دجال کے معنیٰ ہیں حقیقت کو چھپانے والا، سب سے بڑا دھوکے باز اور چالباز۔
" إِنَّ قَبْلَ خُرُوجِ الدجال ثَلَاثُ سَنَوَاتٍ شِدَادٍ، يُصِيبُ النَّاسَ فِيهَا جُوعٌ شَدِيدٌ، يَأْمُرُ اللَّهُ السَّمَاءَ فِي السَّنَةِ الْأُولَى أَنْ تَحْبِسَ ثُلُثَ مَطَرِهَا، وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ فَتَحْبِسُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا , ثُمَّ يَأْمُرُ السَّمَاءَ فِي الثَّانِيَةِ فَتَحْبِسُ ثُلُثَيْ مَطَرِهَا , وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ فَتَحْبِسُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا ,
ثُمَّ يَأْمُرُ اللَّهُ السَّمَاءَ فِي السَّنَةِ الثَّالِثَةِ فَتَحْبِسُ مَطَرَهَا كُلَّهُ فلَا تُقْطِرُ قَطْرَةً، وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ فَتَحْبِسُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ فلَا تُنْبِتُ خَضْرَاءَ، فلَا تَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ (¬1) إلَّا هَلَكَتْ إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ , قِيلَ: فَمَا يُعِيشُ النَّاسُ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ؟ , قَالَ: " التَّهْلِيلُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ , وَيُجْرَى ذَلِكَ عَلَيْهِمْ مَجْرَى الطَّعَامِ " (¬2)
ترجمہ:
"بے شک دجال کے نکلنے سے پہلے تین سخت سال ہوں گے، جن میں لوگوں کو سخت بھوک لگے گی۔ اللہ تعالیٰ پہلے سال آسمان کو حکم دے گا کہ وہ اپنی بارش کا تہائی حصہ روک لے، اور زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنی اُگاوٹ کا تہائی حصہ روک لے۔ پھر دوسرے سال آسمان کو حکم دے گا کہ وہ اپنی بارش کا دو تہائی حصہ روک لے، اور زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنی اُگاوٹ کا دو تہائی حصہ روک لے۔ پھر تیسرے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ساری بارش روک لے تو وہ ایک قطرہ بھی نہ برسائے، اور زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ساری اُگاوٹ روک لے تو وہ کوئی ہریالی نہ اُگائے۔ پس ہر کھری والا جانور (1) مر جائے گا سوائے اس کے جسے اللہ چاہے۔ پوچھا گیا: اس زمانے میں لوگ کس چیز پر زندہ رہیں گے؟ آپ نے فرمایا: 'لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ کہنا، اور یہ (ذکر و تسبیح) ان کے لیے کھانے کا کام دے گی (یعنی انہیں روحانی طاقت بخشے گی اور صبر کی توفیق ہوگی)۔'"
---
(1) ذات ظلف سے مراد وہ جانور ہیں جن کے کھر پھٹے ہوئے ہوتے ہیں جیسے گائے، بکری، ہرن وغیرہ۔
(2) یہ حدیث ابن ماجہ (4077) میں ہے، نیز دیکھیے صحیح الجامع (7875)، اور امام البانی نے "قصۃ المسیح الدجال" (ص41) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
عَنْ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ:
(كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - , " فَذَكَرَ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ فِي ذِكْرِهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ (¬1) " فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟) (¬2) (قَالَ: " هِيَ فِتْنَةُ هَرَبٍ (¬3) وَحَرَبٍ (¬4)) (¬5) (ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ (¬6) دَخَنُهَا (¬7) مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي , يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي (¬8) وَلَيْسَ مِنِّي (¬9) وَإِنَّمَا أَوْلِيَائِي الْمُتَّقُونَ , ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ (¬10) عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ (¬11) ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ (¬12) لَا تَدَعُ (¬13) أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً (¬14) فَإِذَا قِيلَ انْقَضَتْ (¬15) تَمَادَتْ (¬16) يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا , حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ (¬17) فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ , وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ فَإِذَا كَانَ ذَاكُمْ فَانْتَظِرُوا الدجال (¬18) مِنْ يَوْمِهِ أَوْ مِنْ غَدِهِ) (¬19) "
ترجمہ:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ نے فتنوں کا ذکر کیا اور ان کا بہت زیادہ ذکر کیا یہاں تک کہ فتنۂ احلاس (1) کا ذکر فرمایا۔ تو ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! فتنۂ احلاس کیا ہے؟ (2) آپ نے فرمایا: یہ فرار اور جنگ کا فتنہ ہے (3)(4) (5)، پھر سراء (آسودگی) کا فتنہ ہے (6) جس کا دھواں میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص کے قدموں تلے سے ہے، وہ گمان کرتا ہے کہ وہ مجھ سے ہے (8) حالانکہ وہ مجھ سے نہیں ہے (9)، اور میرے دوست صرف متقی لوگ ہیں۔ پھر لوگ ایک ایسے شخص پر متفق ہو جائیں گے جو پسی ہوئی ہڈی پر بیٹھنے والے اونٹ کی مانند ہوگا (یعنی غیر مستحکم) (10)(11)۔ پھر دہیماء (انتہائی شدید اور گھنے) فتنہ ہوگا (12) جو اس امت کے ہر شخص کو چھوڑے گا نہیں (13) بلکہ اسے ایک طمانچہ مارے گا (14)۔ جب کہا جائے گا کہ ختم ہو گیا (15) تو وہ اور پھیل جائے گا (16)۔ اس (فتنہ) میں آدمی صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے (17): ایمان کا گروہ جس میں کوئی نفاق نہیں ہوگا، اور نفاق کا گروہ جس میں کوئی ایمان نہیں ہوگا۔ پھر جب ایسا ہو جائے تو تم دجال کے (ظہور کا) اس کے اسی دن یا اس کے اگلے دن سے انتظار کرو (18)(19)۔‘‘
---
حاشیہ وحوالہ:
1. الاحلاس: "حلس" کی جمع ہے، جو اون کا وہ غلاف ہوتا ہے جو اونٹ کی پیٹھ پر کاٹھی کے نیچے ہوتا ہے۔ فتنے کو اس سے اس کی چپکنے اور برقرار رہنے کی وجہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔
2. (د): سنن ابو داود، حدیث نمبر: 4242۔
3. فتنۂ ہرب: یعنی لوگ ایک دوسرے سے دشمنی اور جنگ کی وجہ سے بھاگیں گے۔
4. فتنۂ حرب: اس سے مراد لوگوں کے مال و اسباب کی لوٹ مار اور تباہی ہے۔
5. (حم): مسند احمد، حدیث نمبر: 6168۔ نیز دیکھیے صحیح الجامع: 4194، الصحیحہ: 974۔
6. السراء: اس سے مراد وہ نعمت اور خوشحالی ہے جو لوگوں کو صحت، فراوانی اور مصیبتوں سے نجات کی صورت میں خوش کرتی ہے۔ اسے "سراء" سے اس لیے منسوب کیا گیا ہے کہ اس کے وقوع کا سبب زیادہ عیش و آرام کی حالت میں گناہوں کا ارتکاب ہے۔
7. دخنھا: یعنی اس فتنے کے ظہور اور بھڑکنے کی وجہ۔ اس کا دھواں سے تشبیہ دی گئی ہے۔
8. یزعم انه مني: یعنی وہ یہ گمان کرے گا کہ وہ میرے طریقے پر ہے، حالانکہ نسبی طور پر وہ مجھ سے ہو سکتا ہے۔ مطلب یہ کہ وہی اس فتنے کو ہوا دے گا۔
9. وليس مني: یعنی وہ میرے طریقے پر نہیں ہے، کیونکہ اگر وہ میرا ہوتا تو فتنہ نہ برپا کرتا۔
10. يَصْطَلِحُ النَّاسُ: یعنی لوگ کسی ایک شخص کی بیعت پر متفق ہو جائیں گے۔
11. كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ: یہ ایک مثال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ غیر مستحکم اور درست نہیں ہوگا، کیونکہ پسلی پر کولہا درست طریقے سے قائم نہیں رہ سکتا۔ مراد یہ کہ وہ شخص حکمرانی کے لیے موزوں اور مستقل نہیں ہوگا۔
12. الدُّهَيْمَاء: سیاہی مائل۔ تکبیر (تصغیر) ذم کے لیے ہے۔ یعنی بہت بڑا اور اندھیرے میں ڈالنے والا فتنہ۔
13. لَا تَدَعُ: یعنی یہ فتنہ کسی کو نہیں چھوڑے گا۔
14. لَطَمَتْهُ لَطْمَةً: یعنی اس فتنے کی مصیبت اور آزمائش ہر شخص کو لگی ہوگی۔
15. انقضت: یعنی جب بھی لوگ یہ سمجھیں گے کہ فتنہ ختم ہو گیا ہے۔
16. تَمَادَتْ: یعنی وہ فتنہ پھیلے گا، جاری رہے گا اور قائم ہو جائے گا۔
17. فُسْطَاطَيْنِ: یہاں "فسطاط" سے مراد لوگوں کا گروہ یا لشکر ہے۔ یعنی لوگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے۔
18. فَانْتَظِرُوا الدجال: یعنی اس کے ظہور کا انتظار کرو۔
19. (د): سنن ابو داود، حدیث نمبر: 4242۔
حدیث#11
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" يَخْرُجُ الدجال فِي خَفْقَةٍ مِنْ الدِّينِ (1) وَإِدْبَارٍ مِنْ الْعِلْمِ " (2)
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"دجال اس وقت نکلے گا جب دین (کی پابندی) کمزور ہوگی(1) اور علم (کا دور) پِشٹ پائی کر رہا ہوگا۔"(2)
---
حاشیہ وحوالہ :
1. "خَفْقَةٍ مِنْ الدِّينِ" کا مطلب ہے: دین کی کمزوری کے حالات میں اور اس کے ماننے والوں کی کمی میں۔
2. یہ حدیث امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند (حدیث نمبر: 14997) میں روایت کی ہے، اور شیخ شعیب ارناؤوط رحمہ اللہ نے اس کے اسناد کو صحیح قرار دیا ہے۔
حدیث#12
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ:
كُنْتُ بِالْكُوفَةِ فَقِيلَ: خَرَجَ الدجال، قَالَ: فَأَتَيْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيِّ - رضي الله عنه - وَهُوَ يُحَدِّثُ، فَقُلْتُ: هَذَا الدجال قَدْ خَرَجَ، فَقَالَ: اجْلِسْ، فَجَلَسْتُ، فَأَتَى عَلَيْهِ الْعَرِّيفُ (1) فَقَالَ: هَذَا الدَّجَّالُ قَدْ خَرَجَ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يُطَاعِنُونَهُ، قَالَ: اجْلِسْ، فَجَلَسَ، فَنُودِيَ: إِنَّهَا كَذِبَةٌ صَبَّاغٌ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سَرِيحَةَ، مَا أَجْلَسْتَنَا إِلَّا لِأَمْرٍ فَحَدِّثْنَا، قَالَ: إِنَّ الدَّجَّالَ لَوْ خَرَجَ فِي زَمَانِكُمْ لَرَمَتْهُ الصِّبْيَانُ بِالْخَذْفِ (2)
وَلَكِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ فِي بُغْضٍ مِنَ النَّاسِ، وَخِفَّةٍ مِنَ الدِّينِ، وَسُوءِ ذَاتِ بَيْنٍ " (3)
ترجمہ:
حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں کوفہ میں تھا۔ کہا گیا کہ دجال نکل آیا ہے۔ تو ہم حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ حدیث بیان کر رہے تھے۔ میں نے کہا: یہ دجال نکل آیا ہے۔ تو انہوں نے کہا: بیٹھ جاؤ۔ تو میں بیٹھ گیا۔ پھر عریف (ذمہ دار شخص)(1) ان کے پاس آیا اور کہا: یہ دجال نکل آیا ہے، اور اہل کوفہ اس سے لڑ رہے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: بیٹھ جاؤ۔ تو وہ بیٹھ گیا۔ پھر اعلان کیا گیا: یہ جھوٹا رنگریز ہے (یعنی وہ دجال نہیں تھا)۔ تو ہم نے کہا: اے اباسریحہ! آپ نے ہمیں صرف کسی خاص بات کے لیے بٹھایا ہے، تو ہمیں حدیث سنائیں۔ انہوں نے کہا: بے شک دجال اگر تمہارے زمانے میں نکلتا تو بچے اسے کنکریاں مارتے (یعنی اس کا کوئی اثر نہ ہوتا)۔(2)
لیکن دجال اس وقت نکلے گا جب لوگوں میں آپس کی بغض ہوگا، دین کمزور ہوگا، اور باہمی تعلقات خراب ہوں گے۔(3)
---
حاشیہ وحوالہ :
1. العریف: وہ ذمہ دار شخص جو لوگوں کے ایک گروہ کی نگرانی کرتا ہے۔
2. بِالْخَذْفِ: یعنی بچے اسے پتھر مارتے۔
3. یہ روایت الکامل فی ضعفاء الرجال (8612 ا) میں ہے، اور امام البانی نے کتاب "قصۃ المسیح الدجال" (ص106) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
حدیث#13
عَنْ حُذَيْفَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي زَمَانٌ يَتَمَنَّوْنَ فِيهِ الدجال "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مِمَّ ذَاكَ؟ , قَالَ: " مِمَّا يَلْقُونَ مِنَ الْعَنَاءِ (1) " (2)
ترجمہ:
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میری امت پر ضرور ایسا زمانہ آئے گا جب وہ دجال کی تمنا کریں گے۔"
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، ایسا کیوں ہوگا؟ آپ نے فرمایا: "اس مصیبت کے باعث جو ان پر آئے گی۔"
---
حاشیہ وحوالہ:
1. میں کہتا ہوں: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کے ظہور سے پہلے سخت فتنے ہوں گے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ دہیماء کے بارے میں بیان فرمایا ہے جو ہر شخص کو اپنی زد میں لے لے گا۔
2. یہ حدیث طبرانی کی المعجم الکبیر (4289) میں ہے، نیز دیکھیے صحیحہ البانی (3090)۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص457]
حدیث#14
عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ:
لَمَّا فُتِحَتْ إِصْطَخْرُ نَادَى مُنَادٍ: أَلَا إِنَّ الدجال قَدْ خَرَجَ , فَلَقِيَهُمْ الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ - رضي الله عنه - فَقَالَ: لَوْلَا مَا تَقُولُونَ لَأَخْبَرْتُكُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَذْهَلَ النَّاسُ عَنْ ذِكْرِهِ , وَحَتَّى تَتْرُكَ الْأَئِمَّةُ ذِكْرَهُ عَلَى الْمَنَابِرِ " (ضعيف)
ترجمہ:
حضرت راشد بن سعد سے روایت ہے کہ جب اصطخر فتح ہوا تو ایک منادی نے پکارا: آگاہ ہو جاؤ کہ دجال نکل آیا ہے۔ تو صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور کہا: اگر تم لوگ یہ بات نہ کرتے تو میں تمہیں بتاتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: "دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک لوگ اس کے ذکر سے غافل نہ ہو جائیں، اور جب تک امام (خطباء) منبروں پر اس کا ذکر کرنا ترک نہ کر دیں۔"
