Tuesday, 8 October 2013

قرآن مجید میں الله تعالیٰ کا تعارف

اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ الحَىُّ القَيّومُ ۚ لا تَأخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَومٌ ۚ لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ مَن ذَا الَّذى يَشفَعُ عِندَهُ إِلّا بِإِذنِهِ ۚ يَعلَمُ ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم ۖ وَلا يُحيطونَ بِشَيءٍ مِن عِلمِهِ إِلّا بِما شاءَ ۚ وَسِعَ كُرسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ ۖ وَلا يَـٔودُهُ حِفظُهُما ۚ وَهُوَ العَلِىُّ العَظيمُ {2:255}
اللہ (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہں زندہ ہے سب کا تھامنے والا [۴۱۶] نہیں پکڑ سکتی اس کو اونگھ اور نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ایسا کون ہے جو سفارش کرے اس کے پاس مگر اجازت سے جانتا ہے جو کچھ خلقت کے روبرو ہے اور جو کچھ انکے پیچھے ہے اور وہ سب احاطہ نہیں کر سکتے کسی چیز کا اس کی معلومات میں سے مگر جتنا کہ وہی چاہے گنجائش ہے اس کی کرسی میں تمام آسمانوں اور زمین کو اور گراں نہیں اس کو تھامنا ان کا اور وہی ہے سب سے برتر عظمت والا [۴۱۷]
اس آیت میں توحید ذات اور عظمت صفات حق تعالیٰ کو بیان فرمایا کہ حق تعالیٰ موجود ہے ہمیشہ سے اور کوئی اس کا شریک نہیں تمام مخلوقات کا موجد وہی ہے تمام نقصان اور ہر طرح کے تبدل اور فتور سے منزہ ہے سب چیزوں کا مالک ہے تمام چیزوں کا کامل علم اور سب پر پوری قدرت اور اعلیٰ درجے کی عظمت اس کو حاصل ہے کسی کو نہ اتنا استحقاق نہ اتنی مجال کہ بغیر اس کے حکم کے کسی کی سفارش بھی اس سے کر سکے کوئی امر ایسا نہیں جس کے کرنے میں اس کو دشواری اور گرانی ہو سکے ۔ تمام چیزوں اور سب کی عقلوں سے برتر ہے اس کے مقابلہ میں سب حقیر ہیں ۔ اس سے دو مضمون اور خوب ذہن نشین ہو گئے ایک تو حق تعالیٰ کی ربوبیت اور حکومت اور اپنی محکومیت اور عبدیت جس سے حق تعالیٰ کے تمام احکامات مذکورہ اور غیر مذکورہ کا بلا چون و چراں واجب التصدیق اور واجب التعمیل ہونا اور اس کے احکام میں کسی قسم کے شک و شبہ کا معتبرنہ ہونا معلوم ہو گیا دوسرے عبادات و معاملات کثیرہ مذکورہ سابقہ کو اور ان کے ساتھ تنعیم و تعذیب کو دیکھ کر کسی کو خلجان ہو سکتا تھا کہ ہر ہر فرد کے اس قدر معاملات و عبادات کثیرہ ہیں کہ جن کا مجموعہ اتنا ہوا جاتا ہے کہ ان کا ضبط اور حساب کتاب محال معلوم ہوتا ہے پھر اس کے مقابلہ میں ثواب و عقاب یہ بھی عقل سے باہر غیر ممکن معلوم ہوتا ہے سو اس آیت میں حق سبحانہ نے چند صفات مقدسہ اپنی ایسی ذکر فرمائیں کہ وہ تمام خیالات بسہولت دور ہوگئے یعنی اس کا علم و قدرت ایسا کامل ہے کہ ایک چیز بھی ایسی نہیں جو اس سے باہر ہو جس کا علم اور قدرت ایسا غیر متناہی اور ہمیشہ یکساں رہنے والا ہو اس کو تمام جزئیات عالم کے ضبط رکھنے اور ان کاعوض عطا فرمانے میں کیا دقت ہو سکتی ہے۔
پہلی آیت سے حق سبحانہ کی عظمت شان بھی مفہوم ہو تی ہے اب اس کے بعد اس آیت کو جس میں توحید ذات اور اس کا تقدس و جلال غایت عظمت و وضاحت کے ساتھ مذکور ہے نازل فرمائی اور اسی کا لقب آیۃ الکرسی ہے اسی کو حدیث میں اعظم آیات کتاب اللہ فرمایا ہے اور بہت فضیلت اور ثواب منقول ہے اور اصل بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں رلا ملا کر تین قسم کے مضمون کو جگہ جگہ بیان فرمایا ہے علم توحید و صفات، علم احکام، علم قصص و حکایات سے بھی توحید و صفات کی تقریر و تائید مقصود ہوتی ہے یا علم احکام کی تاکید و ضرورت اور علم توحید و صفات اور علم احکام بھی باہم ایسے مربوط ہیں کہ ایک دوسرے کے لئے علت اور علامت ہے صفات حق تعالیٰ احکام شرعیہ کے حق میں منشاء اور اصل ہیں تو احکام شرعیہ صفات کے لئے بمنزلہ ثمرات اور فروع ہیں تو اب ظاہر ہے کہ علم قصص اور علم احکام سے علم توحید کو ضرور اعانت اور تقویت پہنچے گی اور علم قصص اور علم توحید و صفات سے ضرور علم احکام کی تاکید اور اس کی ضرورت بلکہ حقیقت اور اصلیت ثابت ہو گی اور یہ طریقہ جو تین طریقوں سے مرکب ہے بغایت احسن اور اسہل اور قابل قبول ہے اول تو اس وجہ سے کہ ایک طریقہ کہ پابندی موجب ملال ہوتی ہے اور ایک علم سے دوسرے کی طرف منتقل ہوجانا ایسا ہوجاتا ہے جیسا ایک باغ کی سیر کر کے دوسرے باغ کی سیر کرنے لگے دوسرے تینوں طریقوں سے مل کر حقیقت منشاء ثمرہ نتیجہ سب ہی معلوم ہو جائے گا اور اس میں تعمیل احکام نہایت شوق و مستعدی اور رغبت و بصیرت کے ساتھ ہو گی۔ اس لئے طریقہ مذکورہ بغایت عمدہ اور مفید اور قرآن مجید میں کثیر الاستعمال ہے اس جگہ دیکھ لیجئے کہ اول احکام کو کس کثرت و تفصیل سے بیان فرمایا اس کے بعد بقدر مصلحت قصص کو بیان کر کے تمام احکامات مذکورہ کے فوائد و نتائج گویا ہم کو آنکھوں سے دکھلا دیئے ان سب کے بعد آیۃ الکرسی جو کہ دربارہ توحید و صفات ممتاز آیت ہے اس کو بیان فرما کر جملہ احکامات کی جڑ کو دلوں میں ایسا مستحکم فرما دیا کہ اکھاڑے نہ اکھڑے۔





اللَّهُ وَلِىُّ الَّذينَ ءامَنوا يُخرِجُهُم مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ ۖ وَالَّذينَ كَفَروا أَولِياؤُهُمُ الطّٰغوتُ يُخرِجونَهُم مِنَ النّورِ إِلَى الظُّلُمٰتِ ۗ أُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ {2:257}
جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

اللہ مددگار ہے ایمان والوں کا نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف اور جو لوگ کافر ہوئے ان کے رفیق ہیں شیطان نکالتے ہیں ان کو روشنی سے اندھیروں کی طرف یہی لوگ ہیں دوزخ میں رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے


اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ الحَىُّ القَيّومُ {3:2}
خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا
اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ ہے سب کا تھامنے والا
نجران کے ساٹھ عیسائیوں کا ایک مؤقر و معزز وفد نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس میں تین شخص عبدالمسیح عاقب بحیثیت امارت و سیادت کے، ایہم السید بلحاظ رائے و تدبیر کے اور ابو حارثہ بن علقمہ با عتبار سب سے بڑے مذہبی عالم اور لاٹ پادری ہونے کے عام شہرت اور امتیار رکھتے تھے۔ یہ تیسرا شخص اصل میں عرب کے مشہور قبیلہ "بنی بکر بن وائل" سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر پکا نصرانی بن گیا۔ سلاطین روم نے اس کی مذہبی صلابت اور مجدد شرف کو دیکھتے ہوئے بڑی تعظیم و تکریم کی۔ علاوہ بیش قرار مالی امداد کے اس کے لئے گرجے تعمیر کئے اور امور مذہبی کے اعلیٰ منصب پر مامور کیا۔ یہ وفد بارگاہ رسالت میں بڑی آن بان سے حاضر ہوا اور متنازع فیہ مسائل میں حضور سے گفتگو کی جس کی پوری تفصیل محمد بن اسحاق کی سیرۃ میں منقول ہے ۔ سورۂ " آل عمران" کا ابتدائی حصہ تقریباً اسی نوے آیات تک اسی واقعہ میں نازل ہوا۔ عیسائیوں کا پہلا اور بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیحؑ بعینہ خدا یا خدا کے بیٹے یا تین خداؤں میں کے ایک ہیں۔ سورۂ ہذا کی پہلی آیت میں توحید خالص کا دعویٰ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی جو صفات "حیّ قیوم" بیان کی گئیں وہ عیسائیوں کے اس دعوے کو صاف طور پر باطل ٹھہراتی ہیں۔ چنانچہ حضور نے دوران مناظرہ میں ان سےفرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ حَیّ (زندہ) ہے جس پر کبھی موت طاری نہیں ہو سکتی ۔ اسی نے تمام مخلوقات کو وجود عطا کیا اور سامان بقاء پیدا کر کے ان کو اپنی قدرت کاملہ سے تھام رکھا ہے۔ برخلاف اس کے عیسٰیؑ پر یقینًا موت و فنا آ کر رہے گی۔ اور ظاہر ہے جو شخص خود اپنی ہستی کو برقرار نہ رکھ سکے دوسری مخلوقات کی ہستی کیا برقرار رکھ سکتا ہے۔ "نصاریٰ نے سن کر اقرار کیا (کہ بیشک صحیح ہے ) شاید انہوں نے غنیمت سمجھا ہو گا کہ آپ اپنے اعتقاد کے موافق { عیسٰی یاتی علیہ الفناء } کا سوال کر رہے ہیں یعنی عیسٰی پر فنا ضرور آئے گی، اگر جواب نفی میں دیا تو آپ ہمارے عقیدہ کے موافق کہ حضرت عیسٰیؑ کو عرصہ ہوا موت آ چکی ہے۔ ہم کو اور زیادہ صریح طور پر ملزم اور مفحم کر سکیں گے۔ اس لئے لفظی مناقشہ میں پڑنا مصلحت نہ سمجھا۔ اور ممکن ہے یہ لوگ ان فرقوں میں سے ہوں جو عقیدہ اسلام کے موافق مسیحؑ کے قتل و صلب کا قطعًا انکار کرتے تھے اور رفع جسمانی کے قائل تھے جیسا کہ حافظ ابن تمیمہ نے "الجواب الصحیح" اور "الفارق بین المخلوق و الخالق" کے مصنف نے تصریح کی ہے کہ شام و مصر کے نصاریٰ عمومًا اسی عقیدہ پر تھے۔ مدت کے بعد پولس نے عقیدہ صلب کی اشاعت کی۔ پھر یہ خیال یورپ سے مصر و شام وغیرہ پہنچا بہرحال نبی کریم کا { انّ عیسیٰ اتی علیہ الفناء } کے بجائے { یاتی علیہ الفناء } فرمانا، درآں حالیکہ پہلے الفاظ تردید الوہیۃ مسیح کے موقع پر زیادہ صاف اور مسکت ہوتے۔ ظاہر کرتا ہے کہ موقع الزام میں بھی مسیحؑ پر موت سے پہلے لفظ موت کا اطلاق آپ نے پسند نہیں کیا۔



اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ لَيَجمَعَنَّكُم إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ لا رَيبَ فيهِ ۗ وَمَن أَصدَقُ مِنَ اللَّهِ حَديثًا {4:87}
خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟
اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں بیشک تم کو جمع کرے گا قیامت کے دن اس میں کچھ شبہ نہیں اور اللہ سے سچی کس کی بات
یعنی قیامت کا آنا اور ثواب و عقاب کے سب وعدوں کا پورا ہونا سب سچ ہے اس میں تخلف نہیں ہو گا ان باتوں کو سرسری خیال نہ کرو۔





اللَّهُ الَّذى رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيرِ عَمَدٍ تَرَونَها ۖ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجرى لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الأَمرَ يُفَصِّلُ الءايٰتِ لَعَلَّكُم بِلِقاءِ رَبِّكُم توقِنونَ {13:2}
اللہ وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے (اس طرح) وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو
اللہ وہ ہے جس نے اونچے بنائے آسمان بغیر ستون دیکھتے ہو [۲] پھر قائم ہوا عرش پر [۳] اور کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو ہر ایک چلتا ہے وقت مقرر پر (تک) [۴] تدبیر کرتا ہے کام کی ظاہر کرتا ہے نشانیاں کہ (تاکہ) شاید تم اپنے رب سے ملنے کا یقین کرو [۵]
یعنی جس نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو پیدا کیا اسے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے ۔ نیز ایک باخبر ، مدبر، بیدا مغز اور طاقتور گورنمنٹ باغیوں اور مجرموں کو ہمیشہ کے لئے یوں ہی آزاد نہیں چھوڑے رکھتی۔ نہ وفادار امن پسند رعایا کی راحت رسانی سے اغماض کر سکتی ہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ خداوند قدوس جو زمین و آسمان کے تخت کا تنہا مالک اور اپنی تدبیر و حکمت سے تمام مخلوقات علوی و سفلی کا انتظام باحسن اسلوب قائم رکھنے والا ہے۔ مطیع و عاصی کو یوں ہی مہمل چھوڑے رکھے۔ ضرور ہے کہ ایک دن وفاداروں کو وفاداری کا صلہ ملے اور مجرم اپنی سزا کو پہنچیں۔ پھر جب اس زندگی میں مطیع و عاصی کےدرمیان ہم ایسی صاف تفریق نہیں دیکھتے تو یقینًا ماننا پڑے گا کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے جس میں سب کو آسمانی عدالت کے سامنے حاضر ہو کر عمر بھر کے اعمال کا پھل چکھنا ہوگا۔
یعنی اس دنیا کی ایسی عظیم الشان ، بلند اور مضبوط چھت خدا نے بنائی جسے تم دیکھتے ہو۔ اور لطف یہ ہے کہ کوئی ستون یا کھمبا یا گرڈر دکھائی نہیں دیتا جس پر اتنی بڑی ڈاٹ کھڑی کی گئ بجز اس کے کیا کہا جائے کہ محض قدرت کے غیر مرئی ستون کے سہارے اس کا قیام ہے۔ { وَیُمْسِکَ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِہٖ } (حج رکوع۹) کشش اجسام کا نظریہ اگر صحیح ہو تو وہ اس آیت کے منافی نہیں۔ کیونکہ کشش کو عرفًا عُمد نہیں کہتے اور اگر عمد کہا جائے تو مرئی نہیں ہے۔ { رُوِیَ عنِ ابنِ عَبَاسٍ وَمُجَاھِدٍ وَالْحَسَنِ وَقَتَادَۃَ وَغَیْرِ وَاحِدٍ اَنَّھُمْ قَالُوْالَھَا عُمُدٌ وَلَکِنْ لَا نَرَیٰ } (ابن کثیرؒ) یعنی ان بزرگوں نے فرمایا کہ آسمانوںکے ستون ہیں جو ہم کونظر نہیں آتے۔ واللہ اعلم۔
یعنی سورج اپنا دورہ ایک سال میں اور چاند ایک ماہ میں پورا کرتا ہے یا { لِاَجَلٍ مُّسَمًّی } کے معنی وقت مقرر تک لئے جائیں تو یہ مطلب ہو گا کہ چاند سورج اسی طرح چلتے رہیں گے ۔ قیامت تک۔
"استواء علی العرش" کے متعلق سورہ اعراف آٹھویں پارہ کے آخر میں کلام کیا گیا ہے وہاں ملاحظہ کر لیا جائے۔





اللَّهُ يَعلَمُ ما تَحمِلُ كُلُّ أُنثىٰ وَما تَغيضُ الأَرحامُ وَما تَزدادُ ۖ وَكُلُّ شَيءٍ عِندَهُ بِمِقدارٍ {13:8}
اللہ وہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے)۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے
اللہ جانتا ہے جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ [۱۶] اور جو سکڑتے ہیں پیٹ اور بڑھتے ہیں اور ہر چیز کا اس کے یہاں اندازہ ہے [۱۷]
یعنی حاملہ کے پیٹ میں ایک بچہ ہے یا زیادہ ، پورا بن چکا ہے یا ناتمام ہے ، تھوڑی مدت میں پیدا ہو گا یا زیادہ میں۔ غرض پیٹ گھٹنے بڑھنے کے تمام اسرار و اسباب اور اوقات و احوال کو پوری طرح جانتا ہے۔ اور اپنے علم محیط کے موافق ہر چیز کو ہر حالت میں اس کے اندازہ اور استعداد کے موافق رکھتا ہے۔ اسی طرح اس نے جو آیات انبیاء علیہم السلام کی تصدیق کے لئے اتاری ہیں ان میں خاص اندازہ اور مصالح و حکم ملحوظ رہی ہیں۔ جس وقت جس قدر بنی آدم کی استعداد و صلاحیت کے مطابق نشانات کا ظاہر کرنا مصلحت تھا اس میں کمی نہیں ہوئی۔ باقی قبول کرنے اور منتفع ہونے کے لحاظ سے لوگوں کا اختلاف ایسا ہی ہے جیسے حوامل کے پیٹ سے پیدا ہونے والوں کے احوال تفاوت استعداد و تربیت کی بناء پر مختلف ہوتے ہیں۔
کہ مذکر ہے یا مونث ، پورا ہے یا ادھورا ، اچھا ہے یا برا ، وغیرہ ذلک من الاحوال۔



