

(33) ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ ، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مقام پر پہنچ گئے ہیں؟

(34) تو نوح علیہ السلام اپنا وہ گناہ یاد کریں گے جو ان سے سرزد ہوا تھا

(35) - اپنے رب سے اس چیز کے بارے میں سوال کرنا جس کا انہیں علم نہ تھا -

(36) پس وہ کہیں گے: بے شک میرے رب نے آج ایسا غضب کیا ہے جیسا اس سے پہلے کبھی نہیں کیا، اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب کرے گا، اور بے شک میری ایک دعا تھی جسے میں نے اپنی قوم پر پکارا تھا...،

(37) [وفي رواية: إِنِّي دَعَوْتُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ دَعْوَةً فَأُهْلِكُوا] (اور ایک روایت میں ہے: بے شک میں نے اہلِ زمین پر ایک دعا کی تھی پس وہ ہلاک کر دیے گئے۔)

(38) میرا اپنا اپنا اپنا (اپنا ہی بھلا چاہیے)۔

(39) تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ،

(40) جو رحمن کے خلیل ہیں۔

(41) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے ابراہیم! آپ اللہ کے نبی اور اس کے خلیل ہیں جو اہل زمین میں سے ہیں، ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟

(42) تو ابراہیم علیہ السلام ان سے کہیں گے: میں اس (شفاعت) کا اہل نہیں ہوں، میں تو ایک خلیل تھا دور دراز کا (بہت پیچھے کا)

(43) اور میں نے تین جھوٹ بولے تھے

(44) - اور وہ یہ ہیں: ان کا قول: {بے شک میں بیمار ہوں}

(45) اور ان کا قول: {بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کام کیا ہے}

(46) اور ستارے کے بارے میں ان کا قول: {یہ میرا رب ہے}۔

(47) اور (ایک مرتبہ) ایک مغرور جبار اور اس کی بیوی کے پاس سے گزرے تو انہوں نے (اپنی بیوی سارہ سے) کہا: اسے بتا دو کہ میں تیرا بھائی ہوں کیونکہ میں اسے بتا دوں گا کہ تو میری بہن ہے -

(48) پس وہ ان سے کہیں گے: بے شک میرے رب نے آج ایسا غضب کیا ہے جیسا اس سے پہلے کبھی نہیں کیا، اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب کرے گا، میرا اپنا اپنا اپنا (اپنا ہی بھلا چاہیے)۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ،

(49) جو ایسے بندے ہیں

(50) جنہیں اللہ نے اپنی رسالتوں اور اپنے کلام کے ساتھ برگزیدہ کیا

(51) اور اپنا ہم کلام بنایا۔

(52) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو لوگوں پر اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ذریعے فضیلت دی ہے، ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟

(53) تو موسیٰ علیہ السلام اپنا وہ گناہ یاد کریں گے جو ان سے سرزد ہوا تھا

(54) پس کہیں گے: بے شک میرے رب نے آج ایسا غضب کیا ہے جیسا اس سے پہلے کبھی نہیں کیا، اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب کرے گا، اور بے شک میں نے ایک جان کو قتل کر دیا تھا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا، میرا اپنا اپنا اپنا (اپنا ہی بھلا چاہیے)۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس جاؤ،

(55) جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔

(56) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم کی طرف ڈالا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں، اور آپ نے گہوارے میں بچپن ہی میں لوگوں سے بات کی تھی، ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ تو عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے: بے شک میرے رب نے آج ایسا غضب کیا ہے جیسا اس سے پہلے کبھی نہیں کیا، اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب کرے گا -

(57) اور عیسیٰ علیہ السلام نے کوئی گناہ ذکر نہیں کیا - میرا اپنا اپنا اپنا (اپنا ہی بھلا چاہیے)۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ،

(58) جو ایسے بندے ہیں جن کے اگلے پچھلے سب گناہ اللہ نے بخش دیے ہیں،

(59) اور وہ خاتم النبیین ہیں، تو بے شک وہ آج حاضر ہیں، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: بتاؤ، اگر کوئی سامان ایک برتن میں ہو اور اس پر مہر لگا دی جائے، تو کیا اس برتن میں جو کچھ ہے اس تک پہنچا جا سکتا ہے یہاں تک کہ مہر کھول دی جائے؟ وہ کہیں گے: نہیں، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: تو بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔

(60) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ میرے پاس آئیں گے، اور میں اپنی امت کا انتظار کرتے ہوئے صراط پر کھڑا ہوں گا کہ میرے پاس عیسیٰ علیہ السلام آئے اور کہنے لگے: یہ انبیاء آپ کے پاس آ گئے ہیں، وہ آپ کے ہاں جمع ہوتے ہیں اے محمد! اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ امتوں کے مجمع کو جدا کر دے جہاں اللہ چاہے اس غم کی وجہ سے جس میں وہ ہیں، پس لوگ پسینے میں لگام ڈالے ہوئے ہوں گے۔

(61) پس وہ (انبیاء) کہیں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول، اور خاتم الانبیاء ہیں، اور اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دیے ہیں، ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجیے،

(62) تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے۔

(63) کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مقام پر پہنچ گئے ہیں؟

(64) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں کہوں گا: میں اس کے لیے تیار ہوں۔

(65) انتظار کرو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس لوٹ کر آؤں۔

(66) اور اس دن اللہ انہیں ایک مقامِ محمود پر کھڑا کرے گا جس پر تمام مجمع والے ان کی حمد کریں گے۔

(67) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں عرش کے نیچے آؤں گا اور اپنے رب عزوجل کے سامنے سجدہ میں گر جاؤں گا

(68) وفي رواية: (فَآتِي بَابَ الْجَنَّةِ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ) (اور ایک روایت میں ہے: تو میں جنت کے دروازے پر آؤں گا، پھر دروازے کی کنڈی پکڑوں گا)

(69) پس میں اسے کھڑکھڑاؤں گا، پس کہا جائے گا: کون ہے؟ میں کہوں گا: محمد، پس وہ میرے لیے کھول دیں گے اور میرا استقبال کریں گے، اور کہیں گے: مرحبا!

(70) پس جبار عزوجل میرے سامنے ہوں گے۔

(71) تو میں سجدہ میں گر جاؤں گا۔

(72) پھر اللہ مجھ پر (دعا کے الفاظ) کھولے گا

(73) اور مجھے سکھائے گا

(74) اپنی تعریفوں اور اچھی ثناء میں سے کچھ ایسا جو اس نے مجھ سے پہلے کسی پر نہیں کھولا۔

(75) پس اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا پایا جو کسی برگزیدہ فرشتے یا مرسل نبی نے نہیں پایا، پس اللہ عزوجل نے جبریل علیہ السلام کی طرف وحی کی: جاؤ محمد کے پاس اور ان سے کہو:

(76) اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، اور مانگو تمہیں دیا جائے گا۔

(77) اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی۔

(78) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا: میری امت اے میرے رب!، میری امت اے میرے رب!، میری امت اے میرے رب!

(79) پس کہا جائے گا: اے محمد! اپنی امت میں سے ان لوگوں کو داخل کرو جن پر کوئی حساب نہیں، جنت کے دائیں جانب کے دروازے سے، اور وہ

(80) باقی دروازوں میں دوسرے لوگوں کے شریک ہوں گے۔

(81) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بے شک جنت کے دروازوں کے دو پٹوں کے درمیان (کا فاصلہ) مکہ اور ہجر کے درمیان (کے فاصلے) کے برابر ہے

(82) یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان (کے فاصلے) کے برابر ہے۔

(83) پھر جہنم لائی جائے گی، اسے اس طرح پیش کیا جائے گا گویا وہ سراب ہے۔

(84) پھر ایک پکارنے والا پکارے گا اور کہے گا: ہر امت اس کی پیروی کرے جس کی وہ عبادت کرتی تھی۔

(85) جو کوئی کسی چیز کی عبادت کرتا تھا تو اس کی پیروی کرے۔

(86) پس صلیب والے کے لیے اس کا صلیب مجسم کر دیا جائے گا۔

(87) اور جو عیسیٰ کی عبادت کرتا تھا اس کے لیے عیسیٰ کا شیطان مجسم کر دیا جائے گا، اور جو عزیر کی عبادت کرتا تھا اس کے لیے عزیر کا شیطان مجسم کر دیا جائے گا۔

(88) اور تصویر والے کے لیے اس کی تصویریں مجسم کر دی جائیں گی، اور آگ والے کے لیے اس کی آگ مجسم کر دی جائے گی۔

(89) اور جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ سورج کی پیروی کرے گا، اور جو چاند کی عبادت کرتا تھا وہ چاند کی پیروی کرے گا، اور جو طاغوتوں کی عبادت کرتا تھا وہ طاغوتوں کی پیروی کرے گا۔

(90) اور بتوں والے اپنے بتوں کے ساتھ، اور ہر معبود کے پرستار اپنے معبودوں کے ساتھ۔

(91) پس کوئی بھی نہیں بچے گا جو اللہ سبحانہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتا تھا، بتوں اور پتھروں کے معبودوں میں سے، مگر یہ کہ وہ جہنم میں گرتے چلے جائیں گے، یہاں تک کہ نہ بچے گا سوائے اس کے جو اللہ کی عبادت کرتا تھا نیک ہو یا بد۔

(92) اور اہل کتاب کے باقی ماندہ۔

(93) وفي رواية: (فَيُدْعَى الْيَهُودُ فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ , قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: كَذَبْتُمْ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ، فَمَا تُرِيدُونَ؟، قَالُوا: عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا، فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ أَلَا تَرِيدُونَ؟) (اور ایک روایت میں ہے: پھر یہود کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم عزیر بن اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا: تم جھوٹ بولتے ہو، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی ہے نہ بیٹا، پس تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: پیاسے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں پلا دو۔ پس ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا: کیا تم پینا نہیں چاہتے؟)

(94) پیو!

(95) پس انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا گویا وہ سراب ہے ان کا ایک دوسرے کو کچلے گا پس وہ جہنم میں گرتے چلے جائیں گے، پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم مسیح ابن اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا: تم جھوٹ بولتے ہو، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی ہے نہ بیٹا، پس تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: پیاسے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں پلا دو۔ پس ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا: کیا تم پینا نہیں چاہتے؟

(96) پیو، پس صلیب والے اپنے صلیب کے ساتھ چلے جائیں گے۔

(97) پس انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا گویا وہ سراب ہے ان کا ایک دوسرے کو کچلے گا، پس وہ جہنم میں گرتے چلے جائیں گے۔

(98) یہاں تک کہ وہ باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے۔

(99) اس امت میں سے۔

(100) نیک ہوں

(101) یا بد۔

(102) جن میں اس کے منافقین بھی ہوں گے۔

(103) اور اہل کتاب کے باقی ماندہ --- اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ان کی تعداد کم کی۔

(104) پھر اللہ عزوجل ان کے پاس آئے گا اس صورت میں نہیں جسے وہ پہچانتے ہیں۔

(105) پس وہ ان پر کھڑا ہو گا --- اور مومن اونچی جگہ پر ہوں گے ---

(106) پھر ان سے فرمائے گا: لوگ چلے گئے اور تم یہاں کیوں ہو؟

(107) تمہیں کس چیز نے روک رکھا ہے حالانکہ لوگ جا چکے ہیں؟

(108) تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟

(109) کیا تم لوگوں کی پیروی نہیں کرتے؟

(110) تاکہ ہر امت اس کی پیروی کرے جس کی وہ عبادت کرتی تھی۔

(111) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس اس سے صرف انبیاء ہی بات کریں گے۔

(112) وہ کہیں گے: ہم نے دنیا میں لوگوں سے اس وقت جدا ہونا اختیار کیا جب ہمیں ان کی سخت ضرورت تھی اور ہم نے ان کی رفاقت اختیار نہیں کی

(113) اور ہم صرف اپنے رب کا انتظار کر رہے ہیں۔

(114) جس کی ہم عبادت کرتے تھے، پس اللہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔

(115) وہ کہیں گے: ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں (تجھ سے)۔

(116) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے --- دو یا تین بار ---

(117) یہ ہماری جگہ ہے یہاں تک کہ ہمارا رب ہمارے پاس آئے، پھر جب ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔

(118) - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور وہ (اللہ) انہیں حکم دے رہا ہوگا اور انہیں ثابت قدم رکھے گا - "

(119) پھر فرمائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ ، وہ کہیں گے: جب وہ ہم پر اپنی معرفت ظاہر کرے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔

(120) پھر فرمائے گا: کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی علامت ہے جس سے تم اسے پہچانتے ہو؟

(121) وہ کہیں گے: ہاں۔

(122) ساق (پنڈلی)۔

(123) وفي رواية: (ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقُولُ: مَنْ تَنْظُرُونَ؟ , فَيَقُولُونَ: نَنْظُرُ رَبَّنَا , فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ , فَيَقُولُونَ: حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ) (اور ایک روایت میں ہے: پھر اس کے بعد ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا اور فرمائے گا: تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟ وہ کہیں گے: ہم اپنے رب کا انتظار کر رہے ہیں۔ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ کہیں گے: یہاں تک کہ ہم آپ کو دیکھ لیں۔)

(124) ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم دوپہر کے وقت صاف آسمان میں سورج دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟" ہم نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: "کیا تم چودھویں رات کے چاند کو صاف آسمان میں دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟" ہم نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول!

(125) آپ نے فرمایا: "تو تم اسی طرح اسے دیکھو گے۔

(126) وفي رواية: (فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا كَمَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا) (اور ایک روایت میں ہے: تم اس دن اپنے رب کو دیکھنے میں اسی طرح تکلیف نہیں اٹھاؤ گے جس طرح تم ان دونوں کو دیکھنے میں تکلیف نہیں اٹھاتے۔)

(127) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ اس صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہیں۔

(128) اور ہمارے لیے ہنستا ہوا ظاہر ہو گا۔

(129) اور ہمارا رب اپنی ساق (پنڈلی) کھولے گا۔

(130) پس کوئی بھی نہیں بچے گا جو اللہ کو اپنی طرف سے سجدہ کرتا تھا مگر یہ کہ اللہ اسے سجدہ کرنے کی اجازت دے گا۔

(131) پس ہر مومن مرد اور عورت اسے سجدہ کرے گی۔

(132) اور ہر منافق باقی رہ جائے گا۔

(133) اور جو دنیا میں دکھاوے اور شہرت کے لیے سجدہ کرتا تھا۔

(134) اللہ اس کی پیٹھ کو ایک ہی تختہ بنا دے گا۔

(135) جب بھی وہ سجدہ کرنا چاہے گا تو اپنی پیٹھ کے بل گرے گا، پس وہ سجدہ نہیں کر سکے گا، اور یہی اللہ تعالیٰ کے قول {جس دن ساق کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلایا جائے گا تو وہ سجدہ نہیں کر سکیں گے} کی تفسیر ہے۔

(136) پھر وہ اپنے سر اٹھائیں گے اور (اللہ) اسی صورت میں تبدیل ہو چکا ہو گا جس میں انہوں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا، پس فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔

(137) پس میری پیروی کرو۔

(138) وہ کہیں گے: آپ ہمارے رب ہیں۔

(139) پس وہ اس کی پیروی کریں گے۔

(140) اور وہ انہیں جنت کی طرف لے جائے گا۔

(141) اور ان میں سے ہر انسان، منافق ہو یا مومن، نور (روشنی) دیا جائے گا۔

(142) پس ان میں سے بعض کو اس کی روشنی پہاڑ جیسی عظیم دی جائے گی جو اس کے آگے آگے دوڑے گی، اور بعض کو اس سے چھوٹی روشنی دی جائے گی، اور بعض کو اس کی دائیں طرف کھجور کے درخت جتنی روشنی دی جائے گی، اور بعض کو اس سے چھوٹی روشنی دی جائے گی، یہاں تک کہ ایک آدمی ہو گا جسے اس کے پیر کے انگوٹھے پر اس کی روشنی دی جائے گی، (وہ روشنی) ایک بار جلے گی اور ایک بار بجھے گی، پس جب روشن ہو گی تو وہ اپنا قدم آگے بڑھائے گا اور چلے گا، اور جب بجھے گی تو کھڑا ہو جائے گا۔

(143) پھر پل (الجسر) لایا جائے گا

(144) [وفي رواية: الصِّرَاط] (اور ایک روایت میں ہے: الصراط)

(145) اور اسے جہنم کے درمیان میں رکھ دیا جائے گا۔

(146) اور رب عزوجل ان کے آگے ہو گا، فرمائے گا: گزر جاؤ۔

(147) ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پل کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پھسلنے والی اور پھسلانے والی جگہ ہے۔

(148) تلوار کے دھار کی مانند۔

(149) [وفي رواية: مِثْلَ حَدِّ السَّيْفِ الْمُرْهَفِ] (اور ایک روایت میں ہے: باریک دھار والی تلوار کی مانند۔)

(150) اور صراط کے دونوں کناروں پر

(151) آنکڑے اور کانٹے دار کیلوں اور پھیلے ہوئے کانٹے ہوں گے جن میں ایک جھکی ہوئی نوک ہو گی۔

(152) نجد میں پائے جانے والے کانٹوں کی طرح جنہیں "السعدان" کہا جاتا ہے۔

(153) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم نے السعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟" انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو وہ اس کے کانٹوں کی مانند ہوں گے، سوائے اس کے کہ اس کی عظمت کا اندازہ صرف اللہ ہی جانتا ہے"

(154) وہ لٹکے ہوئے ہوں گے، انہیں حکم دیا گیا ہو گا کہ جسے بھی حکم ملا ہے اسے پکڑ لیں۔

(155) پس وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے۔

(156) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور امانت اور رحم (رشتہ داری) بھیجی جائیں گی، پس وہ صراط کے دونوں اطراف دائیں اور بائیں کھڑی ہوں گی۔

(157) اس دن مومن تمہارے لیے واضح ہو جائے گا۔

(158) پس میں پہلا شخص ہوں گا جو (صراط کو) پار کرے گا۔

(159) [وفي رواية: فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُهَا] (اور ایک روایت میں ہے: پس میں اور میری امت پہلے ہوں گے جو اسے پار کریں گے۔)

(160) [وفي رواية: فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنْ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ] (اور ایک روایت میں ہے: پس میں پہلا رسول ہوں گا جو اپنی امت کے ساتھ (صراط) سے گزروں گا۔)

(161) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر منافقین کا نور بجھا دیا جائے گا، اور مومن نجات پا جائیں گے، پس پہلی جماعت بجلی کی طرح نکلے گی، ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے، ستر ہزار ایسے جن کا حساب نہ ہوگا، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں گے آسمان کے ستاروں کی چمک کی طرح ہوں گے، پھر اسی طرح۔

(162) میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول! بجلی کی طرح گزرنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح ایک آن میں گزرتی ہے اور لوٹتی ہے؟" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ہوا کی طرح۔

(163) پھر پرندے کی طرح۔

(164) اور عمدہ گھوڑوں اور اونٹوں کی طرح۔

(165) اور کچھ دوڑتے ہوئے اور کچھ چلتے ہوئے۔

(166) ان کے اعمال انہیں لے جاتے ہیں، اور تمہارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم صراط پر کھڑے یہ کہتے ہوئے ہوں گے: اے میرے رب! سلامتی عطا فرما، سلامتی عطا فرما۔

(167) وفي رواية: (وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا الرُّسُلُ , وَدُعَاءُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ) (اور ایک روایت میں ہے: اور اس دن کوئی بات نہیں کرے گا سوائے رسولوں کے، اور اس دن رسولوں کی دعا یہ ہو گی: اے اللہ! سلامتی عطا فرما، سلامتی عطا فرما۔)

(168) پس کوئی نجات پانے والا سلامتی کے ساتھ (گزر جائے گا)، اور کوئی زخمی ہوا چھوڑ دیا جائے گا۔

(169) اور ان میں سے کچھ کو کانٹے نوچ لیں گے پھر وہ نجات پا جائیں گے۔

(170) یہاں تک کہ بندوں کے اعمال کم پڑ جائیں گے۔

(171) یہاں تک کہ وہ شخص گزرے گا جسے اس کے پیر کے انگوٹھوں پر روشنی دی گئی تھی، وہ اپنے منہ، ہاتھوں اور پیروں کے بل رینگتا ہوا آئے گا، اس کا ایک پاؤں لٹکے گا اور ایک پاؤں پھنسا رہے گا، اور آگ اس کے پہلوؤں کو لگے گی۔

(172) پس وہ چل نہیں سکے گا سوائے رینگنے کے۔

(173) [وفي رواية: يُسْحَبُ سَحْبًا] (اور ایک روایت میں ہے: اسے گھسیٹا جائے گا۔)

(174) پس وہ اسی حال میں رہے گا یہاں تک کہ نکل آئے گا، پھر جب نکل آئے گا تو اس (جہنم) پر کھڑا ہو کر کہے گا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بے شک اللہ نے مجھے وہ عطا کیا جو اس نے کسی کو نہیں دیا کہ اسے نجات بخشی اس کے بعد کہ میں نے اسے دیکھ لیا تھا۔

(175) اور ان میں سے کوئی اپنے عمل کے باعث تباہ ہو جائے گا۔

(176) جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔

(177) اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! بے شک جہنم کی تہہ ستر خریف (برسوں) کی ہے۔

(178) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس ان میں سے وہ مومن ہو گا جو اپنے عمل کے باعث (جنت میں داخل ہونے کے لیے) باقی رہ گیا ہو گا۔

(179) اور ان میں سے وہ ہو گا جسے جزا دی گئی یہاں تک کہ اسے نجات دے دی جائے۔

(180) پھر جہنم سے کہا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی: اور مزید ہے؟ پھر اس میں ایک گروہ ڈالا جائے گا پھر کہا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی: اور مزید ہے؟ یہاں تک کہ جب اس میں سب ڈال دیے جائیں گے تو رحمن اپنا قدم اس میں رکھ دے گا۔

(181) پس وہ ایک دوسرے سے سمٹ جائے گی۔

(182) اور کہے گی: بس بس،

(183) تیری عزت اور تیری کریم ذات کی قسم۔

(184) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں اپنے رب سے اس کے گھر (جنت) میں اجازت مانگوں گا، پس مجھے اس پر اجازت دی جائے گی۔

(185) تو میں داخل ہوں گا، پس جبار عزوجل میرے سامنے ہوں گے۔

(186) پھر جب میں اسے دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا۔

(187) اور وہ مجھے اس کی تعریفوں میں سے وہ باتیں سکھائے گا جن سے میں اس کی حمد کروں گا، جو اس وقت میرے پاس موجود نہیں ہیں، پھر میں انہی تعریفوں کے ساتھ اس کی حمد کروں گا۔

(188) پھر اللہ تعالیٰ مجھے چھوڑے گا جتنی دیر چاہے گا، پھر فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، اور مانگو تمہیں دیا جائے گا۔

(189) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا۔

(190) اور کہوں گا: اے میرے رب! میری امت میری امت، پس اللہ فرمائے گا: جا، پس اس میں سے ہر اس شخص کو نکال لے جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، تو میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔

(191) پھر انہیں جنت میں داخل کروں گا۔

(192) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں واپس آؤں گا اور انہی تعریفوں کے ساتھ اس کی حمد کروں گا، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا، پھر وہ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی، اور مانگو تمہیں دیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، تو میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت میری امت۔

(193) اے میرے رب! جنت میں داخل فرما ہر اس شخص کو جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (ایمان) ہو۔

(194) پس اللہ فرمائے گا: جا، پس جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو اسے اس (جہنم) سے نکال لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔

(195) پھر انہیں جنت میں داخل کروں گا۔

(196) پھر میں واپس آؤں گا اور انہی تعریفوں کے ساتھ اس کی حمد کروں گا، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا، پھر وہ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی، اور مانگو تمہیں دیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، تو میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت میری امت، جنت میں داخل فرما ہر اس شخص کو جس کے دل میں ادنیٰ سی چیز ہو - انس رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں دیکھ رہا ہوں۔

(197) پس اللہ فرمائے گا: جا، پس ہر اس شخص کو نکال لے جس کے دل میں ادنیٰ سے ادنیٰ رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو اسے جہنم سے نکال لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔

(198) پھر انہیں جنت میں داخل کروں گا۔

(199) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے وہ شخص نکلے گا جس نے "لا الہ الا اللہ" کہا ہو اور اس کے دل میں خیر (ایمان) سے جو (جسمانی) طور پر بال کے برابر ہو، پھر جہنم سے وہ شخص نکلے گا جس نے "لا الہ الا اللہ" کہا ہو اور اس کے دل میں خیر (ایمان) سے جو گندم کے دانے کے برابر ہو، پھر جہنم سے وہ شخص نکلے گا جس نے "لا الہ الا اللہ" کہا ہو اور اس کے دل میں خیر (ایمان) سے جو ذرہ کے برابر ہو۔

(200) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں چوتھی بار لوٹوں گا اور انہی تعریفوں کے ساتھ اس کی حمد کروں گا، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا، پھر وہ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی، اور مانگو تمہیں دیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔

(201) تو میں کہوں گا: اے میرے رب! جہنم میں صرف وہی باقی رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے اور جن پر ہمیشہ رہنا واجب ہو گیا ہے۔

(202) اے میرے رب! ہر اس شخص کے بارے میں مجھے اجازت دے جس نے "لا الہ الا اللہ" کہا ہے۔

(203) پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ (اجازت) نہ تمہارے لیے ہے اے محمد! اور نہ کسی اور کے لیے، یہ صرف میرے لیے ہے۔

(204) اور میری عزت، میری جلالت، اور میری رحمت کی قسم! میں جہنم میں کسی کو باقی نہیں رہنے دوں گا جس نے "لا الہ الا اللہ" کہا ہو۔

(205) وفي رواية: (فَيَقُولُ الرَّبُّ - عز وجل -: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) (اور ایک روایت میں ہے: پس رب عزوجل فرمائے گا: میری عزت، میری جلالت، میری بزرگی اور میری عظمت کی قسم! میں اس میں سے ہر اس شخص کو ضرور نکالوں گا جس نے "لا الہ الا اللہ" کہا ہو۔)

(206) ایک دن بھی خالصتاً، اور اسی پر مرا ہو۔

(207) پھر انس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا} (امید ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کرے گا)۔

(208) انہوں نے کہا: اور یہی وہ مقامِ محمود ہے جس کا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا گیا تھا۔

(209) وفي رواية: (حَتَّى إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ) (اور ایک روایت میں ہے: یہاں تک کہ جب مومن جہنم سے نکل آئیں گے۔)

(210) اور دیکھیں گے کہ وہ نجات پا گئے ہیں، تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!

