[البداية والنهاية-امام ابن كثير: ج8 / ص23 ، دار الاحیاء التراث العربی-بیروت]
یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔ [القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3] یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
Wednesday, 3 December 2014
مومنین کے ماموں، کاتب وحی، ہادی ومہدی، حضرت معاویہؓ کی فضائل ومناقب اور سیرت
[البداية والنهاية-امام ابن كثير: ج8 / ص23 ، دار الاحیاء التراث العربی-بیروت]
Monday, 3 November 2014
نوحہ و ماتم کی ممانعت اور صبر کا حکم واہمیت
نذر ونیاز کے معنیٰ، حقیقیت اور حکم
نذرانہ و نیازمندی مالی عبادت ہے، اور عبادت کسی مخلوق کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی (1)محبت وعظمت، (2)رضا وخوشنودی (3)اور قرب حاصل کرنے کیلئے کی جاتی ہے۔
القرآن:
*۔۔۔۔اور خرچ کریں اللہ کی "محبت" میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں۔۔۔۔*
[سورۃ البقرۃ:177]
*۔۔۔۔اور جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو وہ خود تمہارے فائدے کے لیے ہوتا ہے جبکہ تم اللہ کی "خوشنودی" طلب کرنے کے سوا کسی اور غرض سے خرچ نہیں کرتے۔۔۔۔۔*
[سورۃ البقرۃ:272]
*۔۔۔۔اور جو کچھ (اللہ کے نام پر) خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ کے پاس "قرب" کے درجے حاصل کرنے کیلئے۔۔۔۔*
[سورۃ التوبہ:99]
[فیروز اللغات: صفحہ#1391]
Friday, 24 October 2014
مرادِ رسول، محدثِ اُمت، خليفہ دؤم حضرت عمرؓ بن خطاب کے فضائل و مناقب

Monday, 13 October 2014
تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان غنیؓ، ذو النورین اور جامع قرآن
عقیدہ اور عقیدت:
ہر نبی کا جنّت میں ایک رفیق (قریبی دوست) ہوگا، اور میرا رفیق یعنی جنّت میں عثمان ہوں گے۔ [جامع الترمذي:3698، سنن ابن ماجه:109] کیا میں اس آدمی سے حیاء نہ کروں کہ جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2401 (6209)] اے عثمان! یہ جبرائیل ہیں، انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شادی (میری ایک اور بیٹی) ام کلثوم سے (بیٹی بیٹی) رقیہ کے مہر مثل پر کر دی ہے، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے (رقیہ کو) رکھتے تھے“. [سنن ابن ماجه:110 مستدرک حاكم:6862(7033)] پیاری بیٹی! ابوعبداللہ(عثمانؓ) سے اچھا سلوک کیا کرو، کیونکہ دیگر صحابہ کی بنسبت ان کا اخلاق وکردار میرے اخلاق وکردار سے بہت مشابہت رکھتا ہے۔ [طبرانی:98، حاکم:6588] آج کے دن کے بعد عثمانؓ جو کچھ بھی کریں اس سے ان کو کوئی ضرر اور نقصان نہیں پہنچے گا۔ [جامع الترمذي:3701] اے اللہ! میں عثمانؓ سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔ [فضائل الخلفاء الأربعة-أبونعيم:32] اے عثمان! امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ایک خاص قمیص پہنائے گا تو اگر لوگ اس قمیص کو تم سے اترواناچاہیں تو ان کے کہنے سے تم اس کو نہ اتارنا۔ [جامع الترمذي:3705، سنن ابن ماجه:112] رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن اپنے خطاب میں) ایک عظیم فتنہ کا ذکر فرمایا، اور عثمانؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اس فتنہ میں مظلومیت کے ساتھ شہید ہوگا۔ [جامع الترمذي:3708] (اللہ کے پیغمبر) لوط (علیہ السلام) کے بعد عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی بیوی کو ساتھ لے کر اللہ کی طرف ہجرت کی ہے۔ [كتاب السنة لابن أبي عاصم:1311، المعجم الكبير للطبراني:173، تفسير الدر المنثور-سورة العنكبوت:26]
Sunday, 12 October 2014
Monday, 22 September 2014
فرقۂ منکرینِ حدیث کی حقیقت
فرقہ منکرینِ حدیث(پرویزیت)کاتعارف