اللَّهُ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ وَيَقدِرُ ۚ وَفَرِحوا بِالحَيوٰةِ الدُّنيا وَمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا فِى الءاخِرَةِ إِلّا مَتٰعٌ {13:26}
اللہ جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اور کافر لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے
اللہ کشادہ کرتا ہے روزی جس کو چاہے اور تنگ کرتا ہے [۴۵] اور فریفتہ ہیں دنیا کی زندگی پر اور دنیا کی زندگی کچھ نہیں آخرت کے آگے مگر متاع (مال) حقیر [۴۶]
یعنی اسی کو مقصود سمجھ کر اتراتے اور اکڑتے ہیں۔ حالانکہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی محض ہیچ ہے جیسے ایک شخص اپنی انگلی سے سمندر کو چھوئے تو وہ تری جو انگلی کو پہنچی ہے سمندر کے سامنے کیا حقیقت رکھی ہے۔ دنیا کی آخرت کے مقابل اتنی بھی حقیقت نہیں۔ لہذا عقلمند کو چاہئے کہ فانی کو باقی پر کو مقدم رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے بذات خود مقصود نہیں۔ یہاں کے سامانوں سے اس طرح تمتع کرو جو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنے جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کیا۔
یعنی دنیا کے عیش و فراخی کو دیکھ کر سعادت و شقاوت کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ نہ یہ ضروری ہے کہ جس کو دنیا میں خدا نے رزق اور پیسہ زیادہ دیا ہے وہ اس کی بارگاہ میں مقبول ہو۔ بہت سے مقبول بندے بطور آزمائش و امتحان یہاں عسرت کی زندگی بسر کرتے ہیں اور مردود مجرموں کو ڈھیل دی جاتی ہے وہ مزے اڑاتے ہیں ۔ یہ ہی دلیل اس کی ہے کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے جہاں ہر شخص کو اس کے نیک و بد اعمال کا پورا پورا پھل مل کر رہے گا۔ بہرحال دنیا کی تنگی و فراخی مقبول و مردود ہوے کا معیار نہیں بن سکتا۔



اللَّهِ الَّذى لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَوَيلٌ لِلكٰفِرينَ مِن عَذابٍ شَديدٍ {14:2}
وہ اللہ کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے
اللہ کہ جس کا ہے جو کچھ کہ موجود ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں [۲] اور مصیبت ہے کافروں کو ایک سخت عذاب سے [۳]
یعنی صحیح معرفت کی روشنی میں اس راستہ پر چل پڑیں جو زبردست و غالب ، ستودہ صفات ، شہنشاہ مطلق اور مالک الکل خدا کا بتایا ہوا اور اس کے مقام رضاء تک پہنچانے والا ہے۔
یعنی جو لوگ ایسی کتاب نزال ہونے کے بعد کفر و شرک اور جہالت و ضلالت کی اندھیری سے نہ نکلے ان کو سخت عذاب اور ہلاکت خیز مصیبت کا سامنا ، آخرت میں یا دنیا میں بھی۔




اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزقًا لَكُم ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الفُلكَ لِتَجرِىَ فِى البَحرِ بِأَمرِهِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الأَنهٰرَ {14:32}
اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں (اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اس کے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیر فرمان کیا
اللہ وہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور اتارا آسمان سے پانی [۵۵] پھر اس سے نکالی روزی تمہاری میوے [۵۶] اور کہنے میں کیا تمہارے کشتی کو (کام میں دیں تمہارے کشتیاں کہ چلیں) کہ چلے دریا میں اسکے حکم سے [۵۷] اور کام میں لگایا (دیں) تمہارے ندیوں (ندیاں) کو
یعنی سمندر کی خوفناک لہروں میں ذرا سی کشتی پر سوار ہو کر کہاں سے کہاں پہنچتے ہو اور کس قدر تجارتی یا غیر تجارتی فوائد حاصل کرتے ہو ، یہ خدا ہی کی قدرت اور حکم سے ہے کہ سمندر کے تھپیڑوں میں ذرا سی ڈونگی کو ہم جدھر چاہیں لئے پھرتے ہیں۔
یعنی آسمان کی طرف سے پانی اتارا ، یا یہ مطلب ہو کہ بارش کے آنے میں بخارات وغیرہ ظاہری اسباب کے علاوہ غیر مرئی سماوی اسباب کو بھی دخل ہے۔ دیکھو آفتاب کی شعاعیں تمام اشیا کی طرح آتشیں شیشہ پر بھی پڑتی ہیں لیکن وہ اپنی مخصوص ساخت اور استعداد کی بدولت انہی شعاعوں سے غیر مرئی طور پر اس درجہ حرارت کا استفادہ کرتا ہے جو دوسری چیزیں نہیں کرتیں ۔ چاند سمندر سے کتنی دور ہے ، مگر اس کے گھٹنے بڑھنے سے سمندر کے پانی میں مد وجزر پیدا ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر بادل بھی کسی سماوی خزانہ سے غیر محسوس طریقہ پر مستفید ہوتا ہو تو انکار کی کونسی وجہ ہے۔
یعنی حق تعالیٰ نے اپنے کمال قدرت و حکمت سے پانی میں ایک قوت رکھی جو درختوں اور کھیتوں کے نشوونما اور بارآور ہونے کا سبب بنتی ہے ۔ اسی کے ذریعہ سے پھل اور میوے ہمیں کھانے کو ملتے ہیں۔






اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ لَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ {20:8}
اللہ (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے (سب) نام اچھے ہیں
اللہ ہے جسکے سوا بندگی نہیں کسی کی اُسی کے ہیں سب نام خاصے
آیات بالا میں جو صفات حق تعالیٰ کی بیان ہوئی ہیں (یعنی اس کا خالق الکل ، مالک علی الاطلاق ، رحمٰن ، قادر مطلق اور صاحب علم محیط ہونا) ان کا اقتضاء یہ ہے کہ الوہیت بھی تنہا اسی کا خاصہ ہو بجز اس کےکسی دوسرے کے آگے سر عبودیت نہ جھکایا جائے ۔ کیونکہ نہ صرف صفات مذکورہ بالا بلکہ کل عمدہ صفات اور اچھے نام اسی کی ذات منبع الکمالات کے لئے مخصوص ہیں۔ کوئی دوسری ہستی اس شان و صفت کی موجود نہیں جو معبود بن سکے۔ نہ ان صفتوں اور ناموں کےتعدد سے اس کی ذات میں تعدد آتا ہے۔ جیسا کہ بعض جہال عرب کا خیال تھا کہ مختلف ناموں سے خدا کو پکارنا دعوےٰ توحید کے مخالف ہے۔






اللَّهُ يَحكُمُ بَينَكُم يَومَ القِيٰمَةِ فيما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ {22:69}
جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو اللہ تم میں قیامت کے روز ان کا فیصلہ کردے گا
اللہ فیصلہ کرے گا تم میں قیامت کے دن جس چیز میں تمہاری راہ جدا جدا تھی
تمام انبیاء اصول دین میں متفق رہے ہیں۔ البتہ ہر امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے بندگی کی صورتیں مختلف زمانوں میں مختلف مقرر کی ہیں جن کے موافق وہ امتیں خدا کی عبادت بجا لاتی رہیں۔ اس امت محمدیہ کے لئے بھی ایک خاص شریعت بھیجی گئ لیکن اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی رہا۔ بجز اللہ کے کبھی کسی دوسری چیز کی عبادت مقرر نہیں کی گئ ۔ اس لئے توحید وغیرہ کے ان متفق علیہ کاموں میں جھگڑا کرنا کسی کو کسی حال زیبا نہیں۔ جب ایسی کھلی ہوئی چیز میں بھی حجتیں نکالی جائیں تو آپ کچھ پروا نہ کریں۔ آپ جس سیدھی راہ پر قائم ہیں لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہئے۔ اور خواہ مخواہ کے جھگڑے نکالنے والوں کا معاملہ خدائے واحد کے سپرد کیجئے وہ خود ان کی تمام حرکات سے خوب واقف ہے قیامت کےدن ان کے تمام اختلافات اور جھگڑوں کا عملی فیصلہ کر دے گا۔ آپ دعوت و تبلیغ کا فرض ادا کر کے ان کی فکر میں زیادہ دردسری نہ اٹھائیں۔ ایسے ضدی معاندین کا علاج خدا کے پاس ہے (تنبیہ) { فَلَا یُنَا زِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ } کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب ہر امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جدا گانہ دستور العمل مقرر کیا ہے۔ پھر اس پیغمبر کی امت کے لئے نئی شریعت آئی تو جھگڑنے کی کیا بات ہے۔ بعض مفسرین نے {مَنْسَک } کے معنی ذبح و قربانی کے لئے ہیں ، مگر اقرب وہ ہی ہے جو مترجم محقق قدس اللہ روحہٗ نے اختیار فرمایا ۔ واللہ اعلم۔




