Thursday, 26 September 2013

آیات الجہاد


١) جہاد الله کا حکم ہے جو باطل کا توڑ ہے:

القرآن : وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا ښ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۚ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيْرٌ (البقرہ :١٠٩)

ترجمہ : بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں حالانکہ ان پر حق ظاہر ہوچکا ہے تو تم معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ خدا اپنا دوسرا حکم بھیجے بیشک خدا ہر بات پر قادر ہے.

Many of the People of the Scripture long that (law, ‘[if only] that’, represents [the import of] the verbal noun) they might make you disbelievers, after you have believed, from the envy (hasadan is the object denoting reason), being, of their own souls, that is to say, their wicked souls have prompted them to this [attitude]; after the truth, with regard to the Prophet (s), has become clear to them, in the Torah; yet pardon, leave them be, and be forgiving, stay away, and make no encroachments against them, till God brings His command, concerning fighting them; truly God has power over all things.

قومی عصبیت باعث شقاوت ہے :
تفسیر ابن کثیر (٧٧٤ ھہ) : حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حی بن اخطب اور ابو یاسر بن اخطب یہ دونوں یہودی سب سے زیادہ مسلمانوں کے حاسد تھے لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے اور عربوں سے جلتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کعب بن اشرف کا بھی یہی شغل تھا زہری کہتے ہیں اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ بھی یہودی تھا اور اپنے شعروں میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا گو ان کی کتاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق موجود تھی اور یہ بخوبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں جانتے تھے اور آپ کو اچھی طرح پہچانتے تھے پھر یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ قرآن ان کی کتاب کی تصدیق کر رہا ہے ایک امی اور ان پڑھ وہ کتاب پڑھتا ہے جو سراسر معجزہ ہے لیکن صرف حسد کی بنا پر کہ یہ عرب میں آپ کیوں مبعوث ہوئے کفر و افکار پر آمداہ ہو گئے بلکہ اور لوگوں کو بھی بہکانا شروع کر دیا پس اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا کہ تم درگزر کرتے رہو اور اللہ کے حکم کا اور اس کے فیصلے کا انتظار کرو ۔ جیسے اور جگہ فرمایا تمہیں مشرکوں اور اہل کتاب سے بہت کڑوی باتیں سننی پڑیں گی مگر بعد میں حکم نازل فرما دیا کہ ان مشرکین سے اب دب کر نہ رہو ان سے لڑائی کرنے کی تمہیں اجازت ہے حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ حضور اور آپ کے اصحاب مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کرتے تھے اور ان کی ایذاء اور تکلیف سہتے تھی اور اس آیت پر عمل پیرا تھے یہاں تک کہ دوسری آیتیں اتریں اور یہ حکم ہٹ گیا اب ان سے بدلہ لینے اور اپنا بچاؤ کرنے کا حکم ملا اور پہلی ہی لڑائی جو بدر کے میدان میں ہوئی اس میں کفار کو شکست فاش ہوئی اور ان کے بڑے بڑے سرداروں کی لاشیں میدان میں بچھ گئیں پھر مومنوں کو رغبت دلائی جاتی ہے کہ تم نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کی حفاظت کرو یہ تمہیں آخرت کے عذابوں سے بچانے کے علاوہ دنیا میں بھی غلبہ اور نصرت دے گی پھر فرمایا کہ اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہر نیک و بدعمل کا بدلہ دونوں جہاں میں دے گا اس سے کوئی چھوٹا، بڑا، چھپا، کھلا، اچھا، برا، عمل پوشیدہ نہیں یہ اس لئے فرمایا کہ لوگ اطاعت کی طرف توجہ دیں اور نافرمانی سے بچیں مبصر کے بدلے بصیر کہا جیسے مبدع کے بدلے بدیع اور مولم کے بدلے الیم ۔ ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت میں سمیع بصیر پڑھتے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھتا ہے۔



٢) مساجد و عبادتگاہوں کی حفاظت جہاد میں ہے:

القرآن : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ وَسَعٰى فِيْ خَرَابِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ مَا كَانَ لَھُمْ اَنْ يَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَاۗىِٕفِيْنَ ڛ لَھُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ (البقرہ : ١١٤)
ترجمہ : اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو؟ ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے.
And who does greater evil — that is, none does more evil — than he who bars God’s places of worship, so that His Name be not invoked in them, in prayer and praise, and strives to ruin them?, through destruction and impeding people from them: this was revealed to inform of the Byzantines’ destruction of the Holy House [sc. Jerusalem], or [it was revealed] when the idolaters barred the Prophet (s) from entering Mecca in the year of the battle of Hudaybiyya; such men might never enter them, save in fear (illā khā’ifīna is a predicate, also functioning as a command, that is to say, ‘Frighten them by threats of waging war against them, so that not one of them shall enter it feeling secure’); for them in this world is degradation, debasement through being killed, taken captive and forced to pay the jizya; and in the Hereafter a mighty chastisement, namely, the Fire.

تفسیر ابن کثیر (٧٧٤ ھہ) : اس آیت سے مراد مشرکین مکہ ہیں اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اوپر یہود و نصاریٰ کی مذمت بیان ہوئی تھی اور یہاں مشرکین عرب کی اس بدخصلت کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کو مسجد الحرام سے روکا مکہ سے نکالا پھر حج وغیرہ سے بھی روک دیا۔ امام ابن جریر کا یہ فرمان کہ مکہ والے بیت اللہ کی ویرانی میں کوشاں نہ تھے اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو وہاں سے روکنے اور نکال دینے اور بیت اللہ میں بت بٹھا دینے سے بڑھ کر اس کی ویرانی کیا ہو سکتی ہے؟ خود قرآن میں موجود ہے آیت (وَهُمْ يَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) 8۔ الانفال:34) اور جگہ فرمایا آیت ( مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ) 9۔ التوبہ:17) یعنی یہ لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں مشرکوں سے اللہ کی مسجدیں آباد نہیں ہو سکتیں جو اپنے کفر کے خود گواہ ہیں جن کے اعمال غارت ہیں اور جو ہمیشہ کے لئے جہنمی ہیں مسجدوں کی آبادی ان لوگوں سے ہوتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے اور نماز و زکوٰۃ کے پابند اور صرف اللہ ہی سے ڈرنے والے ہیں یہی لوگ راہ راست والے ہیں اور جگہ فرمایا آیت (هُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ) 48۔ الفتح:25) ان لوگوں نے بھی کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے بھی روکا اور قربانیوں کو ان کے ذبح ہونے کی جگہ تک نہ پہنچنے دیا اگر ہمیں ان مومن مردوں عورتوں کا خیال نہ ہوتا جو اپنی ضعیفی اور کم قوتی کے باعث مکہ سے نہیں نکل سکے۔ جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو تو ہم تمہیں ان سے لڑ کر ان کے غارت کر دینے کا حکم دیتے لیکن یہ بےگناہ مسلمان پیس نہ دیئے جائیں اس لئے ہم نے سردست یہ حکم نہیں دیا لیکن یہ کفار اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو وہ وقت دور نہیں جب ان پر ہمارے درد ناک عذاب برس پڑیں ۔ پس جب وہ مسلمان ہستیں جن سے مسجدوں کی آبادی حقیقی معنی میں ہے وہ ہی روک دیئے گئے تو مسجدوں کے اجاڑنے میں کونسی کمی رہ گئی؟ مسجدوں کی آبادی صرف ظاہری زیب و زینت رنگ و روغن سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں ذکر اللہ ہونا اس میں شریعت کا قائم رہنا اور شرک اور ظاہری میل کچیل سے پاک رکھنا یہ ان کی حقیقی آبادی ہے پھر فرمایا کہ انہیں لائق نہیں کہ بےخوفی اور بےباکی کے ساتھ بیت اللہ میں نہ آنے دو ہم تمہیں غالب کر دیں گے اس وقت یہی کرنا چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا اگلے سال ۹ہجری اعلان کرا دیا کہ اس سال کے بعد حج میں کوئی مشرک نہ آنے پائے اور بیت اللہ شریف کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے جن لوگوں کے درمیان صلح کی کوئی مدت مقرر ہوئی ہے وہ قائم ہے یہ حکم دراصل تصدیق اور عمل ہے اس آیت پر آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا) 9۔ التوبہ:28) یعنی مشرک لوگ نجس ہیں اس سال کے بعد انہیں مسجد حرام میں نہ آنے دو اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ چاہئے تو یہ تھا کہ یہ مشرک کانپتے ہوئے اور خوف زدہ مسجد میں آئیں لیکن برخلاف اس کے الٹے یہ مسلمانوں کو روک رہے ہیں یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو بشارت دیتا ہے کہ عنقریب میں تمہیں غلبہ دوں گا اور یہ مشرک اس مسجد کی طرف رخ کرنے سے بھی کپکپانے لگیں گے چنانچہ یہی ہوا اور حضور علیہ السلام نے وصیت کی کہ جزیرہ عرب میں دو دین باقی نہ رہنے پائیں اور یہود و نصاریٰ کو وہاں سے نکال دیا جائے الحمد اللہ کہ اس امت کے بزرگوں نے اس وصیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل بھی کر دکھایا اس سے مسجدوں کی فضیلت اور بزرگی بھی ثابت ہوئی بالخصوص اس جگہ کی اور مسجد کی جہاں سب سے بڑے اور کل جن وانس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے تھے۔ ان کافر پر دنیا کی رسوائی بھی آئی، جس طرح انہوں نے مسلمانوں کو روکا جلا وطن کیا ٹھیک اس کا پورا بدلہ انہیں ملا یہ بھی روکے گئے، جلا وطن کئے گئے اور ابھی اخروی عذاب باقی ہیں کیونکہ انہوں نے بیت اللہ شریف کی حرمت توڑی وہاں بت بٹھائے غیر اللہ سے دعائیں اور مناجاتیں شروع کر دیں ۔ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا وغیرہ اور اگر اس سے مراد نصرانی لئے جائیں تو بھی ظاہر ہے کہ انہوں نے بھی بیت المقدس کی بےحرمتی کی تھی، بالخصوص اس صخرہ (پتھر) کی جس کی طرف یہود نماز پڑھتے تھے، اسی طرح جب یہودیوں نے بھی نصرانیوں سے بہت زیادہ ہتک کی اور تو ان پر ذلت بھی اس وجہ سے زیادہ نازل ہوئی دنیا کی رسوائی سے مراد امام مہدی کے زمانہ کی رسوائی بھی ہے اور جزیہ کی ادائیگی بھی ہے حدیث شریف میں ایک دعا وارد ہوئی ہے۔ دعا ( اللھم احسن عاقبتنا فی الامور کلھا واجرنا من خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ) اے اللہ تو ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے نجات دے۔ یہ حدیث حسن ہے مسند احمد میں موجود ہے صحاح ستہ میں نہیں اس کے راوی بشر بن ارطاۃ صحابی ہیں ۔ ان سے ایک تو یہ حدیث مروی ہے دوسری وہ حدیث مروی ہے جس میں ہے کہ غزوے اور جنگ کے موقعہ پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں ۔


٣) مومن مجاہد کو صبر اور نماز سے الله کی مدد لینے کی تلقین:

القرآن : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ. [البقرہ:٥٣]

ترجمہ : اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بیشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے.

O you who believe, seek help, regarding the Hereafter, through patience, in obedience and afflictions, and prayer (He singles it out for mention on account of its frequency and its greatness); surely God is with the patient, helping them.

