Tuesday, 8 May 2012

قرآن و سنّت کے بعد اجماع و اجتہاد (قیاس)، شریعت کے بنیادی مآخذ کیوں ؟؟؟


اصول شریعت کتنے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (چار)


دین_اسلام (کے اصول) کامل ہیں (قرآن=٥:٣):


(١) القرآن : اے ایمان والو! حکم مانو اللہ (تعالیٰ) کا اور حکم مانو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اور اولولاَمر کا جو تم میں سے ہوں، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اسے لوٹاؤ اللہ (تعالیٰ) اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام.(سورہ-النساء:٥٩)
اس آیات میں چاروں دلیلوں کی طرف اشارہ ہے: اَطِيْعُوا اللّٰهَ سے مراد "قرآن" ہے، اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ سے مراد "سنّت" ہے، اور اُولِي الْاَمْرِ سے مراد "فقہاء"ہیں، ان میں اگر اختلاف و تنازع نہ ہو بلکہ اتفاق ہوجاتے تو اسے"اجماع_فقہاء"کہتے ہیں.(یعنی اجماع_فقہاء کو بھی مانو). اور اگر ان اُولِي الْاَمْرِ(فقہاء) میں اختلاف ہو تو ہر ایک"مجتہد" کے اجتہاد کو "قیاس_شرعی" کہتے ہیں.
[کما تفسیر کبیر, لامام الرازی، متوفی:٦٠٦ ہجری؛ تفسیر جلالین/ المحلی و السیوطی، المتوفی: ٨٦٤ ہجری] 

قرآن و سنّت کی طرف لوٹانے کا اہل کون؟

مفسر امام ابو بکر جصاص رح اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں کہ: "اولو الامر" کی اطاعت کا حکم دینے کے فورا بعد الله تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ "پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو لوٹاؤ اللہ اور رسول کی طرف" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اولو الامر سے مراد "علماء و فقہاء" ہیں، کیونکہ الله تعالیٰ نے لوگوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا (یعنی جس بات پر ان کا اتفاق و اجماع ہو، وہ بھی قرآن و سنّت کی بعد قطعی دلیل و حکم ہے)، "پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں" فرماکر اولو الامر کو حکم دیا کہ جس معاملہ میں ان کے درمیاں اختلاف ہو اسے الله کی کتاب اور نبی کی سنّت کی طرف لوٹادو، یہ حکم "علماء و فقہاء" ہی کو ہوسکتا ہے، کیونکہ عوام الناس اور غیر عالم کا یہ مقام نہیں ہے، اس لئے کہ وہ اس بات س واقف نہیں ہوتے کہ کتاب الله و سنّت کی طرف کسی معاملہ کو لوٹانے کا کیا طریقہ ہے اور نہ انھیں نت نئے مسائل (کا حل قرآن و سنّت سے اجتہاد کرتے) مستنبط کرنے کے دلائل کے طریقوں کا علم ہوتا ہے، لہذا ثابت ہوگیا کہ یہ خطاب علماء و فقہاء کو ہے. [ احکام القرآن : 2/257]



قرآن اتبعو ما انزل الیکم من ربکم اعراف 3
حدیث قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ اٰل عمران 31
اجماع ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدی و یتبع غیرسبیل المومنین نولہ ما تولیالنسا115
جو شخص نبی کی بات نہیں مانتا اور امت کے مومنین کے اجماع کو نہیں مانتا وہ شخص جہنمی ہے۔
قیاس شرعی و اتبع سبیل من اناب الی لقمان15
(اجتہاد) تم اسکی بات مانو جو تمہیں اللہ کی طرف لے کر جاتا ہے۔
منیب یعنی رجوع  کرنے والا. مجتہد (عالم) بھی غیر-منصوص جزئی (قرآن و سنّت سے غیر واضح بات/مسئلہ) کو لے کر منصوص جزئی (قرآن و سنّت کے واضح بات/مسئلہ) کی طرف رجوع کرتا، لوٹتا، قیاس کرتا ہے، اس لئے اس کی اتباع بھی لازم، حکم سے، ہوتی ہے.


چند جدید مسائل_اجتہادیہ؛ جن کا واضح حکم نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں:
١. ٹیلیفون کے ذریعے نکاح
٢. انتقال_خون(خون کا کسی مریض کو منتقل کرنا)
٣. اعضاء کی پیوند-کاری
٤. حالت_روزہ میں انجیکشن کا مسئلہ
٥. لاؤڈ-اسپیکر پر اذان کا مسئلہ
٦. ڈیجیٹل تصویر کا مسئلہ وغیرہ


امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں: " كسى كے ليے كبھى يہ جائز نہيں كہ كسى چيز كے متعلق بغير علم كے حلت اور حرام كا كہے، اور جہت علم يہ ہے كہ: كتاب و سنت يا اجماع يا قياس كى خبر ركھتا ہو " (الرسالۃ : 39 ).

ثناء اللہ امرتسری صاحب نے لکھا ہے:
اہلِ حدیث کا مذہب ہے کہ دین کے اصول چار ہیں (۱)قرآن(۲)حدیث(۳)اجماعِ اُمت(۴)قیاسِ مجتہد۔سب سے مقدم قرآن شریف ہے.......‘‘(اہلِ حدیث کا مذہب ص۵۸)

******************************************************
"قرآن-و-سنّت کے بعد "اجتہاد:


جب حضور اکرم نے حضرت معاذ کو یمن کا حاکم (شرعی حکم دینے-والا) بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا فرمایا تم کس طرح فیصلہ کرو گے جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ پیش ہو جائے انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا آپ نے فرمایا اگر تم اللہ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاؤ تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر سنت رسول میں بھی نہ پاؤ تو اور کتاب اللہ میں بھی نہ پاؤ تو انہوں نے کہا کہ"اپنی رائے سے"اجتہاد"کروں گا"اور اس میں کوئی کمی کوتاہی نہیں کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سینہ کو تھپتھپایا اور فرمایا کہ اللہ ہی کیلئے تمام تعریفیں ہیں جس نے اللہ کے رسول کے رسول (معاذ) کو اس چیز کی توفیق دی جس سے رسول اللہ راضی ہیں۔

(سنن ابوداؤد:جلد سوم: فیصلوں کا بیان :قضاء میں اپنی رائے سے اجتہاد کرنے کا بیان)
(ترمذی، كِتَاب الْأَحْكَامِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب مَاجَاءَ فِي الْقَاضِي كَيْفَ يَقْضِي،حدیث نمبر:۱۲۴۹، شاملہ، موقع الإسلام)

اس کے شواہد میں حديث (22379) صحیح و متصل سند سے"بھی"امام ابن ابی شیبہ رح (متوفی ٢٣٥ ہجری)اپنی المسند میں ان سے پہلے لا چکے ہیں:




فقہی نکتے؛
١) قرآن میں سب مسائل کا "واضح و مفصل" حل نہیں
٢) سنّت میں بھی "نئے پیش آمدہ" مسائل کا "واضح و مفصل" حل نہیں 
٣) اجتہاد تب کیا جائیگا جب اس نۓ مسلے/واقعہ کا واضح جواب قرآن-و-سنّت میں نہ ہو
٤) اجتہاد کا کرنے کا "اہل" ہر عامی(عام شخص) نہیں، بلکہ کوئی معتبر علمی شخصیت اپنے کسی صحبت یافتہ شاگرد کی دینی علم و سمجھ میں گہرائی اور مہارت پرکھ لینے کے بعد اجازت دے. چناچہ اس سے مراد وہ حاکم ہے جو عالم ہو حکم دینے کے لائق ہو اور جاہل کا حکم دینا درست نہیں، اگر وہ حکم کرے گا تو گناہگار ہوگا
٥) شرعی فیصلہ/فتویٰ دینے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن سے فیصلہ کیا جائیگا (نہ کے سنّت یا قیاس سے). قرآن کے بعد سنّت سے پھر قیاس سے
٦) جب یمن کے عربی عوام کو بلا واسطہ معلم (تعلیم دینے والے) اور قاضی (فیصلہ کرنے والے) کے بذات خود قرآن و حدیث پڑھ سمجھکر عمل کرنے اور ہر ایک کا معلم (تعلیم دینے والا) اور قاضی (فیصلہ کرنے والا) بننے کی بجاۓ وہاں کے لئے ایک رہبر (امام) معلم و قاضی بناکر بھیجنے کی احتیاج (ضرورت) تھی ، تو کسی عالم (جو علومِ انبیاء کے وارث ہوتے ہیں) کی امامت (راہبری) کی احتیاج تو مزید بڑھ جاتی ہے ان عجمی عوام کیلئے جو عربی قرآن کے صحیح ترجمہ و تفسیر اور سنّتِ قائمہ (غیر منسوخہ) معلوم کرنے کو عربی احادیث میں ثابت مختلف احکام و سنّتوں میں ناسخ و منسوخ آیات اور افضل و غیر افضل احکام نہیں جانتے، اور بعد کے جھوٹے لوگوں کی ملاوتوں سے صحیح و ثابت اور ضعیف و بناوٹی روایات کے پرکھنے کے اصول التفسیر القرآن اور اصول الحدیث ، جن کا ذکر قرآن و حدیث میں صراحتاً مذکور نہیں، یہ ائمۂِ مسلمین کی دینی فقہ (القرآن : ٩/١٢٢) کے اجتہاد سے ماخوذ ہیں؛

اعتراض : یہ حدیث ضعیف ہے .
حدیث کی سند کا حکم : 
١) صحاح ستہ [چھ (٦) صحیح ترین احادیث کی کتابوں] میں سے ترمذی اور ابوداود میں موجود اس حدیث کی سند کو بلادلیل ضعیف کہنے والے، اس حدیث کی حسن (مقبول) سند بھی ملاحظہ کریں جسے امام بخاری رح کے شیخ امام ابن ابی شیبہ رح اپنی حدیث کی کتاب "المصنف ابن ابی شیبہ" میں لاۓ ہیں :

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو الْهُذَلِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، أَنّ النَّبِيَّ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمَّا بَعَثَهُ قَالَ : " كَيْفَ تَقْضِي ؟ " , قَالَ : أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ , قَالَ : " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : أَقْضِي بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنْ لَمْ تَكُنْ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : أَجْتَهِدُ رَأْيِي , قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ " .[مصنف ابن أبي شيبة : رقم الحديث: 28530]

حکم :
  |  
  |    |  
  |    |    |  
  |    |    |    |  
  |    |    |    |    |  
  |    |    |    |    |    |  
  |    |    |    |    |    |    |  (8) الكتاب: مصنف ابن أبي شيبة [الحكم: إسناده حسن في المتابعات والشواهد رجاله ثقات عدا الحارث بن عمرو الهذلي وهو مقبول]

المحدث: أبو داود المصدر: سنن أبي داود - الصفحة أو الرقم: 3592
خلاصة حكم المحدث: سكت عنه [وقد قال في رسالته لأهل مكة كل ما سكت عنه فهو صالح]
المحدث: الذهبي المصدر: تلخيص العلل المتناهية - الصفحة أو الرقم: 269
خلاصة حكم المحدث: حسن الإسناد ومعناه صحيح

المحدث: ابن عبدالبر المصدر: جامع بيان العلم - الصفحة أو الرقم: 2/844
خلاصة حكم المحدث: صحيح مشهور
المحدث: ابن كثير المصدر: إرشاد الفقيه - الصفحة أو الرقم: 2/396
خلاصة حكم المحدث: حسن مشهور وقد ذكرت له طرقا وشواهد
المحدث: الشوكاني المصدر: الفتح الرباني - الصفحة أو الرقم: 9/4485
خلاصة حكم المحدث: حسن لغيره، وهو معمول به


٢) رفع الاعتراض من الحديث المعاذ: اس حدیث پر سب سے پہلے اعتراض علامہ زرقانی رح نے کیا اور وجہ اعتراض یہ ہے کہ اس کی سند میں اصحاب معاذ مجہول [یعنی غیر معروف] ہیں اور انہی کی تقلید میں کچھ علماء نے اس کو ضعیف سند مانا۔ لیکن ان علماء کے اعتراض کا جواب علامہ ابن تیمیہ رح کے شاگرد رشید جناب محترم ابن القیم رح نے اعلام الموقعین جلد 1 صفحہ 175 اور 176 پر دے دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہےکہ اصحاب معاذ میں سے جن سے یہ حدیث مروی ہے ان میں سےکوئی بھی مہتم کذاب اور مجروح نہیں ہے اور انہوں نے تاریخ خطیب سے اسی حدیث کا دوسرا طریق عبادۃ بن نسی عن عبدالرحمن بن غنم عن معاذ بھی ذکر کیا۔ اور لکھا هذا اسناد متصل ورجاله معروفون بالثقه اور ساتھ میں کہا یہ حدیث امت میں تلقی بالقبول کا درجہ رکھتی ہے اسی لئے صحیح ہے۔
اس کے علاوہ اس حدیث کے دوسری راوی حارث بن عمرو پر مجہول ہونے کا الزام ہونے کی وجہ سے بعض علماء نے اس کو ضعیف قرار دیا لیکن شعبۃ رح بن حجاج نے فرمایا کہ” یہ مجہول نہیں ہیں بلکہ یہ مغیرہ بن شعبہ ضللہعنہ کے بھتیجے ہیں اور کبار تابعین میں سے ہیں“ ان سے اصحاب معاذ نے روایت کی ہے اور اصحاب معاذ میں سے کوئی بھی مجہول نہیں [جیسا کہ ابن القیم رح کا بھی دعوی ہے] کیونکہ یہ ممکن ہے کہ کوئی خبر ایک جماعت سے اس میں موجود اشخاص کے ناموں کے بغیر پہنچے لہذا اس سے اس جماعت کے لوگوں کا مجہول ہونا لازم نہیں آتااور اصحاب معاذ کا علم، دین اور سچ بولنے کی شہرت کسی سے مخفی نہیں۔ اگر فریق ثانی کے نزدیک کسی جماعت سے یا اس کے فرد سے حدیث اس شخص کا نام بیان کئے بغیر ضعیف ہوجاتی ہے اور وہ شخص مجہول ہوجاتا ہے تو پھر ان حدیثوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
۱۔ جو کوئی جنازہ دیکھے اور اس کی نماز ادا کرے تو اسے ایک قیراط اجر ملتا ہے [ مسلم 52 اور 945] اس کی سند یہ ہے عن ابن شھاب حدثنی رجال عن ابی ہریرہ، یہاں رجال کا نام نہیں بتایا تو کیا یہ مجہول نہیں ہوگا؟ اور کیا یہ حدیث ضعیف نہیں ہوگی؟
دوسری طرف اس حدیث کی سند میں کلام کرنے والے علماء کی تعداد کم اور اس حدیث کو صحیح کہنے والے علماء کی تعداد زیادہ ہے۔ اس حدیث کو مندرجہ ذیل علماء نے صحیح کہا۔

۱۔ علامہ بزدودی رح نے اپنے اصول میں اس حدیث کو صحیح کہا۔
۲۔ علامہ جوینی رح نے اپنی کتاب البرہان میں اس کو صحیح کہا۔
۳۔ ابوبکر بن عربی رح نے اپنی ترمذی کی شرح عارضۃ الاحوذی میں اس کو صحیح کہا۔
۴۔ خطیب بغدادی رح نے الفقیہ المتفقہ میں اس کو صحیح کہا۔

۵۔ ابن تیمیہ رح نے مجموع الفتاوی جلد 13 صفحہ 364 پر اس کو صحیح کہا۔
۶۔ ابن کثیر رح نے اپنی تفسیر کے مقدمے میں اس کو صحیح کہا جو آپ مولوی جونا گڑھی کے کئے ہوئے اردو ترجمے میں بھی ملاحظہ کرسکتے ہو۔
7۔ ابن القیم رح نے بھی اس کو صحیح کہا جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔

۸۔ علامہ شوکانی غیر مقلد رح نے بھی اس کو فتح القدیر میں نقل کیا۔
۹۔ حافظ ابن حجرعسقلانی شافعی رح نے تلخیص الحبیر جلد 4 صفحہ 182 پر نقل کیا ۔ اور ابی عباس بن قاص رح فقیہ شافعی کے حوالے سے اسکی تصحیح کی۔

الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1كيف تقضي فقال أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي قال الحمد لله الذي وفق رسول رسول اللهمعاذ بن جبلجامع الترمذي12451327محمد بن عيسى الترمذي256
2كيف تقضي إذا عرض لك قضاء قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم تجد في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم تجد في سنة رسول الله ولا في كتاب الله قال أجتهد رأيي ولا آلو فضرب رسول الله صدرهسنن أبي داود31213592أبو داود السجستاني275
3كيف تقضي قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب صدره ثم قال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول امعاذ بن جبلسنن الدارمي168168عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي255
4كيف تصنع إن عرض لك قضاء قال أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي لا آلو قال فضرب رسول الله صدريمعاذ بن جبلمسند أحمد بن حنبل2144321501أحمد بن حنبل241
5كيف تقضي قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي قال فقال رسول الله الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله صلى اللهمعاذ بن جبلمسند أحمد بن حنبل2149221555أحمد بن حنبل241
6كيف تقضي إن عرض لك قضاء قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب صدري فقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله صلى اللهمعاذ بن جبلمسند أحمد بن حنبل2152721594أحمد بن حنبل241
7كيف تقضي إذا عرض لك قضاء قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم تجد في كتاب الله قال أقضي بسنة رسول الله قال فإن لم تجد في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب رسول الله بيده صدري قال الحمد لله الذي وفق رسول رسول اللمعاذ بن جبلالسنن الصغير للبيهقي18394505البيهقي458
8كيف تقضي إذا عرض لك قضاء قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم تجده في كتاب الله قال أقضي بسنة رسول الله قال فإن لم تجده في سنة رسول الله قال أجتهد برأي لا آلو قال فضرب بيده في صدري وقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لمامعاذ بن جبلالسنن الكبرى للبيهقي1871610 : 113البيهقي458
9كيف تقضي إن عرض لك قضاء قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم تجد في كتاب الله قال أقضي فيه بسنة رسول الله قال فإن لم تجده في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي ولا آلو قال فقال رسول الله وضرب بيده في صدري الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول اللهاسم مبهمالمدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي192256البيهقي458
10كيف تقضي إن عرض قضاء قال قلت أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال قلت أقضي بما قضى به رسول الله قال فإن لم يكن قضى به الرسول قال قلت أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب صدري وقال الحمد لله الذيمعاذ بن جبلمعرفة السنن والآثار للبيهقي5860البيهقي458
11كيف تقضي إن عرض لك قضاء قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم تجده في كتاب الله قال أقضي بسنة رسول الله قال فإن لم تجده في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي لا آلو قال فضرب بيده في صدري وقال الحمد لله الذي وفق رسول الله صلى الله عليهمعاذ بن جبلمسند أبي داود الطيالسي555560أبو داود الطياليسي204
12كيف تقضي إذا عرض عليك قضاء قال أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال بسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي لا آلو قال فضرب رسول الله صدره وقال الحمد لله الذي وفق رسولمعاذ بن جبلمسند عبد بن حميد125124عبد بن حميد249
13كيف تقضي قال أقضي بما في كتاب الله قال فإن جاءك أمر ليس في كتاب الله قال أقضي بسنة رسول الله قال فإن لم تكن سنة من رسول الله قال أجتهد رأيي قال الحمد لله الذي وفق رسول رسول اللهمعاذ بن جبلمصنف ابن أبي شيبة2238523323ابن ابي شيبة235
14بم تقضي قال أقضي بكتاب الله قال فإن جاءك أمر ليس في كتاب الله ولم يقض فيه نبيه ولم يقض فيه الصالحون قال أؤم الحق جهدي قال فقال رسول الله الحمد لله الذي جعل رسول رسول الله يقضي بما يرضى به رسول اللهموضع إرسالمصنف ابن أبي شيبة2238623324ابن ابي شيبة235
15كيف تقضي قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم يكن كتاب قال أقضي بسنة رسول الله قال فإن لم تكن سنة من رسول الله قال أجتهد برأيي قال فقال النبي الحمد لله الذي وفق رسول رسول اللهمعاذ بن جبلمصنف ابن أبي شيبة2853029588ابن ابي شيبة235
16كيف تقضي إن عرض لك قضاء قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب رسول الله صدره وقال الحمد للهمعاذ بن جبلالمعجم الكبير للطبراني16805362سليمان بن أحمد الطبراني360
17كيف تقضي إذا عرض لك قضاء قال أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قلت بسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب صدري بيده وقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول اللهمعاذ بن جبلمشكل الآثار للطحاوي30663582الطحاوي321
18بم تقضي إن عرض قضاء قال قلت أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال قلت أقضي بما قضى به الرسول قال فإن لم يكن فيما قضى به الرسول قال قلت أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب صدري وقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول اللهمعاذ بن جبلالطبقات الكبرى لابن سعد24482 : 425محمد بن سعد الزهري230
19بم تقضي إن عرض لك قضاء قال قلت أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قلت أقضي بما قضى به الرسول قال فإن لم يكن فيما قضى به الرسول قال قلت أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب صدري وقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول اللهمعاذ بن جبلالطبقات الكبرى لابن سعد44363 : 296محمد بن سعد الزهري230
20كيف تقضي إن عرض قضاء قال قلت أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال قلت أقضي بما قضى به رسول الله قال فإن لم يكن قضى به الرسول قال قلت أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب صدري وقال الحمد لله الذيمعاذ بن جبلتاريخ دمشق لابن عساكر6327858 : 411ابن عساكر الدمشقي571
21بم تقضي قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال أقضي بسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي فقال رسول الله الحمد لله الذي وفق رسول رسول اللهمعاذ بن جبلتهذيب الكمال للمزي361---يوسف المزي742
22كيف تقضي إذا عرض لك قضاء قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب النبي صدره وقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول اللهموضع إرسالالانتقاء في فضائل الائمة الثلاثة الفقهاء9---ابن عبد البر463
23لما بعثني رسول الله إلى اليمن قال كيف تقضيمعاذ بن جبلجامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر9901592ابن عبد البر القرطبي463
24كيف تقضي ثم اتفقا إذا عرض لك قضاء قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب رسول الله صدره وقالمعاذ بن جبلجامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر9911593ابن عبد البر القرطبي463
25كيف تصنع إن عرض لك قضاء قال أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي لا آلو قال فضرب بيده في صدري وقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضاهمعاذ بن جبلجامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر9921594ابن عبد البر القرطبي463
26كيف تقضي إن عرض لك قضاء قال أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي ولا آلوا قال فضرب صدره وقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول اللمعاذ بن جبلالفقيه والمتفقه للخطيب2621 : 154الخطيب البغدادي463
27كيف تقضي إن عرض لك قضاء قال اقضي بكتاب الله قال فإن لم تجد في كتاب الله قال اقضي بسنة رسول الله قال فإن لم تجد في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي ولا آلو قال فضرب بيده في صدري وقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول اللهمعاذ بن جبلالفقيه والمتفقه للخطيب3241 : 188الخطيب البغدادي463
28كيف تقضي إن عرض لك قضاء قال أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال ففي سنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي لا آلو قال فضرب يعني صدره وقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول اللهمعاذ بن جبلالفقيه والمتفقه للخطيب3251 : 188الخطيب البغدادي463
29كيف تقضي قلت أقضي بكتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي لا آلو قال فضرب صدره وقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول اللهمعاذ بن جبلالفقيه والمتفقه للخطيب3261 : 189الخطيب البغدادي463
30كيف تصنع إن عرض لك قضاء قال أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال أجتهد رأيي لا آلو قال فضرب رسول الله صدري ثم قال الحمد لله الذي وفق رسول رسول اللهمعاذ بن جبلالفقيه والمتفقه للخطيب3271 : 189الخطيب البغدادي463




سوال: اگر نبی کے بعد کوئی شخص معصوم نہیں تو نبی نے ایک غیر-معصوم کو یہ حق_اجتہاد کیوں دیا؟
جواب: حضرت عمروبن عاص سے روایت کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب حاکم کسی بات کا فیصلہ کرے اور اس میں اجتہاد سے کام لے اور صحیح ہو تو اس کے لئے"دو اجر"ہیں اور اگر حکم دے اور اس اجتہاد سے کام لے اور غلط ہو تب بھی اس کے لیے"ایک ثواب" ہے۔ [صحیح بخاری:جلد سوم: کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان :حاکم کے اجر کا بیان جبکہ وہ اجتہاد کرے اور اجتہاد میں غلطی یاصحت ہو]

فقہی نکتے:
١. غیر-حاکم کو اجتہاد کا حق نہیں دیا.
٢. حاکم کو جب قرآن-و-سنّت سے واضح جواب نہ ملنے پر اجتہاد کرنا پڑے تو:
اپنی اجتہادی-راۓ میں (الله کے نزدیک) صحیح فیصلہ کیا تو دو ثواب: ١. اجتہاد کرنے کا، ٢. صحیح فیصلے پر، اور فیصلے میں خطا  ہوئی تو ایک اجر اجتہاد کرنے کا.
٣. مجتہدین(اجتہاد-کرنے-والے-اماموں) کے فیصلوں میں اختلاف میں کسی کو گناہ-گار نہیں، بلکہ خطا پر بھی"محفوظ"رکھتے گناہ کے بجاتے اجر دیا جائیگا.
. غیر-حاکم کو اجتہاد کا حق نہیں دیا. (اس کی دلیل_قرآن آگے آئیگی

اجتہاد کی تعریف:
لغت میں اجتہاد کا مادہ "ج ہ د"سے معنا طاقت، کوشش اور محنت ہے.
اور اصطلاح میں اجتہاد کہتے ہیں"کسی چیز کی تلاش میں اپنی پوری طاقت خرچ کرنا  اور اس سے مراد ہے کسی مسلے کو قیاس کے طریقے سے کتاب-و-سنّت کی طرف لوٹانا.(تاج العروس، علامہ زبیدی: ٢/٣٣٠)

