Tuesday, 1 May 2012

سلفی اور خلفی

سلفی اور خلفی:
سلف (پہلے لوگوں) اور ان کے تابعداروں کو "سلفی" کھتے ہیں
اور
خلف (بعد کے لوگوں) اور ان کے تابعداروں کو "خلفی" کہتے ہیں.[قرآن=٧:١٦٩+١٩:٥٩+٢٤:٥٥]
جو لوگ خیر القرون (٣ بہترین زمانہ) کے ہوں، جن میں صحابہ رضی الله عنھم، تابعین اور تبع تابعین رحمھم الله علیھم اجمعین ہیں، ٢٢٠ ہجری تک ہے. ان کو سلف_صالحین (پہلے کے نیک لوگ)کہتے ہیں. جن کا ایمان (علم و عقیدہ) اور عمل نیک، سچا اور صالح تھا، اور جو ان کی پیروی کریں ان کو "سلفی" کہتے ہیں. اور ان صادقین اور منیب إلى الله (الله کی طرف میلان رکھنے والوں) کے علم و عمل میں  ساتھ رہنے اور ان کا راستہ چلنے کا حکم_قرآن : اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور رہو ساتھ سچوں کے[٩:١١٩]...اور اتباع کرو (اس کے) راہ کی جو میری طرف میلان رکھے...[٣١:١٥] ان کے متبعین (مقلدین) ان آیات پر عمل پیرا ہیں.

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ
٤٣١- شواہد: خير القرون قرني (بہترین زمانہ میرا زمانہ)، خير أمتي قرني(بہترین امت میرے زمانہ کی)، خير الناس قرني(بہترین لوگ میرے زمانہ کے).


 ترجمہ :حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہیں کہ: "بہترین لوگ میرے قرن (دور) کے (یعنی صحابہ رضی اللھ عنھم) ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل (ملے ھوۓ) ہیں(یعنی تابعین)، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں(یعنی تبع تابعین)". اس کے بعد ایسے لوگ ہونگے جو بغیر کہے شہادت دینے کو تیار نظر آئیںگے (یعنی  جو بغیر سوال کے جھوٹی گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے)، خیانت کریں گے، امانتدار نہ ہوں گے، عہد شکنی کریں گے معاہدے پورے نہ کرینگے، اور ان میں (بوجھ بے فکری کے) موٹاپا ظاہر ہوجاۓ گا.


علامات_قیامت میں سے "آخری لوگ پہلوں پر لعن طعن کریں گے":

شیعہ اور غیر-مقلد (عرف اہل_حدیث-نفسی) علامات_قیامت میں سے ہیں، کیوں کہ یہ بعد کے لوگ،صحابہ رضی الله عنھم، ائمہ رحمھم الله (میں سے خصوصا إمام أبو حنيفه رح) اور ان سلف_صالحین کے پیروی و تقلید کرنے والے متبعیں و مقلدین پر لعن طعن کرنے والے امت کے آخری لوگ (خلف) اور کون ہو سکتے ہیں؟؟؟

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت میں پندرہ خصلیتں آجائیں گی تو ان پر مصیبتیں نازل ہوں گی عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کیا ہیں آپ نے فرمایا جب مال غنیمت ذاتی دولت بن جائے گی امانت کو لوگ مال غنیمت سمجھنے لگیں گے زکوة کو جرمانہ سمجھا جائے گا شوہر بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرے گا دوستوں کے ساتھ بھلائی اور باپ کے ساتھ ظلم و زیادتی کرے گا مسجد میں لوگ زور زور سے باتیں کریں گے ذلیل قسم کے لوگ حکمران بن جائیں گے کسی شخص کی عزت اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے جائے گی شراب پی جائے گی ریشمی کپڑا پہنا جائے گا گانے بجانے والیاں لڑکیاں اور گانے کا سامان گھروں میں رکھا جائے گا اور "امت کے آخری لوگ پہلوں پر لعن طعن کریں گے" پس اس وقت لوگ عذابوں کے منتظر رہیں یا تو سرخ آندھی یا خسف یا پھر چہرے مسخ ہو جانے والا عذاب


