Sunday, 9 December 2012

ہم اللہ تعالیٰ پر کیسے ایمان لائیں؟



ہم اللہ تعالیٰ کو کس طرح مانیں(اس کی متعدد تعبیرات)



ایمان باللہ کو سمجھنے اور سمجھانے کے عنوان اور طریقے متعدد ہیں، مثلاً :ایک عنوان یہ ہے کہ اللہ کے تعارف میں ’’اثبات و معرفت‘‘اور اللہ کو ماننے میں ’’مطلوب و مقصود‘‘ کیا ہے اس کو سمجھیں، اس کو ’’توحید فی الاثبات و المعرفۃ اور تو حید فی القصد و الطلب‘‘ کہتے ہیں۔ اور مثلاً ایک اور عنوان یہ ہے کہ: اللہ کی ’’اسماء و صفات ‘‘، اللہ کی ’’ربوبیت ‘‘اور اللہ کی ’’الوہیت‘‘ میں وحدانیت کو سمجھا جائے۔ ایک اور عنوان اس میں یہ بھی ہے کہ: اللہ کی ’’ذات میں وحدانیت‘‘، اللہ کی ’’صفات  میں وحدانیت ‘‘، اور اللہ کے ’’حقوق میں وحدانیت‘‘ کو سمجھا جائے۔ اس آخری عنوان میں ’’ذات و صفات ‘‘میں الاسماء والصفات اور ربوبیت دونوں،اور ’’حقوق ‘‘میں الوہیت کا مضمون شامل ہے۔
ان عناوین اور تعبیرات میں توحید الوہیت کا مضمون اگر نہ چھوٹ رہا ہو تو یہ تمام عناوین درست ہیں، الفاظ و تعبیرات جدا ہیں ، ورنہ تمام تعبیرات ایک ہی مقصد ،مضمون  اور معنی کو ظاہر کرتی ہیں۔ نصوص سے قریب ترین تعبیر ’’ اسما٫ وصفات، ربوبیت اور الوہیت میں توحید‘‘ ہے، جبکہ ’’ذات  صفات اور حقوق میں توحید ‘‘ اسی مضمون کو ظاہر کرتی ہے، البتہ یہ تعبیر بعد میں جو فرقے پیدا ہوئے ان اور موجودہ زمانہ میں ان کے افکار و نظریات پھیلے ہوئے ہیں ان کو سمجھانے کےلئے زیادہ آسان تعبیر ہے، ا ور اس میں اسما٫ و صفات، ربوبیت اور الوہیت کا مضمون کلی طور پر شامل ہے۔
وجود باری تعالیٰ:
باری تعالیٰ کا وجود ہے، یہ بدیہیات فطرت میں سے ہے، یعنی یہ بات فطرت میں جانی پہچانی حقیقت ہے، چنانچہ اس کائنات کی سب سے بڑی ثابت حقیقت یہی ہے، اگر یہ ثابت نہیں ہے تو کچھ بھی ثابت نہیں ہے، اس سوال پر غور کرنے والے کا وجود ہی باری تعالیٰ کے وجود کا ثبوت ہے کہ وجود باری تعالیٰ کے بارے میں سوچنے والا ذہن خود بخود پیدا ہوگیا یا اس کو کسی نے پیدا کیا ہے، ظاہر ہے وہ خود پیدا نہیں ہوا ہے، اب جس نے بھی اس کو پیدا کیا ہے وہی صانع  عالم ،بدیع   اور فاطر السموت والارض ہے۔
قرآن و سنت میں ایمان باللہ پر بات باری تعالیٰ کے وجود سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ اس کی توحید سے بات شروع ہوتی ہے ، کیونکہ وجود باری تعالی ایسے بدیہیات میں سے ہےجس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔

          أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ.

(سورۃ ابراھیم:۱۰)

          اس موضوع پر مزید کچھ باتیں آگے صفات باری تعالیٰ کے تحت آئیں گی۔
توحید:
ایمان باللہ کا سب سے بنیادی موضوع توحید ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اس کائنات اور ہر ہر مخلوق کا پیدا کرنے والا اور ان کی پرورش کرنے والا صرف ایک اللہ ہے، ہر طرح کی اچھی اچھی اور کامل و مکمل صفات اسی کی ہیں، وہ ہر عیب سے پاک ہے، بندوں کی جانب سے بندگی کے تمام حقوق صرف اسی ایک ہستی کو حاصل ہیں، جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔
شرک :
شرک کی بنیادی تعریف اور اقسام ہم ’’مبادیات ‘‘ کی بحث میں بیان کر چکے ہیں۔ یہاں اس کو مختصر دوہراتے ہیں، شرک توحید کی ضد ہے،  شرک خدا کے انکار کا نام نہیں ہے، بلکہ خدا کو ماننا لیکن اس کے ساتھ کسی کو شریک کردینا یہ شرک ہے۔ کئی خدا ماننا یا خدا کے ساتھ خاص اسما٫ صفات اور خدا کے لئے خاص حقوق میں دوسروں کو بھی شریک کرلینا یہ شرک ہے۔
شرک میں بنیادی طور پر یہ ہوتا ہے کہ مخلوقات میں سے کسی کو اٹھا کر خدا کے مقام ارفع کے برابر کردیا جاتا ہے ، اور اسی میں لازمی طور پر یہ بھی ہو جاتا ہے کہ خدا کو اس کے مقام ارفع سے گرا کر بندوں کے برابر کردیا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے شرک کی ہر صورت بدترین اور عظیم ظلم ہے،اور ناقابل معافی جرم ہے۔

وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان:۱۳)إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا

(النسا:۴۸)

ایمان باللہ میں کفر:
ایمان باللہ کو متأثر کرنے والے اعمال صرف شرکیہ نہیں ہیں، بلکہ ایمان باللہ کو متأثر کرنے والی بعض دیگر صورتیں بھی ہیں، جو عقیدةً کفر میں شامل ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے لئے قرآن مجید اور احادیث میں جو باتیں ثابت کی گئی ہیں ان میں سے کسی بات کا انکار کرنا کفر ہےجیسے اللہ تعالیٰ کی صفات ثابت ہیں، اب اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کرنا یہ شرک نہیں ہے لیکن کفر ہے، جیسا کہ معطلہ نے کیا ہے، یا جیسے تمام صفات کا انکار تو نہ کیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی کسی خاص صفت کا انکار کیا جائے یہ بھی ایمان باللہ میں شرک نہیں ہے لیکن کفر ہے مثلاً: اللہ تعالیٰ ایک صفت ہے  بدیع السموت و الارض : جس کا حاصل یہ ہے کہ آسمان و زمین معدوم تھے جن کا کوئی وجود نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں عدم سے اپنے کن حکم کے ذریعہ پیدا کیا ہے۔ ہندوستانی فلاسفہ ، فلاسفہ یونان ، اور ان کے زیر اثر بعض اسلام کو ماننے والے فلاسفہ نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مادہ بھی قدیم ہے، اللہ نے کوئی شے عدم سے نہیں پیدا کی بلکہ قدیم مادہ کو الگ الگ اشکال میں ڈھال کر ان سے مختلف مخلوقات کو پیدا کیا ہے نعوذ باللہ یہ قول کفر ہے۔ جس طرح ایمان باللہ میں توحید بدترین گناہ ہے، اسی طرح ایمان باللہ میں قرآن و حدیث سے ثابت امور کا انکار بھی کفر اور بدترین مہلکات میں سے ہے، جس  اجتناب ضروری ہے۔
اس لحاظ سے توحید اور شرک کی اور ایمان باللہ میں کفر کی ہر صورت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ بندے شرک سے بچ کر خالص توحید پر اور کفر سے بچ کر خالص ایمان باللہ پر قائم رہ  سکیں ۔
توحید پر ایمان  کے چند بنیادی پہلو ہیں :
۱-ذات باری تعالیٰ            (توحید فی الذات)
۲-اسما٫ و صفات باری تعالیٰ     (توحید فی الاسما٫ و الصفات)
۳-حقوق باری تعالی          (توحید فی الحقوق)



ہم ذات ِ باری تعالیٰ کی یکتائیت کی تصدیق کس طرح کریں؟



          اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت میں ایک اہم پہلو اس کا اپنی ذات میں تنہا٫ ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں تنہا ہے :
اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں تنہا ہے کا مطلب یہ ہے کہ: نہ اس کی کوئی اولاد ہے ، اور نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے، اور نہ ہی کوئی اس کی بیوی ہے، گویا اس کا کوئی خاندان اور کنبہ نہیں ہے،خاندان او رکنبہ ہونا ’’مخلوقات‘‘ میں پسندیدہ ہے، وہ بھی اس لئے کہ مخلوقات کی بقا٫ کے لئے نسل شرط ہے۔ پھر مخلوق کمزور ہوتی ہے، ایک ذات کے افراد دوسری ذاتوں کے مقابلہ میں ایک دوسرے کےلئے تقویت کا باعث ہوتے ہیں وغیرہ، اللہ تعالیٰ مخلوق کی ان تمام مجبوریوں سے پاک ہے، اس کو اپنی بقا٫ کے لئے کسی کی احتیاج نہیں ہے، اور نہ ہی اس کو کسی دوسرے کے سہارے کی ضرورت ہے، اس لئے اس کا خاندان نہ ہونا اس کے لئے کوئی عیب نہیں ہے، بلکہ اس کا خاندان ہونا اس کے لئے عیب ہے۔
ذات میں شرک  کا مطلب:
یہ ہے کہ مثلاً انسان ایک ذات ہے، تو انسان کا باپ بھی انسان ہے اور انسان کا بیٹا /یا بیٹی بھی انسان ہے، اور انسان کی بیوی بھی انسان ہے۔ یا مثلاً : کوئی جانور جیسے گھوڑا  ایک ذات ہے، تو گھوڑے کی اولاد بھی گھوڑا ہے، اس کی مادہ بھی گھوڑا ہے، اور اصول یعنی اس کے ماں باپ بھی گھوڑا ہیں۔
اللہ کی ذات میں ترکیب و تقسیم نہیں ہے:
اسی طرح ذات میں وحدانیت کا مطلب یہ بھی ہے کہ :اللہ رب العزت کی ذات اقدس کسی کا مرکب نہیں ہے، اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی ذات کی تقسیم ہوتی ہے، اسی طرح اللہ کی ذات کسی میں حلول نہیں کرتی، جیسا کہ ہندو فلاسفہ مانتے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ خدا ہے، اور خداہر ایک  میں ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مخلوقات میں سے کسی شخص میں حلول کرتے ہیں، جیسے ہندو اوتاروں کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا انسان کی صورت میں حلول کرکے آگیا، یہ سب باری تعالیٰ کی ترکیب و تقسیم کرنا ہے، اور اللہ تعالیٰ کو مرکب یا منقسم ماننا اس کی ذات میں وحدانیت کو ماننے کے خلاف ہے، جب وہ حلول کرگیا تو وہ ایک کہا ں رہا، جتنوں میں حلو ل کرگیا اتنی کثرت میں تقسیم ہوگیا، اور اگر یہ حقیقت ہوتی تو نعوذ باللہ وہ ان سب سے مرکب ہے۔
اللہ کو کسی کی اولاد ماننا یہ بھی ترکیب ماننا ہے، کہ ماں باپ کے اجزا٫ سے مرکب ہوکر وہ بنا ہے، اور اللہ تعالیٰ سے اولاد کو ماننا یہ تقسیم کو ماننا ہےکہ وہ اولاد اس کا جز٫ ہے نعوذ باللہ ۔ 
ذات میں شرک کے نتائج:
ذات میں شرک کی یہی نزاکت ہوتی ہے کہ جب کسی ذات کا کفو یا اصول و فروع مانے جاتے ہیں تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ ان سب کفو اصول اور فروع کی ذات ایک ہی ہے، نعوذ باللہ اگر اللہ کا بیٹا مانیں گے تو دوسری ذاتوں کی طرح وہ بیٹا بھی اللہ ہوگا، بیٹی مانیں گے تو وہ بیٹی بھی اللہ ہوگی، اور اگر بیوی مانیں گے تو وہ بھی اللہ ہوگی۔ معاذ اللہ
اسی طرح اگر اللہ کا کسی میں حلول کرجانا مانا جائے تو نعوذ باللہ اس کو اللہ ماننا ہوگا، یا کائنات کے ذرہ ذرہ میں اللہ کا حلول کر جانا مانا جائے تو اس کے نتیجہ میں تو کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ ہو جائے گا، او رپھر مشرکین کو مشرک کہنا بھی درست نہیں ہے، ان کا ہر شجر و حجر کی پرستش کرنا درست ماننا ہوگا، نمرود اور فرعون کو ربوبیت کے دعوی میں جھوٹا ماننا خود غلط ہوجائے گا، اور یہ ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ انبیا٫ اپنے دعوے میں جھوٹے تھے اور نعوذ باللہ بت پرست مشرکین حق پر ہیں معاذ اللہ / اس لئے حلول اور اتارواد کے عقیدے سب شرک ہیں ۔

(۱)قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (۲) اللَّهُ الصَّمَدُ  (۳لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ(۴)وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ

)سورة الإخلاص(

اللہ کا بیٹا بیٹی یا بیوی ماننا شرک ہے:
عیسی  و عزیر اللہ کے بیٹے نہیں اللہ کی مخلوق ہیں، فرشتے اللہ کی بیٹیاں نہیں اس کی مخلوق ہیں، اور دیویاں اور ماتائیں اللہ کی بیوی نہیں ہیں ،جن کو دیویاں یا ماتائیں مانا جاتا ہے اگر ان کا کوئی خارجی وجود تھا تو وہ اللہ کی مخلوق ہیں، اور اگر ان کا کوئی خارجی وجود نہیں تھا تو وہ محض گھڑے ہوئے نام ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اور جو بھی موجود ہیں یا تھے سب اپنے وجود اور بقا٫ میں اللہ کی جانب سے اس کی تخلیق کے محتاج ہیں، اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے ، اللہ کے پیدا کرنے سے وہ وجود میں آئے ہیں، اور اللہ کے مارنے سے مر جاتے ہیں، اللہ کا کوئی بیٹا یا بیٹی ماننا یا اس کی کوئی بیوی ماننا شرک ہے۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (المائدۃ:۱۷)لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ (۷۲) لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنْ لَمْ يَنْتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (۷۳) أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (۷۴) مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ انْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انْظُرْ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (۷۵) قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَاللَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (۷۶)سورۃ المائدۃوَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (۳۰) اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (۳۱)سورۃ التوبۃ

اوتار واد/ یا حلو ل کو ماننا شرک ہے:
کسی میں اللہ کی ذات حلول کر گئی ہے ماننا اللہ کی ذات میں شرک کرنا ہے، کسی کو اللہ کا اوتار ماننا یہ بھی اللہ کی ذات میں شرک کرنا ہے،یہ ماننا کہ کائنات کے ذرّہ ذرّہ میں اللہ ہے یہ بھی اللہ کی ذات میں شرک کرنا ہے۔
وحدۃ الوجود:
وحدۃ الوجود کی اصطلاح دو معنوں میں استعمال ہوتی ہے:
(۱) ایک یہی کہ ہر شے میں خدا ہے، کائنات، سورج چاند زمین تارے غرض ذرہ ذرہ میں خدا ہے، جیسا کہ ہندو مانتے ہیں اور ہر شجر و حجر کو وہ اسی لئے پوجتے ہیں کہ اس کو خدا کی ذات کا جز٫ مانتے ہیں، اس معنی میں وحدۃ الوجود صریح شرک فی الذات ہے، اور  اس معنی میں یہ اصطلاح مسلمانوں کی اصطلاح نہیں ہے۔
(۲) وحدۃ الوجود ایک دوسرے معنی  یہ ہیں کہ حقیقۃً وجود تو صرف ایک ہی ہے اور وہ اللہ رب العزت کا وجود ہے، کیونکہ اس کا وجود ذاتی  ہے، ازلی و ابدی ہے، باقی سب کے وجود اللہ کی عطا ٫ سے ہیں ، حادث ہیں، اور ان کو فنا ہے، اور جب تک ہیں اللہ کی قیومیت سے ہیں، جہاں اللہ نے ان کے فنا کا ارادہ کیا سب فنا ہوجائیں گے اس اعتبار سے حقیقی وجود تو ایک ہی ہوا تو اس معنی میں وحدۃ الوجود شرک نہیں ہے، بلکہ باری تعالیٰ کی تقدیس و تعظیم کا ایک بیان ہے، اور محض اصطلاح  اور الفاظ میں وحدت سے ایسا ماننے والوں پر شرک کا حکم نہیں لگایا جائے گا، الفاظ و اصطلاح میں یہ اتفاقی ہے، اس میں اصل معیار معنی کا ہے، جیسا کہ ہم نے ’’مبادیات عقائد ‘‘میں و ضاحت کی ہے۔
ایک عالمی حقیقت:
دنیا کی مختلف قوموں میں یہ تو ہوا کہ ذات باری تعالیٰ کی جانب اولاد کی نسبت کے ذریعہ یا حلول اور اوتار واد کے نظریہ کے ذریعہ شرک فی الذات تو ہوا ہے  ، لیکن ذات باری تعالیٰ کے بالکل مد مقابل ایک ایسی ذات پر ایمان جو واجب الوجود سے علیحدہ ایک مستقل وجود رکھتا ہو او راس میں وہ تمام صفات کمال موجود ہوں جو ذات باری تعالیٰ میں مانے جاتے ہیں ایسا کسی قوم میں نہیں پایا گیا ہے، سب نے ایک ہی واجب الوجود ذات باری تعالیٰ میں ہی ترکیب و تقسیم کی ایسی صورتیں مانی ہیں جو انہیں اس کی ذات میں شرک تک لے گئیں ہیں۔
البتہ یہ بیٹا یا بیٹی مان کر یا حلول اور اوتار واد کے ذریعہ مانا جانےو الا شرک بھی بدترین شرک ہے، جس کی معافی نہیں ہے


ہم اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی صفات میں توحید کے قائل کس طرح ہوں؟



نام اور صفات کی ضرورت:
کسی بھی ہستی یا چیز کا ایک نام ہوتا ہے، اور اس کی چند صفات ہوتی ہیں، نام سے وہ ہستی جانی جاتی ہے  اور دوسروں سے ممتاز ہوجاتی ہے، اور صفات سے اس کا تعارف حاصل ہوتا ہے۔
نام کے بغیر کسی ہستی یا کسی چیز کو آپ دوسروں سے ممتاز نہیں کر سکتے، ایک چیز یا ہستی کو دوسری چیزوں یا ہستیوں سے ممتاز کرنے کےلئے اس کا نام ضروری ہے، اس اعتبار سے ’’اللہ ‘‘باری تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، جب یہ نام بولا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات دوسرے موجودات سے ممتاز ہو کر سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس سے کون مراد لیا جا رہا ہے۔

وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف:۱۸۰)اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى (طہ:۸) هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (۲۲) هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (۲۳) هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

(الحشر :۲۴)

صفات کے بغیر تعارف ممکن نہیں ہے:
اور کسی بھی ہستی /یا چیز کا ادراک اور اس کا تعارف اس کی صفات سے ہوتا ہے، کسی بھی ہستی کی مجرد ذات کو اس کی صفت سے علیحدہ کرکے نہ سمجھا جا سکتا ہے نہ سمجھایا جا سکتاہے، مثلاً دودھ کو سمجھنا یا بیان کرنا ہے، تو اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کی صفت بیان کریں، کہ جیسے: ایک سیال ، جو سفید رنگ کا ہوتا ہے، اور اس کو غذ ا کے طور پر پیا جاتا ہے اس کو دودھ کہتے ہیں۔ یہ تینوں ہی باتیں دودھ کی صفت ہیں، یعنی سیال ہونا، سفید ہونا، اور غذا کے طور پر پیا جانا ، ان صفات کے علاوہ مزید سمجھانے کےلئے یا دودھ کو دوسرے سفید سیالوں سے ممتاز کرنے کےلئے اور بھی صفات کو بڑھایا جا سکتا ہے، لیکن وہ سب باتیں دودھ کی صفات ہی شمار ہوں گی، مگر دودھ کو بغیر صفات بیان کئے ہوئے مجرد سمجھا / یا سمجھایا نہیں جا سکتا، ایسے ہی دوسری کسی بھی چیز کو سمجھانا ہے تو صفات کا بیان ضروری ہے۔
صفات سے مجرد ذات کا اثبات خارج میں ممکن نہیں ہوتا:
صفات سے مجرد ذات کا اثبات خارج میں ممکن نہیں ہے،  بلکہ صفات سے مجرد ذات کے اثبات کے نتیجہ میں ہی عقیدہ حلول پیدا ہوتا ہے جو نصاری کے شرک سے بھی بدتر اور صریح کفر ہے۔

فَإِنَّ إِثْبَاتَ ذَاتٍ مُجَرَّدَةٍ عَنْ جَمِيعِ الصِّفَاتِ لَا يُتَصَوَّرُ لَهَا وُجُودٌ فِي الْخَارِجِ، وَإِنَّمَا الذِّهْنُ قَدْ يَفْرِضُ الْمُحَالَ وَيَتَخَيَّلُهُ، وَهَذَا غَايَةُ التَّعْطِيلِ. وَهَذَا الْقَوْلُ قَدْ أَفْضَى بِقَوْمٍ إِلَى الْقَوْلِ بِالْحُلُولِ وَالِاتِّحَادِ، وَهُوَ أَقْبَحُ مِنْ كُفْرِ النَّصَارَى، فَإِنَّ النَّصَارَى خَصُّوهُ بِالْمَسِيحِ، وَهَؤُلَاءِ عَمُّوا جَمِيعَ الْمَخْلُوقَاتِ.

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۱۱)

تعطیل  :
قرآن مجید میں صفات باری تعالیٰ کا اثبات آخرت کے اثبات سے بھی زیادہ بیان کیا گیا ہے۔ اور قرآن نے جو کچھ محکم طور پر بیان کیا ہے اس کو ماننا لاز م اور ضروری ہے۔
اللہ کی صفات کے انکار کرنے کو تعطیل کہتے ہیں ، یعنی اللہ تعالیٰ کو صفات سے مجرد قرار دینا،  یا اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کو کم کردینا یہ تعطیل ہے اور کفر ہے، اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں اور قرآن ان کے بیان سے بھرا ہوا ہے۔

وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف :۱۸۰) معنى الزيادة في الأسماء التشبيه والنقصان التعطيل فإن المشبهة وصفوه بما لم يأذن فيه والمعطلة سلبوه ما اتصف به ولذلك قال أهل الحق : إن ديننا طريق بين طريقين لا بتشبيه ولا بتعطيل( تفسیر القرطبی:۷/۲۸۵)وَمَنْ لَمْ يَتَوَقَّ النَّفْيَ وَالتَّشْبِيهَ زَلَّ وَلَمْ يُصِبِ التَّنْزِيهَ(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۶۰)وَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ: مَنْ شَبَّهَ اللَّهَ بِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنْ أَنْكَرَ مَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ فَقَدْ كَفَرَ

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۴۲)

اللہ کے خوبصورت نام :
جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں یکاّ و تنہا٫ ہے اسی طرح وہ اپنے اسماء و صفات میں بھی منفرد ہے، اس کے جیسے نام اور صفات ہیں اُن میں کوئی بھی اُس کا شریک نہیں ہے، اور اس کی صفات کے بیان کےلئے اس کے خوبصورت نام ہیں، جو اس نےخود اپنے کلام میں اور اپنے رسولوں کے ذریعہ بتلائے ہیں۔

وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف:۱۸۰)اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى

(طہ:۸)     

صفات باری تعالیٰ تک انسانی گمان خود سے نہیں جا سکتا:
اللہ تعالیٰ کا تعارف اس کی صفات سے  ہی حاصل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ادراک کہ اللہ تعالیٰ کیسے ہیں بندہ کا ذہن و خیال اس تک نہیں جا سکتا، محققین نے اسی کے بارے میں کہا ہے: لَا تَبْلُغُهُ الْأَوْهَامُ، وَلَا تُدْرِكُهُ الْأَفْهَامُ: یعنی نہ وہم و گمان ان کی حقیقت تک جا سکتا ہے، اور نہ ہمارا ناقص فہم ان کا پوری طرح سے ادراک کرسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نبی  اپنی دعاؤں میں کہا کرتے تھے: لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك ۔ اور باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلاَ يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا أُوتِيتُم مِّن الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً۔ اللہ تعالیٰ کا اسم ذات یعنی ’’اللہ‘‘ اس معنی کر بھی ہے  کہ :وہ ہستی جس کی کنہ کا ادارک ممکن نہیں ہے اس کو اللہ کہتے ہیں، اس کا ذکر ہم آگے اسم ذات یعنی اللہ کے تحت مستقل بھی کریں گے۔
اسماء و صفات الہٰی  میں فرق:
اللہ کے اسماء اس کی صفات پر بنے ہوئے نام ہیں، مثلاً اللہ کی ایک صفت علم ہے، جو آیت : يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ (البقرۃ :۲۵۵)۔ میں بیان کی گئی ہے، اس صفت کا اظہار  مثلاً : اللہ کے اسم ’’العلیم‘‘ میں کیا گیا ہے۔ اسی طرح اللہ کی ایک صفت رزق دینا ہے، جو آیت : اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (الشوری:۱۹) ۔ میں بیان ہوئی ہے، اس صفت کا اظہار مثلاً  اللہ کے نام ’’الرزاق‘‘ میں ہوا ہے۔

إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (الشعراء:۲۲۰) إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ

(الذاریات:۵۸)

          اللہ تعالیٰ کی بعض صفات وہ ہیں جن سے بنے ہوئے اسماء اللہ تعالیٰ کےلئے قرآن و سنت میں وارد ہوئے ہیں، اور بعض وہ صفات ہیں جو صفت کے طور پر تو اللہ کےلئے استعمال ہوئے ہیں لیکن ان سے بنا ہوا کوئی اسم اللہ کے لئے استعمال نہیں ہوا ہے، مثلاً ارادہ اور مشیت اللہ کی صفات ہیں، صنعت اللہ کی صفت ہے، اسی طرح محض ’’مقابلہ ‘‘ میں مکر اور خداع بھی اللہ کے صفات فعلی میں استعمال ہوئے ہیں لیکن ان سے بنے اسماء اللہ کےلئے قرآن و سنت میں کہیں استعمال نہیں ہوئے۔

فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ (الأنعام:۱۲۵) وقال تعالى: {وَمَا تَشَاءُونَ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَالتكوير: ۲۹)صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ (البقرۃ:۱۳۸) صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ (النمل:۸۸) يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُم

(النساء: ۱۴۲)

          اب اس کا حکم یہ ہے کہ قرآن و سنت نے جو ثابت کیا ہے وہ اللہ کےلئے ثابت ہے، اور قرآن و سنت نے اللہ کےلئے جو ثابت نہیں کیا ہے وہ ثابت نہیں ہے، اس لحاظ سے جن صفات پر کوئی نام اللہ کےلئے قرآن و سنت میں آیا ہے وہ اللہ کے اسماء حسنی کا حصہ ہے، اور جن صفات سے کوئی اسم اللہ کےلئے استعمال نہیں ہوا ہے اس میں محض صفت ثابت ہے ان کےلئے کوئی اسم اپنی طرف سے نہیں بنایا جائے گا۔

وَمَنْ أَنْكَرَ مَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ فَقَدْ كَفَرَ، وَلَيْسَ فِيمَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ وَلَا رَسُولُهُ تَشْبِيهٌ.

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۴۲)

اسماءو صفات باری تعالیٰ توقیفی ہیں:
اللہ تعالیٰ کی انہیں صفات کا اثبات کیا جائے گا جن کو قرآن و سنت نے بیان کیا ہے، اور ان صفات کی نفی کی جائے گی جن کی قرآن و سنت میں نفی کی گئی ہے، اور ان باتوں کے بارے میں سکوت اختیار کیا جائے گا جن کے بارے میں قرآن و سنت نے سکوت اختیار کیا ہے۔
کیونکہ قرآن و سنت کی تنبیہ ہے کہ بندے اللہ کی صفات اوراس کے نام خود سے وضع نہیں کر سکتے ، اگر وہ ایسا کریں گے تو اس میں صرف غلطی نہیں کریں گے بلکہ اللہ کی شان میں گستاخی کے مرتکب بھی ہو سکتے ہیں، جیسا کہ دنیا کی دیگر مشرک اقوام نے اس راستہ میں ٹھوکر کھائی ہے اور حق سے بہت دور جا پڑے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے اسما٫ و صفات کے بارے میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اس کے متعلق جتنا سکھایا گیا ہے اسی کے دائرہ میں رہیں، یہ توقیفی معاملہ ہیں۔

قال الإمام أحمد رحمه الله: "لا يوصف الله إلا بما وصف به نفسه أو وصفه به رسوله صلى الله عليه وسلم لا نتجاوز القرآن والسنة" (معتقد أهل السنة والجماعة في توحيد الأسماء والصفات:۱/۵۶)وقال شيخ الإسلام ابن تيمية: "وطريقة سلف الأمة وأئمتها أنهم يصفون الله بما وصف به نفسه، وبما وصفه به رسوله صلى الله عليه وسلم"

( منهاج السنة: ۲/۵۲۳)

وأسماء الله عز و جل تؤخذ توقيفا ولا يجوز أخذها قياسا

(اصول الدین: ۱/۱۰۸)

توقیفی امر کے معنی:
امر توقیفی اس بات کو کہتے ہیں کہ: اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے ایک بات مقرر کردی گئی، اور ساتھ ہی یہ بھی طے ہے کہ اس میں بندے اپنی جانب سے کوئی حک و اضافہ اور کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے۔چنانچہ بندے اللہ تعالیٰ کا جتنا تعارف سمجھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام میں اور رسول اللہ  کی تعلیم میں دے دیا ہےبندوں کو اسی کا پابند رہنا ہے۔
اسماء و صفات کے باب میں اجتہاد و قیاس آرائی کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔اس باب میں قیاس آرائی انسان کو یقینی طور پر حق سے گمراہ کردیتی ہے، باری تعالی کا ارشاد ہے :وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ(الاعراف: ۱۸۰-باری تعالی کے ناموں کے ساتھ الحاد کی تفسیر میں مفسرین نے یہی لکھا ہے کہ اﷲ کے ایسے نام بتانا جو خود اﷲ سے ثابت نہیں ہیں۔
صفات باری تعالیٰ کو توقیفی کیوں رکھا گیا:
اس معاملہ کو توقیفی اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ کسی بھی شے یا ہستی کا خود سے تعارف وہی دے سکتا ہے جو اس سے پوری طرح واقفیت رکھتا ہو، اور جس کو مکمل تعارف نہ ہو اس سے غلطی بھی ہوسکتی ہے۔
پھر انسان کی عقل ناقص اور اس کی ما فی الضمیر کی ادائیگی میں نقص بھی اس میں رکاوٹ ہے ، اس لئے بھی کہا گیا کہ :اللہ تعالیٰ نے خود اپنی صفات اور اپنا تعارف پیغمبروں کے ذریعہ دے دیاہے، اب اس میں کسی بھی دخل اندازی کی ممانعت ہے۔
تمثیل و تشبیہ:
اللہ تعالیٰ کی صفات ثابت ہیں لیکن اسی طرح جیسا کہ خود اللہ نے اپنے کلام میں بیان کیا ہے، اور پیغمبر  نے اللہ کے دئے ہوئے علم کے مطابق ان کی تشریح کی ہے، اثبات صفات میں اللہ اور اس کے رسول کی بیان کردہ انہیں حدود میں رہنا ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، لیکن انسانی ذہن صفات کے بارے میں کئی اعتبارات سے غلطی کرتا ہے، صفات کو ثابت کرنے میں قرآن نے ایک اور تنبیہ یہ کی ہے کہ : ’’اللہ کی صفات ثابت ہیں، لیکن اس کا مثل کوئی نہیں ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ کے جیسا کوئی نہیں ہے، نہ ذات میں نہ صفات میں اور نہ ہی افعال میں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی جو خصوصیات ہیں مخلوقات میں کسی کو اس سے متصف نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی اللہ کی صفات میں سے کسی شے میں مخلوقات اس کے مثل ہوسکتی ہیں، اللہ بندوں جیسا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے ارشادہے : لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۔جو لوگ غیر اللہ میں سے کسی کو اللہ کا مثل اور اس کے مشابہ قرار دیتے ہیں اس میں ان پر صاف طور پر رد کردیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے بعض ناموں کے بارے میں عام انسان کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ شائد یہ صفات اللہ میں بندوں جیسی ہے، یا بندوں میں اس جیسی صفات اللہ کے مثل ہیں، لیکن اس طرح کا عقیدہ رکھنا کفر ہے، اللہ کی صفات میں سے ایک صفت خود یہ ہے کہ وہ سب سے جدا ہے، اور اس جیسا کوئی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند و برتر ہے کہ کوئی اللہ کے مثل ہو، اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات اور حقوق میں سب سے یکتا ہے۔
صفات میں یہ بہت اہتمام سے جاننا ہے کہ:جس نے ’’اللہ‘‘ کو مخلوق کے مشابہ کردیا اس نے کفر کیا ہے،اور جس نے ’’مخلوق‘‘ کو اللہ کے مشابہ کردیا اس نے بھی کفر کیا ہے، کیونکہ باری تعالیٰ کے مثل کوئی نہیں ہے۔

فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (الشوری:۱۱) لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَى (النحل:۶۰) وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

(الروم:۲۷)

وَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ: مَنْ شَبَّهَ اللَّهَ بِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنْ أَنْكَرَ مَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ فَقَدْ كَفَرَ، وَلَيْسَ فِيمَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ وَلَا رَسُولُهُ تَشْبِيهٌ.وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهْوَيْهِ: مَنْ وَصَفَ اللَّهَ بشيء فَشَبَّهَ صِفَاتِهِ بِصِفَاتِ أَحَدٍ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَهُوَ كَافِرٌ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۴۲)وَمَنْ لَمْ يَتَوَقَّ النَّفْيَ وَالتَّشْبِيهَ زَلَّ وَلَمْ يُصِبِ التَّنْزِيهَ

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:۱/۶۰)

اسماء باری تعالیٰ میں الحاد:
 اللہ کے ناموں میں کسی بھی قسم کا تصرف کرنا یہ الحاد ہے، مثلاً اللہ کے ناموں کو بدل دینا جیسے، اللہ سے اس کی مؤنث ’’لات‘‘ بنانا، یا العزیز سے ’’عُزی‘‘ بنانا، اور منان سے ’’مناۃ ‘‘بنانا، یہ اسماء باری تعالیٰ میں الحاد کرنا ہے اور ممنوع ہے۔
 اسی طرح اللہ کے نام و صفات میں اپنی عقل سے کچھ اضافہ کرنا یہی تشبیہ ہے، کیونکہ بندہ اضافہ وہی کر سکتا ہے جو وہ سوچ سکتا ہے اور وہ اسی دائرہ میں سوچتا ہے جتنا اس کا مَبْلغِ علم ہے، اس کا مَبْلغِ علم مخلوقات کا دائرہ ہے، اب وہ جو بھی اضافہ کرے گا اسی سے اضافہ کرے گا، اور اس میں وہ لازما اللہ کو مخلوقات کے مشابہ کردے گا، مثلاً اللہ کو باپ ماننا جیسے نصاری نے کیا ہے، یا اللہ کا جسم ماننا جیسے عام طور پر مشرکین کرتے ہیں، آیت کی رو سے یہ سب الحاد میں شامل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا نام بنانا یا کوئی ایسی صفت بیان کرنا جو خود اللہ تعالیٰ  اور پیغمبر  کی تعلیمات میں نہیں ہے یہ کفر اور شرک ہے۔
اور اللہ کی ثابت صفات میں کمی کردینا بھی الحاد ہے، اس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے کہ یہ تعطیل ہے۔

وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف :۱۸۰) معنى الزيادة في الأسماء التشبيه والنقصان التعطيل فإن المشبهة وصفوه بما لم يأذن فيه والمعطلة سلبوه ما اتصف به ولذلك قال أهل الحق : إن ديننا طريق بين طريقين لا بتشبيه ولا بتعطيل

(تفسیر القرطبی: ۷/۲۸۵)

صفات باری تعالیٰ میں الحاد کا نتیجہ:
اسما٫ و صفات باری تعالیٰ کو وضع کرنے میں دخل اندازی نہ کرنے کی اس تنبیہ کو اس اعتبار سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ بندے جب پیغمبرانہ تعلیمات کی پرواہ نہ کرکے اپنے خالق و مالک اور اس کی صفات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اس کے وقار ،تقدیس اور سبحانیت کو پیش نظر رکھ ہی نہیں سکتے، اور اس کی ایسی تصویر کشی کرتے ہیں جس سے بجائے خالق و پروردگار کی تعریف ہونے کے الٹا توہین لازم آتی ہے، مثلاً انسانوں نے خالق و مالک کی قدرت اور انعامات کو بیان کرنا چاہا تو اس  کی ایک خیالی مورت بنا کر اس کو کئی سَر دئے دئیے، اور اس کا خود ساختہ جسم بنا کر اس کو کئی ہاتھ دے دئیے، اور اِن ہاتھوں میں پتہ نہیں کیا کچھ تھما دیا، اور اُن کے ساتھ خود ساختہ فلسفے جوڑ دئیے۔ قہاریت و جباریت کے اظہار کےلئے بھیانک چہرے بنا دئیے، جانوروں کی تصویر کو خدا کی تصویر بتلایا، اور کہیں جانوروں کو اس کی سواری بنایا، دنیا کی کوئی بھی قوم جو صفات باری تعالیٰ کے بیان میں پیغمبروں کی تعلیمات تک پابند نہیں رہی ،ان میں سے ہر ایک ایسی کسی نہ کسی بے راہ روی کا شکار رہی ہے۔
اس بارے میں انسانی ذہن کی اُپَچ کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے، کہ ہندو ’’گنیش‘‘کی تصویر سال بسال بناتے رہتے ہیں، اور ہر سال اپنے ذہن سے اسکی قدرت کےاظہار کےلئے جو تنوع اختیار کرتے ہیں وہ انسانی ذہن کے نقص اور دیوالیہ پن کو ظاہر کرنے کےلئے نہایت عبرت انگیز ہے،  سر گنیش کا رکھتے ہوئے وہ کہیں اس کا دھڑ رام کا بناتے ہیں، تو کہیں کرشن کا، اور کہیں شیو کا ،تو کہیں کسی پہلوان کے کسرتی بدن پر اس کا سر جوڑ دیتے ہیں، اور اس سے انسان سمجھتا ہے کہ اس نے خدا کی طاقت کا اظہار کردیا، انسانی ذہن کی یہی سب کچھ کارستانیاں اور محدودیت ہوتی ہے، ہر مشرک قوم میں یہ بے ہودگیاں پائی جاتی ہیں، جو خالق کائنات کی تقدیس و سبحانیت کے بالکل برخلاف اور اہانت آمیز طریقہ ہے، اس لئے انسان کو اس بات سے منع کیا گیا کہ وہ صفات باری تعالیٰ کا بیان اس کی تقدیس اور سبحانیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہیں  کر سکتا ، بس وہ اسی دائرہ میں محدود رہے جو پیغمبروں کی تعلیمات میں کھینچ دیا گیا ہے۔
تعطیل اور تمثیل و تشبیہ سے اجتناب:
ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کے معاملہ میں تعطیل سے بھی بچتے ہیں، یعنی صفات کا انکار نہیں کرتے، اور تمثیل اور تشبیہ سے بھی بچتے ہیں، اور اللہ کی صفات کو بندوں کی صفات جیسا قرار نہیں دیتے، اور کیفیت سے بھی بچتے ہیں، یعنی جن صفات کی کیفیات کو اپنی جانب سے بیان کرنے میں بظاہر تمثیل اور تشبیہ لازم آتی ہے ان کی کیفیت کو اللہ کے حوالہ کرتے ہیں کہ وہ ان کی حقیقت جانتا ہے، باقی چونکہ اللہ نے ان کو بیان کیا ہے اس لئے ان کو ویسے ہی حقیقی مانتے ہیں جیسا کہ اللہ نے بیان کیا ہے۔
اللہ کے کلمات  کی کوئی انتہا٫ نہیں ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ  نے فرمایا: إن لله تسعة وتسعين اسما مائة إلا واحدا من أحصاها دخل الجنة (صحیح بخاری، باب إن لله مائة اسم إلا واحدا، کتاب التوحید) اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو ان پر کاربند ہوجائے یعنی ان کے مطابق علم و عمل بنائے وہ گویا جنت میں داخل  ہو گیا۔اس حدیث کے ظاہر متن سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نام اور صفات بس ۹۹ ہی ہیں، کیونکہ افعال اور صفات باری تعالیٰ کی کوئی انتہا نہیں ہے، اس لئے ان کا احصاء و شمار محال اور نا ممکن ہے، بندہ کی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ تمام صفات و افعالِ باری تعالی کا احاطہ کرلے، اسی لئے باری تعالیٰ نے اپنے کلام میں واضح طور پر فرمادیا: قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (کہف:۱۰۹) اسی طرح قرآن مجید میں اس حقیقت کاذکر ایک اور جگہ اس انداز سے فرمایاگیا ہے: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ(لقمان:۲۷)
البتہ اﷲ تعالی نے اپنا اس حد تک تعارف جس کا تحمل اس کے بندے بآسانی کرسکتے ہیں ، اور وہ ان کی لازمی ضرورت بھی ہے اپنے کلام میں تفصیل کے ساتھ کرایا ہے۔ اور اپنے اسماء و صفات کو کھول کھول کر بیان فرمایا ہے ، اور اگر یہ کہا جائے کہ کُل قرآن تعارفِ اِلٰہ اور تعارفِ توحید پر ہی مشتمل ہے تو قطعاً مبالغہ نہیں ہوگا ، قرآن میں یا تو یہ ہے کہ اﷲ کیا ہے(اسماء و صفات)یا اس بات کا ذکر ہے کہ اﷲ تعالیٰ کیاکرتے ہیں(ربوبیت)، یا اس بات کا ذکر ہے کہ اﷲ کیا چاہتے ہیں(توحید قصد و طلب /الوہیت)، یا پھر اس بات کا ذکر ہے کہ خالق و مالک اور رب ذو الجلا ل کے ماننےوالے کون ہیں اور ان کی جزاء کیا ہے، یا اس بات کا ذکر ہے کہ ُاس سے انحراف اور اعراض کرنے والے کون ہیں اور ان کی سزاء کیا ہے۔
پھر اللہ کے بہت سے نام صرف اللہ کے علم میں ہیں:اہل سنت و الجماعت اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان تمام اسما٫ و صفات پر تفصیلی ایمان لاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اور اللہ کے رسول  نے ہمیں سکھائے ہیں، اور ان ناموں اور صفات پر بھی اس طرح اجمالی ایمان لاتے ہیں جو اللہ نے اپنے علم غیب میں رکھے ہیں کہ وہ ہیں۔
۹۹ ناموں کی تعداد صرف اسماء حسنی سے متعلق ہے، معلوم صفات بھی جن سے اسماء بنے ہوئے نہیں وہ بھی کسی تعداد میں محصور و محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کو قرآن و سنت میں دی گئی تفصیلات میں گننا بھی ممکن نہیں ہے۔
حدیث پاک میں ما ئۃ الا واحدۃ کا مطلب کیا ہے؟
 علماء اہل سنت و الجماعت نے اس بارے میں متفقہ طور پر کہا ہے کہ حدیث میں اس عدد کے ذکر سے یہ بیان کرنا مقصد نہیں ہے کہ اسماء الہٰی کی تعداد کیا ہے ، کہ ان ۹۹کے علاوہ اﷲ کے اسماء ہیں ہی نہیں ،بلکہ اصل مقصود ان اسماء کی فضیلت بیان کرنا ہے، کہ جو شخص ان ۹۹اسماء کو یاد کرکے، ان کے مطابق اپنا ایمان اور عمل بنائے تو یہ تعداد بھی اﷲ کے تعارف کےلئے بہت ہے اور ان کے ذریعہ اﷲ کی بابت بننے والا صحیح ایمان اور صحیح عقیدہ مکلف کی نجات اور دخول جنت کےلئے کفایت کرجائے گا، وہ تمام اسماء الہٰی جن کو ہمارے سامنے ذکر نہیں کیا گیا ہے ان کا احاطہ ضروری نہیں ہے۔
اس بات کی تائید کہ اسماء حسنٰی اس تعداد میں محصور نہیں ہیں حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں انھوں نے آپ کی ایک دعا نقل فرمائی ہے، جس میں ایسے اسماء کا ذکر بھی ہے جو بندوں کو بتلائے بھی نہیں گئے آپ نے ایک مرتبہ دعاء کرتے ہوئے فرمایا :أسألک بکل اسم ھو لک سمیت بہ نفسک ، أو أنزلتہ فی کتابک أو علّمتہ أحدا من خلقک، أو استأثرت بہ فی علم الغیب عندک۔ (ائے اﷲمیں آپ سے آپ کے ہر اس نام کے واسطے سے دعاء کرتا ہوں جو آپ نے اپنے لئے بیان کیا ہے، یا اپنی کتاب میں اس کو نازل کیا ہے، یا اپنی مخلوقات میں سے کسی کو سکھلایا ہے، یا آپ نے اس کو اپنے علم غیب میں ہی رکھا ہے )امام احمد نے مسند میں اس روایت کی تخریج کی ہے، اور ابن حبان نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے، اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اسماء ایسے بھی ہیں کہ اﷲ نے اپنی کسی مصلحت و حکمت سے بندوں کو ان کا علم نہیں دیا ہے۔اسی طرح کی ایک دعا ء امام مالک نے کعب أحبار سے بھی نقل کی ہے اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ اسماء الہٰی ۹۹عدد میں محصور نہیں ہیں، حاصل یہ کہ جس حدیث میں ۹۹کا ذکر ہے ، اس میں اسماء حسنٰی کی تعداد بتلانا غرض نہیں ہے بلکہ خاص ۹۹اسماء کی فضیلت بتلانا مقصود ہے۔وہ دعا جو امام مالک نے نقل کی ہے وہ یہ ہے:و أسألک بأسمائک الحسنٰی ما علمتُ منھا و ما لا أعلم۔ (ائے اﷲ میں آپ کے اسماء حسنیٰ جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا ان کے واسطہ سے مانگتا ہوں)طبری نے بھی اس کو قتادہ سے نقل کیا ہے۔اور حضرت عائشہ سے بھی ثابت ہے کہ اسی طرح کی دعا ء وہ آپکی موجودگی میں کیا کرتی تھیں ۔

(بیہقی: ص۱۲۔۱۴)

قال الإمام البيهقي بعد أن ساق عدة روايات في هذا الباب وفيها: "من أحصاها دخل الجنة"، قال رحمه الله: وليس في قوله عليه الصلاة والسلام: "إن لله تسعة وتسعين اسماً" نفي غيرها، وإنما وقع التخصيص بذكرها لأنها أشهر الأسماء وأبينها معاني. وفيها ورد الخبر أن من أحصاها دخل الجنة.(الاسماء و الصفات:۱/۱۱)عن عبد الله بن مسعود قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « ما أصاب مسلما قط هم ولا حزن فقال : اللهم إني عبدك وابن عبدك وابن أمتك ، ناصيتي بيدك ، ماض في حكمك ، عدل في قضاؤك ، أسألك بكل اسم هو لك سميت به نفسك أو أنزلته في كتابك أو علمته أحدا من خلقك أو استأثرت به في علم الغيب عندك أن تجعل القرآن ربيع قلبي وجلاء حزني ، وذهاب همي وغمي ، إلا أذهب الله عنه همه وأبدله مكان همه فرحا » ، قالوا : يا رسول الله ألا نتعلم هذه الكلمات ؟ قال : « بلى ينبغي لمن سمعهن أن يتعلمهن

(الاسماء و الصفات:۱/۱۲)                                             

اسما٫ حسنی کی تعیین :
اللہ تعالیٰ کے اسما٫ حسنی قرآن و حدیث میں بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن  کسی ایک ہی جگہ یا ایک ہی حدیث میں یہ پورے ۹۹ نام گنوائے گئے ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں تفصیل ہے:اوپر مذکور حدیث ہی سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں منقول ہے جس میں یہ ۹۹ نام موجود ہیں۔

  ھو اﷲ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم الملک القدوس السلام المؤمن المھیمن العزیز الجبار المتکبر الخالق الباریئ المصور الغفار القھار الوھاب الرزاق الفتاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل السمیع البصیر الحکم العدل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العلی الکبیر الحفیظ المقیت الحسیب الجلیل الکریم الرقیب المجیب الواسع الحکیم الودود المجید الباعث الشھید الحق الوکیل القوی المتین الولی الحمید المحصی المبدیئ المعید المحیی الممیت الحیی القیوم الواجد الماجد الواحد الصمد القادر المقتدر المقدم المؤخر الأول الآخر الظاھر الباطن الوالی المتعالی البر التواب المنتقم العفو الرؤوف مالک الملک ذو الجلال و الاکرام المقسط الجامع الغنی المغنی الضار النافع النور الھادی البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور

نن ترمذی

 الله الواحد الصمد الأول الآخر الظاهر الباطن الخالق البارء المصور الملك الحق السلام المؤمن المهيمن العزيز الجبار المتكبر الرحمن الرحيم اللطيف الخبير السميع البصير العليم العظيم البار المتعال الجليل الجميل الحي القيوم القادر القاهر العلي الحكيم القريب المجيب الغني الوهاب الودود الشكور الماجد الواجد الوالي الراشد العفو الغفور الحلم الكريم التواب الرب المجيد الولي الشهيد المبين البرهان الرءوف الرحيم المبدئ المعيد الباعث الوارث القوي الشديد الضار النافع الباقي الواقي الخافض الرافع القابض الباسط المعز المذل المقسط الرزاق ذو القوة المتين القأئم الدائم الحافظ الوكيل الفاطر السامع المعطي المحي المميت المانع الجامع الهادي الكافي الأبد العالم الصادق النور المنير التام القديم الوتر الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يكن له كفوا أحد

(سنن ابن ماجة)

اس کے بارے میں چند محققین کی رائے یہ ہے کہ یہ ۹۹ نام نبی  کے گنائے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ آپ کے ارشاد پر راویوں کی جانب سے قرآن سے نکالے ہوئے ہیں، اور حدیث میں ان کا اِدْراج ہوا ہے، جس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں بیان کئے ہوئے اوپر مذکورہ بالا اسما٫ اور ان کی ترتیب میں فرق ہے، نیز ان میں کئی ایسے اسماء ہیں جو قرآن و حدیث میں اسم کی شکل میں وارد نہیں ہوئے ہیں، بلکہ انہیں صفات فعلیہ سے اخذ کرکے اسم بنایا گیا ہے، جیسے المعز المذل (یہ تعز من تشاءو تذل من تشاء سے مأخوذ ہیں)، اسی طرح الباسط اورالقابض ( یقبض و یبصط  سے مأخوذ ہیں)، اور المبدیٔ اور المعید ہے ( یہ إنہ ھو یبدیٔ و یعید سے مأخوذ ہیں)وغیرہ۔
یہ بات متفق علیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ۹۹ نام قرآن میں ہیں، حافظ ابن حجر عسقلانی نے محققین کی قرآن سے ان ناموں کے استخراج کے بارے میں غیر معمولی تحقیق پیش کی ہے اور اخیر میں قرآن سے نکالے ہوئے ان اسما٫ و صفات کو ذکر کیا ہے۔

  اﷲ الرحمن الرحیم الملک القدوس السلام المؤمن المھیمن العزیز الجبار المتکبر الخالق الباریئ المصور الغفار القھار التواب الوھاب الخلاق الرزاق الفتاح العلیم الحلیم العظیم الواسع الحکیم الحیی القیوم السمیع البصیر اللطیف الخبیر العلی الکبیر المحیط القدیر المولی النصیر الکریم الرقیب القریب المجیب الوکیل الحسیب الحفیظ المقیت الودود المجید الوارث الشھید الولی الحمید الحق المبین القوی المتین الغنی المالک الشدید القادر المقتدر القاھر الکافی الشاکر المستعان الفاطر البدیع الغافر الأول الآخر الظاھر الباطن الکفیل الغالب الحکم العالم الرفیع الحافظ المنتقم القائم المحیی الجامع الملیک المتعالی النور الھادی الغفور الشکور العفو الرؤوف الأکرم الأعلی البر الحفی الرب الالہ الواحد الأحد الصمد الذی لم یلد و لم یولدو لم یکن لہ کفوا أحد۔

(فتح الباری)



ہم اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کےاہم صفات کی تصدیق کس طرح کریں؟



          مفہوم کے اعتبار سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسما٫ و صفات اس طرح ہیں:
۱-اللہ تعالیٰ کا اسم ذات
لفظ ’’اللہ‘‘ باری تعالیٰ کا اسم عَلَمْ ہے،  یعنی وہ اسم جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر دلالت کرتاہے، اسی اسم سے تمام دیگر اسماء و صفات منسوب کئے جاتے ہیں ، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے دیگر تمام صفاتی ناموں کو ’’اللہ‘‘ کی صفت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے رحمن اﷲ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، یہ نہیں کہا جاتا کہ اﷲ رحمن کے ناموں میں سے ہے، یا اسی طرح کہا جاتا ہے عالم الغیب  اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، یہ نہیں کہا جاتا کہ اللہ عالم الغیب کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔

هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ * هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ * هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الحشر: ۲۲ -۲۴) وللهِ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا (الأعراف : ۱۸۰)عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن لله تسعة وتسعين اسما، مائة إلا واحدًا من أحصاها دخل الجنة"

(رواہ الشیخین)

’’اللہ‘‘ باری تعالیٰ  کا ایسا اسم ذات ہے جس سے کسی اور کو موسوم نہیں کیا جاتا، یہ اسم صرف باری تعالیٰ جلّ جلالہ کے لئے خاص  ہے، اس اسم کے متعدد معانی ہیں :
(۱) وہ ہستی جس کے آگے عقلیں حیران رہ جاتی ہیں ۔
(۲) وہ ہستی جس سے چمٹا جاتا اور اسی کی جانب رجوع کیا جاتا ہے
(۳) وہ ہستی جس کی پناہ لی جاتی ہے۔ 
(۴) وہ ہستی جس کے آگے حقیقی سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے
(۵) وہ ہستی  جو حقیقتاً بلند تر ین ہے جس کے آگے ہر کوئی ہیچ ہے۔ اللہ اسم ذات ہونے کے ساتھ ان تمام معانی و صفات سے متصف ہے۔

وهو اسم لم يسم به غيره تبارك وتعالى…هو مشتق من وله: إذا تحير، والوله ذهاب العقل؛ يقال: رجل واله، وامرأة ولهى، وماء موله: إذا أرسل في الصحاري، فالله تعالى تتحير أولو الألباب والفكر في حقائق صفاته…وقيل: إنه مشتق من ألهت إلى فلان، أي: سكنت إليه، فالعقول لا تسكن إلا إلى ذكره، والأرواح لا تفرح إلا بمعرفته…وقيل: اشتقاقه من أله الفصيل، إذ ولع بأمه، والمعنى: أن العباد مألوهون مولعون بالتضرع إليه في كل الأحوال، قال: وقيل: مشتق من أله الرجل يأله: إذا فزع من أمر نزل به فألهه، أي: أجاره، فالمجير لجميع الخلائق من كل المضار هو الله سبحانه؛ لقوله تعالى…وقيل: إنه مشتق من الارتفاع.

(ابن کثیر:۱/۱۲۴،۱۲۳)

۲-امہات الصفات
          وہ اسماء جو ذات باری تعالی کےلئے ثابت ہیں ان کو  صفات ذات  اور امہات الصفات کہتے ہیں ، یعنی وہ صفات جن کے بغیر باری تعالیٰ کی ذات کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔یہ صفات  حیات، علم، ارادہ، قدرت، سماعت، بصارت، کلام ہیں۔ ان صفات کے لئے اسما٫ مثلاً : الحیی العلیم، القدیر البصیر السمیع وغیرہ ہیں۔اور اسی قسم میں صفات مثلاً وجہ ، عین، ید، رجل ، اصابع  وغیرہ بھی شامل ہیں ۔
حیات /الحیی :
حیات اللہ تعالیٰ کی صفت بھی ہے اور اس صفت سے اللہ تعالیٰ کا نام  الحیی ہے، اللہ تعالیٰ کی حیات بذاتہ ہے، یعنی وہ خود سے الحیی ہے اس کی حیات کسی کی عطاء نہیں ہے، اور اس کی حیات کامل و مکمل درجہ کی ہے۔ اور اس کی حیات ایسی ہے کہ نہ اس کو موت ہے، اور نہ وہ ہلاک ہونے والا ہے۔

اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ(البقرۃ:۲۵۵)اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (آل عمران:۲)وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ وَكَفَى بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا (الفرقان:۵۸)كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

(القصص: ۸۸)

مخلوقات کی حیات اللہ کی تخلیق ہے، چنانچہ اللہ کے علاوہ جس کو بھی حیات حاصل ہے اللہ کی عطاء سے ہے، وہ جسے چاہتا ہےاور جب تک چاہتا ہے زندگی دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے جب چاہتا موت دیتا ہے۔ وہی الحیی اس لائق ہے کہ اسی کی عبادت ہو، اس کے علاوہ کوئی الہ نہیں ہے۔

تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۱) الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (۲)(سورۃ الملک)تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (۲۷)(آل عمران)إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللَّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (۹۵)(الأنعام)قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (۳۱)(یونس)يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ (۱۹)(الروم)هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۶۵)

(الغافر)

اللہ ازلی و ابدی ہیں:
اللہ کو الحیی ماننے میں یہ بھی ماننا ہے کہ اللہ ہمیشہ سے ہیں، اور ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے اپنی اس صفت کو اس طرح بیان کیا ہے کہ وہی اول ہے وہی آخر ہے، اس سے پہلے کوئی نہیں اور اس سے آخر کوئی نہیں ، یعنی ایسا ممکن نہیں کہ وہ کبھی ہلاک ہوجائے اور اس کے بعد کچھ باقی رہ جائے بلکہ باقی رہ جانے والی ہستی صرف اللہ کی ہے، اس کے علاوہ سب کو فنا ہے۔
ہاں جنت و جہنم ابدی ہیں، مگر ازلی نہیں ہیں، اللہ کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے ہیں، اور ان کا ابدی ہونا بھی اللہ کی مشیت کا مرہون منت ہیں، اللہ ان کو ہمیشہ رکھیں گے اس لئے وہ ابدی ہیں ، اسی طرح اہل جنت اور اہل جہنم بھی ازلی نہیں ہیں بلکہ ابدی ہیں، اور ان کا ہمیشہ رہنا اللہ کی عطا٫ سے ہے ذاتی نہیں ہے، اللہ میں قدرت ہے کہ جس وقت چاہے ان کو پھر فنا کردے۔

هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (الحدید:۳) كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (۲۶) وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن:۲۷)كَانَ أَبُو صَالِحٍ يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ وَكَانَ يَرْوِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

(صحیح مسلم:۴۸۸۸،و عن عائشۃ و ام سلمۃ بمعناہ)

اللہ کی صفت حیات میں شرک:
غیر اللہ میں سے جس کسی کو بھی ان مذکورہ معانی میں سے کسی ایک معنی میں ذی حیات مانا جائے یہ اللہ کی صفت حیات میں شرک کرنا ہے، مثلاً یہ ماننا کہ کسی کی حیات ذاتی ہے اللہ کی عطائی نہیں یہ اللہ کی ذات میں شرک کرنا ہے، یا یہ ماننا کہ وہ ازلی ہے یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یا کسی کےلئے یہ ماننا کہ اس کو موت یا فنا نہیں ہے یہ بھی اللہ کی صفت حیات میں شرک کرنا ہے، یا یہ ماننا کہ اللہ کے علاوہ کوئی حیات و موت دے سکتا ہے، یا اللہ کے علاوہ کوئی مردہ کو زندہ کر سکتا ہےیہ بھی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یہ سارے ناقابل معافی جرم ہیں، ان کا بدلہ ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔

قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (یونس:۳۱)ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِ الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الحج:۶) أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ وَهُوَ يُحْيِ الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

(الشوری:۹)

علم:
علم اللہ کی صفت بھی ہے اور اس صفت سے اللہ تعالیٰ کا نام  العلیم بھی ہے، اللہ تعالیٰ کےلئے اضافت کی شکل میں عالم الغیب و الشھادۃ  نام بھی قرآن میں وارد ہوا ہے، اسی طرح  علیم بذات الصدور بھی قرآن میں اسم وارد ہوا ہے، اللہ تعالیٰ کی صفت علم کی جو تفصیلات قرآن وحدیث میں وارد ہوئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ:

أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (المائدۃ:۹۷) إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

(آل عمران:۱۱۹)

اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی ہے، اللہ تعالیٰ کا علم لا محدود ہے، اور اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے، اللہ تعالیٰ کا علم تمام کلیات و جزئیات کو شامل ہے، اللہ نے اپنے علم کے مطابق مخلوقات کو پیدا کیا ہے، ان کو پیدا کرنے سے پہلے اس کو ان کا علم حاصل تھا، اور پیدا کرنے کے بعد مخلوقات کی ہر بڑی اور چھوٹی چیز اللہ کے علم میں ہے، کائنات میں ایک ذرہ کے برابر شے بھی اس کے علم سے باہر نہیں ہے، ایک درخت سے ایک پتہ بھی گرتا ہے تو وہ اللہ کے علم میں ہے۔جو کام اور باتیں لوگ علانیہ کرتے ہیں اللہ ان کو بھی جانتا ہے ، اور جو کام اور باتیں بندے چُھپ کر کرتے ہیں ان کو بھی اللہ جانتا ہے، بندہ جو بات زبان سے ظاہر کرتا ہے اللہ اس کو بھی جانتے ہیں اور جو بات دل میں چھپا رکھا ہے اس کو بھی جانتے ہیں۔

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ(البقرۃ:۲۵۵) إِنَّمَا إِلَهُكُمُ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا (طہ:۹۸) وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرۃ:۲۸۲) يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (ھود:۵) وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۱۳) أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الملک:۱۴) إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (النحل:۲۸)وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ (النور:۴۱) إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (فاطر:۸) قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ

(یس:۷۹)

جو باتیں پیش آچکی ہیں اللہ ان کو بھی جانتے ہیں، اور جو باتیں پیش آنے والی ہیں اللہ کو ان کا بھی علم ہے، بندوں کے اعمال، بندوں کا سعادت یا شقاوت پر مرنا، ان کے حشر و نشر کے احوال، جنتیوں اور جہنمیوں کی تفصیل اور ابد الآباد تک کے معاملات سب اللہ کے علم کا حصہ ہیں۔قیامت  کب واقع ہوگی، بیج بونے کے بعد کھیتی کیسے ہوگی، درخت سے پھل کیسے نکلیں گے، رحم مادر میں پرورش پانے والا جنین شقی ہے یا سعید ہے، اور جنین زندہ پیدا ہوگا اور کب پیدا ہوگا یہ سب اللہ ہی جانتے ہیں۔

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ(البقرۃ:۲۵۵)إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرَاتٍ مِنْ أَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَى وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَائِي قَالُوا آذَنَّاكَ مَا مِنَّا مِنْ شَهِيدٍ (فصلت:۴۷) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ (الأعراف:۶) وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا

(غافر:۷)

اللہ تعالیٰ سب کے احوال اور ان کے معاملات کے علم کا احاطہ رکھتے ہیں، اللہ کا علم سب کو محیط ہے، کوئی نہیں ہے جو اللہ کے علم کا احاطہ کر سکے، مخلوقات اور کوئی بھی بندہ اللہ کے علم سے صرف وہی معلوم کر سکتا ہے جو اللہ اسے بتلانا چاہیں، اللہ تعالیٰ جو نہ بتلانا چاہیں کوئی بندہ ، ولی نبی اس کو معلوم نہیں کر سکتے۔

وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ

(البقرۃ:۲۵۵)

اللہ کی صفت علم میں شرک:
اللہ کے علاوہ سب میں علم : عطائی ، محدود اور حادث ہے، اللہ کےلئے صفت علم مذکورہ بالا جن معانی استعمال ہوا ہے اس کو غیر اللہ کےلئے ماننا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، مثلاً غیر اللہ میں سے کسی کےلئے یہ ماننا کہ : اس کا علم ذاتی ہے یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یا غیر اللہ کےلئے یہ ماننا کہ : اس کا علم لا محدود ہے یہ بھی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ یا غیر اللہ کےلئے یہ ماننا کہ اس کا علم قدیم ہے حادث نہیں ہے یہ بھی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، یا یہ ماننا کہ غیر اللہ میں کسی کا علم کلیات و جزئیات سبھی کو شامل ہے یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ یا غیر اللہ میں سے کسی کےلئے یہ ماننا کہ اس کا علم ماضی و مستقل سبھی کو محیط ہے یہ اللہ کے ساتھ اس کو شریک کرنا ہے۔ اور شرک ناقابل معافی جرم ہے ، جس کی سزاء ابد الآباد یعنی ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔

قَالَ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَأُبَلِّغُكُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ

(الأحقاف:۲۳)

غیر اللہ کےلئے صفت علم کو اس طرح ماننا شرک نہیں ہے:
ان معانی سے ہٹ کر صفت علم کو غیر اللہ کےلئے ایسے استعمال کرنا جیسے اللہ اور اس کے رسول نے استعمال کیا ہے شرک نہیں ہے، مثلاً یہ ماننا کہ : بندہ کا علم اللہ کا عطائی ہے، محدود ہے، اور حادث ہے یہ ماننا شرک نہیں ہے۔
بندوں میں معلومات کی سطح الگ الگ ہوتی ہیں، کسی کی کم کسی کی زیادہ، عام آدمی کے مقابلہ میں علماء کا علم زیادہ ہوتا ہے، خیر القرون کا علم بعد والوں کے مقابلہ میں زیادہ راسخ تھا، اور ان میں صحابہ کا علم غیر صحابہ سے زیادہ گہرا اور زیادہ مستحکم تھا، صحابہ سے زیادہ علم انبیاء و رسل کا علم ہے، اور انبیاء و رسل میں سب سے زیادہ علم محمد رسول اللہ  کا علم ہے، مخلوقات میں کسی کا علم آپ کے علم جیسا نہیں ہے، آپ کا علم سب سے فائق تر ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ  کو علم اولین و علم آخرین سے نوازا ہے، ………………جو شخص نبی  کے علم کی صفت میں یہ مانتا ہو کہ آپ کا علم اللہ کا عطاء کردہ ہے، اللہ کے علم کے مقابلہ میں آپ ﷺ کا علم محدود اور حادث ہے تو وہ اللہ کی صفت علم میں شرک کا مرتکب نہیں ہوتا۔
علم غیب:
علم غیب قرآن و سنت کی ایک اصطلاح ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ :’’وہ امور جو اللہ کے علاوہ مخلوقات سے چھپے ہوئے ہوں، مثلاً کل کیا ہونے والا ہے، کسی کی موت کا وقت کیا ہے، قیامت کب واقع ہوگی، مرنے کے بعد  کے احوال کیا ہیں ، قیامت کے احوال کیا ہیں ، اور حشر و نشر کے احوال  کیا ہیں وغیرہ سب غیبی امور میں سے ہیں۔
غیب کا مکمل علم صرف اللہ کو ہے، یعنی کائن و ما یکون کی کوئی بات اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ پیش آ چکی اور پیش آنے والی ہر بات کو اس کی جملہ تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں، جبکہ اللہ کے علاوہ سبھی اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اللہ ان کے علم میں لانا چاہتا ہے۔
اس لحاظ سے ’’عالم الغیب‘‘ صرف اللہ کا نام اور صرف اللہ کی صفت ہے، قرآن مجید میں یہ اصطلاح صرف اللہ تعالیٰ کےلئے استعمال ہوئی ہے، اور غیر اللہ سے مطلقاً اس صفت اور اسم کی نفی کی گئی ہے کہ غیب کا علم سوائے اللہ کے کوئی نہیں رکھتا، نہ فرشتے نہ جن، یہاں تک کہ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ علم غیب نبیوں کو بھی حاصل نہیں تھا، چنانچہ اولو العزم رسولوں میں سے سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے اس کا اعتراف اپنی قوم سے کیا، جبکہ ان کی قوم ان سے عذاب کا مطالبہ کررہی تھی،انہوں نے اپنی قوم سے خطاب کرکےفرمایا: کہ میرے پاس غیب کا علم نہیں ہے، یہ اللہ جانتا ہے کہ تم پر عذاب بھیجا جائے یا نہیں؟ اور بھیجا جائے تو کب بھیجا جائے۔اسی طرح اولو العزم رسولوں میں سے آخری رسول ، انبیاء و رسل میں سب سے افضل، خاتم النبیین محمد الامین  کابھی یہی اعتراف قرآن نے نقل کیا ہے:۔اب جب  انبیاء و رسل اور اولو العزم رسولوں اور افضل الأنبیاء  و علیہم السلام غیب کی باتوں کو نہیں جانتے تھے تو پھر دیگر کا کیا شما ر ہے،چنانچہ اس صفت اور نام میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر اللہ کے اسم ’’عالم الغیب‘‘ کا اطلاق جس معنی میں اللہ کےلئے ہوتا ہے اس معنی میں کسی اور کےلئے کیاجائے جیسا کہ بعض غالی لوگ نبی کی جانب ، اور شیعہ ان کے ائمہ کی جانب اس اسم اور صفت کی نسبت کرتے ہیں یہ صریح شرک ہے۔

قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (النمل:۶۵)هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (الحشر:۲۲)فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ (سبأ:۱۴)عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ (۹) سَوَاءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ (الرعد:۱۰) وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنْفُسِهِمْ إِنِّي إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ (ھود:۳۱)قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ (الأنعام:۵۰)وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (الأنعام:۵۹)قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

(الأعراف:۱۸۸)

