Monday, 28 May 2012

دجال ۔۔۔ کیا، کون؟ کب؟ کہاں؟ کتنے اور کیسے؟؟


دجال کے معنیٰ ہیں حقیقت کو چھپانے والا، سب سے بڑا دھوکے باز اور چالباز۔

لفظ دجال کا مادہ دجل ہے جس کے معنیٰ ہیں خلط ملط کر دینا، تلبیس یعنی شیطانی چالوں سے دوسروں کو دھوکے اور التباس میں ڈالنا، ملمع سازی کرنا، حقیقت کو چھپانا، جھوٹ بولنا اور غلط بیانی کرنا۔ گویا دجال میں یہ تمام منفی اوصاف پائے جاتے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں دجال سے مراد جھوٹا مسیح (المسیح الدجال) ہے جو قیامت کی اہم نشانیوں میں سے ایک ہے۔ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا اور نبوت اور خدائی کا دعویٰ کرے گا۔

خروج دجّال کے متعلق عقیدہ رکھنا کتنا اہم ہے اور فتنۂ دجّال کی کتنی اہمیت ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حدیث کی تمام مستند کتابوں میں اس کا ذکر "تواتر" سے موجود ہے۔

امام بخاری نے دجّال پر ایک خصوصی باب مختص کیا ہے اور صحیح بخاری میں 51 مرتبہ دجّال کا ذکر آیا ہے۔
[صحيح البخاري« حديث نمبر 86، 184، 832، 833، 922، 1053، 1377، 1555، 1879، 1880، 1881، 1882، 2543، 3057، 3239 ،3337، 3338، 3355، 3395، 3439، 3441، 3450، 3451، 4366، 4402، 4707، 5902، 5913، 6175، 6365، 6368، 6375، 6377، 6999، 7026، 7122، 7124، 7125، 7127، 7128، 7129، 7130، 7131، 7132، 7133، 7134، 7287، 7355، 7407، 7473]


صحیح مسلم میں بھی دجّال پر ایک باب قائم ہے اور صحیح مسلم میں لفظ دجّال 65 مرتبہ مذکور ہے۔

سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں بھی دجّال پر ابواب موجود ہیں اور ان دونوں مجموعہ ہائے احادیث میں لفظ دجّال بالترتیب 28 اور 33 مرتبہ آیا ہے۔

سنن ابن ماجہ میں لفظ دجّال 18 مرتبہ،

مسند احمد میں 206 مرتبہ،

مؤطا امام مالک میں 5 مرتبہ آیا ہے۔

امام ابو یعلیٰ، امام بزار، امام طبری، امام ابن ماجہ، امام ہیثمی رحمہم اللہ کے اپنے اپنے مرتب کردہ مجموعہ ہائے احادیث میں دجّال کا لفظ اتنی بار مذکور ہے کہ اس کی حیثیت ایک ذخیرے کی سی ہے اور ان کا شمار کرنا تقریباً ناممکن امر ہے۔ امام حاکم، امام قرطبی، نعیم بن حماد، ابن کثیر، علامہ برزنجی اور شیخ یوسف مقدسی کے مرتب کردہ مجموعہ ہائے احادیث میں بھی دجّال سے متعلق کثرت سے روایات موجود ہیں۔


Wednesday, 23 May 2012

حق و باطل میں فرق کی صلاحیت تقوٰی سے ۔۔۔ سورۃ الانفال:29


حق و باطل میں فرق(1) تقویٰ کے ذریعے:
القرآن:
اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے ساتھ تقویٰ کی روش اختیار کرو گے تو وہ تمہیں (حق و باطل کی) تمیز عطا کردے گا، اور تمہاری برائیوں کا کفارہ کردے گا، اور تمہیں مغفرت سے نوازے گا، اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔
[سورۃ الانفال:29]
یعنی تقویٰ کی یہ خاصیت ہے کہ وہ انسان کو ایسی سمجھ عطا کردیتا ہے جو حق اور ناحق میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور گناہ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی عقل خراب کردیتا ہے جس سے وہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے۔


قرآن پاک کا ایک امتیازی نام ”الفرقان“ ہے۔
وانزل الفرقان
اور اسی نے (حق و باطل کو پرکھنے کا) معیار نازل کیا۔
[سورة آل عمران:4]
تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ
بڑی شان ہے اس ذات کی جس نے اپنے بندے پر (حق و باطل کا) فیصلہ کردینے والی یہ کتاب نازل کی
[سورة الفرقان:1]
فرق کے معنیٰ دو چیزوں کے درمیان فصل کرنا خواہ وہ فصل آنکھوں سے دکھائی دے یا دل سے ادراک کیا جائے [مفردات القرآن] یعنی قرآن مجید بنی آدم کو ایسے احکام وتعلیمات سے آگاہ کرتا ہے کہ جن سے ایمان وکفر، حق وباطل اور مطیع وعاصی کے درمیان ایک حد فاصل پیدا ہوجاتا ہے اور اس سے حق یعنی اسلام کا پسندیدہ ومقبول ہونا اور غیراسلام کاباطل ومردود ہونا عیاں ہوجاتا ہے. لیحق الحق ویبطل الباطل اور اُس فرقان پر صحیح عمل کرنے والوں کوایسی شان عطا کرتا ہے جس سے وہ دوسروں سے ممتاز ہوجاتے ہیں۔
؎




عبادت کے معنی، اقسام، ودرجات، فضائل ومقاصد

عبادت کسے کہتے ہیں؟

لغوي معنیٰ:
بطورِ تعظیم معبود کے لئے انکساری و اطاعت بندگی، پرستش، پوجا۔



اصطلاحي معنیٰ:
ہر قول اور فعل ، دعا اور پکار ، ثنا اور تعظیم ، رکوع اور سجود ، قیام اور قعود وغیرہ جو اس اعتقاد اور شعور کے ساتھ ہو کہ معبود کو مافوق الاسباب ہمارے تمام معاملات پر غیبی قبضہ اور تسلط حاصل ہے، اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے، وہ عبادت ہے.
چنانچہ علامہ ابن القیمؒ نے عبادت کی تعریف کو ایک جامع تعبیر سے حسب ذیل عبارت میں بیان فرمایا ہے:
العبادة: (‌عبارة ‌عن ‌الاعتقاد والشعور بأن للمعبود سلطة غيبية في العلم والتصرف فوق الأسباب، يقدر بها على النفع والضر؛ فكل دعاء وثناء وتعظيم ينشأ من هذا الاعتقاد: فهو عبادة)۔
ترجمہ :
عبادت: اس اعتقاد اور شعور کا نام ہے کہ معبود کو ایک غیبی تسلط حاصل ہے، جس کی وجہ سے وہ نفع نقصان پر قادر ہے، اس لئے ہر تعریف، ہر پکار اور ہر تعظیم جو اس مذکورہ اعتقاد اور شعور کے ساتھ ہو وہ عبادت ہے۔
[مدارج السالکین: ١/٤٠ (1/ 318 الناشر: دار الصميعي)]

