Thursday, 12 September 2013

اللہ ان سے راضی اور وہ الله سے راضی...



القرآن:
ان کے پروردگار کے پاس ان کا انعام وہ سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ وہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش ہوگا اور وہ اس سے خوش ہوں گے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھتا ہوں۔
[سورۃ نمبر 98 البينة، آیت نمبر 8]


صالح مومنین، مخلوق میں سب سے بہتر ہیں:
یعنی جو لوگ سب رسولوں اور کتابوں پر یقین لائے اور بھلے کاموں میں لگے رہے وہی بہترین خلائق ہیں حتّٰی کہ ان میں کے بعض افراد بعض فرشتوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔
اللہ کی رضا جنّت سے بھی بڑی نعمت ہے:
یعنی جنّت کے باغوں اور نہروں سے بڑھ کر رضا مولٰی کی دولت ہے۔ بلکہ جنت کی تمام نعمتوں کی اصلی روح یہی ہے۔
یہ نعمت اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے ہے:
یعنی یہ مقام بلند ہر ایک کو نہیں ملتا۔ صرف ان بندوں کا حصّہ ہے جو اپنے رب کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں، اور اس کی نافرمانی کے پاس نہیں جاتے۔




نیک شخص سے سب نیک بندے ہی راضی رہیں گے، بدکار نہیں۔
القرآن:
اور جو لوگ الله اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر الله نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔
[سورۃ النساء،آیت نمبر 69]
القرآن:
اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، الله ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور الله نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
[سورۃ التوبة،آیت نمبر 100]



============




























وَالسّٰبِقونَ الأَوَّلونَ مِنَ المُهٰجِرينَ وَالأَنصارِ وَالَّذينَ اتَّبَعوهُم بِإِحسٰنٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَضوا عَنهُ وَأَعَدَّ لَهُم جَنّٰتٍ تَجرى تَحتَهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۚ ذٰلِكَ الفَوزُ العَظيمُ {9:100}
ترجمہ:
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔
[سورۃ التوبہ:100]

سابقین اولین کے فضائل:
"اعراب مومنین" کے بعد مناسب معلوم ہوا کہ زعماء و اعیان مومنین کا کچھ ذکر کیا جائے۔ یعنی جن مہاجرین نے ہجرت میں سبقت و اولیت کا شرف حاصل کیا اور جن انصار نے نصرت و اعانت میں پہل کی غرض جن لوگوں نے قبول حق اور خدمت اسلام میں جس قدر آگے بڑھ بڑھ کر حصے لئے پھر جو لوگ نیکوکاری اور حسن نیت سے ان پیش روان اسلام کی پیروی کرتے رہے ان سب کو درجہ بدرجہ خدا کی خوشنودی اور حقیقی کامیابی حاصل ہو چکی۔ جیسےانہوں نے پوری خوش دلی اور انشراح قلب کے ساتھ حق تعالیٰ کے احکام تشریعی اور قضاء تکوینی کے سامنے گردنیں جھکا دیں اسی طرح خدا نے ان کو اپنی رضاء و خوشنودی کا پروانہ دے کر غیر محدود انعام و اکرام سے سرفراز فرمایا۔ (تنبیہ) مفسرین سلف کے اقوال { اَلسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ } کے تعین میں مختلف ہیں بعض نے کہا ہے کہ وہ مہاجرین و انصار مراد ہیں جو ہجرت سے پہلے مشرف با سلام ہوئے۔ بعض کے نزدیک وہ مراد ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں (کعبہ و بیت المقدس) کی طرف نماز پڑھی۔بعض کہتے ہیں کہ جنگ بدر تک کے مسلمان "سابقین اولین" ہیں۔ بعض حدیبیہ تک اسلام لانے والوں کو اس کا مصداق قرار دیتے ہیں اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ تمام مہاجرین و انصار اطراف کے مسلمانوں اور پیچھے آنے والی نسلوں کے اعتبار سے "سابقین اولین" ہیں۔ ہمارے نزدیک ان اقوال میں چنداں تعارض نہیں "سبقت" و "اولیت" اضافی چیزیں ہیں۔ ایک ہی شخص یا جماعت کسی کے اعتبار سے سابق اور دوسرے کی نسبت سے لاحق بن سکتی ہے ۔ جیسا کہ ہم نے "فائدہ" میں اشارہ کیا۔ جو شخص یا جماعت جس درجہ میں سابق و اول ہو گی اسی قدر رضائے الہٰی اور حقیقی کامیابی سے حصہ پائے گی۔ کیونکہ سبقت و اولیت کی طرح رضاء و کامیابی کے بھی مدارج بہت سے ہو سکتے ہیں۔ واللہ اعلم۔


****************************

لا تَجِدُ قَومًا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ يُوادّونَ مَن حادَّ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَلَو كانوا ءاباءَهُم أَو أَبناءَهُم أَو إِخوٰنَهُم أَو عَشيرَتَهُم ۚ أُولٰئِكَ كَتَبَ فى قُلوبِهِمُ الإيمٰنَ وَأَيَّدَهُم بِروحٍ مِنهُ ۖ وَيُدخِلُهُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ رَضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَضوا عَنهُ ۚ أُولٰئِكَ حِزبُ اللَّهِ ۚ أَلا إِنَّ حِزبَ اللَّهِ هُمُ المُفلِحونَ {58:22}
ترجمہ:

جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔ خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے۔ (اور) سن رکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے۔
[سورۃ المجادلہ:22]