اللَّهُ يَصطَفى مِنَ المَلٰئِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النّاسِ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَميعٌ بَصيرٌ {22:75}
اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ بےشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
اللہ چھانٹ لیتا ہے فرشتوں میں پیغام پہنچانے والے اور آدمیوں میں [۱۱۱] اللہ سنتا دیکھتا ہے [۱۱۲]
یعنی ان کی تمام باتوں کو اور ان کے ماضی و مستقبل کے تمام احوال کو دیکھتا ہے اس لئے وہ ہی حق رکھتا ہے کہ جس کے احوال و استعداد پر نظر کر کے منصب رسالت پر فائز کرنا چاہے فائز کر دے۔ { اَللہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ } (انعام رکوع۱۵) حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یعنی ساری خلق میں بہتر وہ لوگ ہیں پیغام پہنچانے والے، فرشتوں میں بھی وہ فرشتے اعلیٰ ہیں ان کو (یعنی ان کی ہدایات کو) چھوڑ کر بتوں کو مانتے ہو" کس قدر بے تکی بات ہے۔
یعنی بعض فرشتوں سے پیغامبری کا کام لیتا ہے (مثلًا جبریلؑ) اور بعض انسانوں سے جن کو خدا اس منصب کے لئے انتخاب فرمائے گا ظاہر ہے ان کا درجہ تمام خلائق سے اعلیٰ ہونا چاہئے۔



اللَّهُ نورُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ مَثَلُ نورِهِ كَمِشكوٰةٍ فيها مِصباحٌ ۖ المِصباحُ فى زُجاجَةٍ ۖ الزُّجاجَةُ كَأَنَّها كَوكَبٌ دُرِّىٌّ يوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُبٰرَكَةٍ زَيتونَةٍ لا شَرقِيَّةٍ وَلا غَربِيَّةٍ يَكادُ زَيتُها يُضيءُ وَلَو لَم تَمسَسهُ نارٌ ۚ نورٌ عَلىٰ نورٍ ۗ يَهدِى اللَّهُ لِنورِهِ مَن يَشاءُ ۚ وَيَضرِبُ اللَّهُ الأَمثٰلَ لِلنّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ {24:35}
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے  (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا نے (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
اللہ روشنی ہے آسمانوں اور زمین کی [۶۶] مثال اس کی روشنی کی جیسے ایک طاق اس میں ہو ایک چراغ وہ چراغ دھرا ہو ایک شیشہ میں وہ شیشہ ہے جیسے ایک تارہ چمکتا ہوا تیل جلتا ہے اس میں ایک برکت کے درخت کا وہ زیتون ہے نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف قریب ہے اس کا تیل کہ روشن ہو جائے اگرچہ نہ لگی ہو اس میں آگ روشنی پر روشنی اللہ راہ دکھلا دیتا ہے اپنی روشنی کی جس کو چاہے اور بیان کرتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے واسطے اور اللہ سب چیز کو جانتا ہے [۶۷]
یعنی یوں تو اللہ کے نور سے تمام موجودات کی نمود ہے۔ لیکن مومنین مہتدین کو نور الہٰی سے ہدایت و عرفان کا جو خصوصی حصہ ملتا ہے۔ اس مثال کی ایک عمدہ توجیہہ: اس کی مثال ایسی سمجھو گویا مومن قانت کا جسم ایک طاق کی طرح ہے جس کے اندر ایک ستارہ کی طرح چمکدار شیشہ (قندیل) رکھا ہو۔ یہ شیشہ اس کا قلب ہوا جس کا تعلق عالم بالا سے ہے۔ اس شیشہ (قندیل) میں معرفت و ہدایت کا چراغ روشن ہے، یہ روشنی ایسے صاف و شفاف اور لطیف تیل سے حاصل ہو رہی ہے جو ایک نہایت ہی مبارک درخت (زیتون) سے نکل کر آیا ہے اور زیتون بھی وہ جو کسی حجاب سے نہ مشرق میں ہو نہ مغرب میں یعنی کسی طرف دھوپ کی روک نہیں کھلے میدان میں کھڑا ہے جس پر صبح و شام دونوں وقت کی دھوپ پڑتی ہے۔ تجربہ سے معلوم ہوا کہ ایسے زیتون کا تیل اور ابھی زیادہ لطیف و صاف ہوتا ہے۔ غرض اس کا تیل اس قدر صاف اور چمکدار ہے کہ بدون آگ دکھلائے ہی معلوم ہوتا ہے کہ خودبخود روشن ہو جائے گا۔ یہ تیل میرے نزدیک اسی حسن استعداد اور نور توفیق کا ہوا جو نور مبارک کے القاء سے بدء فطرت میں مومن کو حاصل ہوا تھا۔ جیسا کہ اوپر کے فائدہ میں گذر چکا اور جس طرح شجرہ مبارکہ کو { لَاشَرْقِیَّۃٍ وَلَا غَرْبِیَّۃٍ } فرمایا تھا وہ نور ربانی بھی جہت کی قید سے پاک ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ مومن کا شیشہ دل نہایت صاف ہو تا ہے، اور خدا کی توفیق سے اس میں قبول حق کی ایسی زبردست استعداد پائی جاتی ہے کہ بدون دیا سلائی دکھائے ہی جل اٹھنے کو تیار ہوتا ہے اب جہاں ذرا آگ دکھائی یعنی وحی و قرآن کی تیز روشنی نے اس کو مس کیا فورًا اس کی فطری روشنی بھڑک اٹھی۔ اسی کو { نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ } فرمایا باقی سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے جس کو چاہے اپنی روشنی عنایت فرمائے اور وہ ہی جانتا ہے کہ کس کو یہ روشنی ملنی چاہئے۔ کس کو نہیں ان عجیب و غریب مثالوں کا بیان فرمانا بھی اسی غرض سے ہے کہ استعداد رکھنے والوں کو بصیرت کی ایک روشنی حاصل ہو۔ حق تعالیٰ ہی تمثیل کے مناسب موقع و محل کو پوری طرح جانتا ہے، کسی دوسرے کو قدرت کہاں کہ ایسی موزوں و جامع مثال پیش کر سکے۔ آگے فرمایا کہ وہ روشنی ملتی ہے اس سے کہ جن مسجدوں میں کامل لوگ صبح و شام بندگی کرتے ہیں وہاں دھیان لگا رہے۔ (تنبیہ) مفسرین نے تشبیہ کی تقریر بہت طرح کی ہے، حضرت شاہ صاحبؒ نے بھی موضح القرآن میں نہایت لطیف و عمیق تقریر فرمائی ہے مگر بندہ کے خیال میں جو توجیہہ آئی وہ درج کر دی۔ { وَلِلنّاس فیما یعشقون مذاھبٗ } واضح رہے کہ { یُوقَدُ } اور { وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَار } میں جس نار کی طرف اشارہ ہے میں نے مشبہ میں اس کی جگہ وحی و قرآن کو رکھا ہے۔ اس کا ماخذ وہ فائدہ ہے جو حضرت شاہ صاحبؒ نے { مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَنَارًا } پر لکھا ہے اور جس کی تائید صحیحین کی ایک حدیث سے ہوتی ہے جس میں آپ نے یہ الفاظ فرمائے ہیں۔ { اِنَّمَا مَثَلِیْ وَ مَثَلُ النّاسِ کَرجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فلما اضاءَتْ مَا حَوْلَہٗ  جَعَلَ الفِرَاشُ وَھٰذہِ الدَّوابُّ الَّتِیْ یَقَعْنَ فِیْھَا } الخ
یعنی اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین و آسمان کو اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہو جائیں (موضح القرآن) سب مخلوق کو نور وجود اسی سے ملا ہے۔ چاند، سورج، ستارے، فرشتے اور انبیاء و اولیاء میں جو ظاہری و باطنی روشنی ہے، اسی منبع النور سے مستفادہ ہے۔ ہدایت و معرفت کا جو چمکارا کسی کو پہنچتا ہے اسی بارگاہ رفیع سے پہنچتا ہے۔ تمام علویات و سفلیات اس کی آیات تکوینیہ و تنزیلیہ سے منور ہیں۔ حسن و جمال یا خوبی و کمال کی کوئی چمک اگر کہیں نظر پڑتی ہے وہ اس کے وجہ منور اور ذات مباک کے جمال و کمال کا ایک پر تو ہے۔ سیرت ابن اسحٰق میں ہے کہ طائف میں جب لوگوں نے حضور کو ستایا تو یہ دعا زبان پر تھی۔ { اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الذِی اَشْرَقَتْ لَہُ الظلمَاتُ وَ صَلَحُ عَلَیَہِ اَمْرُ الدُّنْیَا والْاٰ خِرَۃِ اَنْ یَحُلَّ بِیْ غَضَبُکَ اَوْ یَنْزِل بِیْ سَخَطُکَ لَکَ الْعُتْبٰی حَتّٰی ترضٰی وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ} ۔ رات کی تاریکی میں آپ اپنے رب کو { اَنْتَ نُوْرُ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضِ } کہہ کر پکارا کرتے اور اپنے کان، آنکھ، دل، ہر ہر عضو بلکہ بال بال میں اس سے نور طلب فرماتے تھے اور اخیر میں بطور خلاصہ فرماتے { وَاجْعَلْ لِیْ نُوْرًا } یا { وَاَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا } یا { وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا } یعنی میرے نور کو بڑھا بلکہ مجھے نور ہی نور بنا دے۔ اور ایک حدیث میں ہے۔ { اِنَّ اللہَ خَلَقَ خَلْقَہٗ فِی ظُلْمَۃٍ ثُمَّ القیٰ عَلَیْھِمْ مِنْ نُوْرِہٖ فَمَنْ اَصَابَہٗ مِنْ نُوْرِہٖ یَوْمَئِذٍ اھْتَدیٰ وَمَنْ اَخْطَاہٗ ضَلَّ } (فتح الباری ۶۔۴۳۰) یعنی جس کو اس وقت اللہ کے نور (توفیق) سے حصہ ملا وہ ہدایت پر آیا اور جو اس سے چوکا گمراہ رہا۔ واضح رہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی دوسری صفات مثلاً سمع، بصر وغیرہ کی کوئی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی۔ ایسے ہی صفت نور بھی ہے ممکنات کے نور پر قیاس نہ کیا جائے۔ تفصیل کے لئے امام غزالی کا رسالہ "مشکوٰۃ الانوار" دیکھو۔






اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ رَبُّ العَرشِ العَظيمِ ۩ {27:26} 

اللہ ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوائے پروردگار تخت بڑے کا [۳۴] 

یعنی اس کے عرش عظیم سے بلقیس کے تخت کو کیا نسبت۔




اللَّهُ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ وَيَقدِرُ لَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ {29:62}
اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے
اللہ پھیلاتا ہے روزی جس کے واسطے چاہے اپنے بندوں میں اور ماپ کر دیتا ہے جسکو چاہے [۹۷] بیشک اللہ ہر چیز سے خبردار ہے [۹۸]
ناپ کر دیتا ہے یہ نہیں کہ بالکل نہ دے۔
یعنی یہ خبر اسی کو ہے کہ کس کو کتنا دینا چاہئے۔





اللَّهُ يَبدَؤُا۟ الخَلقَ ثُمَّ يُعيدُهُ ثُمَّ إِلَيهِ تُرجَعونَ {30:11}
اللہ ہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی اس کو پھر پیدا کرے گا پھر تم اُسی کی طرف لوٹ جاؤ گے
اللہ بناتا ہے پہلی بار پھر اس کو دہرائے گا پھر اسی کی طرف جاؤ گے



اللَّهُ الَّذى خَلَقَكُم ثُمَّ رَزَقَكُم ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ۖ هَل مِن شُرَكائِكُم مَن يَفعَلُ مِن ذٰلِكُم مِن شَيءٍ ۚ سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ {30:40}
اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تمہیں مارے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ بھلا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کر سکے۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شریکوں سے بلند ہے
اللہ وہ ہی ہے جس نے تم کو بنایا پھر تم کو روزی دی پھر تم کو مارتا ہے پھر تم کو جلائے گا کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو کر سکے ان کاموں میں سے ایک کام وہ نرالا ہے اور بہت اوپر ہے اس سے کہ شریک بتلاتے ہیں [۴۵]
یعنی مارنا جلانا، روزی دینا سب کام تو تنہا اس کے قبضہ میں ہوئے۔ پھر دوسرے شریک کدھر سے آ کر الوہیت کے مستحق بن گئے۔




اللَّهُ الَّذى يُرسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثيرُ سَحابًا فَيَبسُطُهُ فِى السَّماءِ كَيفَ يَشاءُ وَيَجعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الوَدقَ يَخرُجُ مِن خِلٰلِهِ ۖ فَإِذا أَصابَ بِهِ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ إِذا هُم يَستَبشِرونَ {30:48}
اللہ ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اُبھارتی ہیں۔ پھر خدا اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا اور تہ بتہ کر دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینھہ نکلنے لگتا ہے پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اُسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں
اللہ ہے جو چلاتا ہے ہوائیں پھر وہ اٹھاتی ہیں بادل کو پھر پھیلا دیتا ہے اس کو آسمان میں جس طرح چاہے [۵۹] اور رکھتا ہے اس کو تہہ بہ تہہ پھر تو دیکھے مینہ کو کہ نکلتا ہے اس کے بیچ میں سے پھر جب اس کو پہنچاتا ہے جس کو کہ چاہتا ہے اپنے بندوں میں تبھی وہ لگتے ہیں خوشیاں کرنے [۶۰]
یعنی پہلے کسی طرف، پیچھے کسی طرف، اسی طرح دین بھی پھیلائے گا۔ چنانچہ پھیلا دیا۔
اسی طرح جو ایمانی اور روحانی بارش سے منتفع ہوں گے اور خوشیاں منائیں گے۔





اللَّهُ الَّذى خَلَقَكُم مِن ضَعفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعدِ ضَعفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعدِ قُوَّةٍ ضَعفًا وَشَيبَةً ۚ يَخلُقُ ما يَشاءُ ۖ وَهُوَ العَليمُ القَديرُ {30:54}
اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے
اللہ ہے جس نے بنایا تم کمزوری سے پھر دیا کمزوری کے پیچھے زور پھر دے گا زور کے پیچھے کمزوری اور سفید بال بناتا ہے جو کچھ چاہے اور وہ ہے سب کچھ جانتا کر سکتا [۶۶]
یعنی بچہ شروع میں پیدائش کے وقت بیحد کمزور و ناتوان ہوتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ قوت آنے لگی ہے حتٰی کہ جوانی کے وقت اس کا زور انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور تمام قوتیں شباب پر ہوتی ہیں پھر عمر ڈھلنے لگتی ہے اور زور و قوت کے پیچھے کمزوری کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ جس کی آخری حد بڑھاپا ہے۔ اس وقت تمام اعضاء ڈھیلے پڑ جاتےاور قویٰ معطل ہونے لگتے ہیں۔ قوت و ضعف کا یہ سب اتار چڑھاؤ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس طرح چاہے کسی چیز کو بنائے ۔ اور قوت و ضعف کے مختلف ادوار میں اس کو گذارے۔ اسی کو قدرت حاصل ہے اور وہ ہی جانتا ہے کہ کس چیز کو کس وقت تک کن حالات میں رکھنا مناسب ہے۔ لہذا اسی خدا کی اور اس کے پیغمبروں کی باتیں ہمیں سننی چاہئیں۔ شاید اس میں یہ بھی اشارہ کر دیا کہ جس طرح تم کو کمزوری کے بعد زور دیا، مسلمانوں کو بھی ضعف کے بعد قوت عطا کرے گا اور جو دین بظاہر اس وقت کمزور نظر آتا ہے کچھ دنوں بعد زور پکڑے گا اور اپنے شباب و عروج کو پہنچے گا۔ اس کے بعد پھر ہو سکتا ہے کہ ایک زمانہ مسلمانوں کے ضعف کا آئے سو یاد رکھنا چاہئے کہ خدائے قادر و توانا ہر وقت ضعف کو قوت سے تبدیل کر سکتا ہے۔ ہاں ایسا کرنے کی خاص صورتیں اور اسباب ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم۔





اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۖ ما لَكُم مِن دونِهِ مِن وَلِىٍّ وَلا شَفيعٍ ۚ أَفَلا تَتَذَكَّرونَ {32:4}
اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا۔ کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے؟
اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ انکے بیچ میں ہے چھ دن کے اندر پھر قائم ہوا عرش پر [۳] کوئی نہیں تمہارا اس کے سوائے حمایتی اور نہ سفارشی پھر تم کیا دھیان نہیں کرتے [۴]
یعنی دھیان نہیں کرتے کہ اس کے پیغام اور پیغامبر کو جھٹلا کر کہاں جاؤ گے ۔ تمام زمین و آسمان میں عرش سے فرش تک اللہ کی حکومت ہے۔ اگر پکڑے گئے تو ا سکی اجازت و رضاء کے بدون کوئی حمایت اور سفارش کرنے والا بھی نہ ملے گا۔
اس کا بیان سورہ اعراف میں آٹھویں پارہ کے اختتام کے قریب گذر چکا۔ ملاحظہ کر لیا جائے۔




اللَّهَ رَبَّكُم وَرَبَّ ءابائِكُمُ الأَوَّلينَ {37:126}
(یعنی) خدا کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے
جو اللہ ہے رب تمہارا اور رب تمہارے اگلے باپ دادوں کا 
یعنی یوں تو دنیا میں آدمی بھی تحلیل و ترکیب کر کے بظاہر بہت سی چیزیں بنا لیتے ہیں۔ مگر بہتر بنانے والا وہ ہے جو تمام اصول و فروع، جواہر و اعراض اور صفات و موصوفات کا حقیقی خالق ہے جس نے تم کو اور تمہارے باپ دادوں کو پیدا کیا پھر یہ کیسے جائز ہو گا کہ اس احسن الخالقین کو چھوڑ کر "بعل" بت کی پرستش کی جائے اور اس سے مدد مانگی جائے جو ایک ذرہ کو ظاہری طور پر بھی پیدا نہیں کر سکتا بلکہ اس کا وجود خود اپنے پرستاروں کا رہین منت ہے۔ انہوں نے جیسا چاہا بنا کر کھڑا کر دیا۔