An expression of the belief and perception that the deity has an unseen authority (control, power) in knowledge and control (of the affairs) above the (created) ways and means (asbaab) through which He has power of benefit and harm. So every invocation (du'a), praise and veneration that emanates from this belief is considered ibaadah (worship).








اطاعت اور عبادت میں فرق:
 قرآنِ حکیم میں:
(اَطِيْعُوْا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْا الرَّسُوْلَ) 
(اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔)

اطاعت کہتے ہیں کہنا ماننے کو۔ جو اللہ کے علاؤہ ہر اللہ والے کیلئے جائز ہے، بشرطیکہ وہ خالق کے نافرمانی کی بات نہ ہو۔
[حوالہ سورۃ النساء:59]

لیکن
اللہ کے علاؤہ کسی مخلوق کو غائبانہ پکار سننے اور تکلیف دور کرنے پر قادر "ماننا" یا اسے غائبانہ مدد کیلئے "پکارنا" عبادت ہے جو غیر اللہ کیلئے ہرگز جائز نہیں۔



إِلَه (خدا-معبود) کسے کہتے ہیں؟
إِلَهٌ‌ وہ ہستی ہے جسے (1)غائبانہ مدد کیلئے پکارا جائے اور (2)وہ تکلیف دور کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو۔
القرآن:
بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور إِلَهٌ ہے؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔
[سورۃ النمل، آیت نمبر 62]
 لہٰذا
جب اللہ کے علاوہ کوئی شخص کسی مخلوق کو مدد کیلئے غائبانہ پکارے تو وہ اپنے اس عمل سے اس مخلوق کو خدا مان رہا ہے کیونکہ وہ اس مخلوق کیلئے خدائی والی عقیدت رکھتا ہے کہ وہ پکار سنتا ہے اور تکلیف دور کرنے پر قادر ہے، اور یہ الله کی خاص خوبیوں میں اس مخلوق کو شریک partner بنانا یعنی شرک کرنا ہے۔



Sunday, 20 May 2012

Sawaali Qarz

Munkireen_Hadees se Sawaal:


منکرین_حدیث (نام نہاد اہل_قرآن)، فرقہ پرویزی اور کیپٹن مسعودی سے سوالات 

١) منکرین_حدیث الله کے قرآن کو بھی نہیں مانتے، کیونکہ قرآن کو الله کا "کلام" ہونا تو الله کے رسول (صلی الله علیہ وسلم) کے بتانے پر لوگ کہتے چلے آرہے ہیں، اب اگر نبی کا فرمان (حدیث) حجت نہیں تو آپ نے لوگوں کے کہنے پر قرآن مجید کو الله  کا "کلام" مانا، تو پھر آپ تو لوگوں کو ماننے والے ہوئے، قرآن مجید کے ماننے والے تو نہیں ہوئے. اور اکثر لوگ قرآن مجید کو نہیں مانتے تو آپ نے آخر کس کو مانا؟؟؟

٢) قرآن مجید کے مطابق آپ لوگوں کے نزدیک اگر دو (٢) لوگوں کی گواہی کافی ہوتی ہے، تو جب قرآن مجید کی طرح احادیث شریفہ کو بھی اتنے لوگ صحیح سند (یعنی ایمان والے اور سچے شاہد راویوں کے سلسلہ) سے ثابت ہونے والی گواہیوں سے ہم تک پہنچیں، تو وہ احادیث شریفہ قابل_قبول کیوں نہیں؟؟؟

٣) ہم قرآن کریم کو الله کی "وحی" ہونا اور صحیح سند (یعنی ایمان والے اور سچے شاہد راویوں کے سلسلہ) سے ثابت ہونے والی احادیث کو نبی (صلی الله علیہ  وسلم) کا فرمان ہونا قرآن مجید کے مطابق لوگوں کی گواہی پر مانتے ہیں، مگر آپ لوگ قرآن مجید کو الله  کا "کلام" ہونا کیسے مانتے ہو؟ خدا نے آپ کو خود آکر  فرمایا  یا آپ پر کوئی وحی  بھیجی؟




شیعہ سے سوالات:



























































کیا فرماتے ہیں علماء_غیر مقلدین ان مسائل میں، جوابات صرف قرآن_پاک اور حدیث_صحیح، صریح، غیر معارض سے دیں، جو ایسی کتاب سے ہو جس کا مولف نہ مجتہد ہو نہ مقلد بلکہ غیر مقلد ہو. اور حدیث کا صحیح یا ضعیف ہونا دلیل_شرعی سے ثابت کیا جاۓ جب کہ دلیل آپ کے نزدیک صرف اللہ کا ارشاد اور نبی کا فرمان ہے. محض اپنی راۓ یا کسی امتی کی راۓ پیش کرکے نہ کھڈ مشرک بنیں اور نہ ہمیں مشرک بننے کی دعوت دیں. شکریہ