---
حاشیہ وحوالہ:
1. یہ حدیث مسند احمد (16718) میں ہے۔ شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا ہے کہ اس کا سند ضعیف ہے کیونکہ یہ منقطع ہے۔ راشد بن سعد مقرائی حمصی نے صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
میں کہتا ہوں: حدیث سنداً ضعیف ہے، لیکن (اس میں بیان کردہ) یہ بات عملی طور پر واقع ہو رہی ہے۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص458]
حدیث#15
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ - رضي الله عنه - , عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ - رضي الله عنه - قَالَ:
كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي غَزْوَةٍ فَقَالَ: " تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ
[ لَكُمْ]
(¬1) ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ
[ لَكُمْ]
(¬2) ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ
[ لَكُمْ]
(¬3) ثُمَّ تَغْزُونَ الدجال (¬4) فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ
[ لَكُمْ (¬5)]
(¬6) " , فَقَالَ لِي نَافِعٌ: يَا جَابِرُ , لَا نَرَى الدَّجَّالَ يَخْرُجُ حَتَّى تُفْتَحَ الرُّومُ. (¬7)
ترجمہ:
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، تو آپ نے فرمایا: "تم جزیرہ عرب پر غزوہ کرو گے تو اللہ اسے تمہارے لیے فتح کرے گا (1)، پھر فارس، تو اللہ اسے تمہارے لیے فتح کرے گا (2)، پھر تم روم پر غزوہ کرو گے تو اللہ اسے تمہارے لیے فتح کرے گا (3)، پھر تم دجال پر غزوہ کرو گے (4) تو اللہ اسے تمہارے لیے فتح کرے گا (5) (6)۔" پھر نافع نے مجھ سے کہا: اے جابر! ہم نہیں سمجھتے کہ دجال اس وقت تک نکلے گا جب تک روم فتح نہ ہو جائے۔ (7)
---
حوالہ وحاشیہ:
1. (حم) 1540، شیخ شعیب ارناؤوط نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
2. (حم) 1540
3. (حم) 1540
4. یہ خطاب صحابہ کرام کے لیے ہے اور مراد امت مسلمہ ہے۔
5. یعنی اللہ اسے مغلوب اور شکست خوردہ بنا دے گا۔
6. (حم) 1540
7. یہ حدیث مسلم (2900) اور ابن ماجہ (4091) میں بھی موجود ہے۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص459]
حدیث#16
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقٍ (1) فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنْ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ، فَإِذَا تَصَافُّوا (2) قَالَتْ الرُّومُ: خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا (3) مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: لَا وَاللَّهِ لَا نُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا، فَيُقَاتِلُونَهُمْ، فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا، وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ هُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ، وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَنُونَ أَبَدًا، فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطَنْطِينِيَّةَ (4) فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ , إِذْ صَاحَ فِيهِمْ الشَّيْطَانُ: إِنَّ الْمَسِيحَ (5) قَدْ خَلَفَكُمْ فِي أَهْلِيكُمْ، فَيَخْرُجُونَ - وَذَلِكَ بَاطِلٌ - فَإِذَا جَاءُوا الشَّامَ خَرَجَ، فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ، إِذْ أُقِيمَتْ الصَلَاةُ، فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صلى الله عليه وسلم - فَأَمَّهُمْ، فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ (6) ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ، فَلَوْ تَرَكَهُ لَانْذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ، وَلَكِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ (7) فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ " (8)
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک روم (کے لشکر) اعماق یا دابق (1) میں نہ اتر آئیں۔ پھر اس وقت روئے زمین کے بہترین لوگوں پر مشتمل ایک لشکر مدینہ سے ان کے مقابلے کے لیے نکلے گا۔ پس جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوں گے (2) تو رومی کہیں گے: ہمارے اور ان (مسلمانوں) کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہمارے لوگوں کو قید کیا ہے (3) تاکہ ہم ان سے لڑیں۔ مسلمان کہیں گے: نہیں، اللہ کی قسم! ہم تمہیں اپنے بھائیوں اور تمہارے درمیان نہیں چھوڑیں گے۔ پس وہ ان سے لڑیں گے۔ پھر ایک تہائی لشکر شکست کھا جائے گا، اللہ ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ ان کا ایک تہائی قتل ہو جائے گا، یہی لوگ اللہ کے ہاں بہترین شہید ہوں گے۔ اور (بقیہ) ایک تہائی فتح پا لے گا اور وہ ہرگز کسی فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے، پھر وہ قسطنطنیہ (4) فتح کر لیں گے۔
پھر جب وہ غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے، اور انہوں نے زیتون کے درختوں پر اپنی تلواریں لٹکا رکھی ہوں گی، اچانک شیطان ان میں چیخے گا: بے شک مسیح (5) نے تمہارے گھر والوں کو (تمہارے) پیچھے پا لیا ہے۔ تو وہ (واپس) نکل کھڑے ہوں گے — حالانکہ یہ جھوٹ ہے — پس جب وہ شام پہنچیں گے تو (دجال خود) نکل کھڑا ہو گا۔
پھر جب وہ جنگ کی تیاری کر رہے ہوں گے، صفیں درست کر رہے ہوں گے، اسی دوران نماز قائم کی جائے گی۔ تو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور ان کی امامت کریں گے۔ پس جب اللہ کا دشمن (6) انہیں دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمکنی میں پانی۔ اگر (عیسیٰ علیہ السلام) انہیں چھوڑ دیں تو وہ پگھلتا ہی چلا جائے گا یہاں تک کہ ہلاک ہو جائے، لیکن اللہ انہیں اپنے ہاتھ سے قتل کروائے گا (7) اور انہیں اپنی نیزے پر ان (دجال) کا خون دکھائے گا۔" (8)
---
حاشیہ وحوالہ جات:
1. الْأَعْمَاق وَدَابِق: شام کے قریب حلب کے پاس دو مقامات ہیں۔
2. تَصَافُّوا: آمنے سامنے صف بندی کر لی۔
3. سَبَوْا: گرفتار کر لیے تھے۔
4. قُسْطَنْطِينِيَّةَ: یعنی استنبول شہر۔
5. الْمَسِيحَ: یعنی دجال۔
6. عَدُوُّ اللَّهِ: یعنی دجال۔
7. يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ: یعنی اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اسے قتل کروائے گا۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: "فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ" (الانفال:17)۔
8. یہ حدیث صحیح مسلم (2897) میں ہے۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص460]
حدیث#17
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ (1) خَرَابُ يَثْرِبَ (2) وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ (3) وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ , وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدجال (4) " (5)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بیت المقدس کی آبادی (یثرب) مدینہ کی ویرانی ہے، اور مدینہ کی ویرانی عظیم جنگ (ملحمة) کا ظہور ہے، اور عظیم جنگ کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہے، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا خروج ہے۔"
---
حاشیہ وحوالہ جات:
1. عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ: اس سے مراد بیت المقدس کی مکمل آبادی، مردوں، جائیدادوں اور مال و دولت کی کثرت ہے۔
2. خَرَابُ يَثْرِبَ: (یثرب) مدینہ منورہ کا نام ہے۔ یعنی بیت المقدس کا پورا طور پر آباد ہونا اس وقت ہوگا جب مدینہ ویران ہو رہا ہوگا۔
3. خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ: یعنی عظیم جنگ کا ظہور۔ ابن الملک نے کہا ہے کہ یہ شام والوں اور رومیوں کے درمیان ہوگی۔
4. اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے بعد والا واقعہ رونما ہوگا، اگرچہ درمیان میں کچھ فاصلہ بھی ہو سکتا ہے۔
5. یہ حدیث سنن ابو داود (4294)، مسند احمد (22076) میں ہے۔ نیز دیکھیے صحیح الجامع (4096) اور مشکوۃ المصابیح (5424)۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص461]
دجال کے ظہور سے پہلے کثیر تعداد میں دجالوں کا آنا
حدیث#18
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" (لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ (1) دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ (2)) (3) (مِنْهُمْ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ) (4) (كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ) (5) (يَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ (6)) (7) (وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ , لَا نَبِيَّ بَعْدِي) (8)
ترجمہ:
(بخاری، مسلم، ابوداؤد، احمد) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت قائم نہیں ہو گی (١) یہاں تک کہ (قریباً) تیس (٣) جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے (٢) (٤)، ان میں چار عورتیں بھی ہوں گی (٥)۔ وہ سب یہ دعویٰ کریں گے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں (٦)، وہ اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھیں گے (٧)۔ حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘ (٨)
---
حاشیہ وحوالہ:
1. يُبْعَثَ سے مراد ظاہر ہونا ہے، نہ کہ نبوت کے ساتھ مخصوص رسول بنا کر بھیجنا۔ یہ اللہ کے قول "إِنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ" کی طرح ہے۔
2. اس حدیث سے مراد ہر وہ شخص نہیں ہے جو مطلقاً نبوت کا دعویٰ کرے، کیونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ بلکہ مراد وہ لوگ ہیں جن کی کوئی طاقت ہو اور ان کے پاس کوئی (دھوکہ دینے والی) بات ہو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک کو جو یہ کام کرتا آیا ہلاک کر دیا ہے، اور ان میں سے وہ باقی بچے ہیں جن کو وہ اپنے ساتھیوں سے ملائے گا، اور ان میں سے آخری سب سے بڑا دجال ہوگا۔
3. یہ حدیث بخاری (6704) اور مسلم (157) میں ہے۔
4. یہ حدیث مسند احمد (23406) میں ہے، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
5. یہ حدیث بخاری (6704) اور مسلم (157) میں ہے۔
6. سنن ابو داود (4334) میں ہے کہ ابراہیم نخعی نے عبیدہ بن عمرو سے پوچھا: کیا تم مختار بن ابی عبید ثقفی کو ان (دجالوں) میں سے سمجھتے ہو؟ تو عبیدہ نے کہا: وہ (جھوٹے دعویداروں میں) سرغنہ (بڑے سر) تھے۔
7. یہ حدیث سنن ابو داود (4334) میں ہے۔
8. یہ حدیث مسند احمد (23406) میں ہے۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص462]
دجال کی صفت
حدیث#19
عَنْ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" (أُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فِي الْمَنَامِ) (1) (فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ (2) كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ
[ وفي رواية: أَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ]
(3) لَهُ لِمَّةٌ (4) كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ) (5) (تَضْرِبُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ) (6) (قَدْ رَجَّلَهَا (7) فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً (8)) (9) (وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ , فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ , فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ (10) ثُمَّ رَأَيْتُ رَجُلًا وَرَاءَهُ) (11) (أَحْمَرًا (12) جَسِيمًا (13)) (14) (جَعْدًا قَطَطًا (15) أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى) (16) (كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ (17)) (18) (وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ , فَقُلْتُ مَنْ هَذَا؟ , فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ الدجال) (19) (وَأَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ (20)) (21) "