اللَّهُ نَزَّلَ أَحسَنَ الحَديثِ كِتٰبًا مُتَشٰبِهًا مَثانِىَ تَقشَعِرُّ مِنهُ جُلودُ الَّذينَ يَخشَونَ رَبَّهُم ثُمَّ تَلينُ جُلودُهُم وَقُلوبُهُم إِلىٰ ذِكرِ اللَّهِ ۚ ذٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهدى بِهِ مَن يَشاءُ ۚ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن هادٍ {39:23}
اللہ نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کراللہ کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں۔ یہی اللہ کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں
اللہ نے اتاری بہتر بات کتاب کی [۳۹] آپس میں ملتی دہرائی ہوئی [۴۰] بال کھڑے ہوئے ہیں اس سے کھال پر ان لوگوں کے جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے پھر نرم ہوتی ہیں ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کی یاد پر [۴۱] یہ ہے راہ دینا اللہ کا اس طرح راہ دیتا ہے جس کو چاہے اور جس کو راہ بھلائے اللہ اسکو کوئی نہیں سجھانے والا [۴۲]
یعنی کتاب اللہ سن کر اللہ کے خوف اور اس کے کلام کی عظمت سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کھالیں نرم پڑ جاتی ہیں۔ مطلب یہ کہ خوف و رعب کی کیفیت طاری ہو کر ان کا قلب و قالب اور ظاہر و باطن اللہ کی یاد کے سامنے جھک جاتا ہے اور اللہ کی یاد ان کے بدن اور روح دونوں پر ایک خاص اثر پیدا کرتی ہے یہ حال اقویائے کاملین کا ہوا۔ اگر کبھی ضعفاء و ناقصین پر دوسری قسم کی کیفیات و احوال طاری ہو جائیں مثلًٓا غشی یا صعقہ وغیرہ تو اس کی نفی آیت سے نہیں ہوتی۔ اور نہ ان کی تفصیل ان پر لازم آتی ہے۔ بلکہ اس طرح ازخود رفتہ اور بے قابو ہو جانا عمومًٓا وارد کی قوت اور مورد کے ضعف کی دلیل ہے۔ جامع ترمذی میں ایک حدیث بیان کرتے وقت ابوہریرہؓ پر اس قسم کے بعض احوال کا طاری ہونا مُصّرح ہے۔ واللہ اعلم۔
یعنی صحیح، صادق، مضبوط، نافع، معقول اور فصیح و بلیغ ہونے میں کوئی آیت کم نہیں۔ ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے، مضامین میں کوئی اختلاف و تعارض نہیں۔ بلکہ بہت سی آیات کے مضامین ایسے متشابہ واقع ہوئے ہیں کہ ایک آیت کو دوسری کی طرف لوٹانے سے صحیح تفسیر معلوم ہو جاتی ہے۔ { القراٰن یفسر بعضہ بعضًا } اور "مثانی" یعنی دہرائ ہوئی کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے احکام اور مواعظ و قصص کو مختلف پیرایوں میں دہرایا گیا ہے تا اچھی طرح دلنشین ہو جائیں، نیز تلاوت میں بار بار آیتیں دہرائی جاتی ہیں اور بعض علماء نے "متشابہ" و "مثانی" کا مطلب یہ لیا ہے کہ بعض آیات میں ایک ہی طرح کے مضمون کا سلسلہ دور تک چلا جاتا ہے وہ متشابہ ہوئیں اور بعض جگہ ایک نوعیت کے مضمون کے ساتھ دوسرے جملہ میں اس کے مقابل کی نوعیت کا مضمون بیان کیا جاتا ہے۔ مثلًا { اِنَّ الْاَبْرارَ لَفِیْ نَعِیْم وَّاِنَّ الفجارَ لفی جَحِیْم } یا { نَبِّیْ عِبَادِیْ اَنِّیْ اَنَاالغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ وَاَنَّ عَذَابِیْ ھُوَالْعَذَابُ الْاَلِیْمُ } یا { وَیُحَذِّرُکُمُ اللہُ  نَفْسَہٗ وَاللہ رَؤفٌ بِالْعِبَادِ }۔ ایسی آیات کو مثانی کہیں گے کہ ان میں دو مختلف قسم کے مضمون بیان ہوئے۔
یعنی دنیا میں کوئی بات اس کتاب کی باتوں سے بہتر نہیں۔
یعنی جس کے لئے حکمت الہٰی مقتضی ہو اس طرح کامیابی کے راستے کھول دیے جاتے ہیں اور اس شان سے منزل مقصود کی طرف لے چلتے ہیں۔ اور جس کو سوء استعداد کی وجہ سے خدا تعالیٰ ہدایت کی توفیق نہ دے۔ آگے کون ہے جو اس کی دستگیری کر سکے۔




اللَّهُ يَتَوَفَّى الأَنفُسَ حينَ مَوتِها وَالَّتى لَم تَمُت فى مَنامِها ۖ فَيُمسِكُ الَّتى قَضىٰ عَلَيهَا المَوتَ وَيُرسِلُ الأُخرىٰ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ {39:42}
اللہ لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کرچکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں
اللہ کھینچ لیتا ہے جانیں جب وقت ہو انکے مرنے کا اور جو نہیں مریں انکو کھینچ لیتا ہے انکی نیند میں پھر رکھ چھوڑتا ہے جن پر مرنا ٹھہرا دیا ہے بھیج دیتا ہے اوروں کو ایک وعدہ مقرر تک اس بات میں پتے ہیں ان لوگوں کو جو دھیان کریں [۵۶]
حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں یعنی نیند میں ہر روز جان کھینچتا ہے پھر (واپس) بھیجتا ہے۔ یہ ہی نشان ہے آخرت کا۔ معلوم ہوا نیند میں بھی جان کھینچتی ہے۔ جیسے موت میں۔ اگر نیند میں کھینچ کر رہ گئ وہ ہی موت ہے مگر یہ جان وہ ہے جس کو (ظاہر) ہوش کہتے ہیں۔ اور ایک جان جس سے سانس چلتی ہے اور نبضیں اچھلتی ہیں اور کھانا ہضم ہوتا ہے سو دوسری ہے وہ موت سے پہلے نہیں کھینچتی (موضح القرآن) حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بغوی نے نقل کیا ہے کہ نیند میں روح نکل جاتی ہے مگر اس کا مخصوص تعلق بدن سے بذریعہ شعاع کے رہتا ہے جس سے حیات باطل ہونے نہیں پاتی(جیسے آفتاب لاکھوں میل سے بذریعہ شعاعوں کے زمین کو گرم رکھتا ہے)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیند میں بھی وہ ہی چیز نکلتی ہے جو موت کے وقت نکلتی ہے لیکن تعلق کا انقطاع ویسا نہیں ہوتا جو موت میں ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔



اللَّهُ خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ ۖ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ وَكيلٌ {39:62}
اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور وہی ہر چیز کا نگراں ہے
اللہ بنانے والا ہے ہر چیز کا اور وہ ہرچیز کا ذمہ لیتا ہے



اللَّهُالَّذى جَعَلَ لَكُمُ الَّيلَ لِتَسكُنوا فيهِ وَالنَّهارَ مُبصِرًا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَذو فَضلٍ عَلَى النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَشكُرونَ {40:61}
اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا (کہ اس میں کام کرو) بےشک خدا لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے واسطے رات کو کہ اس میں چین پکڑو اور دن بنایا دیکھنے کا [۸۲] اللہ تو فضل والا ہے لوگوں پر اور لیکن بہت لوگ حق نہیں مانتے [۸۳]
یعنی منعم حقیقی کی حق شناسی یہ تھی کہ قول و فعل اور جان و دل سے اس کا شکر ادا کرتے بہت سے لوگ شکر کے بجائے شرک کرتے ہیں۔
رات کی ٹھنڈ اور تاریکی میں عمومًا لوگ سوتے اور آرام کرتے ہیں۔ جب دن ہوتا ہے تو تازہ دم ہو کر اس کے اجالے میں اپنے کاروبار میں مشغول ہو جاتے ہیں اس وقت دیکھنے بھالنے اور چلنے پھرنے کے لئے مصنوعی روشنیوں کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی۔





اللَّهُ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ قَرارًا وَالسَّماءَ بِناءً وَصَوَّرَكُم فَأَحسَنَ صُوَرَكُم وَرَزَقَكُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم ۖ فَتَبارَكَ اللَّهُ رَبُّ العٰلَمينَ {40:64}
اللہ ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھیرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی خوب بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے۔ پس خدائے پروردگار عالم بہت ہی بابرکت ہے
اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو عمارت [۸۵] اور صورت بنائی تمہاری تو اچھی بنائیں صورتیں تمہاری اور روزی دی تمکو ستھری چیزوں سے وہ اللہ ہے رب تمہارا سو بڑی برکت ہے اللہ کی جو رب ہے سارے جہان کا [۸۶]
سب جانوروں سے انسان کی صورت بہتر اور سب کی روزی سے اسکی روزی ستھری ہے۔
یعنی قبہ کی طرح بنایا۔

اللَّهُ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَنعٰمَ لِتَركَبوا مِنها وَمِنها تَأكُلونَ {40:79}
اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے چارپائے بنائے تاکہ ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو
اللہ ہے جس نے بنا دیے تمہارے واسطے چوپائے تاکہ سواری کرو بعضوں پر اور بعضوں کو کھاتے ہو




