Thursday, 13 December 2012

الله کہاں ہے؟ عرش پر، آسمان پر يا ...

الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک جگہ ارشاد فرمایا:
ترجمہ : بے شک الله (کی ذات) ہر شئ پر خوب شاہد (گواہ/حاضر/موجود) ہے.
{4:33}{5:117}{22:17}{34:47}{41:53}{58:6}{85:9}
[النساء:٣٣ ، المائدہ:١١٧ ، الحج:١٧ ، السبا:٤٧ ، المجادلہ:٦ ، البروج:٩]

اورتم نہیں ہوتے کسی حال میں، اورنہ اس میں سے کچھ قرآن پڑھتے ہو، اور نہ کوئی عمل کرتے ہو، مگر ہم تم پر گواہ (حاضر) ہوتے ہیں جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو اور نہیں تمہارے رب سے غائب ایک ذرہ برابر بھی زمین میں، اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹا اور نہ بڑا مگر روشن کتاب میں ہے۔[یونس:٦١]

اسی لیے
1) وہ ساتھ ہے:
مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔ (الحديد:٤)
 ... مگر وہ ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی وہ ہوں...(المجادلة:٧)
... شرماتے ہیں لوگوں سے اور نہیں شرماتے اللہ سے اور وہ ان کے ساتھ ہے جب کہ مشورہ کرتے ہیں رات کو اس بات کا جس سے اللہ راضی نہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں سب اللہ کے قابو میں ہے.(النساء:١٠٨)


 ...اور اللہ (وحدہ لاشریک) ہی کے لئے ہے مشرق بھی، اور مغرب بھی، سو تم جدھر بھی رخ کرو گے وہاں اللہ کی ذات (اقدس و اعلیٰ) کو پاؤ گے، بیشک اللہ بڑی وسعت والا، نہایت ہی علم والا ہے،(البقرہ:١١٥)

2) وہ قریب ہے:
 ... جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں. (البقرہ:١٨٦)
 ... بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے۔(ھود:١١)
 ... وہ بڑا ہی سننے والا اور بہت ہی قریب ہے.(سبا: ٥٠)
 ... اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں.(ق:١٦)

3) وہ (ذات) زمین میں بھی ہے:
اور وہی اللہ ہے آسمانوں میں اور زمین میں، جانتا ہے تمہارا چھپا اور کھلا اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو. (الانعام :٣)


اور دوسری جگہ فرمایا:
وہ بڑا مہربان عرش پر قائم ہوا (طه:٥)
اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔(السجده:٤، الحديد:٤)

لیکن، کیسے؟؟؟

فرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والے قرآن) میں ہی اس کا الٰہی فیصلہ:
الله پاک کے متعلق ہر مشتبہ سوال پیدا ہونے کی عام اور اہم وجہ الله پاک کو کسی شئ کی مثل (طرح جیسا) سمجھنا ہے، لہذا فرمایا:

1) ... نہیں ہے اس کی مثل/طرح کا سا کوئی ... (الشورى:١١)
یعنی نہ ذات میں اس کا کوئی مماثل ہے نہ صفات میں، نہ اس کے احکام اور فیصلوں کی طرح کسی کا حکم اور فیصلہ ہے نہ اسکے دین کی طرح کوئی دین ہے، نہ اس کا کوئی جوڑا ہے نہ ہمسر نہ ہم جنس۔

2) وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب اس میں بعض آیتیں ہیں محکم (یعنی ان کے معنی واضح ہیں) وہ اصل ہیں کتاب کی (احکام میں انہی پر اعتماد کیا جاتا ہے) اور دوسری ہیں مشابہ (یعنی جن کے معنیٰ معلوم یا معیّن نہیں)، سو جن کے دلوں میں کجی(حق سے اعراض) ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات(شبھات و التباس کے بھنور کہ جس میں وہ مبتلا ہیں) کی گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے، اور مضبوط(جمے ہوۓ) علم والے کہتے ہیں ہم اس پر یقین لائے(اگرچہ ہم اس کے معنی نہیں جانتے) سب (ظاہر المعانی اور مخفی المعانی آیات) ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں اور (یہ اصولی بات) سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے.(آل عمران : ٧)

کیسے منکر ہو سکتا ہے وہ جو الله کو آسمان/عرش پر ((بھی)) مانے؟
ارے نادان! الله تو "نور" ہے آسمان اور ((زمین)) کا.[القرآن{24:35}]

موسیٰؑ سے طورسینا کے فرش پر ہم کلامی جس نے مقرر کی [القرآن{7:143}]
اسی نے معراج میں عرش کی جانب بلاکر محمدﷺ کی شان بلند کی.


قرآن کریم میں ((استویٰعَلٰی الْعَرْشِ)) کا جہاں بھی ذکر ہوا ہے اس کے ساتھ زمین و آسمان اور نظام شمسی کے تخلیق کا ذکر بھی ضرور کیا گیا ہے، اسی لئے شیخ ابو طاہر القزوینی رح کی تحقیق کے مطابق : یہ خدائی تخلیقی و تکونی سلسلہ کے عرش پر ختم ہونے کا معنی ظاہر کرتا ہے.

امام أبو القاسم، ابن جزي ؒ(المتوفى: 741ھ) فرماتے ہیں:۔
” اللہ کی ذات جیسا (مخلوقات وعرش کو پیدا کرنے سے) پہلی تھی اب بھی ویسی ہی ہے“(القوانين الفقهية ج۱ ص۵۷)

قال بن حجر الهيتمي في كتابه المنهاج القويم ص ٢٢٤ : واعلم أنّ القرافيّ وغيره حكوا عن الشّافعيّ ومالكٍ وأحمد وأبي حنيفة رضي الله عنهم القول بكفر القائلين بالجهة والتّجسيم وهم حقيقون بذلك.
امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمدؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک جو شخص ﷲ پاک کی ذات کے لیئے جھت و مکان مانے وہ کافرہے۔ (المنھج القویم:ص۲۵۴)
(سِیَر اعلَامِ النُبَلاءِ ازالامام شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذھبی:ص۱۰۱)


***************************************
قال تعالى { ليس كمثله شئ } { ولم يكن له كفؤا احد } { هوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالبَاطِنُ } { ولا يحيطون به علما} { إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ } {وأن إلى ربك المنتهى} 1 ـــــ نقول كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كان الله ولم يكن شئ غيره ( رواه البخاري ) سبحانك أنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء ( روم مسلم ) 2 ــــــ قال مصباح التوحيد سيدنا علي رضي الله عنه : كان الله ولا مكان وهو الأن على ماعليه كان ومن زعم أن إلهنا محدود فقد جهل الخالق المعبود [حلية الأولياء: ترجمة علي بن أبي طالب (73/1) ] 3ـ ــــــ قال الإمامُ أَبو حنيفَةَ رضي الله عنه في كتابه الفِقْهِ الأَبْسَطِ : "كانَ اللهُ ولا مكانَ، كانَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الخَلْقَ، كانَ ولم يكنْ أَينٌ ولا خَلقٌ ولا شىءٌ وهوَ خالِقُ كُلِّ شىءٍ". 4 ـــــ قال الإمام مالك رضي الله عنه في الموطا ذات الله لاتحلها الحوادث وليس من الله شئ مخلوق. 5 ــــــ قال الإمام الـمجتهد مـحمد بن إدريس الشافعي رضي الله عنه إمام الـمذهب الشافعي (204 هـ) ما نصه [إتحاف السادة الـمتقين (2/24) ] : " إنه تعالى كان ولا مكان فخلق الـمكان وهو على صفة الأزلية كما كان قبل خلقه الـمكان لا يجوز عليه التغيِير فى ذاته ولا في صفاته " 6 ـــــ قال الإمام أحمد بن حنبل في توحيد الله وتنـزيهه عن الجسم والمكان والجهة والحركة والسكون ، : "والله تعالى لا يلحقه تغير ولا تبدل ولا تلحقه الحدود قبل خلق العرش ولا بعد خلق العرش ، وكان ينكرء الإمام أحمد – على من يقول إن الله في كل مكان بذاته (( لأن الأمكنة كلها محدودة )) نقله الإمام أبو الفضل التميمي الحنبلي شيخ الحنابلة ببغداد في كتاب " اعتقاد الإمام أحمد " 7ـــــ قال الإمام الحافظ الـمجتهد أبو جعفر محمد بن جرير الطبري المفسر السلفي عند تفسير قول الله تعالى : { هُوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالبَاطِنُ } [سورة الحديد/3] ما نصه [جامع البيان (مجلد 13/ جزء 27/215) ] : " لا شىء أقرب إلى شىء منه كما قال : { وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الوَرِيدِ }

قال الإمام الشافعي رضي الله عنه:من اعتقد أن الله جالس على العرش فهو كافر" (رواه ابن المعلم القرشي في كتابه نجم المهتدي ورجم المعتدي ص: 551).نقل ذلك عنه القاضى حسين الذى كان يسمى حبر الأمة لسعة علمه
ونقل أبو الفضل التميمي في كتاب (( اعتقاد الإمام أحمد )) (ص 38 -39) عن الإمام أنه قال : (( والله تعالى لا يلحقه تغير ولا تبدل ولا تلحقه الحدود قبل خلق العرش ولا بعد خلق العرش ، وكان ينكر- الإمام أحمد – على من يقول إن الله في كل مكان بذاته لأن الأمكنة كلها محدودة )).
قال ابو القاسم القشيري (465 هـ) في رسالته ما نصه (3). “سمعت الإمام أبا بكر ابن فورك رحمه الله تعالى يقول: سمعت أبا عثمان المغربي يقول: كنت اعتقد بشيء من حديث الجهة، فلما قدمت بغداد زال ذلك عن قلبي فكتبت الى اصحابنا بمكة: إني أسلمت الآن إسلاما جديدًا” اهـ.[الرسالة القشيرية (ص/5).]
وقال الشيخ لسان المتكلمين أبو المعين ميمون بن محمد النسفي الحنفي (4) (508 هـ) “والله تعالى نفى المماثلة بين ذاته وبين غيره من الأشياء، فيكون القول باثبات المكان له ردا لهذا النص المحكم – أي قوله تعالى ﴿ليس كمثله شيء﴾ – الذي لا احتمال فيه لوجهٍ ما سوى ظاهره، ورادُّ النص كافر، عصمنا الله عن ذلك” اهـ.
[تبصرة الادلة (۱/169)]
قال الشيخ محمود محمد خطاب السبكي (في كتابه إتحاف الكائنات): "وقد قال جمع من السلف والخلف: إن من اعتقد أن الله في جهة فهو كافر".[الفقه على المذاهب الأربعة في المجلد الخامس ص: 396]
قال الشيخ محمود محمد خطاب السبكي (في كتابه إتحاف الكائنات (ص/ 3- 4)): "وقد قال جمع من السلف والخلف: إن من اعتقد أن الله في جهة فهو كافر".قال المفسر الرازي: "إن اعتقاد أن الله جالس على العرش أو كائن في السماء فيه تشبيه الله بخلقه وهو كفر"اهـقال شيخ اﻷ‌زهر سليم البشري المالكي: "من اعتقد أن الله جسم أو أنه مماس للسطح اﻷ‌على من العرش وبه قالت الكرامية واليهود وهؤﻻ‌ء ﻻ‌ نزاع في كفرهم". (نقله عنه الشيخ سﻼ‌مة القضاعي في كتابه فرقان القرءان ص: ١٠٠)
وقال الشيخ محمد بن احمد عليش المالكي (1299 هـ) عند ذكر ما يوقع في الكفر والعياذ بالله ما نصه: “وكاعتقاد جسمية الله وتحيزه، فانه يستلزم حدوثه واحتياجه لمحدث” اهـ.
[الاعتماد في الاعتقاد (ص/ 5).]
وقال الشيخ ملا علي القاري الحنفي (1014 هـ). ما نصه: “فمن أظلم ممن كذب على الله أو ادعى ادعاء معينا مشتملا على اثبات المكان والهيئة والجهة من مقابلة وثبوت مسافة وأمثال تلك الحالة، فيصير كافرا لا محالة) اهـ. 
[شرح الفقه الاكبر: بعد ان انتهى من شرح الرسالة (ص/215).]
وقال (8): من اعتقد أن الله لا يعلم الأشياء قبل وقوعها فهو كافر وان عد قائله من أهل البدعة، وكذا من قال: بأنه سبحانه جسم وله مكان ويمر عليه زمان ونحو ذلك كافر، حيث لم تثبت له حقيقة ا لإيمان ” اهـ.
[شرح الفقه الاكبر: بعد ان انتهى من شرح الرسالة  (ص/ 271- 272).]
وقال أيضا ما نصه: “بل قال جمع منهم- أي من السلف- ومن الخلف إن معتقد الجهة كافر كما صرح به العراقي، وقال: إنه قول لأبي حنيفة ومالك والشافعي والأشعري والباقلاني ” اهـ.[مرقاة المفاتيح (٣/ 300).]
*************************************


۔ قرآن کریم میں ہے: "الرَّحْمَنُ عَلٰی الْعَرْشِ اسْتَوَی" کہ اللہ عرش پر مستوی ہے، لیکن استواء کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے:
مشہور اصولی اور مفسر قرآن علامہ نسفیؒ جو مسلکا حنفی ہیں انھوں نے بھی صراحتاً ایسی ہی بات نقل کی ہے: "المذہب قول علی الاستواء غیر مجہول، والتکییف غیر معقول وا لإیمان بہ واجب والسوٴال عنہ بدعة؛ لأنہ کان ولا مکان فہو علی ما کان قبل خلق المکان لم یتغیر عما کان"

(تفسیر مدارک: ۲/۲۹۰، سورہٴ طٰہ                    





اگر صفات کے لئے کیفیات ثابت کردی جائیں اگرچہ مجہول ہی کیوں نہ ہوں تو اللہ تعالی کے لئے جسم لازم آئے گا‘کیونکہ کیفیات اجسام کے ساتھ خاص ہیں۔

چنانچہ امام بیہقی ؒ فرماتے ہیں :

’’فَاِنَّ الَّذِیْ یَجِبُ عَلَیْنَا وَعَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ اَنْ یَّعْلَمَہٗ اَنَّ رَبَّنَا لَیْسَ بِذِیْ صُوْرَۃٍ وَلَا ھَیْئَۃٍ فَاِنَّ الصُّوْرَۃَ تَقْتَضِی الْکَیْفِیَّۃَ وَھِیَ عَنِ اللّٰہِ وَعَنْ صِفَاتِہٖ مَنْفِیَّۃٌ۔‘‘(کتاب الاسماء والصفات للبیھقی ج 2ص21، باب ما ذکر فی الصورۃ)
ترجمہ: جو چیز ہمیں اور ہر مسلمان کو جاننا ضروری ہے‘ وہ یہ ہے کہ ہمارا رب صورت والا ہے نہ ہیئت والا ۔کیونکہ صورت کیفیت کا تقاضا کرتی ہے اور اس کیفیت کی اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات سے نفی کی گئی ہے ۔
اشکال: امام مالک ؒسے جب ا ستواء کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:

اَلْاِسْتِوَائُ مَعْلُوْمٌ وَالْکَیْفُ مَجْہُوْلٌ وَالْاِیْمَانُ بِہٖ وَاجِبٌ وَالسُّوَالُ عَنْہٗ بِدْعَۃٌ۔

(شرح العقیدہ الطحاویہ لابن ابی العز ج 1ص188 ‘ الرد علی الجھمیۃ لابن مندہ :ص104)

ترجمہ:استواء معلوم ہے‘ کیفیت مجہول ہے ‘اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔

غیرمقلدین کہتے ہیں کہ امام مالک ؒنے استواء ثابت کرکے مجہول الکیفیت قرار دیاہے لہذا صفات باری کے  حقیقی معنی مراد لے کر مجہول الکیفیت قراردینا درست ہے۔

جواب: یہ مقولہ امام مالکؒ سے ثابت ہی نہیں۔
(التعلیق علی کتاب الاسماء والصفات ج2ص151)
امام بیہقیؒ نے کتا ب الاسماء والصفات ج2ص150 اور حافظ ابن حجر عسقلانی ؒنے فتح الباری ج13ص498 باب و کان عرشہ علی الماء میں بسند جید امام مالکؒ کا صحیح قول نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن وھبؒ فرماتے ہیں کہ ہم امام مالک ؒکے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور امام مالک ؒسے کہنے لگا:
یَا اَبَا عَبْدِاللّٰہِ  ! اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ ‘کَیْفَ اسْتِوَائُ ہٗ؟
اے ابوعبداللہ!رحمن عرش پر مستوی ہے ‘ اس کا استواء کیسے ہے؟
ابن وہب ؒفرماتے ہیں کہ امام مالکؒ نے سر جھکا لیا اور آپ کو پسینہ آگیا۔ پھر آپ نے سراٹھایا اور فرمایا:
اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ کَمَا وَصَفَ نَفْسَہٗ ‘لَا یُقَالُ کَیْفَ؟ وَکَیْفَ عَنْہٗ مَرْفُوْعٌ
رحمن عرش پر مستوی ہے جیسا کہ اس نے خود بیان کیاہے ‘یہ نہ کہا جائے کہ کیسے؟(یعنی کیفیت کی نفی کی جائے)اور اللہ سے کیفیت مرفوع ہے(یعنی کیفیت کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں بولا جاتا)
اسی طرح امام ابوبکر بیھقیؒ اور علامہ ابن حجر عسقلانی  ؒنے ولید بن مسلم کے طریق سے نقل کیاہے کہ امام اوزعی  ؒ ‘امام مالک ؒ  ‘امام سفیان ثوری ؒ اور امام لیث بن سعد ؒسے ان احادیث سے متعلق سوال کیا گیا جن میں اللہ کی صفات کا بیان ہے تو انہوں نے فرمایا:
اَمِرُّ وْھَاکَمَا جَائَ تْ بِلَاکَیْفِیَّۃٍ 
ترجمہ:یہ احادیث جیسے آ ئی ہیں ویسے بیان کرو کیفیت کے بغیر۔  
(کتاب الاسماء والصفات للبیھقی ج2 ص198،فتح الباری لابن حجر ج13 ص498  باب و کان عرشہ علی الماء )
تو امام مالک سے مروی درج بالاروایات میں’’ کیف ‘‘کی باقاعدہ نفی ہے۔



اشکال : جب اللہ تعالیٰ مشابہات ِمخلوق سے پاک ہیں تو قرآن و حدیث میں ایسے الفاظ کیوں استعمال کئے گئے جو انسان کو وہم میں ڈال دیتے ہیں ؟
جواب: علامہ ابن جوزی ؒ نے ’’دفع شبہ التشبیہ‘‘ میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی طبیعت پر محسوسات اتنے غالب ہو گئے تھے کہ لوگ محسوسات کے بغیر اپنے الٰہ کو سمجھتے نہیں تھے ۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان سے عرض کیا تھا: اِجْعَلْ لَّنَا اِلٰہً کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ (سورہ اعراف 138) کہ ہمارے لئے بھی معبود بنائیے جس طرح ان کے معبود ہیں‘ اور مشرکین کے سوال ’’اللہ تعالیٰ کیا ہے ؟‘‘ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ o اَللّٰہُ الصَّمَدُ؁کہہ دیجئے! اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے ۔
اگر اس وقت ان کلمات کو ذکر کئے بغیر کہا جاتا:’’اَللّٰہُ لَیْسَ بِجِسْمٍ وَلَا جَوْھَرٍ وَلَا عَرْضٍ وَلَا طَوِیْلٍ وَلَا عَرِیْضٍ وَلَا یَشْغُلُ الْاَمْکِنَۃُ وَلَا یَحْوِیْہِ مَکَانٌ وَلَا جِھَۃٌ مِنَ الْجِھَاتِ السِّتَّۃِ۔‘‘(اللہ تعالی نہ جسم ہے ، نہ جوہر، نہ طویل ، نہ عریض ، نہ امکنہ میں اتر کر ان کو بھر سکتا ہے اور نہ کوئی مکان اس کا احاطہ کرسکتا ہے اور نہ اس کے لئے جہات ستہ میں سے کوئی جہت ثابت ہے ) تو عام آدمی سمجھ نہ سکتا۔
 (دفع شبہ التشبیہ للامام ابن الجوزی: ص 107)




مسئلہ استواء علی العرش
اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک ’’استواء علی العرش‘‘اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جس کے حقیقی معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں اور قرآن مجید میں اس کے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں ۔امام بیہقی  ؒ فرماتے ہیں :
فَاَمَّاالْاِسْتِوائُ فَالْمُتَقَدِّمُوْنَ مِنْ اَصْحَابِنَاکَانُوْالَا یُفَسِّرُوْنَہٗ وَلَا یَتَکَلِّمُوْنَ فِیْہِ (کتاب الاسماء والصفات للبیھقی ج2 ص150)
ترجمہ: ’’رہا استواء کا مسئلہ تو ہمارے متقدمین حضرات نہ اس کی تفسیر کرتے تھے اور نہ ہی اس میں کوئی کلام فرماتے تھے ۔‘‘
جبکہ غیر مقلدین کے ہاں استواء علی العرش سے اللہ تعالیٰ کا حساً فوق العرش ہونا مراد ہے ۔
(عقیدہ مسلم از محمد یحییٰ گوندلوی: ص 219 ، آئیے عقیدہ سیکھئے  از طالب الرحمن شاہ ص 39)
فائدہ: اللہ تعالیٰ موجود بلا مکان ہے
اگر کوئی شخص سوال کرے’’اَیْنَ اللّٰہُ ؟‘‘ ( اللہ کہاں ہے ؟) تو اس کا جواب یہ دینا چاہیے  :’’ھُوَ مَوْجُوْدٌ بِلَا مَکَانٍ‘‘ کہ اللہ تعالیٰ بغیر مکان کے موجود ہیں۔ یہ اہل السنت والجماعت کا موقف و نظریہ ہے جس پر دلائل ِ عقلیہ و نقلیہ موجود ہیں:
فائدہ: ’’ھُوَ مَوْجُوْدٌ بِلَا مَکَانٍ‘‘ یہ تعبیراہل علم حضرات کی ہے، اسی لیے طلبہ کو سمجھانے کے لیے ’’اللہ تعالی بلا مکان موجو دہے‘‘کہ دیا جاتا ہے۔ عوام الناس چونکہ ان اصطلاحات سے واقف نہیں ہوتے اس لیے اس عقیدہ کو عوامی ذہن کے پیش نظر ’’اللہ تعالیٰ حاضر ناظر ہے‘‘ یا’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے‘‘ سے تعبیر کر دیا جاتا ہے۔
اہل السنۃکے دلائل :
آیاتِ قرآنیہ:
1: وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْافَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (سورۃ البقرۃ: 115)
ترجمہ : مشرق و مغرب اللہ تعالی ہی کا ہے ،جس طرف پھر جاؤادھر اللہ تعالیٰ کا رخ ہے ۔
2: وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ (سورۃ البقرۃ: 186)
ترجمہ : جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دو کہ ) میں تو تمہارے پاس ہی ہوں۔
فائدہ : عرش بعید ہے کیونکہ ہمارے اوپر سات آسمان ہیں، ان پر کرسی ہے، کرسی پر سمندر ہے، سمندر کےاوپر عرش ہے۔
(کتاب الاسماء والصفات للامام البیہقی ج 2ص 145)
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
۱: اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰاتٍ۔ ۲:  وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ۔ ۳:  وَ کَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَآئِ۔
3: یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ وَھُوَ مَعَھُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ۔(النساء:108)
ترجمہ: وہ شرماتے ہیں لوگوں سے اور نہیں شرماتے اللہ سے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جب کہ مشورہ کرتے ہیں رات کو اس بات کا جس سے اللہ راضی نہیں۔
4: اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ(ہود:61)
ترجمہ: بے شک میرا رب قریب ہے قبول کرنے والاہے۔
5: وَاِنِ اھْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحٰی اِلَیَّ رَبِّیْ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ (سبا:50)
ترجمہ: اور اگر میں صحیح راستے پر ہوں تو یہ بدولت اس قرآن کے ہے جس کو میرا رب میرے پاس بھیج رہاہے وہ سب کچھ سنتا بہت قریب ہے۔
6: وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ وَلٰکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ (سورہ واقعہ:85)
ترجمہ : تم سے زیادہ ہم اس کے قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھتے نہیں۔
7: وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (سورہ ق:16)
ترجمہ : ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی عجیب توجیہ:
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی بڑی عجیب توجیہ فرمائی ہے، فرماتے ہیں:
”مثلاً جو دو کاغذ گوند سے چپکا دیے گئے ہیں وہ ایک دوسرے سے اتنے قریب نہیں بلکہ گوند جو کہ واسطہ ہے وہ زیادہ قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ مثال سے پاک ہیں لیکن آخر میں تمہیں کس طرح سمجھاؤں، پس جب اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہاری ہستی کے درمیان واسطہ ہیں تو وہ ہستی سے زیادہ قریب ہوئے۔ اور یہی  حاصل تھا تمہارے ساتھ بنسبت تمہاری جان ہونے کا۔ پس تم سے اتنے قریب ہوئے جتنے کہ خود تم بھی اپنے قریب نہیں جیسا کہ گوند کی مثال میں سمجھایا گیا۔ یہ بہت موٹی بات ہے کہ کوئی قیل و قال کی گنجائش نہیں۔“
(خطباتِ حکیم الامت: ج17 ص431 عنوان: اقربیت کا مفہوم)
8: وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (سورہ حدید:4)
ترجمہ : تم جہاں کہیں ہو، وہ (اللہ ) تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے ۔
9: مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوَیٰ ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ھُوَرَابِعُھُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا.
 (سورہ المجادلۃ:7)
ترجمہ : کبھی تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں چوتھا وہ (اللہ)  نہ ہو، اور نہ پانچ آدمیوں کی کوئی سرگوشی ایسی ہوتی ہے جس میں چھٹا وہ نہ ہو، اور چاہے سرگوشی کرنے والے اس سے کم ہوں یا زیادہ، وہ جہاں بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
10: اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ ( سورہ ملک :16)
ترجمہ : کیا تم کو اس (اللہ تعالی )کا جو آسمان میں ہے، خوف نہیں رہا۔
اعتراض: جب ہم وہ آیات پیش کرتے ہیں جن میں معیت کا ذکر ہے تو غیرمقلدین کہتے ہیں کہ اس سے’’معیت علمیہ‘‘ مراد ہے مثلاًوَہُوَ مَعَکُمْ ای عِلْمُہُ مَعَکُمْ، اور اس پر دلیل یہ ایسی آیات پیش کرتے ہیں: ’’اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآئِ وَ  الْاَرْضِ الآیۃ (الحج:70)‘‘
جواب: اولاً.....معیت علمیہ لازم ہے معیت ذاتیہ کو،جہاں ذات وہاں علم ،رہا غیرمقلدین کا’’اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآئِ وَ  الْاَرْضِ‘‘ وغیرہ کی بناء پر یہ کہناکہ اس سے علم مراد ہے، تو ہم پوچھتے ہیں کہ اس میں ذات کی نفی کہاں ہے؟بلکہ اثباتِ علم سے تو معیت ِذاتیہ ثابت ہوگی بوجہ تلازم کے۔
ثانیاً..... غیرمقلدین سے ہم پوچھتے ہیں کہ جب ’’اِسْتَوَیٰ عَلَی الْعَرْشِ‘‘یا ’’یَدُاللّٰہِ‘‘ جیسی آیات کو تم ظاہر پر رکھتے ہو،تاویل نہیں کرتے تو یہاں’’وَہُوَ مَعَکُمْ‘‘  [جس میں’’ہو‘‘ ضمیر برائے ذات ہے]جیسی آیات میں تاویل کیوں کرتے ہو؟














================================================
احادیثِ مبارکہ
1 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ ، فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ " ، رَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْأَذَانِ » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ » بَاب هَلْ يَلْتَفِتُ لِأَمْرٍ يَنْزِلُ بِهِ أَوْ يَرَى ... رقم الحديث: 714(753)]
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مسجد کے قبلہ(کی جانب) میں کچھ تھوک دیکھا اس وقت آپ ﷺ لوگوں کے آگے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے اس کو صاف کر دیا ۔اس کے بعد جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں ہوتو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے‘  لہذا کوئی شخص نماز میں اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے۔


تخريج الحديث

م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحد قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرصحيح البخاري714753محمد بن إسماعيل البخاري256
2أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله حيال وجهه لا يتنخمن حيال وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرصحيح البخاري56736111محمد بن إسماعيل البخاري256
3أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحدكم قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرسنن ابن ماجه755763ابن ماجة القزويني275
4رأى نخامة في قبلة المسجد وهو يصلي بين يدي الناس فحتها إن أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحد قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل52565385أحمد بن حنبل241
5أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحدكم قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي528533النسائي303
6أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحد منكم قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرمسند أبي داود الطيالسي19421953أبو داود الطياليسي204
7إن أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحدكم قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرمعجم شيوخ الابرقوهى204---أحمد بن إسحاق بن محمد الأبرقوهي701
8أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحدكم قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرمشيخة ابن الجوزي12---ابن الجوزي597
9أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحدكم قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرجزء أبي جهم البغدادي4242أبو جهم البغدادي228
10أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحدكم قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرعوالي الليث بن سعد2727قاسم قطلوبغا879
11إن أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحد قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرحديث السراج برواية الشحامي100---محمد بن إسحاق بن إبراهيم السراج313
12إن أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحد قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرحديث السراج برواية الشحامي1878---محمد بن إسحاق بن إبراهيم السراج313
13أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه فلا يتنخمن أحدكم قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرثبت عمر بن أحمد بن علي الشماع285---عمر بن أحمد بن علي الشماع936
14إذا كان أحدكم في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحدكم قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرنظم الآلي بالمائة العوالي79---ابن حجر العسقلاني852
15أحدكم إذا صلى فإن الله قبل وجهه فلا يتنخمن أحد منكم قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرالأسماء والصفات للبيهقي947972البيهقي458
16أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه لا يتنخمن أحدكم قبل وجهه في الصلاةعبد الله بن عمرالمحلى بالآثار لابن حزم3942 : 128ابن حزم الظاهري456
17لا يمسح وجهه في الصلاةعبد الله بن عباسالمعجم الأوسط للطبراني96749440سليمان بن أحمد الطبراني360
18يمسح العرق عن وجهه في الصلاةعبد الله بن عباسالمعجم الكبير للطبراني1196112122سليمان بن أحمد الطبراني360
19يمسح العرق عن وجهه في الصلاةعبد الله بن عباسجزء أبي العباس بن عصم951 : 211أبو العباس بن عصم405






2 - حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُمْ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ، كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ» ، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ»
[صحيح مسلم:1342 - كِتَابُ الْحَجِّ، بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ إِلَى سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ]

حضرت ابن عمر ؓ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر کسی سفر کے لئے نکلتے تو تین مرتبہ اَللَّهُ أَکْبَرُ کہتے پھر فرماتے ( سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا کُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ) (الزخرف) ترجمہ : پاک ہے وہ ذات کہ جس نے ہمارے لئے اسے مسخر فرما دیا اور ہم اسے مسخر کرنے والے نہ تھے اور ہم اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں، (پھر یہ دعا مانگے) اے اللہ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا اور ان اعمال کا سوال کرتے ہیں کہ جن سے تو راضی ہوتا ہے اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہم پر آسان فرما اور اس کی مسافت کو تہہ فرما دے، اے اللہ! تو ہی اس سفر میں ہمارا رفیق(ساتھی) ہے اور گھر والوں کا نگہبان ہے اے اللہ! میں سفر کی تکلیفوں اور رنج وغم سے اور اپنے مال اور گھر والوں کے برے انجام سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب آپ ﷺ سفر سے واپس آتے تو یہی دعا پڑھتے اور ان میں ان کلمات کا اضافہ فرماتے ہم واپس آنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔ 
[مسلم (2/978، رقم 1342) ، وأبو داود (3/33، رقم 2599) ، والنسائى فى الكبرى (6/141، رقم 10382) ، وأحمد (2/150، رقم 6374) ، وابن خزيمة (4/141، رقم 2542) ، وابن حبان (6/413، رقم 2696) .]




