Sunday, 9 December 2012

احکام شریعت کے مقاصد


اصولِ فقہ کے ذیل مباحث میں ایک عنوان "احکامِ شریعت کے مقاصد اور اس کے مدارج" کا بھی آتا ہے، موضوع کی اہمیت اور طبعی ترتیب کا تقاضا تھا کہ اس کوتمام اصولی موضوعات ومباحث کی تمہید قرار دیاجاتا، یاکم ازکم اصولِ اربعہ، کتاب، سنت، اجماع اور قیاس میں سے اصل رابع، یعنی قیاس کے مباحث کی ابتداء اس سے ہوتی؛ تاکہ وہ مقاصد ومصالح جوشرعی احکام میں ملحوظ رکھے گئے ہیں ان پرروشنی پہلے پڑتی اور متعلقہ مسائل کوسمجھنے میں اس سے مدد ملتی؛ لیکن اصولِ فقہ کے ماہرین اس موضوع کوایک ذیلی وضمنی بحث کے طور پرغالباً اس لیے ذکر کرتے ہیں کہ نصوص میں ان مقاصد کا ذکر یک جاطور پراور صراحت کے ساتھ کہیں نہیں ملتا؛ حالانکہ ان کا معتبر ہونا اور احکامِ شریعت کا ان کے گرد دائر ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیاجاسکتا اور یہ بات نصوص یعنی قرآنی آیات واحادیث کے استقراء اور تتبع سے ثابت ہے۔
نامور اصولی عالم علامہ شاطبیؒ نے اپنی کتاب "الموافقات" میں جواصولِ فقہ اور اسرارِ شریعت کی جامع کتاب ہے، اس موصوع پربہت زیادہ تفصیل سے روشنی ڈالی ہے؛ انہوں نے خود ہی یہ سوال قائم کیا ہے کہ جب یہ حقیقت ہے کہ احکامِ شریعت میں مقاصد ومصالح کا لحاظ رکھا گیا ہے اور تمام احکام ضروری، حاجی اور تحسینی مصالح کے گرد دائر ہیں توپھر اس کا ثبوت توقطعی دلیل سے ہونا چاہئے؛ کیونکہ یہ مقاصد توشریعت کی روح اور بنیادی اصول کی حیثیت رکھتے ہیں، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے، انہوں نے لکھا ہے کہ دراصل شرعی احکام پرتفصیلی نظر ڈالنے سے ان مقاصد کے ملحوظ ہونے کا یقین اسی طرح ہوتا ہے، جس طرح کہ لوگوں کوحاتم کی سخاوت کا یقین ہے، شرعی نصوص کے عموم وخصوص، مطلق ومقید اور دوسرے قرائن سب اس کی تائید کرتے ہیں کہ شریعت میں ان مقاصد کی رعایت رکھی گئی ہے اور تمام ترشرعی احکام کی بنیاد انہیں مقاصد اور کلیات واصول پرہے اور یہ علم استقرائی ہونے کے باوجود اسی طرح کا یقینی ہے، جس طرح کہ قدرِ مشترک کے تواتر سے یقینی علم حاصل ہوا کرتا ہے؛ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس کے ثبوت میں ایک نہیں بہت سے دلائل ہیں اور ان مقاصد کی واقعیت ہرشک وشبہہ سے بالاتر ہے۔      

(تفصیلی جواب کے لیے دیکھئے، الموافقات:۲/۳۴۔۳۶)

انسان کواللہ تعالیٰ نے عقل کی دولت سے نوازا ہے اور اس کا یہ امتیاز ہی اس کی تکلیف کا مدار اور شرعی احکام کا مخاطب ومکلف ہونے کی بنیاد ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ باری تعالیٰ حکیم ہے اور حکیم کا کوئی فعل حکمت ومصلحت سے خالی نہیں ہوتا اور وہ رؤف ورحیم بھی ہے، اس لیے اس کے ہرفرمان میں انسان کی سعادت اور اس کی بھلائی بھی ملحوظ رکھی گئی ہے، شریعت کے عمومی نصوص شے اس کی نشاندہی ہوتی ہے، حضوراکرم  کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ:

"وَمَاأَرْسَلْنَاكَ إِلَّارَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ"۔          

(الأنبیاء:۱۰۷)

ترجمہ:ہم نے آپ  کوساری کائنات کے لیے رحمت ہی بناکر بھیجا ہے۔

عام دینی احکام کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:

"مَايُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ"۔

(المائدۃ:۶)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ دین میں تم پرتنگی پیدا کرے؛ لیکن وہ چاہتا ہے کہ تم کوپاک کرے اور تم پراپنی نعمتوں کومکمل کردے۔

نماز کے بارے میں کہا گیا ہےکہ:

"إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ"۔

(العنکبوت:۴۵)

ترجمہ:بے شک نماز بے حیائی کی باتوں اور منکرات سے روکتی ہے۔

روزہ کی فرضیت کے مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہےکہ:

"كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَاكُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ"۔

     (البقرۃ:۱۸۳)

ترجمہ:تم پرروزہاسی طرح فرض کیا گیا ہے؛ جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پر؛ تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

قصاص کی مشروعیت کا ذکر کرتےہوئے فرمایا گیا ہے کہ:

"وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ"۔            

      (البقرۃ:۱۷۹)

ترجمہ:اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، اے عقل والو!۔

یہ اور اس طرح کی سیکڑوں آیات اور احادیث ایسی ہیں جن میں واضح طور پران مقاصد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جوشرعی احکام میں ملحوظ رکھے گئے ہیں اور ان "مصالح" کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کا روبہ عمل لانا ان احکام کا مقصود ہے"مقاصد شریعت" کا جاننا ہرشخص کے لیے ضروری اور مفید ہے، شرعی حکم کے ساتھ اگراس کی مصلحت وحکمت بھی معلوم ہوتو آدمی کے یقین میں اضافہ اور ایمان میں تازگی پیدا ہوتی ہے اور علم الیقین کے بعد حق الیقین کا درجہ حاصل ہوتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ عزالدینؒ، ابن عبدالسلامؒ، علامہ ابن القیمؒ، علامہ شاطبیؒ اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، حضرت مولانا محمدقاسم احمد نانوتویؒ سب نے اسرار شریعت کواپنا موضوع بنایا اور شرعی احکام کی لِمْاورحکمت سے روشناس کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔
علماءِ مجتہدین کے لیے اصول وکلیات پرنظر اور شریعت کے مقاصد کوجاننا اور بھی ضروری ہے؛ تاکہ وہ نئے مسائل میں ان مقاصد سے رہنمائی حاصل کرسکیں اور ان نصوص میں جوبظاہرمتعارض نظر آتی ہوں، تطبیق دے سکیں اور کسی جزئیہ کا حکم تلاش کرنے میں شریعت کے عمومی مصالح اور مزاج ومقاصد کوفراموش کرکے غلطی کاارتکاب نہ کربیٹھیں؛ جہاں تک اس فرسودہ اشکال کا تعلق ہے کہ باری تعالیٰ کے افعال معلل بالاغراض ہیں یانہیں؟ اور ان مقاصد ومصالح پرزور دینے میں خدا کی ذات کی طرف نقص کا انتساب تولازم نہیں آئے گا؟ تویہ بحث اصولِ فقہ کی نہیں علمِ کلام کی ہے، امام رازیؒ نے گوکہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ باری تعالیٰ کے احکام بھی اسی طرح "معلل بالعلۃ" نہیں ہیں، جس طرح کہ اس کے افعال معلل بالاغراض نہیں ہیں؛ لیکن ان کی یہ بات قابل تسلیم نہیں ہے اور جیسا کہ محقق ابن الہمام نے لکھا ہےکہ اکثر فقہائے متاخرین نے اس پراتفاق کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں بندوں کے مصالح کی رعات ملحوظ رکھی گئی ہے۔                 

(التحریر)

اشاعرہ اور ارباب ظواہر اگرچہ اس کے قائل ہیں کہ باری تعالیٰ ایسا حکم دے سکتا ہے جس کی کوئی مصلحت نہ ہو؛ لیکن وہ بھی اس بات پرزور دیتے ہیں کہ عملاً جواحکام دئے گئے ہیں، ان میں مصلحت پائی جاتی ہے، احناف اور شوافع میں سےجولوگ مصالح کوہی احکام کی علت قرار دیتے ہیں، وہ اس کی توجیہہ کرتے ہیں کہ علت سے مراد حکم کی علات ہے، ایسی علت نہیں ہے جوخدا کواس پرابھارنے والی ہو کہ وہ یہی حکم دے دوسرا نہ دے۔
جن حضرات نے مصالح کوہی علت قرار دیا ہے، ان کا کہنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حق میں رحیم ہے، وہ شروفساد کودور کرتا اور بندوں کی راحت کے لیے حرج اور تنگی کے اسباب کوختم کرتا ہے، اس لیے اس کا حکم مصلحت سے خالی نہیں ہوسکتا، حاصل یہ ہے کہ جس طرح یہ بات زیبا نہیں ہے کہ خدا کے اوپر کوئی بات لازم وواجب کی جائے؛ اسی طرح یہ بات بھی نامناسب ہے کہ اس کے فعل کوبے مقصد اور عبث قرار دیا جائے؛ چنانچہ معتزلہ اور ارباب ظواہر دونوں ہی افراط وتفریط کا شکار ہیں اور صحیح نقطہ نظر وہی ہے جس کی تائید محقق ابن الہمام اور دوسرے فقہاء نے کی ہے، علامہ انورشاہ کشمیریؒ فرمایا کرتے تھے کہ باری تعالیٰ کے افعال کومعلل بالاغراض کے بجائے معلل بالغایات کہنا چاہئے:
(فیض الباری کے مقدمہ میں شاہ صاحبؒ کے نقطۂ نظر کی ترجمانی ان لفظوں میں کی گئی ہے:

"ذکرالشیخ ابن الھمام فی التحریر:ان الفقہاء والمحدثین اجمعوا علی ان افعالہ تعالیٰ معللۃ بالاغراض ولادخل فیہ للاستکمال فان کمالیتہ ھی التی استوجبت ان ترتب علی افعالہ تلک الاغراض فذاتہ تعالیٰ لاتخلو فی مرتبۃ من المراتب عن الکمال والصفات من فروع الذات کما یقول ابن الھمام وھو تعبیر بدیع والانسب عندی ان تترک لفظ الاغراض وان افعالہ تعالیٰ معللۃ بالغایات"۔                    

    (فیض الباری:۱/)

اور یہاں ہماری گفتگو کا محور تکوینی افعال نہیں؛ بلکہ تشریعی احکام ہیں؛ بہرِصورت لفظی نزاع خواہ جوبھی قائم کیا جائے؛ لیکن نصوص کی تعلیل ایک امرواقعہ ہے اور قیاس کے تمام ترمباحث اسی پرقائم ہیں؛ اسی لیے علماء متاخرین نے تعلیل الاحکام کے موضوع پرمستقل کتابیں لکھی ہیں، جن میں ڈاکٹرمحمدمصطفی شلبی کی کتاب "تعلیل الاحکام"قابل ذکر ہے؛ انہوں نے بھی ماتریدیہ کی رائے کواس بارے میں معتدل اور افراط وتفریط سے پاک قرار دیا ہے، وہ مصالح جن کوبروئے کارلانا شریعت میں ملحوظ رکھا گیاہے، یاوہ مقاصد جن کوشرعی احکام سے شارع نے پورا کرنا چاہا ہے، علمائے اصول نے استقراء اور تتبع کے بعد ان کی تین قسمیں کی ہیں.
یاان کے تین مدارج متعین کئے ہیں:
(۱)ضروری
(۲)حاجتی
(۳)تحسینی۔
(۱)ضروری مصالح
اس سے مراد وہ امور ہیں، جن پرانسان کی دینی اور دنیوی زندگی موقوف ہے اور جن میں خلل واقع ہونے سے نہ صرف انسان کی دنیوی زندگی فساد اور انتشار کا شکار ہوتی ہے؛ بلکہ آخرت کی زندگی بھی بگڑتی ہے اور ثواب وراحت کے بجائے آدمی عذاب ومصیبت کا مستحق بن جاتا ہے۔
ضروری مصالح کے ذیل میں پانچ چیزوں کی حفاظت شریعت کا مطمحِ نظر اور شرعی احکام کا مقصود ومدعا ہے اور انہیں پانچوں کلیات واصول کی حفاظت سے انسان کی دنیوی زندگی کی سلامتی بھی وابستہ ہے اور آخرت میں فوزوفلاح ار سعادات وکامرانی بھی اور وہ درجہ بدرجہ اس طرح ہیں:
(۱)دین کی حفاظت
(۲)جان کی حفاظت
(۳)عقل کی حفاظت
(۴)نسل کی حفاظت
(۵)مال کی حفاظت:
۱۔دین کی حفاظت:
اللہ تعالیٰ نے انسان کے صلاح وفلاح کے لیے دین نازل فرمایا اور انسان کی قوت نظری اور عملی دونوں کی تکمیل کے لیےصحیح عقیدہ اور عبادت کی تلقین کی اور یہ بات فرض کی کہ آدمی سچے دین سے وابستہ رہ اور دین کی حفاظتکی خاطر جہاد فرض کیا، غلط افکار وعیقہ کی ترویج کی ممانعت کی، ارتداد کی سزا متعین کی اور دینِ حق سے پھرجانے پرعقوبت رکھی ہے؛ گوکہ اصولی حیثیت سے فکروعقیدہ کی آزادی دی ہے؛ لیکن جب یہ آزادی دینِ حق کی راہ میں رکاوٹ بننے لگے توپھرفسادِ دین کے سدباب کا حکم دیا۔
۲۔جان کی حفاظت:
اس کرۂ ارض پراللہ تعالیٰ نے انسان کوپیدا کیا اور توالدوتناسل کے سلسلہ اور نسلِ انسانی کے وجود اور اس کی بقا اور استمرار کے لیے نکاح کومشروع رقرار دیا ہے، کھانا پانی اور لباس کی وہ مقدار جوجان کی حفاظت کے لیے ضروری ہو اس کے استعمال کوضروری قرار دیا، دوسری طرف انسانی جان کوپیش آنے والے خطرات سے باز رہنے کی تلقین کی ہے، خودکشی کوحرام کیا ہے قتل نفس کی سزا رکھی ہے اور قصاص، دیت اور کفارہ وغیرہ متعین کئے ہیں؛ تاکہ انسانی جان کی حفاظت کی جاسکے ۔
۳۔عقل کی حفاظت:
عقل اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جوانسان کوبہت سی دوسری مخلوقات پرامتیاز بخشتی ہے اور وہی اس کے احکامِ شریعت کے مکلف ہونے کی بنا بھی ہے، شریعت نے عقل کی حفاظت کی تلقین کی ہے اور اس میں بالید گی کے لیے علم کوضروری قرار دیا ہے اورہراس چیز سے روکا ہے جوانسان کی عقل کوکمزور کرے، یازائل کرکے جرم کا ارتکاب کرے، اس کی حد متعین کی اور اس کے لیے کوڑوں کی سزا طے کی ہے۔
۴۔نسل کی حفاظت:
نسل انسانی کی حفاظت کی خاطر ایک طرف نکاح کومشروع قرار دیا ہے تودوسری طرف نسب کے اختلاط سے بچانے اور عداوت ودشمنی سے روکنے کےلیے زنا کوحرام قرار دیا ہے؛ اسی طرح حدقذف متعین کی تاکہ معاشرہ میں بے حیائی کی باتیں نہ پھیلیں اور نسلِ انسانی شک وشبہہ کا شکار نہ ہو اور انسانی جان کی طرح اس کی نسل بھی محفوظ رہے۔
۵۔مال کی حفاظت:
مال بھی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، انسان کی زندگی کا قیام ونظام اسی سے وابستہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف مال کمانے کی اجازت دی اور اس کے لیے جدوجہد اور سعی کا حکم دیا تودوسری طرف بیع وشراء اور اجارہ وعارت وغیرہ کومشروع قرار دیا؛ تاکہ مال کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا جاسکے۔
یہ پانچوں امور ان اصول وکلیات میں سے ہیں جودینِ حق کے بنیادی مقاصد قرار دئےگئے ہیں اور دنیا کی دوسری شریعتوں اور صالح قوانین میں بھی کسی نہ کسی حد تک ان امور کی رعات رکھی گئی ہے؛ لیکن جس جامعیت کے ساتھ اسلام نے ان امور کی حفاظت پرزور دیا ہے اور اس کے لیے قوانین وضع کئے ہیں وہ اس کا ہی امتیاز ہے، یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ انسان کا اس دنیا میں وجود محض اس لیے کہ اس کی جان کی حفاظت کی جائے، یااس کی عقل اور مال کی حفاطت کی جائے، ایک فعلِ عبث ہے؛ چنانچہ یہ چیزیں اسلام میں آخرت کی زندگی سے مربوط ہیں، انسان کا وجود اس کائنات میں اس لیے مطلوب ہے کہـــــ  وہ خدا کی عبودیت کا حق ادا کرے اور آخرت کی زندگی کی سعادت کے لیے خود کوتیار کرے؛ البتہ جب تک وہ اس دنیا میں رہے اس وقت تک اس کی جان، مال، عزت اور عقل سب کی حفاظت کی ضمانت ان شرعی احکام میں مضمر ہے، جواسلام نے دئے ہیں۔
یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ ان پانچوں اصولوں میں جوزیادہ اہم ہو اس کی خارط اس سے کمتر اصولوں کوقربان کیا جاے گا، مثلاً اگردین کی حفاظت کی خاطر جان دینے کی ضرورت ہوتو اس میں دریغ نہیں کیا جائے گا؛ اسا طرح اگرکسی کا مال لےکر کھالینے سے جان کی حفاظت ممکن ہوتوجان کی حرمت کومال کی حرمت پرمقدم رکھا جائے گا، جن مقاصد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ شرعی احکام کا دارومدار ان کی تکمیل پر ہے، ان کا ذکرکرتے ہوئے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں:

