یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔ [القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3] یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
Monday, 30 April 2012
الله کے اچھے اچھے ناموں- اسماء الحسنی کے فضائل
اللہ کے 99 ناموں کی فضیلت:
اللہ کے وہ حسین نام جن سے اسے پکارا جائے تو جنت واجب ہوجاتی ہے:
حدیث نمبر 1
حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِن لله تِسْعَة وَتِسْعين اسْما مائَة غير وَاحِد مَا مِنْ عَبْدٍ يَدْعُو بِهَذِهِ الْأَسْمَاءِ إِلَّا وَجَبت لَهُ الْجنَّة۔
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، نہیں ہے کوئی بندہ جو پکارے ان ناموں سے لیکن اس کیلئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔
[طبقات الصوفية للسلمي(م412ھ) : صفحہ331]
[حلية الأولياء وطبقات الأصفياء-أبو نعيم الأصبهاني (م430ھ): ج10 / ص380، حديث إن لله تسعة وتسعين اسما لأبي نعيم الأصبهاني(م430ھ): حدیث نمبر 91]
[تقريب البغية-الهيثمي (م807ھ) : حدیث نمبر4210]
[العجالة في الأحاديث المسلسلة-علم الدين الفاداني (م1411ھ) : ص108]
القرآن:
اور اسمائے حسنی (اچھے اچھے نام) اللہ ہی کے ہیں۔ لہذا اس کو انہی ناموں سے پکارو۔
[سورۃ الاعراف:180]
شرح للمناوي:
(بے شک اللہ عزوجل کے 99 نام ہیں)
"اسم" اس کلمہ کو کہتے ہیں جو کسی مسمی (نام والی ذات) کے مقابلے میں رکھا گیا ہو، کہ جب وہ بولا جائے تو اس سے وہ مسمی سمجھی جائے۔
(سو میں سے ایک کم) ۔
امام رافعی نے اپنی کتاب "أمالی" میں کہا: یہ اس بات کو دور کرنے کے لیے کہا گیا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ تعداد قریب قریب ہے (یعنی تقریبا 99 ہے) اور اشتباہ دور کرنے کے لیے۔
امام بیضاوی نے کہا: تاکید کی فائدہ یہ ہے کہ قیاس کے ذریعے اس میں اضافے کی ممانعت میں مبالغہ کیا جائے، یا اس لیے کہ کاتب کی غلطی اور قلم کی چوک سے 99 کو 97 یا 77 یا 79 کے ساتھ اشتباہ نہ ہو، جس سے مسطور (لکھی ہوئی) سے مسموع (سنی ہوئی) میں اختلاف پیدا ہو جائے۔ "واحدة" کو مؤنث لانے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے "کلمہ" یا "صفة" یا "تسمية" مراد ہے۔
یہ تعداد یہاں حصر (حدود) پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ کتاب اللہ میں "الرب، المولى، النصیر، المحیط، الکافی، العلام" وغیرہ ثابت ہیں، اور سنت میں "الحنان، المنان، الجمیل" وغیرہ ثابت ہیں۔ ان ناموں کو خاص کر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ کے اعتبار سے زیادہ مشہور اور معنی کے اعتبار سے زیادہ واضح ہیں۔ یہ بات قاضی (بیضاوی) نے ذکر کی ہے، اور عنقریب طیبی کی بات آئے گی جو اس کی تردید کرے گی۔
(بے شک وہ وتر ہے) یعنی یکتا اور اکیلا ہے۔ (وتر کو پسند کرتا ہے) یعنی اس پر ثواب دیتا ہے، اسے پسند کرتا ہے اور قبول کرتا ہے۔
(اور کوئی بندہ) یعنی کوئی انسان (ان (ناموں) کے ساتھ) اللہ سے (دعا نہیں کرتا مگر اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے) یعنی سابقین کے ساتھ جنت میں داخلہ، یا بغیر عذاب کے پہلے ہی داخلہ، بشرطیکہ اس کی نیت سچی ہو اور اس کا ارادہ خالص ہو۔