3 - (حديث قدسي) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ ؟ فَلَمْ تُطْعِمْهُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ ، فَلَمْ تَسْقِهِ ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ " .
[صحيح مسلم » كِتَاب الْبِرِّ ، وَالصِّلَةِ ، وَالْآدَابِ » بَاب فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ ... رقم الحديث: 4667]
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی وہ کہے گا اے پروردگار میں تیری عیادت کیسے کرتا حالانکہ تو تو رب العالیمن ہے اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا. اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں آپ کو کیسے کھانا کھلاتا اور حالانکہ تو تو رب العالمین ہے تو اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا تھا کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا. اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں تجھے کیسے پانی پلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے اللہ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تونے اس کو پانی نہیں پلایا تھا اگر تو اسے پانی پلاتا تو تو اسے میرے پاس پاتا۔
تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1مرضت فلم تعدني قال يا رب كيف أعودك وأنت رب العالمين قال أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده أما علمت أنك لو عدته لوجدتني عنده استطعمتك فلم تطعمني قال يا رب وكيف أطعمك وأنت رب العالمين قال أما علمت أنه استطعمك عبدي فلان فلم تطعمه أما علمت أنك لو أطعمته لوجعبد الرحمن بن صخرصحيح مسلم46672572مسلم بن الحجاج261
2مرضت فلم يعدني ابن آدم ظمئت فلم يسقني ابن آدم فقلت أتمرض يا رب قال يمرض العبد من عبادي ممن في الأرض فلا يعاد فلو عاده كان ما يعوده لي ويظمأ في الأرض فلا يسقى فلو سقي كان ما سقاه ليعبد الرحمن بن صخرمسند أحمد بن حنبل90338989أحمد بن حنبل241
3مرضت فلم تعدني فيقول يا رب وكيف أعودك وأنت رب العالمين فيقول أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده أما علمت أنك لو عدته لوجدتني استسقيتك فلم تسقني فيقول يا رب كيف أسقيك وأنت رب العالمين فيقول أما علمت أنك لو سقيته لوجدت ذلك عندي استطعمتك فلم تطعمني فيقول ياعبد الرحمن بن صخرصحيح ابن حبان271269أبو حاتم بن حبان354
4مرضت فلم تعدني فيقول يا رب كيف أعودك وأنت رب العالمين فيقول أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده أما علمت أنك لو عدته لوجدتني استسقيتك فلم تسقني فيقول يا رب كيف أسقيك وأنت رب العالمين فيقول أما علمت أن عبدي فلانا استسقاك فلم تسقه أما علمت أنك لو سقيته لوجدعبد الرحمن بن صخرصحيح ابن حبان955944أبو حاتم بن حبان354
5استطعمتك فلم تطعمني قال فيقول يا رب وكيف استطعمتني ولم أطعمك وأنت رب العالمين قال أما علمت أن عبدي فلانا استطعمك فلم تطعمه أما علمت أنك لو أطعمته لوجدت ذلك عندي يا ابن آدم استسقيتك فلم تسقني فيقول يا رب وكيف أسقيك وأنت رب العالمين فيقول إن عبدي فلانا استسعبد الرحمن بن صخرصحيح ابن حبان752516 : 366أبو حاتم بن حبان354
6استطعمتك فلم تطعمني قال فيقول يا رب وكيف استطعمتني ولم أطعمك وأنت رب العالمين فقال أما علمت أن عبدي فلانا استطعمك فلم تطعمه أما علمت أنك لو أطعمته لوجدت ذلك عندي يا ابن آدم استسقيتك فلم تسقني فقال يا رب وكيف أسقيك وأنت رب العالمين فقال أما علمت أن عبدي فلعبد الرحمن بن صخرمسند إسحاق بن راهويه2528إسحاق بن راهويه238
7يقول الله يوم القيامة استطعمك عبدي فلم تطعمه ولو أطعمته أطعمتك واستسقاك عبدي فلم تسقه ولو سقيته سقيتكعبد الرحمن بن صخرالمعجم الأوسط للطبراني61285979سليمان بن أحمد الطبراني360
8مرضت فلم يعدني عبادي ظمئت فلم يسقني عبادي قال أنت يا رب قال نعم يمرض عبدي المؤمن ولو عيد عيد لي ويعطش عبدي في الصحراء فلو سقي سقي ليعبد الرحمن بن صخرالمعجم الأوسط للطبراني89518722سليمان بن أحمد الطبراني360
9مرضت فلم تعدني فيقول يا رب كيف أعودك وأنت رب العالمين فيقول أما أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده أما علمت أنك لو عدته لوجدتني عنده استسقيتك فلم تسقني فيقول أي رب وكيف أسقيك وأنت رب العالمين فيقول أما علمت أن عبدي فلانا استسقاك فلم تسقه أما علمتعبد الرحمن بن صخرالأسماء والصفات للبيهقي481473البيهقي458
10مرضت فلم تعدني قال أي رب كيف أعودك وأنت رب العالمين فيقول أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده أما علمت أنك لو عدته وجدتني عنده استطعمتك فلم تطعمني فيقول أي رب وكيف أطعمك وأنت رب العالمين قال يقول أما علمت أن عبدي فلانا جاءك يستطعمك فلم تطعمه أما علمت أنكعبد الرحمن بن صخرشعب الإيمان للبيهقي85889182البيهقي458
11مرضت فلم تعدني قال يا رب كيف أعودك وأنت رب العزة فيقول أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده ولو عدته لوجدتني عنده ويقول يا ابن آدم استطعمتك فلم تطعمني فيقول يا رب كيف أطعمك وأنت رب العزة فيقول أما علمت أن عبدي فلانا جاءك يستطعمك فلم تطعمه أما علمت أنك لو أعبد الرحمن بن صخرالتوحيد لله عز وجل لعبد الغني بن عبد الواحد المقدسي88---عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي600
12استطعمتك فلم تطعمني قال فيقول يا رب وكيف استطعمتني ولم أطعمك وأنت رب العالمين قال أما علمت أن عبدي فلانا استطعمك فلم تطعمه أما علمت أنك لو كنت أطعمته لوجدت ذلك عندي ابن آدم استسقيتك فلم تسقني فقال يا رب وكيف أسقيك وأنت رب العالمين فيقول إن عبدي فلانا استسعبد الرحمن بن صخرالأدب المفرد للبخاري515517محمد بن إسماعيل البخاري256
13مرضت فلم تعدني قال يا رب كيف أعودك وأنت رب العزة فيقول أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده ولو عدته لوجدتني عنده استطعمتك فلم تطعمني فيقول كيف أطعمك وأنت رب العزة فيقول أما علمت أن عبدي فلانا استطعمك فلم تطعمه أما علمت أنك لو أطعمته لوجدت ذلك عندي استسقيتعبد الرحمن بن صخرمكارم الأخلاق للطبراني171170سليمان بن أحمد الطبراني360




4: آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے
ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ
[جامع الترمذي » كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ » بَاب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الْمُسْلِمِينَ ... رقم الحديث: 1843(1924)]
ترجمہ: ’’تم زمین والوں پر رحم کرو، جو آسمان میں ہے وہ تم پر رحم کرے گا۔ ‘‘
فائدہ: اس حدیث میں اللہ تعالی کا آسمان میں ہونابتلایا گیا ہے ، غیر مقلدین کا عقیدہ کہ اللہ  صرف عرش پر ہے ،اس سے باطل ہوگیا۔

[أخرجه أبو داود (4/285، رقم 4941) ، والبيهقى (9/41، رقم 17683) ، وأحمد (2/160، رقم 6494) ، والبخارى فى التاريخ الكبير (7/194) ، والترمذى (4/323، رقم 1924) قال: حسن صحيح. والحاكم (4/175، رقم 7274) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (7/476، رقم 11048) . وأخرجه أيضًا: الحميدى (2/269، رقم 591) ، والديلمى (2/288، رقم 3328) .]




5- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ زِيَادَةَ بِنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْأَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوِ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهُ ، فَلْيَقُلْ : رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ فَيَبْرَأَ " .
[سنن أبي داود » كِتَاب الطِّبِّ » بَاب كَيْفَ الرُّقَى ... رقم الحديث: 3396(3892)]

ترجمہ:   حضرت ابوالدرداء ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا ‘آپﷺ فرمارہے تھے : تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا کوئی دوسرا بھائی اس سے اپنی بیماری بیان کرے تو یہ کہے کہ رب ہمارا وہ اللہ ہے جو آسمان میں ہے ۔ اے اللہ! تیرا نام پاک ہے اور تیرا اختیار زمین و آسمان میں ہے‘ جیسے تیری رحمت آسمان میں ہے ویسے ہی زمین میں رحمت کر۔ ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے۔ تو پاک لوگوں کا رب ہے۔ اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاؤں میں سے ایک شفاء اس درد کے لیے نازل فرما کہ یہ درد جاتارہے۔

فائدہ: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا آسمان میں ہونا بتلایا گیاہے غیرمقلدین کا عقیدہ کہ اللہ عرش پر ہے اس سے باطل ہوگیا۔


6- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا ، قَالَ : فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ ، وَأَقْرَعَ بْنِ حابِسٍ ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ ، وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ ، يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً ؟ " قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ ، نَاشِزُ الْجَبْهَةِ ، كَثُّ اللِّحْيَةِ ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ ، مُشَمَّرُ الْإِزَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اتَّقِ اللَّهَ ، قَالَ : " وَيْلَكَ ، أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ " ، قَالَ : ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ ، قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ قَالَ : " لَا ، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي " ، فَقَالَ خَالِدٌ : وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ " ، قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " ، وَأَظُنُّهُ قَالَ : " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ " .








حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ حضرت علی ؓ نے یمن سے رسول اللہ ﷺ کے لئے رنگے ہوئے چمڑے کے تھیلے میں تھوڑا سا سونا بھیجا جس کی مٹی اس سونے سے جدا نہیں کی گئی (کہ تازہ کان سے نکلا تھا) آپ ﷺ نے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ یا عامر بن طفیل رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان تقسیم کردیا آپ ﷺ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ ہم اس کے ان لوگوں سے زیادہ مستحق ہیں آنحضرت ﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں مجھ پر اطمینان نہیں ہے؟ حالانکہ میں آسمان والے کا امین ہوں۔ میرے پاس صبح و شام آسمان والے کی خبریں آتی ہیں تو ایک آدمی دھنسی ہوئی آنکھوں والا رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی اونچی پیشانی گھنی داڑھی منڈا ہوا سر تہ بند اٹھائے ہوئے تھا۔ کھڑا ہو کر بولا یا رسول اللہ! اللہ سے ڈر! آپ ﷺ نے فرمایا تو ہلاک ہو، کیا میں تمام روئے زمین پر اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں؟ پھر وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولید نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ مار دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ممکن ہے وہ نماز پڑھتا ہو (یعنی ظاہری اسلام سے وہ مستحق قتل نہیں رہا) خالد ؓ نے عرض کیا اور بہت سے ایسے نمازی ہیں جو زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں (یعنی منافق ہوتے ہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے لوگوں کے دلوں کو کریدنے اور ان کے پیٹوں کو چاک کر (کے بالمعنی حالات معلوم) کرنے کا حکم نہیں ہے ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ جب وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا آنحضرت ﷺ نے پھر اس کی طرف دیکھ کر فرمایا اس شخص کی نسل سے وہ قوم پیدا ہوگی جو کتاب اللہ کو مزے سے پڑھے گی حالانکہ وہ ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے پاس نکل جاتا ہے ابوسعید ؓ کہتے ہیں مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اس قوم کے زمانہ میں ہوتا تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کردیتا۔ 
[وأخرجه مسلم (1064) (146) ، وابن خزيمة (2373) من طريق محمد بن فضيل، بهذا الإسناد.
وأخرجه البخاري (4351) ، ومسلم (1064) (144) ، وأبو نعيم في "الحلية" 5/71-72، والبيهقي في "الأسماء والصفات" ص421، من طريق عبد الواحد بن زياد، عن عمارة بن القعقاع، به، وفيه زيادة: وأظنه قال: "لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل ثمود"، ولهذه الزيادة سترد بالرواية برقم (11648) .

وأخرجه مسلم (1064) (145) ، وأبو يعلى (1163) ، وابن حبان (25) من طريق جرير بن عبد الحميد، عن عمارة، به. ولم يذكر عامر بن الطفيل.]

فائدہ: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا آسمان میں ہونا بتلایا گیا ہے غیرمقلدین کا عقیدہ کہ اللہ عرش پر ہے اس سے باطل ہوگیا۔



7- امام ابو حنیفہؒ  روایت کرتے ہیں عَطَاءؒ سے کہ نبی  کے کی صحابہ نے ان سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبدالله بن رواحہؓ کی ایک باندی تھی جو ان کی بکریوں کی حفاظت و دیکھ بھال کیا کرتی تھی. انہیں نے اسے ایک خاص بکری پر توجہ دینے کا حکم دے رکھا تھا، چناچہ وہ باندی اس بکری کا زیادہ خیال رکھتی تھی، جس کی وجہ سے وہ بکری خوب صحت مند ہوگی.
ایک دن وہ باندی دوسری بکریوں کی دیکھ بھال میں مشغول تھی کہ اچانک ایک بھیڑیا آیا اور اسی بکری کو اچک کر لے گیا اور اسے مار ڈالا، جب حضرت عبدالله گھر واپس آۓ تو بکری کو نہ پایا (باندی سے پوچھا) اس نے سارا واقعہ سنا دیا، انہوں نے غصہ میں آکر اس کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ماردیا، بعد میں انھیں اس پر ندامت ہوئی، اور انہوں نے رسول الله  سے اس واقعہ کا ذکر کیا، نبی  کو یہ بات بہت گراں گزری، آپ نے فرمایا: تم نے ایک مومن عورت کے چہرے پر مارا؟ انہوں نے کہا: یہ تو حبشن ہے، اسے "ایمان" سے متعلق کچھ نہیں پتہ (یعنی وہ مومنہ نہیں ہے).
نبی  نے انھیں بلوایا اور اس سے پوچھا کہ: الله کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان میں. پھر پوچھا کہ: میں کون ہوں؟  اس نے کہا کہ: الله کے پیغمبر. رسول الله ﷺ نے فرمایا: یہ مومنہ ہے اس لئے تم اسے آزاد کردو. چناچہ انہوں نے اسے آزاد کردیا.

توضیح: اس حدیث پاک میں ظاہری ایمان کے لئے زبانی اقرار ، رسالت سے پہلے توحید کا ثبوت، زمینی خداؤں (بتوں) کا انکار آسمانی حقیقی واحد معبود سے کرانا مقصود تھا ، ورنہ الله تعالیٰ کی ذات و تجلیات تو ہر جگہ ہے ، آسمان میں بھی ہے ، اوپر عرش پر بھی ہے ، ہمارے ساتھ بھی ہے بلکہ ہماری شہہ رگ سے بھی قریب ہے.

١) الله تعالیٰ عرش پر ہے یا آسمان پر؟؟؟
٢) کیا عرش و آسمان میں فرق نہیں ؟؟؟
٣) کیا عرش ساتوں آسمانوں سے اوپر نہیں ؟؟؟

جن لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ الله تعالى صرف عرش پر مستوی ہے اور عرش آسمانوں سے اوپر ہے ان سے ایک حدیث کی روشنی میں معصومانہ سا سوال حدیث پاک میں آتا ہے.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر آتے ہیں جب آخری ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے پس وہ فرماتا ہے کوئی ہے مجھ سے دعا کرنے والا میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی ہے مانگنے والا میں اسے دوں، کوئی ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اسے بخش دوں۔
(سنن ابی داو‘د، جلد سوئم کتاب السنۃ،:4733) 

اب سوال یہ ہے دنیا میں ہر وقت کہیں نا کہیں رات ہوتی ہے تو اس حدیث کی روشنی میں الله عرش پر کب جاتا ہے؟ باقی ہمارا عقیدہ یہ ہے اللہ تعالیٰ عرش پر بهی ہے آسمانوں پر بهی ہے مشرق میں بهی ہے مغرب میں بهی ہے ہر جگہ اللہ تعالیٰ ہر وقت موجود ہے.


فائدہ:  اس حدیث میں اللہ تعالی کا آسمان میں ہونا بتلایا گیا ہے ،غیر مقلدین کا عقیدہ کہ اللہ عرش پر ہے، اس سے باطل ہوگیا۔









8 - حدثنا عبد بن حميد وغير واحد المعنى واحد قالوا حدثنا يونس بن محمد حدثنا شيبان بن عبد الرحمن عن قتادة قال حدث الحسن عن أبي هريرةقال بينما نبي الله صلى الله عليه وسلم جالس وأصحابه إذ أتى عليهم سحاب فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم هل تدرون ما هذا فقالوا الله ورسوله أعلم قال هذا العنان هذه روايا الأرض يسوقه الله تبارك وتعالى إلى قوم لا يشكرونه ولا يدعونه قال هل تدرون ما فوقكم قالوا الله ورسوله أعلم قال فإنها الرقيع سقف محفوظ وموج مكفوف ثم قال هل تدرون كم بينكم وبينها قالوا الله ورسوله أعلم قال بينكم وبينها مسيرة خمس مائة سنة ثم قال هل تدرون ما فوق ذلك قالوا الله ورسوله أعلم قال فإن فوق ذلك سماءين ما بينهما مسيرة خمس مائة سنة حتى عد سبع سماوات ما بين كل سماءين كما بين السماء والأرض ثم قال هل تدرون ما فوق ذلك قالوا الله ورسوله أعلم قال فإن فوق ذلك العرش وبينه وبين السماء بعد ما بين السماءين ثم قال هل تدرون ما الذي تحتكم قالوا الله ورسوله أعلم قال فإنها الأرض ثم قال هل تدرون ما الذي تحت ذلك قالوا الله ورسوله أعلم قال فإن تحتها أرضا أخرى بينهما مسيرة خمس مائة سنة حتى عد سبع أرضين بين كل أرضين مسيرة خمس مائة سنة ثم قال والذي نفس محمد بيده لو أنكم دليتم رجلا بحبل إلى الأرض السفلى لهبط على الله ثم قرأ هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم.
[سنن الترمذي » كتاب تفسير القرآن » باب ومن سورة الحديد » رقم الحديث: 3298]

ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم  اور صحابہؓ بیٹھے ہوئے تھے کہ بادل آگئے۔ نبی اکرم  نے پوچھا جانتے ہو یہ کیا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول  اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ  نے فرمایا: یہ بادل زمین کو سیراب کرنے والے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان لوگوں کی طرف ہانکتے ہیں جو اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور اسے پکارتے نہیں۔ پھر آپ  نے پوچھا جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے۔ عرض کیا اللہ اور اس کا رسول  زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ رقیع یعنی اونچی چھت ہے جس سے حفاظت کی گئی۔ اور یہ موج کی طرح ہے جو بغیر ستون کے ہے۔ پھر پوچھا کیا جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول  زیادہ جانتے ہیں۔ آپ  نے فرمایا تمہارے اس کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت ہے۔ پھر آپ  نے پوچھا کیا جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول  بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس سے اوپر دو آسمان ہیں جنکے درمیان پانچ سو برس کا فاصلہ ہے۔ پھر آپ  نے اسی طرح سات آسمان گنوائے اور بتایا ہر دو آسمانوں کے درمان آسمان و زمین کے درمیان کے فاصلے کے برابر فاصلہ ہے۔ پھر آپ  نے پوچھا کہ کیا جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول  بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس کے اوپر عرش ہے اور وہ آسمان سے اتنا دور ہے جتنا زمین سے آسمان۔ پھر آپ نے پوچھا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے نیچے کیا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول  بہتر جانتا ہیں آپ  نے فرمایا یہ زمین ہے۔ پھر آپ  نے پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے اس کے نیچے کیا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول  بہتر جانتے ہیں۔ آپ  نے فرمایا اس کے نیچے دوسری زمین ہے پہلی زمین اور دوسری زمین کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت ہے۔ پھر پوچھا آپ نے سات زمینیں گنوائیں اور بتایا کہ ہر دو کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے۔ پھر آپ  نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تم لوگ نیچے زمین کی طرف رسی پھینکو گے تو وہ اللہ تک پہنچے گی اور پھر یہ آیت پڑہی ہو (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ - الحدید : 3) (وہی ہے سب سے پہلا اور سب سے پچھلا اور باہر اور اندر اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔)
تخريج الحديث:
1) الراوي: أبو هريرة المحدث: ابن العربي المصدر: عارضة الأحوذي - الصفحة أو الرقم: 6/356
خلاصة حكم المحدث: منقطع الحسن كمتصله صحيح المعاني وكل حرف منه مستند من طرق صحاح

فائدہ :    رسی کا زمین کے نیچے اللہ تعالی کے پاس جانا دلیل ہے کہ ذات باری تعالی صرف عرش پر نہیں جیسا کہ غیر مقلدین کا عقیدہ ہے بلکہ ہر کسی کے ساتھ موجود ہے ۔

علامہ ذہبیؒ یحیی بن عمار کا قول جس میں وہ فرماتے ہیں ”یعنی ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اپنی ذات کے ساتھ عرش پر ہیں اور ان کے علم نے ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے“ نقل کرنے کے بعد علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں:
”بذاته کا لفظ یحیی بن عمار نے اپنی عقل سے نکالا ہے“
اسلماعیل بن محمد تیمی کے حالات میں لکھتے ہیں:
”صحیح بات یہ ہے کہ بذاته کا لفظ استعمال ہی نہ کریں کیونکہ یہ نص میں وارد نہیں ہوا اور اگر ہم فرض کر لیں کہ اس کا معنی درست ہے تب بھی ہم ایسا لفظ منہ سے نہ نکالیں جس کی اجازت اللہ تعالٰی نے نہیں دی تاکہ دل میں بدعت داخل نہ ہو“(اهل السنة الاشاعرۃ ص۱۲۴)





9 - حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : ثنا ابْنُ ثَوْرٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : الْتَقَى أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمَلائِكَةِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : مِنْ أَيْنَ جِئْتَ ؟ قَالَ أَحَدُهُمْ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ . وقَالَ الآخَرُ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ الأَرْضِ السَّابِعَةِ وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ . وقَالَ الآخَرُ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ الْمَشْرِقِ وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ . وقَالَ الآخَرُ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ الْمَغْرِبِ وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ.
[تفسير القرآن لعبد الرزاق الصنعاني » سُورَةِ الطَّلاقِ ... رقم الحديث: 3155]


ترجمہ : امام ابن جریرؒ آیت (وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ .... 65-الطلاق:12) کی تفسیر میں حضرت قتادہؓ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ  تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ 


10 - (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَيْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ ، وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ ، قَالَ : وَأَنَا خَلْفَهُ وَأَنَا أَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " ، فَقُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .[صحيح مسلم » كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار ... » بَاب اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ ...رقم الحديث: 4879]
ترجمہ : حضرت ابوموسیؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی  کے ساتھ تھے صحابہ نے بلند آواز سے اَللّٰهُ أَکْبَرُ کہنا شروع کردیا تو نبی نے فرمایا اے لوگوں اپنی جانوں پر ترس کرو تم کسی غائب یا بہرے کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ تم سننے والے اور قریب والے کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے اور میں اس وقت آپ  کے پیچھے کھڑا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ پڑھ رہا تھا تو آپ نے فرمایا اے عبداللہ بن قیس! کیا تمہیں جنت کے خزانوں میں سے خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہو۔

فائدہ:        اگر قرب سے مراد ”قرب علمی“ ہوتا تو ”قریباً“ کہنے پر اکتفاء ہو جاتا لیکن ”وَھُوَ مَعَکُمْ“ فرما کر ”قربِ ذاتی“ کی طرف اشارہ فرما  دیا۔ اسی طرح اگر مراد صرف ”قربِ وصفی“ ہوتا تو ”اَصَمَّ“ کے بعد ”وَلَا غَائِبًا“  نہ فرماتے۔


تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1أربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا ألا أدلك على كلمة من كنز الجنة قلت بلى قال لا حول ولا قوة إلا باللهعبد الله بن قيسالسنن الكبرى للنسائي73747632النسائي303
2اربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصما ولا غائبا إنما تدعون سميعا قريبا وهو معكم ألا أدلك على كلمة من كنز الجنة قلت بلى يا رسول الله فداك أبي وأمي قال لا حول ولا قوة إلا باللهعبد الله بن قيسالسنن الكبرى للبيهقي27672 : 184البيهقي458
3أربعوا على أنفسكم فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا ولكنكم تدعون سميعا قريباعبد الله بن قيسمسند أبي يعلى الموصلي72017252أبو يعلى الموصلي307
4أربعوا على أنفسكم فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا ولكن تدعون سميعا قريباعبد الله بن قيسمسند الروياني542543محمد بن هارون الروياني307
5أربعوا على أنفسكم فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا إنه معكم ألا أدلك على كلمة من كنز الجنةعبد الله بن قيسمسند عبد بن حميد550542عبد بن حميد249
6اربعوا على أنفسكم ليس تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا وهو معكمعبد الله بن قيسمصنف ابن أبي شيبة82748541ابن ابي شيبة235
7أربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا وإنما تدعون سميعا قريبا قال ودعاني وكنت قريبا منه فقال يا عبد الله بن قيس ألا أدلك على كلمة من كنوز الجنة فقلت بلى قال لا حول ولا قوة إلا باللهعبد الله بن قيسمشيخة ابن الجوزي37---ابن الجوزي597
8إنكم لستم تدعون أصم ولا غائبا وإنما تدعون سميعا قريبا ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة لا حول ولا قوة إلا باللهعبد الله بن قيسالفوائد الشهير بالغيلانيات لأبي بكر الشافعي143156أبو بكر الشافعي354
9إنكم لستم تدعون أصم ولا غائبا وإنما تدعون سميعا قريبا ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة لا حول ولا قوة إلا باللهعبد الله بن قيسالأمالي الخميسية للشجري803---يحيى بن الحسين الشجري الجرجاني499
10اربعوا على أنفسكم فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا ولكنكم تدعون سميعا قريباعبد الله بن قيسالسنة لابن أبي عاصم501618ابن أبي عاصم287
11إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنما تدعون سميعا قريباعبد الله بن قيسالتوحيد لابن خزيمة5757ابن خزيمة311
12إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنما تدعون سميعا قريباعبد الله بن قيسالتوحيد لابن منده274275محمد بن إسحاق بن منده395
13أربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا وهو معكمعبد الله بن قيسالتوحيد لابن منده303304محمد بن إسحاق بن منده395
14أربعوا على أنفسكم فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا ولكنكم تدعون سميعا قريباعبد الله بن قيسالتوحيد لابن منده387388محمد بن إسحاق بن منده395
15أربعوا على أنفسكم فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنما تدعون سميعا قريباعبد الله بن قيسالتوحيد لابن منده389390محمد بن إسحاق بن منده395
16اربعوا على أنفسكم إنكم لستم تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا وهو معكمعبد الله بن قيسشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي542685هبة الله اللالكائي418
17اربعوا على أنفسكم فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا ولكنكم تدعون سميعا قريباعبد الله بن قيسالأسماء والصفات للبيهقي387382البيهقي458
18أربعوا على أنفسكم فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا ولكنكم تدعون سميعا قريباعبد الله بن قيسالتوحيد لله عز وجل لعبد الغني بن عبد الواحد المقدسي33---عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي600
19إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنما تدعون سميعا قريباعبد الله بن قيسالحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة 232---قوام السنة الأصبهاني535
20أربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا وهو معكمعبد الله بن قيسالحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة 245---قوام السنة الأصبهاني535
21أربعوا على أنفسكم فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنما تدعون سميعا قريباعبد الله بن قيسالحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة 2325---قوام السنة الأصبهاني535
22اربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا وهو معكم ألا أدلك على كلمة من كنز الجنةعبد الله بن قيسشرح السنة12681283الحسين بن مسعود البغوي516
23اربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا ألا أدلك على كلمة من كنز الجنة قلت بلى قال لا حول ولا قوة إلا باللهعبد الله بن قيسمشكل الآثار للطحاوي50995787الطحاوي321
24اربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا به معكمعبد الله بن قيسجامع البيان عن تأويل آي القرآن1360210 : 248ابن جرير الطبري310
25اربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا وهو معكمعبد الله بن قيسمعالم التنزيل تفسير البغوي8585الحسين بن مسعود البغوي516
26أربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا ألا أدلك على كلمة من كنز الجنة قلت بلى قال قل لا حول ولا قوة إلا باللهعبد الله بن قيسأحكام القرآن الكريم للطحاوي362470الطحاوي321
27لستم تدعون أصم ولا غائبا إنما تدعون سميعا قريبا فاربعوا على أنفسكم ألا أعلمك كلمة من كنوز الجنة لاحول ولا قوة إلا باللهعبد الله بن قيسحلية الأولياء لأبي نعيم1214812163أبو نعيم الأصبهاني430
28اربعوا على أنفسكم إنكم ليس تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا وهو معكمعبد الله بن قيسالدعاء لمحمد بن فضيل الضبي166161محمد بن فضيل الضبي195
29إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنما تدعون سميعا قريبا والذي تدعونه أقرب إلى أحدكم من عنق راحلة أحدكمعبد الله بن قيسالدعوات الكبير للبيهقي252250البيهقي458
30أربعوا على أنفسكم فإنكم لا تدعون أصم ولا غائبا تدعون سميعا قريبا ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة قال قلت بلى يا رسول الله قال قل لا حول ولا قوة إلا باللهعبد الله بن قيسصفوة التصوف688---أبو زرعة طاهر بن محمد المقدسي566


11 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ المَسْجِدِ وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ، فَحَتَّهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلاَ يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلاَةِ» رَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ۔
[صحيح البخاري:753 كِتَابُ الأَذَانِ، بَابٌ: هَلْ يَلْتَفِتُ لِأَمْرٍ يَنْزِلُ بِهِ]
ترجمہ: حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ(کی جانب) میں کچھ تھوک دیکھا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے آگے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے اس کو چھیل ڈالا ۔اس کے بعد جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے‘ لہذا کوئی شخص نماز میں اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے۔[أخرجه الطيالسى (ص 252، رقم 1843) ، وأحمد (2/72، رقم 5408) ، والبخارى (5/2265، رقم 5760) .، وأو داود (1/129، رقم 479) ، وابن ماجه (1/251، رقم 763) . وأخرجه أيضًا: مسلم (1/388، رقم 547) .]



12 - فقال رجل: وما تزكية المرء نفسه يا رسول الله؟ قال: ((يعلم أن الله معه حيث ما كان))  (2) .

[السنن الكبرى للبيهقي:7275(4/96)-كِتَابُ الزَّكَاةِ، بَابُ لَا يَأْخُذُ السَّاعِي فِيمَا يَأْخُذُ مَرِيضًا]
ترجمہ:تو ایک آدمی نے پوچھا: اور آدمی کے اپنے نفس کا’’تزکیہ‘‘ کرنے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ انسان یہ نظریہ بنا لے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو اللہ اس کے ساتھ ہے۔
[اخرجہ ایضا: ابوداود:1582، مسند الشاميين،للطبرانی:1870، شعب الإيمان،للبیھقی:3026،  التاريخ الكبير،للبخاری:5/31(793)]


13 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالا : ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ الدِّمَشْقِيُّ ، ثنانُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ ، أَخِي عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ إِيمَانِ الْمَرْءِ : أَنْ يَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ مَعَهُ حَيْثُ كَانَ " .