"وَمَقْصُودُ الشَّرْعِ مِنَ الْخَلْقِ خَمْسَةٌ: وَهُوَأَنْ يَحْفَظَ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ، وَنَفْسَهُمْ، وَعَقْلَهُمْ، وَنَسْلَهُمْ، وَمَالَهُمْ، فَكُل مَايَتَضَمَّنُ حِفْظَ هَذِهِ الأُْصُول الْخَمْسَةِ فَهُوَمَصْلَحَةٌ، وَكُل مَايُفَوِّتُ هَذِهِ الأُْصُول فَهُوَمَفْسَدَةٌ، وَدَفْعُهَا مَصْلَحَةٌ"۔

(المستصفى في علم الأصول:۱/۱۷۴، شاملہ، المؤلف:محمد بن محمد الغزالي أبو حامد، الناشر: دارالكتب العلمية،بيروت)

ترجمہ:خلق کے بارے میں شریعت کے مقاصد پانچ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس کے دین، اس کی جان، اس کی عقل، اس کی نسل اور اس کے مال کی حفاظت کی جائے؛ پس ہر وہ بات جو ان اصولِ خمسہ کی حفاظت کی ضامن ہو وہ "مصلحت" قرار پائے گی اور ہر وہ چیز جو ان پانچوں امور کی حفاظت میں مخل ہو وہ"مفسدہ" قرار پائے گی اور اس کا ازالہ "مصلحت" ہوگا۔

پھرفرماتے ہیں:

"هَذِهِ الأُْصُول الْخَمْسَةُ حِفْظُهَا وَاقِعٌ فِي رُتْبَةِ الضَّرُورِيَّاتِ فَهِيَ أَقْوَى الْمَرَاتِبِ فِي الْمَصَالِحِ ومثاله قضاء الشرع بقتل الكافر المضل وعقوبة المبتدع الداعي إلى بدعته فإن هذا يفوت على الخلق دينهم وقضاؤه بإيجاب القصاص أدبه حفظ النفوس وإيجاب حد الشرب إذبه حفظ العقول التي هي ملاك التكليف وإيجاب حد الزنا إذبه حفظ النسل والأنساب وإيجاب زجر الغصاب والسراق إذبه يحصل حفظ الأموال التي هي معاش الخلق وهم مضطرون إليها وتحريم تفويت هذه الأصول الخمسة والزجر عنها يستحيل أن لاتشتمل عليه ملة من الملل وشريعة من الشرائع التي أريد بهاإصلاح الخلق"۔

(المستصفى في علم الأصول:۱/۱۷۴، شاملہ، المؤلف:محمد بن محمد الغزالي أبو حامد، الناشر: دارالكتب العلمية،بيروت)

ترجمہ:ان پانچوں اصول کی حفاظت ضروریات میں سے ہے جومصالح کا سب سے قوی ترین درجہ ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ شریعت نے ایسے کافر کے قتل کا حکم دیا ہے جس کا کفر دوسروں کت متعدی ہو؛ اسی طرح ایسے بدعتی کی سرزنش کا حکم دیا ہے جواپنی بدعت کی طرف لوگوں کودعوت دے؛ کیونکہ اس سے خلق دین کی حفاظت کا مقصد متاثر ہوتا ہے اور شریعت نے قصاص کا حکم دیا ہے؛ کیونکہ اس کے ذریعہ جان کی حفاظت ممکن ہے اور شراب پینے کی حدمتعین کی ہے کہ عقول کی حفاظت کی جاسکے، جوانسان کی تکلیف کا مدار ہےاور حدزنا متعین کی تاکہ اس کے ذریعہ نسل اور نسب کی حفاظت کی جاسکے اور چوروں اور غاصبوں کی سزا متعین کی ہے؛ تاکہ لوگوں کے مال کی حفاظت کی جاسکے، جس سے خلق کا معاش وابستہ ہے اور لوگوں کواس کی احتیاج ہے، یہ پانچوں ایسے امور ہیں جن کی حفاظت کا خیال نہ رکھنا کسی ایسی ملت وشریعت میں ممکن نہیں جوخلق کی اصلاح کے لیے نازل کی گئی ہو۔

(۲)حاجیاتی مصالح
شریعت کے مقاصد ومصالح کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ انسانی زندگی سے تنگی اور مشقت کودور کیا جائے؛ گویا ان مصالح وتحقیق پردنیوی واخروی زندگی موقوف تونہیں ہے؛ لیکن دفع حرج ومشقت کے لیے ان کی رعایت ضروری ہے، مثال کے طور پرسفر میں نماز کوقصر کے ساتھ پڑھنے کی اجازت؛ اسی طرح رمضان میں مریض اور مسافر کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت، یاقیام پرقدرت نہ رکھنے والے شخص کے لیے اس بات کی اجازت کہ وہ بیٹھ کرنماز ادا کرے، حیض ونفاس میں مبتلا عورت کے لیے نماز نہ پڑھنے کی تاکید اور سفروحضر میں خف پرمسح کرنے کی اجازت وغیرہ ایسے احکام ہیں جوشرعی مقاصد ومصالح کی اس دوسری قسم کے ذیل میں آتے ہیں۔
اسی طرح قرض لین دین کی اجازت، کسی دوسرے کی طرف سے حقوق کے بارے میں ضامن وکفیل بننے کی اجازت، ضرورت پڑنے پربیع کوفسخ کرنے اور نکاح کے رشتہ کوطلاق کے ذریعہ ختم کرنے کی اجازت بھی اسی ذیل میں آتی ہے، جیسا کہ حدود وعقوبات کے مسائل ہیں، مقتول کے ولی کواس بات کا حق کہ وہ قصاص معاف کردے، یادیت میں تخفیف کردے، یابعض حالات میں دیت کا بجائے قاتل کے اس کے اقارب واصدقا یاعاقلہ پروجوب، یہ ساری چیزیں اسی لیے مشروع کی گئی ہیں؛ تاکہ حرج اور مشقت کودور کیا جائے، علامہ شاطبی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

"وأماالحاجيات، فمعناها أنهامفتقر إليهامن حيث التوسعة ورفع الضيق المؤدي في الغالب إلى الحرج والمشقة اللاحقة بفوت المطلوب، فإذالم تراع دخل علتى المكلفين على الجملة الحرج والمشقة، ولكنه لايبلغ مبلغ الفساد العادي المتوقع في المصالح العامة، وهي جارية في العبادات، والعادات، والمعاملات، والجنايات ففي العبادات: كالرخص المخففة بالنسبة إلى لحوق المشقة بالمرض والسفر، وفي العادات كإباحة الصيد والتمتع بالطيبات مماهوحلال، مأكلا ومشربا وملبسا ومسكنا ومركبا، وفي المعاملات، كالقراض، والمساقاة، والسلم، وفي الجنايات، كالقسامة، وضرب الدية على العاقلة، وتضمين الصناع"۔                     

(الموافقات:۲/۶،۵، بحذف یسیر)

ترجمہ:"حاجیات" سے مراد وہ مصالح ہیں، جن کی ضرورت تنگی کودور کرنے اور حرج ومشقت کورفع کرنے کے لیے پیش آئے اوراگر ان کی رعایت نہ رکھی جائے تومکلفین کی زندگی مشقت کی وجہ سے دوبھرہوجائے؛ لیکن اس طرح کا فساد متصور نہ ہو، جوضروری مصالح کونظرانداز کرنے سے برپا ہوتا ہے "حاجیات" کا خانہ بھی عبادات، عادات، معاملات اور جنایات سب کوعام ہے؛ چنانچہ عبادات میں اس کی مثال وہرخصتیں ہیں جومشقت لاحق ہونے کے اندیشہ سے دی گئی ہیں، جومرض یاسفر کی وجہ سے پیش آتی ہیںــــــ  اورعادات میں شکار کا حلال ہونا، پاکیزہ اور حلال چیزوں سے استفادہ کرنے کی اجازت شامل ہے؛ خواہ اس کا تعلق کھانے پینے کی چیزوں سے ہو یالباس ومسکن اور سواری وغیرہ سے اور معاملات میں اس کی مثال مضاربت، مساقاۃ اور مسلم وغیرہ کی اجازت ہے اور جنایات میں قسامت اور عاقلہ پردیت کا وجوب اور ضائع شدہ مال کی ضمانت وغیرہ اس کی مثال ہے۔

(۳)تحسینی مصالح
مصالح ومقاصد کا تیسرا درجہ تحسینی اور کمالیاتی مصالح ہیں، جن کی رعایت پرنہ توزندگی موقوف ہو اور نہ ان کی عدم رعایت سے حرج اور مشقت ہی کا اندیشہ ہو؛ بلکہ ان کا تعلق اخلاق وعادات اور زندگی کے آداب سے ہو، یعنی مروت اور عقل انسانی کا تقاضا ہوکہ ان مصالح کا تحقق مستحسن ہے اور فطرتِ سلیمہ اس کا تقاضا کرتی ہے کہ انسانی معاشرہ میں یہ خصلتیں پائی جائیں اور انسانی زندگی ان خوبیوں سے آراستہ ہو، امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول :

"الرتبة الثالثة مالايرجع إلى ضرورة ولاإلى حاجة ولكن يقع موقع التحسين والتزيين والتيسي والمزائد ورعاية أحسن المناهج في العادات والمعاملات"۔

(المستصفیٰ:۱/۲۹۰)

ترجمہ:تیسرا درجہ (مصالح کا) جو نہ "ضرورت" کے خانہ میں آتا ہو اور نہ "حاجت" کے؛ لیکن اس کا شمار ان امور میں ہوتا ہو، جس کوتحسین وتزئین کے لیے اختیار کیا جاتا ہے اور عادات ومعاملات میں جس کی رعایت مستحسن سمجھی جاتی ہے۔

عبدات میں نفلی نمازیں، نفلی روزے، نفلی صدقات کو اس کی مثال قرار دیا جاسکتا ہے؛ اسی طرح طہارت، سترعورت وغیرہ کے حکم کوبھی فقہاء نے اسی ذیل میں شمار کیا ہے، بیع وشراء میں ناپاک چیزوں کی خریدوفروخت کی ممانعت، کھانے پینے میں پاکیزہ چیزوں کا اہتمام اور خبائث سے اجتناب، عقوبات میں لاش کومثلہ کرنے کی ممانعت اور عورتوں اور بچوں وغیرہ کے قتل سے اجتناب کا حکم بھی اسی ذیل میں آتا ہے، علامہ شاطبیؒ مصالح کی اس قسم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"وأماالتحسينات، فمعناها الأخذ بمايليق من محاسن العادات، وتجنب المدنسات التي تأنفها العقول الراجحات، ويجمع ذلك قسم مكارم الأخلاق في العبادات، كإزالة النجاسة وبالجملة الطهارات كلها وستر العورة، وأخذ الزينة، والتقرب بنوافل الخيرات من الصدقات والقربات، وأشباه ذلك وفي العادات، كآداب الأكل والشرب، ومجانبة المآكل النجسات والمشارب المستخبثات، والإسراف والإقتار في المتناولات، وفي المعاملات، كالمنع من بيع النجاسات، وفضل الماء والكلأ وفي الجنايات، كمنع قتل الحر بالعبد، أوقتل النساء والصبيان والرهبان في الجهاد"۔                       