کیا اللہ کے علاوہ کسی کو غیب کی باتوں کا علم ہوتا ہے؟
جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ: غیبی امور کا ایک حصہ وہ جن کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، دوسرے وہ امور ہیں جن کا علم اللہ نے کسی کو دیا ہے اور کسی کو نہیں دیا ہے۔مثلاً ’’فرشتے‘‘ عام انسانوں کے لئے عالَم غیب کا حصہ ہیں، جن پر ایمان لانا عام مؤمن کےلئے غیب پر ایمان لانا ہے، لیکن انہیں ’’فرشتوں‘‘ میں بعض انبیاء کے لئے عالَم غیب کا حصہ نہیں ہیں، مثلاً حضرت جبرئیل علیہ السلام وغیرہ ، بلکہ وہ انبیاء کے لئے مشہود تھے، اللہ تعالیٰ انہیں پیغام دے کر انبیاء و رسولوں کے پاس بھیجتے تھے، گویا انبیاء کو غیب کے اس حصہ کا علم دیا گیا تھا، ایسا ہی حال چند اور مغیبات کا ہے، جن کا علم اللہ نے اپنے بعض بندوں کو دیا ہے، کسی کو کم کسی کو زیادہ، لیکن اس کے باوجود مغیبات میں سے کسی کو کتنا ہی بڑا حصہ بتلایا گیاہو، اس کے بعد بھی علم کا ایک درجہ وہ ہے جو صرف اللہ کے پاس ہے، اس لحاظ سے مغیبات میں سے تعداد اور مقدار میں کتنی ہی باتیں کوئی جانتا ہو اس کا علم ’’جزئی‘‘ ہے، اور اس کے مقابلہ میں مغیبات کا اللہ کا علم ’’کلی‘‘ ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہر طرح کا علم اللہ کا ہی عطا کردہ ہوتا ہے، کوئی خود سے غیب پر اللہ کی رضا و مشیت کے بغیر مطلع نہیں ہو سکتا، اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نبیوں اور فرشتوں میں سے جتنا چاہتا ہے غیب پر مطلع کرتا ہے، لیکن کسی کو کتنا ہی علم دے دیا جائے وہ اللہ کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا، اس کا علم بہر حال اللہ کے علم کے مقابلہ میں محدود ہی ہوگا۔

مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ (آل عمران:۱۷۹)عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا (۲۶) إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا (۲۷) لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا

(الجن:۲۸)

مخلوقات میں مغیبات کا سب سے زیادہ علم سیدنا محمد رسول اللہ  کو دیا گیا ہے:
جس طرح انبیاء میں سب سے افضل نبی اور تمام رسولوں کے سردار ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ  ہیں اسی طرح اللہ کی جانب سے آپ ہی کو مغیبات کا سب سے زیادہ علم دیا گیا ہے، آپ نے خود فرمایا : مجھ کو اولین و آخرین کا علم دیا گیا ہے۔
آپ کو وقتاً فوقتاً آپ کے زمانہ میں پیش آنے والے واقعات بتلادئیے گئے، مثلاً بنی ہاشم سے مقاطعہ کا مکہ والوں کا معاہدہ جس کے بارے میں آپ  نے پیش گوئی فرمائی کہ اس کی عبارت کو دیمک نے کھالیا ہے، اور صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے، آپ کی یہ بات بالکل صحیح ثابت ہوئی، یہ مغیبات کا حصہ تھا۔
آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی، اور اہل سموت کا آپ نے مشاہدہ کیا،  آپ کو جنت و جہنم کا مشاہدہ کرایا گیا، آپ سدرۃ المنتہی سے آگے تشریف لے گئے ، جس کے آگے کے امور حضرت جبرئیل علیہ السلام کےلئے مغیبات میں سے ہیں ان امور کو آپ کےلئے مشہود بنایا گیا، جن تک آپ کے علاوہ کسی اور نبی و رسول کی بھی رسائی نہیں ہوئی ۔
ہجرت سے قبل ہی آپ کو قیصر روم کی ایران کے مقابلہ میں فتح کی خبر دی گئی اور اس خبر میں مضمر فتح مکہ کا علم آپ کو دے دیا گیا ، خندق کی کھدائی کے موقع پر ایران  اور روم کے علاقوں کا اسلام و مسلمانوں کے زیر نگین آنا آپ کو بتلادیا گیا، جس کی آپ نے پیشین گوئی کی اور وہ صحیح ثابت ہوئیں، یہ آپ کی پیش گوئی کے وقت مغیبات کا حصہ تھا۔
آپ  نے اپنے وصال کے بعد فتنوں کے رو نما ہونے کی پیش گوئی کی، وہ ایسے ہی برحق ثابت ہوئی یہ پیش گوئی کے وقت مغیبات کا حصہ تھا۔ آپ نے حضرت عمر و حضرت عثمان کی شہادت کی پیش گوئی کی اور وہ صحیح ثابت ہوئی، پیش گوئی کے وقت یہ باتیں مغیبات کا حصہ تھیں۔
قیامت تک پیش آنے والے کتنے ہی واقعات کی آپ نے پیشین گوئی فرمائی ہے، جن میں سے کئی پیش آچکے ہیں، آپ کی پیش گوئی کے وقت وہ واقعات مغیبات کا حصہ تھے، اور کتنے ہی ہیں جنہیں ابھی پیش آنا ہے، وہ ابھی بھی ہمارے لئے مغیبات میں سے ہیں لیکن آپ  کو ان کا علم پہلے ہی دے دیا گیا تھا۔
قیامت کے احوال ، ما بعد الموت احوال، حشر و نشر کے ہولناک احوال میں سے بہت ساری باتوں کا آپ کو علم دیا گیا تھا، آپ نے فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور اکثر روتے رہتے، یہ سب عالم غیب کے امور کا علم تھا جو آپ کے لئے غیب نہیں رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ  کو ان کا علم دے دیا تھا۔
مغیبات کے ا س علم میں آپ تمام مخلوقات میں سب سے ممتاز ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام مخلوقات، انبیاء و رسول سب سے لائق اور فائق تر ہیں۔
کیا آپ  پر عالم الغیب کا اطلاق درست ہے؟
قرآن و حدیث میں عالم الغیب کا طلاق صرف اللہ کےلئے ہوا ہے، باوجود یہ کہ رسول اللہ  کو مغیبات میں سے ایک بہت بڑے حصہ کا علم دیا گیا ہے لیکن عالم الغیب کا نام آپ  کو نہیں دیا گیا ہے، کیونکہ یہ نام اس ہستی کے لئے ہے جس سے کچھ بھی چھپا ہوا اور پوشیدہ نہیں ہےیعنی اللہ تبارک و تعالیٰ، باوجود یہ کہ آپ کو مخلوقات میں مغیبات پر سب سے زیادہ مطلع کیا گیا تھا لیکن علم الہیٰ کے مقابلہ میں آپ کا علمِ مغیبات جزئی اور عطائی ہی ہے، جبکہ اللہ رب العزت کا علم مغیبات کلی اور ذاتی ہے، جن میں سے ہر جزئیہ رسول اللہ  کے علم میں نہیں تھا اور نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آپ سے علم غیب کی نفی کی گئی ہے، جیسا اوپر آیت مبارکہ گذری کہ آپ نے فرمایا: ۔ اسی طرح خود آپ کا ارشاد ہے کہ:۔ حشر کے میدان میں شفاعت کبری کے موقع پر جب آپ اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوں گے، اللہ تعالیٰ آپ کے قلب مبارک پر اپنے ایسے ناموں کا القاء فرمائے گا کہ اس سے پہلے آپ ان کو نہ جانتے ہوں، آپ ان کے ذریعہ اللہ سے دعاء مانگیں گے اور اللہ آپ کی شفاعت کو قبو ل فرمائیں گے۔اس لحاظ سے آپ  کےلئے ’’عالم الغیب‘‘ نام کا استعمال درست نہیں ہے۔

قَالَ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ : مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّهَا ، وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الإِبِلِ الْبُهْمُ فِى الْبُنْيَانِ ، فِى خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ  . ثُمَّ تَلاَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - ( إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ) الآيَةَ . ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ ئ رُدُّوهُ  . فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا . فَقَالَ : هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِينَهُمْ  . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ جَعَلَ ذَلِكَ كُلَّهُ مِنَ الإِيمَانِ .

(صحیح البخاری:رقم حدیث :۵۰)

کیا آپ  کو عالم الغیب کہنا شرک ہے؟
اگرکوئی آپ  کے علم کو عطائی، اور اللہ کے علم کے مقابلہ میں محدود مانتا ہے، لیکن ساتھ ہی مغیبات کے عطائی علم کی بنیاد پر عالم الغیب کہتا ہے تو اس کا آپ کو عالم الغیب کہنا درست نہیں ہے (کیونکہ عالم الغیب کی اصطلاح صرف اللہ کےلئے روا ہے)لیکن یہ شرک بھی نہیں ہے، کیونکہ وہ آپ کے علم کو اللہ کا عطائی اور اللہ کے علم کے مقابلہ میں محدود مانتا ہے۔
اور اگر کوئی آپ کو عالم الغیب اس معنی کر مانتا ہے کہ آپ کا علم عطائی تو ہے لیکن محدود نہیں ہے، اور کہتا ہے کہ آپ کا علم ہر جزئیہ کو اس طرح شامل ہے جس طرح اللہ کا علم ہے تو اس معنی کر آپ کو عالم الغیب کہنا بلا شبہ شر ک ہے، کیونکہ علم کے لا محدود ہونے کی یہ صفت صرف اللہ کی ہے، اس کی نسبت اللہ کے علاوہ کسی اور کی جانب کرنا یقیناً شرک  مشرک ہے، جس سے خود آپ  نے منع فرمایا ہے۔

قال في التاترخانية: وفي الحجة ذكر في الملتقط أنه لا يكفر لان الاشياء تعرض على روح النبي (ص)، وأن الرسل يعرفون بعض الغيب، قال تعالى: * (عالم الغيب فلا يظهر على غيبه أحدا إلا من ارتضى من رسول) * ا ه.قلت: بل ذكروا في كتب العقائد أن جملة كرامات الاولياء الاطلاع على بعض المغيبات، وردوا على المعتزلة المستدلين بهذه الآية على نفيها بأن المراد الاظهار بلا واسطة، والمراد من الرسول الملك: أي لا يظهر على غيبه بلا واسطة إلا الملك، أما النبي والاولياء فيظهرهم عليه بواسطة الملك أو غيره…والله تعالى أعلم.(شامی:۳/۳۰)ولا يصح الزواج بشهادة الله ورسوله، بل قيل: إنه يكفر؛ لأنه اعتقد أن رسول الله صلّى الله عليه وسلم عالم الغيب.

(الفقه الاسلامى و ادلته:۹/۶۸)

دعویٰ علم ِغیب کا حکم:
 جو بھی شخص غیب کا دعوی کرے وہ شرک او رکفر ہے، اور جو مدعی علم غیب کی تصدیق بھی شرک اور کفر ہے، جو شخص مال مسروقہ کےعلم کا دعوی کرے علما٫ نے اس کو بھی اسی حکم میں رکھا ہے، اور جو شخص اس کی تصدیق کرے اس کو بھی شرک اور کفر قرار دیا ہے۔او رجو شخص اس بات کا دعوی کرے کہ اس کے پاس جن ہے جو غیب کی باتیں جانتا ہے اور جو کچھ پیش آنے والا ہے وہ اس کی خبر دیتا ہے یہ بھی شرک ہے اور ایسا ماننے والے کی تصدیق کرنا بھی شرک ہے۔

أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة، فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف، والرمال، والمنجم: وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه، والذي يضرب الحصى والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون، والكل مذموم شرعا، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر.وفي البزازية: يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه.

وفي التتارخانية: يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي اه.قلت: فعلى هذا أرباب التقاويم من أنواع الكاهن لادعائهم العلم بالحوادث الكائنة. وحاصله أن دعوى علم الغيب معارضة لنص القرآن فيكفر بها، إلا إذا أسند ذلك صريحا أو دلالة إلى سبب من الله تعالى كوحي أو إلهام، وكذا لو أسنده إلى أمارة عادية بجعل الله تعالى.

(شامی:۴/۲۲۹،۲۲۸)

ارادہ:
ارادہ اللہ کی صفت ذات ہے، لیکن اس  صفت سے اللہ کےلئے کوئی ’’اسم‘‘ قرآن وحدیث میں استعمال نہیں ہوا ہے، اس لئے اس صفت سے اللہ کےلئے کوئی ’’اسم‘‘ ہمیں اپنی جانب سے بنانا جائز نہیں ہے، ہاں ’’ارادہ ‘‘اللہ کی صفت کے طور پر قرآن و حدیث میں بے شمار جگہوں پر آیا ہے، تکوین، تخلیق ، تقدیر اور ربوبیت کا ہر کام اللہ کے ارادہ سے جڑا ہوا ہے، کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے اللہ کے ارادہ سے ہور ہا ہے، اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے وہ نہ چاہے تو کچھ نہیں ہوتا۔

عن أنس بن مالك ، رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال : « إذا أراد الله بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا ، وإذا أراد بعبده الشر أمسك عنه بذنبه حتى يوافيه به يوم القيامة

(الاسما٫ و الصفات للبیہقی:۱/۳۴۰)

ہر قسم کا نفع و نقصان اللہ کے ارادہ اور مشیت کے تابع ہے:
ہر قسم کا نفع و نقصان اللہ کے ارادہ اور مشیت کے تابع ہے، دنیا میں کسی چیز کا حاصل ہونا یا کسی چیز سے محروم ہونا انسان کی اپنی محنت و عقل سے جڑی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے ارادہ کے تحت ہے، اللہ جس کو چاہے نفع دے جس کو چاہے نقصان پہنچائے، بغیر اللہ کے ارادہ کے کوئی شے کسی کو نہیں ملتی، اور بغیر اللہ کے ارادہ کے کوئی کسی شے سے محروم نہیں ہوتا۔

مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا

(الإسرا٫:۱۸)

کوئی شے اللہ کےارادہ کے بغیر نافذ ہی نہیں ہوتی:
کائنات اللہ کی مملکت ہے، یہاں کوئی شے اللہ کے ارادہ اور اس کی مشیت کے بغیر پوری نہیں ہوتی، کوئی چیز اس کے ارادہ کے بغیر وجود میں نہیں آتی ، کوئی چیز اللہ کے ارادہ کے بغیر پیدا نہیں ہوتی، حتی کے بندوں کے اعمال بھی پورا ہونے کےلئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے پورا ہونے کا ارادہ فرمائے، اور ان کو پورا ہونے کا موقع دے، ارادہ میں اللہ کا کمال یہی ہے کہ ہر چیز اللہ کے ارادہ کے بعد ہی پوری ہو ، اس اعتبار سے اللہ کے ارادہ کی اقسام ہیں۔
ارادہ کی اقسام:
اللہ تعالیٰ کا ارادہ دو طرح کا ہے(۱) ارادہ کونی (۲) ارادہ شرعی
(۱)ارادہ کونی، خلقی و قدری:
اللہ تعالیٰ کا ایک ارادہ وہ ہے جو اس نے اس کائنات کو بنانے ، تخلیق کرنے، مخلوقات کی تقدیر بنانےکےلئے کیا ہے، اس کو ’’ارادہ کونی/ یا ارادہ تکوینی‘‘ کہتے ہیں، اور اسی معنی میں لفظ ’’مشیت‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے، کسی بھی چیز کا وجود اللہ کے ارادہ کے بغیر نہیں ہوتا، یہ اللہ کی مملکت ہے یہاں ہر چیز وجود میں آنے کےلئے اللہ کی مشیت اور اس کے ارادہ کی تابع ہے۔
جس طرح ہر حرکت و سکون اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت کے تابع ہیں، اسی طرح بندوں کے افعال و اعمال بھی اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت سے پورے ہوتے ہیں، بندوں کو چاہنے اور اعمال کا اختیار دیا گیا ہے لیکن ان کی چاہت اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک کہ اللہ اپنی مملکت میں ان کی چاہت کے پوری ہونے کا ارادہ  نہ کرے۔
ایمان ، کفر ، عمل صالح اور سیئات سب کے پورا ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کےارادہ کونی کی ضرورت ہے، یعنی اللہ کی مملکت میں کسی بھی شخص کا ارادہ اس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک کہ خود اللہ کی مشیت اس کے ساتھ نہ جڑ جائے۔
(۲) ارادہ شرعی:
مؤمن کے ایمان اور کافر کے کفر کا ارادہ دونوں کےپورا ہونے کےلئے یہ ضرروی ہے کہ اللہ کا ارادہ بھی اس کو قبول کرے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایمان و کفر دونوں اللہ کی نگاہ میں برابر ہیں، بلکہ اللہ ایمان کو پسند کرتا ہے، اور اس سے راضی ہوتا ہے، اور اس معنی کر ایمان اور عمل صالح کے پورا ہونے کےلئے اللہ کا ارادہ ’’ارادۂ شرعی‘‘ ہے، اور کافر کے کفر کےلئے اللہ تعالیٰ کا ’’ارادہ تکوینی‘‘ہوتا ہے، کہ کافر کے ارادہ کے مطابق اس کی خواہش کو پورا کیا جائے تاکہ بندوں کا امتحان پورا ہو۔
مشیت و تقدیر کو گناہوں کےلئے ڈھال بنانا کفر ہے:
اس سے یہ واضح ہوگیا کہ شر کی تکوین اللہ نے امتحان اور آزمائش کی غرض سے کی ہے، اگر خیر کے ساتھ شر کی تخلیق ہی نہیں ہوتی تو امتحان کیسے ہوتا ؟اس لحاظ سے شر کی تخلیق اور اس کا تکوینی ارادہ غلط نہیں ہے، ہاں شر کو اختیار کرنا اور اس کا ارتکاب کرنا غلط ہے، یعنی بندہ اللہ کی پیدا کردہ خیر اور شر کی اقسام میں سے کسی ایک قسم کو اپنے اختیار سے کرتا ہے، اگر وہ شر کو اختیار کرتا ہے تو اس کا شر کو اختیار کرنا غلط ہے، اگر وہ شر کو اختیار کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا کردیتا ہے، اس کو ذبردستی روکتا نہیں ہے، تاکہ امتحان پورا ہو۔
اس اعتبار سے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ شر کو اختیار کرررہا ہے تو یہ اللہ کا ارادہ ہے، کیونکہ یہ اللہ کا ارادہ شرعی نہیں بلکہ تکوینی ہے، یعنی اس کے علم میں گناہ ہور ہا ہے تو وہ اس کو پورا ہونے دے رہا ہے، ذبردستی روک نہیں  رہا ہے، کیونکہ اس کو امتحان پورا کرانا ہے، باقی بندہ جو کچھ کررہا ہے اپنے اختیار سے کررہا ہے، اس لئے معاصی اور ذنوب کےلئے مشیت الہٰی کو آڑ بنانا درست نہیں ہے، اور اپنے اختیار سے کرنے والے سیئات /گناہوں کے بارے میں یہ کہنا کہ اللہ نے چاہا ہے اس لئے وہ گناہ کا ارتکاب کررہا ہے ایسا کہنا کفر ہے، کیونکہ اللہ کا ارادہ تکوینی کسی کےلئے جبر کی راہ نہیں کھولتا، جبکہ اس کا ارادہ شرعی اس کو گناہ سے باز رہنے کو بھی کہہ رہا ہے۔ ہاں غیر اختیاری حالات اور مصائب کی نسبت اللہ کی مشیت طرف ہی کی جائے گی، کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں، اور یہی ایمان کا تقاضہ ہے۔

فَإِنَّ الْقَدَرَ يُحْتَجُّ بِهِ عِنْدَ الْمَصَائِبِ، لَا عِنْدَ الْمَعَائِبِ.…… وَأَمَّا الذُّنُوبُ فَلَيْسَ لِلْعَبْدِ أَنْ يُذْنِبَ، وَإِذَا أَذْنَبَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَ وَيَتُوبَ. فَيَتُوبَ مِنَ الْمَعَائِبِ، وَيَصْبِرَ عَلَى الْمَصَائِبِ.

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لإبن أبی العز:۱/۷۰)

احکام شرعیہ میں اللہ کا ارادہ:
بندوں کو دیئے جانے والے احکام میں بھی اللہ کا ارادہ  کافرما ہوتا ہے، جو اللہ چاہے حکم دے سکتا ہے، اور دیتا ہے، کوئی بندہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں اپنا ارادہ اور اپنی خواہش کو لانے کا حق دار نہیں ہے، ہاں اللہ بندوں کو ہر طرح کے احکام میں تخفیف ہی کا ارادہ کرتا ہے، وہ ان کی طاقت سے زیادہ احکام کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ، وہ ان کے حق میں یسر ہی چاہتا ہے، عسر نہیں چاہتا۔

إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ (المائدۃ:۱) يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النسا٫:۲۸) يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ(البقرۃ:۱۸۵)وَاللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَنْ تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا (۲۷) يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا

(النسا٫:۲۸)

صفت ارادہ و مشیت میں شرک:
مذکورہ بالا معانی میں اللہ کی صفت ارادہ و مشیت کسی میں ماننا شرک ہے، کسی کے ارادہ و مشیت کے بارے میں ماننا کہ وہ اللہ کی طرح نافذ ہوتی ہے اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اسی طرح یہ ماننا کہ کسی کے ارادہ یا مشیت کا نفاذ اللہ کی اجازت کے تابع نہیں ہے یہ بھی شرک ہے۔
یہ ماننا کہ بندوں کے افعال کے پورا ہونے کےلئے اللہ کی مشیت کی ضرورت نہیں ہے، اللہ  کی صفت اردہ میں کمال  اور ’’ارادہ تکوینی ‘‘کی نفی کرنا ہے، اور یہ نفی کرنا یہ ماننا ہے کہ اللہ کی مملکت میں کوئی اس کے اردہ کے بغیر بھی اپنا ارادہ چلا سکتا ہے، ایسا ماننا شرک ہے۔  تاریخ اسلامی میں ایسا ماننے والے قدریہ کہلائے۔
اسی طرح یہ کہنا کہ بندوں کی اپنی کوئی مشیت ہے ہی نہیں ، مشیت تو صرف اللہ کی ہے، اور بندہ اپنے ارادہ اور اختیار کے بغیر حرکت کرتا ہے جیسا کہ کوئی مشین حرکت کررہی ہو، جس کا اختیار کسی اور کے ہاتھ میں ہےیہ اللہ کے’’ارادہ شرعی‘‘ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے عدل کی نفی کرنا ہے، کہ اللہ ظالم ہے اور بندوں پر جبر کرتا ہے ایسا ماننا کفر ہے۔ تاریخ اسلامی میں ایسا ماننے والے جبریہ کہلائے۔
اسی طرح  احکام الہٰی میں اپنے ارادہ کو دخل دینا اور سمجھنا کہ ہم بھی آزاد ہیں اپنے ارادہ کو احکام کے مقابلہ میں رکھ سکتے ہیں یہ بھی شرک ہے، کوئی اللہ کے ارادہ کے نفاذ میں مانع نہیں ہو سکتا، غیر اللہ  میں کسی کو خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو اللہ کے ارادہ سے آزاد ماننا شرک ہے۔
کسی غیر اللہ میں ارادہ اور مشیت کی صفت کو ان معانی میں ماننا جن معانی میں اللہ اور اس کے رسول نے مانا ہے یہ شرک نہیں ہے، کسی کے بارے میں یہ ماننا کہ: اس کی صفت ارادہ کی عطاء ہے، محدود ہے اور حادث ہے شرک نہیں ہے۔

إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ (المائدۃ:۱)لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (المائدۃ :۱۷)وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ (الرعد:۱۱)عن ابن عباس ، رضي الله عنهما قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يكلمه في بعض الأمر فقال الرجل لرسول الله صلى الله عليه وسلم : ما شاء الله وشئت ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « أجعلتني لله عدلا ؟ بل شاء الله وحده

(الاسماء و الصفات:۱/۳۱۵)

قدرت:
قدرت اللہ کی صفت ذات ہے، اور اس صفت سے اللہ کا اسم القدیر ، القادر، المقتدر وغیرہ ہیں، اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر مکمل قدرت حاصل ہے، کوئی شے اس کو عاجز نہیں کر سکتی، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے، اور سبھی کی تدبیر وہی کرتا ہے، کائنات کی تمام عظیم اور حیرت انگیز مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم ’’کن‘‘ سے پیدا کیا، اور وہی اس کائنات کی تدبیر کررہا ہے، ہر کوئی اس کے آگے مقہور  ہے، کوئی اس کے حکم سے باہر نہیں ہے، آسمان و زمین ، سورج و چاند ، خلاؤں میں بکھرے ہوئے سیارے، فضاءیں اور سمندر، پہاڑ و دریا چرند و پرند سب اللہ کے حکم کے تابع فرمان  اور مسخر ہیں، کوئی مخلوق اس حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی جس میں اللہ نے اس کو رکھا ہے ۔اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت کو ظاہر کرنے والی قرآن و حدیث میں اور کئی اسماء و صفت استعمال ہوئے ہیں، مثلاً:القیوم اللہ کی اسم و صفت قدرت ہے، اسی طرح القوی، القھار، القاھر، عزت دینا اور ذلت دینا اور ہر طرح کے خیر و شرکا تنہاء مالک ہونا، العزیز، الجبار، المتکبر، ذو القوۃ المتین وغیرہ سبھی اللہ کے اسماءو صفات قدرت ہیں۔

وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (الأعراف:۵۴)وَآيَةٌ لَهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ (۳۷۳۸) وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ (۳۹) لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (۴۰) (سورۃ یس)إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ (الذاریات:۵۸) إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (سورة الْبَقَرَةِ آية: ۲۰) وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا

( سورة الْكَهْفِ: ۴۵)

عن جابر بن عبد الله ، رضي الله عنهما قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن يقول : إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل : اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك ، وأسألك من فضلك العظيم ، فإنك تقدر ولا أقدر ، وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب ، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ودنياي ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال في عاجل أمري وآجله - فاقدره لي ويسره لي ، ثم بارك لي فيه ، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال : في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني ، واصرفني عنه ، وعجل لي الخير حيث كان ثم أرضني به

(رواه البخاري)

اللہ کی قدرت میں کمال :
اللہ کی قدرت میں کمال ہے کوئی نقص و عیب نہیں ہے،  وہ سوتا اونگھتا یا تھکتا نہیں ہے، اس کو کوئی عاجز نہیں کر سکتا، سب اس کے تدبیر کے محتاج ہیں اور ان کی تدبیر و انتظام اس کو تھکاتی نہیں ہے، اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ، سب اس کے آگے مسخر اور مقہور ہیں ، اور اللہ کی صفت قدرت کی مظہر ہیں۔

وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا ( سورة فَاطِرٍ: ۴۴) وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (سورة الْبَقَرَةِ: ۲۵۵)عن ابن مسعود ، رضي الله عنه قال : من قال : الحمد لله الذي تواضع كل شيء لعظمته ، والحمد لله الذي ذل كل شيء لعزته ، والحمد لله الذي استسلم كل شيء لقدرته ، والحمد لله الذي خضع كل شيء لملكه ، كتب الله تعالى له بها ثمانين ألف حسنة ، ومحا عنه بها ثمانين ألف سيئة ورفع له بها ثمانين ألف درجة

(الاسماء و الصفات:۱/۲۶۷)

قائم بنفسہ و مقیم لغیرہ:
اللہ تعالیٰ خود سے قائم ہے، کوئی اس کو تھامے ہوئے نہیں ہے، اس کا وجود و حیات اور بقا٫ کسی اور کی مرہون منت نہیں ہے بلکہ اس کا وجود و بقا٫ ذاتی ہے، جبکہ اس کے علاوہ سب اس کے محتاج ہیں، اللہ کے عطا٫ سے موجود، اور اللہ کی مشیت سے قائم ہیں، وہی ان کو تھامے ہوئے ہے، اور کبھی ان سے غافل نہی ہوتا، اگر اللہ ان سے اپنی توجہ ہٹا لے تو کوئی شے باقی نہ رہے سب فنا ہوجائیں، اسی کی قدرت سے سب کچھ جاری ہے۔
آسمان و وزمین اپنی اپنی جگہ اللہ کی قدرت سے موجود ہیں، پانی سمندر تک اللہ کی قدرت سے محدود ہے، سورج اور چاند اللہ کی قدرت سے مسخر ہیں، پرندے فضا٫ میں اللہ کی قدرت سے پر پھیلائے اڑتے ہیں، رات اور دن اللہ کی قدرت سے بدلتے ہیں، سب کچھ اللہ کی قدرت کے تابع ہے۔

القائم بنفسه والمقيم لغيره، القائم بنفسه فلا يحتاج إلى شيء، وغني عن كل شيء، المقيم لغيره، كل شيء فقير إليه يحتاج إلى إقامته له سبحانه وتعالى، فلولا إقامة الله للسموات والأرض والمخلوقات لتدمرت وفنيت، ولكن الله يقيمها ويحفظها ويمدها بما يصلحها.فجميع الخلق في حاجة إليه (إن الله يمسك السموات والأرض أن تزولا ولئن زالتا إن أمسكهما من أحد من بعده)

[فاطر: ۴۱](شرح العقیدۃ الطحاویۃ للفوزان:۱/۱۴)

افعالِ عبادُاللہ کی قدرت میں شامل ہیں:
بندے جو کچھ کرتے ہیں اللہ ان کو پہلے سے جانتا ہے، اور ان کے ارتکاب کا جب بندے ارادہ کرتے ہیں تو ان کے وجود میں آنے کےلئے خود اللہ کی مشیت ضروری ہے، بندوں کی مشیت پر اللہ کی مشیت سے اجازت مل جائے تو وہ اس کو کر سکتے ہیں ورنہ اللہ کی مشیت نہ ہو تو وہ کچھ نہیں کر سکتے، اس لحاظ سے افعال عباد بھی اللہ کی قدرت کے تحت ہیں۔

ذَلِكَ بِأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَكُلُّ شَىْءٍ إِلَيْهِ فَقِيرٌ، وَكُلُّ أَمْرٍ إليه يَسِيرٌ

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لإبن أبی العز:۱/۵۹)

اللہ کی صفت قدرت میں شرک:
اللہ کی صفت قدرت میں کوئی شریک نہیں ہے، کسی کو  اللہ کی صفت قدرت میں مذکور بالا معانی میں ماننا شرک ہے، کسی غیر اللہ کے بارے میں یہ ماننا کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے شرک ہے، یہ ماننا کہ ہر چیز غیر اللہ کے تابع فرمان ہے یہ بھی شرک ہے، یہ ماننا کہ خود اللہ نے کسی میں ہر چیز کی قدرت دی ہے یہ کفر ہے، کسی غیر اللہ کے بارے میں یہ ماننا کہ کوئی اس کو عاجز نہیں کر سکتا، یا کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا یہ بھی شرک ہے، یا یہ ماننا کہ وہ اللہ کے آگے عاجز مقہور اور مغلوب نہیں ہے یہ بھی شرک ہے، اور افعال عباد کو اللہ کی قدرت سے خارج ماننا کفر و شرک ہے، اور شرک نا قابل معافی جرم ہے جس کی سزاء ابد الآباد یعنی ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔
کس درجہ قدرت غیر اللہ میں ماننا شرک نہیں ہے:
غیر اللہ میں سے کسی میں صفت قدرت اس معنی میں ماننا جس معنی میں اللہ اور اس کے رسول نے ثابت مانی ہے شرک نہیں ہے، مثلاً یہ ماننا کہ : کسی مخلوق میں صفت قدرت ہے لیکن اللہ کی عطاء سے ہے، محدود ہے، اور حادث ہے یہ شرک نہیں ہے، ان شرائط کے ساتھ کسی میں قدرت کا کتنا ہی اونچا درجہ مانا جائے وہ شرک نہیں ہوگا۔
سماعت و بصارت /السمیع و البصیر:
سماعت و بصارت اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، اور ان سے بنے السمیع اور البصیر اللہ کے نام ہیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز دیکھتا ہے اور ہر چیز سنتا ہے۔جو کوئی اللہ کو پکارتا ہے اللہ اس کی پکار سنتا ہے، اور ان کے اعمال دیکھ رہا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (غافر:۲۰) إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ بَصِيرٌ (فاطر:۳۱) وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (النسا٫:۱۳۴)قَالَ لَا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى

(طہ:۴۶ش)

اللہ کی صفات سماعت و بصارت کا امتیاز:
بندوں میں بھی سماعت و بصارت اللہ کی پید کی ہوئی ہے، تبھی وہ دیکھ اور سن سکتے ہیں، لیکن بندوں کی سماعت و بصارت اللہ کی سماعت و بصارت کی طرح نہیں ہے، اللہ کی سماعت و بصارت اس کے لائق شان ہے، اللہ کی یہ صفات ذاتی، لامحدود، اور ہمیشہ سے ہیں، اور اس کو سماعت و بصارت کے لئے کسی آلے /اعضا٫ و جوارح کی حاجت نہیں ہے، جبکہ  بندوں کی یہ صفات عطائی، محدود، اور حادث ہیں، اور بندہ سماعت و بصارت کےلئے اعضا٫ و جوارح اور دیگر اسباب کا محتاج ہے۔
سماعت و بصارت ان دونوں صفات پر کچھ کلام آگے ’’صفات متشابہات‘‘عنوان کے تحت بھی آئے گا۔

لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

(الشوری:۱۱)

اللہ کی صفات سماعت و بصارت میں کفر وشرک:
اللہ تعالیٰ کے لئے سماعت و بصارت ثابت ہے، نصوص ان کے ذکر سے بھری ہوئی ہیں، ان کا انکار کرنا کفر ہے(جیسا کہ معطلہ نے کیا ہے)،  اللہ تعالیٰ اپنی صفات کےلئے اعضا٫ و اسباب کا محتاج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی سماعت و بصارت بندوں کی طرح سے نہیں ہے، یعنی ان میں اللہ کو اعضا٫ و جوراح کا محتاج ماننا بھی کفر ہے(جیسا کہ مشبہ نے کہا ہے)، وہ کسی کا محتاج نہیں  ہے، وہ لا محدود ہے، اور ہمیشہ سے ان صفات سے متصف ہے، اللہ تعالیٰ کےلئے جن معانی میں صفات سماعت و بصارت استعمال ہوتی ہیں ان کو غیر اللہ میں ماننا شرک ہے، اللہ کی صفت سماعت اور بصارت ذاتی ، لا محدود، اور قدیم ہیں، غیر اللہ میں سماعت و بصارت عطائی (یعنی اللہ کی عطاء کردہ)، محدود اور حادث ہیں، غیر اللہ میں سماعت و بصارت کی صفات ذاتی ، لا محدود، اور غیر حادث ماننا شرک ہے۔ شرک نا قابل معافی جرم ہے، جس کی سزاء ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔

عن عائشة ، رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في سجوده بالليل مرارا : « سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته(الاسماء و الصفات:۱/۲۷۲)عن أبي موسى الأشعري ، رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « إن الله عز وجل لا ينام ولا ينبغي له أن ينام ، يخفض القسط (۱) ويرفعه ، يرفع إليه عمل الليل قبل النهار ، وعمل النهار قبل الليل ، وحجابه النار لو كشفها لأحرقت سبحات وجهه كل شيء أدركه بصره(الاسماء و الصفات:۱/۴۱۶)عن عمر بن الخطاب ، رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم في حديث الإيمان ، قال : يا محمد ، ما الإحسان ؟ ، قال : أن تعبد الله كأنك تراه ، فإنك إن لم تكن تراه ، فإنه يراك

(رواہ مسلم )

 کلام:
کلام اللہ کی صفت ذات ہے، البتہ صفت کلام سے اللہ کا کوئی اسم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کلام فرماتے ہیں، فرشتوں سے کلام فرماتے ہیں، انبیا٫ کرام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے، حضرت موسی سے اللہ نے کلام کیا ہے، معراج میں نبی پاک  سے اللہ نے کلام فرمایا ہے۔

وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ (التوبة :۶) وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (السجدۃ:۱۳)وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا (النسا٫:۱۲۲)قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ (ص:۸۴)وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا (النسا٫:۱۶۴)تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ…… (البقرة: ۲۵۳) وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ (الشوری:۵۱) وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ

(سبأ:۲۳)

عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ کا بندوں سے کلام:
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی صلب سے ان کی تمام ذریت کو ارواح کی شکل میں نکال کر ان سے کلام فرمایا، اور دنیا میں ان وک بھیجنے سے قبل ان سے اپنی ربوبیت کا عہد لیا، جہاں تمام بنی نوع آدم نے اللہ کی ربویت کا اقرار کیاہے، کل کو قیامت کے دن بندے اگر شرک میں مبتلا ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اس عہد کی بنیاد پر بھی ان سے مؤاخذہ فرمائیں گے۔

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (۱۷۲) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ

(الأعراف:۱۷۳)

عن ابن عباس ، رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : « أخذ الله الميثاق من ظهر آدم عليه السلام فأخرج من صلبه ذرية ذراها فنثرهم نثرا بين يديه كالذر ثم كلمهم ، فقال : ( ألست بربكم قالوا بلى شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين أوتقولوا إنما أشرك آباؤنا من قبل وكنا ذرية من بعدهم أفتهلكنا بما فعل المبطلون

(الاسماء و الصفات:۱/۴۶۳)

اللہ کے کلام کا آسمان والوں پر اثر:
جب اللہ تعالیٰ جب وحی کا ارادہ فرماتے ہیں تو وحی کے ذریعہ کلام فرماتے ہیں ، اور جب اللہ تعالیٰ کلام فرماتے ہیں تب تمام آسمانوں پر خوف سے ایک لرزہ طاری ہو جاتا ہے، اور وہ کانپنے لگتے ہیں، اورآسمان والے جب اس وحی کو سنتے ہیں تو ان پر اس کی گرج کی وجہ سے غشی طاری ہو جاتی ہے،  اور وہ سب سجدہ میں گر پڑتے ہیں،  اس کے اثر سے باہر نکلنے والے سب سے پہلے حضرت جبرئیل ہوتے ہیں، وہ اپنا سر اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے جو چاہتا ہے کلام فرماتا ہے، حضرت جبرئیل سے اس وحی کو لے کر جب کسی آسمان سے گذرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ اللہ نے کیا فرمایا ہے؟ حضرت حبرئیل جواب میں فرماتے ہیں: قال الحق وهو العلي الكبير، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ حق ہے، اور وہ بہت بلند و برتر ہے، جواب میں آسمان والے بھی وہی کہتے ہیں جو حضرت جبرئیل نے فرمایا ہے، اور حضرت جبرئیل اللہ کی وحی وہاں پہنچاتے ہیں جس کا انہیں حکم ہوا ہے۔

عن النواس بن سمعان ، رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « إذا أراد الله عز وجل أن يوحي بأمره تكلم بالوحي ، فإذا تكلم أخذت السماوات رجفة - أو قال رعدة - شديدة خوفا من الله عز وجل ، فإذا سمع بذلك أهل السماوات صعقوا ، وخروا لله سجدا ، فيكون أول من يرفع رأسه جبريل عليه الصلاة والسلام ، فيكلمه الله تعالى من وحيه ما أراد فيمضي جبريل عليه السلام على الملائكة كلما مر بسماء يسأله ملائكتها : ماذا قال ربنا يا جبريل ؟ فيقول جبريل : قال الحق وهو العلي الكبير ، قال : فيقولون كلهم مثل ما قال جبريل ، فينتهي جبريل بالوحي حيث أمره الله عز وجل من السماء والأرض

(الاسماء و الصفات:۱/۴۶۳)

امر و نہی الہٰی:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو امر و نہی کرتا ہے، اور انہیں موعظت کرتا ہے، انہیں اچھائی ، امانتوں کی ادائیگی اور عدل و احسان کا حکم دیتا ، اور فواحش اور منکرات سے روکتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اوامر و نواہی اور موعظت اپنے کلام /اور وحی کے ذریعہ سے کرتا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (النسا٫:۵۸)إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

(النحل:۹۰)

وَأَمَرَهُمْ بِطَاعَتِهِ، وَنَهَاهُمْ عَنْ مَعْصِيَتِهِ

(العقیدۃ الطحاویۃ مع شرحہ لإبن أبی العز:۱/۶۸)

قرآن مجید اللہ کا کلام ہے:
(قرآن مجید ، اور آسمانی کتابوں سے متعلق عقائد آگے مستقل عنوان کے تحت آئیں گے)
قیامت کے دن اللہ کا اپنے بندوں سے کلام:
قیامت کے دن اللہ پاک اپنے بندوں سے کلام فرمائیں گے، انبیا٫  و رسولوں سے خطاب فرمائیں گے، فرشتوں سے خطاب فرمائیں گے، بعض بندے وہ بھی ہوں گے جن کے برے کرتوتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہ ان کی جانب نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان سے کلام فرمائیں گے۔

إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (آل عمران:۷۷) وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ

(المائدۃ :۱۶۶)

أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ « هَلْ تُمَارُونَ فِى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ » . قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ « فَهَلْ تُمَارُونَ فِى الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ » . قَالُوا لاَ . قَالَ « فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ ، يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْ . فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الشَّمْسَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الْقَمَرَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الطَّوَاغِيتَ ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا ، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ . فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ . فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا . فَيَدْعُوهُمْ فَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ جَهَنَّمَ ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ ، وَلاَ يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلاَّ الرُّسُلُ ، وَكَلاَمُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ .

(صحیح البخاری)

فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّى فَيُؤْذَنُ لِى وَيُلْهِمُنِى مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا لاَ تَحْضُرُنِى الآنَ ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ .

(صحیح البخاری:کتاب التوحید)

اہل جنت سے اللہ تعالیٰ کا کلام:
اہل جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے اور انہیں وہاں ہر طرح کا عیش و آرام اور جنت کی نعمتیں میسر  ہوں گی، اللہ تعالیٰ جنتیوں سے خطاب کریں گے، اہل جنت لبیک و سعدیک و الخیر فی یدیک کہہ کر اللہ کے خطاب کی جانب متوجہ ہوں گے، جو کچھ تمہیں ملا ہے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا : جو کچھ تمہیں ملا ہے کیا تم اس سے راضی  اور خوش ہو، جنتی کہیں گے : ائے اللہ !ہم کیوں خوش نہیں ہوں گے، ہمیں تو وہ نعمتیں ملی ہیں جو کسی مخلوق کو نہیں ملیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں اس سے بھی زیادہ بڑی نعمت اور افضل شے تمہیں دوں گا۔ جنتی کہیں گے : ائے اللہ ! اس سے زیادہ افضل شے اور کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں تمہیں اپنی ایسی رضا سے نواز رہا ہوں کہ اس کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔

أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - « إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ . فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِى يَدَيْكَ . فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ . فَيَقُولُ أَلاَ أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ وَأَىُّ شَىْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِى فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا » .

جہنم اور اہل جہنم سے اللہ تعالیٰ کا کلام:
جہنمیوں کو جہنم میں داخل کرایا جائے گا، جب بھی کوئی نئی قوم اس میں داخل ہوگی، اور جب بھی  جہنم میں کوئی نیا گروہ داخل ہوگا وہ پہلے والوں کے بارے میں اللہ سے خطاب کرکے کہے گا، ائے ہمارے رب! انہوں نے ہی ہمیں گمراہ کیا تھا انہیں دوہرا عذاب دیجئے، اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائیں گے: ہر ایک لئے دوگنا عذاب ہے۔
اور جب سب جہنمی جہنم میں چلیں جائیں گے ، اللہ تعالیٰ جہنم سے خطاب کرکے کہیں گے: کیا تو بھر گئی، جہنم جواب میں کہیں گی، اور لاؤ۔

يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ (ق:۳۰)قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ فِي النَّارِ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا حَتَّى إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ (۳۸) وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ

(الأعراف:۳۹)



ہم اللہ تعالیٰ کےصفات ِ فعلیہ کی تصدیق کس طرح کریں؟



و ہ اسماء و صفات جو باری تعالی کے افعال پر دلالت کریں، یہ صفات بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت و علم اور اس کی مشیت و ارادہ متعلق ہیں ، یعنی اللہ کی وہ صفات جو اللہ کے کاموں کو ظاہر کرتی ہیں۔مثلاً: پیدا کرنا(الخالق)،رزق دینا(الرازق)، زندگی دینا(المحیی)، مارنا(الممیت) ، نفع پہنچانا(النافع )،کسی مصلحت سے نقصان پہنچانا،  عزت دینا،کمزورکرنا، بلند مرتبہ کرنا، انحطاط دینا ہر طرح کی تدبیر و تصرف کرنا، تقدیر بنانا اور فیصلے کرنا وغیرہ، ان تمام صفات  کے معانی کو شامل ایک عمومی صفت  ’’الرب‘‘ (یعنی پرورش کرنا) ہے۔
اللہ تعالیٰ کا اسم اور صفت ’’الرب‘‘ دیگر تمام اسماء و صفات میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے، اضافت کے ساتھ یہ صفت اسم ذات کی جگہ بھی استعمال ہوتی ہے، جبکہ دوسری صفات قرآن مجید میں اس طرح استعمال نہیں ہوئی ہیں مثلاً :۔ قرآن مجید میں صفت رب اسم ذات یعنی اللہ کے بعد سب سے زیادہ استعمال ہونے والی صفت ہے ،اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو بیان کرنے کےلئے اسم ذات کے علاوہ اسی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
بندوں کی ضروریات کی تکمیل کے جتنے پہلو ہیں  سب ربوبیت کا حصہ ہیں، اس کائنات کو پیدا کرنا، اور زندگی اور اس کی بقاء کے کل اسباب کو یہاں مہیا کرنا، سورج چاند سیاروں کی پیدائش، زمین کو ذی حیات مخلوقات کےلئے موزوں بنانا، فضاء میں سورج کی تمازت سے حفاظت کا خول بنانا،  چاند کو موسموں میں تبدیلی کا ذریعہ بنانا،  زمین میں خشکی سمندر، ندیاں پہاڑ، جنگل و صحراء بنانا، دن و رات کا نظام بنانا ،  بارش برسانا، موسموں کی تبدیلی رکھنا، کھیتیاں اور باغات بنانا، فضاؤوں کو بنانا اور ہواؤں کو چلانا، سرد ی و گرمی کےذریعہ کھیتیوں اور باغات کو پکانا، طرح طرح کے اناج اگانا، انواع و اقسام کے پھل پھول پیدا کرنا، جانوروں  اور چرند و پرند کو پیدا کرنا، زندگی دینا، موت دینا، صحت دینا،  کسی مصلحت سے بیماری دینا، رزق دینا ،اپنی مصلحتوں سے رزق میں کشادگی دینا یا تنگی کرنا، اولاد دینا، نرینہ یا غیر نرینہ اولاد دینا ، ، سورج سے روشنی دینا، معاش کا نظام چلانا، رات سے تاریکی لانا، آرام کا نظم بنانا، نیند کو تھکن ختم کرنے کا ذریعہ بنانا، مخلوقات کو جوڑوں کی شکل میں بنانا، کنبے بنانا، شوہر اور بیوی سے ایک دوسرے کو سکون دینا، اولاد سے خوشیاں دینا، ماں باپ کی شفت و محبت دینا ، جانوروں کو انسانوں کےتابع بنانا اور فائدہ اٹھانے کا اور غذا کا ذریعہ بنانا، ، یہ سب امور اسی صفت ربوبیت کا ظہور ہیں۔
صفت ربوبیت میں جس طرح مادی اور جسمانی ضروریات کی تکمیل شامل ہیں اسی طرح مخلوقات کی باطنی اور روحانی ضروریات کی تکمیل بھی اللہ کی اسی صفت سے جڑی ہے، چنانچہ ہدایت دینا، انبیاء و رسل کو بھیجنا، کتابوں کو ناز ل کرنا، نفس لوامہ  کو ہر ایک ساتھ لگانا، عقل و فہم کی صلاحیتیں دینا ، اور توفیق اعمال دینایہ سب بھی اللہ کی ربوبیت میں ہی شامل ہے۔پروردگار عالم نے ہی فواحش ،اثم اور بغی کو حرام قرار دیا ہے، کیونکہ پروردگار ہی ہے جو اپنے پروَردَوں کو ان کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے باز رکھنا چاہتا ہے، اور اسی نے انصاف، فرماں برداری اور اخلاق کی تعلیم دی ہے کیونکہ پرورش کرنے والا ہی اپنے پروَردَوں کو ان کو فائدہ پہنچانے والی چیزوں کی تعلیم دیتا ہے، یعنی اللہ بندو ں کی ظاہری و باطنی جسمانی و روحانی ہر اعتبار سے پرورش کررہا ہے، اور بڑے ناز و نعم میں پال رہا ہے۔
ربوبیت الہٰی ،افعال باری تعالیٰ اور صفات فعلیہ بہت ہی وسیع موضوع ہے، صفت ربوبیت یک گونہ توحید فی الاسماء و الصفات کا حصہ بھی ہے اور ساتھ ہی عقائد کا مستقل عنوان بھی ہے، اس لئے ربوبیت کو مستقل ’’توحید فی الربوبیۃ‘‘ کے عنوان سے بھی ذکر کیا جاتا ہے۔
امہات الصفات اور صفات فعلی کا حکم:
امہات الصفات اور صفات فعلی دونوں ہی صفات اللہ تعالیٰ کے ساتھ ازل سے متعلق ہیں، اور ہمیشہ ہمیشہ متعلق رہیں گی، اللہ کی کوئی صفت ایسی نہیں ہےجو پہلے نہ تھی اور اب ہوگئی ہو، اللہ تعالیٰ کی ہر صفت ازلی و ابدی ہے، ہاں صفات فعلیہ کا ظہور اپنے وقت پر یعنی فعل کے موقع پر ہوتا ہے، لیکن وہ صفت اللہ کے ساتھ ازل سے ہے۔
اہم صفات فعلیہ:
خلق/الخالق:  خلق (یعنی پیدا کرنا) اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے، اور الخالق اللہ کا اسم ہے، صفت خلق ہی سے اللہ کا ایک اور اسم الخلّاق بھی ہے، اللہ کی صفت خلق (یعنی پیدا کرنے )میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر شے اللہ کی مخلوق (پیدا کی ہوئی )اور اللہ ان کا خالق (پیدا کرنے والا)ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں پیدا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ  نے  تنہاء تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے، مخلوقات کی تخلیق اللہ تعالیٰ کو نہ تھکاتی ہے اور نہ ہی عاجز کر سکتی ہے۔
یہ عقیدہ رکھنا  کہ اللہ عاجز بھی ہو سکتا ہے یا مخلوقات کی تخلیق سے تھک جاتا ہے اور  اس کو آرام کی ضرورت ہے  یہ سب کفریہ عقائد ہیں۔

وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ

(القصص :۶۸)

لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (الشوری: ۴۹)أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ (ق:۱۵)وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (ق:۳۸)قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا

(مریم:۹)

ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے:
آسمان اور زمین، چاند و سورج، اور سیارے، دن اور رات، روشنی اور تاریکی، زندگی اور موت، فرشتے اور انسان ، جنات و حیوانات ، اور آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان میں موجود ہر چیز اللہ کی مخلوق ہیں، ان میں سے ہر چیز معدوم تھی اللہ کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہے۔
مادہ اللہ کی تخلیق ہے:
یہ سوچنا کہ اللہ پیدا کئے بغیر بھی کوئی چیز پہلے سے تھی جیسا کہ مادہ کے بارے میں ہندوستانی اور یونانی فلاسفہ کی قیاس آرائیاں ہیں کہ وہ بھی قدیم ہے یہ کفر یہ عقیدہ ہے، اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ کوئی چیز نہیں تھی، ہر چیز اللہ کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الانعام:۱)اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا (سورۃ الطلاق:۱۲)الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (سورۃ الملک:۲)سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (۱) الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى (سورۃ الاعلیٰ :۲)هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (یونس:۵)وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (الأنبیاء :۳۳)ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ

)الانعام : ۱۰۲(

خیر و شر کی تخلیق:
ہر خیر کی چیز اللہ نے پیدا کی ہے، اور ہر شر کی چیز کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے، خیر و شر دونوں کا خالق  (پیدا کرنے والا) اللہ ہے، یہ کہنا کہ خیر کا خالق اللہ ہے، اور شر کا خالق کوئی اور ہے جیسے مجوسی کہتے ہیں یہ شرک  ہے۔
اللہ کے شر کے خالق ہونے سے اللہ تعالیٰ کی کوئی برائی لازم نہیں آتی، اللہ تعالیٰ نے جس طرح خیر کو پیدا کیا ہے اسی طرح اپنی مصلحتوں سے شر کو بھی پیدا کیا ہے، شر کو پیدا کرنا نہیں بلکہ اس کو اختیار کرنا برا ہے، مثلاً : ظلم اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، لیکن اللہ ظالم نہیں ہیں، اگر اللہ ظالم ہوتے تو برائی ہوتی، اسی طرح اللہ نے ظلم کو پیدا کیا ہے لیکن بندوں کو اس کو اختیار کرنے سے منع کیا ہے، اگر اللہ ظلم کو پیدا نہ کرتے تو ظلم سے بچنے کا امتحان کیسے ہوتا ؟ مثلاً ’’امتحان‘‘ یہ شر کو پیدا کرنے کی ایک مصلحت  ہے۔

  سورة الفلق

(۱)قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (۲) مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

بندوں کے افعال کے خالق اللہ  ہی ہیں:
بندوں کے اعمال و افعال بھی اللہ کے پیدا کردہ ہیں، مثلاًاطاعت (فرماں برداری)اللہ کی مخلوق ہے، اور معصیت (نافرمانی)بھی اللہ کی مخلوق ہے، اللہ کے پیدا کئے بغیر کوئی شے وجود میں نہیں آسکتی، ظلم کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے اور انصاف کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے۔
افعال و اعمال کو پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے امتحان کی غرض سے بندوں کو قدرت دی کہ جس کو چاہے اختیار کریں، بندے کسی بھی صورت اور پہلو کو اختیار کرنے میں آزاد ہیں، لیکن حکم اطاعت ،اچھائی اور انصاف کواختیار کرنے کا دیا، اب بندے جس کو اختیار کریں گے اس کی بنیاد پر ان کو بدلہ ملے گا۔یعنی:
پہلا مرحلہ:        تخلیق ہے، اللہ نے اطاعت اور نافرمانی دونوں کو پیدا کیا۔
دوسرا مرحلہ:      بندوں کو امتحان کی غرض سے دونوں پر قدرت دے دی، کہ وہ جس کو چاہیں اختیار کر سکتے ہیں۔
                   لیکن امتحان اس بات کا ہے کہ اچھائی کو اختیار کریں اور برائی سے بچیں۔
تیسرا مرحلہ: بندے کے اختیار اور کمائی کا ہے، کہ وہ جس کو اپنے اختیار سے کمائے گا، یعنی اچھائی یا برائی اس کی بنیاد پر اس کو بدلہ ملے گا۔
یہ خیال کہ افعال عباد کے خالق اللہ نہیں بلکہ خود بندے ہیں ، یعنی یہ ماننا ہے کہ اللہ کے ساتھ صفت خلق میں بندے بھی شریک ہیں خواہ اپنے افعال کی حد تک ہی کیوں نہ ہوں یہ شرکیہ عقیدہ ہے۔
تخلیق میں تدریج:
اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحتوں سے بعض مخلوقات کو محض اپنے حکم ’’کن‘‘ سے پیدا کیا ہے، یعنی ایک وقت تھا کہ وہ نہیں تھے اور حکم خدا وندی پر اچانک وجود وجود میں آگئے(جس کی تفصیل آگے آرہی ہے)اور بعض مخلوقات کو اللہ نے تدریجاً مراحل میں پیدا کیا ہے، مثلاً  اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن یعنی چھ مراحل اور ادوارمیں پیدا کیا ہے۔

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (البقرۃ:۱۱۷)إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (الأعراف:۵۴)إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

(یونس:۳)

آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے کی مخلوقات :
آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات کو بھی پیدا کیا ہے، جن میں عرش اور پانی شامل ہیں، اور سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا، اور اس کو حکم دیا کہ جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کو لکھ دے، اور اللہ کے حکم اور ہدایت پر قلم نے سب کچھ لکھا۔

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ (ھود:۷)هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرۃ:۲۹) وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

(النور:۴۵)

تخلیق میں اللہ کا کمال:
اللہ تعالیٰ اپنی ہر صفت و فعل میں باکمال ہے،اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات اللہ کے علم و حکمت کی نشانیاں ہیں، مخلوقات کی تخلیق میں کہیں کوئی کمزوری اور نقص نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اوران میں گھوم رہے سیاروں کو بغیر کسی ستون کے قائم کیا ہے، تمام مخلوقات میں انسان جتنا غور و فکر کرے گا اس کے آگے اللہ کی صفت تخلیق میں کمال و عظمت ثابت ہوتی جائے گی ، اللہ کی مخلوقات میں کہیں کوئی رخنہ اور عیب نہیں ہے۔

الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ (۳) ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ (سورۃ الملک :۴)خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ

(لقمان:۱۰)

تخلیقات الہٰیہ میں بنی آدم کی فضیلت:
اس کائنات میں عظیم الشان اور محترم دونوں طرح کی مخلوقات ہیں لیکن ان سب میں سب سےقابل اکرام اور فضیلت والی مخلوق اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہے۔ اور اسی طرح انسان کو اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم میں پیدا کیا ہے، اس سے زیادہ اچھی تقویم کسی اور مخلوق کی نہیں ہے۔

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا (الإسراء:۱۷)لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (التین:۴)قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ (۷۵) قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (۷۶) قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ

(ص :۷۷)

اللہ تعالیٰ کی تخلیق بامقصد ہے:
اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو بامقصد پیدا کیا ہے، یہ عظیم الشان کائنات اور یہاں کی ایک ایک چیز ایک مقصد سے پیدا کی گئی ہے، یہ کوئی کھیل نہیں ہے، اس کی ایک ابتداء ہے اور ایک انتہاء ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ایک مدت متعین کی ہوئی ہے، اس مدت میں اس کائنات کا مقصد انسان کا اس سے فائدہ اٹھانا ہے، چنانچہ کائنات کی ہر چیز بندوں کےلئے مسخر کر دی گئی ہے، جو صرف انہیں کے مفادات کی تکمیل میں لگی ہوئی ہے، اپنے وقت مقررہ پر اس کا مقصد پورا ہوجائے گا، اور اللہ تعالیٰ اس کائنات کی بساط کو لپیٹ دے گا۔

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَيَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ (الأنعام:۷۳)هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (یونس:۵) خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ تَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (النحل:۳)وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ (۸۵) إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ (سورۃ الحجر۸۶)وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ (الأنبیاء:۱۶)أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مَا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُسَمًّى وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ لَكَافِرُونَ (الروم:۸) وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

(الذاریات:۵۶)

انسانی تخلیق کا مقصد:
پوری کائنات کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنوں کےلئے پیدا کیا ہے، اور خود انسانوں اور جنوں کو اس لئے پیدا کیا تاکہ ان کی آزمالش ہو کہ ان میں کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔ یعنی انسانوں اور جنوں کو اللہ نے اس لئے پیدا کیا تاکہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔

هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرۃ:۲۹)وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ (ھود:۷)وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

(الذاریات:۵۶)

تخلیقات کا اعادہ:
 جس طرح اللہ نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا ہے ویسے ہی اللہ تعالیٰ مخلوقات کو موت دینے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہیں، کوئی چیز  اللہ کو عاجز نہیں کر سکتی، اللہ تعالیٰ جن مخلوقات کو چاہیں گے دوبارہ پیدا کریں گے ۔
یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات کو مارنے کے بعد دوبارہ کیسے پیدا کرسکتے ہیں اور اس میں شک کرنا کفریہ عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اس بات پر قادر ہیں کہ مخلوقات کو مارنے کے بعد دوبارہ  پیدا کریں۔

قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ (سورۃ یس :۷۹)وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَإِذَا كُنَّا تُرَابًا أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (الرعد:۵)يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ (الانبیاء:۱۰۴)أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ (۷۷) وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ (۷۸) قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ (سورۃ یس :۷۹)أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الأحقاف:۳۳) أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ (ق:۱۵)وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (ق:۳۸)قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا

(مریم:۹)

صفت خلق میں شرک:
صفت خلق اللہ کی خاص صفت ہے، جس میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اللہ نے اپنے بندوں کی ہر ضرورت کو تخلیق کیا ہے، نہ صرف یہ کہ غیر اللہ کی کوئی تخلیق نہیں ہے، بلکہ اللہ کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے پھر کیا خالق اور مخلوق دونوں برابر ہو سکتے ہیں، وہی خالق اس لائق ہے کہ اسی کی عبادت ہو، اللہ کی اس صفت میں کسی کو شریک کرنا بدترین جرم ہے، اور یہ جرم ناقابل معافی ہے جس کی سزاء ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے۔

أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ (النمل:۶۰) هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (لقمان:۱۱) أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

(النحل :۱۷)

صفت خلق سے ملتی جلتی چند اور صفات:
خلق کے معنی سے ملتی جلتی اللہ تعالیٰ کی چند اور صفات بھی ہیں، مثلاً الباری، المصور، بدیع السموت و الارض، اور فاطر السموت و الارض وغیرہ، یہ صفات باہم قریب قریب معنی بھی ہیں اور ان میں آپس میں فرق بھی ہے، مثلاً : بدیع السموت والارض کسی چیز کو عدم سے وجود بخشنے کے معنی میں آتا ہے، ابداع اس کو کہتے ہیں کہ ایک چیز نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم ’’کن‘‘ سے اس کو وجود بخشا، فاطر السموت و الارض بھی اسی معنی میں آتا ہے، البتہ فاطر خاص ایسی ہستی کو کہتے ہیں جس نے بغیر مثال کے کسی چیز کو پیدا کیا، جبکہ ایک چیز موجود ہے اور اس کی مثال میں ایک دوسری چیز پیدا کی جائے اس کو فاطر نہیں کہتے، اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود بھی بخشا ہے اور بغیر مثال کے بھی پیدا کیا ہے۔ پھر کسی مخلوق کے قالب کو پیدا کرنا اس کو ظاہر کرنے والا اللہ کا نام الباریٔ ہے، اور ان میں تصویر کشی کرنے کی اللہ کی صفت کو ظاہر کرنے والا اللہ کا نام المصور ہے، اورالخالق کے معنی یہ بھی ہیں کہ: چند مادوں کو آپس میں خلط ملط کرکے ان سے ایک اور مخلوق پیدا کرنا، یعنی مثلاً اللہ نے پانی اور مٹی کو اپنے حکم  کن سے پیدا کیا یہ اس کی صفت ابداع ہے، پھر ان کو ملا کر انسان کو پیدا کیا یہ اس کی صفت تخلیق ہے، پھر انسان کو پیدا کرنے میں اس  کا ایک قالب ڈھالا یہ اس کی صفت إبراء /الباری ہے، اور اس قالب میں تصویر کشی کی یہ اس کی صفت المصور ہے۔

أن المراد بالبارئ قالب الأعيان ، أي أنه أبدع الماء والتراب والنار والهواء لا من شيء ، ثم خلق منها الأجسام المختلفة كما قال جل وعز : ( وجعلنا من الماء كل شيء حي (الأنبياء آية رقم : ۳۰) وقال : ( إني خالق بشرا من طين (ص آية رقم : ۷۱) ، وقال : ( ومن آياته أن خلقكم من تراب

(الروم آية رقم : ۲۰)

تدبیر کائنات :
کائنات کو جس طرح اللہ نے پیدا کیا ہے اسی کے ساتھ یہاں کے سارے نظام  کی تدبیر اللہ تعالیٰ ہی فرما رہے ہیں، ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ تعالیٰ ہی پورے نظام کو اللہ تھامے ہوئے ہے، وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرکے الگ ہو کر نہیں بیٹھ گیا ہے بلکہ آسمانوں اور زمین پر اسی کی باداشاہت ہے ، اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو چھائی ہوئی ہے، کوئی شے اس کی اختیار اور قدرت سے باہر نہیں ہے، آسمانوں اور زمین میں سای کی قدرت چلتی ہے،ہر چیز اس کےسامنے ہے، اور ہر چیز اس کے علم میں ہے، وہ مستقل اور مسلسل اپنے بندوں کی نگہبانی کررہا ہے۔

إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (یونس:۳)قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمْ مَنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (۳۱) فَذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ (یونس:۳۲) اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ مَا لَكُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ (۴) يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (۵)(السجدۃ) اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

(۲۵۵) (البقرۃ)

ہر چیز اپنے دائرہ اور حد میں اللہ کی تدبیر سے ہے:
آسمانوں اور زمین کو اپنی اپنی جگہ وہی رکھے ہوئے ہے، اسی کی تدبیر و انتظام ہے کہ آسمان زمین پر آگرتا نہیں ہے، اسی کی تدبیر ہے کہ سورج اور چاند اپنے اپنے دائرہ میں گھومتے رہتے ہیں ، اسی کی تدبیر ہے کہ دن و رات اپنے اپنے وقت مقررہ پر نکلتے رہتے ہیں، اس کےعلاوہ کوئی نہیں ہے جو زمین کو آسمان سے بچا سکے، اور اس کےعلاوہ کوئی نہیں ہے جو دن کے بعد رات کو لا سکے  یا رات کے بعد دن کو لاسکے، رات دن سورج چاند ستارے اسی کے حکم سے مسخر ہیں۔

فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (۹۶) (الأنعام)تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (۲۷)(آل عمران)وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۱۲) (النحل) قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (۷۲) وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (۷۳) (القصص) إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا (۴۱)

(الفاطر)

مظاہر فطرت اللہ کی تدبیر کا اظہار ہیں:
مخلوقات کو زندگی دینے کے بعد وہی ان کی پرورش کا سامان کررہا ہے، سمندروں سے پانی وہی اٹھاتا ہے، بادل وہی لاتا ہے، بارش وہی برساتا ہے، وہی پانی کو زمین میں محفوظ کرتا ہے، وہی دانے کو پھاڑتا ہے ، اور وہی درخت اور کھیتیاں اگاتا ہے، مخلوقات کی ضرورت کے لحاظ سے اسی نے اناج اور پھل پھول پیدا کرنے کا یہ سارا تدبیری نظام جاری کیا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللَّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (۹۵) (الأنعام)وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ انْظُرُوا إِلَى ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ إِنَّ فِي ذَلِكُمْ لَآَيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (۹۹) وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ (۱۰۰) بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۱۰۱) ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (۱۰۲) (الأنعام) أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ (۴۳)

(النور)

انسانوں کےلئے مخلوقات کا مسخر ہونا اللہ کی تدبیر کا حصہ ہے:
اللہ کی ہی تدبیر و انتظام کا حصہ ہے کہ اس نے خشکی اور سمندر اور فضاء کو  اپنی مخلوقات کے لئے مسخر کیا ہے،  زمین میں چلنے پھرنے کے راستے اسی نے بنائے ہیں، وہی ہے جو ستاروں کے ذریعہ راستوں کی رہنمائی کرتا ہے، وہی ہے جس نے سمندر کو سفر کےلئے مسخر کیا ہے، اور سمندر میں کسی طوفان سے بچانے کی قوت اسی کے ہاتھ ہے، وہی ہے جو فضاء میں پرندوں کو تھامے ہوئے ہے، اس نے یہ سارا نظام اپنی مخلوقات کے فائدہ اور ان کی زندگی کی بقاء کے لئے جاری کیا ہے۔

هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ (۲۲)(یونس)وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (۱۴) (النحل)أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِي جَوِّ السَّمَاءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (۷۹) (النحل)أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَيُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ (۶۵) (الحج) أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ (۱۹) أَمْ مَنْ هَذَا الَّذِي هُوَ جُنْدٌ لَكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ (۲۰)

(الملک)

تخلیق انسانی میں تدریج:
سب سے پہلے انسان کو مٹی سے اسی نے پیدا کیا ہے، اس کے بعد ان کی زندگی کا سلسلہ اسی کے انتظام و تدبیر سے جاری ہے،  اسی نے انسانوں کو جوڑوں کی شکل میں بنایا، اور ان سے ان کی نسل کو جاری کیا، ایک انسان سے دوسرا اور پھر ان سے ان کی نسل اسی کی تدبیر سے جاری ہے، اسی نے گندے پانی کے نطفہ میں یہ صلاحیت رکھی کہ وہ جنین بن سکے، وہی نطفہ کو علقہ اور پھر مضغہ بناتا ہے، پھر وہی اس کو ہڈیوں میں بدلتا ہے، اور وہی ان ہڈیوں پر گوشت چڑھاتا ہے، اور وہی مرد و عورت بناتا ، اور وہی ان کی تصویر کشی کرتا ہے، اور وہی ان کو سننے دیکھنے والا اور صاحب عقل بنا کر دنیا میں لاتا ہے، بچپنا جوانی اور بڑھاپا سب اسی کی تدبیر کا حصہ ہے، زندگی اور موت کا سلسلہ اسی کا جاری کیا ہوا ہے۔

وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الْآَيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ (۹۸) (الأنعام)إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ (۵)هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۶)(آل عمران) هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا شُيُوخًا وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى مِنْ قَبْلُ وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (۶۷) هُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ فَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (۶۸) (غافر) وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ (۱۲) ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ (۱۳) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (المؤمنون:۱۴)قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ (۲۳) قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (۲۴)

(الملک)

عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ ہے:
وہی ہے جس کو چاہتا ہے اپنی مخلوقات  میں بلندی و برتری دیتا ہے، اور یہ اس کا فضل ہے،  اور جس کو چاہتا ہے نیچے اور کمزور رکھتا ہے، اور یقیناً یہ اس کا عدل والا ہے۔

قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲۶) (آل عمران)مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۲)

(الفاطر)

اللہ نے تدبیر یا تصرف کا کوئی اختیار کسی کے حوالہ نہیں کیا ہے :
تدبیر کا سارا نظام اللہ سے متعلق ہے، اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جو مخلوقات کی تدبیر کرتا ہو، یا تدبیر کے کسی شعبہ میں کوئی عمل دخل رکھتا ہو، اللہ نے کوئی تدبیر اور کوئی تصرف کا اختیار کسی کے حوالہ نہیں کیا ہے، اسی کے حکم سے اس کے فرشتے جو اللہ چاہتا ہے بس وہی کرتے ہیں، اپنے اختیار سے وہ کچھ نہیں کر سکتے، سب اللہ کے محتاج ہیں اور اللہ سب سے بے نیاز ہے۔

يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ (۱۳) إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ (۱۴) يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (۱۵) إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ (۱۶) وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ (۱۷)

(الفاطر)