تفسیر ابن کثیر (٧٧٤ ھہ) : حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ رب العزت سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ تیرا شکر کس طرح کروں ارشاد ہوتا ہے مجھے یاد رکھو بھولو نہیں یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے حسن بصری وغیرہ کا قول ہے کہ اللہ کی یاد کرنے والے کو اللہ بھی یاد کرتا ہے اس کا شکر کرنے والے کو وہ زیادہ دیتا ہے اور ناشکرے کو عذاب کرتا ہے بزرگان سلف سے مروی ہے کہ اللہ سے پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے غفلت نہ برتی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے سوال ہوتا ہے کہ کیا زانی، شرابی ، چور اور قاتل نفس کو بھی یاد کرتا ہے؟ فرمایا ہاں برائی سے، حسن بصری فرماتے ہیں مجھے یاد کرو یعنی میرے ضروری احکام بجا لاؤ میں تمہیں یاد کروں گا یعنی اپنی نعمتیں عطا فرماؤں گا سعید بن جیر فرماتے ہیں میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنی رحمتیں تم پر نازل کروں گا حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ کا یاد کرنا بہت بڑی چیز ہے ایک قدسی حدیث میں ہے جو تجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں ۔ مسند احمد میں ہے کہ وہ جماعت فرشتوں کی ہے جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھاتا ہوں اور اگر تو اے بنی آدم میری طرف ایک ہاتھ بڑھائے گا میں تیری طرف دو ہاتھ بڑھاؤں گا اور اگر تو میری طرف چلتا ہوا آئے گا تو میں تیری طرف دوڑتا ہوا آؤں گا صحیح بخاری میں بھی یہ حدیث ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اس سے بھی زیادہ قریب ہے پھر فرمایا میرا شکر کرو ناشکری نہ کرو اور جگہ ہے آیت ( لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ) 14۔ ابراہیم:7) یعنی تیرے رب کی طرف سے عام آگہی ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں برکت دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھنا میرا عذاب سخت ہے، مسند احمد میں ہے کہ عمربن حصین ایک مرتبہ نہایت قیمتی حلہ پہنے ہوئے آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی پر انعام کرتا ہے تو اس کا اثر اس پر دیکھنا چاہتا ہے۔


٤) الله کی راہ میں قتل ہونے والے زندہ ہوتے ہیں:

القرآن : وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ . [البقرہ:١٥٤]

ترجمہ : اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ نہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے.

And say not of those slain in God’s way, that, ‘They are dead’; rather they are living, their spirits are, according to a hadīth, contained in green birds that take wing freely wherever they wish in Paradise; but you are not aware, [but you] do not know their condition.

تفسیر ابن کثیر (٧٧٤ ھہ) : پھر فرمایا کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ ایسی زندگی میں ہیں جسے تم نہیں سمجھ سکتے انہیں حیات برزخی حاصل ہے اور وہاں وہ خورد و نوش پا رہے ہیں، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں اور جنت میں جس جگہ چاہیں چرتی چگتی اڑتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں میں آ کر بیٹھ جاتی ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ان کے رب نے ایک مرتبہ انہیں دیکھا اور ان سے دریافت کیا کہ اب تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا اللہ ہمیں تو تو نے وہ وہ دے رکھا ہے جو کسی کو نہیں دیا پھر ہمیں کس چیز کی ضرورت ہو گی؟ ان سے پھر یہی سوال ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ اب ہمیں کوئی جواب دینا ہی ہو گا تو کہا اللہ ہم چاہتے ہیں کہ تو ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج ہم تیری راہ میں پھر جنگ کریں پھر شہید ہو کر تیرے پاس آئیں اور شہادت کا دگنا درجہ پائیں، رب جل جلالہ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا یہ تو میں لکھ چکا ہوں کہ کوئی بھی مرنے کے بعد دنیا کی طرف پلٹ کر نہیں جائے گا مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ مومن کی روح ایک پرندے میں ہے جو جنتی درختوں پر رہتی ہے اور قیامت کے دن وہ اپنے جسم کی طرف لوٹ آئے گی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کی روح وہاں زندہ ہے لیکن شہیدوں کی روح کو ایک طرح کی امتیازی شرافت کرامت عزت اور عظمت حاصل ہے۔


٥) وفائے عہد کیلئے مومن مجاہد کی آزمائش لازم ہے:

القرآن : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ.ۙ [البقرہ:١٥٧-١٥٥]

ترجمہ : اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنادو.

Surely We will try you with something of fear, of an enemy, and hunger, by way of drought, and diminution of goods, as a result of destruction, and lives, as a result of slaughter, death and disease, and fruits, by way of crop damage: that is to say, We will try you to see if you practise patience or not; yet give good tidings, of Paradise, to the patient, during calamities;

تفسیر ابن کثیر (٧٧٤ ھہ) : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کر لیا کرتا ہے کبھی ترقی اور بھلائی کسے ذریعہ اور کبھی تنزل اور برائی سے ، جیسے فرماتا ہے آیت (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ) 47۔ محمد:31) یعنی ہم آزما کر مجاہدوں اور صبر کرنے والوں کو معلوم کرلیں گے اور جگہ ہے آیت (فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ) 6۔ النحل:112) مطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا خوف، کچھ بھوک، کچھ مال کی کمی، کچھ جانوں کی کمی یعنی اپنوں اور غیر خویش و اقارب، دوست و احباب کی موت، کبھی پھلوں اور پیداوار کی نقصان وغیرہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما لیتا ہے، صبر کرنے والوں کو نیک اجر اور اچھا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بےصبر جلد باز اور ناامیدی کرنے والوں پر اس کے عذاب اتر آتے ہیں ۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ یہاں خوف سے مراد اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے، بھوک سے مراد روزوں کی بھوک ہے، مال کی کمی سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی ہے، جان کی کمی سے مراد بیماریاں ہیں، پھلوں سے مراد اولاد ہے، لیکن یہ تفسیر ذرا غور طلب ہے واللہ اعلم۔


٦) مصیبت میں مجاہد فی سبیل الله کیا کہتے ہیں:

القرآن : الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ .ۙ [البقرہ:١٥٦]

ترجمہ : ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں.

those who, when they are struck by an affliction, a calamity, say, ‘Surely we belong to God, we are His possession and servants, with whom He does as He pleases; and to Him we will return’, in the Hereafter, whereupon He will requite us: in one hadīth [it is said that], ‘whoever pronounces the istirjā‘ [sc. the formula ‘surely we belong to God and to Him we will return’] when an affliction befalls him, God will reward him and compensate him with what is better’. Similarly, it is said that on one occasion when his lamp blew out, the Prophet (s) uttered the istirjā‘, whereupon ‘Ā’isha said to him, saying: ‘But, it is just a lamp’, to which he replied, ‘Whatever bothers a believer is an affliction [of sorts]’: this is reported by Abū Dāwūd in his [section on] mursal reports.

تفسیر ابن کثیر (٧٧٤ ھہ) : اب بیان ہو رہا ہے کہ جن صبر کرنے والوں کی اللہ کے ہاں عزت ہے وہ کون لوگ ہیں؟ پس فرماتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو تنگی اور مصیبت کے وقت آیت انا للہ) پڑھ لیا کرتے ہیں اور اس بات سے اپنے دل کو تسلی دے لیا کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور جو ہمیں پہنچا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ان میں جس طرح وہ چاہے تصرف کرتا رہتا ہے اور پھر اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ہے جہاں انہیں بالاخر جانا ہے، ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ کی نوازشیں اور الطاف ان پر نازل ہوتے ہیں عذاب سے نجات ملتی ہے اور ہدایت بھی نصیب ہوتی ہے۔


٧) الله کی مہربانی، رحمت اور ہدایت والے مجاہد فی سبیل الله ہوتے ہیں:

القرآن : اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۣوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُهْتَدُوْنَ [البقرہ:١٥٧]

ترجمہ : یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے اور یہی سیدھے راستے پر ہیں.

Upon those rest blessings, forgiveness, and mercy, grace, from their Lord, and those — they are the truly guided, to rectitude.

تفسیر ابن کثیر (٧٧٤ ھہ) : امیر المومنین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں دوبرابر کی چیزیں صلوات اور رحمت اور ایک درمیان کی چیز یعنی ہدایت ان صبر کرنے والوں کو ملتی ہے، مسند احمد میں ہے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میرے خاوند حضرت ابو سلمہ ایک روز میرے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہو کر آئے اور خوشی خوشی فرمانے لگے آج تو میں نے ایک ایسی حدیث سنی ہے کہ میں بہت ہی خوش ہوا ہوں وہ حدیث یہ ہے کہ جس کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ کہے دعا (اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا) یعنی اللہ مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اجر اور بدلہ ضرور دیتا ہے، حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میں نے اس دعا کو یاد کر لیا جب حضرت ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے آیت (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھ کر پھر یہ دعا بھی پڑلی لیکن مجھے خیال آیا کہ بھلا ابو سلمہ سے بہتر شخص مجھے کون مل سکتا ہے؟ جب میری عدت گذر چکی تو میں ایک روز ایک کھال کو دباغت دے رہی تھی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اپنے ہاتھ دھو ڈالے کھال رکھ دی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر تشریف لانے کی درخواست کی اور آپ کو ایک گدی پر بٹھا دیا آپ نے مجھ سے اپنا نکاح کرنے کی کوشش ظاہر کی، میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میری خوش قسمتی کی بات ہے لیکن اول تو میں بڑی باغیرت عورت ہوں ایسا نہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کے خلاف کوئی بات مجھ سے سرزد ہو جائے اور اللہ کے ہاں عذاب ہو دوسرے یہ کہ میں عمر رسیدہ ہوں، تیسرے بال بچوں والی ہوں آپ نے فرمایا سنو ایسی بےجا غیرت اللہ تعالیٰ تمہاری دور کر دے گا اور عمر میں کچھ میں بھی چھوٹی عمر کا نہیں اور تمہارے بال بچے میرے ہی بال بچے ہیں میں نے یہ سن کر کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی عذر نہیں چنانچہ میرا نکاح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگیا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس دعا کی برکت سے میرے میاں سے بہت ہی بہتر یعنی اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمایا فالحمد للہ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث باختلاف الفاظ مروی ہے، مسند احمد میں حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی مسلمان کو کوئی رنج و مصیبت پہنچے اس پر گویا زیادہ وقت گذر جائے پھر اسے یاد آئے اور وہ انا للہ پڑھے تو مصیبت کے صبر کے وقت جو اجر ملا تھا وہی اب بھی ملے گا، ابن ماجہ میں ہے حضرت ابو سنان فرماتے ہیں میں نے اپنے ایک بچے کو دفن کیا ابھی میں اس کی قبر میں سے نکلا نہ تھا کہ ابو طلحہ خولانی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکالا اور کہا سنو میں تمہیں ایک خوشخبری سناؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک الموت سے دریافت فرماتا ہے تو نے میرے بندے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کا کلیجہ کا ٹکڑا چھین لیا بتا تو اس نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں اللہ تیری تعریف کی اور انا للہ پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو ۔


٨) اصل نیکی کیا ہے؟ صادقین و متقین کون؟

القرآن : لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ.[البقرہ:١٧٧]

ترجمہ : نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب (کو قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائیں اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں۔

It is not piety, that you turn your faces, in prayer, to the East and to the West. This was revealed in response to the claim made by the Jews and the Christians to this effect. True piety, that is, the pious person (al-birr, is also read al-barr, in the sense of al-bārr [‘the dutiful person’]) is [that of] the one who believes in God and the Last Day and the angels and the Book, that is, the scriptures, and the prophets, and who gives of his substance, however, despite [it being], cherished, by him, to kinsmen and orphans and the needy and the traveller and beggars, and for, the setting free of, slaves, both the captive and the one to be manumitted by contract; and who observes prayer and pays the alms, that are obligatory, and what was [given] before [alms were made obligatory], in the way of charity; and those who fulfil their covenant when they have engaged in a covenant, with God or with others, those who endure with fortitude (al-sābirīna is the accusative of laudation) misfortune (al-ba’sā’ is abject poverty), hardship, illness, and peril, at the height of a battle in the way of God; these, described in the way mentioned, are the ones who are truthful, in their faith and in their claims to piety, and these are the ones who are fearful, of God.