(الموافقات:۲/۶)

ترجمہ:تحسینیات سے مراد اچھی عادتوں کا اختیار کرنا اور ان امور واحوال سے اجتناب ہے جن کوعقل سلیم ناپسند کرتی ہو اور ان سب کے مجموعہ کومکارم اخلاق سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، عبادات میں اس کی مثال نجاست کا ازالہ اور طہارت اور پاکیزگی کا حصول ہے سترعورت، زینت وآرائش اور نفلی عبادتوں اور صدقات کے ذریعہ خدا کاقرب حاصل کرنے کی کوشش وغیرہ، عادات میں کھانے پینے کے آداب، ناپاکی اور خبیث چیزوں سے اجتناب، اسراف اور بخل سے پرہیز، معاملات میں ناپاک چیزوں کی خریدوفروخت کی ممانعت، پانی اور چارہ کی زائد مقدار کی فروخت اور جنایات میں عورتوں، بچوں اور راہبوں کے جہاد کے دورن قتل کی ممانعت وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔

شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں جن کومذکورہ بالاتینوں مدارج "ضروری، حاجی اور تحسینی" کے تکملہ اور تتمہ کی حیثیت دی جاسکتی ہے، مثال کے طور پر:قصاص میں مماثلت کا لحاظ حفظ نفس کے مقصد کی تکمیل کے لیے ہے؛ اسی طرح شراب کی تھوڑی سی مقدار کی حرمت حفظ عقل کی مصلحت کا تتمہ ہے؛ کیونکہ شراب کی تھوڑی مقدار زیادہ کاخوگر بننے کا ذریعہ بن جاتی ہے؛ اسی طرح اجنبی عورت کودیکھنے اور اس کے ساتھ خلوت میں بیٹھنے کی ممانعت ہے، جوحفظ نسل کے مقصد کی تکمیل کے لیے ہے؛ اسی طرح ذان اور جماعت کی مشروعیت اقامتِ دین کی مصلحت کی تکمیل کے لیے ہے؛ تاکہ دین کا صحیح طور پرظہور اور اس کی حفاظت کا مقصد پورا ہوسکے؛ اسی طرح غصب کردہ مال کے ضمان میں مماثلت کی قید اور ربوکی حرمت کوحفظِ مال کے مقصد کی تکمیل کے لیے متعین کیا گیا ہے۔
دوسری قسم یعنی حاجیاتی مصالح کی تکمیل کے لیے جوچیزیں مشروع کی گئی ہیں ان میں نکاح میں کفأت کی رعایت؛ اسی طرح صغیرہ کے نکاح میں مہرِمثل کالحاظ اور مجہول کی بیع کی ممانعت اور مشتری کے لیے خیارِرؤیت اور خیارِ شرط وغیرہ کی مشروعیت بھی بیع وشراء کی عمومی مصلحت کا تتمہ اور تکملہ ہے، تحسینی مصالح کی تکمیل کے لیے صدقاتِ نافلہ میں پاک مال کا خرچ کرنا، عقیقہ اور قربانی وغیرہ میں افضل ترین جانور کے انتخاب کی تلقین کواس کی مثال قرار دیا جاسکتا ہے، وہ مصالح جن کو "ضروریات" میں شمار کیا گیا ہے، وہ بقولِ امام شاطبیؒ "اصولِ دین، قواعدِ شرعیہ اور کلیاتِ ملت" کی حیثیت رکھتی ہیں؛ چنانچہ ان کوہرحال میں مقدم رکھا جائے گا، مثال کے طور پراگر "ضروری" یاحاجی، مصلحت کا تقاضا ہوتو تحسینی مصلحت کونظر انداز کیا جاسکتا ہے؛ چنانچہ آپریشن یامرض کی تشخیص کی خاطر جس سے جان کی حفاظت وابستہ ہے سترِ عورت کی مصلحت کونظرانداز کیا جائے گا جوکہ تحسینی مصالح میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسی طرح ضرورت اور اضطرار کی حالت میں "میتہ" کا کھانا حلال ہوگا اور تحسینی مقصد یعنی مطعومات میں سے، خبیث چیزوں سے احتراز کی مصلحت کونظرانداز کیا جائے گا "بیع سلم اور استنضاع" کے جواز کی بناء بھی یہی ہے کہ "حاجت"کی خاطر "تحسینی" مقصد یعنی مبیع کے وجود کی شرط کونظرانداز کیا گیا اور ضروریات میں بھی باہم فرق مراتب کالحاظ ہوگا، دین کی حفاظت کی خاطر جان کی حفاظت کونظرانداز کیا جائے گا؛ اسی طرح جان کی حفاظت کی خاطر مال کی حفاظت کی مصلحت کونظرانداز کیا جائے گا، امام غزالیؒ اور بعض دوسرے ائمہ اصول نے نسل کی حفاظت کوعقل کی حفاظت پر مقدم رکھا ہے، جب کہ دوسرے فقہاء کے یہاں ترتیب میں "عقل" نسل سے مقدم ہے "مقاصد" اور "مصالح" کی ایک اور تقسیم بھی کی جاتی ہے کچھ مقاصد ایسے ہیں جن کاتعلق فرد کی ذات سے ہے اور کچھ مصالح ایسی ہیں جن کا تعلق ساری امت یاجماعتِ مسلمین سے ہے، مثال کے طور پردشمنوں سے ملک کی حفاظت، دین کی حفاظت، قرآنِ کریم کی حفاظت، سنت کی حفاظت، اسی طرح حرمین شریفین کی دشمنوں کے ہاتھ میں چلے جانے سے حفاظت، یہ سب کلی مصالح ہیں جن کی خاطر جزوی مصالح کونظرانداز کیا جاسکتا ہے۔
علامہ ابن عاشور نے مصالح کی ایک اور تقسیم بھی کی ہے، جس کی رو سے کچھ مصالح تووہ ہیں جوقطعی ہیں جن کی نشان دہی خود نصوص سے ہوتی ہے یامجموعی طور پر شرعی احکام کے تتبع اور استقراء سے جیسا کہ "مصالحِ ضروریہ، یاکلیاتِ خمسہ" کی حفاظت کے بارے میں گذرچکا ہے، یاعقل اس بات کی شہادت دے کہ اس کوترک کرنے میں امت کوزبردست نقصان کا سامنا کرنا پڑےگا، جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ کرنا کہ مانعینِ زکوٰۃ سے قتال کیا جانا ضروری ہے، دوسری قسم کی مصالح وہ ہیں جوظنی ہیں، اس کی مثال خوف کی وجہ سے حفاظت کے لیے کتے کے پالنے کا جواز ہے، جودلیلِ ظنی سے ثابت ہے اور تیسری قسم ان مصالح کی ہے جووہمی ہیں اور ان کا دئرہ بے حدوسیع ہے، اس کی مثال شراب، افیون، ہیروئین، کوکین اور قات وغیرہ کے بارے میں ان کے استعمال کرنے والوں کا یہ وہم کہ یہ چیزیں مفید اور نشاط آور ہیں، شریعت نے اس طرح کی "وہمی" مصالح کونظرانداز کیا ہے اور ان چیزوں کی حرمت کا حکم دیا ہے۔
چند ضرور وضاحتیں
(۱)مقاصد شریعت کے مدارج کے اس طرح پرذکر سے یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ وہ چیزیں جوضروریات میں شمار کی گئی ہیں وہ سب کی سب نفل اور مکروہ کے ذیل میں آئیں گی؛ بلکہ اس کے برعکس ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک چیز مدارج کے لحاظ سے توتحسینیات میں شمار ہوئی ہو؛ لیکن شرعی حکم کے لحاظ سے وہ قطعی حرام ہو یاواجب ہو، اس لیے کہ ایجاب وتحریم اور اباحت وکراہیت وغیرہ علیحدہ موضوع ہیں اور مقاصد شریعت اور اس کے مدارج ایک علیحدہ بحث ہے اور اس کی فصیل حکم تکلیفی کے مدارج میں آئے گی؛ یہاں اس کے ذکر کا موقع نہیں ہے، مثال کے طور پرستر عورت اور طہارت کے مسائل کویہاں تحسینیات شمار کیا گیا ہے؛ لیکن سب جانتے ہیں کہ ستر عورت کی ایک مقدار فرض ہے اور طہارت بھی جنابت کی حالت میں ضروری ہے، اس کی تقسیم تومختصر طور پریوں ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خطاب جس چیز سے متعلق ہو وہاں طلب "جازم" ہوگا یانہیں ہوگا؛ اگرطلب فعل ہوتو "واجب" ہوگا اور اگرطلب ترک فعل ہو تو "حرام" ہوگا اور اگرطلب "غیرجازم" ہوتو دونوں جانب یاتوبرابر ہوں گے تووہ مباح ہوگا اور اگر جانب وجودغالب ہوتو مندوب ہوگا اور اگرجانب عدم غالب ہوتو مکروہ ہوگا؛ خواہ اس کا تعلق ان امور سے ہوجومقاصد ومصالح کے لحاظ سے ضروریات میں شمار کئے گئے ہوں یاحاجیات میں یاکمالیات میں۔
(۲)اصول وقواعد ہمیشہ عمومی احوال کوپیشِ نظررکھ کربنائے جاتے ہیں، بعض جزئیات پرکسی قاعدہ کے کسی خاص وجہ سے منطبق نہ ہونے کی وجہ سے اصل قاعدہ کی جامعیت پرکوئی اثر نہیں پڑتا، مثال کے طور پرعقوبات اس لیے مشروع کی گئی ہیں کہ جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے جرم سے باز آجائے؛ لیکن یہ ممکن ہے کہ کسی خاص شخص پریہ اثرمرتب نہ ہو؛ چنانچہ قطع ید کے بعد بھی ایک شخص چوری کا ارتکاب کرے یاکوڑوں کی سزاپانے کے بعد بھی ایک شخص زنا سے باز نہ آئے؛ اسی طرح سفر میں قصر صلوٰۃ اور روزے کے افطار کی مشروعیت مشقت کے پیشِ نظر کی گئی ہے؛ لیکن یہ ممکن ہے کہ بادشاہ وقت یاکسی مرفہ الحال شخص کا سفراس طرح پرہوکہ اسے قطعی کوئی مشقت نہ ہو؛ لیکن اس کی وجہ سے وہ اس رخصت سے فائدہ اُٹھانے کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا؛ اسی طرح طہارت کی مشروعیت تونظافت کے لیے کی گئی ہے؛ لیکن مٹی کے ذریعہ تیمم کوبھی طہات کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، جس میں بظاہر آلودگی ہے، بقول علامہ شاطبی رحمۃ اللہ علیہ:

"فكل هذا غير قادح في أصل المشروعية لأن الأمر الكلي إذا ثبت فتخلف بعض الجزئيات عن مقتضى الكلي لا يخرجه عن كونه كليا فان حفظ النفوس مشروع وھٰذا کلی بقصد الشارع الیہ ثم شرع القصاص حفظ للنفوس فقتل النفس فی القصاص محافظ علیہ بالقصد"۔

ترجمہ:یہ ساری باتیں اصل مشروعیت کے لیے مضر نہیں ہیں؛ کیونکہ کسی امر کلی کے بعض جزئیات کا اگرتحقق نہ ہوتواس سے اس کی کلیت پرکوئی اثر نہیں پڑتا؛ چنانچہ جان کی حفاظت مطلوب ومشروع ہے اور یہ امرکلی ہے؛ کیونکہ شارع نے اس کوضروری قرار دیا ہے؛ لہٰذا جان کی حفاظت ہی کی خاطر قصاص میں قتل نفس اس کے منافی نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس کا مقصد لوگوں کی جانوں کی حفاظت ہی ہے۔

(۳)جان کی حفاظت شریعت کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے؛ چنانچہ اگرجان کی حفاظت مال کے اتلاف کے بغیرممکن نہ ہوتوجان کی حفاظت کوترجیح دی جائے گی؛ لیکن اگرجان کی حفاظت کا مقصد دین کومٹانے کا باعث ہوتو پھردین کی حفاظت کے مقصد کوترجیح دی جائے گی؛ جیسا کہ جہاد کی مشروعیت اور قتل مرتد کے مسئلہ سے یہ بات واضح ہے؛ اسی طرح اگرجان کی حفاظت سے کئی جانوں کا اتلاف لازم آتا ہوتوپھر کئی جانوں کی حفاظت کی فکر کی جائے گی؛ چنانچہ اگرکفار کسی مسلمان کوڈھال بنالیں اور اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوکہ مسلمان کی جان قربان کئے بغیر کفار پرغلبہ ونصرت حاصل کی جاسکے توایسی صورت میں اس مسلمان کی جان کواجتماعی مصلحت پرقربان کئے جانے کوگوارا کیا جائے گا۔
اوراگر کسی کوسلاح کے زور پراس بات پرمجبور کیا جائے کہ وہ کفریہ کلمات کہے؛ ورنہ اسے قتل کردیاجائے گا توایسی صورت میں اس کے لیے یہ جائز ہوگا کہ کلماتِ کفر زبان سے ادا کرے اور اس کا دل مؤمن ہو؛ اسی طرح اکراہ کی وجہ سے شراب کا پینا، کسی دوسرے شخص کا مال کھانا، نماز اور روزہ کوترک کرنا سب جان کی حفاظت کی خْاطر مباح ہوگا؛ لیکن اگر اسے اس بات پرمجبور کیا جائے کہ وہ کسی دوسرے شحص کوقتل کردے تو اس کے لیے یہ جائز نہ ہوگا؛ اسی طرح اگرکوئی شحص مخمصہ میں مبتلا ہو اور اس کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ ہوتواس کے لیے یہ بات جائز نہیں ہوگی کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کوذبح کرکے اس کا گوشت کھائے۔
(۴)دومصلحتوں کے درمیان اگرتعارض ہوتوجوقوی ترمصلحت ہو، اس کوترجیح دی جاے گی، مثال کے طور پراگرایک شخص نماز ادا کررہا ہو اور اس کی نظر ایک ڈوبتے ہوئے شخص پرپڑگئی توڈوبنے والے شخص کوبچانا نماز کی ادائیگی پرمقدم ہوگا اور اس شخص کا فریضہ ہوگاکہ پہلے ڈوبتے شخص کوبچائے؛ پھراپنی نماز ادا کرے؛ اسی طرح محرمات کے درمیان بھی فرقِ مراتب اور درجات ہیں، شراب کا پینا شراب بیچنے کے مقابلہ میں زیادہس نگین جرم ہے اور شادی شدہ عورت سے زنا کرنا غیرشادی شدہ عورت سے زنا کے مقابلہ میں زیادہ سنگین جرم ہے، امام عزالدین بن عبدالسلام فرماتے ہیں:

"المقاصد الضروریہ اصل للحاجیہ والتحسینیہ وان الحاجی ومن ہنااذادعت الضرورۃ الی احیاء المہجۃ یتناول النجس کان تناولہ اولی؛ کمایجدر الاطلاع علی العورات للمباضعہ المداواۃ"۔

ترجمہ:ضروری مقاصد "حاجی اور تحسینی" مقاصد پرمقدم ہیں؛ چنانچہ حاجی ضروری کی تکمیل کرتے ہیں اور تحسینی حاجی کی؛ لہٰذا اگراس کی ضرورت پیس آئے کہ جان کی حفاظت کے لیے نجس چیز کوکھانا پڑے گا تواس کا کھانا جائز اور اولیٰ ہوجائے گا جس طرح کہ علاج اور آپریشن کی ظاطر مریض کے کشفِ عورت کی اجازت ہوگی۔

اگرچندافراد کسی جزیرہ یاصحرا، یاکسی ظالم حکمراں کی جیل میں اس طریقہ پرمحصور ہوگئے ہوں کہ ان کے پاس کھانے کاکوئی سامان نہ ہو اور فاقہ کے اس درجہ کوپہونچ گئے ہوں کہ ان کے لیے سوائے اس کے کوئی چارۂ کار نہ رہ گیا ہو کہ وہ اپنے رفقاء میں سے کسی ایک کوقربان کرکے اس کا گوشت کھالیں؛ تاکہ باقی لوگوں کی جان بچ سکے توکیا شرعاً اس کی اجازت ہوگی؟۔
چند افراد کشتی میں سوار ہوئے موجوں کی شدت اور ہوا کہ تھپیڑوں نے ان کوایسی حالت سے دوچار کردیا کہ ان کے لیے ڈوبنے سے بچنے کا صرف ایک ہی ذریعہ باقی رہ گیا ہو کہ وہ اپنے ساتھ سوار کسی ایک فرد کودریا میں ڈال دیں تاکہ کشتی کا وزن کم ہو اور کشتی سلامت رہ سکے؛ ورنہ اس کا یقین ہے کہ سب کے سب ڈوب کرہلاک ہوجائیں گے توکیا ایسی صورت میں یہ بات جائز ہوگی کہ کسی فرد کواس ارادہ سے دریا کی نذر کردیا جائے؛ تاکہ دوسروں کی جان بچائی جاسکے؟۔
کفار نے چند مسلمانوں کواس طریقہ پرڈھال بنالیا ہو کہ اگران مسلمان قیدیوں کی جان کا خیال کیا جائے توسارا عالمِ اسلام کفار کے تسلط میں چلاجائے گا اور سیکڑوں افراد کی جانوں کوخطرہ لاحق ہوجائے گا،ایسی صورت میں کیا یہ درست ہوگا کہ ان بے قصور مسلمان قیدیوں کی جان کی پرواہ کئے بغیر عمومی مصلحت کو سامنے رکھا جائے اور انہیں نشانہ بنایا جائے؛ تاکہ کفار پرغلبہ حاصل ہوسکے، یہ اور اس طرح کے بہت سے مسائل ہیں جن کا جواب مقاصدِ شریعت اور ان کے مدارج کوسامنے رکھ کرمعلوم کیا جاسکتا ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے امام غزالی رحمہ اللہ کی "المستصفیٰ" اور امام سرخسی رحمہ اللہ کی"المبسوط" وغیرہ۔

**********************************



علمِ مقاصدِ شریعت: تعارف اور جائزہ



”مقاصدِ شریعت“ باقاعدہ ایک علم ہے۔
مقاصد: یہ مقصد کی جمع ہے اس کے معنی ہیں: میانہ روی جو افراط و تفریط سے پاک ہو۔ قرآن کریم میں ہے:
وَ اقْصِدْ فِی مَشْیِکَ (لقمان:۱۹)
اپنی چال میں میانہ روی رکھو۔
اسی طرح حدیث مبارک میں ہے:
القصدَ ، القصدَ تَبْلُغُوا(بخاری، کتاب الرقاق)
میانہ روی سے دین پر چلتے رہو، منزل تک پہنچ جاوٴ گے۔
شریعت عربی زبان میں پانی کے منبع اور سرچشمہ کوکہتے ہیں، نیز دین، ملت، طریقہ، سنت اور منہاج پر بھی شریعت کا لفظ بولا جاتا ہے۔
جس طرح پانی انسانی زندگی کی بقاء اور تروتازگی کے لیے ناگزیر ضرورت ہے ، اسی طرح دین اسلام انسانوں کی روحانی اور مذہبی زندگی کی بقاء اور اصلاح کا سرچشمہ اور منبع ہے، اسی دین اسلام سے انسانوں کی دنیوی اور اُخروی فلاح وبہبود اور اللہ تعالیٰ کے ہاں رضامندی جڑی ہوئی ہے۔
مقاصدِ شریعت کا اصطلاحی معنیٰ:
متقدمین اہلِ علم کے ہاں اس علم کا مستقل وجود نہیں تھا؛ بلکہ عموماً تمام دینی علوم اور خصوصاً اصول فقہ کے ذیل میں اس علم وفن سے بحث کی جاتی تھی۔ چنانچہ مصلحت، حکمت، منفعت اور اسرار وغیرہ کی جو تعبیرات علومِ دینیہ میں ملتی ہیں وہی مباحث مستقل موضوع اختیار کرکے ایک مستقل علم کی شکل اختیار کرگئیں۔
عصرحاضر میں اس موضوع پر ایک مفید ترین کتاب تحریر کرنے والے شیخ نور الدین الخادمی نے اس علم کی جامع ترین تعریف کرتے ہوئے تحریر کیا ہے:
المقاصد ھی المعانی الملحوظة فی ا لأحکام الشرعیة و المترتبة علیھا سواء أکانت تلک المعانی حکماجزئیة أم مصالح کلیة أم سِمات إجمالیة وھی تتجمع ضمن ھدف واحد، ھو تقریر عبودیة اللّٰہ و مصلحة الإنسان فی الدارین (الاجتہاد المقاصدی حجیتہ ، ضوابطہ، مجالاتہ۔ج۱۔ص۵۲)
”مقاصد شریعت سے مراد وہ اَہداف بھی ہیں جو شرعی اَحکام میں ملحوظ رکھے گئے ہیں اور وہ بھی ہیں جو اُن شرعی احکام پر مرتب ہوتے ہیں، چاہے وہ اَہداف جزوی حکمتیں ہوں ، کلی مصلحتیں ہوں یا محض اجمالی نشانیاں ہوں اور یہ سب اَہداف اپنے ضمن میں ایک ہی ہدف رکھتے : اللہ تعالیٰ کی بندگی کا اظہار اور انسان کے لیے دنیا اورآخرت میں فائدہ مندی“
خلاصہٴ کلام یہ کہ ایک حکیم وخبیر ذات باری تعالیٰ نے شرعی احکام میں اپنے بندوں کے لیے جو فوائد رکھے ہیں وہی مقاصد شرعیہ ہیں۔ مثلاً :
روزے کا فائدہ حصولِ تقویٰ بیان کیا گیا ہے تو یہ تقوی کا حصول مقصدِ شرعی ہے۔
 جہاد کاایک مقصد جارح دشمن کی جارحیت کو دفع کرنا ہے تو یہی شرعی مقصد کہلائے گا۔
نکاح کے مقاصد میں اپنی شرمگاہ اور نظروں کی حفاظت اور اولاد کا حصول پیش نظر ہے تو یہی چیزیں شرعی مقاصد کہلائیں گی۔
الغرض شرعی مقاصد اور مصالح کا باب بہت وسیع ہے؛ مگر جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ یہ سب مقاصد اور مصالح آخر کار اللہ تعالیٰ کی بندگی اور بندوں کی دنیوی اور اُخروی سعادت مندی سے ہی جڑ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:
وَ لَقْدَ بَعَثْنَا فِی کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلاً اَِن اعْبُدُوْا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوْا الطَّاغُوْتَ (النحل:۳۶)
ہم نے ہر قوم میں رسول بھیجے (یہ پیغام دے کر کہ)ایک اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچ کر رہو۔
مقاصدِ شریعت کی بات کو دیگر بعض اہلِ علم نے یوں بھی بیان کیا ہے کہ :
شریعت کے مقاصد بنیادی طور پر دو ہی ہیں:
(۱)دینی اور دنیوی منافع اور مصالح کا حصول ۔
(۲)دینی اور دنیوی نقصانات اور فسادات کا دفعیہ۔
یہ الگ بحث ہے کہ اگر کبھی دینی اور دنیوی منفعت میں ٹکراوٴ پیدا ہورہا ہو تو پھر کس منفعت کو ترک کریں گے اور کس منفعت کو ترجیح دیں گے؟ اگرچہ اس میں اصولی اورعمومی ضابطہ یہی ہے کہ دینی منفعت کو ہی ترجیح دیں گے؛ لیکن بہرحال یہ موضوع ایک الگ مستقل اور مفصل بحث ہے جو اس وقت ہمارے پیش نظر نہیں ہے؛ کیوں کہ فی الحال ہم اس علم کی مبادیات اور تعارف پر گفتگو کررہے ہیں۔
اب تک کی بحث سے ہم نے اس علم کی تعریف جان لی اور ساتھ ہی اس کی غرض و غایت بھی جان لی یعنی کہ: اللہ تعالیٰ کی بندگی کا ثبوت اور انسان کی دینی و دنیوی سعادت مندی۔
مقاصدِ شریعت کی اَقسام:
اس علم وفن کی تعریف اور غایت جاننے کے بعد اب اس کی اہم ترین اقسام جاننا ضروری ہے۔ اس فن کے اولین معمار امام ابو اسحاق ابراہیم بن موسی الغرناطی الشاطبی (متوفیٰ۷۹۰ھ)کی مباحث سے بطور خلاصہ وانتخاب ان اقسام کو بیان کیا جاتا ہے:
(۱)مصالح ضروریہ: اُن اَہداف و غایات کو کہا جاتا ہے کہ اگر وہ ہاتھ نہ آئیں تو انسان کی دنیا یا آخرت برباد ہو جائے ۔ مثلا اگر نکاح اور نماز پڑھنا کہ اگر نکاح کی قدرت ہو اور کوئی مانع بھی نہ ہو اس کے باوجود نکاح نہ کیا جائے تو دنیوی فوائد سے محرومی ہے اور اگر شرعی عذر کے بغیر نماز ترک کر دی جائے اور اس سے منہ موڑ لیا جائے آخرت برباد ہو جاتی ہے ۔ 
یہ شرعی مقاصد کی سب سے اولین قسم ہے ، گویاکہ شریعت نے احکام شرعیہ میں ان مصالح کو علت کے بعد سب سے مقدم رکھا ہے اور یہ پانچ مصالح ہیں جنھیں مقاصد خمسہ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
یہ درج ذیل ہیں:(۱)دین کی حفاظت (۲)انسانی جان کی حفاظت (۳) انسانی عقل کی حفاظت (۴)انسانی نسل کی حفاظت (۵)انسان کے مال کی حفاظت۔
گویا اب یوں سمجھیے کہ شریعت نے جتنے بھی احکام دیے ہیں، ان سب میں ان پانچ مصلحتوں میں سے کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور موجود ہوگی اور بعض میں دو تین یا سب مصلحتیں بھی موجود ہوسکتی ہیں؛ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ شریعت کا کوئی حکم ایسا ہو جس میں ان پانچ باتوں میں سے کوئی بھی بات موجود نہ ہو۔ ان پانچوں باتوں کی اصل اور بنیاد خود قرآن مجید ہے جو اس فن کے ماہرین اور ماہرینِ قرآن پر مخفی نہیں۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ یہ پانچوں باتیں آپس میں ہم مرتبہ نہیں؛ ہیں بلکہ ان پانچوں کے باہمی درجات میں تفاوت ہے، مثلا اگر دین اور جان میں سے کسی ایک کو بچانے کا موقع ہو تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس موقع پر دین بچانا مقدم ہوگا، اگرچہ جان نہ بچ پائے، اسی طرح اگر جان اور مال میں سے ایک چیز بچائی جا سکتی ہو تو شریعت جان بچانے کو ترجیح دے گی وغیرہ۔ 
یہ پانچ ضروریات اصول دین میں سے ہیں۔ امام شاطبی نے انھیں ”اصول دین، قواعد شریعت اور کلیات ملت“ کے القاب دیے ہیں جن سے ان کی اہمیت خود بخود واضح ہو رہی ہے۔ مثلا: 
 ارکانِ اسلام کا مکلف اس لیے بنایا گیا؛ تاکہ انسان کا ”دین“ سلامت رہے۔