(211) تم میں سے کوئی اپنے ساتھی سے دنیا میں اپنے حق کے لیے جس قدر سخت جھگڑا کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ سخت جھگڑا مومن اپنے رب سے اپنے ان بھائیوں کے بارے میں کریں گے جو جہنم میں ڈال دیے گئے ہیں۔

(212) وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے بھائی، وہ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، ہمارے ساتھ حج کرتے تھے، ہمارے ساتھ عمل کرتے تھے۔

(213) پھر آپ نے انہیں جہنم میں ڈال دیا۔

(214) رہے وہ اہلِ دوزخ جو اس کے مستحق ہیں تو وہ اس میں نہ مریں گے اور نہ جییں گے۔

(215) اور رہے وہ اہلِ دوزخ جنہیں اللہ عزوجل نکالنا چاہتا ہے تو وہ انہیں اس میں اس طرح مارے گا یہاں تک کہ وہ کوئلہ بن جائیں گے۔

(216) یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکے گا۔

(217) اور دوزخ والوں میں سے جس پر رحم کرنا چاہے گا۔

(218) ان میں سے ہر اس شخص پر جو "لا الہ الا اللہ" کی گواہی دیتا تھا، فرشتوں کو حکم دے گا کہ انہیں نکال لیں۔

(219) [وفي رواية: أَذِنَ بِالشَّفَاعَةِ] (اور ایک روایت میں ہے: شفاعت کی اجازت دے دی جائے گی۔)

(220) پس اللہ ان سے فرمائے گا: جاؤ، پس ان میں سے جنہیں تم پہچانتے ہو انہیں نکال لو۔

(221) اور وہ انہیں سجدوں کے آثار سے پہچانیں گے۔

(222) کیونکہ آدم کی ہر اولاد کو آگ کھا جائے گی سوائے سجدوں کے آثار کے، اور اللہ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدوں کے آثار کو کھائے۔

(223) [وفي رواية: إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ] (اور ایک روایت میں ہے: سوائے ان کے چہروں کے گھیروں کے۔)

(224) [وفي رواية: فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ] (اور ایک روایت میں ہے: پس وہ انہیں ان کی صورتوں سے پہچانیں گے، آگ ان کی صورتیں نہیں کھائے گی۔)

(225) پس وہ جنہیں پہچانیں گے انہیں نکال لیں گے۔

(226) ان میں سے کسی کو آگ نے ٹخنوں تک پکڑا ہو گا۔

(227) اور ان میں سے کسی کو آدھی پنڈلیوں تک، اور کسی کو گھٹنوں تک۔

(228) اور ان میں سے کسی کو کمر تک اور کسی کو گردن تک۔

(229) وہ جل چکے ہوں گے۔

(230) اور کوئلہ بن چکے ہوں گے۔

(231) پس وہ جہنم سے ایک بڑی جماعت نکالیں گے۔

(232) پس انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا۔

(233) پھر انہیں زندگی کی نہر میں ڈال دیا جائے گا، پس وہ اس میں اس طرح اگیں گے جیسے بیج اگتا ہے۔

(234) سیلاب کے کنارے پر۔

(235) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں دیکھتے کہ دھوپ میں پودا کیسا ہرا ہوتا ہے، اور سایہ میں کیسا پیلا ہوتا ہے؟

(236) [وفي رواية: أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَنْبُتُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً] (اور ایک روایت میں ہے: کیا تم نے اسے نہیں دیکھا کہ وہ کیسے پیلی اور مڑی ہوئی اگتی ہے؟)

(237) پس لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا:

(238) اے اللہ کے رسول! گویا آپ بھیڑ بکریاں چراتے رہے ہیں؟

(239) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میں نے بھیڑ بکریاں چرائی ہیں۔

(240) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ ان کے جسموں سے موتی کی طرح نکل آئیں گے، ان کی گردنوں پر مہر ہو گی: اللہ کے آزاد کردہ بندے، پس ان سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، پس جو کچھ تم چاہو گے یا دیکھو گے وہ سب تمہارے لیے ہو گا۔

(241) پھر وہ (فرشتے) کہیں گے: اے ہمارے رب! اس میں کوئی بھی باقی نہیں رہا جس کا آپ نے ہمیں حکم دیا تھا، پس اللہ فرمائے گا: واپس جاؤ، پس جس کے دل میں دینار کے برابر ایمان پاؤ اسے نکال لو۔

(242) پس وہ ایک بڑی جماعت نکالیں گے، پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے آپ کے حکم کے مطابق اس میں کوئی بھی نہیں چھوڑا۔

(243) پس اللہ فرمائے گا: واپس جاؤ، پس جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر خیر پاؤ اسے نکال لو، پس وہ ایک بڑی جماعت نکالیں گے، پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے آپ کے حکم کے مطابق اس میں کوئی بھی نہیں چھوڑا۔

(244) پس اللہ فرمائے گا: واپس جاؤ، پس جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر خیر پاؤ اسے نکال لو، پس وہ ایک بڑی جماعت نکالیں گے۔

(245) پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے آپ کے حکم کے مطابق اس میں کوئی بھی نہیں چھوڑا، پس اللہ فرمائے گا: واپس جاؤ، پس جس کے دل میں ذرہ کے برابر ایمان پاؤ اسے نکال لو، پس وہ ایک بڑی جماعت نکالیں گے، پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اس میں کوئی خیر نہیں چھوڑا، ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: پس اگر تم مجھ پر ایمان نہیں رکھتے تو یہ آیت پڑھ لو: {بے شک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دگنا کر دیتا ہے اور اپنے پاس سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔}

(246) وفي رواية: (فَإذا فَرَغَ اللَّهُ مِنْ حِسَابِ النَّاسِ وَأَدْخَلَ مَنْ بَقِيَ مِنْ أُمَّتِي النَّارَ مَعَ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ أَهْلُ النَّارِ: مَا أَغْنَى عَنْكُمْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْبَدُونَ اللَّهَ لَا تُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا؟) (اور ایک روایت میں ہے: پھر جب اللہ تعالیٰ لوگوں کا حساب کر چکے گا اور میری امت میں سے جو باقی ہیں انہیں دوزخ والوں کے ساتھ جہنم میں داخل کر دے گا، تو اہلِ دوزخ کہیں گے: تمہارا کیا فائدہ ہوا کہ تم اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے؟)

(247) تو جبار عزوجل فرمائے گا:

(248) فرشتوں نے شفاعت کی، اور نبیوں نے شفاعت کی، اور مومنوں نے شفاعت کی، اور اب صرف سب سے زیادہ رحم کرنے والے کی شفاعت باقی رہ گئی ہے۔

(249) پس میری عزت کی قسم! میں انہیں ضرور دوزخ سے آزاد کر لوں گا۔

(250) پھر جبار عزوجل دوزخ سے ایک مٹھی بھرے گا، اور اس میں سے ایسے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے۔

(251) پھر انہیں جنت کے دہانوں پر واقع زندگی کی نہر میں ڈال دے گا۔

(252) پس وہ موتی کی طرح نکل آئیں گے، پھر ان کی گردنوں میں مہریں ڈال دی جائیں گی۔

(253) اور ان کی پیشانیوں پر لکھا ہو گا: یہ اللہ عزوجل کے آزاد کردہ بندے ہیں۔

(254) پھر انہیں لے جایا جائے گا اور وہ جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔

(255) پس اہل جنت انہیں پہچان لیں گے۔

(256) اور کہیں گے: یہ وہ جہنمی ہیں جنہیں اللہ نے بغیر کسی عمل اور بغیر کسی نیک کام کے جنت میں داخل کر دیا ہے۔

(257) تو جبار فرمائے گا: بلکہ یہ جبار (اللہ) کے آزاد کردہ بندے ہیں۔

(258) پھر رب عزوجل فرمائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، پس جو کچھ تم دیکھو گے وہ تمہارے لیے ہو گا اور اس کے ساتھ اس جیسی اور بھی۔

(259) وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! آپ نے ہمیں وہ عطا کر دیا جو آپ نے جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔ پس اللہ فرمائے گا: میرے ہاں تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے بہتر کیا ہے؟ اللہ فرمائے گا: میری رضا، پھر میں تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔

(260) پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکے گا، اور ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان باقی رہ جائے گا، اور وہ جہنم والوں میں سے جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہو گا، اس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہو گا۔

(261) وہ ایک بار چلتا ہے۔

(262) اور ایک بار گرتا ہے۔

(263) اور ایک بار دوزخ اس کے چہرے کو جھلساتی ہے۔

(264) پس وہ کہے گا: اے میرے رب! میرے چہرے کو دوزخ سے پھیر دے، اس کی بو نے مجھے بیمار کر دیا ہے اور اس کی تیز لپٹ نے مجھے جلا ڈالا ہے۔

(265) پس وہ اللہ سے دعا کرتا رہے گا، تو اللہ فرمائے گا: شاید اگر میں نے تمہیں یہ دے دیا تو تم مجھ سے کچھ اور مانگو گے؟ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! میں تجھ سے کچھ اور نہیں مانگوں گا۔

(266) پس اللہ تعالیٰ اس سے جتنا چاہے گا عہد و میثاق لے گا، پھر اللہ اس کا چہرہ دوزخ سے پھیر دے گا۔

(267) پھر جب وہ اس سے آگے نکل جائے گا تو اس کی طرف مڑ کر کہے گا: بڑی برکت والا ہے وہ جس نے مجھے تجھ سے نجات بخشی، بے شک اللہ نے مجھے وہ عطا کیا جو اس نے پہلوں اور پچھلوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔

(268) پھر اس کے لیے ایک درخت بلند کیا جائے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب لے جاؤ تاکہ میں اس کے سائے میں سایہ کروں اور اس کے پانی سے پیوں۔ تو اللہ عزوجل فرمائے گا: اے ابن آدم! شاید اگر میں نے تمہیں یہ دے دیا تو تم مجھ سے کچھ اور مانگو گے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! اور وہ اس سے عہد کرے گا کہ وہ اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا - اور اس کا رب اسے معذرت خیال کرے گا کیونکہ وہ دیکھ رہا ہو گا کہ اس میں صبر کرنے کی طاقت نہیں - پھر اسے درخت کے قریب لے جائے گا، پس وہ اس کے سائے میں سایہ کرے گا اور اس کے پانی سے پیے گا۔

(269) پھر اس کے لیے ایک درخت بلند کیا جائے گا جو پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس کے قریب لے جاؤ تاکہ میں اس کے پانی سے پیوں اور اس کے سائے میں سایہ کروں، میں آپ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ فرمائے گا: اے ابن آدم! کیا تم نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ تم میرے سوا کسی سے نہیں مانگو گے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! یہ (درخت) میں آپ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔

(270) اللہ فرمائے گا: شاید اگر میں تمہیں اس کے قریب لے گیا تو تم مجھ سے کچھ اور مانگو گے؟ پس وہ اس سے عہد کرے گا کہ وہ اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا - اور اس کا رب اسے معذرت خیال کرے گا کیونکہ وہ دیکھ رہا ہو گا کہ اس میں صبر کرنے کی طاقت نہیں - پھر اسے درخت کے قریب لے جائے گا، پس وہ اس کے سائے میں سایہ کرے گا اور اس کے پانی سے پیے گا۔

(271) پھر اس کے لیے جنت کے دروازے پر ایک درخت بلند کیا جائے گا جو پہلے دو درختوں سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس کے قریب لے جاؤ تاکہ میں اس کے سائے میں سایہ کروں اور اس کے پانی سے پیوں، میں آپ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ فرمائے گا: اے ابن آدم! کیا تم نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ تم میرے سوا کسی سے نہیں مانگو گے؟ وہ کہے گا: ہاں اے میرے رب! یہ (درخت) میں آپ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا - اور اس کا رب اسے معذرت خیال کرے گا کیونکہ وہ دیکھ رہا ہو گا کہ اس میں صبر کرنے کی طاقت نہیں - پھر اسے درخت کے قریب لے جائے گا، پھر جب وہ اس کے قریب لے جائے گا۔

(272) اور وہ اس کی رونق اور اس میں موجود تازگی و خوشی اور اہل جنت کی آوازیں سنے گا۔

(273) تو وہ چپ رہے گا جتنی دیر اللہ چاہے گا، پھر کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل فرما دیں۔

(274) تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: افسوس ہے تجھ پر اے ابن آدم! تو کتنا عہد شکن ہے، کیا تو نے عہد و میثاق نہیں دیے تھے کہ جو کچھ تجھے دیا گیا ہے اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سے سب سے بدبخت نہ بنا دیں۔ تو اللہ عزوجل اس پر ہنستے ہوئے اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا۔

(275) پھر وہ جنت کے پاس آئے گا تو اسے یوں خیال ہو گا کہ وہ بھری ہوئی ہے، تو وہ واپس آ کر کہے گا: اے میرے رب! میں نے اسے بھری ہوئی پائی ہے۔ اللہ فرمائے گا: جا، جنت میں داخل ہو جا۔ پھر وہ آئے گا تو اسے یوں خیال ہو گا کہ وہ بھری ہوئی ہے، تو وہ واپس آ کر کہے گا: اے میرے رب! میں نے اسے بھری ہوئی پائی ہے۔

(276) اللہ فرمائے گا: اے ابن آدم! کیا چیز ہے جو مجھے تیری درخواست سے باز رکھے؟

(277) کیا تجھے یہ پسند ہے کہ میں تجھے دنیا جیسی (جنت) عطا کروں؟

(278) اور اس کے ساتھ دس گنا زیادہ؟

(279) وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو ہی رب العالمین ہے؟ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور کہا: کیا تم مجھ سے نہیں پوچھتے کہ میں کیوں ہنس رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے تھے

(280) [ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ] (یہاں تک کہ آپ کے اوپری دانت ظاہر ہو گئے تھے)

(281) پس صحابہ نے کہا: آپ کیوں ہنس رہے ہیں اے اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رب العالمین کے ہنسنے پر، جب اس (بندے) نے کہا: کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو ہی رب العالمین ہے؟ تو اللہ عزوجل فرمائے گا: میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا، لیکن میں جو چاہتا ہوں کرنے پر قادر ہوں۔

(282) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جب وہ جنت میں داخل ہو جائے گا تو اللہ اس سے فرمائے گا: تمنا کر۔ پس وہ اپنے رب سے مانگے گا اور تمنا کرے گا۔

(283) یہاں تک کہ اس کی تمنائیں ختم ہو جائیں گی۔

(284) یہاں تک کہ جب اس کی تمنا ختم ہو جائے گی تو اللہ عزوجل فرمائے گا: فلاں فلاں چیز مانگو۔

(285) پس وہ تمنا کرے گا، پھر اس سے کہا جائے گا: فلاں چیز مانگو، پس وہ تمنا کرے گا۔

(286) - اس کا رب اسے یاد دلاتا رہے گا۔

(287) یہاں تک کہ جب اس کی تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے لیے وہ (سب کچھ) ہے اور اس کے ساتھ دس گنا زیادہ۔

(288) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ جنت میں داخل ہو گا۔

(289) یہاں تک کہ جب وہ لوگوں کے قریب پہنچے گا تو اس کے لیے موتی کا ایک محل بلند کیا جائے گا، پس وہ سجدے میں گر جائے گا، تو اس سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھاؤ، تمہیں کیا ہو گیا؟ وہ کہے گا: میں نے اپنے رب کو دیکھا ہے یا میرے رب نے مجھ پر جلوہ فرمایا ہے۔ تو اس سے کہا جائے گا: یہ تو تمہارے اپنے منازل میں سے ایک منزل ہے۔

(290) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ ایک شخص سے ملے گا اور اس کے سامنے سجدہ کے لیے تیار ہو جائے گا، تو اس سے کہا جائے گا: تمہیں کیا ہو گیا؟ وہ کہے گا: میں نے دیکھا کہ آپ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہیں، وہ کہے گا: میں تو تمہارے خزانچیوں میں سے ایک خزانچی ہوں، تمہارے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں، میرے ماتحت ایک ہزار منتظم ہیں جو اسی طرح ہیں جیسے میں ہوں۔

(291) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ اس کے آگے آگے چلے گا یہاں تک کہ اس کے لیے محل کھول دے گا، اور وہ موتی کا کھوکھلا محل ہو گا، اس کی چھتیں، دروازے، قفلوں کی چٹخنیاں اور چابیاں سب اسی موتی کی ہوں گی۔ اسے ایک سبز یاقوت کا سامنا ہو گا جس کا اندرونی حصہ سرخ ہو گا، ہر یاقوت دوسرے یاقوت سے ایک دوسرے سے مختلف رنگ میں جڑا ہوا ہو گا۔ ہر یاقوت میں تخت اور بیویاں ہوں گی، اور کنیزیں جن میں سب سے چھوٹی بھی حور ہو گی، کشادہ چشم، اس پر ستر جوڑے کپڑے ہوں گے، اس کی پنڈلی کا گودا اس کے کپڑوں کے پیچھے سے دکھائی دے گا، اس کا کلیجہ اس کے لیے آئینہ ہو گا، اور اس کا کلیجہ اس کے لیے آئینہ ہو گا، جب وہ اس سے منہ پھیرے گا تو اس کی نگاہ میں وہ پہلے سے ستر گنا زیادہ حسین ہو جائے گی، اور جب وہ اس سے منہ پھیرے گی تو اس کی نگاہ میں وہ پہلے سے ستر گنا زیادہ حسین ہو جائے گا، پس وہ اس سے کہے گا: اللہ کی قسم! تو میری نگاہ میں ستر گنا زیادہ حسین ہو گئی ہو۔ اور وہ اس سے کہے گی: اور تم اللہ کی قسم! تم میری نگاہ میں ستر گنا زیادہ حسین ہو گئے ہو۔

(292) وفي رواية: (فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ , فَتَقُولَانِ لَهُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ) (اور ایک روایت میں ہے: پھر اس پر حور العین میں سے اس کی دو بیویاں آئیں گی، اور کہیں گی: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں تمہارے لیے زندہ کیا اور تمہیں ہمارے لیے زندہ کیا۔)

(293) پھر اس سے کہا جائے گا: اوپر دیکھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ اوپر دیکھے گا، تو اس سے کہا جائے گا: تیری بادشاہی سو برس کی مسافت کی ہے، تیری نظر اس کے آخری سرے تک پہنچے گی۔

(294) وہ کہے گا: کسی کو بھی ایسا نہیں دیا گیا جیسا مجھے دیا گیا ہے۔

(295) اور یہ جنت والوں میں سے سب سے کم درجے والے کی منزل ہے۔

(296) پھر جب اللہ تعالیٰ جنت والوں کو جنت میں اور دوزخ والوں کو دوزخ میں داخل فرما چکے گا، تو موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا۔

(297) اور اسے جنت اور دوزخ کے درمیان دیوار پر کھڑا کیا جائے گا، پھر اعلان کیا جائے گا: اے جنت والو! تو وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے۔

(298) ڈرتے ہوئے کہ کہیں انہیں اپنے مقام سے نکالا نہ جائے۔

(299) پھر اعلان کیا جائے گا: اے دوزخ والو! تو وہ خوش ہو کر جھانکیں گے۔

(300) خوشی سے کہ انہیں اپنے مقام سے نکالا جائے گا۔

(301) اور یہ سمجھیں گے کہ چھٹکارا آ گیا ہے۔

(302) پھر جنت والوں اور دوزخ والوں سے کہا جائے گا۔

(303) - اور ان سب نے اسے دیکھا ہو گا -:

(304) کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ تو یہ بھی کہیں گے اور وہ بھی کہیں گے: ہم نے اسے پہچان لیا، یہ وہی موت ہے جسے ہمارے سپرد کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے حکم دیا جائے گا اور اسے جنت اور دوزخ کے درمیان دیوار پر ذبح کر دیا جائے گا۔

(305) پھر دونوں گروہوں سے کہا جائے گا: اے جنت والو! (اب) ہمیشہ رہنا ہے اس (نعمت) میں جو تم پا رہے ہو، اس میں موت کبھی نہیں آئے گی، اور اے دوزخ والو! (اب) ہمیشہ رہنا ہے اس (عذاب) میں جو تم پا رہے ہو، اس میں موت کبھی نہیں آئے گی۔

(306) پس جنت والے اپنی خوشی پر مزید خوش ہوں گے، اور دوزخ والے اپنے غم پر مزید غمگین ہوں گے۔

(307) [وفي رواية: فَيَأْمَنُ هَؤُلَاءِ، وَيَنْقَطِعُ رَجَاءُ هَؤُلَاءِ] (اور ایک روایت میں ہے: پس یہ (جنت والے) اطمینان پا جائیں گے اور ان (دوزخ والوں) کی امید ٹوٹ جائے گی۔)

(308) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {اور انہیں اس دن سے ڈراؤ جب کہ (ہر) کام طے پا چکا ہو گا، اور وہ غفلت میں (پڑے) ہوں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔}

_________ 



حواشی و حوالہ جات:

(1) (بخاری: 3162)

(2) القصعہ: ایسا برتن جس میں کھایا جاتا ہے اور ثرید (ٹکڑے کر کے) ڈالی جاتی ہے، اور یہ زیادہ تر لکڑی کا بنایا جاتا تھا۔

(3) الثَّرِید: وہ کھانا جو گوشت اور ٹکڑے کیے ہوئے روٹی کو شوربے میں ملا کر بنایا جاتا ہے، اور کبھی گوشت کے بغیر بھی ہوتا ہے۔

(4) النَّهْس: گوشت کو دانتوں کے کناروں سے کاٹنا۔ اور النَّهْش: تمام دانتوں سے کاٹنا۔ (النہایہ فی غریب الأثر - ج 5 / ص 285)

(5) (مسلم: 194 , بخاری: 3162)

(6) یعنی: سب سے پہلے جو شخص اپنی قبر سے اٹھایا جائے گا۔ (عون المعبود - ج 10 / ص 190)
اور یہ اس بات کے منافی نہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آیا ہے کہ وہ صعق (بیہوشی) سے مستثنیٰ ہیں، سو غور کرنا چاہیے۔ (حاشیہ السندی على ابن ماجہ - ج 8 / ص 159)

(7) (احمد: 12491 , مسلم: 2278 , صحیحہ: 1571)

(8) اس سے مراد قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنہا حمد (کے میدان) میں اور تمام مخلوقات کے سروں پر آپ کی شہرت ہے۔ اور عرب لوگ "لواء" (جھنڈا) کو شہرت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، سو "لواء" شہرت اور تنہائی کے لیے مجاز ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے: ممکن ہے کہ آپ کی حمد کے لیے قیامت کے دن حقیقت میں ایک جھنڈا ہو جس کا نام "الحمد" ہو۔
اور جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں، آپ دنیا اور آخرت میں مخلوقات میں سب سے زیادہ حمد کرنے والے ہیں، اس لیے آپ کو حمد کا جھنڈا عطا کیا گیا تاکہ پہلے اور پچھلے سب آپ کے جھنڈے کے نیچے آجائیں، اور اسی کی طرف اشارہ ہے آپ کے قول "آدم اور ان کے سوا (سب) میرے جھنڈے تلے ہوں گے" سے۔ اور آپ کا نام "حمد" سے مشتق ہے، اس لیے آپ کو محمد اور احمد کہا گیا۔ اور قیامت کے دن آپ مقامِ محمود پر کھڑے کیے جائیں گے، اور آپ پر اس مقام میں ایسی تعریفیں کھولی جائیں گی جو آپ سے پہلے کسی پر نہیں کھولی گئیں۔ اور آپ نے اپنی امت کو اپنی برکت سے اس فضیلت سے نوازا جو آپ کو ملی تھی، اس لیے پہلے نازل ہونے والی کتابوں میں آپ کی امت کی اس صفت سے تعریف کی گئی: "آپ کی امت حمد کرنے والے ہیں"، وہ خوشی اور غمی میں اللہ کی حمد کرتے ہیں۔ (حاشیہ السندی على ابن ماجہ - 8/159)

(9) یعنی: سب سے پہلے جن کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 9 / ص 23)

(10) (ابن ماجہ: 4308 , مسلم: 2278)

(11) (ترمذی: 3148 , صحیح الجامع: 1468 , صحیح الترغیب والترہیب: 3543)

(12) (احمد: 12491)