اللہ کا گروہ:
یعنی ایمان ان کے دلوں میں جما دیا اور پتھر کی لکیر کی طرح ثبت کردیا۔
یعنی غیبی نور عطا فرمادیا جس سے قلب کو ایک خاص قسم کی معنوی حیات ملتی ہے یا روح القدوس (جبریلؑ) سے ان کی مدد فرمائی۔
یعنی یہ لوگ اللہ کے واسطے سب سے ناراض ہوئے تو اللہ ان سے راضی ہوا۔ پھر جس سے اللہ راضی ہو اسے اور کیا چاہیئے۔
حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں۔ "یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹے ہوں وہ ہی سچے ایمان والے ہیں۔ ان کو یہ درجے ملتے ہیں"۔ صحابہؓ کی شان یہ ہی تھی کہ اللہ و رسول کے معاملہ میں کسی چیز اور کسی شخص کی پروا نہیں کی، اسی سلسلہ میں ابو عبیدہؓ نے اپنے باپ کو قتل کردیا۔ جنگ "احد" میں ابوبکر صدیقؓ اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے مقابلہ میں نکلنے کو تیار ہوگئے، مصعبؓ بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو، عمرؓ بن الخطاب نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو، علیؓ بن ابی طالب، حمزہ، عبیدۃ بن الحارث نے اپنے اقارب عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ نے جو مخلص مسلمان تھے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر آپ حکم دیں تو اپنے باپ کا سر کاٹ کر خدمت میں حاضر کروں۔ آپﷺ نے منع فرمادیا۔ فرضی اللہ تعالٰی عنہم ورضو اعنہ ورزقنا اللہ جہم واتباعہم واماتناعلیہ۔ آمین۔ تم سورۃ المجادلۃ فللّٰہ الحمد والمنہ۔







=============================
وَمِنَ النّاسِ مَن يَشرى نَفسَهُ ابتِغاءَ مَرضاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءوفٌ بِالعِبادِ {2:207}
ترجمہ:
اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے۔

پہلی آیت میں اس منافق کا ذکر تھا جو دین کے بدلے دنیا لیتا تھا اس کے مقابلے میں اب اس آیت میں اس مخلص کامل الایمان کا ذکر ہے جو دنیا اور جان و مال کو طلب دین میں صرف کرتا ہے ۔ کہتے ہیں حضرت صہیب رومیؓ با ارادہ ہجرت آپ ﷺ کی خدمت میں آتے تھے ۔ رستہ میں مشرکین نے ان کو گھیر لیا صہیبؓ نے کہا کہ میں اپنا گھر اور تمام مال تم کو اس شرط پر دیتا ہوں کہ مجھ کو مدینہ جانے دو اور ہجرت سے نہ روکو اس پر وہ راضی ہو گئے اور صہیبؓ آپ ﷺ کی خدمت میں چلے گئے اس پر یہ آیت مخلصین کی تعریف میں نازل ہوئی۔
اُس کی کتنی بڑی رحمت ہے کہ اپنے بندوں کو توفیق دی جو اس کی خوشی میں اپنی جان اور مال حاضر کر دیتے ہیں نیز ہر ایک کی جان و مال تو اللہ کی مِلک ہے پھر جنت کے بدلے اس کو خریدنا یہ محض اس کا احسان ہے۔




وَمَثَلُ الَّذينَ يُنفِقونَ أَموٰلَهُمُ ابتِغاءَ مَرضاتِ اللَّهِ وَتَثبيتًا مِن أَنفُسِهِم كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبوَةٍ أَصابَها وابِلٌ فَـٔاتَت أُكُلَها ضِعفَينِ فَإِن لَم يُصِبها وابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ {2:265}
ترجمہ:
اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو(جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
زور کے مینہ سے مراد بہت مال خرچ کرنا اور پھوار سے مراد تھوڑا مال خرچ کرنا اور دلوں کو ثابت کرنے سے مراد یہ ہے کہ ثابت کریں دلوں کو ثواب پانے میں یعنی ان کو یقین ہے کہ خیرات کا ثواب ضرور ملے گا سو اگر نیت درست ہے تو بہت خرچ کرنے میں بہت ثواب ملے گا اور تھوڑی خیرات میں بھی فائدہ ہوگا جیسے خالص زمیں پر باغ ہے تو جتنا مینہ برسے گا اتنا ہی باغ کو فائدہ پہنچے گا اور نیت درست نہیں تو جس قدر زیادہ خرچ کرے اتنا ہی مال ضائع ہو گا اور نقصان پہنچے گا کیونکہ زیادہ مال دینے میں ریا اور دکھاوا بھی زیادہ ہو گا ۔ جیسا پتھر پر دانہ اگے گا تو جتنا زور کا مینہ برسے گا اتنا ہی ضرر زیادہ ہو گا۔


قُل أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيرٍ مِن ذٰلِكُم ۚ لِلَّذينَ اتَّقَوا عِندَ رَبِّهِم جَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها وَأَزوٰجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضوٰنٌ مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِالعِبادِ {3:15}
ترجمہ:
(اے پیغمبر ان سے) کہو کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لیے خدا کے ہاں باغات (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے



أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضوٰنَ اللَّهِ كَمَن باءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأوىٰهُ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئسَ المَصيرُ {3:162}
ترجمہ:
بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح(مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے
یعنی جو پیغمبر ہر حال میں خدا کی مرضی کا تابع بلکہ دوسروں کو بھی اس کی مرضی کا تابع بنانا چاہتا ہے، کیا ان لوگوں کے ایسے کام کر سکتا ہے جو خدا کے غضب کے نیچے اور دوزخ کے مستحق ہیں؟ ممکن نہیں۔