ترجمہ:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے (اپنے آپ کو) رات خواب میں کعبہ کے پاس دیکھا (١)، تو میں نے ایک گندمی رنگت والا آدمی دیکھا (٢) ان گندمی رنگت والے مردوں میں سے جیسا تم بہترین دیکھتے ہو (٣)۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے: ’’سرخ و سفید (٤)، گھونگریالے بالوں والا (٥)، چوڑے سینے والا (٦)۔ اس کے لمبے بال تھے (٧) (ان) لمبے بالوں میں سے جیسا تم بہترین دیکھتے ہو (٨) وہ اس کے دونوں کندھوں کے درمیان لٹک رہے تھے (٩)۔ اس نے انہیں کنگھی کر رکھا تھا (١٠) پس وہ پانی ٹپکا رہے تھے (١١) (١٢)۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھا اور بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ مسیح ابن مریم ہیں (١٣)۔ پھر میں نے ان کے پیچھے ایک آدمی کو دیکھا (١٤)، سرخ و سفید، بھاری بھرکم (١٥) (١٦)، گھونگریالے، گھنے بالوں والا (١٧) دائیں آنکھ سے کانا (١٨)، گویا کہ وہ ایک ابھری ہوئی انگور کی گھنڈی ہے (١٩) (٢٠)۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ ایک آدمی کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھا، بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ مسیح دجال ہے (٢١)۔ اور لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے مشابہ ابن قطن ہے (٢٢)۔‘‘ (٢٣)
حوالہ وحاشیہ:
(١) بخاری (۳۲۵۶)
(٢) یعنی: گندمی رنگت والا۔
(٣) بخاری (۵۵۶۲)، مسلم (۱۶۹)
(٤) عربوں کے نزدیک احمر (سرخ) شدید سفیدی کے ساتھ سرخی مائل کو کہتے ہیں۔
(٥) بالوں میں گھونگریلاپن یہ ہے کہ وہ نہ توڑے ہوئے ہوں اور نہ ہی سیدھے ہوں۔ فتح الباری (ج ۱۰ / ص ۳۵۶)
(٦) بخاری (۳۲۵۵)
(٧) (اللّمّۃ) اس کی جمع لِمَم ہے، جیسے قِرْبَۃ کی جمع قِرَب۔ اور اس سے مراد وہ بال ہیں جو لٹک رہے ہوں اور کان کی لو سے گزر گئے ہوں، اگر وہ کندھوں تک پہنچ جائیں تو اسے جُمّۃ کہتے ہیں اور اگر ان سے چھوٹے ہوں تو اسے وَفْرَۃ کہتے ہیں۔ شرح النووي على مسلم - (ج ۱ / ص ۳۰۳)
(٨) بخاری (۵۵۶۲)، مسلم (۱۶۹)
(٩) بخاری (۳۲۵۶)
(١٠) یعنی: اس نے انہیں کنگھی کے ساتھ پانی یا کسی اور چیز سے سنوارا تھا۔ شرح النووي (ج ۱ / ص ۳۰۳)
(١١) ممکن ہے کہ اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ اس پانی سے ٹپک رہے تھے جس سے اس نے انہیں کنگھی کیا تھا، کیونکہ کنگھی کرنے کا وقت قریب تھا۔ اور قاضی عیاض نے کہا: میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ یہ اس کی تازگی اور خوبصورتی کی تعبیر ہے، اور اس کے حسن کے لیے استعارہ ہے۔ شرح النووي على مسلم - (ج ۱ / ص ۳۰۳)
(١٢) بخاری (۵۵۶۲)، مسلم (۱۶۹)
(١٣) علماء نے اس کے مسیح نام رکھے جانے کی وجہ میں اختلاف کیا ہے۔ واحدی نے کہا: ابو عبید اور لیث کا قول ہے کہ اس کا اصل عبرانی میں "مشیّح" ہے تو عربوں نے اسے معرب کیا اور اس کے لفظ کو بدل دیا، جیسے انہوں نے موسیٰ کہا حالانکہ اس کا عبرانی میں اصل "مُوشِیه" ہے، جب انہوں نے اسے معرب کیا تو اسے بدل دیا۔ اس قول پر تو اس کا کوئی اشتقاق نہیں ہے۔ اور اکثر علماء کا قول ہے کہ یہ مشتق ہے، پھر ان علماء میں اختلاف ہوا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اس لیے کہ وہ کسی معذور پر ہاتھ نہیں پھیرتے تھے مگر وہ تندرست ہو جاتا تھا۔ اور ابراہیم اور ابن الاعرابی نے کہا: مسیح کے معنی سچے ہیں۔ اور کہا گیا: اس لیے کہ اس کے دونوں قدموں کے نیچے کا حصہ چپٹا ہے، اس کی کوئی خمیدگی نہیں ہے۔ اور کہا گیا: زکریا علیہ السلام کے اس پر ہاتھ پھیرنے کی وجہ سے۔ اور کہا گیا: اس کے زمین کو چھونے (یعنی اس کا سفر کرنے) کی وجہ سے۔ اور کہا گیا: اس لیے کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے تیل میں لت پت نکلے تھے۔ اور کہا گیا: اس لیے کہ جب وہ پیدا ہوئے تو برکت کے ساتھ ان پر ہاتھ پھیرا گیا تھا۔ اور کہا گیا: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہاتھ پھیرا، یعنی انہیں اچھی صورت میں پیدا کیا۔ اور اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ شرح النووي (ج ۱ / ص ۳۰۳)
(١٤) بخاری (۳۲۵۶)
(١٥) یعنی: بڑے جسم والا۔
(١٦) بخاری (۳۲۵۷)، مسلم (۱۶۹)
(١٧) اس سے مراد بالوں کا شدید گھونگریلاپن ہے۔
(١٨) بخاری (۳۲۵۶)
(١٩) (طافیۃ) یعنی ابھری ہوئی، اور اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آنکھ اس طرح ابھری ہوئی ہے جیسے انگور کی گھنڈی اپنی بہنوں کے درمیان سے ابھری ہوئی ہو۔ اور بعض شیوخ نے اسے ہمزہ کے ساتھ (طافئۃ) پڑھا ہے، کیونکہ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ وہ ممسوح العین (یعنی مٹی ہوئی) ہے اور نہ تو کھوکھلی ہے اور نہ ہی ابھری ہوئی، اور انگور کی گھنڈی کی یہ صفت ہے جب اس کا پانی نکل جاتا ہے، اور یہ ہمزہ والی روایت کی تصحیح کرتا ہے۔ فتح الباري (ج ۲۰ / ص ۱۳۹)
(٢٠) بخاری (۵۵۶۲)
(٢١) بخاری (۳۲۵۶)
(٢٢) زہری نے کہا: یہ خزاعہ قبیلے کا ایک آدمی تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہلاک ہوا تھا۔ (بخاری ۳۲۵۷)
(٢٣) بخاری (۳۲۵۷)، مسلم (۱۶۹)
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص463]
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" (مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ) (¬1) (الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ) (¬2) (لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ (¬3)) (¬4) (وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ) (¬5) (وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ) (¬6) (إِنَّهُ يَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ) (¬7) (وَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ - عز وجل - حَتَّى يَمُوتَ) (¬8) (وَإِنَّهُ أَعْوَرٌ) (¬9) (مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى , عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ (¬10)) (¬11)
[ وفي رواية: مَطْمُوسُ الْعَيْنِ , لَيْسَ بِنَاتِئَةٍ (¬12) وَلَا حَجْرَاءَ]
(¬13)
[ وفي رواية: إِحْدَى عَيْنَيْهِ كَأَنَّهَا زُجَاجَةٌ خَضْرَاءُ]
(¬14) (وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ) (¬15) (وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كُفْرٌ) (¬16) (ثُمَّ تَهَجَّاهَا: (ك ف ر)) (¬17) (يَقْرَؤُهَا كُلُّ مُؤْمِنٍ أُمِّيٌّ وَكَاتِبٌ) (¬18)
[ وفي رواية: قَارِئٌ وَغَيْرُ قَارِئٍ]
(¬19) (هِجَانٌ أَزْهَرُ (¬20) كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ (¬21)) (¬22) (وَكَأَنَّ شَعْرَ رَأْسِهِ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ) (¬23) (حُبُكٌ حُبُكٌ حُبُكٌ (¬24) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ) (¬25) (قَصِيرٌ (¬26) أَفْحَجُ (¬27)) (¬28) (وَلَا يُسَخَّرُ لَهُ مِنَ الْمَطَايَا (¬29) إِلَّا الْحِمَارُ، فَهُوَ رِجْسٌ (¬30) عَلَى رِجْسٍ) (¬31) "
ترجمہ:
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص464]
عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ - رضي الله عنه - قَالَ:
" ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ (¬1) فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ (¬2)
" حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ , فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ (¬3) " عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟ " , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ , فَقَالَ: " غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ (¬4) إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ , وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ , وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ , إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ (¬5) عَيْنُهُ طَافِئَةٌ , كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ " (¬6)
ترجمہ:
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص465]
ابن صیاد کی خبر اور اس کی دجال سے مشابہت
عَنْ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ:
(انْطَلَقَ عُمَرُ مَعَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فِي رَهْطٍ (¬1) قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ , فَوَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ (¬2) بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ الْحُلُمَ (¬3)) (¬4) (فَلَمْ يَشْعُرْ ابْنُ صَيَّادٍ بِشَيْءٍ " حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ: تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ " , فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ (¬5) ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -: أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟) (¬6) (" فَرَفَضَهُ (¬7) رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَقَالَ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ) (¬8) (ثُمَّ قَالَ لَهُ: يَا ابْنَ صَائِدٍ مَاذَا تَرَى؟ ") (¬9) (قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ , وَمَا تَرَى؟ " , قَالَ: أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا , أَوْ كَاذِبَيْنِ وَصَادِقًا) (¬10) (فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ) (¬11) (ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَا تُرْبَةُ الْجَنَّةِ " , قَالَ: دَرْمَكَةٌ (¬12) بَيْضَاءُ مِسْكٌ (¬13) يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ: " صَدَقْتَ) (¬14) (ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئَةً (¬15)) (¬16) (- وَخَبَأَ لَهُ: {يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ}
(¬17) - ") (¬18) (فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ (¬19) فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: اخْسَأْ (¬20) فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ (¬21) " , فَقَالَ عُمَرُ - رضي الله عنه -: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ) (¬22) (فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " دَعْهُ , فَإِنْ يَكُنْ الَّذِي نَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ) (¬23) (
[ وفي رواية: فَلَسْتَ صَاحِبَهُ]
إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَإِنْ لَا يَكُنْ هُوَ، فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ، قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مُشْفِقًا (¬24) أَنَّهُ الدَّجَّالُ) (¬25) (ثُمَّ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ - رضي الله عنه - إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، وَهُوَ يَخْتِلُ (¬26) أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَهُوَ مُضْطَجِعٌ فِي قَطِيفَةٍ (¬27)
لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ (¬28) فَرَأَتْ أمُّ ابْنِ صَيّادٍ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ "، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ: يَا عَبْدَ اللَّهِ - وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ (¬29) - هَذَا مُحَمَّدٌ، فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ (¬30)) (¬31) (فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ , لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ) (¬32) (قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي النَّاسِ , فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ , ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ) (¬33) (فَقَالَ: مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَمْرٌ أَعْظَمُ مِنْ الدَّجَّالِ) (¬34) وفي رواية: (مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدّجَّالِ) (¬35) (وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ) (¬36) (الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ) (¬37) (لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ (¬38)) (¬39) (وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ) (¬40) (وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ) (¬41) (إِنَّهُ يَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ) (¬42) (وَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ - عز وجل - حَتَّى يَمُوتَ) (¬43) (وَإِنَّهُ أَعْوَرٌ) (¬44) (مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى , عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ (¬45)) (¬46)
[ وفي رواية: مَطْمُوسُ الْعَيْنِ , لَيْسَ بِنَاتِئَةٍ (¬47) وَلَا حَجْرَاءَ]
(¬48)
[ وفي رواية: إِحْدَى عَيْنَيْهِ كَأَنَّهَا زُجَاجَةٌ خَضْرَاءُ]
(¬49) (وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ) (¬50) (وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كُفْرٌ) (¬51) (ثُمَّ تَهَجَّاهَا: (ك ف ر)) (¬52) (يَقْرَؤُهَا كُلُّ مُؤْمِنٍ أُمِّيٌّ وَكَاتِبٌ) (¬53)
[ وفي رواية: قَارِئٌ وَغَيْرُ قَارِئٍ]