تفسیر ابن کثیر (٧٧٤ ھہ) : اس پاک آیت میں صحیح عقیدے اور راہ مستقیم کی تعلیم ہو رہی ہے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی، انہوں نے پھر سوال کیا حضور نے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی پھر یہی سوال کیا آپ نے فرمایا سنو نیکی سے محبت اور برائی سے عداوت ایمان ہے (ابن ابی حاتم) لیکن اس روایت کی سند منقطع ہے، مجاہد حضرت ابو ذر سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں حلانکہ ان کی ملاقات ثابت نہیں ہوئی۔ ایک شخص نے حضرت ابو ذر سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرما دی اس نے کہا حضرت میں آپ سے بھلائی کے بارے میں سوال نہیں کرتا میرا سوال ایمان کے بارے میں ہے تو آپ نے فرمایا سن ایک شخص نے یہی سوال حضور سے کیا آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرما دی وہ بھی تمہاری طرح راضی نہ ہوا تو آپ نے فرمایا مومن جب نیک کام کرتا ہے تو اس کا جی خوش ہو جاتا ہے اور اسے ثواب کی امید ہوتی ہے اور جب گناہ کرتا ہے تو اس کا دل غمیگین ہو جاتا ہے اور وہ عذاب سے ڈرنے لگتا ہے (ابن مردویہ) یہ روایت بھی منقطع ہے اب اس آیت کی تفسیر سنئے۔ مومنوں کو پہلے تو حکم ہوا کہ وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں پھر انہیں کعبہ کی طرف گھما دیا گیا جو اہل کتاب پر اور بعض ایمان والوں پر بھی شاق گزرا پس اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان فرمائی کہ اس کا اصل مقصد اطاعت فرمان اللہ ہے وہ جدھر منہ کرنے کو کہے کر لو، اہل تقویٰ اصل بھلائی اور کامل ایمان یہی ہے کہ مالک کے زیر فرمان رہو، اگر کوئی مشرق کیطرف منہ کرے یا مغرب کی طرف منہ پھیر لے اور اللہ کا حکم نہ ہو تو وہ اس توجہ سے ایماندار نہیں ہو جائے گا بلکہ حقیقت میں باایمان وہ ہے جس میں وہ اوصاف ہوں جو اس آیت میں بیان ہوئے، قرآن کریم نے ایک اور جگہ فرمایا ہے آیت (لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۗؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ) 22۔ الحج:37) یعنی تمہاری قربانیوں کے گوشت اور لہو اللہ کو نہیں پہنچتے بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ تم نمازیں پڑھو اور دوسرے اعمال نہ کرو یہ کوئی بھلائی نہیں ۔ یہ حکم اس وقت تھا جب مکہ سے مدینہ کی طرف لوٹے تھے لیکن پھر اس کے بعد اور فرائض اور احکام نازل ہوئے اور ان پر عمل کرنا ضروری قرار دیا گیا، مشرق و مغرب کو اس کے لئے خاص کیا گیا کہ یہود مغرب کی طرف اور نصاریٰ مشرق کی طرف منہ کیا کرتے تھے ، پس غرض یہ ہے کہ یہ تو صرف لفظی ایمان ہے ایمان کی حقیقت تو عمل ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں بھلائی یہ ہے کہ اطاعت کا مادہ دل میں پیدا ہو جائے، فرائض پابندی کے ساتھ ادا ہوں، تمام بھلائیوں کا عامل ہو، حق تو یہ ہے کہ جس نے اس آیت پر عمل کر لیا اس نے کامل اسلام پا لیا اور دل کھول کر بھلائی سمیٹ لی، اس کا ذات باری پر ایمان ہے یہ وہ جانتا ہے کہ معبود برحق وہی ہے فرشتوں کے وجود کو اور اس بات کو کہ وہ اللہ کا پیغام اللہ کے مخصوص بندوں پر لاتے ہیں یہ مانتا ہے، کل آسمانی کتابوں کو برحق جانتا ہے اور سب سے آخری کتاب قرآن کریم کو جو کہ تمام اگلی کتابوں کو سچا کہنے والی تمام بھلائیوں کی جامع اور دین و دنیا کی سعادت پر مشتمل ہے وہ مانتا ہے، اسی طرح اول سے آخر تک کے تمام انبیاء پر بھی اس کا ایمان ہے، بالخصوص خاتم الانبیاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی۔ مال کو باوجود مال کی محبت کے راہ اللہ میں خرچ کرتا ہے، صحیح حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں افضل صدقہ یہ ہے کہ تو اپنی صحت اور مال کی محبت کی حالت میں اللہ کے نام دے باوجودیکہ مال کی کمی کا اندیشہ ہو اور زیادتی کی رغبت بھی ہو (بخاری ومسلم ) مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت (وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا) 2۔ البقرۃ:177) پڑھ کر فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے تم صحت میں اور مال کی چاہت کی حالت میں فقیری سے ڈرتے ہوئے اور امیری کی خواہش رکھتے ہوئے صدقہ کرو، لیکن اس روایت کا موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے، اصل میں یہ فرمان حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہے، قرآن کریم میں سورۃ دھر میں فرمایا آیت (وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا) 76۔ الانسان:8) مسلمان باوجود کھانے کی چاہت کے مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہیں اللہ کی خوشنودی کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے اس کا بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ اور جگہ فرمایا آیت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ) 3۔ آل عمران:92) جب تک تم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام نہ دو تم حقیقی بھلائی نہیں پاسکتے۔ اور جگہ فرمایا آیت ( وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ) 59۔ الحشر:9) یعنی باوجود اپنی حاجت اور ضرورت کے بھی وہ دوسروں کو اپنے نفس پر مقدم کرتے ہیں پس یہ لوگ بڑے پایہ کے ہیں کیونکہ پہلی قسم کے لوگوں نے تو اپنی پسندیدہ چیز باوجود اس کی محبت کے دوسروں کو دی لیکن ان بزرگوں نے اپنی چاہت کی وہ چیز جس کے وہ خود محتاج تھے دوسروں کو دے دی اور اپنی حاجت مندی کا خیال بھی نہ کیا ۔ذوی القربی انہیں کہتے ہیں جو رشتہ دار ہوں صدقہ دیتے وقت یہ دوسروں سے زیادہ مقدم ہیں ۔ حدیث میں ہے مسکین کو دینا اکہرا ثواب ہے اور قرابت دار مسکین کو دینا دوہرا ثواب ہے، ایک ثواب صدقہ کا دوسرا صلہ رحمی کا۔ تمہاری بخشش اور خیراتوں کے زیادہ مستحق یہ ہیں، قرآن کریم میں ان کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم کئی جگہ ہے۔ یتیم سے مراد وہ چھوٹے بچے ہیں جن کے والد مر گئے ہوں اور ان کا کمانے والا کوئی نہ ہو نہ خود انہیں اپنی روزی حاصل کرنے کی قوت وطاقت ہو، حدیث شریف میں ہے بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی مساکین وہ ہیں جن کے پاس اتنا ہو جو ان کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کا کافی ہو سکے ، ان کے ساتھ بھی سلوک کیا جائے جس سے ان کی حاجت پوری ہو اور فقر و فاقہ اور قلت وذلت کی حالت سے بچ سکیں، بخاری ومسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو مانگتے پھرتے ہوں اور ایک ایک دو دو کھجوریں یا ایک ایک دو دو لقمے روٹی کے لے جاتے ہوں بلکہ مسکین وہ بھی ہیں جن کے پاس اتنا نہ ہو کہ ان کے سب کام نکل جائیں نہ وہ اپنی حالت ایسی بنائیں جس سے لوگوں کو علم ہو جائے اور انہیں کوئی کچھ دے دے ۔ ابن السبیل مسافر کو کہتے ہیں، اسی طرح وہ شخص بھی جو اطاعت اللہ میں سفر کر رہا ہو اسے جانے آنے کا خرچ دینا، مہمان بھی اسی حکم میں ہے، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مہمان کو بھی ابن السبیل میں داخل کرتے ہیں اور دوسرے بزرگ سلف بھی۔ سائلین وہ لوگ ہیں جو اپنی حاجت ظاہر کر کے لوگوں سے کچھ مانگیں، انہیں بھی صدقہ زکوٰۃ دینا چاہئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار آئے (ابوداؤد) آیت (فی الرقاب) سے مراد غلاموں کو آزادی دلانا ہے خواہ یہ وہ غلام ہوں جنہوں نے اپنے مالکوں کو مقررہ قیمت کی ادائیگی کا لکھ دیا ہو کہ اتنی رقم ہم تمہیں ادا کر دیں گے تو ہم آزاد ہیں لیکن اب ان بیچاروں سے ادا نہیں ہو سکی تو ان کی امداد کر کے انہیں آزاد کرانا، ان تمام قسموں کی اور دوسرے اسی قسم کے لوگوں کی پوری تفسیر سورۃ برات میں آیت (انما الصدقات) کی تفسیر میں بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال میں زکوٰۃ کے سوا کچھ اور بھی اللہ تعالیٰ کا حق ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی ، اس حدیث کا ایک راوی ابو حمزہ میمون اعور ضعیف ہے۔ پھر فرمایا نماز کو وقت پر پورے رکوع سجدے اطمینان اور آرام خشوع اور خضوع کے ساتھ ادا کرے جس طرح ادائیگی کا شریعت کا حکم ہے اور زکوٰۃ کو بھی ادا کرے یا یہ معنی کہ اپنے نفس کو بےمعنی باتوں اور رذیل اخلاقوں سے پاک کرے جیسے فرمایا آیت (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا) 91۔ الشمس:9) یعنی اپنے نفس کو پاک کرنے والا فلاح پا گیا اور اسے گندگی میں لتھیڑنے (لت پت کرنے والا) تباہ ہو گیا موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے ہی فرمایا تھا کہ آیت (ھل لک الی ان تزکی) الخ اور جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت (وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ Č۝ۙ الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Ċ۝ۙ ) 41۔ فصلت:6) یعنی ان مشرکوں کو ویل ہے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے یا یہ کہ جو اپنے آپ کو شرک سے پاک نہیں کرتے، پس یہاں مندرجہ بالا آیت زکوٰۃ سے مراد زکوٰۃ نفس یعنی اپنے آپ کو گندگیوں اور شرک وکفر سے پاک کرنا ہے، اور ممکن ہے مال کی زکوٰۃ مراد ہو تو اور احکام نفلی صدقہ سے متعلق سمجھے جائیں گے جیسے اوپر حدیث بیان ہوئی کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا اور حق بھی ہیں ۔ پھر فرمایا وعدے پورے کرنے والے جیسے اور جگہ ہے آیت (يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ) 13۔ الرعد:20) یہ لوگ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور وعدے نہیں توڑتے، وعدے توڑنا نفاق کی خصلت ہے، جیسے حدیث میں ہے منافق کی تین نشانیاں ہیں، بات کرتے ہوئے جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا، ایک اور حدیث میں ہے جھگڑے کے وقت گالیاں بکنا۔ پھرفر یایا فقر و فقہ میں مال کی کمی کے وقت بدن کی بیماری کے وقت لڑائی کے موقعہ پر دشمنان دین کے سامنے میدان جنگ میں جہاد کے وقت صبر و ثابت قدم رہنے والے اور فولادی چٹان کی طرح جم جانے والے ۔ صابرین کا نصب بطور مدح کے ہے ان سختیوں اور مصیبتوں کے وقت صبر کی تعلیم اور تلقین ہو رہی ہے، اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے ہمارا بھروسہ اسی پر ہے۔ پھر فرمایا ان اوصاف والے لوگ ہی سچے ایمان والے ہیں ان کا ظاہر باطن قول فعلیکساں ہے اور متقی بھی یہی لوگ ہیں کیونکہ اطاعت گزار ہیں اور نافرمانیوں سے دور ہیں ۔


٩) حکم جہاد اور شرائط

القرآن : وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ [البقرہ:١٩٠]

ترجمہ: اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا


After the Prophet (s) was prevented from [visiting] the House in the year of the battle of Hudaybiyya, he made a pact with the disbelievers that he would be allowed to return the following year, at which time they would vacate Mecca for three days. Having prepared to depart for the Visitation [‘umra], [he and] the believers were concerned that Quraysh would not keep to the agreement and instigate fighting. The Muslims were averse to becoming engaged in fighting while in a state of pilgrimage inviolability in the Sacred Enclosure [al-haram] and during the sacred months, and so the following was revealed: And fight in the way of God, to elevate His religion, with those who fight against you, the disbelievers, but aggress not, against them by initiating the fighting; God loves not the aggressors, the ones that overstep the bounds which God has set for them: this stipulation was abrogated by the verse of barā’a, ‘immunity’ [Q. 9:1], or by His saying [below]:

تفسیر ابن کثیر (٧٧٤ ھہ) : حضرت ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورۃ برأت نازل ہوئی ، بلکہ عبدالرحمن بن زید بن سلام رحمۃ اللہ علیہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ) 9۔ التوبہ:5) ہے یعنی جہاں کہیں مشرکین کو پاؤ انہیں قتل کرو، لیکن اس بارہ میں اختلاف ہے اس لئے کہ اس سے تو مسلمانوں کو رغبت دلانا اور انہیں آمادہ کرنا ہے کہ اپنے ایسے دشمنوں سے کیوں جہاد نہ کروں جو تمہارے اور تمہارے دین کے کھلے دشمن ہیں ، جیسے وہ تم سے لڑتے ہیں تم بھی ان سے لڑو جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّةً  ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ) 9۔ التوبہ:36) یعنی مل جل کر مشرکوں سے جہاد کرو جس طرح وہ تم سے سب کے سب مل کر لڑائی کرتے ہیں چنانچہ اس آیت میں بھی فرمایا انہیں قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں وہاں سے نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان کا قصد تمہارے قتل کا اور تمہیں جلا وطن کرنے کا ہے تمہارا بھی اس کے بدلے میں یہی قصد رہنا چاہئے ۔ پھر فرمایا تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو ناک کان وغیرہ نہ کاٹو، خیانت اور چوری نہ کرو ، عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو، ان بوڑھے بڑے لوگوں کو بھی نہ مارو جو نہ لڑنے کے لائق ہیں نہ لڑائی میں دخل دیتے ہیں درویشوں اور تارک دنیا لوگوں کو بھی قتل نہ کرو بلکہ بلا مصلحت جنگی نہ درخت کاٹو نہ حیوانوں کو ضائع کرو، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن عبدالعزیز حضرت مقاتل بن حیان وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں یہی فرمایا ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجاہدین کو فرمان دیا کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو خیانت نہ کرو، بدعہدی سے بچو، ناک کان وگیرہ اعضاء نہ کاٹو، بچوں کو اور زاہد لوگوں کو جو عبادت خانوں میں پڑے رہتے ہیں قتل نہ کرو ۔ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کا نام لے کر نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کرو کفار سے لڑو ظلم وزیادتی نہ کرو دھوکہ بازی نہ کرو ۔ دشمن کے اعضاء بدن نہ کاٹو درویشوں کو قتل نہ کرو، بخاری ومسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک غزوے میں ایک عورت قتل کی ہوئی پائی گئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بہت برا مانا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو منع فرما دیا، مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ، تین ، پانچ، سات ، نو، گیارہ مثالیں دیں ایک تو ظاہر کر دی باقی چھوڑ دیں فرمایا کہ کچھ لوگ کمزور اور مسکین تھے کہ ان پر زور آور مالدار دشمن چڑھ آیا اللہ تعالیٰ نے ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم وزیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم وزیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ ان پر قیامت تک کے لئے ناراض ہو گیا۔ یہ حدیث اسناداً صحیح ہے، مطلب یہ ہے کہ جب یہ کمزور قوم غالب آگئی تو انہوں نے ظلم وزیادتی شروع کر دی فرمان باری تعالیٰ کا کوئی لحاظ نہ کیا اس کے باعث پروردگار عالم ان سے ناراض ہو گیا ، اس بارے میں احادیث اور آثار بکثرت ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ ظلم وزیادتی اللہ کو ناپسند ہے اور ایسے لوگوں سے اللہ ناخوش رہتا ہے ، چونکہ جہاد کے احکام میں بظاہر قتل وخون ہوتا ہے اس لئے یہ بھی فرما دیا کہ ادھر اگر قتل وخون ہے تو ادھر اللہ کے ساتھ کفر وشرک ہے اور اس مالک کی راہ سے اس کی مخلوق کو روکنا ہے اور یہ فتنہ قتل سے بہت زیادہ سخت ہے، ابو مالک فرماتے ہیں تمہاری یہ خطا کاریاں اور بدکاریاں قتل سے زیادہ زبوں تر ہیں ۔ پھر فرمان جاری ہوتا ہے کہ بیت اللہ میں ان سے لڑائی نہ کرو جیسے بخاری ومسلم میں ہے کہ یہ شہر حرمت والا ہے آسمان وزمین کی پیدائش کے زمانے سے لے کر قیامت تک باحرمت ہی ہے صرف تھوڑے سے وقت کے لئے اللہ تعالیٰ نے میرے لئے اسے حلال کر دیا تھا لیکن وہ آج اس وقت بھی حرمت والا ہے اور قیامت تک اس کا یہ احترام اور بزرگی باقی رہے گی اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں اگر کوئی شخص اس میں لڑائی کو جائز کہے اور میری جنگ کو دلیل میں لائے تو تم کہہ دینا اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی تھی لیکن تمہیں کوئی اجازت نہیں ۔ آپ کے اس فرمان سے مراد فتح مکہ کا دن ہے جس دن آپ نے مکہ والوں سے جہاد کیا تھا اور مکہ کو فتح کیا تھا چند مشرکین بھی مارے گئے تھے ۔ گو بعض علماء کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ مکہ صلح سے فتح ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صاف ارشاد فرما دیا تھا کہ جو شخص اپنا دروازہ بند کرلے وہ امن میں ہے جو مسجد میں چلا جائے امن میں ہے جو ابو سفیان کے گھر میں چلا جائے وہ بھی امن ہے۔ پھر فرمایا کہ ہاں اگر وہ تم سے یہاں لڑائی شروع کر دیں تو تمہیں اجازت ہے کہ تم بھی یہیں ان سے لڑو تاکہ یہ ظلم دفع ہو سکے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ والے دن اپنے اصحاب سے لڑائی کی بیعت لی جب قریشیوں نے اپنے ساتھیوں سے مل کر یورش کی تھی تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درخت تلے اپنے اصحاب سے بیعت لی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو دفع کر دیا چنانچہ اس نعمت کا بیان اس آیت میں ہے کہ وہ آیت (وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ) 48۔ الفتح:24) پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ کفار حرم میں لڑائی بند کر دیں اور اس سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دے گا گو انہوں نے مسلمانوں کو حرم میں قتل کیا ہو باری تعالیٰ ایسے بڑے گناہ کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے جہاد جاری رکھو تا کہ یہ شرک کا فتنہ مٹ جائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب اور بلند ہو جائے اور تمام دین پر ظاہر ہو جائے، جیسے بخاری ومسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری جتانے کے لئے لڑتا ہے ایک شخص حمیت وغیرت قومی سے لڑتا ہے، ایک شخص ریاکاری اور دکھاوے کے طور پر لڑتا ہے تو فرمائیے کہ ان میں سے کون شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا وہی ہے جو صرف اس کے لئے لڑے کہ اللہ تعالیٰ کی بات بلند ہو اس کے دین کا بول بالا ہو، بخاری ومسلم کی ایک اور حدیث میں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں ان کی جان ومال کا تحفظ میرے ذمہ ہوگا مگر اسلامی احکام اور ان کے باطنی حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر یہ کفار شرک و کفر سے اور تمہیں قتل کرنے سے باز آجائیں تو تم بھی ان سے رک جاؤ اس کے بعد جو قتال کرے گا وہ ظالم ہوگا اور ظالموں کو ظلم کا بدلہ دینا ضروری ہے یہی معنی ہیں ۔ حضرت مجاہد کے اس قول کے کہ جو لڑیں ان سے ہی لڑا جائے، یا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان حرکات سے رک جائیں تو وہ ظلم یعنی شرک سے ہٹ گئے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان سے جنگ وجدال ہو، یہاں لفظ عدوان جو کہ زیاتی کے معنی میں ہے وہ زیادتی کے مقابلہ میں زیادتی کے بدلے کے لئے ہے حقیقتا وہ زیادتی نہیں جیسے فرمایا آیت (فمن اعتدی علیکم فاعتدو علیہ بمثل ما اعتدی علیکم) یعنی تم پر جو زیادتی کرے تم بھی اس پر اس جیسی زیادتی کر لو اور جگہ ہے آیت (جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا  ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ) 10۔ یونس:27) یعنی برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جگہ فرمان ہے آیت (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ) 16۔ النحل:126) یعنی اگر تم سزا اور عذاب کرو تو اسی مثل سزا کرو جو تم کئے گئے ہو، پاس ان تینوں جگہوں میں زیادتی برائی اور سزا "بدلے" کے طور پر کہا گیا ہے ورنہ فی الواقع وہ زیادتی برائی اور سزا وعذاب نہیں، حضرت عکرمہ اور حضرت قتادہ کا فرمان ہے اصلی ظالم وہی ہے جو لا الہ الا اللہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گھیر کر کہا کہ لوگ تو مر کٹ رہے ہیں آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں کیوں اس لڑائی میں شامل نہیں ہوتے؟آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو اللہ تعالیٰ نے مسلمان بھائی کا خون حرام کر دیا ہے، انہوں نے کہا کیا جناب باری کا یہ فرمان نہیں کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے آپ نے جواب دیا کہ ہم تو لڑتے رہے یہاں تک کہ فتنہ دب گیا اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین غالب آگیا لیکن اب تم چاہتے ہو کہ تم لڑو تاکہ فتنہ پیدا ہو اور دوسرے مذاہب ابھر آئیں ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ کسی نے آپ سے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمن آپ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا کیوں چھوڑ رکھا ہے اور یہ کیا اختیار کر رکھا ہے کہ حج پر حج کر رہے ہو ہر دوسرے سال حج کو جایا کرتے ہو حالانکہ جہاد کے فضائل آپ سے مخفی نہیں آپ نے فرمایا بھتیجے سنو! اسلام کی بنائیں پانچ ہیں ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، پانچوں وقتوں کی نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا، اس نے کہا کیا قرآن پاک کا یہ حکم آپ نے نہیں سنا کہ ایمان والوں کی دو جماعتیں اگر آپس میں جھگڑیں تو تم ان میں صلح کرا دو اگر پھر بھی ایک گروہ دوسرے پر بغاوت کرے تو باغی گروہ سے لڑو یہاں تک کہ وہ پھر سے اللہ کا فرمانبردار بن جائے ، اور جگہ ارشاد ہے ان سے لڑو تاوقتیکہ فتنہ مٹ جائے آپ نے فرمایا ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اس کی تعمیل کر لی جبکہ اسلام کمزور تھا اور مسلمان تھوڑے تھے جو اسلام قبول کرتا تھا اس پر فتنہ آ پڑتا تھا یا تو قتل کر دیا جاتا یا سخت عذاب میں پھنس جاتا یہاں تک کہ یہ پاک دین پھیل گیا اور اس کے حلقہ بگوش بہ کثرت ہو گئے اور فتنہ برباد ہو گیا اس نے کہا اچھا تو پھر فرمائیے کہ حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے فرمایا عثمان رضی اللہ عنہ کو تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا گو تم اس معافی سے برا مناؤ اور علی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ کے داماد تھے اور یہ دیکھو ان کا مکان یہ رہا جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔




١٠) تم سے لڑنے والوں کو بیت الله میں بھی نہ چھوڑو جب تک باز نہ آئین:

القرآن : وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ ۭكَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ. فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ. وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ ۭ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَي الظّٰلِمِيْنَ. [البقرہ : ١٩١-١٩٣]؛

ترجمہ : اور مار ڈالو ان کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو ان کو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا (١) اور دین سے بچلانا مار ڈالنے سے بھی زیادہ سخت ہے (٢) اور نہ لڑو ان سے مسجدالحرام کے پاس جب تک کہ وہ نہ لڑیں تم سے اس جگہ پھر اگر وہ خود ہی لڑیں تم سے تو ان کو مارو یہی ہے سزا کافروں کی (٣). پھر اگر وہ باز آئیں تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے (٤) اور لڑو ان سے یہاں تک کہ نہ باقی رہے فساد اور حکم رہے خدا تعالیٰ ہی کا پھر اگر وہ باز آئیں تو کسی پر زیادتی نہیں مگر ظالموں پر (٥)؛


And slay them wherever you come upon them, and expel them from where they expelled you, that is, from Mecca, and this was done after the Conquest of Mecca; sedition, their idolatry, is more grievous, more serious, than slaying, them in the Sacred Enclosure or while in a state of pilgrimage inviolability, the thing that you greatly feared. But fight them not by the Sacred Mosque, that is, in the Sacred Enclosure, until they should fight you there; then if they fight you, there, slay them, there (a variant reading drops the alif in the three verbs [sc. wa-lā taqtilūhum, hattā yaqtulūkum, fa-in qatalūkum, so that the sense is ‘slaying’ in all three, and not just ‘fighting’]) — such, killing and expulsion, is the requital of disbelievers. But if they desist, from unbelief and become Muslims, surely God is Forgiving, Merciful, to them. Fight them till there is no sedition, no idolatry, and the religion, all worship, is for God, alone and none are worshipped apart from Him; then if they desist, from idolatry, do not aggress against them. This is indicated by the following words, there shall be no enmity, no aggression through slaying or otherwise, save against evildoers. Those that desist, however, are not evildoers and should not be shown any enmity.