رزق دینا/الرازق:
رزق یعنی روزی اور انسان کی ہر ضرورت کو پورا کرنا ربوبیت الہٰی کا حصہ ہے، اور یک گونہ تدبیر کائنات میں شامل ہے، البتہ اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو مستقل ذکر کیا جاتا ہے۔
’’الرزاق، اور الرازق‘‘ دونوں  اللہ کے نام اور صفت ہیں، اور رزق دینا صرف اللہ کے ہاتھ میں  ہے، رزق کے اسباب پیدا کرنے والا اور آسمان سے رزق کے خزانے اتارنے والا صرف اللہ ہے،آسمانوں اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں،اور ہر طرح کی عطاء اسی کی جانب سے جاری ہے، جس طرح ہر انسان کا رزق اللہ مہیا کرتا ہے اسی طرح ہر جاندار کا رزق اللہ مہیا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے اور ان کےلئے پاکیزہ رزق مہیا کرتا ہے، اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے ۔

قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (یونس :۳۱) لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (الشوری :۱۲) وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي ا لْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (ھود :۶) وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (العنکبوت :۶۰) قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ (سبأ :۳۹) اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (الشوری :۱۹) قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

(الأعراف :۳۲)

اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ سب کو رزق حوالہ نہیں کردیا ہے کہ سب اپنے اپنے رزق کو اٹھائے اٹھائے پھرتے ہوں بلکہ وہ ہر ایک کے مستقل اور عارضی ٹھکانوں سے واقف ہے اور وہیں ہر ایک کا رزق مہیا کیا جاتا ہے، اور سب کا رزق ایک ساتھ پیدا بھی نہیں کردیا جاتا کہ لوگ اس کو حاصل کرکے پھر بغاوت کریں اور فساد مچاتے پھریں بلکہ بقدر ضرورت اللہ رزق اتارتا رہتا ہے۔

وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ (الشوری :۲۷) وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي ا لْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (ھود :۶) وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

(العنکبوت :۶۰)

آسمان سے با برکت پانی وہی اتارتا ہے، جن سے باغات اور اناج کے طرح طرح کے دانے اگاتا ہے، ایک دوسرے میں گتھے ہوئے کھجور کے خوشوں کو پروان چڑھاتا ہے،  یہ سب اس نے بندوں کےلئے رزق کے طور پر پیدا کیا ہے۔انسان جو کچھ اناج غذا کے طور پر کھاتا ہے اس پر پانی اللہ نے برسایا ہے، اور پھرپودے کو زمین سے پھاڑ کر بھی اللہ ہی نکالتا ہے، اور اس میں سے پھر اناج کے دانے ، انگور، قضب، زیتون، کھجور اور دیگر پھلوں سے لدے ہوئے  باغات اور کھیتیاں  انسانوں کےلئے ،اور جانوروں کےلئے چارہ اللہ نے ہی پیدا کیا ہے، اور پاک جانوروں کو بھی بطور غذا کے اللہ نے ہی پیدا کیا ہے۔

لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ (۲۸)(الحج)وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ (۳۴) (الحج)اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ (۳۲) (ابراھیم)هُوَ الَّذِي يُرِيكُمْ آيَاتِهِ وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ رِزْقًا وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَنْ يُنِيبُ (۱۳) (غافر)وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا فَأَنْبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ (۹) وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ (۱۰) رِزْقًا لِلْعِبَادِ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا كَذَلِكَ الْخُرُوجُ (۱۱) (ق)فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَى طَعَامِهِ (۲۴) أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا (۲۵) ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا (۲۶) فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا (۲۷) وَعِنَبًا وَقَضْبًا (۲۸) وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا (۲۹) وَحَدَائِقَ غُلْبًا (۳۰) وَفَاكِهَةً وَأَبًّا (۳۱) مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ (۳۲)

(عبس)

رزق کی طرح ہر عطاء اللہ کی جانب سے ہے، رحمت کے خزانے صرف اسی کے ہیں، وہی وہاب ہے، اولاد کا دینا نہ دینا اسی کے ہاتھ میں ہے، اور  جسے چاہے نرینہ اولاد دے اور جسے چاہے بیٹیاں دے سب اس کا اختیار ہے۔

لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (۴۹) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (۵۰) (الشوری)أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ (۹) (ص)قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (۳۵)

(ص)

رزق کے معاملہ میں اللہ نے کسی کو کسی پر فضیلت بھی دی ہے، اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے، جس کو وسعت دی ہے وہ اللہ کا فضل ہے، اور جس کو تنگی کی ہے اس کے ساتھ کوئی اہانت کا معاملہ نہیں کیا ہے بلکہ ضرورت کے بقدر سبھی کےلئے مہیا کیا ہے اور یہ اس کا عدل ہے۔

اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَفَرِحُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ (۲۶) (الرعد)اللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ (۷۱) وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ (۷۲) وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ (۷۳)

(النحل)

رزق کے دروازہ جس کے لئے چاہے کھولنا اور جس کےلئے چاہے تنگ کر دینایہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کے علاوہ کوئی رزق کا مالک نہیں ہے رزق کےلئے اللہ کے علاوہ جس کسی کے بھی آگے ہاتھ پھیلایا جاتا ہے وہ خود محتاج ہے، اگر اللہ رزق روک لے تو کوئی اس کو مہیا کرنے والا نہیں ہے۔

إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (۱۷)

(العنکبوت)

اللہ کی صفت رزق میں شرک:
رزق اور کسی عطا٫ میں غیر اللہ کو مؤثر ماننا شرک ہے، مثلاً یہ ماننا کہ کوئی پیر  ولی یا نبی و رسول کے اختیار میں ہے کہ وہ بندوں کےلئے رزق کے دروازے کھول سکتے ہیں،ایسا ماننا اللہ کی صفات میں شرک کرنا ہے، اور ایسا مان کر اُن پیر و ولی کو یا نبی و رسول سے سوال کرنا یہ ایک اور دوسرا الوہیت میں شرک کرنا ہے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ رزق اور روزی کا مہیا کرنا صرف اللہ  کے ہاتھ میں ہے، اولاد کا دینا نہ دینا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ان کی نسبت کسی غیر اللہ کی جانب کرنا یہ شرک فی الصفات میں سے ہے۔

وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ (۷۳) (النحل) إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (۱۷) (العنکبوت) لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (۴۹) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (۵۰)

(الشوری)

ہدایت:
ہدایت دینا اللہ کی صفت اور الھادی اللہ کا نام ہے، جس طرح اللہ مخلوقات کی ظاہری نعمتوں کو پورا کرتا ہے اسی طرح وہی مخلوقات کی باطنی نعمتوں کو بھی پورا کرتا ہے، باطنی نعمتوں میں سب سے اہم ہدایت ہے، مخلوقات میں سبھی کو اللہ نے ان کے کاموں کی ہدایت دی ہے، انسان جو اللہ کی مخلوقات میں سب اشرف اور کرامت والی مخلوق ہے اس کی ہدایت کا اللہ نے بہت ہی خاص اہتمام کیا ہے۔انسانوں میں اللہ کی اس صفت ہدایت کا ظہور کئی طرح سے ہوا ہے، انسان میں سلیم فطرت کو ودیعت کرکے انہیں تقوی اور فجور کا الہام کردینا یہ اللہ کی صفت ہدایت کا آغاز ہے، نفس لوّامہ کو ودیعت کرنا یہ بھی اللہ کی صفت ہدایت کا ظہور ہے، نیک اعمال کی توفیق ملتے رہنا یہ بھی اللہ کی صفت ہدایت کا ظہور ہے، ان کے علاوہ رسولوں کو مبعوث فرمانا، او رکتابوں کو نازل کرنا  ، اور رسولوں کے پیروکاروں میں حق و انصاف کی تبلیغ کرنے والے نیکوکاروں کو  ہر دور میں پیدا کرنا بھی اللہ کی اسی صفت ہدایت کا ظہور ہے۔

قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى (طہ :۵۰) أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُنِيرٍ (۲۰) وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ (۲۱) وَمَنْ يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى وَإِلَى اللَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (لقمان :۲۲) قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ قُلِ اللَّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ أَفَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لَا يَهِدِّي إِلَّا أَنْ يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (یونس :۳۵) رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (النساء:۱۶۵)وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ (ابراھیم :۱۲) وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ

(النحل :۹)

اللہ ہدایت دینے یا ضلالت دینے کا مطلب:
اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے کہ جس کو چاہے ہدایت دیں اور جس کو چاہیں گمراہ کردیں ، لیکن اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر حق و باطل دونوں کو واضح کردیا ہے، اور بتلا دیا کہ حق کو اختیار کرنے والے کامیاب اور نا حق کو اختیار کرنے والے نا کام ہیں، پھر جو اپنے اختیار سے جس راستہ کو اپنا تا ہے اللہ تعالیٰ اس میں اپنے جبر کو شامل نہیں کرتے،  ہاں جو حق کی راہ اختیار کرتا ہے اللہ اس کو ہدایت میں بڑھاوا دیتے ہیں، اور جو ناحق کو اختیار کرلیتا ہے اللہ اس کےلئے اسی کو آسان کردیتے ہیں، اللہ ظلم ، کفر اور فسق کا راستہ اختیار کرنے والوں کو جبر سے ہدایت نہیں دیتے ۔

ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (الزمر :۲۳) وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (غافر :۳۳) يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (المائدۃ :۱۶)وَكَذَلِكَ أَنْزَلْنَاهُ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَأَنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يُرِيدُ (الحج :۱۶) قَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (النور :۴۶) يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (البقرۃ :۱۴۲) وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (البقرۃ :۲۵۸) وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ (البقرۃ :۲۶۴) وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ

(المائدۃ :۱۰۸)

جو شخص اپنے اختیار سے کسی راستہ کو اختیار کرلیتا ہے  اللہ کے علاوہ کوئی بندہ اس کو اس راستہ سے ہٹا نہیں سکتا، جب کسی کے اپنے اختیار کردہ طریقہ سے ہدایت مقرر ہوگئی تو اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جب کسی کے اپنے اختیار کردہ طریقہ سے اس کےلئے گمراہی مقدر ہو گئی تو کوئی اس کو ہدایت یاب نہیں کر سکتا، کوئی بندہ خواہ وہ کسی درجہ کا ہو کسی اور بندہ کو ہدایت نہیں دے سکتا ، ہدایت دینا صرف اللہ کی صفت اور اختیار ہے، ہاں بندے ذریعہ کی حد تک کام آ سکتے ہیں جس کی تفصیل’’ایمان بالرسالۃ‘‘ کے عنوان کے تحت آئے گی۔

لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

(البقرۃ :۲۷۲)

مکلفین کی ہدایت ان کی پیدائش سے جاری ہے، جب جب انسان کو اللہ کی ہدایت کی ضرورت رہی ہے اللہ نے انہیں ہدایت دی ہے، اور انہیں کفر و ضلالت کی گمراہیوں سے نکال کر ایمان و ہدایت کے نور تک لایا ہے، اور اس کے راستے اور اسباب بنائے ہیں۔

فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرۃ :۳۸) يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (المائدۃ :۱۶)وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۸۷) ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (۸۸) أُولَئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَإِنْ يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ (۸۹) أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ

(الأنعام :۹۰)

اللہ کی صفت ہدایت میں شرک:
اللہ کی صفت ہدایت میں کسی کو شریک کرنا کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور بھی ہدایت دیتا ہے یہ شرک ہے، لیکن ذریعہ کی حد تک کسی کو ہادی ماننا جس معنی میں خود اللہ نے کسی کو ہادی مانا ہے جیسے اللہ کے رسول اور اللہ کی کتابوں کو ہادی ماننا یہ شرک نہیں ہے ۔

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ قُلِ اللَّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ أَفَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لَا يَهِدِّي إِلَّا أَنْ يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (یونس :۳۵) وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (القصص :۵۰) بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَنْ يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ (الروم :۲۹) أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا

(الفرقان:۴۳)

اللہ کی صفت ہدایت کا کفر:
اللہ کی صفت ہدایت کا انکار کرنا کہ اللہ نے کوئی ہدایت کا سلسلہ جاری نہیں کیا ہے، یا یہ کہنا کہ انسان کی ہدایت کےلئے ان کے رب کی جانب سے کوئی سلسلہ نہیں تھا ، اور کہنا کہ پہلے انسان تاریکی میں تھا اور بتدریج ہدایت یاب ہوا ہے، اور کسی بھی راستہ کو اختیار کرنا درست ہے سبھی راستے حق کے ہیں یہ سب کفریہ کلمات ہیں۔

قُلْ أَنَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (الأنعام :۷۱) قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ

(البقرۃ :۱۲۰)

عدل سے متعلقہ صفات:
امر ،حکم ،اور قضاء ، سب اللہ کی صفات فعلیہ ہیں، یہ سب صفات قریب المعنی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے ان سب افعال میں عدل سے کام لیتے ہیں، اس اعتبار سے عدل کرنا یہ اللہ کی ایک اور صفت ہے اور ان سب صفات میں انجام کار اسی کی اہمیت ہے، ان صفات میں سے صفت حکم سے اللہ کا ایک اسم الحاکم  اور احکم الحاکمین ہے۔

حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ (۸۷) (الأعراف)وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ (۱۰۹)

یونس

احکام کا مکلف بنانے میں عدل:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کسی بات کا حکم دینے ، ان کےلئے کسی قانون کو بنانے، کسی چیز کو حلال یا حرام کرنے اور دنیا میں کسی بھی قسم کی عطاء میں عدل کرنے والے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بھی اپنے فیصلوں میں عدل و قسط کا تاکیدی حکم فرمایا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (۵۸) (النساء)إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (۹۰) (النحل)وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (۹)

(الحجرات)

اعمال کی جزا٫ و سزا٫ میں عدل:
اسی طرح بندوں کے اعمال میں ان کو جزاء و سزاء دینے میں بھی اللہ عدل کرنے والے ہیں، قیامت حشر و نشر، حساب، میزان، جنت و جہنم سب اللہ کے صفت عدل کا ہی ظہور ہے ، جن میں اللہ تعالیٰ اپنے بندو ں کے ساتھ عدل و انصاف فرمائیں گے، برائی پر سزاء بندوں کی جانب سے برائی کے ارتکاب پر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں ہیں۔

ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (۱۸۲) (آل عمران)قُلْ لِمَنْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلْ لِلَّهِ كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (۱۲) (الأنعام)إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ (۴) (یونس)لِيَجْزِيَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (۵۱) (ابراھیم)مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (۴۶) (فصلت)فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ (۴۰)أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (۴۱) (الرعد)الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فَالَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (۵۶) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآَيَاتِنَا فَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ (۵۷) (الحج)وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ (۷) أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ (۸) وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ (۹) (الرحمن)الْيَوْمَ تُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (۱۷)

(غافر)

عدل و فضل:
عدل اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، صفت عدل کے ساتھ فضل کا معاملہ کرنا اللہ کی ایک اور صفت ہے، جب بندہ کوئی اچھا عمل کرتا ہے تو اچھا عمل کرنا اس کا فرض ہے کیونکہ یہ اس کے مالک کا حکم ہے، اگر اللہ اس کے فرض کی ادائیگی پر اس کو اچھا بدلہ دیتا ہے تو یہ اس کا فضل ہے، اللہ اس فضل کا پابند نہیں ہے، چاہے تو دے چاہے تو نہ دے چونکہ اس نے اپنی رحمت کو غالب رکھا ہے ، اس لئے وہ فضل کا ہی معاملہ کرتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی بندہ برا عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عدل کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اس کو اس برائی کی سزاء دے، لیکن اگر وہ اپنے فضل کا معاملہ کرکے یہ چھوٹ دیتا ہے کہ برائی کے ارتکاب کے بعد کوئی توبہ کرلے تو وہ اس کو معاف کردے گا، اللہ تعالیٰ کی یہ چھوٹ اس کا فضل ہے، اور اللہ کو اس کا اختیار ہے، اللہ تعالیٰ کسی کو سزاء دینے کا پابند نہیں ہے۔

وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ بَلْ لَهُمْ مَوْعِدٌ لَنْ يَجِدُوا مِنْ دُونِهِ مَوْئِلًا (۵۸) (الکھف)مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ (۴۴) لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (۴۵) (الروم)لِيَجْزِيَ اللَّهُ الصَّادِقِينَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ إِنْ شَاءَ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (۲۴) (الأحزاب)لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (۴) وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آَيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ (۵) (سبأ)وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى (۳۱) (النجم)غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ (۳)

(غافر )

اللہ کی صفات عدل و فضل میں کفر و شرک:
اللہ کی صفات عدل و فضل کا انکار کفر ہے، اور ان صفات کو جن معنی میں یہ اللہ کے لئے استعمال ہوتی کسی او رکی جانب بالذات منسوب کرنا شرک ہے۔ بالذات منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ: اگر کوئی اللہ کے حکم کے تابع فرمان مان کر نبی علیہ السلام کو عادل مانے تو یہ شرک نہیں ہے، اولوا الامر میں سے کسی کو اس کی دین پسندی اور انصاف مزاجی کی وجہ سے عادل مانے تو یہ شرک نہیں ہے۔ لیکن اللہ کے علاوہ ہر کوئی محدودیت کی صفت سے متصف ہے، کال عدل صرف اللہ کی صفت ہے، مثلاً کسی قاتل کو دنیا میں قتل میں قصاص کرنا یہ عدل کا تقاضہ ہے، نبی اولی الامر اس تقاضہ کو حکم الہیٰ کے مطابق دنیا میں پورا کرسکتے ہیں، لیکن مثلاً اگر کوئی شخص ایک سے زائد جیسے تین یا تین سو یا تین ہزار قتل کا مرتکب ہوا ہو، تو اس کی سزا٫ بھی اللہ کے علاوہ دوسرے صرف ایک ہی قصاص کی شکل میں دے سکتے ہیں، تین یا تین سو یا تین ہزار قصاص ایک ہی شخص سے نہیں لے سکتے، لیکن اللہ کامل عدل کرنے والا ہے، اور کل قیامت کے دن ہر ایسے شخص کے ساتھ کامل عدل کیا جائے گا، اور اس کے کئے کی مکمل جزا٫ و سزا٫ اللہ سے پائے گا، اللہ میں صفت عدل اس درجہ کامل و مکمل ہے، اس معنی میں صفت عدل غیر اللہ میں ماننا شرک ہے۔


ہم اللہ تعالیٰ کےتنزیہی صفات کی تصدیق کس طرح کریں؟



وہ اسماء و صفات جو باری تعالی سے نقص و عیب کی نفی پر دلالت کرتے ہیں ۔ قرآن سنت میں باری تعالیٰ کی تنزیہ کا بیان دو طرح سے ہوا ہے، ایک اللہ تعالیٰ کے چند اسماء ایسے ہیں جو اس کی تنزیہ و تقدیس پر دلالت کرتے ہیں مثلاً : العلی، القدوس، السلام وغیرہ۔ اور دوسرا طریقہ تنزیہ کے بیان میں نفی کا ہے، مثلاً وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا (البقرۃ:۲۵۵) وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (سورہ ق:۳۸) ان آیات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ میں صفت عجز نہیں ہے اور وہ تھکتا نہیں ہے، یہ نفی کا بیان ہے۔
صفات میں نفی و اثبات:
قرآن و سنت میں اللہ کے تعارف میں نفی اور اثبات دونوں طریقے ہیں، مثلاً اوپر صفات ذاتیہ اور صفات فعلیہ میں بالعموم اثبات کا بیان ہوا ہے کہ اللہ کیا ہیں، یہاں نفی کے طریقے کا بیان ہے۔
نفی میں اجمال اور اثبات میں تفصیل:
اللہ تعالیٰ کے تعارف کے بارے میں قرآن و سنت کا طرز ''اثبات میں تفصیل اور نفی میں اجمال'' کا ہے، یعنی اﷲ کیا ہے؟ اس کا ذکر تفصیلی ہے اور اﷲ کیا نہیں ہے اس کا ذکر اجمالاً ہے، اور یہی تعظیم و توقیر اور ادب کا تقاضہ بھی ہے، مثلاً ہم کسی کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں : فلاں شخص بڑا عالم ہے، ذہین ہے، بہادر ہے، منصف ہے، وغیرہ وغیرہ ، یہ نہیں کہتے: فلاں حجام نہیں ہے، دربان نہیں ہے، موچی نہیں ہے، ظالم نہیں ہے، چور نہیں ہے، بدمعاش نہیں ہے۔ پہلا طریقہ اثبات کہلاتا ہے ، یعنی اس بات کا بیان کہ وہ کیا ہے؟ اور دوسرا نفی کہلاتا ہے یعنی اس کا بیان کہ وہ کیا نہیں ہے،نفی میں تفصیل اور اثبات میں اجمال بجائے تعریف کہ توہین کرنا شمار ہوتا ہے، جیسا کہ اوپر کے منفی جملہ پڑھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے ، کسی کا تعارف اگر اس طرح نفیاً  کیا جائے تو وہ اس کی تعریف کے بجائے اس کی تحقیر اور توہین ہوتی ہے۔
تعریف تو یہ ہے کہ محاسن اور خوبیاں معروضی اور ایجابی انداز میں بیان کی جائیں ، اس لئے آسمانی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے تعارف کے بیان  میں اثبات میں تفصیل اور نفی میں اجمال ہے۔ باری تعالی کی صفات  کے بیان میں ''نفی میں اجمال''کی مثال میں ہم پورے قرآن میں صرف چند جملے بیان کر سکتے ہیں مثلاً: لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ……وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا (البقرۃ:۲۵۵)  وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (ق:۳۸)، أَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (آل عمران :۱۸۲)وغیرہ۔جبکہ اس طرح کے چند جملوں کے علاوہ کل تعارف تفصیلی اثبات کے طرز پر ہے، مثلاً: اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ……لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ……وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقرۃ:۲۵۵)، وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (البقرۃ:۱۶۳)، اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲۶) تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (آل عمران: ۲۷)۔اسی طرح هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (۲۲) هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (۲۳) هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الحشر:۲۴) اسی طرح سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۱) لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲) هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۳) هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (۴) لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ (۵) يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۶) (سورۃ الحدید) وغیرہ، قرآن مجید میں عام طور پر تعارف اِلٰہ اسی خوبصورت انداز میں ہے، جس میں باری تعالیٰ کی عظمت و جلالت شان کا صحیح تعارف حاصل ہوتا ہے۔
          اللہ تعالیٰ میں اور نقص و عیب سے پاک ہونے کی صفات مثلاً قرآن میں یہ بیان کی گئی ہیں کہ:
          اللہ تعالیٰ پر اس کی کمال حیات اور کمال قیومیت کی وجہ سے کبھی اس پر اونگھ او ر نیند طاری نہیں ہوتی۔

لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ

( البقرۃ:۲۵۵)

اور اس کی کمال قوت و قدرت کی وجہ سے  اس پر کبھی کوئی تھکن طاری نہیں ہوتی۔

وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ( البقرۃ:۲۵۵) وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ

(سورہ ق:۳۸)

اور اس کے کمال علم کی وجہ سے کوئی شے اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں ہے۔

لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ

(سورۃ سبأ:۳)

اور اس کے کمال عدل کی وجہ سے وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا

(سورۃ الکہف:۴۹)

اس  کے جلال  و عظمت اور کبریائی کا کمال ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں۔

لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ

(سورۃ الأنعام:۱۰۳) 

یہ سب اللہ تعالیٰ کی تنزیہی صفات ہیں، ان صفات کو جو شخص اللہ کے علاوہ کسی اور میں مانے اس نے شرک کیا، اور جو شخص اللہ کےلئے ان صفات کا انکار کرے اس نے کفر کیا ۔
بندوں اور اللہ کے لئے استعمال ہونے والی مشترک صفات اور دونوں میں فرق:
اللہ تعالیٰ کے لئے خاص اسماء و صفات کو بندوں کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں ہے، مثلاً الرحمن ، اللہ کا نام ہے، اب اس اسم پر کسی انسان کا نام رحمن  نہیں رکھا جا سکتا، لیکن اللہ تعالیٰ کی وہ اسماء و صفات جو اللہ تعالیٰ کےلئے خاص نہیں ہیں ، اور خود قرآن و حدیث نے انہیں اللہ کے علاوہ دوسروں کےلئے استعمال کیا ہے ان کو دوسروں کےلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بعض صفات جن کو بندوں کےلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، مثلاً حَيّ، عَلِيم، قَدِير، رءوف، رَحِيم، عَزِيز، سَمِيع، بَصِير، مَلِك، مُؤْمِن، جَبَّار، مُتَكَبِّر وغیرہ ، مثلاً ایک جگہ قرآن پاک میں ارشاد ہے: يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ، اس میں غیر اللہ کے لئے الْحَيّ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا: فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ، اس میں غیر اللہ کے لئے حَلِيم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا: وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ، اس میں غیر اللہ کے لئے عَلِيم کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ایک اور جگہ فرمایا: بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ، اس میں نبی  کے لئے رَءُوفٌ رَحِيمٌ صفات استعمال ہوئی ہیں، ایک اور جگہ فرمایا:فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا، اس میں غیر اللہ کے لئے سمیع و بصیر صفات استعمال ہوئی ہیں، ایک اور جگہ فرمایا:قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ، اس میں غیر اللہ کے لئے الْعَزِيز کا لفظ استعمال ہوا ہے ،ایک اور جگہ فرمایا:وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ، اس میں غیر اللہ کے لئے مَلِك کا لفظ استعمال ہوا ہے،  ایک اور جگہ فرمایا:أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا، اس میں غیر اللہ کے لئےمؤمن کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا:كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ۔ اس میں غیر اللہ کے لئےمُتَكَبِّر و  جَبَّار صفات استعمال ہوئی ہیں ۔
 لیکن بندوں کےلئے ان صفات میں یہ فرق ملحوظ رہے کہ: بندوں میں صفت حیّ اللہ الحیّ کے مثل نہیں ہے، اور بندوں میں صفت عزیز اللہ العزیز کے مثل نہیں ہے، اسی طرح بندوں میں صفت علیم اللہ العلیم جیسی نہیں ہے، اور ایسے ہی ان تمام اسما٫ کا حال ہے جن کو بندوں کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
مثلاً اللہ العلیم ہے، تو اس کے علم کی صفت ان آیات میں بیان کی گئی ہیں،باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ، ایک او رجگہ ارشاد ہے أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ، ایک اور جگہ ارشاد ہے وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَى وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ۔
اللہ کے علم کے مقابلہ میں بندوں کا گویا کوئی علم ہی نہیں ہے، مثلاً حدیث مبارکہ میں اس  بات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے، حضرت جابر ؓسے منقول ہے کہ اللہ کے رسول  ہمیں ہر معاملہ میں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے ایسے جیسے آپ ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے تھے، آپ فرماتے جب تم میں سے کوئی  کسی معاملہ کا ارادہ کرے تو دو رکعات نفل ادا کرے، اور پھر یہ دعا٫ پڑھے، اور اس میں اپنی حاجت کا ذکر کرے :

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ.

(صحیح بخاری) ۔

اسی طرح حضرت عمار بن یاسر سے ایک اور حدیث میں یہ دعا٫ منقول ہے:

 اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ الْكَرِيمِ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ۔

اسی طرح ایک اور جگہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً، اور  ایک دوسری جگہ فرمایا: وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِمَا عَلَّمْنَاهُ۔ ظاہر ہے یہاں علم اور قوت سے مراد اللہ کے علم و قوت کے مثل علم اور قوت نہیں ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت الحیی ہے، اس کی صفت حیات بندہ کی صفت حیات سے کیسے کیسے ممتاز ہے بہت تفصیل طلب ہے لیکن چند بنیادی امتیازات میں مثلاً بندہ کی حیات کو موت لاحق ہے، لیکن اللہ کی حیات کو موت لاحق نہیں ہے، باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ۔
یہی مثال دوسری صفات کی بھی ہے، اس بارے میں اصول یہ ہے کہ بندوں کی صفات عطائی، حادث، اور محدود ہیں، جبکہ اللہ کی یہ صفات بھی بندوں کی صفات سے اس طرح ممتاز ہیں کہ وہ ذاتی، قدیم اور لا محدود ہیں۔



ہم اللہ تعالیٰ کےصفاتِ متشابہات کےکس طرح قائل ہوں؟



متشابہ اسماء و صفات ثابت ہیں:
قرآن و سنت میں یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ، ہاتھ،پنڈلی، انگلیاں، آنکھیں اور پیر ہیں، اللہ ہنستے ہیں، اللہ عرش پر مستوی ہیں، اللہ تعالیٰ سب سے اوپر ہیں، اللہ الظاہر ہیں، اللہ الباطن ہیں، اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ حشر کے میدان میں فرشتوں کی صفوں کے جھرمٹ میں جلوہ افروز ہوں گے۔ اللہ کے رسول اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے جب یہ صفات قرآن و حدیث میں آئیں تھیں تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو بعینہ قبول کرلیا ، وہ اس پر ایمان لائے، اور ان کو یہ سب ماننے میں کوئی شبہ پیش نہیں آیا ،  ہم بھی انہیں کی پیروی میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو بعینہ مانتے ہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی بر حق صفات ہیں۔
اسماء متشابہات کا مفہوم:
بعد کے ادوار میں فلسفیانہ مذاہب میں جب اسلام پھیلا تو ان کی فلسفیانہ موشگافیوں سے اور کچھ یہودیوں کی سازش سے اعتقادی فتنے عام کرنے کی کوشش کی گئی، انہیں میں سے ایک یہ بحث بھی ہے، ان کی جانب سے اس بحث میں جو فتنہ پردازی کی گئی وہ یہ شبہ ہے کہ: ایسی صفات کے حاملین میں سے ہم جن کو جانتے ہیں ، وہ سب ذی جسم ہوتے ہیں، اور ’’ذی جسم حادث ہوتا ہے قدیم نہیں ہوتا ‘‘اسی طری ’’ذی جسم جہات میں محدود ہوتا ہے ‘‘وغیرہ، جبکہ حادث ہونا اور جہات میں محدود ہونا عیوب اور نقائص ہیں، اور اللہ تعالیٰ نقائص اور عیوب سے منزہ ہے، ان نقائص و عیوب سےاللہ کی تنزیہ لازمی ہے۔
اسماء متشابہات میں سلف کا طرز عمل:
سلف کے علماء متقدمین نےاس شبہ کا جو بے تکلف مضبوط جواب دیا وہ یہ ہے کہ:  یہ صفات ثابت ہیں ، ہمارا ایمان ہے کہ یہ  اللہ کی صفات ہیں،  باقی رہی یہ بات کہ ان کی کیفیت کیا ہے وہ ہمیں نہیں بتائی گئی،  اس لئے انہیں ہمیں ایسے ہی ماننا ہے، کیفیات کی بحث میں نہیں جانا ہے، ذی جسم ہونا نہ ہونا اور جہات میں محدود ہونا نہ ہونا، اس کا تعلق کیفیت سے ہے، ہمارے محدود علم میں یہ صفات ذی جسم کی اور محدود ہوتی ہیں، ممکن ہے اللہ کے علم میں اس کی اور بھی کیفیت ہو، جن کا ہماری عقل ناقص ادراک نہیں کرسکتی، اسی لئے اس کو قرآن و سنت نےمبہم رکھا ہے، ہمیں اس کو ایسے ہی ماننا ہے جیسے بیان کیا گیا ہے، کہ : وہ ہیں۔
اسما٫ متشابہات کی کیفیت  کی تحقیق بدعت ہے:
رہی بات ان کی کیفیات کے بارے میں سوال جواب کہ وہ صفات کیسی ہیں؟ اللہ کا چہرہ کیسا ہے؟ ہاتھ کیسا ہے؟ آنکھیں کیسی ہیں ؟ وغیرہ یہ تمام سوالات اس طبقہ میں نہیں اٹھے تھے جن پر اسلام نازل ہوا، یعنی صحابہ کا طبقہ، بلکہ اُن کے سامنے اِن صفات کو جیسے ذکر کیا گیا وہ ان پر ویسے ایمان  لے آئے، اور وہی دور قابل اتباع ہے، ان کی کیفیات کے بارے میں سوال بعد کی اختراع اور بدعت ہے، جس سے اجتناب لازمی ہے۔ یہی متقدمین کی اس عبارت الاستواء معلوم، و  الکیف مجھول، و السوال عنہ بدعۃ  کا مفہوم ہے۔
اس میں الاستواء معلوم، و  الکیف مجھول  عبارت کا جزء حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے موقوفا اور مرفوعاً بھی ثابت ہے۔ اور و السوال عنہ بدعۃ   کا جزء کہ کیفیت کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے امام مالک اور دیگر ائمہ اسلام سے منقول ہے۔
اور یہ معاملہ صرف استواء کا نہیں ہے، بلکہ ایسی ہر صفت جس کا ظاہر متشابہ ہو اس کا یہی  حکم ہے۔
مثلاً :الوجہ معلوم/ أو ثابت ،و الکیف مجھول ،و السوال عنہ بدعۃ۔  الید معلوم/ أو ثابت ،و الکیف مجھول ،و السوال عنہ بدعۃ۔ الأعین معلوم/ أو ثابت ،و الکیف مجھول ،و السوال عنہ بدعۃ۔ العلو و الفوقیۃ معلوم/ أو ثابت ،و الکیف مجھول ،و السوال عنہ بدعۃ۔ النزول معلوم/ أو ثابت ،و الکیف مجھول ،و السوال عنہ بدعۃ۔ المجیٔ معلوم/ أو ثابت و الکیف مجھول و السوال عنہ بدعۃ۔ وغیرہ
اسما٫ متشابہات کی توجیہ :
بعض علماء نے اسماء متشابہات کے حل کےلئے ان کی افہام و تفہیم کےلئے مناسب توجیہ کی کوشش کی ہے، جیسے اشعری علماء نے یہ طریقہ اختیار کیا، اور انہوں نے مثلاًکہا کہ: وجہ سے مراد اللہ کی عظمت ہے۔ ید سے مراد اللہ کی قدرت ہے۔ اعین سے مراد اللہ کا علم ہے۔ استواء سے مراد استیلاءاور انتظام ہے۔  اور نزول سے مراد توجہ ہے۔ وغیرہ وغیرہ لیکن بہت سے محققین اسلام نے ان توجیہات کی کوشش کو پسند نہیں کیا، اور کہا کہ یہ اللہ کے کلام کو اس کے ظاہر سے ہٹانے کی کوشش ہے، اور بعضوں نے ان توجیہات کی کوشش کو بہت شدت سے رد کیا ہے، حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفات اپنے ظاہر پر محمول ہیں ، کہ ہاں واقعی اللہ میں وجہ ید اور اعین وغیرہ ہیں، ان کا استواء نزول اور قیامت کے دن فرشتوں کی صف کے درمیان ان کی آمد یقینی ہے، البتہ ان کی کیفیات ہمارے لئے متشابہات میں سے ہے، اس لئے ان کی کیفیات کی تفتیش  سے گریز کرنا چاہئے، باقی رہی یہ صفات تو مسلم امر ہے کہ اللہ کےلئے وہ سب کچھ ہے جو خود اللہ نے اپنے تعارف میں بیان کیا ہے، کیسے ہے وہ اللہ ہی جانتا ہے، اس نے ان کی کیفیات کوہمیں بیان نہیں کیا ہے، اور اس کی صفات و اسماء میں ہماری خود سے دخل اندازی کو اور بغیر علم کے ظن و تخمینہ سے تبیین و تشریح کو منع کیا ہے اور اس کو الحاد قرار دیا ہے اس لئے اس سے گریز لازمی ہے۔

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لإبن أبی العز/۱۸۷)