فرقہ منکرینِ حدیث (پرویزیت) کا پس منظر
الا یوشک رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القرآن فما وجدتم
من حلال فاحلوہ و ما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ۔
(مشکوٰۃ:۲۹)
ترجمہ: قریب ہے کہ ایک امیر آدمی اپنے صوفہ پر بیٹھے یہ کہے گا کہ تمہیں
قرآن کافی ہے، تم اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جس چیز کو حرام پاؤ اُسے
حرام کہو۔
Sunday, 31 August 2014
فتنہ کے معانی، اقسام، احکام اور علاج
فتنہ کے معنیٰ:
دراصل فتن کے معنیٰ سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ظاہر ہوجائے، اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے:
يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ
[سورۃ الذاریات:13]
جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔
[المفردات القرآن: صفحه623، امام الراغب الاصفھانی(م606ھ)]
Wednesday, 27 August 2014
فکر و مراقبہ - Ponder & Meditation
مراقبہ کیا ہے؟
مراقبہ کی 3 اقسام معلوم ہوئیں:
ورنہ(ایسے دھیان میں رکھ کہ)وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّع، فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ
ترجمہ:
[شعب الإيمان للبيهقي » الْحَادِي عَشَرَ مِنْ شُعَبِ الإِيمَانِ وَهُوَ بَابٌ ...، رقم الحديث: 740]
[ المعجم الأوسط للطبراني: حدیث#8796 ، تفسیر ابن کثیر (مترجم) : 5/317]
قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَزْكِيَةُ الْمَرْءِ نَفْسَهُ؟ قَالَ: «أَنْ يَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ مَعَهُ حَيْثُ كَانَ»۔
(2)حضرت عبادہ بن الصامتؓ نے فرمایا ، (کہ) فرمایا رسول الله ﷺ نے : (کہ) بیشک افضل ایمان انسان کا یہ ہے کہ وہ علم(یقین واحساس) رکھے کہ بےشک الله اس کے ساتھ ہے، جہاں بھی وہ ہو.
[شعب الإيمان للبيهقي » الْحَادِي عَشَرَ مِنْ شُعَبِ الإِيمَانِ وَهُوَ بَابٌ ...، رقم الحديث: 740]
[ المعجم الأوسط للطبراني: حدیث#8796 ، تفسیر ابن کثیر (مترجم) : 5/317]
ذکرِ قلبی کا ثبوت:
وَاصبِر نَفسَكَ مَعَ الَّذينَ يَدعونَ رَبَّهُم بِالغَدوٰةِ وَالعَشِىِّ يُريدونَ وَجهَهُ ۖ وَلا تَعدُ عَيناكَ عَنهُم تُريدُ زينَةَ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَلا تُطِع مَن أَغفَلنا قَلبَهُ عَن ذِكرِنا وَاتَّبَعَ هَوىٰهُ وَكانَ أَمرُهُ فُرُطًا {18:28}
|
اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا
|
یعنی اس کے دیدار اور خوشنودی حاصل کرنے کے شوق میں نہایت اخلاص کے ساتھ دائمًا عبادت میں مشغول رہتے ہیں ۔ مثلاً ذکر کرتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں ، نمازوں پر مداومت رکھتے ہیں۔ حلال و حرام میں تمیز کرتے ہیں خالق و مخلوق دونوں کے حقوق پہچانتے ہیں ، گو دنیوی حیثیت سے معزز اور مالدار نہیں ۔ جیسے صحابہ میں اس وقت عمار ، صہیب ، بلال ، ابن مسعود وغیرہ رضی اللہ عنہم تھے۔ ایسے مومنین مخلصین کو اپنی صحبت و مجالست سےمستفید کرتے رہئے۔ اور کسی کے کہنے سننے پر ان کو اپنی مجلس سے علیحدہ نہ کیجئے۔
|
یعنی ان غریب شکستہ حال مخلصین کو چھوڑ کر موٹے موٹے متکبر دنیاداروں کی طرف اس غرض سے نظر نہ اٹھائیے کہ ان کے مسلمان ہو جانے سے دین اسلام کو بڑی رونق ہو گی۔ اسلام کی اصلی عزت و رونق مادی خوشحالی اور چاندی سونے کے سکوں سے نہیں ۔ مضبوط ایمان و تقویٰ اور اعلیٰ درجہ کی خوش اخلاقی سے ہے۔ دنیا کی ٹیپ ٹاپ محض فانی اور سایہ کی طرح ڈھلنے والی ہے ، حقیقی دولت تقویٰ اور تعلق مع اللہ کی ہے جسے نہ شکست ہے نہ زوال ، چنانچہ اصحاب کہف کے واقعہ میں خدا کو یاد کرنے والوں اور دنیا کے طالبوں کا انجام معلوم ہو چکا۔