تفسیر : (١) جس جگہ پاؤ یعنی حرم میں ہوں خواہ غیر حرم میں جہاں سے تم کو نکالا یعنی مکہ سے۔ (٢) یعنی دین سے پھر جانا یا دوسرے کو پھر انا مہینہ حرام کے اندر مار ڈالنے سے بہت بڑا گناہ ہے مطلب یہ کہ حرم مکہ میں کفار کا شرک کرنا اور کرانا زیادہ قبیح ہے حرم میں مقاتلہ کرنے سے تو اب اے مسلمانو تم کچھ اندیشہ نہ کرو اور جواب ترکی بہ ترکی دو ۔ 
 (٣) یعنی مکہ ضرور جائے امن ہے لیکن جب انہوں نے ابتداء کی اور تم پر ظلم کیا اور ایمان لانے پر دشمنی کرنے لگے کہ یہ بات مار ڈالنے سے بھی سخت ہے تو اب انکو امان نہ رہی جہاں پاؤ مارو آخر جب مکہ فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرما دیا کہ جو ہتھیار سامنے کرے اسی کو مارو اور باقی سب کو امن دیا۔ (٤) یعنی باوجود ان سب باتوں کے اگر اب بھی مسلمان ہوں اور شرک سے باز آئیں تو توبہ قبول ہے۔ (۵) یعنی کافروں سے لڑائی اسی واسطے ہے کہ ظلم موقوف ہو اور کسی کو دین سے گمراہ نہ کر سکیں اور خاص اللہ ہی کا حکم جاری رہے سو وہ جب شرک سے باز آجائیں تو زیادتی سوائے ظالموں کے اور کسی پر نہیں یعنی جو بدی سے باز آگئے وہ اب ظالم نہ رہے تو اب ان پر زیادتی بھی مت کرو ہاں جو فتنہ سے باز نہ رہیں ان کو شوق سے قتل کرو۔



١١) حرمتیں بدلے کی چیزیں ہیں


القرآن : اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ۭ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ. [البقرہ : ١٩٤]؛

ترجمہ : ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں، پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو ۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے؛

The sacred month, in return, for the sacred month, therefore, just as they fight you during it, kill them during it: a response to the Muslims’ consideration of the momentous nature of this matter; holy things (hurumāt, plural of hurma, is what must be treated as sacrosanct) demand retaliation, in kind if these [holy things] are violated; whoever commits aggression against you, through fighting in the Sacred Enclosure, or during a state of ritual purity or in the sacred months, then commit aggression against him in the manner that he committed against you, the [Muslim] response is also referred to as ‘aggression’, because that is what it resembles formally; and fear God, when avenging yourselves and [by] renouncing aggression, and know that God is with the God-fearing, helping and assisting [them].

تفسیر ابن کثیر (٧٧٤ ھہ) : ذوالقعدہ سن ٦ہجری میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرے کے لئے صحابہ کرام سمیت مکہ کو تشریف لے چلے لیکن مشرکین نے آپ کو حدیبیہ والے میدان میں روک لیا بالآخر اس بات پر صلح ہوئی کہ آئندہ سال آپ عمرہ کریں اور اس سال واپس تشریف لے جائیں چونکہ ذی القعدہ کا مہینہ بھی حرمت والا مہینہ ہے اس لئے یہ آیت نازل ہوئی. مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرمت والے مہینوں میں جنگ نہیں کرتے تھے ہاں اگر کوئی آپ پر چڑھائی کرے تو اور بات ہے بلکہ جنگ کرتے ہوئے اگر حرمت والے مہینے آجاتے تو آپ لڑائی موقوف کر دیتے ، حدیبیہ کے میدان میں بھی جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمان کو مشرکین نے قتل کر دیا جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام لے کر مکہ شریف میں گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چودہ سو صحابہ سے ایک درخت تلے مشرکوں سے جہاد کرنے کی بیعت لی پھر جب معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط ہے تو آپ نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور صلح کی طرف مائل ہو گئے ۔ پھر جو واقعہ ہوا وہ ہوا۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوازن کی لڑائی سے حنین والے دن فارغ ہوئے اور مشرکین طائف میں جا کر قلعہ بند ہو گئے تو آپ نے اس کا محاصرہ کر لیا چالیس دن تک یہ محاصرہ رہا بالآخر کچھ صحابہ کی شہادت کے بعد محاصرہ اٹھا کر آپ مکہ کی طرف لوٹ گئے اور جعرانہ سے آپ نے عمرے کا احرام باندھا یہیں حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں اور یہ عمرہ آپ کا ذوالقعدہ میں ہوا یہ سن ٨ ہجری کا واقعہ ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر درود وسلام بھیجے۔ پھر فرماتا ہے جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کرلو، یعنی مشرکین سے بھی عدل کا خیال رکھو، یہاں بھی زیادتی کے بدلے کو زیادتی سے تعبیر کرنا ویسا ہی ہے جیسے اور جگہ عذاب وسزا کے بدلے میں برائی کے لفظ سے بیان کیا گیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ آیت مکہ شریف میں اتری جہاں مسلمانوں میں کوئی شوکت وشان نہ تھی نہ جہاد کا حکم تھا پھر یہ آیت مدینہ شریف میں جہاد کے حکم سے منسوخ ہو گئی، لیکن امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کی تردید کی ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے عمرہ قضا کے بعد نازل ہوئی ہے حضرت مجاہد کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور پرہیز گاری اختیار کرو اور اسے جان لو کہ ایسے ہی لوگوں کے ساتھ دین و دنیا میں اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت رہتی ہے۔


١٢) جہاد میں مال خرچ کرو اور جہاد چھوڑ کر خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو

القرآن : وَأَنفِقوا فى سَبيلِ اللَّهِ وَلا تُلقوا بِأَيديكُم إِلَى التَّهلُكَةِ ۛ وَأَحسِنوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُحسِنينَ (البقرہ : ١٩٥)

ترجمہ : اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے.


And spend in the way of God, in obedience to Him, in holy struggle and the like; and cast not your own hands, yourselves (the bā’ of bi-aydīkum ‘with your hands’ is extra) into destruction, by withholding funds needed for the struggle or abandoning it altogether, because this will give your enemy the advantage over you; but be virtuous, by spending etc.; God loves the virtuous, that is, He rewards them.

حق جہاد کیا ہے؟ 
 حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے (بخاری) اور بزرگوں نے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی بیان فرمایا ہے، حضرت ابو عمران فرماتے ہیں کہ مہاجرین میں سے ایک نے قسطنطنیہ کی جنگ میں کفار کے لشکر پر دلیرانہ حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتا ہوا ان میں گھس گیا تو بعض لوگ کہنے لگے کہ یہ دیکھو یہ اپنے ہاتھوں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا اس آیت کا صحیح مطلب ہم جانتے ہیں سنو! یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اٹھائی آپ کے ساتھ جنگ وجہاد میں شریک رہے آپ کی مدد پر تلے رہے یہاں تک کہ اسلام غالب ہوا اور مسلمان غالب آگئے تو ہم انصاریوں نے ایک مرتبہ جمع ہو کر آپس میں مشورہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کے ساتھ ہمیں مشرف فرمایا ہم آپ کی خدمت میں لگے رہے آپ کی ہمرکابی میں جہاد کرتے رہے اب بحمد اللہ اسلام پھیل گیا مسلمانوں کا غلبہ ہو گیا لڑائی ختم ہو گئی ان دنوں میں نہ ہم نے اپنی اولاد کی خبر گیری کی نہ مال کی دیکھ بھال کی نہ کھیتیوں اور باغوں کا کچھ خیال کیا اب ہمیں چاہئے کہ اپنے خانگی معاملات کی طرف توجہ کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، پس جہاد کو چھوڑ کر بال بچوں اور بیوپار تجارت میں مشغول ہو جانا یہ اپنے ہاتھوں اپنے تئیں ہلاک کرنا ہے (ابوداود ، ترمذی، نسائی وغیرہ) ایک اور روایت میں ہے کہ قسطنطنیہ کی لڑائی کے وقت مصریوں کے سردار حضرت عقبہ بن عامر تھے اور شامیوں کے سردار یزید بن فضالہ بن عبید تھے، حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ اگر میں اکیلا تنہا دشمن کی صف میں گھس جاؤں اور وہاں گھر جاؤں اور قتل کر دیا جاؤں تو کیا اس آیت کے مطابق میں اپنی جان کو آپ ہی ہلاک کرنے والا بنوں گا ؟ آپ نے جواب دیا نہیں نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے آیت (فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ) 4۔ النسآء:84) اے نبی اللہ کی راہ میں لڑتا رہ تو اپنی جان کا ہی مالک ہے اسی کو تکلیف دے یہ آیت تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے رک جانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے (ابن مردویہ وغیرہ) ترمذی کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ آدمی کا گناہوں پر گناہ کئے چلے جانا اور توبہ نہ کرنا یہ اپنے ہاتھوں اپنے تئیں ہلاک کرنا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ مسلمانوں نے دمشق کا محاصرہ کیا اور ازدشنوہ کے قبیلہ کا ایک آدمی جرات کر کے دشمنوں میں گھس گیا ان کی صفیں چیرتا پھاڑتا اندر چلا گیا لوگوں نے اسے برا جانا اور حضرت عمرو بن عاص کے پاس یہ شکایت کی چنانچہ حضرت عمرو نے انہیں بلا لیا اور فرمایا قرآن میں ہے اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں لڑائی میں اس طرح کی بہادری کرنا اپنی جان کو بربادی میں ڈالنا نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں مال خرچ نہ کرنا ہلاکت میں پڑنا ہے، حضرت ضحاک بن ابو جبیرہ فرماتے ہیں کہ انصار اپنے مال اللہ کی راہ میں کھلے دل سے خرچ کرتے رہتے تھے لیکن ایک سال قحط سالی کے موقع پر انہوں نے وہ خرچ روک لیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی ، حضرت امام حسن بصری فرماتے ہیں اس سے مراد بخل کرنا ہے، حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ گنہگار کا رحمت باری سے ناامید ہو جانا یہ ہلاک ہونا ہے اور حضرات مفسرین بھی فرماتے ہیں کہ گناہ ہو جائیں پھر بخشش سے ناامید ہو کر گناہوں میں مشغول ہو جانا اپنے ہاتھوں پر آپ ہلاک ہونا ہے، تہلکۃ سے مراد اللہ کا عذاب بھی بیان کیا گیا ہے، قرطبی وغیرہ سے روایت ہے کہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتے تھے اور اپنے ساتھ کچھ خرچ نہیں لے جاتے تھے اب یا تو وہ بھوکوں مریں یا ان کا بوجھ دوسروں پر پڑے تو ان سے اس آیت میں فرمایا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اسے اس کی راہ کے کاموں میں لگاؤ اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو کہ بھوک پیاس سے یا پیدل چل چل کر مر جاؤ۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کو جن کے پاس کچھ ہے حکم ہو رہا ہے کہ تم احسان کرو تاکہ اللہ تمہیں دوست رکھے نیکی کے ہر کام میں خرچ کیا کرو بالخصوص جہاد کے موقعہ پر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے نہ رکو یہ دراصل خود تمہاری ہلاکت ہے، پس احسان اعلیٰ درجہ کی اطاعت ہے جس کا یہاں حکم ہو رہا ہے اور ساتھ ہی یہ بیان ہو رہا ہے کہ احسان کرنے والے اللہ کے دوست ہیں ۔



١٣) مجاہد کی شان:

القرآن : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ (البقرہ : ٢٠٧)

ترجمہ : اور بعض لوگ وہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔.


But there are other men who sell themselves, expend themselves in obedience to God, desiring God’s pleasure: this was Suhayb [b. Sinān al-Rūmī], who emigrated to Medina when the idolaters began to persecute him, leaving them all his property; and God is Gentle with His servants, for He guides them to what pleases Him.