(13) السَّیِّد: وہ ہے جو اپنی قوم میں خیر میں سب سے فائق ہو۔
اور کہا گیا ہے: وہ ہے جس کی طرف مصیبتوں اور سختیوں کے وقت لوگ رجوع کرتے ہیں، وہ ان کے معاملات کی ذمہ داری لیتا ہے، ان کی تکلیفیں اپنے اوپر لیتا ہے اور ان سے دور کرتا ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول میں "یوم القیامۃ" کا تذکرہ، حالانکہ آپ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کے سردار ہیں، اس تقیید کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن آپ کا سرداری کا مقام ہر ایک پر ظاہر ہو جائے گا، اور کوئی منازع اور معاند باقی نہیں رہے گا، دنیا کے برعکس جہاں کفار کے بادشاہوں اور مشرکین کے سرداروں نے آپ سے اس میں منازعت کی تھی۔
اور یہ تقیید اللہ تعالیٰ کے قول {آج بادشاہی کس کے لیے ہے؟ اللہ واحد قہار کے لیے} کے معنی کے قریب ہے، حالانکہ اس سے پہلے بھی بادشاہت اسی کے لیے تھی، لیکن دنیا میں کوئی بادشاہت کا دعویٰ کرنے والا تھا یا مجازاً کسی کی طرف منسوب کی جاتی تھی، آخرت میں یہ سب منقطع ہو جائیں گے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول "میں اولاد آدم کا سردار ہوں" آپ نے فخر کے طور پر نہیں کہا، بلکہ فخر کی نفی صراحتاً کر دی، بلکہ آپ نے یہ اس بیان میں سے کہا جسے اپنی امت تک پہنچانا آپ پر واجب تھا، تاکہ وہ آپ کو پہچانیں، اس پر اعتقاد رکھیں، اس کے تقاضے پر عمل کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر تعظیم کریں جس قدر آپ کے مقام کا تقاضا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے۔
اور یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مخلوق پر فضیلت کی دلیل ہے۔ اور دوسری حدیث "تم انبیاء کے درمیان فضیلت نہ دیا کرو" کا جواب کئی وجوہ سے ہے: ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ادب اور تواضع کے طور پر کہا۔ دوسرا یہ کہ یہ ممانعت صرف نبوّت کے نفس میں فضیلت دینے کے ساتھ مخصوص ہے، اس میں کوئی تفاضل نہیں، تفاضل خصائص اور دوسری فضیلتوں میں ہے۔ اور فضیلت کا اعتقاد ضروری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا {ہم نے ان رسولوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی}۔ (شرح النووی - ج 7 / ص 473)

(14) (ترمذی: 3148)

(15) (مسلم: 194)

(16) (بخاری: 3162 , مسلم: 194)

(17) (طبرانی: 9763 (صحیح) - صحیح الترغیب والترہیب: 3591)

(18) الصَّعِید: وسیع ہموار زمین۔

(19) (بخاری: 3162 , مسلم: 194)

(20) آدمی نے اپنی نظر کو "شَخَص" کیا: جب اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور پلکیں نہیں جھپکیں۔ (المصباح المنیر فی غریب الشرح الكبیر - ج 4 / ص 459)

(21) (طبرانی: 9763)

(22) (بخاری: 3162 , مسلم: 194)

(23) صحیح مسلم کی تمام اساسات (نسخوں) میں یہ لفظ اسی طرح آیا ہے، اور متقدمین اور متاخرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ تصحیف، تغیر اور لفظ میں خلط ہے۔
حافظ عبدالحق اپنی کتاب "الجمع بین الصحیحین" میں فرماتے ہیں: یہ جو مسلم کی کتاب میں آیا ہے یہ کاتبین میں سے کسی ایک کی طرف سے خلط ہے، یا پھر کچھ اور تھا۔
اور قاضی عیاض نے کہا: یہ حدیث کی صورت تمام نسخوں میں ہے، اور اس میں بہت زیادہ تغیر اور تصحیف ہے، انہوں نے کہا: اور اس کا صحیح (لفظ) یہ ہے: "نجیء یوم القیامۃ علی کوم" اسی طرح سے اہل حدیث میں سے بعض نے روایت کیا ہے۔
اور روایت (احمد: 15821 , حاکم: 6479) میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے، اور میں اور میری امیت ایک ٹیلے پر ہوں گے، اور میرا رب تبارک و تعالیٰ مجھے سبز جوڑا پہنائے گا، پھر مجھے اجازت دی جائے گی تو میں وہ کہوں گا جو اللہ چاہے گا کہ میں کہوں، اور یہی مقامِ محمود ہے۔" (الصحیحہ: 2370 , صحیح موارد الظمآن: 2187، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے احمد کی سند کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے)۔
قاضی عیاض نے کہا: یہ سب اس بات کو واضح کرتا ہے جو حدیث میں تغیر ہوا ہے، اور یہ کہ راوی پر یہ لفظ مبہم ہو گیا تھا یا مٹ گیا تھا، اس لیے اس نے اسے "کذا و کذا" (اس طرح اور اس طرح) سے تعبیر کیا اور اس کی تفسیر یہ کر دی کہ "یعنی: لوگوں سے اوپر" اور اس پر "انظر" لکھ دیا تنبیہ کے طور پر، پھر نقل کرنے والوں نے سب کو اکٹھا کر کے اسے حدیث کے متن کے طور پر ترتیب دے دیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو، یہ قاضی عیاض کا کلام ہے، اور متاخرین کی ایک جماعت نے ان کی متابعت کی ہے، اور اللہ اعلم۔ (النووی - ج 1 / ص 334)

(24) (احمد: 15155 , مسلم: 191)

(25) یعنی: آپس میں گڈمڈ ہو گئے۔ کہا جاتا ہے: "ماج البحر" یعنی اس کی لہریں مضطرب ہو گئیں۔ (فتح الباری - ج 21 / ص 92)

(26) (بخاری: 7072 , مسلم: 193)

(27) (مسلم: 2864)

(28) (احمد: 22240، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند قوی ہے۔)

(29) (احمد: 22240)

(30) (مسلم: 2864)

(31) (احمد: 13615، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔)

(32) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(33) الزَّکْمَۃ: زکام۔

(34) (احمد: 12847 , صحیح الترغیب والترہیب: 3639)

(35) یعنی: یہاں تک کہ ان کے لیے جنت قریب کر دی جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا {اور جنت متقیوں کے لیے قریب کر دی گئی} یعنی: قریب کی گئی اور لائی گئی۔ (شرح النووی على مسلم - ج 1 / ص 342)

(36) (مسلم: 195)

(37) (بخاری: 3162 , مسلم: 194)

(38) الِاسْتِشْفَاعَ: شفاعت طلب کرنا، اور وہ ہے: ادنیٰ کا اعلیٰ سے مل جانا تاکہ وہ جس چیز کا ارادہ رکھتا ہے اس میں اس کی مدد حاصل کر سکے۔ (فتح الباری - ج 18 / ص 410)

(39) (بخاری: 7078)

(40) (احمد: 13615 , بخاری: 3162)

(41) قول (وَنَفَخَ فِیک مِنْ رُوحِهِ) میں اضافہ تشریف اور تخصیص کے لیے ہے، یعنی: اس روح سے جو مخلوق ہے، اور اس میں کسی کا کوئی دخل نہیں۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 5 / ص 422)

(42) (بخاری: 3162 , ترمذی: 2434)

(43) (بخاری: 7002 , احمد: 12174)

(44) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(45) (بخاری: 4206 , مسلم: 193)

(46) یعنی: درخت سے اس کے کھانے کو، حالانکہ اس سے منع کیا گیا تھا۔ (فتح الباری - ج 18 / ص 410)

(47) (مسلم: 195)

(48) یعنی: میری جان ہی اس کی مستحق ہے کہ اس کے لیے شفاعت کی جائے۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 6 / ص 226)

(49) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(50) (بخاری: 4206 , مسلم: 193)

(51) یعنی: اللہ تعالیٰ کے قول {ہم نے انہیں نوح کے ساتھ سوار کیا، بے شک وہ شکر گزار بندہ تھا} (سورۃ الإسراء:3) میں۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 6 / ص 226)

(52) (مسلم: 194 , بخاری: 3162)

(53) (مسلم: 193 , بخاری: 6975)

(54) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا: اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور بیشک تیرا وعدہ حق ہے اور تو سب حاکموں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اللہ نے فرمایا: اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، بے شک وہ غیر صالح عمل ہے، پس تو مجھ سے وہ چیز مت پوچھ جس کا تجھے علم نہیں، بے شک میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہو جانا۔} (سورۃ ہود:45-46)

(55) (بخاری: 4206 , ابن ماجہ: 4312)

(56) (ترمذی: 3148)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اور نوح نے کہا: اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑ۔ بے شک اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور وہ پیدا نہیں کریں گے مگر فاجر اور ناشکرا۔} (سورۃ نوح:26-27)

(57) (بخاری: 4435 , ترمذی: 2434)

(58) (بخاری: 4206 , ابن ماجہ: 4312)

(59) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(60) یعنی: میں قرب اور انبساط میں محبوب (خاص دوست) کے درجے پر نہیں تھا، یعنی میں اس درجے میں نہیں ہوں، جو فضیلت مجھے ملی وہ جبریل علیہ السلام کے ذریعے سفارت سے تھی، لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے بغیر واسطے کے کلام کیا۔
اور "وَرَاء" (پیچھے) کا تکرار ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ آپ کو بغیر واسطے کے دیدار اور سماع حاصل ہوا، گویا آپ نے کہا: میں موسیٰ علیہ السلام کے پیچھے ہوں، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہیں۔ (فتح الباری - ج 18 / ص 410)

(61) (مسلم: 195)

(62) بیضاوی نے کہا: اور حق یہ ہے کہ وہ تینوں باتیں معاریض کلام میں سے تھیں، لیکن جب ان کی صورت جھوٹ کی سی تھی تو آپ نے ان سے ڈرتے ہوئے، اپنے آپ کو شفاعت سے حقیر سمجھتے ہوئے، ان کا تذکرہ کیا؛ کیونکہ جو اللہ کو زیادہ جاننے والا اور زیادہ قرب رکھنے والا ہوتا ہے وہ زیادہ خوف رکھتا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 6 / ص 226)

(63) (بخاری: 4435 , ترمذی: 2434)

(64) (سورۃ الصافات:89)

(65) (سورۃ الأنبیاء:63)

(66) (سورۃ الأنعام:76)

(67) (مسلم: 194)

(68) (احمد: 13587، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: حدیث صحیح ہے۔)

(69) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(70) (بخاری: 7002)

(71) (احمد: 13615 , بخاری: 7002)

(72) اللہ تعالیٰ کا قول {وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيّاً} یعنی: ہم نے انہیں منزلت کے قریب کر کے اپنا ہم کلام بنایا، اور النَّجِيُّ مناجی کے معنی میں ہے، جیسے جلیس اور ندیم۔ یہاں تقریب تشریف اور اکرام کی تقریب ہے، ان کی حالت اس شخص کی سی بیان کی گئی ہے جسے بادشاہ اپنی مناجات کے لیے قریب کرے۔
زجاج نے کہا: اللہ نے انہیں منزلت میں اپنا قریب کیا یہاں تک کہ انہوں نے اس کی مناجات سنی۔
اور کہا گیا ہے: اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قدر بلند کیا یہاں تک کہ انہوں نے قلم کی آواز سنی۔ (فتح القدیر - ج 4 / ص 462)

(73) (بخاری: 7002)

(74) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(75) (بخاری: 6975 , مسلم: 193)

(76) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(77) (بخاری: 7002)

(78) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(79) (حاکم: 6464، ارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے) , (احمد: 2546)

(80) (احمد: 13615، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔)

(81) (احمد: 12847 , صحیح الترغیب والترہیب: 3639)

(82) (مسلم: 194 , بخاری: 4435)

(83) (احمد: 13615)

(84) (مسلم: 194 , بخاری: 4435)

(85) (بخاری: 7072 , مسلم: 193)

(86) (احمد: 12847)

(87) (بخاری: 1405)

(88) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(89) (احمد: 13615)

(90) (ترمذی: 3148 , احمد: 12491)

(91) (احمد: 12491)

(92) (ترمذی: 3148)

(93) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(94) (مسلم: 194 , ترمذی: 3148)

(95) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(96) (احمد: 12847)

(97) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(98) (بخاری: 7072 , ترمذی: 3148)

(99) یعنی: ان پر رحم فرما اور انہیں بخش دے، اور تکرار یاد دلانے کے لیے ہے۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 6 / ص 226)

(100) یعنی: جن پر کوئی حساب نہیں۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 6 / ص 226)

(101) یعنی: وہ باقی دروازوں سے منع نہیں ہیں، بلکہ اس دروازے کی خصوصی عنایت کے لیے مخصوص ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 6 / ص 226)

(102) الْمِصْرَاعَانِ: دروازے کے دونوں پٹ۔ (شرح النووی على مسلم - ج 1 / ص 341)

(103) ہَجَر: بحرین کی ایک عظیم شہر۔

(104) بُصْرَى: ایک مشہور شہر ہے، اس اور دمشق کے درمیان تقریباً تین منزلیں ہیں، اور یہ حوران کا شہر ہے، اس اور مکہ کے درمیان ایک مہینے کا فاصلہ ہے۔ (شرح النووی على مسلم - ج 1 / ص 341)

(105) (بخاری: 4435 , مسلم: 194)

(106) السَّرَاب: وہ ہے جو صحرا اور ہموار میدان میں دوپہر کے وقت سخت گرمی میں لوگوں کو نظر آتا ہے، پانی کی طرح چمکتا ہوا، پیاسا اسے پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس جاتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتا، سو کافر جہنم میں آئیں گے - اللہ کریم ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس سے اور ہر ناپسندیدہ چیز سے بچائے - اور وہ پیاسے ہوں گے، سو اسے پانی سمجھ کر اس میں گرتے چلے جائیں گے۔ (شرح النووی على مسلم - ج 1 / ص 324)

(107) (بخاری: 7001 , حاکم: 7377)

(108) (مسلم: 183 , بخاری: 4305)

(109) (بخاری: 7000 , مسلم: 182)

(110) (ترمذی: 2557 , احمد: 8803)

(111) (طبرانی: 9763 (صحیح) - صحیح الترغیب والترہیب: 3591)

(112) (ترمذی: 2557 , احمد: 8803)

(113) (بخاری: 7000 , مسلم: 182)

(114) (بخاری: 7001)

(115) (بخاری: 4305 , مسلم: 183)

(116) (غُبَّر): غابر کی جمع ہے، اس کا معنی ہے: ان کے باقی ماندہ۔ (شرح النووی على مسلم - ج 1 / ص 324)

(117) (مسلم: 183 , بخاری: 7001)

(118) (مسلم: 183 , بخاری: 7001)

(119) (بخاری: 7001)

(120) اس کی شدتِ اتقاد اور شعلوں کی لہروں کے ٹکراؤ کی وجہ سے اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو کچل دے گا۔
اور الحَطْم: توڑنا اور ہلاک کرنا ہے، اور الحُطَمَۃ: آگ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اس لیے کہ وہ اس میں ڈالی جانے والی چیز کو توڑ دیتی ہے۔ (شرح النووی على مسلم - ج 1 / ص 324)

(121) (مسلم: 183 , بخاری: 7001)

(122) (بخاری: 7001)

(123) (مسلم: 183 , بخاری: 7001)

(124) (بخاری: 7001 , مسلم: 183)

(125) (بخاری: 773 , مسلم: 182)

(126) الْبَرُّ: اطاعت گزار۔ (شرح النووی على مسلم - ج 1 / ص 324)

(127) (بخاری: 7001 , مسلم: 183)

(128) (بخاری: 773 , مسلم: 182)

(129) (احمد: 11143)

(130) (بخاری: 6204 , مسلم: 183)

(131) انہوں نے عقبہ سے کہا: "الْکَوْمُ" کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اونچی جگہ۔

(132) (ابن خزیمہ، التوحید، ص153 , الصحیحہ: 756)

(133) (ابن ماجہ: 2803 , الصحیحہ: 584)

(134) (بخاری: 7001 , حاکم: 7377)

(135) (مسلم: 183)

(136) (ترمذی: 2557 , احمد: 8803)

(137) (بخاری: 4305 , مسلم: 183)

(138) (بخاری: 7001)

(139) یعنی: انہوں نے دنیا میں اپنے ان رشتہ داروں کو چھوڑ دیا جو اللہ کی اطاعت سے ہٹ گئے تھے، حالانکہ انہیں معاش اور دنیوی مصلحتوں میں ان کی ضرورت تھی، جیسا کہ مؤمن صحابہ کے ساتھ ہوا جب انہوں نے اپنے ان رشتہ داروں سے قطع تعلق کیا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کی، حالانکہ انہیں ان کی ضرورت تھی اور ان سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ (فتح الباری - ج 18 / ص 419)

(140) (بخاری: 4305 , مسلم: 183)

(141) (بخاری: 7001 , ابن ماجہ: 2803)

(142) (بخاری: 4305)

(143) (بخاری: 6204 , مسلم: 183)

(144) (بخاری: 4305 , مسلم: 183)

(145) (بخاری: 6204 , مسلم: 182)

(146) (ترمذی: 2557 , احمد: 8803)

(147) (ابن ماجہ: 2803)

(148) (مسلم: 183 , بخاری: 7001)

(149) (مسلم: 183)

(150) (بخاری: 7001)

(151) (مسلم: 191 , احمد: 15155)

(152) یعنی: تم کسی کو تکلیف نہیں دیتے اور نہ ہی کوئی تمہیں منازعت، مجادلہ یا مضائقہ سے تکلیف دیتا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 6 / ص 350)

(153) (مسلم: 183 , بخاری: 4305)

(154) (بخاری: 773 , مسلم: 182)

(155) (بخاری: 7001 , مسلم: 183)

(156) (بخاری: 6204 , نسائی: 11488)

(157) (ابن خزیمہ، التوحید: 153 , مسلم: 191 , احمد: 19671 , صحیح الجامع: 8018 , الصحیحۃ: 755, 756)

(158) (بخاری: 4635, 7001 , ابن ماجہ: 2803 , الصحیحۃ: 583)

(159) (مسلم: 183)

(160) (بخاری: 4635)

(161) (ابن ماجہ: 2803)

(162) (بخاری: 4635 , مسلم: 183)

(163) یعنی: اس کی پیٹھ کی ریڑھ کی ہڈی برابر ہو جائے گی، سو وہ سجدے کے لیے نہیں جھک سکے گا۔ (فتح الباری - ج 18 / ص 419)

(164) (مسلم: 183 , بخاری: 7001)

(165) (سورۃ القلم:42)

(166) (ابن ماجہ: 2803 , الصحیحہ: 584)

(167) (مسلم: 183)

(168) (ترمذی: 2557)

(169) انہوں نے صفت سے اسے پہچانا اگرچہ اس سے پہلے اس کی رؤیت ان کے لیے نہیں آئی تھی، کیونکہ وہ اس وقت ایسی چیز دیکھیں گے جو مخلوقات سے مشابہ نہیں ہو گی، اور وہ جانتے ہیں کہ وہ اپنی کسی مخلوق سے مشابہ نہیں ہے، سو وہ جان لیں گے کہ وہی ان کا رب ہے، پس کہیں گے: "آپ ہمارے رب ہیں"۔ (فتح الباری - ج 18 / ص 419)

(170) (بخاری: 773 , مسلم: 183)

(171) (بخاری: 6204 , مسلم: 182)

(172) (ابن ماجہ: 2803)

(173) (مسلم: 191 , احمد: 15155)

(174) (طبرانی: 9763 (صحیح) - صحیح الترغیب والترہیب: 3591)

(175) (بخاری: 773)

(176) (بخاری: 7001 , مسلم: 183)

(177) (طبرانی: 9763)

(178) یعنی: پھسلنے والی جگہ جس میں پاؤں پھسلتے ہیں۔ (فتح الباری - ج 18 / ص 419)

(179) (بخاری: 7001 , مسلم: 183)

(180) (طبرانی: 9763)

(181) (طبرانی: 8992 , مسلم: 183)

(182) (مسلم: 195)

(183) یہی کیل و کانٹے وہ شہوات ہیں جن کی طرف حدیث "النار محفوفۃ بالشہوات" میں اشارہ کیا گیا ہے، سو شہوات اس کے کناروں پر رکھی ہوں گی، پس جو شخص شہوت میں کود پڑے گا وہ آگ میں گرے گا کیونکہ وہی اس کے آنکڑے ہیں۔ (فتح الباری - ج 18 / ص 419)

(184) (بخاری: 7001 , مسلم: 183)

(185) (بخاری: 773 , مسلم: 182)

(186) (بخاری: 7001 , مسلم: 183)

(187) (بخاری: 773 , مسلم: 182)

(188) (مسلم: 195)

(189) (بخاری: 6204 , نسائی: 11488)

(190) (مسلم: 195 , ابوداؤد: 7849)

(191) (بخاری: 7001)

(192) (بخاری: 6204 , ابن ماجہ: 1140)

(193) (بخاری: 7000)

(194) یعنی: میں اور میری امت پہلے ہوں گے جو صراط سے گزریں گے اور اسے پار کریں گے، اور حدیث میں ہے: "ہم آخری امت ہیں اور پہلے ہیں جن کا حساب ہو گا"۔ (فتح الباری - ج 18 / ص 419)

(195) (بخاری: 773)

(196) (مسلم: 191 , احمد: 14763)