اور 
جس طرح کسی شعبے کے ماہرین (ڈاکٹرس/وکلاء) کی جماعت کسی بات پر متفق ہو جائیں تو عوام یا عام ڈاکٹرس/وکلاء کا اختلاف بےجا اور غیر-معتبر ہوتا ہے، ویسے ہی دین_اسلام کے ماہرین "فقہاء"کا کسی بات پر متفق (جمع) ہوجانا "اجماع" ہے، جس سے اگر اختلاف عوام کا یا عام علماء کا ہو تو وہ غیر-معتبر ہوتا ہے.
نۓ مسلے/حالت جیسے:
١. حضرت عمر رضی الله عنہ کے کہنے پر حضرت ابو-بکر رضی الله عنہ کا قرآن کو ترتیب سے کتابی صورت میں جمع کرنا، جو کہ ایک شخصی-راۓ تھی، جس کو سب نے ١ ہی فقیہ-حاکم حضرت ابو-بکر رضی الله عنہ کی تقلید_شخصی کرتے ہوۓ سب نے مانا، اس مسلے کا واضح حکم نہ قرآن میں ہیں نہ حدیث میں؟؟؟
٢. عجمیوں کے لئے قرآن میں اعراب (زبر،زیر و پیش وغیرہ) لگانے کا حکم نہ قرآن میں ہیں نہ حدیث میں؟؟؟
٣. قرآن کے رموز-و-اوقاف (آیات کے نشانات کی نشان-دہی) کا حکم نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں؟
٤. اصول_حدیث: صحیح و ضعیف،شاذ و موضوع، منسوخ و متروک وغیرہ، ان اقسام_حدیث کی تعریفیں اور احکام نہ قرآن میں ہیں نہ فرمان_رسول میں؟؟؟ وغیرہ
ان مسائل کا جواب کوئی بھی الله-و-رسول سے واضح نہیں ثابت کر سکتا، کیونکہ یہ مسائل_اجتہادی ہیں.
 اور 
 اُولِي الْاَمْرِ کون ہیں؟اولولاَمر یعنی حکم(شرعی)دینے والے؛ حضرت ابن عباس رضی الله عنھ فرماتے ہیں کہ اس"اُولِي الْاَمْرِ"سے مراد اہل فقہ و دین(فقہ اور دین والے) ہیں. اور حضرت جابر بن عبدالله رضی الله عنھ سے اس کی تفسیر میں:"اُولِي الْاَمْرِ"سے مراد "اہل فقہ و الخیر " ہیں. [مستدرک حاکم: کتاب-العلم؛1/123
حدیث سے آدھی آیت بیان کرتے ایک خاص مسلے کو سمجھنے کا ثبوت:
سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 221, 1 - مقدمہ دارمی : (647)
باب - علماء کی پیروی کرنا۔
عطا بیان کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے" اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے اولوالامر ہیں ان کی اطاعت کرو۔" عطاء ارشاد فرماتے ہیں اس سے مراد علم اور فقہ کے ماہرین ہیں اور رسول کی اطاعت سے مراد کتاب اللہ اور سنت کی پیروی کرنا ہے ۔
+++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++
خبر(حدیث)کی تحقیق و استنباط (نکال-باہر کرنے(نۓ مسائل کا حل) کے "اجتہاد"(پوری-کوشش کرنے) کا حق :
"رسول" کے بعد "أولي الأمر" میں سے بھی ان کو ہے، جو مسلے کا حل استنباط (نکال باہر)  کرنے  کی قابلیت (فقہ و سمجھ) رکھتے ہوں. یعنی اس آیت میں عام-علماء کو بھی یہ حق نہیں.-قرآن=٤:٨٣ ،اور عوام کو تو بلکل ہی نہیں، ان کو تو اس آیت میں تحقیق کے لئے رسول کے بعد اولوالامر(فقہاء) کی طرف لوٹانے کا حکم ہے.-قرآن=٤:٨٣ 

غیر-مجتہد (غیر-فقیہ) شخص کا دین میں اپنی راۓ دینا گناہ ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللّہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری طرف سے کوئی بات (یعنی حدیث) اس وقت تک نقل نہ کرو جب تک تمہیں یقین نہ ہو کہ یہ میرا قول ہے اور جو شخص میری طرف کوئی جھوٹ بات منسوب کرے گا وہ اور ایسا شخص جو قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرے گا دونو اپنا ٹھکانہ جہنم میں تلاش کر لیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔[جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 878, قرآن کی تفسیر کا بیان : باب جو شخص اپنے رائے سے قرآن کی تفسیر کرے
******************************************
٢)  سنّت_رسول (قرآن-و-حدیث) اور مومنین (کی جماعت=اجماع_امت) کی سبیل (مذہب-و-راستے) کی مخالفت کرنے والے کو ٢ عذاب:
١. دنیا میں ہدایت سے محروم کرتے اسی گمراہی پر چلنے کی آزادی
٢. آخرت میں بہت برا ٹھکانہ "جہنم" میں داخلہ (سورہ-النساء:١١٥
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا بلا شبہ میری امت(مومنین) گمراہی پر مجتمع (متفق) نہ ہوگی جب تم اختلاف دیکھو تو سواد اعظم (بڑی جماعت) کا ساتھ دو

Ijtihaad & Taqleed=إجتهاد و تقليد



جائز اور ناجائز تقلید:
جس طرح لغت کے اعتبار سے کتیا کے دودھ کو بھی دودھ ہی کہا جاتا ہے اور بھینس کے دودھ کو بھی دودھ کہتے ہیں۔ مگر حکم میں حرام اور حلال کا فرق ہے اسی طرح تقلید کی بھی دو قسمیں ہیں۔ اگرحق کی مخالفت کے لئے کسی کی تقلید کرے تو یہ مذموم ہے جیسا کہ کفارومشرکین، خدا اور رسول ﷺ کی مخالفت کےلئے اپنے گمراہ وڈیروں کی تقلید کرتے تھے۔ اگرحق پر عمل کرنے کےلئے تقلید کرے کہ میں مسائل کا براہ راستی استنباط نہیں کرسکتا اور مجتہد کتاب وسنت کو ہم سے زیادہ سمجھتا ہے ۔ اسلیے اس سے خدا و رسول ﷺ کی بات سمجھ کر عمل کرے تویہ تقلید جائز اور واجب ہے ۔
تقلید کا حکم :میاں نذیر حسین دہلوی 1360ھ ، مولانا محمد حسین بٹالوی 1338ھ ، مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی 1394ھ ، مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری 1948ھ ، مولانا نور حسین گھرجاکھی ، مولانا محمد داؤدغزنوی ، سب حضرات فرماتے ہیں کہ : مطلق تقلید کسی مجتہد کی اہل سنت سے واجب ہے . معیارالحق ص 41 ، اشاعۃ السنہ ص 126 ج 23 ، تاریخ اہل حدیث ص 125 ، نقوش ابوالوفا ص 256 ، ارکان اسلام ص 92، داؤد غزنوی ص:375

 تقلید کا لغوی معنی
تقلید کا معنی لغت میں پیروی ہے اور لغت کے اعتبار سے تقلید، اتباع،اطاعت اوراقتداء کے سب ہم معنی ہیں۔تقلید کے لفظ کا مادہ قلادہ ہے۔ جب انسان کے گلے میں ڈالا جائے تو ہار کہلاتا ہے اور جب جانور کے گلے میں ڈالا جائے تو پتہ کہلاتا ہے۔ ہم چونکہ انسان ہیں اس لیے انسانوں والا معنی بیان کرتے ہیں اور جانوروں کا جانوروں والا معنی پسند ہے۔
تقلید کا شرعی معنی
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ تقلید کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہے۔
”تقلید کہتے ہیں کسی کا قول محض اس حسن ظن پر مان لینا کہ یہ دلیل کے موافق بتلاوے گا اور اس سے دلیل کی تحقیق نہ کرنا “ )الاقتصاد ص ۵ (
تقلید کی تعریف: اہل_حدیث  مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری 1948ھ :
تقلید کہتے ہیں کسی کا قول محض اس حسن ظن پر مان لینا کہ یہ دلیل کےموافق بتلادے گا اور اس سے دلیل کی تحقیق نہ کرنا ( فتاوی ثنائیہ ص256 ج1، ص265 ج1 ، ص262 ج1 )



تقلید کی تعریف کے مطابق راوی کے روایت کو قبول کرنا تقلید فی الروایت ہے اور مجتہد کی درایت کو قبول کرنا تقلید الدرایت ہے۔ کسی محدث کی رائے سے کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف ماننا بھی تقلید ہے اور کسی محدث کی رائے سے کسی راوی کو ثقہ یا مجہول یا ضعیف ماننا بھی تقلید ہے۔ کسی امتی کے بنائے ہوئے اصول حدیث، اصول تفسیر، اصول فقہ کو ماننا بھی تقلید ہے۔  


 مولانا عبدالجبار غزنوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:"ہمارے اس زمانہ میں ایک فرقہ نیا کھڑا ہوا ہے جو اتباع حدیث کا
 دعویٰ رکھتا ہے اور درحقیقت وہ لوگ اتباع حدیث سے کنارے ہیں جو حدیثیں کہ سلف وخلف کے یہاں معمول بہا ہیں ان کو ادنی سی قدح اور کمزور جرح پر مردود کہہ دیتے ہیں..... اور ان پر اپنے بیہودہ خیالوں اور بیمار فکروں کو مقدم کرتے ہیں اور اپنا نام محقق رکھتے ہیں"۔(فتاویٰ علمائے اہل حدیث: ۷/۸۰)  شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:"جمہور امت جس چیز پر ہے وہ یہ ہے کہ اجتہاد فی الجملہ جائز ہے اور تقلید بھی فی الجملہ جائز ہے، نہ تو جمہور نے ہرایک پر اجتھاد کو واجب کرتے ہوئے تقلید کو حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی ہرایک پر تقلید کو واجب کرتے ہوئے اجتہاد کو حرام بتایا ہے، جو شخص اجتہاد پر قادر ہے اس کے لیے اجتہاد جائز ہے اور جو اجتہاد سے عاجز ہے اس کے لیے تقلید جائز ہے"۔(مجموع الفتاوی: ۳۰/۲۰۳) امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ مجتہد ہر اجتہاد میں اجر پاتا ہے اگر اس کا اجتہاد درست نکلا تو دو اجر کا مستحق ہے، ایک اجر اجتہاد کا دوسرا اصابت کا اور اگر اجتہاد خطا نکلا تو بھی ایک اجر اجتہاد کا ملےگا۔ ہاں جو نا اہل ہو اسکو اجتہاد سے حکم کرنا کسی حال میں جائز نہیں بلکہ وہ گنہگار ہے۔ اس کا حکم نافذ بھی نہ ہوگا۔ اگرچہ حق کے موافق ہو یا مخالف کیونکہ اسکا حق کو پا لینا محض اتفاقی ہے کسی اصلِ شرعی پر مبنی نہیں۔ پس وہ تمام احکام میں گنہگار ہے۔ حق کے موافق ہوں یا مخالف اور اس کے نکالے ہوئے تمام احکام مردود ہیں اسکا کوئی عذر شرعاً مقبول نہیں وہ دوزخی ہے۔ ((شرح مسلم ج۲ ص۷۶)
(الف) کن مسائل میں تقلید کی جاتی ہے؟
صرف مسائل اجتہادیہ میں تقلید کی جاتی ہے اور حدیث معاذ ؓ(جس کو نواب صدیق حسن خان حدیث مشہور فرماتے ہیں۔ الروضہ الندیہ ج ۲ ص ۶۴۲) میں اجتہادیہ کے اصولوں سے کتاب وسنت سے مجتہد اخذ کرے گا۔
نوٹ: محدثین کا اصول حدیث بنانا، کسی حدیث کو صحیح، ضعیف کہنا کسی روای کو ثقہ یا مجروح قرار دینا بھی ان کا اجتہاد ہے۔
(ب) کن کی تقلید کی جائے ؟
ظاہر ہے مسائل اجتہاديہ میں مجتہد کی ہی تقلید کی جائے گی اور مجتہد کا اعلان ہے کہ قیاس مظہر لامثبت (شرح عقائد نسفی) کہ ہم کوئی مسئلہ اپنی ذاتی رائے سے نہیں بتاتے بلکہ ہر مسئلہ کتاب و سنت واجتماع سے ہی ظاہر کر کے بیان کرتے ہیں اور مجتہدین کا اعلان ہے کہ ہم پہلے مسئلہ قرآن پاک سے ليتے ہیں وہاں نہ ملے تو سنت سے، وہاں نہ ملے تو اجماع صحابہ ؓ سے، اگر صحابہ ؓ میں اختلاف ہو جائے تو جس طرف خلفاء راشدین ہوں اس سے لیتے ہیں اور اگر یہاں بھی نہ ملے تو اجتہادی قاعدوں سے اسی طرح مسئلہ کا حکم تلاش کر لیتے ہیں۔ جس طرح حساب دان ہر نئے سوال کا جواب حساب کے قواعد کی مدد سے معلوم کر لیتا ہے اور وہ جواب اس کی ذاتی رائے نہیں بلکہ فن حساب کا ہی جواب ہوتا ہے۔
(ج) کون تقلید کرے؟
ظاہر ہے کہ حساب دان کے سامنے جب سوال آئے گا تو وہ خود حساب کے قاعدوں سے سوال کا جوا ب نکال لے گااور جس کو حساب کے قاعدے نہیں آتے وہ حساب دان سے جواب پوچھ لے گا ۔ اسی طرح مسائل اجتہادیہ میں کتاب وسنت پر عمل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ جو شخص خود مجتہد ہو گا وہ خود قواعد اجتہادیہ سے مسئلہ تلاش کر کے کتاب وسنت پر عمل کرے گا اور غیر مجتہد یہ سمجھ کر کہ میں خود کتاب و سنت سے مسئلہ استنباط کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس لیے کتاب و سنت کے ماہر سے پوچھ لوں کہ میں کتاب و سنت کا کیاحکم ہے۔ اس طرح عمل کرنے کو تقلید کہتے ہیں۔ اور مقلد ان مسائل کو ان کی ذاتی رائے سمجھ کرعمل نہیں کرتا بلکہ یہ سمجھ کر کہ مجتہد نے ہمیں مراد خدا اور مراد رسول ﷺ سے آگاہ کیا ہے۔
غیر مقلد کی تعریف
نوٹ: (۱) مجتہد اور مقلد کا مطلب تو آپ نے جان لیا اب غیر مقلد کا معنی بھی سمجھ لیں کہ جو نہ خود اجتہاد کر سکتا ہو اور نہ کسی کی تقلید کرے یعنی نہ مجتہد ہو نہ مقلد۔ جیسے نماز باجماعت میں ایک امام ہوتا ہے باقی مقتدی۔ لیکن جو شخص نہ امام ہو نہ مقتدی، کبھی امام کو گالیاں دے کبھی مقتدیوں سے لڑے یہ غیر مقلد ہے یا جیسے مالک میں ایک حاکم ہوتا ہے باقی رعایا۔ لیکن جو نہ حاکم ہو نہ رعایا بنے وہ ملک کاباغی ہے۔یہی مقام غیرمقلد کا ہے۔
نوٹ: (۲) غیر مقلدین میں اگرچہ کئی فرقے اور بہت سے اختلافات ہیں۔ انتے اختلافات کسی اور فرقے میں نہیں ہیں۔ مگر ایک بات پر غیر مقلدین کے تمام فرقوں کا اتفاق اور اجماع ہے وہ يہ ہے کہ غیر مقلدوں کو نہ قرآن آتا ہے، نہ حدیث، کیونکہ نواب صدیق حسن خان، نواب وحید الزمان، میر نور الحسن، مولوی محمد حسین اور مولوی ثناء اﷲ وغیرہ نے جو کتابیں لکھی ہیں، اگرچہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے قران وحدیث کے مسائل لکھے ہیں، غیر مقلدین کے تمام فرقوں کے علماء اور عوام بالاتفاق ان کتابوں کو غلط قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں بلکہ برملاتقریروں میں کہتے ہیں کہ ان کتابوں کو آگ لگا دو۔ گویا سب سے غیر مقلدین کا اجماع ہے کہ ہر فرقہ کے غیر مقلد علماء قران وحدیث پر جھوٹ بولتے ہیں انہیں قرآن وحدیث نہیں آتا وہ غلط گندے اور نہایت شرمناک مسائل لکھ لکھ کر قرآن وحدیث کا نام لے دیتے ہیں اس لیے وہ کتابیں اجماعاً مردود ہیں اور یہ سب جاہل ہیں۔
سوال دوم: لفظ تقلید کا ذکرقران وحدیث میں ہے یا نہیں؟
الجواب: قرآن پاک نے ان مقدس جانوروں کو جو خاص خانہ کعبہ کی نیاز ہیں، قلائدفرمایا ہے اور ان کی بے حد تعظیم وحرمت کا حکم فرمایا ہے اور ان مقلدین کے بے حرمتی کرنے والوں کو عذاب شدید کی دھمکی دی ہے ۔ البتہ کسی خنزیر، کتے وغیرہ و قلائد بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دی ہے۔
نوٹ:(۱) اصول حدیث میں مرسل، مدلس، معضل، وغیرہ جس قدر اصطلاحی الفاظ محدثین نے استعمال کےے ہیں، ان الفاظ کا ان ہی اصطلاحی معنوں میں قرآن وحدیث میں ہونا ثابت فرما دیں یا اصول حدیث کا انکار کر دیں۔
نوٹ: (۲) سائل نے سوال میں صرف قرآن وحدیث کا ذکر کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ سائل اجماع کو دلیل شرعی نہیں مانتا۔ اگر واقعہ ایسا ہے تو سائل انکار اجماع کی وجہ سے دوزخی ہے اور سائل قیاس شرعی کو بھی دلیل نہیں مانتا تو اس کے بدعتی ہونے میں کچھ شک نہیں کیونکہ انکار قیاس کی بدعت نظام معتزلی نے جاری کی تھی۔
ائمہ مجتہدین کے اتباع کےلئے تقلید کا لفظ اسی اجماع اور تواتر کے ساتھ امت میں استعمال ہوتا چلا آرہا ہے جس طرح اصول حدیث، اصول تفسیر، اصول فقہ، قواعد صرف و نحو تواتر کے ساتھ مستعمل ہیں۔ محدیثن کے حالات میں جو کتابیں محدثین نے مرتب فرمائی ہیں وہ چار ہی قسم کی ہیں۔ طبقات حنفیہ، طبقات شافعیہ، طبقات مالکیہ، اورطبقات حنابلہ، طبقات غیر مقلدین نامی کوئی کتاب کسی محدث نے تحریر نہیں فرمائی۔



تقلید اور امام احمد رح:
ترجمہ: امام احمد بن حنبل رحمہ الله فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ زعم (گمان) کرے کہ تقلید کوئی چیز نہیں ، تو یہ قول الله و رسول صلى الله عليه وسلم کے نزدیک ایک فاسق (نافرمان) کا قول ہے ، وه شخص اپنے اس قول کے ذریعہ سے اثر (یعنی اقوال و احادیث_صحابہ و تابعین) کو باطل کرنے کا اراده کرتا ہے ، اورعلم وسنت کو معطل کرنے کا اراده کرتا ہے، اور اپنی راۓ سے تفرد، کلام ، بدعت اور مخالفت کرنا
چاہتا ہے.

یہ اقوال و مذاھب جو میں (مصنف_کتاب امام ابن ابی یعلی رح) نے ماسبق میں ذکر کیے ہیں، خوبی ہے مذھب_اہل_سنّت والجماعت اور آثار، اور اصحاب الروایات کی. جور ان ارباب_علم کے جن کو ہم نے پایا، اور جن سے ہم نے علم_حدیث حاصل کیا، اور جن سے سنن کی تعلیم حاصل کی، وہ معروف ائمہ (دین) تھے، لائق_اعتماد، سچے لوگ تھے، جن کی اقتدا (تقلید و پیروی) کی جاتی اور ان سے (دین) لیا جاتا تھا، اور وہ بدعت والے نہ تھے، اور نہ مخالفت اور گڑبڑ پیدا کرنے والے تھے. اور یہی قول ان سے پہلے ائمہ دین کا ہے، اس لئے تم بھی اس کو مضبوطی سے پکڑلو. الله تم پر رحم کرے اور تمہیں بھی وہی علم دے جو علم انھیں دیا اور الله کی توفیق سے.

یہ کتاب (طبقات الحنابلہ) امام احمد بن حنبل رح کے اجتہادی مسائل میں اتباع و تقلید کرنے والے متبعین و مقلدین کے ذکر میں ہے، جو اپنے وقت کے علماء_احادیث تھے.
===========================
غیر مقلدین کے گھر کی گواہی :
اماموں نے اپنے قول کی تقلید کی اجازت دی ہے، اس حالت میں جب کہ خلاف_قرآن و حدیث نہ ہو. (فتاویٰ علماۓ حدیث : ٩/١٤٥)
===========================
ومن زعم أنه لا يرى التقليد ، ولا يقلد دينه أحدًا ، فهو قول فاسق عند اللَّه ورسوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إنما يريد بذلك إبطال الأثر ، وتعطيل العلم والسنة ، والتفرد بالرأي والكلام والبدعة والخلاف.

وهذه المذاهب والأقاويل التي وصفت مذاهب أهل السنة والجماعة الآثار ، وأصحاب الروايات ، وحملة العلم الذين أدركناهم وأخذنا عنهم الحديث ، وتعلمنا منهم السنن ، وكانوا أئمة معروفين ثقات أصحاب صدق ، يقتدى بهم ويؤخذ عنهم ، ولم يكونوا أصحاب بدعة ، ولا خلاف ولا تخليط ، وهو قول أئمتهم وعلمائهم الذين كانوا قبلهم.

فتمسكوا بذلك رحمكم اللَّه وتعلموه وعلموه ، وبالله التوفيق.



شاہ ولی الله محدث دھلوی رح ایسے اقوال کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : یہ اقوال اس شخص کے حق میں صادق آتے ہیں جسے ایک قسم کا "اجتہاد" حاصل ہو، خواہ ایک ہی مسئلہ میں ہو، اور جس پر یہ بات کھلے طور پر واضح ہوگئی ہو کہ نبی (صلی الله علیہ وسلم) نے فلاں بات کا حکم دیا ہے یا فلاں بات سے روکا ہے، اور یہ بات بھی اس پر واضح ہوگئی ہو کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا یہ ارشاد منسوخ نہیں ہے، یا تو اس طرح کہ وہ تمام احادیث کی تحقیق اور مسئلہ سے متعلق مخالفین و موافقین کے اقوال کا تتبع (تحقیق) کر کے اس نتیجے پر پہنچا ہو کہ نسخ کی کوئی دلیل نہیں ہے، یا اس نے متبحر علماء کے جم_غفیر کو دیکھا ہو کہ وہ اس پر عمل کر رہے ہیں، اور اس پر یہ بات ثابت ہوگئی ہو کہ جس امام نے اس حدیث کی مخالفت کی ہے اس پر سواۓ قیاس و استنباط کی وجہ کے کوئی دلیل نہیں ہے، ایسی صورت میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی حدیث کی مخالفت کا سواۓ پوشیدہ نفاق اور کھلم کھلا حماقت کے کوئی سبب نہیں ہوسکتا.
(حجة الله البالغة :١/١٥٥)

چاروں ائمہ نے جو اپنی فقہ مرتب کروائی ، ہر مسئلہ دلیل سے مرتب کروایا ۔ مرتب کروانے کا مقصد اس پر عمل کرانا تھا تو گویا ہر مسئلہ دعوت تقلید ہے ۔ اس لئے جب ان کی یہ فقہ متواتر ہے تو دعوت تقلید بھی ان سے متواتر ثابت ہے ۔ الکفایه کتاب الصوم میں صراحۃ بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے عامی کے لئے تقلید کا وجوب ثابت ہے ۔ ہاں ان ائمہ نے یہ فرمایا :: جو شخص خود اجتہاد کی اہلیت رکھتا ہے اس پر اجتہاد واجب ، تقلید حرام ہے ۔ جو خطاب انہوں نے مجتہدین کو کیا تھا ان کو عوام پر چسپاں کرنا یحرفون اکلم عن مواضعه کی بدترین مثال ہے ۔ ہمارے ہاں مجتہد پر اجتہاد واحب ، غیر مجتہد پر تقلید واجب ہے اور غیر مقلد پر تعزیر واجب ہے ۔
---------------------
امام شافعی رح کے قول"جب صحیح حدیث مل جاۓ تو وہی میرا مذہب ہے" پر عمل کی شرط امام نووی رح نے (المجموع شرح المہذب: مقدمہ؛ ١/١٤٠) پر یہ فرمائی ہے کہ:
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو آدمی بھی کسی حدیث کو صحیح سمجھلے وہ کہنے لگے کہ یہی امام شافعی رح کا مذہب ہےاور اس کے ظاہری معنی پر عمل شروع کردے بلکہ یہ حق تو صرف اس شخص کو پہنچتا ہے جو اجتہاد فی المذہب کے مرتبہ کو پاچکا ہو جس کی تفصیل پہلے بتادی گئی ہے یا پھر کم از کم مرتبہ اجتہاد کے قریب پہنچ چکا ہو، اس کے لئے بہی یہ شرط ہے کہ اس کا غالب گمان ہو کہ امام شافعی رح اس حدیث پر مطلع نہ ہوسکے یا انہوں نے اس کی شرط تسلیم نہ کی تھی. اور یہ فیصلہ تب ہوگا کہ جب امام شافعی رح کی تمام کتابوں کا مطالعہ کرچکا ہو اور اس طرح کی وہ کتابیں اس کے مطالعہ سے گزرچکی ہوں جو امام شافعی رح سے استفادہ کرنے والوں نے تیار کی تھیں یا جو ان کی مثل کتابیں ہیں. تو یہ ایک کڑی شرط ہے کیونکہ اس شان کا آدمی قلیل الوجود ہے.
یہ شرط جو ہم نے ذکر کی اس لئے لگائی گئی ہے کہ امام شافعی رح نے بہت سی ایسی حدیثوں کے "ظاہر" معنی پر عمل نہیں کیا جن کو وہ جانتے بھی تھے اور جن سے وہ اچھی طرح واقف بھی تھےلیکن چونکہ ایسی (معلول/مضطرب/شاذ) حدیثوں میں کسی عیب پر ان کے علم میں دلیل موجود تھی یا ان کا منسوخ ہونا معلوم تھا یا ان میں وہ کسی تخصیص یا تاویل کے وہ قائل تھے، یا اسی طرح کی کوئی بات تھی جس کی وجہ سے انہوں نے ان حدیثوں پر عمل ترک کیا.
شیخ ابو عمرو یعنی حافظ ابن الصلاح رح فرماتے ہیں کہ امام شافعی رح نے جو یہ فرمایا ہے کہ "جب صحیح حدیث مل جاۓ تو وہی میرا مذھب ہے"، اس کے ظاہر پر عمل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے، پس کسی فقیہ کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ بطور خود جس حدیث کو حجت سمجھے اس پر عمل شروع کردے.
-----------------------
شـيـخ الإسـلام إبن تيمية (حنبلی) رحمه الله كـا فـتـوى:
ومن ظنّ بأبي حنيفة أوغيره من أئمة المسلمين أنهم يتعمدون مخالفة الحديث الصحيح
لقياس أو غيره فقد أخطأ عليهم ، وتكلّم إما بظنّ وإمـا بهـوى ، فهـذا أبو حنيفة يعمل بحديث التوضى بالنبيذ في السفر مع مخالفته للقياس ، وبحديث القهقهة في الصلاة مع مخالفته للقياس لاعتقاده صحتهما وإن كان أئمة الحديث لم يصححوهما "
اورجس نے بهی امام أبي حنيفة یا ان کے علاوه دیگر أئمة ُالمسلمين کے متعلق یہ گمان کیا کہ وه قياس یا ( رائے ) وغیره کی وجہ سے حديث صحيح کی مُخالفت کرتے هیں تو اس نے ان ائمہ پر غلط ( وجهوٹ ) بات بولی ، اور محض اپنے گمان وخیال سے یا خواہش وهوی سے بات کی ، اور امام أبي حنيفة تو نَبيذُ التمَر کے ساتهہ وضو والی حدیث پر باوجود ضعیف هونے کے اور مُخالف قیاس هونے کے عمل کرتے هیں الخ
{ مجموع الفتاوي لابن تيمية 20/304، 305. }
شـيـخ الإسـلام إبن تيمية رحمه الله کا فتوی بالکل واضح هے یعنی امام اعظم کے مُتعلق اگرکوئ یہ گمان وخیال بهی کرے کہ وه صحیح حدیث کی مخالفت کرتے هیں اپنی رائے وقیاس سے تو ایسا شخص شـيـخ الإسـلام إبن تيمية رحمه الله کے نزدیک خیالات وخواہشات کا پیروکار هے اور ائمہ مُسلمین پرجهوٹ وغلط بولنے والا هے.