|
یعنی جن کے دل دنیا کے نشہ میں مست ہو کر خدا کی یاد سے غافل اور ہر وقت نفس کی خوشی اور خواہش کی پیروی میں مشغول رہتے ہیں ، خدا کی اطاعت میں ہیٹے اور ہواپرستی میں آگے رہنا ان کا شیوہ ، ایسے بدمست غافلوں کی بات پر آپ کان نہ دھریں خواہ وہ بظاہر کیسے ہی دولتمند اور جاہ و ثروت والے ہوں۔ روایات میں ہے کہ بعض صنادید قریش نے آپ سےکہا کہ ان رذیلوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیجئے تاکہ سردار آپ کے پاس بیٹھ سکیں رذیل کہا غریب مسلمانوں کو اور سردار دولتمند کافروں کو۔ ممکن ہے آپ کے قلب مبارک میں خیال گزرا ہو کہ ان غرباء کو تھوڑی دیر علیحدہ کر دینے میں کیا مضائقہ ہے ۔ وہ تو پکےمسلمان ہیں مصلحت پر نظر کر کے رنجیدہ نہ ہوں گے اور یہ دولت مند اس صورت میں اسلام قبول کر لیں گے۔ اس پر یہ آیت اتری کہ آپ ہر گز ان متکبرین کا کہنا نہ مانئے کیونکہ یہ بیہودہ فرمائش ہی ظاہر کرتی ہے کہ ان میں حقیقی ایمان کا رنگ قبول کرنے کی استعداد نہیں ۔ پھر محض موہوم فائدہ کی خاطر مخلصین کا احترام کیوں نظر انداز کیا جائے نیز امیروں اور غریبوں کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرنے سے احتمال ہے کہ عام لوگوں کےقلوب میں پیغمبر کی طرف سے معاذ اللہ نفرت اور بد گمانی پیدا ہو جائے جس کا ضرر اس ضرر سے کہیں زیاد ہو گا جو ان چند متکربین کے اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں تصور کیا جا سکتا ہے۔
|
ذکرِ نفسی کا ثبوت:
وَاذكُر رَبَّكَ فى نَفسِكَ تَضَرُّعًا وَخيفَةً وَدونَ الجَهرِ مِنَ القَولِ بِالغُدُوِّ وَالءاصالِ وَلا تَكُن مِنَ الغٰفِلينَ {7:205}
|
اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح وشام یاد کرتے رہو اور (دیکھنا) غافل نہ ہونا
|
بڑا ذکر تو قرآن کریم ہے اس کا ادب بیان ہو چکا۔ اب عام ذکر اللہ کے کچھ آداب بیان فرماتے ہیں یعنی ذکر اللہ کی اصلی روح یہ ہے کہ جو زبان سے کہے دل سے اس کی طرف دھیان رکھے تاکہ ذکر کا پورا نفع ظاہر ہو اور زبان و دل دونوں عضو خدا کی یاد میں مشغول ہوں ۔ ذکر کرتے وقت دل میں رقت ہونی چاہئے۔ سچی رغبت و رہبت سے خدا کو پکارے۔ جیسے کوئی خوشامد کرنے والا ڈرا ہوا آدمی کسی کو پکارتا ہے۔ ذاکر کے لہجہ میں آواز میں اور ہیئت میں تضرع و خوف کا رنگ محسوس ہونا چاہئے۔ ذکر و مذکور کی عظمت و جلال سے آواز کا پست ہونا قدرتی چیز ہے { وَخَشَعَتِ الْاَ صْواتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا ھَمْسًا }۔ اسی لئے زیادہ چلانے کی ممانعت آئی ہے۔ دھیمی آواز سے سراً یا جہراً خد اکا ذکر کرے تو خدا اس کا ذکر کرے گا۔ پھر اس سے زیادہ عاشق کی خوش بختی اور کیا ہو سکتی ہے۔
|
|
قال في تفسیر المظہري: الثالث الذکر الخفي بالقلب والروح والنفس وغیرہا الذي لا مدخل فیہ بلسان وہو الذکر الخفي الذي لا یسمعہ الحفظة أخرج أبویعلی [في مسنده (4668)]
[المقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي جزء » كِتَابُ الأَذْكَارِ » بَابُ : خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ، رقم الحديث: 1452] قلت وہو الذکر لا انقطاع لہا ولا فتور لہا․
|
إِذ نادىٰ رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا {19:3}
|
جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا
|
کہتےہیں رات کی تاریکی اور خلوت میں پست آواز سے دعا کی جیسا کہ دعا کا اصل قاعدہ ہے { اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃَ } (اعراف رکوع۷) ایسی دعا ریا سے دور اور کمال اخلاص سے معمور ہوتی ہے۔ شاید یہ بھی خیال ہو کہ بڑھاپے کی عمر میں بیٹا مانگتے تھے۔ اگر نہ ملےتو سننے والے ہنسیں ، اور ویسے بھی عمومًا بڑھاپے میں آواز پست ہو جاتی ہے۔