ترجمہ : حضرت عبادہ بن الصامت نے فرمایا ، (کہ) فرمایا رسول الله  نے : (کہ) بیشک افضل ایمان انسان کا یہ ہے کہ وہ جان لے (کہ) بیشک الله اس کے  ساتھ ہے، جہاں بھی وہ ہو.[تفسیر ابن کثیر (مترجم) : 5/317]

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1أفضل الإيمان أن تعلم أن الله معك حيث كنتعبادة بن الصامتمسند الشاميين للطبراني524535سليمان بن أحمد الطبراني360
2أفضل الإيمان أن تعلم أن الله معك حيثما كنتعبادة بن الصامتمسند الشاميين للطبراني13951416سليمان بن أحمد الطبراني360
3أفضل الإيمان أن تعلم أن الله معك حيثما كنتعبادة بن الصامتالمعجم الأوسط للطبراني90278796سليمان بن أحمد الطبراني360
4أفضل الإيمان بأن تعلم أن الله معك حيث كنتعبادة بن الصامتجزء فيه ما انتقى ابن مردويه على أبي القاسم الطبراني لابن مردويه156160أحمد بن موسى ابن مردويه410
5أفضل إيمان المرء أن يعلم أن الله معه حيث كانعبادة بن الصامتالأربعون الصغرى للبيهقي22---البيهقي458
6أفضل الإيمان بأن تعلم أن الله معك حيث كنتعبادة بن الصامتجزء أبي القاسم الطبراني157---سليمان بن أحمد الطبراني360
7أفضل إيمان المرء أن يعلم أن الله معه حيث كانعبادة بن الصامتشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي13611686هبة الله اللالكائي418
8أفضل إيمان المرء أن يعلم أن الله معه حيث كانعبادة بن الصامتالأسماء والصفات للبيهقي892907البيهقي458
9أفضل إيمان المرء أن يعلم أن الله معه حيث كانعبادة بن الصامتشعب الإيمان للبيهقي711740البيهقي458
10أفضل الإيمان أن تعلم أن الله معك حيث كنتعبادة بن الصامتحلية الأولياء لأبي نعيم81858192أبو نعيم الأصبهاني430
11أفضل إيمان المرء أن يعلم أن الله معه حيث كانعبادة بن الصامتالكني والأسماء للدولابي23911533أبو بشر الدولابي310
12أفضل إيمان المرء أن يعلم أن الله معه حيث كانعبادة بن الصامتبحر الفوائد المسمى بمعاني الأخيار للكلاباذي210209محمد بن إسحاق الكلاباذي384
13أفضل إيمان المرء أن يعلم أن الله معه حيث كانعبادة بن الصامتالآداب للبيهقي8131143البيهقي458



14 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الأَشْعَرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيَّ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الإِيمَانِ : مَنْ عَبَدَ اللَّهَ وَحْدَهُ فَإِنَّهُ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَعْطَى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ فِي كُلِّ عَامٍ ، وَلَمْ يُعْطِ الَهَرِمَةَ ، وَلا الدَّرِنَةَ ، وَلا الشَّرِطَ اللَّئِيمَةَ ، وَالْمَرِيضَةَ ، وَلَكِنْ مِنْ أَوْسَطِ أَمْوَالِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَسْأَلْكُمْ خَيْرَهُ ، وَلَمْ يَأْمُرْكُمْ بِشَرِّهِ ، وَزَكَّى نَفْسَهُ " . فَقَالَ رَجُلٌ : مَا تَزْكِيَةُ الْمَرْءِ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : " أَنْ يَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُ حَيْثُ كَانَ.[التاريخ الكبير للبخاري » باب الميم » باب الواحد ... رقم الحديث: 895]
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح رجاله ثقات رجال مسلم غير عبد الله بن سالم وهو ثقة [السلسلة الصحيحة - (الألباني): 3/38]


ترجمہ : حضور ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے تین کام کر لئے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضامندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: اس بات کوجان لے (دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے) کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: سورة الحديد: آية 6)
تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده وأنه لا إله إلا الله أعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه رافدة عليه كل عام ولا يعطي الهرمة ولا الدرنة ولا المريضة ولا الشرط اللئيمة ولكن من وسط أموالكم فإن الله لم يسألكم خيره ولم يأمركم بشرهعبد الله بن معاويةسنن أبي داود13521582أبو داود السجستاني275
2ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده فإنه لا إله إلا الله أعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه رافدة عليه في كل عام ولم يعط الهرمة ولا الدرنة ولا الشرط اللائمة ولا المريضة ولكن من أوسط أموالكم فإن الله لم يسألكم خيره ولم يأمركم بشره زكى عبد نفسه فقاعبد الله بن معاويةالسنن الكبرى للبيهقي67164 : 95البيهقي458
3ثلاث من فعلهن فقد طعم الإيمان من عبد الله وحده وأنه لا إله إلا الله أعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه في كل عام ولم يعط الهرمة ولا الدرنة ولا الشرط اللئيمة ولا المريضة ولكن من أوسط أموالكم فإن الله لم يسألكم خيره ولم يأمركم بشره زكى عن نفسه فقال رجل وما تزكيةعبد الله بن معاويةمسند الشاميين للطبراني18541870سليمان بن أحمد الطبراني360
4ثلاث من فعلهن فقد ذاق طعم الإيمان من عبد الله وحده بأنه لا إله إلا هو أعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه في كل عام ولم يعط الهرمة ولا الدرنة ولا المريضة ولكن من أوسط أموالكم فإن الله لم يسألكم خيرها ولم يأمركم بشرها زكى نفسه فقال رجل وما تزكية النفس فقال أن يعلعبد الله بن معاويةالمعجم الصغير للطبراني556201سليمان بن أحمد الطبراني360
5ثلاث من فعلهن فقد بلغ طعم الإيمان من عبد الله وحده فإنه لا إله إلا هو إعطاء زكاة ماله طيبة بها نفسه ولم يعط الهرمة ولا المريضة ولا البسرة زكى نفسه فقال رجل وما زكى المرء نفسه يا رسول الله قال يعلم أن الله معه حيث كانعبد الله بن معاويةمعجم الصحابة لابن قانع864973ابن قانع البغدادي351
6ثلاث من فعلهن فقد طعم الإيمان من عبد الله وحده وأعطى زكاة ماله طيبة نفسه رافدة عليه كل عام ولم يعط الهرمة ولا الدرنة ولا المريضة ولا الشرط اللئيمةعبد الله بن معاويةغريب الحديث للخطابي4121 : 505الخطابي البستي388
7ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده فإنه لا إله إلا الله أعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه زائدة عليه في كل عام ولم يعط الهرمة ولا الرديئة ولا الشرط اللئيمة ولا المريضة ولكن من أوسط ما لكم فإن الله لم يسألكم خيره ولم يأمركم بشره وزكى عبد نفسه فقعبد الله بن معاويةشعب الإيمان للبيهقي30253297البيهقي458
8ثلاثة من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده وأنه لا إله إلا هو أعطى زكاة ماله طيبة بها نفسهعبد الله بن معاويةالطبقات الكبرى لابن سعد94087 : 200محمد بن سعد الزهري230
9ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده فإنه لا إله إلا الله أعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه في كل عام ولم يعط الهرمة ولا الدرنة ولا الشرط اللئيمة والمريضة ولكن من أوسط أموالكم فإن الله لم يسألكم خيره ولم يأمركم بشره زكى نفسه فقال رجل ما تزكية المعبد الله بن معاويةالتاريخ الكبير للبخاري8956124محمد بن إسماعيل البخاري256
10ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده فإنه لا إله إلا الله أعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه رافدة عليه في كل عام ولم يعط الهرمة ولا الدرنة ولا المريضة ولا الشرط اللئيمة ولكن من أوسط أموالكم فإن الله لم يسألكم خيره ولم يأمركم بشره زكى عبد نفسه فقاعبد الله بن معاويةالمعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان921 : 112يعقوب بن سفيان277
11ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده بأنه لا إله إلا الله أدى زكاة ماله طيبة بها نفسه رافدة عليه في كل عام ولم يعط الهرمة ولا الذرقة ولا الشرطة ولا الهيمة ولا المريضة ولكن من أوسط أموالكم إن الله لم يسألكم خيره ولم يأمركم بشره زكى عبد نفسه فعبد الله بن معاويةالآحاد والمثاني لابن أبي عاصم9651062ابن أبي عاصم287
12ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده فإنه لا إله إلا الله أعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه في كل عام ولم يعط الهرمة ولا الدرنة ولا الشرطة اللئيمة ولا المريضة ولكن من أوسط أموالكم فإن الله لم يسألكم خيره ولم يأمركم بشره زكى عن نفسه فقال رجل ما تزعبد الله بن معاويةمعرفة الصحابة لأبي نعيم41414545أبو نعيم الأصبهاني430
13ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده فإنه لا إله إلا الله وأعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه في كل عام ولم يعط الهرمة ولا الدرنة ولا الشرط اللئيمة ولا المريضة ولكن من أوسط أموالكم فإن الله لم يسألكم خيره ولم يأمركم بشره وزكى عن نفسه فقال رجل ما تعبد الله بن معاويةتهذيب الكمال للمزي1756---يوسف المزي742




عقلی دلائل :

1: اللہ تعالیٰ خالق ہے اور عرش مخلوق ہے ، خالق ازل سے ہے ۔اگر اللہ تعالی کو عرش پر مانا جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ جب عرش نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ کہاں تھے ؟

2: حقیقتاً مستوی علی العرش ہونے کی تین صورتیں ہیں:

الف: اللہ تعالیٰ عرش کے محاذات میں ہوں گے ۔

ب: عرش سے متجاوز ہوں گے ۔

ج: عرش سے کم ہوں گے ۔

اگر عرش کے محاذات میں مانیں تو عرش چونکہ محدود ہے لہذا اللہ تعالیٰ کا محدود ہونا لازم آئے گا ‘اور متجاوز مانیں تو اللہ تعالیٰ کی تجزی لازم آئے گی اور اگر عرش سے کم مانیں تو عرش یعنی مخلوق کا اللہ تعالیٰ یعنی خالق سے بڑا ہونا لازم آئے گا ‘جبکہ یہ تینوں صورتیں محال اور ناممکن ہیں۔

3: اللہ تعالیٰ خالق ہیں جوکہ غیر محدود ہیں ، عرش مخلوق ہے جو کہ محدود ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو عرش پر مانا جائے تو سوال پیدا ہوگا ’’ کیا غیر محدود ، محدود میں سما سکتا ہے ؟‘‘

4: اگر اللہ تعالیٰ کو عرش پر حقیقتاً مانیں تو حقیقی وجود کے ساتھ کسی چیز پر ہونا یہ خاصیت جسم کی ہے اور اللہ تعالی جسم سے پاک ہیں کیونکہ ہر جسم مرکب ہوتا ہے اور ہر مرکب حادث ہوتا ہے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ قدیم ہیں ۔

5: اگر اللہ تعالی کو عرش پر مانیں تو عرش اللہ تعالیٰ کے لئے مکان ہوگا اور اللہ تعالیٰ مکین ہوں گے اور ضابطہ ہے کہ مکان مکین سے بڑا ہوتا ہے ، اس عقیدہ سے ’’ اللہ اکبر‘‘ والا عقیدہ ٹوٹ جائے گا۔
6: اگر اللہ تعالیٰ کا فوق العرش ہونا مانیں تو جہتِ فوق لازم آئے گی اور جہت کو حد بندی لازم ہے اور حد بندی کو جسم لازم ہے جبکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے ۔
7: اگر اللہ تعالیٰ کو فوق العرش مانیں تو عرش اس کے لئے مکان ہوگا اور مکان مکین کو محیط ہوتا ہے‘ جبکہ قرآن کریم میں ہے :’’وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطًا۔‘‘کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو محیط ہے۔








سائنس کی حدود:
﴿ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاء فَسَوَّاہُنَّ سَبْعَ سَمَٰوَات﴾
تفسیر
آیت کریمہ میں لفظ”ثم“ ترتیب اور تقدیم وتاخیر ظاہر کرنے کے لیے نہیں آیا، بلکہ صرف فرق زمانی ظاہر کرنے کے لیے آیا ہے ۔ (تفسیر بیضاوی، البقرة تحت آیة رقم:29)

”اسْتَوَی“ کے صلے میں جب ”إلی“ استعمال ہو تو اس کا معنی قصد اور توجہ ہوتا ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر، البقرة تحت آیة رقم:29)

لہٰذا آیت کریمہ کا معنی ہوا کہ الله تعالیٰ نے آسمان کی تخلیق کا قصد فرمایا۔ ( تفسیر المدارک، البقرة تحت آیة، رقم:29)

آسمان سے کیا مراد ہے؟
اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ ”السَّمَاء“ کا لفظ قرآن کریم میں مختلف معانی کے لیے استعمال ہوا ہے، مثلاً چھت کے لیے﴿ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَی السَّمَاء﴾ (الحج:15) یعنی إلی سقف البیت․

بادلوں کے معنی میں﴿وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً﴾ (المؤمنون:18)

یعنی من السحاب․ ( الوجوہ والنظائر لکتاب الله العزیز، باب السین، ص:272، بیروت)

لیکن آیت کریمہ ﴿فَسَوَّاہُنَّ سَبْعَ سَمَٰوَات﴾میں سات آسمانوں سے کیا مراد ہے؟ آسمان کوئی وجود رکھتا ہے یا صرف خلا کا نام آسمان ہے؟ آسمان کے بارے میں کتنی آرا ہیں؟ اور ان کی علمی اور شرعی حیثیت کیا ہے ؟ یہاں اسی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

پہلی رائے: کائنات کے حقائق کو صرف سائنس کی نظر سے دیکھنے والے سائنس دان او ران کے ہم نواؤں کی رائے یہ ہے کہ آسمان اسی خلا کا نام ہے جو تاحد نظر پھیلا ہوا ہے، اس طبقے کے مفسر سرسید اسی رائے کو درست قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔

” اس مقام پر سماء کے لفظ سے وہ وسعت مراد ہے جو ہر شخص اپنے سر کے اوپر دیکھتا ہے ، پس آیت کے معنی یہ ہیں کہ خدا اس وسعت کی طرف متوجہ ہوا جو انسان کے سر پر بلند دکھائی دیتی ہے اور ٹھیک اس کو سات بلندیاں کر دیں ۔ “( تفسیر القرآن، سرسید احمد خان، البقرہ تحت آیة رقم:29)

اس رائے پہ اشکال ہوا کہ اس وسعت پر سات کے عدد کا اطلاق کس ضرورت کے پیش نظر ہوا ؟ سر سید اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
”اس زمانے کے لوگ جو بلحاظ سبع سیارات یہ سمجھتے تھے کہ آسماں سات ہیں ، انہیں لوگوں کے خیال کے مطابق سات کے لفظ کا اطلاق ہوا ہے۔“ (تفسیر القرآن، سرسید احمد خان: البقرہ تحت آیة رقم:29)

دوسری رائے: یہ ہے کہ آسمان سے اجرام علویہ ( ستارے کواکب) مراد ہیں، اس تفسیر پر بھی اشکال ہوا کہ اجرام علویہ ( ستارے وغیرہ) کی تعداد تو اس قدر زیادہ ہے کہ انہیں شمار میں نہیں لایا جاسکتا ، پھر قرآن کریم میں﴿فَسَوَّاہُنَّ سَبْعَ سَمَٰوَات﴾ فرماکر انہیں سات کے عدد کے اند ر کیوں محدود کر دیا ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ سات کا عدد تحدید کے لیے نہیں،بلکہ ستاروں کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے لایا گیا ہے ، جس طرح قرآن کریم میں ایک مقام پر سات سمندروں سے کثرت سمندر مراد لیے گئے ہیں ۔ ﴿وَلَوْ أَنَّمَا فِیْ الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّہُ مِن بَعْدِہِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ اللَّہِ﴾․ (لقمان:27)

ترجمہ: ”او راگر جتنے درخت ہیں زمین میں قلم ہوں اور سمندر ہو اس کی سیاہی، اس کے پیچھے ہوں سات سمندر، نہ تمام ہوں باتیں الله کی۔“

تیسری رائے: علمائے ہیئت اور حکمائے یونان کی ہے کہ افلاک کی تعداد نو ہے یونانی حکمت کی کتابیں جب عربی میں ترجمہ ہو کر آئیں تو علمائے ہیئت نے نہ صرف انہیں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا، بلکہ اسلامی علوم اور یونانی حکمت میں موافقت پیدا کرنے کی غرض سے یہ دعوی بھی کر ڈلا کہ آسمان کی تعداد نو ہے ، چناں چہ ہماری حکمت کی کتابوں ( شرح چغمینی وغیرہ) میں یہ قول ایک مسلم دعوی کے طور پر مذکور ہے، سات آسمان تو وہی جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے باقی دو عرش اور کرسی ہیں ، جنہیں آسمان قرارا دے کر آسمان کی تعداد نو کر دی گئی ، علمائے ہیئت آسمان او رافلاک کو ایک ہی چیز شمار کرتے ہیں۔

اس رائے پر بھی اشکال ہوا کہ قرآن کریم میں تو آسمانوں کی تعداد سات بتائی گئی ہے پھر آسمان نو کیسے ہوئے ؟ علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی رحمہ الله نے اس کا جواب دیا کہ گو قرآن کریم میں سات کے عدد کو خصوصیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، لیکن اس سے زائد عدد کی نفی کہاں ثابت ہوئی؟

پہلی رائے پر ایک نظر: سائنس صرف اس چیز کو تسلیم کرتی ہے جو مشاہدات، تجربات اور عقلی دلائل سے اپنا وجود منواسکے، سائنسی عقائد میں ایمان بالغیب کی حیثیت ایک لطیفے سے زیادہ نہیں(اس کی تفصیلی بحث مقدمے میں دیکھیے) اور اسلام نے جس آسماں کا تصور دیا ہے وہ تاحال مشاہدے میں نہیں آیا اس لیے سائنس دانوں نے خلاء ہی کو آسمان قرار دیا ہے ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ سائنس کے ظنی فنون کو وحی الہٰی میں دخل اندازی کرنے کا حق کس نے دیا ہے ؟ سائنس کی محدود معلومات ومشاہدات کا عالم تو یہ ہے کہ خود ان کے بیان کے مطابق ”ان کی نظر دیوقامت عظیم ترین دور بینوں کے ذریعے بھی صرف دس کھرب میل نوری سال کے فاصلے تک پہنچ سکی ہے ۔“ (خلاصہ تفسیر القرآن، باب اول:101/1)

اور اجرام فلکی اس سے بھی آگے ہیں او رساتوں آسمان تو ان سے بھی بلند وبالا ہیں ، اگر سائنس اپنی تمام تر ٹیکنالوجی کے باوجود آسمان کا مشاہدہ نہ کر سکی تو اس میں قصور اور عاجزی سائنس کی ہے ؟ یا وحی کی ؟

البتہ جو لوگ وحی پر ایمان ویقین ہی نہ رکھتے ہوں ان سے اس بات پر گفتگو کرنا بے سود ہے۔

دوسری رائے پر ایک نظر: آسمان سے اجرام فلکیہ (سیارے) مراد لینا دو وجہ سے درست نہیں۔
1...قرآن کریم نے اجرام فلکیہ کو پہلے آسماں کی زینت قرار دیا ہے ﴿ وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَاء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْح﴾․ (الملک:5)
ترجمہ:” اور ہم نے رونق دی سب سے ورلے آسماں کو چراغوں سے۔“
2...﴿إِنَّا زَیَّنَّا السَّمَاء الدُّنْیَا بِزِیْنَةٍ الْکَوَاکِب﴾․ (الصف:6)
ترجمہ:” ہم نے رونق دی ( سب سے) ورلے آسماں کو ایک رونق جوتارے ہیں۔“

ان آیات سے معلوم ہوا کہ اجرام فلکیہ (ستارے وغیرہ) اور آسماں دو جدا جدا چیزیں ہیں، انہیں ایک قرار دینا درست نہیں۔اجرام فلکیہ لاتعداد اور بے شمار ہیں اور آسمانوں کے بارے میں قرآن کریم کا فیصلہ ہے کہ وہ سات ہیں﴿ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاء فَسَوَّاہُنَّ سَبْعَ سَمَٰوَات﴾․
”پھر قصد کیا آسماں کی طرف، سو ٹھیک کر دیا ان کو سات آسمان“

﴿فَقَضَاہُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْْن﴾․(فصلت:12)
”پھر کر دیے وہ سات آسمان دو دن میں ۔“

﴿اللَّہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَہُن﴾․ (الطلاق:12)
ترجمہ:”الله وہ ہے جس نے بنائے سات آسمان او رزمینیں بھی اتنی ہیں۔“

﴿الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقاً﴾․(الملک:3)
ترجمہ: ”جس نے بنائے سات آسماں تہ پر تہ۔“

مذکورہ آیات میں جس قدر تکرار او راہتمام کے ساتھ آسمانوں کی تعداد بیان کی گئی ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہاں عدد بیان کرنے کا مقصد آسمانوں کی محدود تعداد کااظہار ہے ، نیز اہل زبان نے بھی یہی مطلب سمجھا، لہٰذا صرف ایک عقلی احتمال کی بنا پر ”عدد“ کو کثرت آسمان کی دلیل بنانا کس طرح درست ہو گا؟

تیسری رائے پر ایک نظر: تیسری رائے ان علمائے ہئیت کی تھی جو یونانی حکمت سے حدر درجہ متاثر تھے، فلسفہ اور شریعت کے کلام میں موافقت پیدا کرنے کے لیے انہوں نے آسمان اورافلاک کو ایک ہی چیز شمارکرکے آسمانوں کی تعداد نو قرار دی، چناں چہ علامہ آلوسی رحمہ الله ﴿وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَاء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْح﴾ (الملک:5) کی تفسیر میں علمائے ہئیت کے اس موقف پر نکتہ چینی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

”وکون السماء، ھی الفلک، خلاف المعروف عن السلف، وانما ھو قول قالہ من أراد الجمع بین کلام الفلاسفة الأولی وکلام الشریعة، فشاع فی ما بین الاسلام، واعتقدہ من اعتقدہ․“ (روح المعانی، الملک، تحت آیة رقم:5)
ترجمہ:” آسماں کو ہی فلک قرار دینا سلفِ صالحین کے معروف مسلک کے خلاف ہے ، یہ قول درحقیقت ان لوگوں کا ہے جنہوں نے متقدمین فلاسفہ اور شریعت کے کلام میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی، پھر یہی قول اہل اسلام میں پھیل گیا او رجس نے چاہا اسے عقیدہ کے طور پر اختیار کر لیا۔“

اب ذیل میں فلک کا مفہوم ذکر کیا جاتا ہے، جو آسمان کے مفہوم سے قطعی طور پر مختلف ہے۔

فلک کا مفہوم آسمان سے مختلف ہے۔
اصطلاح شریعت میں فلک ستاروں کے مدار کو کہتے ہیں، چناں چہ علامہ راغب اصفہانی رحمہ الله لکھتے ہیں
”الفلک مجری الکواکب وتسمیتہ بذلک لکونہ کالفلک“․ ( مفردات القرآن للراغب، فلک: ص:432)

” فلک سے ستاروں کا مدار مراد ہے اور فلک کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ کشتی کی طرح گول ہے۔“

علامہ فخر الدین رازی رحمہ الله﴿وکل فی فلک یسبحون﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”الفلک فی کلام العرب کل شئيء دائرة، جمعہ أفلاک، واختلف العقلاء فیہ فقال بعضہم: الفلک لیس بجسم، وانما ھو مدار النجوم، وھو قول ضحاک“ ․ (التفسیر الکبیر، الانبیاء تحت آیة رقم:33)

اہل عرب کے محاورے میں ہر گول چیز کو فلک کہتے ہیں، اس کی جمع افلاک ہے ، فلاسفہ کا اس میں اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں کہفلک کوئی جسم نہیں رکھتا، درحقیقت یہ ستاروں کے مدار کو کہتے ہیں اور یہی ضحاک کا قول ہے۔ تفسیر کبیر کی مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ فلک ستاروں کا مدار ہے ۔

کمالین حاشیہ جلالین میں ہے۔
”… ان الفلک غیر السماء، قال الجمہور: الفلک موج مکفوف تحت السماء تجری فیہ الشمس والقمر والنجوم․“ (کمالین حاشیہ جلالین، الانبیاء، الأیة 33، حاشیہ:13)

فلک آسمان کے علاوہ ایک چیز ہے، جمہور علماء فرماتے ہیں کہ فلک آسمان کے نیچے ایک ٹھہری ہوئی موج کا نام ہے، جس میں سورج اور چاند ستارے تیرتے رہتے ہیں۔

مذکورہ عبارت سے صاف معلوم ہوا کہ فلک او رآسمان دو جدا جدا چیزیں ہیں ، نیز فلک آسمان کے نیچے ہے اور ستاروں کا مدار ہے ۔

حاشیہ کمالین میں علامہ عسقلانی رحمہ الله نے صاف لفظوں میں فرمایا:” السمٰوت السبع عند اہل الشرع غیر الأفلاک․“ (کمالین حاشیہ جلالین، الانبیاء، الایة 33، حاشیہ:13)

یعنی اہل شرع کے نزدیک سات آسمانوں سے افلاک مراد نہیں ہیں۔

علامہ آلوسی رحمہ الله ﴿إِنَّا زَیَّنَّا السَّمَاء الدُّنْیَا بِزِیْنَةٍ الْکَوَاکِب﴾ کی تفسیر میں فلک اور آسمان کی بحث کرتے ہوئے ان لوگوں کو خطاوار اور سلف صالحین کے موقف کا مخالف گردانا ہے جو آسمان اور فلک کو ایک ہی چیز شمار کرتے ہیں ، چناں چہ لکھتے ہیں۔

” وقد اخطئوا فی ذلک، وخالفوا سلف الأمة فیہ، فالفلک غیر السماء“․ (روح المعانی، الصف، تحت آیة رقم:6)

” یہ آسمان اور فلک کوایک ہی چیز سمجھنے والے سر اسر غلط فہمی کا شکار ہیں او ران کا موقف سلف صالحین کے موقف سے میل نہیں کھاتا، فلک اور آسمان جدا جدا چیزیں ہیں۔“

مذکورہ بالا دلائل سے معلوم ہوا علمائے ہیئت کا موقف کہ آسمان اور فلک ایک ہی چیز ہے ا وران کی تعداد نو ہے ، غلط فہمی پر مبنی ہے ۔ علامہ آلوسی رحمہ الله تعالی نے ایسے لوگوں پر بہترین الفاظ میں تبصرہ کیا ہے ۔

”ان من تصدی لتطبیق الآیات والاخبار علی ما قالہ الفلاسفة مطلقاً فقد تصدی لأمر لایکاد یتم لہ، والله تعالیٰ ورسولہ أحق بالاتباع․“ (روح المعانی، الملک، تحت آیة رقم:5)

”آیات واحادیث اور فلاسفہ کے اقوال میں موافقت پیدا کرنے والا شخص کبھی اپنے مقصد میں بامراد نہیں ہوسکتا، اتباع کے لائق تو صرف الله تعالیٰ اور اس کے رسول ہی ہیں۔“

آسمان کا اسلامی تصور
آسمانوں کے اسلامی تصور کو اجاگر کرتے ہوئے علامہ عبدالحق حقانی دہلوی رحمہ الله لکھتے ہیں:
”الہامی کتابوں بالخصوص قرآن مجید سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آسمان کوئی مجسم چیز ہے، جو قیامت کو پھٹ جائے گی، عام ہے کہ وہ کوئی جسم اور کسی قسم کا ہو، قال الله تعالی: ﴿إذا السماء انفطرت﴾ وقال: ﴿إذا السماء کشطت…﴾ کیوں کہ اگر آسمان فضا یا بُعد موہوم کا نام ہے، جیسا کہ بعض مقلدین یورپ کا قول ہے تو وہ ایک عدمی چیز ہے ، اس کا پھٹنا او راس کے چھلکوں یعنی طبقات کا اکھڑنا اور ا س کو پیدا کرنا او ربنانا جس طرح کہ زمین او راس کی چیزیں بنائیں یا اس کی کھڑکیاں کھلنا جس کا توراة میں ذکر ہے اوراس کو سقف محفوظ ( چھت) کہنا چہ معنی دارد؟۔ “( تفسیر حقانی، البقرہ: تحت آیة رقم:29)

خلاصہ کلام یہ ہے:
فلک اور آسمان دو مختلف چیزیں ہیں۔
فلک ، شمس وقمر اور سیاروں کا مدار ہے۔
فلک سے آسمان مراد لینا سلف صالحین کے معروف مسلک کے خلاف ہے ۔

سیاروں کے مدار فلک کو آسمان قرار دینے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یعنی فلک قمر کو آسمان اول ، فلک عطارد کو آسمان دوم، فلک زہراء کو آسمان سوم، فلک شمس کو آسمان چہارم ، فلک مریخ کو آسمان پنجم، فلک مشتری کو آسمان ششم اور فلک زحل کو آسمان ہفتم، فلک الثوابت کو آسمان ہشتم (عرش الہی) فلک الأفلاک کو آسمان نہم ( کرسی) قرار دینا شرعاً شدید ترین غلطی ہے ، کیوں کہ ساتوں آسمان تمام سیاروں، ستاروں او راجرام فلکی کے اوپر واقع ہیں۔

آسمانوں کی تعداد سات ہے۔


صفات متشابہات کی بحث:
﴿ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاء﴾ کے ذیل میں بعض علماء نے صفات متشابہات کی بحث چھیڑی ہے، اس مناسبت سے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ اختصار کے ساتھ نقل کیا جا رہا ہے، اس موضوع پر تفصیلی مباحث اور سلف صالحین کا تفصیلی موقف جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ کریں۔”القول التمام بإثبات التفویض مذھباً للسّلف الکرام“ مؤلف سیف بن علی․

﴿ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․
اہل سنت والجماعت کا اجتماعی اور اتفاقی عقیدہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ زمان ومکان کی حدود سے اور سمت وجہت کی قیود سے پاک اور منزّہ ہے (ولا محدود ولا معدود، ولا یوصف بالماھیة ولا بالکیفیة، ولا یتمکن فی مکان (إذا لم یکن فی مکان لم یکن فی جھة، لاعلو ولاسفل ولا غیرھما) ولا یجری علیہ زمان، العقائد النسفیة، ص:43، مع شرح التفتازانی)

وہ عرش کا محتاج ہے نہ فرش کا، عرش وکرسی کے وجود میں آنے سے پہلے وہ جس شان میں تھا اب بھی اسی شان میں ہے ۔

البتہ جہاں تک بحث قرآن وحدیث کے ان الفاظ کے متعلق ہے جو الله تعالیٰ کے لیے عرش پر قرار پکڑنے:﴿ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․ (الاعراف، آیت:54)اور چہرہ:﴿وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّک﴾․ (الرحمن، آیت:27)ہاتھ:﴿ یَدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیْْدِیْہِمْ﴾․ (الفتح، آیت:10)آنکھ: ﴿وَلِتُصْنَعَ عَلَی عَیْْنِی﴾․ (طہ، آیت:39)پنڈلی:﴿یَوْمَ یُکْشَفُ عَن سَاق﴾․(القلم:42) وغیرہ ہونے پر دلالت کناں ہیں ، تو انہیں اسلاف نے صفات متشابہات قرار دے دیا ہے۔ کیوں کہ اگر انہیں حقیقی معنی پر محمول کیا جائے تو تجسیم وتشبیہ کی راہیں کھلتی ہیں اور اگر صرف تنزیہ وتجرید کے تقاضے ملحوظ رکھے جائیں تو انکارِ صفات کے پہلو نکلتے ہیں۔

فرقہ مجسمہ اور مشبہہ نے تو ان صفات کے حقیقی معنی مراد لے کر تجسیم وتشبیہ کی تمام منزلیں طے کر ڈالیں اور برملا یہ دعویٰ کر دیا کہ الله تعالیٰ بھی اس طرح ہاتھ ، پاؤں رکھتے ہیں جس طرح ایک مخلوق رکھتی ہے۔ (شرح المقاصد، المقصد الخامس، 37/3)

اور آسمان وزمین کی تخلیق کے بعد اسی طرح عرش پر بیٹھے ہیں، جس طرح ایک بادشاہ ملکی امور کی انجام دہی کے بعد تختِ شاہی پر فروکش ہوتا ہے۔

دوسری طرف تنزیہ وتجرید کے علم بردار معتزلہ، معطلہ جہمیہ نے مذکورہ صفات کو توحید باری تعالیٰ کے منافی قرار دے کر انہیں مجازی معنی پر محمول کیا اورپھر اسی کو حرف آخر اور حتمی بھی قرار دیا ہے۔ ( التمہید لابن عبدالبر،145/7)

افراط وتفریط کی اس کش مکش میں اہل سنت والجماعت ہی ایسا گروہ تھا جو اعتدال کی راہ پر گام زن رہا اور سلف صالحین کے نقش قدم پہ چل کر تعبیر وتشریح کے اس پیچیدہ مقام سے باسلامت گزر گیا۔

اہل سنت والجماعت کا مسلک
متقدمین سلف صالحین کا موقف: متقدمین سلفِ صالحین کا مسلک یہ ہے کہ جو صفات متشابہات قرآن وحدیث او راجماع امت سے ثابت ہیں ان کے متعلق بس اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ :

جو لفظ صفت باری پر دلالت کناں ہے اس کی نسبت الله تعالیٰ کی طرف ثابت ہے۔

اس لفظ سے اس کا ظاہری اور حقیقی معنی ہر گز مراد نہیں ۔

نیز ذات بار ی مخلوق کی مشابہات سے پاک ہے۔ (” نؤمن بأن الاستواء ثابت لہ تعالی( بمعنی یلیق بہ ھو سبحانہ اعلم بہ) کماجری علیہ السلف رضوان الله تعالیٰ علیہم فی المتشابہ من التنزیہ عمالا یلیق بجلال الله تعالیٰ مع تفویض علم معناہ إلیہ سبحانہ․“ المسایرہ شرح المسامرہ لابن الہمام، ص:45)․

” وانما یسلک فی ھذا المقام مذھب السلف الصالح، الأوزاعي والثوری واللیث بن سعد والشافعی وأحمد بن حنبل واسحاق بن راھویہ وغیرہم من أئمة المسلمین، قدیماً وحدیثاً، وھو إمرار،کما جاء ت من غیر تکییف ولا تشبیہ ولا تعطیل، والظاہر المتبادر إلی اذھان المشبھین منفی عن الله، فإن الله لا یشبہہ شيء من خلقہ․“ ( تفسیر ابن کثیر، الاعراف، تحت آیت: رقم:54)

یہ اہل سنت کا مسلمہ موقف ہے جس پر چندد لائل پیش خدمت ہیں۔

امام مالک رحمہ الله تعالیٰ کی مجلس میں ایک شخص نے ﴿الرحمن عَلَی الْعَرْش اسْتَوَی﴾ کی تلاوت کرکے یہی سوال اٹھایا کہ الله تعالیٰ کا استوا کیسا ہے ؟ امام مالک رحمہ الله تعالیٰ نے ایک لمحہ سوچ کر ارشاد فرمایا یہ استوا ایسا ہی ہے جیسا الله تعالیٰ نے آیت کریمہ میں اپنے بارے میں بیان فرما دیا ہے ۔ الرحمن ( یعنی صرف صفت استوی کی نسبت باری تعالیٰ کے لیے ثابت ہے) اس کی کوئی کیفیت نہیں ( کیوں کہ یہ جسم کی خصوصیت ہے) اس لیے یہاں کیفیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ (”فقال: (الرحمن علی العرش استوی، کما وصف بہ نفسہ․ ولا یقال کیف، وکیف عنہ مرفوع․“(الدرالمنثور، لابن الجوزی، الاعراف، تحت آیة رقم:54) (ھکذا فی کتاب الاسماء والصفات للإمام البیہقی، ص:408)

امام مالک رحمہ الله تعالیٰ نے اپنے جواب میں اہل سنت والجماعت کے موقف کی ترجمانی فرمائی ہے کہ استوی بار ی تعالیٰ کی متشابہہ المعنی صفت ہے، لہٰذا صفت استویٰ کی نسبت باری تعالیٰ کے لیے ثابت کرکے اس کے معنی ومراد پر لب کشائی سے گریز کرنا چاہیے ۔ یہی وجہ ہے اہل سنت استوی کی تشریح مایلیق بہ ( ایسا استوی جو اس کے شایان شان ہے) سے کر دیتے ہیں۔