لا خَيرَ فى كَثيرٍ مِن نَجوىٰهُم إِلّا مَن أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَو مَعروفٍ أَو إِصلٰحٍ بَينَ النّاسِ ۚ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ ابتِغاءَ مَرضاتِ اللَّهِ فَسَوفَ نُؤتيهِ أَجرًا عَظيمًا {4:114}
ترجمہ:
ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے
منافق اور حیلہ گر آ کر آپ سے کان میں باتیں کرتے تاکہ لوگوں میں اپنا اعتبار بڑھائیں اور مجلس میں بیٹھ کر آپس میں بیہودہ سرگوشی کیا کرتے کسی کی عیب جوئی کسی کی غیبت کسی کی شکایت کرتے اس پر ارشاد ہوا کہ جو لوگ باہم کانوں میں مشورت کرتے ہیں اکثر مشورے خیر سے خالی ہوتے ہیں صاف اور سچی بات کو چھپانے کی حاجت نہیں نہ اُس میں کوئی فریب ہوتا ہے البتہ چھپاوے تو صدقہ اور خیرات کی بات کو چھپائے تاکہ لینے والا شرمندہ نہ ہو یا کسی ناواقف کو غلطی سے بچائے اور اس کو اچھی بات اور صحیح مسئلہ بتائے تو چھپا کر بتائے تاکہ اس کو ندامت نہ ہو یا دو میں لڑائی ہو اور غصہ والا جوش میں صلح نہیں کرتا تو اول کوئی تدبیر بنا کر پھر اس کو سمجھائے حتٰی کہ توریہ کی بھی اجازت ہے۔ آخر میں فرما دیا کہ جو کوئی امور مذکورہ کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے کرے گا اس کو بڑا عظیم الشان ثواب عنایت ہو گا یعنی ریاکاری یا کسی اور غرض دنیاوی کے لئے نہ ہونا چاہئے۔



يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تُحِلّوا شَعٰئِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهرَ الحَرامَ وَلَا الهَدىَ وَلَا القَلٰئِدَ وَلا ءامّينَ البَيتَ الحَرامَ يَبتَغونَ فَضلًا مِن رَبِّهِم وَرِضوٰنًا ۚ وَإِذا حَلَلتُم فَاصطادوا ۚ وَلا يَجرِمَنَّكُم شَنَـٔانُ قَومٍ أَن صَدّوكُم عَنِ المَسجِدِ الحَرامِ أَن تَعتَدوا ۘ وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقوىٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدوٰنِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ {5:2}
ترجمہ:
مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کر دیئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت الله) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے



حُرِّمَت عَلَيكُمُ المَيتَةُ وَالدَّمُ وَلَحمُ الخِنزيرِ وَما أُهِلَّ لِغَيرِ اللَّهِ بِهِ وَالمُنخَنِقَةُ وَالمَوقوذَةُ وَالمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطيحَةُ وَما أَكَلَ السَّبُعُ إِلّا ما ذَكَّيتُم وَما ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَستَقسِموا بِالأَزلٰمِ ۚ ذٰلِكُم فِسقٌ ۗ اليَومَ يَئِسَ الَّذينَ كَفَروا مِن دينِكُم فَلا تَخشَوهُم وَاخشَونِ ۚ اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَضيتُ لَكُمُ الإِسلٰمَ دينًا ۚ فَمَنِ اضطُرَّ فى مَخمَصَةٍ غَيرَ مُتَجانِفٍ لِإِثمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ {5:3}
ترجمہ:
تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے



يَهدى بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضوٰنَهُ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخرِجُهُم مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ بِإِذنِهِ وَيَهديهِم إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ {5:16}
ترجمہ:
جس (قرآن) سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے






وَعَدَ اللَّهُ المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فى جَنّٰتِ عَدنٍ ۚ وَرِضوٰنٌ مِنَ اللَّهِ أَكبَرُ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ {9:72}
ترجمہ:
خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے

یعنی تمام نعمائے دنیوی و اخروی سے بڑھ کر حق تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہے۔ جنت بھی اسی لئے مطلوب ہے کہ وہ رضائے الہٰی کا مقام ہے۔ حق تعالیٰ مومنین کو جنت میں ہر قسم کی جسمانی و روحانی نعمتیں اور مسرتیں عطا فرمائے گا۔ مگر سب سے بڑی نعمت محبوب حقیقی کی دائمی رضا ہو گی۔ حدیث صحیح میں ہے کہ حق تعالیٰ اہل جنت کو پکارے گا جنتی "لبیک" کہیں گے۔ دریافت فرمائے گا { ھَلْ رَضِیْتُمْ } یعنی اب تم خوش ہو گئے ۔ جواب دیں گے کہ پروردگار ! خوش نہ ہونے کی کیا وجہ؟ جبکہ آپ نے ہم پر انتہائی انعام فرمایا ہے ۔ ارشاد ہو گا { ھَلْ اُعْطِیْکُمْ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ } یعنی جو کچھ اب تک دیا گیا ہے کیا اس سے بڑھ کر ایک چیز لینا چاہتے ہو؟ جنتی سوال کریں گے کہ اے پروردگار ! اس سے افضل اور کیا چیز ہو گی؟ اس وقت فرمائیں گے { اُحِلَّ عَلَیْکُمْ رِضْوَانِی فَلَا اَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہٗ اَبَدًا } اپنی دائمی رضا اور خوشنودی تم پر اتارتا ہوں جس کے بعد کبھی خفگی اور ناخوشی نہ ہو گی { رزقنا اللہ وسائر المومنین ھذہ الکرامۃ العظیمۃ الباھیرۃ }۔





وَكانَ يَأمُرُ أَهلَهُ بِالصَّلوٰةِ وَالزَّكوٰةِ وَكانَ عِندَ رَبِّهِ مَرضِيًّا {19:55}
ترجمہ:
اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے۔
کیونکہ گھر والے قریب ہونے کی وجہ سے ہدایت کے اول مستحق ہیں۔ ان سے آگے کو سلسلہ چلتا ہے۔ اسی لئے دوسری جگہ فرمایا { وَأمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا } (طٰہ رکوع۸) اور { یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓ اَنْفُسَکُمْ وَ اَھْلِیْکُمْ نَارًا } (تحریم رکوع۱) خود نبی کریم ﷺ کو بھی یہ ہی ارشاد ہوا۔ { وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَ قْرَبِیْنَ} (شعراء رکوع۱۱) بعض کہتے ہیں کہ یہاں "اہل" سے ان کی ساری قوم مراد ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعودؓ کے مصحف میں "اَہْلَہ" کی جگہ "قومَہٗ" تھا ۔ واللہ اعلم۔
یعنی دوسروں کو ہدایت کرنا اور خود اپنے اقوال و افعال میں پسندیدہ مستقیم الحال اور مرضی الخصال تھا۔