اللَّهُ الَّذى أَنزَلَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ وَالميزانَ ۗ وَما يُدريكَ لَعَلَّ السّاعَةَ قَريبٌ {42:17}
اللہ ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل وانصاف کی) ترازو۔ اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آ پہنچی ہو
اللہ وہی ہے جس نے اتاری کتاب سچے دین پر اور ترازو بھی [۲۳] اور تجھ کو کیا خبر ہے شاید وہ گھڑی پاس ہو [۲۴]
یعنی اپنے اعمال و احوال کو کتاب اللہ کی کسوٹی پر کس کر اور دین حق کی ترازو میں تول کر دیکھ لو ، کہاں تک کھرے اور پورے اترتے ہیں۔ کیا معلوم ہے کہ قیامت کی گھڑی بالکل قریب ہی آ لگی ہو، پھر کچھ نہ ہو سکے گا۔ جو فکر کرنا ہے اس کے آنے سے پہلے کر لو۔
اللہ نے مادی ترازو بھی اتاری جس میں اجسام تلتے ہیں اور علمی ترازو بھی جسے عقل سلیم کہتے ہیں اور اخلاقی ترازو بھی جسے صفت عدل و انصاف کہا جاتا ہے اور سب سے بڑی ترازو دین حق ہے جو خالق و مخلوق کے حقوق کا ٹھیک ٹھیک تصفیہ کرتا ہے اور جس میں بات پوری تلتی ہے نہ کم نہ زیادہ۔





اللَّهُ لَطيفٌ بِعِبادِهِ يَرزُقُ مَن يَشاءُ ۖ وَهُوَ القَوِىُّ العَزيزُ {42:19}
اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے
اللہ نرمی رکھتا ہے اپنے بندوں پر [۲۶] روزی دیتا ہے جس کو چاہے اور وہی ہے زورآور زبردست [۲۷]
جس کو چاہے، جتنی چاہے دے۔
یعنی باوجود تکذیب و انکار کے روزی کسی کی بند نہیں کرتا۔ بلکہ بندوں کے باریک سے باریک احوال کی رعایت کرتا اور نہایت نرمی اور تدبیر لطیف سے ان کی تربیت فرماتا ہے۔





اللَّهُ الَّذى سَخَّرَ لَكُمُ البَحرَ لِتَجرِىَ الفُلكُ فيهِ بِأَمرِهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ {45:12}
اللہ ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو
اللہ وہ ہے جس نے بس میں کر دیا تمہارے دریا کو کہ چلیں اس میں جہاز اس کے حکم سے [۱۰] اور تاکہ تلاش کرو اسکے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو [۱۱]
یعنی سمندر جیسی مخلوق کو ایسا مسخر کر دیا کہ تم بے تکلف اپنی کشتیاں اور جہاز اس میں لئے پھرتے ہو۔ میلوں کی گہرائیوں کو پایاب کر رکھا ہے۔
یعنی بحری تجارت کرو ، یا شکار کھیلو، یا اسکی تہ میں سے موتی نکالو۔ اور یہ سب منافع و فوائد حاصل کرتے وقت منعم حقیقی کو نہ بھولو اس کا حق پہچانو، زبان و دل اور قلب و قالب سے شکر ادا کرو۔





اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ {64:13}
اللہ (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں
اللہ اُسکے سوائے کسی کی بندگی نہیں اور اللہ پر چاہئے بھروسہ کریں ایمان والے [۱۷]
یعنی معبود اور مستعان تنہا اسی کی ذات ہے۔ نہ کسی اور کی بندگی نہ کوئی دوسرا بھروسہ کے لائق۔





اللَّهُ الَّذى خَلَقَ سَبعَ سَمٰوٰتٍ وَمِنَ الأَرضِ مِثلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الأَمرُ بَينَهُنَّ لِتَعلَموا أَنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَد أَحاطَ بِكُلِّ شَيءٍ عِلمًا {65:12}
اللہ ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ایسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اُترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے
اللہ وہی ہے جس نے بنائے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی [۳۲] اترتا ہے اُس کا کا حکم اُنکے اندر [۳۳] تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز کر سکتا ہے اور اللہ کے علم میں سمائی ہے ہر چیز کی [۳۴]
یعنی آسمان و زمین کے پیدا کرنے اور ان میں انتظامی احکام جاری کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات علم و قدرت کا اظہار ہو (نبّہ علیہ ابن قیم فی بدائع الفوائد) بقیہ صفات ان ہی دو صفتوں سے کسی نہ کسی طرح تعلق رکھتی ہیں۔ صوفیہ کے ہاں جو ایک حدیث نقل کرتے ہیں { کُنْتُ کنزًا مَخْفِیًا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ} گو محدثین کے نزدیک صحیح نہیں۔ مگر اس کا مضمون شاید اس آیت کے مضمون سے ماخوذ و مستفاد ہو۔ واللہ اعلم۔ تم سورۃ الطلاق وللہ الحمد والمنہ۔
یعنی زمینیں بھی سات پیدا کیں، جیسا کہ ترمذی وغیرہ کی احادیث میں ہے۔ ان میں احتمال ہے کہ نظر نہ آتی ہوں، اور احتمال ہے کہ نظر آتی ہوں۔ مگر لوگ ان کو کواکب سمجھتے ہوں۔ جیسا کہ مریخ وغیرہ کی نسبت آج کل حکماء یورپ کا گمان ہے کہ اس میں پہاڑ دریا اور آبادیاں ہیں۔ باقی حدیث میں جو ان زمینوں کا اس زمین کے تحت میں ہونا وارد ہے وہ شاید باعتبار بعض حالات کے ہو۔ اور بعض حالات میں وہ زمینیں اس سے فوق ہوجاتی ہوں۔ رہا ابن عباسؓ کا وہ اثر جس میں { اٰدمھم کا دمکم } وغیرہ آیا ہے، اس کی شرح کا یہ موقع نہیں۔ "روح المعانی" میں اس پر بقدر کفایت کلام کیا ہے۔ اور حضرت مولانا محمد قاسمؒ کے بعض رسائل میں اس کے بعض اطراف وجوانب کو بہت خوبی سے صاف کر دیا گیا ہے۔
یعنی عالم کے انتظام و تدبیر کے لئے اللہ کے احکام تکوینیہ و تشریعیہ آسمانوں اور زمینوں کے اندر اترتے رہتے ہیں۔




قُل هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ {112:1}
کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نامالله (ہے) ایک ہے
تو کہہ وہ اللہ ایک ہے
یعنی جو لوگ اللہ کی نسبت پوچھتے ہیں کہ وہ کیسا ہے، ان سے کہہ دیجیئے کہ وہ ایک ہے۔ جس کی ذات میں کسی قسم کے تعدد و تکثر اور دوئی کی گنجائش نہیں۔ نہ اسکا کوئی مقابل، نہ مشابہ، اس میں مجوس کے عقیدہ کا رد ہوگیا۔ جو کہتے ہیں کہ خالق دو ہیں۔ خیر کا خالق "یزداں" اور شر کا "ہرمن" نیز ہنود کی تردید ہوئی جو تینتیس کروڑ دیوتاؤں کو خدائی میں حصہ دار ٹھہراتے ہیں۔

اللَّهُ الصَّمَدُ {112:2}

اللہ بےنیاز ہے
"صمد" کی تفسیر کئ طرح کی گئ ہے۔ طبرانی ان سب کو نقل کرکے فرماتے ہیں { وکلّ ھٰذہٖ صحیحۃ وھی صفات ربنا عزوجل ھوالّذی یصمد الیہ فی الحوائج وھو الذی قدانتھٰی سؤددہٗ وھو الصمد الذی لاجوف لہ ولا یاکل ولایشرب وھوالباقی بعد خلقہ } (ابن کثیرؒ) (یہ سب معانی صحیح ہیں اور یہ سب ہمارے رب کی صفات ہیں۔ وہ ہی ہے جس کی طرف تمام حاجات میں رجوع کیا جاتا ہے یعنی سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اور وہ ہی ہے جس کی بزرگی اور فوقیت تمام کمالات اور خوبیوں میں انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ اور وہ ہی ہے جو کھانے پینے کی خواہشات سے پاک ہے۔ اور وہ ہی ہے جو خلقت کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہنے والا ہے) اللہ تعالیٰ کی صفت صمدیت سے ان جاہلوں پر رد ہوا جو کسی غیر اللہ کو کسی درجہ میں مستقل اختیار رکھنے والا سمجھتے ہوں نیز آریوں کے عقیدہ مادہ و روح کی تردید بھی ہوئی۔ کیونکہ ان کے اصول کے موافق اللہ تو عالم بنانے میں ان دونوں کا محتاج ہے اور یہ دونوں اپنے وجود میں اللہ کے محتاج نہیں (العیاذ باللہ)۔