===================================


اجتہاد-و-تقلید = احادیث کی روشنی میں:


باب - جواز_اجتہاد (قیاس) و تقلید:

حدیث # (١) سنن النسائى الصغرى » كِتَاب الطَّهَارَةِ » التَّوْقِيتُ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُقِيمِ ... رقم الحديث: 322 (324)عَنْ طَارِقٍ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " أَصَبْتَ ، فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرَ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى " ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : نَحْوَ مَا قَالَ لِلْآخَرِ يَعْنِي أَصَبْتَ .
مسند أحمد بن حنبل» مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » تتمة مسند الكوفيين » حَدِيثُ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى ...رقم الحديث: 18451(18352)
(2)  الأحاديث المختارة » آخَرُ » طَارِقُ بْنُ شِهَابِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ الْبَجَلِيُّ ... رقم الحديث: 2580

ترجمہ: طارق سے روایت ہے کہ ایک شخص کو نہانے کی حاجت ہوگئی اس نے نماز نہیں پڑھی. پھر وہ رسول اللہ صلے الله علیہ وسلم کے حضور میں حاضر ہوا اور اس قصہ کا ذکر کیا، آپ صلے الله علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ٹھیک کیا. پھر اسی طرح ایک دوسرے شخص کو نہانے کی حاجت ہوئی، اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی. پھر وہ آپ کے حضور میں حاضر ہوا تو آپ نے اس کو بھی ویسی ہی بات فرمائی، جو ایک شخص سے فرما چکے تھے یعنی "تو نے ٹھیک کیا". روایت کیا اس کو نسائی نے.

تشریح : اس حدیث سے اجتہاد اور قیاس کا جواز صاف ظاہر ہے، کیونکہ اگر ان کو اگر نص کی اطلاع ہوتی تو عمل کے سوال کرنے کی ضرورت نہ تھی. اس سے معلوم ہوا کہ دونوں نے اپنے اجتہاد اور قیاس پر عمل کر کے اطلاع دی اور آپ نے دونوں کی تحسین اور تصویب فرمائی اور مسلّم ہے کہ حضرت شارع علیہ السلام کی تقریر یعنی کسی امر (بات) کو سن کر رد-و-انکار نہ فرمانا بالخصوص تشریحاً اس کی مشروعیت کا اثبات فرمانا دلیل_شرعی ہے اس امر کی صحت پر. پس ثابت ہوا کے رسول الله صلے الله علیہ وسلم کے صحابہ رضی الله عنھم نے (اپنی راۓ) قیاس سے اور آپ نے اس کو جائز رکھا. پس جواز_قیاس (راۓ) پر کچھ شبہ نہ رہا.
تنبیہ : دونوں کو یہ فرمانا کہ "ٹھیک کیا" اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کو ثواب ملا اور یہ مطلب نہیں کہ اب بعد ظاہر ہونے حکم کے بھی ہر ایک کو اختیار ہے کہ چاہے تیمم کرے اور چاہے نہ کرے، چاہے نماز پڑھے اور چاہے نہ پڑھے.

********************************************************
حدیث # (٢) عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاص ، قَالَ : " احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ ، فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا عَمْرُو ، صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الِاغْتِسَالِ ، وَقُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ ، يَقُولُ : وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29 ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا " أخرجه سنن أبي داود : رقم الحديث: 283(334)

(1) مصنف عبد الرزاق » كِتَابُ الطَّهَارَةِ » بَابُ الرَّجُلِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فِي أَرْضٍ ... رقم الحديث: 847(878)
(2) مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » مُسْنَدُ الشَّامِيِّينَ » بَقِيَّةُ حَدِيثِ عَمْروِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ ...ورقم الحديث: 17466(17356)
(3) صحيح ابن حبان » كِتَابُ الطَّهَارَةِ » بَابُ التَّيَمُّمِ , رقم الحديث: 1337(1315)
(4) تفسير القرآن لابن المنذر » سورة النساء » قوله جَلَّ وَعَزَّ : وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ... رقم الحديث: 497(1644)
(5) تفسير ابن أبي حاتم » سُورَةُ النِّسَاءِ » قَوْلُهُ تَعَالَى : وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ..., رقم الحديث: 5234(5187)
(6) سنن الدارقطني » كِتَابُ الطَّهَارَةِ » بَابُ التَّيَمُّمِ, رقم الحديث: 596(670)
(7) المستدرك على الصحيحين: ابْنُ الرَّبِيعِ, رقم الحديث: 585(1:177)

ترجمہ: حضرت عمرو بن العاص (رضی الله عنھم) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو غزوہ ذات السلاسل سے سفر میں ایک سردی کی رات کو احتلام ہوگیا اور مجھ کو اندیشہ ہوا کہ اگر غسل کرونگا تو شاید ہلاک ہوجاون گا. میں نے تیمم کر کے ہمراہیوں کو صبح کی نماز "پڑھادی". ان لوگوں نے جناب_رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) کے حضور میں اس قصہ کو ذکر کیا. آپ (صلے الله علیہ وسلم) نے فرمایا: اے عمرو! تم نے جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھا دی. میں نے جو امر (بات) مانع (رکاوٹ) تھا اس کی اطلاع دی اور عرض کیا کہ میں نے الله عزوجل کا یہ فرمان سنا کہ"اپنی جانوں کو قتل مت کرو، بیشک اللہ (تعالیٰ) تم پر مہربان ہے.[سورہ النساء:٢٩] پس رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) ہنس پڑے اور کچھ نہیں فرمایا.-روایت کیا اس (حدیث) کو ابو-داود نے.

فائدہ: یہ حدیث بھی اجتہاد-و-قیاس پر دلالت کرتی ہے. چناچہ حضور پرنور (صلے الله علیہ وسلم) کے دریافت فرمانے پر حضرت عمرو بن العاص (رضی الله عنہ) نے اپنی وجہ استدلال کی تقریر بھی کردی اور آپ (صلے الله علیہ وسلم) نے اسے (تقريرا) جائز  بھی رکھا. (تقریر یعنی کسی امر (بات) کو سن کر رد-و-انکار نہ فرمانا)
*****************************************************
حدیث # (٣) سنن النسائى الصغرى » كِتَاب الطَّهَارَةِ » التَّوْقِيتُ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُقِيمِ ...، رقم الحديث: ٤٣٠(٤٣٣)عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، " أَنَّ رَجُلَيْنِ تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا مَاءً فِي الْوَقْتِ فَتَوَضَّأَ أَحَدُهُمَا وَعَادَ لِصَلَاتِهِ مَا كَانَ فِي الْوَقْتِ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ ، فَسَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ : أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ ، وَقَالَ لِلْآخَرِ : أَمَّا أَنْتَ فَلَكَ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ " . رواہ نسائی

(١) سنن الدارمي » كِتَاب الطَّهَارَةِ، رقم الحديث: ٧٣٩(٧٤٤)
(٢) سنن أبي داود » كِتَاب الطَّهَارَةِ، رقم الحديث: ٢٨٦(٣٣٨)
(٣) المعجم الأوسط للطبراني » بَابُ الْأَلِفِ » مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ، رقم الحديث: ١٨٨٠(١٨٤٢)
(٤) المعجم الأوسط للطبراني » بَابُ الْمِيمِ » بَابُ مَنِ اسْمُهُ مَحْمُودٌ، رقم الحديث: ٨١٣٨(٧٩٢٢)
(٥) سنن الدارقطني » كِتَابُ الطَّهَارَةِ » بَابُ جَوَازِ التَّيَمُّمِ لِصَاحِبِ الْجَرَّاحِ مَعَ ...رقم الحديث: ٦٣٩(٧١٧)
(٦) المستدرك على الصحيحين، الحاکم » ابْنُ الرَّبِيعِ » رقم الحديث: ٥٨٩(١:١٧٨)
(٧) السنن الكبرى للبيهقي » جُمَّاعُ أَبْوَابِ الاسْتِطَابَةِ، رقم الحديث: ١٠١٢(١:٢٣١)
(٨) الفقيه والمتفقه للخطيب » الْفَقِيهُ وَالْمُتَفَقِّهُ لِلْخَطِيبِ الْبَغْدَادِيُّ ... » بَابُ الْقَوْلِ فِي الاحْتِجَاجِ بِصَحِيحِ الْقِيَاسِ ...رقم الحديث: ٣٣٨(١:١٩٤)

ترجمہ: حضرت ابو سعید (رضی الله عنہ) سے روایت ہے کہ دو شخصوں نے تیمم کرکے نماز پڑھی، پھر وقت کے رہتے رہتے پانی مل گیا، سو ایک نے تو وضو کرکے نماز "لوٹالی" اور دوسرے نے نماز نہیں لوٹائی، پھر دونوں نے رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) سے سوال کیا. جس شخص نے نماز کا اعادہ (لوٹانا) نہیں کیا تھا، اس سے آپ (صلے الله علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تو نے سنّت کے موافق کیا اور وہ پہلی نماز تجھ کو کافی ہوگئی. اور دوسرے شخص کو فرمایا کہ تجھ کو پورا حصّہ ثواب کا ملا (یعنی دونوں نمازوں کا ثواب)- روایت کیا اس (حدیث) کو نسائی نے.

فائدہ: ظاہر ہے کہ ان دونوں صحابیوں نے اس واقعہ میں قیاس(راۓ) پر عمل کیا، اور رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) نے کسی پر ملامت نہیں فرمائی. البتہ ایک کا قیاس سنّت کے مطابق صحیح نکلا اور دوسرے کا غیر-صحیح(غلط بھی نہیں)، سو یہ عین مذہب "محققین" کا ہے کہ "المجتہد مخطي ويصيب" یعنی مجتہد کبھی صحیح نکلتا ہے کبھی خطا. مگر آپ (صلے الله علیہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ تو نے قیاس پر عمل کیوں کیا. پس جواز قیاس کا واضح ہوگیا. یہ سب احادیث بالاشتراک جواز_قیاس پر دلالت کرتی ہیں اور سب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نص_صریح نہ ملنے کے وقت صحابہ (رضی الله عنھم) باذن_رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) سے اجتہاد(قیاس) کرتے تھے.
********************************************************
حدیث # (٤) سنن أبي داود » كِتَاب الْفَرَائِضِ » بَاب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الصُّلْبِ، رقم الحديث: ٢٥١٠(٢٨٩٢

 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَسَّانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، وَرَّثَ أُخْتًا وَابْنَةً فَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا النِّصْفَ ، وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ .
تخريج:  
صحيح البخاري » كِتَاب الْفَرَائِضِ »  بَاب مِيرَاثِ الْبَنَاتِ، رقم الحديث: ٦٢٦٧(٦٢٣٤)

ترجمہ: أسود بن يزيد سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ  ہمارے پاس معاذ (بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ) یمن میں معلم اور امیر ہو کر آئے تو ہم نے ان سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو فوت ہوگیا اور ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑ کر گیا تو انہوں نے بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف دلایا۔

تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول الله(صلے الله علیہ وسلم) کے زمانہ_مبارک میں تقلید جاری تھی، کیونکہ تقلید کہتے ہیں "کسی کا قول محض اس حسن_ظن(اعتماد) پر مان لینا کہ یہ "دلیل" کے موافق بتلادےگا اور اس سے دلیل کی تحقیق نہ کرنا".( اسی طرح تقلید_شخصی بھی ثابت ہوتی ہے. کیونکہ جب رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے تعلیم_احکام کے لئے یمن بھیجا تو يقينا اہل_یمن کو اجازت دی کہ ہر مسئلے میں ان سے رجوع کریں اور یہی تقلید_شخصی ہے.) سو قصہ_مذکورہ میں گویا جواب قیاسی نہیں سو اس وجہ سے ہم نے اس سے جواز_قیاس پر استدلال نہیں کیا لیکن سائل نے تو دلیل دریافت نہیں کی اور ان کے محض تدین کے اعتماد پر قبول کرلیا اور یہی تقلید ہے اور یہ حضرت معاذ بن جبل (رضی الله عنہ) خود رسول الله(صلے الله علیہ وسلم) کے بھیجے ہوۓ ہیں. پھر اس جواب کے اتباع پر جو کہ رسول الله(صلے الله علیہ وسلم) کی حیات میں تھا، نہ حضور سے انکار ثابت نہ کسی سے اختلاف اور رد منقول. پس اس سے "جواز_تقلید" کا اور حضور(صلے الله علیہ وسلم) کی حیات میں اس کا بلا نکیر شایع ہونا ثابت ہوگیا.
********************************************************
حدیث براے جواز_تقلید: = بلا علم فتویٰ  دینا اور لینا کیسا ہے؟
حدیث # (٥) سنن أبي داود » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب التَّوَقِّي فِي الْفُتْيَا رقم الحديث: 3175 رقم الحديث: ٣١٧٥(٣٦٥٧)
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ"

(١) سنن الدارمي: رقم الحديث: ١٥٩
(٢) الأدب المفرد للبخاري » الأدب المفرد للبخاري » بَابُ : إِثْمِ مَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِغَيْرِ ...رقم الحديث: ٢٥٥(٢٥٩)
(٣) سنن ابن ماجه: رقم الحديث: ٥٢(٥٣)
(٤) المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي: ذِكْرُ مَا يُؤْثَرُ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى ...، رقم الحديث: ٦٣٤(٧٨٩)
(٥) جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر » بَابُ اجْتِهَادِ الرَّأْيِ عَلَى الأُصُولِ عِنْدَ ...رقم الحديث: ١٠٠٨(١٦٢٥)

ترجمہ:  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جس شخص نے (کسی کو) بغیر علم کے فتوی دیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا". سلیمان المہری نے اپنی روایات میں اتنا اضافہ اور کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے بھائی کو ایسے کام کا مشورہ دیا جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ فائدہ اس کے غیر میں ہے تو اس نے خیانت کی۔

فائدہ: دیکھئے اگر تقلید جائز نہ ہوتی اور کسی کے فتوے پر بدوں_معرفت (پہچانے بغیر=دلیل کے) کے عمل جائز نہ ہوتا جو حاصل ہے تقلید کا تو گناہگار ہونے میں مفتی کی کیا تخصیص تھی؟ جیسا سیاق کلام سے مفہوم ہوتا ہے، بلکہ جس طرح مفتی کو غلط فتویٰ بتانے کا گناہ ہوتا ہے اسی طرح سائل کو دلیل تحقیق نہ کرنے کا گناہ ہوتا. پس جب شارع عليه السلام نے باوجود تحقیق_دلیل نہ کرنے کے عاصي(گناہگار) نہیں ٹھہرتا تو جواز_تقلید يقينا ثابت ہوگا. آگے صحابہ (رضی الله عنہ) کا تعامل دیکھئے. 
********************************************************
حدیث # (٦) موطأ مالك رواية يحيى الليثي » كِتَاب الْبُيُوعِ » بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّبَا فِي الدَّيْنِ، رقم الحديث: ١٣٤٦(١٣٧٧)
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ " يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ عَلَى الرَّجُلِ إِلَى أَجَلٍ ، فَيَضَعُ عَنْهُ صَاحِبُ الْحَقِّ وَيُعَجِّلُهُ الْآخَرُ ، فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَنَهَى عَنْهُ ".
(تيسير كلكته: صفه#٢٣، كتاب البيع، باب رابع، فروع في الحيوان)
ترجمہ: حضرت سالم سے روایت ہے کہ حضرت ابن_عمر (رضی اللہ عنہ) سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ کسی شخص کا دوسرے شخص پر کچھ میعادی-دین (قرض) واجب ہے اور صاحب_حق (قرض-خواہ) اس میں سے کسی قدر اس شرط سے معاف کرتا ہے کہ وہ قبل از میعاد (وقت_مقررہ سے پہلے) اس کا دین(قرض) دیدے،(تو یہ طریقہ/عمل کیسا ہے؟). آپ نے اس کو ناپسند فرمایا اور منع فرمایا.

فائدہ: چونکہ اس مسئلہ_جزئیہ میں کوئی حدیث_مرفوع صریح منقول نہیں، اس لئے یہ حضرت ابن_عمر (رضی الله عنہ) کا قیاس ہے اور چونکہ سائل نے دلیل نہیں پوچھی اس لئے اس کا قبول کرنا تقلید ہے اور حضرت ابن_عمر (رضی الله عنہ) کا دلیل بیان نہ کرنا خود تقلید کو جائز رکھتا ہے. پس حضرت ابن_عمر(رضی الله عنہ) کے فعل سے قیاس-و-تقلید دونوں کا جواز ثابت ہوگیا جیسا کہ ظاہر ہے.
**********************************************************
حدیث # (٧) موطأ مالك رواية يحيى الليثي » كِتَاب الْبُيُوعِ » بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ السَّلَفِ،رقم الحديث: ١٣٥٤(١٣٨٥)

حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ فِي رَجُلٍ : " أَسْلَفَ رَجُلًا طَعَامًا عَلَى أَنْ يُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فِي بَلَدٍ آخَرَ " ، فَكَرِهَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . وَقَالَ : " فَأَيْنَ الْحَمْلُ ؟ " يَعْنِي حُمْلَانَهُ .
(تيسير كلكته: صفه#٣٤، كتاب البيع، باب سابع)

ترجمه: إمام مالك سے مروی ہے کہ ان کو یہ خبر پہچی ہے کہ حضرت عمر (رضی الله عنہ) سے  ایک شخص کے مقدمہ میں دریافت کیا گیا کہ اس نے کچھ غلہ اس شرط پر کسی کو قرض دیا کہ وہ شخص اس کو دوسرے شہر میں ادا کرے. حضرت عمر (رضی الله عنہ) نے اسے ناپسند کیا اور فرمایا کہ کرایا باربرداری کا کہاں گیا.

فائدہ: چونکہ اس مسئلہ_جزئیہ میں بھی کوئی حدیث_مرفوع صریح مروی نہیں، لہذا یہ جواب قیاس سے تھا، اور چونکہ جواب کا ماخذ(دلیل) نہ آپ نے بیان فرمایا نہ سائل نے پوچھا بدوں دریافت دلیل کے (سواۓ دلیل پوچھنے کے) قبول کرلیا یہ تقلید ہے جیسا کہ اس سے اوپر والی حدیث کے ذیل میں بیان کیا گیا. پس دونوں کا جواز حضرت عمر (رضی الله عنہ) کے فعل سے بھی ثابت ہوگیا.
**********************************************************
حدیث # (٨) موطأ مالك رواية يحيى الليثي » كِتَاب الْحَجِّ » بَابُ هَدْيِ مَنْ فَاتَهُ الْحَجُّ، رقم الحديث: ٨٤٦

حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ خَرَجَ حَاجًّا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالنَّازِيَةِ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ أَضَلَّ رَوَاحِلَهُ ، وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : " اصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ ، ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ فَإِذَا أَدْرَكَكَ الْحَجُّ قَابِلًا فَاحْجُجْ ، وَأَهْدِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ " .(تيسير كلكته: صفه#٣١، كتاب الحج، باب حادي عشر، فصل ثالث)

ترجمه:سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری(رضی الله عنہ) حج کرنے کو نکلے جب نازیہ میں پہنچے مکہ کے راستے میں تو وہ اپنی اونٹنیاں کھو بیٹھے اور یوم النحر(دسویں تاریخ ذی الحجہ) میں جبکہ حج ہو چکا تھا حضرت عمر (رضی الله عنہ) کے پاس آۓ اور یہ سارا قصہ بیان کیا. آپ نے فرمایا: جو عمرہ والا کیا کرتا ہے اب تم بھی وہی کرو، پھر تمہارا احرام کھل جاویگا، پھر جب آئندہ سال حج کا زمانہ آوے تو حج کرو اور جو کچھ میسر ہو قربانی ذبح کرو.

فائدہ:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو صحابہ(رضی الله عنھم) اجتہاد نہ کر سکتے تھے، وہ مجتہدین صحابہ (رضی الله عنھم) کی تقلید کرتے تھے، کیونکہ حضرت ابو ایوب انصاری (رضی الله عنہ) بھی صحابی تھے اور انہوں نے حضرت عمر (رضی الله عنہ) سے دلیل فتویٰ کی نہیں پوچھی. اب تابعین کی روایت تقلید سنیے.
*******************************************************
حدیث # (٩) سنن أبي داود » كِتَاب الْأَشْرِبَةِ » بَاب فِي نَبِيذِ الْبُسْرِ،رقم الحديث: ٣٢٢٥

 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، وَعِكْرِمَةَ ، أَنَّهُمَا كَانَا يَكْرَهَانِ الْبُسْرَ وَحْدَهُ وَيَأْخُذَانِ ذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " أَخْشَى أَنْ يَكُونَ الْمُزَّاءُ الَّذِي نُهِيَتْ عَنْهُ عَبْدُ القَيْسِ " ، فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ : مَا الْمُزَّاءُ ؟ ، قَالَ : النَّبِيذُ فِي الْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ .
(تيسير كلكته: صفحة # ٢٠٠، كتاب الشراب، باب ثاني، فصل رابع)

ترجمه: محمد بن بشار، معاذ بن ہشام، قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن زید اور حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بن ابی جہل) دونوں (خیساندہ کے لئے) خرماۓ نیم پختہ  (یعنی صرف خشک کھجور کی نبیذ) کو ناپسند کرتے تھے اور اس (فتویٰ) کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لیتے تھے، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خدشہ ہوا کہ کہیں یہ خشک (کھجور کی نبیذ) مزا نہ ہو جس سے عبدالقیس کے وفد کو منع کیا گیا تھا (ہشام کہتے ہیں) میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ مزا کیا ہے؟ فرمایا کہ حنتم اور مزفت میں بنی ہوئی نبیذ۔

فائدہ:
صرف حضرت ابن_عباس (رضی الله عنہ) کے قول سے احتجاج کرنا تقلید ہے.
***********************************************************
حدیث # (١٠) موطأ مالك رواية يحيى الليثي » كِتَاب الْبُيُوعِ » بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّبَا فِي الدَّيْنِ، رقم الحديث:1345
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى السَّفَّاحِ ، أَنَّهُ قَالَ : " بِعْتُ برامن (او بَزًّالِي ) مِنْ أَهْلِ دَارِ نَخْلَةَ إِلَى أَجَلٍ ، ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى الْكُوفَةِ ، فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ أَضَعَ عَنْهُمْ بَعْضَ الثَّمَنِ وَيَنْقُدُونِي ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَقَالَ : " لَا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَ هَذَا وَلَا تُوكِلَهُ " .

ترجمہ: عبید بن ابی صالح سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے دار نخلہ والوں کے ہاتھوں  کچھ گیہوں (یا اپنا کپڑا) فروخت کیے اور داموں کے لئے ایک میعاد(مقررہ وقت) دیدی, پھر میں نے کوفہ جانا چاہا تو ان لوگوں نے مجھ سے اس بات کی درخواست کی کہ میں ان کو کچھ دام چھوڑدوں اور وہ لوگ مجھے نقد (ابھی) گِن(کر)دیں. میں نے حضرت زید بن ثابت (رضی الله عنہ) سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: کہ نہ میں اس "فعل" کی تم کو اجازت دیتا ہوں اور نہ اس کے "کھانے" کی اور نہ اس کے "کھلانے" کی.

فائدہ: اس واقعہ میں بھی عبید بن ابی صالح نے حضرت زید بن ثابت (رضی الله عنہ) سے مسئلہ کی دلیل نہیں پوچھی یہی تقلید ہے اور صحابہ (رضی الله عنھم) و تابعین (رحمہ اللہ علیھم) سے اس قسم کے آثار اسی طرح خود جناب_رسالت (صلے الله علیہ وسلم) کے عہد_مبارک میں روایت استفتاء و افتاء بلا-نقل_دلیل کے باہم صحابہ میں یا تابعین و صحابہ میں اس کثرت سے منقول ہیں کہ حصر ان کا دشوار ہے اور کتب_حدیث (خصوصاً مصنفات) دیکھنے والوں پر مخفی نہیں.
======================================================
 مقصد_دوم = 
اجتہاد سے جس طرح حکم کا استنباط جائز ہے، اسی طرح حدیث کو معلل سمجھ کر مقتضاۓ علت پر عمل کرنا، جس کا حاصل احکام_وضعية کی تعیین ہے مثل احکام_تكليفية کے، یا احد الوجوہ پر محمول کرنا، یا مطلق کو مقید کرلینا اور ظاہر الفاظ پر عمل نہ کرنا، حدیث کی مخالفت یا ترک نہیں. اس لئے ایسا اجتہاد بھی جائز ہے اور ایسے اجتہاد کی تقلید بھی جائز ہے.

حدیث # (١) صحيح البخاري » كِتَاب الْمَغَازِي » بَاب مَرْجِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ...،رقم الحديث: ٣٨٣٧(٤١١٩)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ , حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ " , فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ , فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا , وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ نُصَلِّي لَمْ يُرِدْ مِنَّا ذَلِكَ , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ .

تخریج:

(١) صحيح البخاري » كِتَاب الْأَذَانِ » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ، رقم الحديث: ٩٠٠(٩٤٦)

(٢) صحيح مسلم » كِتَاب الْجِهَاد وَالسِّيَرِ » بَاب مَنْ لَزمَهُ فَدَخَلَ عَلَيه أَمْرًا آخَرُ، رقم الحديث: ٣٣٢٣(١٧٧٢)

(٣) الطبقات الكبرى لابن سعد » ذِكْرُ عَدَدِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ ..، رقم الحديث: ١٦٤٦(٢:٢٨٧)

(٤) معجم أبي يعلى الموصلي » بَابُ الْعَيْنِ، رقم الحديث: ٢٠٨(٢٠٩)

(٥) مستخرج أبي عوانة » كِتَابُ الْحُدُودِ » بَابُ الْخَبَرِ المُوجِبِ قَتْلَ الثَّيِّبِ الزَّانِي ...،رقم الحديث: ٥٢٩٦(٦٧٢٢)

(٦) صحيح ابن حبان » كِتَابُ الصَّلاةِ » بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلاةِ، رقم الحديث: ١٤٩٢(١٤٦٢)

(٧) دلائل النبوة للبيهقي » الْمَدْخَلُ إِلَى دَلائِلِ النُّبُوَّةِ وَمَعْرِفَةِ ... » جِمَاعُ أبْوَابِ غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ , وَهِيَ الأَحْزَابِ ...رقم الحديث: ١٣٨٥(٤:٦)

(٨) السنن الكبرى للبيهقي » كِتَابُ النَّفَقَاتِ » جِمَاعُ أَبْوَابِ قَطْعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ فِي السَّرِقَةِ ...رقم الحديث: ١٨٧٥٢(١٠:١١٩)

(٩) جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر » بَابٌ : نُكْتَةٌ يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى اسْتِعْمَالِ ...رقم الحديث: ١٠١٣(١٦٣٥)

(١٠) الفقيه والمتفقه للخطيب » الْفَقِيهُ وَالْمُتَفَقِّهُ لِلْخَطِيبِ الْبَغْدَادِيُّ ... » بَابُ الْقَوْلِ فِي الاحْتِجَاجِ بِصَحِيحِ الْقِيَاسِ ...رقم الحديث: ٣٣٥(١:١٩٣)
(١١) تاريخ الإسلام الذهبي » السَّنَةُ الْخَامِسَةُ، رقم الحديث: ٩٣٥(٢:٣٠٨)

ترجمه: (بخاری میں) حضرت ابن_عمر(رضی الله عنہ) سے روایت ہے کہ رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) نے یوم الحزاب میں صحابہ (رضی اللھ عنھم) سے فرمایا کہ عصر کی نماز بنی قریظہ سے پہنچنے سے ادھر کوئی نہ پڑھے اور بعض صحابہ کو راہ میں عصر کا وقت آگیا تو باہم راۓ مختلف ہوئی. بعض نے کہا کہ ہم نماز نہ پڑھیںگے جب تک ہم اس جگہ نہ پہنچ جائیں اور بعض نے کہا کہ نہیں ہم تو پڑھیںگے، رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) کا یہ مطلب نہیں (بلکہ مقصود تاکید ہے جلدی پہنچنے کی، کہ ایسی کوشش کرو کہ عصر سے قبل وہاں پہنچ جاؤ)، پھر یہ قصہ آپکے حضور میں ذکر کیا، آپنے کسی پر بھی ملامت و سزائیں نہیں فرمائیں.