امام ترمذی رحمہ الله اپنی سنن میں صفات متشابہات کے متعلق جمہور اہل سنت کا مسلک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ان صفات پر صدق دل سے ایمان لاکر اس کی کوئی تفسیر نہ کی جائے، بلکہ ایسا وہم بھی نہ لایا جائے جس سے تجسیم وتشبیہ کا اشارہ نکلتا ہو ، ائمہ اہل سنت سفیان الثوری، مالک بن انس، عبدالله بن المبارک وغیرہ سب کا یہی مسلک ہے ۔ (”والمذھب فی ھذا عند اھل العلم من الأئمة مثل سفیان الثوری ومالک ابن انس، وابن المبارک، وابن عینیة ووکیع وغیرہ… وھذا الذی اختارہ أھل الحدیث أن تروی ھذہ الأشیاء کما جاء ت ویؤمن بھا، ولا تفسر، ولا تتوھم، ولا یقال کیف…“․ (”سنن الترمذی، تحت حدیث، رقم:2557: مزید کتاب التفسیر سورہ المائدہ، رقم الحدیث:3045، باب ماجاء فی خلود)

قرآن وحدیث میں بارہا ید (ہاتھ) کا لفظ الله تعالیٰ کے لیے استعمال ہوا ہے، جس پر علامہ ابن حجر رحمہ الله نے فرمایا کہ اس (ید) سے وہ ہاتھ ہر گز مراد نہیں جس کا ذکر ہوتے ہی ہمارے دل ودماغ میں ایک جسمانی عضو کا تصور دوڑنے لگتا ہے ، بلکہ یہ ایک صفت باری تعالیٰ ہے ( جس کی نسبت باری تعالیٰ کے لیے ثابت ہے ) لہٰذا اس صفت پر ایمان لا کر توقف اختیار کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یہی اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے ۔ (”ولیس الید عندنا الجارحة، إنما ھی صفة جاء بہ التوقیف، فنحن نطلقھا علی ماجاء ت، ولا نکیفھا، وھذا مذھب أھل السنة والجماعة․“ (فتح الباری لابن حجر، تحت حدیث رقم باب قول الله تعالیٰ: (تعرج الملٰئکة والروح إلیہ) رقم الحدیث:6993) امرارھا علی ماجاء ت مفوضا معناہ إلی الله تعالی… قال الطیبی: ھذا ھو المذھب المعتمد، وبہ یقول السلف الصالح․“ ( فتح الباری لابن حجر باب قول الله تعالیٰ ولتصنع علی عینی، رقم الحدیث:6972)

دیکھیے علامہ ابن حجر رحمہ الله تعالیٰ نے صفات متشابہات کے متعلق واضح فرما دیا ہے کہ یہ متشابہہ المعنی صفت ہے ، لہٰذا اس کی تلاوت پر اکتفا کرکے اس کے معنی ومراد کے درپے نہیں ہونا چاہیے۔

علامہ بیہقی رحمہ الله تعالیٰ نے امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ الله اور سفیان بن عینیہ رحمہ الله کا یہ قول نقل کیا ہے کہ :” کسی شخص کے لیے یہ روا نہیں کہ صفاتِ متشابہات کی تفسیر عربی یا عجمی زبان میں کرتا پھرے ۔ ان الفاظ کو پڑھ کر ان سے گزر جانا ہی بس ان کی تفسیر ہے۔“ ( ”ما وصف الله تبارک وتعالیٰ بنفسہ فی کتابہ فقرأتہ تفسیرہ، لیس لأحد أن یفسرہ بالعربیة ولابالفارسیة․“(کتاب الأسماء والصفات للبیہقی مع الھامش، ص:314)

علامہ بیہقی رحمہ الله فرماتے ہیں:متقدمین سلف صالحین استواء اوراسی جیسی تمام صفاتِ متشابہات کی کوئی تفسیر نہیں کرتے تھے۔“ ( ”فأما الاستواء فالمتقدمون من اصحابنا کانوا لایفسرونہ، ویتکلمون فیہ کنحو مذھبہم فی أمثال ذلک․“ (کتاب الأسماء والصفات للبیہقی، ص:407)

مذکورہ بالا دلائل سے متقدمین سلف صالحین کا موقف روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ یہ صفات متشابہہ المعنی ہیں ، ان کے ظاہری معنی مراد لینا کسی طرح درست نہیں۔

متقدمین کے مسلک پر کچھ شہبات
پہلا شبہ: اگر صفات متشابہات ، استوی ، ید، وجہ وغیرہ کے ظاہری معنی اس لیے مراد نہیں لیے جاسکتے کہ اس سے جسمانیت کے پہلو سامنے آتے ہیں تو پھر محکم صفات علم ، قدرت ، حیات وغیرہ کا تصور بھی تو جسمانیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، انہیں بھی متشابہات قرار دیا جائے۔

جواب… اس شبہ کی یہ بنیاد ہی غلط ہے کہ محکم صفات ، علم، قدرت ، حیات کا تصور جسم کے بغیر نہیں ہو سکتا، کیوں کہ ان صفات کا اطلاق جب باری تعالیٰ پر کیا جاتا ہے تو اس کی اولین دلالت جسم پر نہیں ہوتی، بلکہ ان الفاظ کے کانوں میں پڑتے ہی جو معانی اخذ ہوتے ہیں اس میں تنزیہ وتجرید کے تقاضے پوری طرح جلوہ گر ہوتے ہیں اور دل ودماغ کے کسی گوشے میں جسم کا تصور نہیں ابھرتا، برخلاف صفاتِ متشابہات ، استواء ِید، وجہ، کے کہ ان الفاظ کی اولین دلالت ہی جسمانیت پر ہوتی ہے ۔ ان کے ظاہری معنی مراد لینے کے بعد جسمانی لوازم کو وہم وخیال سے دور نہیں رکھا جاسکتا، لہٰذا اگر متشابہات اور محکمات میں یہ فرق ملحوظ رکھاجائے تو اشکال پیدا ہی نہ ہو ۔

دوسرا شبہ: اگر متشابہات کے معنی مراد کا علم صرف الله تبارک وتعالیٰ کو ہے تو پھر ان کو قرآن کریم میں ذکر کرنے کیا فائدہ ہے ؟

جواب : اگرچہ ہمیں صفات متشابہات کے معنی ومراد کا علم نہیں، لیکن ان پر ایمان لانا بھی باعث نجات اور ثواب ہے ، علاوہ ازیں اس کی تلاوت کے بھی معنوی فوائد اوربرکات ہیں ،اگرچہ ان تک ہماری رسائی نہیں ہے۔

متاخرین اہل سنت والجماعت کا موقف
متأخرین سلف صالحین کا مسلک یہ ہے کہ صفات متشابہات کے ایسے مجازی معنی بیان کیے جاسکتے ہیں جو الله تبارک وتعالیٰ کے شایان شان ہوں، بشرطے کہ:
اس لفظ کے اندر مجازی معنی مراد لینے کی گنجائش ہو۔
نیز اس مجازی معنی کو احتمال تفسیر کے درجے میں رکھا جائے، انہیں قطعی اوریقینی نہ کہا جائے۔

لہٰذا ”ید“ سے قدرت ، ”وجہ“ سے ذات اور استوا سے استیلا (غلبہ) مراد لیا جاسکتا ہے ۔ ( المسایرہ فی العقائد المنجیة فی الأخرة، ص:47,44)

تاویل کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
چوں کہ متاخرین کے زمانے میں کئی فرقہائے باطلہ رواج پذیر ہو کر امت مسلمہ کی وحدت فکر کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف کار تھے ، جن میں سر فہرست مجسمہ او رمشبہہ ایسے فرقے تھے جو صفات متشابہات کے ظاہری الفاظ کا سہارا لے کر الله تعالیٰ کے لیے مخلوق کی طرح ہاتھ ، پاؤں، چہرہ، پنڈلی وغیرہ ثابت کرتے تھے۔

متاخرین سلف صالحین نے جب دیکھا کہ یہ فرقہائے باطلہ عوام کی ذہنی سطح سے غلط فائدہ اٹھا کر انہیں گم راہی کی طرف دھکیل رہے ہیں تو انہوں نے تاویل کا مسلک اختیارکرکے تمام متشابہات کے مناسب ، سادہ عام فہم معانی بیان کیے، مثلاً کہا ید سے ہاتھ نہیں قدرت مراد ہے، وجہ سے چہرہ نہیں بلکہ ذات مراد ہے، استوی سے استقرار وجلوس نہیں بلکہ استیلا اور غلبہ مراد ہے، تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کومجسمہ اور مشبہہ کے گم راہ کن خیالات سے بچایا جاسکے۔

مسلکِ تاویل کی بنیاد کی وہ آیت کریمہ ہے جو متشابہات کے متعلق وارد ہے ﴿وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہُ إِلاَّ اللّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِیْ الْعِلْمِ یَقُولُونَ آمَنَّا﴾․ (آل عمران:7)

اس آیت کریمہ کی ایک قرأت میںإ لا الله پر وقف نہیں ہے، اس صورت میں ﴿الراسخون فی العلم﴾ کا لفظ الله پر عطف ہو گا اور آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہات کی تاویل کا علم الله کو او رعلمائے راسخین کو ہے ۔ متاخرین نے اسی قرأت پر اپنے مسلک کی بنیاد رکھی ہے۔ ( المسامرہ مع شرحہ المسایرہ ص:45، بیروت)

متاخرین کے مسلک پر کچھ شبہات او ران کا ازالہ
پہلاشبہ: امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ الله نے فقہ اکبر میں تصریح فرمائی ہے کہ ”ید“ سے قدرت یا نعمت مراد لینا جائز نہیں، کیوں کہ اس طرح تاویل کرنے سے صفت باری تعالیٰ کاابطال لازم آتا ہے۔ (فماذکرہ الله تعالیٰ فی القرآن من ذکر الوجہ، والید، والنفس فہو لہ صفات بلاکیف ولایقال: إن یدہ قدرتہ أو نعمتہ، لأن فیہ ابطال الصفة وھو قول اھل القدر والا عتزال․“ (الفقہ الأکبر مع شرحہ للملا علی القاری، ص:67)

دیکھیے امام صاحب تو تاویل کے مسلک کو ناجائز قرار دے رہے ہیں ، لیکن ان کے مقلدین اسی مسلک کو حرزِ جان بنائے ہوئے ہیں، یہ امام صاحب کے مسلک سے انحراف نہیں ہے؟

جواب: اگر فقہ اکبر کی مکمل عبارت پڑھ لی جاتی تو اشکال پیدا نہ ہوتا، کیوں کہ امام صاحب نے صفات متشابہات میں اس تاویل کو ناجائز فرمایا ہے جسے قطعیت کے درجے پر فائز کر دیا گیا ہو ، جس کے نتیجے میں صفات کے اصل کلمات بے معنی ہو کر رہ جائیں ، چوں کہ ایسی تاویل معتزلہ وغیرہ کرتے ہیں ، اس لیے امام صاحب نے ان کی تردید فرمائی ہے ، اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ اس عبارت کے متصل بعد ہی امام صاحب نے فرمایا ”وھو قول اھل القدر والاعتزال“ یعنی صفات میں تاویل کرکے اسے قطعی سمجھنا معتزلہ اور قدریہ کا مسلک ہے ۔

جہاں تک اہل سنت والجماعت کی بات ہے وہ جب کسی لفظ کی تاویل کرتے ہیں تو اس سے ایسے معنی مراد لیتے ہیں۔
جس کا وہ لفظ احتمال بھی رکھتا ہو ۔
لفظ کے اصل معنی کی نفی بھی نہ ہوتی ہو ۔
اور وہ تفسیر ظن اور احتمال کے درجے میں ہو۔
مثلاً آیت کریمہ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُون﴾ کا معنی یہ ہے کہ جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ لیکن صوفیا اس کی تفسیر عمومی معنی میں کرتے ہیں ”جو ہم نے ان کومال وعلم دیا ہے “ یہاں علم مراد لینے سے مال کی نفی نہیں ہوتی، اسی طرح ید سے قدرت ونعمت اور وجہ سے ذات مراد لینے سے بھی لفظ کے اصل معنی ہاتھ اور چہرے کی نفی نہیں ہوتی۔ اہل سنت والجماعت اور فرقہائے باطلہ میں یہی بنیادی فرق ہے، چناں چہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ الله تعالی فرماتے ہیں:

” اعتراض ہوتا ہے کہ جس طرح گروہ اشاعرہ، ماترید یہ تاویلات کرتے ہیں ، معتزلہ او رجہمیہ بھی تاویلات کرتے ہیں ان میں او ران میں کیا فرق ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں کی تلاویلات میں فرق یہ ہے کہ اشاعرہ ماتریدیہ تاویلات پر جزم نہیں کرتے، برخلاف معتزلہ وغیرہ کے کہ وہ تلاویلات کرتے ہیں او رکہتے ہیں بس یہاں یہی معنی مراد ہیں ۔(معارف مدنیہ ، ص:47)

دوسرا شبہ: علامہ تفتازانی رحمہ الله تعالی، شرح عقائد نسفیہ میں لکھتے ہیں کہ صفات باری تعالی کے متعلق اشاعرہ اور ماتریدیہ کا موقف یہ ہے کہ ہر ہر صفت اپنے معنی ومراد کے اعتبار سے دوسری صفت کے مقابلے میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتی ہے، کسی بھی صورت میں دو صفات کوہم معنی اور مترادف نہیں قرار دیا جاسکتا۔ (ولہ صفات لما ثبت من أنہ تعالیٰ عالم، قادر، حي إلی غیر ذلک، ومعلوم أن کلا من ذلک یدل علی معنی زائد علی مفہوم الواجب، ولیس الکل الفاظ مترادفة“․ (شرح العقائد النسفیة للتفتازنی، ص:48)

لہٰذا مذکورہ موقف کی روشنی میں ید اور استویٰ کو ایک معنی زائدہ پر دلالت کناں ہونا چاہیے، انہیں نعمت وقدرت یا استیلاء وغلبہ کے ہم معنی قرار دینا خود تمہارے اپنے موقف کی رو سے بھی درست نہیں ہے۔

جواب : پہلی بات تو یہ ہے کہ تمیزِ صفات کا مذکورہ موقف محکم صفات ( علم قدرت ، سمع، بصر) کے متعلق ہے نہ کہ صفات متشابہات کے متعلق ، علامہ تفتازانی رحمہ الله تعالیٰ نے بھی محکم صفات کے ضمن میں اس موقف پر روشنی ڈالی ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ جب صفات متشابہات ، ید اور استویٰ سے نعمت اور استیلا وغلبہ مراد لیتے ہیں تو اسے معنی مجاز قرار دیتے ہیں، نہ کہ مترادفات اور مجازی معنی کا استعمال تو عرف اور لغت سے ثابت ہے ۔

چناں چہ ایک شاعر ”استویٰ“ کو بطور مجاز غلبے سے تعبیر کرتے ہوئے کہتا ہے #
        قد استوی بشر علی العراق
                                            (المسامرة، ص:46)

تحقیق بشر عراق پر غالب آگیا ہے ( بشر ایک شخص کا نام ہے) ۔

اسی طرح ید سے بطور مجاز نعمت مراد لیتے ہوئے ایک شاعر نے کہا ہے #
        إلیک یديَّ منک الأیادی تمدّھا
( ”إلیک یدی منک الأیادی تمدھا، قال شارحہ: المراد بالید ھنا الجارحة، والأیادی جمع ید بمعنی النعمة فالمعنی الأیادي الفائضة من حضرتک حملتنی علی مد یدی الیک فی طلب المسئول وبغیة المأمول․“(شرح کتاب الفقہ الأکبر، ص:67)

”تیری نعمتوں کا فیض ہی مجھے تمہاری طرف ہاتھ پھیلانے پر مجبورکرتا ہے ، مذکورہ شعر میں ”الأیادی“ سے نعمتیں مراد ہیں اگر ان صفاتِ متشابہات کو مجازی معنوں پر محمول نہ کیا جائے، بلکہ وہ ظاہری معنی مراد لیے جائیں جسے آپ زائد معنی سے تعبیر کر رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ کھلی ہوئی تجسیم پر دلالت کناں ہیں، اس لیے اہل سنت والجماعة نے اس تعبیر سے گریز فرمایا ہے۔

تیسرا شبہ: کیا تاویل کرنا بدعت ہے؟
غیر مقلدین اور نام نہاد سلفیوں کا صفات باری تعالیٰ کے متعلق کیا عقیدہ ہے ؟ اس پر تفصیلی گفت گو تو چند صفحات آگے آرہی ہے ۔ لیکن یہاں سردست ان کے اس اعتراض کا جواب دینا مقصود ہے جس کی آڑ میں یہ اہل سنت والجماعت کو اپنی تحریر وتقریر پر جا بجا مطعون کرتے ہیں ، ان کا دعوی یہ ہے کہ صفات متشابہات کی تاویل کرنا بدعت اور ناجائز ہے، چوں کہ اشاعرہ․ (واضح رہے کہ اشاعرہ کا اطلاق بطور اصطلاح اہل سنت والجماعت کے دونوں گروہ اشاعرہ اور ماتریدیہ پر ہوتا ہے ، واصطلح المتأخرون علی تسمیة الفریقین بالأشاعرة تغلیبا․ ( النبراس، ص:22، امدادیہ ملتان) نے اپنے مسلک کی بنیاد تاویل پر رکھی ہے، لہٰذا ان کے بدعتی اور گم راہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ (”القول بالمجاز قول مبتدع․“ (الصواعق المرسلة ص:233، بیروت) ”وطریقی التفویض والتاویل فی باب الصفات مسلکان باطلان․“ (حاشیة علی فتح الباری زھیر شاویش، کتاب التوحید، باب قول النبی : لاشخص اغیر من الله: 493/13)

جواب: غیر مقلدین کا مذکورہ اشکال چند وجوہ سے درست نہیں ہے ۔

متاخرین سلف صالحین کے مسلک تاویل کی بنیاد وہ آیت کریمہ ہے جو متشابہات کے متعلق وارد ہے ﴿وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہُ إِلاَّ اللّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِیْ الْعِلْمِ﴾․ (آل عمران:7)

اس آیت کریمہ کی ایک قرأت میں ﴿إلا الله﴾ پر وقف نہیں ہے ۔ اس صورت میں ﴿الراسخون فی العلم﴾ کا لفظ الله پر عطف ہوگا اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ متشابہات کی تاویل کا علم الله کو او رعلمائے راسخین کو ہے۔ (المسامرہ مع شرحہ المسایرہ، ص:45، بیروت) متاخرین نے اسی قرأت پر اپنے مسلک کی بنیاد رکھی ہے جب ایک چیز کا شرعی جواز موجود ہو تو اسے بدعت کیسے کہا جاسکتا ہے؟

نیز متشابہات کی تاویل صحابہ کرام، تابعین، سلف صالحین سے بھیمنقول ہے ، کیا ان مبارک ہستیوں سے بدعت کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ ذیل میں ان کی تلاویلات کی ایک جھلک آپ بھی دیکھ لیجیے ۔

رئیس المفسرین حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما سے سند صحیح کے ساتھ منقول ہے کہ انہوں نے ﴿یوم یکشف عن ساق﴾ میں ”ساق“ کی تاویل ”شدت“ سے فرمائی ۔ (” وأما الساق فجاء عن ابن عباس فی قولہ تعالیٰ: ﴿یوم یکشف عن ساق﴾ : قال عن شدة الأمر․ (فتح الباری، باب: قول الله تعالیٰ: وجوہ یومئذٍ ناضرة إلی ربھا ناظرة․ الحدیث الثالث رقم:7436) تفسیر ابن جریر الطبری، القلم، تحت آیة رقم:42)

بلکہ آپ تو مقطعات کی بھی تاویل فرمایا کرتے تھے۔ ( العرف الشذي، 496/1، بیروت)

علامہ ابن جریری طبری رحمہ الله ﴿یوم یکشف عن ساق﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم اور تابعین رحمہم الله کی ایک جماعت نے ساق کی تاویل ”شدت امر“ سے کی ہے۔(تفسیر ابن جریر الطبری، القلم، تحت آیة رقم:42)

حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما حضرت قتادہ ، حضرت مجاہد حضرت سفیان ثوری رحمہم ا الله نے آیت کریمہ: ﴿والسماء بنینا ھا بأید وإنا لموسعون﴾ میں ”بأید“ کی تاویل قوت سے فرمائی ہے ۔ (تفسیر ابن حبریر الطبری، القلم، تحت آیة رقم:47)

حضرت امام مالک رحمہ الله تعالیٰ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیاگیا جس میں نزول الہی کا ذکر ان الفاظ میں ہے کہ الله تعالیٰ رات کو دنیا کے قریبی آسماں پر نزول فرماتے ہیں ، آپ نے فرمایا اس سے امر اور حکم مراد ہے کہ حکم الہی نازل ہوتا ہے۔ دیکھیے! امام مالک رحمہ الله تعالیٰ نے نزول الہی کی تاویل نزول حکم الہی سے فرمائی۔ ”قال حدثنا مطرف عن مالک بن انس أنہ سئل عن الحدیث ”إن الله ینزل فی اللیل إلی سماء الدنیا“ فقال مالک: یتنزل أمرہ․“ (التمہید لابن عبدالبر، 143/7)

امام احمد بن حنبل رحمہ الله تعالیٰ کے بھتیجے سے مروی ہے کہ امام صاحب نے ﴿وجاء ربک﴾ (اور آیا آپ کا رب) کی تاویل وجاء ثوابہ ( اور آیا رب کا ثواب ) سے فرمایا ۔

امام بیہقی رحمہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سند پر کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ (”رواہ البیہقی عن الحاکم عن ابی عمر بن السماک عن احمد بن حنبل ان احمد بن حنبل تأول قول الله تعالیٰ:﴿ وجاء ربک﴾: أنہ وجاء ثوابہ․ “ … ھذا سند لاغبار علیہ․“ (البدایة والنہایة،327/10)

حقیقت یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں الفاظ کی ظاہری دلالت سے قطع نظر کرکے مجاز واستعارے کی آڑ لی جاتی ہے اور چاروناچار تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جب تک اس اندازِ بیان کی توجیہ مجاز کی روشنی میں نہ کی جائے تو افہام وتفہیم کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ مثلاً قرآنِ کریم میں ہے ﴿کُلُّ شَیْْء ٍ ہَالِکٌ إِلَّا وَجْہَہُ﴾․ (القصص، آیت:88)

ترجمہ: ہر چیز کو فنا ہے مگر اس کا منھ ( ذات) ۔اگر یہاں وجہ منھ کی تاویل ذات سے نہ کی جائے تو پھر آیت کریمہ کا صاف صاف مطلب یہ ہو گا الله تعالیٰ کے ید ، قدم، ساق ( جنہیں غیر مقلدین الله کے عضو تسلیم کرتے ہیں) فنا اور زوال پذیر ہو جائیں گے ، صرف باری تعالیٰ کا چہرہ ہی قائم ودائم رہے گا۔ چناں چہ اس مقام پر خود غیر مقلدین تاویل وتعبیر کی ضرورت سے بے نیاز نہ رہ سکے او ران کے لیے وجہ کی تاویل ذات سے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ رہا ۔ ( تفسیر جونا گڑھی ، القصص، تحت آیہ رقم:88)

اسی طرح قرآن کریم میں آیت کریمہ ہے ﴿قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَأَتَی اللّہُ﴾․ (النحل:26)

البتہ دغا بازی کرچکے ہیں جو تھے ان سے پہلے، پھر پہنچا حکم الله کا میں فأتی الله کی تاویل فأتی عذاب الله (الله کا عذاب آیا) سے کرتے ہیں ۔ (تفسیر جونا گڑھی ، النحل ،تحت آیہ رقم:26)

قرآن وحدیث میں کتنے ہی ایسے مقامات ہیں جہاں غیر مقلدین نے تاویل واستعارے سے بلاجھجک کام لیا ہے۔ اگر تاویل بدعت ہے تو اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں، پھر اشاعرہ پر ہی الزام تراشی کیوں؟

خلاصہ یہ ہے کہ : متقدمین کے نزدیک یہ صفات ، ید، وجہ ، استوی متشابہہ المعنی ہیں۔صفات متشابہات کے لغوی معنی تحت اللفظ کیے جاسکتے ہیں، لیکن ان کی تشریح اور وضاحت معروف فی الخلق سے نہیں کرسکتے، اگر ان صفات کو معروف معانی کے ساتھ الله تعالیٰ کے لیے ثابت کریں تو اس سے تجسیم لازم آتی ہے اور کیفیت کی جہالت سے ہم تجسیم سے نہیں نکل سکتے۔ متاخرین نے اہل بدعت کے بڑھتے ہوئے فروغ کی روک تھام کے لیے مسلک تایل اختیار کیا او رتمام متشابہات کی مناسب تاویلات کیں او ران تلاویلات کا شرعی جواز موجود ہے۔ متاخرین سلف صالحین سے ﴿اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾ کی کئی تاویلیں منقول ہیں، تاہم مشہور تاویل یہ ہے۔

اسْتَوَی سے غلبہ وقبضہ مراد ہے اورالعرش تخت کو کہتے ہیں۔ اور﴿اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾الله تبارک وتعالیٰ کے کائنات پرمکمل قبضہ وقدرت اور اس کے حاکمانہ تصرف سے تعبیر ہے کہ کائنات کی کوئی چیز او رکوئی گوشہ اس کے قبضہ قدرت اور تصرفات سے باہر نہیں۔(تفسیر رازی، الاعراف، تحت آیہ رقم:54۔مزید تاویلات کے لیے دیکھیے: تفسیر فخر الدین رازی، تفسیر روح المعانی، اللباب فی علوم الکتاب، الاعراف تحت آیہ رقم:54)

اہل سنت والجماعت اشاعرہ اور ماترید یہ کے مجموعے کا نام ہے۔ ( ”وھؤلاء الحنفیة والشافعیة والمالکیة وفضلاء الحنابلة ولله الحمد فی العقائد ید واحدة کلھم علی رأي أھل السنة والجماعة، یدینون الله تعالیٰ بطریق شیخ السنة أبی الحسن الأشعریی رحمہ الله تعالی․“ ( معید النعم ومبید النِقم للسبکی، ص:62) ””اذا أطلق أھل السنة والجماعة فالمراد بھم الأشاعرة والماتریدیة․“ (اتحاف السادة المتقین شرح احیاء علوم الدین للغزالی:8/2، بیروت)

امت کے اس عظیم حصے کو او ران سے وابستہ محدثین کرام، فقہائے عظام کو بدعتی اور گم راہ کہنے والا شخص خود گم راہ اور بدعتی ہے۔

اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش اور غیر مقلدین کا ناقابل فہم مسلک
غیر مقلدین کا موقف یہ ہے کہ ﴿اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾ اپنے حقیقی معنوں پر محمول ہے ، یعنی الله تعالیٰ”پھر بیٹھا تخت پر“ اور عرش الله تعالیٰ کامکان ہے اور الله تعالیٰ جہت بلندی سے متصف ہے ۔(وھو في جہة الفوق، ومکان العرش۔(نزل الأبرار، کتاب الایمان، ص:3،لاہور)

اسی طرح یَدْ ، وجہ، ساق، سے الله تعالیٰ کے اعضا وجوارح مراد ہیں، تاہم ان کی کیفیت مجہول ہے۔ (”ولہ وجہ، وعین، وید، وکف، وقبضة، واصابع، وساعد، وذراع، وجنب، وحقو، وقدم، ورجل، وساق، وکیف کما تلیق بذاتہ“․(نزل الابرار من فقہ النبی المختار، کتاب الإیمان، ص:3، لاہور)

اگر غیر مقلدین کے مذکورہ موقف ومسلک کو درست قرار دیا جائے تو ذات بار ی تعالیٰ کے لیے ”جسم“ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں رہتا، کیوں کہ باری تعالیٰ کے لیے مکان وجہت اور اعضائے جارحہ (منھ، ہاتھ، پنڈلی) ثابت کرتے ہی جسمانیت کے تمام پہلو غیر شعوری طور پر پیدا ہو جاتے ہیں یا پھر یہ مسئلہ مبہم اور ناقابل فہم بن جاتا ہے۔

اس لیے کہ جب آپ الله تعالیٰ کے لیے ، چہرہ، ہاتھ، پنڈلی وغیرہ کے اثبات پر زور دیتے ہیں تو اس کے جو معنی انسانی ذہن میں متبادر ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اس کی ذات نہ صرف جسم رکھتی ہے، بلکہ اعضا وجوارح سے بھی متصف ہے، لیکن پھر جب آپ کہتے ہیں ان اعضاءِ جوارحہ کی کیفیت مجہول ہے، اس کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی مانند نہیں، اس کا چہرہ ہمارے چہرے کی طرح نہیں تو پھر فیصلہ کن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نفی کا اطلاق کس سے متعلق ہے؟

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ:
وہ چہرے، ہاتھ، پنڈلی وغیرہ کے مدلولات ہی سے متصف نہیں؟یا یہ کہ وہ ایک نوع کے اعضائے جارحہ تو رکھتا ہے، مگر یہ اعضائے جارحہ تمام ذی اعضا حیوانات سے مختلف ہیں؟

اگر پہلی صورت صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہے آپ الفاظ کے ہیر پھیر میں سرگرداں او رکسی نتیجے تک پہنچنے سے قاصر ہیں، کیوں کہ ایک چیز ثابت کرکے پھر اس کی نفی کر دینے سے کوئی واضح مفہوم سامنے نہیں آتا۔

اگر وہ دوسری صورت صحیح ہے تو پھر ”جسمانیت“ سے دامن بچانا محال ہے ،اس لیے کہ آپ کی نفی کا اطلاق صرف ہیئت، شکل اور نوعیت پر ہوا ہے، جس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ الله تعالیٰ کے لیے ید، وجہ، استوی علی العرش کے جسمانی مدلول تو ثابت ہیں، لیکن ہمارے ہاتھ ، چہرے کے مقابلے میں بے نظیر ہیں ۔

غیر مقلدین کے مسلک کی مذکورہ کیفیت دیکھ کر ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ان کا مسلک اہل سنت سے جدا اور ناقابل فہم ہے۔ (استوی علی العرش، وھذا الأصل معقود لبیان أنہ تعالیٰ غیر مستقر علی مکان کما قدمہ صریحاً فی ترجمة اصول الرکن الأول، ونبہ علیہ مصانا بالجواب عن تمسک القائلین بالجھة والمکان، فإن الکرامیة یثبتون جہة العلو من غیر استقرار علی العرش، والحشویة، وھم المجسمة، یصر حون بالاستقرار علی العرش وتمسکو بظواہرھا منھا قولہ تعالیٰ: ﴿الرحمن علی العرش استوی﴾․ (المسامرة شرح المسایرہ ، الأصل الثامن:ص،44، بیروت)

علامہ قرطبی رحمہ الله تعالیٰ نے کیا خوب فرمایا ( صفات متشابہات) میں تاؤیل سے پہلوتہی اختیار کرکے الفاظ کے ظاہری معنی کے درپے ہوجانے کا مطلب تو یہ ہوا کہ قرآن کریم کی آیات تضاد بیانی کا شکار ہیں۔ (وقد جمع فی ھذہ الأیة بین ”استوی العرش“ وبین ”ھو معکم“ ، والأخذ بالظاھر من تناقض، فدل علی انہ لا بدمن التاویل، والإعراض عن التاویل اعتراف بالتناقض)․ (احکام القرآن اللقرطبی) کیوں کہ صفات متشابہات کے ظاہری معنی مراد لینے سے قرآن کی کئی آیات تضاد و تناقض کا شکار ہوتی نظر آتی ہیں مثلاً:﴿ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․ (اعراف:54) اور ﴿وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ﴾․ (الأنعام:18) کا ظاہری معنی یہ ہوا کہ الله تعالیٰ حسی طور پر عرش پر بیٹھے ہیں اور جہت فوق میں ہیں۔ لیکن مندرجہ ذیل آیتوں کے ظاہری معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ کی ذات گرامی عرش پر نہیں، بلکہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔ ﴿وَقَالَ اللّہُ إِنِّیْ مَعَکُمْ﴾․ (المائدہ:11)﴿وَہُوَ مَعَکُمْ أَیْْنَ مَا کُنتُمْ﴾․(الحدید:4) ﴿إِنَّنِیْ مَعَکُمَا أَسْمَعُ وَأَرَی﴾․(طہ:46) ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ مَا یَکُونُ مِن نَّجْوَی ثَلَاثَةٍ إِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمْ وَلَا أَدْنَی مِن ذَلِکَ وَلَا أَکْثَرَ إِلَّا ہُوَ مَعَہُمْ أَیْْنَ مَا کَانُوا﴾․(المجادلہ:7)

اگر تاویل بدعت ہے تو پھر اس تعارض اور تناقض کا کیا حل؟

غیر مقلدین کا امام مالک رحمہ الله کے قول سے غلط استدلال
غیر مقلدین کا کہنا ہے کہ امام مالک رحمہ الله صفات متشابہات کو حقیقی معنوں پر محمول کرکے اس کی کیفیت مجہول قرار دیتے تھے ، چناں چہ ایک بار ان سے جب ”استویٰ“ کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے واضح الفاظ میں فرمایا”الاستواء غیر مجہول“ یعنی لفظ ”استویٰ“ کی دلالت اپنے معنی ومراد (استقرار) پر واضح ہے۔ یعنی الله تعالیٰ عرش پر مستقِر ہیں البتہ اس استقرار کی کیفیت مجہول ہے۔ (الاستواء غیر مجہول، والکیف غیر معقول، والایمان بہ واجب، والسئوال عنہ بدعة“․ روح المعانی، الاعراف، تحت آیة رقم:54)