طلاق کے متعلق غیر مقلدین سے سوالات: 
١) کیا طلاق الله تعالیٰ کو ناپسند ہونے کے باوجود واقع ہوجائیگی؟
٢) کسی نیک عورت کو بلا-قصور خاوند طلاق دے تو خاوند پر گناہ ہوگا؟ اور اس گناہ کی کوئی حد_شرعی ہے؟ اور باوجود گناہ کے طلاق واقع ہوگی؟
٣) ایک شخص نے اپنی بیوی کو حالت_طھر میں طلاق دی، حضرت ابن_عباس (رض) اس کو حرام فرماتے ہیں، یہ حرام طلاق واقع ہوجائیگی یا نہیں؟ 
٤) کوئی شخص اپنی بیوی کو حالت_حیض میں طلاق دی جو حرام ہے، اس حرام کاری پر مرد پر کوئی حد جاری ہوگی یا نہیں؟
٥) کیا حیض کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی گی، باوجود گناہ و حرام ہونے کے یا نہیں؟
٦) زد نے بذریعہ خط بیوی کو طلاق بھیجی، جب خط یھاں پہنچا تو بیوی حائضہ تھی، اس نے کہا کہ حائضہ کو طلاق دینا گناہ ہے، میں خط وصول نہیں کرتی؟ یہ طلاق باوجود خط وسول نہ کرنے کے واقع ہوجائیگی یا نہیں اور یہ حیض عدت میں شمار ہوگا یا نہیں؟

=================================
معترضین سے سوالات :
١) حدیث_مسلم کے قول سے تین طلاق سے مراد ہر قسم کی تین طلاقیں ہیں تو تین الگ الگ "طهر" میں دی گئی تین طلاقیں بھی کیا ایک ہونگی؟
٢) حدیث_مسلم میں اکٹھا تین طلاق کا ترجمہ جو کرتے ہیں، وہ کس لفظ کا ترجمہ کرتے ہیں؟ اس میں نہ ہی ایک مجلس کا لفظ ہے نہ جميعاً کا.
٣) صبح ، شام، رات یا تین دنوں یا ہفتوں میں ایک ایک کرکے تین طلاقیں کوئی الگ مجلس اور الگ وقت میں دے تو کیا وہ بھی ایک ہونگی؟
٤) اکٹھی تین طلاق دینا اللہ کی آیت سے استہزاء اور رسول الله (صلی الله علیہ وسلم) کی ناراضگی کا سبب ہے. تو کیا صحابہ_کرام (رضی الله عنھم) بلا-روک ٹوک دور_نبوت، دور_صدیقی اور دور_فاروقی کے دو ابتدائی سالوں میں یہ گناہ کرتے رہے اور بدعی طلاق دیکر بدعتی بنتے رہے؟ صحابہ_کرام (رضی الله عنھم) کے بارے میں یہ نظریہ رفض (شیعہ) کا تو ہے، کیا غیر مقلدین کا بھی ہے؟؟؟
٥) اسی طرح کی "متعہ" پر ایک حدیث_مسلم (کتاب النکاح: نکاح_متعہ) میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی آٹے کے عوض مقررہ دنوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں متعہ کر لیتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمرو بن حریث کے واقعہ کی وجہ سے متعہ سے منع فرمایا دیا۔
اس مسئلہ پر بھی شیعہ کی طرح کیا آپ بھی یہ ثابت مانتے ہو یا مانوگے؟ کہ نبی (صلی الله علیہ وسلم) اور حضرت ابو بکر (رضی الله عنہ) کے زمانہ میں جواز_متعہ پر سب صحابہ کا اجماع تھا، حضرت عمر (رضی الله عنہ) کا روکنا ایک سیاسی حکم تھا، کوئی شرعی حکم نہیں تھا، اسی لئے حضرت ابن_عباس (رضی الله عنہ) نے پہلے اجماع کے اصل حکم_شرعی پر قائم رہتے ان سے اختلاف کیا. کیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟ تو کیوں؟
٦) حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کو یہ حق ہے کہ وہ کسی (سیاسی) ضرورت کی ماتحت الله کے حلال کو حرام کردے؟ اور کیا وہ الله کے حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرنے والے احبار و رہبان تھے یا خلیفہ راشد؟ اور کیا بقیہ صحابہ نے ان کو یہود کی طرح "ارباب من دون الله" بنایا تھا؟
٧) حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے بعد دور_عثمانی میں کتنے صحابہ_کرام (رضی اللہ عنہم) الله و رسول (صلی الله علیہ وسلم) کے ارشاد پر فتویٰ دیتے اور کتنے حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے قول پر؟ اور خود حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کس کے ساتھ تھے؟
٨) حضرت علی ( (رضی اللہ عنہ) کے زمانہ_خلافت میں ان کا اپنا فتویٰ اور ان کے مفتیوں کا فتویٰ الله و رسول (صلی الله علیہ وسلم) کی شریعت پر رہا حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کی؟
نوٹ : صرف الله اور رسول ہی کے اقوال کو دلیل و حجت ماننے والے غیر-مقلد اہل_حدیث حضرات ان سوالوں کا جواب اپنے دعویٰ اور اصول کے مطابق کسی غیر-معصوم کے اقوال کے سواۓ صرف قرآن و حدیث ہی سے دیں. شکریہ

=================================
١) امام مسلم رح  صحیح مسلم : صفحہ # ١١ پر امام ابن_سیرین رح  (المتوفی ١٠٠ھ) سے نقل فرماتے ہیں : لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الْإِسْنَادِ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ، قَالُوا: سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ، فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ، وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ 
اور حضرت عبدالله بن مبارک رح (المتوفی ١٨١ھ) فرماتے ہیں کہ : الاسناد من الدين لولا الاسناد لقال من شاء ما شاء (صحیح مسلم: ١/١٢)؛
سوال یہ ہے کہ جب پہلی صدی میں سند دین نہیں تھی تو دوسری صدی میں کس وحی سے اسے دین قرار دیا گیا، کیا پہلی صدی کے لوگ (معاذ الله) بے دین تھے؟؟؟





طلاق کے متعلق غیر مقلدین سے سوالات:
١) کیا طلاق الله تعالیٰ کو ناپسند ہونے کے باوجود واقع ہوجائیگی؟
٢) کسی نیک عورت کو بلا-قصور خاوند طلاق دے تو خاوند پر گناہ ہوگا؟ اور اس گناہ کی کوئی حد_شرعی ہے؟ اور باوجود گناہ کے طلاق واقع ہوگی؟
٣) ایک شخص نے اپنی بیوی کو حالت_طھر میں طلاق دی، حضرت ابن_عباس (رض) اس کو حرام فرماتے ہیں، یہ حرام طلاق واقع ہوجائیگی یا نہیں؟
٤) کوئی شخص اپنی بیوی کو حالت_حیض میں طلاق دی جو حرام ہے، اس حرام کاری پر مرد پر کوئی حد جاری ہوگی یا نہیں؟
٥) کیا حیض کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی گی، باوجود گناہ و حرام ہونے کے یا نہیں؟
٦) زد نے بذریعہ خط بیوی کو طلاق بھیجی، جب خط یھاں پہنچا تو بیوی حائضہ تھی، اس نے کہا کہ حائضہ کو طلاق دینا گناہ ہے، میں خط وصول نہیں کرتی؟ یہ طلاق باوجود خط وسول نہ کرنے کے واقع ہوجائیگی یا نہیں اور یہ حیض عدت میں شمار ہوگا یا نہیں؟