(197) (صحیح مسلم) 195 , (صحیح البخاری) 7001
(198) (صحیح مسلم) 195
(199) فَرَسٌ جَوَادٌ: یعنی خوبی میں واضح (ضم کے ساتھ) یعنی عمدہ اور شاندار، اس کی جمع "جِيَاد" ہے، اور یہ اپنی دوڑ میں تیزی دکھاتا ہے۔ اور "(الرِّكَابِ)" سے مراد اونٹ ہیں۔ (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 350)
(200) (صحیح البخاری) 7001 , (صحیح مسلم) 183
(201) (مسند الإمام أحمد) 11217 , اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
(202) (صحیح مسلم) 195
(203) (صحیح البخاری) 7000 , (صحیح مسلم) 182
(204) (صحیح مسلم) 183 , (صحیح البخاری) 7001
(205) (الْمُخَرْدَل): جسے آگ کے آنکڑے کاٹتے ہیں۔
(206) یعنی: اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
ابن ابی جم رہ کہتے ہیں: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پل صراط پر گزرنے والے تین قسم کے ہوں گے: بے خراش نجات پانے والا، پہلے ہی لمحے میں ہلاک ہونے والا، اور ان دونوں کے درمیان والا، جو زخمی ہوگا پھر نجات پائے گا، اور ہر قسم کے بھی کئی درجے ہوں گے، جو ان کے قول "اعمال کے مطابق" سے معلوم ہوں گے۔ (فتح الباری، جلد 18، صفحہ 419)
(207) (صحیح البخاری) 6204 , (مسند الإمام أحمد) 7703
(208) (صحیح مسلم) 195
(209) (معجم الطبراني الكبير) 9763
(210) (صحیح مسلم) 195
(211) (صحیح البخاری) 7001
(212) (معجم الطبراني الكبير) 9763
(213) (صحیح البخاری) 773
(214) (صحیح البخاری) 7001 , (صحیح مسلم) 183
(215) (صحیح مسلم) 195 , (مستدرك الحاكم) 8749
(216) (صحیح البخاری) 7000 , (صحیح مسلم) 182
(217) (صحیح مسلم) 182
(218) سلف کا مذہب تسلیم و تفویض کے ساتھ تنزیہ (یعنی اللہ کی صفات سے مشابہت کو دور کرنا) ہے۔ پس ان صفات پر ایمان لانا فرض ہے، اور ان میں غور و خوض سے رکنا واجب ہے۔ پس ہدایت یافتہ وہ ہے جو اس میں طریقہ تسلیم اختیار کرے، اور ان میں غور و خوض کرنے والا گمراہ ہے، اور انکار کرنے والا معطل ہے، اور کیفیت بیان کرنے والا مشبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 350)
(219) (الجامع الصحیح للترمذي) 2557 , (صحیح البخاری) 4568
(220) یعنی: انہیں ایک دوسرے سے ملایا جائے گا، پس وہ جمع ہوں گی اور اس شخص پر ملاقات کریں گی جو ان میں ہوگا۔ (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 350)
(221) (قَط) کا معنی ہے: میرے لیے کافی ہے، یہ مجھے کافی ہے۔ (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 350)
(222) (صحیح مسلم) 2848 , (صحیح البخاری) 6949
(223) اس کے داخلے کی اجازت مانگنا اور اسے اجازت دینا دراصل گھر میں داخلے کے لیے ہے، اور وہ جنت ہے، اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف تشریف کی نسبت سے منسوب کیا گیا ہے۔ (فتح الباري، جلد 18، صفحہ 410)
(224) (صحیح البخاری) 7002 , (صحیح مسلم) 193
(225) (مسند الإمام أحمد) 12491 , البانی نے مختصر العلو صفحہ 75 میں اسے صحیح کہا، اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: اس کی سند اچھی (جید) ہے۔
(226) (صحیح البخاری) 7002 , (صحیح مسلم) 193
(227) (صحیح البخاری) 7072 , (صحیح مسلم) 193
(228) (صحیح البخاری) 7072 , (صحیح مسلم) 193
(229) (مسند الإمام أحمد) 2546 , اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: یہ لغیرہ حسن ہے۔
(230) (صحیح البخاری) 7072 , (صحیح مسلم) 193
(231) (صحیح البخاری) 4206 , (صحیح مسلم) 193
(232) (صحیح البخاری) 7072 , (صحیح مسلم) 193
(233) (صحیح البخاری) 7071
(234) (صحیح البخاری) 7072 , (صحیح مسلم) 193
(235) (صحیح البخاری) 4206 , (صحیح مسلم) 193
(236) (صحیح البخاری) 7072
(237) (صحیح البخاری) 7071
(238) (صحیح البخاری) 7072 , (صحیح مسلم) 193
(239) (صحیح البخاری) 4206 , (صحیح مسلم) 193
(240) خیر سے مراد ایمان ہے، کیونکہ وہی ہے جس کے ذریعے وہ جہنم سے نکلیں گے۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 208)
(241) اس حدیث میں مرجئہ کا رد ہے، کیونکہ اس میں ایمان کے ساتھ معاصی کے نقصان کی وضاحت ہے، اور معتزلہ کا بھی رد ہے اس بات میں کہ معاصی ہمیشہ جہنم میں رہنے کا سبب ہیں۔ (فتح الباری، حدیث 22)
(242) (صحیح البخاری) 6975 , (صحیح مسلم) 193
(243) (صحیح البخاری) 7072 , (صحیح مسلم) 193
(244) بخاری کہتے ہیں: "سوائے اس کے جسے قرآن نے روک لیا"، مراد اللہ تعالیٰ کا قول {خَالِدِينَ فِيهَا} ہے۔ (صحیح البخاری) 4206
(245) (صحیح البخاری) 4206 , (صحیح مسلم) 193
(246) (صحیح البخاری) 7072 , (صحیح مسلم) 193
(247) (ظلال الجنة في تخريج السنة لابن أبي عاصم: 828) , (صحیح مسلم) 193
(248) (ظلال الجنة: 828)
(249) (صحیح البخاری) 7072 , (صحیح مسلم) 193
(250) (مسند الإمام أحمد) 12847 , (صحیح) - (صحیح الترغیب والترہیب: 3639)
(251) [سورۃ الإسراء، آیت: 79]
(252) (صحیح البخاری) 7002
(253) (صحیح مسلم) 183 , (سنن ابن ماجة) 60
(254) (صحیح مسلم) 183
(255) یعنی: تم میں سے کوئی شخص دنیا میں اپنا حق لینے اور اسے حاصل کرنے کے لیے اپنے مخالف اور زیادتی کرنے والے سے جس قدر مجادلہ کرتا ہے، مؤمنین قیامت کے دن اپنے بھائیوں کی شفاعت کے لیے اللہ سے اس سے کہیں زیادہ سخت مجادلہ کریں گے۔
(256) (سنن ابن ماجة) 60 , (صحیح مسلم) 183
(257) (السنن الصغرى للنسائي) 5010 , (صحیح البخاری) 7001
(258) (السنن الصغرى للنسائي) 5010 , (صحیح مسلم) 183
(259) (صحیح مسلم) 185 , (سنن ابن ماجة) 4309
(260) (مسند الإمام أحمد) 11167 , (صحیح مسلم) 185
(261) (صحیح البخاری) 6204
(262) (صحیح البخاری) 773
(263) (صحیح البخاری) 6204 , (صحیح مسلم) 182
(264) (صحیح مسلم) 185 , (السنن الصغرى للنسائي) 1140
(265) (السنن الصغرى للنسائي) 5010 , (صحیح مسلم) 183
(266) (صحیح البخاری) 773
(267) (صحیح البخاری) 773 (سنن ابن ماجة) 4326
(268) (صحیح مسلم) 191
(269) (سنن ابن ماجة) 60 , (صحیح مسلم) 183
(270) (صحیح البخاری) 7001 , (صحیح مسلم) 183
(271) (صحیح مسلم) 2845
(272) (صحیح مسلم) 183
(273) الحُجْزَة: پاجامے کی تہبند کا گرہ۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 9، صفحہ 227)
(274) (صحیح مسلم) 2845
(275) یعنی: وہ جل گئے، اور الْمَحْش: کھال کا جلنا اور ہڈی کا ظاہر ہونا۔ (فتح الباري، جلد 18، صفحہ 419)
(276) الحُمَم: "حُمَمَة" کی جمع ہے، اور وہ کوئلہ ہے۔
(277) (صحیح البخاری) 6192 , (صحیح مسلم) 184
(278) (صحیح مسلم) 183
(279) الضَّبَائِر: الگ الگ ہونے میں جماعتیں۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 327)
(280) (صحیح مسلم) 185 , (سنن ابن ماجة) 4309
(281) (الْحِبَّةُ): پودوں کے بیجوں کی جمع ہے، اس کی واحد "حَبَّةٌ" فتح کے ساتھ ہے، اور "الْحِبُّ" گیہوں اور جو ہے، اس کی واحد بھی "حَبَّةٌ" فتح کے ساتھ ہے، اور ان کا فرق صرف جمع میں ہے۔
اور ابو المعالی کہتے ہیں: کسر کے ساتھ "الْحِبَّةُ" صحرا کے ان بیجوں میں سے ہے جو غذا نہیں ہیں۔ (فتح الباري، حدیث 22)
(282) الحَمِيل: وہ چیز جو سیلاب مٹی یا گندگی وغیرہ لے کر آتا ہے۔
(283) (صحیح البخاری) 6192 , (صحیح مسلم) 184
(284) (مسند الإمام أحمد) 11143 , (صحیح مسلم) 183 , (صحیح البخاری) 7001
(285) یعنی مومن مجرمین کو اللہ تعالیٰ اس عرصہ کے بعد جس کا اس نے ارادہ کیا ہے عذاب دینے کے بعد موت دے گا، اور یہ موت حقیقی موت ہے، جس کے ساتھ حس جاتی رہے گی، اور ان کا عذاب ان کے گناہوں کے مطابق ہوگا، پھر وہ انہیں موت دے گا، پھر وہ بغیر حس کے جہنم میں اس عرصہ تک مقید رہیں گے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا ہے، پھر وہ جہنم سے مردہ حالت میں نکلیں گے جبکہ وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے، پھر انہیں ٹکڑوں میں اٹھایا جائے گا جیسے سامان اٹھایا جاتا ہے، اور جنت کی نہروں پر ڈال دیا جائے گا، پھر ان پر زندگی کا پانی ڈالا جائے گا، اور وہ سیلاب کے گارے میں بیج کے اگنے کی طرح تیزی اور کمزوری کے ساتھ اگیں گے، پس اپنی کمزوری کی وجہ سے وہ زرد اور مڑے ہوئے نکلے گا، پھر اس کے بعد ان کی طاقت مضبوط ہوگی، اور وہ اپنے ٹھکانوں کو پہنچیں گے اور ان کے حالات مکمل ہوں گے۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 327)
(286) (صحیح البخاری) 6075 , (صحیح مسلم) 184
(287) (صحیح مسلم) 185
(288) (صحیح مسلم) 183
(289) (مسند الإمام أحمد) 11143 , اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔
(290) (مسند الإمام أحمد) 11917 , (الصحیحة: 2250 ملاحظہ کریں۔)
(291) (صحیح البخاری) 7001 , (صحیح مسلم) 183
(292) (صحیح مسلم) 183 , (صحیح البخاری) 7001
(293) (صحیح مسلم) 183 , (صحیح البخاری) 7001
(294) (سنن ابن ماجة) 60 , (مسند الإمام أحمد) 11550
(295) [سورۃ النساء، آیت: 40]
(296) (صحیح مسلم) 183 , (صحیح البخاری) 7001
(297) (مسند الإمام أحمد) 12491, (مستدرك الحاكم) 2954 , البانی نے ظلال الجنة تحت حديث: 844 میں اسے صحیح قرار دیا، اور شیخ شعیب الارنؤوط نے کہا: اس کی سند اچھی (جید) ہے۔
(298) (مسند الإمام أحمد) 12491 , اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: اس کی سند اچھی (جید) ہے۔
(299) (صحیح مسلم) 183 , (صحیح البخاری) 7001
(300) (مسند الإمام أحمد) 12491
(301) (صحیح مسلم) 183 , (صحیح البخاری) 7001
(302) (صحیح البخاری) 7001 , (صحیح مسلم) 183
(303) (صحیح البخاری) 7001 , (صحیح مسلم) 183
(304) (مسند الإمام أحمد) 12491 , (صحیح البخاری) 7001 , (صحیح مسلم) 183
(305) (مسند الإمام أحمد) 12491
(306) (صحیح مسلم) 183
(307) (مسند الإمام أحمد) 12491 , (مستدرك الحاكم) 8736
(308) (صحیح البخاری) 7001 , (صحیح مسلم) 183
(309) (تشریحی متن کا خلاصہ): مصنف کہتے ہیں: اس حدیث میں اہل سنت اور اہل ارجاء کے درمیان فرق ہے۔ اہل ارجاء کہتے ہیں کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کہے وہ جنت میں داخل ہوگا چاہے اسلام کا کوئی عمل نہ کیا ہو، جبکہ اہل سنت کہتے ہیں کہ ایمان کے ساتھ عمل کا ہونا ضروری ہے۔ پھر مصنف نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ جو شخص اللہ کی مرضی کے مطابق اعمال کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جو تقصیر کرے گا اس کے بارے میں اللہ کی مشیت ہے، وہ چاہے تو عذاب دے یا بخش دے۔ نیز شفاعت کی ضرورت اسی لیے ہے کہ بعض اہل ایمان گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے، پھر شفاعت سے نکالے جائیں گے۔ اگر مرجئہ کا دعویٰ درست ہوتا کہ صرف کلمہ پڑھنے سے بلا حساب جنت مل جاتی تو پھر شفاعت کی کیا ضرورت تھی؟
(310) (مسند الإمام أحمد) 12491 , (سنن الدارمي) 52
(311) (صحیح مسلم) 183 , (صحیح البخاری) 7001
(312) (صحیح مسلم) 183
(313) (صحیح البخاری) 773
(314) یعنی: اپنے چہرے کے بل گرے گا۔
(315) یعنی: اس کے چہرے کو مارے گی اور اسے سیاہ کر دے گی، اور اس میں اثر ڈالے گی۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 330)
(316) (صحیح مسلم) 187
(317) یعنی: اس نے مجھے موٹا کیا، میری سماعت کو نقصان پہنچایا اور مجھے ہلاک کیا۔ اور داودی نے کہا: اس کا معنی ہے: اس نے میری جلد اور صورتحال کو بدل دیا۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 330)
(318) یعنی: اس کی شعلہ زنی، اس کا بھڑکنا اور اس کی تیزی۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 323)
(319) (صحیح البخاری) 773
(320) (صحیح البخاری) 6204
(321) (صحیح البخاری) 773
(322) (صحیح مسلم) 187
(323) (مسند الإمام أحمد) 3714
(324) (صحیح مسلم) 187
(325) (صحیح البخاری) 773
(326) (صحیح مسلم) 187
(327) (صحیح البخاری) 773
(328) (صحیح البخاری) 6202 , (صحیح مسلم) 186
(329) یعنی: تیری میری سے درخواست کو کیا کاٹے گا؟۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 330)
(330) (صحیح مسلم) 187 , (مسند الإمام أحمد) 3899
(331) (صحیح البخاری) 6202 , (صحیح مسلم) 186
(332) النواجذ: دانتوں کا آخری حصہ، اور کہا گیا: وہ جو اوپر والے دانتوں کے بعد ہیں۔
(333) (صحیح البخاری) 6202 , (صحیح مسلم) 186
(334) (صحیح مسلم) 187 , (مسند الإمام أحمد) 3899
(335) (صحیح البخاری) 7000
(336) (صحیح البخاری) 6204
(337) (صحیح البخاری) 773
(338) (صحیح البخاری) 6204
(339) (صحیح البخاری) 773
(340) (صحیح البخاری) 773 , (صحیح مسلم) 188
(341) (مسند الإمام أحمد) 11232 , اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
(342) القهرمان: امانت دار خازن جو اپنی ذمہ داری کی چیزوں کی حفاظت کرتا ہے، اور یہ فارسی زبان میں ہے۔
(343) الحَوْراء: وہ جس کی آنکھیں شدید سفید اور شدید سیاہ ہوں۔ (النهاية في غريب الحديث والأثر، جلد 1، صفحہ 1079)
(344) العِينُ: عَيْنَاء کی جمع ہے، اور وہ کشادہ آنکھوں والی ہوتی ہے۔ (النهاية في غريب الحديث والأثر، جلد 3، صفحہ 625)
(345) الْحُلَّة: ایک ہی قسم کا تہبند اور چادر۔ (فتح الباري، حدیث 30)
(346) اس سے مراد: اس کی صفائی کی انتہائی کیفیت ہے، اور یہ کہ ہڈی کے اندر کی چیز ہڈی، گوشت اور کھال سے چھپی نہیں رہتی۔ (فتح الباري، جلد 10، صفحہ 30)
(347) یعنی: پلٹا۔
(348) (معجم الطبراني الكبير) 9763 (صحیح) - (صحیح الترغیب والترہیب: 3591)
(349) (صحیح مسلم) 188 , (مسند الإمام أحمد) 11232
(350) یعنی: دیکھو۔
(351) (معجم الطبراني الكبير) 9763
(352) (صحیح مسلم) 188
(353) (صحیح البخاری) 6202 , (صحیح مسلم) 186
(354) (الجامع الصحیح للترمذي) 2557
(355) الْأَمْلَحُ: وہ جس کا سفیدی سیاہی سے زیادہ ہو۔
(356) (صحیح البخاری) 4453 , (صحیح مسلم) 2849
(357) لَبَّبَهُ تَلْبِيبًا: جھگڑے میں اس کی گردن کے پاس سے اس کے کپڑے جمع کیے پھر اسے کھینچا۔ (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 350)
(358) (الجامع الصحیح للترمذي) 2557 , (صحیح البخاری) 4453
(359) (سنن ابن ماجة) 4327 , (مسند الإمام أحمد) 7537
(360) (الجامع الصحیح للترمذي) 2557
(361) (سنن ابن ماجة) 4327 , (مسند الإمام أحمد) 7537
(362) (مسند الإمام أحمد) 9463 , اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔
(363) (الجامع الصحیح للترمذي) 2557
(364) (صحیح البخاری) 4453
(365) (الجامع الصحیح للترمذي) 2557 , (صحیح مسلم) 2849
(366) (سنن ابن ماجة) 4327 , (مسند الإمام أحمد) 7537 , (صحیح البخاری) 4453
(367) (صحیح البخاری) 6182 , (صحیح مسلم) 2850
(368) (مسند أبي يعلى) 2898 , (صحیح) - (صحیح الترغیب والترہیب: 3774)
(369) [سورۃ مريم، آیت: 39]
(370) (صحیح البخاری) 4453





حدیث نمبر 9

عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ (١) قَالَ: كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي (٢) رَأيٌ مِنْ رَأيِ الْخَوَارِجِ (٣) فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ , نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ (٤) قَالَ: فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ - رضي الله عنهما - جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ عَنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ , فَقُلْتُ لَهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ؟ , وَاللهُ يَقُولُ: {إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلْ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ} (٥) وَ {كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا} (٦) فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ؟ , فَقَالَ جَابِرٌ: أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ - صلى الله عليه وسلم - الَّذِي يَبْعَثُهُ اللهُ فِيهِ؟، قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ - صلى الله عليه وسلم - الْمَحْمُودُ , الَّذِي يُخْرِجُ اللهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ، قَالَ يَزِيدٌ: فَزَعَمَ جَابِرٌ " أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا , فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ (٧) فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ، فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ الْقَرَاطِيسُ (٨) قَالَ يَزِيدٌ: فَرَجَعْنَا فَقُلْنَا: وَيْحَكُمْ، أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - (٩)؟، فَرَجَعْنَا، فلَا وَاللهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ (١٠). (١١)

ترجمہ:

یزید فقیر (١) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے خارجیوں کے ایک عقیدے نے اس طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا (٢) کہ ہم ایک کثیر تعداد پر مشتمل ٹولی میں نکلے (٣) تاکہ حج کریں، پھر لوگوں کے خلاف (خارجی عقیدہ لے کر) نکل کھڑے ہوں (٤)۔ کہا: ہم مدینہ سے گزرے تو دیکھا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ایک ستون کے پاس بیٹھے لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حدیث بیان کر رہے ہیں۔ (یزید) کہتے ہیں: دیکھا تو انہوں نے جہنمیوں کا ذکر کیا، تو میں نے ان سے پوچھا: اے رسول اللہ کے صحابی! یہ آپ کیا بیان کر رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے{بے شک جسے تو آگ میں داخل کرے گا، تو نے اسے رسوا کر دیا} (٥) اور {جب بھی وہ اس (آگ) سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹا دیے جائیں گے} (٦)۔ پھر یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: تو کیا تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقام کے بارے میں سنا ہے جس میں اللہ انہیں (قیامت کے دن) کھڑا کرے گا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مقامِ محمود ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جسے نکالے گا (جہنم سے) نکالے گا۔ یزید کہتے ہیں: پھر جابر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ "کچھ لوگ ایسے ہیں جو جہنم میں رہنے کے بعد اس سے نکالے جائیں گے۔ وہ ایسے نکلیں گے جیسے تل کے ڈنٹھل (٧) (جلے ہوئے اور سیاہ)، پھر وہ جنت کے ایک نہر میں داخل ہوں گے اور اس میں نہائیں گے، پھر وہ ایسے نکلیں گے جیسے سفید کاغذ (٨)۔"
یزید کہتے ہیں: ہم (اپنے ساتھیوں کے پاس) واپس گئے اور کہنے لگے: تمہارا برا ہو، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ بزرگ (حضرت جابر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولیں گے (٩)؟ پھر ہم (اس خیال سے) باز آ گئے (اور واپس ہوئے)۔ اللہ کی قسم! ہم میں سے صرف ایک آدمی (اس غلط عقیدے پر) نکل کر گیا (١٠)۔ (١١)


🔍 حواشی و حوالہ جات:

(١) یہ یزید بن صہیب، ابو عثمان کوفی ہیں، جو "فقیر" کے نام سے مشہور ہیں۔ تابعین کی چوتھی طبقہ کے معتبر راوی ہیں۔ (تقریب التہذيب)
(٢) (شَغَفَنِي): میرے دل کے پردے سے چپک گیا تھا (یعنی میرے دل میں گہرا اثر کر گیا تھا)۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 336)
(٣) خوارج کا عقیدہ: وہ یہ سمجھتے تھے کہ مرتکبِ کبیرہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جو جہنم میں داخل ہو گیا، وہ کبھی نہیں نکلے گا۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 336)
(٤) یعنی: ہم اپنے شہر سے ایک بڑی جماعت کی صورت میں نکلے تاکہ حج کریں، پھر لوگوں کے سامنے خارجیوں کے مذہب کو ظاہر کریں، اس کی طرف بلائیں اور اس پر ابھاریں۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 336)
(٥) [سورۃ آل عمران، آیت: 192]
(٦) [سورۃ السجدة، آیت: 20]
(٧) (السَّمَاسِم) "سِمْسِم" (تِل) کی جمع ہے۔ اس کے ڈنٹھل جب اکھاڑ کر دھوپ میں رکھے جاتے ہیں تو اس کے دانے نکالنے کے لیے، وہ باریک، سیاہ اور جلی ہوئی سی لگتی ہیں۔ ان لوگوں (جہنم سے نکلنے والوں) کی مشابہت اسی سے دی گئی ہے۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 336)
(٨) الْقَرَاطِيس: "قِرْطَاس" (کاغذ کا صفحہ) کی جمع ہے۔ ان لوگوں کی مشابہت کاغذ سے نہانے کے بعد ان کے شدید سفید ہو جانے اور جو کچھ (سیاہی) ان پر تھی اس کے زائل ہو جانے کی وجہ سے دی گئی ہے۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 336)
(٩) "الشَّيْخ" سے مراد جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہیں۔ یہ انکار اور رد کرنے والا سوال ہے، یعنی ان کے بارے میں جھوٹ کا گمان نہیں کیا جا سکتا۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 336)
(١٠) یعنی: ہم اپنے حج سے واپس آئے اور خارجیوں کے عقیدے کی طرف متوجہ نہیں ہوئے، بلکہ ہم نے اس سے باز رہنے اور اس سے توبہ کرنے پر اتفاق کیا، سوائے ہم میں سے ایک آدمی کے، اس نے اس (غلط عقیدے) سے باز رہنے میں ہمارا ساتھ نہ دیا۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 1، صفحہ 336)
(١١) (صحیح مسلم: 191)


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص85]


📖 حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

اس عظیم الشان روایت سے درج ذیل اہم اور قیمتی اسباق حاصل ہوتے ہیں:

  1. خوارج کے عقیدے کی باطلیت کی واضح تردید: یہ روایت خارجیوں کے اس باطل عقیدے کی واضح رد ہے کہ مرتکبِ کبیرہ (گناہِ کبیرہ کرنے والا مومن) ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہی ہے کہ توحید پرست گناہگار مؤمن آخر کار جہنم سے نجات پا کر جنت میں داخل ہوں گے۔
  2. شفاعتِ عظمٰی کا ثبوت: حدیث میں مذکور "مقامِ محمود" سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عظیم شفاعت ہے جو تمام مخلوق کے حساب کتاب کے بعد پیش کی جائے گی، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ کی امت کے بہت سے گناہگاروں کو جہنم سے نجات عطا فرمائے گا۔
  3. قرآن و حدیث کے باہمی تعلق کی تعلیم: حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے سائل کو یہ سبق دیا کہ قرآن کی بعض آیات کو دوسری آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ آیاتِ عذاب اور آیاتِ رحمت کو اکٹھا کر کے دیکھنا ضروری ہے۔
  4. صحابی رسول کی علمی حیثیت کا اعتراف: سائل اور اس کے ساتھیوں کا یہ فیصلہ کہ "کیا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بزرگ جھوٹ بولیں گے؟" یہ ظاہر کرتا ہے کہ صحابہ کرام کی بات کو شرعی دلیل سمجھا جاتا تھا اور ان کی دیانت و صداقت پر کامل اعتماد تھا۔
  5. علم دین حاصل کرنے کا صحیح طریقہ: یزید فقیر اور ان کے ساتھیوں نے اپنے غلط عقیدے پر اصرار کرنے کے بجائے جب صحیح علم سامنے آیا تو فوراً اسے قبول کر لیا اور اپنی غلطی سے رجوع کر لیا۔ یہ علم حاصل کرنے اور حق کو تسلیم کرنے کا نمونہ ہے۔
  6. توبہ اور اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے: ان نوجوانوں کا اپنی غلط راہ سے واپس آ جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بشرطِ صدقِ نیت، گمراہی اور غلط عقیدے سے توبہ کر کے صحیح عقیدے پر آنا ممکن ہے۔
  7. مومن کے لیے اللہ کی رحمت کی وسعت: جہنم سے نکلنے والوں کا "تل کے ڈنٹھل" سے "سفید کاغذ" بن جانا اللہ تعالیٰ کی اس عظیم رحمت اور طہارت کی نشاندہی کرتا ہے جو وہ اپنے بندوں پر فرمائے گا، چاہے وہ کتنے ہی گناہگار اور سیاہ کار کیوں نہ رہے ہوں۔

خلاصہ: یہ روایت شفاعت، رحمت الٰہی کی وسعت، صحیح عقیدے کی پہچان، اور علمِ دین کے صحیح مصادر کی طرف رجوع کا ایک جامع سبق ہے۔ یہ ہمیں تعصب چھوڑ کر حق بات سننے، سمجھنے اور قبول کرنے کی تلقین کرتی ہے۔

 


حدیث نمبر 10

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " يُحْمَلُ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , فَتَقَادَعُ (١) بِهِمْ جَنَبَةُ الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ , فَيُنْجِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ , ثُمَّ يُؤْذَنُ لِلْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ أَنْ يَشْفَعُوا, فَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ , وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً مِنْ إِيمَانٍ " (٢)

ترجمہ:

ابو بکرہ نفيع بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لوگوں کو قیامت کے دن پل صراط پر لے جایا جائے گا، پھر وہ پل صراط کے کنارے سے اس طرح گریں گے جیسے آگ میں پروانے گرتے ہیں (١)۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے جسے چاہے گا بچا لے گا۔ پھر فرشتوں، انبیاء اور شہیدوں کو شفاعت کی اجازت دی جائے گی، تو وہ شفاعت کریں گے اور (لوگوں کو جہنم سے) نکالیں گے، شفاعت کریں گے اور نکالیں گے، یہاں تک کہ وہ شفاعت کر کے ہر اس شخص کو نکال لیں گے جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔" (٢)

---

🔍 حواشی و حوالہ جات:

(١)یعنی: مسلسل گرتے رہیں گے اور تیزی سے نیچے گر کر ایک دوسرے پر گر پڑیں گے۔ 

(٢)(مسند الإمام أحمد: 20457) ، اور البانی نے (ظلال الجنة: 837) میں اسے صحیح قرار دیا ہے، اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔

 [الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص86]

---

📖 حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

اس جامع اور ہولناک منظر کشی والی حدیث سے درج ذیل قیمتی اسباق اور گہرے نکات حاصل ہوتے ہیں:

1.  **صراط کی ہولناکی اور آزمائش:** حدیث پل صراط کے **انتہائی خوفناک اور مشکل** ہونے کی واضح تصویر پیش کرتی ہے، جہاں سے لوگ بے تحاشا گرتے چلے جائیں گے۔ یہ عمل جزا و سزا کا آخری اور سخت ترین مرحلہ ہوگا۔

2.  **اللہ کی رحمت پر بنیادی انحصار:** صراط سے گزرنے میں کامیابی کا پہلا سبب **صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی محض رحمت** ہے (فَيُنْجِي اللهُ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ)۔ کوئی بھی شخص اپنے عملوں کے بل پر اس پر نہیں چل سکتا، سوائے اس کے جس پر اللہ رحم فرمائے۔

3.  **شفاعت کا عظیم مقام اور عمل:** اللہ کی رحمت کے بعد، **شفاعت** گناہگار مومنین کو جہنم سے نجات دلانے کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ شفاعت کا یہ حق فرشتوں، انبیاء اور شہیدوں کو حاصل ہوگا، جو ایک سے زائد مرتبہ اس حق کا استعمال کریں گے۔

4.  **ایمان کا ادنیٰ درجہ بھی معتبر:** شفاعت کی آخری حد اور اس کی معراج یہ ہے کہ جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا **جس کے دل میں ذرہ (ایٹم) کے برابر بھی ایمان** موجود ہوگا۔ یہ اہل سنت والجماعت کے اس بنیادی عقیدے کی واضح دلیل ہے کہ ایمان کم و بیش ہو سکتا ہے، اور اللہ کی رحمت اس کے ادنیٰ ترین درجے کو بھی قبول کرتی ہے۔