قالَ هُم أُولاءِ عَلىٰ أَثَرى وَعَجِلتُ إِلَيكَ رَبِّ لِتَرضىٰ {20:84}
ترجمہ:
کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو
حضرت موسٰیؑ حسب وعدہ نہایت اشتیاق کے ساتھ کوہ طور پہنچے۔ شاید قوم کے بعض نقباء کو بھی ہمراہ لیجانے کا حکم ہو گا۔ وہ ذرا پیچھے رہ گئے۔ حضرت موسٰیؑ شوق میں آگے بڑھے چلے گئے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا موسٰیؑ! ایسی جلدی کیوں کی کہ قوم کو پیچھے چھوڑ آئے ۔ عرض کیا کہ اے پروردگار ! تیری خوشنودی کے لئے جلد حاضر ہو گیا اور قوم بھی کچھ زیادہ دور نہیں یہ میرے پیچھے چلی آ رہی ہے ۔ کذا فی التفاسیر ویحتمل غیر ذٰلک واللہ اعلم۔


إِن تَكفُروا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ عَنكُم ۖ وَلا يَرضىٰ لِعِبادِهِ الكُفرَ ۖ وَإِن تَشكُروا يَرضَهُ لَكُم ۗ وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزرَ أُخرىٰ ۗ ثُمَّ إِلىٰ رَبِّكُم مَرجِعُكُم فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ ۚ إِنَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ {39:7}
ترجمہ:
اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےپروا ہے۔ اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرے گا۔ اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا۔ وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے



لَقَد رَضِىَ اللَّهُ عَنِ المُؤمِنينَ إِذ يُبايِعونَكَ تَحتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ ما فى قُلوبِهِم فَأَنزَلَ السَّكينَةَ عَلَيهِم وَأَثٰبَهُم فَتحًا قَريبًا {48:18}
ترجمہ:
(اے پیغمبر) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا۔ اور جو (صدق وخلوص) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا۔ تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی
وہ کیکر کا درخت تھا حُدیبیہ میں۔ غالبًا { لَقَدْ رَضِی اللہُ } فرمانے کی وجہ سے اسی بیعت کو "بیعت الرضوان" کہتے ہیں۔ شروع سورت میں اس کا مفصل قصہ گذر چکا۔
یعنی ظاہر کا اندیشہ اور دل کا توکل، حسن نیت، صدق و اخلاص اور حُب اسلام وغیرہ۔ عمومًا مفسرین نے { مَافِیْ قُلُوْبِھِمْ } سے یہ ہی مراد لیا ہے۔ مگر ابو حیان کہتے ہیں کہ صلح اور شرائط صلح کی طرف سے دلوں میں جو رنج و اضطراب تھا وہ مراد ہے اور آگے { فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْھِمْ } اس پر زیادہ چسپاں ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔


مُحَمَّدٌ رَسولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذينَ مَعَهُ أَشِدّاءُ عَلَى الكُفّارِ رُحَماءُ بَينَهُم ۖ تَرىٰهُم رُكَّعًا سُجَّدًا يَبتَغونَ فَضلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضوٰنًا ۖ سيماهُم فى وُجوهِهِم مِن أَثَرِ السُّجودِ ۚ ذٰلِكَ مَثَلُهُم فِى التَّورىٰةِ ۚ وَمَثَلُهُم فِى الإِنجيلِ كَزَرعٍ أَخرَجَ شَطـَٔهُ فَـٔازَرَهُ فَاستَغلَظَ فَاستَوىٰ عَلىٰ سوقِهِ يُعجِبُ الزُّرّاعَ لِيَغيظَ بِهِمُ الكُفّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنهُم مَغفِرَةً وَأَجرًا عَظيمًا {48:29}
ترجمہ:
محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے





لِلفُقَراءِ المُهٰجِرينَ الَّذينَ أُخرِجوا مِن دِيٰرِهِم وَأَموٰلِهِم يَبتَغونَ فَضلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضوٰنًا وَيَنصُرونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ ۚ أُولٰئِكَ هُمُ الصّٰدِقونَ {59:8}
ترجمہ:
(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کر دیئے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں
یعنی یوں تو اس مال سے عام مسلمانوں کی ضروریات و حوائج متعلق ہیں لیکن خصوصی طور پر ان ایثار پیشہ جاں نثاروں اور سچے مسلمانوں کا حق مقدم ہے جنہوں نے محض اللہ کی خوشنودی اور رسول کی محبت و اطاعت میں اپنے گھر بار اور مال و دولت سب کو خیر باد کہا اور بالکل خالی ہاتھ ہو کر وطن سے نکل آئے تا اللہ و رسول کے کاموں میں آزادا نہ مدد کرسکیں۔

===========================================================
يَحلِفونَ بِاللَّهِ لَكُم لِيُرضوكُم وَاللَّهُ وَرَسولُهُ أَحَقُّ أَن يُرضوهُ إِن كانوا مُؤمِنينَ {9:62}
ترجمہ:
مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں
حضرت شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ "کسی وقت حضرت ان کی دغابازی پکڑتے تو مسلمانوں کے روبرو قسمیں کھاتےکہ ہمارے دل میں بری نیت نہ تھی ۔ تاکہ ان کو راضی کر کے اپنی طرف کر لیں۔ نہ سمجھے کہ یہ فریب بازی خدا اور رسول کے ساتھ کام نہیں آتی" اگر دعوئے ایمان میں واقعی سچے ہیں تو دوسروں کو چھوڑ کر خدا و رسول کو راضی کرنے کی فکر کریں۔