(¬54) (هِجَانٌ أَزْهَرُ (¬55) كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ (¬56)) (¬57) (وَكَأَنَّ شَعْرَ رَأْسِهِ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ) (¬58) (حُبُكٌ حُبُكٌ حُبُكٌ (¬59) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ) (¬60) (قَصِيرٌ (¬61) أَفْحَجُ (¬62)) (¬63) (وَلَا يُسَخَّرُ لَهُ مِنَ الْمَطَايَا (¬64) إِلَّا الْحِمَارُ، فَهُوَ رِجْسٌ (¬65) عَلَى رِجْسٍ) (¬66) (قَالَ: وَأُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فِي الْمَنَامِ) (¬67) (فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ (¬68) كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ
[ وفي رواية: أَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ]
(¬69) لَهُ لِمَّةٌ (¬70) كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ) (¬71) (تَضْرِبُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ) (¬72) (قَدْ رَجَّلَهَا (¬73) فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً (¬74)) (¬75) (وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ , فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ , فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ (¬76) ثُمَّ رَأَيْتُ رَجُلًا وَرَاءَهُ) (¬77) (أَحْمَرًا (¬78) جَسِيمًا (¬79)) (¬80) (جَعْدًا قَطَطًا (¬81) أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى) (¬82) (كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ (¬83)) (¬84) (وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ , فَقُلْتُ مَنْ هَذَا؟ , فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ) (¬85) (وَأَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ) (¬86) "
ترجمہ:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند لوگوں کے گروہ (1) میں ابن صیاد کی طرف روانہ ہوئے، تو انہوں نے اسے بنو مغالہ کے اونچے قلعے (2) کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوا پایا، اور ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا (3) (4)۔
ابن صیاد کو کچھ خبر نہ ہوئی، "یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر مارا، پھر ابن صیاد سے فرمایا: 'کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟' ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا: 'میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھ لوگوں کے رسول ہیں (5)۔' پھر ابن صیاد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: 'کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟'" (6)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا (7) اور فرمایا: 'میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا (8)۔' پھر آپ نے اس سے فرمایا: 'اے ابن صائد! تو کیا دیکھتا ہے؟'" (9) اس نے کہا: 'میں پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں۔' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'تو ابلیس کا تخت سمندر پر دیکھ رہا ہے۔ پھر اور کیا دیکھتا ہے؟' اس نے کہا: 'میں دو سچے اور ایک جھوٹا دیکھتا ہوں، یا دو جھوٹے اور ایک سچا دیکھتا ہوں (10)۔' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'تیرے معاملے میں خلط ملط کر دیا گیا ہے (11)۔'"
"پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: 'جنت کی مٹی کیا ہے؟' اس نے کہا: 'بہت سفید عطر والا میدہ ہے (12) (13) اے ابوالقاسم!' آپ نے فرمایا: 'تو نے سچ کہا (14)۔'"
"پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: 'میں نے تیرے لیے ایک چیز چھپا رکھی ہے (15) (16) – اور آپ نے اس کے لیے یہ آیت چھپائی تھی: {جس دن آسمان صاف دھوئیں (دھویں) کو لے آئے گا} (17) – (18)۔' ابن صیاد نے کہا: 'وہ 'الدخ' ہے (19)۔' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: 'دور ہو جا! تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا (20) (21)۔'"
"حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: 'اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں (22)۔' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'اسے چھوڑ دو، کیونکہ اگر وہی (دجال) ہے جس کا ہم خوف رکھتے ہیں تو تم اسے قتل نہ کر سکو گے (23)۔' اور ایک روایت میں ہے: 'تو اس کا مقابلہ کرنے والا نہیں ہے، اس کا مقابلہ کرنے والا تو عیسیٰ ابن مریم ہوں گے، اور اگر وہ (دجال) نہیں ہے تو تمہیں ایک اہلِ ذمہ شخص کو قتل کرنے کا حق نہیں ہے۔' ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس بات سے ڈرتے رہے (24) کہ کہیں وہ دجال ہی نہ ہو (25)۔"
"پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اس کھجور کے باغ کی طرف روانہ ہوئے جس میں ابن صیاد تھا، اور آپ (چپکے سے) یہ چاہ رہے تھے کہ ابن صیاد سے کوئی بات اس سے پہلے سن لیں کہ ابن صیاد آپ کو دیکھ لے (26)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا، وہ اپنی ایک موٹی چادر (27) میں لیٹا ہوا تھا جس میں سے ایک دھیمی سی آواز (28) آ رہی تھی۔ ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا، 'آپ کھجور کے تنوں کا سہارا لے کر چھپ رہے تھے۔' اس نے ابن صیاد سے کہا: 'اے عبداللہ – اور ابن صیاد کا نام (عبداللہ) تھا (29) – یہ محمد ہیں۔' تو ابن صیاد اچانک اٹھ کھڑا ہوا (30) (31)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'اسے کیا ہوا ہے؟ اللہ اسے ہلاک کرے! اگر یہ (ماں) اسے (ایسے ہی) چھوڑ دیتی تو (اس کی حقیقت) واضح ہو جاتی (32)۔'"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی اس طرح حمد و ثنا بیان کی جیسا کہ اس کا حق ہے، پھر دجال کا ذکر فرمایا (33)۔
آپ نے فرمایا: "آدم کی تخلیق سے لے کر قیامت قائم ہونے تک دجال سے بڑا کوئی معاملہ نہیں ہوگا (34)۔" اور ایک روایت میں ہے: "نہ توئی فتنہ (ایسا) ہوا اور نہ قیامت تک ہوگا جو دجال کے فتنہ سے بڑا ہو (35)۔"
"کوئی نبی ایسا نہیں جس نے اپنی امت کو (36) اس کانے جھوٹے (37) سے ڈرایا نہ ہو۔ بیشک نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا (38)، اور میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں (39)، لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی (40)۔ وہ کہے گا: 'میں تمہارا رب ہوں' (41)، حالانکہ تم جانتے ہو کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے رب عزوجل کو نہیں دیکھے گا یہاں تک کہ مر جائے (42)۔ اور وہ کانا ہے (43)، اس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہے، اس پر ایک موٹی جھلی ہے (44) (45)۔"
اور ایک روایت میں ہے: "اس کی آنکھ مٹی ہوئی ہے، نہ ابھری ہوئی ہے (46) اور نہ ہی گہری (47)۔" اور ایک روایت میں ہے: "اس کی ایک آنکھ ایسی ہے گویا کہ سبز شیشہ ہے (48)۔ اور بیشک تمہارا رب کانا نہیں ہے (49)۔ اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان 'کُفْر' لکھا ہوا ہے (50)۔ پھر آپ نے اس کے حروف الگ الگ بیان کیے: 'ک۔ ف۔ ر' (51)۔ ہر مومن، خواہ ان پڑھ ہو یا لکھا پڑھا (52) اسے پڑھ لے گا۔" اور ایک روایت میں ہے: "(خواہ) پڑھنے والا ہو یا نہ پڑھنے والا (53)۔ وہ شدید سفید رنگت والا ہے (54)، گویا اس کا سر سانپ ہے (55) (56)۔ اور گویا اس کے سر کے بال درخت کی شاخیں ہیں (57) (جو) لہری دار لہری دار لہری دار (58) ہیں" (آپ نے تین بار فرمایا) (59)۔
"(وہ) پستہ قد (60) اور پھسلے ہوئے پاؤں والا ہے (61) (62)، اور اس کی سواریوں میں سے (63) اس کے لیے صرف گدھا ہی مسخر کیا جائے گا، سو وہ ناپاک پر ناپاک ہے (64)۔" (65)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں نے (اپنے آپ کو) رات خواب میں کعبہ کے پاس دیکھا (66)، تو میں نے ایک گندمی رنگت والا آدمی دیکھا (67) ان گندمی رنگت والے مردوں میں سے جیسا تم بہترین دیکھتے ہو (68)۔" اور ایک روایت میں ہے: "سرخ و سفید (69)، گھونگریالے بالوں والا (70)، چوڑے سینے والا (71)۔ اس کے لمبے بال تھے (72) (ان) لمبے بالوں میں سے جیسا تم بہترین دیکھتے ہو (73) وہ اس کے دونوں کندھوں کے درمیان لٹک رہے تھے (74)۔ اس نے انہیں کنگھی کر رکھا تھا (75) پس وہ پانی ٹپکا رہے تھے (76) (77)۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھا اور بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: 'یہ کون ہے؟' تو انہوں نے کہا: 'یہ مسیح ابن مریم ہیں۔' پھر میں نے ان کے پیچھے ایک آدمی کو دیکھا (78)، سرخ و سفید، بھاری بھرکم (79) (80)، گھونگریالے، گھنے بالوں والا (81) دائیں آنکھ سے کانا (82)، گویا کہ وہ ایک ابھری ہوئی انگور کی گھنڈی ہے (83) (84)۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ ایک آدمی کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھا، بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: 'یہ کون ہے؟' تو انہوں نے کہا: 'یہ مسیح دجال ہے (85)۔ اور لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے مشابہ ابن قطن ہے (86)۔'" (87)
حواشی وحوالہ:
(1) (الرَّهْطُ): تین سے دس تک مردوں کی تعداد، قزاز نے کہا: اور بسا اوقات وہ اس سے تھوڑا زیادہ ہو جاتے تھے۔
(2) الْأُطُم: اونچی عمارت۔
(3) یعنی: بلوغت کے قریب پہنچ گیا تھا۔
(4) بخاری (1289)
(5) اس کے قول 'أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ' میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہودی جن میں سے ابن صیاد تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اعتراف کرتے تھے لیکن وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ بعثت خاص عربوں کے لیے ہے، اور ان کی دلیل کا فساد بالکل واضح ہے، کیونکہ جب انہوں نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو یہ محال ہے کہ آپ اللہ پر جھوٹ باندھیں، پس جب آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ عرب اور غیر عرب سب کی طرف رسول ہیں تو آپ کی سچائی متعین ہو گئی، پس آپ کی تصدیق واجب ہو گئی۔ فتح الباري (9/291)
(6) بخاری (2890)
(7) یعنی: آپ نے اسے چھوڑ دیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ اسے پکڑے ہوئے تھے جیسا کہ گزرا۔
(8) بخاری (1289)
(9) احمد (14998)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
(10) مسلم (2925)
(11) بخاری (1289)
(12) الدَّرْمَك: وہ میدہ ہے جو سفید، خالص اور چھنا ہوا ہوتا ہے۔ شرح النووي (9/317)
(13) یعنی وہ سفیدی میں میدہ ہے، اور خوشبو میں کستوری ہے۔ شرح النووي (9/317)
(14) مسلم (2928)
(15) یعنی: میں نے تیرے لیے ایک چیز چھپا رکھی ہے۔ فتح الباري (9/291)
(16) بخاری (1289)
(17) سورہ الدخان (44)، آیت 10
(18) ترمذی (2249)
(19) بزار اور طبرانی نے "الأوسط" میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے، انہوں نے کہا: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے سورۃ الدخان چھپائی تھی۔" گویا آپ نے سورت کا ذکر فرمایا اور مراد اس کا بعض حصہ تھا، کیونکہ احمد میں عبد الرزاق سے باب کی حدیث میں ہے: "اور میں نے اس کے لیے {يَوْمَ تَأتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ} چھپائی تھی۔" ابوموسیٰ المدینی نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت کے ذریعے اسے آزمائش میں ڈالنے کا راز یہ اشارہ تھا کہ عیسیٰ ابن مریم دجال کو جبل الدخ (دھوئیں کے پہاڑ) پر قتل کریں گے، آپ نے ابن صیاد کو اس کی طرف اشارہ کرنا چاہا۔ رہا ابن صیاد کا 'الدخ' کے ساتھ جواب، تو کہا گیا ہے کہ وہ گھبرا گیا، اسے لفظ 'دخان' میں سے صرف بعض حصہ ہی یاد آیا۔ فتح الباري - (9/291)
(20) خَسَأتُ الْكَلْبَ: میں نے کتے کو دور بھگایا، اور خَاسِئِينَ (دور کیے ہوئے)۔
(21) یعنی: اپنے جیسے کاہنوں کے مرتبے سے آگے نہیں بڑھ سکتا جو اپنے شیطانوں کی طرف سے ڈالی گئی چیز کو محفوظ رکھتے ہیں، جس میں سچ اور جھوٹ دونوں مخلوط ہوتے ہیں۔ فتح الباری (9/291)
(22) بخاری (1289)
(23) مسلم (2924)، احمد (3610)
(24) یعنی: خائف۔
(25) احمد (14998)
(26) یعنی: ابن صیاد کو دھوکہ دے رہے تھے اور اسے بے خبر کر کے اس کی کوئی بات سننا اور اس کی حالت معلوم کرنا چاہتے تھے کہ وہ کاہن ہے یا جادوگر یا ان جیسا کوئی۔ اور اس حدیث میں اس شخص کے حالات کی تحقیق ہے جس کے فساد کا خوف ہو، اور اس میں یہ بھی ہے کہ امام خود اہم امور کی تحقیق کرے۔ فتح الباري (9/291)
(27) القطيفۃ: ایک چادر یا بستر جس کے کناروں پر جھالر ہوتی ہے۔
(28) (الزَّمْزَمَة): دھیمی سی آواز جو بمشکل سمجھ میں آئے۔
(29) احمد (14998)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند مسلم کی شرط پر ہے۔
(30) یعنی: اپنے بستر سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