علامہ آلوسی رحمہ الله تعالیٰ نے اس فریب استدلال سے پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا کہ:

” الاستواء غیر مجہول“ کا مطلب یہ ہے الله تعالیٰ کی صفت استوا (قرآن وحدیث) میں مذکور ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کا معنی ومراد ”استقرار“ معلوم ہے۔ ( لیس نصاً فی ھذ المذھب لاحتمال أن یکون المراد من قولہ : غیر مجہول، انہ ثابت معلوم الثبوت لا أن معناہ وھو الاستقرار غیر مجہول۔“ (روح المعانی، الاعراف، تحت آیة رقم:54)

نیز امام مالک رحمہ الله تعالیٰ کا استوا کے متعلق صحیح قول وہ ہے جو سند صحیح کے ساتھ علامہ ابن حجر رحمہ الله نے فتح الباری․ (واخرج البیہقی بسند جید عن عبدالله بن وھب، قال: کنا عند مالک، فدخل رجل فقال: یا أبا عبدالله ﴿الرحمن علی العرش استوی﴾ کیف استوی؟ فاطرق مالک فأخذتہ الرحضاء ثم رفع راسہ، فقال: الرحمن علی العرش استوی، کما وصف بہ نفسہ، ولایقال کیف وکیف عنہ مرفوع․فتح الباری لابن حجر، باب وکان عرشہ علی الماء:494/20) اور علامہ بیہقی رحمہ الله تعالیٰ نے کتاب الاسماء والصفات․(کتاب الاسماء والصفات للبیہقی، ص:408) میں نقل کیا ہے کہ ” الله تعالیٰ عرش پر ایسا ہی مستوی ہے جیسے خود آیت کریمہ میں بیان فرمایا ہے ﴿الرحمن علی العرش استوی﴾ یعنی صرف صفت استوی کی نسبت باری تعالیٰ کے لیے ثابت کرکے اسے متشابہہ المعنی قرار دیا۔

لہٰذا امام مالک رحمہ الله کے ایک معروف اور مستند قول کو نظر انداز کرکے ایک غیر معروف اور مبہم قول سے اپنے مطلب کا مفہوم اخذ کرنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔

اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ا لله تعالیٰ کی ذات مبارکہ جسم سے اور جسم کی تمام خصوصیات زمان ومکان اور حدود وجہت سے پاک اور منزہ ہے، لہٰذا ذات باری تعالیٰ کے حق میں کوئی لفظ بھی استعمال نہ کیا جائے جو جسم اور خاصہ جسم پر دلالت کرتا ہو، مثلاً لفظ ”أین“ عربی میں مکان کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مکان جسم کا خاصہ ہے، لہٰذا ذات باری کے متعلق لفظ ”أین“ سے استفسار جائز نہیں ( مثلا این الله ؟ الله کہاں ہے؟)۔ چناں چہ علامہ ابن حجر رحمہ الله ایک مقام پر لکھتے ہیں۔

” الله تعالیٰ کی حکمتوں پر کیوں اور کیسے کا سوال اٹھانا ایسے ہی عبث ہے جیسے الله کے وجود پر کہاں اور کیسے کا سوال ۔“ (فلا یتوجہ علی حکمہ لم ولا کیف کما لا یتوجہ علیہ فی وجودہ أین وحیث) ․( فتح الباری لابن حجر:441/1)

لیکن غیر مقلدین اور نام نہاد سلفیوں کے نزدیک ”عرش“ باری تعالیٰ کا مکان اور فوق باری تعالیٰ کی جہت ہے ، دلیل مانگنے پر فوراً مسلم شریف کی حدیث پیش کر دیتے ہیں ، جس میں آپ نے ایک باندی سے پوچھا ”أین الله؟“ (الله کہاں ہے؟) جواب میں باندی نے کہا فی السماء (آسمان میں ہے)۔ ( قلت یا رسول الله أفلا أعتقہا قال: ائتنی بھا، فأتیتہ بھا، فقال لہا: این الله؟ قالت: فی السماء․( صحیح مسلم باب تحریم السلام فی الصلاة، رقم الحدیث:1227)

غیر مقلدین اس حدیث سے یوں استدلال کرتے ہیں کہ آپ کا ”أین“ سے الله کی ذات کے متعلق سوال فرمانا مکان الہی کے ثبوت پر واضح دلیل ہے ، پھر باندی کے جواب فی السماء پر خاموش رہنا بلکہ اسے مومنہ قرار دے کر آزاد کر ادینا اس بات کی دلیل ہے کہ باندی کا جواب درست تھا کہ الله تعالیٰ فی السماء یعنی جہت فوق میں ہے ۔ مذکورہ حدیث کی چھان بین کرنے پر معلوم ہوا کہ غیر مقلدین نے جس حدیث کو بنیاد بنا کر اپنے عقیدے کی عمارت کھڑی کی ہے اس کو محدثین نے معلول اور شاذ قرار دیا ہے۔

1... چناں چہ امام بیہقی رحمہ الله تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ حدیث مضطرب ہے۔
(کتاب الاسماء والصفات للبہیقی، ص:422،» بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْعَرْشِ وَالْكُرْسِيِّ ۔۔۔ رقم الحديث: 891)
2... حافظ ابن حجر رحمہ الله تعالیٰ اس کے اضطراب کی نشان دہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”وفي اللفظ مخالفة كثيرة“ کہ متن حدیث کے لفظ میں بکثرت اختلاف پایا جاتا ہے۔(التلخیص الحبیر:443/3 » كتاب الكفارات)
یہی امام شوکانی نے بھی فرمایا
[نيل الأوطار » كتاب النذر » باب ما يجزي من عليه عتق رقبة مؤمنة بنذر أو غيره ۔۔۔ 8/289،15/389]
[أوجز المسالك إلى موطأ مالك - ج 11 - 28الطلاق - 30العتق والولاء - 1121 - 1266]
3... امام بزار رحمہ الله نے بھی اس حدیث کے اضطراب پر نشان دہی کرتے ہوئے یہی فرمایا کہ اس حدیث کو مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔(کشف الأستار:14/1)
4... علامہ زاہد الکوثری رحمہ الله تعالیٰ نے بھی اس حدیث پر اضطراب کا حکم لگایا ہے ۔
(ھامش الأسما والصفات:344)
5... نیز حضور  کی خدمت میں حاضر ہوکر کتنے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے، لیکن کسی سے بھی ”أین“ کا سوال منقول نہیں ہے، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس سوال کا ایمان کی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ فقط باندی کا امتحان لینا مقصود تھا کہ مشرک ہے یا موحدہ؟
(شرح السیوطی علی مسلم:217/2، رقم الحدیث:537)

خلاصہ یہ کہ ایک معلول اور شاذ روایت سے عقیدے کا استنباط نہیں کیا جاسکتا اور ایسی شاذ روایت کو بنیاد بنا کر اشاعرہ کو گم راہ اور بدعتی کہنا تو سراسر جہالت ہے یا تعصب۔ بالفرض اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کر لیا تو پھر ”أین“ کا سوال ذات باری تعالی کے مکان کے لیے نہیں، بلکہ منزلت اور مرتبہ کے لیے ہوگا، یعنی ہمارے الله کا مرتبہ کیا ہے ؟ یا یہ کہ الله تعالیٰ کے احکام و أوامر کا مکان کون سا ہے؟ (کذا فی شرح النووی علی مسلم،298/2، رقم الحدیث:836)

خلاصہ یہ کہ غیر مقلدین اور سلفی حضرات کا موقف افراط و تفریط کا شکار ہے، چناں چہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله ایک مقام پر لکھتے ہیں :

” آج کل بعض لوگ جن پر ظاہریت غالب ہے، جب متشابہات کی تفسیر کرتے ہیں تو درجہ اجمال میں تو مسلک سلف پر رہتے ہیں، مگر چار غلطیاں کرتے ہیں ۔
1... ایک یہ کہ تفسیر ظنی کی قطعیت کے مدعی ہو جاتے ہیں۔ ( چناں چہ مسلک تفویض کو باطل قرار دیتے ہیں۔)
2... دوسری غلطی یہ ہے کہ جب تفصیل کرتے ہیں تو عنوانات موہمہ تکییف وتجسیم اختیا رکرتے ہیں ۔ ( جسے کہ عرش کو الله تعالیٰ کا مکان اور ”فوق“ کو جہت قرار دینا اور ید وجہ سے اعضائے جوارح مراد لینا۔)
3... تیسری غلطی یہ کہ مسلک تأویل کو علی الاطلاق باطل کہہ کر ہزاروں اہل حق کی تضلیل کرتے ہیں، حالاں کہ اہل حق کے پاس ان کے مسلک کی صحت کے لیے احادیث بھی بنا ہیں اور قواعد شرعیہ بھی۔
4... چوتھی غلطی یہ کہ تفسیر بالاستقرار کو تو سلف کے مسلک پر سمجھتے ہیں اور دوسری تفاسیر لغویہ کو تاویل خلف سمجھتے ہیں ، حالاں کہ سب کا مساوی ہونا اوپر ظاہر ہو چکا ہے۔(امداد الفتاوی:111/6)

صفات متشابہات اور فرقہ مجسمہ کا موقف
فرقہ مجسمہ کے نزدیک الله تعالیٰ کی ذات مبارکہ جسمانیت سے متصف ہے۔

مجسمہ کی عقلی دلیل
فرقہ مجسمہ کی عقلی دلیل تو یہ ہے کہ جب بھی دو موجود فرض کیے جائیں تو وہ د وحال سے خالی نہیں ہوسکتے یا تو دونوں باہم متصل او رملے ہوئے ہوں گے، اس اتصال اور ملاپ کی بھی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ دونوں کے حدود واطراف آ پس میں ملتے ہوں یا یہ کہ دونوں آپس میں تداخل اور حلول کیے ہوئے ہوں۔

یا دونوں ایک دوسرے سے منفصل اور جدا ہوں گے اور جہت میں ایک دوسرے کے مخالف سمت میں ہوں گے، اب ہمارے سامنے دو موجود ہیں، ایک عالم ،دوسرا ذات باری تعالیٰ ،ان دونوں میں مذکورہ بالا دو احتمال ہیں، پہلا احتمال اس لیے باطل ہے کہ الله تعالیٰ نہ عالم میں حلول کیے ہوئے ہیں، نہ عالم الله تعالیٰ میں حلول کیے ہوئے ہے، کیوں کہ حال او رمحل ہمیشہ ایک دوسرے کے محتاج ہوتے ہیں اور الله تعالیٰ کی ذات کسی چیز کا احتیاج نہیں رکھتی لہٰذا دوسری صورت ہی متعین ہے کہ الله تعالیٰ عالم سے منفصلاور جدا ہے او راس کی جہتِ مخالف میں ہے اور جو چیز جہت میں ہوتی ہے وہ متحیز ہوتی ہے او رمتحیز جسم ہوتا ہے، لہٰذا الله تعالیٰ جسم ہے۔

مجسمہ کی عقلی دلیل کا جواب
ذات بار ی تعالیٰ جسم کے عیب سے پاک ہے، کیوں کہ جسم ایسی چیزوں کے مجموعے کا نام ہے جو حدوث اور فنا کا تقاضا کرتی ہیں مثلاً ہیئت، مقدار، اجتماع وافتراق۔

باقی آپ نے جو دلیل اور حکم بیان کیا ہے وہ ان دو موجودات کے متعلق ہے جو حسی ہوں ، الله تبارک وتعالی کا وجود غیر محسوس ہے ، اس پر محسوس والا حکم لگانا وہمی ہونے کی دلیل ہے، عقل ودانش کی دنیا میں اس کی کوئی اہمیت نہیں، اہل علم اسے قیاس الغائب علی الشاھد سے تعبیر کرتے ہیں۔(شرح العقائد النسفیة للتفتازانی، ص:46,45)

مجسمہ کی نقلی دلیل اور اس کا جواب
مجسمہ نقلی دلائل میں قرآن وحدیث کی وہ نصوص پیش کرتے ہیں جن کے ظاہری الفاظ باری تعالیٰ کے لیے جسمیت اور جہت وغیرہ پر دلالت کرتے ہیں۔ مثلاً: ﴿وَجَاء رَبُّکَ﴾․ (الفجر:22) ( اور آیا تیرا رب)۔ ﴿الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی﴾․(طہ:5)(وہ بڑا مہربان عرش پر قائم ہوا)۔ ﴿یَدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیْدِیْہِمْ﴾․(الفتح:10)( الله کا ہاتھ ہے اوپر ان کے ہاتھ کے)۔

جواب… واضح رہے کہ جب باری تعالیٰ کے جسم اور جہت وغیرہ سے پاک ہونے پر دلائل عقلیہ قائم ہوں تو پھر قاعدہ یہ ہے اگر کسی نص کے ظاہری الفاظ کسی ایسی چیز پر دلالت کریں جو خلاف عقل ہے تو اس نص کے ظاہری معنی مراد نہیں ہوں گے ، بلکہ ایسی نصوص متشابہات کہلاتی ہیں اورمتشابہات کے متعلق اہل سنت والجماعت کا موقف گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔

===============================
مسلک اہل السنت پر اعتراضات کے جوابات:
اعتراض نمبر1:
اگر اللہ تعالیٰ کو ہر جگہ مانا جائے تو کیا اللہ تعالیٰ بیت الخلاء میں بھی موجود ہے ؟ اگر کہیں کہ ’’نہیں‘‘ تو ہر جگہ ہونے کا دعویٰ ٹوٹ گیا اور اگر کہیں ’’ہے‘‘  تو اللہ تعالیٰ کی بے ادبی ہے۔
جواب نمبر1: بعض چیزوں کو اجمالاً بیان کریں تو مناسب اور ادب ہے،اگر تفصیلات بیان کریں تو خلافِ ادب ہے۔ مثلاً:
مثال نمبر1:  سسر اپنے داماد کو کہے: ’’میری بیٹی کے حقوق کا خیال رکھنا ‘‘،تو اجمالاً قول ہونے کی وجہ سے یہ ادب ہے لیکن اگر وہ تمام حقوق ایک ایک کرکے گنوانا شروع کردے تو یہ خلاف ادب ہے۔
مثال نمبر2: ’’سر سے لے کر پاؤں تک تمام جسم کا خالق اللہ ہے‘‘ یہ کہنا ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک عضو کا نام لے کر یہی بات کہی جائے تو یہ خلافِ ادب ہے۔
اسی طرح ’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے‘‘یہ اجمالاً کہنا تو مذکورہ قاعدہ کی رو سے درست اور ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک جگہ کا جس میں ناپسندیدہ جگہیں بھی شامل ہوں، نام لے کر کہا جائے تو یہ بے ادبی ہونے کی وجہ سے غلط ہوگا۔ لہذا ایسا سوال کرنا ہی غلط، نامناسب اور ناجائز ہے۔
جواب نمبر2: یہ اعتراض تب پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کو وجود بمعنی ’’جسم‘‘ کے ساتھ مانیں جیسے قرآن کریم کو بیت الخلاء میں لے کر جانا قرآن کی توہین اور بے ادبی ہے حالانکہ ہر حافظ جب بیت الخلاء جاتا ہے تو قرآن اس کے سینے میں موجود ہوتا ہے لیکن بے ادبی نہیں ، کیونکہ قرآن جسم سے پاک ہے، ایسے ہی ہم اللہ تعالیٰ کا جسم ہی ثابت نہیں کرتے تو بے ادبی لازم نہیں آتی ۔ 
جواب نمبر3: رمضان مبارک کا مہینہ ہر جگہ مبارک ہے ۔اگر کوئی شخص پوچھے کہ بیت الخلاء میں رمضان ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ہر جگہ رمضان نہیں، اگر ہے تو بیت الخلاء میں بابرکت کیسے؟ تو اس کا یہ سوال لغو ہوگا کیونکہ جب رمضان کا جسم نہیں ہے تو ہر جگہ ماننے میں کوئی بے ادبی نہ ہو گی اور یہ ہر جگہ با برکت ہوگا۔ اسی طرح جب اللہ کا جسم نہیں تو ہر جگہ ماننے میں بے ادبی نہیں ۔ 
جواب نمبر4:              (از قلم: عباس خان) فرقہ سلفیہ کہتا ہے کہ اللہ کا علم ہر جگہ ہےتو کیا خیال ہے کہ باتھ روم میں بھی ہے، یہ اعتراض الٹا ان پر پڑتا ہے۔

اعتراض نمبر2:
  اگر اللہ تعالیٰ کو ہر جگہ مانیں تو اس سے حلول اور اتحاد لازم آئے گا ۔ 
جواب : حلول اور اتحاد تب لازم آئے گا جب اللہ تعالی کے لئے جسم مانا جائے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہیں۔
فائدہ : دو چیزوں کا اس طرح ایک ہونا کہ ہر ایک کا وجود باقی رہے ’’اتحاد‘‘ کہلاتا ہے جیسے آملیٹ اور دو چیزوں کااس طرح ایک ہونا کہ ایک چیز کا وجود ختم ہو جائے’’حلول‘‘ کہلاتا ہے  جیسے شربت۔ 
جواب نمبر 2:  (از قلم : عباس خان) کسی چیز میں حلول کرنا یا کسی چیز کے ساتھ اتحاد کرنا مخلوق کی صفت ہے اللہ مخلوق کی صفات سے پاک ہے۔ 
اور ان کے اس اعتراض سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ لو گ اللہ تعالٰی  کی ذات کو کوئی جسم جیسی کوئی چیز مانتے ہیں جس کے متعلق اگر کہا جائے کہ اگر یہاں ہے تو لازماً اتحاد ہو گا حلول ہو گا۔ یہ بھی اللہ کو نعو ذ باللہ  ایسا ہی خیال کرتے ہیں اس لئے یہ  سوال اٹھاتے ہیں۔
 غیر مقلدین  کے دلائل اور ان کے جوابات:
قرآنی آیات:
1: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : ثُمَّ اسْتَوَیٰ عَلَی الْعَرْشِ۔(سورہ حدید 4،سورہ رعد:2، طہ: 5 ، سجدہ : 4) 
جواب نمبر1: اس کا معنی ’’عرش پر اللہ کا غالب ہونا‘‘ ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کا معنی:’’ اَیْ عَلَا عَلَی الْعَرْشِ‘‘ (صحیح بخاری: کتاب التوحید ،باب وکان عرشہ علی الماء)نقل کیا ہے اور عربی زبان میں ’’استویٰ‘‘ بمعنی ’’غالب ہونا‘‘ استعمال ہوتا رہتا ہے۔ ایک شاعر نے بشر بن مروان کی مدح میں یہ شعر کہا تھا:
قَدِ اسْتَوَیٰ بِشْرٌ عَلَی الْعِرَاقٖ
مِنْ  غَیْرِ سَیْفٍ  وَّ  دَمٍ  مُّھْرَاقٖ

(کتاب الاسماء و الصفات للبیہقی:ج2ص153)
ترجمہ:بشر بن مروان نے بغیر جنگ اور خونریزی کے عراق پر غلبہ پا لیا۔
ایک اور شاعر نے کہا:
فَلَمَّا عَلَوْنَا وَ اسْتَوَیْنَا عَلَیْہَمٖ
جَعَلْنَاہُمُ مَرْعٰی لِنَسْرٍ وَّ طَائِرٖ