5.  **شرک کی سزا سے تحفظ نہیں:** یہاں "ایمان" سے مراد **توحید کا ایمان** ہے۔ یعنی جس نے شرک کیا، اس کے دل میں ذرہ بھر بھی حقیقی ایمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ شفاعت اور نجات صرف **اہل توحید** کے لیے ہی ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی بڑے ہوں۔

6.  **آخرت کی جزا و سزا میں مراحل:** حدیث سے آخرت کے احوال کے **مراحل وار ترتیب** کا بھی پتہ چلتا ہے: پہلے صراط، پھر اس پر بچاؤ، پھر شفاعت کی اجازت، اور پھر شفاعت کا عمل شروع ہوگا۔

7.  **صحیح عقیدے کی اہمیت:** یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ انسان کی نجات کا دارومدار آخرت میں اس کے **اعمال کے وزن** پر نہیں، بلکہ اس کے **دل میں موجود ایمان کے ذرے** پر ہے۔ یہ ذرا سا ایمان ہی شفاعت کی بنیاد بنے گا۔

**خلاصہ:** یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ قیامت کی ہولناکیوں اور آزمائشوں سے بچنے کا واحد ذریعہ اللہ کی رحمت ہے، اور اس رحمت تک پہنچنے کا پہلا زینہ دل میں موجود چھوٹے سے چھوٹا سچا ایمان ہے۔ یہ ایمان ہی شفاعت کا حق دار بناتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور شرک سے بچتے ہوئے اللہ کی رحمت کے امیدوار بنیں۔





حدیث نمبر 11

عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا يُصِيبُهُمْ سَفْعٌ (١)) (٢) (عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ أَصَابُوهَا , ثُمَّ يُدْخِلُهُمُ اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ) (٣) (وَشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ) (٤) (يُقَالُ لَهُمُ: الْجَهَنَّمِيُّونَ ") (٥)

ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ("ایسے لوگ جہنم سے نکلیں گے بعد اس کے کہ انہیں (جہنم کی آگ کا) سیاہ نشان (١) لگ جائے گا) (٢) (یہ ان گناہوں کی سزا ہو گی جو انہوں نے کیے ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فضل سے انہیں جنت میں داخل کرے گا) (٣) (اور شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے) (٤) (انہیں 'جہنمی' کہا جائے گا۔") (٥)

---

🔍 حواشی و حوالہ جات:

 (١)   سَفْعٌ:  ایسا سیاہ نشان جس میں نیلاہٹ یا زردی ہو۔ آگ کے کسی چیز کو لگ جانے اور اس کا رنگ بدل دینے کو عربی میں "سَفَعَتْهُ النَّار" کہتے ہیں۔  (فتح الباري، جلد 18، صفحہ 404)

 (٢)   (مسند الإمام أحمد: 13866)  ،  (صحیح البخاری: 6191)  ، اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔

 (٣)   (صحیح البخاری: 6191)  ،  (مسند الإمام أحمد: 13866)

 (٤)   (مسند الإمام أحمد: 23471)  ، اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔

 (٥)   (صحیح البخاری: 6191)  ،  (مسند الإمام أحمد: 12384)

 [الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص87]

---

 📖 حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

اس حدیث مبارکہ سے روزِ قیامت کے ایک اہم منظر اور اصولی سبق ملتا ہے:

1.   جہنم سے ابدی نجات کا ثبوت:  یہ حدیث اس اہم عقیدے کی واضح دلیل ہے کہ  توحید پرست گناہگار مؤمن  جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ نہیں رہیں گے، بلکہ ایک مدت تک عذاب بھگتنے کے بعد وہاں سے نکال لیے جائیں گے۔ یہ اہل سنت والجماعت کا مسلمہ عقیدہ ہے۔

2.   گناہوں کا عذاب عارضی ہے:  حدیث میں لفظ  "عُقُوبَةً"  (سزا) یہ بتاتا ہے کہ جہنم میں یہ مخصوص عذاب ان کے  مخصوص گناہوں کے بقدر  ہے، نہ کہ لامحدود۔ گناہ ختم ہونے کے بعد عذاب بھی ختم ہو جاتا ہے۔

3.   جہنم کے نشانات کا باقی رہنا:  لفظ  "سَفْعٌ"  (سیاہ/جلے ہوئے نشان) سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم میں ان کے جو نقصانات ہوں گے، وہ  جنت میں داخلے کے بعد بھی جسم پر ظاہر رہیں گے ۔ یہ ان کی گناہ آلودہ زندگی کا ایک نشانِ عبرت ہو گا جسے اللہ نے باقی رکھا ہو گا۔

4.   نجات کا دوہرا سبب: رحمتِ الٰہی اور شفاعت:  جہنم سے نکل کر جنت میں داخلے کے دو اسباب بیان ہوئے ہیں:

    *    اللہ کا فضل و رحمت:  یہ اصل اور بنیادی سبب ہے۔ کسی کی نجات محض اس کے اپنے اعمال کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اللہ کی بے پایاں رحمت کی بدولت ہے۔

    *    شفاعتِ شافعین:  یہ رحمتِ الٰہی تک پہنچنے کا عملی ذریعہ ہے۔ انبیاء، فرشتے، شہداء اور صالحین کی شفاعت اللہ کے حکم سے قبول ہو گی اور گناہگاروں کو جہنم سے نکالنے کا سبب بنے گی۔

5.   "الجہنمیون" - ایک خاص لقب:  ان لوگوں کے لیے  "جہنمی"  کا لقب استعمال ہو گا۔ یہ لقب ان کی اس حالت کی یاددہانی کا نشان ہو گا کہ وہ کس مقام سے نکل کر آئے ہیں۔ یہ اللہ کی نعمت (جنت) اور اس کی رحمت (نجات) کے شکر کا ایک دائمی ذریعہ ہو گا۔

6.   گناہ اور اس کے اثرات میں فرق:  حدیث یہ سبق دیتی ہے کہ گناہ کی  سزا  تو معاف ہو سکتی ہے (جہنم سے نکل کر)، لیکن گناہ کے  بعض ظاہری اثرات  باقی رہ سکتے ہیں (جسم پر نشان)۔ یہ انسان کو ہمیشہ اس بات کی یاد دہانی کرائیں گے کہ گناہ کا انجام کتنا سنگین ہوتا ہے۔

 خلاصہ:  یہ حدیث ہمیں اللہ کی رحمت کی وسعت، اس کے فضل کی عظمت اور شفاعت کے مرتبے کی بلندی سے متعارف کراتی ہے۔ ساتھ ہی یہ گناہ کے انجام سے ڈراتی اور توبہ کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ گناہ کے اثرات جسم پر باقی رہ سکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ اس عقیدے کی تصدیق کرتی ہے کہ موحدین کے لیے جہنم میں ہمیشگی نہیں ہے۔





حدیث نمبر 12

عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " يَدْخُلُ النَّارَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي، حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ , فَيُقَالُ: هُمُ الجَهَنَّمِيُّونَ "

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ بن جائیں گے تو (اس کے بعد) جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔ پس اہلِ جنت کہیں گے: 'یہ کون لوگ ہیں؟' تو جواب دیا جائے گا: 'یہ جہنمی ہیں۔'"


🔍 حوالہ جات

(١) (مسند الإمام أحمد: 12280) ، اور شیخ شعیب الأرنؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص88]


📖 حدیث سے حاصل اسباق و نکات

اس مختصر مگر جامع حدیث سے درج ذیل گہرے اور اہم سبق حاصل ہوتے ہیں:

  1. جہنم سے نجات کا واضح ثبوت: یہ حدیث اس اہم عقیدے کی ایک اور واضح دلیل ہے کہ اہل توحید میں سے گناہگار جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نہیں رہیں گے، چاہے ان کا عذاب کتنا ہی شدید ہو اور وہ "کوئلہ" تک بن جائیں۔ یہ اہل سنت والجماعت کا قرآن و سنت سے ثابت شدہ عقیدہ ہے۔
  2. اللہ کی رحمت کی انتہا: حدیث میں لفظ "فحمًا" (کوئلہ) استعمال ہوا ہے جو مکمل تباہی اور برباد ہونے کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل فرما دے گا۔ یہ اللہ کی بے پایاں رحمت اور اس کے فضل کی واضح ترین مثال ہے، جو گناہوں کو مٹا کر بندے کو اعلیٰ ترین مقام تک پہنچا دیتی ہے۔
  3. گناہ کے اثرات کی نوعیت: "کوئلہ بن جانے" سے مراد صرف ظاہری حالت ہو سکتی ہے جس کے بعد اللہ انہیں نئی زندگی عطا فرمائے گا، یا پھر یہ گناہوں کے انتہائی سنگین نتائج کی علامت ہے۔ یہ ہمیں گناہوں کے انجام سے ڈراتا اور ان سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے۔
  4. ایک خاص لقب: "الجہنمیون" (جہنمی): سب سے زیادہ غور طلب نکتہ یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد بھی انہیں "جہنمی" کا لقب دیا جائے گا۔ اس کے ممکنہ معنی یہ ہیں:
    • عبرت و شکر کا نشان: یہ لقب ان کے لیے اور تمام جنت والوں کے لیے اس بات کا ابدی نشان ہو گا کہ وہ کس گہرائی (جہنم) سے نکال کر کس بلندی (جنت) پر پہنچائے گئے ہیں۔ یہ اللہ کی نعمت کے شکر کا ایک دائمی ذریعہ ہو گا۔
    • گناہوں کی یاددہانی: یہ ان کی گناہ آلودہ گذری ہوئی زندگی کا ایک نشان ہو سکتا ہے، تاکہ جنت کی نعمتیں ان پر زیادہ سے زیادہ عیاں ہوں اور وہ اللہ کی مغفرت کا زیادہ سے زیادہ شکر ادا کریں۔
  5. اہل جنت کی حیرت: اہل جنت کا یہ پوچھنا کہ "یہ کون لوگ ہیں؟" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ:
    • شاید ان کے چہروں یا حالات پر جہنم کے عذاب کے کچھ آثار ہوں گے جو انہیں عام اہل جنت سے ممتاز کرتے ہوں گے۔
    • یا پھر یہ جنت والوں کے علم میں اضافے اور اللہ کی قدرت کے عجائبات کو دیکھنے کا ایک موقع ہو گا۔

خلاصہ: یہ حدیث بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور عظیم مغفرت کا اعلان ہے۔ یہ ہر اس گناہگار مؤمن کے دل میں امید کی شمع روشن کرتی ہے جو اپنے گناہوں سے پریشان ہے۔ ساتھ ہی، یہ ہمیں "جہنمی" بننے سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ اگرچہ آخرکار جنت مل جائے گی، لیکن جہنم کا عذاب اور اس کا "کوئلہ بنانا" ایک انتہائی ہولناک تجربہ ہو گا۔ ہمیں اللہ سے ڈرتے ہوئے، اس کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔

 




حدیث نمبر 13

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي "

ترجمہ:

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری شفاعت میری امت کے گناہِ کبیرہ کرنے والوں کے لیے ہے۔"


🔍 حوالہ جات

(١) (الجامع الصحيح للترمذي: 2435) ، (سنن أبي داود: 4739) ، (صحيح الجامع: 3714) ، (صحيح الترغيب: 3649)

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص89]


📖 الشرح (تشریح)

ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا: "یہ احادیث شفاعت کی پانچ اقسام پر مشتمل ہیں:

  1. عام شفاعت: جس میں لوگ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی طرف رجوع کریں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں (میدانِ محشر میں) اپنے مقام سے راحت عطا فرمائے گا۔
  2. جنت کے دروازے کھولنے کی شفاعت۔
  3. ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کرانے کی شفاعت جن کا حساب کتاب نہیں ہو گا۔
  4. اہل توحید میں سے کچھ لوگوں کو جہنم سے نکالنے کی شفاعت۔ (اور یہی اوپر والی حدیث میں بیان ہوئی ہے)
  5. جہنم والوں میں سے بعض کے عذاب کو ہلکا کرنے کی شفاعت۔

اور (اس کے علاوہ) دو اور قسمیں ہیں جو بہت سے لوگ ذکر کرتے ہیں:

  1. جہنم سے بچانے کی شفاعت: یعنی ایسے لوگ جو جہنم کے مستحق ہوں، ان کے لیے شفاعت کی جائے کہ وہ جہنم میں داخل ہی نہ ہوں۔ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اب تک کوئی ایسی حدیث نہیں پائی جو اس پر دلالت کرتی ہو، بلکہ اکثر احادیث صراحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ گناہِ کبیرہ کرنے والے اہل توحید کے لیے شفاعت ان کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد ہی ہوگی۔ رہی یہ بات کہ داخل ہونے سے پہلے ہی شفاعت ہو جائے اور وہ داخل ہی نہ ہوں، تو میں نے اس پر کوئی واضح نص نہیں پائی۔
  2. ثواب و درجات بڑھانے کی شفاعت: یعنی بعض مؤمنین کے ثواب اور درجات بلند کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت۔ اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ابو سلمہ اور ابو عامر رضی اللہ عنہما کے لیے یہ دعا فرمانا ہے"اے اللہ، ابو سلمہ کو بخش دے اور ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کا درجہ بلند فرما" اور "اے اللہ، عبید ابوعامر کو بخش دے اور قیامت کے دن انہیں اپنی مخلوق میں سے بہت سے لوگوں سے بلند مقام عطا فرما۔"

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان"میری شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت مند وہ شخص ہوگا جس نے لا الہ الا اللہ کہا" میں توحید کا ایک راز پوشیدہ ہے، اور وہ یہ کہ شفاعت صرف توحید کو خالص کرنے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ پس جو شخص توحید میں کامل ہوگا، وہی شفاعت کا زیادہ حقدار ہوگا۔ یہ شفاعت شفیع (نبی) کو شریک ٹھہرانے سے نہیں ملتی، جیسا کہ اکثر مشرکین کا عقیدہ ہے۔"

(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 259)


📖 حدیث سے حاصل اسباق و نکات

  1. شفاعت کی مختصر ترین تعریف: یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شفاعت کا نچوڑ اور خلاصہ ہے۔ صرف ایک مختصر جملے میں آپ نے اپنی امت کے سب سے زیادہ محتاج طبقے (اہلِ کبائر) کو امید کا یقین دلایا۔
  2. شفاعت کا اصل ہدف اور مقصد: حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی شفاعت کا بنیادی ہدف اور سب سے بڑا فائدہ گناہِ کبیرہ کرنے والے مؤمنین ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو توحید پر قائم ہیں مگر بڑے گناہوں میں ملوث رہے۔ چھوٹے گناہوں کی مغفرت تو دیگر اسباب (نماز، روزہ، استغفار وغیرہ) سے ہو جاتی ہے۔
  3. توحید کی شرط پر تاکید: ابن قیم رحمہ اللہ کی تشریح میں اس بات کی واضح وضاحت ہے کہ یہ شفاعت صرف اور صرف اہل توحید کے لیے ہے، یعنی جو شخص شرک سے پاک ہو۔ جو شخص شرک میں مرا، وہ اس شفاعت کے دائرے سے بالکل خارج ہے۔
  4. داخلۂ جہنم کے بعد شفاعت: تشریح میں اس اہم نکتے کی وضاحت ہے کہ گناہگار مؤمنین کے لیے شفاعت عام طور پر ان کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد ہوگی، نہ کہ اس سے پہلے کہ وہ داخل ہی نہ ہوں۔ یہ اہل سنت کا صحیح عقیدہ ہے۔
  5. شرک فی الشفاعت کی نفی: تشریح کے آخر میں اس خطرناک غلط فہمی کی نفی کی گئی ہے کہ شفاعت حاصل کرنے کے لیے نبی یا ولی کو سجدہ کیا جائے یا انہیں مشکل کشا سمجھا جائے۔ ایسا کرنا درحقیقت شرک فی الشفاعت ہے۔ شفاعت کا حصول صرف توحید کی پاکیزگی سے ہے۔
  6. امید اور خوف کا توازن: حدیث ایک طرف گناہگار کو مایوس نہیں ہونے دیتی اور اللہ کی رحمت اور نبی کی شفاعت کی امید دلاتی ہے۔ دوسری طرف، یہ گناہوں پر جرأت کرنے کی ترغیب نہیں دیتی، کیونکہ شفاعت سے پہلے جہنم کا عذاب ایک سخت حقیقت ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کی رحمت اور نبی کی شفاعت کا سب سے بڑا تحفہ ان لوگوں کے لیے ہے جو گناہوں کے باوجود اپنے توحید کے عقیدے پر قائم رہے۔ ہمیں چاہیے کہ شرک سے بچتے ہوئے، گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے، اسی رحمت اور شفاعت کے امیدوار بنیں۔

 



حدیث نمبر 14

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي) (١) (مِثْلُ الْحَيَّيْنِ , أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ , رَبِيعَةَ وَمُضَرَ ") (٢) (فَقُلْنَا: سِوَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ , قَالَ: " سِوَايَ ") (٣)

ترجمہ:

ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ("میری امت کے ایک شخص کی شفاعت کی وجہ سے (ایسے لوگ) یقیناً جنت میں داخل ہوں گے) (١) (جو دونوں قبیلوں (ربیعہ اور مضر) کے برابر ہوں گے، یا ان میں سے ایک قبیلے کے برابر۔") (٢) (تو ہم نے عرض کیا: کیا وہ آپ کے سوا کوئی اور ہیں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: "میرے سوا کوئی اور۔") (٣)


🔍 حواشی و حوالہ جات

(١) (الجامع الصحيح للترمذي: 2438) , (سنن ابن ماجة: 4316)
(٢) (مسند الإمام أحمد: 22269) , (صحيح الجامع: 5363) , (الصحيحة: 2178) ملاحظہ کریں۔
(٣) (الجامع الصحيح للترمذي: 2438) , (سنن ابن ماجة: 4316) , (صحيح الترغيب والترهيب: 3646) ملاحظہ کریں۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص90]


📖 حدیث سے حاصل اسباق یا نکات

  1. شفاعت کی عظمت اور اثر: یہ حدیث شفاعتِ نبوی کی عظیم تاثیر اور وسعت کو بیان کرتی ہے۔ صرف ایک شخص (جس کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی اور ہے) کی شفاعت سے دو عظیم عرب قبیلوں جتنے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے، جو اللہ کے ہاں شفاعت کے مقام اور اس کی قبولیت کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔
  2. صحابہ کی نبی سے محبت کا اظہار: صحابہ کرام کا یہ سوال پوچھنا کہ "کیا وہ آپ کے سوا کوئی اور ہیں؟" ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت اور یقین کا مظہر ہے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس طرح کا عظیم کام صرف ان کے پیارے نبی ہی کر سکتے ہیں۔ ان کا یہ جذبہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی تعلیم دیتا ہے۔
  3. امت میں دیگر شافعین کا وجود: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب "میرے سوا کوئی اور" سے یہ اہم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت میں دیگر صالحین، شہداء اور اولیاء کو بھی شفاعت کا مقام عطا فرمایا ہے۔ یہ اللہ کا اپنے خاص بندوں پر فضل و کرم ہے۔
  4. اللہ کی رحمت کی وسعت کی نشانی: اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا کسی ایک صالح بندے کی وساطت سے جنت میں داخل ہونا، درحقیقت اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور بے پایاں فضل کی نشانی ہے۔ یہ ہر گناہگار مؤمن کے دل میں امید کی کرن روشن کرتی ہے کہ اللہ کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں۔
  5. توحید اور شرک کے درمیان فرق: یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ شفاعت بھی صرف اہل توحید کے لیے ہی کارگر ہوگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی ولی کی شفاعت کوئی جادو کی چھڑی نہیں کہ شرک کرنے والے کو بھی نجات دلا دے۔ نجات کی بنیاد توحید ہی ہے، شفاعت اس پر مہر تصدیق ہے۔
  6. ربیعہ اور مضر کی نسبت: حدیث میں "ربیعہ" اور "مضر" کا ذکر (جو عرب کے دو عظیم اور آباد قبیلے تھے) اس بات کی واضح دلیل ہے کہ شفاعت سے نکلنے والوں کی تعداد نہایت کثیر اور حیرت انگیز ہوگی۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کا ایک پہلو بھی ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں شفاعت کے عظیم مرتبے سے آگاہ کرتی ہے، صحابہ کے جذبۂ محبت رسول سے متعارف کراتی ہے، اور اللہ کی رحمت کی وسعت پر یقین کو مضبوط بناتی ہے۔ یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں توحید کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے، اپنے اعمال درست کرنے اور اللہ کے نیک بندوں کی صحبت تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

 


حدیث نمبر 15

عَنْ الْحَارِثِ بْنِ أُقَيْشٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ أَكْثَرُ مِنْ مُضَرَ "

اردو ترجمہ

حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک میری امت میں ایسے لوگ ہیں جن کی شفاعت سے (ایسے افراد) جنت میں داخل ہوں گے جو قبیلہ مضر سے کہیں زیادہ ہوں گے۔"


🔍 حوالہ جات

(١) (سنن ابن ماجة: 4323) , (مسند الإمام أحمد: 22717)

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص91]


📖 حدیث سے حاصل اسباق یا نکات

  1. شفاعت کی عظیم الشان وسعت: یہ حدیث شفاعت کی عظمت اور وسعت کو بیان کرنے والی ان احادیث میں سے ہے جو ہمیں بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو کتنا بلند مقام عطا فرماتا ہے۔ "مضر" عرب کا ایک بہت بڑا اور معروف قبیلہ تھا، جس کی کثرتِ تعداد مشہور تھی۔ اس سے زیادہ تعداد کا ذکر شفاعت کے دائرے کی وسعت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔
  2. اللہ کی رحمت کا عظیم مظہر: شفاعت، بنیادی طور پر، اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور فضل کا مظہر ہے۔ یہ نہ تو شفیع کا ذاتی اختیار ہے اور نہ ہی اس کا کوئی حق، بلکہ یہ محض اللہ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ وہ کسی کے ذریعے دوسروں کو بخش دے۔ اس حدیث میں شفاعت پانے والوں کی ہزاروں لاکھوں میں بیان کی گئی تعداد اسی رحمت کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔
  3. امت محمدیہ میں دیگر شافعین کا مقام: پچھلی حدیث (ابو امامہ رضی اللہ عنہ والی) کی طرح یہ حدیث بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ شفاعت صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک محدود نہیں، بلکہ آپ کی امت کے دیگر صالحین، شہداء، علما اور اولیاء کو بھی بحکمِ الٰہی یہ مقام و مرتبہ حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ امت محمدیہ کی فضیلت کا ایک پہلو ہے۔
  4. توحید پر ایمان کی شرط: یہ نکتہ ہمیشہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ یہ تمام تر شفاعتیں اہل توحید ہی کے لیے کارگر ہوں گی۔ یعنی وہ لوگ جو خالص اللہ کی عبادت کرتے ہوئے، شرک سے پاک ہو کر فوت ہوئے۔ شرک اکبر کرنے والا شخص کسی کی شفاعت سے مستفید نہیں ہو سکتا۔
  5. اعمالِ صالحہ کی اہمیت: شفاعت کا مستحق بننے کے لیے بنیادی شرط ایمان اور توحید ہے، لیکن شفاعت کے حصول میں اعمال صالحہ بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ نیک اعمال کرنے والا شخص نہ صرف خود جنت میں بلند درجات کا حقدار ہوتا ہے، بلکہ ممکن ہے کہ اس کی وساطت سے دوسرے بھی نجات پا جائیں۔
  6. عرب قبیلوں کے حوالے سے بیان: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے معروف اور کثیر التعداد قبیلے "مضر" کا حوالہ دے کر صحابہ کرام کو شفاعت کی کثرت کا اندازہ کرایا جو ان کی سمجھ میں آسان تھا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمتِ تعلیم کا ایک پہلو ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمارے دلوں میں اللہ کی رحمت، نبی کی شفاعت اور صالحین کے مرتبے پر یقین کو مضبوط بناتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی بخشش ہمارے گمان سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس رحمت کے حقدار بننے کے لیے اپنے عقیدے (توحید) کو درست کریں، نیک اعمال کریں، اور اللہ کے نیک بندوں کی صحبت و دعا کی برکت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

 


حدیث نمبر 16

عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ الرَّجُلَ يَشْفَعُ لِلرَّجُلَيْنِ وَالثَلَاثةِ , وَالرَّجُلُ لِلرَّجُلِ "

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک ایک شخص دو اور تین افراد کے لیے شفاعت کرے گا، اور (کوئی) ایک شخص صرف ایک (دوسرے) ہی شخص کے لیے (شفاعت کرے گا)۔"


🔍 حوالہ جات

(١) (صحيح ابن خزيمة في كتاب التوحيد، صفحہ: 205) ، (الصحيحة: 2505) ملاحظہ کریں۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص92]