Saturday, 19 May 2012

کبیرہ گناہ ۔۔۔ Major Sins


The major sins are those acts which have been forbidden by Allah in the Quran and by His Messenger (SAW) in the Sunnah (practise of the Prophet), and which have been made clear by the actions of of the first righteous generation of Muslims, the Companions of the Prophet (SAW).
Allah Most High says in His Glorious Book:


اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ نُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ نُدۡخِلۡکُمۡ مُّدۡخَلًا کَرِیۡمًا [٤:٣١]


If you avoid the major sins that are forbidden you, those for which the threat of punishment has been prescribed, like murder, fornication or theft — according to Ibn ‘Abbās, these number as much as seven hundred — We will absolve you of your, minor, evil deeds, on account of your acts of obedience, and admit you by an honourable gate (read mudkhalan or madkhalan), that is, [by an honourable] admittance or location, namely, Paradise.



اگر تم بچتے رہو گے ان چیزوں سے جو گناہوں میں بڑی ہیں تو ہم معاف کر دیں گے تم سے چھوٹے گناہ تمہارے اور داخل کریں گے تم کو عزت کے مقام میں۔
[سورۃ النساء:31]
ارتکاب کبائر و سئیات میں معتزلہ کا جواب:
پہلی آیت میں مذکور تھا کہ جو کوئی ظلمًا کسی کے مال یا جان کو نقصان پہنچائے گا تو اس کی سزا جہنم ہے جس سے معلوم ہو گیا تھا کہ حق تعالیٰ کی نافرمانی بندہ کے لئے موجب عذاب ہے اب اس آیت میں گناہوں سےبچنے کی ترغیب اور گناہوں سے اجتناب کرنے پر وعدہ مغفرت اور جنت کی توقع اور طمع دلائی جاتی ہے تاکہ اس کو معلوم کر کے ہر ایک گناہوں سے احتراز کرنے میں کوشش کرے اور معلوم ہو جائے کہ جو کبیرہ گناہ مثلًا کسی کا مال غصب یا سرقہ کرنے یا کسی کو ظلمًا قتل کرنے سے بچ گیا جن کا ذکر ابھی گزرا تو اس کے وہ تمام صغیرہ گناہ بخشے جائیں گے جن کا مرتکب بغرض تحصیل و تکمیل سرقہ اور قتل ہوا تھا۔ اس آیت میں چند باتیں بحث طلب ہیں مگر اصل سب کی یہی ہے کہ آیت کا اصلی اور عمدہ مطلب معلوم ہو جائے جس سے تمام امور کا جان لینا سہل ہو جائے۔ سو معتزلہ اور ان کے موافقین نےسرسری طور پر اس آیت کا یہ مضمون سمجھ لیا کہ اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہوگے یعنی کبیرہ گناہ ایک بھی نہ کرو گے تو پھر محض صغیرہ گو کتنے ہی ہوں ضرور معاف کر دیے جائیں گے اور اگر صغائر کے ساتھ کبیرہ کیف مااتفق ایک یا دو بھی شامل ہو گیا تو اب معافی ممکن نہیں بلکہ سب کی سزا ضروری ہو گئ اور اہل سنت فرماتے ہیں کہ ان دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ کو معافی اور مواخذہ کا اختیار بدستور محقق ہے اول صورت میں معافی کا لازم ہونا اور دوسری صورت میں مواخذہ کو واجب سمجھنا معتزلہ کی بدفہمی اور کم فہمی ہے اور اس آیت کے ظاہری الفاظ اور سرسری مضمون سے جو معتزلہ کا مذہب راجح نظر آتا ہے اس کا جواب کسی نے تو یہ دیا کہ انتفاء شرط سے انتفاء مشروط کوئی ضروری امر ہر گز نہیں کسی نے یہ کہا کہ لفظ کبائر سے جو آیت میں مذکور ہے اکبر الکبائر یعنی خاص شرک مراد لے لیا اور لفظ کبائر کی جمع لانے کی وجہ تعدد انواع شرک کو قرار دیا اور اسی کے ذیل میں چند اور باتیں بھی زیر بحث آ گئیں مگر ہم ان سب امور کو نظر انداز کر کے صرف اس آیت کے محقق اور عمدہ معنی ایسے بیان کئے دیتے ہیں جو نصوص اور عقل کے مطابق اور قواعد اور ارشاد محققین کے موافق ہوں اور بشرط فہم و انصاف معنی مذکور کے بعد تمام ضمنی باتیں خود بخود حل ہو جائیں اور خلاف معتزلہ خود بخود مضمحل ہو کر معتزلہ کے عدم تدبر اور کم فہمی پر حجت قوی بن جائے اور اہل حق کو اس کے ابطال و تردید کی طرف توجہ فرمانے کی حاجت ہی نہ رہے سو غور سے سنیے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ ارشاد اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ نُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ جو کہ یہاں مذکور ہے اور ارشاد اَلَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ جو سورۂ نجم۔۳۲ میں موجود ہے ان ہر دو ارشاد کا مدعٰی ایک ہے صرف لفظوں میں تھوڑا سا فرق ہے تو اب جو مطلب ایک آیت کا ہو گا وہی دوسری آیت کا لیا جائے گا سو سورۂ نجم کی آیت کی نسبت حضرت عبداللہ بن عباس کا ارشاد بخاری وغیرہ کتب حدیث میں صاف موجود ہے عن ابن عباس قال مارأیت شیئا اشبہ باللم مما قال ابوھریرۃ عن النبی ﷺ ان للّٰہ کتب علی ابن ادم حظہ من الزنی ادرک ذٰلک لا محالۃ فزنی العین النظر و زنی اللسان المنطق والنفس تمنی و تشتھی والفرج یصدق ذٰلک و یکذبہ انتہیٰ ۔ بشرط فہم اس حدیث سے ہر دو آیات سابقہ کے واقعی اور تحقیقی مطلب کا پورا سراغ لگ گیا اور حضرت ابن عباسؓ جبرالامۃ اور لسان القرآن کے فرمانے سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ لمم اور علیٰ ہذٰ القیاس سیٰات کے معنی اس سے بہتر نہیں ملے تو اب اس مطلب کے مقابلہ میں کوئی دوسری تقریر مضمون آیت کے متعلق کیونکر قابل ترجیح اور لائق پسند ہو سکتی ہے بالخصوص معتزلہ کی ہرزہ گوئی کیسے قابل التفات اور لائق جواب سمجھی جا سکتی ہے اور واقعی حدیث مذکور کا مطلب اور حضرت ابن عباس نے جو اس سے بات نکالی ایسی عجیب اور قابل قبول تحقیق ہے کہ جس سے مضمون ہر دو آیت خوب محقق ہو گیا اور معتزلہ کے خرافات کی گنجائش اور اہل حق کو اس کی تردید کی ضرورت بھی نہ رہی اور ذیلی اور ضمنی اقوال و اختلافات بھی بہت خوبی سے طے ہو گئے۔ چنانچہ اہل فہم ادنیٰ تامل سے سمجھ سکتے ہیں بغرض توضیح ہم بھی حدیث مذکور کا خلاصہ عرض کئے دیتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ آیت سورۂ نجم میں جو لفظ لمم فرمایا گیا ہے جس کی کہ معافی کا وعدہ کیا ہے اس کی تعیین اور تحقیق کے متعلق حدیث ابی ہریرۃ سے بہتر ہم کو کوئی چیز معلوم نہیں ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کے ذمہ پر جو زنا کا حصہ مقرر فرما دیا ہے وہ ضرور اس کو مل کر رہے گا سو فعل زنا میں آنکھ کا حصہ تو دیکھنا ہے اور زبان کا حصہ یہ ہے کہ اس سے وہ باتیں کی جائیں جو فعل زنا کے لئے مقدمات اور اسباب ہوں اور نفس کا حصہ یہ ہے کہ زنا کی تمنا اور اس کی خواہش کرے لیکن فعل زنا کا تحقق اور اس کا بطلان دراصل فرج یعنی شرمگاہ پر موقوف ہے یعنی اگر فرج سے زنا کا صدور ہو گیا تو آنکھ زبان دل سب کا زانی ہونا محقق ہو گیا اور اگر باوجود تحصیل جملہ اسباب و ذرائع صرف فعل فرج کا تحقق نہ ہوا بلکہ زنا سے توبہ اور اجتناب نصیب ہو گیا تو اب تمام وسائل زنا جو کہ فی نفسہ مباح تھے فقط زنا کی تبعیت کے باعث گناہ قرار دیے گئے تھے وہ سب کے سب لائق مغفرت ہو گئے یعنی ان کا زنا ہونا باطل ہو گیا اور گویا ان کا قلب ماہیت ہو کر بجائے زنا عبادت بن گئ کیونکہ فی نفسہ تو وہ افعال نہ معصیت تھے نہ عبادت بلکہ مباح تھے صرف اس وجہ سے کہ وہ زنا کا وسیلہ بنتے تھے معصیت میں داخل ہو گئے تھے جب زنا کے لئے وسیلہ نہ رہے بلکہ زنا ہی بوجہ اجتناب معدوم ہو چکا تو اب ان وسائل کا زنا کے ذیل میں شمار ہونا اور ان کو معصیت قرار دینا انصاف کے صریح مخالف ہے مثلًا ایک شخص مسجد میں پہنچا چوری کے خیال سے مگر وہاں جا کر عین موقع پر تنبہ پیش آیا اور چوری سے توبہ کی اور رات بھر اللہ کے واسطے نماز پڑھتا رہا تو ظاہر ہے کہ جو رفتار سرقہ کا ذریعہ نطر آتا تھا وہ اب توبہ اور نماز کا ذریعہ ہو گیا تو اس حدیث ابوہریرہ کو سن کر عبداللہ بن عباس سمجھ گئے کہ لمم وہ باتیں ہیں جو دراصل گناہ نہیں مگر گناہ کا سبب ہو کر گناہ بن جاتی ہیں تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ بڑے گناہ اور کھلے گناہ سے تو بچتے ہیں ہاں صدور لمم کی نوبت آ جاتی ہے مگر بڑے اور اصلی گناہ کے صدور سے پہلے ہی وہ اپنے قصور سے تائب اور مجتنب ہو جاتے ہیں تو اب ابن عباس نے جیسے حدیث ابو ہریرہ سے آیت سورۂ نجم کا مطلب سمجھ لیا ہم کو چاہئے کہ وہی معنی حسب ارشاد ابن عباس ہم آیت سورۂ نساء کے بےتکلف سمجھ لیں جس کے بعد بحمداللہ نہ ہم کو اس کی ضرورت ہو گی کہ اس آیت کی توضیح میں گناہ صغیرہ اور کبیرہ کی مختلف تفسیریں نقل کریں اور نہ معتزلہ کے استدلال کے جواب کا فکر ہو گا اور تکفیر سیآت کی وجہ اور دخول جنت کا سبب بھی بسہولت مطابق قواعد معلوم ہو جائے گا اور اجتناب کے معنی بھی ظاہر ہو جائیں گے اور چھوٹی چھوٹی باتیں انشاء اللہ بشرط تدبر طے ہو جائیں گی خلاصہ ہر دو آیت مذکور کا حسب ارشاد حدیث و بیان ابن عباس یہ ہوا کہ جو لوگ ان گناہوں سےرکیں گے اور ان کے ارتکاب سے اپنے نفس کو ہٹاتے رہیں گے جو گناہ کہ گناہوں کے سلسلہ میں مقصود اور بڑے سمجھے جاتے ہیں تو اس اجتناب اور رک جانے کی وجہ سے ان کے وہ برے کام جو انہوں نے کسی بڑے گناہ کے حصول کی طمع میں کئے ہیں معاف کر دئیے جائیں گے اور حسب ارشاد وَ اَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفۡسَ عَنِ الۡہَوٰی ۔ فَاِنَّ الۡجَنَّۃَ ہِیَ الۡمَاۡوٰی (عبس۔۴۰،۴۱) وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ مطلب نہیں کہ سلسلہ زنا کے صغائر کسی دوسرے سلسلہ کے بڑے گناہ مثلًا شراب خواری نہ کرنے سے فرو گذاشت ہو جائیں گے یا شراب خواری کی وجہ سے ان کا مواخذہ لازم اور واجب ہو جائے گا ۔ واللہ اعلم۔
http://www.scribd.com/doc/76978884/

اَلَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الۡمَغۡفِرَۃِ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِکُمۡ اِذۡ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَ اِذۡ اَنۡتُمۡ اَجِنَّۃٌ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ ۚ فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی [٥٣:٣٢]


Those who avoid grave sins and abominations, excepting lesser offences, that is, minor sins, such as a look, a kiss or a touch (this constitutes a discontinuous exception, in other words the meaning is: but lesser offences are forgiven by the avoidance of grave sins). Truly your Lord is of vast forgiveness, for such [lesser sins] and for accepting repentance. The following was revealed regarding those who used to say, ‘[What of] our prayers, our fasting, and our pilgrimage!’. He knows you best [from the time] when He produced you from the earth, that is to say, [when] He created your father Adam from dust, and when you were hidden [fetuses] (ajinna is the plural of janīn) in the bellies of your mothers. So do not claim purity for yourselves, do not praise yourselves, that is, in admiration; but [if it is done] in recognition of [God’s] grace, then that is fine. He knows best those who are God-fearing.


جو کہ بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بیحیائی کے کاموں سے مگر کچھ آلودگی بیشک تیرے رب کی بخشش میں بڑی سمائی ہے وہ تم کو خوب جانتا ہے جب بنا نکالا تم کو زمین سے اور جب تم بچے تھے ماں کے پیٹ میں سو مت بیان کر اپنی خوبیاں وہ خوب جانتا ہے اُس کو جو بچ کرچلا۔[النجم:32]


کبیرہ اور صغیرہ گناہ:
گناہ کبیرہ اور صغیرہ کا فرق "سورۃ نساء" کے فوائد میں مفصل گذر چکا۔ لَّمَمَ کی تفسیر میں کئ قول ہیں۔ بعض نے کہا کہ جو خیالات وغیرہ گناہ کے دل میں آئیں مگر ان کو عمل میں نہ لائے وہ لَّمَمَ ہیں۔ بعض نے صغیرہ گناہ مراد لئے بعض نے کہا کہ جس گناہ پر اصرار نہ کرے یا اس کی عادت نہ ٹھہرائے یا جس گناہ سے توبہ کرلے وہ مراد ہے، ہمارے نزدیک بہترین تفسیر وہ ہی ہے جو مترجم محقق قدس اللہ روحہ نے سورۃ "نساء" کے فوائد میں اختیار کی ہے لیکن یہاں ترجمہ میں دوسرے معانی کی بھی گنجائش رکھی ہے۔
اسی لئے بہت سے چھوٹے موٹے گناہوں سے درگذر فرماتا ہے اور توبہ قبول کرتا ہے۔ گنہگار کو مایوس نہیں ہونے دیتا۔ اگر ہر چھوٹی بڑی خطا پر پکڑنے لگے تو بندہ کا ٹھکانا کہاں۔
خود ستائی کی مذمت:
یعنی اگر تقویٰ کی کچھ توفیق اللہ نے دی تو شیخی نہ مارو۔ اور اپنے کو بہت بزرگ نہ بناؤ۔ وہ سب کی بزرگی اور پاکبازی کو خوب جانتا ہے۔ اور اس وقت سے جانتا ہے جب تم نے ہستی کے اس دائرہ میں قدم بھی نہ رکھا تھا۔ آدمی کو چاہیئے کہ اپنی اصل کو نہ بھولے۔ جس کی ابتداء مٹی سے تھی، پھر بطنِ مادر کی تاریکیوں میں ناپاک خون سے پرورش پاتا رہا۔ اس کے بعد کتنی جسمانی و روحانی کمزوریوں سے دوچارہوا۔ آخر میں اگر اللہ نے اپنے فضل سے ایک بلند مقام پر پہنچا دیا تو اس کو اس قدر بڑھ چڑھ کر دعوے کرنے کا استحقاق نہیں۔ جو واقعی متقی ہوتے ہیں وہ دعویٰ کرتے ہوئے شرماتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ اب بھی پوری طرح کمزوریوں سے پاک ہوجانا بشریت کی حد سے باہر ہے۔ کچھ نہ کچھ آلودگی سب کو ہوجاتی ہے۔ اِلّا مَنْ عصمہ اللہ۔

وَ الَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوۡا ہُمۡ یَغۡفِرُوۡنَ [٤١:٣٧]
اور جو لوگ کہ بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بیحیائی سے اور جب غصہ آوے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔[الشوریٰ:37]
مومنین کی بعض صفات:
اس کا بیان سورہ "نساء" کی آیت اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ نُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ (النساء۔۳۱) کے فوائد میں گذر چکا وہاں ملاحظہ کر لیا جائے۔ شاید یہاں "کبائر الاثم" سے وہ بڑے گناہ مراد ہوں جو قوت نظریہ کی غلط کاری سے پیدا ہوتے ہیں مثلًا عقائد بدعیہ اور "فواحش" وہ گناہ جن میں قوت شہوانیہ کی بے اعتدالی کو دخل ہو۔ آگے وَ اِذَا مَا غَضِبُوۡا ہُمۡ یَغۡفِرُوۡنَ میں تو ظاہر ہے کہ قوت غضبیہ کی روک تھام کی گئ ہے۔ واللہ اعلم۔
================================