يَحلِفونَ لَكُم لِتَرضَوا عَنهُم ۖ فَإِن تَرضَوا عَنهُم فَإِنَّ اللَّهَ لا يَرضىٰ عَنِ القَومِ الفٰسِقينَ {9:96}
ترجمہ:
یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہو جاؤ لیکن اگر تم اُن سے خوش ہو جاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا
بڑی کوشش یہ ہے کہ مکروفریب اور کذب و دروغ سے مسلمانوں کو خوش کر لیں فرض کیجئے اگر چکنی چپڑی باتوں سے مخلوق راضی ہو جائے تو کیا نفع پہنچ سکتا ہے جبکہ خدا ان سے راضی نہ ہو ۔ خدا کے آگے تو کوئی چالاکی اور دغابازی نہیں چل سکتی۔ گویا متنبہ فرما دیا کہ جس قوم سے خدا راضی نہ ہو کوئی مومن قانت کیسے راضی ہو سکتا ہے۔ لہذا جھوٹی باتوں سے پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کو خوش کر لینے کا خبط انہیں دماغوں سے نکال دینا چاہئے اگر ان کے ساتھ تغافل و اعراض کا معاملہ کیا گیا ہے تو یہ اس کی دلیل نہیں کہ مسلمان ان سے خوش اور مطمئن ہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "جس شخص کا حال معلوم ہو کہ منافق ہے اس کی طرف سے تغافل روا ہے ۔ لیکن دوستی اور محبت و یگانگت روا نہیں"۔


اللہ سے راضی ہونے کی اہمیت:
(1)حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
«مَنْ لَمْ يَرْضَ بِقَضَاءِ اللَّهِ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِقَدَرِ اللَّهِ فَلْيَلْتَمِسْ  إِلَهًا غَيْرَ اللَّهِ»
ترجمہ:
جو شخص اللہ کے فیصلہ قضا الٰہی پر راضی نہ ہو اور تقدیر الہٰی پر ایمان نہ لایا، وہ اللہ کے سوا کوئی اور خدا تلاش کرلے۔
[المعجم الأوسط-للطبراني:7273-8370، المعجم الصغير-للطبراني:902، کنزالعمال:486-619، مجمع الزوائد:11891، الخطيب(2/227) . جامع الاحادیث-للسیوطی:23849]
واسناده حسن
[التیسیر بشرح الجامع الصغیر-للمناوی:2/443]




حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
قال الله تعالى: من لم يرض بقضائي وقدري فليلتمس ربا غيري"۔
ترجمہ:
اللہ فرماتے ہیں: جو بندہ میری قضا اور تقدیر پر راضی نہیں۔۔ اسے چاہیے کہ میرے سوا اپنا کوئی اور رب تلاش کرے۔
[شعب الايمان-للبيهقي:200، جامع الأحاديث-للسيوطي :15012،کنزالعمال:482]
تشریح:
(جس نے اللہ کے فیصلے پر راضی نہ ہوا اور اللہ کی تقدیر پر ایمان نہ لایا،تو وہ اللہ کے سوا کوئی معبود ڈھونڈ لے۔) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، لہٰذا بندے پر واجب ہے کہ اللہ کے فیصلے اور اس کی تقدیر پر راضی رہے۔ البتہ فیصلے (قضاء) پر راضی ہونا، ضروری نہیں کہ اس چیز (مقضي) پر راضی ہونا بھی واجب کرے جس کا فیصلہ ہوا ہے (یعنی برائی کے فعل کو برا ہی سمجھے، لیکن اس کے وقوع پر جو اللہ کا فیصلہ ہے اس پر راضی رہے)۔

(الطبرانی نے "الأوسط" میں، عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ) ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا: اس میں سہل بن ابی حزم راوی ہے، امام ابن معین رحمہ اللہ نے انہیں ثقہ کہا ہے جبکہ ایک جماعت نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے، باقی راوی ثقہ ہیں۔

[فیض القدیر للمناوی: 9027]
(اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "جس نے میرے فیصلے اور میرے تقدیر پر راضی نہ ہوا، تو وہ میرے علاوہ کوئی اور رب تلاش کر لے۔") یعنی اللہ کے سوا کوئی رب نہیں، لہٰذا بندے پر واجب ہے کہ اس کے فیصلے پر راضی رہے، اس کے بارے میں اچھا گمان رکھے اور اس پر شکر گزار رہے۔ کیونکہ اس کی حکمت وسیع ہے اور وہ بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے۔ کل قیامت کے دن بندے آزمائشوں پر اس کا شکر ادا کریں گے جب وہ آزمائش کا ثواب دیکھیں گے، جیسے بالغ ہونے کے بعد بچہ اپنے معلم کا اس کی مار اور تادیب پر شکر گزار ہوتا ہے۔ اور آزمائش اللہ کی طرف سے ایک تادیب ہے، اور اس کی اپنے بندوں کی خبرگیری باپوں کی اپنے بیٹوں کی خبرگیری سے کہیں زیادہ کامل اور بہتر ہے۔ منقول ہے کہ ایک نبی نے اپنے رب کے حضور دس سال تک بھوک اور جوؤں کا شکوہ کیا۔ تو اللہ کی طرف وحی آئی: "کتنا شکوہ کرتا ہے؟ آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے سے پہلے میری بارگاہ میں تیری ابتدا اسی طرح تھی۔ میں نے دنیا کی تخلیق سے پہلے ہی یہی تیرے مقدر میں لکھ دیا تھا۔ کیا تو چاہتا ہے کہ میں دنیا کی تخلیق کو تیرے لیے بدل دوں؟ یا میں تیرے مقدر میں تبدیلی کر دوں تاکہ جو تو چاہے وہ اس پر غالب آ جائے جو میں چاہتا ہوں؟ میرے عزت و جلال کی قسم! اگر تیرے سینے میں یہ بات ایک بار پھر ہلکی سی بھی کروٹ لے گی تو میں تجھے انبیاء کے دفتر (یعنی فہرست) سے مٹا دوں گا۔"

(الطبرانی نے "مجمع الاوسط" میں، عن انس رضی اللہ عنہ)

[فیض القدیر للمناوی: 6010]