📖 حدیث سے حاصل اسباق یا نکات

  1. شفاعت کی عملی شکل: یہ حدیث قیامت کے دن شفاعت کے عملی نفاذ کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔ یہ بیان نہیں کرتی کہ شفیع کون ہوں گے، بلکہ شفاعت کے دائرہ کار اور مقدار کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کوئی ایک، دو یا تین افراد کے لیے شفاعت کرے گا، جبکہ کوئی صرف ایک ہی فرد کی شفاعت کا اہل ہو گا۔
  2. شفاعت میں درجات کا فرق: حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ شافعین کے درجات اور مقام میں فرق ہو گا۔ اس فرق کی بنیاد ان کے اللہ کے ہاں مقام، ان کے اعمال، یا ان کی دعاؤں کی قبولیت پر ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کی شفاعت کا دائرہ وسیع (دو تین افراد) ہو گا جبکہ دوسرے کا محدود (صرف ایک فرد)۔
  3. اللہ کی رحمت کی تفصیل: شفاعت درحقیقت اللہ کی رحمت کا ایک ظہور ہے۔ حدیث یہ بتاتی ہے کہ یہ رحمت مختلف پیمانوں اور مقداروں میں نازل ہو گی۔ ہر شفیع کے لیے ایک مخصوص "کوٹہ" یا حد مقرر ہو گی، جس کے اندر رہتے ہوئے وہ بخشش و نجات کی درخواست کر سکے گا۔
  4. عمل کی اہمیت کی طرف اشارہ: چونکہ شفاعت کا درجہ اللہ کے ہاں انسان کے مقام پر منحصر ہے، اور وہ مقام اس کے اعمالِ صالحہ کا نتیجہ ہے، اس لیے یہ حدیث بالواسطہ طور پر ہمیں نیک اعمال کی طرف رغبت دلاتی ہے۔ جو جتنا زیادہ اللہ کا مقرب بندہ ہو گا، اتنی ہی زیادہ اس کی شفاعت مقبول ہو گی۔
  5. شفاعت کی حقیقت کی وضاحت: بعض لوگ غلط فہمی میں یہ سمجھتے ہیں کہ شفاعت کا مطلب ہے کہ شفیع جس کے لیے چاہے بخشش کرا دے۔ یہ حدیث اس غلط فہمی کو دور کرتی ہے کہ ہر شفیع کے لیے ایک مخصوص حد اور گنتی ہے۔ اصل مختار اور مالک صرف اللہ کی ذات ہے، وہی شفاعت کو قبولیت عطا فرماتا ہے اور اس کی حد مقرر کرتا ہے۔
  6. اُمت کے لیے تسلی و اطمینان: یہ حدیث اہل ایمان کے دل میں اس بات کا اطمینان پیدا کرتی ہے کہ قیامت کے دن صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہیں، بلکہ اللہ کے اور بھی نیک بندے شفاعت کریں گے، جس سے نجات پانے والوں کی تعداد مزید بڑھ جائے گی۔ یہ اللہ کی رحمت کی وسعت کا ایک اور پہلو ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں شفاعت کے نظامِ الٰہی کی ایک بنیادی تفہیم عطا کرتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ شفاعت لامحدود نہیں، بلکہ ایک حکیمانہ ضابطے کے تحت ہو گی جس میں ہر شفیع کے لیے ایک مقررہ دائرہ کار ہو گا۔ یہ ہمیں اعمالِ صالحہ کی اہمیت بتاتی ہے، کیونکہ ہمارا آج کا عمل ہی کل ہمارے شفاعت کے درجے کا تعین کرے گا۔

 


حدیث نمبر 17

مَكَانُ حُصُولِ الشَّفَاعَة
شفاعت حاصل ہونے کے مقامات

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: (سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ (١) فَقَالَ: " أَنَا فَاعِلٌ " , قُلْتُ: فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا رَسُولَ الله (٢)؟ , قَالَ: " اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ " , قُلْتُ: فَإِذَا لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ؟ , قَالَ: " فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ " , قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ؟ , قَالَ: " فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ (٣) فَإِنِّي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَلَاثَ مَوَاطِنَ (٤)) (٥) (يَوْمَ الْقِيَامَةِ ") (٦)

ترجمہ:

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: (میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں (١) تو آپ نے فرمایا: "میں ضرور کروں گا۔" میں نے عرض کیا: پھر اے اللہ کے رسول! میں قیامت کے دن آپ کو کہاں تلاش کروں (٢)؟ آپ نے فرمایا: "سب سے پہلے مجھے پل صراط پر تلاش کرنا۔" میں نے عرض کیا: اگر میں آپ کو پل صراط پر نہ پا سکوں؟ آپ نے فرمایا: "تو پھر مجھے میزان (اعمال کے ترازو) کے پاس تلاش کرنا۔" میں نے عرض کیا: اگر میں آپ کو میزان کے پاس بھی نہ پا سکوں؟ آپ نے فرمایا: "تو پھر مجھے حوض (کوثر) کے پاس تلاش کرنا (٣) کیونکہ میں ان تینوں مقامات (٤) پر ضرور موجود رہوں گا۔") (٥) (قیامت کے دن) (٦)


🔍 حواشی و حوالہ جات

(١) یعنی: (یہ درخواست) اس خاص شفاعت کے لیے تھی جو یہ امت دیگر (عام) شفاعتوں کے درمیان (حاصل کرے گی)۔ (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 225)
(٢) یعنی: ان مقامات میں سے کس مقام پر جب مجھے آپ کی شفاعت کی ضرورت پیش آئے گی تو میں آپ کو تلاش کروں تاکہ آپ مجھے اس مشکل سے نجات دلائیں؟ (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 225)
(٣) (مصنف کہتے ہیں:) اس حدیث میں قیامت کے دن کے بعض واقعات کی ترتیب بیان ہوئی ہے۔
اور یہ اشکال پیش آیا ہے کہ حوض (کوثر) کا مقام پل صراط کے بعد کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ یہ ثابت ہے کہ ایک جماعت کو حوض کے قریب پہنچنے کے بعد ہٹا دیا جاتا ہے اور انہیں جہنم کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اشکال یہ ہے کہ جو شخص پل صراط سے گزر کر حوض تک پہنچ جائے گا، وہ تو جہنم سے نجات پا چکا ہوگا، پھر وہ جہنم میں کیسے لوٹایا جائے گا؟ اس کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ انہیں حوض کے اس قدر قریب لایا جاتا ہے کہ وہ اسے اور جہنم کو دیکھتے ہیں، پھر پل صراط کی باقی ماندہ مشکلات سے نکلنے سے پہلے ہی انہیں جہنم کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔
اور ابو عبداللہ قرطبی رحمہ اللہ "التذکرہ" میں فرماتے ہیں: صحیح بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو حوض ہیں۔ ان میں سے ایک میدانِ حشر میں پل صراط سے پہلے ہوگا، اور دوسرا جنت کے اندر ہوگا۔ ان دونوں میں سے ہر ایک کو "کوثر" کہا جاتا ہے۔ مسلم نے ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان کیا ہے کہ حوض میں جنت کی دو نالیاں گرتی ہیں۔ (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 225)
(٤) یعنی: میری شفاعت کی سب سے زیادہ ضرورت انہی مقامات پر پیش آئے گی۔ (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 225)
(٥) (الجامع الصحيح للترمذي: 2433) ، (مسند الإمام أحمد: 12848)
(٦) (مسند الإمام أحمد: 12848) ، (الصحيحة: 2630) ، (مشكاة المصابيح: 5595) ، (التعليق الرغيب، جلد 4، صفحہ 211) ملاحظہ کریں۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص93]


📖 حدیث سے حاصل اسباق و نکات

  1. شفاعت کی اقسام میں فرق: حدیث کے پہلے حاشیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہاں "خصوصی شفاعت" کا ذکر ہے، نہ کہ وہ عام شفاعت جس کا تعلق پوری امت سے ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ شفاعت کی مختلف اقسام اور مراتب ہیں۔
  2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور وعدہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ذاتی درخواست پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فوراً "أَنَا فَاعِلٌ" (میں ضرور کروں گا) کہہ دینا آپ کی اپنی امت پر بے پناہ شفقت، محبت اور حوصلہ افزائی کا مظہر ہے۔ آپ ہر ممکن طریقے سے اپنی امت کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
  3. قیامت کے مراحل کی ترتیب اور ہولناکی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ایسے مقامات بتائے جو قیامت کے سب سے مشکل اور خطرناک مراحل میں سے ہیںپل صراط (گرنے کا خوف)، میزان (اعمال کے ہلکے ہونے کا اندیشہ)، اور حوض (رد کیے جانے کا ڈر)۔ اس سے قیامت کی ہولناکیوں کا اندازہ ہوتا ہے جہاں ہر شخص کو شفاعت کی سخت ضرورت ہوگی۔
  4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیامت پر کنٹرول اور علم: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ "میں ان تین مقامات پر ضرور موجود رہوں گا" آپ کے قیامت کے احوال پر کامل علم اور اللہ کے ہاں آپ کے بلند مقام کی دلیل ہے۔ آپ کو ان اہم مقامات پر اپنی امت کی رہنمائی اور شفاعت کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔
  5. مؤمن کے لیے ہدایت اور تسلی: یہ حدیث ہر مؤمن کے لیے تسلی اور راہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص قیامت کے ان خوفناک مراحل میں پریشان ہو تو اسے کہاں اور کس سے امید رکھنی چاہیے۔
  6. حوضِ کوثر کے متعلق علمی بحث: تیسرے حاشیے میں حوضِ کوثر کے مقام اور تعداد کے متعلق اہم علمی بحث درج ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ احادیث کی روشنی میں علماء نے اس مسئلے کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور یہ کہ جنت میں ایک حوض اور میدانِ حشر میں ایک حوض ہو سکتا ہے۔
  7. عمل کی طرف رغبت: ان خطرناک مقامات پر شفاعت کی ضرورت ہمیں آج ہی اپنے اعمال درست کرنے، ایمان کو مضبوط بنانے اور گناہوں سے توبہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے، تاکہ کل ہمیں شفاعت کی ضرورت ہی کم پڑے۔

خلاصہ: یہ حدیث قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے عملی مقامات سے ہمیں متعارف کراتی ہے۔ یہ آپ کی شفقت، قیامت کی ہولناکی، اور مؤمن کے لیے راہنمائی کا ایک جامع سبق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ آپ کی اس عظیم نعمت (شفاعت) کے شکرانے کے طور پر اپنی زندگیاں سنوارنے کی کوشش کریں۔


شفاعتِ رسول ﷺ یا شکایتِ رسول ﷺ:
القرآن:
وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا
ترجمہ:
اور پیغمبر (روزِ قيامت) کہیں گے کہ اے پروردگار! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا.
[سورہ الفرقان:٣٠]

توضیح :
اصل میں لفظ مھجور استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی ہیں ۔ اگر اسے ھَجْر سے مشتق مانا جائے تو معنی ہوں گے متروک ، یعنی ان لوگوں نے قرآن کو قابل التفات ہی نہ سمجھا، نہ اسے قبول کیا اور نہ اس سے کوئی اثر لیا ۔ اور اگر ھُجْر سے مشتق مانا جائے تو اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ انہوں نے اسے ہذیان اور بکواس سمجھا۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے اسے اپنے ہذیان اور اپنی بکواس کا ہدف بنا لیا اور اس پر طرح طرح کی باتیں چھانٹتے رہے۔

And the Messenger, Muhammad (s), says, ‘O my Lord, lo! my people, the [tribe of] Quraysh, consider this  Qur’ān as something to be shunned’, to be disregarded.{25/30}

TAFSEER_IBN_ABBAAS: (And the messenger) Muhammad (pbuh) (saith: O my Lord! Lo! mine own folk make this Qur'an of no account) they speak ill of it, they do not believe in it and do not act upon its teachings.

TAFSEER_JALAALAIN: And the Messenger, Muhammad (s), says, ‘O my Lord, lo! my people, the [tribe of] Quraysh, consider this Qur’ān as something to be shunned’, to be disregarded.





قرآن کی فریاد

طاقوں میں سجایا جاتا ہوں ، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویذ بنایا جاتا ہوں ، دھودھو کے پلایا جاتا ہوں

جزدان حریر وریشم کے ، اور پھول ستارے چاندی کے
پھر عطر کی بارش ہوتی ہے ، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں

جس طرح سے طوطے مینا کو ، کچھ بول سکھاے جاتے ہیں
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں ، اس طرح سکھایا جاتا ہوں

جب قول وقسم لینے کے لیے ، تکرار کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے ، ہاتھوں پہ اُٹھایا جاتا ہوں

دل سوز سے خالی رہتے ہیں ، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
کہے کو میں اک اک جلسہ میں ، پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں

نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے ، سچائی سے بڑھ کر دھوکا ہے
اک بار ہنسایا جاتا ہوں ، سو بار رولا یا جاتا ہوں

یہ مجھ سے عقیدت کے دعوے ، قانون پہ راضی غیروں کے
یوں بھی مھجے رسوا کرتے ہیں ، ایسے بھی ستایا جاتا ہوں

کس بزم میں مجھ کو بار نہیں ، کس عُرس میں میری دُھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں ، مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں.
-------------------------------

حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تمہارے نبی ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، ‌وَيَضَعُ ‌بِهِ ‌آخَرِينَ»
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعہ (اعلانیہ انکار کرنے والے کافر) لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعہ (ماننے والے مومن) لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔
[صحیح مسلم: حدیث نمبر 817، فضائل قرآن کا بیان :قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں]


-------------------------------

قرآن پاک کے حقوق:

١) اس پر ایمان لانا

٢) تجوید و ترتیل سے پڑھنا سیکھنا

٣) (اس میں) تدبر و تفکر کرنا

٤) اس پر عمل کرے

٥) تبلیغ کرے (اس کے پیغام کو عام کرے)۔





آیاتِ شفاعت»

وَاتَّقوا يَومًا لا تَجزى نَفسٌ عَن نَفسٍ شَيـًٔا وَلا يُقبَلُ مِنها شَفٰعَةٌ وَلا يُؤخَذُ مِنها عَدلٌ وَلا هُم يُنصَرونَ {2:48}
اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آئے کوئی شخص کسی کے کچھ بھی اور قبول نہ ہو اسکی طرف سے سفارش اور نہ لیا جائے اس کی طرف سے بدلہ اور نہ ان کو مدد پہنچے [۷۴]
And fear a Day whereon not in aught shall a soul satisfy for a soul, nor shall intercession be accepted thereof, shall compensation be received therefor, nor shall they be succoured.
جب کوئی کسی بلا میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کے رفیق اکثر یہی کیا کرتے ہیں کہ اول تو اس کے ادائے حق لازم میں کوشش کرتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا تو سعی سفارش سے بچانے کی تدبیر کرتے ہیں یہ بھی نہ ہو سکے تو پھر تاوان و فدیہ دے کر چھڑاتے ہیں اگر یہ بھی نہیں ہو سکتا تو بالآخر اپنے مددگاروں کو جمع کر کے بزور پرخاش اس کی نجات کی فکر کرتے ہیں حق تعالیٰ نے اسی ترتیب کے موافق ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص گو کیسا ہی مقرب خداوندی ہو مگر کسی نافرمان عدواللہ کافر کو منجملہ چاروں صورتوں کے کسی صورت سے نفع نہیں پہنچا سکتا ۔ بنی اسرائیل کہتے تھے کہ ہم کیسے ہی گناہ کریں ہم پر عذاب نہ ہو گا ۔ ہمارے باپ دادا جو پیغمبر ہیں ہمیں بخشوا لیں گے سو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ خیال تمہارا غلط ہے اس سے اس شفاعت کا انکار نہیں نکلتا جس کے اہل سنت قائل ہیں اور جو دیگر آیات میں مذکور ہے۔



وَاتَّقوا يَومًا لا تَجزى نَفسٌ عَن نَفسٍ شَيـًٔا وَلا يُقبَلُ مِنها عَدلٌ وَلا تَنفَعُها شَفٰعَةٌ وَلا هُم يُنصَرونَ {2:123}
اور ڈرو اس دن سے کہ نہ کام آوے کوئی شخص کسی کی طرف سے ذرا بھی اور نہ قبول کیا جاوے گا اس کی طرف سے بدلہ اور نہ کام آوے اس کو سفارش اور نہ ان کو مدد پہنے [۱۷۶]
And fear a Day whereon not in aught shall a soul satisfy for a soul, nor shall compensation be accepted therefor, nor shall intercession profit it, nor shall they be succoured.
بنی اسرائیل کو جو باتیں شروع میں یاد دلائی گئیں تھیں اب ان کے سب حالات ذکر کرنے کے بعد پھر وہی امور بغرض تاکید و تنبیہ یاد دلائے گئے کہ خوب دلنشین ہو جائیں اور ہدایت قبول کر لیں اور معلوم ہو جائے کہ اصل مقصود اس قصہ سے یہ ہے ۔



يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَنفِقوا مِمّا رَزَقنٰكُم مِن قَبلِ أَن يَأتِىَ يَومٌ لا بَيعٌ فيهِ وَلا خُلَّةٌ وَلا شَفٰعَةٌ ۗ وَالكٰفِرونَ هُمُ الظّٰلِمونَ {2:254}
اے ایمان والو خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تم کو روزی دی پہلے اس دن کے آنے سے کہ جس میں نہ خرید و فرخت ہے اور نہ آشنائی اور نہ سفارش [۴۱۴] اور جو کافر ہیں وہی ہیں ظالم [۴۱۵]
O O Ye who believe: expend of that which We have provided you ere the Day cometh wherein there will be neither bargain nor friendship nor intercession. And the infidels - they are the wrong-doers.
اس سورت میں عبادات و معاملات کے متعلق احکام کثیرہ بیان فرمائے جن سب کی تعمیل نفس کو ناگوار اور بھاری ہے اور تمام اعمال میں زیادہ دشوار انسان کو جان اور مال کا خرچ کرنا ہوتا ہے اور احکام الہٰی اکثر جو دیکھے جاتے ہیں یا جان کے متعلق ہیں یا مال کے اور گناہ میں بندہ کو جان یا مال کی محبت اور رعایت ہی اکثر مبتلا کرتی ہے گویا ان دونوں کی محبت گناہوں کی جڑ اور اس سے نجات جملہ طاعات کی سہولت کا منشاء ہے اس لئے ان احکامات کو بیان فرما کر قتال اور انفاق کو بیان فرمانا مناسب ہوا { وَقَاتِلُوْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ } الخ اول کا بیان تھا تو { مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ } دوسرے کا ذکر ہے اس کے بعد قصہ طالوت سے اول کی تاکید ہوئی تو اب { اَنْفِقُوْ مِمَّا رَزَقْنٰکُمْ } الخ سے دوسرے کی تاکید منظور ہے اور چونکہ انفاق مال پر بہت سے امور عبادات و معاملات کے موقوف ہیں تو اس کے بیان میں زیادہ تفصیل اور تاکید سے کام لیا چنانچہ اب جو رکوع آتے ہیں ان میں اکثروں میں امر ثانی یعنی انفاق مال کا ذکر ہے۔ خلاصہ معنی یہ ہوا کہ عمل کا وقت ابھی ہے آخرت میں تو نہ عمل بکتے ہیں نہ کوئی آشنائی سے دیتا ہے نہ کوئی سفارش سے چھڑا سکتا ہے جب تک پکڑنے والا نہ چھوڑے۔
یعنی کفار نے اپنے اوپر ظلم کیا جس کی شامت سے ایسے ہوگئے کہ آخرت میں نہ کسی کی دوستی سے ان کو نفع ہو سکے اور نہ سفارش سے۔



اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ الحَىُّ القَيّومُ ۚ لا تَأخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَومٌ ۚ لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ مَن ذَا الَّذى يَشفَعُ عِندَهُ إِلّا بِإِذنِهِ ۚ يَعلَمُ ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم ۖ وَلا يُحيطونَ بِشَيءٍ مِن عِلمِهِ إِلّا بِما شاءَ ۚ وَسِعَ كُرسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ ۖ وَلا يَـٔودُهُ حِفظُهُما ۚ وَهُوَ العَلِىُّ العَظيمُ {2:255}
اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہں زندہ ہے سب کا تھامنے والا [۴۱۶] نہیں پکڑ سکتی اس کو اونگھ اور نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ایسا کون ہے جو سفارش کرے اس کے پاس مگر اجازت سے جانتا ہے جو کچھ خلقت کے روبرو ہے اور جو کچھ انکے پیچھے ہے اور وہ سب احاطہ نہیں کر سکتے کسی چیز کا اس کی معلومات میں سے مگر جتنا کہ وہی چاہے گنجائش ہے اس کی کرسی میں تمام آسمانوں اور زمین کو اور گراں نہیں اس کو تھامنا ان کا اور وہی ہے سب سے برتر عظمت والا [۴۱۷]
Allah! There is no God but he, the Living, the Sustainer Slumber taketh hold of Him not, nor sleep. His is whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth. Who is he that shall intercede With Him except with His leave! He knoweth that which was before them and that which shall he after them, and they encompass not aught of His knowledge save that which He willeth. His throne comprehendeth the heavens and the earth, and the guarding of the twain wearieth Him not. And He is the High, the Supreme.
پہلی آیت سے حق سبحانہ کی عظمت شان بھی مفہوم ہو تی ہے اب اس کے بعد اس آیت کو جس میں توحید ذات اور اس کا تقدس و جلال غایت عظمت و وضاحت کے ساتھ مذکور ہے نازل فرمائی اور اسی کا لقب آیۃ الکرسی ہے اسی کو حدیث میں اعظم آیات کتاب اللہ فرمایا ہے اور بہت فضیلت اور ثواب منقول ہے اور اصل بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں رلا ملا کر تین قسم کے مضمون کو جگہ جگہ بیان فرمایا ہے علم توحید و صفات، علم احکام، علم قصص و حکایات سے بھی توحید و صفات کی تقریر و تائید مقصود ہوتی ہے یا علم احکام کی تاکید و ضرورت اور علم توحید و صفات اور علم احکام بھی باہم ایسے مربوط ہیں کہ ایک دوسرے کے لئے علت اور علامت ہے صفات حق تعالیٰ احکام شرعیہ کے حق میں منشاء اور اصل ہیں تو احکام شرعیہ صفات کے لئے بمنزلہ ثمرات اور فروع ہیں تو اب ظاہر ہے کہ علم قصص اور علم احکام سے علم توحید کو ضرور اعانت اور تقویت پہنچے گی اور علم قصص اور علم توحید و صفات سے ضرور علم احکام کی تاکید اور اس کی ضرورت بلکہ حقیقت اور اصلیت ثابت ہو گی اور یہ طریقہ جو تین طریقوں سے مرکب ہے بغایت احسن اور اسہل اور قابل قبول ہے اول تو اس وجہ سے کہ ایک طریقہ کہ پابندی موجب ملال ہوتی ہے اور ایک علم سے دوسرے کی طرف منتقل ہوجانا ایسا ہوجاتا ہے جیسا ایک باغ کی سیر کر کے دوسرے باغ کی سیر کرنے لگے دوسرے تینوں طریقوں سے مل کر حقیقت منشاء ثمرہ نتیجہ سب ہی معلوم ہو جائے گا اور اس میں تعمیل احکام نہایت شوق و مستعدی اور رغبت و بصیرت کے ساتھ ہو گی۔ اس لئے طریقہ مذکورہ بغایت عمدہ اور مفید اور قرآن مجید میں کثیر الاستعمال ہے اس جگہ دیکھ لیجئے کہ اول احکام کو کس کثرت و تفصیل سے بیان فرمایا اس کے بعد بقدر مصلحت قصص کو بیان کر کے تمام احکامات مذکورہ کے فوائد و نتائج گویا ہم کو آنکھوں سے دکھلا دیئے ان سب کے بعد آیۃ الکرسی جو کہ دربارہ توحید و صفات ممتاز آیت ہے اس کو بیان فرما کر جملہ احکامات کی جڑ کو دلوں میں ایسا مستحکم فرما دیا کہ اکھاڑے نہ اکھڑے۔
اس آیت میں توحید ذات اور عظمت صفات حق تعالیٰ کو بیان فرمایا کہ حق تعالیٰ موجود ہے ہمیشہ سے اور کوئی اس کا شریک نہیں تمام مخلوقات کا موجد وہی ہے تمام نقصان اور ہر طرح کے تبدل اور فتور سے منزہ ہے سب چیزوں کا مالک ہے تمام چیزوں کا کامل علم اور سب پر پوری قدرت اور اعلیٰ درجے کی عظمت اس کو حاصل ہے کسی کو نہ اتنا استحقاق نہ اتنی مجال کہ بغیر اس کے حکم کے کسی کی سفارش بھی اس سے کر سکے کوئی امر ایسا نہیں جس کے کرنے میں اس کو دشواری اور گرانی ہو سکے ۔ تمام چیزوں اور سب کی عقلوں سے برتر ہے اس کے مقابلہ میں سب حقیر ہیں ۔ اس سے دو مضمون اور خوب ذہن نشین ہو گئے ایک تو حق تعالیٰ کی ربوبیت اور حکومت اور اپنی محکومیت اور عبدیت جس سے حق تعالیٰ کے تمام احکامات مذکورہ اور غیر مذکورہ کا بلا چون و چراں واجب التصدیق اور واجب التعمیل ہونا اور اس کے احکام میں کسی قسم کے شک و شبہ کا معتبرنہ ہونا معلوم ہو گیا دوسرے عبادات و معاملات کثیرہ مذکورہ سابقہ کو اور ان کے ساتھ تنعیم و تعذیب کو دیکھ کر کسی کو خلجان ہو سکتا تھا کہ ہر ہر فرد کے اس قدر معاملات و عبادات کثیرہ ہیں کہ جن کا مجموعہ اتنا ہوا جاتا ہے کہ ان کا ضبط اور حساب کتاب محال معلوم ہوتا ہے پھر اس کے مقابلہ میں ثواب و عقاب یہ بھی عقل سے باہر غیر ممکن معلوم ہوتا ہے سو اس آیت میں حق سبحانہ نے چند صفات مقدسہ اپنی ایسی ذکر فرمائیں کہ وہ تمام خیالات بسہولت دور ہوگئے یعنی اس کا علم و قدرت ایسا کامل ہے کہ ایک چیز بھی ایسی نہیں جو اس سے باہر ہو جس کا علم اور قدرت ایسا غیر متناہی اور ہمیشہ یکساں رہنے والا ہو اس کو تمام جزئیات عالم کے ضبط رکھنے اور ان کاعوض عطا فرمانے میں کیا دقت ہو سکتی ہے۔