صفات ’’علو اور استوا٫‘‘اور ان کے دلائل :
ان صفات کو ظاہر پر رکھنے والوں اور ان کی توجیہ / اور تاویل کرنے والوں کے درمیان ان صفات میں سے بہت زیادہ زیر بحث رہنے والی صفات ’’علو‘‘ ’’فوق‘‘ اور ’’استواء‘‘ہیں۔  یہ صفات ثابت ہیں، جس کے دلائل درج ذیل ہیں:
(۱)      :يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ (سورۃ النحل:۵۰)۔اس میں فوقیت کی تصریح موجود ہے، جس کو حرف اداۃ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
(۲)     : تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ (سورۃ المعارج:۴)۔اس میں فوقیت کی تصریح ہے جس میں حرف اداۃ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔
(۳)     : إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ (سورۃ الفاطر:۱۰)۔  فرشتے اس کے یہاں عروج کی منزلیں طے کرکے جاتے ہیں۔ اس میں عروج کس معنی کو ظاہر کررہا ہے۔ انہیں الفاظ کے ساتھ حدیث بھی وارد ہوئی ہے: ۔
(۴)     : إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ (سورۃ الفاطر:۱۰)۔ اللہ کی جانب کلمات طیبات کا صعود ہوتا ہے، یہ صعود علو کی جانب نہیں تو پھر کہاں ہوتا ہے۔
(۵)     نبی  کی معراج خود باری تعالیٰ کےلئے علو کو ثابت کرتی ہے، پھر معراج میں نبی  کا حضرت موسی علیہ السلام  کے پاس متعدد بار آنا اور متعدد بار صعود کرکے تخفیف صلاۃ کےلئے اللہ کے پاس جانا علو کو بے تکلف ثابت کرتی ہے۔
(۶) : بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ (سورۃ النساء:۱۵۸)۔ : إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ (سورۃ آل عمران:۵۵)۔ ان آیات میں رفع کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب رفع کہا ہے، اس میں الیٰ صلہ کے ساتھ رفع سے کیا سمت علو کا اثبات نہیں ہے؟
(۷) : وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (سورۃ البقرۃ:۲۵۵)، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ (سورۃ سبأ:۲۳)، إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ (سورۃ الشوری: ۵۱)۔ مطلق علو کے اثبات کی یہ آیات ہر طرح کے علو کو ثابت کررہی ہیں۔
(۸) تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (سورۃ غافر:۲)، تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (سورۃ الزمر:۱)، تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (سورۃ فصلت:۲)، تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ (سورۃ فصلت:۴۲)، قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ (سورۃ النحل:۱۰۲)، حم وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ (سورۃ الدخان:۱-۵)۔ ان آیات میں اور دیگر آیات میں قرآن مجید اللہ کی جانب سے ’’نازل ہوا‘‘ ہے متعدد مرتبہ وارد ہوا ہے جن سے علو کا اثبات بے تکلف ہو جاتا ہے۔
(۹) : إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ(الأعراف :۲۰۶). وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ عِنْدَهُ(الأنبیا٫:۱۹)چند مخلوقات اللہ کے پاس ہیں ، وہ کہاں ہیں، علو میں یا سفل میں ؟ حدیث میں بھی اس طرح کے الفاظ ا س کتاب کے بارے میں آئے ہیں جو اللہ کے پاس ہے، جس میں فوقیت کی صراحت ہے: أنه عنده فوق العرش ۔
(۱۰)    متعدد آیات میں استواء علی العرش کی صراحت ۔
(۱۱)     دعاء میں مانگنے کے لئے ہاتھ اٹھانے کا ذکر بتلاتا ہے کہ دعاء قبلہ علو ہے۔
(۱۲)    ہر رات اللہ کا آسمان دنیا پر نازل ہونا علو کو ثابت کرتا ہے۔
(۱۳)    حجۃ الوداع کے موقع پر جب آپ نے صحابہ کو اپنی رسالت کی ذمہ داری کی ادائیگی پر گواہ بنایا اور صحابہ نے گواہی دی تو رسول اللہ  نے آسمان کی جانب انگلی اٹھائی اور کہا : ۔
(۱۴)    رسول اللہ  کا اس باندی کے لئے ایمان کی شہادت دینا جو آسمان کی جانب اشارہ کرکے کہتی ہے کہ اللہ وہاں ہے۔
(۱۵)    جنت میں جنتیوں کا اللہ کو سر اٹھا کر ایسے دیکھنا جیسے چودھویں کے چاند کو دیکھتا ہے، علو کو بے تکلف ثابت کرتا ہے۔
          نصوص میں اس فوقیت و علو کا اللہ کےلئے انکار ممکن نہیں ہے،  چنانچہ تمام اہل سنت والجماعت اللہ تعالیٰ کی ان صفات یعنی علو فوقیت اور استوا٫ پر ایمان رکھتے ہیں ، جن تمام فقہا٫ و محدثین سبھی شام ہیں، شیخ الاسلام ابو اسماعیل انصاری نے اپنی کتاب ’’الفاروق‘‘ میں اپنی سند سے مطیع بلخی سے نقل کیا ہے کہ: انہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا جو کہتا ہے کہ: اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ امام صاحب نے اس کے بارے میں جواب دیا کہ وہ کافر ہے، کیونکہ اللہ فرماتے ہیں کہ: الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى۔ اور اللہ کا عرش ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے۔ مطیع بلخی کہتے ہیں کہ: میں نے امام صاحب سے پھر پوچھا: اگر کوئی کہے کہ اللہ تو عرش پر ہے، لیکن ساتھ ہی کہے کہ لا أدري العرش في السماء أم في الأرض اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟  امام صاحب نے کہا کہ : وہ بھی کافر ہے، کیونکہ وہ عرش کے آسمانوں کے اوپر ہونے کا منکر ہے، تو گویا جس نے اللہ کے آسمانوں کے اوپر ہونے کا انکار کیا گویا اس نے کفر کیا۔
اس مشہور واقعہ سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ امام صاحب اور ان کے تلامذہ علو کے قائل تھے، جو امام ابو یوسف اور بشر مریسی کے بارے میں مشہور طور پر منقول ہے کہ: بشر مریسی نے اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا انکار کیا تھا،  جس پر امام ابو یوسف نے اس کو توبہ کروائی تھی، اس واقعہ کو عبد الرحمن بن ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔
لیکن ان صفات کی کیفیت کیا ہے کہ اللہ کےلئے علو فوقیت اور استوا٫ کا مفہوم کس معنی میں ہے اسی طرح مجہول ہے جس طرح ’’وجہ ید اور ساق ‘‘وغیرہ کی کیفیت مجہول ہے،  اور ان کی کیفیت  کا اس طرح بیان کے جہات ستہ سے ان کی تبیین اور تشریح کی جائے یہ صفات باری تعالیٰ میں صریح الحاد کرنا ہے۔

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لإبن أبی العز/۱۸۶،۱۸۵)

علو اور فوقیت کے لئے جہت کے اثبات کی بے راہ روی :
یہ اوپر گذر چکا کہ تمام اہل سنت و الجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ ’’استوا٫ اور علو ثابت ہے، لیکن ان کی کیفیت کیا ہے وہ اللہ کے علم میں ہے، اور کیفیت کا سوال بدعت ہے‘‘۔ لیکن اِدھر کچھ عرصہ سے استوا٫ علو اور فوقیت کے بارے میں ایسی بیان بازی ہوئی ہے کہ ایک گروہ کی جانب سے یہ پروپیگینڈہ کیا گیا ہے کہ احناف ان صفات کے قائل نہیں ہیں، جبکہ یہ خلاف حقیقت ہے، اوپر امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف سے منقول روایات نقل کی جا چکی ہیں، دوسرے ابن ابی العزکے حوالہ سےاوپر  ان صفات کے حق میں دلائل بالتفصیل ذکر کئے گئے ہیں، پھر بھی احناف پر ان صفات کا الزام ایک جھوٹا اور بناوٹی الزام ہے، جو احناف کو بد نام کرنے کےلئے دیگر اور کوششیں کی جاتی ہیں ان میں سے ایک ہے۔  البتہ ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی ضروری ہے کہ ان صفات کااثبات تمام اہل سنت و الجماعت کے یہاں بلا کیفیت ہوتا ہے، جبکہ اس زمانہ کے ایک گروہ کی جانب سے جو احناف کے خلاف پروپیگینڈہ میں مشغول ہےوہ خود تمام اہل سنت و الجماعت  ، قرآن و سنت ، صحابہ ، فقہا٫ و محدثین کے بالکل خلاف اس عقیدہ  کا اثبات اس طرح کررہا ہے کہ اس سے ’’جہت‘‘ کا اثبات لازم آرہا ہے، اور جب تک ’’جہت‘‘ کو ثابت نہ کیا جائے تب تک انہیں اطمینان ہی نہیں ہوتا، جبکہ دلائل سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ ’’جہت‘‘ کا اثبات کیفیت کے باب دخل اندازی ہے، اور یہ اہل سنت والجماعت / اور صحابہ اور سلف کے طریقہ کے بالکل خلاف طرز عمل ہے، اور جو لوگ ’’صحیح عقیدہ ‘‘ کے نام پر استوا٫ اور علو کی بحث میں جہت سے کمتر پر رازی ہی نہیں ہوتے، ان کا اہل سنت والجماعت کے سواد اعظم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور ان کے موقف کو تسلیم کر لینا گویا کیفیت کی تفتیش میں پڑنا ہے جیسا کہ حضرت ام سلمہ کا منقول گذر چکا ہے کہ کیفیت ہمارے لئے مجہول ہے، اور امام مالک سے اس بارے میں گذر چکا کہ کیفیت کی تحقیق بدعت ہے، اس لئے اس باب میں نہایت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کہ ’’صحیح عقیدہ‘‘ کے نام پر عقائد بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اللہ تمام مسلمانوں کو اس گمراہی سے محفوظ رکھے آمین۔



ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کس طرح کریں؟



توحید الوہیت:
توحید فی الذات اور توحید فی الصفات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا تعارف حاصل ہوا، اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا بندوں سے تعلق واضح ہوگیا، کہ بندوں کو جو کچھ حاصل ہے ہرچھوٹی اور بڑی نعمت اللہ کی عطا٫ کردہ ہے، بندہ پر ہونے والی کسی نعمت کو دینے میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور اللہ کے علاوہ سب مخلوق اور اللہ سب کے خالق ہیں، اللہ کے علاوہ سب اس کی پرورش میں رہنے والے اوراللہ سب کے پروردگار ہیں، سب اللہ کے محتاج ہیں، اللہ کے علاوہ بندے آپس میں کسی کے بھی محتاج نہیں ہے، اللہ تنہا٫ سب کےلئے کافی ہیں۔اس اعتبار سے جس طرح اللہ تعالیٰ ذات و صفات اور ربوبیت میں واحد ہیں اسی طرح الہ ہونے کی حیثیت سے بھی اللہ واحد ہیں، اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی الہ نہیں ہے۔

وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَهٌ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ (۸۴) وَتَبَارَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (الزخرف:۸۵)رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِنْ كُنْتُمْ مُوقِنِينَ (۷) لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ (۸) بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ يَلْعَبُونَ (۹) فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ (۱۰) يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ (۱۱) رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ (۱۲) أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِينٌ (الدخان:۱۳)وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ (الذاریات:۵۱)فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ (محمد:۱۹)هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (۲۲) هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ

(الحشر:۲۳)

الوہیت کے معنی:
الوہیت کے معنی ہیں وہ ہستی جس پر اعتماد اور بھروسہ کیا جائے، اور منافع کے حصول اور نقصانات سے بچنے کےلئے اس کی جانب اس کی عبادت اور پرستش کے ذریعہ رجوع کیا جائے۔تو جس ہستی کی جانب اس طرح رجوع  کیا جائے وہ الہ ہے۔ اور چونکہ عبادت کے ذریعہ اس سے رجوع کیا جاتاہے اس لئے الہ ہی معبود ہوتا ہے۔

لا يخفى أن العبادة كما هو الظاهر من لفظها : هي الطرق المخصوصة لخضوع العبد لمن يعتقده إلهًا ؛ وكذلك خضوع المملوك لمالكه والولد لوالده والتلميذ لأستاذه والجاهل للعالم لا يسمى عبادة .ولكن خضوع المجوسية للنار والوثنية للأصنام والثنوية للشمس عبادة

(. جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية:۱/۲۹۲)

توحید ربوبیت توحید الوہیت کی بنیاد ہے:
مخلوقات کو جتنے بھی منافع پہنچتے ہیں سب اللہ کے ذریعہ پہنچتے ہیں اور اللہ کے علاوہ کوئی اور نفع و نقصان کا مالک نہیں ہے، تخلیق، تدبیر، احیا٫ و اماتت ، رزق و عطا٫، غرض ربوبیت کے جملہ امور اللہ کے ہاتھ ہیں، اور یہی ربوبیت میں توحید اللہ کی الوہیت میں توحید کی بنیاد ہے، کہ جو رب ہے وہی الہ ہے، جو نفع و نقصان کا مالک ہے وہی معبود بنائے جانے اور صرف اسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کا وہ مستحق ہے۔ جس کے ہاتھ نفع و نقصان کا کوئی حصہ نہیں ہے اس کو الہ نہیں بنایا جا سکتا۔

أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (۱) يُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ (۲) خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ تَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (۳) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ (۴) وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ (۵) وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ (۶) وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ (۷) وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (۸) وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ (۹) هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَكُمْ مِنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ (۱۰) يُنْبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (۱۱) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۱۲) وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ (۱۳) وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (۱۴) وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلًا لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (۱۵) وَعَلَامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ (۱۶) أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (۱۷) وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ (۱۸) وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ (۱۹) وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ (۲۰) أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (۲۱) إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنْكِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ (۲۲) لَا جَرَمَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ (النحل:۲۳) اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

(النمل:۲۶)

الوہیت میں توحید کو ماننا اللہ کا حق ہے:
جس طرح ذات و صفات میں توحید کو ماننا ضروری ہے، ایسے ہی الوہیت میں توحید کو ماننا اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اور جب تک الوہیت میں توحید کامل نہیں ہو گی مقصود حقیقی حاصل نہیں ہوگا، انبیا٫ اسی مقصود حقیقی کی تکمیل کےلئے مبعوث ہوتے تھے، بندے اللہ کے اسی حق کی ادائیگی  سے جہنم سے نجات پائیں گے۔

عَنْ مُعَاذٍ - رضى الله عنه - قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ ، فَقَالَ :يَا مُعَاذُ ، هَلْ تَدْرِى حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ. قُلْتُ :اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا  .

(صحیح البخاری:۲۸۵۶،صحیح مسلم:۱۵۲، سنن الترمذی:۲۸۵۵)

توحید الوہیت تمام انبیا٫ کی متفقہ دعوت رہی ہے:
الوہیت ہی توحید کا وہ باب ہے جس میں قوموں کے قدم زیادہ پھسلے ہیں، اور ایک نبی کے بعد دوسرے نبی آکر اپنی قوم کو توحید الوہیت کی ہی خصوصیت کےساتھ دعوت دیتےرہے ہیں، اور طاغوت کی پیروی سے روکا ہے، اور سب سے آخر میں حضرت محمد  نے اپنی قوم اور پوری انسانیت کو اسی توحید الوہیت کی خصوصیت کے ساتھ دعوت دی کہ مخلوقات کی عبادت کا مستحق کوئی اور نہیں صرف اللہ ہے اور الوہیت میں توحید کے ہر گوشہ کو آپ  نے شرک سے واضح فرمادیا، کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو الہ نہ بناؤ، اور آپ پر جو کتاب نازل کی گئی اس میں یہ بات ہر طرح کے دلائل سے  واضح کردی گئی ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی الہ نہیں ہے۔

فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ(الأعراف:۵۹-۶۵-۷۳-۸۵ (قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (الأعراف:۱۵۸)وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (البقرۃ:۱۶۳)اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (آل عمران:۲)شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (آل عمران:۱۸) لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ (۲۲) لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ (۲۳) أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ هَذَا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ الْحَقَّ فَهُمْ مُعْرِضُونَ (۲۴)وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ (۲۵)

(الأنبیا٫)

متعدد آلہہ ماننا شرک ہے:
اللہ کے علاوہ متعدد آلہہ ماننا شرک ہے،خواہ اللہ کے علاوہ سینکڑوں معبود مانے جائیں یا ایک دو مانے جائیں سب برابر ہیں، اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا الہ ماننا ، اور اللہ کے ساتھ حضرت عیسی کو الہ ماننا یہ سب صورتیں شرک ہیں۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنْ لَمْ يَنْتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (۷۳) أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (المائدۃ:۷۴)وَقَالَ اللَّهُ لَا تَتَّخِذُوا إِلَهَيْنِ اثْنَيْنِ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ (۵۱) وَلَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَتَّقُونَ (۵۲) وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ (۵۳) ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ (النحل:۵۴)قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أُخْرَى قُلْ لَا أَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ

(الأنعام:۱۹)

باطل آلہہ کی شکلیں:
انبیا٫ ، اولیا٫ و صالحین، ان کی قبریں، فرشتے، جن، سورج، چاند، ندیاں، ہوائیں، درخت، گائے، بت، حکومتیں، اللہ کے علاوہ مقننہ جو تحلیل و تحریم میں دخل اندازی کرتی ہوں، اور بسا اوقات مال و دولت اور خود نفس انسانی یہ سب آلہہ کے طور پر اختیار کرلئے جاتے ہیں، ان میں کوئی الہ بننے کا مستحق نہیں ہے، ان میں سے کسی کو الہ بنانا اور ان کے ساتھ الہ بنانے کے تقاضوں کو پورا کرنا شرک ہے۔۔

أَلا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ (الزمر:۳)أَن لاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ اللّهَ إِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ } (۲۶) .

سورة هود

اللہ کے علاوہ جو الہ مانے جاتے ہیں ان کے ہاتھ کچھ نہیں ہے:
مشرکین کی جانب سے اللہ کے علاوہ جن الہٰوں کو پوجا جاتا ہے، ان کے ہاتھ کچھ نہیں ہے، سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالیٰ نے ربوبیت کا کوئی ادنی سے ادنی اختیار بھی کسی کو نہیں دیا ہے، نہ دنیا میں نہ آخرت میں  ہر جگہ ہر کوئی اللہ کا محتاج ہے، اور جس طرح عوام اللہ کے محتاج ہیں، ویسے ہی خواص بھی اللہ ہی کی محتاج ہیں، وہ اپنا ہی کوئی کام اللہ کی مشیت کے بغیر انجام نہیں دے سکتے، اور دوسروں کے کام اللہ نے ان کے حوالہ نہیں کئے ہیں کہ وہ جو چاہیں تصرف کریں، بلکہ سارے کام اللہ کی مشیت اور امرکے محتاج ہوتے ہیں، اللہ کا کوئی ولی اللہ کی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے تقوی کی وجہ سے ہے، اور وہ اللہ کی بادشاہت میں کوئی اختیار نہیں رکھتا، یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے نفع و ضرر پہنچانے کی طاقت کسی کو تفویض کی ہے  یہ بھی شرک کا ایک شعبہ ہے۔

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَى قُلُوبِكُمْ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِهِ انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ (الأنعام:۴۶)قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُعْرِضُونَ (۴۲) أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ وَلَا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ (الأنبیا:۴۳)إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ (۹۸) لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ (الأنبیا:۹۹)وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا (الفرقان:۳)وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (القصص:۸۸)وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً لَعَلَّهُمْ يُنْصَرُونَ (۷۴) لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَهُمْ وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُحْضَرُونَ (یس:۷۵)وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ (۶۹) إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ (۷۰) قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ (۷۱) قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ (۷۲) أَوْ يَنْفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ (۷۳) قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ (۷۴) قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ (۷۵) أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ (۷۶) فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ (۷۷) الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ (۷۸) وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ (۷۹) وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (۸۰) وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ (۸۱) وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ (۸۲) رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ

(الشعرا:۸۳)

اللہ کے علاوہ جن کو الہ بنایا جاتا ہے قیامت کے دن وہ خود مشرکین کی مخالفت کریں گے:
اللہ کے علاوہ جسکو بھی الہ بنایا جاتا ہے عام طور پر یہ  خود مشرکین کی حرکت ہے ورنہ جن کو اللہ کے ساتھ شریک کیا جاتا ہے خود ان کی مرضی اس میں شامل نہیں ہوتی، بلکہ ان کو اس کی خبر بھی نہیں ہے، کل قیامت کے دن وہ سب مشرکین کے شرک سے برأت کا اظہار کردیں گے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکین اور ان کے شریک کئے ہوئے خداؤں کو جمع کریں گے اور ان شرکاء سے پوچھیں گےکہ کیا تم نے انہیں خود کو میرے ساتھ شریک کرنے کا حکم دیا تھا وہ اس پر صاف انکار کردیں گے کہ اس بد ترین حرکت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، انبیاء، فرشتے، جن، اولیاء و صالحین سب کھلے طور پر کہہ دیں گے کہ یہ خود ان مشرکین کی اپنی برائی ہے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ،ہم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا، یہ سب وہاں اللہ کے حضور اللہ کے بندے اور اللہ کے محتاج بن کر حاضر ہوں گے۔

وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً لِيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا (۸۱) كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا (مریم:۸۲)قَالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَغْوَيْنَا أَغْوَيْنَاهُمْ كَمَا غَوَيْنَا تَبَرَّأْنَا إِلَيْكَ مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ (۶۳) وَقِيلَ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَرَأَوُا الْعَذَابَ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ (القصص:۶۴)وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ (۴۰) قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنُونَ (سبأ:۴۱)احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ (۲۲) مِنْ دُونِ اللَّهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَى صِرَاطِ الْجَحِيمِ

(الصافات:۲۳)

بتوں اور تصویروں کی پرستش:
بتوں اور تصویروں سے احترام اور عقیدت رکھنا اور ان  میں کسی قسم کے تصرف کے اختیار کو ماننا، اور اس لئے ان کے سامنے مراسم عبودیت ادا کرنا، مثلاًسجدہ کرنا، جھکنا، ان سے مانگنا، ان کو پکارنا اور یہ عقیدت رکھنا کہ وہ سن رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں یہ سب شرک اکبر ہے اور شرک فی  الالوہیت ہے۔
مشرکین مثلاً ہندو  جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ اسی شرک میں شامل ہے، ان کے علاوہ مسلمانوں کا بزرگان دین کی تصاویر کے ساتھ یہی معاملات کرنا، یا خاندان کے بزرگوں کے ساتھ یہ معاملات کرنا، ان کو صاحب تصرف و اختیار ماننا،ان کو پکارنا، اپنی ضروریات و حاجات کو ان سے مانگنا ،اور ان عقیدوں کے ساتھ ان کی تصویروں کے آگے چراغاں کرنا یہ بھی بعینہ اسی جیسا شرک اکبر ہے، جو ایک مسلمان کو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے۔

وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَهُمْ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ (۱۳۸) إِنَّ هَؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (۱۳۹) قَالَ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ (الأعراف:۱۴۰) إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ (۵۲) قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ (۵۳) قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ

(الأنبیا٫:۵۴)

تصویر کی حرمت:
تصویر اور بت سازی کی حرمت اسلام میں اسی لئے ہے کہ وہ ہمیشہ سے شرک کا بڑا ذریعہ رہا ہے، اس میں ہر جاندار کی تصویر کی حرمت تو ہے ہی ساتھ ہی علما٫ و اولیا٫ اور صالحین کی تصاویر کی حرمت خاص طور سے ہے جن کے بارے میں غالب گمان ہوتا ہے کہ ان کی تصاویر کی عقیدت و احترام میں غلو ہوگا اور بتدریج کھلا اور شرک اکبر شروع ہوجائے گا، اس لئے تصویر سازی اور بت سازی بھی حرام مطلق ہے۔ جیسا کہ قوم نوح کے بزرگوں کے ساتھ ہوا جن کے نام قرآن نے  ’’ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر‘‘ ذکر کئے ہیں۔ یہ اس قوم کے بت /اصنام تھے، احادیث میں آیا ہے کہ یہ قوم نوح کے بزرگان تھے جن کی تصاویر بنائی گئیں، پھر ان سے احترام رکھا گیا، پھر غلو شروع ہوا اور پھر کھلے شرک کا آغاز ہوا۔

عن عَبْدَ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ « إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ

(صحیح البخاری:۵۹۵۰،  صحیح مسلم: ۵۶۵۹،سنن النسائی: ۵۳۸۱)



ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کے تقاضوں کو کس طرح ادا کریں؟


الہ ماننے کا مطلب:
اللہ کو الہ ماننے کے چند تقاضے ہیں ، ان تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے تبھی تو حید الوہیت کامل اور مکمل ہوتی ہے، اگر ان تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے تو پھر الوہیت میں شرک ہوجاتا ہے۔الہ ماننے کے تقاضوں میں جہاں صرف اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کرنا ہے وہیں عبادت اور اس کے جملہ تقاضوں میں دل ، زبان اور عمل کو صرف اللہ کےلئے خاص کر لینا توحید الوہیت کا حصہ ہے، اللہ تعالیٰ کو الہ ماننے کے تقاضے درج ذیل ہیں۔

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الأنعام:163) معنى الألوهية الكفر بكل معبود و إفراد الله بالعبادة والاستسلام لحكمه

(التوضیح و التتمات علی کشف الشبہات:۱/۱۹۱)

عبادت صرف اللہ کی ہو:
اللہ تعالیٰ کو الہ ماننے کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ کی ہو، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، عبادت کے جملہ مظاہر صرف اللہ کے لئے اختیار کئے جائیں۔

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران:۶۴)اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

(التوبۃ:۳۱)

عبادت کے معنی:
عبادت کے معنی ہیں بالذات کسی کی انتہائی محبت کے ساتھ اس کی اطاعت اور فرماں برداری کرنا، اور محبت اور اطاعت کے تقاضوں کو اس کےلئے پورا کرنا ۔ 

أنها: "التذلل لله عز وجل حباً وتعظيماً، بفعل أوامره واجتناب نواهيه".(شرح العقیدۃ الواسطیۃ /۸)معنى ’’العبادة‘‘  لغة :حاصلها ما يلي : العبادةمن مادة ’’ع ب د‘‘. وهذه المادة إذا كانت على وزن ’’نصر ينصر‘‘، فلها خمسة معان:(۱) الخضوع .(۲) الذلة .(۳) الطاعة .(۴) المملوكية .(۵) التنسك(جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية:۱/۳۱۱)معنى العبادة ؛ وهي على ما سبق : اسم جامع لكل ما يحبه الله ويرضاه ؛ من الأقوال والأعمال الباطنة والظاهرة : كالتوحيد ؛ فإنه عبادة في نفسه ، والصلاة ، والزكاة ، والحج ، وصيام رمضان ، والوضوء ، وصلة الأرحام ، وبر الوالدين ، والدعاء ، والذكر ، والقراءة ، وحب الله ، وخشية الله ، والإنابة إليه ، وإخلاص الدين له ، والصبر لحكمه ، والشكر لنعمه ، والرضى بقضائه ، والتوكل عليه ، والرجاء لرحمته ، والخوف من عذابه ، والاستغاثة به ؛ وغير ذلك مما رضيه وأحبه

(جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية:۱/۳۳۲)

بالذات محبت و اطاعت کا مطلب:
کسی کو راست محبت اور فرماں برداری کا مستحق ماننا،یہ بالذات محبت و اطاعت کرنا  ہے۔ ورنہ بالغیر محبت و اطاعت جیسے انبیا ٫سے یا ماں باپ سے محبت کرنا یہ حب فی اللہ ہے، اور حب فی اللہ میں کسی سے کی جانے والی والی محبت و اطاعت جب تک وہ اللہ کی حدود میں رہ کر کی جائے اُن کی عبادت نہیں ہوتی، بلکہ ان سے یہ محبت اور ان کی یہ اطاعت اللہ کی ہی عبادت ہے۔

لا يخفى أن العبادة كما هو الظاهر من لفظها : هي الطرق المخصوصة لخضوع العبد لمن يعتقده إلهًا ؛ وكذلك خضوع المملوك لمالكه والولد لوالده والتلميذ لأستاذه والجاهل للعالم لا يسمى عبادة .ولكن خضوع المجوسية للنار والوثنية للأصنام والثنوية للشمس عبادة .

عبادت کے تقاضے اور مظاہر:
عبادت کے تقاضے مثلاً :توکل(بھروسہ کرنا)، رجا٫(امید رکھنا)،  خوف و خشیت(ڈرنا)، خشوع و خضوع(تواضع کی وہ دلی کیفیت جس کو اعضا٫ و جوارح سے ظاہر کیا جائے)، حکم کی تعمیل  کرنا، نافرمانی سے گریز کرنا، صبر و شکروغیرہ سب عبادت کے تقاضے ہیں۔  اور غیر اللہ پر بھروسہ کرنا ان سے امید رکھنا، ڈرنا، غیر اللہ کے حکم کی فرماں برداری اللہ کی نافرمانی میں کرنا، یا غیر اللہ کو حکم دینے کا مجاز ماننا(تحلیل  ما حرم اللہ اور  تحریم ماأحل اللہ) یہ سب شرک ہے۔

أن معنى العبادة واسعٌ يشمل كل ما يحبه الله ويرضاه من الأقوال والأعمال الظاهرة والباطنة.

(الملخص فی شرح کتاب التوحید:۱/۳۰۰)

اور قنوت و قیام ، رکوع، سجدہ ،اور تقرب کا ہر ذریعہ عبادت کے مظاہر ہیں، یعنی پرستش کے جملہ طریقے عبادت کے مظاہر ہیں، نماز، اور نماز کے تمام اعمال عبادت ہیں، روزہ عبادت ہے ، حج، اور حج کے جملہ اعمال عبادت ہیں، نذر عبادت  ہے، دعاء و سوال عبادت ہے، قربانی عبادت ہے، غیر اللہ کےلئے عبادت کا کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا شرک ہے۔
انبیا٫ اسی لئے بھیجے جاتے تھے  تاکہ وہ بندوں کو بتلائیں کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں، اور طاغوت سے بچیں۔

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللهَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ (النحل: ۳۶)وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (الإسراء: ۲۳)وَاعْبُدُواْ اللهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا...(النساء: ۳۶)قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا(الأنعام: ۱۵۱، ۱۵۳)اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَهًا وَاحِدًا لاَّ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ(التوبة: ۳۱)لَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَخْذُولًا (۲۲) وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (الإسرا:۲۳)إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي (طہ:۱۴)يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (۲۱) الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرۃ:۲۲)أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (البقرۃ:۱۳۳)قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران:۶۴)قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا (کھف:۱۱۰)لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ

(المائدۃ:۷۲)

العبادة اسم جامع لكل ما يحبه الله ويرضاه من الأقوال والأعمال الظاهرة والباطنة"هذا الشيء الذي تعبدنا الله به يجب توحيد الله به، لا يصرف لغيره، كالصلاة والصيام والزكاة والحج والدعاء والنذر والخشية والتوكل.. إلى غير ذلك من العبادات.

( شرح العقيدة الواسطية:۱/۹)



کہیں ہم اللہ کی عبادت کے خاص طریقوں میں کسی کو شریک تو نہیں کر رہے ہیں؟(حقیقت اور جائزہ)



غیر اللہ کےلئے رکوع و سجدہ شرک ہے:
اللہ کےعلاوہ کسی اور کو پرستش کےلئے سجدہ کرنا شرک ہے، خواہ زندوں کو خواہ مردوں کو، خواہ بتوں کو خواہ قبروں کو سب شرک ہے، اور الہ مانے بغیر محض تعظیم میں غیر اللہ کےلئے جھکنا اور غیر اللہ کو سجدہ کرنا بھی حرام ہے۔

أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى، أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَى، تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى، إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى

(النجم: ۱۹-۲۳)

عبادت کے طور پر قنوت و قیام شرک ہے:
نماز کے جملہ اعمال عبادت کا جز٫ ہیں ہاں اس میں نیت کا بھی دخل ہے، اگر قیام و قنوت غیر اللہ کی پرستش کےلئے ہو جیسا کہ نماز میں اللہ کےلئے ہوتا ہے تو وہ بلاشبہ شرک ہے۔

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ

(البقرۃ:۲۳۸)

دعا٫ ، استعانت اور استغاثہ:
دعا٫ ، استعانت اور استغاثہ صرف اللہ کا حق ہے، اور اللہ کی عبادت کا لازمی جزء ہے کہ بندہ صرف اللہ سے مانگے، اللہ کے علاوہ کسی اور سے دعاء نہ کرے، اللہ کے علاوہ کسی اور سے استعانت اور استغاثہ ، اور دعا٫کرنا شرک ہے۔

اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (۶۴) هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۶۵) قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَمَّا جَاءَنِيَ الْبَيِّنَاتُ مِنْ رَبِّي وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (غافر:۶۶)قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (۱) مَلِكِ النَّاسِ (۲) إِلَهِ النَّاسِ (۳) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (۴) الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ (۵) مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (۶) الناس

قبروں کی تعظیم اور مدفون اولیا٫سے مانگنا:
اولیا٫ اور صالحین کی قبروں پر جا کر ان سے اپنی ضرورتیں اور مرادیں مانگنا ، اور ان سے منتیں ماننا سب مراسم شرک ہیں، نبی مرض الوفات میں اس سے بچنے کی خاص وصیت فرماتے رہے، اور قبروں کو سجدہ گا بنانے سے سختی سے منع فرمایا، اور ہر ایسے طریقہ کو ختم فرمایا جس سے قبروں کے معاملہ میں غلو ہو سکے،  مثلاً ان کو روغن کرنا، قبریں پختہ اور اونچی بنانا، وغیرہ، صحابہ کرام کو مأمور فرمایا کہ جہاں کہیں ایسا دیکھو ان کو زمین کے برابر کردو، اور آپ خود دعا٫ فرماتے کہ : اللہم لا تجعل قبری وثناً یعبد

(رواہ مالک و احمد)۔

عن عائشة رضي اللّه عنها قالت : « لما نُزلَ برسول اللّه صلى الله عليه وسلم طفق يطرح خميصة له عن وجهه . فإذا أَغتم بها كشفها . فقال وهو كذلك : لعنة الله على اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد . يحذر ما صنعوا ، ولولا ذلك أبرز قبره غير أنه خشي أن يتخذ مسجدا(متفق علیہ) وقال صلى الله عليه وسلم : « ألا وإن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم مساجد . ألا فلا تتخذوا القبور مساجد . فإني أنهاكم عن ذلك(رواہ مسلم)لا تطروني كما أطرت النصارى ابن مريم . إنما أنا عبد فقولوا : عبد اللّه ورسوله (رواہ البخاری)ألا أبعثك على ما بعثني عليه رسول اللّه صلى الله عليه وسلم أن لا تدع تمثالا إلا طمسته . ولا قبرا مشرفا إلا سويته » (رواہ مسلم) .عن جابر رضي اللّه عنه قال : « نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تجصيص القبر . وأن يقعد عليه . وأن يبنى عليه بناء

(رواہ مسلم)

أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى، أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَى، تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى، إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى

(النجم: ۱۹-۲۳)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى مَرَضِهِ الَّذِى لَمْ يَقُمْ مِنْهُ « لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ».(صحیح مسلم:۱۲۱۲) وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ أَلاَ فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ إِنِّى أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ».