فائدہ: اس واقعہ میں بعض نے قوت_اجتہادیہ سے اصلی غرض سمجھ-کر جو کہ احد الوجھیں المحتملين ہے نماز پڑھ لی، مگر آپ (صلے الله علیہ وسلم) نے ان پر یہ ملامت نہیں فرمائی کہ تم نے ظاہر معنى کے خلاف کیوں عمل کیا اور ان کو بھی عمل بالحدیث کا تارک نہیں قرار دیا.
 **************************************
ظاہری الفاظ_حدیث کے خلاف عمل کرنے کی جائز صورت کون سی اور کسی ہوتی ہے:
حدیث # (٢) صحيح مسلم » كِتَاب التَّوْبَةِ » بَاب بَرَاءَةِ حَرَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ...،رقم الحديث: ٤٩٨١(٢٧٧٤)

 حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُتَّهَمُ بِأُمِّ وَلَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِعَلِيٍّ اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ " ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ ، فَإِذَا هُوَ فِي رَكِيٍّ يَتَبَرَّدُ فِيهَا ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : اخْرُجْ فَنَاوَلَهُ يَدَهُ فَأَخْرَجَهُ ، فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ لَيْسَ لَهُ ذَكَرٌ فَكَفَّ عَلِيٌّ عَنْهُ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَمَجْبُوبٌ مَا لَهُ ذَكَرٌ " .

تخريج :

(١) مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » بَاقِي مُسْنَد المُكْثِرِينَ مِنَ الصَّحَابَةِ، رقم الحديث: ١٣٧١٠(١٣٥٧٧)

(٢) أحاديث عفان بن مسلم: رقم الحديث: ٢٤١(٣٠٣)

(٣) المستدرك على الصحيحين » كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ... » ذِكْرُ سَرَارِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ...رقم الحديث: ٦٨٩٣(٤:٣٩)

(٤) المستدرك على الصحيحين » كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ... » ذِكْرُ سَرَارِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ...رقم الحديث: ٦٨٩٤(٤:٣٩)

(٥) الطبقات الكبرى لابن سعد » طَبَقَاتُ الْكُوفِيِّينَ » ذِكْرُ مَارِيَةَ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ رَسُولِ ...رقم الحديث: ١٠٣٢٨(٨:٣٥٦)

(٦) الاستيعاب في معرفة الأصحاب لابن عبد البر » كتاب النساء وكناهن » باب الميم،رقم الحديث: ٣٨٦(٣٥٢٥)

(٧) غوامض الأسماء المبهمة لابن بشكوال » مأبور مولى النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ...، رقم الحديث: ٤٤١(١:٤٩٧)

ترجمہ: حضرت انس (رضی الله عنہ) سے روایت ہے کہ ایک شخص ایک لونڈی ام_ولد سے متہم تھا. آپ (صلے الله علیہ وسلم) نے حضرت علی (رضی الله عنہ) سے فرمایا کہ جاؤ اس کی گردن مارو. حضرت علی جب اس کے پاس تشریف لاۓ تو اس کو دیکھا کہ ایک کنویں میں اترا ہوا بدن ٹھنڈا کر رہا ہے. آپ نے فرمایا: کہ باہر نکل. اس نے اپنا ہاتھ دے دیا. آپ نے اسے نکالا تو وہ مقطوع الذکر (یعنی اس کا عضو تناسل کٹا ہوا) نظر آیا. آپ اس کو سزا دینے سے رک گئے اور رسول اللہ (صلے الله علیہ وسلم) کو (اس بات کی) خبر دی. آپ (صلے الله علیہ وسلم) نے ان کے (اس سزا نہ دینے والے) فعل کو مستحسن (پسند) فرمایا. اور ایک روایت میں مزید یہ بھی آیا ہے کہ آپ (صلے الله علیہ وسلم) نے فرمایا کہ "پاس والا وہ ایسی بات دیکھ سکتا ہے، جو دور والا نہیں دیکھ سکتا".

فائدہ:
 اس واقعہ میں رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) کا خاص اور صاف حکم موجود تھا، حضرت علی (رضی الله عنہ) نے اسے معلل بعلت (حکم_سزا کو کسی خاص علت-و-وجہ زنا کرنے پر موقوف) سمجھا اور چونکہ اس علت-و-وجہ کا وجود (عضو تناسل) نہ پایا اس لئے سزا نہیں دی اور حضور نے اس کو جائز اور پسند فرمایا حالانکہ یہ عمل ظاہر اطلاق_حدیث کے خلاف تھا. اس سے معلوم ہوا کے حدیث کی لم اور علت سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنا گو بظاھر الفاظ سے بعید(دور) معلوم ہو مگر عمل-بالحدیث کے خلاف نہیں.
****************************************************
حدیث # (٣) صحيح البخاري » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب مَنْ خَصَّ بِالْعِلْمِ قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ كَرَاهِيَةَ ...رقم الحديث: ١٢٦(١٢٨)


حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنَ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمُعاذٌ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ ، قَالَ : يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : يَا مُعَاذُ ، قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ثَلَاثًا ، قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ ، إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا ، قَالَ : إِذًا يَتَّكِلُوا " ، وَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا . (متفق عليه)

تخريج :

(١) مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » بَاقِي مُسْنَد المُكْثِرِينَ مِنَ الصَّحَابَةِو رقم الحديث: ١٢٣٦٧(١٢١٩٥)

(٢) صحيح مسلم » كِتَاب الإِيمَانِ » بَاب مَنْ لَقِيَ اللَّهِ بَالإِيمَانِ وَهُوَ غَيْرُ ...ورقم الحديث: ٥٠(٣٥)

(٣) السنن الكبرى للنسائي » كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ » أَبْوَابُ الْمُلاعِبَةِ، رقم الحديث: ١٠٤٧٢(١٠٩٠٨)

(٤) التوحيد لابن خزيمة » أَبْوَابُ : إِثْبَاتِ صِفَةِ الْكَلامِ لِلَّهِ عَزَّ ...رقم الحديث: ٤٩٠-٤٩١ (٥١٥-٥١٦)

(٥) المعجم الكبير للطبراني » بَقِيَّةُ الْمِيمِ » مَنِ اسْمُهُ مُعَاذٌ، رقم الحديث: ١٦٥٣٧+١٦٥٤٠(٧٥+٧٨)

(٦) الإيمان لابن منده » رقم الحديث: ٩١+٩٧

(٧) المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم » كِتَابُ الإِيمَانِ » بَابُ قَوْلِهِ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ...رقم الحديث: ١٢٠(١٤٢)

(٨) شرح السنة » كِتَابُ الإِيمَانِ » بَابُ بَيَانِ أَعْمَالِ الإِسْلامِ وَثَوَابِ إِقَامَتِهَا ...رقم الحديث: ٤٧(٤٩)

(٩) شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي » بَابُ جُمَّاعِ الْكَلامِ فِي الإِيمَانِ » جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، رقم الحديث: ١٢٦٥(١٥٦٤)

(١٠) مجلس من أمالي أبي موسى المديني » بَابُ مَا يُسِّرَ لَهُ فِي النِّعْمَةِ مِنْ كَوْنِهِ ...رقم الحديث: ٦

(١١) أحاديث الشيرازي » مَا جَاءَ فِيمَنْ حَفَرَ بِئْرًا أَوْ سَرَبًا لِلْمَاءِ ...،رقم الحديث: ١

(١٢) جزء أبي العباس بن عصم » رقم الحديث: ٦١

(١٣) سير أعلام النبلاء الذهبي » رقم الحديث: ٢٥٥

(١٤) إثارة الفوائد » تصانيف الإمام أَبِي بكر عَبْد اللَّه بْن مُحَمَّد ...، رقم الحديث: ١٩٦

(١٥) أمالي أبي سعد البصروي » تَعْجِيلُ إِخْرَاجِ الْفَيْءِ وَقِسْمَتُهُ بَيْنَ ...،رقم الحديث: ٩٢

(١٦) الأربعون الكيلانية » أَبْوَابُ الزِّيَارَاتِ » رقم الحديث: ١٥(١:٣١)

ترجمه:
 حضرت انس بن مالک (رضی الله عنہ) کہتے ہیں کہ حضرت معاذ (رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہمراہ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار تھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان سے فرمایا: اے معاذ! انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) وسعدیک. آپ نے (پھر) فرمایا: اے معاذ! انہوں نے (بھی پھر) عرض کیا لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) وسعدیک تین مرتبہ (ایسا ہی ہوا) آپ نے فرمایا کہ "جو کوئی اپنے سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ سوا الله کے کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ اس پر (دوزخ کی) آگ حرام کر دیتا ہے"۔ معاذ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کیا میں لوگوں کو اس کی خبر کردوں؟ تاکہ وہ خوش ہوجائیں. آپ نے فرمایا کہ اس وقت جب کہ تم خبر کر دوگے لوگ (اسی پر) بھروسہ کرلیں گے اور عمل سے باز رہیں گے۔ (یعنی عمل کو چھوڑدینگے). حضرت معاذ نے یہ حدیث اپنی موت کے وقت اس خوف سے بیان کردی کہ کہیں (حدیث کے چھپانے پر ان سے) مواخذہ نہ ہوجاۓ.

فائدہ: دیکھئے یہ حدیث لفظ کے اعتبار سے نہی عن الاخبار (خبر دینے سے روکنے) میں صریح اور مطلق ہے. مگر حضرت معاذ (رضی الله عنہ) نے قوت_اجتہادیہ سے اول بمشورہ و مقید بزمان احتمال اتکال سمجھا اس لئے آخر عمر میں اس حدیث کو ظاہر کردیا. اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ (رضی الله عنہم) نصوص کے ساتھ ایسا معاملہ کرنے کو مذموم نہ جانتے تھے، ورنہ ایسے واقعات میں ظاہر یہ تھا کہ ان احکام کو مقصود بالذات سمجھ کر علت و قید سے بحث نہ کرتے اور ان نصوص_جزئیہ کی وجہ سے اپنے دوسرے دلائل_متعارضہ علمیہ سے مخصوص جان لیتے.  
 ******************************************************
حدیث # (٥) صحيح مسلم » كِتَاب اللِّعَانِ، رقم الحديث: ٢٧٦٠(١٤٩٩)

 أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، قَالَ سَعْدٌ : بَلَى ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ " .

تخريج :

(١) سنن أبي داود » كِتَاب الدِّيَاتِ » بَاب فِي مَنْ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ...رقم الحديث: ٣٩٣١(٤٥٣٢)

(٢) سنن ابن ماجه » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، رقم الحديث: ٢٥٩٧(٢٦٠٥)

(٣) مستخرج أبي عوانة » مُبْتَدَأُ كِتَابِ الطَّلاقِ » بَابُ الْخَبَرِ النَّاهِي عَنْ قَتْلِ الرَّجُلِ الزَّانِي ...رقم الحديث: ٣٧٤٥(٤٧١٩)

(٤) بحر الفوائد المسمى بمعاني الأخيار للكلاباذي » وقوله عزَّ وجلَّ : يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ...،رقم الحديث: ١٤٩

ترجمه: حضرت سعد بن عبادہ (رضی اللہ تعالیٰ)عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! ایک مرد اپنی بیوی کے پاس ایک غیر مرد کو دیکھتا ہے (حرام کاری کرتے ہوئے)، تو کیا اسے قتل کردے؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نہیں۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کیوں نہیں؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت عطا فرمائی میں تو اسے قتل کردوں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سنو تمہارے "سردار" کیا کہتے ہیں

فائدہ: ظاہر بینوں کو بلکل یہ یقین ہوسکتا ہے ان صحابی نے نعوذ بالله حدیث کو رد کردیا مگر حاشا و کلا ورنہ رسول الله صلے الله علیہ وسلم انھیں زجر فرماتے نہ یہ کہ الٹی ان کی تعریف فرماویں اور تعظیمی lafs "سید" سے ان کو مزین فرماویں، کیونکہ دوسری حدیث میں منافق کو "سید" کہنے کی ممانعت آئی ہے.(مشكوة انصاری، جلد ثانی، صفحہ#٤٠١)
 اور دعوی_ اسلام کے ساتھ حدیث کے رد کرنے-والے کے منافق ہونے میں کیا شبہ ہے تو آپ ان کو "سید" کیوں فرماتے. اس سے معلوم ہوا کہ وہ حضور کے اس ارشاد کا (کہ قتل نہ کرے) کا یہ مطلب سمجھے کہ اگر قصاص سے بچنا چاہے تو قتل نہ کرے بلکہ گواہ لاوے، نہ یہ کہ قتل جایز نہیں. پس ان کی غرض کا مطلب یہ تھا کہ گو میں قصاص میں مارا جاؤں، کیونکہ عند الحاكم (حاكم کے نزدیک) میرے دعوی پر کوئی دلیل نہیں، لیکن اس کی کچھ پرواہ نہیں، میں اس کو ہرگز نہیں چھوڑوں گا، کیونکہ اس حالت میں قتل تو "فی نفسه" جائز ہی ہے. بس یہ حدیث کا رد-و-انکار نہیں ہے. اس سے معلوم ہوا کہ مجتہد اپنی قوت_اجتہادیہ سے کسی حدیث کی مدلول_ظاہری کے خلاف کوئی معنى دقیق سمجه جاوے تو اس پر عمل جائز ہے اور اس کو ترک_حدیث نہ کہیں گے.
****************************************************
حدیث # (٦) صحيح البخاري » كِتَاب الْحَجِّ » بَاب الْمُحَصَّبِ، رقم الحديث: ١٦٥٢(١٧٦٦)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَيْءٍ ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".

تخريج : 

(١) مسند الحميدي » أَحَادِيثُ رِجَالِ الأَنْصَارِ » أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا ...، رقم الحديث: ٤٨٣(٥٠٦)

(٢) مصنف ابن أبي شيبة » كِتَابُ الزَّكَاةِ » أَبْوَابُ إِخْرَاجِ الزَّكَاةِ، رقم الحديث: ١٣٠٩٤(١٣٤٩٧)

(٣) مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » وَمِنْ مُسْنَدِ بَنِي هَاشِمٍ، رقم الحديث: ١٨٥٢(١٩٢٦)

(٤) سنن الدارمي » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ، رقم الحديث: ١٨١٥(١٨٧٠)

(٥) صحيح مسلم » كِتَاب الْحَجِّ » بَاب اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ ...، رقم الحديث: ٢٣٢١(١٣١٤)

(٦) جامع الترمذي » كِتَاب الْجُمُعَةِ » أَبْوَابُ السَّفَرِ، رقم الحديث: ٨٤٤(٩٢٢)

(٧) السنن الكبرى للنسائي » كتاب الحج » أَبْوَابُ النَّحْرِ، رقم الحديث: ٤٠٩٨(٤١٩٥)

(٨) مسند أبي يعلى الموصلي » أَوَّلُ مُسْنَدِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رقم الحديث: ٢٣٦٩(٢٣٩٧)

(٩) صحيح ابن خزيمة » كِتَابُ الْمَنَاسِكِ » جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ ...، رقم الحديث: ٢٧٩٧(٢٧٩٩)

(١٠) شرح معاني الآثار للطحاوي » كِتَابُ مَنَاسِكِ الْحَجِّ » بَابُ الإِهْلالِ مِنْ أَيْنَ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ ...، رقم الحديث: ٢٢٦٨(٢٢٦٩)

(١١) المعجم الكبير للطبراني » بَابُ الظَّاءِ » الاخْتِلافُ عَنِ الأَعْمَشِ فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ ...، رقم الحديث: ١١٢٢٨(١١٣٨٢) 

ترجمه: حضرت ابن_عباس (رضی الله عنہ) سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ تحصیب (یعنی حاجی کا محصور میں اترنا) کوئی (لازمی) چیز نہیں، وہ صرف ایک منزل تھی کہ رسول  الله (صلے الله علیہ وسلم) اس میں ٹھہر گئے تھے.

فائدہ: ایک فعل جو رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) سے صادر ہوا جو ظاهرا دلیل ہے سنّت ہونے کی. چناچہ ابن_عمر (رضی الله عنہ) اسی بنا پر اسے سنّت کہتے ہیں. اس کی نسبت ایک جلیل القدر صحابی (غالباً حضرت عائشہ رضی الله عنہا) محض اپنی قوت_اجتہادیہ سے فرماتے ہیں کہ یہ فعل سنّت نہیں، اتفاقاً وہاں ٹھہرگۓ تھے. اس سے معلوم ہوا کہ ایسے اجتہاد کو صحابہ (رضی الله عنھم) مقابلہ حدیث کا نہ سمجھتے تھے. اس کی نظیر ہے حنفیہ کا یہ قول کہ نماز_جنازہ میں جو فاتحہ پڑھنا منقول ہے، یہ سنّت_مقصودہ نہیں، اتفاقاً بطور_ثنا و دعاء کے پڑھ دی تھی یا ان کا یہ قول کہ جنازہ کی وسط کے محاذاة میں کھڑا ہونا قاصدا نہ تھا بلکہ اتفاقاً کسی مصلحت سے تھا تو یہ حضرت بھی قابل_ملامت نہیں ہیں.
**************************************************************
حدیث # (٧) موطأ مالك رواية يحيى الليثي » كِتَاب الْجَنَائِزِ » بَابُ غُسْلِ الْمَيِّتِ، رقم الحديث: ٥١٦عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ غَسَّلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ حِينَ تُوُفِّيَ ، ثُمَّ خَرَجَتْ فَسَأَلَتْ مَنْ حَضَرَهَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَتْ : " إِنِّي صَائِمَةٌ وَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ شَدِيدُ الْبَرْدِ فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ غُسْلٍ ؟ " ، فَقَالُوا : لَا.
(تيسير كلكته : صفحہ #٢٩٨، كتاب الطهارة، باب: ثامن، فصل: رابع)

تخریج: 

ترجمه: عبدالله سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بن عمیس (زوجہ_ابو بکر رضی الله عنہ) نے حضرت ابو بکر کو بعد وفات کے غسل دیا، پس باہر آکر اس وقت جو مہاجرین موجود تھے، ان سے پوچھا کہ (میرا) روزہ ہے اور آج دیں بھی بہت سردی کا ہے. کیا میرے ذمہ غسل واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں.

فائدہ: دیکھئے حدیث میں مردے کو غسل دیکر غسل کرنے کا حکم بصیغہ_امر "فلیغتسل" آیا ہے (تیسیر:٢٢٨,  سنن أبي داود » كِتَاب الْجَنَائِزِ » بَاب فِي الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ،رقم الحديث: ٢٧٥٢(3161))، جو ظاهرا وجوب کے لئے ہے مگر مہاجرین_صحابہ (رضی الله عنھم) نے قوت_اجتہادیہ سے اس (حکم) کو استحباب (مستحب، پسندیدہ عمل ہونے) پر محمول فرمایا ورنہ وجوب کی صورت میں معذور ہونے کے وقت اس کا بدل یعنی تیمم واجب کیا جاتا حالانکہ اس کا بھی امر(حکم) نہیں کیا اور اس حمل کو اس حدیث کی مخالفت بھی نہیں سمجھا. اسی کی نظیر ہے حنفیہ کا یہ قول کہ امر "فلیقاتل" حدیث: مرور بين يدي المصلي، وجوب کے لئے نہیں ہے بلکہ زجر و سیاست پر محمول ہے. اسی طرح یہ بھی حدیث کے خلاف نہیں اور اس قسم کی روایات بکثرت کتب_حدیث میں موجود ہیں.
****************************************************
مقصد_سوم = اجتہاد کی قابلیت
جس شخص کو قوت_اجتہادیہ حاصل نہ ہو اور مجتہد نہ ہو اس کو اجتہاد کرنے کی اجازت نہیں، اور ممکن ہے کہ ایک شخص حافظ_حدیث (محدث) ہو اور مجتہد نہ ہو اس لئے صرف جمع_روایات (احادیث) سے قابل_تقلید ہونا ضروری نہیں اور قوت_اجتہادیہ کے معنا.

حدیث # (١) سنن أبي داود  » كِتَاب الطَّهَارَةِ  » بَاب فِي الْمَجْرُوحِ يَتَيَمَّمُ، رقم الحديث: ٢٨٤(٣٣٦)

 عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَصَابَ رَجُلًا جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ احْتَلَمَ ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ ، أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا ، فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ ،(وفي رواية) إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ شَكَّ مُوسَى عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ "
(تیسیر کلکتہ : صفحہ # ٢٩٣، کتاب الطهارة، باب سابع)

تخريج الحديث : 

(١) مسند أحمد بن حنبل  » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ...  » وَمِنْ مُسْنَدِ بَنِي هَاشِمٍ، رقم الحديث: ٢٩٣٦(٣٠٤٨)

(٢) سنن الدارمي  » كِتَاب الطَّهَارَةِ  » بَاب الْمَجْرُوحِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ، رقم الحديث: ٧٤٧(٧٥٢)

(٣) سنن ابن ماجه  » كِتَاب الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا  » بَاب فِي الْمَجْرُوحِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَيَخَافُ ...،رقم الحديث: ٥٦٥(٥٧٢)

(٤) مسند أبي يعلى الموصلي  » أَوَّلُ مُسْنَدِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رقم الحديث: ٢٣٩١(٢٤٢٠)

(٥) المعجم الكبير للطبراني  » بَابُ الظَّاءِ  » الاخْتِلافُ عَنِ الأَعْمَشِ فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ ...  » أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ ...رقم الحديث: ١١٣١٩(١١٤٧٢)

(٦) سنن الدارقطني  » كِتَابُ الطَّهَارَةِ  » بَابُ جَوَازِ التَّيَمُّمِ لِصَاحِبِ الْجَرَّاحِ مَعَ ...، رقم الحديث: ٦٤١+٦٤٢(٧٢٠+٧٢٣)

(٧) المستدرك على الصحيحين » ابْنُ الرَّبِيعِ » رقم الحديث: ٥٨٧+٥٨٨(١:١٧٨)

(٨) مصنف عبد الرزاق » كِتَابُ الطَّهَارَةِ  » بَابُ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ، رقم الحديث: ٨٣٤+٨٣٥(٨٦٦+٨٦٧)

(٩) حلية الأولياء لأبي نعيم » مَا ذَكَرَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ...رقم الحديث: ٤٣٩٧(٤٣٩٩)

(١٠) جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر  » بَابُ حَمْدِ السُّؤَالِ وَالإِلْحَاحِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ ...رقم الحديث: ٣٩٤(٥٢٦)

(١١) الفقيه والمتفقه للخطيب  » الْفَقِيهُ وَالْمُتَفَقِّهُ لِلْخَطِيبِ الْبَغْدَادِيُّ ...  » باب القول فيمن يسوغ له التقليد ومن لا يسوغ، رقم الحديث: ٤٤٥(٢:٦٨)

ترجمہ: 
حضرت ابن_عباس (رضی الله عنہ) سے روایت ہے کہ رسول الله (صلے الله الیہ وسلم) کے زمانے میں ایک شخص کے کہیں زخم ہو گیا، ساتھیوں نے اس کو غسل کا حکم کیا. اس نے غسل کیا اور مرگیا. یہ خبر رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) کو پہنچی. آپ (صلے الله علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ان لوگوں نے اس کو قتل کیا الله ان کو قتل کریں، نا واقفیہ کا علاج دریافت (سوال) کرنا نہ تھا؟ اس کو تو اس قدر کافی تھا کہ تیمم کرلیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا پھر اس پر مسح کرلیتا اور باقی بدن دھولیتا.

فائدہ:
ان ہمراہیوں نے اپنی راۓ سے آیت_قرآنیہ "وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا...٥:٦" کو معذور و غیر-معذور کے حق میں عام اور (یہ) آیت"وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى...٤:٤٣" کو حدث_اصغر (یعنی بے-وضو ہونے کی حالت) کے ساتھ خاص سمجھ کر یہ فتویٰ دے دیا. رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) کا اس فتویٰ  پر رد و انکار فرمانا اس وجہ سے تو ہو نہیں سکتا کہ اجتہاد و قیاس حجت_شرعیہ نہیں، اس کا حجت اور معتبر ہونا اور خود رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) کا اس کو جائز رکھنا مقصد_اول میں ثابت ہو چکا ہے. بس معلوم ہوا کہ یہ فتویٰ دینے والے اجتہاد کی صلاحیت و قوت نہ رکھتے تھے، اس لئے ان کے لئے فتویٰ قیاس سے دینا جائز نہیں رکھا گیا.
***************************************************************************
حدیث # (٢) صحيح مسلم  » كِتَاب الصِّيَامِ  » بَاب بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ ...رقم الحديث: ١٨٣١(١٠٩٢)

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 ، قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ : عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ ، أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ ، إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ " .كَانَ بَعْضُ اللَّيْلِ نَظَرَ ، فَلَمْ يَسْتَبِينَا فَلَمَّا أَصْبَحَ , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلْتُ تَحْتَ وِسَادِي عِقَالَيْنِ , قَالَ : " إِنَّ وِسَادَكَ إِذًا لَعَرِيضٌ أَنْ كَانَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ تَحْتَ وِسَادَتِكَ " .