مَن يَشفَع شَفٰعَةً حَسَنَةً يَكُن لَهُ نَصيبٌ مِنها ۖ وَمَن يَشفَع شَفٰعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَهُ كِفلٌ مِنها ۗ وَكانَ اللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ مُقيتًا {4:85}
جو کوئی سفارش کرے نیک بات میں اس کو بھی ملے گا اس میں سے ایک حصہ اور جو کوئی سفارش کرے بری بات میں اس پر بھی ہے ایک بوجھ اس میں سے [۱۳۸] اور اللہ ہے ہر چیز پر قدرت رکھنے والا [۱۳۹]
Whosoever intercedeth with a goodly intercession, his shall be a portion therefrom, and whosoever intercedeth with an ill intercession his shall be a responsibility thereof; and Allah is of everything the Controller.
یعنی اگر کوئی نیک کام میں سعی سفارش کرے جیسا نبی ﷺ کا مسلمانوں کو جہاد کی تاکید فرمانا یا کوئی بری بات میں ساعی ہو جیسا منافق اور سست مسلمانوں کا جہاد سے ڈر کر دوسروں کو بھی ڈرانا تو اول صورت میں ثواب کا اور دوسری صورت میں گناہ کا حصہ ملے گا ایسے ہی اگر کوئی محتاج کی سفارش کر کے دولت مند سے کچھ دلوا دے تو یہ بھی خیرات کے ثواب میں شریک ہو گا۔ اور جو کوئی کافر مفسد یا سارق کو سفارش کر کے چھڑا دے پھر وہ فساد اور چوری کرے تو یہ بھی شریک ہو گا فساد اور چوری میں۔
یعنی خدا تعالیٰ تمام چیزوں پر قادر اور ہر چیز کا حصہ بانٹنے والا ہے تو نیکی اور بدی کے حصہ دینے میں اس کو کوئی دشواری نہیں۔




وَأَنذِر بِهِ الَّذينَ يَخافونَ أَن يُحشَروا إِلىٰ رَبِّهِم ۙ لَيسَ لَهُم مِن دونِهِ وَلِىٌّ وَلا شَفيعٌ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ {6:51}
اور خبردار کر دے اس قرآن سے ان لوگوں کو جنکو ڈر ہے اسکا کہ وہ جمع ہونگے اپنے رب کے سامنے اس طرح پر کہ اللہ کے سوا نہ کوئی انکا حمایتی ہو گا اور نہ سفارش کرنے والا [۵۶] تاکہ وہ بچتے رہیں [۵۷]
And warn thou therewith those who fear that they shall be gathered unto their Lord, when there shall be for them no patron nor intercessor beside Him; haply they may become God-fearing.
یعنی یہ سن کر گناہ سے بچتے رہیں۔
یعنی جو لوگ فرمائشی معجزات دکھلائے جانے پر اپنے ایمان کو موقوف رکھتے اور ازراہ تعنت و عناد آیات اللہ کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ان سے قطع نظر کیجئے۔ کیونکہ تبلیغ کا فرض ادا ہو چکا اور ان کے راہ راست پر آنے کی توقع نہیں اب وحی الہٰی (قرآن) کے ذریعہ سے ان لوگوں کو متنبہ کرنے کا مزید اہتمام فرمائیے جن کے دلوں میں محشر کا خوف اور عاقبت کی فکر ہے۔ کیونکہ ایسے ہی لوگوں سےامید ہو سکتی ہے کہ نصیحت سے متاثر اور ہدایات قرآنی سے منتفع ہوں۔



وَذَرِ الَّذينَ اتَّخَذوا دينَهُم لَعِبًا وَلَهوًا وَغَرَّتهُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا ۚ وَذَكِّر بِهِ أَن تُبسَلَ نَفسٌ بِما كَسَبَت لَيسَ لَها مِن دونِ اللَّهِ وَلِىٌّ وَلا شَفيعٌ وَإِن تَعدِل كُلَّ عَدلٍ لا يُؤخَذ مِنها ۗ أُولٰئِكَ الَّذينَ أُبسِلوا بِما كَسَبوا ۖ لَهُم شَرابٌ مِن حَميمٍ وَعَذابٌ أَليمٌ بِما كانوا يَكفُرونَ {6:70}
اور چھوڑ دے انکو جنہوں نے بنا رکھا ہے اپنے دین کو کھیل اور تماشا [۸۲] اور دھوکا دیا انکو دنیا کی زندگی نے [۸۳] اور نصیحت کر انکو قرآن سے تاکہ گرفتار نہ ہو جاوے کوئی اپنے کئے میں کہ نہ ہو اس کے لئے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر بدلے میں دے سارے بدلے تو قبول نہ ہوں اس سے [۸۴] وہی لوگ ہیں جو گرفتار ہوئے اپنے کئے میں انکو پینا ہے گرم پانی اور عذاب ہے دردناک بدلے میں کفر کے [۸۵]
And let those alone who have taken their religion as a play and a sport and whom the life of the world hath beguiled. And admonish thou them therewith lest a soul be given up to perdition for that which it hath earned, when for him there shall be no friend or intercessor beside Allah, and when if he offer every equivalent it shall not be accepted of him. Those are they who are given up to perdition for that which they have earned. For them shall be drink of boiling water and a torment afflictive, for they were wont to disbelieve.
دنیا کی لذتوں میں مست ہو کر عاقبت کو بھلا بیٹھے۔
گذشتہ آیت میں خاص اس مجلس سے کنارہ کشی کا حکم تھا جہاں آیات اللہ کے متعلق طعن و استہزاء اور ناحق کے جھگڑے کئے جارہے ہوں۔ اس آیت میں ایسے لوگوں کی عام مجالست و صحبت ترک کر دینے کا ارشاد ہے۔ مگر ساتھ ہی حکم ہےکہ ان کو نصیحت کر دیا کرو۔ تاکہ وہ اپنے کئے کے انجام سے آگاہ ہو جائیں۔
یعنی اپنے اس دین کو جس کا قبول کرنا ان کے ذمہ فرض تھا اور وہ مذہب اسلام ہے۔
یعنی ایسےلوگوں کو جو تکذیب و استہزاء کی کوتوت میں پکڑے گئے ہوں نہ کوئی حمایتی ملے گا جو مدد کر کے زبردستی عذاب الہٰی سے چھڑا لے اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ہو گا جو سعی و سفارش سےکام نکال دے۔ اور نہ کسی قسم کا فدیہ اور معاوضہ قبول کیا جائے گا اگر بالفرض ایک مجرم دنیا بھر کے معاوضے دے کر چھوٹنا چاہے تو نہ چھوٹ سکے گا۔




وَلَقَد جِئتُمونا فُرٰدىٰ كَما خَلَقنٰكُم أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكتُم ما خَوَّلنٰكُم وَراءَ ظُهورِكُم ۖ وَما نَرىٰ مَعَكُم شُفَعاءَكُمُ الَّذينَ زَعَمتُم أَنَّهُم فيكُم شُرَكٰؤُا۟ ۚ لَقَد تَقَطَّعَ بَينَكُم وَضَلَّ عَنكُم ما كُنتُم تَزعُمونَ {6:94}
اور البتہ تم ہمارے پاس آ گئے ایک ایک ہو کر جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی بار اور چھوڑ آئے تم جو کچھ اسباب ہم نے تم کو دیا تھا اپنی پیٹھ کے پیچھے [۱۲۵] اور ہم نہیں دیکھتے تمہارے ساتھ سفارش والوں کو جن کو تم بتلایا کرتے تھے کہ ان کا تم میں ساجھا ہے البتہ منقطع ہو گیا تمہاا علاقہ اور جاتے رہے جو دعوے کہ تم کیا کرتے تھے [۱۲۶]
And now ye are come unto us singly even as We had created you for the first time, and ye have left behind your backs that which We had granted unto you, and We see not along with you your intercessors who ye fancied were Our associates in respect of you as ye asserted. Now are the ties betwixt you severed and strayed from you is that which ye were wont to assert.
یعنی نہ سر پہ ٹوپی نہ پاؤں میں جوتی تہی دست چلے آ رہے ہو اور جس سازوسامان پر فخر و ناز تھا اسے ہمراہ نہیں لائے کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہو۔
یعنی جن کو تم سمجھتے تھے کہ آڑے وقت میں ہمارا ہاتھ بٹائیں گے اور مصیبت میں ساتھ ہوں گے وہ کہاں چلے گئے آج ہم ان کو تمہاری سفارش اور حمایت پر نہیں دیکھتے۔ حمایت و نصرت کے وہ علاقے آج ٹوٹ گئے اور جو لمبے چوڑے دعوے تم کیا کرتے تھے سب رفو چکر ہو گئے۔




هَل يَنظُرونَ إِلّا تَأويلَهُ ۚ يَومَ يَأتى تَأويلُهُ يَقولُ الَّذينَ نَسوهُ مِن قَبلُ قَد جاءَت رُسُلُ رَبِّنا بِالحَقِّ فَهَل لَنا مِن شُفَعاءَ فَيَشفَعوا لَنا أَو نُرَدُّ فَنَعمَلَ غَيرَ الَّذى كُنّا نَعمَلُ ۚ قَد خَسِروا أَنفُسَهُم وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ {7:53}
کیا اب اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہو جائے جس دن ظاہر ہو جائے گا اس کا مضمون کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلےسے بیشک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات سو اب کوئی ہماری سفارش والے ہیں تو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیے جائیں تو ہم عمل کریں خلاف اس کےجو ہم کر رہے تھے بیشک تباہ کیا انہوں نے اپنے آپ کو اور گم ہو جائے گا ان سے جو وہ افترا کیا کرتے تھے [۶۳]
They await only its fulfilment. The Day whereon the fulfilment thereof arriveth, those who were negligent thereof afore shall say: surely the apostles of our Lord brought the truths; are there for us any intercessors that they might intercede for us? or could we be sent back that we may work otherwise than we were wont to work? Surely they have lost themselves, and there hath strayed from them that which they were wont to fabricate.
کتاب اللہ میں جو دھمکیاں عذاب کی دی گئ ہیں کیا یہ اس کے منتظر ہیں کہ جب ان دھمکیوں کا مضمون (مصداق) سامنے آ جائے تب حق کو قبول کریں۔ حالانکہ وہ مضمون جب سامنے آ جائے گا یعنی عذاب الہٰی میں گرفتار ہوں گے تو اس وقت کا قبول کرنا کچھ کام نہ دے گا اس وقت تو سفارشیوں کی تلاش ہوگی جو خدا کی سزا سفارش کر کے معاف کرا دیں اور چونکہ ایسا سفارشی کافروں کو کوئی نہ ملے گا تو یہ تمنا کریں گے کہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج کر امتحان کر لیا جائے کہ اس مرتبہ اپنے جرائم کے خلاف ہم کیسی نیکی اور پرہیزگاری کے کام کرتے ہیں۔ لیکن اب اس تمنا سے کیا حاصل جبکہ پہلے خود اپنے ہاتھوں اپنے کو برباد کر چکے اور جو جھوٹے خیالات پکا رکھے تھے وہ سب رفو چکر ہو گئے۔




إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۖ يُدَبِّرُ الأَمرَ ۖ ما مِن شَفيعٍ إِلّا مِن بَعدِ إِذنِهِ ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم فَاعبُدوهُ ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ {10:3}
تحقیق تمہارا رب اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں [۴] پھر قائم ہوا عرش پر [۵] تدبیر کرتا ہے کام کی [۶] کوئی سفارش نہیں کر سکتا مگر اس کی اجازت کے بعد [۷] وہ اللہ ہے رب تمہارا سو اسکی بندگی کرو کیا تم دھیان نہیں کرتے [۸]
Verily your Lord is Allah who hath created the heavens and the earth in six days, then established Himself on the Throne disposing the affair; no in tercessor is there, except after His leave. That is Allah, your Lord; so worship Him. Would ye then not be admonished!
سورہ اعراف کے ساتویں رکوع کے شروع میں اسی طرح کی آیت گذر چکی۔ اس کا فائدہ ملاحظہ کیا جائے۔
یعنی اتنے وقت میں جو چھ دن کے برابر تھا اور ایک دن ابن عباس کی تفسیر کے موافق ایک ہزار سال کا لیا جائے گا۔ گویا چھ ہزار سال میں زمین و آسمان وغیرہ تیار ہوئے ۔ بلاشبہ حق تعالیٰ قادر تھا کہ آن واحد میں ساری مخلوق کو پیدا کر دیتا۔ لیکن حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کی تدریجًا پیدا کیا جائے۔ شاید بندوں کو سبق دینا ہو کہ قدرت کے باوجود ہر کام سوچ سمجھ کر تأنی اور متانت سےکیا کریں۔ نیز تدریجی تخلیق کی بہ نسبت دفعۃً پیدا کرنے کے اس بات کا زیادہ اظہار ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ فاعل بالاضطرار نہیں ۔ بلکہ ہر چیز کا وجود بالکلیہ اس کی مشیت و اختیار سے وابستہ ہے جب چاہے جس طرح چاہے پیدا کرے۔
یعنی دھیان کرو کہ ایسے رب کے سوا جس کی صفات اوپر بیان ہوئیں دوسرا کون ہے جس کی بندگی اور پرستش کی جا سکے۔ پھر تم کو کیسے جرأت ہوتی ہے کہ اس خالق و مالک شہنشاہ مطلق اور حکیم برحق کے پیغاموں اور پیغامبروں کو محض اوہام و ظنون کی بنا پر جھٹلانے لگو۔
یعنی شریک اور حصہ دار تو اس کی خدائی میں کیا ہوتا ، سفارش کے لئے بھی اس کی اجازت کے بدون لب نہیں ہلا سکتا۔
یعنی مخلوق کے تمام کاموں کی تدبیر و انتظام اسی کے ہاتھ میں ہے۔




وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُم وَلا يَنفَعُهُم وَيَقولونَ هٰؤُلاءِ شُفَعٰؤُنا عِندَ اللَّهِ ۚ قُل أَتُنَبِّـٔونَ اللَّهَ بِما لا يَعلَمُ فِى السَّمٰوٰتِ وَلا فِى الأَرضِ ۚ سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ {10:18}
اور پرستش کرتے ہیں اللہ کےسوا اس چیز کی جو نہ نقصان پہنچا سکے ان کو نہ نفع اور کہتے ہیں یہ تو ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس [۳۱] تو کہہ کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اسکو معلوم نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہ پاک ہے اور برتر ہے اس سے جسکو شریک کرتے ہیں [۳۲]
And they worship, beside Allah, that which harmeth them not, nor profiteth them, and they say: these are our intercessors with God: Say thou: apprise ye Allah of that which He knoweth not in the heavens nor in the earth? Hallowed be He and Exalted far above that which ye associate!
وہ معاملہ تو خدا اور پیغمبر کے ساتھ تھا۔ اب ان کی خدا پرستی کا حال سنئے کہ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن کے قبضہ قدرت میں نفع و ضرر کچھ بھی نہیں۔ جب پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ بیشک بڑا خدا تو ایک ہے جس نے آسمان زمین پیدا کئے ، مگر ان اصنام (بتوں) وغیرہ کو خوش رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ یہ سفارش کر کے بڑے خدا سے دنیا میں ہمارے اہم کام درست کرا دیں گے اور اگر موت کے بعد دوسری زندگی کا سلسلہ ہوا تو وہاں بھی ہماری سفارش کریں گے باقی چھوٹے موٹے کام جو خود ان کے حدود اختیار میں ہیں ان کا تعلق تو صرف ان ہی سے ہے۔ بناءً علیہ ہم کو ان کی عبادت کرنی چاہئے۔
یعنی بتوں کا شفیع ہونا اور شفیع کا مستحق عبادت ہونا دونوں دعوے غلط اور بے اصل ہیں ۔ اور ظاہر ہے کہ خدا کے علم میں وہ ہی چیز ہو گی جو واقعی ہو۔ لہذا تعلیم الہٰی کے خلاف ان غیر واقعی اور خود تراشیدہ اصول کو حق بجانب ثابت کرنا ، گویا خدا تعالیٰ کو ایسی چیزوں کے واقعی ہونے کی خبر دینا ہے جن کا وقوع آسمان و زمین میں کہیں بھی اسے معلوم نہیں۔ یعنی کہیں ان کا وجود نہیں ، ہوتا تو اس کے علم میں ضرور ہوتا۔ پھر اس سے منع کیوں کرتا۔




لا يَملِكونَ الشَّفٰعَةَ إِلّا مَنِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحمٰنِ عَهدًا {19:87}
نہیں اختیار رکھتے لوگ سفارش کا مگر جس نے لے لیا ہے رحمٰن سے وعدہ [۱۰۱]
They shall not own intercession, excepting those who have taken of the Compassionate a covenant. *Chapter:19
یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے شفاعت کا وعدہ دیا مثلًا ملائکہ ، انبیاء ، صالحین وغیرہ ہم وہ ہی درجہ بدرجہ سفارش کریں گے بدون اجازت کسی کو زبان ہلانے کی طاقت نہ ہو گی اور سفارش بھی ان ہی لوگوں کی کر سکیں گے جن کے حق میں سفارش کئے جانے کا وعدہ دے چکے۔ کافروں کے لئے شفاعت نہ ہوگی۔




يَومَئِذٍ لا تَنفَعُ الشَّفٰعَةُ إِلّا مَن أَذِنَ لَهُ الرَّحمٰنُ وَرَضِىَ لَهُ قَولًا {20:109}
اُس دن کام نہ آئے گی سفارش مگر جسکو اجازت رحمٰن نے دی اور پسند کی اسکی بات [۱۱۲]
That Day intercession will Profit not except him for whom the Compassionate giveth leave, and of whom He approveth the Word.
یعنی اس کی سفارش چلے گی جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سفارش کی اجازت ملے اس کا بولنا خدا کو پسند ہو ۔ اور بات ٹھکانے کی کہے اور ایسے شخص کی سفارش کرے جس کی بات (لا الٰہ الا اللہ) خدا کو پسند آ چکی ہے کافر کے حق میں کوئی سعی سفارش نہیں چلے گی۔




يَعلَمُ ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم وَلا يَشفَعونَ إِلّا لِمَنِ ارتَضىٰ وَهُم مِن خَشيَتِهِ مُشفِقونَ {21:28}
اُسکو معلوم ہے جو اُنکے آگے ہیں اور پیچھے [۲۷] اور وہ سفارش نہیں کرتے مگر اُسکی جس سے اللہ راضی ہو [۲۸] اور وہ اُسکی ہیبت سے ڈرتے ہیں [۲۹]
He knoweth whatsoever is before them and whatsoever is behind them; and they intercede not except for him whom He approveth, and in awe of Him they are fearful.
پھر ان کو خدا کیسے کہا جا سکتا ہے۔ جب خدا نہیں تو خدا کے بیٹے یا بیٹیاں بھی نہیں بن سکتے۔ کیونکہ صحیح اولاد جنس والدین سے ہونی چاہئے۔
یعنی اس کی مرضی معلوم کئے بدون کسی کی سفارش بھی نہیں کرتے ۔ چونکہ مومنین موحدین سےاللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اس لئے ان کے حق میں دنیا و آخرت میں استغفار کرنا ان کا وظیفہ ہے۔
حق تعالیٰ کا علم ان کے تمام ظاہری و باطنی احوال کو محیط ہے۔ ان کی کوئی حرکت اور کوئی قول و فعل اس سے پوشیدہ نہیں۔ چنانچہ مقرب بندے اسی حقیقت کو سمجھ کر ہمہ وقت اپنے احوال کا مراقبہ کرتے رہتے ہیں کہ کوئی حالت اس کی مرضی کےخلاف نہ ہو۔




فَما لَنا مِن شٰفِعينَ {26:100}
پھر کوئی نہیں ہماری سفارش کرنے والے
So none we have as intercessors.





وَلَم يَكُن لَهُم مِن شُرَكائِهِم شُفَعٰؤُا۟ وَكانوا بِشُرَكائِهِم كٰفِرينَ {30:13}
اور نہ ہوں گے ان کے شریکوں میں کوئی انکے سفارش کرنے والے اور وہ ہو جائیں گے اپنے شریکوں سے منکر [۱۳]
And not from their associate-gods, there will be intercessors for them, and unto their associate-gods they will be unbelievers.
یعنی جن کو اللہ کا شریک بناتے تھے جب وقت پر کام نہ آئیں گے تو منکر ہو کر کہنے لگیں گے کہ { وَاللہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ } (خدا کی قسم ہم مشرک نہ تھے)۔




اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۖ ما لَكُم مِن دونِهِ مِن وَلِىٍّ وَلا شَفيعٍ ۚ أَفَلا تَتَذَكَّرونَ {32:4}
اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ انکے بیچ میں ہے چھ دن کے اندر پھر قائم ہوا عرش پر [۳] کوئی نہیں تمہارا اس کے سوائے حمایتی اور نہ سفارشی پھر تم کیا دھیان نہیں کرتے [۴]
Allah it is Who created the heavens and the earth and whatsoever is betwixt the twain in six days, and then He established Himself on the throne. No patron have ye nor an intercessor, besides Him. Will ye not then be admonished?
اس کا بیان سورہ اعراف میں آٹھویں پارہ کے اختتام کے قریب گذر چکا۔ ملاحظہ کر لیا جائے۔
یعنی دھیان نہیں کرتے کہ اس کے پیغام اور پیغامبر کو جھٹلا کر کہاں جاؤ گے ۔ تمام زمین و آسمان میں عرش سے فرش تک اللہ کی حکومت ہے۔ اگر پکڑے گئے تو ا سکی اجازت و رضاء کے بدون کوئی حمایت اور سفارش کرنے والا بھی نہ ملے گا۔




وَلا تَنفَعُ الشَّفٰعَةُ عِندَهُ إِلّا لِمَن أَذِنَ لَهُ ۚ حَتّىٰ إِذا فُزِّعَ عَن قُلوبِهِم قالوا ماذا قالَ رَبُّكُم ۖ قالُوا الحَقَّ ۖ وَهُوَ العَلِىُّ الكَبيرُ {34:23}
اور کام نہیں آتی سفارش اس کے پاس مگر اس کو کہ جس کے واسطے حکم کر دے [۳۴] یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور ہو جائے ان کے دل سےکہیں کیا فرمایا تمہارے رب نے وہ کہیں فرمایا جو واجبی ہے اور وہی ہے سب سے اوپر بڑا [۳۵]
lntercession with Him profiteth not save the intercession of him whom He giveth leave. They hold their peace until when fright is taken off from their hearts, they say: What is it that your Lord hath said? They say: the very truth. And He is the Exalted, the Great.
یعنی یہ مسکین کیا کام آتے جنہیں آسمان و زمین میں نہ ایک ذرہ کا مستقل اختیار ہے (بلکہ بتوں کو تو غیر مستقل بھی نہیں) نہ آسمان و زمین میں ان کی کچھ شرکت نہ خدا کو کسی کام میں مدد کی ضرورت، جو یہ اس کے معین و مددگار بن کر ہی کچھ حقوق جتلاتے۔ اس کی بارگاہ تو وہ ہے جہاں بڑے بڑے مقربین کی یہ بھی طاقت نہیں کہ بدون اذن و رضاء کے کسی کی نسبت ایک حرف سفارش ہی زبان سے نکال سکیں۔ انبیاء و اولیاء اور ملائکۃ اللہ کی شفاعت بھی صرف انہی کے حق میں نافع ہو گی جن کے لئے ادھر سے سفارش کا حکم مل جائے۔
یہ فرشتوں کا حال فرمایا جو ہمہ وقت اس بارگاہ کے حاضر باش ہیں۔ جب اوپر سے اللہ کا حکم اترتا ہے ایسی آواز آتی ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جائے۔ (شاید اتصال و بساطت کو قریب الی الفہم کرنے کے لئے یہ تشبیہ دی گئ) فرشتے دہشت اور خوف و رعب سے تھرا جاتے ہیں اور تسبیح کرتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔ جب یہ حالت رفع ہو کر دل کو تسکین ہوئی اور کلام اتر چکا۔ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کیا حکم ہوا۔ اوپر والے فرشتے نیچے والوں کو درجہ بدرجہ بتلاتے ہیں کہ جو اللہ کی حکمت کے موافق ہے اور آگے سے قاعدہ معلوم ہے وہ ہی حکم ہوا۔ ظاہر ہے وہاں معقول اور واجبی بات کے سوا کیا چیز ہو سکتی ہے پس جس کےعلوّ و عظمت کی یہ کیفت ہو کہ حکم دے تو مقربین کا مارے ہیبت و جلال کے یہ حال ہو جائے وہاں کس کی ہمت ہے کہ ازخود سعی و سفارش کے لئے کھڑا ہو جائے(تنبیہ) آیت کی اور تفسیریں بھی کی گئ ہیں جن کی نسبت حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں "وجمیع ذلک مخالف لہذا الحدیث الصحیح (الذی فی البخاری) ولاحادیث کثیرۃ تویدہ (فتح الباری ۱۳۔۳۸۱)"۔




ءَأَتَّخِذُ مِن دونِهِ ءالِهَةً إِن يُرِدنِ الرَّحمٰنُ بِضُرٍّ لا تُغنِ عَنّى شَفٰعَتُهُم شَيـًٔا وَلا يُنقِذونِ {36:23}
بھلا میں پکڑوں اس کے سوائے اوروں کو پوجنا کہ اگر مجھ پر چاہے رحمٰن تکلیف تو کچھ کام نہ آئے مجھ کو ان کی سفارش اور نہ وہ مجھ کو چھڑائیں
Shall I take beside Him gods when, if the Compassionate should intend me any harm, their intercession will avail me not at all, nor would they save me?