اسباب نزول : حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ صہیب رضی اللہ عنہ رسول اللہ کی طرف ہجرت کرکے آرہے تھے کہ مشرکین کی ایک جماعت نے ان کا پھیچا شروع کردیا یہ اپنی سواری سے نیچے اترآئے اور ترکش میں جو تیر تھے انہیں بکھیر لیا اور اپنی کمان پکڑ لی اور کہا کہ اے قریش کی جماعت تم جانتے ہو کہ میں تم میں سب سے زیادہ تیرانداز ہوں اللہ کی قسم تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے تاوقتیکہ میں اپنے ترکش کے تیر تم پر ختم نہ کرلوں پھر اس کے بعد تلوار سے تمہارے ساتھ لڑوں گا جب تک کہ اس کا کچھ حصہ بھی میرے ہاتھ میں باقی رہے پھر تم جو چاہو کرو انہوں نے کہا کہ تم ہمیں اپنے گھر اور مال کی جو مکہ میں ہے خبر دو ہم تمہارا راستہ چھوڑ دیں گے انہوں نے حضرت صہیب سے وعدہ کیا کہ اگر انہوں نے مال دے دیا تو وہ انہیں چھوڑ دیں گے آپ نے ایسا ہی کیا جب آپ نبی کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے فرمایا اے ابو یحیی سودا بہت سود مندر ہا سودا بہت سودمند رہا اور اللہ نے اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ) 
ترجمہ۔ اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے۔ (الماطلب العالیہ ابن حجر رقم الحدیث 3552) 
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مشرکین نے حضرت صہیب کو پکڑ لیا اور انہیں سخت تکلیف پہنچائی آپ نے ان سے کہا کہ میں ایک بوڑھا آدمی ہوں تم میں سے رہوں یا غیر میں سے ہوجاؤں تمہیں کچھ نقصان نہیں کیا تم چاہتے ہو کہ میرامال لے لو اور مجھے میرے دین پر چھوڑ دو انہوں نے قبول کرلیا حضرت صہیب نے سواری نفقہ (راستے کا خرچ) کی شرط لگائی تھی آپ مدینہ کی طرف نکلے تو آپ کو حضرت ابوبکر،عمر اور چند افراد ملے حضرت ابوبکر نے آپ کو مبارک باد دی کہ تمہاری بیع فائدہ مند رہی حضرت صہیب نے کہا کہ تمہاری بیع بھی تو گھاٹے میں نہیں یہ کیا معاملہ ہے حضرت ابوبکر نے فرمایا کہاللہ نے تمہارے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ہے ۔ (تفسیر قرطبی 3۔20) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت کریمہ کس کے بارے میں نازل ہوئی جب مسلمان (میدان جنگ میں) کافر کے سامنے آتا تو اس سے کہتا کہ لاالہ اللہ پڑھ لے اگر تونے یہ کلمہ پڑھ لیا توتیر امال وجان محفوظ ہوجائیں گے اگر وہ انکار کردیتا تو مسلمان کہتا کہ اللہ کی قسم میں نے اپنی جان اللہ کو بیچ دی ہے پھر آگے بڑھتا اور یہاں تک لڑتا رہتا کہ قتل کردیا جاتا۔ (تفسیر الطبری 2۔187۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت کریمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ ابوخلیل کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کسی شخص کو یہ آیت تلاوت کرتے سناتو اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور کہا کہ ایک شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے کھڑا ہوا اور شہید کردیا گیا۔



١٣) جنت کا راستہ تکلیفوں اور آزمائشوں سے بھرا پڑا 

القرآن : اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ  ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ (البقرہ : ٢١٤)

ترجمہ : کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یونہی) بہشت میں داخل ہو جاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں ۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعو بتوں میں) ہِلا ہِلا دیئے گئے یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی؟ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آیا چاہتی) ہے۔


The following was revealed after the Muslims suffered a trying experience: Or did you suppose that you should enter Paradise without there having come upon you the like of, what came upon, those, believers, who passed away before you?, of trials, so that you may endure as they did; a new sentence begins here, explaining the previous one: They were afflicted by misery, extreme poverty, and hardship, illness, and were so convulsed, by all types of tribulations, that the Messenger and those who believed with him said (read yaqūla or yaqūlu), not expecting to see any help, on account of the extreme hardship afflicting them, ‘When will God’s help come?’, [the help] which we were promised; and God responded to them: Ah, but surely God’s help is nigh, in coming.

ہم سب کو آزمائش سے گزرنا ہے: مطلب یہ ہے کہ آزمائش اور امتحان سے پہلے جنت کی آرزوئیں ٹھیک نہیں اگلی امتوں کا بھی امتحان لیا گیا ، انہیں بھی بیماریاں مصیبتیں پہنچیں ، بأساء کے معنی فقیری وضراء کے معنی سخت بیماری بھی کیا گیا ہے۔ (زلزلوا) ان پر دشمنوں کا خوف اس قدر طاری ہوا کہ کانپنے لگے ان تمام سخت امتحانوں میں وہ کامیاب ہوئے اور جنت کے وارث بنے، صحیح حدیث میں ہے ایک مرتبہ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ہماری امداد کی دعا نہیں کرتے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بس ابھی سے گھبرا اٹھے سنو تم سے اگلے موحدوں کو پکڑ کر ان کے سروں پر آرے رکھ دئیے جاتے تھے اور چیر کر ٹھیک دو ٹکڑے کر دئیے جاتے تھے لیکن تاہم وہ توحید وسنت سے نہ ہٹتے تھے، لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت پوست نوچے جاتے تھے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو نہیں چھوڑتے تھے، قسم اللہ کی اس میرے دین کو تو میرا رب اس قدر پورا کرے گا کہ بلا خوف وخطر صنعاء سے حضر موت تک سوار تنہا سفر کرنے لگے گا اسے سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہ ہوگا، البتہ دل میں یہ خیال ہونا اور بات ہے کہ کہیں میری بکریوں پر بھیڑیا نہ پڑے لیکن افسوس تم جلدی کرتے ہو، قرآن میں ٹھیک یہی مضمون دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے ۔ آیت (الۗمّۗ Ǻ۝ۚ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ Ą۝ ) 29۔ العنکبوت:1) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض ایمان کے اقرار سے ہی چھوڑ دئیے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی ہم نے تو اگلوں کی بھی آزمائش کی سچوں کو اور جھوٹوں کو یقینا ہم نکھار کر رہیں گے، چنانچہ اسی طرح صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کی پوری آزمائش ہوئی یوم الاحزاب کو یعنی جنگ خندق میں ہوئی جیسے خود قرآن پاک نے اس کا نقشہ کھینچا ہے فرمان ہے آیت (اِذْ جَاۗءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَـنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا) 33۔ الاحزاب:10) یعنی جبکہ کافروں نے تمہیں اوپر نیچے سے گھیر لیا جبکہ آنکھیں پتھرا گئیں اور دل حلقوم تک آگئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ گمان ہونے لگے اس جگہ مومنوں کی پوری آزمائش ہو گئی اور وہ خوب جھنجھوڑ دئیے گئے جبکہ منافق اور ڈھل مل یقین لوگ کہنے لگے کہ اللہ رسول کے وعدے تو غرور کے ہی تھے ہرقل نے جب ابو سفیان سے ان کے کفر کی حالت میں پوچھا تھا کہ تمہاری کوئی لڑائی بھی اس دعویدار نبوت سے ہوئی ہے ابو سفیان نے کہا ہاں پوچھا پھر کیا رنگ رہا کہا کبھی ہم غالب رہے کبھی وہ غالب رہے تو ہرقل نے کہا انبیاء کی آزمائش اسی طرح ہوتی رہتی ہے لیکن انجام کار کھلا غلبہ انہیں کا ہوتا ہے مثل کے معنی طریقہ کے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (وَّمَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِيْنَ) 43۔ الزخرف:8) ، اگلے مومنوں نے مع نبیوں کے ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کی اور سخت اور تنگی سے نجات چاہی جنہیں جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کی امداد بہت ہی نزدیک ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا Ĉ۝ۙ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا Č۝ۭ ) 94۔ الشرح:6-5) ، یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے برائی کے ساتھ بھلائی ہے، ایک حدیث میں ہے کہ بندے جب ناامید ہونے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ تعجب کرتا ہے کہ میری فریاد رسی تو آپہنچنے کو ہے اور یہ ناامید ہوتا چلا جا رہا ہے پس اللہ تعالیٰ ان کی عجلت اور اپنی رحمت کے قرب پر ہنس دیتا ہے۔



١٣) اپنے اقربا پر مال خرچ کرکے ان کا سامان جہاد پورا کرو

القرآن : يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ ڛ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ  (البقرہ : ٢١٥)

ترجمہ : (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں ۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ کو اور قریب کے رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے۔

They will ask you, O Muhammad (s), about what they should expend. This was the question posed by ‘Amr b. al-Jamūh. He was a wealthy elderly man and went to ask the Prophet (s) what and for whom he should expend; Say, to them: ‘Whatever you expend of good (min khayrin, ‘of good’, is an explication of mā, ‘whatever’, covering small and large amounts, and denotes one half of the question represented by the expender; God responds with regard to the one receiving the expenditure, this pertaining to the other half of the question, in the following) it is for parents and kinsmen, orphans, the needy, and the traveller, that is, they are the most deserving of it; and whatever good you may do, by way of expending or otherwise, God has knowledge of it’, and will requite it accordingly.


اسباب نزول : حضرت ابن عباس کا ابوصالح کی روایت میں کہنا ہے کہ یہ آیت عمرو بن الجموح الانصاری کے بارے میں نازل ہوئی یہ صاحب بڑے سردار اور مالدار تھے انہوں نے رسول اللہ سے پوچھا کہ ہم کیاصدقہ کریں اور کس پر خرچ کریں ؟ اس پر آیت نازل ہوئی۔

حضرت ابن عباس نے بروایت عطاء کہا کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو نبی کریم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا کہ اس کو اپنے نفس پر خرچ کر اس نے عرض کیا کہ میرے پاس دو دینار ہیں آپ نے فرمایا کہ انہیں اپنے اہل وعیال پر خرچ کر اس نے کہا کہ میرے پاس تین دینار ہیں تو آپ نے فرمایا کہ انہیں اپنے خادم پر خرچ کر اس نے عرض کیا کہ میرے پاس چار دینار ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ان کو اپنے والدین پر خرچ کر۔ اس نے عرض کیا کہ میرے پاس پانچ دینار ہیں تو آپ نے فرمایا کہ انہیں اپنے قرابت داروں پر خرچ کر اس نے عرض کیا کہ میرے پاس چھ دینار ہیں تو آپ نے فرمایا کہ تو انہیں اللہ کی راہ پر خرچ کر اور یہ سب سے اچھا مصرف ہے۔



١٤) علم الہی کے مطابق الله کی راہ میں لڑنا تم پر فرض ہے

القرآن : كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (البقرہ : ٢١٦)

ترجمہ : (مسلمانو!) تم پر (خدا کے راستے میں) لڑنا فرض کر دیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لیے مضر ہو اور (ان باتوں کو) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

Prescribed for you, obligatory [for you], is fighting, disbelievers, though it be hateful to you, by nature, because of the hardship involved. Yet it may happen that you hate a thing which is good for you; and it may happen that you love a thing which is bad for you: because the soul inclines towards those desires which result in its destruction and its rejection of the religious obligations that would bring about its happiness. Perhaps, then, even if you are averse to it, you will find much good in fighting, as a result of victory, booty, martyrdom or reward; while, if you were to reject fighting, even if you would like to do so, you will find much evil, because then you may be subjugated, impoverished and denied the reward; God knows, what is good for you, and you know, this, not, so strive in what He commands you.