(31) بخاری (1289)
(32) احمد (14998)، بخاری (1289)
(33) بخاری (5821)
(34) مسلم (2946)، احمد (16298)
(35) (ك) (64)، دیکھیں الصحیحہ (3081)
(36) احمد (14144)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: صحیح ہے۔
(37) بخاری (6712)
(38) بخاری (2892)
(39) ترمذی (2234)، بخاری (2892)
(40) بخاری (5821)
(41) (جة) (4077)، بخاری (2892)
(42) ترمذی (2235)، احمد (23722)
(43) بخاری (6712)، مسلم (2933)
(44) (الظَّفَرَۃ): ایک جھلی جو بصارت کو ڈھانپ لے، اور اصمعی نے کہا: گوشت کا ایک ٹکڑا جو آنکھ کے کناروں پر اگتا ہے۔ النووی - (ج 9 / ص 326)
(45) احمد (23327)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
(46) یعنی: ابھری ہوئی۔
(47) یعنی: گہری، اور یہ جملہ ابوداؤد (4320) میں ہے، اور دیکھیں صحیح الجامع (2459)۔
(48) احمد (21173)، دیکھیں صحیح الجامع (3401)، الصحیحہ (1863)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
(49) بخاری (6712)، مسلم (2933)
(50) احمد (13168)، بخاری (6712)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
(51) مسلم (2933)، ترمذی (2245)
(52) احمد (13168)، مسلم (2933)
(53) احمد (20417)، اور علامہ البانی نے کتاب "قصة الدجال" (ص 70) میں اسے صحیح قرار دیا ہے، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
(54) الہِجان: شدید سفید، اور الازھر بھی اسی معنی میں ہے۔
(55) علامہ البانی نے "الصحیحہ" (1193) میں کہا: (الاصلۃ): بڑا، موٹا تازہ اور چھوٹا سانپ ہے، اور عرب چھوٹے اور زیادہ حرکت کرنے والے سر کو سانپ کے سر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اور حدیث صریح ہے کہ دجال اکبر انسانوں میں سے ہے، اور یہ ان لوگوں کی اس تاویل کے بطلان پر دلیل ہے کہ وہ کوئی شخص نہیں بلکہ یورپی تہذیب اور اس کی زیب وزینت اور فتنوں کی علامت ہے۔ حالانکہ دجال ایک انسان ہے اور اس کا فتنہ اس سے بڑھ کر ہے۔ انتہی۔
(56) احمد (2148)، دیکھیں الصحیحہ (1193)۔
(57) احمد (3546)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے، اور دیکھیں کتاب "الإسراء والمعراج" للالبانی (ص 75)۔
(58) یعنی: اس کے سر کے بال گھونگریلے پن کی وجہ سے ٹوٹے ہوئے ہیں، جیسے ریت جب ہوا اس پر چلتی ہے تو اس میں لہریں بن جاتی ہیں۔
(59) احمد (23207)، دیکھیں الصحیحہ (2808)۔
(60) یہ دجال کے قد کے چھوٹے ہونے پر دلالت کرتا ہے، حالانکہ تمیم داری کی دجال کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ وہ سب سے بڑا انسان ہے۔ اس جمع کی صورت یہ ہے کہ یہ بعید نہیں کہ وہ قد میں چھوٹا اور پیٹ والا ہو لیکن بڑی ہیئت والا ہو۔ قاری نے کہا: اور یہی مناسب ہے، اس کے کثیر الفتنہ ہونے کے لحاظ سے، یا عظمت (جس کا ذکر ہے) سے مراد ہیبت ہے۔ اور کہا گیا: ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے خروج کے وقت اس کی شکل بدل دے۔ عون المعبود (9/358)۔
(61) (الأفحج): وہ جس کے چلتے وقت اس کے پاؤں کے درمیان فاصلہ ہو، یہ اس کے عیبوں میں سے ہے۔ عون المعبود (9/358)۔
(62) ابوداؤد (4320)
(63) المطایا: مطیۃ کی جمع، اس جانور کو کہتے ہیں جس کی پیٹھ پر سواری کی جائے۔
(64) الرجس: ہر گندی چیز یا برے کام کا نام ہے۔
(65) حاکم نے المستدرک (8612) میں کہا: یہ حدیث اسناد کے اعتبار سے صحیح ہے اور ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور ذہبی نے التلخیص میں کہا: یہ بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔ اور علامہ البانی نے کتاب "قصة الدجال" (ص 106) میں کہا: ان دونوں نے جیسا کہا ہے، اور اسے صحیح الجامع (7875) میں صحیح قرار دیا ہے۔
(66) بخاری (3256)
(67) یعنی: گندمی رنگت والا۔
(68) بخاری (5562)، مسلم (169)
(69) عربوں کے نزدیک احمر (سرخ) شدید سفیدی کے ساتھ سرخی مائل کو کہتے ہیں۔
(70) بالوں میں گھونگریلاپن یہ ہے کہ وہ نہ توڑے ہوئے ہوں اور نہ ہی سیدھے ہوں۔ فتح الباری (ج 10 / ص 356)
(71) بخاری (3255)
(72) (اللّمّۃ) اس کی جمع لِمَم ہے، جیسے قِرْبَۃ کی جمع قِرَب۔ اور اس سے مراد وہ بال ہیں جو لٹک رہے ہوں اور کان کی لو سے گزر گئے ہوں، اگر وہ کندھوں تک پہنچ جائیں تو اسے جُمّۃ کہتے ہیں اور اگر ان سے چھوٹے ہوں تو اسے وَفْرَۃ کہتے ہیں۔ شرح النووي على مسلم - (ج 1 / ص 303)
(73) بخاری (5562)، مسلم (169)
(74) بخاری (3256)
(75) یعنی: اس نے انہیں کنگھی کے ساتھ پانی یا کسی اور چیز سے سنوارا تھا۔ شرح النووي (ج 1 / ص 303)
(76) ممکن ہے کہ اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ اس پانی سے ٹپک رہے تھے جس سے اس نے انہیں کنگھی کیا تھا، کیونکہ کنگھی کرنے کا وقت قریب تھا۔ اور قاضی عیاض نے کہا: میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ یہ اس کی تازگی اور خوبصورتی کی تعبیر ہے، اور اس کے حسن کے لیے استعارہ ہے۔ شرح النووي على مسلم - (ج 1 / ص 303)
(77) بخاری (5562)، مسلم (169)
(78) بخاری (3256)
(79) یعنی: بڑے جسم والا۔
(80) بخاری (3257)، مسلم (169)
(81) اس سے مراد بالوں کا شدید گھونگریلاپن ہے۔
(82) بخاری (3256)
(83) (طافیۃ) یعنی ابھری ہوئی، اور اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آنکھ اس طرح ابھری ہوئی ہے جیسے انگور کی گھنڈی اپنی بہنوں کے درمیان سے ابھری ہوئی ہو۔ اور بعض شیوخ نے اسے ہمزہ کے ساتھ (طافئۃ) پڑھا ہے، کیونکہ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ وہ ممسوح العین (یعنی مٹی ہوئی) ہے اور نہ تو کھوکھلی ہے اور نہ ہی ابھری ہوئی، اور انگور کی گھنڈی کی یہ صفت ہے جب اس کا پانی نکل جاتا ہے، اور یہ ہمزہ والی روایت کی تصحیح کرتا ہے۔ فتح الباري (ج 20 / ص 139)
(84) بخاری (5562)
(85) بخاری (3256)
(86) زہری نے کہا: یہ خزاعہ قبیلے کا ایک آدمی تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہلاک ہوا تھا۔ بخاری (3257)
(87) بخاری (3257)، مسلم (169)
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص466]
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ - رضي الله عنهما - يَحْلِفُ بِاللهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ هُوَ الدَّجَّالُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَحْلِفُ بِاللهِ (١)؟ , قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ - رضي الله عنه - يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - " فَلَمْ يُنْكِرْهُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - (٢) " (٣)
ترجمہ:
محمد بن المنکدر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ ابن صائد ہی دجال ہے۔ میں نے کہا: کیا آپ (اس بات پر) اللہ کی قسم کھاتے ہیں (۱)؟ انہوں نے کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات پر قسم کھاتے ہوئے سنا تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انکار نہیں فرمایا تھا (۲)۔ (۳)
حواشی وحوالہ جات:
(۱) یعنی: کیا آپ اللہ کی قسم کھاتے ہیں حالانکہ یہ ایک مشتبہ معاملہ ہے جس کی قطعیت نہیں ہے۔ (عون المعبود ۹/۳۶۷)
(۲) یعنی: اگر یہ بات قطعی نہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور انکار فرما دیتے۔ کہا گیا ہے: شاید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ ابن صیاد ان دجالوں میں سے ہے جو نکلیں گے اور نبوت کا دعویٰ کریں گے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شک میں تھے جیسا کہ آپ نے فرمایا: "اگر وہی ہے تو، اور اگر وہی نہیں ہے تو۔" لیکن اس میں یہ ہے کہ دجال کے مطلق ذکر سے جو ظاہر اور فوری مفہوم نکلتا ہے وہ وہ فرد اکمل (یعنی دجال اکبر) ہے۔ پس اس کا صحیح حل یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قسم کو غالب گمان پر مبنی جائز حمل کیا جائے، اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ بیہقی نے اپنی کتاب "البعث والنشور" میں کہا: لوگوں نے ابن صیاد کے معاملے میں بہت اختلاف کیا ہے کہ آیا وہ دجال ہے؟ انہوں نے کہا: اور جنہوں نے یہ رائے قائم کی کہ وہ دجال نہیں ہے، انہوں نے تمیم داری کی حدیث سے استدلال کیا۔ بیہقی نے کہا: اور یہ ممکن ہے کہ ابن صیاد کی صفت دجال کی صفت سے ملتی جلتی ہو جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ دجال سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا شخص عبد العزیٰ بن قطن ہے، حالانکہ وہ دجال نہیں ہے۔ اور ابن صیاد کا معاملہ ایک فتنہ تھا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی آزمائش کی، پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھا اور اس کے شر سے بچایا۔ بیہقی نے کہا: اور حضرت جابر کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عمر کے قول پر خاموش رہنے کے سوا کچھ نہیں ہے، تو ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے معاملے میں توقف کی حالت میں ہوں، پھر آپ پر واضح ہوا کہ وہ دجال نہیں ہے، جیسا کہ تمیم داری کی حدیث میں صراحت کی گئی ہے۔ بیہقی کا کلام ختم ہوا۔ (عون المعبود - ج ۹ / ص ۳۶۷)
(۳) مسلم (۲۹۲۹)، بخاری (۶۹۲۲)۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص467]
حدیث#24
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ - رضي الله عنهما - يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَشُكُّ أَنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ابْنُ صَيَّادٍ.
ترجمہ:
حضرت نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: "اللہ کی قسم! مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ مسیح دجال ابن صیاد ہی ہے۔"
[سنن ابوداؤد:4330]
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص468]
حدیث#25
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: (خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا , وَمَعَنَا) (١) (عَبْدُ اللهِ بْنُ صَيَّادٍ , وَكَانَ لَا يُسَايِرُهُ أَحَدٌ, وَلَا يُرَافِقُهُ, وَلَا يُؤَاكِلُهُ, وَلَا يُشَارِبُهُ, وَيُسَمُّونَهُ الدَّجَّالَ) (٢) (قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا , فَتَفَرَّقَ النَّاسُ , وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ , فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ , فَجَاءَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي , فَقُلْتُ: إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ , فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةِ , فَفَعَلَ) (٣) (فَأَبْصَرَ غَنَمًا , فَأَخَذَ الْقَدَحَ , فَانْطَلَقَ فَاسْتَحْلَبَ (٤) ثُمَّ أَتَانِي بِلَبَنٍ , فَقَالَ: اشْرَبْ يَا أَبَا سَعِيدٍ) (٥) (فَقُلْتُ: إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ , وَاللَّبَنُ حَارٌّ - وَمَا بِي , إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ مِنْ يَدِهِ - فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ , ثُمَّ أَخْتَنِقَ (٦) مِمَّا) (٧) (يَصْنَعُ النَّاسُ , لَا يُسَايِرُنِي أَحَدٌ , وَلَا يُرَافِقُنِي أَحَدٌ , وَلَا يُشَارِبُنِي أَحَدٌ , وَلَا يُؤَاكِلُنِي أَحَدٌ , وَيَدْعُونِي الدَّجَّالَ) (٨) (يَا أَبَا سَعِيدٍ , مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ , أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -؟ , أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّهُ يَهُودِيٌّ " , وَقَدْ أَسْلَمْتُ؟ , وَقَالَ: " هُوَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ " , وَقَدْ تَرَكْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ؟ , وَقَالَ: " لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ " , وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ , وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ؟) (٩) (وَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّهُ أَعْوَرُ " , وَأَنَا صَحِيحٌ؟) (١٠) (قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَا زَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَأخُذَ فِيَّ قَوْلُهُ (١١)) (١٢) (ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ , أَمَا وَاللهِ لَأُخْبِرَنَّكَ خَبَرًا حَقًّا , وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ) (١٣) (وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ) (١٤) (وَأَيْنَ هُوَ السَّاعَةَ مِنْ الْأَرْضِ) (١٥) (وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ , وَقِيلَ لِي: أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ؟ , فَقُلْتُ: لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا كَرِهْتُ (١٦) فَقُلْتُ لَهُ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ) (١٧).