(2)حضرت ابوھند الداری سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ...﴿اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا﴾:
«مَنْ لَمْ يَرْضَ بِقَضَائِي ولم يَصْبِرْ عَلَى بَلَائِي فَلْيَلْتَمِسْ  رَبًّا سِوَايَ
ترجمہ:
جو بندہ میرے قضا پر راضی نہیں اور میری نازل کردہ بلا پر اسے صبر نہیں، تو اسے چاہیے کہ میرے سوا اپنا کوئی اور رب تلاش کرے۔
[المعجم الكبير-للطبراني:807، جامع الأحاديث-للسيوطي:15013، مجمع الزوائد:11892، کنزالعمال:483]
تشریح:
گویا اللہ یہ فرما رہے ہیں: یہ ہمیں رب کے طور پر ناپسند کرتا ہے جب وہ ناراض ہوتا ہے، پس وہ کوئی دوسرا رب بنا لے جو اسے پسند ہو، اور یہ سخت وعید ہے۔ (طبقات سے ابو ہند داري کے حوالے سے) // اور اس کی سند ضعیف ہے //
[التیسیر بشرح الجامع الصغیر للمناوی: 2/182]
تشریح:
(اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "جس نے میرے فیصلے پر راضی نہ ہوا اور میری آزمائش پر صبر نہ کیا، تو وہ میرے سوا کوئی اور رب ڈھونڈ لے۔") امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ "یہ (بندہ) ہمیں رب ماننے پر راضی نہیں، بلکہ ناراض ہے، لہٰذا وہ کوئی دوسرا رب بنا لے جو اسے راضی کر دے۔" اور یہ اس شخص کے لیے انتہائی سخت وعید اور دھمکی ہے جو عقل رکھتا ہے اور جو سچا ہے۔ اور اس شخص نے بالکل سچ کہا جس سے پوچھا گیا: "عبودیت اور ربوبیت کیا ہے؟" تو اس نے کہا: "رب فیصلہ کرتا ہے اور بندہ صبر کرتا ہے۔" ناراضگی میں تو صرف حال میں رنج و پریشانی ہے اور انجام میں گناہ اور عذاب بغیر کسی فائدے کے، کیونکہ فیصلہ تو نافذ ہو کر رہتا ہے۔ لہٰذا گھبراہٹ اور بے چینی سے وہ ٹل نہیں جاتا، جیسا کہ کہا گیا ہے:
اے نفس! جو کچھ مقدر ہو چکا ہے، اس پر صبر کر۔۔۔ اور جو مقدر نہیں ہوا، اس سے تو محفوظ ہے۔ اور یقین کر کہ جو مقدر ہو چکا وہ ہو کر رہے گا۔۔۔ خواہ تو صبر کرے یا نہ کرے۔
پس جو شخص تقدیر کے فیصلے کو تسلیم کرنا چھوڑ دے،وہ اپنے اوپر دوہرا نقصان جمع کر لیتا ہے: ایک تو جو مصیبت پہنچی ہے اس کا غم، اور دوسرا صبر کرنے والوں کا ثواب گنوا بیٹھتا ہے۔ یہ صریح خسارہ ہے۔ اور جو شخص ناپسندیدہ فیصلے پر راضی ہو جاتا ہے، وہ مصیبت میں (ثواب کے باعث) لذت محسوس کرتا ہے اور صبر کرنے والوں کا ثواب پاتا ہے۔ اور جو اپنے آپ میں عجز جانتا ہو، اسے چاہیے کہ اللہ کی پناہ مانگے کہ اس پر وہ بوجھ نہ ڈالے جسے اٹھانے کی اس میں طاقت نہیں، اور یوں کہے جیسا اس نے سکھایا ہے: "اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔" اور عافیت مانگے اور اللہ سے اس کے فیصلے پر مدد طلب کرے، "پس وہ کتنا اچھا کارساز اور کتنا اچھا مددگار ہے۔"
اگر پوچھا جائے:برائی اور گناہ بھی تو اللہ ہی کے تقدیر سے ہوتے ہیں، پھر بندہ اس پر کیسے راضی ہو سکتا ہے؟ ہم کہیں گے: رضا تو فیصلے (قضاء) پر واجب ہے، اور برائی کا فیصلہ (یعنی وہ مقدر ہونا) برائی نہیں ہے بلکہ برائی تو وہ چیز ہے جس کا فیصلہ ہوا ہے۔ انہوں (علماء) نے کہا ہے: مقدر چیزیں چار ہیں: نعمت، سختی، بھلائی اور برائی۔ نعمت پر اس کے دینے والے (القاضی)، اس کے دینے کے عمل (القضاء) اور دی جانے والی چیز (المقضي) پر راضی ہونا واجب ہے اور اس پر شکر کرنا واجب ہے۔ سختی پر صبر کرنا واجب ہے۔ بھلائی پر اس کے دینے والے (القاضی) اور دی جانے والی چیز (المقضي) پر راضی ہونا واجب ہے اور اس پر اس منّت کو یاد کرنا واجب ہے کہ اس نے اس کی توفیق دی۔ برائی پر اس کے دینے والے (القاضی)، اس کے دینے کے عمل (القضاء) اور دی جانے والی چیز (المقضي) پر اس لحاظ سے راضی ہونا واجب ہے کہ وہ مقدر ہے، نہ کہ اس لحاظ سے کہ وہ برائی ہے۔ "شرح العوارف" میں ہے: اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں سب سے پہلے یہ لکھا: "بیشک میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ جس نے میرے فیصلے پر راضی نہ ہوا، میری نعمتوں پر شکر نہ کیا اور میری آزمائش پر صبر نہ کیا، تو وہ میرے سوا کوئی رب تلاش کر لے۔"