لَم يَلِد وَلَم يولَد {112:3}
نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا
یعنی نہ کوئی اس کی اولاد، نہ وہ کسی کی اولاد، اس میں ان لوگوں کا رد ہوا جو حضرت مسیحؑ کو یا حضرت عزیرؑ کو خدا کا بیٹا اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں۔ نیز جو لوگ مسیحؑ کو یا کسی بشر کو خدا مانتے ہیں ان کی تردید { لَمْ یُوْلَدْ } میں کر دی گئ۔ یعنی خدا کی شان یہ ہے کہ اس کو کسی نے جنا نہ ہو۔ اور ظاہر ہے حضرت مسیحؑ ایک پاکباز عورت کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ پھر وہ خدا کس طرح ہو سکتے ہیں۔

وَلَم يَكُن لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ {112:4}
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
جب اس کے جوڑ کا کوئی نہیں تو جو رویا بیٹا کہاں سے ہو۔ اس جملہ میں ان اقوام کا رد ہوگیا جو اللہ کی کسی صفت میں کسی مخلوق کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہیں۔ حتّٰی کہ بعض گستاخ تو اس سے بڑھ کر صفات دوسروں میں ثابت کر دیتے ہیں۔ یہود کی کتابیں اٹھا کر دیکھو ایک دنگل میں خدا کی کشتی یعقوبؑ سے ہو رہی ہے اور یعقوبؑ خدا کو پچھاڑ دیتے ہیں۔(العیاذ باللہ) { کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا کَذِبًا }۔ { اِنّی اسالک یا اللہ لواحد الاحد الصمد الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوًا احد ان تغفرلی ذنوبی انک انت الغفورالرحیم }۔
*******************************************
لفظ خدا کا استعمال:
فارسی زبان کے لفظ ((خدا)) کو عربی زبان میں ((الہ)) کہتے ہیں :

وَإِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ الرَّحمٰنُ الرَّحيمُ {2:163} 
اور (لوگو) تمہارا خدا(معبود) واحد خدا ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم کرنے والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں


يٰأَهلَ الكِتٰبِ لا تَغلوا فى دينِكُم وَلا تَقولوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الحَقَّ ۚ إِنَّمَا المَسيحُ عيسَى ابنُ مَريَمَ رَسولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلقىٰها إِلىٰ مَريَمَ وَروحٌ مِنهُ ۖ فَـٔامِنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلا تَقولوا ثَلٰثَةٌ ۚ انتَهوا خَيرًا لَكُم ۚ إِنَّمَا اللَّهُ إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ سُبحٰنَهُ أَن يَكونَ لَهُ وَلَدٌ ۘ لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَكيلًا {4:171}
اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور کا کلمہٴ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اوراس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اللَّهُ ہی معبود(خدا) واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے


لَقَد كَفَرَ الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ ثالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘ وَما مِن إِلٰهٍ إِلّا إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۚ وَإِن لَم يَنتَهوا عَمّا يَقولونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذينَ كَفَروا مِنهُم عَذابٌ أَليمٌ {5:73}
وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس خدا(معبود) یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے

... قُل إِنَّما هُوَ إِلٰهٌ وٰحِدٌ وَإِنَّنى بَريءٌ مِمّا تُشرِكونَ {6:19}
کہہ دو کہ صرف وہی ایک خدا(معبود) ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں


هٰذا بَلٰغٌ لِلنّاسِ وَلِيُنذَروا بِهِ وَلِيَعلَموا أَنَّما هُوَ إِلٰهٌ وٰحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُوا الأَلبٰبِ {14:52} 
یہ قرآن لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا خدا(معبود) ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں 


إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۚ فَالَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ قُلوبُهُم مُنكِرَةٌ وَهُم مُستَكبِرونَ {16:22} 
تمہارا خدا(معبود) تو اکیلا خدا(معبود) ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں 


قُل إِنَّما أَنا۠ بَشَرٌ مِثلُكُم يوحىٰ إِلَىَّ أَنَّما إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ فَمَن كانَ يَرجوا لِقاءَ رَبِّهِ فَليَعمَل عَمَلًا صٰلِحًا وَلا يُشرِك بِعِبادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا {18:110} 
کہہ دو کہ میں تمہاری کا ایک بشر ہوں۔ (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا(معبود) (وہی) ایک خدا(معبود) ہے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے 


قُل إِنَّما يوحىٰ إِلَىَّ أَنَّما إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ فَهَل أَنتُم مُسلِمونَ {21:108} 
کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرح سے) یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا خدا(معبود) خدائے واحد ہے۔ تو تم کو چاہیئے کہ فرمانبردار بن جاؤ 


فَإِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ فَلَهُ أَسلِموا ۗ وَبَشِّرِ المُخبِتينَ {22:34}
سو تمہارا خدا(معبود) ایک ہی ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنادو


وَقولوا ءامَنّا بِالَّذى أُنزِلَ إِلَينا وَأُنزِلَ إِلَيكُم وَإِلٰهُنا وَإِلٰهُكُم وٰحِدٌ وَنَحنُ لَهُ مُسلِمونَ {29:46}
اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اُتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا خدا(معبود) ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں


قُل إِنَّما أَنا۠ بَشَرٌ مِثلُكُم يوحىٰ إِلَىَّ أَنَّما إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ فَاستَقيموا إِلَيهِ وَاستَغفِروهُ ۗ وَوَيلٌ لِلمُشرِكينَ {41:6} 
کہہ دو کہ میں بھی آدمی ہوں جیسے تم۔ (ہاں) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا(معبود) خدائے واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے 




سوال:
محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ
قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ لفظ” خُدا“ کا استعمال کیا غلط ہے؟
جواب
الجواب ومنہ الصدق والصوابِ


اللہ تعالیٰ کے لئے لفظ ”خدا“ کا استعمال جائز ہے۔ اور صدیوں سے اکابر دین اس کو استعمال کرتے آئے ہیں۔ اور کبھی کسی نے اس پر نکیر نہیں کی۔ اب کچھ لوگ پیدا ہوئے ہیں جن کے ذہن پر عجمیت کا وہم سوار ہے۔ انہیں بالکل سیدھی سادی چیزوں میں ”عجمی سازش“ نظر آتی ہے، یہ ذہن غلام احمد پرویز اور اس کے ہمنواؤں نے پیدا کیا۔ اور بہت سے پڑھے لکھے شعوری وغیر شعوری طور پر اس کا شکار ہوگئے۔ اسی کا شاخسانہ یہ بحث ہے جو آپ نے لکھی ہے۔ عربی میں لفظ رب ،مالک اور صاحب کے معنیٰ میں ہے۔ اسی کا ترجمہ فارسی میں لفظ”خدا“ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ چنانچہ جس طرح لفظ ”رب“ کا اطلاق بغیر اضافت کے غیر اللہ پر نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح لفظ ”خدا“ جب بھی مطلق بولاجائے تو اس کا اطلاق صرف اللہ تعالیٰ پرہوتاہے۔ کسی دوسرے کو ”خدا“ کہنا جائز نہیں۔” غیاث اللغات“ میں ہے:
”خدا بالضم بمعنی مالک و صاحب۔ چوں لفظ خدا مطلق باشدبر غیر ذاتِ باری تعالیٰ اطلاق نکند، مگر در صورتیکہ بچیزے مضاف شود، چوں کہ خدا، ودہ خدا“۔
ٹھیک یہی مفہوم اور یہی استعمال عربی میں لفظ ”رب“کا ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ ”اللہ“ تو حق تعالیٰ شانہ کا ذاتی نام ہے۔ جس کا نہ کوئی ترجمہ ہوسکتاہے نہ کیا جاتاہے۔ دوسرے اسمائے الہٰیہ ”صفاتی نام“ ہیں جن کا ترجمہ دوسری زبانوں میں ہوسکتاہے۔ اور ہوتاہے۔ اب اگر اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں میں سے کسی بابرکت نام کا ترجمہ غیر عربی میں کردیا جائے۔ اور اہل زبان اس کو استعمال کرنے لگیں تو اس کے جائز نہ ہونے اور اس کے استعمال کے ممنوع ہونے کی آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ اور جب لفظ ”خدا“”صاحب“اور ”مالک“ کے معنی میں ہے۔ اور لفظ”رب“ کے مفہوم کی ترجمانی کرتاہے تو آپ ہی بتائیے کہ اس میں مجوسیت یا عجمیت کا کیا دخل ہوا۔ کیا انگریزی میں لفظ ”رب“ کا کوئی ترجمہ نہیں کیا جائیگا؟ اور کیا اس ترجمہ کا استعمال یہودیت یا نصرانیت بن جائے گا؟ افسوس ہے کہ لوگ اپنی ناقص معلومات کے بل بوتے پر خود رائی میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں اسلام کی پوری تاریخ سیاہ نظر آنے لگتی ہے۔ اور وہ چودہ صدیوں کے تمام اکابر کو گمراہ یا کم سے کم فریب خوردہ تصور کرنے لگتے ہیں۔ یہی خودرائی انہیں جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھیں
فقط واللہ اعلم
https://3.bp.blogspot.com/-Vxd09mJMOcE/Ulz2PAJ-enI/AAAAAAAAFxs/wtahYTxeYdg/s640/Allah+=+khuda.jpg





No comments:

Post a Comment