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ’’ہم حاجی یا عمرہ کرنے والے کی حیثیت سے نکلے، اور ہمارے ساتھ (1) عبداللہ بن صیاد بھی تھا۔ (سفر میں) کوئی اس کے ساتھ چلتا نہ تھا، نہ اس کا ساتھی بنتا، نہ اس کے ساتھ کھاتا اور نہ پیتا تھا، اور لوگ اسے دجال کہتے تھے (2)۔‘‘
’’ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ایک منزل پر اترے، لوگ منتشر ہو گئے، اور میں اور وہ (ابن صیاد) باقی رہ گئے۔ لوگوں کے اس کے بارے میں کہنے کی وجہ سے مجھے اس سے سخت گھن آنے لگی۔ وہ اپنا سامان لے کر آیا اور میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا۔ میں نے کہا: سخت گرمی ہے، اگر تم اسے اس درخت کے نیچے رکھ دو۔ تو اس نے ایسا ہی کیا (3)۔‘‘
’’اس نے بکریوں کو دیکھا، تو پیالہ لیا اور چلا گیا، اور (مالک سے) دودھ دوہ کر لایا (4)، پھر میرے پاس دودھ لے کر آیا اور کہا: پیو، اے ابوسعید! (5)۔‘‘
’’میں نے کہا: سخت گرمی ہے، اور دودھ گرم ہے — میرے پاس کوئی عذر نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں اس کے ہاتھ سے پینا ناپسند کرتا تھا — تو اس نے کہا: اے ابوسعید! میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ ایک رسی لے کر درخت پر لٹکا دوں، پھر پھندا ڈال کر (اپنا گلا) گھونٹ دوں (6) اس وجہ سے (7) کہ لوگ کیا کرتے ہیں؟ کوئی میرے ساتھ نہیں چلتا، نہ میرا ساتھی بنتا، نہ میرے ساتھ پیتا ہے، نہ میرے ساتھ کھاتا ہے، اور مجھے دجال کہتے ہیں (8)۔‘‘
’’(ابن صیاد نے کہا:) اے ابوسعید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث جس پر بھی مخفی ہوئی، وہ تم اے گروہِ انصار! پر مخفی نہیں ہوئی۔ کیا تم لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے سب سے زیادہ جاننے والے نہیں ہو؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: 'بے شک وہ یہودی ہے'، حالانکہ میں مسلمان ہو چکا ہوں؟ اور آپ نے فرمایا تھا: 'وہ بانجھ ہے، اس کی اولاد نہیں ہوگی'، حالانکہ میں نے اپنی اولاد کو مدینہ میں چھوڑا ہے؟ اور آپ نے فرمایا تھا: 'وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہو سکتا'، حالانکہ میں مدینہ سے چلا ہوں اور مکہ کا ارادہ رکھتا ہوں؟ (9)۔‘‘
’’اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: 'بے شک وہ کانا ہے'، اور میں تندرست ہوں؟ (10)۔‘‘
’’ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ (ایسے ہی کہتا) رہا یہاں تک کہ قریب تھا کہ اس کی بات مجھ پر اثر کر جائے (11) (12)۔‘‘
’’پھر اس (ابن صیاد) نے کہا: اے ابوسعید! اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک سچی خبر ضرور سناؤں گا۔ اللہ کی قسم! میں اس (دجال) کو پہچانتا ہوں (13)، میں اس کی جائے پیدائش بھی جانتا ہوں (14)، اور اس وقت وہ زمین پر کہاں ہے (15)، اور میں اس کے باپ اور ماں کو بھی جانتا ہوں۔‘‘
’’اور (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا:) مجھ سے کہا گیا: کیا تجھے خوشی ہوگی اگر تو وہی شخص (دجال) ہے؟ تو میں نے کہا: اگر مجھے (یہ اختیار) پیش کیا جائے تب بھی میں (اسے) پسند نہیں کروں گا (16)۔‘‘
’’(ابن صیاد سے گفتگو کے بارے میں بتاتے ہوئے) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس سے کہا: 'تیرا دن برا ہو (یعنی تباہ ہو)!' (17)۔‘‘
حواشی وحوالہ جات:
- مسلم (2927)۔
- احمد (11766)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
- مسلم (2927)۔
- یعنی: اس نے بکریوں کے مالک سے درخواست کی کہ اسے اپنی بکریوں سے دودھ دے۔
- ترمذی (2246)۔
- یعنی: اس رسی سے اپنا گلا دبو کر مر جاؤں۔ تحفة الأحوذي (ج 6 / ص 32)۔
- مسلم (2927)۔
- احمد (11766)۔
- مسلم (2927)۔
- احمد (11225)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کے راوی ثقہ ہیں جو بخاری و مسلم کے راوی ہیں۔
- یعنی: یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ مجھ پر اثر کرے اور میں اس بات کی تصدیق کر دوں کہ لوگوں کا اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ دجال ہے، اس پر جھوٹ ہے۔ تحفة الأحوذي (ج 6 / ص 32)۔
- مسلم (2927)۔
- ترمذی (2246)۔
- مسلم (2927)۔
- ترمذی (2246)۔
- (راوی کا قول:) اگرچہ وہ (دجال) نہیں ہے، لیکن (ابن صیاد کی) نیت کے اعتبار سے وہ (دجال جیسا) ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس امت کی مثال چار افراد کی سی ہے... اور ایک شخص جسے اللہ نے مال دیا لیکن علم نہیں دیا، تو وہ اپنے مال میں بے راہ روی کرتا ہے، اسے ناحق جگہوں پر خرچ کرتا ہے، اور ایک شخص جسے اللہ نے نہ علم دیا نہ مال، تو وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس بھی ایسا (مال) ہوتا تو میں بھی اس میں وہی کام کرتا جو یہ (پہلا شخص) کر رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'پس یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں'۔" دیکھیں: (جة) (4228)۔
- مسلم (2927)، ترمذی (2246)۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص469]
حدیث#26
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رضي الله عنهما - قَالَ:
فَقَدْنَا ابْنَ صَيَّادٍ يَوْمَ الْحَرَّةِ (1). (2)
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
"ہم نے واقعۂ حرہ کے دن(1) ابن صیاد کو (لاپتہ/غائب) پایا۔"(2)
---
حوالہ وحاشیہ:
1. یوم الحرة: وہ دن جب یزید بن معاویہ نے اہل مدینہ پر غلبہ پایا اور ان سے جنگ کی۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں کہا: یہ اثر (روایت) اس قول کو کمزور کرتی ہے جو پہلے بیان ہوا کہ وہ مدینہ میں فوت ہوا اور لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اس کے چہرے سے کفن ہٹا کر دیکھا۔ (فتح الباری لابن حجر، ج 20 / ص 418)
2. یہ روایت سنن ابو داود (حدیث نمبر: 4332) میں ہے۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص470]
دجال کے ظہور کی کیفیت
حدیث#27
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ:
(لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ , فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ , فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ: نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ , إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ لَتَصْدُقُنِّي؟ , قَالُوا: نَعَمْ) (¬1) (فَقُلْتُ: هَلْ تُحَدِّثُونِي أَنَّهُ هُوَ؟ , قَالُوا: لَا وَاللَّهِ) (¬2) (فَقُلْتُ: كَذَبْتُمْ , وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بَعْضُكُمْ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَقَلُّكُمْ مَالًا وَوَلَدًا - أَنَّهُ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا , وَهُوَ الْيَوْمَ كَذَلِكَ) (¬3) (قَالَ: فَتَحَدَّثْنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ) (¬4) (ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى) (¬5) (وَقَدْ نَفَرَتْ عَيْنُهُ (¬6) فَقُلْتُ لَهُ: مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى؟ , قَالَ: لَا أَدْرِي , قُلْتُ: لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ؟) (¬7) (فَقَالَ: مَا تُرِيدُ مِنِّي يَا ابْنَ عُمَرَ؟) (¬8) (إِنْ شَاءَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاكَ هَذِهِ) (¬9) (وَنَخَرَ (¬10) كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ قَطُّ) (¬11) (وَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ) (¬12) (فَزَعَمَ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِي حَتَّى تَكَسَّرَتْ , وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ , فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - رضي الله عنها - فَحَدَّثْتُهَا , فَقَالَتْ لِي: رَحِمَكَ اللَّهُ مَا أَرَدْتَ مِنْ ابْنِ صَائِدٍ؟) (¬13) (أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: " إِنَّمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ) (¬14) (عَلَى النَّاسِ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا؟) (¬15) "
ترجمہ:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: "میں ابن صائد سے دو مرتبہ ملا۔ پہلی مرتبہ کا ذکر یہ ہے کہ میں اس سے ملا اور اس کے ساتھ اس کے کچھ ساتھی تھے۔ میں نے ان میں سے ایک سے کہا: 'میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، اگر میں تم سے کسی چیز کے بارے میں پوچھوں تو کیا تم مجھے سچ بتاؤ گے؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' (1)۔"
"تو میں نے کہا: 'کیا تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ وہی (دجال) ہے؟' انہوں نے کہا: 'نہیں، اللہ کی قسم! (یہ نہیں ہے)۔' (2)۔"
"میں نے کہا: 'تم نے جھوٹ کہا ہے، اللہ کی قسم! تم میں سے ایک نے مجھ سے بیان کیا تھا — اور اس وقت وہ تم سب سے کم مال اور اولاد والا تھا — کہ وہ (ابن صیاد) اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک کہ تم سب سے زیادہ مال اور اولاد والا نہ بن جائے، اور آج وہ اسی طرح ہے (یعنی سب سے زیادہ مالدار ہے)۔' (3)۔"
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: "پھر ہم نے بات چیت کی، اس کے بعد میں اس سے جدا ہو گیا (4)۔"
"پھر میں اس سے دوسری مرتبہ ملا (5)، اور اس کی آنکھ پھول گئی تھی/ابھر آئی تھی (6)۔ میں نے اس سے کہا: 'تیری آنکھ نے یہ (حالت) کب اختیار کی جو میں دیکھ رہا ہوں؟' اس نے کہا: 'مجھے نہیں معلوم۔' میں نے کہا: 'تجھے نہیں معلون؟ حالانکہ یہ تیرے سر (جسم) پر ہے؟' (7)۔"
"اس (ابن صیاد) نے کہا: 'اے ابن عمر! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ (8)۔ اگر اللہ نے چاہا تو اس نے یہ (آنکھ) تیری اس لاٹھی میں (بھی) پیدا کر دی ہے (9)۔'"
"اور وہ ایسا (غرّانے کی) آواز نکالنے لگا جیسے میں نے اب تک کسی گدھے کی سب سے شدید غرّاہٹ سنی ہو (10) (11)۔ اور وہ پھول گیا یہاں تک کہ اس نے راستہ ہی بند کر دیا (12)۔"
"میرے ساتھیوں کا خیال تھا کہ میں نے اسے اپنے پاس موجود ایک لاٹھی سے اس قدر مارا کہ وہ ٹوٹ گئی۔ لیکن میری طرف سے، تو اللہ کی قسم! مجھے (مارنے کا) احساس ہی نہیں ہوا۔"
"پھر میں ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا اور انہیں یہ واقعہ سنایا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: 'اللہ تم پر رحم کرے، تم ابن صائد سے کیا چاہتے تھے؟ (13)۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: 'دجال لوگوں کے سامنے ایک غصے کی حالت میں نکلے گا جو اسے آئے گی (14) (15)؟'' (16)۔"
---
حواشی وحوالہ جات:
1. احمد (26469)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
2. مسلم (2932)۔
3. احمد (26469)۔
4. مسلم (2932)۔
5. احمد (26469)۔
6. یعنی: سوج گئی تھی، ابھر آئی تھی۔ (النووي - ج 9 / ص 321)۔
7. مسلم (2932)۔
8. احمد (26469)۔
9. مسلم (2932)۔
10. النَّخِيرُ: ناک کی آواز، انسان، گدھا یا گھوڑا اپنی ناک سے 'نخیر' کی آواز نکالتا ہے، یعنی اپنی ناک کے نتھنوں میں آواز اور سانس کو کھینچتا ہے۔ لسان العرب - (ج 5 / ص 197)۔
11. احمد (26469)۔
12. احمد (26468)، مسلم (2932)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