AL- KABA'IR MAJOR SINS
1. Associating partners with Allaah (Shirk)
Great Shirk: worshipping beings other than Allaah (proof all over Qur'ân)
Small Shirk: Riya
The Prophet (saw), "Should I not inform you of that which I fear for you even more than the dangers of dajjaal? It is the hidden shirk: A person stands to pray and he beautifies his prayer because he sees the people looking at him". (Sahih; Sunan ibn Majah)
2. Committing murder: (Furqan; 68)
3. Performing Sorcery (2: 102)
4. Not performing the Prayers (Maryam: 59)
5. With holding the Zakah (Charity) (3: 180)
6. Breaking the fast of Ramadhan or not fasting in that month without a valid excuse.
Prophet (saw) said, "Islaam is built upon five pillars: testifying that there is no true god except Allah and that Muhammad is the messenger of Allah, performing the prayers, paying the Zakah, making the pilgrimage to the house, and fasting the month of Ramadhan(Sahih al-Jami # 2837)
7. Not performing the pilgrimage when one has the ability to do so (above hadith)
8. Disobeying one's parents (al-Isra: 23)
9. Cutting off the ties of relationships (Muhammad: 22)
10. Committing adultery or fornication (al-Isra: 30)
The Prophet (saw) said, "Allaah will not look at a person (with pleasure) who commits sodomy with a man or a woman" (Sahih al-Jami # 7678)
13. Devouring the wealth of orphans (4:10)
14. Forging statements concerning Allaah or forging Hadith (al-Zumar: 60)
15. Fleeing from the battle (al-Anfal: 16)
16. Wrongdoing, deception or oppression on the part of the ruler (al-Shura: 42)
17. Being arrogant, boastful, vain (al-Nahl: 23)
18. Giving false testimony (al-Furqan: 72)
19. Drinking alcoholic beverages (5: 90)
20. Gambling (5: 90)
21. Slandering innocent women (al-Nur: 23)
22. Misappropriating something from the booty (3:161)
23. Stealing (5:38)
24. Committing highway robbery (5: 33)
25. Making false oath
Prophet (saw) said, "If someone is ordered to take an oath and he takes a false oath in order to take possession of property of a Muslim, then he will incur Allah's wreath when he meets Him" (Sahih al-Jami # 6083)
26. Committing oppression (al-Shuara: 277)
27. Levying illegal taxes
Prophet (saw) said, "Do you know who the bankrupt is? The bankrupt form my nation is the one who appears on the Day of Resurrection having performed the prayers, fasted and paid the zakah, but had also abused that person, slandered that person, wrongfully taken the wealth of that person and spilled the blood of that person. These people will take from his good deeds. If his good deeds are thereby exhausted, he will be given their sins and then he will be thrown into the hell-fire" (Sahih al-Jami #87)
28. Consuming forbidden wealth or taking it by any means (2: 188)
29. Committing suicide (4: 29)
30. Being a perpetual liar (3: 61)
32. Engaging in bribery (2: 188)
33. Women appearing like men and vice-versa
Prophet (saw) said, "Allah's curse is upon women who appear like men and upon men who appear like women" (Sahih al-Jami # 4976)
34. Being a dayyouth
Dayyouth: is the one who approves the indecency of his womenfolk and who is void of jealousy or the pimp who facilitates indecency between two people
Prophet (saw) said, "Allah has forbidden the Paradise to three people: the alcoholic, the runaway slave, and the one who is complacent in the face of the evil deeds that his family is performing" (Sahih al-Jami # 3047)
35. Marrying for the purpose of making a woman allowable for another (Baqarah)
36. Not keeping clean from the remains of urine
Ibn Abbas reported that Prophet (saw) passed by a grave and said, "These two are being punished and they are not being punished for something hard. But it is a great sin. One of them did not keep himself clean form his urine and the other went around spreading tales"(Sahih al-Jami # 2436)
37. Acting for show (al-Maoon: 4-6)
38. Acquiring knowledge only for worldly gain or concealing knowledge (2: 160)
39. Breaching trusts (al-Anfal: 27)
40. Reminding people of one's kindness (2: 27)
41. Denying predestination (al-Qamar: 49)
"If Allah were to punish the inhabitants of the heavens and earths, then He would punish and He would not be doing injustice to them. If He were to have mercy on them, His mercy would be greater than from their actions. If a person had amount of gold equivalent to Mount Uhud or similar to Mount Uhud and spent it in the Path of Allah, (that spending) would not be accepted form him by Allah until he believes in the preordainment of good and evil. And until he knows that what afflicted him was not going to miss him and what missed him was not going to afflict him. If you were to die with any belief other than that, you would enter the Hellfire" (Kitab al-Sunnah by Ibn Abu Asi # 245. Albani says that its chain is sahih)
42. Eavesdropping on other's private conversation (Hujarat: 12)
43. Spreading harmful tales (al-Qamar: 10)
44. Cursing others
Prophet (saw) said, "Abusing a Muslim is evil and fighting him is disbelief" (Sahih al-Jami # 3598)
45. Not fulfilling one's promises
Prophet (saw) said, "Whoever has a four characteristic is a complete hypocrite. Whoever posses any of these characteristics has the characteristics of hypocrisy until he gives it up; whenever he makes a promise, he breaks it up…" (Bukhari)
Prophet (saw) said, "Whoever goes to fortuneteller and asks him about something will not have his prayer accepted for forty nights" (Sahih al-Jami # 5816)
47. A wife being rebellious to her husband (4: 34)
48. Putting pictures of beings with souls on clothing, curtains, rocks and any other items
Prophet (saw) said, "…the people who will receive the greatest punishment on the day of judgment are those who compete with Allah in creation [those who make pictures or statues]" (sahih al-Jami # 1691)
49. Striking one's self, wailing, tearing one's clothing, pulling one's hair & similar deeds as a form of mourning
Prophet (saw) said, "One who strikes his cheeks or tears his clothing and shouts in the manner of pre-Islamic culture is not one of us" (Sahih al-Jami # 5713)
50. Committing injustice (al-Shura: 42)
51. Being overbearing or taking advantage of the weak, slaves, wives or animals
Prophet (saw) said, "Allah will torture those who torture people in this world" (Muslim)
52. Harming neighbors
Prophet (saw) said, "A person whose neighbor is not safe from his mischief will not enter paradise" (sahih al-Jami # 7002)
53. Harming and abusing Muslims (al-Ahzab: 58)
Prophet (saw) said, "What is below the ankles will be in the hellfire " (Bukhari)
55. Harming the slaves of Allah
Prophet (saw) said that Allah said, "Whoever shows enmity to a slave of Mine (Allah's) I shall be at war with him" (Sahih al-Jami # 1778)
56. Men wearing silk & gold
Prophet (saw) said, "Gold and silk have been permitted for the females of my nation and forbidden for its males" (Sahih al-Jami # 209)
Prophet (saw) said, "Men who wears silk in this world will have no portion [of heavens] in the hereafter" (Muslim)
57. Running away of a slave
58. Sacrificing animals for other than Allah
Prophet (Saw) said, "The one who sacrifices for other than Allah is cursed by Allah" (Sahih al-Jami # 4988)
59. Claiming that somebody is one's father while the claimant knows it is not true
Prophet (saw) said, "One who claims that someone is his father and knows that it is not true will be forbidden of paradise" (Sahih al-Jami # 5865)
60. Arguing or quarreling for show & not seeking the truth
Prophet (saw) said, "Whoever argues in support of something that is wrong and he knows it Allah will be angry with him until he stops" (Sahih al-Jami # 6073)
61. Not allowing excess water to flow to others
Prophet (saw) said, "Whoever doesn't allow the access water or pasture for others will not share in the blessings of Allah on the day of judgment" (Sahih al-Jami # 6436)
62. Not measuring the weights properly (al-Mutafafifeen: 1-3)
63. Thinking that one is safe from Allah's planning (al-Araf: 99)
64. Eating carrion, blood or pork meat (al-Anam: 145)
65. Not praying in the congregation & praying by one's self without a valid excuse
Prophet (saw) said, "Whoever hears the call to prayer and doesn't come to prayer, there is no prayer for him say for the one who has valid excuse" (Sahih al-Jami # 6176)
66. Continually not performing the Friday prayers and congregational prayers without any valid excuse
Prophet (saw) said, "If people don't stop abandoning the Friday Prayers Allah may seal their hearts and they will become headless" (Muslim)
67. Harming others by manipulation one's bequests (4: 12)
68. Being deceitful or deceptive (Fatir: 43)
69. Spying on the Muslims & pointing out their secrets (al-Kalam: 11)
70. Abusing or reviling anyone of the Companions of the Prophet (saw)
Prophet (saw) said, "Do not revile my companions for, by the one in whose hands is my soul, if you were to spend in charity a mountain of gold similar to mount Uhud it would not be equal to a handful or a half a handful (or what they have done)" (Sahih al-Jami # 7187)
Please make sincere repentance to Allah before as Ali (ra) said, "Today is deed without reckoning and tomorrow is reckoning without deeds". Sincere repentance has four conditions :
 Feeling bad for the sin
 Firm commitment in intention not to repeat sin (whether it happens again is not a condition if one tried his best)
 Make repentance to Allah by Du'a and asking or better crying for forgiveness
 If some person has been wronged because of this sin then one needs to make up to this person.