تخريج الحديث: 

(١) مسند أحمد بن حنبل  » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ...  » تتمة مسند الكوفيين، رقم الحديث: ١٨٩٣٩(١٨٨٧٩)

(٢) صحيح البخاري  » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ  » سُورَةُ الْبَقَرَةِ، رقم الحديث: ٤١٧٦(٤٥٠٩)

(٣) سنن أبي داود  » كِتَابُ سُجُودِ الْقُرْآنِ  » بَاب تَفْرِيغِ أَبْوَابُ السُجُودِ وَكَمْ سَجْدَة ...رقم الحديث: ٢٠٠٦(٢٣٤٩)

(٤) جامع الترمذي  » كِتَاب الْأَدَبِ  » أبواب الْأَمْثَالِ، رقم الحديث: ٢٩١٧(٢٩٧١)

(٥) مصنف ابن أبي شيبة  » كتاب الصلاة  » أَبْوَابُ مَسَائِلَ شَتَّى فِي الصَّلاةِ، رقم الحديث: ٨٨٦٨(٩١٦٥)

(٦) السنة للمروزي  » تسمية القرن الرابع من أهل واسط، رقم الحديث: ١٠٤(١٢٢)

(٧) السنن الكبرى للنسائي  » كِتَابُ التَّفْسِيرِ  » سُورَةُ الْبَقَرَةِ، رقم الحديث: ١٠٥١٩+٢٤٦٣(١٠٩٥٤+٢٤٩٠)

(٨) صحيح ابن خزيمة  » كِتَابُ الصِّيَامِ  » جُمَّاعُ أَبْوَابِ الأَهِلَّةِ وَوَقْتُ ابْتِدَاءِ ...رقم الحديث: ١٨٢٥(١٨١٧)

(٩) مستخرج أبي عوانة  » مُبْتَدَأُ كِتَابِ الصِّيَامِ  » بَابُ بَيَانِ إِبَاحَةِ التَّسَحُرِ حَتَّى يَتَبَيَّنَ ...رقم الحديث: ٢٢٠٨+٢٢٠٩+٢٢١٠(٢٧٧٣+٢٧٧٦+٢٧٧٧)

(١٠) شرح معاني الآثار للطحاوي  » كِتَابُ الصِّيَامِ  » بَابُ الْوَقْتِ الَّذِي يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ ...رقم الحديث: ٢٠٣٥(٢٠٣٧)

(١١) صحيح ابن حبان  » كِتَابُ الصَّوْمِ  » بَابُ السَّحُورِ، رقم الحديث: ٣٥٤٤+٣٥٤٥(٣٤٦٢+٣٤٦٣)

(١٢) المعجم الكبير للطبراني  » بَابُ الظَّاءِ  » مَنِ اسْمُهُ عَدِيٌّ، رقم الحديث: ١٣٦٥٦-١٣٦٦١(١٧٢-١٧٩)

(١٣) مسند الحميدي  » أَحَادِيثُ رِجَالِ الأَنْصَارِ  » حَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ ...رقم الحديث: ٨٨٨(٩٤١)

(١٤) معرفة السنن والآثار للبيهقي  » كتاب الصيام  » باب وقت الصوم، رقم الحديث: ٢١٥٣(٢٤٧١)

ترجمه: 
حضرت عدی بن حاتم (رضی الله عنہ) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:" حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ[البقرة:١٨٧] تو انہوں نے ایک ڈورا سفید اور ایک ڈورا سیاہ لےکر رکھ لیا اور رات کے کسی حصہ میں جو اس کو دیکھا تو وو ڈورے تمیز نہ ہوئے. جب صبح ہوئی تو رسول الله صلے الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اپنے تکیہ کے نیچے ایک ڈورا سفید اور ایک ڈورا سیاہ رکھ لیا. آپ (صلے الله علیہ وسلم) نے فرمایا: تمہارا تکیہ بہت ہی چوڑا ہے، اگر سفید اور سیاہ ڈورے (جن سے مراد دن اور رات ہے) تمہارے تکیہ کے نیچے آگۓ.(تیسیر_کلکتہ باختصار: صفحہ # ٤٢، کتاب التفسیر، سورہ البقرہ)

فائدہ:
باوجود یہ کہ یہ صحابی اہل_زبان (عربی) تھے مگر بوجھ قوت_اجتہادیہ نہ ہونے کے فہم_مراد_قرآن میں غلطی کی، کیونکہ ان کی غلطی پر رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے بعنوان_مزاح انکار فرمایا. اور مقصد_اول میں اجتہاد پر انکار نہ فرمانا گو وہ خطا ہی کیوں نہ ہو گزر چکا(ہے). اس سے معلوم ہوا کہ ان میں قوت_اجتہادیہ نہ تھی، اسی لئے آپ نے ان کی راۓ و فہم کو معتبر نہیں فرمایا.
***************************************************************************
حدیث # (3) موطأ مالك رواية يحيى الليثي  » كِتَاب الطَّلَاقِ  » بَابُ طَلَاقِ الْبِكْرِ، رقم الحديث: ١١٧١

 عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا ، قَالَ عَطَاءٌ : فَقُلْتُ : إِنَّمَا طَلَاقُ الْبِكْرِ وَاحِدَةٌ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : " إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ ، الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا ، وَالثَّلَاثَةُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " .


ترجمہ: 
عطا بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبدللہ بن عمرو بن عاص (رضی الله عنہ) سے مسئلہ پوچھا کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو قبل_صحبت تین طلاق دیں، (تو) عطا (رحمہ الله) نے فرمایا کہ باکرہ کو ایک ہی طلاق پڑتی ہے. (تو) حضرت عبداللہ (رضی الله عنہ) بولے کہ تم تو نرے واعظ آدمی ہو (یعنی فتویٰ دینا کیا جانو)، ایک طلاق سے تو وہ بائن ہوجاتی ہے اور تین طلاق سے حلالہ کرانے تک حرام ہوجاتی ہے.(تیسیر_کلکتہ: صفحہ#٣١٤)

فائدہ:
حضرت عطا (رح) کے فتویٰ کو، باوجود ان کے اتنے بڑے محدث و عالم ہونے کے، حضرت عبدللہ نے محض ان کی قوت_اجتہادیہ کی کمی سے معتبر و معتدبہ نہیں سمجھا، اور "إنما أنت قاص" سے ان کے مجتہد نہ ہونے کی طرف اشارہ فرمایا، جس کا حاصل یہ ہے کہ نقل_روایت اور بات ہے اور افتاء و اجتہاد اور بات ہے. آگے اس کی دلیل سنے کے باوجود حافظ الحدیث ہونے کے مجتہد نہ ہونا ممکن ہے.
***************************************************************************
حدیث # (٤) جامع الترمذي  » كِتَاب الْجُمُعَةِ  » أَبْوَابُ السَّفَرِ، رقم الحديث: ٢٦٠١+٢٦٠٢(٢٦٥٧+٢٦٥٨)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا وَوَعَاهَا وَأَدَّاهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى غَيْرِ فَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ .

تخريج الحديث: 

(١) مسند الإمام الشافعي ( ترتيب سنجر)  » كِتَابُ فَضَائِلِ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ وَأَبْوَابٍ ...  » بَابُ النَّصِيحَةِ، رقم الحديث: ١١٠٢
مسند الشافعي  » مُسْنَدُ الشَّافِعِيُّ  » وَمِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ، رقم الحديث: ١١٠٥(١١٨٢)

(٢) مسند الحميدي  » أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ ...رقم الحديث: ٨٦(٨٨)

(٣) مسند ابن أبي شيبة »  رقم الحديث: ٢٩٦

(٤) سنن ابن ماجه  » كِتَاب ابْنُ مَاجَهْ  » أَبْوَابُ فِي فَضَائِلِ أَصَحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ...رقم الحديث: ٢٢٨(٢٣٢)

(٥) مسند أحمد بن حنبل  » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ...  » مُسْنَدُ المُكْثِرِينَ مِنَ الصَّحَابَةِ، رقم الحديث: ٤٠١٢(٤١٤٦)

(٦) مسند أبي يعلى الموصلي  » مُسْنَدُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رقم الحديث: ٥٢٤٠+٥٠٦٤(٥٢٩٦+٥١٢٦)

البحر الزخار بمسند البزار  » البحر الزخار مسند البزار  » وأول السادس عشر وهو الثاني من حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ ...،رقم الحديث: ١٧٩٦+١٨٠٢(٢٠١٤+٢٠١٨)

(٧) المسند للشاشي  » مُسْنَدُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ ...  » مَا رَوَى عَنْهُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , مِنْهُمْ ...رقم الحديث: ٢٦١-٢٦٤(٢٧٥-٢٧٨)

(٨) صحيح ابن حبان  » كِتَابُ الْعِلْمِ  » بَابُ الزَّجْرِ عَنْ كِتْبَةِ الْمَرْءِ السُّنَنَ ...رقم الحديث: ٦٦-٦٩ 

(٩) المعجم الأوسط للطبراني  »  بَابُ الْأَلِفِ  » مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ [بَابُ الْمِيمِ  » مَنِ اسْمُهُ : مُحَمَّدٌ]، رقم الحديث: ١٣٢٧+١٦٣٨(١٣٠٤+١٦٠٩)، [رقم الحديث: ٧٨٩٢+٥٣٢١(٧٦٩٠+٥١٧٩)

(١٠) حديث أبي الفضل الزهري  » بَابُ : ثَوَابِ لِا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، رقم الحديث: ٥٧١-٥٧٤(٦٠٤-٦٠٧)

(١١) معرفة السنن والآثار للبيهقي » رقم الحديث: ٤(٥)
شعب الإيمان للبيهقي  » الثَّامِنَ عَشَرَ مِنْ شُعَبِ الإِيمَانِ وَهُوَ بَابٌ ...رقم الحديث: ١٦٠٦
دلائل النبوة للبيهقي » رقم الحديث: ١+٢٩٢٥(١:٢٦+٦:٥٤٠)

(١٢) التمهيد لابن عبد البر  » باب السين  » سهيل بن أبي صالح، رقم الحديث: ٣٨٥٣(٢١:٢٧٨)

(١٣) الكفاية في علم الرواية للخطيب  » التَّوَثُّقُ فِي اسْتِفْتَاءِ الْجَمَاعَةِ، رقم الحديث: ١٣٨-١٣٩+٢٩(٥١٥-٥١٦+٤٦)

(١٤) جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر  » بَابُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ...رقم الحديث: ١٤٧-١٥٠(١٨٨-١٩١)

(١٥) المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم  » ذِكْرُ الْمَأْثُورِ عَنِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ ...رقم الحديث: ٨(٩)
أخبار أصبهان لأبي نعيم  » وَهَذَا كِتَابُ صُلْحِ إَصْبَهَانَ  » بَابُ الْعَيْنِ، رقم الحديث: ١٦٠٧(٢:٥١)
حلية الأولياء لأبي نعيم  » مَا ذَكَرَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ...رقم الحديث: ١١١١١(١١١٢٢)

ترجمہ: حضرت ابن_مسعود (رضی الله عنہ) سے روایت ہے کہ رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے فرمایا: تروتازہ فرماویں الله تعالیٰ اس بندے کو جو میری حدیث سنے اور اس کو یاد رکھے اور دوسرے کو پہنچاوے کیونکہ بعضے پہنچانے والے علم کے خود فقیہ (سمجھ کھنے-والے) نہیں ہوتے اور بعضے ایسوں کو پہنچاتے ہیں جو اس پہنچانے والے سے زیادہ فقیہ (سمجھ کھنے-والے) ہوتے ہیں.

فائدہ: 
اس حدیث میں صاف تصریح ہے کہ بعضے محدث، حافظ الحدیث صاحب_فہم نہیں ہوتے  یا قلیل الفہم ہوتے ہیں.
***************************************************************************
تحقیق_حقیقت_قوت_اجتہادیہ:

اب وہ حدیثیں سنیے جن سے قوت_اجتہادیہ کی حقیقت منکشف ہوتی ہے:

حدیث # (١) شرح السنة

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، لِكُلِّ حَرْفٍ مِنْهَا ظَهْرٌ وَبَطْنٌ ، وَلِكُلِّ حَرْفٍ حَدٌّ ، وَلِكُلِّ حَدٍّ مَطْلَعٌ " .(مشكوة أنصاري:صفحة#٢٧)

تخريج الحديث: 

(١)  مشكل الآثار للطحاوي  » بَابُ مَوَارِيثِ ذَوِي الأَرْحَامِ ، رقم الحديث: ٢٦٣٩(٣٠٩٥)

(٢) جامع البيان عن تأويل آي القرآن  » الْقَوْلُ فِي اللُّغَةِ الَّتِي نَزَلَ بِهَا الْقُرْآنُ ...رقم الحديث: ٩(١:٢٢)

ترجمہ:
حضرت ابن_مسعود (رضی الله عنہ) سے روایت ہے کہ رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن، اور ہر حد کے لئے طریقہ_اطلاع جداگانہ ہے(یعنی مدلول_ظاہری کے لئے علوم_عربیہ اور مدلول_خفی کے لئے قوت_فھمیہ).
***************************************************************************
حدیث # (٢)
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قال  سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى "إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا"(البقرة آية ١٥٨).قُلْتُ فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، قَالَتْ : بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي ، إِنَّ هَذِهِ لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَتَطَوَّفَ بِهِمَا وفي هذا الحديث قال الزهري  فأَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا لَعِلْمٌ مَا كُنْتُ سَمِعْتُهُ...أخرجه الستة(تيسير_کلکتہ: صفحہ # ٤١، کتاب التفسیر، سورہ البقرہ)

تخريج الحديث: 

(١) صحيح البخاري  » كِتَاب الْحَجِّ  » بَاب وُجُوبِ الصَّفَا والمروة وَجُعِلَ مِنْ شَعَائِرِ ...رقم الحديث: ١٥٤١
صحيح البخاري  » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ  » سُورَةُ الْبَقَرَةِ  » بَاب قَوْلِهِ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ ...رقم الحديث: ٤١٦٢(٤٤٩٥)
صحيح البخاري  » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ  » سُورَةُ وَالنَّجْمِ  » بَاب وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الأُخْرَى سورة النجم ...رقم الحديث: ٤٥١٠(٤٨٦١)


(٢) صحيح مسلم  » كِتَاب الْحَجِّ  » بَاب بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ...رقم الحديث: ٢٢٤٩+٢٢٥٠(١٢٧٩+١٢٨٠)

(٣) سنن أبي داود  » كِتَاب الْمَنَاسِكِ  » بَاب أَمْرِ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ، رقم الحديث: ١٦٢٨(١٩٠١)

(٤) موطأ مالك رواية يحيى الليثي  » كِتَاب الْحَجِّ  » بَابُ جَامِعِ السَّعْيِ، رقم الحديث: ٨١٦

(٥) السنن الكبرى للنسائي  » كتاب الحج  » أَبْوَابُ الطَّوَافِ  » الصَّفَا وَالْمَرْوَة، رقم الحديث: ٣٨٤٩(٣٩٤٧)
السنن الكبرى للنسائي  » كِتَابُ التَّفْسِيرِ  » سُورَةُ النَّجْمِ  » قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الأُخْرَى ...رقم الحديث: ١١٠٤١(١١٤٨٤)

(٦) مسند الربيع بن حبيب  » بَابٌ فِي الْكَعْبَةِ وَالْمَسْجِدِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ...رقم الحديث: ٤٠٩(٤١٦)

(٧) مسند إسحاق بن راهويه  » مَا يُرْوَى عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ ...رقم الحديث: ٥٩٥+٥٩٦(٦٩٠+٦٩١)

(٨) مسند أحمد بن حنبل  » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ...  » سادس عشر الأنصار  » حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ...رقم الحديث: ٢٤٧٣٢(٢٤٧٦٩)

(٩) صحيح ابن خزيمة  » كِتَابُ الْمَنَاسِكِ  » جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ ...  » بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ ...رقم الحديث: ٢٥٩٠(٢٥٩٧)

(١٠) مستخرج أبي عوانة  » كِتَابُ الْحَجِّ  » بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُوجِبِ عَلَى مُتَوَلِّي ...رقم الحديث: ٢٦٤٨(٣٣٢١)

(١١) مشكل الآثار للطحاوي  » بَابُ بَيَانِ مُشْكِلِ مَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ...رقم الحديث: ٣٣٣١(٣٩٣٥)
أحكام القرآن الكريم للطحاوي  » كِتَابُ الْحَجُّ وَالْمَنَاسِكَ  » تأويل قَوْلِهِ تَعَالَى : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ ...رقم الحديث: ٩٢٨+٩٣٠(١٣٠٥+١٣٠٧)

(١٢) تفسير ابن أبي حاتم  » سُورَةُ الْبَقَرَةِ  » قَوْلُهُ : وَاشْكُرُوا لِي سورة البقرة آية 152 » قَوْلُهُ : وَلا تَكْفُرُونِ سورة البقرة آية ١٥٢ ...رقم الحديث: ١٤٣٠

(١٣) صحيح ابن حبان  » كِتَابُ الْحَجِّ  » بَابُ السَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ  » ذِكْرُ الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ ...رقم الحديث: ٣٩٢٧(٣٨٣٩)

(١٤) المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم  » كِتَابُ الصَّلاةِ  » بَابٌ فِي أَوْقَاتِ الصَّلاةِ  » بَابٌ مِنْهُرقم الحديث: ٢٧٠٤(٢٩٤٢)

(١٥) السنن الكبرى للبيهقي  » كِتَابُ الْحَجِّ  » جُمَّاعُ أَبْوَابِ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْعُمْرَةِ إِذَا ...  » بَابُ وُجُوبِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ...رقم الحديث: ٨٦٦٠+٨٦٦١(٥:٩٦)

(١٦) معالم التنزيل تفسير البغوي  » فصل فِي وعيد من قَالَ فِي القرآن برأيه من غير علم ...  » سورة البقرة، رقم الحديث: ٥٦

(١٧) مسند أبي يعلى الموصلي  » مُسْنَدُ عَائِشَةَ، رقم الحديث: ٤٦٦٠(٤٧٣٠)

ترجمہ:
حضرت عروہ بن زبیر (رضی الله عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ (رضی الله عنہا) سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا "اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِاللّٰهِ ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا" (یعنی بے شک صفا اور مروہ نشانیوں میں سے ہیں اللہ کی، سو جو کوئی حج کرے بیت اللہ کا یا عمرہ، تو کچھ گناہ نہیں اس کو کہ طواف کرے ان دونوں میں...البقرہ:١٥٨) اور میں نے کہا کہ اس آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے تو اس کو گناہ نہ ہوگا (جیسا ظاہر ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ گناہ نہیں ہے جو طواف کرے متبادر إلى الذهن اس سے یہی ہے کہ طواف مباح ہے اگر نہ کرے تو بھی جائز ہے). حضرت عائشہ (رضی الله عنہا) نے کہا کہ اے بھانجے! تم نے بری غلط بات کہی، اگر یہ آیت اس معنى کو مفید ہوتی، جو تم سمجھے ہو، تو عبارت یوں ہوتی "لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَتَطَوَّفَ بِهِمَا" یعنی طواف نہ کرنے میں گناہ نہیں. زہری کہتے ہیں کہ میں نے ابو بکر بن عبدالرحمن کو یہ خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ علم (اب تک) نہ سنا تھا.
**************************************************************************
حدیث # (٣) أن ابن مسعود في فضل ألصحابة كانوا أفضل هذه ألأمة أبرها قلوبا واعمقها علما و أقلها تكلفا- الحديث (رواه رزين مشكوة أنصاري، صفحة # ٢٤)

ترجمہ:
حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ سے صحابہ رضی الله عنھم کی فضیلت میں روایت ہے کہ وہ حضرات تمام امت میں افضل تھے، سب سے زیادہ ان کے قلوب پاک تھے، سب سے زیادہ ان کا علم عمیق(گہرا) تھا، سب سے کم ان کا تکلف تھا...روایت کیا اس کو رزین نے.



تخریج:



(١)  منهاج السنة النبوية : ٦/٣٩
**************************************************************************

حديث # ٣ 

عن أبي جحيفة قال قلت لعلي يا أمير المؤمنين هل عندکم سودا في بيضا ليس في کتاب الله قال لا والذي فلق الحبة وبرأ النسمة ما علمته إلا فهما يعطيه الله رجلا في القرآن-اخرجه بخاري و الترمذي و النسائي(تيسير كلكته: صفحة#٤٣، كتاب القصاص، فصل لا يقتل المسلم بالكافر)


ترجمه:
حضرت ابو جحیفہ (رضی الله عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رضی الله عنہ) سے پوچھا کہ آپ کے پاس کچھ ایسے مضامین لکھے ہوئے ہیں جو کتاب الله میں نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا قسم اس ذات کی جس نے دانے کو شگاف دیا اور جان(روح) کو پیدا کیا، ہمارے پاس کوئی ایسا علم نہیں لیکن "فہم خاص ضرور ہے"، جس کو الله تعالیٰ قرآن میں کسی کو عطا فرماویں...



تخريج الحديث:

(١) صحيح البخاري  » كِتَاب الدِّيَاتِ  » بَاب لَا يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ، رقم الحديث: ٦٤٣٤

(٢) مسند أبي يعلى الموصلي  » مُسْنَدُ عَليِّ بْنِ أَبِي طَالبٍ، رقم الحديث: ٤٤١(٤٥١)

(٣) مسند الشافعي  » مُسْنَدُ الشَّافِعِيُّ  » وَمِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ، رقم الحديث: ٨٦٠(٩٢٥)

(٤) مصنف ابن أبي شيبة  » كِتَابُ الزَّكَاةِ  » أَبْوَابُ إِخْرَاجِ الزَّكَاةِ، رقم الحديث: ٢٦٩٠٠(٢٧٩٢٠)

(٥) مسند الحميدي  » أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ ...، رقم الحديث: ٤٢(٤٠)

(٦) السنن الكبرى للنسائي  » كِتَابُ الْقَسَامَةِ  » سُقُوطُ الْقَوَدِ مِنَ الْمُسْلِمِ لِلْكَافِرِ، رقم الحديث: ٦٧٠١(٦٩٢٠)

(٧) جامع الترمذي  » كِتَاب الدِّيَاتِ  » بَاب مَا جَاءَ لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، رقم الحديث: ١٣٢٩

(٨) سنن ابن ماجه  » كِتَاب الدِّيَاتِ  » بَاب لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، رقم الحديث: ٢٦٥٠

***************************************************************************

حدیث # ٦
عَنْ  زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ  قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ ، فإذا عمر جالس، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ عُمَرَ جاء في، فَقَالَ : إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِالنَّاسِ ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي كل الْمَوَاطِنِ ، فَيَذْهَبَ مِنَ الْقُرْآنِ كَثِيرٌ و إني أرى أن تامر بجمع القرآن، فقُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ ما لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذلك حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي للذي شرح له صدر عمر وَرَأَيْتُ في ذلك الَّذِي رَأَى - الحدیث اخرجہ بخاری و الترمذي. (تیسیر کلکتہ: صفحہ#٨٨، کتاب تالیف القرآن)


ترجمہ:
حضرت زید بن ثابت (رضی الله عنہ) سے روایت ہے کہ زمانہ جنگ اہل_یمامہ میں حضرت ابو بکر (رضی الله عنہ) نے میرے بلانے کے لئے آدمی بھیجا، وہاں جاکر دیکھتا ہوں کہ حضرت عمر (رضی الله عنہ) بھی بیٹھے ہیں. حضرت ابو بکر (رضی الله عنہ) نے قصہ بیان کیا کہ حضرت عمر (رضی الله عنہ) نے میرے پاس آکر یہ صلاح دی کہ واقعہ یمامہ میں بہت سے قراء_قرآن(حافظ_قرآن) کے کام آۓ(شہید ہوتے)، مجھے اندیشہ ہے کہ اسی طرح سب جگہ یہ لوگ کام آۓ(شہید ہوتے) تو قرآن پاک کا بڑا حصہ ضایع ہوجاتے گا. اس لئے میری یہ راۓ ہے کہ آپ قرآن پاک جمع کرنے کا حکم فرماویں. میں نے حضرت عمر (رضی الله عنہ) کو یہ جواب دیا کہ جو کام رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ میں کس طرح کروں؟ حضرت عمر (رضی الله عنہ) نے کہا کہ "واللہ یہ کام خیر محض ہے"، پس برابر بار بار اسی کو کہتے رہے حتى کہ میرا بھی الله نے سینہ کھول دیا جس باب میں ان کو شرح صدر(سینہ کھول دیا) اور اطمینان تھا...



تخريج الحديث:
(١) صحيح البخاري  » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ  » سُورَةُ بَرَاءَةَ  » بَاب قَوْلِهِ : لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ ...،رقم الحديث: ٤٣٣٨(٤٦٧٩)

(٢) صحيح البخاري  » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ  » سُورَةُ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، رقم الحديث: ٦٦٨٣(٧١٩١٠

(٣) جامع الترمذي  » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ  » بَاب وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ، رقم الحديث: ٣٠٤٨

(٤) السنن الكبرى للنسائي  » كِتَابُ : الْمَنَاقِبِ  » مَنَاقِبُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ ...، رقم الحديث: ٧٩٧٧(٨٢٣٠) 



فائدہ:
مذکورہ احادیث_پنجگانہ سے چند امور معلوم ہوتے:
اول) امر یہ کہ نصوص کے بعض معانی ظاہر ہیں اور بعض مدلولات خفی و دقیق کہ وہ اسرار و علل و حکم ہیں، چناچہ قرآن پاک کے باب میں حدیث_اول اس پر صراحتا دال ہیں اور اس میں ان ہی مدلولات کو بطن_قرآن فرمایا گیا ہے. اور حدیث کے باب میں اس حدیث سے اوپر والی حدیث کہ وہ بھی حضرت ابن_مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے دلالت کرتی ہے کیونکہ صرف معانی ظاہرہ کے اعتبار سے شاگرد کے استاد سے افضل و افقہ ہونے کی کوئی معنا نہیں. اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں درجہ مدلول کی حدیث میں بھی ہیں.

دوم) امر یہ کہ نصوص کے سمجھنے میں لوگوں کے افہام متفاوت ہوتے ہیں، کوئی ظہر نص تک رہ جاتی ہے کوئی بطن_نص تک پہنچ جاتا ہے. چناچہ حدیث_دوم اس پر دال ہے کہ آیت میں جو نکتہ دقیقہ ہے باوجود زیادہ خفی نہیں ہے مگر حضرت عروہ رضی الله عنہ اس کو نہ سمجھ سکے اور حضرت عائشہ رضی الله عنہا اس کو سمجھ گئیں اور چونکہ نہایت لطیف بات تھی. زہری سے ابو بکر بن عبدالرحمٰن نے سن کر اس پر مسرت ظاہر کی اور اسے علم کہا.
سوم) امر یہ کہ اس تفاوت_افہام میں ہر درجہ زیادت_فہم کا، موجب_فضل و شرف نہیں. ورنہ اس سے تو کوئی دو شخص بھی باہم خالی نہیں، بلکہ (یہ) کوئی خاص درجہ ہے، جو کہ اپنے دقیق و عمیق ہونے سے موجب_فضل و شرف اور اس درجہ میں اس کو علم_معتدبہ سمجھا جاتا ہے چناچہ حدیث_سوم اس پر صراحتا دال ہے.
چہارم) امر یہ کہ وہ درجہ خاص فہم کا مکتسب (کماکر پایا جانے-والا) نہیں ہے، محض ایک امر_وہبی(عطا_خداوندی) ہے. چناچہ حدیث_پنجم اس پر دال ہے. اول حضرت ابو بکر (رض) کو بوجھ ظاہر احادیث ذم_بدعت کے اس کے خیر ہونے میں اس میں تردد ہوام مگر جب ان کے قلب پر مدلول_خفی اور سر حکم_اجتناب عن البدعة وارد ھوۓ تو اس کا کلیہ حفظ_دین ماموربہ میں داخل ہونا منکشف ہوکر (کھل-کر) اس کے خارج عن البدعة ہونے میں اطمینان حاصل ہوگیا. اور بعض احادیث_مذکورہ امور_خمسہ میں سے متعدد امور پر بھی دال ہیں. چانچہ تعامل سے معلوم ہوسکتا ہے، مگر اختصار کے لئے زیادت خصوصیت کے لحاظ سے ایک ایک کو ایک ایک کا مدلول ٹھہرایا گیا. سو مراد_قوت_اجتادیہ سے اسم_فہم مذکور فی الحدیث کا وہ خاص درجہ حاصل ہے. 

پس حاصل اس کی حقیقت کا احادیث_بالا سے یہ مستفاد ہوا کہ وہ ایک ملکہ و قوت_فھمیہ علمیہ خاصہ وہبیہ ہے. جس کے استمعال کی وساطت سے اہل(فقیہ) اس قوت کے نصوص کے مدلولات_خفیہ و معنى_دقیقہ اور احکام کے اسرار و علل یعنی احکام_تکلیفیہ و احکام_وضعیہ پر مطلع ہوکر اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور دوسروں کی وہاں تک رسائی بھی نہیں ہوتی گو دوسرے وقت یہی اطمینان دوسری شق میں ہوجاوے، اس وقت پہلی شق سے رجوع کرلیتے ہیں اور یہی قوت ہے جس کو فہم اور فقہ اور راۓ و اجتہاد و استنباط و شرح_صدر وغیرہ عنوانات سے آیات و احادیث میں جابجا تعبیر کیا گیا ہے.



***************************************************************************

مقصد_چہارم = مشروعیت_تقلید_شخصی اور اس کی تفسیر:

حدیث # ١
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنِّي لَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي " , وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ .



حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کہ کب تک میں تم لوگوں میں ہوں۔ لہذا میرے بعد تم ابوبکر (رضی اللہ عنہ) اور عمر (رضی اللہ عنہ) کی پیروی کرنا۔

فائدہ:
"من بعدی" سے مراد ان صاحبوں کی حالت_خلافت ہے، کیوں کہ بلا-خلافت تو دونوں صاحب آپکے روبرو بھی موجود تھے. پس مطلب یہ ہوا کہ ان کے خلیفہ ہونے کی حالت میں ان کی اتباع کیجیو اور ظاہر ہے کہ خلیفہ ایک ایک ہوں گے. پس حاصل یہ ہوا کہ حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کی خلافت میں تو ان کا اتباع کرنا، حضرت عمر رضی الله عنہ کی خلافت میں ان کا اتباع کرنا، پس ایک زمانہ خاص تک ایک معین شخص کی اتباع کا حکم فرمایا اور یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ان کے احکام کی دلیل بھی دریافت کرلیا کرنا.اور نہ یہ عادت مستمرہ (جاریہ) تھی کہ دلیل کی تحقیق ہر مسئلے میں کی جاتی ہو اور یہی تقلید_شخصی ہے. کیونکہ حقیقت_تقلید_شخصی یہ ہے کہ ایک شخص کو جو مسئلہ پیش آوے وہ کسی مرجح کی وجہ سے ایک ہی عالم سے رجوع کیا کرے اور اس سے تحقیق کر کے عمل کیا کرے. اور اس مقام میں اس کے وجوب  سے بحث نہیں اور آگے مذکور ہے اس کا جواز اور مشروعیت اور موافقت اور سنّت ثابت کرنا مقصود ہے، گویا ایک معین زمانے کے لئے سہی.

تخريج الحديث:

(١) مسند أحمد بن حنبل  » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ...  » مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ  » حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى ...رقم الحديث: ٢٢٦٦٨+ ٢٢٨٠٧(٢٢٧٦٤+٢٢٩٠٩)

(٢) سنن ابن ماجه  » كِتَاب ابْنُ مَاجَهْ  » أَبْوَابُ فِي فَضَائِلِ أَصَحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ...  » بَاب فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ ...رقم الحديث: ٩٤(٩٧)

(٣) جامع الترمذي  » كِتَاب الدَّعَوَاتِ  » أبوابُ الْمَنَاقِبِ  » بَاب فِي مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ ...+ بَاب مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ ...رقم الحديث: ٣٦٢٦+٣٧٦٥(٣٦٦٣+٣٧٩٩)

(٤) مصنف ابن أبي شيبة  » كِتَابُ الزَّكَاةِ  » أَبْوَابُ إِخْرَاجِ الزَّكَاةِ، رقم الحديث: ٣١٢٦٢(٣٢٤٧٨)

(٥) مشكل الآثار للطحاوي  » بَابُ مَوَارِيثِ ذَوِي الأَرْحَامِ، رقم الحديث: ١٠٤٥+١٠٤٧(١٢٢٤+١٢٢٧+١٢٣٣)

(٦) صحيح ابن حبان  » كِتَابُ التَّارِيخِ  » بَابُ إِِخْبَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ...رقم الحديث: ٧٠٥٩(٦٩٠٢)

(٧) المعجم الأوسط للطبراني  » بَابُ الْعَيْنِ  » مَنِ اسْمُهُ : عَلِيٌّ، رقم الحديث: ٣٩٤٢(٣٨١٦)
المعجم الأوسط للطبراني  » بَابُ الْمِيمِ  » مَنِ اسْمُهُ : مُحَمَّدٌ، رقم الحديث: ٥٦٤٩+٥٩٩٠(٥٥٠٣+٥٨٤٠)

(٨) المستدرك على الصحيحين  » كِتَابُ التَّفْسِيرِ  » تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّاسِ، رقم الحديث: ٤٣٩٦+٤٤٠٠(٣:٧٥)

(٩) السنن الكبرى للبيهقي  » كِتَابُ النَّفَقَاتِ  » جِمَاعُ أَبْوَابِ كَفَّارَةِ الْقَتْلِ، رقم الحديث: ١٥٢٥٨+١٥٢٥٩(٨:١٥٣)

***************************************************************************

حدیث # (٢)

 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَسَّانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، وَرَّثَ أُخْتًا وَابْنَةً فَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا النِّصْفَ ، وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ .(تیسیر کلکتہ : صفحہ#٣٧٩، کتاب الفرائض، فصل ثانی)

ترجمہ: أسود بن يزيد سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ  ہمارے پاس معاذ (بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ) یمن میں معلم اور امیر ہو کر آئے تو ہم نے ان سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو فوت ہوگیا اور ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑ کر گیا تو انہوں نے بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف دلایا۔

فائدہ:
یہ وہ حدیث ہے جو مقصد_اول میں حدیث # ٤ میں گزر چکی ہے. اس سے جس طرح تقلید کا سنّت ہونا ثابت ہے. جیسا کہ اس مقام پر تقریر کی گئی. اسی طرح تقلید_شخصی بھی ثابت ہوتی ہے. کیونکہ جب رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے تعلیم_احکام کے لئے یمن بھیجا تو يقينا اہل_یمن کو اجازت دی کہ ہر مسئلے میں ان سے رجوع کریں اور یہی تقلید_شخصی ہے، جیسا ابھی اوپر بیان ہوا.

تخريج الحديث:

(١) صحيح البخاري  » كِتَاب الْفَرَائِضِ  »  بَاب مِيرَاثِ الْبَنَاتِ، رقم الحديث: ٦٢٦٧(٦٢٣٤)

(٢) سنن أبي داود  » كِتَاب الْفَرَائِضِ  » بَاب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الصُّلْبِ، رقم الحديث: ٢٥١٠(٢٨٩٢)

(٣)  العلل لابن أبي حاتم »  بَابُ عَمْرٍو رقم الحديث: ١٦١٢(١٦٣٧)

(٤) المسند للشاشي  » مُسْنَدُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ...  » الأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْهُ، رقم الحديث: ١٣٠٠(١٣٧١)

***************************************************************************

حديث # ٣
عن هزيل بن شرحبيل في حديث طويل مختصره قال سئل أبو موسى ثم سئل ابن مسعود وأخبر بقول أبو موسى فخلفه ثم أخبر أبو موسى بقوله فقال لاتسألوني ما دام هذا الحبر فيكم - أخرجه البخاري و أبو داود و الترمذي(تیسیر کلکتہ : صفحہ#٣٧٩، کتاب الفرائض، فصل ثانی)



ترجمہ:
خلاصہ اس حدیث طویل کا یہ ہے کہ حضرت هذيل بن شرحبيل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا پھر وہی مسئلہ حضرت ابن_مسعود رضی الله عنہ سے پوچھا گیا اور حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ کے فتویٰ کی بھی ان کو خبر دی گئی تو انہوں نے اور طور سے فتویٰ دیا، پھر ان کے فتویٰ کی خبر حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ کو دی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ جب تک یہ عالم متبحر تم لوگوں میں موجود ہیں تم مجھ سے مت پوچھا کرو.- روایت کیا اس کو بخاری، ابو داود اور ترمذی نے

فائدہ:
 حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ کے اس فرمانے سے کہ ان کے ہوتے ہوے مجھ سے مت پوچھو، ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ہر مسئلہ میں ان سے پوچھنے کے لئے فرمایا ہے اور یہی تقلید_شخصی ہے کہ ہر مسئلہ میں کسی مرجح کی وجہ سے کسی ایک عالم سے رجوع کر کے عمل کرے.

٥٥ تخريج الحديث:

(١) صحيح البخاري  » كِتَاب الْفَرَائِضِ  » بَاب مِيرَاثِ ابْنَةِ الِابْنِ مَعَ بِنْتٍ، رقم الحديث: ٦٢٦٩
صحيح البخاري  » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ  » سُورَةُ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، رقم الحديث: ٦٢٧٥(٦٧٤٢)

(٢) سنن أبي داود  » كِتَاب الْفَرَائِضِ  » بَاب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الصُّلْبِ، رقم الحديث: ٢٥٠٨(٢٨٩٠)
سنن أبي داود  » كِتَابُ سُجُودِ الْقُرْآنِ  » بَاب تَفْرِيغِ أَبْوَابُ السُجُودِ وَكَمْ سَجْدَة ...رقم الحديث: ٢٥٠٨(٢٨٩٠)

(٣) جامع الترمذي  » كِتَاب الْفَرَائِضِ  » بَاب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ ابْنَةِ الِابْنِ مَعَ ...، رقم الحديث: ٢٠٢٠(٢٠٩٣)

(٤) سنن ابن ماجه  » كِتَاب الْفَرَائِضِ  » بَاب فَرَائِضِ الصُّلْبِ، رقم الحديث: ٢٧١٣(٢٧٢١)

(٥) السنن الكبرى للنسائي  » كِتَابُ الْفَرَائِضِ  » ذِكْرُ الأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ وَمَنَازِلِهِنَّ ...، رقم الحديث: ٦١٢٢-٦١٢٤(٦٢٩٤-٦٢٩٦)
 السنن الكبرى للنسائي  » كِتَابُ النِّكَاحِ  » أَبْوَابُ التَّزْوِيجُ عَلَى الْعِتْقِ،

***************************************************************************
مقصد_بنجم = اس زمانہ میں (باعتبار_غالب حالت لوگوں کے) تقلید_شخصی ضروری ہے اور اس کے ضروری ہونے کی معنى:

أول) اس کے ضروری ہونے کے معنى بیان کے جاتے ہیں تاکہ دعوے کا تعین ہوجاوے. سو جاننا چاہیے کہ کسی شے کا ضروری اور واجب ہونا دو طرح پر ہے. ایک یہ کہ قرآن-و-حدیث میں خصوصیت کے ساتھ کسی امر کی تاکید ہو جیسے نماز و روزہ وغیرہ، ایسی ضرورت کو وجوب بالذات کہتے ہیں.

دوسرے) یہ کہ اس امر (بات/حکم) کی خود تو کہیں تاکید نہیں آئ  مگر جن امور کی خود قرآن و حدیث میں تاکید آئ ہے، ان امور پر عمل کرنا بدوں (سواۓ) اس امر کے عادتاً ممکن نہ ہو اس لئے اس امر کو بھی ضروری کہا جاوے اور یہی معنى ہے علماء کے اس قول کے کہ مقدمہ واجب کا واجب ہے جیسے قرآن-و-حدیث کا جمع کرکے لکھنا کہ شرع میں اس کی کہیں بھی تاکید نہیں آئ بلکہ اس حدیث میں خود کتابت ہی کہ واجب نہ ہونے کی تصریح آئ ہے.

حديث # ٤
أن ابن عمر قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم : " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ.(مشكوة أنصاري: صفحة#١٦٦)

(حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا " ، وَهَكَذَا يَعْنِي مَرَّةً تِسْعَةً وَعِشْرِينَ ، وَمَرَّةً ثَلَاثِينَ .)

ترجمه:
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تو ایک امی جماعت ہیں، نہ حساب جانیں نہ کتاب...(متفق علیہ)

(حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم امی امت کے لوگ ہیں نہ ہم لکھتے ہیں اور نہ ہم حساب کرتے ہیں مہینہ اس طرح ہوتا ہے اور اس طرح اور اس طرح اور تیسری مرتبہ میں انگوٹھے کو بند فرما لیا اور مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے یعنی مکمل تیس (دنوں) کا.)

فائدہ:
دلالت حدیث کی مطلوب پر ظاہر ہے اور جب مطلق(عام) کتابت واجب نہیں تو کتابت_خاصہ کیسے واجب ہوگی لیکن ان کا محفوظ رکھنا اور ضایع ہونے سے بچانا ان امور پر تاکید آئ ہے اور تجربہ اور مشاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بدوں (سواۓ) مقید بالکتاب کرنے کے محفوظ رہنا عادتاً ممکن نہ تھا اس لئے قرآن و حدیث کا لکھنا ضروری سمجھا جاۓ گا چناچہ اس طور پر اس کے ضروری ہونے پر تمام امت کا دلالتا اتفاق چلا آرہا ہے، ایسی ضرورت کو وجوب بالغیر کہتے ہیں. جب وجوب کی قسمیں اور ہر ایک کی حقیقت معلوم ہوگئی تو جاننا چاہیے تقلید_شخصی کو جو ضروری اور واجب کہا جاتا ہے تو مراد اس وجوب سے وجوب بالغیر ہے نہ کہ وجوب بالذات. اس لئے ایسی آیت و حدیث پیش کرنا تو صحیح نہیں ہوا، جس میں تقلید_شخصی کا نام لیکر تاکیدی حکم آیا ہو جیسے کتابت قرآن و حدیث کے وجوب کے لئے دلیل کا مطالبہ نہیں کیا جاتا بلکہ باوجود اس کے کہ حدیث_مذکور میں اس کے وجوب کی نفی مصرح ہے پھر بھی واجب کہا جاتا ہے اور اس سے حدیث کی مخالفت نہیں سمجھی جاتی. اسی طرح تقلید_شخصی کے وجوب کے لئے نص پیش کرنے کی حاجت نہیں البته دو مقدمے ثابت کرنا ضروری ہیں. ایک مقدمہ یہ کہ وہ کون کون امور ہیں کہ اس زمانہ میں تقلید_شخصی نہ کرنے سے ان میں خلل پڑتا. دوسرا مقدمہ یہ کہ وہ امور مذکورہ واجب ہیں. پہلے مقدمہ کا بیان یہ ہے کہ وہ امور یہ ہیں.
اول:- علم و عمل میں نیت کا خالص دین کے لئے ہونا.
دوم:- خواھش_نفسانی پر دین کا غالب رکھنا یعنی خواہش_نفسانی کو دین کا تابع بنانا، دین کو اس کے تابع نہ بنانا.
ثالث:- ایسے امر سے بچنا جس میں اندیشہ قوی اپنے ضرر_دین کا ہو.
رابع:- اہل_حق کے اجماع کی مخالفت نہ کرنا.
خامس:- دائرہ_احکام_شرعیہ سے نہ نکلنا. رہا یہ کہ تقلید_شخصی نہ کرنے سے ان میں خلال پڑتا ہے، سو یہ تجربہ اور مشاہدہ کے مطلق ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اس وقت اکثر طبائع میں فساد غرض پرستی غالب ہے.چناچہ ظاہر ہے اور احادیث_فتن میں اس کی خبر بھی دی گئی ہے، جو اہل_علم پر مخفی نہیں ہے. پس اگر تقلید_شخصی نہ کی جاوے تو تین صورتیں پیش آویں گی.
تفصیل مفاسد ترک تقلید_شخصی=
ایک) یہ کہ بعضے اپنے کو مجتہد سمجھ کر قیاس کرنا شروع کردیں گے اور احادیث_جواز_اجتہاد کو پیش کر کے کہیںگے کہ اس میں اجتہاد کو کسی جماعت کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا، ہم بھی لکھے پڑھے ہیں یا یہ کہ قرآن اور مشکوات کا ترجمہ ہم نے بھی دیکھا ہے یا کسی عالم سے سنا ہے اور اس کو سمجھ گئے ہیں، پھر ہمارا اجتہاد کیوں نہ معتبر ہو، جب اجتہاد عام ہوگا تو احکام میں جس قدر تصریف و تحریف پیش آوے، تعجب نہیں. مَثَلاً ممکن ہے کوئی شخص کہے کہ جس طرح مجتہدین سابقین نے قوت_اجتہادیہ سے بعض نصوص کو معلل سمجھا ہے اور علت اس کی یہ ہے کہ عرب کے لوگ اکثر اونٹ اور بکریاں چرایا کرتے تھے اور ان کے ہاتھ اکثر چھینٹ میں آلودہ ہوجاتے تھے اور وہ ہی ہاتھ منہ کو لگ جاتا تھا ان کو حکم_وضو ہوا تھا کہ یہ سب اعضاء پاک و صف ہوجائیں اور اس کا قرینہ یہ ہے کہ وضو میں وہی اعضاء دھوتے جاتے ہیں جو اکثر اوقات کھلے رہتے ہیں.
اور ہم چونکہ روزانہ غسل کرتے ہیں، محفوظ مکانوں میں آرام سے بیٹھے رہتے ہیں، ہمارا بدن خود پاک صاف رہتا ہے، اسی لئے ہم پر وضو واجب نہیں بلا-وضو نماز پڑھنا جائز ہے، حالانکہ یہ سمجھ لینا کہ کون سا حکم معلل ہے علت کے ساتھ اور کون سا حکم تعبدی یعنی غیر-معلل ہے، یہ حقہ خاص ائمہ مقبولین کا ہوچکا ہے. اس علت کے ساتھ اگر زوجین میں اختلاف خصومت ہو تو تحقیق حال ہی میں سہولت ہو.
بس جہاں اس کا احتمال نہ ہو وہاں بلا-شہود نکاح جائز ہے.ونیز ممکن ہے کہ اپنے اجتہاد سے احکام_منسوخہ بالاجماع کے بغیر منسوخ ہونے کا دعوا کرے، مثلا متعہ کو جائز کہنے لگے. چناچہ ان تینوں مثالوں کا وقوع سنا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ ان اقوال میں کس درجہ احکام و مخالفت  اجماع امت محرومہ ہے جس میں ترک ہے. امر رابع كا امور_خمسہ مذکورہ سے:
حقیقت_اجماع :
کیونکہ حقیقت اجماع کی یہ ہے کہ کسی عصر(زمانہ) کے جمیع علماء کسی امر_دینی پر اتفاق کرلیں. اور اگر کوئی عمداً یا خطاً کوئی اس اجماع سے خارج رہے تو اس کے پاس کوئی دلیل محتمل_صحت(صحت کے حامل) نہ ہو اور خطاء میں وہ معذور بھی ہوگا.
اور ظاہر ہے کہ امثلہ مذکورہ کے احکام ایسے ہی ہیں اور گو متعہ میں بعض کا خلاف رہا مگر بوجھ غیر مستند إلى الدليل الصحيح ہونے کے وہ قادح_اجماع نہیں سمجھا گیا، غرض مطلقآً عدم_شرکت مضر تحقیق اجماع نہیں ورنہ قرآن مجید کے یقیناً محفوظ اور متواتر ہونے کا دعوى مشکل ہوجاتے گا، کیونکہ احادیث_بخاری سے ثابت ہے کہ حضرت ابی رضی الله عنہ آیات المنسوخہ التلاوت کو داخل_قرآن اور حضرت ابو درداء (رضی الله عنہ) سورت الیل کی آیت "وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰٓى" میں کلمہ "وما خلق" کو، اور حضرت ابن_مسعود(رضی الله عنہ) معوذتين (يعني سورت فلق اور سورہ ناس) کو خارج_قرآن سمجھتے تھے، گویا اقوال تھوڑے ہی روز رہے ہوں. تو لازم آتا ہے کہ جزو کا داخل ہونا اور غیر جزو کا خارج ہونا ہر زمانہ میں مجمع علیہ و یقینی تر ہے، حالانکہ ایک سماعت کے اعتبار سے بھی اس کا کوئی قائل نہیں بلکہ اس کو تمام از منہ کے اعتبار سے یقینی اور محفوظ سمجھتے رہے اور چونکہ ان حضرات کو استدلال میں یقینآً غلطی ہوئی، اسی لئے کسی نے سلفآً و خلفآً اس کو مضر و مخل_اجماع نہیں سمجھا البتہ ان کو بھی شبہ کی وجہ سے معذور سمجھا. وہ حدیثیں یہ ہیں:

حديث # ١
عن ابن عباس قال قال عمر أقرؤنا أبي وأقضانا علي وإنا لندع من قول أبي وذاک أن أبيا يقول لا أدع شيئا سمعته من رسول الله صلی الله عليه وسلم وقد قال الله تعالی ما ننسخ من آية أو ننسها (بخاري نظامي: ٢/٦٤٤)
 صحيح البخاري » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ » سُورَةُ الْبَقَرَةِ » بَاب قَوْلِهِ : مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا ... رقم الحديث: 4148
 كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ » بَاب الْقُرَّاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى ... رقم الحديث: 4648
 المعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان » بَابُ سَعْدٍ رقم الحديث: 471
 السنن الكبرى للنسائي » كِتَابُ الطَّلاقِ » بَابُ نَسْخِ الْمُرَاجَعَةِ بَعْدَ التَّطْلِيقَاتِ ... رقم الحديث: 5555

ترجمه:
حضرت بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرے تہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ ہم سب میں قرآن کے بہترین قاری ابی بن کعب ہیں اور دینی احکام کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ زیادہ جانتے ہیں مگر اس کے باوجود ہم ابی بن کعب کی اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ میں قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کو نہیں چھوڑوں گا جس کو میں نے آنحضرت سے سنا ہے حالانکہ خود اللہ نے یہ فرما کر مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا 2۔ البقرۃ : 106) یه ثابت کردیا که قرآن کی بعض آیات منسوخ کی گی ہیں ۔

حديث # ٢
 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ الشَّأْمَ ، فَسَمِعَ بِنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَأَتَانَا ، فَقَالَ : أَفِيكُمْ مَنْ يَقْرَأُ ؟ فَقُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَيُّكُمْ أَقْرَأُ ؟ فَأَشَارُوا إِلَيَّ ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، فَقَرَأْتُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى { 1 } وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى { 2 } سورة الليل آية 1-2 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى ، قَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَهَا مِنْ فِي صَاحِبِكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا سَمِعْتُهَا مِنْ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَؤُلَاءِ يَأْبَوْنَ عَلَيْنَا " . (بخاری نظامی: ٢/٧٣٧)

تخريج الحديث : صحيح البخاري » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ » سُورَةُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى, رقم الحديث: 4589(4943)




ترجمہ:
 علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ کے چند ساتھیوں کے ساتھ شام پہنچا، ابوالدرداء نے جب ہم لوگوں کے آنے کی خبر سنی، تو وہ ہمارے پاس آئے اور کہا تم میں کوئی ہے جو قرآن پڑھے؟ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، انہوں نے کہا پڑھ، چنانچہ میں نے سورت (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی) پڑھی انہوں نے پوچھا کیا تو نے اپنے ساتھی سے سنا ہے ؟ میں نے کہا ہاں! انہوں نے کہا میں نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے سنا ہے اور شام کے لوگ نہیں مانتے (آتے) اور نرمادہ پیدا نہیں کئے۔

حديث # ٣
 عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، وحَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، قال : سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، قُلْتُ : يَا أَبَا المُنْذِرِ إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : كَذَا وَكَذَا ، فقال أبي سألت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي : " قِيلَ لِي " ، فَقَلْتُ : قَالَ : فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ " . (بخاری نظامی: ٢/٧٤٤)
تخريج الحديث : صحيح البخاري » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ » سُورَةُ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ, رقم الحديث: 4621


ترجمہ:

زر بن حبیش سے اور عاصم زر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابی بن کعب سے کہا کہ اے ابوالمنذر! تمہارے بھائی ابن مسعود ایسا ایسا کہتے ہیں یعنی معوذتین قرآن سے نہیں تو ابی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے کہا گیا تھا (کہ یہ قرآن میں سے ہیں) تو میں بھی وہی کہتا ہوں ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اور ہم بھی وہی کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔

فائدہ:
چونکہ تینوں حدیثوں کا خلاصہ مضمون اوپر گزر چکا ہے، لہذا ترجمہ نہیں لکھا گیا 
بالجملہ یہ خرابی تو عموم_اجتہاد میں ہوگی اور ممکن ہے کہ ایسے اجتہاد کی کوئی تقلید بھی کرنے لگے. دوسرے یہ کہ اجتہاد کو مطلقا ً ناجائز سمجھ کر نہ خود اجتہاد کرینگے نہ کسی کے اجتہاد پر عمل کرینگے، صرف ظاہر حدیث پر عمل کرینگے، سو اس میں ایک خرابی تو یہ ہوگی کہ جو احکام نصوص_صریحہ میں مسکوت عنہ ہیں ان میں اپنے یا غیر کے اجتہاد پر اس لئے عمل نہیں کرسکتے کہ اس کو ناجائز سمجھتے ہیں اور صراحتا ًوہ حکم نصوص میں مذکور نہیں. پس بجز اس کے کہ کچھ بھی نہ کریں ترک عمل کر کے تعطل و بطالت اختیار کریں اور کیا ہوسکتا ہے، اور یہ ترک ہے امر_خمس کا امور_مذکورہ میں سے اور ایسے احکام کثرت سے ہیں کہ ان کا احاطہ اور حصر مشکل ہے، چناچہ جزئیات_فتویٰ کا مطالعہ کرنے سے ظاہر ہوسکتا ہے. دوسری خرابی یہ ہوگی کہ بعض احادیث کے ظاہری معنى پر یقیناً عمل جائز نہیں، جیسے یہ حدیث:
حديث :
وفی أخرى لمسلم  صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ الآخِرَةَ جَمِيعًا ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلا سَفَرٍ-(تیسیر_کلکتہ:صفحہ# ٢٤٠، کتاب الصلوة، باب ثامن، فصل ثاني)

ترجمه:
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ (نبی صلے الله علیہ وسلم نے) نماز پڑھی ظہر اور عصر ایک ساتھ جمع کرکے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ جمع کرکے بدوں (سواۓ کسی) خوف کے اور بدوں سفر کے.

حالانکہ بلا-عذر حقیقتاً جمع کرنا کسی کے نزدیک جائز نہیں، جیسا کہ ظاہراً حدیث سے مفہوم ہوتا ہے اسی لئے اس میں قوت_اجتھادیہ سے تاویل کی جاتی ہے. پس ان احادیث کے ظاہر پر عمل کیا جاوے گا تو مخالفت_اجماع کی لازم آۓ گی جس میں ترک ہے امر_رابع کا. تیسری صورت یہ کہ نہ خود اجتہاد کریں نہ ہر جگہ ظاہر حدیث پر عمل کریں بلکہ مسائل_مشکله میں ائمہ کی بلا-تعین تقلید کریں کبھی ایک مجتہد کے فتویٰ پر عمل کرلیا کبھی دوسرے کے فتویٰ کو لےلیا، سو اس میں بعض حالتوں میں تو اجماع کی مخالفت لازم آوے گی. مَثَلاً: ایک شخص نے وضو کرلیا، پھر خون نکلوایا، جس سے امام ابو حنیفہ رح کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے اور کہا کہ میں امام شافعی کا فتویٰ لیتا ہوں کہ خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس کے بعد عورت کو شہوت سے ہاتھ لگایا جس سے امام شافعی رح کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور کہا کہ اس میں امام ابو حنیفہ رح کا فتویٰ لیتا ہوں کہ اس سے وضو نہیں ٹوٹتا اور بلا-تجدید_وضو نماز پڑھ لی.

چونکہ اس شخص کا وضو بالاجماع ٹوٹ چکا ہے گو سبب مختلف ہو، اس لئے سب کے نزدیک اس کی نماز باطل ہوئی. بس اس میں ترک ہوا امر_رابع کا امور_مذکورہ میں سے. اور بعض حالتوں میں مخالفت اجماع کی لازم نہ آۓ گی مگر بوجھ_غلبہ_غرض-پرستی کہ اس کا نفس مائل مختلفه میں اسی قول کو لےگا جو اس کی خواھش_نفسانی کے موافق ہو اور اس میں غرض_دنیوی حاصل ہوتی ہو، پس اس قول کو دین سمجھ کر نہ لےگا، بلکہ خاص غرض یہی ہوگی کہ اس میں مطلب نکلے تو یہ شخص دین کو ہمیشہ تابع_خواھش_نفسانی کے بناتے رہےگا. خواھش_نفسانی کو دین کے تابع نہ کرے گا اور اس میں ترک ہے امر_ثانی کا امور_مذکورہ میں سے، اور ظاہر ہے کہ ایسے شخص کی نیت عمل میں اور تحقیق مسئلہ میں یہی ہوگی کہ حظ_نفس اور غرض_دنیوی حاصل ہو. اگر ایک امام کا قول اس کی مصلحت کے موافق نہ ہوگا دوسرے کا تلاش کرے گا. غرض علم_دین اور عمل_دین دونوں میں نیت اس کی خالص اور طلب_رضاۓ حق نہ ہوگی اور اس میں ترک ہے امر_اول کا امور_مذکورہ میں سے. اور جس شخص کا نفس اس آزادی کا خوگر ہوجاۓ گا بعد چندے اس آزادی کا فروع سے اصول میں پہنچ جانا جو صریح ضرر_دین ہے عجیب و بعید نہیں بلکہ غالب و قریب ہے.