جہاد بقائے ملت کا بنیادی اصول: دشمنان اسلام سے دین اسلام کے بچاؤ کے لئے جہاد کی فرضیت کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے زہری فرماتے ہیں جہاد ہر شخص پر فرض ہے، خواہ لڑائی میں نکلے خواہ بیٹھا رہے سب کا فرض ہے کہ جب ان سے مدد طلب کی جائے تو وہ امداد کریں جب ان سے فریاد کی جائے یہ فریاد رسی کریں جب انہیں میدان میں بلایا جائے یہ نکل کھڑے ہوں صحیح حدیث شریف میں ہے جو شخص مر جائے اور اس نے نہ تو جہاد کیا ہو نہ اپنے دل میں جہاد کی بات چیت کی ہو وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور حدیث میں ہے، فتح مکہ کے بعد ہجرت تو نہیں رہی لیکن جہاد اور نیت موجود ہے اور جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو نکل کھڑے ہو یہ حکم آپ نے مکہ کی فتح کے دن فرمایا تھا۔ پھر فرمایا ہے حکم جہاد گو تم پر بھاری پڑے گا اور اس میں تمہیں مشقت اور تکلیف نظر آئے گی ممکن ہے قتل بھی کئے جاؤ ممکن ہے زخمی ہو جاؤ پھر سفر کی تکلیف دشمنوں کی یورش کا مقابلہ ہو لیکن سمجھو تو ممکن ہے تم برا جانو اور ہو تمہارے لئے اچھا کیونکہ اسی سے تمہارا غلبہ اور دشمن کی پامالی ہے ان کے مال ان کے ملک بلکہ ان کے بال بچے تک بھی تمہارے قدموں میں گر پڑیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو اپنے لئے اچھا جانو اور وہ ہی تمہارے لئے برا ہو عموما ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک چیز کو چاہتا ہے لیکن فی الواقع نہ اس میں مصلحت ہوتی ہے نہ خیروبرکت اسی طرح گو تم جہاد نہ کرنے میں اچھائی سمجھو دراصل وہ تمہارے لئے زبردست برائی ہے کیونکہ اس سے دشمن تم پر غالب آجائے گا اور دنیا میں قدم ٹکانے کو بھی تمہیں جگہ نہ ملے گی ، تمام کاموں کے انجام کا علم محض پروردگار عالم ہی کو ہے وہ جانتا ہے کہ کونسا کام تمہارے لئے انجام کے لحاظ سے اچھا ہے اور کونسا برا ہے ، وہ اسی کام کا حکم دیتا ہے جس میں تمہارے لئے دونوں جہان کی بہتری ہو تم اس کے احکام دل وجان سے قبول کر لیا کرو اور اس کے ہر ہر حکم کو کشادہ پیشانی سے مان لیا کرو اسی میں تمہاری بھلائی اور عمدگی ہے۔



١٥) فتنہ و ارتداد کے خاتمہ کے لئے جہاد ہمیشہ جاری رہے گا

القرآن : يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ۭ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ ۭ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَكُفْرٌۢ بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۤ وَ اِخْرَاجُ اَھْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۭ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا  ۭ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَھُوَ كَافِرٌ فَاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ  ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (البقرہ : ٢١٧)

ترجمہ :  (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے اور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے اور فتنہ انگیزی خونزیری سے بھی بڑھ کر ہے اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر (کر کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہو جائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Thus the Prophet (s) sent forth the first of his raiding parties under the command of ‘Abd Allāh b. Jahsh. They fought against the idolaters and killed [‘Amr b. ‘Abd Allāh] Ibn al-Hadramī in [the sacred month of] Rajab, thinking that it was the last day of Jumādā II. The disbelievers reviled them for making fighting lawful in a sacred month, and so God revealed the following: They ask you about the sacred, the forbidden, month, and fighting in it (qitālin fīhi, ‘fighting in it’, is an inclusive substitution [for al-shahri l-harāmi, ‘the sacred month’]). Say, to them: ‘Fighting (qitālun is the subject) in it is a grave thing (kabīr, ‘grave’, is the predicate), that is, heinous in terms of sin; but to bar (saddun is the subject), people, from God’s way, His religion, and disbelief in Him, in God, and, to bar from, the Sacred Mosque, that is, Mecca, and to expel its people, the Prophet (s) and the believers, from it — that is graver (the predicate of the [last] subject), [that is] more heinous in terms of sin than fighting in it, in God’s sight; and sedition, your idolatry, is graver than, your, slaying’, in it. They, the disbelievers, will not cease to fight against you, O believers, until, so that, they turn you from your religion, to unbelief, if they are able; and whoever of you turns from his religion, and dies disbelieving — their, good, works have failed, that is, they are invalid, in this world and the Hereafter. Thus they will not count for anything and will not result in any reward. The specification of death as a condition is because if that person were to return to Islam [again], his original deeds would not be invalidated, and he will be rewarded for them, and he would not have to repeat them, [deeds] such as [performing] the Pilgrimage: al-Shāfi‘ī is of this opinion. Those are the inhabitants of the Fire, abiding therein.



ابن الحضرمی کافر کا قتل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جماعت کو بھیجا اور اس کا امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا جب وہ جانے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدائی کے صدمہ سے رو دئیے آپ نے انہیں روک لیا اور ان کے بدلے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو سردار لشکر مقرر کیا اور انہیں ایک خط لکھ کر دیا اور فرمایا کہ جب تک بطن نخلہ نہ پہنچو اس خط کو نہ پڑھنا اور وہاں پہنچ کر جب اس مضمون کو دیکھو تو ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا چنانچہ حضرت عبداللہ اس مختصر سی جماعت کو لے کر چلے جب اس مقام پر پہنچے تو فرمان نبی پڑھا اور کہا میں فرمانبرداری کے لئے تیار ہوں پھر اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور واقعہ بیان کیا دو شخص تو لوٹ گئے لیکن اور سب ساتھ چلنے کے لئے آمادہ ہو گئے آگے چل کر ابن الحضرمی کافر کو انہوں نے پایا چونکہ یہ علم نہ تھا کہ جمادی الاخری کا یہ آخری دن ہے یا رجب کا پہلا دن ہے انہوں نے اس لشکر پر حملہ کر دیا ابن الحضرمی مارا گیا اور صحابہ کی یہ جماعت وہاں واپس ہوئی اب مشرکین نے مسلمانوں پر اعتراض کرنا شروع کیا کہ دیکھو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی اور قتل بھی کیا اس بارے میں یہ آیت اتری (ابن ابی حاتم) ایک اور روایت میں ہے کہ اس جماعت میں حضرت عمار بن یاسر، حضرت ابو حذیفہ بن عبتہ بن ربیعہ، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت عتبہ بن غزوان سلمی، حضرت سہیل بن بیضاء، حضرت عامر بن فہیرہ اور حضرت واقد بن عبداللہ یربوعی رضی اللہ عنہم تھے۔ بطن نخلہ پہنچ کر حضرت عبداللہ بن جحش نے صاف فرما دیا تھا کہ جو شخص شہادت کا آرزو مند ہو وہی آگے بڑے یہاں سے واپس جانے والے حضرت سعد بن ابی وقاص اور عتبہ رضی اللہ عنہما تھے ان کے ساتھ نہ جانے کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ان کا اونٹ گم ہو گیا تھا جس کے ڈھونڈنے میں وہ رہ گئے ،۔ مشرکین میں حکم بن کیسان، عثمان بن عبداللہ وغیرہ تھے۔ حضرت واقد کے ہاتھوں عمرو قتل ہوا اور یہ جماعت مال غنیمت لے کر لوٹی۔ یہ پہلی غنیمت تھی جو مسلمان صحابہ کو ملی اور یہ جانباز جماعت دو قیدیوں کو اور مال غنیمت لے کر واپس آئی مشرکین مکہ نے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنا چاہا (یہاں اصل عربی میں کچھ عبارت چھوٹ گئی ہے) اور انہوں نے اعتراضا کہا کہ دیکھو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار ہیں لیکن حرمت والے مہینوں کی کوئی حرمت نہیں کرتے اور ماہ رجب میں جدال وقتال کرتے ہیں ، مسلمان کہتے تھے کہ ہم نے رجب میں قتل نہیں کیا بلکہ جمادی الاخری میں لڑائی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ رجب کی پہی رات اور جمادی الاخری کی آخری شب تھی رجب شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میان میں ہو گئی تھیں ، مشرکین کے اس اعتراض کا جواب اس آیت میں دیا جا رہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ حرام ہے لیکن اے مشرکوں تمہاری بداعمالیاں تو برائی میں اس سے بھی بڑھ کر ہیں ، تم اللہ کا انکار کرتے ہو تم میرے نبی اور ان کے ساتھیوں کو میری مسجد سے روکتے ہو تم نے انہیں وہاں سے نکال دیا پس اپنی ان سیاہ کاریوں پر نظر ڈالو کہ یہ کس قدر بدترین کام ہیں، انہی حرمت والے مہینوں میں ہی مشرکین نے مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے روکا تھا اور وہ مجبورا واپس ہوئے تھے اگلے سال اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں میں ہی مکہ کو اپنے نبی کے ہاتھ فتح کروایا۔ انہیں ان آیتوں میں لاجواب کیا گیا عمرو بن الحضرمی جو قتل کیا گیا یہ طائف سے مکہ کو آ رہا تھا ، گو رجب کا چاند چرھ چکا تھا لیکن صحابہ کو معلوم نہ تھا وہ اس رات کو جمادی الاخری کی آخری رات جانتے تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن جحش کے ساتھ آٹھ آدمی تھے سات تو وہی جن کے نام اوپر بیان ہوئے آٹھویں حضرت رباب اسدی رضی اللہ عنہ تھے انہیں بدر اولیٰ سے واپسی کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا تھا یہ سب مہاجر صحابہ تھے ان میں ایک بھی انصاری نہ تھا دو دن چل کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس نامہ مبارک کو پڑھا جس میں تحریر تھا کہ میرے اس حکم نامہ کو پڑھ کر مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں جاؤ وہاں ٹھہرو اور قریش کے قافلہ کا انتظار کرو اور ان کی خبریں معلوم کر کے مجھے پہنچاؤ یہ بزرگ یہاں سے چلے تو سب ہی چلے تھے دو صحابی جو اونٹ کو ڈھونڈنے کے لئے رہ گئے تھے وہ بھی یہاں سے ساتھ ہی تھے لیکن فرغ کے اوپر معدن پر پہنچ کر نجران میں انہیں اونٹوں کی تلاش میں رک جانا پڑا، قریشیوں کے اس قافلہ میں زیتون وغیرہ تجارتی مال تھا مشرکین میں علاوہ ان لوگوں کے جن کے نام اوپر بیان ہوئے ہیں نوفل بن عبداللہ وغیرہ بھی تھے مسلمان اول تو انہیں دیکھ کر گھبرائے لیکن پھر مشورہ کر کے مسلمانوں نے حملہ یہ سوچ کر کیا کہ اگر انہیں چھوڑ دیا تو اس رات کے بعد حرمت کا مہینہ آجائے گا تو ہم پھر کچھ بھی نہ کر سکیں گے انہوں نے شجاعت ومردانگی کے ساتھ حملہ کیا حضرت واقد بن عبداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حضرمی کو ایسا تاک کر تیر لگایا کہ اس کا تو فیصلہ ہی ہو گیا عثمان اور حکم کو قید کر لیا اور مال وغیرہ لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے راستہ میں ہی سردار لشکر نے کہہ دیا تھا کہ اس مال میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے چنانچہ یہ حصہ تو الگ کر کے رکھ دیا گیا اور باقی مال صحابہ میں تقسیم کر دیا اور اب تک یہ حکم نازل نہیں ہوا تھا کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنا چاہئے ، جب یہ لشکر سرکار نبوی میں پہنچا تو آپ نے واقعہ سن کر ناراضگی ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کو کب کہا تھا نہ تو قافلہ کا کچھ مال آپ نے لیا نہ قیدیوں کو قبضہ میں کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول وفعل سے یہ مسلمان سخت نادم ہوئے اور اپنی گنہگاری کا انہیں یقین ہو گیا پھر اور مسلمانوں نے بھی انہیں کچھ کہنا سننا شروع کیا ادھر قریشیوں نے طعنہ دینا شروع کیا کہ محمد اور آپ کے صحابہ حرمت والے مہینوں میں بھی جدال وقتال سے باز نہیں رہتے دوسری جانب یہودیوں نے ایک بدفالی نکالی چونکہ عمرو قتل کیا گیا تھا انہوں نے کہا عمرت الحرب لڑائی پر رونق اور خوب زوروشور سے لمبی مدت تک ہوگی اس کے باپ کا نام حضرمی تھا اس سے انہوں نے فال لی کہ حضرت الحرب وقت لڑائی آپہنچا، قاتل کا نام واقد تھا جس سے انہوں نے کہا وقدت الحرب لڑائی کی آگ بھڑک اٹھی لیکن قدرت نے اسے برعکس کر دیا اور نتیجہ تمام تر مشرکین کے خلاف رہا اور ان کے اعتراض کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر بالفرض جنگ حرمت والے مہینہ میں ہوئی بھی ہو تو اس سے بھی بدترین تمہاری سیاہ کاریاں موجود ہیں تمہارا یہ فتنہ کہ تم دین اللہ سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی اپنی تمام تر امکانی کوششیں کر رہے ہو یہ اس قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور تم نہ تو اپنے ان کاموں سے رکتے ہو نہ توبہ کرتے ہو نہ اس پر نادم ہوتے ہو، ان آیات کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس رنج وافسوس نجات پائے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قافلہ اور قیدیوں کو اپنے قبضہ میں لیا، قریشیوں نے پھر آپ کے پاس قاصد بھیجا کہ ان دونوں قیدیوں کا فدیہ لے لیجئے مگر آپ نے فرمایا کہ میرے دونوں صحابی سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما جب آجائیں تب آؤ مجھے ڈر ہے کہ تم انہیں ایذاء نہ پہنچاؤ چنانچہ جب وہ آگئے تو آپ نے فدیہ لے لیا اور دونوں قیدیوں کو رہا کر دیا حکم بن کیسان رضی اللہ عنہ تو مسلمان ہو گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہی رہ گئے آخر بیر معونہ کی لڑائی میں شہید ہوئے (رضی اللہ عنہ ) ہاں عثمان بن عبداللہ مکہ واپس گیا اور وہیں کفر میں ہی مرا، ان غازیوں کو یہ آیت سن کر بڑی خوشی حاصل ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے حرمت والے مہینوں کی بے ادبی کے سبب سے دوسرے صحابی کی چشمک کی بنا پر کفار کے طعنہ کے باعث جو رنج وغم ان کے دلوں پر تھا سب دور ہو گیا لیکن اب یہ فکر پڑی کہ ہمیں اخروی اجر بھی ملے گا یا نہیں ہم غازیوں میں بھی شمار ہوں گے یا نہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوالات کئے گئے تو اس کے جواب میں یہ آیت (ان الذین امنوا) الخ ، نازل ہوئی اور ان کی بڑی بڑی امیدیں بندھ گئیں رضی اللہ عنہم اجمعین، اسلام اور کفر کے مقابلہ میں کافروں میں سب سے پہلے یہی ابن الحضرمی مارا گیا، کفار کا وفد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ کیا حرمت والے مہینوں میں قتل کرنا جائز ہے اور اس پر یہ آیت (یسئلونک) الخ، نازل ہوئی یہی مال غنیمت تھا جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور سب سے پہلے پانچواں حصہ حضرت عبداللہ بن جحش نے ہی نکالا جو اسلام میں باقی رہا اور حکم الہ بھی اس طرح نازل ہوا اور یہی دو قیدی تھے جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھوں اسیر ہوئے ، اس واقعہ کو ایک نظم میں بھی ادا کیا گیا ہے بعض تو کہتے ہیں کہ یہ اشعار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہیں لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اشعار عبداللہ بن جحش کے ہیں جو اس مختصر سے لشکر کے سردار تھے اللہ ان سے خوش ہو ۔




