Wednesday, 23 May 2012

حق و باطل میں فرق کی صلاحیت تقوٰی سے ۔۔۔ سورۃ الانفال:29


القرآن: مومنو! اگر تم الله کا تقویٰ (ڈر سے، نافرمانیوں سے بچنا) اختیار کروگے، تو وہ تمہارے لیے امر فارق (حق و باطل میں فرق کی صلاحیت) پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا)، اور (نتیجتا) وہ تمہارے (پچھلے) گناہ (بھی) مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا، اور خدا بڑا فضل والا ہے.
[سورۃ الانفال:29]

 دعا_رسول الله ﷺ:
اے میرے الله! ہمیں حق دکھا حق (کرتے/ہوتے) اور اس (حق) کی اتباع کی توفیق عطا فرما، اور باطل دکھا باطل (ہوتے) اور اس (باطل) سے ہمیں بچا، ایسا نہ ہو کہ حق و باطل ہم پر خلط ملط ہوجاۓ اور ہم بھک (گمراہ) جائیں. اے الله! ہمیں متقی (پرہیزگار) لوگوں کا امام بنا.
[تفسیر_ابن_کثیر: سورۃ البقرۃ:213]


تقویٰ کے انعامات:
معیاِر حق، ایمان و ہدایت : اصحاب رسول الله
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/11/blog-post_7.html

==========================================
امت مختلف مذاہب اور فرقوں میں پریشان کیوں؟


جواب: ھدایتِ قرآن کی مخالفت کے سبب:
1) اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ۔
[سورۃ البقرۃ:42]
اے اہلِ کتاب! تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو اور تم جانتے بھی ہو۔
[سورۃ آل عمران:71]


2) بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟ 
[سورۃ الجاثیۃ:23]


3) سو پوچھو علم والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں.
[سورۃ النحل:43، الانبیاء:7، ابراہیم:43]
اور مت چل خواہشوں پر (اس کی) جو علم نہیں رکھتے.
[سورۃ ھود:89، الجاثیۃ:18]


4) یہ سب الله تعالیٰ کی آزمائش و امتحان ہے:

القرآن: کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی.
[٢٩:٢ + ٩:16 + ٢٣:١١٢]
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے...
[٣:١٤٢ + ٤٧:٣١]

کافروں کو خطاب:
کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟[٧٥:٣٦]
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے؟[٧٥:٣]
==========================================
حق و باطل میں امتیاز کیجئے!
حق اور اہلِ حق، باطل اور اہلِ باطل کی پہچان اور امتیاز کے لئے چند قواعد کو ذکر کیاجاتا ہے، امید ہے قارئین کو ان کے پڑہنے سے انشاء اللہ فائدہ ہوگا.

قاعدہ نمبر: 1
ایک ہوتی ہے علمی غلطی اور ایک ہوتی ہے عملی غلطی. دونوں کا انجام خطرناک ہے.
اس قاعدہ کی تفصیل یہ ہے کہ جن لوگوں کاعمل غلط ہوگیا ہو اور وہ عملی غلطی میں مبتلا ہوگئے ہوں تو امید کی جاسکتی ہے کہ ان کو کسی وقت غلط عمل کے مقابلہ میں صحیح عمل کا مشاہدہ ہوجائے اور وہ صحیح عمل کی حقیقت کا ادراک کرلیں تو توبہ کرکے اس غلط عمل کو چھوڑ کر صحیح عمل پر آجائیں گے، مثلاً: ایک سیدھا سادھا ان پڑھ گمراہی میں مبتلا یا فاسق و فاجر آدمی ہے اور وہ کسی غلط عمل میں پڑا ہوا ہے، لیکن جب وہ قرآن و حدیث کے مطابق صحیح عمل کو دیکھ لیتا ہے اور اس کی حقیقت کو پالیتا ہے تو وہ اس کی طرف رجوع کرلیتا ہے، اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہوئے ہیں اور اب بھی ہو رہے ہیں.
اس کے مقابل جن لوگوں کاعلم غلط ہوگیا اور وہ علمی غلطی کا شکار ہوگئے ہیں تو وہ گمراہی کی ایسی تاریک وادی میں جاکر پھنس جاتے ہیں کہ وہاں سے ان کا نکلنا مشکل ہوجاتا ہے، بلکہ ان کو راہ راست پر آنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی.