دیت، قصاص اور زخموں وغیرہ کے احکام اس لیے دیے گئے؛ تاکہ انسانی ”نفس“ کی حفاظت ہو۔
نشہ آور چیزوں اور دیگر لہو ولعت کی ممانعت کی گئی؛ تاکہ انسانی ”عقل“ سلامت رہے۔
گھریلو زندگی سے متعلق احکامات اس لیے دیئے گئے؛ تاکہ انسانی ”نسل“ کو بقاء اور تحفظ میسر آئے۔
خرید وفروخت کے احکامات اور چوری وڈاکہ زنی وغیرہ کی ممانعت اس لیے کی گئی؛ تا کہ انسانی ”مال“ محفوظ رہ سکے۔
اب دیکھ لیجیے کہ شریعت نے کس طرح اپنے احکامات میں ان پانچ باتوں کو ملحوظ رکھا ہے اسی لیے انھیں اصول دین اور قواعدشریعت کا لقب دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ جو باتیں ان پانچ مقاصد میں سے کسی میں بھی خلل انداز ہوں انھیں شریعت ”مفاسد“ کا نام دیتی ہے اور جن باتوں سے یہ پانچ باتیں سلامت اور محفوظ رہیں انھیں ”مصالح“ قرار دیتی ہے۔ 
(۲)مصالح حاجیہ:یعنی وہ مصلحتیں جن سے انسانی حاجات وابستہ ہوں اور اگر وہ حاجات پوری نہ ہوں تو انسان تکلیف اور مشقت میں پڑ جائے، اِن انسانی حاجات سے متعلقہ احکامات میں شریعت نے جو اَہداف مقرر کیے ہیں انھیں ”مصالحِ حاجیہ“کا نام دیا گیا ہے۔ مثلا عذر کے وقت تیمم کرنا وغیرہ۔
پھر یہ مصالح حاجیہ اپنی اصل میں قسم اول مصالح ضروریہ سے ہی جڑی ہوئی ہیں۔ مثلا:
نکاح کے احکامات میں شریعت نے جو چیزیں مدنظر رکھی ہیں، ان کا ایک ہدف نسلِ انسانی کی بقاء اور تحفظ ہے اور یہ بات اوپر بیان ہوچکی ہے کہ نسلِ انسانی کا تحفظ مقاصد خمسہ اور مصالح ضروریہ میں سے ہے۔
اسی طرح تجارت اور کرایہ داری وغیرہ کے احکامات کا ہدف مال کی حفاظت یا اس کی بڑھوتری ہے اور مال کی حفاظت بھی قسمِ اول؛ مصالح ضروریہ میں سے ایک مصلحت ہے۔ 
ان انسانی حاجات میں شریعت نے عموماً رخصت اور آسانی کی ملحوظ رکھا ہے؛ چنانچہ بوقت ضرورت مردار کھانے کی اجازت اور پانی میسر نہ ہونے یا قدرت نہ ہونے کے وقت تیمم کا حکم ، سفر میں نماز کی قصر اور روزہ نہ رکھنے کی اجازت اسی سہولت اور رخصت پر مبنی ہے؛ تاکہ انسان اپنی استطاعت کے حدود میں رہتے ہوئے دینی ارکان کو بجا لاسکے اور انھیں محفوظ رکھ سکے۔ 
(۳)مصالحِ تحسینیہ: یعنی ایسی مصلحتیں اور ایسے اہداف جن کی رعایت انسانی کردار اور گفتار میں حسن وخوبی کا باعث ہوں ، انھیں مصالحِ تحسینیہ کا نام دیا گیا ہے اور تمام اچھی عادات اور اچھے اخلاق اسی سے جڑے ہوتے ہیں ۔ پھر تمام برے اخلاق سے اجتناب برتنا بھی اسی قسم سے متعلق ہے؛ کیوں کہ بری باتوں اور برے اخلاق سے کنارہ کشی خود بخود انسان میں ایک حسن پیدا کردیتی ہے۔ 
چنانچہ اسراف اور بخل وغیرہ سے اجتناب کرنا، میاں بیوی کے انتخاب میں کفاء ت کو ملحوظ رکھنا، کھانے پینے کے آداب، حسنِ معاشرت، ستر عورت، نجاست سے پاک رہنا وغیرہ سب اس کی مثالیں ہیں۔ 
جس طرح مصالح کی دوسری قسم یعنی مصالحِ حاجیہ اپنی انتہاء میں قسمِ اول؛ مصالحِ ضروریہ کی طرف لوٹتی ہیں اسی طرح یہ تیسری قسم؛ مصالحِ تحسینیہ بھی انجام کار مصالح ضروریہ کی طرف ہی لوٹتی ہیں۔ مثلا:
طہارت اور سترعورت کا حکم ”حفظِ دین“ کی طرف لوٹتا ہے۔
کھانے پینے کے آداب اور حرام چیزوں سے اجتناب” حفظِ نفس“ کی طرف لوٹتا ہے۔
میاں بیوی کا صحیح انتخاب اور حسنِ معاشرت ”حفظ نسل“ کی طرف لوٹتے ہیں۔
حلال کمانا، صحیح خرچ کرنااور فقیروں کو اپنے مال میں سے حصہ دینا ”حفظ مال“ کی مصلحت کی طرف لوٹتے ہیں۔ 
یہ ایک نمونہ ہے اس بات کا کہ مصالح کی دوسری دونوں قسمیں اپنی انتہاء اور انجام کار میں قسم اول کی طرف ہی لوٹتے ہیں؛ اسی لیے علمائے کرام نے قسمِ اول کو ”اصول دین اور قواعدِ شریعت“ کا نام دیا ہے۔ 
مقاصدِ شریعت کا سرچشمہ اور مصدر:
مقاصدِ شریعت کی تینوں قسمیں جو اوپر مذکور ہیں، ان کا سرچشمہ اور منبع قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ قرآنِ کریم نے ان باتوں کو اصولی انداز میں بیان کیا ہے اور سنت نبوی میں یہ چیزیں اپنی فروعات اورکافی تفصیلات کے ساتھ سے بیان ہوئی ہیں۔ (الشاطبی ومقاصد الشریعة للحمادی العبیدی۔ ۱۲۳)
اس علم کے فوائد:
اس علم و فن کی معرفت اوراس میں رسوخ وکمال حاصل کرنے کے بہت سے فوائد ہیں ، اُن میں سے تین درج ذیل ہیں:
(۱) اس علم وفن کی معرفت سے احکامِ شریعت کی صحیح سمجھ بوجھ حاصل ہوتی ہے۔
چنانچہ امام جوینی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :
من لم یتفطن لوقوع المقاصد فی الأوامر و النواھی فلیس علی بصیرةٍ فی وضعِ الشریعة و ھی قبلة المجتہدین ، من توجہ إلیھا من أی جھة أصاب الحق دائما (البرہان فی اصول الفقہ، ج۱، ص۲۰۶)
ترجمہ: جو شخص شرعی مامورات اور منہیات کے مقاصد نہ سمجھ سکے تو شرعی احکامات میں صاحبِ بصیرت نہیں بن سکتا ، حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مقاصدِ شریعت مجتہدین کی کاوشوں کا قبلہ ہیں اور جو شخص کسی بھی مسئلے میں ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ حق پا کر ہی رہتا ہے ۔ 
(۲)قرآنِ کریم اور سنت نبوی کے علوم و معارف میں باریکی اور گہرائی نصیب ہوتی ہے۔
(۳) وہ نت نئے مسائل اور حوادث جن کے بارے میں کوئی شرعی حکم منصوص نہیں ہوتا، اُن کے صحیح شرعی حکم تک رسائی حاصل کرنے میں یہ علم و فن خاص طور سے مددگار ہوتا ہے۔ 
(۴) اس علم وفن کا ماہر شرعی احکامات کو لوگوں کے سامنے آسان اور عام فہم بنا کر پیش کرتا ہے۔ 
قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
یُرِیْدُ اللّٰہَ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَایُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ(البقرة:۱۸۵)
اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتے ہیں اور تمہیں مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا :
یَسِّرُوْا وَ لَاتُعَسِّرُوْا وَ بَشِّرُوْا وَ لَاتُنَفِّرُوْا (بخاری، رقم الحدیث۶۹)
تم آسانی کرو، مشکلات کھڑی نہ کرو اور خوش خبری سناوٴ، متنفر نہ کرو!
مقاصدِ شریعت کی ایک دوسری تقسیم:
شرعی احکام میں جو مقاصد اور اَہداف و غایات ملحوظ ہوتی ہیں، اُن کی خود اَحکام کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں:(۱)مقاصدِ عامہ (۲) مقاصدِ خاصہ (۳)مقاصدِ جزئیہ۔
 ان کی کچھ وضاحت یوں ہے:
(۱)مقاصد عامہ:
اس سے مراد وہ مقاصد ہیں جنہیں شریعت تمام احکامات میں یا اکثر احکامات میں ملحوظ رکھتی ہے۔ مثلا:
إنما الاعمال بالنیات: اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔
یہ ایسا شرعی مقصد ہے جو عموماً شرعی احکامات میں ملحوظ ہوتا ہے۔ 
اسی طرح یہ ضابطہ : الضرورات تبیح المحذورات: ضرورت، ممنوع چیز کو مباح بنا دیتی ہے۔
یہ ضابطہ بھی اکثر شرعی احکامات میں بوقت ضرورت جاری ہوتا ہے۔
یہ دومثالیں ہیں، اُن مقاصد کی جو عموماً تمام یا کم ازکم اکثر شرعی احکامات میں ملحوظ رکھے جاتے ہیں۔ 
(۲) مقاصد خاصہ:
اس سے مراد وہ اَہداف و غایات ہیں جنہیں شریعت خاص خاص اَبواب میں ملحوظ رکھتی ہے۔ مثلا نماز، روزہ ، حج ، زکوة، جہاد فی سبیل اللہ، عقوبات، دیات، معاملات وغیرہ وغیرہ ۔
تیونس کے مشہور عالم دین شیخ ا لاسلام طاہر ابن عاشور قدس اللہ سرہ نے ان مقاصد خاصہ کی درج ذیل تقسیم کی ہے:
گھریلو احکامات سے متعلق مقاصد شرعیہ
اَموال سے متعلق شرعی مقاصد
انسان اور انسانی بدن سے صادر ہونے والے اعمال سے متعلق مقاصد شرعیہ
قضاء اور شہادت(گواہی) سے متعلق شرعی مقاصد
تبرع ، ہدایا اور اِحسانات سے متعلق مقاصد
عقوبات سے متعلق مقاصد
(۳)مقاصد جزئیہ:
اس سے مراد وہ شرعی مقاصد ہیں جنہیں شارع کی طرف سے ہر حکم شرعی میں ملحوظ رکھا گیا ہو۔ مثلا کسی چیز کا واجب ہونا، کسی کا حرام ہونا، کسی کا مندوب ہونا، کسی کا مکروہ ہونا، کوئی چیز کسی حکم کے لیے شرط ہو اور کوئی چیز کسی حکم کے لیے سبب ہو وغیرہ وغیرہ۔
اس تیسری قسم سے عام طور سے فقہائے کرام بحث کرتے ہیں؛ کیوں کہ وہی حضرات شرعی جزئیات اور دقائق کو حل کرنے میں متخصص ہوتے ہیں؛ البتہ اُن کے ہاں ان مقاصد کے لیے اصطلاحی نام مختلف ہوتے ہیں؛ چنانچہ وہ کسی مقصد کو علت سے ، کسی کو حکمت سے اور کسی کو سبب اور شرط وغیرہ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ 
امام عزالدین بن عبد السلام قدس سرہ فرماتے ہیں :
من تتبع مقاصدَ الشرع فی جلب المصالح و درءِ المفاسد حَصَلَ لہ من مجموعِ ذلک اعتقادٌ او عرفانٌ بان ھذہ المصلحة لا یجوز إھمالھا و إن ھذہ المفسدة لا یجوز قربانھا و إن لم یکن فیھا إجماع و لا نص و لا قیاس خاص (قواعد الاحکام، ج۲، ص۱۲۰)
جو شخص بھی منافع کی تحصیل اور مفاسد کے دفعیہ میں شرعی مقاصد کو تہہ تک پہنچے گا تو اسے کامل یقین یا کم از کم قابلِ اطمینان معرفت اس بات کی حاصل ہو جائے گی کہ اُن مصالح کو بے کار چھوڑ دینا جائز ہے اور نہ ہی اُن مفاسد کے قریب جانا جائز ہے ، اگرچہ اس سلسلے میں نہ تو کئی اجماع ہو ، نہ ہی کوئی نص ہو اور نہ ہی کوئی خاص قیاس ہو۔
(باقی آئندہ)
$$$