امام قاضی احمد القلشانی (المتوفی سن 863ھ) فرماتے ہیں:
"والسلف الصالح وهو الصدر الأول الراسخون في العلم المهتدون بهدي النبي ﷺ الحافظون لسنته , اختارهم الله لصحبة نبيه وانتخبهم لإقامة دينه....."
سلف صالحین سے مراد وہ پہلی نسل ہے کہ جو راسخون فی العلم تھے، ہدایت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدایت یافتہ تھے۔ جو سنت کے محافظ تھے۔ انہیں اللہ تعالی نے اپنے دین کو قائم کرنے کے لیے چن لیا تھا اور ان سے راضی ہوا تھا کہ وہ اس امت میں دین کے امام بنیں۔ انہوں نے امت کی نصیحت چاہنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور انہوں نے رب کی رضا کے لیے اپنے آپ کو قربان کردیا۔
اللہ تعالی نے ان کی مدح اپنی کتاب میں فرمائی:
﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ﴾ (الفتح: 29)
’’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں بہت نرم ہیں‘‘
اور فرمان الہی ہے:
﴿لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ، وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ڵ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ (الحشر: 8-9)
’’ (فئ کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالٰی کی اور اس کے رسول(ﷺ) کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں، اور (ان کے لئے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی(یعنی انصار) اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب اور با مراد ہے‘‘
اللہ تعالی نے آیت میں مہاجرین اور انصار کا ذکر فرما کر ان کی پیروی کرنے والوں کی تعریف فرمائی، اور یہ کہ وہ ان سے راضی ہوا کہ جن بعد میں آنے والوں نے ان کی پیروی کی۔
اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کو وعید سنائی جو سبیل المومنین کے علاوہ دوسری راہ پر چلیں:
﴿وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا﴾ (النساء: 115)
’’ اور جو رسول کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ ہدایت اس پر واضح ہوچکی اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر کسی اور راہ پر چلے تو ہم اسے وہیں پھیر دیتے ہیں جہاں وہ خود پھرتا ہے اور پھر اسے جہنم میں پہنچائیں گے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے ‘‘
اسی لیے جو کچھ ان سے مروی ہے ہم پر اس میں ان کی پیروی کرنا ضروری ہے، جو عمل انہوں نے کیا اس پر ان کے نقش قدم کی پیروی کریں، اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ﴾ (الحشر: 10)
’’ اور (ان کے لئے) جو ان کے بعد آئیں اور کہیں گے کہ اے ہمارےرب ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ایمانداروں کی طرف ہمارے دل میں کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے‘‘ ([5])
امام محمد بن احمد السفارینی (المتوفی سن 1188ھ) فرماتے ہیں:
"المراد بمذهب السلف: ماكان عليه الصحابة الكرام رضوان الله عليهم وأعيان التابعين لهم بإحسان وأتباعهم وأئمة الدين ممن شُهد له بالإمامة وعُرف عظم شأنه فى الدين وتلقى الناس كلامهم خلفاً عن سلف دون من رُمي ببدعة أو شُهر بلقب غير مرضي مثل: الخوارج , والروافض , والقدرية , والمرجئة , والجبرية , والجهمية , والمعتزلة , والكرَّامية ونحو هؤلاء"
’’ مذہب سلف سے مراد ہے کہ جس پر صحابہ کرام﷢ اور نمایاں تابعین کرام اور بطور احسن ان کی پیروی کرنے والے اور ایسے آئمہ دین کے جن کی امامت کی شہادت دی جاتی ہے اور دین میں ان کی عظمت شان معروف ہے اور لوگ نسل در نسل ان کے کلام کو شرف قبولیت دیتے چلے آئے ہیں۔ نہ ان میں سے کسی کو بدعت یا مشہور بدعتی فرقے کی جانب نسبت سے متہم کیا جاتا ہے جیسے خوارج، روافض، قدریہ، مرجئہ، جبریہ، جہمیہ، معتزلہ اور کرامیہ وغیرہ‘‘ ([6])
ایک اور جگہ پر فرماتے ہیں:
’’ مذہب سلف کو ظاہر کرنا اور اس کی حقیقت کو واضح کرنا، اور یہ کہ مذہب سلف دیگر مذاہب سے زیادہ محفوظ تر، علم وحکمت میں بڑھ کر ہے۔ اور یہی سلف وہ مہاجرین وانصار صحابہ کرام﷢ تھے کہ جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کرنے میں سبقت فرمائی ، اسی طرح سے دیگر اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ جنہوں نے بطور احسن ان کی پیروی کی اور آئمہ ہدایت۔یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے ہدایت پر ہونے اور ان کے دینی فہم کی دوسروں پر فضلیت ، ان کی اور ان کے منہج کی پیروی کرنے کے بارے میں مسلمان متفق ہیں۔بلاشبہ اللہ تعالی نے اپنے نبی وخلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے رب کے حکم سےانہیں اندھیروں میں سے نور، اس عزیز وحمید اللہ تعالی کی راہ کی طرف نکال لائیں۔ اللہ تعالی نے خود اس بات کی گواہی دی کہ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے اذن سے داعی الی اللہ، روشن چراغ اور اپنے احکامات کے ساتھ ارسال فرمایا،
فرمان الہی ہے:
﴿قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ ۷ عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي﴾ (یوسف: 108)
’’ کہو یہ دین میری سیدھی راہ ہے میں اللہ تعالی کی طرف مکمل بصیرت کے ساتھ دعوت دیتا ہوں، میں اور میرے متبعین بھی‘‘([7])
﴿يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا، وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا﴾ (الاحزاب: 45-46)
’’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یقیناً ہم نے ہی آپ کو (رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر ) گواہیاں دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خبردار کرنے والا بناکر بھیجا ہے، اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بناکر بھیجا ہے‘‘
قدیم وجدید علماء کرام نے "سلف" کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے
اے اللہ۔!!
مشکلات میں میرا ہاتھ پکڑ لے اورمیرے سامنے ہر معاملے میں حقائق کےسارے پہلو کھول دے۔آمین ثم آمین

*************************************
پھر اُنکی جگہ آئے ناخلف کھو بیٹھے نماز اور پیچھے پڑ گئے مزوں کے سو آگے دیکھ لیں گے گمراہی کو[١٩:٥٩]
نماز ضائع کرنے والوں کو سزا:
وہ تو اگلوں کا حال تھا۔ یہ پچھلوں کا ہےکہ دنیا کے مزوں اور نفسانی خواہشات میں پڑ کر خدا تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہو گئے نماز جو اہم العبادات ہے اسے ضائع کر دیا۔ بعض تو فرضیت ہی کے منکر ہو گئے۔ بعض نے فرض جانا مگر پڑھی نہیں بعض نے پڑھی تو جماعت اور وقت وغیرہ شروط و حقوق کی ریاعت نہ کی ان میں سے ہر ایک درجہ بدرجہ اپنی گمراہی کو دیکھ لے گا کہ کیسے خسارہ اور نقصان کا سبب بنتی ہے اور کس طرح کی بدترین سزا میں پھنساتی ہے۔ حتٰی کہ ان میں سے بعض کو جہنم کی اس بدترین وادی میں دھکیلا جائے گا ۔ جس کا نام ہی "غیّ" ہے۔




No comments:

Post a Comment