(الطبرانی نے "الأوسط" میں روایت کیا ہے) اور اسی طرح الدیلمی نے (ابو ہند الداری رضی اللہ عنہ سے، جو بنو الدار بن ہانئ سے نسب رکھتے ہیں، ان کا نام یزید بن عبداللہ بن رزین ہے، صحابی ہیں، فلسطین میں سکونت اختیار کی اور بیت جبرین میں وفات پائی، وہ تمیم الداری رضی اللہ عنہ کے ماں کی طرف سے بھائی ہیں)۔ حافظ عراقی رحمہ اللہ نے کہا: اس کی سند انتہائی کمزور ہے۔ ان کے شاگرد ہیثمی رحمہ اللہ نے واضح کیا: اس میں سعید بن زیاد راوی ہے، امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا: متروک (چھوڑ دیا گیا) ہے۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے "لسان المیزان" میں سعید بن زیاد کے ترجمہ میں اس کی حدیث (ہند کے حوالے سے) ذکر کی ہے اور ازدی رحمہ اللہ نے کہا: متروک ہے۔ ابن حبان رحمہ اللہ نے یہ حدیث ان سے نقل کی ہے اور کہا ہے: مجھے معلوم نہیں کہ یہ بیٹے کی روایت ہے یا باپ کی یا دادا کی۔

[فیض القدیر للمناوی: 6009]



(3)حَدَّثَنَا ابْنُ عُبَيْدٍ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَهْوَازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُكَّاشَةَ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، فليلتمس رَبًّا غَيْرِي" 
ترجمہ:
ہمیں ابن عبید العجلی نے بیان کیا، کہا: ہمیں سعید بن عثمان الاہوازی نے بیان کیا، کہا: ہمیں محمد بن عکاشہ الکرمانی نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبد الرزاق نے خبر دی، کہا: ہمیں معمر نے بیان کیا، کہا: ہمیں زہری نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابن عباس نے بیان کیا، کہا: ہمیں علی بن ابی طالب نے بیان کیا، کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا، آپ نے فرمایا: "جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اللہ عزوجل نے فرمایا: جس نے مجھ پر ایمان رکھا لیکن تقدیر کے اچھے اور برے (پر ایمان) نہیں رکھتا، تو وہ میرے سوا کسی اور کو اپنا رب ڈھونڈ لے۔"

[الإبانة الكبرى لابن بطة: 1464، جامع الاحادیث-للسیوطی:15064]








(4)محمد بن عکاشہ کرمانی سے روایت ہے، کہا: ہمیں خدا کی قسم! عبد الرزاق نے خبر دی، کہا: ہمیں خدا کی قسم! سلمہ نے خبر دی، کہا: ہمیں خدا کی قسم! عبداللہ بن کعب نے خبر دی، کہا: ہمیں خدا کی قسم! عبداللہ بن عباس نے خبر دی، کہا: ہمیں خدا کی قسم! علی بن ابی طالب نے خبر دی، کہا: ہمیں خدا کی قسم! ابو بکر صدیق نے خبر دی، کہا: میں نے خدا کی قسم! اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: میں نے خدا کی قسم! جبرائیل سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے خدا کی قسم! میکائیل سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے خدا کی قسم! اسرافیل سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے خدا کی قسم! الرقيع سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے خدا کی قسم! لوح محفوظ سے سنا، اس نے کہا: میں نے خدا کی قسم! قلم سے سنا، اس نے کہا: میں نے خدا کی قسم! رب کو فرماتے سنا کہ:
أنا الله لا إله إلا أنا فمن آمن بى ولم يؤمن بالقدر خيره وشره فليلتمس ربا غيرى فلست له برب
ترجمہ:
بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس جس نے مجھ پر ایمان رکھا لیکن تقدیر کے اچھے اور برے پر ایمان نہیں رکھتا، تو وہ میرے سوا کوئی اور رب ڈھونڈ لے، میں اس کا رب نہیں ہوں۔

(حافظ ابو الحسین علی بن المفضل مقدسی نے اپنی مسلسلات میں روایت کیا ہے، اور محمد بن عکاشہ کذاب (جھوٹا) ہے، اور اسے ابو القاسم محمد بن عبد الواحد غافقی نے اپنی جزء "ما اجتمع فی سنده اربعة من الصحابة" میں روایت کیا ہے، اور اس کے بعد کہا: محدث ابو القاسم ابن بشکوال نے کہا: یہ شریف حدیث ہے جس کی سند میں چار صحابہ جمع ہیں اور وہ ابو بکر، علی، ابن عباس ہیں، اور عبداللہ بن کعب بن مالک کی صحبت (یعنی صحابی ہونے) میں اختلاف ہے اور ہمارے نزدیک وہ صحیح ہے، پس وہ چار صحابہ میں سے چوتھے ہیں جنہیں سند میں ترتیب دیا گیا ہے، اور یہ نایاب ہے۔ ختم شد)

[جامع الاحادیث للسیوطی: 27653، کنز العمال 1539]

[کنزالعمال:1539، عن الحافظ أبو الحسين علي بن الفضل المقدسي في مسلسلاته]

اللہ کے راضی ہونے کی دلیل»اللہ سے راضی رہنا
القرآن:
...راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ(صحابہ)راضی ہوئے اس سے...
[سورۃ المائدہ:19 التوبہ:100 المجادلہ:22 البینہ:8]


مصیبت پر صبر کرنا۔

اللہ کے راضی ہونے کی دلیل»اللہ سے راضی رہنا
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ترجمہ:
جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلد سزا دے دیتا ہے، اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر (برائی) کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دیتا ہے۔
[الترمذي:2396،ابن ماجة:4031]

تشریح:
علامہ سندھی تشریح فرماتے ہیں کہ:
"آپ ﷺ کے فرمان: 'پس جو راضی رہے اس کے لیے رضا ہے' کا مطلب ہے: اس پر اللہ تعالیٰ کی رضا اس کے راضی رہنے کے بدلے میں۔ یا پھر مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے اس کے راضی رہنے کا اجر (یعنی جنت) ہے۔ اور اسی طرح ان کے قول 'اس کے لیے ناراضی ہے' کا بھی یہی مفہوم ہے۔ پھر ظاہر یہ ہے کہ یہ تمام آزمائش میں ڈالے گئے لوگوں کے مطلقاً تفصیل ہے، نہ کہ صرف ان کی جن سے اللہ محبت کرتا ہے پھر انہیں آزماتا ہے، کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں راضی رہنے کی توفیق دیتا ہے، پس ان میں سے کوئی ناراض نہیں ہوتا۔"
[حاشية السندي على سنن ابن ماجة:4031]