علم المقاصد کی تاریخ وتدوین
ہر دینی علم و فن کی طرح یہ علم و فن بھی قرآن وسنت کے ضمن میں بکثرت موجود تھا؛ لیکن اسے باقاعدہ علمی حیثیت کافی مدت بعد حاصل ہوئی، اور اس کے اصول وقواعد کی تدوین و ترتیب مدت بعد ہوئی،اس علم وفن کی تاریخی حیثیت کو ہم چار اَدوار میں تقسیم کرسکتے ہیں:
(۱)     پہلا دور:
قرآن وسنت کے نزول کا دور ہے ، جس میں شرعی احکام نبی کریم… پر نازل ہورہے تھے اور بہت سے احکامات کی تفصیل وتبیین خود نبی کریم… اپنی سنت کے ذریعہ فرما رہے تھے، یہ دور اس علم و فن کا بالکل ابتدائی اور تولیدی دور کہلاسکتا ہے۔ گویا اس دور میں یہ علم وفن وجود پذیر ہورہا تھا۔ اس موقع پر مناسب معلو م ہوتا ہے کہ قرآن کریم سے کچھ مثالیں پیش کردی جائیں۔
چنانچہ روزوں کی فرضیت کے بیان میں اس کی حکمت وغایت اور مقصد وہدف بھی واضح کیا گیا ہے۔قرآن کریم میں ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ․ (البقرة:۱۸۳)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے والوں پر فرض کیے گئے تھے؛ تاکہ تمہیں تقویٰ حاصل ہو۔
اس آیت سے واضح ہے کہ روزے کا حکم حکیمانہ ہے، یعنی اس حکم ہے جس کی حکمت بھی ساتھ بیان کی گئی ہے اور یہی حکمت اس شرعی حکم کا مقصد کہلارہی ہے۔
اسی طرح نماز کے بیان میں بھی اس کے مقاصد کو واضح کیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ہے:
إِنَّ الصَّلوٰةَ تَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنکَرِ․ (العنکبوت:۴۵)
بے شک نماز فحاشی اور برائی سے سے روکتی ہے۔
معلوم ہوا کہ نماز کا ایک مقصد اور ہدف فحاشی سے اوربرائی سے باز رکھنا ہے؛ چنانچہ جس نماز سے یہ مقصد حاصل ہوگا وہ اس نماز کے کمال کی دلیل ہے اور جہاں یہ مقصد حاصل نہ ہورہا ہوتو گویا نماز کا وجود اور ڈھانچہ تو وہاں موجود ہے؛ لیکن روح سے خالی ہے۔
اسی طرح جہاد کی اجازت دیتے ہوئے قرآن کریم نے اس کے سبب اور مقصد کو بھی بتلایا ہے۔ قرآن کریم میں ہے:
أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا․ (الحج:۳۹)
جن کے ساتھ مشرکین نے لڑائی کی ہے، اب انھیں بھی لڑائی کی اجازت دی جارہی ہے کیوں کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے۔
اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے:
وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ لِلّہِ․ (البقرة:۱۹۳)
جب تک فتنہ ختم نہ ہو اور دین اللہ تعالیٰ کے لیے نہ ہوجائے تب تک ان مشرکوں سے لڑتے رہو۔
ان دوآیات میں جہاد کے سبب اور غرض وغایت کاصاف لفظوں میں بیان کیا گیا ہے اور یہی اسباب و اَہداف شرعی احکامات کے مقاصد کہلاتے ہیں۔
طالب علم پر یہ بات بھی واضح ہورہی ہوگی کہ ان مثالوں میں مقاصد شریعت کا بیان تو موجود ہے؛ لیکن اس کے باقاعدہ اصول وضوابط موجود نہیں، جیسا کہ عام طور سے اہلِ علم کسی بھی علم کو مدون کرتے وقت اس کے لیے قواعد و ضوابط بیان کرتے ہیں؛ اس لیے ہم نے کہا کہ اس علم و فن کی بنیاد تو قرآن و سنت میں ہی ہے؛ لیکن اس کی باقاعدہ تدوین بعد میں ہوئی، یہ پہلا دور توصرف اس علم وفن کے وجود کی ابتداء کا دور ہے۔
(۲)    دوسرا دور
نت نئے مسائل وحوادث کے شرعی احکامات کی تخریج کے لیے اہلِ علم نے جب فقہ کے ساتھ ساتھ اصولِ فقہ بھی مدون کرنا شروع کیا تو اصولِ فقہ ہی کے ضمن میں مقاصدِ شریعت کو بیان کیا جانے لگا، اس دور میں مقاصدِ شریعت کے کچھ قواعد و ضوابط مقرر تو ہوئے؛ لیکن وہ مستقلاً نہیں تھے؛ بلکہ اصولِ فقہ ہی کے قواعد وضوابط شمار ہوتے تھے؛ چنانچہ ”علت، حکمت، سبب، شرط “ وغیرہ کے مباحث جو اصولِ فقہ کے اہم مباحث میں شمار ہوتے ہیں یہی مباحث مقاصدِ شریعت سے بھی بہت گہرا ربط و تعلق رکھتے ہیں۔
(۳)    تیسرا دور
جب علمائے کرام نے اصولِ فقہ کے ذیل میں اس علم وفن کو ایک مستقل بحث کی شکل دی یا اصولِ فقہ سے الگ کرکے اسے باقاعدہ علم وفن کی شکل میں پیش کیا۔ یہ دور تقریباً امام الحرمین ابو المعالی الجوینی(متوفیٰ۴۷۸ھ)سے شروع ہوتا ہے جنہوں نے اپنی کتاب ”البرہان فی أصول الفقہ“ میں مستقل اس بحث کو جگہ دی اور عنوان قائم کیا:
”کتاب فی تقسیم العلل و الأصول التی بہا تظہر المقاصد و یکشف عن المصالح“
اُن علل اور اصولوں کی تقسیم کا بیان جن کے ذریعے مقاصد شریعت ظاہر ہوتے ہیں اور مصالحِ شرعیہ سے پردہ اٹھتا ہے، شاید ایسے ہی منفرد مباحث کی وجہ سے امام تاج الدین عبدالوہاب بن علی بن عبدالکافی السبکی الشافعی (متوفیٰ۷۷۱ھ)نے اس کتاب بارے یہ شاندار تبصرہ کیا ہے کہ:
وضع امام الحرمین فی أصول الفقہ کتاب البرہان علی أسلوب غریب لم یقتد فیہ بأحد (طبقات الشافعیة للسبکی․ ج۵،ص۱۹۲)
امام الحرمین نے اصول فقہ میں ایسی کتاب تحریر کی ہے جو بالکل ہی منفرد ہے اور اس میں انھوں نے کسی کی بھی تقلید نہیں کی(یعنی مباحث کی جدت اور اسلوب کی ندرت ایسی ہے جو ان سے پہلے کی لکھی ہوئی اس موضوع کی کتابوں میں نہیں ملتیں)
ان کے بعد ان کے شاگرد امام غزالی(متوفیٰ۵۰۵ھ) کا دور آتا ہے اور انھوں نے بھی اپنے کمالِ علمی سے اس علم و فن کی تدوین اور ترویج میں مثالی حصہ لیا؛ چنانچہ ان کی کتابوں میں ”شفاء الغلیل“، ”المنخول“ اور ”المستصفی“میں اس موضوع کے مباحث جابجا بکھرے ہوئے ہیں اوربلاشبہ وہ بہت ہی عمدہ ہیں۔
پھر ایک عرصے بعد جلیل القدر عالم شیخ عزالدین بن عبد السلام (متوفیٰ۶۶۰ھ) کا دور آتا ہے اور انھوں نے اس علم وفن کو گویا بالکل ہی نئی زندگی بخش دی اور ان کی تالیفات سے یہ علم و فن علماء کے حلقوں میں خوب گردش کرنے لگا؛ چنانچہ ان کی کتاب ”قواعد ا لاحکام فی مصالح الانام“ گویا اس علم و فن کی ابتدائی مستقل کتابوں میں شمار کی جانے لگی ۔
بعد ازاں ان کے شاگرد امام شہاب الدین قرافی (متوفیٰ۶۸۵ھ) نے اپنے شیخ کی پیروی کرتے ہوئے اس علم و فن کے قواعد و ضوابط کی تحریر وترتیب پر توجہ مبذول کی؛ چنانچہ ان کی اکثر کتابوں میں اس موضوع کی جھلک موجود ہے؛ مگر خصوصاً ”الفروق“ میں تو یہ علم وفن پوری شان سے جھلک رہا ہے ۔
اسی طرح اپنے وقت میں جلیل القدر امام شیخ الاسلام ابن تیمیہ (متوفیٰ۷۲۸ھ) جو ہر علم وفن میں مثالی مہارت رکھتے تھے، انھوں نے بھی اپنی تحریرات میں اس علم وفن کی مباحث کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، اگرچہ وہ سب مباحث ان کی تالیفات میں بکھری ہوئی ہیں؛ لیکن بہر حال ان کی تحریرات میں اس علم کا استعمال خوب ہوا ہے۔
یہی حال ان کے شاگرد امام ابن قیم(متوفیٰ۷۵۱ھ)کا ہے، انھوں نے بھی اپنے استاذ سے اس علم وفن کی مباحث کو حاصل کرنے کے بعد اسے خوب نکھارا ہے، خصوصاً ان کی کتاب ”اِعلام الموٴقّعین عن رب العالمین“ اس علم کی مباحث سے لبریز ہے؛ چنانچہ اس میں صاف صاف تحریر فرماتے ہیں:
الشریعة مبناھا و أساسھا علی الحِکَمِ و مصالح العباد فی المعاش والمعاد وھی عدل کلھا و رحمة کلھا و مصالح کلھا و حکمة کلھا فکل مسئلة خرجت عن العدل الی ا لجور و عن الرحمة الی ضدھا و عن المصلحة الی المفسدة و عن الحکمة الی العبث فلیس من الشریعة و ان ادخلت فیھا بالتاویل
شریعت کی اساس اوربنیاد حکمتوں اور بندے کی دنیاوی اور اخروی مصلحتوں پر قائم ہے؛ چنانچہ اسلامی شریعت سراپا عدل ورحمت اور حکمتوں ومصلحتوں سے لبریز ہے؛ اسی لیے ہر وہ مسئلہ جو عدل کے بجائے ظلم، رحمت کے بجائے غضب ، مصلحت کے بجائے فساد اور حکمت کے بجائے فضولیات کی طرف لے جانے والا ہو وہ شرعی حکم نہیں ہوسکتا، اگرچہ اسے تاویل سے شریعت میں داخل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ان سب کے بعد آٹھویں صدی ہجری میں امام شاطبی (متوفیٰ۷۹۰ھ) آتے ہیں اور اپنے خدادداد کمال علمی سے اس علم و فن کو باقاعدہ منضبط کرکے اس علم و فن کے ”شیخ“ قرار پاتے ہیں۔ اس موضوع پر ان کی مستقل کتاب ”الموافقات فی أصول الشریعة“ میں اسی علم وفن کے مبادی و مباحث کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے حتی کہ مزید توضیح کے لیے اس کتاب میں ”کتاب المقاصد“ کے عنوان سے باقاعدہ ایک الگ بحث شامل کی ہے
چنانچہ شیخ الاسلام امام طاہر ابن عاشور مالکی تیونسی (متوفیٰ۱۳۹۳ھ) ان کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:
”و الرجل الفذ الذی أفرد ھذا الفن بالتدوین ھو أبو اسحاق ابراہیم بن موسی الشاطبی المالکی“(مقاصد الشریعة الاسلامیة لابن عاشور)
وہ باکمال انسان جس نے اس علم کو مدون کرکے مستقل شکل دی امام ابو اسحاق ابراہیم بن موسی شاطبی مالکی ہیں۔
(۴)    چوتھا دور
یہ عصرِحاضر اور اس سے کچھ ہی ماضی قریب کا دور ہے۔ اس دور میں یہ علم وفن دوبارہ زندہ ہوا اور مشرق ومغرب کے متعدد اہلِ علم نے اس علم کو اپنی توجہات کا مرکز بنایا ، جن میں عبد اللہ دراز مصری خاص طور سے شمار ہیں جنہوں نے امام شاطبی کی الموافقات کو اپنی تحقیق وتعلیق کے ساتھ شائع کرکے اہلِ علم پر بڑا احسان کیا، اسی طرح علمائے مغرب میں سے مالکی شیخ الاسلام تیونسی عالم دین شیخ طاہر ابن عاشور اور شیخ علال الفاسی نے اس علم کے احیاء وترویج میں بنیادی وابتدائی حصہ ڈالا؛ چنانچہ اس وقت اہلِ اسلام میں بہت سے اہل علم اس علم کی خدمت میں مشغول ہیں اور روز بروز اس علم کی طرف توجہ اور ضرورت بڑھتی ہی جارہی ہے۔
شاہ ولی اللہ ، حجة اللہ البالغة اور علمائے دیوبند
مقاصدِ شریعت پر عبور رکھنے والے علماء میں ہمارے ہندوستانی عالمِ دین مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نام شامل کیے بغیر شاید اس علم کی تاریخ مکمل ہی نہ ہوسکے۔ آپ کی مایہ ناز کتاب ”حجة اللہ البالغہ“ نے اس علم کو بہت سی نئی جہات عطاء کیں اور اس اخیر  دور میں عرب وعجم کے متعدد علمائے کرام نے اس علم و فن کے سمجھنے اور اس میں رسوخ وکمال حاصل کرنے کے لیے اس کتاب سے ہی بنیادی رہنمائی لی ہے اور محققین کا کہنا یہ ہے کہ یہ کتاب اس موضوع پر لکھی جانے والی متقدمین کی تمام کتابوں سے فائق اور مفید تر ہے۔
چنانچہ ہمارے ہاں ہندوستان میں شاہ صاحب کے بعد ان کے علمی جانشین حلقوں میں علمائے دیوبند نے اس کتاب پر توجہ مبذول رکھی اور حجة الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ نے اپنی تحریرات میں اس علم و فن سے بے حد نفع اٹھایا اور اس علم کی مباحث کو معقولات کے دائرے سے نکال کر محسوسات کے دائرے میں داخل کردیا۔
الغرض حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے بعد علمائے دیوبند میں اس علم وفن کے ماہرین میں چار شخصیات کانام بالکل نمایاں ہے اوران کی تحریرات پڑھنے سے علم ومعرفت کے نئے در واہوتے ہیں:
حجة الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی(متوفیٰ۱۲۹۷ھ)
شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی(متوفیٰ۱۳۶۹ھ)
حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی(متوفیٰ۱۳۶۲ھ)
حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمی(متوفیٰ۱۴۰۳ھ)
علم المقاصد کی چند اہم کتابیں
بات کو مزید آگے بڑھانے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس موضوع کی چند اہم ترین کتابوں کا تذکرہ کر دیاجائے:
قواعد الاحکام فی مصالح الانام، للشیخ عزالدین بن عبد السلام الدمشقی
الموافقات فی اصول ا لشریعة، للامام ابی اسحاق ابراہیم الشاطبی
مقاصد الشریعة الاسلامیة، للشیخ الامام محمد الطاہر ابن عاشور المالکی التیونسی
حجة اللہ البالغة، للامام الشاہ ولی اللہ المحدث الدہلوی
مقاصد الشریعة الاسلامیة ومکارمہا، للشیخ علّال الفاسی المغربی
ضوابط المصلحة فی الشریعة الاسلامیة، للشیخ محمد سعید رمضان البوطی
نظریة المقاصد عند الامام الشاطبی، للشیخ احمد الریسونی
نظریة المصلحة فی الفقہ ا لاسلامی، للشیخ حسین حامد حسان
المقاصد العامة للشریعة الاسلامیة، للدکتور یوسف العالم
نظریة المقاصد عند الامام محمد الطاہر ابن عاشور، للدکتور اسماعیل حسنی
الشاطبی و مقاصد الشریعة، للحمادی العُبیدی
المقاصد و علاقتہا بالادلة الشرعیة، للشیخ محمد سعد الیوبی
المختصر الوجیز فی مقاصد الشریعة، للشیخ عوض بن محمد القرنی
مقاصد شریعت کی مباحث کہاں کہاں موجود ہوتی ہیں یا ہوسکتی ہیں؟
یہ بات پہلے عرض کی تھی کہ متقدمین اہلِ علم کے ہاں مقاصدِ شریعت کے مباحث عموماً اصول فقہ کے ضمن میں بیان ہوتے تھے اور اب بھی اصولِ فقہ میں ان مباحث کو مختلف مقامات پر بیان کیا جاتا ہے؛ چنانچہ شیخ نور الدین الخادمی کے بیان کے مطابق مندرجہ ذیل وہ مقامات ہیں جہاں مقاصدِ شریعت کے مباحث موجود ہوتے ہیں یا اہلِ علم ان مباحث کو وہاں درج کر سکتے ہیں:
۱-          مباحث القیاس.
۲-          مباحث الاستحسان.
۳-          مباحث المصلحة المرسلة.
۴-          مباحث العرف.
۵-          مباحث الذرائع سداً وفتحاً.
۶-          مباحث الأحکام الشرعیة (العلل، الحسن والقبح، وشروط التکلیف).
۷-مباحث القواعد الشرعیة.
۸-          مباحث السیاسة الشرعیة.
۹-          مباحث نصوص الأحکام. (آیات وأحادیث الأحکام)
۱۰-مباحث التعارض والترجیح بالمقصد .
۱۱-مباحث الخلاف الفقہی.
۱۲-مباحث مفاہیم الموافقة والمخالفة.
۱۳-مباحث الدراسات الإسلامیة المعاصرة، والتی تتعلق أساساً بإبراز الأہداف والخصائص والقیم الإسلامی العامة.
۱۴-مباحث الدراسات الشرعیة والقانونیة والفکریة ذات الصلة بالمقاصد والمصالح الشرعیة.
یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ عموماً علمائے مقاصدِ شریعت کے یہاں حکمت، علت اور مصلحت کے الفاظ ہم معنی ہوتے ہیں ، اگرچہ علمائے اصولِ فقہ ان میں فرق کرتے ہیں۔