|
أَوَلَم يَتَفَكَّروا فى أَنفُسِهِم ۗ ما خَلَقَ اللَّهُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما إِلّا بِالحَقِّ وَأَجَلٍ مُسَمًّى ۗ وَإِنَّ كَثيرًا مِنَ النّاسِ بِلِقائِ رَبِّهِم لَكٰفِرونَ {30:8}
|
کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا۔ کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں
|
یعنی عالم کا اتنا زبردست نظام اللہ تعالیٰ نے بیکار نہیں پیدا کیا، کچھ اس سے مقصود ضرور ہے وہ آخرت میں نظر آئے گا۔ ہاں یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہتا تو ایک بات تھی، لیکن اس کے تغیرات و احوال میں غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ اس کی کوئی حد اور انتہا ضرور ہے۔ لہذا ایک وعدہ مقررہ پر یہ عالم فنا ہو گا اور دوسرا عالم اس کے نتیجہ کے طور پر قائم کیا جائے گا۔
|
وہ سمجھتے ہیں کہ کبھی خدا کےسامنے جانا ہی نہیں جو حساب و کتاب دینا پڑے۔
|
وَهُوَ الَّذى مَدَّ الأَرضَ وَجَعَلَ فيها رَوٰسِىَ وَأَنهٰرًا ۖ وَمِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فيها زَوجَينِ اثنَينِ ۖ يُغشِى الَّيلَ النَّهارَ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ {13:3}
|
اور وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے اور ہر طرح کے میوؤں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں
|
اس کے معنی سورہ اعراف میں آٹھویں پارے کے خاتمہ پر بیان ہو چکے وہاں دیکھ لیا جائے۔
|
یعنی چھوٹا بڑا ، کھٹا میٹھا، سیاہ سفید ، گرم سرد ، اور جدید تحقیق کے موافق ہر ایک میں نر و مادہ بھی پائے جاتے ہیں۔
|
یعنی پہاڑ جو ایک جگہ کھڑے ہیں اور دریا جو ہر وقت چلتے رہتے ہیں۔
|
يُنبِتُ لَكُم بِهِ الزَّرعَ وَالزَّيتونَ وَالنَّخيلَ وَالأَعنٰبَ وَمِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ {16:11}
|
اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور (اور بےشمار درخت) اُگاتا ہے۔ اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لیے اس میں (قدرتِ خدا کی بڑی) نشانی ہے
|
یعنی ایک ہی پانی سے مختلف قسم کے پھل اور میوے اگاتا رہتا ہے جن کی شکل و صورت ، رنگ و بو ، مزہ اور تاثیر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اس میں غور کرنے والوں کے لئے خدا کی قدرت کاملہ اور صنعت غریبہ کا بڑا نشان ہے کہ ایک زمین ایک آفتاب ایک ہوا اور ایک پانی سے کیسے رنگ برنگ کے پھول پھل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
|
وَسَخَّرَ لَكُم ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ جَميعًا مِنهُ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ {45:13}
|
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا۔ جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں
|
یعنی اپنے حکم اور قدرت سے سب کو تمہارے کام میں لگا دیا۔ یہ اسی کی مہربانی ہے کہ ایسی ایسی عظیم الشان مخلوقات انسان کی خدمت گذاری میں لگی ہوئی ہیں۔
|
آدمی دھیان کرے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ چیز اسکے بس کی نہ تھی۔ محض اللہ کے فضل اور اسکی قدرت کاملہ سے یہ اشیاء ہمارے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ تو لا محالہ ہم کو بھی کسی کے کام میں لگنا چاہیئے۔ وہ کام یہ ہے کہ اس منعم حقیقی اور محسن علی الاطلاق کی فرمانبرداری اور اطاعت گذاری میں اپنی حیات مستعار کے لمحات صرف کر دیں تاکہ آئندہ چل کر ہمارا انجام درست ہو۔
|