حديث # ١
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم :  إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ  [صحيح البخاري » بَاب بَدْءُ الْوَحْيِ, رقم الحديث: 1]

ترجمه: 
حضرت عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمام اعمال نیت پر ہیں اور آدمی کو وہی ملتا ہے جو اس کی نیت ہو، پس جس شخص کی ہجرت الله و رسول کی طرف مقصود ہو، اس کی ہجرت الله و رسول کی طرف واقع ہوتی ہے، اور جس شخص کی ہجرت دنیا کی طرف مقصود ہو کہ اس کو حاصل کرنا  چاہتا ہے یا کسی عورت کی طرف ہے کہ اس سے نکاح کریگا تو اس کی ہجرت اسی شے کی طرف ہے جس کی طرف ہجرت کی ہے.

فائدہ:
اس حدیث سے امر_اول یعنی نیت کے خالص ہونے کا اور ظاہر کرنے کا وجوب ظاہر ہے. دیکھو ہجرت کتنا بڑا عمل ہے جس سے بحکم دوسری حدیث کے سب گذشتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں مگر جب اس میں دنیوی غرض آگئی تو اکارت ہوگئی اس پر ملامت و شناعت فرمائی جو ترک واجب پر ہوتی ہے.
****************************************************************
حديث # ٢
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، يَعْنِي رِيحَهَا .(رواہ احمد، ابو داود، ابن_ماجہ، مشكوة أنصاري: صفحہ # ٢٦)

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے "جو شخص کوئی ایسا علم جس سے حق سبحانہ وتعالیٰ کی رضا طلب کی جاتی ہے (یعنی علم_دین خواہ بہت سا یا ایک آدھ مسئلہ) سیکھے اور غرض اس کے سیکھنے کی اور کچھ نہ ہو بجز اس کے کہ اس کے ذریعہ سے متاع_دنیا حاصل کرلوں گا تو قیامت کے روز وہ شخص خوشبوتے جنت نہ پاوے گا.(روایت کیا اس کو احمد، ابو داود، اور ابن_ماجہ نے)


فائدہ:

مسئلہ پوچھنے میں یہ نیت ہونا کہ اس کی آڑ میں کوئی دنیا کا مطلب نکالیں گے اس حدیث میں اس پر کس قدر سخت وعید فرمائی ہے، پس یہ حدیث بھی امر_اول کے وجوب پر دال ہے.

*******************************************

حديث # ٣

 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ " .(رواه في شرح السنة وقال نووي في اربعينه هذا حديث صحيح رويناه في كتاب الحجه باسناد صحيح، مشكوة: صفحة # ٢٣)



ترجمه:
حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے "کبھی کوئی شخص مومن کامل نہیں ہوسکتا، یہاں تک کہ اس کی خواھش_نفسانی ان احکام کے تابع نہ ہوجائیں جن کو میں لایا ہوں.(روایت کیا اس کو شرح السنہ نے اور امام نووی رح نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اپنی اربعین میں)

فائدہ: اس حدیث سے امر_ثانی کا وجوب ظاہر ہے.
***************************************************************************

حدیث # ٤



عن نعمان بن بشير في حديث طويل قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من وقع في شبهات وقع في حرام كالراعي يرعى حول الحمي يوشك ان يرتع فيه الا وان لكل ملك حمي الاوان حمي الله محارمه (متفق عليه) مشكوة أنصاري : صفحة # ٢٣٣

ترجمہ: حضرت نعمان بن بشیر (رضی الله عنہ) سے ایک حدیث طویل میں مروی ہے کہ رسول الله (صلے الله علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص شبہات میں پڑنے لگتا ہے وہ ضرور حرام میں واقع ہوتا ہے. اس کی ایسی مثال ہے کہ جیسے کوئی چرواہا ایسی چراگاہ کے اس پاس چرواۓ جس کی گھاس کسی نے روک رکھی ہو، ہر بادشاہ کے یہاں ایسی چراگاہ ہوتی ہے. یاد رکھو کہ الله تعالیٰ کے یہاں کی ایسی چراگاہ وہ چیزیں ہیں، جن کو الله تعالیٰ نے حرام کردیا ہے.[بخاری و مسلم]
فائدہ: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز سے اندیشہ حرام میں پڑنے کا ہو، اس سے بچنا ضروری ہے. اور امر_ثالث (٣) یہی ہے اور یہی معنا ہیں علماء کے اس قول مشہور کے کہ مقدمہ حرام کا حرام ہے. (یعنی جو بات کسی حرام میں مبتلا کرے وو بھی حرام ہے).
**************************************************************************

حديث # ٥
عَنْ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ , حَتَّى يَدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ الْبَأْسُ " .
تخريج الحديث: 

ترجمہ : عطیہ سعدی سے روایت ہے کہ رسول الله علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اس درجہ کو متقیوں میں داخل ہوجاۓ نہیں پہنچتا یہاں تک کہ جن چیزوں کو خود کوئی خرابی نہیں ان کو ایسی چیزوں کے اندیشہ سے چھوڑدے جن میں خرابی ہے.(رواہ ترمذی و ابن_ماجہ)
فائدہ: چونکہ تقویٰ بنص قرآنی "اتقوا" (یعنی ڈرو) واجب ہے، اور وہ اس حدیث کی رو سے موقوف ہے ایسی چیزوں کے ترک پر جن سے اندیشہ "وقوع فی المعصية" (گناہ کے واقع  ہونے) کا ہو، اس لیے یہ بھی واجب ہوا. پس یہ حدیث بھی امر_ثانی کے وجوب پر دال ہے.

*************************************************************************

حدیث # ٦

 عَنْ أَبِي مَالِكٍ يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قد اجاركم الله تعالیٰ مِنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ : أَنْ لَا يَدْعُوَ عَلَيْكُمْ نَبِيُّكُمْ فَتَهْلَكُوا جَمِيعًا ، وَأَنْ لَا يَظْهَرَ أَهْلُ الْبَاطِلِ عَلَى أَهْلِ الْحَقِّ ، وَأَنْ لَا تَجْتَمِعُوا عَلَى ضَلَالَةٍ " .[سنن أبي داود » كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ » بَاب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلَائِلِهَا, رقم الحديث: 3714]


ترجمہ : حضرت ابو مالک اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ: الله تعالیٰ نے تم لوگوں کو تین (٣) باتوں سے تمہیں محفوظ رکھا؛ (١) ایک تو یہ کہ تمہارے نبی تم پر بد دعا نے کریں گے کہ جس سے تم سب کے سب ہلاک ہوجاؤ، (٢) اور دوسرے یہ کہ اہل_باطل کو الله تعالیٰ تمام اہل_حق پر غالب نہ کریں گے، (٣) اور تیسرے یہ کہ تم لوگ کسی گمراہی کی بات پر متفق و مجتمع نہ ہوگے
[تیسیر کلکتہ : صفحه # ٣٦٣، کتاب الفضائل، باب الرابع]
***************************************************************************
حدیث # ٧
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ , يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ , وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ , وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ "(وفي رواية)  وَالْمَسْجِدِ ".
[مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ » حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى ...رقم الحديث: 21535(21601) &  21464(21523)]

ترجمہ : حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک شیطان بھیڑیا ہے انسان کا، جیسا کہ بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے کہ اس بکری کو پکڑتا ہے جو گلہ سے نکل بھاگی ہو اور ان سے دور جا پڑی ہو اور کنارہ رہ گئی ہو. تم بھی اپنے کو مختلف راہوں سے بچاؤ اور اپنے کو (اہل_دین کی) عام جماعت میں رکھو.(رواہ احمد، مشكوة أنصاري: صفحه # ٢٣)
***************************************************************************
حدیث # ٨
 عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا ، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ " .(مشكوة أنصاري : صفحة # ٢٣)


ترجمہ:
حضرت ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اہل_دین کی جماعت سے ایک بالشت برابر بھی جدا ہوا اس نے اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے نکال دیا. (رواہ احمد، ابو-داد)

فائدہ:
ان تینوں حدیثوں کے مجموعہ سے ثابت ہوا کہ امت_محمدیہ (صلے الله علیہ وسلم) جس امر پر اتفاق و اجتماع کرلیں وہ ضلالت(گمراہی) نہ ہوگا، تو ضرور ہے کہ اس کی ضد اور خلاف ضلالت ہوگا. "كما قال تعالیٰ فماذا بعد الحق إلا الضلال" اور اجتماع میں شریک رہنے کی تاکید اور اس سے جدا ہونے پر وعید فرمائی. پس مخالفت اجماع کی ناجائز اور وقوع فی الضلاله ہوگی، پس اجماع کے مقتضیٰ پر عمل واجب ہوگا. اس سے امر_رابع کا وجوب ظاہر ہوگیا.

**************************************************************************
حدیث # ٩
عن ابن عباس قال قال عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، لعمر يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَبْلُغَ ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَبْرَأَ. الحدیث اخرجہ ابو-داود (تيسير کلکتہ : ص # ١٣٦، کتاب الحدود، باب ثانی)


حضرت ابن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے فرمایا کہ اے امیر المومنین! آپ کو معلوم ہے کہ رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین (٣) شخص مرفوع القلم ہوتے ہیں: ایک بالغ جب تک کہ بالغ ہو، دوسرا جو سو رہا ہے جب تک کہ بیدار ہو اور تیسرا مجنون جب تک کہ اچھا ہو. رواہ ابو داود
(تيسير کلکتہ : ص # ١٣٦، کتاب الحدود، باب ثانی)

فائدہ:
اول تو یہ مسئلہ ایسا بدیہی ہے کہ اس میں استدلال ہی کی حاجت نہیں، پھر اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ بجز ان لوگوں کے جن کو شرع نے مرفوع القلم کیا ہے باقی سب مکلف ہیں، دائره_احکام سے کسی کو نکلنا جائز نہیں. قرآن_پاک میں بھی یہ مسئلہ منصوص ہے. قال الله تعالیٰ : أَفَحَسِبتُم أَنَّما خَلَقنٰكُم عَبَثًا (٢٣:١١٥) وقال الله تعالیٰ : أَيَحسَبُ الإِنسٰنُ أَن يُترَكَ سُدًى (٧٥:٣٦)
پس امر_خامس کا وجوب بھی ثابت ہوگیا اور وجوب ان امور_خمسہ کا مقدمہ_ثانیہ تھا. پس بحمداللہ دلیل کے دونوں مقدمہ ثابت ہوگیا. پس مدعا کہ وجوب_تقلید_شخصی ثابت ہوگیا. حاصل استدلال کا مختصر عنوان میں یہ ہوا کہ تقلید_شخصی مقدمہ ہے واجب کا، اور مقدمہ واجب کا واجب ہوتا ہے.
***************************************************************************

مقدمة الواجب، واجب:
اور یہ قاعدہ کہ مقدمہ واجب کا واجب ہوتا ہے ہر چند کے بدیہی اور سب اہل_ملل و اہل_عقل کے مسلمات سے ہے، محتاج اثبات نہیں. مگر تبرعا سک حدیث بھی تائید کے لئے لائی جاتی.


عَنْ  عُقْبَةُ بْنِ عَامِرٍ  قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یقول : مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَى " .(صحيح مسلم » كِتَاب الْإِمَارَةِ » بَاب فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ وَذَمِّ ..., رقم الحديث: 3550(1922)]


ترجمہ:
حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول الله صلے الله علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے کہ جو شخص تیر اندازی سیکھ کر چھوڑدے، وہ ہم سے خارج ہے یا یہ فرمایا کہ گناہ گار ہوا.


فائدہ: ظاہر ہے کہ تیر اندازی کوئی عبادت مقصود فی الدین نہیں لیکن چونکہ بوقت_حاجت ایک واجب یعنی "اعلاء كلمة الله" کا مقدمہ ہے، اس لئے اس کے ترک پر وعید فرمائی جو علامت ہے وجوب وقت الحاجت کی. اس سے ثابت ہوا کہ مقدمہ واجب کا واجب ہوتا ہے. اب دلیل مذکور پر دو شبہے وارد ہو سکتے ہیں:


جواب_شبہ برعموم وجوب_تقلید_شخصی:
ایک یہ کہ تقریر مذکور میں تصریح ہے کہ اکثر طبائع کی ایسی حالت ہے کہ بدوں تقلید کے وہ مفاسد میں مبتلا ہوجاتے ہیں، تو یہ وجوب بھی ان ہی اکثر کے اعتبار سے ہونا چاہیے، عام فتویٰ وجوب کا کیوں دیا جاتا ہے؟ جواب اس شبہ کا یہ ہے کہ یہ قاعدہ ہے کہ انتظامی احکام میں جو مفاسد سے بچانے کے لئے ہوں اعتبار اکثر ہی کا ہوتا ہے اور اکثر کی حالت پر نظر کرکے حکم دیا جاتا ہے. اور یہی معنا ہیں کہ فقہاء کے اس قول کے کہ جس امر میں عوام کو ابہام ہو وہ خاص کے حق میں بھی مکروہ ہوجاتا ہے اور اس قاعدہ کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے.

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَتَاهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : إِنَّا نَسْمَعُ أَحَادِيثَ مِنْ يَهُودَ تُعْجِبُنَا ، أَفَتَرَى أَنْ نَكْتُبَ بَعْضَهَا ، فَقَالَ : " أَمُتَهَوِّكُونَ أَنْتُمْ كَمَا تَهَوَّكَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً ، وَلَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلا اتِّبَاعِي " .(شرح السنة » كِتَابُ الْعِلْمِ » بَابُ حَدِيثِ أَهْلِ الْكِتَابِ, رقم الحديث: 125(126)]

ترجمہ:
حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی الله عنہ نے حضور_نبوی (صلے الله علیہ وسلم) میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ ہم لوگ یہود سے بہت سی ایسی باتیں سنتے ہیں جو اچھی معلوم ہوتی ہیں، کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ بعضے باتیں لکھ لیا کریں؟ آپ (صلے الله علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ:کیا تم بھی یہود و نصاریٰ کی طرح اپنے دین میں متحیر ہونا چاہتے ہو؟ (مشكوة أنصاري: ٢٢، رواه أحمد، والبيهقي في شعب الإيمان)



فائدہ: چونکہ ان مضامین کے لکھنے میں اکثر لوگوں کی خرابی کا اندیشہ تھا، رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے عام ممانعت فرمادی اور حضرت عمر رضی الله عنہ جیسے فہیم اور صلب فی الدین (یعنی دین پر مضبوطی سے قائم) شخص کو بھی اجازت نہ دی. اس سے معلوم ہوا کہ جس امر میں فتنہ_عامہ ہو اس کی اجازت خاص کو بھی نہیں دی جاتی، بشرطیکہ وہ امر ضروری فی الدین نہ ہو. پس وہ شبہ رفع ہوگیا اور اس کی وجہ معلوم ہوگئی کہ خواص کو ترک_تقلید_شخصی کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی، اور وجوب کو سب کے حق میں عام کہا جاتا ہے.



حدیث_دیگر:

عَنْ شقيق ، قَالَ : " كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بن مسعود رضی الله عنہ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِهَا مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " .[صحيح البخاري » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب مَنْ جَعَلَ لِأَهْلِ الْعِلْمِ أَيَّامًا مَعْلُومَةً ...,رقم الحديث: 69(70)]


حضرت شقیق سے روایت ہے کہ حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ ہر جمعہ رات کو ہم کو واعظ سناتے. ایک شخص نے عرض کیا کہ ہمارا جی چاہتا ہے کہ آپ ہر روز واعظ فرمایا کریں. آپ نے فرمایا کہ مجھ کو یہ امر مانع ہے کہ میں پسند نہیں کرتا کہ تم اکتا جاؤ، اس لئے وقتاً فوقتاً واعظ سے خبرگیری کرتا رہتا ہوں جیسا رسول الله صلے الله علیہ وسلم بھی ہم لوگوں کے اکتاجانے کے اندیشہ سے وقتاً فوقتاً (یعنی کچھ ناغہ کرکے) واعظ کی خبرگیری فرمایا کرتے تھے.(متفق علیہ)






[ماخوذ از الاقتصاد فی التقلید والجتہاد ؛ مولانا اشرف الی تھانوی]

***************************************************************************


سوال سوم: کیا قرآن و حدیث میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ چاروں اماموں میں سے کسی ایک امام کی تقلید کرو؟
الجواب قران پاک میں قرآن کی تلاوت کا حکم موجود ہے مگر ان دس قاریوں کا نام مذکور نہیں جن کر قراءتوں پر آج ساری دنیا تلاوت قرآن کر رہی ہے اور نہ یہ حکم ہے کہ ان دس قاریوں میں سے کسی ایک قاری کی قراءة پر قرآن پڑھنا ضروری ہے مگر ہمارے ملک پاک وہند میں سب مسلمان قاری عاصم کوفی ؒ کی قرآة اور قاری حفص کوفی ؒ کی روایت پر قرآن پڑھتے ہیں۔ آپ قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ ساری زندگی ایک قرات پر قرآن پڑھنا کفر ہے یا شرک یا حرام یا جائز۔
اسی طرح کتاب وسنت سے سنت کا واجب العمل ہونا ثابت ہے مگر نام لے کر بخاری ،مسلم، نسائی، ابودادو، ترمذی، ابن ماجہ کو صحاح ستہ نہیں کہا گیا۔ نہ بخاری و مسلم کو صحیحین کہا گیا۔ نہ بخاری کو اصح الکتاب بعد کتاب اﷲ کہا گیا جس طرح ان دس قاریوں کا قاری ہونا اجماع امت سے ثابت ہے، اسی طرح ان چاروں اماموں کا مجتہد ہونا اجماع امت سے ثابت ہے اور مجتہد کی تقلید کا حکم کتاب وسنت سے ثابت ہے۔
نوٹ: سائل نے یہ سوال اصل میں شیعہ سے سرقہ کیا ہے کیونکہ کوئی اہل سنت یہ سوال نہیں کرتا، شیعہ کے ان سوالات کا ذکر ابن تیمیہ ؒ نے منہاج السنہ میں کیا ہے اور بعض کا ذکر شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی ؒ نے تحفہ اثنا عشریہ میں کیاہے۔ اس ملک میں جب انگریز آیا اور اس نے لڑاو اور حکومت کرو کی پالیسی کو اپنایا تو یہاں غیر مقلدین کا فرقہ پیدا ہوا جس کا مشن یہ تھا کہ انگریز کے خلاف جہاد حرام اور مسلمانوں کی مساجد میں فساد فرض۔ یہاں تک کہ سب مسلمان مکہ اور مدینہ کو مرکز اسلام مانتے تھے۔ ان مراکز اسلام سے جب اس فرقہ کے بارے میں فتوی لیا گیا تو انہوں نے بالاتفاق ان کوگمراہ قراردیا۔(دیکھو تنبیہ الغافلین) ان لوگوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے مایوس ہو کر یمن کے زیدی شیعوں کی شاگردی اختیار کی لی اور قاضی شوکانی، امیر یمانی کے افکار کو اپنالیا۔ وہاں سے ہی یہ سوالات درآمد کیے گیے اوراہل اسلام کے دل میں وسوسے ڈالے گئے اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے ۔آج تک اسی بدعتی فرقہ کہ یہ جرات نہیں ہوئی کہ ان سوالات کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مفتی صاحبان کے سامنے پیش کر کے فتوی حاصل کریں کیونکہ ان کو کامل یقین ہے کہ وہاں سے سوالات کا جواب ہمارے خلاف آئے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ شیعہ کو ایسا سوال کیوں کرنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ شیعہ اپنے بارہ اماموں کو منصوص من اﷲ مانتے ہیں اس لیے اہل سنت و الجماعت نے ان باره کے ناموں کی نص پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ شیعہ اپنے ائمہ کے بارے میں نص پیش نہ کر سکے تو لا جواب ہو کر اہل سنت و الجماعت سے مطالبہ کر دیا کہ تم چاروں اماموں کے نام نص پیش کرو حالانکہ اہل سنت الجماعت ائمہ اربعہ کو منصوص من اﷲ مانتے ہی نہیں تو نص کا مطالبہ ہی غلط ہے ۔ ہاں ہم اہل سنت و الجماعت باجماع امت ان کا مجتہد ہونا مانتے ہیں۔
سوال چہارم: چاروں اماموں سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں مثلاً صحابہ کرام ؓ سے لے کر امام ابو حنیفہؒ تک يہ لوگ کس امام کی تقلید کرتے تھے۔ یا اس وقت تقلید واجب نہ تھی؟
الجواب: یہ سوال بھی کسی اہل سنت والجماعت محدث یا فقیہ نے پیش نہیں کیا بلکہ یہ سوال بھی شعیہ کی طرف سے اٹھا تھا۔ صحابہ کرام ؓ کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ شاہ ولی اﷲ ؒ فرماتے ہیں۔ “صحابہ کے دو گروہ تھے۔ مجتہد اور مقلد” (قرة العینین) یہ سب صحابہ ؓ عربی داں تھے لیکن بقول ابن القیم ان میں اصحاب فتوی صرف 149 تھے۔جن میں سے سات مکثرین میں ہیں۔ یعنی انہوں نے بہت زیادہ فتوے دئیے۔20 صحابہ متوسطین میں ہیں۔ جنہوں نے کئی ایک فتوے دیے۔ اور 122 مقلین میں ہیں جنہوں نے بہت کم فتوے دئیے۔ ان مفتی صحابہ کرام ؓ کے ہزاروں فتاوی مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق، تہذیب الآثار، معانی الآثار وغیرہ حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ جن میں مفتی صاحبان نے صرف مسئلہ بتایا، ساتھ بطور دلیل کوئی آیت یا حدیث نہیں سنائی اور باقی صحابہؓ نے بلا مطالبہ دلیل ان اجتہادی فتاوی پر عمل کیا اسی کا نام تقلید ہے۔ ان مفتی صحابہؓ کے بارے میں شاہ ولی اﷲ ؓ فرماتے ہیں:۔
ثم انہم تفرقوا فی البلاد صار کل واحد مقتدی ناحیة منالنواحی
کہ صحابہ متفرق شہروں میں پھیل گئے اور ہر علاقہ میں ایک ہی صحابی کی تقلید ہوتی تھی۔ ( الانصاف ص ۳)
مثلاً مکہ میں حضرت ابن عباس کی، مدینہ میں حضرت زید بن ثابت، کوفہ میں حضرت عبد اﷲ بن مسعود ؓ، یمن میں حضرت معاذ اور بصرہ میں حضرت انس کی تقلید ہوتی تھی۔ پھر ان کے بعد تابعین کا دور آیا تو شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی فرماتے ہیں:۔
فعند ذالک صار لکل عالم من التابعین مدہب علی حیالہ فانتصب فی کل بلد امام
یعنی ہرتابعی عالم کا ایک مذہب قرار پایا اور ہر شہر میں ایک ایک امام ہوگیا۔ لوگ اس کی تقلیدکرتے۔(الانصاف ص ۶)
صدر الائمہ مکی فرماتے ہیں کہ حضرت عطاءخلیفہ ہشام بن عبد الملک کے ہاں تشریف لے گئے تو خلیفہ نے پوچھا کہ آپ شہروں کے علماءکو جانتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں تو خلیفہ نے پوچھا کہ آپ شہروں کے علماءکو جکانتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں تو خلیفہ نے پوچھا اہل مدینہ کے فقیہ کون ہیں؟ فرمایا نافع، مکہ میں عطا،یمن میں یحییٰ بن کثیر، شام میں مکحول، عراق میں میموں بن مہران، خراسان میں ضحاک، بصرہ میں حسن بصری، کوفہ میں ابراہیم نخعی،(مناقب موفق ص ۷) یعنی ہر علاقہ میں ایک ہی فقیہ کے فقہی فتاوی پر عمل درآمد ہوتا تھا۔ یہ واقعہ امام حاکم نے بھی معرفت علوم حدیث میں لکھا ہے۔ اس لیے امام غرالی ؒ فرماتے ہیں: ”تقلید پر سب صحابہ کا اجماع ہے کیونکہ صحابہ میں مفتی فتوی دیتاتھا اور ہر آدمی کو مجتہد بننے کےلئے نہیں کہتا تھا اور یہی تقلید ہے اور یہ عہد صحابہؓ میں تواتر کے ساتھ ثابت ہے“۔ ( المستصفی ج 2 ص385)
علامہ آمدی فرماتے ہیں صحابہ اور تابعین کے زمانے میں مجتہدین فتوی دیتے تھے مگر ساتھ دلیل بیان نہیں کرتے تھے اور نہ ہی لوگ دلیل کا مطالبہ کرتے تھے اور اس طرز عمل پر کسی نے انکار نہیں کیا، بس یہی اجماع ہے کہ عامی مجتہد کی تقلید کرے۔ شاہ ولی اﷲ ؒ شیخ عزالدین بن سلام ؒ سے نقل کرتے ہیں۔
انا الناس لم یزالوا عن زمن الصحابة ؓ الی ان ظہرت المذاہب الا ربعة یقلدون من اتفق من العلماءمن غیر نکیر میں ایع یعتبر انکارہ، ولو کان ذالک باطلا لا نکروہ (عقد الجید ص 36)
اور خود فرماتے ہیں:۔
فہذا کیف ینکرہ احد مع ان الاستفناءلم یزل بین المسلمین من عہد النبی ﷺ والا فرق بین ان یستفتی ہدا دائما ویستفتی ہذا حینا بعد ان یکون مجمعا علی مادکرناہ (عقد الجید ص39)
یعنی دور صحابہ ؓ وتابعین سے تقلید تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور اس دور میں ایک شخص بھی منکر تقلید نہ تھا چونکہ ان صحابہؓ اور تابعین ؒ کی مرتب کی ہوئی کتابیں آج موجودنہیں جو متواتر ہوں۔ہاں ان کے مذاہب کو ائمہ اربعہ نے مرتب کردایا تو اب ان کے واسطہ سے ان کی تقلید ہو رہی ہے جیسے صحابہؓ و تابعین ؒ بھی یہی قران پاک تلاوت فرماتے تھے مگر اس وقت اس کا نام قراة حمزہ نہ تھا۔ صحابہؓ وتابعین ؒ بھی يہی احادیث مانتے تھے مگر رواہ البخاری اور رواہ مسلم نہیں کہتے تھے۔یہ سوال سائل کا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کیا دس قاریوں سے پہلے قرآن نہیں پڑھاجاتا تھا؟ یا صحابہؓ وتابعین ؒ میں نہ کسی نے بخاری پڑھی نہ مشکوة۔ کیا اس زمانہ میں حدیث کا ماننا اسلام میں ضروری نہ تھا؟
سوال پنجم: کیا چاروں اماموں کے بعد کوئی مجتہد پیدا نہیں ہوا ؟ اور اب کوئی مجتہد پیدا ہو سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب: یہ سوال تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں۔“300ھ کے بعد کوئی مجتہد مطلق پیدا نہیں ہوا ” اورا مام نوویؒ نے بھی شرح مہذب میں یہی فرمایا ہے ۔ اب مجتہد مطلق کا آنا تو محال شرعی ہے نہ ہی محال عقلی ہاں محال مادی ہے۔ لیکن وہ آ کر کیا کر ے گا؟ کیا اگر آج کا محدث دعوی کر کے ساری صحیح بخاری کو غلط قرار دے اور حدیث اور محدثین کی عظمت کو ختم کرے تو اس سے دین کا کیا فائدہ ہوگا۔ اسی طرح کو ئی مجتہدین بن کر پہلے سارے علمی سرمائے سے اعتماد ختم کر ے تو کیا فائدہ ہوگا؟
سوال ششم: ایک امام کی تقلید واجب ہو نے کے کیا دلائل ہیں؟ اورواجب کی تعریف اور حکم بھی بیان کریں؟
الجواب: اس ملک میں یہ سوال ہی غلط ہے کیونکہ جیسے یمن میں صرف حضرت معاذ مجتہد تھے اور سب لوگ ان کی تقلید کرتے تھے اسی طرح اس ملک میں مدارس، مساجد ، مفتی صرف اور صرف سیدنا امام اعظم ابو حنیفہؒ کے مذہب کے ہیں۔ دوسرے کسی مذہب کے مفتی موجود ہی نہیں کہ عوام ان سے فتوی لیں۔ اس لیے یہاں تو ایک ہی امام کے پیچھے ساری نمازیں پڑھنی واجب ہیں،۱ یک ہی ڈاکٹر ہو سب اسی سے علاج کرواتے ہیں۔ ایک ہی قاری ہو سب اسی سے قرآن پڑھ لیتے ہیں اس لیے یہاں ایک ہی امام کی تقلید واجب ہے جیسے مقدمتہ الواجب واجب کہاجاتا ہے۔ اس کے بغیر دین پر عمل کرنا ناممکن ہے کوئی شخص ایک رکعت نماز بھی نہیں پڑھ سکتا اور تارک اس تقلید کا فاسق ہے ۔ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں اور صاحب جمع الجوامع فرماتے ہیں کہ ” عامی پر ایک امام کی تقلید واجب ہے“ (عقد الجید ص 50) اور دلیل اس کی اجماع ہے۔ (الاشباة ص143)
سوال ہفتم: امام ابو بوسفؒ اور امام محمدؒ امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد ہیں اور آپ کی تقلید بھی کرتے ہیں مگر انہوں نے بہت سے مسائل میں امام صاحب کی مخالفت کیوں کی؟
الجواب: امام ابو یوسف اور امام محمد یہ دونوں حضرات خود مجتہد فی المذہب ہیں اور مجتہد کو دوسرے مجتہد کی تقلید واجب نہیں ہوتی۔ ہاں اگر اپنے سے بڑے مجتہد کی تقلید کرے تو جائز ہے۔
سوال ہشتم: کیا کسی امام نے اپنی تقلید کرنے کا حکم دیا ہے؟
الجواب: ائمہ اربعہ کے اقوال مختلف کتابوں میں موجود ہیں جن میں ان حضرات نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہماری ہر اس بات کو مانو جو قرآن وسنت کے موافق ہواور جو خلاف ہو جائے اس کو مت مانو۔ مطلب یہ ہو ا کہ وہ اپنے اقوال کی ترغیب دے رہے ہیں اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ان کے اقوال قرآن وسنت کے موافق ہیں اور قرآن وسنت کی مخالفت نہیں کرتے پس اس سے ان کی تقلید کی حکم ان کے اپنے اقوال سے ثابت ہوا۔
سوال نہم: جو لوگ چاروں اماموں میں سے کسی امام کی تقلید نہیں کرتے۔ ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
الجواب:موجودہ دور میں جو لوگ ائمہ اربعہ میں سے کسی ايک امام کی تقلید نہیں کرتے وہ فافق ہیں۔ اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں اور حرمین شریفین کے فتووں کے مطابق ان پرتعزیز واجب ہے۔
 ائمہ اربعہ کو نہ ماننے والے غالی ومتعصب ہیں