(التعلیق علی کتاب الاسماء و الصفات للبیہقی:ج2ص154)
ترجمہ:جب ہم ان پر چڑھ دوڑے اور ان پر غلبہ پا لیا تو انھیں( ٹکڑے ٹکڑے کر کے)گدھوں اور پرندوں کے کھانے کے لیے چھوڑ دیا۔
اشکال: اگر کوئی کہے کہ عرش کی کیا تخصیص ہے ،جب کہ اللہ تو آسمان،زمین اور دیگر مخلوقات پر بھی غالب ہے ،تو عرش کو خاص کیوں کیا گیا؟
 جواب: عرش کائنات کا مکانِ آخر ہے تو مکانِ آخر تک غلبہ بتانے کے لیے عرش کا ذکر کیا۔ جیسے ایک آدمی کے پاس سائیکل ،موٹرسائیکل اور کار ہو تو وہ اپنی ملکیت اور مالی رتبہ بتانے کے لیے یہ کہے : ’’میرے پاس کار ہے‘‘ تو اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کے پاس سائیکل اور موٹر سائیکل رکھنے کی اہلیت نہیں۔
جواب نمبر 2: اگر استویٰ علی العرش سے اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً عر ش پر ہونا مراد لیں تو قرآن کریم کی بہت ساری ان آیات کا ان آیات سے تعارض لازم آتا ہے جن میں اللہ تعالی کے فوق العرش ہونے کی بجائے فی السماء یا ہر جگہ ہونے کا ذکر موجود ہے جیسے:
’’وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْافَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ‘‘ (سورہ البقرۃ: 115)
ترجمہ: اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کی ہیں، لہذا جس طرف بھی تم رخ کرو گے وہیں اللہ کا رخ ہے۔
”وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ“ (سورہ ق:16)
ترجمہ : ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔
’’اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ‘‘ ( سورۃ الملک :16) [کیا تم کو اس (اللہ تعالیٰ )کا جو آسمان میں ہے، خوف نہیں رہا]
وغیرہ کا اس آیت سے تعارض لازم آتا ہے‘ جبکہ قرآن کریم میں قطعاً تعارض نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے :
’’وَلَوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُ وْا فِیْہِ اخْتِلَافاً کَثِیْراً۔‘‘(سورۃ النساء: 82)
ترجمہ: اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت اختلاف پاتے ۔
جواب نمبر 3: بہتر یہ ہے کہ جواب یوں دیا جائے کہ یہ متشابہا ت میں سے ہے اور اس کا معنی اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔اس پر کسی قسم کا اشکال نہ ہوگا اور آیات کا تعارض بھی لازم نہیں آئے گا۔
2: وہ تمام آیات جن سے اللہ تعالیٰ کا جہتِ علو یعنی جانب ِبلندی کی طرف ہونا ثابت ہوتا ہے مثلاً 
1: اِ لَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ (سورہ فاطر؛ 10)
ترجمہ : اسی کی طرف پاکیزہ کلام چڑھتا ہے ۔ 
جواب : یہ کنایہ حسنِ قبول سے ہے۔  چنانچہ امام ا بوبکر البیھقیؒ فرماتے ہیں :
صُعُوْدُ الْکَلِمِ الطَّیِّبِ وَالصَّدَقَۃِ الطَّیِّبَۃِاِلَی السَّمَائِ عِبَارَۃٌ عَنْ حُسْنِ الْقُبُوْلِ لَھُمَا.
( کتاب الاسماء والصفات ج2ص168)
کلمات طیبہ اور صدقہ طیبہ کا آسمان کی طرف چڑھنا ان کے حسنِ قبول سے عبارت ہے۔
2: وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ (سورۃ الانعام:18) 
ترجمہ : وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔ 
غیر مقلدین کہتے ہیں کہ اللہ غالب تب ہو گا جب سب سے اوپر ہو۔
جواب: فوقیت سے مراد  فوقیتِ حسی نہیں بلکہ فوقیتِ مرتبہ اور فوقیتِ قدرت ہے ۔دلیل اس پر ’’وَھُوَ الْقَاھِرُ‘‘ہے جیسے غلام دوسری منزل پر اور آقا پہلی منزل پر ہو توکہتے پھر بھی یہی ہیں کہ آقا اپنے غلام پر غالب ہے ۔ 
3: اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ (سورۃ الملک :16)
ترجمہ : کیا تم کو اس (ا للہ ) کا جو آسمانوں میں ہے، خوف نہیں رہا۔ 
جواب نمبر1: مَنْ فِی السَّمَائِ سے مَنْ عَظُمَ شَانُہٗ  مراد ہے ۔ 
جواب نمبر2: اگر اس کا حقیقی معنی ہی مراد لیں تو پھر بھی یہ غیر مقلدین کے موقف فوق علی العرش کے خلاف ہے ۔ 
4: تَعْرُجُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ (سورۃ المعارج: 4)
جواب: محل امر مراد ہے  کہ وہاں سے فرشتے امر لاتے ہیں۔
5: بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ (سورۃ النساء؛158)
ترجمہ : بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ 
جواب: امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبیؒ نے اس آیت کی بہترین تفسیر اور مطلب بیان کیاہے چنانچہ فرماتے ہیں :
’’اَیْ اِلَی السَّمَائِ وَاللّٰہُ تَعَالیٰ مُتَعَالٍ عَنِ الْمَکَانِ۔‘‘(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ج2ص12)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھایا اور اللہ تعالیٰ مکان سے پاک ہے۔
امام فخر الدین رازیؒ فرقہ مُشبِّہ( جو اللہ تعالیٰ کے لیے اس آیت سے جہت ثابت کرتے ہیں)کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’اَلْمُرَادُ الرَّفْعُ اِلٰی مَوْضِعٍ لَایَجْرِیْ فِیْہِ حُکْمُ غَیْرِ اللّٰہِ۔‘‘(تفسیر الفخر الرازی ج11ص102تحت قولہ تعالیٰ:بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہ)
ترجمہ: ’’رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ سے مراد  ایسے مقام کی طرف اٹھانا ہے جہاں غیر اللہ کاحکم نہیں چلتا۔
فائدہ: دنیا میں حقیقی اختیار ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اگر ظاہری اختیار بندے کا ہو تو نسبت بندے کی طرف ہوتی ہے جیسے زکریا علیہ السلام کا مریم علیہا السلام کا کھانا دینا لیکن جو اللہ کی طرف سے ملے جس میں بندے کو اختیار نہیں تھا اس کو﴿مِنْ عِنْدِ اللَّه﴾  فرمایا۔ دین میں کمی بیشی کا اختیار چونکہ بندے کے پاس نہیں، اس لیے فرمایا:﴿إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ﴾۔شہید کو جو بعد الموت رزق ملتا ہے اس میں بھی  بندے کے اختیار کو دخل نہیں ہوتا اس لئے ﴿عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ فرمایا۔ عرف میں اگر کوئی آدمی اپنے گھر سے دوسرے شہر چلا جائے تو نسبت اس کی طرف ہوتی ہے، مثلاً فلاں بندہ لاہور یا کراچی چلا گیا، لیکن اگر کوئی بندہ دنیا کو چھوڑ کر قبر میں چلا جائے تو نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس چلا گیا ہے کیونکہ موت میں اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے اور لاہور جانے میں ظاہری اختیار بندے کا ہے۔
احادیث مبارکہ: 
1:حضرت معاویہ بن الحکم السلمی ؓ فرماتے ہیں:
کَانَتْ لِیْ جَارِیَۃٌ تَرْعٰی غَنَمًالِیْ قِبَلَ اُحُدٍوَالْجَوَّانِیَّۃِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ یَوْمٍ  فَاِذَاالذِّئْبُ قَدْ ذَھَبَ بِشَاۃٍ عَنْ غَنَمِھَا وَاَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ آدَمَ اٰسَفُ کَمَایَاْ سَفُوْنَ لٰکِنِّیْ صَکَّکْتُھَا صَکَّۃً فَاَ تَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم فَعَظَّمَ ذٰلِکَ عَلَیَّ۔قُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ !اَفَلَا اَعْتِقُہَا ؟ قَالَ :اِئْتِنِیْ بِھَا۔ فَاَ تَیْتُہٗ بِھَا فَقَالَ لَھَا: اَیْنَ اللّٰہُ؟ قَالَتْ :فِی السَّمَائِ ۔قَالَ مَنْ اَنَا؟ قَالَتْ :اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۔قَالَ :اَعْتِقْھَا ‘فَاِنَّھَا مُؤْمِنَۃٌ.
 (صحیح مسلم ج1ص203،204باب تحریم الکلام فی الصلوۃ الخ)
ترجمہ: میری ایک باندی تھی ‘جو احد اور جوانیہ کی طرف بکریاں چراتی تھی ۔ ایک دن میں وہاں آنکلا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا ایک بکری کو لے گیا ہے۔ آخرمیں بھی آدمی ہوں مجھ کو بھی غصہ آجاتا ہے ۔میں نے اس کو ایک طمانچہ مارا۔ پھر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا تو رسول اللہﷺ نے میرا یہ فعل بہت بڑا قراردیا۔ میں نے کہایارسول اللہ! کیامیں اس باندی کوآزاد نہ کردوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو میرے پاس لے آؤ۔ میں آپ ﷺ کے پاس لے کر گیا۔ آپﷺ نے اس سے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا آسمان میں۔ آپ ﷺنے فرمایا میں کون ہوں؟ اس نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں۔( یعنی آپ ﷺکو اللہ نے بھیجا ہے) تب آپ ﷺنے فرما یااس کو آزاد کردے  اس لیے کہ یہ مؤمنہ ہے۔
جواب نمبر1: یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ متناً مضطرب ہے۔
 ( کتاب الاسماء والصفات ج 2ص164 ،، تلخیص الحبیرللامام ابن حجرؒ ج 3 ص 223 کتاب الکفارات )
ا ور متن میں اضطراب وجہ ضعف ہوتا ہے ۔
(تقریب النووی مع شرحہ التدریب: ص 234)
جواب نمبر2: اگر اس حدیث کو سنداً و متناً صحیح و قابل ِاستدلال مان بھی لیا جائے تو یہ حدیث خود غیر مقلدین کے خلاف ہے کیونکہ ان کا دعویٰ تو فوق العرش ہونے کا ہے اور اس سے تو اللہ تعالی کا ’’فی السماء‘‘ ہونا لازم آتا ہے ۔ 
جواب نمبر3: ہر آدمی بقدر عقل مکلف ہوتاہے۔ باندی کا جواب واقع کے مطابق درست نہ تھا‘ لیکن اس میں عقل ہی اتنی تھی کہ جواب اس کی عقل کے بقدر ہونے کی وجہ سے اس کا ایماندار ہونا تسلیم کرلیاگیا۔لہٰذا اس سے اللہ کے محض ’’فی السماء‘‘ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتاجیسا کہ حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص کو موت آئی۔ جب اس کو زندگی کی کوئی امید نہ رہی تو اس نے اپنے گھر والوں سے وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو میرے لیے بہت سی لکڑیاں جمع کرکے آگ جلانا اور مجھے اس میں ڈال دینا‘ یہاں تک کہ جب آگ میرے گوشت کو کھالے اور ہڈیوں تک پہنچ جائے تو تم ان ہڈیوں کو پیس لینا اور پھر مجھے( یعنی پسی ہوئی ہڈیوں کو) کسی گرم یا کسی تیز ہوا چلنے والے دن دریامیں ڈال دینا(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا)
فَجَمَعَہُ اللّٰہُ فَقَالَ :لِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْیَتِک۔َ فَغَفَرَلَہٗ۔(صحیح البخاری ج1ص495باب بلا ترجمہ، بعد باب حدیث الغار)
پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو جمع کرکے فرمایاکہ تو نے ایسا کیوں کیا؟اس نے عرض کیاتیرے خوف کی وجہ سے۔ پس خدا نے اس کوبخش دیا۔
اس روایت میں مذکورشخص کا خوفِ خدا کی وجہ سے ایسی خلاف شریعت وصیت کرنا اور پھراس کے گھر والوں کا اس پر عمل کرنا‘ واقع میں اسے اللہ کے سامنے حاضری سے نہ بچا سکا‘ لیکن چونکہ اس میں عقل ہی اتنی تھی لہٰذا اس کا یہ عمل وعذر اس کی عقل کے بقدر ہونے کی وجہ سے قبول کرکے اسے بخش دیاگیا۔ یہاں بھی ایسی خلاف شریعت وصیت کرنے‘ اس پر عمل اور بوجہ عمل اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش نہ ہونے پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
2 : حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’یَنْزِلُ اللّٰہُ اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا کُلَّ لَیْلَۃٍ حَتّٰی یَمْضِیَ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاَوَّلِ۔‘‘ 
 ( صحیح مسلم ج1 ص 258  باب صلوۃ اللیل و عدد رکعات النبی ﷺ فی اللیل الخ) 
ترجمہ : ہر رات اللہ تعالیٰ آسمان ِدنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے ۔ 
اس سے معلوم ہوا اللہ تعالیٰ اوپر ہے ۔ 
جواب نمبر1:نزول سے مراد  نزولِ رحمت ہے ۔
جواب نمبر2:اگر اس کا حقیقی معنی مراد ہو تویہ تمہارے عقیدے کے خلاف ہے کیونکہ جب آسمان پر ہوں گے تو فوق العرش نہیں ہوں گے۔
عقلی دلا ئل : 
۱: اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں اسی لیے  تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم کلام ہونے کے لئے عرش پر بلایا۔
جواب: ہم کلام ہونے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو عرش پر بلانا اگر عرش پر ہونے کی دلیل ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر بلانا اللہ تعالیٰ کے کوہِ طور پر ہونے کی دلیل ہے اور ہر نمازی کا مسجد میں جا کر اللہ سے بات کرنا ہر مسجد میں ہونے کی دلیل ہے۔کلامِ الہیٰ تجلی ٔالہی کا نام ہے ‘چاہے اس کے ظہور کے لئے انتخاب عرش کا ہو یا کوہ طور کا ہو یا منصور حلاج ؒکی زبان کا ہو۔ 
۲: بوقت دعا ہاتھ اوپر کی جانب اٹھائے جاتے ہیں جو دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں۔
جواب: اللہ تعالیٰ جہت سے پاک ہیں لیکن تمام جہات کو محیط ہے‘ لیکن بندے کے قلبی استحضار کے لئے بعض اعمال کے لئے بعض جہات کا تعین فرما دیتے ہیں۔ جیسے نماز کے لئے جہتِ کعبہ کو قبلہ قرار دیا ، دعا کے لئے جہتِ فوق کو قبلہ قرار دیا اور نہایت اعلیٰ درجہ کے قرب ِالہی کے حصول کے لئے جہتِ ارض کو قبلہ قرار دیا اور قرآن مجید میں حکم دیا:’’وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ‘‘(اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہو جاؤ) 
فائدہ: ہمارا نظریہ ہے کہ آپ ﷺ کے جسم اطہر سے لگنے والی مٹی کے ذرات کعبہ سے بھی اعلیٰ ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ عظمت کا اظہار تجلیات الٰہیہ کے ظہور پر ہے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات گرامی پر سب سے زیادہ تجلیاتِ الٰہیہ کا ظہور ہوتا ہے۔ اس لیے آپ علیہ السلام کے جسم کو لگنے والی مٹی عرش و کعبہ سے افضل ہے۔
اس پر غیر مقلدین یہ اعتراض کرتے ہیں:
اعتراض: اگر یہ  ذرات کعبہ سے بھی اعلیٰ ہیں تو سجدہ کعبہ کی طرف نہ کرو بلکہ روضہ رسول ﷺ کی طرف منہ کر کے کرو۔ 
جواب نمبر1: ہم کہتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ افضل ہی کو قبلہ بنایا جائے۔ اگر آپ کا یہی اصول ہے تو آپ کے ہاں عرش کعبۃ اللہ سے افضل ہے تو آپ نماز میں اپنا منہ عرش کی طرف کیوں نہیں کر لیتے؟؟
جواب نمبر2: کعبہ مرکز عبادت اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم مرکزعقیدت۔
۳: اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے کے لئے عموماً اوپر کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہےکہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں۔
جواب نمبر1: اللہ تعالیٰ جہاتِ ستہ سے اگرچہ پاک ہیں‘ لیکن تمام جہات کو محیط بھی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شّیْئٍ مُّحِیْطًا (سورۃ النساء:126)[اللہ تعالیٰ ہر چیز کو محیط ہے] اور جہاتِ ستہ میں سے جہت ِعلو کو باقی جہات پر عقلاً فوقیت حاصل ہے ۔اس لئے علوِ مرتبہ اور تعظیم کا خیال کرتے ہوئے اشارہ اوپر کیا جاتا ہے۔ جیسے استاذ کی آواز دورانِ سبق تمام جہات کی طرف منتقل ہوتی ہے لیکن استاد کے سامنے بیٹھ کر آواز کو سننا ادب ہے اور پیچھے بیٹھ کر سننا بے ادبی ہے ۔ 
جواب نمبر2: اللہ اوپر نہیں بلکہ ”محل امر“ اوپر ہے۔بہر حال اس کی توجہ محل امر کی طرف ہے اور محل امر  چونکہ اوپر کی طرف ہے اس لیے اشارہ بھی اوپر ہے۔
فائدہ:
یہاں چند ایک عبارات نقل کرنا ضروری ہے جن کی بنیاد پر یہ سمجھا گیا ہے کہ ’’معیت‘‘ سے مراد ’’معیت ذاتیہ‘‘ ہے ۔ 
[۱]: مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی حفظہ اللہ رئیس دارلعلوم کراچی نے فرمایا:
”اللہ رب العزت کی ذات تو ایسی عظیم ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور وہ کسی خاص مقام تک محدود نہیں ہے، کعبہ بیت اللہ ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر موجود ہے اس کے سوا کہیں اور موجود نہیں، ایسا نہیں بلکہ وہ تو ہر جگہ ہے۔ قرآن کریم نے فرمایا:
﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾ 
تم  جہاں کہیں ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
یعنی تم  جہاں بھی ہوتے ہو اللہ تمہارے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے، اس وقت بھی ساتھ ہے، تمہارے ساتھ بھی ہے اور میرے ساتھ بھی۔ اور قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا:
﴿وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ﴾ (سورۃ ق، آیت نمبر۱۶)
اور ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
انسان کی شہ رگ کتنی قریب ہوتی ہے، جسم کا حصہ ہے لیکن فرمایا کہ ہم ہر انسان کے اس سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ تو اللہ رب العزت کی ذاتِ اقدس تو  لا محدود ہے وہ کسی خاص مکان کے ساتھ محدود نہیں ہے، کسی خاص مکان کے ساتھ مقید نہیں ہے۔ چنانچہ عرش پر بھی ہے، آپ کے ساتھ بھی ہے اور میرے ساتھ بھی، ہر ایک کے ساتھ ہے اور ہر جگہ ہے۔ مدینہ میں بھی ہے اور مکہ میں بھی۔ ہر آسمان پر ہے، عرش پر بھی ہے اور کرسی پر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے تو اس لحاظ سے ہر جگہ ہی افضل ہے۔“
(ماہنامہ البلاغ: ربیع الاول ۱۴۳۴ھ/ فروری۲۰۱۴ءص21 خطاب حضرت مولانا محمد رفیع عثمانی)
[۲]: حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ سے کسی نے معیت وقربِ خداوندی کے بارے میں سوال کیا‘ جس کا آپؒ نے جواب دیا۔ سوال وجواب کا عبارت من وعن نقل کی جاتی ہے۔
’’مسئلہ: قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ: نَحْنُ اَقْرَبْ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ وَقَالَ :وَھُوَمَعَکُمْ الآیۃ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَقُوْلُ اِنَّ الْقُرْبَ بِاعْتِبَارِ الذَّاتِ وَالْوَصْفِ وَیَقُوْلُ بَعْضُ النَّاسِ اِنَّ الْقُرْبَ بِحَسْبِ الْوَصْفِ فَقَطْ‘ فَاَیُّ الْحِزْبَیْنِ عَلَی الصَّوَابِ وَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ عَلَی الْحَقِّ ؟وَاِنْ کَانَ اللّٰہُ قَرِیْبًا بِالذَّاتِ ؛ہَلْ یَقْرُبُ مَعَ کَوْنِ اسْتِوَائِہٖ عَلَی الْعَرْشِ اَمْ لَا؟ثُمَّ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ بِالْقُرْبِ الْوَصْفِیْ یَدَّعُوْن بِالْقَائِلِیْنَ بِالْقُرْبِ الذَّاتِیْ اَنَّہُمْ کَفَرُوْابِقَوْلِہِمْ بِالْقُرْبِ الذَّاتِیْ ۔ہَلْ یَجُوْزُ نِسْبَۃُ الْکُفْرِ اِلٰی مَنْ قَالَ اِنَّ الْقُرْبَ ذَاتِیٌ اَمْ لَا؟
الجواب: لَمَّا کَانَ الْمُتَبَادَرُ عِنْدَ الْعَامَّۃِ مِنَ الْمَعِیَّۃِ الذَّاتِیَّۃِ ھِیَ الْمَعِیَّۃُ الْجِسْمَانِیَّۃُ اَبْطَلَھَا الْعُلَمَآئُ وَکَفَّرَ بَعْضُھُمُ الْقَائِلِیْنَ بِھَا‘ وَلَوْاُرِیْدَ بِھَا الْمَعِیَّۃُ غَیْرُ الْمُتَکَیِّفَۃِ فَلَا مَحْذُوْرَ فِی الْقَوْلِ بِھَا‘ وَالْاِمْتِنَاعَ فِی اجْتِمَاعِھَا بِالْاِسْتِوَائِ،لِاَنَّ الذَّاتَ لَیْسَتْ بِمُتَنَا ھِیَۃٍ وَالْمَعِیَّۃُ لَیْسَتْ بِمُتَکَیِّفَۃٍ ‘وَمَنْ  لَمْ یَقْدِرْ عَلٰی اعْتِقَادِھَا بِلاَ کَیْفِیَۃٍ فَالْاَسْلَمُ لَہٗ،اَنْ یَّقُوْلَ بِالْمَعِیَّۃِ الْوَصْفِیَّۃِ (ای العلمیۃِ) فَقَطْ ، وَبِھٰذَا التَّقْرِیْرِ خَرَجَ الْجَوَابُ مِنْ کُلِّ سُوَالٍ وَارْتَفَعَ کُلّْ اِشْکَالٍ ۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الْکَبِیْرِ الْمُتَعَالِ عَنْ کُلِّ مَکَانٍ وَخَیَال۔ٍ‘‘ 
(بوادر النوادر ازحضرت تھانوی  ؒص50، 51)
ترجمہ: مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں ۔ایک اور مقام پر فرمایا:اور وہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب ذات اور وصف دونوں کے اعتبار سے ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ قرب فقط وصف کے اعتبار سے ہے۔ان میں سے کس کا موقف درست ہے اور کون حق پر ہے؟اور اگر اللہ تعالیٰ بالذات قریب ہو تو کیا عرش پر مستوی ہوتے ہوئے قریب ہوگا یا نہیں؟پھر جو لوگ قربِ وصفی کے قائل ہیں وہ قرب ذاتی کے قائلین کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ قرب ِذاتی کے قول کی وجہ سے کافر ہیں ۔تو جس شخص نے کہاکہ قر ب ذاتی ہے‘ کیا اس  شخص کو کافر کہناجائز ہے یا نہیں؟ 
الجواب : چونکہ ”معیت ذاتیہ“ کہنے سے عوام کا ذہن فوراً ”معیت ِجسمانیہ“ کی طرف جاتا ہے اس لیے  علماء نے ایسا کہنے سے روک دیا اور بعض علماء نے معیت ِذاتیہ کے قائلین کو کافر تک کہہ دیا اور اگر معیت ذاتیہ سے مراد ’’معیت بلاکیف‘‘ لی جائے تو اس نظریہ کا قائل ہونے میں کوئی حرج نہیں ‘اور معیتِ غیر متکیفہ کو استواء (علی العرش) کے ساتھ جمع کرنا ممتنع بھی نہیں ہے ، اس لیے کہ ذات باری تعالیٰ متناہی نہیں اور معیت متکیفہ نہیں‘ اور جو شخص معیت بلا کیفیت کے اعتقاد پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ معیتِ وصفیہ ، یعنی علمیہ کاقائل ہو جائے۔ اس تقریر سے سا رے سوال ختم ہوگئے اور سارے اشکالات حل ہوگئے اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو بڑا ہے اور ہر مکان اور خیال سے پاک ہیں۔
[۳]: حضرت مجدد الف ثانی  ؒ فرماتے ہیں: 
’’آگاہ ہو کہ فوق العرش کا ظہور تجھے وہم میں نہ ڈالے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالی کا مقام و قرار عرش کے اوپر ہے اور جہت و مکان اس کے لئے ثابت ہے ۔ تَعَالَی اللّٰہُ عَنْ ذٰلِکَ وَ عَمَّا لَا یَلِیْقُ بِجَنَابَ قدُسْہٖ تَعَالٰی ( اللہ تعالی کی پاک ذات ایسی باتوں سے جو اس کے لائق نہیں ہیں، بر تر اور بلند ہے ) ‘‘
(مکتوبات امام ربانیؒ؛ ج 2 ص 53)
مزید فرماتے ہیں: 
’’اور یہ بھی مناسب نہیں کہ حق تعالیٰ کو عرش کے اوپر جانیں اور فوق کی طرف ثابت کریں۔ کیونکہ عرش اور اس کے ماسوا سب کچھ حادث اور اسی کا پیدا کیا ہوا ہے ۔ مخلوق و حادث کی کیا مجال ہے کہ خالق قدیم کا مکان اور جائے قرار بن سکے ۔‘‘ 
(مکتوبات امام ربانیؒ؛ ج 2ص 225)
[۴]: قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ فرماتے ہیں: 
’’حق تعالیٰ باوجود  وراء الوراء کے قریب عبد کے ہے ’’ وَھُوَمَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ‘‘ ایسے تشاویش کی ضرورت نہیں اور ’’ مَعَکُمْ‘‘  علم سے معیت تعبیر کرنا کچھ حاجت نہیں ’’ھُوَ‘‘  ضمیر ذات ہے جہاں علم وہاں ذات۔ پس تکلف کی کیا حاجت ہے ؟ حق تعالیٰ فوق، تحت سے بری ہے۔  فوق اور تحت اور ہر جاموجود ہے عروج روح و قلب کا فوق کی جانب اس خیال سے نہیں ہے کہ حق تعالی فوق العرش ہے۔ نہیں سب جگہ ہے قلب مومن کے اندر بھی ہے پس فوق کا خیال مت کرو ۔‘‘ (مکاتیب رشیدیہ ص 42)
[۵]: حضرت مولانا محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”خدا ہر جگہ موجود ہے۔“
(ملفوظات فقیہ الامت: ج2 ص14)
[۶]: عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’بس ایک بات عرض کرتا ہوں، بعض لو گ مخلوق کے سامنے گناہ سے بچتے ہیں، دو چار دوست بیٹھے ہوں ہاں ان کے سامنے گناہ نہیں کرتے کیونکہ مخلوق کے سامنے ذلیل ہو جائیں گے یا مخلوق ان سے انتقام لے سکتی ہے، لیکن میں یہ پوچھتا ہوں کہ جس خلوت اور تنہائی میں انسان گناہ کرتا ہے اس وقت خدا اس کے ساتھ ہے یا نہیں؟تو مخلوق زیادہ طاقتور یا خالق زیادہ طاقتور ہے؟ بڑی طاقت کے سامنے تو گناہ کرتے خوف نہ لگا اور کمزور مخلوق کے ڈر سے گناہ چھوڑ رہا ہے! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ جہاں بھی تم ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔اتنی عظیم الشان والا ہمارے، آپ کے حجروں اور کمروں میں ساتھ ہے، کوٹھڑیوں میں ساتھ ہے، لیکن انسان کی فطرت دیکھیے کہ چند انسان اس کو دیکھ رہے ہوں تو وہاں گناہ سے بچتا ہے اور پھر گناہ کے لیے تنہائی تلاش کرتا ہے، راستے بند کرتا ہے ، دروازے بند کرتا ہے کہ کوئی دیکھ نہ لے لیکن وہ ذات پاک جو مخلوق سے بے شمار گنا عظیم الشان اور عظیم القدرۃ ہے وہ وہیں ساتھ میں ہے،وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ۔
(اہل اللہ اور صراط مستقیم، سلسلہ مواعظ حسنہ نمبر21، ص11،12)
[۷]: شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سورۃ البقرۃ آیت نمبر115 کی تشریح  میں لکھتے ہیں:
”مشرق و مغرب سب اللہ کی مخلوق اور اس کی تابع فرمان ہیں،  اللہ تعالیٰ کسی ایک جہت میں محدود نہیں، وہ ہر جگہ موجود ہے چنانچہ وہ جس سمت کی طرف رخ کرنے کا حکم دے دے  بندوں کا کام یہ ہے کہ اسی حکم کی تعمیل کریں۔“
(آسان ترجمہ:  ج1 ص90)
اسماء باری تعالیٰ :
اسماء باری دو قسم پر ہیں ۔[۱]:ذاتی [۲]: صفاتی 
چند فوائد : 
فائدہ نمبر 1 : اللہ تعالی کے صفاتی ناموں کو ’’اسماء ِحسنیٰ‘‘ کہتے ہیں۔ 
فائدہ نمبر 2 : قرآن و حدیث میں وارد تمام اسماءِ الہیہ کا اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال کرنا جائز ہے اور جو اسماء قرآن و حدیث میں وارد نہیں امام ابو الحسن اشعریؒ کے نزدیک ان کا استعمال ذاتِ باری کے لئے ناجائز ہے ‘جبکہ امام فخر الدین رازیؒ اور امام غزالیؒ کے نزدیک ذاتِ باری کے لئے ان کا استعمال بطورِ اسم کے ناجائز اور بطورِ وصف کے جائز ہے ۔مثلاً ’’یَا قَدِیْمُ‘‘ نہیں کہَ سکتے  البتہ  ’’اَللّٰہُ قَدِیْمٌ‘‘کہہ سکتے ہیں۔ 
فائدہ نمبر 3 : ہر زبان میں ذاتِ باری کے لئے ذاتی نام مقرر ہے ۔ ان کا استعمال اسی زبان میں ذات باری کے لئے جائز ہے۔ جیسے اردو اورفارسی میں ’’خدا‘‘ اور انگریزی میں”God“ ( بڑی Gکے ساتھ) البتہ کفار میں ذات باری کے لئے استعمال ہونے والے اسماء کے بارے میں جب تک یہ تحقیق نہ ہو کہ یہ ذاتی ہیں یا صفاتی یا صفات میں سے کس صفت کی ترجمانی کرتے ہیں ‘اس وقت تک اس کے استعمال سے احتراز کرنا چاہیے۔ جیسے فارسی میں ’’اہرمن ‘‘ اور ’’یزدان‘‘۔  ”اہر من“ کا معنی ”خیر کا خدا“ اور ”یزدان“ کا معنی ”شر کا خدا“
فائدہ نمبر 4 : حدیث ابو ہریرہؓ :’’اِنَّ لِلّٰہِ تَعَالٰی تِسْعَۃً وَ تِسْعِیْنَ اسْمًا‘ مِاَئَۃً اِلَّا وَاحِدَۃً، مَنْ اَحْصَاھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ (جامع الترمذی ج 2 ص 190کتاب الدعوات ) میں وارد تمام اسماء حسنی کا حصر نہیں بلکہ ننانوے ناموں کا تذکرہ بطورِ فضیلت کے ہے ‘یعنی جو بندہ اللہ تعالیٰ کے ان  ننانونے اسماء کو یاد کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل سے جنت عطا فرمائیں گے ۔ 
فائدہ نمبر 5 : ننانوے اسماء حسنیٰ :
’’ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الرَّحمٰن الرَّحیم المَلِک القُدُّوس السَّلام المؤْمن المُھَیْمِن العزیز الجبَّارالمتَکَبِّر الخالق الباریء المصوِّر الغفَّار القھَّار الوھَّاب الرزَّاق الفتَّاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المُعِزُّ المُذِلُّ السمیع البصیرالحَکَم العَدْل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العَلِیُّ الکبیر الحفیظ المُقِیْت الحسیب الجلیل الکریم الرقیب المُجیب الواسع الحکیم الوَدُود المجید الباعث الشھید الحَقُّ الوکیل القَوِیُّ المتین الوَلِیُّ الحمید المُحْصِی المُبْدِیُٔ المُعِید المُمِیْت الحَیُّ القَیُّوم الواجد الماجد الواحد الاَحَدالصَمَد القادر المُقْتَدِر المُقَدِّم المُؤَخِّر الاول الآخِر الظاھر الباطن الوالی المُتَعَالی البَرُّ التوَّاب المُنْتَقِم العَفُوُّ الرَّؤُف مالکُ الملک ذو الجلال والا کرام المُقْسِط الجامع الغَنِیُّ المُغْنِی المانع الضارُّ النافع النور الھادی  البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور۔ ‘‘
فائدہ نمبر 6 : بواسطہ اسماءِ حسنیٰ دعائے مستجاب کا مجرَّب طریقہ  :
گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھ کر سورہ حشر کا آخری رکوع﴿یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ااتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ الآیۃ﴾ پڑھیں اور جب ﴿مُتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ﴾  پڑھ چکیں تو اپنی مشکل کا نام لے کر یوں دعا مانگیں ’’یا اللہ ! میری یہ مشکل میرے لئے پہاڑ ہے۔ اپنی قدرت، طاقت اور اس تلاوت کی برکت سے اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ فرما دے ‘‘  اور جب ﴿لَہُ الْاَ سْمَائُ الْحُسْنٰی﴾ پڑھ چکے تو ننانوے اسماء ِحسنیٰ کو پڑھے، دل میں اپنی مراد کا تصور کرے اور رکوع کے اختتام پر گیارہ بار درود شریف پڑھے ، پھر اپنی مراد مانگے ۔ 
فائدہ نمبر 7 : اسماءِحسنیٰ کو ’’یا‘‘ حرفِ ندا اور بغیر حرفِ ندا کے ‘دونوں طرح پڑھنا بلا کراہت درست اور جائز ہے ۔ 
فائدہ 8: اسمائے حسنی میں سے کون سے اسماء بندوں کے لیے استعمال کے جاسکتے ہیں۔
اس بارے میں شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی تحقیق نہایت ہی قابل قدر ہے اور ہماری نظر میں اہل علم حضرات کے لیے کافی وافی ہے فتاویٰ عثمانی سے من وعن نقل کی جاتی ہے۔
’’سوال: آج کل عموماً باری تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے ساتھ’’ عبد‘‘ کے اضافے کے ساتھ نام رکھے جاتے ہیں‘ مگر عموماً غفلت کی وجہ سے مسمّٰی کو بدون’’ عبد‘‘ کے پکاراجاتاہے‘ حالانکہ بعض اسماء باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں ‘مثلاً عبدالرزاق وغیرہ‘ اندریں احوال اپنی جستجو کے مطابق فیض الباری ج:۴ ص:۴۲۳ سے اسمائے حسنی درج کر رہا ہوں، تحقیق فرمائیں کہ کون سے اسماء باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں‘ کہ ان کو بدون’’ عبد‘‘ کے مخلوق کے لیے استعمال کرنا گناہ کبیرہ ہے‘ اگر ان کے علاوہ اور کوئی اسماء ہوں تو وہ بھی درج فرمائیں مع تحقیق کے‘ نیز اسماء کے شروع یا آخر میں ’’محمد‘‘ یا’’ احمد‘‘ یا’’ اللہ‘‘ کا اضافہ کیسا ہے ؟مثلاً محمد متکبر، خالق احمد، محمد اللہ، احمد رزاق۔
 اللہ ، الرحمن ،الرحیم، الملک، القدوس، السلام، المؤمن المھیمن ،العزیز، الجبار،المتکبر، الخالق، الباریٔ، المصور، الغفار، القھار،التواب، الوھاب ،الخلَّاق،الرزاق، الفتاح ،الحلیم،العلیم،العظیم،الواسع، الحکیم،الحی، القیوم، السمیع ،البصیر، اللطیف،الخبیر،العلی،الکبیر،المحیط،القدیر،المولیٰ،النصیر،الکریم،الرقیب،القریب،المجیب،الحفیظ،المقیت،الودود،المجید،الوارث،الشھید،الولی،الحمید،الحق،المبین،الغنی، المالک،القوی، المتین،الشدید، القادر، المقتدر،القاہر،الکافی،الشاکر، المستعان،الفاطر، البدیع،الفاخر،الاول، الآخر، الظاھر، الباطن،الکفیل، الغالب، الحکم، العالم،الرفیع،الحافظ،  المنتقم، القائم، المحیی، الجامع، الملیک، المتعالی ،النور ، الھادی، الغفور،الشکور،العفو، الرؤوف، الا کرام، الاعلیٰ، البر، الخفی، الرب الالہ، الاحد ، الصمد، الذی لم یلد، ولم یولد، ولم یکن لہ کفوااحد۔
جواب: کسی کتاب میں یہ تفصیل تو نظر سے نہیں گزری کہ کون کون سے اسمائے حسنیٰ صرف  اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہیں‘ او رکون سے اسماء کا اطلاق دوسروں پر ہوسکتاہے‘ لیکن مندرجہ ذیل عبارتوں سے اس کا ایک اصول معلوم ہوتاہے:۔
تفسیر روح المعانی میں علامہ آلوسی لکھتے ہیں:’’ وَذَکَرَ غَیْرُوَاحِدٍ مِنَ الْعُلَمَآئِ اَنَّ ہٰذِہِ الْاَسْمَائَ…تَنْقَسِمُ قِسْمَۃٌ اُخْرٰی اِلٰی مَا لَایَجُوْزُ اِطْلَاقُہٗ عَلٰی غَیْرِہٖ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالیٰ کَا للّٰہِ وَالرَّحْمٰنِ وَمَا یَجُوْزُ کَالرَّحِیْمِ وَالْکَرِیْمِ ‘‘ (روح المعانی ج:9ص123 طبع مکتبہ رشیدیہ لاہور)
اور رد مختار میں ہے:
’’وَجَازَ التَّسْمِیَّۃُ بِعَلِیٍّ وَرَشِیْدٍ مِنَ الْاَسْمَآئِ الْمُشْتَرِکَۃِ وَیُرَادُ فِیْ حَقِّنَا غَیْرُمَایُرَادُ فِیْ حَقِّ اللّٰہِ تَعَالیٰ ۔وَفِیْ رَدِّ الْمُحْتَارِ: اَلَّذِیْ فِی التَّاتَرْخَانِیَّۃِ عَنِ السِّرَاجِیَّۃِ التَّسْمِیَّۃُ بِاسْمٍ یُوْجَدُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالَیٰ کَا لْعَلِیِّ وَالْکَبِیْرِ وَالرَّشِیْدِ وَالْبَدِیْعِ جَائِزَۃٌ الخ‘‘
(شامی ج:5ص:268)
وَفِی الْفَتَاوٰی الھِنْدِیَّۃِ: اَلتَّسْمِیَّۃُ بِاسْمٍ لَمْ یَذْکُرْہٗ اللّٰہُ تَعَالیٰ فِیْ عِبَادِہٖ وَلَا ذَکَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہُﷺ وَلَااسْتَعْمَلَہٗ الْمُسْلِمُوْنَ تَکَلَّمُوْا فِیْہٖ‘ وَالْاَوْلٰی اَنْ یَفْعَلَ کَذَافِی الْمُحِیْطِ۔ (فتاویٰ عالمگیریہ ص:362حظر واباحت باب22)
اورحضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اسماء حسنیٰ میں بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو قرآن وحدیث میں دوسرے لوگوں کے لیے بھی استعمال کیا گیاہے اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے لیے استعمال کرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں۔ تو جن ناموں کا استعمال غیراللہ کے لیے قرآن وحدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لیے بھی استعمال ہوسکتے ہیں جیسے رحیم، رشید، علی‘ کریم‘ عزیز وغیرہ۔ اور اسمائے حسنیٰ میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں‘ ان کو غیرا اللہ کے لیے استعمال کرنا الحادِ مذکورمیں داخل اور ناجائز وحرام ہے۔(معارف القرآن ج:۴ص:۱۳۲ سورہ اعراف :۱۸)
ان عبارتوں سے اس بارے میں یہ اصول مستنبط ہوتے ہیں۔
نمبر1: وہ اسمائے حسنیٰ جو باری تعالیٰ کے اسم ذات ہوں یا صرف باری تعالیٰ کی صفات مخصوصہ کے معنی ہی میں استعمال ہوتے ہوں‘ ان کا استعمال غیر اللہ کے لیے کسی حال جائز نہیں‘مثلاً: اللّٰہ،  الرحمٰن ، القدوس، الجبار، المتکبر، الخالق، الباریٔ ، المصور، الرزاق، الغفار، القہار، التواب، الوہاب، الخلاق، الفتاح، القیوم، الرب، المحیط، الملیک، الغفور، الاحد، الصمد، الحق، القادر المحیی۔
نمبر2: وہ اسمائے جو باری تعالیٰ کی صفات خاصہ کے علاوہ دوسرے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور دوسرے معنی کے لحاظ سے ان کا اطلاق غیر اللہ پر کیاجاسکتاہو ‘ان میں تفصیل یہ ہے 
کہ اگر قرآن وحدیث‘ تعاملِ امت یا عرفِ عا م میں ان اسماء سے غیرا للہ کا نام رکھنا ثابت ہوتو ایسا نام رکھنے میں مضائقہ نہیں‘ مثلاً: عزیز‘ علی‘ کریم‘ رحیم‘ عظیم، رشید، کبیر، بدیع، کفیل، ہادی‘ واسع، حکیم وغیرہ اورجن اسمائِ حسنیٰ سے نام رکھنا نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہو اور نہ مسلمانوں میں معمول رہاہو، غیر اللہ کو ایسے نام دینے سے پرہیز لازم ہے۔
نمبر3: مذکورہ دواصولوں سے اصول خود بخود  نکل آیا کہ جن اسمائے حسنیٰ کے بارے میں یہ تحقیق نہ ہوکہ قرآن وحدیث ‘تعاملِ امت یا عرف میں وہ غیر اللہ کے لیے استعمال ہوئے ہیں یا نہیں؟ ایسے نام رکھنے سے بھی پرہیز لازم ہے‘ کیونکہ اسمائے حسنیٰ میں اصل یہ ہے کہ ان سے غیراللہ کانام رکھنا جائز نہ ہو‘ جواز کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔
ان اصولوں پرتمام اسمائے حسنیٰ کے بارے میں عمل کیاجائے‘ تاہم یہ جواب چونکہ قواعد سے لکھا ہے اور ہر ہر نام کے بارے میں اسلام کی کوئی تصریح احقر کو نہیں ملی، اس لیے اگر اس میں دوسرے اہل علم سے بھی استصواب کرلیا جائے تو بہترہے۔ واللہ سبحانہ اعلم
(فتاویٰ عثمانیہ ص52، 53)

فائدہ نمبر9: مسئلہ صفات کو دلائل کے ساتھ سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل کتب کا مطالعہ نہایت مفید ہے ۔ 
1: کتاب الا سماء والصفات ۔امام بیہقی  ؒ 2: دفع شبہ التشبیہ۔ امام ابن جوزی ؒ

3: ایضاح الدلیل ۔بدر الدین ابن الجماعۃ ؒ 4: المسامرہ مع المسایرہ۔ ابن الہمام ؒ 
5: اشارات المرام۔ امام بیاضی ؒ 6: شرح المقاصد ۔علامہ تفتازانی   ؒ  
7: شرح مواقف ۔میر سید شریف جرجانیؒ   8: اتحاف الکائنات۔ شیخ محمود سبکیؒ 
9: مقالات الکوثری۔ شیخ زاہد الکوثریؒ 10:      اساس التقدیس ۔امام فخر الدین الرازیؒ 

11: تمہید الفرش فی تحدید العرش۔ مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ



اہل سنت والجماعت كا موقف: چند باتیں ذہن میں رکھیں الله تعالی زمان سے پاک ہیں دن مہینہ سال نہیں تھے الله تھا, الله تعالی مجسمہ سے پاک ہیں انسان اور جنات نہیں تھے الله تھا، الله تعالی مكان سے پاک ہیں دنیا اور عرش نہیں تھے الله تھا، الله تعالی رخ سے پاک ہیں شمال مشرق جنوب مغرب نہیں تھے الله تھا!! حضرت ملا علی قارى رحمت الله عليہ حنفى مقلد متوفى 1014ھ شرح فقہ الاكبر میں لکھتے ہیں شيخ الامام ابن السلام نے اپنی کتاب "حل الرموز" میں بيان كيا کہ امام ابو حنيفہ كا قول کہ "كوئى يہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالی آسمانوں میں ہیں يا زمین پر تو وہ کافر بن جاتا ہے". جواب : (١) اس قول سے امام كا مطلب ہے اس طرح کہنا اس لفظ کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ ایک جگہ ہے اور جو اس طرح کہتا ہے الله كو ایک طرف ہونے كا رخ يا جگہ مقرر كرتا ہے. نیچے حاشیہ میں لکھتے ہیں شیخ ابو الليث سمرقندى حنفى مقلد متوفى 333ھ نےلکھا ہے اس عبارت سے اللہ تعالی كو ایک رخ يا جگہ دیا جاتا ہے اور ايسا کہنا كفر ہے. مزید تفصیلات کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں
Mulla Ali Qari hanafi (d. 1014AH) writes in Sharah Fiqh ul Akbar that The Shaykh, Imam Ibn 'Abdi s-Salam, in his book Hallou r-Roumouz reports that Imam Abu Hanifah, may Allah have mercy on him, said:"Whoever says: I do not know if Allah ta'ala is in heaven or on earth became a disbeliever, because this word gives the illusion that Allah (Al-Haqq) have a place and one that gives the illusion that Allah has a place is an assimilationist " There is no doubt that Ibn 'Abdi s-Salam is one of the most illustrious scholars and those who are the most reliable. There is therefore a need to build on what has been reported. Footnote: Shaykh Abu’l-Layth al-Samarqandi hanafi (d. 333AH) writes regarding same quote that saying like this gives a direction to Allah ta'ala which is kufr.




٢) اللہ کی ذات کوعرش پر ناماننے والے پر امام ابوحنیفہؒ کا فتوٰی کفر بہتان کہ کیونکہ اس کا راوی "ابی مطیع بلخی" کذاب (بڑا جھوٹا شخص)  ہے.