قرآن و حدیث اور تاریخی و مشاہداتی واقعات کو دیکھتے ہوئے کہاجاسکتا ہے کہ بہت سے گروہ اسی طرح علمی غلطی کا شکار ہیں. اپنے غلط علم کی وجہ سے وہ قرآن کریم اور احادیث مقدسہ کے واضح اور صحیح مطالب کو الٹ پلٹ کرکے اس میں کھینچا تانی کرتے ہیں اور تحریف کی حد تک جاکر ان نصوص کو اپنے غلط علم کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں. چنانچہ سینکڑوں آیات و احادیث اور فقہ کی جزئیات میں یہ حضرات تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں. لہذا اہل حق طبقہ، اہل باطل کی قرآن و حدیث کی تحریفات کو اسی تناظر میں دیکھے اور سادہ لوح عوام کو بتائے کہ ان بیچاروں کا علم غلط ہوگیا ہے، جس کی بنیاد پر وہ غلط عقیدہ پر جم گئے ہیں.
---------------
قاعدہ نمبر: 2
ہر انصاف پسند اور حق کے متلاشی انسان کو چاہئے کہ قبول حق کے لئے پہلے وہ اپنے ذہن کو بالکل خالی رکھے اور پھر حق کو تلاش کرے.
اس قاعدہ کی تفصیل یہ ہے کہ انسان جب اپنے ذہن کوخالی رکھتا ہے اور پھر حق کامتلاشی رہتا ہے تو وہ قرآن و حدیث سے بہت جلدی ہدایت پالیتا ہے اور قرآنی تعلیمات کے مطابق راہ راست پر آجاتا ہے. لیکن یہی انسان اگر پہلے اپنے ذہن میں ایک غلط عقیدہ بٹھالے اور اس پر جم کر قرآن و حدیث کا مطالعہ کرے تو وہ ہدایت کو نہیں پاسکتا ہے، بلکہ غلط عقیدہ پر ڈٹ جانے کی وجہ سے وہ قرآن و حدیث کی نصوص اور واضح ارشادات کو قبول کرنے کے بجائے اس میں جوڑ توڑ کرے گا اور صریح تحریف پر اتر آئے گا، گویا ”خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں،، کامصداق بن جائے گا. ہر خاص و عام مسلمان کو سمجھ لینا چاہئے کہ کچھ حضرات نے پہلے ایک خاص عقیدہ اپنے من گھڑت قصوں، کہانیوں اور قوالیوں سے بنایا، پھر وہ قرآن و حدیث کو اس کی طرف موڑ رہے ہیں. اہل باطل کا ہمیشہ سے اسی طرح کا معاملہ رہا ہے.
---------------
قاعدہ نمبر: 3
قرآن و حدیث کی وہی تشریح معتبر ہے جو سلف صالحین اور ائمہ مجتہدین سے منقول چلی آئی ہے، کسی نئے شارح کی تشریح کا کوئی اعتبار نہیں ہے.
اس کی تفصیل یہ ہے کہ جتنے نئے فتنے پیدا ہوئے ہیں یا آئندہ پیدا ہوں گے، اس کی بنیاد اس پر ہے کہ ہر فتنہ انگیز آدمی اپنی ذہنی اختراع اور ذہنی خلفشار کے مطابق قرآن وحدیث کی خود ساختہ تشریح کرنے لگتا ہے اور اس پر ایک فرقہ کی بنیاد قائم کرتا ہے. بہت سے گروہ اسی نامناسب راستے پر گامزن ہیں، ذرا بھی کسی سے بات کرو تو فوراً قرآن کی آیات سے ایک خانہ ساز، اختراعی اور من گھڑت تشریح پیش کردے گا یا اپنا مطلب نکالنے کے لئے قرآن وحدیث میں تحریف کردے گا. ان سے گزارش ہے کہ بھائی! ذرا سوچو تو سہی کہ سلف صالحین ایک آیت سے وہ کچھ نہیں سمجھ سکے جو آج آپ سمجھ رہے ہیں؟ نزول قرآن سے چھ سو سال بعد آنے والے شیخ القادر جیلانی رح کی گیارہویں کو فوراً قرآن سے ثابت کردیتے ہیں، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر گلی اور ہر محلہ میں کوئی نہ کوئی مجتہد بیٹھا ہوا ہے جو اجتہاد کررہا ہے اور قرآن وحدیث میں تحریف کا گناہ کررہا ہے، آج کل تو دین سے بالکل آزاد طبقہ اجتہاد پر مسلسل زور دے رہا ہے اور خود بھی اجتہاد کرتا چلا رہا ہے.

سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 215
عائز نامی ایک خاتون بیان کرتی ہیں میں نے حضرت ابن مسعودؓ کو مردوں اور خواتین کو یہ نصیحت ارشاد کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا "تم میں سے جو بھی مرد یا عورت فتنے کا زمانہ پائے تو وہ پہلے لوگوں کے طریقے پر عمل کرے کیونکہ تم لوگ دین فطرت (کے ماننے والے ہو)".
---------------
قاعدہ نمبر: 4
کسی نبی کا معجزہ اس نبی کی نبوت کے لئے دلیل ہوتا ہے، اس کی الوہیت کی دلیل نہیں ہوتا.
اس قاعدہ کی تفصیل یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے ہاتھوں بے شمار معجزات ظاہر ہوئے ہیں اور ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کے سینکڑوں معجزات ظاہر ہوئے ہیں، یہ معجزات آنحضرت صلی اللھ علیہ وسلم کی نبوت کے اثبات کے لئے تھے کہ آپ نبی ہیں. کچھ حضرات نے معجزات کو دیکھ کر نبی پاک صلی اللھ علیہ وسلم کو ایسے اوصاف سے متصف کردیا جو اللہ تعالیا کی صفات ہیں، مثلاً: آنحضرت انے بطور معجزہ مستقبل کی کوئی خبردی تو انہوں نے کہا کہ دیکھو! آنحضرت صلی اللھ علیہ وسلم کس طرح غیب دان ہیں، یا آنحضرت صلی اللھ علیہ وسلم کے ہاتھ سے بطور معجزہ کسی کا زخم ٹھیک ہوگیا یا کنویں میں پانی بھر گیا یا انگلیوں سے پانی جاری ہوا یا کھانا بڑھ گیا تو ان حضرات نے کہہ دیا کہ دیکھو! آنحضرت صلی اللھ علیہ وسلم کس طرح مشکل کشا ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیا کی جانب سے معجزات تھے جو آنحضرت صلی اللھ علیہ وسلم کے رسول برحق ہونے کے دلائل ہیں. اگر یہ مشکل کشائی ہے تو جناب حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں بطور معجزہ مردے زندہ ہوئے تو کیاوہ خدا ہوگئے؟ ہر خاص وعام کو چاہئے کہ وہ اس نا سمجھی کوسمجھیں.
---------------
قاعدہ نمبر: 5
فقہاء کرام نے شریعت کے احکام کوجس طرح اپنی کتابوں میں پیش کیا ہے، ان کواسی طرح قبول کرنا چاہئے، تاکہ تمام تنازعات کاآسانی سے فیصلہ ہوجائے.
اس قاعدہ کی تفصیل یہ ہے کہ یہ شریعت کسی خفیہ راستے سے آکر رات کی تاریکی میں ہم تک نہیں پہنچی ہے، بلکہ اس کے کھلے احکامات، کھلے راستے سے غیر مبہم انداز میں ہم تک پہنچے ہیں. قرآن کریم متن اور دستور ہے، احادیث اس کی شرح ہے اور امام ابوحنیفہ. کا اسلامی فقہ اس کے دفعات ہیں. ہمیں چاہئے کہ احناف کے فقہ کے دفعات میں تمام مسائل کاحل تلاش کریں. اگر ہم نے ایسا کیا تو فیصلے تک بآسانی پہنچ جائیں گے، مثلاً: ”ہدایہ،، کے ”باب الاذان،، میں اذان کے جو تمام مسائل بیان کئے گئے ہیں، آیا اس میں اذان سے پہلے ایک خود ساختہ درود پڑھنا ہے یا نہیں؟ اسی طرح جمعہ کے تمام مسائل میں کیا جمعہ کی نماز کے بعد دائرہ کی شکل میں کھڑے ہوکر لاؤ اسپیکر میں ایک خاص اردو، درود لکھاملتا ہے یانہیں؟ کیافقہ کی کتابوں میں "عید میلاد النبی" کا لفظ کہیں ملتا ہے یا عید میلاد النبی کے جلوسوں کا کہیں ذکر ہے یا گیارہویں کا ذکر ملتا ہے یا تیجے اور چالیسویں کاذکر کہیں ملتا ہے؟ اگر نہیں تو یہ حضرات ان چیزوں کو کہاں سے لاتے ہیں؟ فقہاء احناف نے متفقہ طور پر لکھا ہے کہ: اللہ تعالیا کے سوا کسی کو عالم الغیب ماننے سے آدمی کافر ہوجاتاہے. یااللہ تعالیا کے سوا کسی کو حاضر ناظر ماننے سے آدمی کافر ہوجاتاہے. اسی طرح واضح دفعات سے انحراف کرکے ان حضرات نے تنازعات و اختلافات کا دروازہ کھول دیا ہے. اہل حق کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان حضرات نے جب اتنے بڑے فقہاء اور فقہ کی اتنی واضح دفعات کو نظر انداز کردیا ہے تو وہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہیں. بعض گمراہ لوگ کہتے ہیں کہ امت میں تنازع فقہ کی وجہ سے ہے، میں کہتا ہوں کہ فقہ کو چھوڑنا تنازعات کی جڑ ہے.
---------------
قاعدہ نمبر: 6
قرآن کریم میں کچھ نصوص متشابہات کے قبیل سے ہیں اور کچھ محکمات کے قبیل سے ہیں(قرآن=٣:٧)، متشابہات(جنکے معنیٰ معلوم یا معین نہیں) کو محکمات(یعنی انکے معنیٰ واضح ہیں) کی روشنی میں سمجھنا چاہئے، نہ یہ کہ محکمات کو چھوڑ کر متشابہات کے پیچھے پڑاجائے.
اس قاعدہ کی تفصیل یہ ہے کہ مثلاً: قرآن کریم میں بشر کا لفظ محکمات میں سے ہے، جو جنس انسان کے لئے مخصوص ہے، جس سے فرشتوں اور جنات کی جنس اس سے الگ ہوجاتی ہے. انبیاء کرام علیہم السلام کے لئے قرآن و حدیث میں بار بار بشر کا اطلاق کیا گیا ہے، آنحضرت اسے متعلق بھی قرآن و حدیث میں جگہ جگہ بشر کا ذکر ہے. اسی طرح آپ پر نور کا اطلاق بھی کیا گیا ہے، نور کے نام سے یاد کیا گیا ہے، ہدایت اور قرآن کو بھی نور کہا گیا ہے. لہذا نور کے اس محتمل اور متشابہ لفظ کو بشر کے مقابلے میں نہیں لانا چاہئے، بلکہ عمل اور عقیدہ کے اعتبار سے لفظ بشر کو اپنانا چاہئے اور اس محکم کی روشنی میں اس متشابہ کو سمجھنا چاہئے. اس قاعدہ سے بہت ساری الجھنیں دور ہوسکتی ہیں. آنحضرت صلی اللھ علیہ وسلم ہدایت کے چراغ اور نور تھے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے.
---------------
قاعدہ نمبر: 7
بہت ساری بدعات و شرکیات کا ارتکاب معاشرتی اختلاط اور اردگرد کے حالات کو دیکھنے اور سننے سے ہوتا ہے.
اس قاعدہ کی تفصیل یہ ہے کہ ہندوستان کی ہندو اقوام کی ہندوانہ رسومات سے بعض بے علم متاثر ہوئے اور انہوں نے ان رسومات کو اپنی معاشرتی، اخلاقی اور عباداتی زندگی میں داخل کردیا. اسی طرح جو مسلمان آتش پرست پارسیوں کے پڑوس میں رہتے تھے، وہ ان کے معاشرتی رسم و رواج میں پھنس گئے. اسی طرح کچھ حضرات نے ان تمام رسومات اور بدعات کو اپنا لیاجو دوسری قوموں کی زندگی کاحصہ تھا، چنانچہ جشن عید میلاد النبی عیسائیوں کی کرسمس کی نقل ہے اور تیجا، چالیسواں، برسی اور گیارہویں ہندو پن توں کی رسومات کی نقل ہے، "تحفۃ الہند" کتاب کامطالعہ فرمائیں تو ساری بدعات اور رسومات کی بنیاد کا پتہ چل جائے گا، بشرطیکہ انصاف کا دامن ہاتھ میں ہو.