(تنبیہ:) ابن عربی نے کہا: علمِ الٰہی میں جو بھی حکم ذات کے لیے ثابت ہوتا ہے وہ دراصل الوہیت (الٰہ ہونے) کے لیے ہوتا ہے، اور وہ احکام، نسبتیں، اضافے اور سلبی صفات ہیں۔ پس کثرت نسبتوں میں ہے نہ کہ تعداد میں۔ یہاں ان لوگوں کا قدم پھسل گیا جنہوں نے صفات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس ذات میں شرک کیا ہے جو شرک قبول کرتی ہے اور اس میں جو شرک قبول نہیں کرتی، ان میں فرق نہیں کیا۔ انہوں نے ان امورِ جامعہ پر اعتماد کیا جو دلیل، حقیقت، علت اور شرط ہیں، اور ان کے ذریعے غائب اور شاہد (دونوں) پر حکم لگایا۔ شاہد (دنیا) میں تو یہ بات کبھی درست ہو سکتی ہے، لیکن غائب (اللہ کی ذات) میں ہرگز درست نہیں۔
(اس حدیث کو امام ابونعیم نے حلیۃ الاولیاء میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے)۔
[فيض القدير شرح جامع الصغير-للمناوي:2369]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات:
1. اسم کی تعریف: اسم وہ لفظ ہے جو کسی ذات کے لیے وضع کیا گیا ہو اور اس کے بولنے سے اس ذات کا علم حاصل ہو۔
2. تعداد کی حکمت: اللہ کے 99 ناموں کے ذکر میں "سو میں سے ایک کم" کہہ کر تاکید کی گئی ہے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ تعداد قریب قریب ہے، اور تحریر کی غلطیوں سے بچا جا سکے۔
3. حصر نہیں: یہ تعداد اللہ کے ناموں کے حصر (حدود) کے لیے نہیں ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں اس سے زیادہ نام موجود ہیں۔ یہ صرف ان مشہور ناموں کا ذکر ہے جو لفظی و معنوی اعتبار سے زیادہ واضح ہیں۔
4. اللہ وتر ہے: اللہ تعالیٰ یکتا اور اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ طاق عدد کو پسند فرماتا ہے۔
5. دعا کی قبولیت: جو شخص اللہ کے ان ناموں کے ساتھ خلوصِ نیت سے دعا کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
6. کثرت نسبتوں میں ہے، ذات میں نہیں: اللہ کی صفات اور نام اگرچہ کثیر ہیں، لیکن اس کی ذات ایک اور واحد ہے۔ کثرت صرف نسبتوں، اضافوں اور اعتبارات میں ہے۔
7. شرک سے بچاؤ: اللہ کی صفات پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں ایسی بات نہ کہی جائے جس سے ذاتِ باری تعالیٰ میں کسی قسم کی کثرت یا ترکیب کا وہم پیدا ہو۔
8. غائب پر شاہد کو قیاس نہ کریں: دنیوی مشاہدات کو اللہ کی ذات پر قیاس کرنا درست نہیں۔ اللہ کی ذات و صفات کا علم صرف وحی کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
9. اسماء حسنیٰ کی جامعیت: یہ نام اللہ کی صفاتِ کمالیہ کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کے ذریعے اللہ سے دعا مانگنے کا حکم ہے۔
10. سند کا مرتبہ: اس حدیث کو امام ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور علماء نے اس کے حسن یا ضعف پر مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔
Sunday, 29 April 2012
اسلاف و اکابر = Aslaaf o Akabir
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
سیرت = Seerat
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://ummat.com.pk/2010/10/12/news.php?p=deen1.gif
Duaain
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
http://www.youtubeurdu.com/newspapers/pakistaninewspapers/urdu/ummat.php
Subscribe to:
Comments (Atom)






















