علامہ مناوی تشریح لکھتے ہیں کہ:
"(جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے) ایک روایت میں 'بھلائی' کے الفاظ ہیں (تو وہ اس کی) تیز تشدید کے ساتھ (یعنی جلدی کرتا ہے) دنیا ہی میں اس کی سزا دے دیتا ہے) تاکہ وہ اس (سزا) سے پاک ہو کر نکل جائے اور اس پر کوئی گناہ باقی نہ رہے۔ اور جس کے ساتھ اللہ یہ معاملہ فرماتا ہے، درحقیقت اس پر اپنی بڑی مہربانی اور احسان فرماتا ہے۔ (اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے) ایک روایت میں 'برائی' کے الفاظ ہیں (تو وہ اس کے گناہ کی وجہ سے اس (سزا) کو روک لیتا ہے) یعنی دنیا میں اس کے گناہ کی پاداش میں ملنے والی سزا کو مؤخر کر دیتا ہے۔ (یہاں تک کہ وہ اسے قیامت کے دن (اسی حالت میں) لے آتا ہے) یعنی اس کے گناہ کا بدلہ نہیں دیتا یہاں تک کہ وہ آخرت میں پورے گناہوں کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، پورے وافر، تو اسے وہ سارا عذاب ملتا ہے جو اس کے مستحق ہوتا ہے۔ اور اس حدیث کا ایک تتمہ بھی ہے اور وہ یہ کہ: بے شک بڑے اجر کے لیے بڑی آزمائش ہوتی ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو انہیں آزمائش میں ڈالتا ہے۔ پس جو راضی رہے اس کے لیے (اللہ کی) رضا ہے اور جو ناراض ہو اس کے لیے (اللہ کی) ناراضی ہے۔"
[التیسیر بشرح الجامع الصغیر-للمناوی:1/64]



تشریح:

(2)اللہ کے راضی ہونے کی دلیل»خشوع
القرآن:
۔۔۔یہ(جنت اور رضائے الٰہی) اس کیلئے ہے جو دل میں ڈر رکھتا ہوں اپنے رب کا۔
[سورۃ البینہ:8]
...اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں...
[سورۃ فاطر:28]


خشوع(ڈرنے-جھکنے)والے کون؟

(1)جن پر نماز بھاری نہیں۔
[دلیلِ قرآن، سورۃ البقرۃ:45]الاسراء:109

(2)جو مساجد آباد کرتے ہیں۔
[التوبۃ:18]

(3)جو پیغامِ الٰہی پہنچاتے رہتے ہیں
[الاحزاب:39]

(4)جو ملاتے(جوڑتے جڑواتے) ہیں (رشتہ ناتے) جسے ملانے کا حکم الله نے دیا۔
[الرعد:21]

(5)جنہیں(نافرمان)لوگوں سے ڈرایا جائے تو(ان سے ڈرنے کے بجائے)ان کا ایمان زیادہ ہوجاتا ہے،اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الله ہی کافی ہے اور عمدہ کام بنانے والا ہے۔
[آل عمران:173]

(6)جو"لڑتے"ہیں ایسے لوگوں سے جو اپنی قسموں(معاہدوں) کو توڑتے، اور رسول(اور اسکی تعلیم) کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کرتے ہیں، اور وہی ہیں جنہوں نے تمہارے خلاف (چھیڑ چھاڑ کرنے میں) پہل کی  
[التوبۃ:13]

(7)جن کے بال کھڑے ہوتے ہیں رب کے ڈر سے، پھر نرم ہوتی ہیں ان کی کھالیں، اور(پھر)ان کے دل الله کی یاد کی طرف(رجوع ہوتے ہیں)۔
[الزمر:39(ق:33)]

(8)جلدی کرتے ہیں خیر کے کاموں میں
(9)اور پکارتے ہیں الله ہی کو(بخشش وجنت کے)شوق اور(دعا وعمل ضایع ہونے کے)ڈر کے ساتھ
[الانبیاء:90]

(10)جو رسول الله ﷺ(کی تعلیم)کی طرف بھاگتے(بہت کوشش)کرتے ہوئے آتے ہیں۔
[عبس:8+9]
اس سے نصیحت
[الاعلیٰ:10]
عبرت
[النازعات:26]
اور ھدایت حاصل کرتے ہیں۔
[النازعات:19]


(11)جو الله ورسول کی اطاعت اور پرہیزگاری کرتے
[النور:52]

(12) قیامت(وحساب)کا خطرہ رکھتے ہیں۔
[الانبیاء:29]


امام غزالی لکھتے ہیں کہ:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے؟
[سورۃ الرحمٰن:60]
اور بھلائی کی انتہا اللہ کا اپنے بندے سے راضی ہونا ہے، اور یہ بندے کے اللہ تعالیٰ سے راضی ہونے کا ثواب ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
...اور ہمیشہ رہنے کے باغوں میں پاکیزہ مکاں ہوں گے، اور اللہ کی رضا (ان سب سے) بڑی چیز ہے...
[سورۃ التوبہ:72]
اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کو جنت عدن کے باغات سے بھی بلند درجہ پر رکھا ہے، جیسا کہ اس نے اپنے ذکر کو نماز سے بلند درجہ پر رکھا، جہاں فرمایا: "بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، اور اللہ کا ذکر (نماز سے بھی) بڑی چیز ہے۔"
پس جس طرح نماز میں ذکر کیے جانے والے(اللہ) کی حضوری نماز سے بڑی چیز ہے، اسی طرح جنت کے رب کی رضا جنت سے بھی اعلیٰ ہے، بلکہ وہ جنت والوں کی مطلوبِ اعلیٰ ہے۔
[احیاء علوم الدین للغزالی: 4/344]














No comments:

Post a Comment