أَيَوَدُّ أَحَدُكُم أَن تَكونَ لَهُ جَنَّةٌ مِن نَخيلٍ وَأَعنابٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ لَهُ فيها مِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَأَصابَهُ الكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفاءُ فَأَصابَها إِعصارٌ فيهِ نارٌ فَاحتَرَقَت ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الءايٰتِ لَعَلَّكُم تَتَفَكَّرونَ {2:266}
|
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
|
یہ مثال ان کی ہے جو لوگوں کو دکھانے کو صدقہ خیرات کرتے ہیں یا خیرات کر کے احسان رکھتے ہیں اور ایذا پہنچاتے ہیں یعنی جیسے کسی شخص نے جوانی اور قوت کے وقت باغ تیار کیا تاکہ ضعیفی اور بڑھاپے میں اس سے میوہ کھائے اور ضرورت کے وقت کام آئے۔ پھر جب بڑھاپا آیا اور میوے کی پوری حاجت ہوئی تب وہ باغ عین حالت احتیاج میں جل گیا یعنی صدقہ مثل باغ میوہ دار کے ہے کہ اس کا میوہ آخرت میں کام آئے ۔ جب کسی کی نیت بری ہے تو وہ باغ جل گیا پھر اس کا میوہ جو ثواب ہے کیونکر نصیب ہو حق سبحانہ اسی طرح کھول کر سمجھاتا ہے تم کو آیتیں تاکہ غور کرو اور سمجھو۔
|
اللَّهُ يَتَوَفَّى الأَنفُسَ حينَ مَوتِها وَالَّتى لَم تَمُت فى مَنامِها ۖ فَيُمسِكُ الَّتى قَضىٰ عَلَيهَا المَوتَ وَيُرسِلُ الأُخرىٰ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ {39:42}
|
خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کرچکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں
|
حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں یعنی نیند میں ہر روز جان کھینچتا ہے پھر (واپس) بھیجتا ہے۔ یہ ہی نشان ہے آخرت کا۔ معلوم ہوا نیند میں بھی جان کھینچتی ہے۔ جیسے موت میں۔ اگر نیند میں کھینچ کر رہ گئ وہ ہی موت ہے مگر یہ جان وہ ہے جس کو (ظاہر) ہوش کہتے ہیں۔ اور ایک جان جس سے سانس چلتی ہے اور نبضیں اچھلتی ہیں اور کھانا ہضم ہوتا ہے سو دوسری ہے وہ موت سے پہلے نہیں کھینچتی (موضح القرآن) حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بغوی نے نقل کیا ہے کہ نیند میں روح نکل جاتی ہے مگر اس کا مخصوص تعلق بدن سے بذریعہ شعاع کے رہتا ہے جس سے حیات باطل ہونے نہیں پاتی(جیسے آفتاب لاکھوں میل سے بذریعہ شعاعوں کے زمین کو گرم رکھتا ہے)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیند میں بھی وہ ہی چیز نکلتی ہے جو موت کے وقت نکلتی ہے لیکن تعلق کا انقطاع ویسا نہیں ہوتا جو موت میں ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
|
إِنَّما مَثَلُ الحَيوٰةِ
الدُّنيا كَماءٍ أَنزَلنٰهُ مِنَ السَّماءِ فَاختَلَطَ بِهِ نَباتُ الأَرضِ
مِمّا يَأكُلُ النّاسُ وَالأَنعٰمُ حَتّىٰ إِذا أَخَذَتِ الأَرضُ زُخرُفَها
وَازَّيَّنَت وَظَنَّ أَهلُها أَنَّهُم قٰدِرونَ عَلَيها أَتىٰها أَمرُنا لَيلًا
أَو نَهارًا فَجَعَلنٰها حَصيدًا كَأَن لَم تَغنَ بِالأَمسِ ۚ كَذٰلِكَ
نُفَصِّلُ الءايٰتِ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ {10:24}
|
دنیا
کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے
ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے
خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس
رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ
(کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان
کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
|
یعنی
مختلف الوان و اشکال کی نباتات نے زمین کو پر رونق اور مزین کر دیا اور کھیتی
وغیرہ ایسی تیار ہو گئ کہ مالکوں کو کامل بھروسہ ہو گیا کہ اب اس سے پورا فائدہ
اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔
|
بعض
نے { فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ } کے معنی کثرت پیداوار کے لئے ہیں۔