13. مسلم (2932)۔
14. احمد (26468)، مسلم (2932)۔
15. یہ غصہ مسلمانوں کے قسطنطنیہ فتح کرنے کی وجہ سے ہوگا، جیسا کہ مسلم (2897) میں ہے: "پھر جب وہ غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے، اور انہوں نے زیتون کے درختوں پر اپنی تلواریں لٹکا رکھی ہوں گی، اچانک شیطان ان میں چیخے گا: 'بے شک مسیح نے تمہارے گھر والوں کو (تمہارے) پیچھے پا لیا ہے۔' تو وہ (واپس) نکل کھڑے ہوں گے — حالانکہ یہ جھوٹ ہے — پس جب وہ شام پہنچیں گے تو (دجال خود) نکل کھڑا ہو گا۔ پھر جب وہ جنگ کی تیاری کر رہے ہوں گے، صفیں درست کر رہے ہوں گے، اسی دوران نماز قائم کی جائے گی۔ تو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور ان کی امامت کریں گے۔ پس جب اللہ کا دشمن (دجال) انہیں دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں۔ اگر (عیسیٰ علیہ السلام) انہیں چھوڑ دیں تو وہ پگھلتا ہی چلا جائے گا یہاں تک کہ ہلاک ہو جائے، لیکن اللہ انہیں اپنے ہاتھ سے قتل کروائے گا اور انہیں اپنی نیزے پر ان (دجال) کا خون دکھائے گا۔"
16. احمد (26469)، مسلم (2932)۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص471]
دجال کے نکلنے کی جگہ
حدیث#28
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ (1) بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ، فَيَعِيثُ يَمِينًا وَيَعِيثُ شِمَالًا (2) يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا " (3)
ترجمہ:
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک وہ (دجال) شام اور عراق کے درمیان ایک جگہ(1) سے نکلے گا، پھر وہ دائیں اور بائیں طرف فساد پھیلائے گا۔(2) اے اللہ کے بندو! تم ثابت قدم رہو۔"(3)
---
حواشی وحوالہ جات:
1. الخَلَّة: دو علاقوں یا شہروں کے درمیان کی جگہ۔ (شرح نووی علی مسلم)
2. الْعَيْث: فساد، یا شدید اور تیز فساد۔ (شرح نووی علی مسلم)
3. یہ حدیث سنن ابن ماجہ (4075) اور صحیح مسلم (2937) میں موجود ہے۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج2 ص472]
حواشی وحوالہ جات:
حواشی وحوالہ جات:
- احمد (14997)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
- احمد (23139)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
- الجَهْد: مشقت اور بھوک۔
- احمد (14997)۔
- مسلم (2934)۔
- احمد (14997)۔
- مسلم (2934)۔
- بخاری (3266)۔
- مسلم (2934)۔
- بخاری (3266)۔
- مسلم (2934)۔
- احمد (23386)، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
- مسلم (2934)۔
- احمد (23386)۔
- مسلم (2934)۔
- احمد (14997)۔
- مسلم (2934)۔
- احمد (14997)۔
- (جة) (4077)، دیکھیں صحیح الجامع (7875)، اور کتاب "قصة الدجال" (ص 134)۔
- یعنی: وہ انہیں اپنی عبادت کی دعوت دے گا۔
- مسلم (2937)۔
- ترمذی (2240)، اور کتاب "قصة الدجال" (ص 135)۔
- یعنی: ان کا مویشی جو صبح کو اپنے چراگاہوں کی طرف جاتا ہے، سورج ڈھلنے کے بعد واپس لوٹے گا۔ تحفة الأحوذي (ج6، ص25)۔
- (خَوَاصِرَ) خَاصِرَة کی جمع ہے، اور وہ پہلو کے نیچے کا حصہ ہے، اور اس کا لمبا ہونا پیٹ بھرے ہونے اور زیادہ کھانے کی کنایت ہے۔ تحفة الأحوذي (ج6، ص25)۔
- یہ "دَرّ" (دودھ) کی تفصیل کا نام ہے۔
- (الضُّرُوع) ضَرْع کی جمع ہے: اور وہ تھن ہے، دودھ کی کثرت کی کنایت ہے۔
- (جة) (4077)، مسلم (2937)۔
- یعنی: وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔
- ترمذی (2240)، مسلم (2937)۔
- یعنی: چرنے والا مویشی۔
- (جة) (4077)، دیکھیں کتاب "قصة الدجال" (ص 135)۔
- ترمذی (2240)، مسلم (2937)۔
- یعنی: قحط زدہ۔
- مسلم (2937)۔
- یعنی: ویران زمین کے پاس آئے گا۔
- یعنی: اپنا دفن شدہ (خزانہ) یا اپنے معادن نکال دے۔
- مسلم (2937)، ترمذی (2240)۔
- (جة) (4075)۔
- یعنی: جس طرح شہد کی مکھیاں اپنے بڑے سردار (یعنی شہد کی مکھیوں کے بڑے سربراہ) کی پیروی کرتی ہیں، اور الْيَعْسُوب: مکھیوں کا بڑا سردار ہے، ان کا بڑا ریاستی رہنما ہے۔ تحفة الأحوذي (ج6، ص25)۔
- یعنی: وہ طلب کرے گا۔
- یعنی: وہ اسے ہدف پر تیر مارنے کی طرح (درستی سے) مارے گا، پس اسے دو ٹکڑے کر دے گا۔ تحفة الأحوذي (ج6، ص25)۔
- یعنی: دو ٹکڑے۔
- یعنی: وہ جوان آدمی دجال کی طرف۔
- یعنی: چمکے گا اور روشن ہو جائے گا۔
- یعنی: وہ ہنستا ہوا آئے گا، پس (دجال) کہے گا: یہ کیسے معبود ہو سکتا ہے؟ دیکھیں: مسلم (5228)۔
- مسلم (2937)، ترمذی (2240)۔
- (جة) (4077)، دیکھیں کتاب "قصة الدجال" (ص 134)۔
- احمد (14997)۔
- مسلم(809)، ابو داؤد (4323)، صحیحہ البانی (2651)۔
- ابو داؤد (4323)، مسلم(809)، احمد(21760)
- یعنی: صبح کے وقت۔
- یعنی: اس کے فتنے کی مدت کیا ہوگی۔
- یعنی: جب فجر طلوع ہونے کے بعد اتنا وقت گزر جائے جتنا عام دنوں میں فجر اور ظہر کے درمیان ہوتا ہے، تو تم ظہر کی نماز پڑھ لو، پھر جب اس کے بعد اتنا وقت گزر جائے جتنا عام دنوں میں ظہر اور عصر کے درمیان ہوتا ہے، تو تم عصر کی نماز پڑھ لو، اور جب اس کے بعد اتنا وقت گزر جائے جتنا عام دنوں میں عصر اور مغرب کے درمیان ہوتا ہے، تو تم مغرب کی نماز پڑھ لو، اور اسی طرح عشاء اور صبح کی نماز، پھر ظہر، پھر عصر، پھر مغرب، اور اسی طرح یہ دن گزرتا رہے گا۔ رہا وہ دوسرا دن جو ایک مہینے کے برابر ہوگا، اور تیسرا دن جو ایک ہفتے کے برابر ہوگا، تو پہلے دن کی قیاس پر ان کے لیے بھی اسی طرح وقت کا اندازہ کیا جائے گا جیسا ہم نے ذکر کیا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ (النووي ج9ص327)
- (الْغَيْثِ) یہاں مراد بادل ہے، یعنی: وہ زمین میں اسی تیزی سے چلے گا جیسے بادل چلتے ہیں۔ تحفة الأحوذي - (ج 6 / ص 25)
- یعنی اس کی رفتار کی مقدار اس بادل کی رفتار کی طرح ہوگی جس کے ساتھ ہوا کی ایک لہر ہو، تو وہ اسے ایک دن یا دو دن میں ایک ملک سے دوسرے ملک لے جائے گی۔ (راوی کا قول:) اور یہ ہمارے دور میں مشاہدہ کی جانے والی چیز ہے، اگر تم موسم سرما میں موسمی خبریں سنو تو تم انہیں یہ کہتے ہوئے پاؤ گے کہ ایک ہوا کا دباؤ (مثلاً) قبرص کے اوپر مرتکز ہے اور کل سے شام کے علاقوں پر اس کا اثر شروع ہو جائے گا، پھر اس کے بعد وہ ہوا کا دباؤ عراق منتقل ہو جائے گا، پھر مشرق کی طرف فلاں جانب چلا جائے گا... اور تم کبھی کبھی ٹیلی ویژن کی سکرین پر دیکھتے ہو کہ وہ ہوا کا دباؤ کس طرح ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوتا ہے، پس اگر تم اس مثال کو سامنے رکھو تو کافی حد تک سمجھ سکتے ہو کہ دجال ایک ملک سے دوسرے ملک کیسے منتقل ہوگا، خاص طور پر جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی بھی بستی ایسی نہیں ہے جس میں دجال داخل نہ ہوگا، سوائے مکہ اور مدینہ کے۔‘‘
- مسلم (2937)، ترمذی (2240)۔
- الكبش: بھیڑ یا دنبے کا نر یا نر جانور۔
- (ك) (8612)، دیکھیں کتاب "قصة الدجال" (ص 135)۔
دجال "المسیح الدجال" (جھوٹا مسیح) کہلاتا ہے، جو قیامت کی 10 بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اس کا فتنہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا، جیسا کہ صحیح بخاری (حدیث 3057) میں ہے۔
لفظی معنی: "دجل" (فریب) سے مشتق، کیونکہ یہ حق کو باطل سے ڈھانپے گا۔
2. ظہور سے پہلے کی علامات
دجال کے خروج سے پہلے درج ذیل حالات پیدا ہوں گے:
3 سال قحط:
پہلا سال: آسمان ایک تہائی بارش، زمین ایک تہائی پیداوار روک لے گی۔
دوسرا سال: آسمان دو تہائی بارش، زمین دو تہائی پیداوار روک لے گی۔
تیسرا سال: مکمل خشک سالی، جس سے چوپائے ہلاک ہو جائیں گے۔ زمین "تانبے" اور آسمان "شیشے" کی مانند ہو جائے گا۔ (صحیح مسلم، کتاب الفتن: حدیث 2937)۔
امام مہدی کا دور: دجال امام مہدی کے زمانے میں ظاہر ہوگا۔ جب اس کے نکلنے کی افواہیں اٹھیں گی، امام مہدی تحقیقات کے لیے سوار بھیجیں گے (صحیح بخاری: 7129)۔
3. مقام ظہور
احادیث میں چار مقامات بتائے گئے ہیں، جن کی تطبیق یوں کی گئی ہے:
شام اور عراق کے درمیان گھاٹی (سنن ابی داؤد: 4331)۔
اصفہان (ایران) کا یہودیہ گاؤں، جہاں اس کے 70,000 یہودی پیروکار ہوں گے (صحیح مسلم: 2928)۔
خوز و کرمان (ایران)۔
- خراسان (افغانستان/ایران) (صحیح بخاری: 7131)۔تطبیق: پہلے شام-عراق کی سرحد پر ظاہر ہوگا، پھر اصفہان جائے گا، اور آخر میں خراسان سے خروج کرے گا (کتاب "تحفۃ الالمعی")۔
4. جسمانی خصوصیات
رسول اللہ ﷺ کے خواب اور احادیث میں دجال کا حلیہ یوں بیان ہوا ہے:
آنکھیں: بائیں آنکھ سے کانا، دائیں آنکھ "پھولے ہوئے انگور" جیسی۔ دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر (کافر) لکھا ہوگا، جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا (صحیح بخاری: 7131، صحیح مسلم: 2933)۔
جسم: دراز قد، سرخ رنگت، گھنگھریالے بال، بھاری بھرکم جسم، چوڑی پیشانی (صحیح بخاری: 7129)۔
دیگر علامات: بانجھ (اولاد نہیں ہوگی)، گدھے پر سوار ہوگا جس کے کانوں کا درمیانی فاصلہ 40 ہاتھ ہوگا (صحیح مسلم: 2937)۔
5. فتنے اور شیطانی معجزات
دجال لوگوں کو جھوٹے معجزات سے گمراہ کرے گا:
آسمان سے بارش برسائے گا اور زمین سے سبزہ اگائے گا۔
مردے کو زندہ کرے گا (ایک شخص کو قتل کرکے پھر زندہ کرنا)۔
اس کے پاس "جنت" اور "جہنم" ہوگی، مگر اس کی جنت درحقیقت جہنم ہوگی (صحیح مسلم: 2937)۔
مکہ و مدینہ میں داخلہ ممنوع: فرشتے ننگی تلواروں سے روکیں گے۔ مدینہ کے باہر "دلدلی زمین" میں پڑاؤ کرے گا، جس سے مدینہ میں تین زلزلے آئیں گے اور منافق بھاگ کر اس سے مل جائیں گے (صحیح بخاری: 1881)۔
6. مدت قیام اور انجام
مدت: زمین پر 40 دن رہے گا:
پہلا دن = 1 سال کے برابر۔
دوسرا دن = 1 ماہ کے برابر۔
تیسرا دن = 1 ہفتے کے برابر۔
باقی ایام عام دنوں کی طرح (صحیح مسلم: 2937)۔
اختتام: حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہو کر "مقام لُدّ" (فلسطین) میں دجال کو قتل کریں گے۔ دجال "پانی میں گھلنے والے نمک" کی طرح غائب ہو جائے گا (صحیح مسلم: 2937، سنن ابی داؤد: 4321)۔
7. احتیاطی تدابیر
نبی کریم ﷺ نے دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے یہ طریقے بتائے:
سورۃ الکہف پڑھنا: خصوصاً ابتدائی 10 آیات (صحیح مسلم: 809)۔
دعا: نماز میں پڑھی جانے والی دعا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے) (صحیح بخاری: 6368، صحیح مسلم: 590)۔
مکہ و مدینہ میں سکونت: دجال وہاں داخل نہیں ہو سکے گا (صحیح بخاری: 1881)۔
8. اہم تنبیہ
وقت ظہور: دجال کے عین ظہور کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ احادیث میں کوئی خاص تاریخ نہیں بتائی گئی، البتہ اس سے پہلے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا جیسی بڑی نشانی ظاہر ہوگی (صحیح مسلم: 2941)۔
عقیدہ: جو دجال کے وجود یا خروج کا انکار کرے، وہ کافر ہے: "مَن کَذَّبَ بِالدَّجَّالِ فَقَدْ کَفَرَ" (سنن ابی داؤد: 4331)۔
خلاصہ جدول:
| پہلو | تفصیلات | احادیث کے حوالے |
|---|---|---|
| ظہور سے پہلے | 3 سال قحط، امام مہدی کا دور | صحیح مسلم: 2937 |
| مقام ظہور | شام-عراق سرحد → اصفہان → خراسان | سنن ابی داؤد: 4331 |
| مدت قیام | 40 دن (پہلا دن=1 سال، دوسرا=1 ماہ، تیسرا=1 ہفتہ) | صحیح مسلم: 2937 |
| اختتام | حضرت عیسیٰؑ کے ہاتھوں "مقام لُدّ" میں قتل | صحیح مسلم: 2937 |