---------------
قاعدہ نمبر: 8
”توجیہ القائل بما لایرضی بہ قائلہ" یعنی قائل کے قول کی ایسی تاویل کرنا جس سے وہ راضی نہیں.
اس قاعدہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک صحیح العقیدہ عالم اپنی تقریر یا تحریر میں کوئی علمی بات کہہ دیتا یا لکھ لیتا ہے، جو شریعت کے موافق ہے مگر اس صاحب ِتحریر کے علاوہ ایک اور صاحب آتا ہے اور ان کی عبارت اور تحریر سے کوئی ایسا مطلب نکال لیتا ہے جو شریعت کے خلاف ہوتا ہے اور پھر اس کو بنیاد بناکر فتویٰ لگاتا ہے اور پروپیگنڈہ کا ایک طوفان کھڑا کردیتا ہے، اس تقریر و تحریر اور تصنیف و تالیف کا ذمہ دار عالم اگر زندہ ہوتا ہے تو وہ اس کی تردید بھی کر لیتا ہے یا اس کے پیروکار اور معتقدین اس عبارت کا صحیح مطلب بھی بتادیتے ہیں اور اس غلط مطلب کو گمراہی بھی سمجھتے ہیں، مگر غلط پروپیگنڈہ کرنے والا کسی کی نہیں سنتا اور کہتا پھرتا ہے کہ نہیں، اس کا مطلب تو یہ ہے اور یہ شخص ایسا ہے، ویسا ہے یعنی دشمنِ خدا ہے اور گستاخِ رسول ہے. اس کی مثال علماء دیوبند اور اکابر دیوبند کی بعض عبارات ہیں جن کو بریلوی حضرات اپنے مطلب کے غلط معانی پہنا دیتے ہیں یا سیاق و سباق سے توڑ مروڑ کر غلط انداز سے پیش کرتے ہیں اور سادہ لوح عوام میں شور مچاتے ہیں کہ دیکھو یہ علماء دیوبند کی کتابوں کی عبارات ہیں، اس کا یہ مطلب ہے اور اس مطلب کی وجہ سے یہ لوگ گستاخ رسول ہیں اور فلاں ہیں اور فلاں ہیں. انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو علماء دیوبند اس وقت زندہ ہیں، یہ حضرات ان سے پوچھتے کیوں نہیں کہ بھائی! یہ عبارت ہے، اس کے متعلق تمہارا کیاعقیدہ ہے؟ اگر وہ غلط عقیدے کا اقرار کرتا ہے تو پھر بے شک یہ صاحب پروپیگنڈہ کریں، لیکن اگر وہ یہ کہہ دیں کہ بھائی! اس عبارت سے تم نے جو مطلب نکالا ہے، یہ عقیدہ ہمارے ہاں بھی غلط ہے اور یہ مطلب ہمارے نزدیک بھی غلط ہے، لیکن اس عبارت کا مطلب یہ نہیں ہے، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے . اس وضاحت کے باوجود پھر بھی یہ حضرات اپنی مسجدوں میں اور منبروں پر غلط بیانی کرتے ہیں کہ علماء دیوبند کا یہ عقیدہ ہے اور وہ یہ کہتے ہیں. یہی ”توجیہ القائل بما لایرضی بہ قائلہ" کا مطلب ہے. ایک شاعر نے خوب فرمایا ہے:
وہم نقلوا عنی الذی لم اقلہ بہ
وما اافۃ الاخبار الا رواتہا
ترجمہ: ... مخالفین نے مجھ سے وہ بات نقل کی جو میں نے نہیں کہی ہے اور غلط خبر دینے کی آفت راویوں کی گردن پر ہے،، .
قاعدہ نمبر: 9
اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ اللہ تعالیا کی ذات کے ساتھ خاص ہیں جو کسی مخلوق میں نہیں ہوسکتی .
اس قاعدہ کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہیں، وہ کسی مخلوق کے لئے استعمال نہیں کی جاسکتی، مثلاً:
. ... اللہ تعالیٰ کی ایک صفت خالقیت ہے تو کسی مخلوق کو صفت تخلیق کے ساتھ متصف کرنا جرم عظیم کے ساتھ ساتھ شرک بھی ہے، چنانچہ قوم نوح علیہ السلام نے تخلیق کی یہ صفت اپنے پانچ معبودوں میں سے ”ود،، کو دی تھی اور کہا تھا کہ: ”لاتذرنّ وداً،، یعنی ”ود،، کو ہر گز نہ چھوڑو.[القرآن-71:23] انہوں نے ایک طاقتور مرد کی شکل میں ”ود،، کامجسمہ بنایا تھا اور اس کی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تخلیق ِ کائنات کامالک ہے.اہل ہنود بڑے پیمانے پر اس شرک میں مبتلا ہیں جو اپنے بہت سارے اوتاروں کو تخلیق کاعہدہ دیتے ہیں، ہندوؤں کے ہاں ان کے بڑے اوتاروں میں سے ایک دیوتا کانام ”بشن،، ہے. ہندو لوگ ”بشن،، کو تخلیق کی صفت سے متصف کرتے ہیں، ہمارے زمانے کے اہل بدعت اور اہل باطل اولیاء کو غیر شعوری طور پر یہ درجہ دیتے ہیں.
. ... اللہ تعالی کی صفات_مختصہ میں سے ایک صفت معبود کی ہے کہ ہر قسم کی عبادت، قولی، مالی اور بدنی اللہ تعالیا کے لئے خاص ہے ”ایاک نعبد،، میں اس کاذکر ہے، لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر عبادت خاص اللہ تعالیا کے لئے کرے. کچھ حضرات اس صفت میں بہت نقصان کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیا کے سوا غیروں کے لئے روزہ بھی رکھتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں، نذر و نیاز بھی دیتے ہیں، قبروں پر چڑھاوے بھی چڑھاتے ہیں، اس کا طواف بھی کرتے ہیں، اس کے سامنے سجدے بھی کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ، حالانکہ عبادت اللہ تعالیا کے لئے خاص ہے.
. ... اسی طرح اللہ تعالیا کی صفات_مختصہ میں سے اللہ تعالیا کاعالم الغیب ہونا ہے. اس صفت میں فلاسفہ نے غلو کیا اور اپنے بڑوں کو عالم الغیب کی صفت سے متصف کیا. مشائین اور اشراقیین جو فلاسفہ کے دو طبقے ہیں، اسی گمراہی میں مبتلا ہوئے. شیعہ حضرات نے اپنے بارہ اماموں کے ساتھ یہی معاملہ کیا کہ سب کو عالم الغیب قرارا دیا اور پھر بریلوی حضرات نے انبیاء کرام اور اولیاء عظام کو اس صفت کے ساتھ متصف کیا، حالانکہ اللہ تعالیا کاارشاد عالی ہے: ”قل لایعلم من فی السموات والارض الغیب الا اللہ،، لہذا اس صفت کو اللہ تعالیا کے ساتھ خاص کرنا ہر مسلمان کے ایمان کاحصہ ہے.
. ... اللہ تعالیا کی صفات مختصہ میں سے اللہ تعالیا کا ہرجگہ حاضر ناظر ہونا اور ہرجگہ اپنے علم کے ساتھ موجود ہونا ہے، اس صفت میں بھی لوگوں نے بہت نقصان کیا ہے.
روافض نے یہ عہدہ اپنے بارہ اماموں کودیا ہے اور بریلوی حضرات نے نبی کریم صلی اللھ علیہ وسلم کو اس صفت سے متصف کیا ہے جو بہت بڑا جرم ہے، ان کو چاہئے کہ اللہ تعالیا کی خصوصی صفت کو اللہ تعالیا کے ساتھ خاص مانیں. اب یہ وبا عام ہونے لگی ہے کہ اس عقیدے کے اظہار کے لئے سڑکوں، چوراہوں اور دیواروں پر ”لبیک یارسول اللہ،، کا نعرہ لکھنے لگے ہیں.نعوذ باللہ من ذالک.