أَمِ اتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ شُفَعاءَ ۚ قُل أَوَلَو كانوا لا يَملِكونَ شَيـًٔا وَلا يَعقِلونَ {39:43}
کیا انہوں نے پکڑے ہیں اللہ کے سوائے کوئی سفارش والے [۵۷] تو کہہ اگرچہ ان کو اختیار نہ ہو کسی چیز کا اور نہ سمجھ [۵۸]
Have they taken others for intercessors beside Allah! Say thou: What! even though they own not aught and understand not?
یعنی بتوں کی نسبت مشرکین دعویٰ رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں ان کے سفارشی ہیں ۔ ان ہی کی سفارش سے کام بنتے ہیں۔ اسی لئے انکی عبادت کی جاتی ہے۔ سو اول تو شفیع ہونے سے معبود ہونا لازم نہیں آتا۔ دوسرے شفیع بھی وہ بن سکتا ہے جسے اللہ کی طرف سے شفاعت کی اجازت ہو اور صرف اس کے حق میں شفاعت کر سکتا ہے جس کو خدا پسند کرے۔ خلاصہ یہ کہ شفیع کا مأذون ہونا اور مشفوع کا مرتضٰی ہونا ضروری ہے۔ یہاں دونوں باتیں نہیں ۔ نہ اصنام (بتوں) کا ماذون ہونا ثابت ہے نہ کفار کا مرتضٰی ہونا۔ لہذا ان کا دعویٰ غلط ہوا۔
یعنی بتوں کو نہ اختیار ہے نہ سمجھ، پھر انکو شفیع ماننا عجیب ہے۔




قُل لِلَّهِ الشَّفٰعَةُ جَميعًا ۖ لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ ثُمَّ إِلَيهِ تُرجَعونَ {39:44}
تو کہہ اللہ کے اختیار میں ہے ساری سفارش اسی کا راج ہے آسمان اور زمین میں پھر اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے [۵۹]
Say thou: Allah's is intercession altogether. His is the dominion of the heavens and the earth; then Unto Him shall ye be returned.
یعنی فی الحال بھی زمین و آسمان میں اسی کی سلطنت ہے اور آئندہ بھی اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے تو اس کی اجازت و خوشنودی کے بغیر کس کی مجال ہے جو زبان ہلا سکے۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں یعنی اللہ کے روبرو سفارش ہے پر اللہ کے حکم سے، نہ تمہاے کہے سے۔ جب موت آئے کسی کےکہے سے عزرائیل نہیں چھوڑتا۔




وَأَنذِرهُم يَومَ الءازِفَةِ إِذِ القُلوبُ لَدَى الحَناجِرِ كٰظِمينَ ۚ ما لِلظّٰلِمينَ مِن حَميمٍ وَلا شَفيعٍ يُطاعُ {40:18}
اور خبر سنا دے اُنکو اس نزدیک آنے والے دِن کی جس وقت دل پہنچیں گے گلوں کو تو وہ دبا رہے ہوں گے [۲۴] کوئی نہیں گنہگاروں کا دوست اور نہ سفارشی کہ جسکی بات مانی جائے [۲۵]
Wherefore warn them thou of the Day of portending, whereon the hearts will be in the throats, choking: then will be for the wrong- doers no ardent friend nor an intercessor to be given heed to.
یعنی ایسا کوئی سفارشی نہیں ہو گا جسکی بات ضرور ہی مانی جائے۔ سفارش وہ ہی کر سکے گا جسکو اجازت ہو اور اسی کے حق میں کرے گا جس کے لئے پسند ہو۔
یعنی خوف اور گھبراہٹ سے دل دھڑک کو گلوں تک پہنچ رہے ہوں گے اور لوگ دونوں ہاتھوں سے انکو پکڑ کر دبائیں گے کہ کہیں سانس کے ساتھ باہر نہ نکل پڑیں۔
وَلا يَملِكُ الَّذينَ يَدعونَ مِن دونِهِ الشَّفٰعَةَ إِلّا مَن شَهِدَ بِالحَقِّ وَهُم يَعلَمونَ {43:86}
اور اختیار نہیں رکھتے وہ لوگ جنکو یہ پکارتے ہیں سفارش کا مگر جس نے گواہی دی سچی اور انکو خبر تھی [۸۳]
And those whom they call upon beside Him own not the power of intercession save those who have borne witness to the truth and who know.
یعنی اتنی سفارش کر سکتے ہیں کہ جس نے انکے علم کے موافق کلمہ اسلام کہا اس کی گواہی دیں۔ بغیر کلمہ اسلام کسی کے حق میں ایک حرف سفارش کا نہیں کہہ سکتے اور اتنی سفارش بھی صالحین کریں گے جو سچائی کو جانتے اور اسکو زبان و دل سے مانتے ہیں دوسروں کو اجازت نہیں۔




وَكَم مِن مَلَكٍ فِى السَّمٰوٰتِ لا تُغنى شَفٰعَتُهُم شَيـًٔا إِلّا مِن بَعدِ أَن يَأذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشاءُ وَيَرضىٰ {53:26}
اور بہت فرشتے ہیں آسمانوں میں کچھ کام نہیں آتی اُنکی سفارش مگر جب حکم دے اللہ جسکے واسطے چاہے اور پسند کرے [۱۸]
And many soever are angels in the heavens whose intercession shall not avail at all save after Allah hath given leave for whomsoever He listeth and pleaseth.
یعنی ان بتوں کی تو حقیقت کیا ہے آسمان کے رہنے والے مقرب فرشتوں کی سفارش بھی کچھ کام نہیں دے سکتی۔ ہاں اللہ ہی جس کے حق میں سفارش کرنے کا حکم دے اور اس سے راضی ہو تو وہاں سفارش بیشک کام دے گی۔ ظاہر ہے کہ اس نے نہ بتوں کو سفارش کا حکم دیا اور نہ وہ کفار سے راضی ہے۔




فَما تَنفَعُهُم شَفٰعَةُ الشّٰفِعينَ {74:48}
پھر کام نہ آئے گی اُنکے سفارش سفارش کرنے والوں کی [۳۴]
Then there will not Profit them intercision of the interceders,
کافر کے حق میں کوئی سفارش نہ کریگا اور کریگا تو قبول نہ ہوگی۔
وَالشَّفعِ وَالوَترِ {89:3}
اور جفت اورطاق کی
And by the even and the odd,


http://www.islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=146&hid=98&pid=365701



1)عبد العزيز بن عبداللہ ، سليمان، عمرو بن ابي عمرو، سعيد بن ابي سعيد مقبري ابوہريرہ رضي اللہ تعالي? عنہ سے روايت ہے کہ انہوں نے کہا يا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم قيامت کے دن سب لوگوں سے زيادہ حصہ آپ کي شفاعت سے کس کو ملے گا؟ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا کہ مجھے يقيني طور پر يہ خيال تھا کہ ابوہريرہ تم سے پہلے کوئي يہ بات مجھ سے نہ پوچھے گا، کيونکہ ميں نے تمہاري حرص حديث پر ديکھ لي تھي، سب سے زيادہ فيض ياب ميري شفاعت سے قيامت کے دن وہ شخص ہوگا جو صدق دل سے يا اپنے خالص جي سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ دے?
[صحيح بخاري:جلد اول:حديث نمبر 99, - علم کا بيان : حديث (نبوي کے سننے) پر حرص کا بيان]
يعني
(حضرت انس رضي اللہ تعالي? عنہ کہتے ہيں کہ آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ  دوزخ سے وہ شخص نکل جائے گا جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہو اور اس کے قلب ميں ايک جو برابر ايمان ہوگا، پھر وہ شخص دوزخ سے نکل جائے گا، جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا اور اس کے دل ميں گہيوں برابر ايمان ہوگا، پھر دوزخ سے وہ شخص نکلے گا جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہو اور اس کے دل ميں ذرہ برابر ايمان ہو
[صحيح بخاري:جلد سوم:حديث نمبر 2281توحيد کا بيان :اللہ کا قول لما خلقت بيدي?]

ميري شفاعت ہر اس شخص کے لئے ہوگي جو خلوص دل کے ساتھ لاالہ الہ اللہ کي گواہي ديتا ہو اس کا دل اس کي زبان کي تصديق کرتا ہو اور اس کي زبان اس کے دل کي تصديق کرتي ہو?
53824

نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم يہ دعا کرتے تھے اے اللہ! ہر اس بندہ مسلم کي مغفرت فرما جو تجھ سے اس حال ميں ملے کہ وہ مجھ پر ايمان رکھتا ہو اور تيرے ساتھ کسي کو شريک نہ ٹھہراتا ہو?
55574
ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔
69020

2)
جابر بن عبداللہ ، روايت کرتے ہيں کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا کہ جو شخص اذان سنتے وقت يہ دعا پڑھے اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ تو اس کو قيامت کے دن ميري شفاعت نصيب ہو گي?
[صحيح بخاري:جلد اول:حديث نمبر 587, اذان کا بيان :اذان کے وقت دعا کرنے کا بيان]
587

 محمد بن سلمہ مرادي، عبداللہ بن وہب، حيو?، سعيد بن ابي ايوب، کعب بن علقمہ، عبدالرحمن بن جبير، عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روايت ہے کہ انہوں نے نبي کريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم مؤذن سے اذان سنو تو جيسے وہ کہتا ہے تم بھي کہو پھر مجھ پر درود بھيجو جو مجھ پر درود بھيجتا ہے اللہ اس پر دس دس رحميتں نازل کرتا ہے پھر اللہ سے ميرے لئے وسيلہ مانگو کيونکہ وہ جنت کا ايک درجہ ہے اللہ کے بندوں ميں سے صرف ايک بندہ کو ملے گا اور مجھے اميد ہے کہ وہ ميں ہي ہوں گا جو اللہ سے ميرے وسيلہ کي دعا کرے گا اس کے لئے ميري شفاعت واجب ہو جائے گي?
[صحيح مسلم:جلد اول:حديث نمبر 844, نماز کا بيان : موذن کي اذن سننے والے کے لئے اسي طرح کہنے اور پھر نبي کريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم پر درود بھيج کر آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے لئے وسيلہ کي دعا کرنے کے استحباب کے بيان ميں?]
7983



مسند احمد:جلد ہفتم:حديث نمبر 169    حديث متواتر حديث مرفوع
 حضرت رويفع رضي اللہ عنہ سے مروي ہے کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا جو شخص محمد صلي اللہ عليہ وسلم پر درود بھيجے اور يوں کہے کہ ( اللَّهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ )  اے اللہ قيامت کے دن اپنے يہاں انہيں باعزت مقام عطاء فرما، تو اس کے لئے ميري شفاعت واجب ہوگئي?
62478


http://www.islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=146&hid=583&pid=366026

3)
 ميري شفاعت کيلئے ايک حد مقرر کر دي جائے گي
34239

پھر اپنے رب سے عرض کروں گا کہ اب تو وہي باقي رہ گئے ہيں جن کو قرآن نے منع کيا ہے اور وہ ہميشہ کے لئے دوزخ ميں رہنے والے ہيں
4186
===========
نے حضرت ابوالدردا سے سنا وہ فرماتے ہيں کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا زيادہ لعنت کرنے والے قيامت کے دن شفاعت کرنے والے نہيں ہوں گے اور نہ ہي گواہي دينے والے ہوں گے?
[صحيح مسلم:جلد سوم:حديث نمبر 2110,صلہ رحمي کا بيان :جانوروں وغيرہ پر لعنت کرنے کي ممانعت کے بيان ميں]
13740
------------
حضرت نميران بن عتبہ سے روايت ہے کہ ہم ام درداء کے پاس گئے اور ہم يتيم تھے ام درداء نے کہا خوش ہو جا ميں نے ابودرداء سے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا شہيد کي شفاعت اس کے اہل خانہ کے ستر آدميوں کے حق ميں قبول کي جائے گي?
[سنن ابوداؤد:جلد دوم:حديث نمبر 757, جہاد کا بيان : شہيد کي شفاعت قبول کي جائے گي]
17209

قيامت کے دن تين لوگ شفاعت کريں گے?? انبياء يعني پيغبر?? علماء کرام?? پھر شہداء?
34241

حضرت ابن عباس سے روايت ہے کہ ميں نے رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو يہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کي کوئي ميت ايسي نہيں کہ جس کے جنازہ پر چاليس ايسے آدمي نماز پڑھنے کے ليے کھڑے ہوں جو اللہ کے ساتھ کسي کو شريک نہ ٹھہراتے ہوں (اور وہ اس کے حق ميں دعائے مغفرت کريں) اور اللہ تعالي? ان کي شفاعت کو قبول نہ فرمائے?
[سنن ابوداؤد:جلد دوم:حديث نمبر 1402,جنازوں کا بيان :جنازے کے ساتھ جانے اور اس پر نماز پڑھنے کي فضيلت کا بيان]
17854

------------
حضرت ابوہريرہ رضي اللہ تعالي? عنہ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہيں کہ آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا قرآن ميں تيس آيتوں والي ايک سورت ہے جس نے ايک شخص کي شفاعت کي اور اسے بخش ديا گيا? وہ تبارک الذي يعني سورت ملک ہے?
[جامع ترمذي:جلد دوم:حديث نمبر 816, فضائل قرآن کا بيان? :سورت ملک کي فضيلت کے متعلق]
28750

سورت تنزيل سجدہ اور سورت ملک کي فضيلت
46006
46008

حضرت نو اس بن سمعان کہتے ہيں کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا (قيامت کے دن) قرآن اور اہل قرآن جو دنيا ميں اس پر عمل کرتے تھے اس طرح آئيں گے(مراد اس پر عمل کرنے والوں کے اعمال کا اجر و ثواب ہے) کہ آگے سورت بقرہ اور پھر سورت آل عمران ہوگي? پھر نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کي تين مثاليں بيان فرمائيں? ميں اس کے بعد انہيں کبھي نہيں بھولا? آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا وہ اس طرح آئيں گي (ثواب )گويا کہ وہ دو چھترياں ہيں اور ان کے درميان ايک روشني ہے? يا اس طرح آئيں گي جيسے دو سياہ بادل ہيں يا صف باندھے ہوئے پرندوں کي مانند اپنے ساتھي (يعني پڑھنے والے) کي طرف سے شفاعت کرتے ہوئے آئيں گي?
28742

حضرت ابن عمر رضي اللہ عنہ بيان کرتے ہيں قرآن آئے اور اپنے پڑھنے والوں کے ليے شفاعت کرے گا اور يہ کہے گا اے ميرے رب ہر عمل کرنے والے کو اس کے کام کا معاوضہ ملتا ہے ميں نے اس شخص کو لذت اور نيند سے روکا تو اس کو بزرگي عطاکر? اس شخص سے کہا جائے گا تم اپنے دائيں ہاتھ کو پھيلاؤ اسے اللہ کي رضامندي سے بھرديا جائے گا اور پھر يہ کہا جائے گا کہ بائيں ہاتھ کو پھيلاؤ اسے بھي اللہ کي رضامندي سے بھر ديا جائے گا? پھر اس شخص کو کرامت کا لباس پہنايا جائے گا اور کرامت کا زيور پہنايا جائے گا اور کرامت کا تاج پہنايا جائے گا?
45910
45911
45923
------------

حضرت علي بن ابي طالب رضي اللہ عنہ کہتے ہيں کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا جس نے قرآن پڑھا اور اسے ياد کيا پھر اس کي حلال کي ہوئي چيزوں کو حلال اور حرام کي ہوئي چيزوں کو حرام جانا? اللہ تعالي? اسے اس کي برکت سے جنت ميں داخل فرمائے گا? اور اسے اپنے گھر والوں ميں سے ايسے دس آدميوں کي شفاعت کا اختيار دے گا جن پر جہنم واجب ہو چکي ہوگي?
[جامع ترمذي:جلد دوم:حديث نمبر 832, فضائل قرآن کا بيان?]
28766

حضرت عثمان بن حنيف رضي اللہ عنہ فرماتے ہيں کہ ايک نابينا شخص آپ صلي اللہ عليہ وسلم کي خدمت ميں حاضر ہوا اور عرض کيا کہ ميرے لئے عافيت کي دعا کريں آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا اگر چاہو تو ميں دعا کرتا ہوں اور اگر چاہو تو اسي (نابينا پن) پر صبر کرو? اور يہ تمہارے لئے بہتر ہے? اس نے عرض کيا، آپ ميرے دعا ہي کر ديجئے، چنانچہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے اسے حکم ديا کہ اچھي طرح وضو کرنے کے بعد اس طرح دعا کرو اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِنَبِيِّکَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِکَ إِلَي رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَي لِيَ اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ (يعني اے اللہ ! ميں تجھ سے تيرے نبي محمد (صلي اللہ عليہ وسلم) کے وسيلے سے سوال کرتا ہوں? اے اللہ ! ميرے بارے ميں ان کي شفاعت قبول فرما)
[جامع ترمذي:جلد دوم:حديث نمبر 1535, دعاؤں کا بيان : باب نبي اکرم صلي اللہ عليہ وسلم کي دعا اور فرض نماز کے بعد تعوذ کے متعلق]
29469
==========

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ انور کی تعظیم
۱۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من زار قبری، اوقال: من زارنی کنت لہ شفیعا او شھیدًا، ومن مات فی أحد الحرمین بعثہ اللہ من الآمنین یوم القیامة۔ (طیالسی۔ المسند ۱:۱۲، رقم:۵۶۔ دار قطنی ، السنن ۲:۲۷۸۔ بیہقی ، السنن الکبری ۵:۲۴۵ رقم: ۱۰۰۵۳ ۔ بیہقی ، شعب الایمان ۳:۴۸۹، رقم : ۴۱۵۳)
” جس نے میری قبر کی ، یا (راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ ) نے فرمایا: جس نے میری زیارت کی تو میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا ، اور جو شخص حرمین میں سے کسی ایک میں فوت ہو گیا ، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن امن پانے والوں میں سے اٹھائے گا۔“
۲۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ سرورِ کائنات ﷺ نے فرمایا:
من جاء نی زائراً لا یعلمہ حاجة الا زیارتی، کان حقا علی ان أکون لہ  شفیعاً یوم القیامة (طبرانی ، المعجم الکبیر ۱۲: ۲۹۱رقم: ۱۳۱۴۹)
”جو بغیر کسی حاجت کے صرف میری زیارت کے لئے آیا تو اس کا مجھ پر حق ہے کہ میں روزِ قیامت اس کی شفاعت کروں۔“ 



حضرت ابن عمر رضي اللہ تعالي? عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ جس سے ہو سکے کہ مدينہ منورہ ميں مرے تو وہي مرنے کي کوشش کرے کيونکہ جو يہاں مرے گا ميں اس کي شفاعت کروں گا?
[جامع ترمذي:جلد دوم:حديث نمبر 1889, مناقب کا بيان : باب مدينہ منورہ کي فضيلت کے بارے ميں ?]
29823

مدينہ کي تکليف اور سختيوں پر جو صبر کرے گا ميں اس کا قيامت کے روز گواہ ہوں گا يا اس کي شفاعت کروں گا?
36173
==========
حضرت انس بن مالک رضي اللہ عنہ سے روايت ہے کہ ميں نے نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے قيامت کے دن اپني شفاعت کي درخواست کي آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا ميں کروں گا ميں نے عرض کيا يا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ميں آپ کو کہاں تلاش کروں آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈنا ميں نے عرض کيا اگر ميں آپ کو پل صراط پر نہ پاؤں آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا پھر مجھے ميزان کے پاس تلاش کرنا ميں نے عرض کيا اگر وہاں بھي نہ ہوں تو آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے پھر حوض کوثر پر ديکھ لينا کيونکہ ميں ان تين جگہوں کے علاوہ کہيں نہيں جاؤں گا يہ حديث حسن غريب ہے ہم اسے صرف اسي سند سے جانتے ہيں
28265
----------
ميري شفاعت امت کے ان افراد کے لئے ہے جنہوں نے کبيرہ گناہ کئے
28267

روز قيامت ميري شفاعت ان لوگوں کيلئے ہوگي جو ميري امت ميں سے بہت نيک پرہيزگار ہيں يعني صلحاء اور اولياء کرام کي شفاعت ترقي کے درجات کيلئے ہوگي?
34237

اور تم سمجھتے ہو کہ ميري شفاعت صرف پرہيزگاروں کيلئے ہوگي نہيں وہ ان سب سے پہلے ہوگي جو گناہگار خطاکار اور قصوروار ہوں گے?
34238
51294
==========
حضرت عبداللہ بن شقيق رضي اللہ عنہ کہتے ہيں کہ ميں ايليا کے مقام پر ايک جماعت کے ساتھ تھا کہ ايک شخص نے رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا يہ قول بيان کيا آپ نے فرمايا ميري امت ميں سے ايک شخص کي شفاعت سے قبيلہ بنوتميم کے لوگوں کي تعداد سے بھي زيادہ لوگ جنت ميں داخل کئے جائيں گے عرض کيا گيا يا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم آپ کے علاوہ آپ نے فرمايا ہاں
28270

ميري امت ميں کوئي شخص ايسا بھي ہوگا جسکي شفاعت سے اتنے لوگ جنت ميں جائينگے کہ انکار شمار مضر کي قوم سے زيادہ ہوگا اور ميري امت ميں ايسا بھي ہوگا جو دوزخ کيلئے بڑا کيا جائيگا يہاں تک کہ وہ دوزخ کا ايک کونہ ہو جائيگا?
34251

67368
----------
حضرت عوف بن مالک اشجعي سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا ميرے رب کي طرف سے ايک آنے والا ميرے پاس آيا اور مجھے نصف امت جنت ميں داخل کرنے اور شفاعت کے درميان اختيار ديا تو ميں نے شفاعت کو اختيار کيا اور يہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اس حال ميں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسي کو شريک نہ ٹھہرايا
28273

 حضرت عمران بن حصين رضي اللہ تعالي? عنہ سے مروي ہے کہ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا يقينا ميري شفاعت سے ايک قوم دوزخ سے نکلے گي? وہ "جہنمي" کہلاتے ہوں گے?
28441
65154

حضرت عثمان بن عفان رضي اللہ تعالي? عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ جو عرب سے خيانت کرے گا وہ ميري شفاعت ميں داخل نہيں ہوگا اور اسے ميري محبت نصيب نہيں ہوگي?
29834
46587
===========
منکر:
ياد رکھو! تمہارے بعد کچھ لوگ آئيں گے جو رجم کي تکذيب کرتے ہوں گے، دجال، شفاعت اور عذاب قبر سے انکار کرتے ہوں گے اور اس قوم کے ہونے کو جھٹلائيں گے جنہيں جہنم ميں جل کر کوئلہ ہوجانے کے بعد نکال ليا جائے گا?46250
[مسند احمد:جلد اول:حديث نمبر 151 ، حضرت عمر فاروق عنہ کي مرويات]
===========
بلا-شفاعت الله تعالي? کا رحم و کرم:
يہ اللہ کي طرف سے آزاد کيے ہوئے لوگ ہيں
42784
تخريج الحديث:
http://www.islamweb.net/hadith/hadithServices.php?type=1&cid=3842&sid=720


مسند احمد:جلد نہم:حديث نمبر 2782, حضرت عبادہ بن صامت رضي اللہ عنہ کي مرويات
پھر ميرا پروردگار ميري بقيہ امت کو جہنم سے نکال کر جنت ميں داخل کر دے گا?
67811
http://www.islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=282&hid=677&pid=54307
السنة لابن أبي عاصم [الحكم: إسناد فيه متهم بالوضع وهو عبد الوهاب بن الضحاك السلمي]
67968

ترجمہ: ہر مذہب میں دیندار، فاسق اور کافر کے فرق کو بتایا گیا ہے۔ کافر کے لئے ہمیشہ کی جہنم اور سخت عذاب کو ثابت کیا ہے اور فاسق کے لئے ابنیاء کی شفاعت کے ذریعہ سے جہنم سے خلاصی کو صحیح بتایا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر مذہب میں دیندار کو اس مذہب کے ساتھ موسوم کیا گیا ہے۔ توریت میں یہودی کیلئے یہ مرتبہ ذکر کیا ہے اور انجیل میں نصرانی کو یہ مرتبہ دیا ہے جب کہ قرآن میں مسلمانوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے اور اس حکم کا دارومدار خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھنے اور اپنے میں مبعوث رسول کی تابعداری اور دین کے احکام کو پورا کرنے اور اس کے ممنوعات سے بچنے پر ہے نہ کہ کسی فرقہ و مذہب کی خصوصیت پر۔ پس یہودی خیال کرتے ہیں کہ جو کوئی یہودی ہے وہ یقینا جنتی ہے اور انبیاء کی شفاعت سے اس کو جہنم سے چھٹکارا مل جائے گا اگرچہ حکم کا مدار ثابت نہ ہو کہ خدا پر ایمان صحیح طور سے نہ ہو اور آخرت اور رسالت پر ایمان کا کچھ بھی حصہ حاصل نہ ہو۔ یہ تو محض خلط و جہالت ہے۔ چونکہ قرآن مجید کتب سابقہ کا نگران اور بیان ہے اس لئے یہود کے اس شبہ کو خوب وضاحت کے ساتھ یو ں دورفرمایا:
بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَةَ وَاَحَاطَتْ بِہِ خَطِیْئَتُہ ، فَاُولٰئِکَ اَصْحَابُ النّارِ ھُمْ فِیْھَا خَالِدُوْنَ
کیوں نہیں جس نے گناہ کمایا اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے سو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
حضرت شاہ ولی اللہ نے ایسی کوئی بات مسلمان کے بارے میں نہیں کہی جیسی کہ مولانا سندھی کہہ رہے ہیں اور مفتی عبدالقدیر صاحب جس کی تائید کر رہے ہیں کیونکہ شاہ صاحب جس بات کے قائل ہیں وہ وہ ہے جو خود شیخ الہند نے اپنے تفسیری حاشیہ میں لکھی ہے۔
''گناہ کسی کا احاطہ کر لیں اس کا یہ مطلب ہے کہ گناہ اس پر ایسا غلبہ کر لیں کہ کوئی جانب ایسی نہ ہو کہ گناہ کا غلبہ نہ ہو حتی کہ دل میں ایمان و تصدیق باقی ہو گی تو یہ مذکور احاطہ ثابت نہ ہو گا۔ تو اب کافر پر ہی یہ صورت صادق آ سکتی ہے''۔

No comments:

Post a Comment