$$$



**********************************

اسلامی نظام نکاح کے مقاصد
اسلام دین فطرت ہے اور اس کا سب سے بڑا امتیاز وہ روح اعتدال ہے جو اس کی ہر تعلیم او رہر حکم میں جلوہ گر نظر آتی ہے ، انسان میں موجود فطری، خلقی او رجنسی احساسات وجذبات کی تسکین اورتکمیل کے لیے اسلام نے انتہائی مرتب، جامع اور حکیمانہ ازدواجی نظام متعین کیا ہے، اسلام نہ تو جنسی لذت کو اصل مقصود حیات قرار دیتا ہے اور نہ اس جذبے کو شر محض قرار دے کر اس کی بیخ کنی چاہتاہے، افراط وتفریط کی ان دونوں انتہاؤں سے اسلام کا دامن پاک ہے اور اس کا معتدل نظام ازدواج اس پر شاہد عدل ہے ، اسلام کے اس نظام کی ایک جھلک اس آیت مبارکہ میں دیکھی جاسکتی ہے: ﴿ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودة ورحمة﴾․ (الروم:21)

ترجمہ: الله کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں ، تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اورر حمت پیدا کردی۔

اس آیت میں واضح فرما دیا گیا ہے کہ ازدواجی زندگی کا اصل مقصود اوراس نظام کی سب سے بڑی برکت سکون دل او رراحت قلب کی دولت گراں مایہ ہے، نکاح کو ذریعہ محبت ورحمت بنایا گیا ہے ، جس کے معنی یہ ہیں کہ مردوزن کا ازدواجی ربط صرف مذہبی اور قانونی ہی نہیں ہوتا، بلکہ قلبی اور طبعی بھی ہوتا ہے ۔ مفسرین کے بقول محبت کا تعلق زمانہ شباب سے اور رحمت کا تعلق بڑھاپے سے ہوتا ہے۔ شباب کے عالم میں مردوزن محبت کی راہ پر چلتے ہیں او ربڑھاپے میں یہ محبت طبعی رحمت وترحم میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اور حضرت ابن عباس کے بقول آیت مذکورہ میں محبت ومودت کے جائز طریقے سے جنسی خواہش کی تسکین کی طرف اور رحمت سے اولاد کی طرف اشارہ ہے۔ ( تفسیر قرطبی:17/14)

اس میں کوئی شک نہیں کہ حیات انسانی میں سکون سب سے بیش قیمت دولت ہے اور اس دولت کا حصول نکاح کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ارشاد ربانی ہے: ﴿ھو الذی خلقکم من نفس واحدة وخلق منھا زوجھا لیسکن الیھا﴾․ ( الاعراف:189)

ترجمہ: وہ الله ہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا، تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔

غور کیا جائے تو نکاح کی معنویت کے اظہار کے لیے سکون سے زیادہ جامع کوئی لفظ ہو ہی نہیں سکتا، جس کے ذیل میں قلبی، طبعی، ذہنی ، جسمانی ، دماغی ، جنسی وصنفی ہر قسم کا سکون آجاتا ہے او راسی کو سورة الفرقان میں ﴿قرة اعین﴾ (آنکھوں کی ٹھنڈک) سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اہل ایمان کے اوصاف میں ان کی یہ دعا بھی مذکور ہے : ﴿ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرة أعین﴾․

ترجمہ: اے ہمارے پروردگار ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ اسی کو حدیث پاک میں:”لم یرللمتحابین مثل النکاح“․ ( دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح سے بہتر اور کوئی چیز نہیں دیکھی گئی۔) کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔

اسلام کا نظام نکاح انسان کے شہوانی جذبات کو بے لگام او ربے مہار ہونے سے بچاتا ہے اور بے شمار برائیوں اور مفاسد سے روکتا ہے ، اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ مردوعورت کے اخلاق وپاکیزگی کا تحفظ ہو۔ نسل انسانی کی بقا او رافزائش ہو۔ سکون ومحبت پیدا ہو۔ دینی اور معاشرتی مصالح کی رعایت کی جائے۔ اسی لیے اسلام اپنے ہر پیروکار کو نکاح کی تاکید وترغیب دلاتا ہے اور بے نکاحی زندگی سے شدت سے روکتا ہے ۔ ذیل میں ہم اسلام کی ان تاکیدی وترغیبی تعلیمات کا خلاصہ پیش کررہے ہیں۔

نکاح کی تلقین وتاکید
قرآن کریم میں اہل ایمان کو حکم دیاجارہا ہے :﴿فانکحوا ماطاب لکم من النساء﴾․ ( النساء:3)
ترجمہ: جو عورتیں تمہیں پسند آئیں تم ان سے نکاح کرو۔

حضرت امام بخاری نے ” باب الترغیب فی النکاح“ (نکاح کی ترغیب کا بیان) کے عنوان سے ایک مستقل باب ذکر فرمایا ہے او راس کے ذیل میں مذکورہ آیت سے استدلال کیا ہے ۔ بقول حافظ ابن حجر : فانکحوا (نکاح کرو) امر کا صیغہ ہے، جس کا کم سے کم درجہ استحباب کا ہے ، اس سے نکاح کی ترغیب ثابت ہوتی ہے۔ ( فتح الباری:104/9)

حضرت عبدالله بن مسعود رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:”یا معشر الشباب، من استطاع منکم الباء ة فلیتزوج، فانہ اغض للبصر واحصن للفرج، ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم، فانہ لہ وجاء“․( صحیح بخاری، کتاب النکاح)

ترجمہ: اے جوانو! تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ ضرور نکاح کر لے ، کیوں کہ اسی سے نگاہ میں احتیاط آتی ہے اور شرم گاہ کی حفاظت ہوتی ہے او رجو حقوق زوجیت ادا کرنے پر قادر نہ ہو وہ روزے رکھے کیوں کہ روزہ شہوت توڑنے کا ذریعہ ہے ۔

اس حدیث کے ذیل میں محدثین وفقہاء نے نکاح کے شرعی حکم کی تفصیل ذکر کی ہے، اس سلسلہ میں ایک بحث اس سے متعلق ہے کہ نکاح عبادات کے باب سے ہے یا مباحات کے باب سے ؟ حضرات احناف وحنابلہ نکاح کو عبادات میں شمار کرتے ہیں ۔ حضرات شافعیہ نکاح کو مباحات میں شمارکرتے ہیں۔ حضرات مالکیہ ایک قول کے مطابق یہ فرماتے ہیں کہ نکاح اقوات میں سے ہے، قوت اس چیز کو کہتے ہیں جس کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے اور نکاح ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ نکاح تفکہات کی قبیل سے ہے اور فواکہ کی شان یہ ہوتی ہے کہ استعمال ہوں تو بہت بہتر ، نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح نکاح ہو تو بہت بہتر ، نہ ہو توکوئی حرج نہیں ہے۔ ( کشف الباری شرح بخاری: کتاب النکاح)

اسی طرح حضرات احناف وحنابلہ کے نزدیک نوافل میں اشتغال کی بہ نسبت نکاح افضل ہے ، جب کہ حضرات شافعیہ کے نزدیک نوافل کا اشتغال نکاح سے زیادہ افضل ہے ۔ امت کے تقریباً تمام علماء وفقہاء غلبہ شہوت اورمبتلائے زنا ہونے کے اندیشہ کی صورت میں نکاح کو لازم قرار دیتے ہیں، ہاں! اگر یہ غلبہ وخدشہ نہ ہو اور عام نارمل حالات ہوں تو فقہا کے اقوال مختلف ہیں۔

ابن حزم ظاہری، ابوداؤد ظاہری وغیرہ عام حالات میں بھی نکاح کو فرض ولازم قرار دیتے ہیں اور استدلال یہ کرتے ہی کہ زنا سے بچنا فرض ہے اور یہ بچاؤ نکاح کے بغیر نہیں ہو سکتا ، اس لیے نکاح بھی فرض ہو گا۔ (المبسوط للسرخسی:193/4) دیگر فقہاء عام حالات میں نکاح کو سنت یا مستحب یا مباح قرار دیتے ہیں۔

مسلک حنفی میں اس کی تفصیل حسب ذیل ہے :
شوہر جسمانی ومالی ہر دو لحاظ سے حقوق زوجیت کی ادائیگی پر قادر ہو ، مہر اور نفقہ دے سکتا ہو اور نکاح نہ کرنے کی صورت میں اسے مبتلائے زنا ہو جانے کا یقین بھی ہو ، تو اس پر نکاح فرض ہے ۔

حقوق کی ادائیگی پر قادر ہو اور بے نکاح رہنے پر ابتلائے زنا کا یقین نہ ہو، بلکہ اندیشہ وخدشہ ہو او راس کی شہوت مشتعل بھی ہو تو اس پر نکاح واجب ہے۔

حقوق زوجیت ادا کرسکتا ہو اور اس کی صورت میں معتدل اور نارمل ہو، نہ شہوانی جذبات غالب ہوں اور نہ وہ سردمہری کا شکار ہو تو اس کے لیے نکاح سنت مؤکدہ ہے ، تحفظ عفت اور طلب اولاد صالح کی نیت سے نکاح پر اسے اجر ملے گا او رنکاح نہ کرنے کی صورت میں ترک سنت کی وجہ سے وہ گنہگار ہو گا۔

اگر مرد کو یہ خدشہ ہو کہ نکاح کی صورت میں وہ بیوی کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرے گا تو نکاح مکروہ تحریمی ہے۔

او راگر مرد کو کسی وجہ سے نکاح کی صورت میں عورت پر ظلم اوراس کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ او راس کی حق تلفی کا یقین ہو ، تو اس کے لیے نکاح حرام وناجائز ہے۔

اگر مرد کو نکاح نہ کرنے کی صورت میں مبتلائے زنا ہونے کا اور نکاح کرنے کی صورت میں عورت پر ظلم وحق تلفی کا یقین ہو تو راجح قول کے مطابق اس کے لیے نکاح حرام ہو گا۔ ( الفقہ الاسلامی وادلة:32/7)

نکاح سنت انبیاء ورسل ہے
اسلام نے نکاح کی ترغیب وتاکید اس انداز سے بھی فرمائی ہے کہ اسے انبیاء علیہم السلام کی عام سنت بتایاہے۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ ﴿ولقد ارسلنا رسلا من قبلک، وجعلنا لھم ازواجا وذریة﴾․ (الرعد:38)

ترجمہ: آپ سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا ۔ بقول امام قرطبی : یہ آیت کریمہ نکاح کی ترغیب وتاکید کر رہی ہے اور بے نکاحی زندگی سے روک رہی ہے اور نکاح کو پچھلے رسولوں کی سنت قرار دے رہی ہے ۔ حضرت عائشہ  رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں : ” النکاح من سنتی ، فمن لم یعمل بسنتی فلیس منی، وتزوجوا فانی مکاثر بکم الامم، ومن کان ذا طول فلینکح ، ومن لم یجد فعلیہ بالصیام؛ فان الصوم لہ وجاء“․ ( صحیح ابن ماجہ للألبانی:310/1)

ترجمہ: نکاح میری سنت ہے ، جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے ( میرے طریقے پر ) نہیں ہے ، تم شادیاں کرو، میں دیگر امتوں پر تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا، جو بھی وسعت رکھتا ہو ضرور نکاح کرے ،جو وسعت نہ رکھتا ہو تو روزں کا اہتمام کرے، روزہ اس کے زور شہوت کو توڑ دے گا۔

اس حدیث پاک میں سنت سے مراد طریقہ ہے اور حدیث کے معنی یہ ہیں کہ جو نکاح نہیں کرتا وہ پیغمبرانہ طریقہ کو چھوڑ کر اور اتباع واطاعت کے بجائے رہبانیت اور ترک دنیا کا غیر شرعی طریقہ اپناتا ہے۔ (نیل الاوطار شوکانی:117/6)

حضرت عکاف بن دواعہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے ، آپ صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا: عکاف کیا تمہارے پاس بیوی ہے ؟ جواب دیا نہیں۔ آپ نے پوچھا باندی؟ جواب دیا نہیں۔ پوچھا جسمانی اعتبار سے تندرست ہو؟ جواب دیا ہاں۔ پوچھا مالی وسعت ہے ؟ جواب دیا ہاں۔ آپ نے فرمایا: ” فانت اذا من اخوان الشیاطین، ان کنت من رھبان النصاری فالحق بھم، وان کنت منا فاصنع کما نصنع، فان من سنتنا النکاح، شرارکم عزابکم، وان ارذل موتاکم عزابکم“ ․( الفقہ الاسلامی وادلتہ:36/7)

ترجمہ: تب تو تم شیطان کے بھائی ودوست ہو ، اگر تم عیسائی راہبوں میں سے ہو تو انہیں سے جاملو اور اگر ہم میں سے ہو تو ہمارے طریقے پر چلو، ہماری سنت نکاح ہے ، تم میں بدترین وہ ہیں جو بے نکاح ہیں اور جوبے نکاح مر گئے وہ بدترین مردے ہیں۔

دنیا کی سب سے بہتر متاع
اسلام نے نکاح کو دنیا کی سب سے بہتر متاع کے حصول کا ذریعہ قرار دے کر نکاح کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا ہے ۔ حضرت عبدالله بن عمر آپ صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں :” الدنیا متاع، وخیر متاع الدنیا المرأة الصالحة“․(صحیح مسلم، باب الوصیة بالنساء)

ترجمہ: دنیا ایک متاع ہے اور دنیا کی سب سے بہتر متاع ودولت نیک بیوی ہے۔ اسی مضمون کو ایک دوسری حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے : ”اربع من اعطیھن، فقد اعطی خیر الدنیا والآخرة: قلباشاکراً، لسانا ذاکراً، وبدنا علی البلاء صابرا، وزوجة لا تبغیہ خونا فی نفسھا ومالہ“․ ( الترغیب والترہیب للمنذری:41/3)

ترجمہ: چار چیزیں جسے دی جائیں اسے دنیا وآخرت کی ہر خیر مل گئی ہے : شکر وسپاس کے جذبات سے لبریز دل۔ ذکرالہٰی سے تر زبان۔ مصائب پر صبر کرنے والا جسم ۔ ایسی نیک بیوی جو اپنی عزت وآبرو اور شوہر کے مال کے معاملہ میں کوئی خیانت گوارہ نہ کرے۔

حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ جب قرآن میں:﴿والذین یکنزون الذھب والفضة﴾ والی آیت اتری، جس میں سونے چاندی اور دولت کا ذخیرہ جمع کرنے اور زکوٰة ادا نہ کرنے والوں کے انجامِ بد کاذکر ہے تو اس وقت دورانِ سفر بعض صحابہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا مال بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا: ”افضلہ لسان ذاکر، وقلب شاکر، وزوجة مؤمنة تعینہ علی ایمانہ“․ (ترمذی شریف، کتاب النکاح)