کیونکہ جب زمین کی پیداوار زیادہ قوی ہوتی ہے تو گنجان ہو کر ایک جزء دوسرے سے
مل جاتا اور لپٹ جاتا ہے بعض نے ''بہٖ'' کی ''باء'' کو مصاحبت کے لئے لےکر یہ
معنی کئے ہیں کہ زمین کا سبزہ پانی کے ساتھ رل مل جاتا ہے۔ کیونکہ نباتات اجزائے
مائیہ کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں ، جس طرح کھانا انسان کا جزو بدن بنتا ہے۔ ایسے
ہی پانی ، گویا نباتات کی غذا بنتی ہے۔ مترجمؒ کے صنیع سے مترشح ہوتا ہے کہ
اختلاط سے یہ مراد لے رہے ہیں کہ زمین اور پانی کے ملنے سے جو سبزہ نکلتا ہے اس
میں آدمی کی اور جانوروں کی خورات مخلوط (رلی ملی) ہوتی ہے مثلاً گیہوں کے درخت
میں دانہ ہے جو انسان کی غذا بنتی ہے اور بھوسہ بھی ہے جو جانوروں کی خوراک ہے۔
اسی طرح درختوں میں پھل اور پتے لگتے ہیں جن میں سے ہر ایک کے کھانے والے علیحدہ
ہیں۔
|
یعنی
ناگہاں خدا کے حکم سے دن میں یا رات میں کوئی آفت پہنچی (مثلاً بگولا آ گیا ، یا
اولے پڑ گئے یا ٹڈی دل پہنچ گیا۔ وعلیٰ ہذا القیاس) اس نے تمام زراعت کا ایسا
صفایا کر ڈالا ، گویا کبھی یہاں ایک تنکا بھی نہ اگا تھا۔ ٹھیک اسی طرح حیات
دنیا کی مثال سمجھ لو کہ خواہ کتنی ہی حسین اور تروتازہ نظر آئے ۔ حتٰی کہ
بےوقوف لوگ اس کی رونق و دلربائی پر مفتوں ہو کر اصل حقیقت کو فراموش کر دیں
لیکن اس کی یہ شادابی اور زینت و بہجت محض چند روزہ ہے جو بہت جلد زوال و فنا کے
ہاتھوں نسیًا منسیًا ہو جائے گی۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے اس مثال کو نہایت لطیف طرز
میں خاص انسانی حیات پر منطبق کیا ہے۔ یعنی پانی کی طرح روح آسمان (عالم بالا)
سے آئی ، کالبد خاکی میں مل کر قوت پکڑی ، دونوں کے ملنے سے آدمی بنا ، پھر کام
کئے انسانی اور حیوانی دونوں طرح کے ۔ جب ہر ہنر میں پورا ہوا اور اس کے متعلقین
کو اس پر بھروسہ ہو گیا ، ناگہاں موت آ پہنچی جس نے ایک دم میں سارا بنا بنایا
کھیل ختم کر دیا۔ پھر ایسا بے نام و نشان ہوا گویا کبھی زمین پر آباد ہی نہ ہوا
تھا۔ (فائدہ) { لَیْلاً اَوْ نَھَارًا } (رات کو یا دن کو) شاید اس لئے فرمایا
کہ رات کا وقت غفلت کا ہے اور دن میں لوگ عمومًا بیدار ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ
جب خدا کا حکم آ پہنچے ، پھر سوتا ہو یا جاگتا ، غافل ہو یا بیدار ، کوئی شخص
کسی حالت میں اس کو روک نہیں سکتا۔
|
إِنَّ فى خَلقِ السَّمٰوٰتِ
وَالأَرضِ وَاختِلٰفِ الَّيلِ وَالنَّهارِ لَءايٰتٍ لِأُولِى الأَلبٰبِ {3:190}
|
بے
شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل
والوں کے لیے نشانیاں ہیں
|
یعنی
عقلمند آدمی جب آسمان و زمین کی پیدائش اور ان کے عجیب و غریب احوال و روابط اور
دن رات کے مضبوط و محکم نظام میں غور کر تا ہے تو اس کو یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ
سارا مرتب و منظم سلسلہ ضرور کسی ایک مختار کل اور قادر مطلق فرمانروا کے ہاتھ
میں ہے جس نے اپنی عظیم قدرت و اختیار سے ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی حد بندی کر رکھی
ہے۔ کسی چیز کی مجال نہیں کہ اپنے محدود وجود اور دائرہ عمل سے باہر قدم نکال
سکے۔ اگر اس عظیم الشان مشین کا ایک پرزہ یا اس کارخانہ کا ایک مزدور بھی مالک
علی الاطلاق کی قدرت و اختیار سے باہر ہوتا تو مجموعہ عالم کا یہ مکمل و محکم
نظام ہر گز قائم نہ رہ سکتا۔
|
الَّذينَ يَذكُرونَ اللَّهَ
قِيٰمًا وَقُعودًا وَعَلىٰ جُنوبِهِم وَيَتَفَكَّرونَ فى خَلقِ السَّمٰوٰتِ
وَالأَرضِ رَبَّنا ما خَلَقتَ هٰذا بٰطِلًا سُبحٰنَكَ فَقِنا عَذابَ النّارِ
{3:191}
|
جو
کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی
پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے
فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو
|
یعنی
کسی حال خدا سے غافل نہیں ہوتے اس کی یاد ہمہ وقت ان کے دل میں اور زبان پر جاری
رہتی ہے جیسے حدیث میں رسول اللہ ﷺ
کی نسبت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا
{ کان یذکر اللہ علیٰ کل احیانہٖ } نماز بھی خدا کی بہت بڑی یاد ہے۔ اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے بیٹھ کر اور جو بیٹھ نہ سکے لیٹ کر پڑھ
لے بعض روایات میں ہے کہ جس رات میں یہ آیات نازل ہوئیں نبی کریم ﷺ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حالت میں اللہ کو یاد کر کے روتے رہے۔
|
یعنی
ذکر و فکر کے بعد کہتے ہیں کہ خداوندا! یہ عظیم الشان کارخانہ آپ نے بیکار پیدا
نہیں کیا جس کا کوئی مقصدنہ ہو، یقینًا ان عجیب و غریب حکیمانہ انتظامات کا
سلسلہ کسی عظیم و جلیل نتیجہ پر منتہی ہونا چاہئے۔ گویا یہاں سے ان کا ذہن تصور
آخرت کی طرف منتقل ہو گیا جو فی الحقیقت دنیا کی موجودہ زندگی کا آخری نتیجہ ہے
اسی لئے آگے دوزخ کے عذاب سے محفوظ رہنے کی دعا کی اور درمیان میں خدا تعالیٰ کی
تسبیح و تنزیہہ بیان کر کے اشارہ کر دیا کہ جو احمق قدرت کے ایسے صاف و صریح
نشان دیکھتے ہوئے تجھ کو نہ پہچانیں یا تیری شان کو گھٹائیں یا کارخانہ عالم کو
محض عبث و لعب سمجھیں تیری بارگاہ ان سب کی ہزلیات و خرافات سے پاک ہے۔ ا س آیت
سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین اور دیگر مصنوعات الہٰیہ میں غور و فکر کرنا وہ ہی
محمود ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ خدا کی یاد اور آخرت کی طرف توجہ ہو، باقی جو مادہ
پرست ان مصنوعات کے تاروں میں الجھ کر رہ جائیں اور صانع کی صحیح معرفت تک نہ
پہنچ سکیں، خواہ دنیا انہیں بڑا محقق اور سائنس داں کہا کرے، مگر قرآن کی زبان و
میں وہ اولوالالبا ب نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ پرلے درجہ کے جاہل و احمق ہیں۔
|
يَسـَٔلونَكَ عَنِ الخَمرِ
وَالمَيسِرِ ۖ قُل فيهِما إِثمٌ كَبيرٌ وَمَنٰفِعُ لِلنّاسِ وَإِثمُهُما أَكبَرُ
مِن نَفعِهِما ۗ وَيَسـَٔلونَكَ ماذا يُنفِقونَ قُلِ العَفوَ ۗ كَذٰلِكَ
يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الءايٰتِ لَعَلَّكُم تَتَفَكَّرونَ {2:219}
|
(اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔
کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے
نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ
میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے
لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو
|
لوگوں
نے پو چھا تھا کہ مال اللہ کے واسطے کس قدر خرچ کریں حکم ہوا کہ جو اپنے اخراجات
ضروری سے افزود (زائد) ہو کیونکہ جیسا آخرت کا فکر ضرور ہے دنیا کا فکر بھی ضرور
ہے اگر سارا سامان اٹھا ڈالو تو اپنی ضروریات کیونکر پوری کرو جو حقوق تم پر
لازم ہیں ان کو کیونکر ادا کرو معلوم نہیں کس کس خرابی دینی اور دینوی میں
پھنسو۔
|
شراب
پینے سے عقل جاتی رہتی ہے جو تمام امور شنعیہ سے بچاتی ہے اور لڑائی اور قتل
وغیرہ طرح طرح کی خرابیوں کی نوبت آتی ہے اور مختلف قسم کے امراض روحانی اور
جسمانی پیدا ہوتے ہیں جو بسا اوقات باعث ہلاکت ہوتے ہیں اور جوا کھیلنے میں حرام
مال کا کھانا اور سرقہ اور تضیع مال اور عیال باہم دشمنی وغیرہ طرح طرح کے مفاسد
ظاہری و باطنی پیش آتے ہیں ان میں سرسری نفع بھی ہے مثلًا شراب پی کر لذت و سرور
ہو گیا اور جوا کھیل کر بلا مشقت مال ہاتھ آ گیا۔
|
شراب
اور جوئے کے حق میں کئ آیتیں اتریں ہر ایک میں ان کی برائی ظاہر کی گئ آخر سورۃ