الإمام الأعظم أبو حنيفة رحمہ الله فرماتے ہیں کہ 
ونقر بأن الله سبحانه وتعالى على العرش استوى من غير أن يكون له حاجة إليه واستقرار عليه   

ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ الله سبحانه وتعالى عرش پرمُستوی ہوا لیکن وه عرش کا محتاج نہیں اورنہ وہ عرش پر ٹھہر  گیا ہے“
 (كتاب الوصية (ص ۸۷ :سند ص۲۵   :صحیح)، ضمن مجموعة رسائل أبي حنيفة بتحقيق الكوثري (ص/ 2) ، وملا علي القاري 

في شرح الفقه الاكبر (ص/ 75) عند شرح قول الامام: ولكن يده صفته بلا كيف)

الإمام الأعظم أبو حنیفة ؒ(150ھ)فرماتے ہیں کہ
أَيْن الله تَعَالَى فَقَالَ يُقَال لَهُ كَانَ الله تَعَالَى وَلَا مَكَان قبل ان يخلق الْخلق وَكَانَ الله تَعَالَى وَلم يكن أَيْن وَلَا خلق كل شَيْء .[ الفقه الأكبر :باب الِاسْتِثْنَاء فِي الْإِيمَان (ص/161)،العالم والمتعالم (ص/57)]
 جب تم سے کوئی پوچھے  کہ اللہ (کی ذات )کہاں ہے تو اسے کہو کہ اللہ وہیں ہے جہاں  مخلوق کی تخلیق سے پہلے جب کوئی مکان نہیں تھا صرف اللہ  موجود تھا۔ اوروہی  اس وقت موجود تھا جب  مکان مخلوق نا م کی کوئی شے ہی نہیں تھی۔
یعنی امام ابو حنیفہؒ فرما رہے ہیں کہ مخلوق کی تخلیق سے پہلے صرف اللہ ہی کی ذات  تھی اور  اس کے  سوا کچھ بھی نہ تھا  جیسا اللہ مخلوق کی تخلیق سے پہلے تھا(یعنی موجود بلا مکان) اب بھی ویسا ہی ہے  اور یہی ہے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ۔


 جو لوگ کہتے ہیں اللہ تعالٰی  کی ذات صرف عرش پر ہے کیا ان لوگوں کے نزدیک جہاں اللہ   کی ذات اب  عرش استویٰ کے بعد ہے وہاں اللہ کی ذات عرش استویٰ سے پہلے موجود نہ تھی؟
                                                                                               
 ★ وقال الإمام الحافظ الفقيه أبو جعفر أحمد بن سلامة الطحاوي الحنفي (321 ھ) في رسالته 
(متن العقيدة الطحاوية)ما نصه: "وتعالى أي الله عن الحدود والغايات والأركان والأعضاء والأدوات، لا تحويه الجهات الست كسائر المبتدعات " اهـ. 

امام الطحاوي الحنفي كبار علماء السلف میں سے ہیں اپنی کتاب (العقيدة الطحاوية) میں یہ اعلان کر رہے کہ
 ”الله تعالی ” مکان و جھت“ سے پاک ومُنزه ومُبرا ہے“
 (متن العقيدة الطحاوية صفحہ ۱۵)
یاد رہے  اللہ تعالٰی کی ذات کا کہیں انکار کرنے سے اللہ تعالٰی کیلئے جسم و جھت کا عقیدہ لازم آتا ہے اللہ جسم جھت  مکان سے بلکل پاک ہےاور اللہ تعالٰی کو موجود بلامکان ماننے سے ہی اللہ کے لئے جسم ، جھت  ، مکان اور حدود کی نفی ہوتی ہے۔
امام بيهقي رحمہ الله فرماتے ہیں کہ
وَاسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي نَفْيِ الْمَكَانِ عَنْهُ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ» . وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ". وَإِذَا لَمْ يَكُنْ فَوْقَهُ شَيْءٌ وَلَا دُونَهُ شَيْءٌ لَمْ يَكُنْ فِي مَكَانٍ. (الأسماء والصفات للبيهقي ج۲ص۲۸۷)
ہمارے بعض اصحاب اللہ کو مکان سے پاک ثابت کرنے کیلئے نبیﷺ کی حدیث پیش کرتے ہیں کہ تو (اللہ) الظاہر مطلب کوئی چیز اسکے اوپر نہیں الباطن یعنی کوئی چیز اس کے نیچے نہیں اسلئے اللہ کے اوپر کچھ نہیں اور اسکے نیچے کچھ نہیں تو اللہ مکان سے پاک ہے
فائدہ: اس سےمعلوم ہو گیا کہ اللہ کی ذات موجود بلامکان ، لامحدود    اور نہ ختم ہونے والی ہےجس سے نہ اس کے اوپر  کسی   اور شے کا تصور کیا جاسکتا ہے نہ اس کے نیچے کسی شے کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ کہا جائے کہ یہاں سے اللہ کی ذات ختم ہو کر یہ چیز شروع ہوتی ہے۔اِس سے ان لوگوں کے عقیدے کی بھی نفی ہو گئی جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ صرف عرش پر ہے کیونکہ اگر کہا جائے کہ اللہ صرف عرش پر ہے تو پھر  کہنا پڑے گا کہ  اللہ کے اوپر تو کچھ نہیں لیکن نیچے عرش ہے۔
القاضي أبو بكر محمد الباقلاني المالكي الأشعريؒ (403ھ)فرماتے ہیں کہ
ولا نقول إن العرش لهء أي اللهء قرار ولا مكان، لأن الله تعالى كان ولا مكان، فلما خلق المكان لم يتغير عما كان.[ الانصاف فيما يجب اعتقاده ولا يجوز الجهل به (ص/65)]
 ہم یہ نہیں کہتے کہ عرش الله تعالی کا  ٹھہرناہے یا مکان ہے کیونکہ الله تعالی تواس وقت بھی موجود تھا جب مکان نہیں تھا ، پھرجب الله تعالی نے مکان کوپیدا کیا تووه جیسا تھا ( یعنی موجودبلامکان ) اب بھی ویسا  ہی ہے
فائدہ: اس سےمعلوم ہو گیا کہ اللہ کی ذات میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی  جب اللہ تعالٰی نے کسی بھی مخلوق کو پیدا نہیں کیا تھا جب صرف اللہ ہی کی ذات موجود تھی اور اس کے سوا کوئی اور دوسری چیز موجود نہیں تھی نہ ہی کسی ایسی چیز کا تصور تھا جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ وہ اللہ کی ذات کے سوا  تھی تب بھی اللہ کی ذات ویسی ہی موجود تھی پھر جب اس نے مخلوقات پیدا کیں اب بھی اس کی ذات ویسی ہی موجود ہے۔مخلوقات کو پیدا کرنے سےاللہ کی ذات  میں کوئی فرق نہیں پڑا۔
اس سے اُن لوگوں کا بھی رد ہو گیا جو کہتے ہیں اللہ تعالٰی  کی ذات صرف عرش پر ہے کیا اِن لوگوں کے نزدیک جہاں اللہ   کی ذات اب ہے وہ جگہ عرش استویٰ سے پہلے اللہ کی ذات سے خالی تھی؟

أبو القاسم، ابن جزيؒ (المتوفى: 741ھ) فرماتے ہیں کہ
وَهُوَ الْآن على مَا عَلَيْهِ كَانَ.
[القوانين الفقهية ج۱ ص۵۷ الْبَاب الثَّانِي فِي صِفَات الله تَعَالَى عز شَأْنه وبهر سُلْطَانه]
 اللہ کی ذات جیسا (مخلوقات کو پیدا کرنے سے) پہلی تھی اب بھی ویسی ہی ہے

جو لوگ کہتے ہیں اللہ تعالٰی  کی ذات صرف عرش پر ہے کیا ان لوگوں کے نزدیک جہاں اللہ   کی ذات اب  عرش استویٰ کے بعد ہے وہاں اللہ کی ذات عرش استویٰ سے پہلے موجود نہ تھی؟


 عبد القاهر بن طاهر البغدادي التميميؒ(المتوفى: 429ھ) فرماتے ہیں:
أواجمعوا على انه لَا يحويه مَكَان وَلَا يجرى عَلَيْهِ زمَان خلاف قَول من زعم من الشهامية والكرامية انه مماس لعرشه.
[ الفرق بين الفرق(ص/321)]

”اس  پر اجماع ہے کہ اللہ تعالٰی کو کسی مکان نے گھیرا نہیں نہ اس پر زمان یعنی وقت کا گذر ہوتا ہے
 بخلاف اس فرقہ   ہشامیہ اور کرامیہ  کے اس قول کے کہ اللہ (صرف)عرش پر ہے۔
إمام أهل السنة أبو الحسن الأشعري (324 ھ)فرماتے ہیں:
" كان الله ولا مكان فخلق العرش والكرسي ولم يحتج إلى مكان، وهو بعد خلق المكان كما كان قبل خلقه " اهـ أي بلا مكان ومن غير احتياج إلى العرش والكرسي. نقل ذلك عنه الحافظ ابن عساكر نقلا عن القاضي أبي المعالي الجويني۔۔.[تبيين كذب المفتري فيما نسب إلى الإمام أبي الحسن الأشعري(ص/150 )]
” الله تعالی موجود تھا اورمکان نہیں تھا پس عرش وكرسي کوالله تعالی نے پیدا کیا اور وه مکان کا محتاج نہیں ہے اوروه مکان کوپیدا کرنے کے بعد بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ مکان کو پیدا کرنے سے پہلے تھا “۔
مخلوق کی تخلیق سے پہلے صرف اللہ ہی کی ذات  تھی اور  اس کے  سوا کچھ بھی نہ تھا  جیسا اللہ مخلوق کی تخلیق سے پہلے تھا(یعنی موجود بلا مکان) اب بھی ویسا ہی ہے  اور یہی ہے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ۔

 اس سے ان  لوگوں کا بھی رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ  اللہ تعالٰی  کی ذات صرف عرش پر ہے کیا ان لوگوں کے نزدیک جہاں اللہ   کی ذات اب  عرش استویٰ کے بعد ہے وہاں اللہ کی ذات عرش استویٰ سے پہلے موجود نہ تھی؟


فرقہ مجسمہ اور مشبہہ یہ کہتے ہیں کہ عرش ایک قسم کا تخت ہے اور الله تعالی اس پر مستوی ہے یعنی اس پر مستقر اور متمکن ہے اور فرشتے اس عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور "الرحمن علی العرش استوی" ترجمہ : بڑی رحمت والا عرش پر مستوی ہے [سورۂ طہ آیت 5 پارہ 16] کے ظاہر لفظ سے استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ استواء علی العرش سے عرش پر بیٹھنا مراد ہے.


اور بعض (فرقہ جھمیہ) کہتے ہیں کہ الله تعالی ہر مکان میں (بالذات) موجود ہے اور ہر جگہ میں موجود ہے اور الله تعالی کے اس قول سے حجت پکڑتے ہیں: 


"مایکون من نجوی ثلاثة الا ھو رابعهم" [سورۃ المجادلۃ آیت 7 پارہ 28]

ترجمہ : کوئی سرگوشی تین آدمیوں کی ایسی نہیں ہوئی جس میں چوتھا وہ (الله) نہ ہو.


اور حق تعالی کے اس قول سے "ونحن اقرب الیه من حبل الورید" [سورۂ ق آیت 16 پارہ 26] 
ترجمہ : ہم انسان کی رگ گردن سے زیادہ قریب ہے.


اور "ونحن اقرب الیه منکم ولکن لاتبصرون" [سورہ الواقعہ آیت 75 پارہ 27] 
ترجمہ : اور ہم اس شخص کے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں.


اور "وھو الذی فی السمآء اله وفی الارض اله" [سورۂ الزخرف آیت 84 پارہ25] ترجمہ : اور وہی ذات ہے جو آسمان میں بھی قابل عبادت ہے اور زمین میں بھی قابل عبادت ہے - سے دلیل لاتے ہیں.


امام ابن کثیر ، اس آیت قرآنی : اور وہی اللہ ہے آسمانوں میں اور زمین میں، جانتا ہے تمہارا چھپا اور کھلا اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو [سورہ الانعام :٤] کی تفسیر میں لکھتے ہیں : اس میں مفسرین کے کئی ایک اقوال ہیں لیکن کسی کا بھی وہ مطلب نہیں جو جہمیہ لے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے ہر جگہ ہے ، نعوذ باللہ. اللہ کی برتر و بالا ذات اس سے بالکل پاک ہے، آیت کا بالکل صحیح مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں بھی اسی کی ذات کی عبادت کی جاتی ہے اور زمینوں میں بھی ، اسی کی الوہیت وہاں بھی ہے اور یہاں بھی ، اوپر والے اور نیچے والے سب اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں ، سب کی اسی سے امیدیں وابستہ ہیں اور سب کے دل اسی سے لرز رہے ہیں جن و انس سب اسی کی الوہیت اور بادشاہی مانتے ہیں جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ) 43۔ الزخرف:84) یعنی وہی آسمانوں میں معبود برحق ہے اور وہی زمین میں معبود برحق ہے ، یعنی آسمانوں میں جو ہیں، سب کا معبود وہی ہے اور اسی طرح زمین والوں کا بھی سب کا معبود وہی ہے ، اب اس آیت کا اور جملہ آیت (يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ) 6۔ الانعام:3) خبر ہو جائے گا یا حال سمجھا جائے گا اور یہ بھی قول ہے کہ اللہ وہ ہے جو آسمانوں کی سب چیزوں کو اس زمین کی سب چیزوں کو چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ، جانتا ہے ۔ پس یعلم متعلق ہو گا فی السموات وفی الارض کا اور تقدیر آیت یوں ہو جائے گی آیت (وھو اللہ یعلم سر کم و جھر کم فی السموات وفی الارض و یعلم ما تکسبون) ایک قول یہ بھی ہے کہ آیت (وھو اللہ فی السموات) پر وقف تام ہے اور پھر جملہ مستانفہ کے طور پر خبر ہے کہ آیت (وفی الارض یعلم سر کم و جھر کم) امام ابن جریر اسی تیسرے قول کو پسند کرتے ہیں ۔ پھر فرماتا ہے تمہارے کل اعمال سے خیر و شر سے وہ واقف  ، ہے ۔[تفسیر ابن کثیر : سورہ الانعام ، آیت # ١]



 اہل سنت کہتے ہیں کہ قران کریم میں اس قسم کی جس قدر آیتیں وارد ہوئی ہیں ان سے حق شانہ کے کمال علو اور رفعت شان کو اور اس کا احاطۂ علم و قدرت کو بیان کرنا مقصود ہے کہ الله تعالی کا علم اور قدرت تمام کائنات کو محیط ہے جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں آیا ہے "قلب المؤمن بین اصبعین من اصابع الرحمن" ترجمہ : مؤمن کا دل خدا کی دو انگلیوں کے درمیان ہے سو اس سے بالاجماع متعارف اور ظاہری اور حسی معنی مراد نہیں بلکہ اس سے قدرت علی التقلیب بیان کرنا ہے کہ "قلب" خدا کے اختیار میں ہے جدھر چاہے پھیردے - اور حدیث میں حجر اسور کے متعلق یہ آیا ہے "انه یمین الله فی الارض" کہ حجر اسود زمین الله کا دایاں ہاتھ ہے تو یہاں بھی بالاتفاق ظاہری معنی مراد نہیں ، بلکہ معنی مجازی مراد ہیں کہ حجر اسود کو بوسہ دینا گویا کہ الله سے مصافحہ کرنا اور اس کے دست قدرت کو بوسہ دینا ہے - جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے "ان الذین یبایعونك انما یبایعون الله" [سورۂ الفتح آیت 15 پارہ 26] ترجمہ : کہ جو لوگ نبی کریم  کے دست مبارک پر بیعت کرتے ہیں گویا کہ وہ الله سے بیعت کرتے ہیں ، یہاں بھیبالاتفاق معنی مجازی مراد ہیں [معاذ الله] یہ مطلب نہیں کہ خدا اور رسول دونوں ایک دوسرے کا عین ہیں - اسی طرح سمجھو کہ استواء علی العرش سے ظاہری اور حسی معنی مراد نہیں کہ الله تعالی عرش پر بیٹھا ہوا ہے بلکہ اس سے الله کی علو شان اور رفعت مرتبہ کا بتلانا ہے - کما قال تعالی "رفیع الدرجات ذوالعرش" [سورۂ المومن آیت 15 پارہ 24] ترجمہ : وہ رفیع الدرجات ہے وہ عرش کا مالک ہے اور اسی طرح جس حدیث میں یہ آیا ہے کہ الله تعالی ہر شب آسمانی دنیا پر نزول فرماتا ہے سو [معاذ الله] اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا کوئی جسم ہے کہ عرش سے اتر کر آسمانی دنیا پر آتا ہے بلکہ اس خاص وقت میں اس کی رحمت کا نزول یا کسی رحمت کے فرشتے کا آسمانی دنیا پر اترنا مراد ہے اور الله تعالی کا بندہ سے قرب اور بعد باعتبار مسافت کے مراد نہیں بلکہ قرب عزت و کرامت اور بعد ذلت و اہانت مراد ہے - مطیع اور فرمانبردار بندہ الله سے بلا کیفیت اور بلا کی مسافت کے قریب ہے اور نافرمان بندہ بلا کیفیت اور بلا مسافت کے الله سے بعید ہے.


اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ الله تعالی مکان اور جہت اور سمت سے پاک اور منزہ ہے - اس لئے کہ جو چیز کسی مکان میں ہوتی ہے تو وہ محدود ہوتی ہے اور مقداری ہوتی ہے اور مکین مقدار میں اور مسافت میں ، اور مساحت میں مکان سے کم ہوتا ہے اور الله تعالی مقدار سے اور مساحت سے اور مسافت سے اور کمی اور زیادتی سے منزہ ہے اور جو چیز سمت اور جہت میں ہوتی ہے تو وہ اس سمت اور جہت میں محصور اور محدود ہوتی ہے اور الله تعالی اس سے بھی منزہ ہے - مکان اور زمان اور جہت اور سمت سب الله تعالی کی مخلوق ہے ازل میں صرف الله تعالی تھا اور اس کے سوا کوئی شے نہ تھی - نہ مکان اور نہ زمان اور نہ عرش اور کرسی اور نہ زمین اور آسمان اس نے اپنی قدرت سے عرش اور کرسی اور زمیں و آسمان کو پیدا کیا وہ خداوند قدوس ان چیزوں کے پیدا کرنے کے بعد اسی شان سے ہے کہ جس شان سے وہ مکان اور زمان اور زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے پہلے تھا - ہم اہل سنت ایمان لائے اس بات پر کہ بلا کسی تشبیہ اور تمثیل کے اور بلا کسی کمیت اور کیفیت کے اور بلا کسی مسافت اور مساحت کے رحمن کا "استواء" عرش پر حق ہے جس معنی کا الله تعالی نے ارادہ فرمایا ہے اور جو اس کی شان کے لائق ہے جس کا علم الله ہی کو ہے [معاذ الله] یہ مطلب نہیں کہ جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھتا ہے ، ایسا ہی الله تعالی بھی عرش پر بیٹھا ہوا ہے اور عرش پر مستقر اور متمکن ہے اس لئے کہ تمکن اور استقرار شان حادث اور ممکن کی ہے - مکان مکین کو محیط ہوتا ہے اور عرش تو ایک جسم عظیم نورانی ہے جو الله کا مخلوق ہے اس کی کیا مجال کہ خداوند ذوالجلال کو اٹھاسکے [معاذ الله] ، عرش خدا تعالی کو اٹھائے ہوئے نہیں بلکہ الله کا لطف اور قدرت عرش کو اٹھائے ہوئے اور تھامے ہوئے ہے.


استواء علی العرش کے ذکر سے خداوند ذوالجلال کی علو شان اور بے مثال رفعت کو بیان کرنا ہے ، اور "وھو الذی فی السمآء اله وفی الارض اله" سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ آسمان و زمیں میں سب جگہ اسی کی عبادت کی جاتی ہے اور وہی آسمان و زمیں میں متصرف ہے اور سب جگہ اسی کا حکم چلتا ہے - آسمان و زمین اس کی عبادت اور تصرف کا اور اس کی حکمرانی کا ظرف ہے معبود کا ظرف نہیں ، اور [معاذ الله] یہ مطلب نہیں کہ عرش یا آسمان الله تعالی کا مکان ہے جس میں خدا تعالی رہتا ہے.


مجسمہ اور مشبہ نے ان آیات کا یہ مطلب سمجھا کہ عرش عظیم یا آسمان و زمین الله کا مکان اور جائے قرار ہے اور یہ نہ دیکھا کہ سارا قرآن تنزیہ اور تقدیس سے بھرا پڑا ہے کہ الله مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے اور تمام انبیاء نے اپنی اپنی امتوں کو ایمان تنزیہی کی دعوت دی ہے ایمان تشبیہی اور تمثیلی کی دعوت نہیں دی. [عقائد اسلام حصہ دوم صفحہ نمبر 375 تا 385؛ از : حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمه الله]


===============================
ﷲ ہر جگہ موجود ہے

نمبر {01} سبوحیت و قدوسیت

حق تعالی جل شانہ تمام نقائص اور عیوب سے اور حدوث کے نشانوں سے اورمخلوقات کے مشابہت سے اور مماثلت سے پاک اور منزہ ہے اور وہ خداوند بے مثل و مانند ہے جوہر اور عرض ‎ہونے سے مبرا اور صورت اور شکل و جسم اورجسمانیت سے معرا ہے اور جواہر اور اجسام اور اعراض کی صفات اور لوازم سےمبرا ہے [‏‎لیس کمثله شئ وهو السميع البصير] - [سبحان ربك‎ رب العزۃ ‎عما یصفون] اور اصطلاح میں اس کا نام سبوحیت و قدوسیت ہے اور بالفاط دیگر تسبیح و تقدیس ہے.


نمبر {02} وہ بے مثل اور بے چون و چگون ہے

نمبر {۰۱} وہ بے مثل اور بے چون و چگون ہے کوئی شي اس کے مثل اور برابرنہیں "لیس کمثله شئ" اور کوئی چیز خدا تعالی کے ہمسر نہیں [لم یکن له کفوا احد] - [ھل تعلم له سمیا] اس لئے کہ خدا قدیم اور ازلی ہے تو ممکن اور حادث کے مشابہ کیسے ہوسکتا ہے - اگر بالفرض خدا کا مخلوق کے مشابہ ہونا جائز ہو تو پھر مخلوق کے احکام کا خالق پر جاری ہونا بھی ممکن ہوگا - الغرض نہ خدا مخلوق کے مشابہ ہے اور نہ مخلوق خدا کے مشابہ ہے یہ ناممکن ہے کہ قدیم کی کوئی صفت حادث میں اور حادث کی کوئی صفت قدیم میں پائی جائے اس لئے الله تعالی ہر قسم کے تغیر و تبدل سے پاک ہے - اس لئے کہ تغیر و تبدل ممکن کی صفت اور خاصیت ہے.


نمبر {۰۲} الله تعالی نہ جسم ہے اور نہ جوہر ہے اور نہ عرض ہے - وہ ان سبچیزوں سے پاک اور منزہ ہے


نمبر {03} خدا تعالی جسم نہیں

نمبر {۰۱} جسم تو اس لئے نہیں کہ جسم بہت سے اجزاء سے مرکب ہوتا ہے اورجو مرکب ہوتا ہے اس کی تحلیل اور تفریق اور تقسیم بھی ممکن ہوتی ہے - اورترکیب و تحلیل اور تفریق و تقسیم الله تعالی کی بارگاہ سے بہت دور ہے.


نمبر {۰۲} نیز ترکیب و تحلیل اور تفریق و تقسیم حدوث کے لوازم میں سے ہے جو قدم اور ازلیت کے منافی ہے.


نمبر {۰۳} نیز جسم طویل اور عریض اور عمیق ہوتا ہوتا ہے اور الله تعالی طول و عرض اور عمق سے پاک اور منزہ ہے.


نمبر {۰۴} نیز جو چیز اجزاء سے مل کر بنتی ہے اول تو وہ اپنی ترکیب میں اجزاء کی محتاج ہوتی ہے اور احتیاج اور خدائی کا جمع ہونا عقلا محال ہے - اور پھر مرکب اپنی بقاء میں اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اور الله احتیاج سے منزہ ہے.


نمبر {۰۵} نیز اجزاء کا وجود ، مرکب اور مجموعہ کے وجود سے مقدم ہوتا ہےاور مجموعہ مرکب موخر ہوتا ہے- پس اگر [معاذالله] خدا تعالی کو جسم مرکب مانا جائے تو خدا تعالی کا اپنی اجزاء ترکیبیہ سے مؤخر ہونا لازم آئے گا
جو اس کی ازلیت اور اولیت اور قدم کے منافی ہے.


نمبر {۰۶} نیز اگر صانع عالم کا جسم ہونا ممکن ہو تو شمن و قمر کا خدا ہونا بھی ممکن ہوگا اور جیسے نصاری حضرت مسیح کے جسم کو خدا اور معبود مانتے ہیں اور بندہ اپنے اوتاروں کو خدا کہتے ہیں تو پھر یہ بھی جائز اور ممکن ہونا اور کرامیہ کہتے ہیں کہ حق تعالی جسم ہے مگر دیگر اجسام کی طرح نہیں اور اہل سنت کے نزدیک حق تعالی پر جسم کا اطلاق درست نہیں.


نمبر {04} خدا کے لئے باپ اور بیٹا ہونا محال اور ناممکن ہے

جب یہ ثابت ہوگیا کہ خدا تعالی کا جسم ہونا ناممکن اور محال ہے تو ثابت ہوگیا کہ خدا نہ کسی کا باپ ہوسکتا ہے اور نہ بیٹا ہوسکتا ہے کیونکہ توالد اور تناسل خاصہ جسمانیت کا ہے اور الله تعالی جسمانیت سے پاک اور منزہ ہے نیز توالد اور تناسل محتاجگی کی دلیل ہے - جیسے اولاد اپنے پیدا ہونے میں ماں باپ کی محتاج ہے - ایسے ہی ماں باپ اپنی خدمت گزاری میں اور نسل کے باقی رہنے میں اولاد کے محتاج ہیں اور الله تعالی احتیاج سے منزہ ہے نیز اولاد ماں باپ کی ہم جنس ہوا کرتی ہے سو اگر کوئی خدا کا بیٹا ہوگا تو خدا کی وحدانیت ختم ہوجائے گی جو ابھی دلائل سے ثابت ہوچکی ہے.


نمبر {05} خدا تعالی عرض نہیں

نمبر {۰۱} اور خدا تعالی کا عرض ہونا اس لئے محال ہے کہ عرض وہ شئے ہے کہجو قائم بالغیر ہو اور اپنے وجود میں دوسرے کی محتاج ہو اور دوسرے کے سہارے سے موجود ہو اور یہ بات خدا تعالی کے لئے ناممکن ہے اس لئے الله تعالی تو قیوم ہے تمام کائنات کے وجود کو قائم رکھنے والا اور ان کی ہستی کو تھامنے والا ہے تمام عالم اسی کے سہارے سے قائم ہے اس لئے اس کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں - سہارے کی ضرورت تو محتاج کو ہوتی ہے - اور وہ صمد ہے یعنی وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اسی کے محتاج ہیں.


نمبر {۰۲} نیز حق تعالی غنی مطلق ہے کسی امر میں کسی چیز کا محتاج نہیں اور عرض اپنے وجود میں محل کا محتاج ہوتا ہے.


نمبر {۰۳} نیز عرض کا وجود پائیدار نہیں ہوتا اور الله تعالی تو واجب البقاء اور دائم الوجود اور مستحیل العدم ہے ہے جیسا کہ کلام پاک میں ہے [کل من علیها فان ، ویبقی وجه ربك ذوالجلال والاکرام] - {سورۃ الرحمن : آیت نمبر 26 تا 27 پارہ 27]‏‎


نمبر {۰۴} نیز اعراض ہر وقت بدلتے رہتے ہیں اور حق تعالی کی ذات و صفات میں تغیر و تبدل کو کہیں راہ نہیں.


نمبر {06} الله تعالی جوہر نہیں

نمبر {۰۱} اور الله تعالی جوہر اس لئے نہیں ہوسکتا کہ جوہر کے معنی اصل شئے کے ہیں یعنی جو کسی چیز کی اصل ہو اور جواہر فردہ ان اجزاء لطیفہ کو کہتے ہیں جن سے جسم مرکب ہو اور وہ اجزاء جسم کی اصل ہوں اور ظاہر ہے کہ یہ بات الله تعالی کے لئے محال ہے کہ وہ کسی جسم وغیرہ کا جوہر اور اصل اور جز بنے.


نمبر {۰۲} نیز جواہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس پر حرکت اور سکون وارد اورطاری ہوسکے اورلون اور طعم یعنی رنگت اور مزہ کے ساتھ موصوف ہو اور یہسب چیزیں حادث ہیں اور جواہر کے لوازم ہیں اور ظاہر ہے کہ جو چیز حوادث سے خالی نہ ہوسکتی ہو وہ بھی ضرور حادث ہوگی تو جب یہ حوادث جوہر کے لئے لازم ہوں گے تو لامحالہ جوہر بھی حادث ہوگا پس معلوم ہوا کہ الله تعالی جوہر نہیں ہوسکتا اس لئے کہ وہ حوادث اور تغیرات سے پاک اور منزہ ہے.


نمبر {07} خدا تعالی کے لئے کوئی صورت اور شکل نہیں

نمبر {۰۱} نیز الله تعالی کے لئے کوئی صورت اور شکل نہیں - اس لئے کہ صورت اور شکل تو جسم کی ہوتی ہے اور الله تعالی تو صورتوں اور شکلوں کا خالق ہے -"ھو الله خالق الباری المصور".


نمبر {۰۲} نیز صورتیں اور شکلیں حادث میں بدلتی رہتی ہیں.


نمبر {۰۳} نیز جس چیز کے لئے صورت اور شکل ہوتی ہے وہ محدود اور متناہیہوتی ہے ، اور الله تعالی میں کوئی تغیر و تبدل نہیں اور خدا کے لئے کوئی حد اور نہایت نہیں.


نمبر {08} خدا تعالی کے لئے کوئی مکان اور زمان اور جہت اور سمت نہیں

نیز حق تعالی کے لئے نہ کوئی مکان ہے اور نہ کوئی زمان ہے اور نہ اس کے لئے کوئی سمت اور جہت ہے کیونکہ وہ غیر محدود ہے اور مکان اور جہت محدود کے لئے ہوتے ہیں اور مکان اور زمان مکین کو احاطہ کئے ہوئے اور گھیرے ہوئے ہوتے ہیں - اور الله تعالی ہی سب کو محیط ہے - زمین و زمان اور کون و مکان سے اسی کے مخلوق ہیں اور اس کے احاطہ قدرت میں ہیں ، "کان الله ‎ولم یکن شیء غیرہ"یعنی ازل میں صرف خدا تعالی تھا اور اس کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی - اسی نے اپنی قدرت سے زمین اور مکین اور مکان کو پیدا کیا جس طرح وہ مکان اور زمان کے پیدا کرنے سے پہلے بغیر مکان اور بغیر جہت کے تھا اب بھی اسی شان سے ہے جس شان سے وہ پہلے تھا "ھو الآن کما کان"‎ نیز جہات امور اضافیہ اور نسبیہ میں سے ہیں مثلآ فوق اور تحت اور یمین اور شمال یے سب چیزیں حادث ہیں نسبت کے بدلنے سے ان میں تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے - ایک شئے کسی اعتبار سے فوق ہے اور کسی کے اعتبار سے تحت ہے پس یہ کیسے ممکن ہے کہ حق تعالی ازل میں کسی جہت یا سمت کے ساتھ مخصوص ہو - جہت اور سمت حادث کے لئے ہوتی ہے ازلی کے لئے نہیں ہوتی پس ثابت ہوا کہ الله تعالی کے لئے نہ کوئی مکان ہے اور نہ کوئی جہت ہے اور نہ کوئی سمت ہے مکان اور جہت اور سمت تو محدود اور متناہی کے لئے ہوتی ہے اور الله تعالی کے لئے نہ کوئی حد ہے اور نہ کوئی نہایت ہے.


ایں جہاں محدود آں خود بیحد است


اس کی ہستی سمت اور جہت اور مکان اور زمان کی حدود اور قیود سے پاک ہےلہذا خدا تعالی کے متعلق یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ وہ کہاں ہے اور کب سے ہے اس لئے کہ وہ مکان اور زمان سب سے سابق اور مقدم ہے - مکان اور زمان سب اسی کی مخلوق ہے ، وہ تو لامکان اور لازمان ہے - اس کی ہستی مکان اور زمان پر موقوف نہیں بلکہ زمان اور مکان کی ہستی اس کے ارادہ پر موقوف ہے - مشبہ اور مجسمہ یہ کہتے ہیں کہ الله تعالی کے لئے جہت ہے اور جہت فوق میں ہے اور الله تعالی عرش پر متمکن ہے "سبحانه وتعالی عما یصفون".


نمبر {09} صفات متشابہات جیسے استواء علی العرش وغیرہ کی تحقیق

علماء اہل سنت والجماعت یہ کہتے ہیں کہ براہین قطعیہ اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ الله تعالی مخلوق کی مشابہت اور مماثلت سے اور کمیت اور کیفیت اور مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے لہذا جن آیات اور احادیث میں حق جل شانہ کی ہستی کو آسمان یا عرش کی طرف منسوب کیا ہے ان کا یہ مطلب نہیں کہ آسمان اور عرش الله کا مکان اور مستقر ہے بلکہ ان سے الله جل شانہ کی شان رفعت اور علو اور عظمت اور کبریائی کو بیان کرنا مقصود ہے اس لئے کہ مخلوقات میں سب سے بلند عرش عظیم ہے - ورنہ عرش سے لے کر فرش تک سارا عالم اس کے سامنے ایک ذرہ بے مقدار ہے وہ اس ذرہ میں کیسے سماسکتا ہے - سب اسی کی مخلوق ہے اور مخلوق اور حادث کی کیا مجال کہ خالق قدیم کا مکان اور جائے قرار بن سکے.