١٦) مومن کے اونچے اور مقبول اعمال ہجرت اور جہاد ہیں

القرآن : اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ  (البقرہ : ٢١٨)

ترجمہ :  جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امید وار ہیں اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے۔

When those of the raiding party [of ‘Abd Allāh b. Jahsh] thought that, although they had been released from the sin [of having slain in the sacred month], they would not receive any reward, the following was revealed: Verily the believers, and those who emigrate, and depart from their homeland, and struggle in God’s way, in order to elevate His religion — those have hope of God’s compassion, His reward; and God is Forgiving, of believers, Merciful, to them.


اسباں نزول : مفسرین کا قول ہے کہ رسول اللہ نے عبداللہ بن حجش کو جو رسول اللہ کا پھوپھی زاد تھا جنگ بدر سے دو ماہ پہلے جمادی الاخری میں مدینہ منورہ میں وارد ہونے کے سترہویں مہینے کے آخر میں روانہ کیا اور ان کے ساتھ مہاجرین کے آٹھ خاندان بھیجے جن میں سعد بن ابی وقاص الزہری ،عکاشہ بن محصن الاسدی ،عتبہ بن غزوان السلمی ، ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ سہیل بن بیضاء ،عامر بن ربیعہ واقد بن عبداللہ اور خالد بن بکیر شامل تھے آپ نے ان کے امیر عبداللہ بن جحش کو خط لکھا کہ اللہ کے نام پر روانہ ہوجاؤ اس خط کو دوروز کے سفر سے پہلے نہ کھولنا جب تم دو منزل سفر کرچکو توخط کھولو اور اسے اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنادو پھر میری ہدایت کے مطابق روانہ ہوجاؤ اپنے کسی ساتھی کو اپنے ساتھ لے جانے پر مجبور نہ کرنا چنانچہ عبداللہ نے دو دن سفر کیا پھر پڑاؤ ڈالا اور خط کھولا خط میں تحریر تھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اما بعد فسر علی برکۃ اللہ بمن تبعک من اصحابک حتی تنزل بطن نخلۃ فترصدبھا غیر قریش لعلک ان تاتینا منہ بغیر۔ یعنی خدائے رحمن ورحیم کے نام سے اما بعد اللہ کی برکت سے روانہ ہوجاؤ اور اپنے ساتھ اپنے ساتھیوں میں سے ان کو ساتھ لو جو ساتھ چلیں وہاں جا کر قریش کے کاروان تجارت کی گھات میں رہو شاید تم ہمیں اس کی اطلاع دے دو ۔ جب عبداللہ نے خط دیکھ لیا تو کہا بسر وچشم پھر اس نے اپنے ساتھیوں کو خط کامضمون بتادیا اور کہا کہ مجھے نبی کریم نے منع فرمایا تھا کہ میں تم میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کروں وہ الفروع کے اوپر المعدن پہنچ گئے سعد بن وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ گم ہوگیا تھا وہ اس اونٹ کی تلاش کررہے تھے انہوں نے اپنے اونٹ کی تلاش کے لیے پیچھے رہ جانے کی اجازت چاہی عبداللہ نے انہیں پیچھے جانے کی اجازت دے دی اور وہ اونٹ کی تلاش کے لیے پیچھے رہ گئے۔ حضرت عبداللہ باقی ساتھیوں کے ساتھ چل دیے تاآنکہ وہ مکہ اور طائف کے درمیان واقع بطن نخلہ میں پہنچ گئے وہ اسی حالت میں تھے کہ ان کے پاس سے قریش کا وہ کاروان گزرا جو اونٹوں پر خشک میوہ اور چمڑا اور طائف کا کچھ مال تجارت لادے ہوئے تھے اس کاروان میں عمرو بن الحضرمی، الحکم بن کیسان،عثمان بن عبداللہ بن المغیرہ ، نوفل بن عبداللہ تھے موخر الذکر دونوں مخزومی تھے جب انہوں نے رسول اللہ کے صحابہ کو دیکھا تو ان سے خوفزدہ ہوگئے عبداللہ نے کہا کہ کاروان کے لوگ تم سے خوفزدہ ہوگئے ہیں تم اپنے آدمیوں میں سے ایک آدمی کا حلق کرادو جب کاروان کے لوگ دیکھیں سر منڈھا ہوا تو مطمئن ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم لوگ عمرہ کرنے والے ہیں ۔ چنانچہ صحابہ نے عکاشہ کا سر مونڈھ دیا پھروہ کاروان والوں کے سامنے ہوا کاروان والوں نے کہا کہ یہ لوگ عمرہ والے ہیں پریشانی والی کوئی بات نہیں چنانچہ کاروان والے مطمئن ہوگئے یہ جمادی الاخری کے آخری دن کا واقعہ ہے صحابہ کی رائے تھی کہ یہ دن جمادی الاخری یا رجب کا دن ہے لہذا انہوں نے کاروان والوں کے بارے میں باہم مشورہ کیا اور کہا کہ اگر تم نے ان کو آج رات چھوڑ دیا تو یہ ماہ حرم میں داخل ہوجائیں گے اس طرح یہ لوگ آپ سے محفوظ ہوجائیں گے چنانچہ انہوں نے کاروان والوں پرحملہ کرنے کافیصلہ کیا۔ واقد بن عبداللہ نے عمرو بن الحضرمی کو تیر مار کرقتل کردیا یہ مشرکوں میں سے پہلا مقتول تھا الحکم اور عثمان کو قید کرلیا یہ دو شخص تاریخ اسلام میں پہلے دو کافر قیدی تھے نوفل بچ نکلا اور قابو میں نہ آیا۔

مسلمان کاروان تجارت اور قیدیوں کو ہانک کر لے گئے اور نبی کریم کی خدمت میں پہنچ گئے قریش نے کہا کہ محمد نے حرمت والے مہینے کاتقدس پامال کردیا یہ ایسا مہینہ ہے جس میں ہر خوفزدہ پرامن ہوجاتا ہے اور لوگ اپنے روزگار کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اسی ماں میں اس نے خون بہایا اور مال اسباب لوٹا۔ اہل مکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو شرم دلائی اور کہا کہ اے بے دین لوگوں کے جتھو تم نے حرمت والے مہینے کے تقدس کو پامال کیا اوراس مہینے میں لڑائی کی یہود نے اس واقعے سے بدشگونی لی اور کہا کہ واقد نے جنگ کی آگ بھڑکائی عمرو نے جنگ کو پروان چھڑھایا اور حضرمی نے جنگ کو برپا کیا ان باتوں کی اطلاع رسول اللہ کو پہنچی تو آپ نے ابن جحش اور ان کے ساتھیوں سے کہا کہ میں نے تم کو مقدس مہینے میں جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا آپ نے کاروان کے سامان اور تجارت اور قیدیوں کو قبول کرنے میں توقف کیا آپ نے ان سے کوئی چیز لینے سے انکار کردیا یہ بات اس مہم میں شریک صحابہ پر گراں گذری انہیں گمان ہوا کہ وہ اب ہلاک ہوگئے ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ہم نے ابن حضرمی کو قتل کیا پھر شام ہوئی تو ہم نے رجب کاچاند نہ دیکھا ہمیں پتہ نہیں کہ ہم نے اسے رجب میں قتل کیا یاجمادی الاخری میں اس سلسلے میں لوگوں میں بہت چہ میگوئیاں ہونے لگیں تواللہ نے یہ آیت نازل کی۔ یسالونک عن الشھرالحرام۔ اس پر رسول اللہ نے کاروان کا سامان تجارت قبول کرلیا اس میں سے خمس نکالا دور اسلام میں یہ پہلا خمس تھا جو مال غنیمت میں سے نکالا گیا باقی مال اس مہم میں شریک ہونے والوں کے درمیان تقسم کردیا گیا دو اسلام میں یہ پہلا مال غنیمت تھا اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے فدیہ بھیجا تو رسول اللہ نے فرمایا کہ ہم ان قیدیوں کو سعید اور عتبہ کے آنے تک روکے لیں گے اگر وہ نہ آئے تو ہم ان میں سے دو قیدیوں کو ان کے قصاص میں قتل کردیں گے۔ چنانچہ یہ دونوں صحابی پہنچ گئے تو آپ نے قیدیوں کورہا کردیا ان قیدیوں میں سے الحکم بن کیسان نے اسلام قبول کرلیا اور رسول اللہ کے ساتھ مدینہ میں رہائش اختیار کرلی وہ بئر معونہ کے معرکہ میں شہید ہوگئے۔ عثمان بن عبداللہ واپس مکہ چلا گیا اوروہیں کفر کی حالت میں فوت ہوگیا البتہ نوفل نے جنگ احزاب میں اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر خندق عبور کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوسکے لیکن وہ اپنے گھوڑے سمیت خندق میں گر گیا اور دونوں گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اسے اللہ نے یوں قتل کردیا مشرکوں نے مال دے کر اس کی لاش کامطالبہ کیا تو رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ رقم لے لو کیونکہ یہ خبیث مردار لاش ہے اور خبیث الدیہ ہے یہ واقعہ اس آیت اور بعد والی آیت کا شان نزول ہے یعنی یسالونک عن الشھر والی اور اس کے بعد والی آیت کا۔





(جاری)

No comments:

Post a Comment