نواب صدیق حسن خان جو صاحب تصانیف علماء میں سے ہیں اور غیرمقلدین کے قابلِ احترام پیشوا ہیں، وہ خود اپنی جماعت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:"تعجب کی بات ہے کہ غیرمقلدین کیوں کر اپنا نام خالص موحد رکھتے ہیں اور دوسروں کو (جو تقلیدِ ائمہ کرتے ہیں) مشرک کہتے ہیں، حالاں کہ یہ خود سب لوگوں سے بڑھ کر سخت متعصب اور غالی ہیں"۔(الحطہ فی ذکر الصحاح الستہ: ۱۳)

سوال دہم : کیا مسئلہ تقلید پر اردو زبان میں بھی کوئی کتاب لکھی گئی ہے جسے پڑھ کر اس مسئلہ کو اچھی طرحس سمجھا جا سکے؟
الجواب: اس مسئلہ پر بے شمار کتابیں موجود ہیں۔ چند ایک نام لکھ دیتا ہوں۔
(۱)تقلید کی شرعی حیثیت (۲) الکلام المفید فی اثبات التقلید (۳)تقلید ائمہ اور مقام ابو حنیفہؒ
(۴) الاقتصاد (۵) تنقیح (۶) خیر التنقید
(۷) اجتہاد اور تقلید (۸) تقلید شخصی (۹) توفیر الحق
(۱۰) تنویر الحق (۱۱) تحفہ العرب والعجم (۱۲) تقلید اور امام اعظم
(۱۳) سبیل الرشاد (۱۴) ادلہ کاملہ (۱۵) ایضاح الادلہ
(۱۶) مدارالحق بجواب معیاد الحق (۱۷) نتصار الحق بجواب معیار الحق (۱۸) تنقید فی بیان التقلید
وغیر ہ وغیرہ۔
=====================================
کیا صحابہ_کرام رضی الله عنھ بھی "مقلد" تھے؟
 اس بات میں ذرہ برابر بھی گنجائش نہیں کہ نبی صلے الله علیہ وسلم کے جملہ صحابہ کرام رضی الله عنہ شرف_صحبت_نبوی کے فیض و برکت سے سب کے سب عادل، ثقه، متقی، خدا-پرست اور پاک-باز تھے، مگر فہم_قرآن، تدبر_حدیث اور تفقہ فی الدین میں سب یکساں نہ تھے، بلکہ اس لحاظ سے ان کے آپس میں مختلف درجات اور متفاوت مراتب تھے .
See this page/book here:

معلوم ہوا کہ صحابہ_کرام رض بھی فقہ_دین(قرآن=٩:١٢٢)پر عمل-پیرا تھے اور اپنے دور کے چھے بڑے معتبر اصحاب کی تقلید کرتے تھے. اس پر خیر القرون (بہترین-زمانہ_صحابہ-و-تابعین) میں حدیث کی ٢ کتابیں: مصنف-عبد الرزاق اور مصنف-ابن_ابی-شیبہ ہیں، جن میں اکثر سائل دلیل کا مطالبہ بھی نہیں کرتا تھا اور نہ ہی اکثر دلیل سے مسلے کا جواب دیا جاتا تھا. جس طرح امام بخاری رح نے اپنی طرف سے کوے حدیث نہیں بنائی بلکہ احادیث کو یکجا کیا، اسی طرح امام ابو-حنیفہ رح نے کوئی نیا مذہب اور فقہ ایجاد نہیں کی بلکہ صحابہ_کرام کی فقہ کو یکجا کیا. الله تعالیٰ ہمارا خاتمہ اہل_سنّت-و-الجماعت کے ہی مذہب پر فرماتے. آمین

مجتھدين كے فتاوى عام لوگوں كى بنسبت شرعى دلائل كى طرح ہيں: امام شاطبی رحمہ الله بہت بڑے جلیل القدر امام ہیں سيدُ القراء ہیں ، قراأت ورسم ونحو وصرف وفقه وحديث کے یگانہ روزگارامام ہیں اندلس میں " الشاطبية " مقام کے رہنے والے تهے حافظ أبو عمرو بن الصلاح رحمہ الله نے " طبقات الشافعية " میں شمارکیا ہے علماء مالکیہ نے ان کو مالكيُ المذهب ، لکها ہے ، اورامام شاطبی کے اپنے طرز واسلوب سے بهی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ وه اپنی کتب میں امام مالك رحمہ الله کے أقوال اہتمام سے ذکر کرتے ہیں ، امام شاطبی رحمہ الله کی ایک انتہائ بہترین علمی وتحقیقی کتاب { الموافقات } ہے ، یہ کتاب أصول الفقه و أصول الشريعة میں ہے ،اهل علم اس کتاب کی قدرومنزلت خوب جانتے ہیں ، اورعلامہ شاطبی رحمہ الله نے اس کا نام " التعريف بأسرار التكليف " رکها ، کیونکہ اس کتاب میں شریعت مطہره کے رموز واسرار تكليفيہ بیان کیئے گئے ، امام شاطبی رحمہ الله کے ایک شیخ نے ان کے متعلق ایک خواب دیکها تها تو اس خواب کی بناء پرامام شاطبی نے اس کا نام " الموافقات " رکهہ دیا ۰ اوپرمیں نے جوعنوان قائم کیا ہے ، یہ درحقیقت امام شاطبی رحمہ الله کے فرمان سے ہی ایک اقتباس ہے ، امام شاطبی رحمہ الله اپنی کتاب " الموافقات " میں فرماتے ہیں کہ فتاوى المجتهدين بالنسبة إلى العوام كالأدلة الشرعية بالنسبة إلى المجتهدين ، والدليل عليه أن وجود الأدلة بالنسبة إلى المقلدين وعدمها سواء ، إذ كانوا لا يستفيدون منها شيئا ، فليس النظر في الأدلة والاستنباط من شأنهم ، ولا يجوز ذلك لهم ألبتة ، وقد قال تعالى : ( فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون ) ، والمقلد غير عالم ، فلا يصح له إلا سؤال أهل الذكر ، وإليهم مرجعه في أحكام الدين على الإطلاق ، فهم إذًا القائمون له مقام الشارع ، وأقوالهم قائمة مقام الشارع "الموافقات" (4/292 انتهى يعنى مجتھدين كے فتاوى جات عام لوگوں كى بنسبت شرعى دلائل كى مانند ہيں، اس كى دليل يہ ہے كہ مقلدين كے ليے دلائل كا ہونا يا نہ ہونا برابر ہے، كيونكہ وہ اس سے مستفيد نہيں ہو سكتے، كيونكہ دلائل كو ديكھنا اور ان سے مسائل كا استنباط كرنا ان پڑھ لوگوں كا كام نہيں، اور ان كے ليے بالكل يہ جائز نہيں اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون اگر تمہيں علم نہيں تو تم اہل علم سے دريافت كر ليا كرو : اور مقلد چونکہ عالم نہیں ہے ، اس ليے اس كے ليے اہل علم سے دريافت كرنے كے علاوہ كچھ صحيح نہيں، اور مطلقا اہل علم ہى احكام دين ميں مرجع ہيں، كيونكہ وہ شارع كے قائم مقام ہيں، اور ان كے اقوال شارع كے قائم مقام ہيں " انتہى امام شاطبی رحمہ الله کا بیان بالکل واضح ہے کہ وه مسلمان جو اجتہاد کی اہلیت وصلاحیت سے محروم ہیں ، تو وه دین میں مُجتہدین کرام کے اقوال وفتاوی پرعمل کریں گے ، اس عمل کو اصطلاح میں تقلید کہا جاتا ہے ، اورایسے شخص کو مُقلد کہا جاتا ہے ، اوراس عمل کی وجہ سے وه (معاذالله ) مشرک وبدعتی وجاہل وگمراه نہیں کہلائیں گے ، بلکہ امام شاطبی رحمہ الله کے بقول کہ مُجتہدین کرام کے فتاوی جات (اوراقوال واجتہادات) مُقلدین کے لیئے شرعى دلائل کی طرح ہیں ، لہذا مجتہدین کے فتاوی واقوال پرعمل شریعت پرہی عمل ہے ۰ سبحان الله ، فرقہ جدید نام نہاد اہل حدیث کی خوش قسمتی ہے کہ یہ فرقہ امام شاطبی رحمہ الله کے زمانہ میں نہیں تها ، ورنہ امام شاطبی رحمہ الله اس فرقہ جدید کا بهی خوب رد کرتے ، کیونکہ یہ فرقہ جدید تو بوجہ جہالت وحماقت کے مُجتہدین کرام کے فتاوی واقوال کی تقلید کو جہالت وضلالت وحرام وشرک ٹهہراتا ہے ، جب کہ امام شاطبی رحمہ الله مُجتہدین کرام کے فتاوی جات (اوراقوال واجتہادات) مُقلدین کے لیئے شرعى دلائل کی طرح کہتے ہیں ، اب دونوں نظریوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے ، ایک جلیل القدرومستند امام یہ کہتا ہے کہ مجتہدین کے اقوال وفتاوی مقلد کے لیئے بمنزلہ شرعی دلائل ہیں ، جب کہ ہندوستان میں پیدا شده فرقہ جدید اہل حدیث کے علمبردار کہتے ہیں کہ مجتہدین کی تقلید شرک وبدعت وضلالت ہے ، بات کس کی صحیح ہے عقل مند آدمی خود فیصلہ کرلے ؟؟ الله تعالی عوام کواس فرقہ جدید کے وساوس سمجهنے اوران سے بچنے کی توفیق دے ٠ اسى طرح علامہ ابن قـُدامَہ ألحنبلي رحمہ الله بہت جلیل القدرامام ہیں ، شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لم يدخل الشام بعد الأوزاعي فقيه أعلم من موفق الدين " یعنی ملک شام میں امام اوزاعی کے بعد موفق الدين (علامہ ابن قـُدامَہ ألحنبلي رحمہ الله ) سے بڑا فقیہ داخل نہیں ہوا ۰ امام ذهبی رحمہ الله نے ان کی تعریف اس طرح کی كان من بحور العلم وأذكياء العالم . علامہ ابن رجب الحنبلي نے ان کے بارے فرمایا کہ الفقيه الزاهد الإمام شيخ الإسلام وأحد الأعلام ، وقال أيضا : هو إمام الأئمة ومفتي الأمة خصه الله بالفضل الوافر والخاطر الماطر ، طنّت في ذكره الأمصار وضنّت بمثله الأعصار . امام ذهبی رحمہ الله نے امام الضياء المقدسي رحمہ الله سے یہ بات نقل کی فرمایا کہ میں نے المفتي أبا بكر محمد بن معالي بن غنيمة رحمہ الله سے سنا وه کہتے تهے کہ " ما أعرف أحدا في زماننا أدرك درجة الإجتهاد إلا الموفق " یعنی میں نہیں جانتا کہ ہمارے زمانہ میں کوئ درجہ اجتہاد کوپہنچا ہے مگر الموفق یعنی ابن قـُدامَہ ألحنبلي رحمہ الله ۰ یہ تهوڑی تفصیل توان کی شخصیت ومرتبہ کے بارے تهی ، اب ان کا ایک فیصلہ اورفتوی ملاحظہ کریں ، فرماتے ہیں کہ " وأمـا التـقـليـد في الفـُروع فهُـو جـائـز إجـمـاعًــا " یعنی فروعی مسائل میں (مجتہدین ) کی تقلید بالاجماع جائز ہے ۰ یہ نہیں فرمایا کہ میرے نزدیک یا فلاں شیخ وامام کے نزدیک تقلید جائز ہے ، بلکہ تقلید کے جواز پرإجـمـاع نقل کر رہے ہیں ، اوریہ اجماع بهی چهٹی صدی میں نقل کر رہے ہیں ، اور مزید فرماتے ہیں کہ " فلهذا جـاز التقليد فيـها، بل وجب علـى العـامـي ذلك " لہذا فروعی مسائل میں (مجتہدین ) کی تقلید نہ صرف یہ کہ بالاجماع جائز ہے ، بلکہ عـَامـي شخص پر تقلید واجب ہے ۰ [ انظر الروضة ص 206 }اب فرقہ جدید نام نہاد اہل حدیث کے وساوس کو دیکهیں ان کی جہالت وسفاہت کو دیکهیں کہ ہروقت عوام کو گمراه کرنے کے لیے یہی راگ الاپتے ہیں کہ تقلید شرک وبدعت وضلالت ہے ، جب کہ جلیل القدرائمہ اسلام نہ صرف تقلید کوجائزبلکہ عوام پرواجب ولازم ہونے کا حکم دے رہے ہیں ، اب عقل مند آدمی خود فیصلہ کرلے کہ فرقہ جدید کے وساوس قبول کرکے گمراہی کی طرف جانا ہے یا جلیل القدرائمہ اسلام وعلماء امت کی بات وفیصلہ قبول کرنا ہے ؟؟۰ اسى طرح شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله فرماتے ہیں کہ " وتقـليـد العـاجـز عن الاستدلال للعـالم يجـوز عند الجمهور " اور استدلال (واجتہاد) سے عاجز شخص کے لیئے جمہور علماء کے نزدیک عالم کی تقـليـد جائز ہے ۰ { انظر مجموع فتاوى ابن تيمية جـ 19 ص 262 اب فرقہ جدید نام نہاد اہل حدیث کے جہلاء کا طرز دیکهیں کہ عوام کے سامنے بڑے زور وشور سے شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله کی تعریف وتوصیف کرتے تهکتے نہیں ہیں ، لیکن درحقیقت یہ فرقہ شیخ الاسلام کا نام بهی محض دهوکہ وفریب کےلیئے لیتے ہیں ، جیسا کہ شیخ الاسلام کے مذکوره بالا قول کو دیکهیں اور پهرفرقہ جدید کے طرز وروش کو دیکهیں ، الله تعالی عوام کواس فرقہ جدید کے وساوس سمجهنے اوران سے بچنے کی توفیق دے ٠ مجتہدین کی تقلید کے اوپرعلماء امت کا اجماع ہے ، حتی وهابی ونجدی حضرات جوعموما کئ مسائل بہت شدت کرتے ہیں ، لیکن تقلید کا انکار انهوں نے بهی نہیں کیا ، الشيخ حمد بن ناصر بن معمرالنجدي شیخ محمد بن عبد الوهاب کے شاگرد ہیں ، وه فرماتے ہیں کہ من كان من العوام الذين لا معرفة لهم بالفقه والحديث، ولا ينظرون في كلام العلماء، فهؤلاء لهم التقليد بغير خلاف، بل حكى غير واحد إجماع العلماء على ذلك اهـ وه عام لوگ جن کو فقہ وحدیث کی معرفت حاصل نہیں ہے ، اور علماء کے کلام میں نظر ( واستدلال وتطبیق وغیره ) کی صلاحیت نہیں رکهتے ، توان لوگوں کے لیئے بلا اختلاف تقلید جائز ہے ، بلکہ تقلید کے جواز پر ایک سے زائد علماء نے اجماع نقل کیا ہے ۰ { انظر مجموعة الرسائل والمسائل النجدية ، رسالة الاجتهاد والتقليد جـ2 ص 7 و ص 21 و ص 6 } شیخ محمد بن عبد الوهاب نجدی کے بیٹے شیخ حسين، وشیخ عبد الله فرماتے ہیں کہ ، جب آدمی کو حدیث اورکلام علماء اوراقوال کے ترجیح کی معرفت حاصل نہ ہو تو اس کا وظیفہ اور ذمہ داری أهلُ العلم کی تقلید ہے ۰ إذا كان الرجل ليس له معرفة بالحديث، وكلام العلماء، وترجيح الأقوال، فإنما وظيفته : تقليد أهل العلم، قال الله تعالى{ فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون} سورة النحل: 43." الدرر السنية 4/ 14 ، 15 ٠ آخرمیں إمام أهل السنة الإمام أحمد بن حنبل رحمہ الله کا قول وفیصلہ نقل کرکے بات ختم کرتا ہوں ، فرماتے ہیں کہ من زعم أنه لا يرى التقليد ، ولا يقلد دينه أحدًا : فهو قول فاسق عند الله ورسوله صلى الله عليه وسلم ، وإنما يريد بذلك إبطال الأثر ، وتعطيل العلم والسنة ، والتفرد بالرأي والكلام والخلاف " یعنی إمام أحمد بن حنبل رحمہ الله فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ زعم کرے کہ وه تقلید کوجائزنہیں کہتے ، تو یہ قول الله ورسول صلى الله عليه وسلم کے نزدیک فاسق ہے ، وه شخص اپنے اس قول کے ذریعہ سے اثر یعنی حدیث کو باطل کرنے کا اراده کرتا ہے ، اورعلم وسنت کو معطل کرنے کا اراده کرتا ہےالخ {أنظر طبقات الحنابلة ج1ص31 }
+++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++

:علامہ خطیب بغدادی (شافعی) رح لکھتے ہیں 

احکام کی دو قسمیں ہیں: عقلی اور شرعی.

عقلی احکام میں تقلید جائز نہیں، جیسے صانع عالم (جہاں کا بنانے-والا) اور اس کی صفات (خوبیوں) کی معرفت (پہچان)، اس طرح رسول الله صلے الله علیہ وسلم اور آپ کے سچے ہونے کی معرفت وغیرہ. عبید الله بن حسن عنبری سے منقول ہے کہ وہ اصول_دین میں بھی تقلید کو جائز کہتے ہیں، لیکن یہ غلط ہے اس لئے کہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ"تمہارے رب کی طرف سے جو وحی آئی اسی پر عمل کرو، اس کے علاوہ دوسرے اولیاء کی اتباع نہ کرو، کس قدر کم تم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہو"(سورہ الاعراف:٣). اسی طرح الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ "جب ان سے کہا جاتا ہے کہ الله کی اتاری ہوئی کتاب کی اتباع کرو تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ نہیں، ہم اس چیز کی اتباع کرینگے جس پر ہم نے اپنے باپ دادہ کو پایا، چاہے ان کے باپ دادا بے عقل اور بے ہدایت ہوں"(٢:١٧٠)



دوسری قسم احکام_شرعیہ، اور ان کی دو قسمیں ہیں:

١) دین کے وہ احکام جو وضاحت و صراحت سے معلوم ہوں، جیسے نماز، روزہ، حج، زكوة اسی طرح زنا و شراب کا حرام ہونا وغیرہ تو ان میں تقلید جائز نہیں ہے کیونکہ ان کے جاننے میں سارے لوگ برابر ہیں، اس لئے ان میں تقلید کا کوئی معنی نہیں.

٢) دین کے وہ احکام جن کو نذر و استدلال کے بغیر نہیں جانا جاسکتا، جیسے: عبادات، معاملات، نکاح وغیرہ کے فروعی مسائل، تو ان میں تقلید کرنی ہے. اللّہ تعالیٰ کے قول "پس تم سوال کرو اہل_علم (علماء) سے، اگر تم نہیں علم رکھتے"(١٦:٤٣، ٢١:٧) کی دلیل سے. اور وہ لوگ جن کو تقلید کرنی ہے (یہ) وہ حضرات ہیں جن کو احکام_شرعیہ کے استنباط (٤:٨٣) کے طریقے معلوم نہیں ہیں، تو اس کے لئے "کسی" علم کی تقلید اور اس کے قول پر عمل کے بغیر چارہ نہیں ہے. الله تعالیٰ کا ارشاد ہے: "پس تم سوال کرو اہل_علم (علماء) سے، اگر تم نہیں علم رکھتے"(١٦:٤٣، ٢١:٧)

حضرت ابن_عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول الله صلے الله علیہ وسلم کے دور میں زخمی ہوگۓ، پھر انھیں غسل کی حاجت ہوگئی، "لوگوں" نے انھیں غسل کا حکم دے دیا جس کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی. اس کی اطلاع نبی صلے الله علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: الله ان کو قتل (برباد) کرے کہ ان لوگوں نے اس کو قتل کردیا. ، ناواقفیت کا علاج دریافت (سوال) کرنا نہ تھا؟...الخ (سنن أبي داود » كِتَاب الطَّهَارَةِ » بَاب فِي الْمَجْرُوحِ يَتَيَمَّمُ، رقم الحديث: ٢٨٤(٣٣٦)

دوسری اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ اہل_اجتہاد میں سے نہیں ہے تو اس پر تقلید ہی فرض ہے. جیسے نابینا، جس کے پاس ذریعہ_علم نہیں ہے تو قبلے کے سلسلے میں اس کو کسی دیکھنے والے(بینا) کی بات ماننی ہوگی.

[الفقيه والمتفقه: ٢/١٢٨؛ ازعلامہ خطیب بغدادی (شافعی) رح، مطبوعہ دار ابن الجوزیہ]





:علامہ سیوطی (شافعی) رح فرماتے
ام لوگ اور وہ حضرات جو اجتہاد کے درجے کو نہ پہچیں، ان پر مذاہب_مجتہدین (مسالک_مجتہدین : حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) میں سے کسی ایک معین مذہب(مسلک کی تقلید) کا التزام واجب ہے.[شرح جمع الجوامع بحوالہ خیرالتنفید: صفحہ#١٧٥]


شاہ ولی الله محدث دہلوی رح فرماتے ہیں:
اس میں شک نہیں کہ ان چاروں مذاہب کی اب تک تقلید کے جائز ہونے پر تمام امت کا یا جن کی بات کا اعتبار کیا جاسکتا ہے، اجماع ہے. اس لئے کہ یہ مدون ہوکر تحریری صورت میں موجود ہیں اور اس میں بھی جو مصلحتیں ہیں وہ بھی مخفی نہیں. خصوصاً اس زمانہ میں جب کہ ہمتیں بہت ہی زیادہ پست ہوچکی ہیں اور ہر صاحب_راۓ اپنی ہی راۓ پر نازاں ہے.[حجة الله البالغة:١/١٥٤؛ طبع مصر]


بزرگوں(سلف_صالحین) پر اعتماد کرنا ہی اصل شریعت ہے:
اپنے اسلاف پر اعتماد کرنا اور ان کے ساتھ حسن_ظن کا معاملہ رکھنا وہ دولت ہے، جس کے صدقے میں آج دین اپنی صحیح شکل میں ہمارے ہاتھ میں محفوظ ہے. اسی بات کو حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی رح نے بیان فرمایا:
معرفت_شریعت (شریعت کی پہچان) میں تمام امت نے بالاتفاق "سلف" (گذرے ھوتے نیک بزرگوں) پر اعتماد کیا ہے، چناچہ تابعین نے صحابہ_کرام پر اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا اسی طرح بعد والے علماء اپنے متقدمین(گزشتہ نیک لوگوں) پر اعتبار کرتے آۓ. اور عقل_سلیم بھی اسی کو اچھا سمجھتی ہے کیونکہ شریعت بغیر نقل اور استنباط کہ معلوم نہیں ہوسکتی اور نقل اس وقت صحیح ہوگی جب بعد والے پہلے والوں سے اتصال (متصل-و-مسلسل) لیتے چلے آئیں.[عقدالجید:٣٦]

حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی رح فرماتے ہیں:
اور (تبع تابعین) صحابہ_کرام (رضی الله عنہم) اور تابعین کے اقوال سے استدلال کیا کرتے تھے، کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ یہ اقوال یا تو احادیث ہیں جو منقول ہیں رسول الله صلے الله علیہ وسلم سے جن کو مختصر کرکے موقوف بنالیا ہے، یا یہ اقوال حکم_منصوص (قرآن-و-سنّت) سے حضرات_صحابہ و تابعین کے استنباط (نکالے گۓ) ہیں، یا ان کی راویوں سے بطور_اجتہاد لئے گۓ ہیں، اور حضرات صحابہ و تابعین ان سب باتوں میں ان لوگوں سے بہتر ہیں جو ان کے بعد ہوتے، صحت تک پہنچنے میں اور زمانہ کے اعتبار پیشتر اور علم کے لحاظ سے بڑھ کر ہیں. اس لئے ان کے اقوال پر عمل کرنا متعین ہوا.[الانصاف: ٢٠-٢١]

:"حنفی"مقلد-محدثین (حنفی-اہل_حدیث) اور راوی صحاح-ستہ وغیرہ میں



No comments:

Post a Comment