مائدہ کی آیت میں صاف ممانعت کر دی گئ۔ اب جو چیزیں نشہ لاویں وہ سب حرام ہیں
اور جو شرط بدی جائے کسی چیز پر جس میں ہار اور جیت ہو وہ محض حرام ہے اور ایک
طرف کی شرط حرام نہیں۔
|
ثُمَّ كُلى مِن كُلِّ
الثَّمَرٰتِ فَاسلُكى سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخرُجُ مِن بُطونِها شَرابٌ
مُختَلِفٌ أَلوٰنُهُ فيهِ شِفاءٌ لِلنّاسِ ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ
يَتَفَكَّرونَ {16:69}
|
اور
ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔ اس کے پیٹ سے
پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی
شفا ہے۔ بےشک سوچنے والوں کے لیے اس میں بھی نشانی ہے
|
"کلی"اور "فاسلکی" سب اوامر تکوینیہ ہیں۔
یعنی فطرۃً اس کو ہدایت کی کہ اپنی خواہش اور استعداد مزاج کے مناسب ہر قسم کے
پھلوں اور میووں میں سے اپنی غذا حاصل کرے۔ چنانچہ مکھیاں اپنے چھتہ سے نکل کر
رنگ برنگ کے پھول پھل چوستی ہیں جن سے شہد اور موم وغیرہ حاصل ہوتا ہے۔
|
یعنی
بہت سی بیماریوں میں صرف شہد خالص یا کسی دوسری دوا میں شامل کر کے دیا جاتا ہے
جو باذن اللہ مریضوں کی شفایابی کا ذریعہ بنتا ہے۔ حدیث صحیح میں ہے کہ ایک شخص
کو دست آ رہے تھے اس کا بھائی حضور ﷺ
کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے شہد پلانے کی رائے دی ۔ شہد پینے کے بعد اسہال میں ترقی
ہو گئ۔ اس نے پھر حاضر ہو کر
عرض کیا کہ حضرت دست زیادہ آنے لگے فرمایا { صَدَقَ اللہ وَکَذَبَ بَطْنُ
اَخِیْکَ } (اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے)۔ پھر پلاؤ۔ دوبارہ
پلانے سے بھی وہ ہی کیفیت ہوئی ۔ آپ ﷺ
نے پھر وہی فرمایا۔ آخر تیسری
مرتبہ پلانے سے دست بند ہو گئے اور طبیعت صاف ہو گئ۔ اطباء نے اپنے اصول کے موافق
کہا ہے کہ بعض اوقات پیٹ میں "کیموس" فاسد ہوتا ہے جو پیٹ میں پہنچنے
والی ہر ایک غذا اور دوا کو فاسد کر دیتا ہے اس لئے دست آتے ہیں اس کا علاج یہ
ہی ہے کہ مسہلات دی جائیں۔ تا وہ "کیموس فاسد" خارج ہو۔ شہد کے مسہل
ہونے میں کسی کو کلام نہیں۔ گویا حضور ﷺ کا مشورہ
اسی طبی اصول کے موافق تھا ۔ مامون رشید کے زمانہ میں ثمامہ عبسی کو جب اسی قسم
کا مرض لاحق ہوا تو اس زمانہ کے شاہی طبیب یزید بن یوحنا نے مسہل سے اس کا علاج
کیا اور یہ ہی وجہ بتلائی ۔ آج کل کے اطباء شہد کے استعمال کو استطلاق بطن کے
علاج میں بے حد مفید بتاتے ہیں۔
|
یعنی
مختلف رنگ کا شہد نکلتا ہے سفید، سرخ ، زرد کہتے ہیں کہ رنگتوں کا اختلاف موسم
غذا اور مکھی کی عمر وغیرہ کے اختلاف سے پیدا ہوتا ہے ۔ واللہ اعلم۔
|
یعنی
غذا حاصل کرنے اور کھا پی کر چھتہ کی طرف واپس آنے کے راستے کھلے پڑے ہیں کوئی
روک ٹوک نہیں ۔ چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ مکھیاں غذا کی تلاش میں بعض اوقات بہت
دور نکل جاتی ہیں پھر بے تکلف اپنے چھتہ میں واپس آ جاتی ہیں۔ ذرا راستہ نہیں
بھولتیں۔ بعض نے { فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکَ ذُلُلًا } کا مطلب یہ لیا ہے کہ
قدرت نے تیرے عمل و تصرف کے جو فطری راستے مقرر کر دیے ہیں ان پر مطیع و منقاد
بن کر چلتی رہ ۔ مثلاً پھول پھل چوس کر فطری قویٰ و تصرفات سے شہد وغیرہ تیار
کر۔
|
حضرت
شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں برے میں سے بھلا نکلنے
کے تین پتے بتلائے ۔ جانور کے پیٹ اور خون گوبر کے مادہ سے دودھ، نشے کے مادہ
(انگور کھجور وغیرہ) سے پاک روزی اور مکھی کے پیٹ سے شہد ۔ تینوں میں اشارہ ہوا
کہ اللہ تعالیٰ اس قرآن کی بدولت جاہلوں کی اولاد میں عالم پیدا کر ے گا۔ حضرت
کے وقت میں یہ ہی ہوا کہ کافروں کی اولاد عارف کامل ہوئی۔
|