(صحیح مسلم:۱۲۱۶)

قبروں کے ساتھ مشروع عمل:
احادیث میں زیارت قبور کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ موت یاد آئے اور آخرت کی تیاری کی طرف توجہ ہو، اور ساتھ ہی صاحبِ قبر کےلئے دعا٫ِ استغفار اور دعا٫ِ رحم سکھلائی گئی ہے، یہ نہیں کہ صاحب قبر سے کچھ مانگا جائے جبکہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا .(صحیح مسلم:۲۳۰۵)وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ أَلاَ فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ إِنِّى أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ».(صحیح مسلم:۱۲۱۶)روى مالك في "الموطأ" أن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: "اللهم لا تجعل قبري وثناً يُعبد، اشتد غضب الله على قوم اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد ".

/۳۷)

درختوں او پتھروں سے تبرک حاصل کرنا :
درختوں اور پتھروں سے عقیدت رکھنا جیسا کہ مشرکین اور ہندوں کا طرز ہے، اور ان درختوں یا پتھروں کے پاس جانا، ان پر منتوں کے دھاگے باندھنا اور یہ گمان رکھنا کہ اس سے ان کے کام نکل جائیں گے حرام اور شرک ہے۔

أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى، أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَى، تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى، إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى

(النجم: ۱۹-۲۳)

عن أبي واقد الليثي قال: خرجنا مع رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إلى حُنَين ونحن حُدَثاء عهد بكفر وللمشركين سِدْرة يعكُفون عندها ويَنُوطُون بها أسلحتهم يقال لها: ذات أنواط. فمررنا بسِدْرة فقلنا يا رسول الله، اجعل لنا ذاتَ أنواط كما لهم ذاتُ أنواط. فقال رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الله أكبر -إنها السُّنَن- قلتم والذي نفسي بيده كما قالت بنو إسرائيل لموسى: {اجْعَل لَّنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ(الأعراف: ۱۳۸) لتركبُن سَنَنَ من كان قبلكم"

(رواه الترمذي وصححه).

سحر:
وہ عمل جس میں نتائج کے اسباب عام نظروں سے پوشیدہ ہوں، اور جن میں غیر اللہ سے استمداد لی جاتی ہے، مثلاً جن و شیاطین سےاستمداد وغیرہ ، ساحر جن و شیاطین کو خوش کرکے ان کی صلاحیتوں اور طاقتوں کو حاصل کرتا ہے اور اپنے مقصد کےلئے استعمال کرتا ہے اور دلوں اور اجسام پر اثر انداز ہوتا ہے، یا مسحور کو مرض میں مبتلا کرتا ہے یا دیگر اور نقصان پہنچاتا ہے، ان اعمال میں استمداد بغیر اللہ ہوتا ہے جو شرک اکبر ہے ، جس کا مرتکب ملت اسلامیہ سے خارج ہوجاتا ہے۔ اور اگر استمداد بغیر اللہ نہ بھی ہو تب بھی یہ کفر ہے کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے اور اس کو قرآن نے کفر سے تعبیر کیا ہے، اور حدیث میں اس کو سات ہلاک کردینے والی چیزوں میں شمار کیا گیا ہے۔

وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ … وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ۔

(البقرة : ۱۰۲)

قال النبي صلى الله عليه وسلم : اجتنبوا السبع الموبقات . قالوا : وما هي ؟ قال : الإشراك باللّه والسحر۔

( رواہ البخاری)

سحر طاغوت ہے:
 سحر (جادو)طاغوت ہے، جس سے اللہ اور رسول نے منع کیا ہے، سحر میں استمداد بغیر اللہ ہوتا ہے، جیسے جنوں اور شیاطین سے مدد لی جاتی ہے، اور استمداد بغیر اللہ شرک ہے، اس لئے سحر کفر و شرک ہے۔

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

(البقرۃ :۱۰۲)

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ

(النحل:۳۶)

السحر حرام بلا خلاف بين أهل العلم واعتقاد إباحته كفر  وعن أصحابنا ومالك وأحمد يكفر الساحر بتعلمه وفعله سواء اعتقد الحرمة أو لا ويقتل وفيه حديث مرفوع حد الساحر ضربة بالسيف يعني القتل(شامی:۴/۲۴۰)أن في الأحاديث دليلاً على كفر الكاهن والساحر لأنهما يدعيان علم الغيب وذلك كفر ، ولأنهما لا يتوصلان إلى مقصودهما إلا بخدمة الجن وعبادتهم من دون الله ، وذلك كفر بالله وشرك به سبحانه ، والمصدق لهم بدعواهم على الغيب ويعتقد بذلك يكون مثلهم ، وكل من تلقى هذه الأمور عمن يتعاطاها فقد برء منه رسول الله صلى الله عليه وسلم

(حکم السحر والکہانۃ بن باز:۱/۲)

کیا توسل شرک ہے؟
توسل اس معنی میں کہ جن کو وسیلہ بنایا جا رہا ہے اللہ نے نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت انہیں ہی دے دی ہے، اس لئے ان سے مدد مانگی جا رہی ہو ،اور اللہ کا نام محض تبرک کے طور پر لیا جا رہا ہے تو یہ عقیدہ بلا شبہ شرک ہے۔
اسی طرح توسل اس معنی میں کہ نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت اللہ تعالیٰ کے پاس بھی ہے، اور جس کو وسیلہ بنایا جا رہا ہے ان کو بھی اللہ نے نفع و نقصان کی طاقت دی ہے اس لئے ان سے استعانت کی جائے تو یہ بھی شرک ہے، اور ایسا کرنا قطعاً حرام ہے۔
توسل اس معنی کر کہ کوئی اللہ کا نیک اور مقبول بندہ ہے ،اس سے اس غرض سے رجوع کرنا کہ وہ ہمارے حق میں اللہ سے دعا٫ کرے تو یہ صرف زندوں کے ساتھ روا ہے مردوں کے ساتھ  یہ جائز نہیں ہے۔
اعمال کو وسیلہ بنانا شرک نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے، اسی طرح نبی  سے محبت کے عمل کو وسیلہ بنانا دعا٫ کی قبولیت کو مضبوط کرنے کا ایک سبب ہے، علامہ ابن تیمیہ نے اس کو اسباب استیجاب میں قوی ترین سبب بتایا ہے
غیر اللہ کےلئے نذر و نیاز شرک ہے:
نذر و نیاز اور منت ماننا کہ ائے اللہ میرا فلاں کام کردیجئے، یا صحت دے دیجئے،  میں آپ کےلئے اتنا مال صدقہ کروں گا، یا اتنے لوگوں کو کھلاؤں گا، یا کنواں کھدواؤں گا، یا دواخانہ بناؤں گا وغیرہ یہ نذور صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، غیر اللہ کےلئے منت ماننا  جیسے پیران پیر یا کسی اور کی منت ماننا شرک ہے۔

وأما النذر الذي ينذره أكثر العوام - على ما هو مشاهد - كأن يكون لإنسان غائب ، أو مريض ، أو له حاجة ضرورية ؛ فيأتي بعض قبور الصلحاء فيجعل ستره على رأسه ؛ فيقول : يا سيدي فلان !إن رد غائبي ، أو عوفي مريضي ، أو قضيت حاجتي ؛ فلك من الذهب كذا ، ومن الفضة كذا ، ومن الطعام كذا ، ومن الماء كذا ، ومن الشمع كذا ، ومن الزيت كذا :فهذا النذر باطل بالإجماع

(جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية:۱/۴۴۹)

صرح كثير من العلماء الحنفية في الرد على القبورية بأن النذر لغير الله تعالى حرام ، بل هو شرك ؛ لأنه نوع من أعظم أنواع العبادة ، وعبادة غير الله شرك ، ولأنه متضمن أنواعاً أخرى للشرك بالله تعالى ، فإن الذي ينذر شيئاً للميت لابد من أن يعتقد فيه عدة عقائد شركية :1 - أن يعتقد أنه يعلم حال هذا الناذر .2 - أن يعتقد أنه يتصرف في الأمور ، من شفاء المريض وغناء الفقير ، وإغاثة الملهوف ونحو ذلك .3 - أنه يسمع نداء الناذر واستغاثته به .وهذه العقائد كلها شركية وثنية

. (جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية:۱/۱۵۴۹)

غیر اللہ کےلئے قربانی شرک ہے:
قربانی صرف اللہ کا حق ہے، غیر اللہ کےلئے قربانی دینا ، یا غیر اللہ کےلئے جانور ذبح کرنا خواہ اس پر اللہ ہی کا نام پڑھا جائے ، مثلاً پیران پیر کےلئے جانور ذبح کرنا ، اور کسی صاحب قبر کےلئے جانور ذبح کرنا شرک ہے۔

وقول الله تعالى: قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ

(الأنعام: ۱۶۲، ۱۶۳)

عن علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- قال: حدثني رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بأربع كلمات: "لعن الله من ذبح لغير الله، ولعن الله من لعن والديه، ولعن الله من آوى مُحْدِثاً، ولعن الله من غير منار الأرض"(۱) رواه مسلم.وعن طارق بن شهاب: أن رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قال: "دخل الجنة رجل في ذباب، ودخل النار رجل في ذباب" قالوا: وكيف ذلك يا رسول الله؟ قال: "مر رجلان على قوم لهم صنم لا يجاوزه أحد حتى يقرِّب له شيئاً. قالوا لأحدهما: قَرِّب. قال: ليس عندي شيء أُقرِّب. قالوا: قرب ولو ذباباً. فقرَّب ذباباً فخلّوا سبيله فدخل النار، وقالوا للآخر: قرب. قال: ما كنت لأقرب لأحد شيئاً دون الله عز وجل فضربوا عنقه فدخل الجنة"(۱). رواه أحمد.وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ

(الحج:۳۴)

کہانت:
کہانت طاغوت ہے، کاہن جن و شیاطین سے غیب کی باتیں معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ان سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں ان میں بڑھا چڑھا کر ان سے رجوع کرنے والوں سے ذکر کرتے ہیں، ان غیب کی باتیں بتا نے کا دعوی کرنے والوں پر یقین رکھنا، اور نفع کے حصول اور نقصان سے بچنے کےلئے ان کی تدبیروں کو ماننا شرک ہے، اس کا تعلق صفات باری تعالیٰ سے بھی اور حقوق باری تعالیٰ سے بھی ہے، اللہ کے علاوہ کسی اور کو غیب کی باتیں بتانے والا مان کر اس کے کہے کہ مطابق کرنا ، اور سمجھناکہ اس کے کہے ہوئے طریقہ سے اس کا مستقبل سنورے گا یا روزی ملے گی، یا کچھ اور حاصل ہوگا، یا نقصان سے بچے گا یہ سب ماننا شرک ہے۔

أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف والرمال والمنجم وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه والذي يضرب الحصى والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون والكل مذموم شرعا محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر . وفي البزازية يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه  وفي التتارخانية يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي

(شامی:۴/۲۴۲)

 عراف کو ماننا:
یہ کہانت کی ہی ایک قسم ہے، اور غیب کی بات کا دعوی کرنا ہے، مثلاً ہاتھ دیکھ کر مستقبل بتانا وغیرہ اس طرح کا دعوی کرنا باری تعالیٰ کی صفت’’علم‘‘ میں شرک کرنا ہے ،اور ایسے دعوی کرنے والی کی تصدیق کرنا اور اس پر بھروسہ کرنا الوہیت میں شرک کرنا ہے۔

من أتى كاهنا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم

(رواہ ابو داؤد)

أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف والرمال والمنجم وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه والذي يضرب الحصى والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون والكل مذموم شرعا محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر . وفي البزازية يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه  وفي التتارخانية يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي

(شامی:۴/۲۴۲)

تطیر:
بد فالی لینا، اور چیزوں میں نحوست سمجھنا شرک ہے، اور پرندوں ، یا کسی اور طریقہ سے کسی کام کو کرنے میں خیر و شر ہونے کو معلوم کرنا یہ بھی شرک ہے اور حرام ہے۔

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ ».(صحیح البخاری:۵۷۰۷،صحیح مسلم:۵۹۲۰،  سنن أبی داؤد:۳۹۱۳،) عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِى الْفَأْلُ الصَّالِحُ وَالْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ ».

(صحیح البخاری:۵۷۵۶، صحیح مسلم:۵۹۳۳،سنن أبی داؤد:۳۹۱۸،سنن الترمذی:۱۷۱۳)

تنجیم /استسقاء بالأنواء:
ستاروں کو مؤثر ماننا اور نجومیوں کے کہے پر عمل کرنا بھی شرک ہے، ستارے اللہ کی مخلوق ہیں ، اور اللہ کے آگے مقہور ہیں، انہیں نحوست و سعادت میں مؤثر ہونے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے، ستاروں میں اختیار و تصرف کو ماننا اور بارش کے ہونے نہ ہونے میں ان کے مؤثر ہونے کا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ عَدْوَى وَلاَ هَامَةَ وَلاَ نَوْءَ وَلاَ صَفَرَ ».

(صحیح مسلم:۵۹۲۶، سنن أبی داؤد:۳۹۱۳)

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِىِّ أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ « هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ». قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ « قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِى مُؤْمِنٌ بِى وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِى كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِى مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ».

(صحیح البخاری:۸۴۶، صحیح مسلم:۲۴۰، سنن ابی داؤد:۳۹۰۸، سنن النسائی :۱۵۳۶)

محبت اور خوف:
ہر طرح کی نعمتوں کو  اللہ کی عطا٫ مان کر اللہ ہی سے امید رکھنا، اور اسی سے محبت کرنا اور ہر نفع و ضرر کا مالک اللہ کو مان کر اس کی مخالفت سے ڈرنا اور اس کا خوف رکھنا بھی صرف اللہ کا حق ہے، غیر اللہ سے اللہ جیسی محبت رکھنا، اور غیر اللہ سے امید باندھنا کہ وہ حاجات پوری کر سکتے ہیں، یا تکلیفیں اور مصیبتیں دور کر سکتے ہیں، جیسا کہ اولیا٫ اور صالحین کی قبور کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے، اسی طرح غیر اللہ سے اللہ کی طرح خوف و خشیت رکھنا جیسے جنوں کا خوف کہ وہ نفع و ضرر کے مالک ہیں، یا مرض دے دیں گے وغیرہ یہ سب گمان رکھنا حرام اور شرک ہے۔

إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءهُ فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ)(۸۱). وقوله: (إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلاَّ اللّهَ)أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا(الإسراء:۵۷)وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللهِ أَندَاداً يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللهِ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَشَدُّ حُبًّا لِّلّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلّهِ جَمِيعاً وَأَنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ

(البقرة: ۱۶۵)

توکلہر طرح کی قدرت صرف اللہ کو حاصل ہے، کہ اللہ ہی ہر چیز کےلئے کافی ہیں، اس لئے صرف اللہ پر توکل اور بھروسہ کرنا یہ اللہ کا حق ہے، مؤمن صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، غیر اللہ پر توکل اور بھروسہ رکھنا کہ وہ بھی کچھ کر سکتے ہیں یہ عقیدہ حرام اور شرک ہے۔

وَعَلَى اللّهِ فَتَوَكَّلُواْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (المائدۃ:۲۳) . يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (الأنفال:۶۴) وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ(الطلاق:۳)كَذَلِكَ أَرْسَلْنَاكَ فِي أُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَا أُمَمٌ لِتَتْلُوَ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِالرَّحْمَنِ قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ (الرعد:۳۰)اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (التغابن:۱۳)رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا (المزمل:۹)فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

(التوبۃ:۱۲۹)

گھروں میں ،سواریوں  اور جانوروں  پر پلیتےاور چُنرِیاں باندھنا شرکیہ عمل ہے:
نظر ِبد سے بچانے کے لئے گھروں میں پلیتے باندھنا، اور گاڑیوں اور جانوروں پر چُنرِیاں لٹکانا اگر ان کو بالذات نفع و نقصان پہنچانے والا سمجھے تو یہ شرک اکبر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے، اور اگر ان کو اسباب شمار کرے تو وہ شرک اصغر ہے کیونکہ اللہ نے انہیں دفع ِمضرت اور نفع کے حصول کےلئے سبب نہیں بنایا ہے۔

من تعلَّقَ تميمةً فلا أتمَّ الله له. ومن تعلق وَدْعَة فلا وَدَعَ الله له"(مسند احمد) وفي رواية: "من تعلق تميمة فقد أشرك"(مسند احمد)ولابن أبي حاتم عن حذيفة: "أنه رأى رجلاً في يده خيطٌ من الحمَّى فقطعَه، وتلا قوله: وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلاَّ وَهُم مُّشْرِكُونَ

(يوسف: ۱۰۶)

عن أبي بَشِير الأنصاري رضي الله عنه أنه كان مع رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في بعض أسفاره فأرسل رسولاً: "أن لا يَبْقَيَنَّ في رقبةِ بعيرٍ قِلادةٌ من وَتَر أو قلادةٌ إلا قُطِعَتْ"(صحیح بخاری)وعن ابن مسعود -رضي الله عنه- قال: سمعت رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يقول: "إن  الرُّقى والتمائم والتِّوَلة شرك" رواه أحمد وأبو داود

(مسند احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، مستدرک حاکم)

دفع بلاء کےلئے انگھوٹی پہننا اور دھاگے باندھنا:
 دفع بلاء کےلئے انگھوٹی پہننا اور دھاگے باندھنا اگر ان کو بالذات نفع پہنچانے والا یا نقصان سے بچانے والا سمجھے تو صریح شرک  اکبر ہے،اور اگر ان کو سبب سمجھے تو گو یہ عمل ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا نہیں ہے لیکن یہ بھی شرک اصغر ہے، اللہ اور اس کے رسول نے اس سے روکا ہے۔

قُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ} [الزمر: ۳۸) عن عمران بن حصين: أن رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رأى رجلاً في يده حلقة من صُفْر، فقال: "ما هذه؟" قال: مِن الواهِنة. فقال: "انزعها فإنها لا تزيدك إلا وهْناً، فإنك لو مت وهي عليك ما أفلحت أبداً"

(مسند احمد)

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ ».

(سنن الترمذی:۲۱۹۴)

قرآنی آیات میں سے کسی آیت  سے بلاؤں کا دفعیہ یا برکت حاصل کرنا:
بلاؤں کو دفع کرنے یا کسی نفع کو حاصل کرنے کےلئے اصل اور افضل دعا٫ ہے، البتہ کسی آیت سے تبرک حاصل کرنا یا اس کو کسی مصیبت کو ٹالنے میں ذریعہ و سبب سمجھنا اگر اس کی اصل موجود ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، مثلاً سورہ فاتحہ ، معوذتین ،اور آیت الکرسی ہے۔ لیکن اصل چیز دعا٫ ہی ہے، اور آیات با برکات سے ہٹ کر ایسے تعویذ گنڈے جن میں شرکیہ الفاظ و اعمال ہوتے ہوں ان کو اختیار کرنا شرک اور حرام ہے۔

عَنْ أَبِى سَعِيدٍ - رضى الله عنه - قَالَ انْطَلَقَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - فِى سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ ، فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحَىِّ ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَىْءٍ لاَ يَنْفَعُهُ شَىْءٌ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلاَءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ نَزَلُوا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَىْءٌ ، فَأَتَوْهُمْ ، فَقَالُوا يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ ، إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ ، وَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَىْءٍ لاَ يَنْفَعُهُ ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّى لأَرْقِى ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَلَمْ تُضِيِّفُونَا ، فَمَا أَنَا بِرَاقٍ لَكُمْ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلاً . فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعٍ مِنَ الْغَنَمِ ، فَانْطَلَقَ يَتْفِلُ عَلَيْهِ وَيَقْرَأُ ( الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) فَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ ، فَانْطَلَقَ يَمْشِى وَمَا بِهِ قَلَبَةٌ ، قَالَ فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِى صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ اقْسِمُوا . فَقَالَ الَّذِى رَقَى لاَ تَفْعَلُوا ، حَتَّى نَأْتِىَ النَّبِىَّ - صلى الله عليه وسلم - فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِى كَانَ ، فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا . فَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَذَكَرُوا لَهُ ، فَقَالَ « وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ - ثُمَّ قَالَ - قَدْ أَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِى مَعَكُمْ سَهْمًا » . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - .(صحیح البخاری:۲۲۷۶) عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ نَفَثَ فِى كَفَّيْهِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَبِالْمُعَوِّذَتَيْنِ جَمِيعًا ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ ، وَمَا بَلَغَتْ يَدَاهُ مِنْ جَسَدِهِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا اشْتَكَى كَانَ يَأْمُرُنِى أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ بِهِ . قَالَ يُونُسُ كُنْتُ أَرَى ابْنَ شِهَابٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ .

(صحیح البخاری:۵۷۴۸)

أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ وَلَدَ جَعْفَرٍ تُسْرِعُ إِلَيْهِمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِى لَهُمْ فَقَالَ « نَعَمْ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ ».(سنن الترمذی:۲۱۹۹) عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الإِنْسَانِ حَتَّى نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ فَلَمَّا نَزَلَتَا أَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَاهُمَا. (سنن الترمذی:۲۱۹۸) حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِىُّ قَالَ قَالَ لِى يَا مُحَمَّدُ إِذَا اشْتَكَيْتَ فَضَعْ يَدَكَ حَيْثُ تَشْتَكِى وَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِى هَذَا ثُمَّ ارْفَعْ يَدَكَ ثُمَّ أَعِدْ ذَلِكَ وِتْرًا فَإِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَنِى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَدَّثَهُ بِذَلِكَ.

(سنن الترمذی:۳۹۳۷)

توحید الوہیت کے دو اہم اصول:
توحید الوہیت کے دو اصول ہیں، (۱)۲)الوہیت کے جملہ حقوق صرف اللہ کے لئے ماننا۔
طاغوت کا انکار:
ان دونوں اصولوں میں غیر اللہ سے الوہیت کی نفی کرنا پہلا کام ہے، جب تک غیر اللہ سے الوہیت کی نفی نہیں ہوگی، الوہیت میں توحید مکمل نہیں ہوگی۔ کسی بھی زمانہ کے مشرکین الہٰ اعظم کے منکر نہیں رہے ہیں، بلکہ دنیا کے سبھی مشرکین الہٰ اعظم کو ماننے والے ہیں، ان کا جرم یہی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ دیگر الہٰوں کو بھی پوجتے ہیں ، اور اللہ کو الہ اعظم مانتے ہیں، اور یہی خلاف توحید ہے، انبیا٫ نے واضح فرمایا کہ اللہ کے علاوہ کوئی الہٰ ہے ہی نہیں ، بس وہی ایک الہ ہے، اس کے علاوہ کسی کو نہ الہ مانا جائے اور نہ ہی اس کے علاوہ کسی اورکےلئے الوہیت کے تقاضوں کو پورا کیا جائے ، الہٰ کے معنی اور الوہیت کے تقاضوں کا بیان آگے آرہا ہے۔
غیر اللہ سے الوہیت کی نفی کرنے میں ہر طرح کے طاغوت کا انکار کرنا شامل ہے، اللہ کے علاوہ کسی اور کو عبادت کا مستحق ماننا، ساحروں اور کاہنوں کو ماننا، غیر اللہ میں تحلیل و تحریم یعنی تشریع کا اختیار ماننا (غیر اللہ کےلئے مقننہ کے حقوق تسلیم کرنا)یہ سب طاغوت کو ماننا ہے، اور ان کو نہ ماننا طاغوت کا انکار کرنا ہے، توحیدکو خالص کرنے اور شرک سے بچنے کےلئے تمام طواغیت کا انکار لازم ہے۔
طاغوت سے برأت کا اظہار:
علما٫ نے نبی  کی توحید کی تعلیمات اور آپ کے طرز عمل کی بنیاد پر یہ بیان کیا ہے کہ : موحد ہونے کےلئے لازم ہے کہ غیر اللہ کی الوہیت سے برأت کا اعلان کیا جائے، اسی طرح عیسائی اسلام قبول کرے تو اس کے لئے لازم ہے کہ اللہ کی الوہیت کے اثبات کے ساتھ اقرار کرے کہ حضرت عیسی اللہ کے بندہ ہیں، اور  جو انہیں اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں ان سے برأت کا اظہار کرے، یہودی اسلام قبول کرے تو وہ اقرار کرے کہ تشریع کا حق صرف اللہ کا ہے، اور غیر اللہ میں حق تشریع ماننے والوں سے برأت کا اظہار کرے، مشرک بت پرست اسلام قبول کرے تو وہ اس اقرار کے ساتھ کہ صرف اللہ ہی عبادت کے لائق ہے غیر اللہ کے عبادت کے لائق ہونے سے برأت کا اظہار کرے۔

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاء مِّمَّا تَعْبُدُونَ، إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ(الزخرف: ۲۶، ۲۷)عن النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أنه قال: "من قال لا إله إلا الله وكَفَر بما يُعبد من دون الله حرُم ماله ودمه وحسابُه على الله عز وجل"

(صحیح مسلم)                                              

أن معنى: لا إله إلا الله هو الكفر بما يعبد من دون الله من الأصنام والقبور وغيرها. أن مجرد التلفظ بلا إله إلا الله مع عدم الكفر بما يُعبد من دون الله لا يحرِّم الدم والمال ولو عرَف معناها وعمل به. ما لم يضف إلى ذلك الكفر بما يعبد من دون الله.عن عبادة بن الصامت -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأن محمداً عبده ورسوله، وأن عيسى عبد الله ورسوله وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه، والجنة حق والنار حق، أدخله الله الجنة على ما كان من العمل". (أخرجاه الشیخین) وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ (سورة النحل:۳۶)فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ(سورة البقرة:۲۵۶)أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًا(سورة النساء:۶۰)أَمْ لَهُمْ شُرَكَاء شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ(سورة الشورى:۲۱)اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَهًا وَاحِدًا لاَّ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ(سورة التوبة :۳۱)فسرها النبي صلى الله عليه وسلم بقولهِ: " ألم يحلوا لكم الحرام , ويحرموا عليكم الحلال فأتبعتومُهم فتلك عبادتهم .

حلف بغیر اللہ:
اللہ کے علاوہ دوسروں کے نام پر حلف اٹھانا یہ شرک اصغر ہے، جو کسی مسلمان کو ملت اسلامیہ سے خارج تو نہیں کرتا لیکن شرک اکبر تک پہنچا سکتا ہے۔رسول اللہ من حلف بغير اللّه فقد كفر وأشرك۔

عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَجُلاً يَقُولُ وَالْكَعْبَةِ. فَقَالَ لاَ تَحْلِفْ بِغَيْرِ اللَّهِ فَإِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ وَأَشْرَكَ ».

(مسند احمد:۶۲۱۵)

’’جو اللہ اور اس کا رسول چاہے ‘‘کہنا:
 جو اللہ چاہے اور جو اللہ کا رسول چاہے کہنا یہ بھی شرک اصغر ہے، اس کا مرتکب ملت اسلامیہ سے خارج تو نہیں ہوتا، لیکن اس طرح کی لاپرواہی شرک اکبر تک پہنچا سکتی ہے، جو کچھ ہوتا ہے صرف اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے، اس لئےزبان سے صرف اسی کے حق کا اقرار ضروری ہے، نبی  کے سامنے ایک شخص نے کہا: ما شاء الله وشئت آپ نے فرمایا: أجعلتني للّه ندّا ؟! کیا تم نے مجھے اللہ کا مد مقابل بنادیا؟ قل : ما شاء اللّه وحده تم صرف اتنا کہو : کہ جو اللہ چاہے صرف وہی ہوتا ہے۔

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ( التكوير : ۲۹).عن بن عباس قال رجل للنبي صلى الله عليه و سلم : ما شاء الله وشئت قال جعلت لله ندا ما شاء الله وحده

(الأدب المفرد:۱/۲۷۴)

ہوا٫ نفس کو الہ بنانا:
خواہشات کی پیروی  نفس  کا ایک رذیلہ ہے، لیکن اس میں بہتے ہوئے انسان ایک وقت خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیتا ہے، نفس جو کہتا وہ کرتا ہے، اور جو سجھاتا ہے اسی کی پیروی کرتا ہے، جب یہ کیفیت اللہ کے حکم کے مقابلہ میں راسخ ہوجائے تو اگر نفس کو بالذات مطاع سمجھا جانے لگے کہ میرا نفس بھی ہے جس کی پیروی ہونی چاہئے تو یہ یقیناً شرک اکبر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے، لیکن یہ صرف اہمال اور لا پرواہی کے درجہ میں ہوتب بھی شرک  اصغر ہے جس سے بچنا لازمی ہے۔

أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا (الفرقان:۴۳)أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

(الجاثیۃ:۲۳)

ریاء:
ارادہ اور نیت میں پوشیدہ شرک ہے، اس شرک کا مرتکب گو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا، لیکن جب یہ شرک اعمال کے ساتھ ملتا ہے تو ان کو برباد کردیتا ہے، مثلاً نماز جو اللہ کے لئے پڑھی جاتی ہے اگر لوگوں کو دکھلانے کےلئے پڑھی جائے تو اس کا کوئی ثواب نہیں بلکہ پکڑ کا باعث ہے۔

فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا

(الكهف : ۱۱۰)

أخوف ما أخاف عليكم الشرك الأصغر" فسئل عنه فقال: "الرياء"

(مسند احمد)

مادہ پرستی:
ظاہر اور اسباب پر انحصار کی ایک کیفیت اس درجہ کو پہنچ جاتی ہے کہ ظاہری اسباب اورمال و دولت کو انسان الہٰ بنا لیتا ہے، اور اپنا پورا بھروسہ مال سے جوڑدیتا ہے، اسی سے محبت کرتا ہے اور اسی پر توکل کرتا ہے، بالعموم یہ بالذات نہیں ہوتا اگر مادہ کو بالذات نفع و نقصان کا مالک سمجھے اور بالذات مال و دولت کی پرستش ہو جیسے ہندوں کے یہاں دولت کی دیوی ’’لکشمی‘‘ کی پوجا کی جاتی ہے تو یہ ملت اسلامیہ سے خارج کردینے والا شرک اکبر ہے، اور اگر ایسا نہ ہولیکن مال و دولت ہی زندگی کا محور بن جائیں اور اسی کو سب کام بنانے والا سمجھا جانے لگے تب بھی وہ شرک اصغر ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔

وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَى مَا أَنْفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا (الکھف:۴۲) قال النبي صلى الله عليه وسلم : « تعس عبد الدينار ، تعس عبد الدرهم ، تعس عبد الخميصة ، تعس عبد الخميلة إن أُعطي رضي وإن لم يعط سخط

(رواہ البخاری)




صفاتِ الہٰی کے بیان کا قرآنی اسلوب

وجودِ باری تعالیٰ کے بارے میں انسانوں میں غلط فہمیاں بہت کم پیدا ہوئیں، البتہ صفاتِ الہٰیہ کا صحیح عرفان اور شعور نہ ہونے کی بنا پر لوگ زیادہ کج روی کا شکار ہوئے۔ اس لیے قرآن کریم نے متعدد مقامات پر صفات الہٰی کو بار بار مختلف اسلوب وپیرائے میں بیان کرکے ان کے سلسلہ میں انسانی ذہنوں میں پائی جانے والی کج فہمیوں کا ازالہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق کائنات او رمخلوق کے مابین رشتہ وتعلق کی نوعیت صفات الہٰی ہی سے واضح ہوتی ہے اور ذات بار ی تعالیٰ کا عرفان بھی ان ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔ یہ صفات عظمت الہٰی کی اس بلند ترین حقیقت کو آشکارا کرتی ہیں کہ انسان ذات الہٰی کی حقیقت تک پہنچنے میں کتنا عاجز وبے بس ہے ۔ اسی وجہ سے قرآن نے الله تعالیٰ کو ”الاسمآء الحسنٰی“ سے پکارنے کا حکم دیا ( الاسراء110) اور ”الحاد فی الاسماء“ سے منع فرمایا ( الاعراف:180) کیوں کہ یہ الحاد شرک یا کفر کی طرف لے جاتا ہے۔

قرآن مجید میں الله تعالیٰ کی صفات وافعال اوراس کے انعامات کااتنی کثرت سے ذکر اور اس کا اعادہ وتکرار اور اس قدر شرح وبسط کے ساتھ بیان کا اصل راز یہی ہے، اس لیے کہ صفات ہی محبت وشوق کا سرچشمہ ہیں ، اسی بات کو بعض ائمہ اسلام نے ”نفی مجمل او راثبات مفصل“ سے تعبیر کیا ہے ، یہی اثبات ہے ( یعنی الله تعالیٰ کی صفات کریمہ کا بیان اور اس کے دلائل وشواہد کا ذکر) جس سے انسان کے ذوق وشوق کو غذا ملتی ہے اور محبت جوش مارنے لگتی ہے، اگر نفی، رہبر عقل ہے تو اثبات، رہبرِ دل، اگر الله تعالیٰ کی یہ صفات عالیہ اور اسمائے حسنٰی ہمارے سامنے نہ ہوتے ، جن سے قرآن وحدیث بھرا ہوا ہے … تو یہ دین ایک چوبی یا آہنی نظام اور قانون کی طرح ہوتا، جس کی دلوں میں کوئی جگہ نہ ہوتی ، یہ نہ ان میں کوئی جذبہ اور گرم جوشی پیدا کرسکتا ، نہ ان کے دلوں کو گرم اور آنکھوں کو نم کرنے کی صلاحیت رکھتا … اس کے بغیر خدا اور بندہ کا تعلق ایک مردہ اور محدود تعلق ہے، جس میں نہ کوئی زندگی ہے ، نہ روح ، نہ لچک، نہ وسعت۔

حدیث پاک میں نبی رحمت صلی الله علیہ وسلم کا صفات الہٰی والی احادیث کو یاد کرنے والے لیے جنت کی بشارت بھی درحقیقت انسان کو نہ صرف ان اسماء کے مفاہیم کی معرفت سے آشنا ہونے کا پیغام دیتی ہے، بلکہ انسان کو ان صفات سے متصف ہونے کا درس بھی اس میں پنہاں ہے۔

اس حدیث کی طرف ان سطور میں اشارہ کیا گیا ہے :

یہ ننانوے نام تو الله تعالیٰ کی بے شمار صفات کے ابواب کے عنوانات ہیں۔ صفات الہٰی تو لامتناہی ہیں۔ ہر نیا دن اور ہر نئی تخلیق صفات الہٰیہ میں سے کسی صفت کا پرتو ہوتی ہے ۔ انہی صفات میں سے ہر مخلوق اپنے ظرف کے مطابق فیض یاب ہوتی ہے ، پھر کائنات اور انسان کی ساری سرگرمیاں انہی صفات کا مظہر ہوتی ہیں۔ ان لامتناہی صفات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
صفات ثبوتیہ

وہ صفات جوباری تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں اور الله تعالیٰ کی زیبائی او رجمال کی آئینہ دار ہیں، جیسے علم ، قدرت۔
صفات سلبیہ