Friday, 11 May 2012

اسلام اور سائنس


القرآن:
سَنُريهِم ءايٰتِنا فِى الءافاقِ وَفى أَنفُسِهِم حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُم أَنَّهُ الحَقُّ ۗ أَوَلَم يَكفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ شَهيدٌ {41:53}

عنقریب ہم دکھائیں گے ان کو اپنی نشانیاں  اطراف عالم میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ حق ہے۔ کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے.
[سورۃ فصلت:53]

آیات آفاقیہ و انفسیہ:
یعنی قرآن کی حقانیت کے دوسرے دلائل براہین تو بجائے خود رہے۔ اب ہم ان منکروں کو خود ان کی جانوں میں اور ان کے چاروں طرف سارے عرب بلکہ ساری دنیا میں اپنی قدرت کے وہ نمونے دکھلائیں گے جن سے قرآن اور حامل قرآن کی صداقت بالکل روز روشن کی طرح آنکھوں سے نظر آنے لگے۔ وہ نمونے کیا ہیں؟ وہ ہی اسلام کی عظیم الشان اور محیر العقول فتوحات جو سلسلہ اسباب ظاہری کے بالکل بر خلاف قرآنی پیشینگوئیوں کے عین مطابق وقوع پذیر ہوئیں۔ چنانچہ معرکہ "بدر" میں کفار مکہ نے خود اپنی جانوں کے اندر اور "فتح مکہ" میں مرکز عرب کے اندر اور خلفائے راشدین کے عہد میں تمام جہان کے اندر یہ نمونے اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ "آیات" سے عام نشانہائے قدرت مراد ہوں جو غور کرنے والوں کو اپنے وجود میں اور اپنے وجود سے باہر تمام دنیا کی چیزوں میں نظر آتے ہیں جن سے حق تعالیٰ کی وحدانیت و عظمت کا ثبوت ملتا ہے اور قرآن کے بیانات کی تصدیق ہوتی ہے۔ جب کہ وہ ان سنن الہٰیہ اور نوامیس فطریّہ کے موافق ثابت ہوتے ہیں۔ جو اس عالم تکوین میں کارفرما ہیں۔ اس قسم کے تما م حقائق کونیہ اور آیات آفاقیہ و انفسیہ کا انکشاف چونکہ لوگوں کو دفعۃً نہیں ہوتا بلکہ وقتًا فوقتًا بتدریج ان کے چہرہ سے پردہ اٹھتا رہتا ہے۔ اس لئے سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا سے تعبیر فرمایا۔کیا اللہ کی گواہی ناکافی ہے:یعنی قرآن کی حقانیت کو فرض کرو کوئی نہ مانے، تو اکیلے خدا کی گواہی کیا تھوڑی ہے جو ہر چیز پر گواہ ہے اور ہر چیز میں غور کرنے سے اسکی گواہی کا ثبوت ملتا ہے۔


سائنس یہ تو بتاتی ہے کہ ہم کیسے پیدا ہوتے ہے، نش و نما پاتے اور پھر مرتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتی کہ ہم کیوں اور کس کے کہنے یا کرنے پر پیدا ہوتے ہیں، نش  و نما پاتے اور پھر مرتے ہیں!لیکن "دین_اسلام" ہمیں اس کا مفصل، مدلل اور قابل_فہم جواب دیتا ہے.تومعلوم ہوا اسلام اور اس کے ماننے والے (بمقابلہ اسلام) سائنس اور اس کے  دلدادہ نادانوں سے ١٤٠٠ سال آگے ہیں، پیچھے نہیں۔

Science teaches us that how are we born, grow and then die, but it does not teaches us that why are we born, grow and then die? But Islam teaches us with detailed, Contend & understandable answers. So, It means that 1400 years ancient religion Islam & their Believers are Forward than Science & their immature followers.