پر تو حسنت نہ گنجد در زمین و آسمان

در حریم سینہ حیرانم کہ چوں جاکردہ


خدا تعالی اس سے منزہ ہے کہ وہ عرش پر یا کسی جسم پر متمکن اور مستقر ہو جس طرح بادشاہ کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوا ہے - خدا تعالی کی نسبت ایسا کہنا جائز نہیں اس لئے کہ خدا تعالی کوئی مقداری نہیں کیونکہ کسی جسم پر وہی چیز متمکن ہوسکتی ہے کہ جو ذی مقدار ہو اور اس سے بڑی ہو یا چھوٹی ہو یا اس کے برابر ہو اور یہ کمی بیشی بارگاہ خداوندی میں محال ہے - عقلآ یہ ممکن نہیں کہ کوئی جسم مخلوق جیسے مثلآ عرش کہ وہ اپنے خالق کو اپنے اوپر اٹھاسکے اور پھر فرشتے اس جسم کو [عرش کو] اپنے کاندھوں پر اٹھائیں کما قال تعالی"ویحمل عرش ربك فوقهم يومئذ ثمانية" ترجمہ "اور آپ کے پروردگا کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے" سورۃ الحاقہ : آیت 17 پارہ 19.


عقلآ یہ بات محال ہے کہ کوئی مخلوق فرشتہ ہو یا جسم ہو وہ اپنے خالق کو اپنے کاندھوں پر اٹھاسکے - خالق کی قدرت کو تھامے ہوئے ہے- مخلوق میں قدرت نہیں کہ وہ خالق کو اٹھاسکے اور تھام سکے اور جن آیات میں الله تعالی کی شان علو اور فوقیت کا ذکر آیا ہے ان سے علو مرتبہ اور فوقیت قہر و غلبہ مراد ہے اور مکانی فوقیت مراد نہیں ، کما قال تعالی "وھو القاھر فوق عبادہ" - "وھو العلی الکبیر" "وله المثل الاعلی اور جیسے "‎وفوق کل ذی علم علیم" اور انا فوقھم قاھرون" میں فوقیت مرتبہ اور فوقیت قہر اور غلبہ مراد ہے - اور جن آیات اور احادیث میں الله تعالی کے قرب اور بعد کا ذکر آیا ہے - اس سے مسافت کے اعتبار سے قرب اور بعد مراد نہیں ، بلکہ معنوی قرب اور بعد مراد ہے اور نزول خداوندی سے نزول رحمت یا خدا تعالی کا بندوں کی طرف متوجہ ہونا مراد ہے ،[معاذ الله] خدا کا بلندی سے پستی کی طرف اترنا مراد نہیں اور دعاء کے وقت آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانا اس لئے نہیں کہ آسمان ، الله تعالی کا مکان ہے بلکہ اس لئے ہے کہ آسمان قبلہ دعاء ہے جیسا کہ خانہ کعبہ قبلہ نماز ہے - خانہ کعبہ کو جو بیت الله کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ الله تعالی کی عبادت کا گھر ہے اور [معاذ الله] یہ مطلب نہیں کہ خانہ کعبہ الله تعالی کا مکان ہے اور اس کے رہنے کی جگہ ہے - سمت قبلہ عابدین کی عبادت کے لئے مقرر کی گئی - [معاذالله] معبود کی سمت نہیں پس جیسے کعبہ نماز کا قبلہ ہے ویسے ہی آسمان دعاء کا قبلہ ہے اور دونوں صورتوں میں الله تعالی اس سے منزہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے اندر یا آسمان کے اندر متمکن ہو ، خلاصہ کلام یہ کہ ان اوصاف کو اوصاف تسبیحی کہتے ہیں اور اوصاف تنزیہی اور اوصاف جلال بھیکہتے ہیں اور علم و قدرت اور سمیع و بصر جیسے اوصاف کو اوصاف تحمیدی اوراوصاف جمال کہتے ہیں.




نمبر {10} کیا عرش خدا سے بڑا ہے؟

رئیس المناظرین ، متکلم اسلام ، وکیل احناف ، ترجمان اہلسنت حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا کہ میں مکہ سے مدینہ جا رہا تھا ۔ راستہ میں غیرمقلدین شرارتیں کر رہے تھے ، بس میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ روضہ پاک کی زیارت کی نیت نہ کرنا مسجد نبوی کی نیت کرنا ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا : یہ آپ کو گمراہ کررہے ہیں آپ روضہ پاک کی ہی نیت کریں مسجد میں تو جانا ہی جانا ہے ۔ وہ حضرات مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله کی طرف دیکھنے لگے ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا کہ لوگ مکہ سے مدینہ کیوں جاتے ہیں ایک لاکھ کا ثواب چھوڑ کر پچاس ہزار کا ثواب لینے کے لئے؟ یہ کوئی عقل مندی تو نہیں کہ اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ کو حاصل کیا جائے وہ بھی اتنا لمبا سفر کرکے اور اتنے پیسے لگا کر ، یہ اتنا نقصان کیوں کرتے ہیں؟ معلوم ہوا کہ وہاں کوئی ایسی چیز ضرور ہے جو بیت الله میں بھی نہیں ہے ، جس کی شان بیت الله سے بھی بڑھ کر ہے ۔ ہمارا یہی عقیدہ ہے کہ وہ خاک پاک جو جسد اطہر سے مس کر رہی ہے وہ درجہ میں عرش اعظم اور بیت الله دونوں سے بڑھ کر ہے ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا :کوئی یہ نہ سمجھے کہ خدا سے مصطفی کے مکان کو بلند کردیا ہے اس لئے کہ خدا لامکان ہے ، اگر خدا کا مکان ہوتا تو ہم اسے مصطفیٰ  کے مکان سے اعلیٰ سمجھتے ، لیکن چونکہ خدا لامکان ہے اس لئے جتنے مکان والے ہیں ان میں سب سے زیادہ شان مصطفی کے مکان کی ہے ۔ ایک غیرمقلد جلدی سے بولا "الرحمٰن علی العرش استویٰالله کا بھی مکان ہے عرش اعظم - حضرت محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے جواب ميں فرمایا : آپ کو مکان ، مکین کا معنی بھی آتا ہے؟ مکان ہمیشہ مکین سے بڑا ہوتا ہے اسی لئے تو آدمی اس کے اندر بیٹھتا ہے ۔ کیا عرش خدا تعالیٰ سے بڑا ہے اور وہ خدا کو گھیرے ہوئے ہے؟ غیرمقلد نے کہا : بے شک عرش بڑا ہے ۔ حضرت نے جواب میں فرمایا : پھر تو نماز کے شروع میں ’’الله اکبر‘‘ کیوں کہتا ہے ’’العرش اکبر‘‘ کیوں نہیں کہتا؟ جب تو الله اکبر سے نماز شروع کرتا ہے پھر تو بڑا بے ایمان ہے کہ تجھے الله سے بھی بڑی چیز مل گئی ہے پھر بھی تو الله اکبر ہی کہتا ہے ۔ وہ شرمندہ ہو کر خاموش ہو گیا.
[علمی معرکے اور مجلسی لطیفے: صفحہ نمبر 82 ‎تا 83، از : حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمه اللہ]
=======================
بری یا گندی جگہوں پر اللہ کی ذات و صفات کا تصور:
فرقہ سلفیہ لامذہبیہ ایک عقلی ڈھکوسلہ ضرور دیتے ہیں کہ
اگر اللہ ہر جگہ ہے تو پھر کیا اللہ گندی جگہوں پر بھی ہے بیت الخلا میں بھی ہے؟
حالانکہ یہ اعتراض تب بنے جب کوئی اللہ کی ذات کیلئے حلول (مکس) یا اتحاد (جڑ) کا قائل ہو جیسا کہ جہمیہ ہیں جو کہ حلول اور اتحاد کے قائل ہیں انہیں تو ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں مگر جو اس کا قائل نہیں اس پر یہ اعتراض نہیں پڑتا اب ہم تو یہ کہتے نہیں کہ اللہ مخلوق میں مکس ہو گیا ہے یا اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔کیونکہ اللہ اس سے پاک ہے اللہ تعالٰی کسی کے ساتھ متحد اور حلول نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی چیز اللہ کے ساتھ متحد(جڑجانا) یا حلول (مکس ہوجانا) ہو سکتی ہے اللہ تعالٰی کی ذات قدیم ہے اور قدیم حادث (جو بعد میں پیدا ہوئے) کے ساتھ متحد و حلول نہیں ہو سکتا اتحاد اور حلول وہاں ہوتا ہے جہاں دو چیزیں ایک ہی جنس کی ہوں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالٰی نہ تو جنس جواہر ہے اور نہ ہی جنس اعراض ۔
لیکن یہ فرقہ چونکہ اللہ کی ذات کو ایسا ہی حقیر سمجھتا ہے کہ اگر اللہ مخلوق کے پاس ہوا تو حلول یا اتحاد ہو جائے گا اس لئے یہ اعتراض پھر ہم پر کرتے ہیں لیکن یہ اعتراض ہم پر نہیں بلکہ انہی پر جاتا ہے نزول الی السماء کے وقت اللہ کی ذات کا سب سے نچلے آسمان پر مانتے ہیں ساتھ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ کی ذات مخلوق کے پاس ہو تو حلول اور اتحاد کے سوا کوئی راستہ نہیں اسلئے یہ فرقہ یہاں حلولی جہمی ہوجاتا ہے۔
یاد رہے دنیا کی چاہے گندی اور بری سے بری جگہ ہی کیوں نہ ہو وہ جہنم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں اور جہنم کے متعلق خود نبیﷺ فرماتے ہیں وہاں اللہ تعالٰی قیامت کے روز اپنا قدم اس میں رکھیں گے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ ، تَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ " ، رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ » بَاب الْحَلِفِ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ وَكَلِمَاتِهِ ... رقم الحديث: 6196(6661)]
حضرت انس بن مالک (رض) بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے فرمایا دوزخ لگاتار یہی کہتی رہے گی ھل من مزید یعنی کیا کچھ اور بھی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو پھر دوزخ کہے گی تیری عزت کی قسم بس اور اس کا ایک حصہ سمٹ کر دوسرے حصے سے مل جائے گا۔

لامذہبیہ اللہ کی ان صفات کو اللہ کی شان کے لائق نہیں چھوڑتے بلکہ وہ انہیں اس کی ذات کے جز اعضا تصور کرتے ہیں۔
اور ان لامذہبیہ کے نزدیک اگر اللہ مخلوق کے پاس ہوا تو حلول یا اتحاد لازم آئے گا۔
اب ان کے اس عقیدے سے یہ بات لازم آتی ہے کہ یہ اس وقت جہنم میں اللہ کی ذات کو حلول کے ساتھ مانیں یا اتحاد کے ساتھ اب یہ بتائیں کہ جہنم میں یہ کس کے ساتھ مانیں گے حلول کے ساتھ یا اتحاد کے ساتھ؟
ہمارا ان لامذہبیہ سے سوال ہے کہ یہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کا علم ہر جگہ ہے اب ہم ان سے پوچھتے ہیں اگر اللہ کی صفت علم ہر جگہ ہے تو کیا اللہ کی یہ صفت بیت الخلا میں بھی ہے؟
کلام اللہ قرآن مجید اللہ کی صفت ہے جو کہ حافظ کے دل میں محفوظ ہوتی ہے کیا جب حافظ بیت الخلا جاتا ہے تو کیا وہ اللہ کی صفت کو ساتھ لے کر جاتا ہے؟
بنی آدم کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے
نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
«مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، إِنْ شَاءَ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ»
ہر دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے چاہیں تو اسے سیدھا فرما دیں اور چاہیں تو ٹیڑھا کر دیں
(سنن ابن ماجہ ج 1 حدیث نمبر 199)
ایک اور حدیث ہے
«إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، كَقَلْبٍ وَاحِدٍ، يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ»
تمام بنی آدم کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں جسے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔
(صحیح مسلم ج 4 حدیث نمبر 2657)
سلفیوں کے ایک مولوی خلیل ہراس نے لکھا ہے کہ اللہ کی انگلیاں اس کے ہاتھ کا جز ہیں۔
خليل هراس كتاب التوحيد لابن حزيمه پر اپني تعليقات ميں لكهتے ہيں
ص63 :
القبض إنما يكون باليد حقيقة لا بالنعمة . 
فإن قالوا : إن الباء هنا للسببية أي بسبب إرادته الإنعام .
قلنا لهم : وبماذا قبض ؟؟ فإن القبض محتاج إلى آلة فلا مناص لهم لو أنصفوا أنفسهم .. )) اهـ !
خليل هراس الله كي صفت "يد " كو نعمت كے معني ميں مؤول كرنے پر رد كرتے هوئے لكهتا ہے :
”كہ قبض يعني پكڑنا حقيقة هاتھ سے ہوتا ہے نہكه نعمت سے ، اگر كوئي کہے کہ باء سبب كے لیئے ، يعني الله نے نعمت كرنے كے ارادے سے (ایسا کیا )تو هم كہتے ہيں : كه پهر وه پكڑتا كس چيز سے هے ،كيونكه قبض اور پكڑنا كسي آلے كا محتاج هے تو ان كے ليے خلاصي كا كوئي راسته نهيں هے اگر يه لوگ اپنے ساته انصاف كريں“
ياد رهے كہ جناب كي يہ گفتگو الله سبحانه وتعالي كے هاته اور پكڑنے كے بارےہے ، يهاں الله كے پكڑنے كو بهي كسي "آلے يا اوزار يا محتاج " كها پس ان
كے هاں الله كي صفت يد الله تعالي كے ليے پكڑنے كا آله هے اور الله كا پكڑنا اسي هاته كا محتاج هے نعوذبالله ،، الله الصمد
دوسري جگه ارشاد فرماتے ہيں اسي التوحيد كے تعليقات ميں :
ويقول 89 :
(( ومن أثبت الأصابع لله فكيف ينفي عنه اليد والأصابع جزء من اليد ؟؟!! )) اهـ
ترجمه : اور جس نے الله كے ليے انگليوں كا اثبات كيا وه كس طرح الله سے هاته كي نفي كرتا هے حالانكه انگلياں هاته هي كا جزء هے (نعوذبالله)
يهاں الله تعالي كي انگليوں كو اس كے هاته كا جزء كها ، كسي آيت يا حديث مبارك ميں يه بات همارے علم ميں نهيں كه الله كي انگلياں اس كے هاته كا جزء هيں۔
اب یمارا ان لامذہبیہ سے سوال ہے کہ کیا آدمی جب بیت الخلا جاتا ہے تو کیا اللہ کی انگلیوں کو باہر چھوڑ کر جاتا ہے؟ دوسرا یہ کہ اللہ کی ذات کو آپ لوگ صرف عرش کے اوپر ٹھہراتے ہیں اب اللہ کی ذات اوپر اور اس کا ہاتھ اور انگلیں نیچے ؟
یہ اعتراض خود فرقہ اہل حدیث پر جاتا ہے۔
1
فرقہ اہل حدیث کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی
لکھتے ہیں
”ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا اور ہر چیز کی ہر وقت خبر رکھنا خاص ذات وحدہ لاشریک لہ باری تعالٰی کے واسطے ہے“۔
(فتاویٰ نذیریہ ج 1 ص 6)
2
فرقہ اہلحدیث کے شیخ السلام ثناء اللہ امرتسری الجہمی
لکھتے ہیں
” اللہ بذات خود اور بعلم خود ہر چیز اور ہر کام پر حاضر ہے“۔
(تفسیر ثنائی ص 347 )
3
محقق اہلحدیث قاضی شوکانی الجہمی
لکھتے ہیں
وكما نقول هذا الاستواء والكون في تلك الجهة فكنا نقول في مثل قوله تعالي وهو معكم اينما كنتم ۔۔۔۔۔ ولا نتكلف بتاويل ذالك كما يتكلف غيرنا بان المراد بهذا الكون المعنيت هوك‍ن العلم و عليتهفان هزا شعبة من شعب التاويل تخالف مذاهب السلف و تبائن ماكان عليهه الصحابة و تابعوهم رضوان اللہ عليهم اجمعين
ترجمہ
”جیسا ہم استواء اور جہت فوق کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں ویسا ہی ان اقوال خدا وندی هو معكم وغيرہ ”وہ تمہارے ساتھ“ ہے کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں۔۔ ہم اس کی تاویل علم کے ساتھ یا نصرت کے ساتھ کرنے میں تکلف نہیں کرتے جیسا کہ ہمارے غیر کرتے ہیں یعنی وہ کہتے ہیں کہ ساتھ ہونے سے اس کا علم مراد ہے کیونکہ یہ بھی تاویل کی ایک شاخ ہے جو مذہب صحابہ ؓ و تابعین وغیرہ سلف کے خلاف ہے “
(التحف ص 16 بحوالہ فتاویٰ ثنائیہ ج 1 ص 202)
ان کے بارے میں کیا خیال ہے آج کے لامذہبوں کا ؟
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی چاہے اچھے سے اچھی یا بری سے بری تمام مخلوقات کا خالق ہے لیکن یہ گواہی دینے کے بعد اس کی شان گھٹانے کی غرض سے اس کی ہر ہر مخلوق کے متعلق یہ پوچھے کہ کیا اس کا بھی اللہ خالق ہے اس کا بھی اللہ خالق ہے درست نہیں۔
یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ ”اللہ اکبر“ اللہ سب سے بڑا ہے مگر یہ اقرار کرنے کے بعد کوئی احمق کہے کہ کیا اللہ میرے ہاتھ سے بڑا ہے میری انگلیوں سے بڑا ہے کیا فلاں چیز سے فلاں جانور سے بھی بڑا ہے قطعاً درست نہیں۔ ان سب کا ایک ہی جواب ہے کہہ دو کہ اللہ سب سے بڑا ہے بس۔
بعض چیزوں کو اجمالاً بیان کریں تو مناسب اور ادب ہے،اگر تفصیلات بیان کریں تو خلافِ ادب ہے۔ مثلاً سسر اپنے داماد کو کہے: ’’میری بیٹی کے حقوق کا خیال رکھنا ‘‘،تو اجمالاً قول ہونے کی وجہ سے یہ ادب ہے لیکن اگر وہ تمام حقوق ایک ایک کرکے گنوانا شروع کردے تو یہ خلافِ ادب ہے۔’’سر سے لے کر پاؤں تک تمام جسم کا خالق اللہ ہے‘‘ یہ کہنا ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک عضو کا نام لے کر یہی بات کہی جائے تو یہ خلافِ ادب ہے۔’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے‘‘یہ اجمالاً کہنا تو مذکورہ قاعدہ کی رو سے درست اور ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک جگہ کا جس میں ناپسندیدہ جگہیں بھی شامل ہوں، نام لے کر کہا جائے تو یہ بے ادبی ہونے کی وجہ سے غلط ہوگا۔لہذا ایسا سوال کرنا ہی غلط، نامناسب اور ناجائز ہے۔
یہ اعتراض تب پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کو وجود بمعنی ’’جسم‘‘ کے ساتھ مانیں جیسے قرآن کریم کو بیت الخلاء میں لے کر جانا قرآن کی توہین اور بے ادبی ہے حالانکہ ہر حافظ جب بیت الخلاء جاتا ہے تو قرآن اس کے سینے میں موجود ہوتا ہے لیکن بے ادبی نہیں ، کیونکہ قرآن جسم سے پاک ہے ایسے ہی ہم اللہ تعالیٰ کا جسم ہی ثابت نہیں کرتے تو بے ادبی لازم نہیں آتی ۔
رمضان المبارک کا مہینہ ہر جگہ مبارک ہے ۔اگر کوئی شخص پوچھے کہ بیت الخلاء میں رمضان ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ہر جگہ رمضان نہیں، اگر ہے تو بیت الخلاء میں بابرکت کیسے ؟ تو اس کا یہ سوال لغو ہوگا کیونکہ جب رمضان کا جسم نہیں ہے تو ہر جگہ ماننے میں کوئی بے ادبی نہ ہو گی اور یہ ہر جگہ با برکت ہوگا۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کا جسم ہی نہیں تو ہر جگہ ماننے میں بے ادبی بھی نہیں ۔اللہ کریم دین کا صحیح فہم عطا فرمائے۔
نوٹ :
اللہ کو ہر جگہ کہنے سے ہماری مراد اللہ کیلئے کسی جگہ کا اثبات کرنا نہیں بلکہ کسی بھی جگہ کے مقرر کرنے کی نفی کرنی ہے۔

اللہ کی ذات کے متعلق ہمارا وہی عقیدہ ہے جو کہ تمام اہلسنت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کی ذات موجود بلا مکان و جگہ ہے جیسا تمام مخلوقات کی تخلیق سے پہلے تھی اب بھی ویسے ہی ہے (ملاحظہ ہو اشعریہ ماتریدیہ کا منہج اور فرقہ سلفیہ سے ان کا اختلاف اختلاف نمبر 2) اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اللہ تعالٰی کسی کے ساتھ متحد اور حلول نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی چیز اللہ کے ساتھ متحد(جڑجانا) یا حلول (مکس ہوجانا) ہو سکتی ہے اللہ تعالٰی کی ذات قدیم ہے اور قدیم حادث (جو بعد میں پیدا ہوئے) کے ساتھ متحد و حلول نہیں ہو سکتا اتحاد اور حلول وہاں ہوتا ہے جہاں دو چیزیں ایک ہی جنس کی ہوں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالٰی نہ تو جنس جواہر ہے اور نہ ہی جنس اعراض ۔


=======================
غیرمقلدین حضرات اللہ کے ہر جگہ نہ ہونے پر اجماع امت کہتے ہے،

تو جناب غیرمقلدین کی خدمت میں گزارش ہے کہ:
بھائی ہمارے ہاں عقائد میں اجماع کے منکر کو تو کافر کہتے ہیں آپ کے ہاں عقائد میں اجماع کے منکر کو کیا کہتے ہیں؟؟؟؟

اگر 
آپ کے ہاں بھی عقائد میں اجماع کے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ تو جناب آپ کے گھر کے اجماع کا انکار آپ کے گھر کےتقریبا دس علماء کر چکے ہیں، جن میں شیخ الاسلام، شیخ الکل بھی شامل ہیں، تو کیا خیال ہے یہ سارے علماء کافر نہ ہوگئے ہونگے۔





فتاوی ثنائیہ کی تو تاویلیں کرنے کی بہت کوشش کی گئی، اگرچہ وہ کسی کام نہ آئیں، لیکن تفسیر ثنائی میں جو عقیدہ بیان ہوا ہے اس میں تو کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے





ہم نے فتاوی ثنائیہ سے، فتاوی نذیریہ سے اور فتاوی علمائے حدیث سے جو دلائل جناب کی خدمت میں پیش کئے ہیںن وہ کتاب العقائد میں سے ہی پیش کئے ہیں۔

یہ تینوں کتابیں غیرمقلدین کے ہاں ایک سند کی حیثیت رکھتی ہیں۔





صفات باری تعالٰی سے متعلق عربی حوالہ کا مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب کے قالم سے مترجم اقتباس ملاحظہ فرمایئے:۔ ”خدا کی جن صفات کو سلف صالحین نے ظاہر پر جاری رکھا ہے جیسی کہ قرآن و حدیث میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک صفت استواء ہے۔ کتاب و سنت کی دلیلیں اس میں بہت ہیں۔ جیسا ہم استواء اور اس جہت میں ہونے کے متعلق کہتے ہیں اسی طرح ہم آیات معیت وھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمٌ وغیرہ میں کہتے ہیں۔ یعنی ہم ایسی آیات میں وہی کہتے ہیں جیسا قرآن میں آیا ہے کہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے ہم اس کی تاویل میں تکلیف نہیں کرتے جیسا کہ ہمارے غیر کرتے ہیں کہ اس سے مراد علم ہے کیونکہ یہ ایک تاویل ہے جو مذاہب خلف کے مخالف ہے۔ اور صحابہ و تابعین اور تبع تابعین کے بھی بالکل خلاف ہے۔ جب تو سلامتی کے راستہ پر پہنچ گیا۔ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے تو اس سے آگے نہ گزر“۔(رسالہ التحف فی مذاہب السلف ص۴۳) مولانا ثناء اللہ غیرمقلد مذکورہ حوالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس عبارت کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ امام شوکانی نہ تو استواء کی تاویل کرتے ہیں اور نہ معیت خداوندی کی تاویل کے قائل ہیں بلکہ ہر قسم کی تاویل پر صحابہ اور سلف صالحین کے مذاہب کے خلاف بتاتے ہیں، یعنی ان کے نزدیک ھو معکم کی تاویل علم کے ساتھ کرنے والے مذاہب سلف کے ایسے ہی مخالف ہیں جیسا وہ لوگ جو استواء علی العرش کی تاویل کرتے ہیں“۔(مظالم روپڑی ص۱۳)

نواب صدیق حسن خان صاحب (م ۱۸۹۰) جن کے متعلق مولانا ثناہ اللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں کہ: ”ہندوستان کے نامور سلفی اہل حدیث مصنف میں سے مولانا نواب صدیق حسن صاحب بھوپالی مشہور ترین ہیں۔(مظالم روپڑی ص۱۳) نواب صاحب موصوف کا اس مسئلہ میں مولانا ثناء اللہ امرتسری غیرمقلد کے قلم سے ایک مترجم اقتباس ملاحظہ فرمایئے: ”ہمارے نزدیک راجح بات یہ ہے کہ استواء علی العرش اور اللہ کا آسمان پر ہونا اور مخلوق سے بائن ہونا اور اس کا قرب اور معیت اور جو بھی صفات آئی ہیں کیفیت بتانے اور علم و قدرت کےساتھ تاویل کرنے کے بغیر ظاہر پر جا ری ہیں۔ کیونکہ تاویل کرنے کی کوئی دلیل شرعی وارد نہیں ہوئی“۔(کتاب الجوائز والصلات ص۲۶۲) مولانا امرتسری صاحب اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”میں کہتا ہوں کہ یہ عبارت قاضی شوکانی کی عبارت سے بھی واضح تر ہے۔ مطلب اس کا وہی ہے کہ خدا تعالٰی جیسا کہ عرش پر ہے ویسا ہی زمین پر ہے ۔ رہا یہ امر کہ کیسے ہے۔ سو یہ سوال کیفیت سے ہے جو حوالہ بخدا ہے۔(مظالم روپڑی ص۱۳) اسی طرح مولانا امرتسری نے جماعت غیرمقلدین کے وکیل اعظم مولانا محمد حسین بٹالوی صاحب (جنہوں نے انگریز یہ اہلحدیث نام آلارٹ کروایا) کی تائید سے علامہ محمد بن علی شوکانی سے بھی یہی عقیدہ نقل کیا ہے۔(مظالم روپڑی ص۱۲) خود مولانا امرتسری غیرمقلدین اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”میں خدا کی صفت قرب معیت کو اور اللہ تعالٰی کا آسمانوں اور زمینوں میں ہونا بلا تاویل یقین کرتا ہوں “۔ (مظالم روپڑی ص۱۱)


عقیدہ کو باطل باور کرکے علمائے دیوبند کو اس کا الزام دے رہے ہیں۔

اب جس عقیدہ کو یہ اکابرین غیرمقلدین حق کہہ کر اس پر جمے ہوئے ہیں اور کو سلف صالحین کا مسلک قرار دے رہے ہیں، غیرمقلدین اس شکو ہمارے سارے غلط بھی سہی مگر لو تم ہی اب بتاؤ کس کا قصور تھا




حدیث نزول کے بارے میں عبدالرحمن مبارک پوری صاحب لکھتے ہیں کہ 
قَوْلُهُ (يَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ) قَدِ اخْتُلِفَ فِي مَعْنَى النُّزُولِ عَلَى أَقْوَالٍ فَمِنْهُمْ مَنْ حَمَلَهُ عَلَى ظَاهِرِهِ وَحَقِيقَتِهِ وَهُمُ الْمُشَبِّهَةُ تَعَالَى اللَّهُ عَنْ قَوْلِهِمْ۔ [تحفة الأحوذي (2/ 524)]
یعنی
نزول کے بارے میں کئی اقوال کا اختلاف ہے بعض نے اسے اپنے ظاہر اور حقیقت پر حمل کیا ہے اور یہی لوگ مشبہہ ہیں اللہ عزوجل ان کی باتوں سے پاک ہے۔

=

=
فرقہ اہل حدیث کا اقرار کہ اللہ تعالیٰ کا رات کے وقت آسمان دنیا پر نزول فرمانا ظاہر اور حقیقی نزول نہیں بلکہ ایسا کہنا مشبہہ (گمراہ فرقہ مجسمہ) کا قول ہے۔ (توفیق الباری ص 56)

جب اللہ تعالٰی کا نزول الی سماء ظاہر پر اور حقیقت پر محمول نہیں ہو سکتا تو عرش استویٰ کیسے ظاہر اور حقیقت پر محمول ہو سکتا ہے؟


پس ثابت ہوا کہ عرش استویٰ اور نزول الی سماء دونوں حق ہیں لیکن ظاہری اور حقیقی طور پر بلکل نہیں جو کرتے ہیں وہ بلا شبہ مجسمہ ہیں۔






============
اعتراض:
ابوزید ضمیر صاحب، امام احمد بن حنبلؒ کا قول پیش کرتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ عرش پر ہے اور مخلوق سے الگ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائي]

جواب-1: غیر مقلدین کے نزدیک یہ کتاب "شرح أصول اعتقاد أهل السنة" ان کے مصنف اللالكائيؒ(المتوفیٰ ۴۱۸ھہ) سے ثابت ہی نہیں ہے۔

چنانچہ شیخ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
شرح أصول اعتقاد أهل السنة کے نام سے اللكائيؒ سے منسوب کتاب، باسند صحیح ثابت ہی نہیں ہے۔

لہذا، اس غیرثابت کتاب سے اصول میں استدلال صحیح نہیں ہے۔
[مشہور واقعات کی حقیقت:45]

====
جواب-2: یہ روایت بےسند ہے، کیونکہ اس روایت کی امام اللكائيؒ(المتوفیٰ 418ھ)نے اپنے اور یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھ)کے درمیان کوئی سند ذکر نہیں کی۔ کیونکہ دونوں کا زمانہ بہت دور وجدا تھا اور نہ درمیان میں کوئی صحیح سند کا واسطہ ثابت نہیں۔ لہذا یہ سند منقطع ہے اور روایت مردود۔

شرح أصول اعتقاد أهل السنة میں جو عبارت ہے وہ درج ذیل ہے:

(حديث مقطوع) وَرَوَى يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْبَغْدَادِيُّ ، أَنَّهُ قِيلَ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ : اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ عَلَى عَرْشِهِ ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ ، وَقُدْرَتِهِ ، وَعِلْمِهِ ، فِي كُلِّ مَكَانٍ ؟ . قَالَ : نَعَمْ , عَلَى الْعَرْشِ ، وَعِلْمُهُ لا يَخْلُو مِنْهُ مَكَانٌ .
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي » ذكر رجال من أهل المدينة من الطبقة الثانية من التابعين ... » قَوْلُ أم سلمة ۔۔۔ رقم الحديث: 532]
شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة » باب جماع توحيد الله عز وجل وصفاته وأسمائه » سياق ما روي في قوله تعالى " الرحمن على العرش استوى " ۔۔۔الجزء الثالث، ص: 445، رقم الحديث: 674]

ترجمہ: امام اللكائيؒ(المتوفیٰ 418ھ)فرماتے ہیں کہ روایت ہے یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھ) سے کہ احمد بن حنبلؒ سے کہا گیا کہ: کیا اللہ تعالیٰ سات(۷)آسمانوں کے اوپر ہے، عرش سے اوپر ہے، اپنی مخلوق سے جدا ہے، اور اس کی قدرت وعلم ہر جگہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ عرش پر ہر، اور اس کے علم سے کوئی جگہ خالی نہیں ہے۔









=

امام اللكائيؒ(المتوفیٰ 418ھہ)کے بعد امام موفق الدين ابن قدامة(541-620ھ)نے بھی یہی بات نقل کردی، لیکن انہوں نے بھی اپنے اور یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھہ)کے درمیان کی، کوئی سند نقل نہیں کی۔
[اثبٰاتُ صِفةِ العُلُوّ:1/167]



=
اور امام ابن قدامۃ کی ولادت 541 ھ میں ہوئی ہے اور یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ کی وفات 253 ھ میں ہوئی ہے۔[الاعلام:4/67]



=
لہٰذا، یہ سند بھی منقطع اور روایت مردود ہے۔
=
اسی طرح یہی روایت امام ذہبیؒ(المتوفیٰ 748ھ)کی کتاب[العلو للعلي الغفار،للذهبي:1/176]میں بھی موجود ہے، لیکن وہاں بھی (امام ذہبیؒ سے یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ کے) درمیان کی کوئی سند موجود نہیں ہے، بلکہ انہوں نے بھی براہِ راست یعنی بلاواسطہ سند کے یوسف بن موسیٰ البغدادیؒ(المتوفیٰ 253ھہ)کا قول نقل کر رہے ہیں۔ جو انہوں نے ان سے نہ خود سنا اور نہ ہی ان سے سننے والوں کے واسطہ(سند)سے نقل کیا۔ لہٰذا یہ سند بھی منقطع اور روایت مردود ہے۔



=
بعض لوگ امام ابوبکر الخلالؒ(المتوفیٰ 311ھ)کی کتاب،[کتاب السنۃ]کا حوالہ دے رہے ہیں کہ اس میں یہ روایت موجود ہے لیکن اس میں یہ روایت موجود نہیں۔

=

=================


No comments:

Post a Comment