. ... اللہ تعالیا کی خصوصی صفات میں سے رزاق ایک صفت ہے یعنی مخلوق کو رزق دینے والا.
کچھ لوگوں نے اس صفت کے ساتھ نبی کریم صلی اللھ علیہ وسلم کو متصف کیا اورکچھ نے شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کو اس صفت کے ساتھ متصف کیا . میں نے گوجرالہ میں ان کے ایک واعظ سے سنا جو کہہ رہا تھا کہ ہم کو غوث اعظم روزی دیتا ہے، نعوذ باللہ.
. ... اللہ تعالیا کی خصوصی صفات میں سے ایک صفت مدد کرنا ہے، یعنی ما فوق الاسباب امور میں صرف اللہ سے مدد مانگنا ہے.یہود حضرت عزیر علیہ السلام اور نصاریا حضرت عیسیاعلیہ السلام سے ہر معاملہ میں مدد مانگتے ہیں. ہندو اور مجوس تو اللہ تعالیا کو چھوڑ کر سینکڑوں دروازوں پر ہاتھ پھیلاتے ہیں، ہندو .. کروڑ دیوتاؤں کو مدد کے لئے پکارتے ہیں. کچھ لوگوں نے تو ”یاعلی مدد،، کے نعرہ کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے، اور کچھ نے” المدد یارسول اللہ!،، کے نعرہ کو اپنا خاص شعار بنالیا ہے، تعجب اس پر ہے کہ جو لوگ نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز میں ”وایاک نستعین،، بھی پڑھتے ہیں، جس کا ترجمہ ہے کہ: ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، یہ کہہ کر پھر غیروں سے مافوق الاسباب امور میں بھی مدد مانگتے ہیں:
بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بو العجبی است.
. ... اسی طرح اللہ تعالیا کی خصوصی صفات میں سے ہے کہ مصیبت کے وقت غائبانہ حاجات میں صرف اسی رب کو پکارا جائے. کچھ لوگ ہر مصیبت کے وقت حضرت علی. کو مشکل کشا بناکر غائبانہ حاجات میں پکارتے ہیں اور اپنے بارہ اماموں کو بھی پکارتے ہیں اور کچھ لوگ حضرات انبیاء کرام کے علاوہ شیخ عبد القادر جیلانی. کو ہرمصیبت کے وقت پکارتے ہیں، بلکہ اس کے علاوہ ہر پیر و فقیر کو غائبانہ حاجات میں پکارتے ہیں اور مزارات پر جاکر مشکل کشائی کے لئے نعرے لگاتے ہیں اور اپنے جلسے بھی انہیں نعروں سے گرماتے ہیں، حالانکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیا کا فرمان ہے: ”ومن اضل ممن یدعو من دون اللہ،، یعنی اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیا کے سوا غیروں کو پکارتا ہے. شیخ عطار. نے اس کا ترجمہ اپنے شعر میں پیش کیا ہے:
ہرکہ خواند غیر حق را اے پسر
کیست در عالم ازو گمراہ تر
بہرحال ہر مسلمان کو چاہئے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اللہ تعالیا کی صفات _مختصہ اللہ تعالیا ہی کے ساتھ خاص رکھے اور اللہ تعالیا کی ناراضگی سے اپنی عاقبت کو خراب نہ کرے اور اپنے عقیدہ کوصحیح رکھنے کے لئے ان دس قواعد کو مد_نظر رکھے. اللہ تعالیا ہدایت پر استقامت عطا فرمائے. آمین یارب العالمین







Add caption





















No comments:

Post a Comment