ترجمہ: سب سے بہتر مال ذکر والی زبان، شکر والا دل اور شوہر کے ایمان میں مدد گار صاحب ایمان بیوی ہے۔

لباس زندگی
قرآن میں عورتوں کو مردوں کے لیے او رمردوں کوعورتوں کے لیے لباس زندگی بتایا گیا ہے ۔ارشاد ہے:﴿ھن لباس لکم وانتم لباس لھن﴾․ (البقرة:187)

ترجمہ: وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو ۔

یہ قرآنی تعبیر نکاح کی اہمیت اور مقصدیت کا انتہائی جامع، بلیغ اور معنی خیز بیان ہے ، لباس کا لفظ اپنے جلو میں اس موقعِ استعمال میں بے حد معنویت رکھتا ہے ۔

لباس کا پہلا مقصد پردہ پوشی ہے ، وہ انسان کے جسم کے لیے ساتر ہوتا ہے ، بالکل اسی طرح نکاح کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کے پردہ پوش ہو جاتے ہیں ، جذبات کا ہیجان بالکل طوفانی ہوتا ہے اور نکاح نہ ہو تو یہ ہیجان بگاڑ پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، انسانی نفس کے عیوب کی پردہ پوشی بیوی کے لیے شوہر کے ذریعہ سے اور شوہر کے لیے بیوی کے ذریعہ ہی سے ہو سکتی ہے ، عفت مآبی اور حیا کے لیے نکاح سب سے اہم چیز ہے اور حیا باطن کا اصل لباس ہے او رحیا کو حاصل کرنے میں شوہر کو بیوی سے اور بیوی کوشوہر سے جو تعاون ملتا ہے وہ کسی اور چیز سے نہیں ملتا۔

لباس کا دوسرا مقصد زینت وآرائش ہے ، لباس کے ذریعے انسان زینت وجمال اور سلیقہ وشائستگی سے اپنے کو آراستہ کرتا ہے ، غور کیا جائے تو یہ چیز او رزیادہ وسعت کے ساتھ شوہر وبیوی کو ایک دوسرے سے حاصل ہوتی ہے، ازدواجی تعلق کی برکت سے ہی خانگی زندگی کی تمام رونقیں، بہاریں اور آرائشیں حاصل ہوتی ہیں۔

لباس کا تیسرا مقصد سردوگرم اور دیگر خطرات سے حفاظت ہے، اخلاقی اعتبار سے دیکھا جائے تو ازدواجی زندگی مرد وعورت دونوں کو شہوانیت، حیوانیت اور شیطانیت کے تمام حملوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

قرآن کی یہ تعبیر” کہ عورتیں لباس زندگی ہیں“ اس قدر جامع ہے کہ اس سے یورپ کا یہ الزام خود بخود پادر ہوا ہو جاتا ہے کہ اسلام عورت کی تحقیر کرتا ہے ، اس الزام سے بڑا جھوٹا الزام اور کیا ہو سکتا ہے ؟ کسی اور مذہبی تعلیم میں میاں بیوی کے باہمی اعتماد، مودت وتعلق کے لیے اسلام کی اس تعلیم کے درجے کی کوئی چیز ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی ، یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ وہ مرد وزن کو دوسرے کا لباس حیات بتا کر نکاح کی باعفت زندگی گزارنے کی تلقین وتائید فرماتا ہے۔

دین کی تکمیل
نکاح کی ترغیب وتاکید کے تعلق سے یہ حدیث نبوی بڑی اہمیت کی حامل ہے :”من رزقہ الله امرأة صالحة، فقد اعانہ علی شطر دینہ، فلیتق الله فی الشطر الباقی“․ ( المستدرک:161/2)

ترجمہ: جسے الله نیک بیوی عطا فرمائے تو اس کا نصف دین مکمل ہو جاتا ہے ، پھر باقی نصف کے بارے میں اسے الله سے ڈرنا ہے۔

مزید ارشاد ہے:”اذا تزوج العبد فقد استکمل الدین، فلیتق الله فی النصف الباقی“․ ( الترغیب والترہیب:42/3)

ترجمہ: جب بندہ شادی کر لیتا ہے تو وہ اپنا نصف دین مکمل کر لیتا ہے ، پھر اسے باقی نصف کے بارے میں الله سے ڈرنا چاہیے۔

واقعہ یہ ہے کہ بالعموم گناہوں کا صدور وارتکاب منھ اور شرم گاہ سے ہوتا ہے ، اس لیے ان کی حفاظت پر جنت کی ضمانت ہے ۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے : ”من وقاہ الله شر اثنتین ولج الجنة: مابین لحییہ، ومابین رجلیہ“․ (تفسیر قرطبی:327/9 بحوالہ مؤطا)

ترجمہ: جسے الله جبڑوں کے درمیان کی چیز زبان اور پیروں کے درمیان کی چیز شرم گاہ کے شر سے بچا لے وہ جنت میں جائے گا۔

جب انسان نکاح کر لیتا ہے تو شرم گاہ کے شر سے عموماً محفوظ ہو جاتا ہے ، اب اسے صرف منھ کے شر سے اپنی حفاظت کرنی ہے ، گویا اس نے معصیت کا ایک دروازہ بند کرکے آدھا دین مکمل کر لیا، اب اسے منھ کی حفاظت کرکے معصیت کا دوسرا دروازہ بند کرنا اور باقی آدھے دین کو مکمل کرنا ہے ، اسی لیے حضرت طاؤس کا فرمان ہے:”لا یتم نسک الشاب حتی یتزوج“․ ( مصنف ابن ابی شیبہ:127/4)

ترجمہ: نوجوان کی عبادت نکاح کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی۔

بیوی کے ساتھ جنسی تسکین کااجر
ازدواجی زندگی میں زن وشوہر کے جنسی تعلقات پر جو اجروثواب من جانب الله عطا ہوتا ہے اس کو بیان کرکے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ہر مسلمان کو نکاح کی ترغیب مؤثر انداز میں فرمائی ہے۔

حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”وفی بضع احدکم صدقة، قالوا: یا رسول الله! أیأتی احدنا شھوتہ، ویکون لہ فیھا اجرہ؟ قال: أرأیتم لو وضعھا فی حرام أکان علیہ فیھا وزر؟ فکذلک اذا وضعھا فی حلال کان لہُ اجر“․ ( صحیح مسلم)

ترجمہ: تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے قضاءِ شہوت کرے تو اس میں صدقہ جیسا ثواب ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرے او راس پر ثواب بھی پائے! آپ ا فرمایا: یہ بتاؤ کہ جب شرم گاہ کے حرام استعمال پر گناہ ملتا ہے تو جائز استعمال پر ثواب کیوں نہ ملے گا؟

بے نکاحی زندگی سے ممانعت
اسلام نے اپنے متبعین کو بے نکاحی زندگی او رتجرد سے شدت سے منع کیا ہے ، خواہ یہ تجر دنوافل وعبادات میں اشتغال وانہماک کی نیت ہی سے کیوں نہ ہو ۔

حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ چند صحابہ کرام نے باہم طے کیا کہ وہ اپنی جنسی شہوت کو کسی تدبیر سے ختم کر دیں گے اور دنیا کی لذتوں اور شہوتوں سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور عیسائی راہبوں کی طرح دنیا میں گشت لگاتے رہیں گے۔ یہ بات جب آپ صلی الله علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان صحابہ کو بلایا اور فرمایا کہ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، رات میں سوتا بھی ہوں او رعبادت بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، یہی میرا طریقہ ہے اور جو میرے طریقے کو اپنائے وہ مجھ سے ہے اور جونہ اپنائے وہ مجھ سے نہیں ہے ، پھر انہیں لوگوں کے بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی :﴿ یایھا الذین آمنوالا تحرموا طیبات ما احل الله لکم ولا تعتدوا، ان الله لا یحب المعتدین﴾․ ( المائدة:87)

ترجمہ: اے ایمان والو! جو پاک چیزیں الله نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرو او رحد سے تجاوزمت کرو، الله کو حد سے تجاوز کرنے والے پسند نہیں۔ ( ملاحظہ ہو : تفسیر ابن کثیر:87/2)

اسی سے ملتا جلتا دوسرا واقعہ یہ بھی ہے کہ تین صحابہ آپ ا کی عبادت کا حال ازواجِ مطہرات سے معلوم کرنے آئے، پھر انہوں نے نے یہ طے کیا کہ رات بھر نمازیں پڑھیں گے ، ہمیشہ روزے سے رہیں گے اور عورتوں سے الگ رہیں گے، آپ انے ان سے فرمایا:” أما والله، انی لا خشاکم لله، واتقاکم لہ، لکنی اصوم وأفطر، وأصلی وأرقد، وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتی فلیس منی“․ ( بخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب)

ترجمہ: سنو! بخدا میں تم میں سب سے بڑھ کر الله سے ڈرنے والا او رپرہیز گار ہوں ، مگر میں روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، جو میرے اس طریقے سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہے۔

حضرت سعد بن وقاص کا بیان ہے کہ ایک بار حضرت عثمان بن مظعون نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے تبتل (عورتوں سے انقطاع او رجدائی اختیار کرنے) کی اجازت مانگی، آپ صلی الله علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا، اگر آپ صلی الله علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم اپنے کو خصی بنالیتے، تاکہ محل شہوت ہی ختم ہو جائے او رہم عبادت کے لیے یکسو ہو جائیں، مگر یہ عمل سخت ناپسندیدہ ہے۔ ( بخاری، کتاب النکاح، باب مایکرہ من التبتل والخصاء)

حضرت انس  کا بیان ہے:
”رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نکاح کا حکم دیتے تھے اور بے نکاح رہنے سے منع فرماتے تھے اور بے حد محبت کرنے والی، کثرت سے بچہ جننے والی عورت سے نکاح کی تلقین کرتے تھے۔“ ( مسند احمد:245/3)

حضرت سعید بن ہشام بن عامر نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا سے بے نکاح رہنے کی اجازت چاہی، حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ ایسا مت کرو، قرآن میں نکاح کو انبیا کا طریقہ بتایا گیا ہے ، اس لیے تم بے نکاح مت رہو۔ ( المحلی لابن حزم:440/9)

حضرت معاذ بن جبل کے بارے میں آتا ہے کہ اپنے مرض الوفات میں انہوں نے اپنے احباب سے کہا:” زوجونی، انی اکرہ ان الق الله عزباً“․ ( مصنف ابن ابی شیبہ:127/4)

ترجمہ: میرا نکاح کرادو، میں بے نکاحی کی حالت میں الله سے ملنا ناپسند سمجھتا ہوں ۔

حضرت ابن مسعود کا فرمان ہے :” لو لم اعش فی الدنیا الا عشراً، لاحببت ان یکون عندی فیھن امرأة“․ ( ایضاً)

ترجمہ: اگر میری زندگی کے صرف دس ہی دن باقی ہوں ، تب بھی میری خواہش یہ ہو گی کہ اس وقت بھی میری زوجیت میں کوئی خاتون ہو۔

انہیں کا یہ قول بھی ہے:” لو لم یبق من اجلی الا عشرة ایام، واعلم انی اموت فی اٰخر ھا یوماً، ولی طول النکاح فیھن لتزوجت مخافة الفتنة“․ ( المغنی لابن قدامة:446/6)

ترجمہ: اگر میری زندگی کے صرف دس دن بچیں او رمجھے معلوم ہو جائے کہ دسویں دن میں مر جاؤں گا اور ان دنوں مجھے وسعت نکاح ہو تو فتنہ سے بچنے کے لیے میں نکاح کر لوں گا۔

حضرت عمرفاروق  نے ابوالزوائر نامی آدمی سے فرمایا: ”ما یمنعک من النکاح الاعجز او فجور“․ ( مصنف ابن ابی شیبہ:127/4)

ترجمہ: اگر تم نکاح نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو تم نکاح سے عاجز مرد ہو یا زنا وفجور کی زندگی پسند کرتے ہو ۔

واقعہ بھی یہی ہے کہ بے نکاحی زندگی گزارنے کے پس پردہ بالعموم یہی دو عنصر کار فرما ہوتے ہیں ، یا تو انسان حقوق زوجیت کی ادائیگی سے مالی یا جسمانی یا کسی اور سبب سے عاجز ہوتا ہے یا پھر اسے نکاح قید معلوم ہوتا ہے اور اسے زنا اور بدکاری کی راہ ہی بھلی معلوم ہوتی ہے۔

علامہ مروزی حضرت امام احمد بن حنبل سے نقل کرتے ہیں:” امام احمد نے فرمایا کہ تجرد اور بے نکاح رہنے کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے کئی نکاح فرمائے، آپ ا صبح اٹھتے تھے تو کچھ نہ ہوتا تھا، مگر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بے نکاح رہنا گوارا نہ کیا، بلکہ آپ ا نکاح کی تلقین اور بے نکاحی زندگی سے اجتناب کا حکم فرماتے رہے اور آپ ا نے یہ بھی فرمایا: ”حبب الی من الدنیا النساء“( دنیا کی چیزوں میں سے میرے دل میں عورت کی محبت ڈال دی گئی ہے۔) اس پر امام مروزی نے کسی بزرگ کی بے نکاحی کا حوالہ دیا، یہ سنتے ہی امام احمد خفا ہو گئے اور جو ش میں فرمایا کہ تم محمدا اور آپ کے صحابہ کی پیروی کرو اور یاد رکھو کہ بے نکاح شخص کی نفلی عبادتوں کے ثواب سے زیادہ ثواب نکاح کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے اور اس کے رو رو کر باپ سے کچھ کھانے کے لیے مانگنے او رباپ کے اس کی تمنا پوری کرنے کے عمل میں ہے۔“ ( روضة المحبین لابن القیم:230)

روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بیوی سے محروم مرد کو اور شوہر سے محروم عورت کو افراطِ مال ودولت کے باوجود مسکین قرار دیا ہے۔ ( اسلام کا نظام عفت، مفتاحی:58بحوالہ جمع الفوائد)

امام احمد بن حنبل کا یہ جملہ بے حد فیصلہ کن ہے:” من دعاک الی غیر التزوج فقد دعاک الی غیر الاسلام“ ․( المغنی:447/6)

ترجمہ: جو بے نکاح رہنے کی دعوت دیتا ہے وہ اسلام سے باہر آنے کی دعوت دیتا ہے، یہ واقعہ ہے کہ نکاح سے دوری بے حیائی کا باعث ہے او رحیا کے ختم ہونے سے ایمان کا ختم ہونا نصوص اور تجربات دونوں سے ثابت شدہ حقیقت ہے۔



No comments:

Post a Comment