وہ صفات جن کی خدا سے نفی کی گئی ہے ، جیسے جہل ، عجز۔
صفاتِ فعل

وہ صفات جن کا تعلق افعال خدا سے ہے ، جیسے خالق، رازق۔

قرآن کریم میں مختلف احکام کے تذکرہ کے بعد صفاتِ الہٰیہ کا بیان ہوا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ احکام الہٰیہ کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہے ۔ اس کا اندازہ اصمعی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دن انہوں نے یہ آیت پڑھی : ﴿السارقة والسارقة… ﴾ لیکن غلطی سے والله غفور رحیم کہہ دیا۔ ایک اعرابی قریب تھا، اس نے پوچھا کہ یہ کس کا کلام ہے ؟ اصمعی نے کہا الله کا۔ اس نے کہا کہ یہ الله کا کلام کیسے ہو سکتا ہے ؟ اگر الله نے معاف کر دیا اور رحم کیا تو ہاتھ کاٹنے کا حکم کیوں دیا؟ یہ حکم تو اس لیے تھا کہ وہ قدرت وغلبہ کا مالک ہے۔ گویا اعرابی نے صفات کے ذکر میں غلطی کا اندازہ ماقبل سے لگایا۔ اسی طرح ایلاء سے رجوع کرنے والوں کے لیے غفور اور رحیم کی صفات آئیں۔ قسم اٹھا کر عورت کو پریشان کیا اور قسم توڑ کر الله کے نام کی عزت کا پاس نہیں کیا۔ ایسے لوگوں کے لیے انہی صفات کا مژدہ ہونا چاہیے تھا، مگر جو طلاق کا عزم کر لیں ان کے لیے صفات سمیع اور علیم آئیں، کیوں کہ الله تعالیٰ اس ساری گفتگو کو سنتا ہے جو وہ اس سلسلہ میں عوام الناس اور اعزا واقربا سے کرتا ہے۔ وہ لوگوں سے جو چاہے کہے، مگر اس عزم طلاق کے حقیقی محرکات سے خالق کائنات آگاہ ہے ۔

قرآن کریم کی سورتوں اور آیات کے باہمی نظم وربط کو زمانہٴ قدیم سے علماو محققین نے اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے ،اس نظم کی اہمیت تو ہے ہی، مگر سورتوں میں مختلف آیات کے اختتام پر آنے والے اسمائے الہٰیہ کا بھی ماقبل حکم ربی سے مناسبت او رتعلق ضرور ہے۔ یہ بھی اعجاز قرآن کا ایک پہلو ہے۔

آیات کے اختتام پر عموماً صفات الہٰیہ مرکب صورت ( یعنی دو صفاتی ناموں کی صورت میں ) آئی ہیں ۔ صفاتی ناموں کے یہ جوڑے بھی کئی شکلوں میں ہیں۔ یقینا ان میں بھی کوئی نظم وربط او رمناسبت ہو گی۔

یہاں چند ایسے اسماء کااجمالی تذکرہ پیش کیا جاتا ہے۔
عزیز

اصل میں عزت کا معنی روکنا ہے ۔ ارض عزاز اس زمین کو کہا جاتا ہے جو بہت سخت ہو ۔ حاشیہ الصاوی علی الجلالین میں ہے:

”عزیز“ لا یعجزہ شیء عن انتقامہ منکم ای لاتفتلون منہ․“

گناہوں کا انتقام لینے میں اسے کوئی عاجز نہیں کر سکتا اور نہ تم اپنے آپ کو اس سے چھڑا سکتے ہو۔

اسی وجہ سے ”عزیز“ کا ترجمہ غالب کیا جاتا ہے۔ امام رازی نے اس لفظ کو زیادہ جامع انداز میں بیان کیا ہے :

”ان العزیز من لا یمنع عن مرادہ، وذلک انما یحصل بکمال القدرة، وقد ثبت انہ سبحانہ وتعالیٰ قادر علی جمیع الممکنات، فکان عزیزا علی الاطلاق․“

عزیز وہ ہے جسے کوئی بھی اس کے ارادے سے روک نہ سکے۔ یہ چیز کمال قدرت سے حاصل ہوتی ہے ۔ یہ ثابت ہے کہ الله تعالیٰ تمام ممکنات پر قادر ہے، اس لیے وہ عزیز مطلق ہے۔

جمال الدین القسامی ”العزیز“ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ھو الغالب بقدرتہ، المستعلی فوق عبادہ، یدبر امرھم بما یرید، فیقع فی ذلک مایشق علیھم ویثقل ویغم ویحزن، فلا یستطیع احد منھم رد تدبیرہ، والخروج من تحت قھرہ وتقدیرہ․“

وہ اپنی قدرت سے غالب ہے او راپنے بندوں پر مکمل تصرف رکھتا ہے ،ان کے معاملات کی جیسے چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں بندوں پر مشقت اور بوجھ بھی آتا ہے اور وہ حزن وملال کے شکار بھی ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی الله تعالیٰ کی تدبیر رد کرنے اور اس کی تقدیر وقہر سے نکلنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

”العزیز“ ذوالعزة وھی القوة، والشدة، والغلبة والرفعة“․

عزیز یعنی عزت والا۔ عزت کے معنی ہیں ، قوت وطاقت ، غلبہ ورفعت۔

یہ اسم مبارک درج ذیل جوڑوں کی شکل میں قرآن میں استعمال ہوا ہے ۔

(الف) حکیم:

صفت ”عزیز“ کے ساتھ سب سے زیادہ استعمال صفت ”حکیم“ کا ہوا ہے ۔ حکیم وہ ہے جو چیز کو اچھے طریقہ پر ایجاد کرے، افضل اشیاء سے بہترین طریقہ پر آگاہ ہو اور غلط کام سے روکے۔

(ب) علیم:

(ج) جبار: قوت وشدت سے اصلاح کرنے والے کو جبار کتے ہیں۔

(د) مقتدر: قدرت تامہ وکاملہ کا مالک قرآن کریم میں صفت عزیز کے ساتھ اس صفت کا ذکر سورة القمر:42 میں آیا ہے۔

(ہ) غفار(و) رحیم (ز) قوی (ح) حمید

یہ استعمالات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ پروردگار جس کو اس کائنات پر کامل غلبہ قوت واقتدار حاصل ہے وہ اس قوت وطاقت کو حکمت ، علم او ررحم کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔

یہاں عزیز اور حکیم کے قرآنی استعمالات او رانسانی زندگی پر اس کے اثرات کا جائزہ پیش خدمت ہے۔

﴿ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلو علیھم اٰیٰتک ویعلمھم الکتٰب والحکمة ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم﴾․ (البقرة:129)

اے ہمارے رب! انہیں میں سے ایک برگزیدہ رسول بھیج تاکہ انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے او رانہیں کتاب اور دانائی کی باتیں سکھائے اورانہیں پاک صاف کر دے بے شک تو ہی بہت زبردست ( اور) حکمت والا ہے۔

یہاں ان دو صفتوں کا حوالہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ جو خدا عزیز وحکیم ہے، اس کی عزت وحکمت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی پیدا کی ہوئی اس مملکت میں سفیر بھیجے جو اس کی رعیت کو اس کے احکام وقوانین سے آگاہ کرے اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دے ۔

﴿فان زللتم من بعد ما جاء تکم البینٰت فاعلموان الله عزیز حکیم﴾․ ( البقرة:209)

اگر روشن دلیلیں آنے کے بعد بھی تم پھسلنے لگو تو جان لو! الله تعالیٰ زبردست ( اور) حکمت والا ہے۔

عزیز کی صفت کے ذکر سے دو حقیقتوں کی طرف اشارہ مقصود ہے ۔ ایک یہ کہ خدا کوئی کم زور وناتواں ہستی نہیں ہے ، بلکہ وہ غالب وتوانا ہے۔ جو لوگ اس کی تنبیہات کے باوجود شیطان کی پیروی کریں گے ان کو وہ اس عذاب میں ضرور پکڑے گا جو شیطان کے پیروؤں کے لیے اس نے مقدر کر رکھا ہے اور جس کی اس نے پہلے خبر دے رکھی ہے۔ دوسری حقیقت یہ کہ جو لوگ ان واضح ہدایات کے بعد بھی راہِ حق کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی اختیار کریں گے وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑیں گے، بلکہ اپناہی بگاڑیں گے، اس لیے کہ خدا عزیز ہے، یعنی نفع ونقصان سے بالاتر۔

اسی طرح حکیم کی صفت بھی یہاں دو حقیقتوں کو نمایاں کر رہی ہے ۔ ایک تویہ کہ اس دنیا کا خالق حکیم ہے او راس کے حکیم ہونے کا بدیہی تقاضا ہے کہ وہ اپنی ہدایت پر جمے رہنے والوں اور اس سے منحرف ہو جانے والوں کے درمیان ان کے انجام کے لحاظ سے امتیاز کرے، اگر وہ ان میں کوئی امتیار نہ کرے، بلکہ دونوں کو ان کے حال پر چھوڑ دے یا دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ حکیم نہیں ہے اور یہ دنیا ایک پر حکمت اور بامقصد کا رخانہ نہیں، بلکہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا ہے ۔ دوسرے یہ کہ بدی اور نیکی کے نتائج کے ظہور میں جو دیر ہوتی ہے وہ سب حکمت پر مبنی ہوتی ہے، بسا اوقات شیطان کے پیرو کاروں کو الله تعالیٰ مہلت دیتا ہے اور بسا اوقات اہل حق کسی آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں اس سے نہ تو اہل باطل کومغرور ہونا چاہیے اور نہ اہل حق کو مایوس ۔ بلکہ یہ یقین رکھنا چاہیے کہ وہ مہلت اور یہ آزمائش دونوں خدائے حکیم ودانا کی حکمت پر مبنی ہے۔

عبدالله یوسف علی نے لکھا ہے:

If you Back-sbide after the conviction has been brought home to you you may cause some inconvenience to the cause, or to these who counted upon you but do not be so arrogant as to suppose that you will defeat God's power and wisdom.

مذکورہ آیت کے مضمون سے ان صفات کے ربط وتعلق کے متعلق مفسرین نے درج ذیل واقعہ بھی نقل کیا ہے۔

أن قاریاً قرأ غفور رحیم، فسمہ أعرابی فأنکرہ، وقال إن کان ھذا کلام الله فلا یقول کذا، الحکیم لا یذکر الغفران عند الزلل؛ لأنہ إغراء علیہ․

ایک قاری قرآن کی یہ آیت پڑھ رہا تھا۔ اس نے بھول کر فاعلموا ان الله غفور رحیم پڑھ لیا۔ ایک اعرابی قرآن پاک سن رہا تھا۔ وہ کہنے لگا کہ یہ الله کا کلام نہیں ہو سکتا ، کیوں کہ پہلے لغزش کا ذکر ہے، اگر اس کے بعد فاعلموا ان الله غفور رحیم ہو تو اس سے لازم آئے گا کہ الله نے خود ہی گناہ پر ابھارا ہے کہ تم گناہ کرتے رہو اور میں بخشتا رہوں گا۔ یہ تو الله تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے۔

﴿ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا الہ الا ھو العزیز الحکیم﴾․ ( آل عمران:6)

وہی ہے جو ( ماؤں کے ) رحموں میں جس طرح چاہتا ہے ، تمہاری تصویریں بناتا ہے، اس کے بغیر کوئی معبود نہیں ( وہی) غالب اور حکمت والا ہے۔

یعنی خدا کو قدرت ہے رحم میں جس طرح چاہے آدمی کا نقشہ تیار کر دے ، خواہ ماں باپ دونوں کے ملنے سے یا صرف قوت منفعلہ سے، اسی لیے آگے فرمایا ﴿ھو العزیز الحکیم﴾ یعنی وہ زبردست ہے، جس کی قدرت کو کوئی محدد نہیں کر سکتا اور حکیم ہے جہاں جیسے مناسب جانتا ہے کرتا ہے ۔ اس نے ” حوا” کو بدون ماں کے ، مسیح کو بدون باپ کے ، آدم کو بدون ماں باپ دونوں کے پیدا کر دیا۔ اس کی حکمتوں کا احاطہ کون کرسکتا ہے۔

علامہ بقاعی کے نزدیک بھی عزیز او رحکیم اس قدرت اور حکمت کو ظاہر کرتے ہیں جس سے باری تعالیٰ مادر رحم میں تصویر سازی کرتا ہے۔

﴿ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم ﴾․ ( المائدہ:118)

اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دے تو بلاشبہ تو ہی سب پر غالب ( اور ) بڑا دانا ہے۔

اس آیت مبارکہ میں عزیز او رحکیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ کا گناہ سے درگزر فرمانا نہ تو کم زوری کی علامت ہے او رنہ اس کی سزا ہی حکمت سے خالی ہوتی ہے۔ علامہ مہائمی نے لکھا ہے کہ یہاں عزت اور حکمت کا ایک تقاضا تو سزا ہے مگرعبودیت کا تقاضا ہے کہ اس سزا کو اٹھا لیا جائے

” تغفرلھم“ کے الفاظ کا تقاضا تو یہ تھا کہ آیت کے آخر پر غفور اور رحیم آتا، مگر یہاں عزیز او رحکیم آیا ہے، بظاہر ان صفات کا ماقبل مضمون سے ربط وتعلق واضح نہیں ہوتا ۔ اس مسئلہ پر امام رازی  اور علامہ میبذی نے اپنے اپنے اسلوب میں نفیس اظہار خیال کیا ہے۔

قرآن کریم میں ان دونوں صفتوں کا بالعموم اکٹھا ذکر اور اس کے قبل مضمون سے ربط وتعلق پر مولانا امین احسن اصلاحی کی یہ رائے بہت ہی جامع ہے۔

” قرآن مجید میں الله تعالیٰ کی ان دونوں صفات کا حوالہ بالعموم ایک ساتھ آتا ہے، اس سے اس حقیقت کا اظہار ہوتاہے کہ الله تعالیٰ اس کائنات پر پورے غلبے کے ساتھ حاوی او رمتصرف ہے ، لیکن اس کے غلبہ واقتدار کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اس کے زور میں جو چاہے کر ڈالے، بلکہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اس کا کوئی کام بھی حکمت ومصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔“

امام رازی کے بقول یہ صفات وعید اور وعدہ کی شان لیے ہوئے ہیں ۔ ایک مثال سے صفت ”عزیز“ میں وعید کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : جب باپ بیٹے کو یہ کہے ان عصیتنی فانت عارف لی۔ اگر تم نے میری نافرمانی کی تو تم مجھے جانتے ہو ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے مجھے تم پر قدرت ودبدبہ حاصل ہے ۔ فیکون ھذا الکلام فی الزجر ابلغ من ذکر الضرب وغیرہ اس کلام میں زیادہ دھمکی پائی جاتی ہے جو یہ کہنے میں نہیں ہے کہ اگر تم نے میری نافرمانی کی تو میں تمہیں ماروں گا۔

حکیم میں رب تعالیٰ کے وعدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام رازی لکھتے ہیں : ” رب تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ نیک او رگناہ گار میں فرق کرے اور ساتھ ہی یہ واضح ہوا کہ جس طرح گناہ گار کو عذاب دینا اس کے حکیم ہونے کے مناسب ہے، اسی طرح نیک کو ثواب عطا کرنا بھی اس کی حکمت کے لائق ہے ، بلکہ نیک کو ثواب عطا کرنا زیادہ ہی حکمت کے مناسب ہے او راس کی رحمت کے زیادہ ہی قریب ہے ۔

صفت عزیز انسان کی کم زوری و ناتوانی کی مظہر ہے ۔ یہ صفت انسان کو غروروتکبر سے بچاتی اور عالم اسباب میں گم ہونے سے بچاتی ہے ۔ عزیز کے ساتھ حکیم کی صفت انسان کو مصیبتوں پر صبر سکھاتی ہے اور نعمتوں کے ملنے پر شکر کی طرف راغب کرتی ہے ۔ یہ دونوں صفات حکمران طبقے کو طاقت کے نشہ میں اختیار کے اندھے استعمال سے بھی بچاتی ہیں۔

(ب) غفور:

غفر کا مفہوم ڈھانپنا ہے ۔ صفات افعال میں سے ”غفور“ ظاہر کرتاہے کہ پرورگاد عالم ہماری ظاہری وباطنی نجاستوں کو محض اپنے فضل وکرم کی بنا پر ، چادر رحمت سے ڈھانپ کر روز محشر عذاب جہنم سے بچا لیتا ہے ۔ وہ پردہ پوشی ہی نہیں کرتا ہے بخشتا بھی ہے او رسیئات کو حسنات میں بھی بدل دیتا ہے۔علامہ طیبی کے نزدیک تو فرشتوں کو ہماری بداعمالیاں بھلا دینا بھی اس کے غفور ہونے کا مظہر ہے۔

اپنے عصیاں شعار بندوں پر بے پناہ لطف وکرم کی وجہ سے ہی وہ خیر الغافرین ( سورة الاعراف:155) ہے ۔ یہ اسم مبارک قرآن کریم میں ان جوڑوں کی شکل میں آیا ہے ۔

(الف) رحیم:

قرآن میں اکثر مقامات پر غفور، رحیم سے پہلے آیا ہے، مگر ایک مقام پر الرحیم پہلے ہے۔ (سبا:2)

(ب) حلیم (ج) رب(د) عزیز (ہ) شکور (و) عفو (ز) ودود۔

یہ فہرست ظاہر کرتی ہے کہ ” غفور“ دیگر جن اسماء کے ساتھ بھی استعمال ہوا ہے وہ خالق کی طرف سے مخلوق پر محبت ، رحمت ، درگز ر اور مخلوق کی عزت افزائی کا مظہر ہے۔

صرف غفور اور رحیم کے چند قرآنی استعمالات کا تذکرہ کیا جاتا ہے،تاکہ ان کے مقابل مضمون سے ربط وتعلق اور انسانی زندگی پر اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔

(۱) حلّت وحرمت کے مسائل کے تذکرہ کے بعد حالت اضطرار میں حرام کے استعمال کی اجازت کے بعد غفور او ررحیم کااستعمال ہوا ہے۔

﴿انما حرم علیکم المیتة والدم ولحم الخنزیر وما اہل بہ لغیر الله فمن اضطر غیر باغ ولاعاد فلا اثم علیہ ان الله غفور رحیم﴾․ ( البقرة:173)

الله نے تمہارے اوپر حرام قرار دیا ہے مردہ کو ، خون کو ، سور کے گوشت کو اور ایسے مذبوحہ کے گوشت کو جس پر الله کے سوا کسی او رکا نام لیا گیا ہو۔ جو شخص مجبور ی میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھائے، بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، الله بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

سورة المائدہ: آیت:3، سورة الانعام، آیت:145اور سورة النحل، آیت:150 میں بھی اسی طرح یہ صفات آئی ہیں۔

اس آیت مبارکہ او راسی مضمون کی دیگر آیات کے اختتام پر غفور اور رحیم کی صفات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حالت اضطرار میں حرام کھانے پر الله تعالیٰ تمہارا مواخذہ نہیں کرے گا۔ یہ اس کی صفت غفور کا تقاضا ہے اور یہ رخصت عطا کرنا اس کی صفت رحیم کاتقاضا ہے۔

اسی طرح استغفار کا حکم دیا تو اس کے بعد بھی انہیں صفات کو بیان کیا گیا، تاکہ الله تعالیٰ کی بخشش وعطا اور رحمت وکرم کا پتا چل سکے۔

﴿ثم افیضوا من حیث افاض الناس واستغفروا الله ان الله غفور رحیم﴾․(البقرة:199)

پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو او رالله سے معافی چاہو، یقینا وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

امام رازی فرماتے ہیں:

”فھذا یدل قطعا علی انہ تعالیٰ یغفر لذلک المستغفر، ویرحم ذلک الذی تمسک بحبل رحمتہ وکرمہ“․ (رازی، فخر الدین، مفاتیح الغیب)

اس سے یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ مغفرت طلب کرنے والے کی مغفرت فرماتا ہے او راس شخص پر رحم فرماتا ہے جو اس کے حبل رحمت اور دین کرم کا سہارا لیتا ہے۔

(ب)﴿ واستغفرلھن الله ان الله غفور رحیم﴾ ․ (الممتحنة:12)

اور الله تعالیٰ سے ان ( خواتین) کے لیے مغفرت مانگا کرو۔ بے شک الله تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

الله تعالیٰ اپنے محبوب صلی الله علیہ وسلم کو حکم دیتے ہیں کہ جو عورتیں ان شرائط کو قبول کر لیں او ران باتوں کی پابندی پر آمادہ ہو جائیں تو آپ ان کی بیعت فرما لیں اور اس کے ساتھ ان کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں ۔ بے شک الله تعالیٰ غفور اور رحیم ہے ۔ جب آپ کے ہاتھ اٹھیں گے تو انہیں خالی نہیں لوٹایا جائے گا، بلکہ الله تعالیٰ آپ کی دعا کی برکت سے ان کے عمر بھر کے گناہوں کو ، جن میں شرک وکفر سر فہرست ہے ، بخش دے گا اور ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے گا۔ (جاری ہے)




















مشرکین_مکّہ اور آج کے بعض نام-نہاد مسلمان :
دلیل_قرآن مجید =>
اکثر لوگ الله پر ایمان لاکر بھی شرک کرتے ہیں - سورہ یوسف: ١٠٦...

اور اگر (اے نبی! صلے الله علیہ وسلم) آپ ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ (مشرک) کہدینگے کہ ان کو غالب اور علم والے (الله) نے پیدا کیا (الزخرف:٩)

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین (کی اس کائنات) کو؟ اور (تمہارے) کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو؟ تو (اس کے جواب میں) یہ سب کے سب ضرور بالضرور یہی کہیں گے کہ اللہ ہی نے, تو پھر یہ کہاں اُلٹے جا رہے ہیں؟(العنکبوت:٦١)

کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور"جو کچھ"زمین میں ہے"سب"کس کا ہے؟ یہ جھٹ ضرور بول اٹھیں گے کہ"اللہ"کا۔ کہو کہ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟ (ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا کون مالک ہے اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے؟) یہ جھٹ ضرور کہیں گے (کہ)"اللہ"۔ کہو ، پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟ ان سے کہو ، بتائو اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر ملکیت(حکومت)کس کی ہے؟ اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا؟ یہ ضرور کہیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو)"اللہ"ہی کے لیے ہے۔ کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑ جاتا ہے؟(المومنون:٨٤-٨٩)

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے۔ لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے(العنکبوت:٦٣)

تو پوچھ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور کون تدبیر کرتا ہے کاموں کی سو بول اٹھیں گے کہ اللہ تو تو کہہ پھر ڈرتے نہیں ہو(یونس:٣١)

 تو پھر وہ (مشرکین_مکّہ) کافر کیوں کہلاۓ؟
جواب: کیونکہ انہوں نے نیک بندوں/اولیاء کے بتوں (جن کے نام ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر-قرآن=نوح:٢٣; اور آج نیک بندوں کی قبروں کو مسجد(سجدے-گاہ) بناکر) عبادت (والے افعال) کر کے"شرک"کرتے تھے.
دلیل_قرآن مجید =>


اور (وہ بندے) نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں[7:192
جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا وہ تو "بندے"ہیں"تم جیسے",بھلا پکارو تو ان کو پس چاہیے کہ وہ قبول کریں تمہارے پکارنے کو، اگر تم سچے ہو(الاعراف:194)

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ (بندے) نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں[7:197

ایسے شرکیہ کام وہ کیوں کرتے تھے؟
جواب: کیونکہ وہ ان بندوں(بتوں) کو "تقرب" اور "شفاعت" کا "وسیلہ"ماننے کے سبب ایسا کرتے تھے
دلیل_قرآن مجید =>
دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا ہے) اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور اولیاء(دوست)بنائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا*مقرب*بنادیں۔ تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا.(الزمر:3)

 اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری*شفاعت*کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے.(یونس:١٨)

 یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) "پکارتے" ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں(قرب کا)*وسیلہ*تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ بےشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے(اسرا / بنی اسرائیل:٥٧)

=========================================================
[نوٹ: ظاہری اسباب کے تحت کسی سے مدد مانگنا شرک نہیں، شرک تو کسی کو غائبانہ (دوری سے) مدد کے لئے پکارنا ہے]
ظاہری اسباب سے مدد لینا شرک نہیں:
جب عیسیٰؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی اور (نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کی طرف سے میرا مددگار ہو, حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار اور آپ کے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں[القرآن-٣:٥٢] 61:14 + 12:10
فائدہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ الله کے نبی علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے (جو ظاہری ما تحت الاسباب تھے) سے مدد طلب کی.
 اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔[8:72] 
تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟ [37:25]
================================
اس (قرآنی مثال) سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو [البقرہ:٢٦]


گمراہ-لوگوں کا "قرآن و حدیث"سے"شرک" کو "جائز" کرنے کی گمراہانہ-کوششوں* اور *من-چاہی(خود کی بنائی)تفسیروں* کی حقیقت :

. ١) الله کے سوا کسی*غیر-الله*سے مدد لینا? = اے ایمان والو! *صبر* اور *نماز*(کے وسیلے)*سے*(الله کی) مدد لیا کرو بےشک الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے. [البقرہ:١٥٣] سوال = تو کیا اس آیت کو اس طرح کسی نے مان-کر *نماز* اور *صبر* کو مدد کے لئے پکارا؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان نیک اعمال کو الله کی مدد کا وسیلہ/زریعہ بنایا.

(٢)اولیاء کو مدد کے لئے پکارنے کا وسیلہ بنانا? = اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے (کے لئے تقویٰ-نیک اعمال) کا*وسیلہ* تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ  تمہارا بھلا ہو.[المائدہ:٣٥] یہاں وسیلہ کی تفسیر*تقویٰ اور نیکی* ہے، اور مدد کے لئے پکارنے کو نیک-بندوں/اولیاء کو*وسیلہ*  مشرکین_مکّہ بناتے تھے.(اسرا / بنی اسرائیل:٥٧)

(٣) الله کی "عطا سے" کے نبی علیہ السلام بھی *مشکل-کشا* ہیں? = ...اور میں(حضرت عيسى علیہ السلام) اچھا کرتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو اور جلاتا ہوں مردے اللہ کے حکم سے...[آل-عمران:٤٩]
الله نے قرآن میں تو یہ بھی فرمایا ہے=اور جب کہے گا اللہ اے عیسٰی مریم کے بیٹے تو نے کہا لوگوں کو کہ ٹھہرا لو مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود سوا اللہ کے کہا تو پاک ہے مجھ کو لائق نہیں کہ کہوں ایسی بات جس کا مجھ کو حق نہیں اگر میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے بیشک تو ہی ہے جاننے والا چھپی باتوں کامیں نے کچھ نہیں کہا انکو مگر جو تو نے حکم کیا کہ بندگی کرو اللہ کی جو رب ہے میرا اور تمہارا اور میں ان سے خبردار تھا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو تو ہی تھا خبر رکھنے والا ان کی اور تو ہر چیز سے خبردار ہے [المائدہ:١١٦-١١٧]
غائبانہ-دوری سے مدد کے لئے کسی کو پکارنا عبادت ہے =اور کہتا ہے تمہارا رب مجھ کو پکارو کہ پہنچوں تمہاری پکار کو بیشک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری*عبادت*سے اب داخل ہوں گے دوزخ میں ذلیل ہو کر. [الغافر:٦٠]

(٤) الله کے نبی علیہ السلام بھی*گنج بخش*ہیں? = پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیرفرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی. اَور دیووں کو بھی (ان کے زیرفرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے. اور اَوروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے. (ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو یا (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے) کچھ حساب نہیں ہے.[ص: ٣٦-٣٩
تو ہمارے نبی صلے الله علیہ وسلم اور صحابہ رضی الله عنہ نے الله کے سوا/ساتھ ,ان نبیوں/ولیوں سے (عیسایوں اور مشرکوں کی طرح) ان کے جانے کے بعد کبھی غائبانہ-دوری سے مدد کیوں نا مانگی؟ اور کیا ان سے زیادہ قرآن کی سمجھ آپ کو ہے؟



امت_مصطفیٰ صلے الله علیہ وسلم شرک نہیں کر سکتی؟
الحديث رقم 39 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : علامات النَّبُوَّةِ فِي الإِسلام، 3 / 1317، الرقم : 3401، وفي کتاب : الرقاق، باب : مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيها، 5 / 2361، الرقم : 6061، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : إثبات حوض نبينا صلي الله عليه وآله وسلم وصفاته، 4 / 1795، الرقم : 2296 وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 153.]

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں۔ بیشک خدا کی قسم! میں اپنے حوض (کوثر) کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں (یا فرمایا : زمین کی کنجیاں) عطا کر دی گئی ہیں اور خدا کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد"تم"(صحابہ رضی الله عنہ کی جماعت)شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ ‘‘(الله تعالیٰ نے اس سے بھی ان کو محفوظ رکھا اور ان کی اتباع پر اپنی رضا اور جنّت جیسی عظیم کامیابی کا فرمان جاری فرمایا=القرآن؛التوبہ:١٠٠)]

اس مذکورہ بالا حدیث  میں صحابہ رضی الله عنھم کو خطاب ہے جن سے الله نے ان کی حفاظت فرمائی، اور مندرجہ ذیل احادیث سے امت_مصطفیٰ صلے الله علیہ وسلم میں شرک پر عمل-پیرا ہونے کا ثبوت ملتا ہے :
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 101 ,فتنوں کا بیان : جب تک کذاب نہ نکلیں قیامت قائم نہیں ہو گی, حدیث مرفوع]    مکررات14  قتیبہ، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابة، ابواسماء، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے کئی قبائل مشرکین کے ساتھ الحاق نہیں کریں گے اور بتوں کی پوجا نہیں کریں گے پھر فرمایا میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے ہر ایک کا یہی دعوی ہوگا کہ وہ نبی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا. یہ حدیث صحیح ہے]


سلیمان بن حرب، محمد بن عیسی، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابہ، ابواسماء، حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو آزاد کردہ غلام ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا یا یوں فرمایا کہ میرے پرودگار نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا پس مجھے زمین کے مشارق ومغا رب دکھائے گئے اور بیشک میری امت کی سلطنت عنقریب وہاں تک پہنچی گی جہاں تک میرے لیے زمین کو سمیٹا گیا اور مجھے دو خزانے سرخ وسفید دیے گئے اور بیشک میں نے اپنی پروردگار سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ انہیں کسی عام قحط سے ہلاک نہ کیجیے اور نہ ان کے اوپر ان کے علاوہ کوئی غیر دشمن مسلط کردے کہ وہ ان کو جڑ سے ختم کردے۔ اور بیشک میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا کہ اے محمد۔ بیشک میں جب فیصلہ کرتا ہوں تو پھر وہ رد نہیں ہوتا اور میں انہیں کسی عام قحط سے ہلاک نہیں کروں اور نہ ہی ان پر کوئی غیر دشمن مسلط کروں اگرچہ سارا کرہ ارض سے ان پر دشمن جمع ہو کر حملہ آور ہوجائیں یہاں تک کہ مسلمانوں میں سے آپس میں ہی بعض بعض کو ہلاک کردیں گے اور بعض بعض کو قید کردیں گے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے اماموں (مذہبی رہنماؤں) کا ڈر ہے اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی اور قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے بعض قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور یہاں تک کہ میری امت کے بعض قبائل بتوں کی عبادت کریں اور بیشک میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعوی کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت میں سے ایک طائفہ ہمیشہ حق پر رہے گی ابن عیسیٰ کہتے ہیں کہ حق پر غالب رہے گی اور ان کے مخالفین انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے۔
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 101 - فتنوں کا بیان : جب تک کذاب نہ نکلیں قیامت قائم نہیں ہو گی)
(سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 832 - فتنوں کا بیان : ہونے والے فتنوں کا ذکر)

  عبیداللہ بن معاذ شعبہ، نعمان بن سالم حضرت یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے سنا اور ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا یہ حدیث کیسے ہے جسے آپ روایت کرتے ہیں کہ قیامت اس اس طرح قائم ہوگی انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ یا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ یا اسی طرح کا کوئی اور کلمہ کہا کہ میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ میں کسی سے بھی کبھی کوئی حدیث روایت نہ کروں گا میں نے تو یہ کہا تھا : عنقریب تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے جو گھر کو جلادے گا اور جو ہونا ہے وہ ضرور ہوگا پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال میری امت میں خروج کرے گا اور ان میں چالیس دن ٹھہرے گا اور میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا گویا کہ وہ عروہ بن مسعود ہیں تو وہ تلاش کر کے دجال کو قتل کردیں گے پھر لوگ سات سال اسی طرح گزاریں گے کہ کسی بھی دو اشخاص کے درمیان کوئی عداوت نہ ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جس سے زمین پر کوئی بھی ایسا آدمی باقی نہیں رہے گا کہ اس کی روح قبض کرلی جائے گی جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہوگا یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی پہاڑ کے اندر داخل ہوگیا تو وہ اس میں اس تک پہنچ کر اسے قبض کر کے ہی چھوڑے گی اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا پھر برے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے جو چڑیوں کی طرح جلد باز اور بے عقل درندہ صفت ہوں گے وہ کسی نیکی کو نہ پہچانیں گے اور نہ برائی کو برائی تصور کریں گے ان کے پاس شیطان کسی بھیس میں آئے گا تو وہ کہے گا کیا تم میری بات نہیں مانتے تو وہ کہیں گے کہ تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے تو شیطان انہیں بتوں کی پوجا کرنے کا حکم دے گا اور وہ اسی بت پرستی میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ان کا رزق اچھا ہوگا اور ان کی زندگی عیش وعشرت کی ہوگی پھر صور پھونکا جائے گا جو بھی اس کی آواز سنے گا وہ اپنی گردن کو ایک مرتبہ ایک طرف جھکائے گا اور دوسری طرف سے اٹھا لے گا اور جو شخص سب سے پہلے صور کی آواز سنے گا وہ اپنے اونٹوں کا حوض درست کر رہا ہوگا وہ بے ہوش ہو جائے گا اور دوسرے لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے پھر اللہ بھیجے گا یا اللہ شبنم کی طرح بارش نازل کرے گا جس سے لوگوں کے جسم اگ پڑیں گے پھر صور میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور دیکھتے ہوں گے پھر کہا جائے گا اے لوگو اپنے رب کی طرف آؤ اور ان کو کھڑا کرو ان سے سوال کیا جائے گا پھر کہا جائے گا دوزخ کے لئے ایک جماعت نکالو تو کہا جائے گا کتنے لوگوں کی جماعت کہا جائے گا ہر ہزار سے نو سو ننانوے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور اس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔


صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2881  (14511) - فتنوں کا بیان :  خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور عیسیٰ کے] نزول اور اسے قتل کرنے اہل ایمان اور نیک لوگوں کے اٹھ جانے اور برے کے باقی رہ جانے اور بتوں کی پوجا کرنے اور صور میں پھونکے جانے اور قبروں سے اٹھائے جانے کے بیان میں]  


محمد بن خلف عسقلانی، رواد بن جراح، عامر بن عبداللہ ، حسن بن ذکوان، عبادہ بن نسی، حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ مجھ کو اپنی امت پر جس کا ڈر ہے وہ شرک کا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج یا چاند یا بت کو پوجیں گے لیکن عمل کریں گے غیر کے لئے اور دوسری چیز کا ڈر ہے وہ شہوت خفیہ ہے۔]

[سنن ابن ماجہ: جلد سوم: حدیث نمبر 1085 - زہد کا بیان : (مجھ کو اپنی امت پر جس کا ڈر ہے وہ شرک کا ہے:) ریا اور شہرت کا بیان ۔



اس (قرآنی مثال) سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو [البقرہ:٢٦]

*********************************************************************************





No comments:

Post a Comment