| بچاؤ کے طریقے | سورۃ الکہف پڑھنا، نماز میں دعا، مکہ/مدینہ میں سکونت | صحیح بخاری: 6368 |
دجال کے ظہور سے قبل پیش آنے والی تمام نشانیاں احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں بالترتیب درج ذیل ہیں:
۱۔ عام فتنے اور اخلاقی انحطاط
جھوٹ کی کثرت: لوگ سچے گواہوں کو جھٹلائیں گے، جھوٹے گواہی دیں گے (مسند احمد: ۷۹۰۲)۔
امانت داری کا خاتمہ: امانتیں لوٹائی جائیں گی، غداری عام ہوگی (صحیح بخاری: ۶۴۹۶)۔
رشوت خوری کا فروغ: "رِشْوَة" کو "ہدیہ" کا نام دیا جائے گا (سنن ترمذی: ۱۹۴۸)۔
۲۔ قحط سالی اور معاشی تباہی (۳ سال)
پہلا سال: آسمان ۱/۳ بارش روک لے گا، زمین ۱/۳ پیداوار (صحیح مسلم: ۲۹۳۷)۔
دوسرا سال: آسمان ۲/۳ بارش، زمین ۲/۳ پیداوار روکے گی (صحیح ابن حبان: ۶۷۶۴)۔
تیسرا سال: مکمل خشک سالی، تمام جانور مر جائیں گے۔ زمین تانبے اور آسمان پیتل کی طرح ہو جائے گا (صحیح مسلم: ۲۹۳۷)۔
۳۔ بڑی جنگیں اور فسادات
فتنۂ حرہ: مدینہ میں قتلِ عام ہوگا، خون بہے گا (صحیح مسلم: ۲۹۰۵)۔
حجاز میں جنگ: ایک شخص (حسنی) کو قتل کیا جائے گا جس کے خون سے مکہ و مدینہ روشن ہو جائیں گے (الفتن لنعیم بن حماد: ۲۶۴)۔
۴۔ امام مہدی کا ظہور
وقت: ماہِ رمضان میں، مکہ میں ظہور ہوگا (سنن ابی داؤد: ۴۲۸۲)۔
بیعت: لوگ مکہ میں ان سے بیعت کریں گے (مسند احمد: ۱۰۸۹)۔
دجال کی اطلاعات: امام مہدی تحقیقات کے لیے دستے بھیجیں گے (صحیح مسلم: ۲۹۳۷)۔
۵۔ دجال سے براہِ راست متعلقہ علامات
خراسان سے سیاہ پرچموں والی فوج: ۳۰۰ جھوٹے پیدا ہوں گے، سب دجال کے دعویدار ہوں گے (صحیح مسلم: ۲۹۲۸)۔
اصفہان سے ۷۰,۰۰۰ یہودیوں کا خروج: یہ دجال کے پیروکار ہوں گے (صحیح مسلم: ۲۹۴۴)۔
دجال کا پہلا ظہور: شام و عراق کی سرحد پر "جَصّاصہ" نامی گاؤں سے (سنن ابی داؤد: ۴۳۲۰)۔
۶۔ آسمانی علامات
سورج کا مغرب سے طلوع: توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا (صحیح مسلم: ۲۹۴۱)۔
دھوئیں کا ظہور: ۴۰ دن تک زمین پر چھایا رہے گا (صحیح مسلم: ۲۹۴۵)۔
۷۔ دعا اور احتیاط
نبی ﷺ نے فرمایا:
"جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی ۱۰ آیات یاد کیں، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا" (صحیح مسلم: ۸۰۹)۔
خلاصہ جدول:
| مرتبہ | واقعہ | تفصیل | حدیث حوالہ |
|---|---|---|---|
| ۱ | اخلاقی انحطاط | جھوٹ، خیانت، رشوت عام ہوگی | صحیح بخاری: ۶۴۹۶ |
| ۲ | ۳ سالہ قحط | پیداوار و بارش کا بتدریج خاتمہ | صحیح مسلم: ۲۹۳۷ |
| ۳ | جنگیں | حجاز میں قتلِ عام | صحیح مسلم: ۲۹۰۵ |
| ۴ | امام مہدی کا ظہور | مکہ میں ماہِ رمضان | سنن ابی داؤد: ۴۲۸۲ |
| ۵ | دجال کے دعویدار | خراسان سے ۳۰۰ جھوٹے خروج کریں گے | صحیح مسلم: ۲۹۲۸ |
| ۶ | یہودیوں کا خروج | اصفہان سے ۷۰,۰۰۰ دجال کے ساتھ ملیں گے | صحیح مسلم: ۲۹۴۴ |
| ۷ | دجال کا پہلا ظہور | شام-عراق سرحد پر | سنن ابی داؤد: ۴۳۲۰ |
| ۸ | آسمانی نشانیاں | سورج مغرب سے نکلے گا، دھواں چھائے گا | صحیح مسلم: ۲۹۴۱ |
خلاصة حكم المحدث : صحيح
[ صحيح ابن ماجه الصفحة أو الرقم: 3277 المحدث : الألباني]
خلاصة حكم المحدث : صحيح الإسناد
تفسیر سورة طه:١٥-١٦
قیامت اُس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو گروہ آپس میں نہ لڑیں، دونوں میں بڑی جنگ ہوگی اور دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس کے قریب جھوٹے دجال ظاہر نہ ہولیں۔ ہر ایک یہ کہے گا میں اللہ کا رسول ہوں۔
يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ. يَأْتُونَكُمْ مِنَ الأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ. فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ. لَا يُضِلُّونَكُمْ وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ۔
ترجمہ:
آخری زمانہ میں ایسےدجل وفریب دینے والے اور جھوٹے لوگ ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی حدیثیں لائیں گے جنہیں نہ تم نے سنا ہوگا اور نہ تمہارے باپوں نے سنا ہوگا لہٰذا ان سے بچو اور ان کو اپنے آپ سے بچاؤ تاکہ وہ تمہیں نہ گمراہ کریں اور نہ فتنہ میں ڈالیں۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آخر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زہد و تقدس کا پر فریب لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو بہکائیں گے، عوام سے کہیں گے کہ ہم علماء اور مشائخ میں سے ہیں اور تمہیں اللہ کے دین کی طرف بلاتے ہیں، نیز جھوٹی حدیث اپنی طرف سے وضع کر کے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے، یا پچھلے بزرگوں کی طرف غلط باتیں منسوب کر کے لوگوں کو دھوکا دیں گے، باطل احکام بتلائیں گے اور غلط عقیدوں کا بیج لوگوں میں بوئیں گے(چونکہ وہ احادیث اور ان کی فقہ و تشریح ایسی ہونگی جو ہم تک اسلاف سے مسموع یعنی منقول نہ ہوگی)۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اگر وہ ایسے لوگوں کو پائیں تو ان سے بچیں، ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے مکر و فریب سے نیک لوگوں کو فتنہ میں ڈال دیں یعنی شرک و بدعت میں مبتلا کر دیں۔ اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ دین کے حاصل کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے، نیز بدعتی اور ایسے لوگوں کی صحبت سے بچنا چاہئے جو ذاتی اغراض اور نفسانی خواہشات کی بنا پر دین و مذہب کی نام پر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اور ان سے ربط و ضبط نہ رکھنا چاہئے چوں بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہر دستے نباید داد دست
دجال اکبر تو ایک ہوگا، جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر مقام ”لُدّ“ میں قتل کریں گے، مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے جو امت کو گمراہ کرنے میں دجال اکبر کی نمائندگی کی خدمت انجام دیں گے۔
اسی لئے آنحضرت ﷺ نے امت کو اس بات کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ وہ ایسے ایمان کُش راہ زنوں اور دجالوں سے ہوشیار رہے، کیونکہ قرب قیامت میں شیاطین انسانوں کی شکل میں آکر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ اس کامیابی سے اپنی تحریک کو اٹھائیں گے کہ کسی کو ان کے شیطان، دجال یا جھوٹے ہونے کا وہم و گمان بھی نہ گزرے گا۔
چنانچہ علامہ علأ الدین علی متقی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کنزالعمال میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ان انسان نما شیاطین کے دجل و اضلال ،فتنہ پروری کی سازشوں اور دجالی طریقہ کار کا تذکرہ کرتے ہوئے نقل فرمایا ہے کہ:
”أنظروا من تجالسون وَعَن من تأخذون عَنهُ دينكُمْ فَإِن الشَّيَاطِين يتصورون فِي آخر الزَّمَان فِي صُورَة الرِّجَال فَيَقُولُونَ حَدثنَا وَأخْبرنَا فَإِذا جلستم إِلَى رجل فأسألوه عَن اسْمه وَاسم أَبِيه وعشيرته فتفقدونه إِذا غَابَ۔“
ترجمہ:
قطع نظر اس روایت کی سند کے، اس کا نفس مضمون صحیح ہے۔ بہرحال اس روایت میں چند اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے، مثلاً:
۱:… مسلمانوں کو ہر ایرے غیرے اور مجہول انسان کے حلقہ درس میں نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ کسی سے علمی استفادہ کرنے سے قبل اس کی تحقیق کرلینا ضروری ہے کہ یہ آدمی کون ہے؟کیسا ہے؟ کس خاندان اور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے، اس کے اساتذہ کون سے ہیں؟ کس درس گاہ سے اس نے علم حاصل کیا ہے؟ اس کا علم خودرو اور ذاتی مطالعہ کی پیداوار تو نہیں؟ کسی گمراہ، بے دین، ملحد اور مستشرق اساتذہ کا شاگرد تو نہیں؟
۲:… اس شخص کے اعمال و اخلاق کیسے ہیں؟ اس کے ذاتی اور نجی معاملات کیسے ہیں؟ خاندانی پس منظر کیا ہے؟ نیز یہ شعبدہ باز یا دین کے نام پر دنیا کمانے والا تو نہیں؟
۳:… اس کا سلسلہ سند کیا ہے؟ یہ جھوٹا اور مکار تو نہیں؟ یہ جھوٹی اور من گھڑت سندیں تو بیان نہیں کرتا؟ کیونکہ محض سندیں نقل کرنے اور ”اخبرنا“ و” حدثنا“ کہنے سے کوئی آدمی صحیح عالم ربانی نہیں کہلاسکتا، اس لئے کہ بعض اوقات مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کافر و ملحد بھی اس طرح کی اصطلاحات استعمال کیا کرتے ہیں۔
لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ہر مقرر و مدرس ،واعظ یا ”وسیع معلومات“ رکھنے والے ”اسکالر“وڈاکٹر کی بات پر کان دھریں بلکہ اس کے بارہ میں پہلے مکمل تحقیق کرلیا کریں کہ یہ صاحب کون ہیں؟ اور ان کے علم و تحقیق کا حدود اربعہ کیا ہے؟ کہیں یہ منکر حدیث، منکر دین،منکر صحابہ،منکر معجزات، مدعی نبوت یا ان کا چیلہ چانٹا تو نہیں؟ چنانچہ ہمارے دور میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ریڈیو، ٹی وی یا عام اجتماعات میں ایسے لوگوں کو پذیرائی حاصل ہوجاتی ہے جو اپنی چرب زبانی اور ”وسعت معلومات“ اور تُک بندی کی بنا پر مجمع کو مسحور کرلیتے ہیں،جس کی وجہ سے بہت سے لوگ ان کے عقیدت مند ہوجاتے ہیں، ان کے بیانات، دروس اور لیکچر زکا اہتمام کرتے ہیں، ان کی آڈیو، ویڈیو کیسٹیں، سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بنا بناکر دوسروں تک پہنچاتے ہیں، جب ان بے دینوں کا حلقہ بڑھ جاتا ہے اور ان کی شہرت آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے تو وہ کھل کر اپنے کفر وضلال اور باطل و گمراہ کن نظریات کا پرچار شروع کردیتے ہیں، تب عقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو بے دین، ملحد، بلکہ زندیق اور دھریہ تھا اور ہم نے اس کے باطل و گمراہ کن عقائد و نظریات کی اشاعت و ترویج میں اس کا ساتھ دیا اور جتنا لوگ اس کے دام تزویر میں پھنس کر گمراہ ہوئے ہیں، افسوس ! کہ ان کے گمراہ کرنے میں ہمارا مال و دولت اور محنت و مساعی استعمال ہوئی ہے۔ اس روایت میں یہی بتلایا گیا ہے کہ بعد کے پچھتاوے سے پہلے اس کی تحقیق کرلی جائے کہ ہم جس سے علم اور دین سیکھ رہے ہیں یہ انسان ہے یاشیطان؟مسلمان ہے یاملحد؟موٴمن ہے یامرتد؟ تاکہ خود بھی اور دوسرے بھی ایسے شیاطین کی گمراہی سے بچ سکیں۔
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيَّ، يَقُولُ: «يَنْبَغِي أَنْ يُدْفَعَ هَذَا الْحَدِيثُ إِلَى الْمُؤَدِّبِ، حَتَّى يُعَلِّمَهُ الصِّبْيَانَ فِي الْكُتَّابِ»
ترجمہ:
حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو خطبہ سنایا تو بڑا خطبہ آپ کا دجال سے متعلق تھا آپ نے دجال کا حال ہم سے بیان کیا اور ہم کو اس سے ڈرایا تو فرمایا: کوئی فتنہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو پیدا کیا زمین دجال کے فتنے سے بڑھ کر نہیں ہوا، اور اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو۔ اور میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور تم آخر میں ہو سب امتوں سے، اور دجال تمہی لوگوں میں ضرور پیدا ہوگا، پھر اگر وہ نکلے اور میں تم میں موجود ہوں تو میں ہر مسلمان کی طرف سے حجت کروں گا۔ دجال کا فتنہ ایسا بڑا ہوگا کہ اگر میرے سامنے نکلے تو مجھ کو اس سے بحث کرنا پڑے گی اور کوئی شخص اس کام کے لیے کافی نہ ہوگا، اور اگر میرے بعد نکلا تو ہر شخص اپنی ذات کی طرف سے حجت کرلے اور اللہ میرا خلیفہ ہے ہر مسلمان پر۔ دیکھو دجال نکلے گا خلہ سے جو شام اور عراق کے درمیان ہے (خلہ کہتے ہیں راہ کو) پھر فساد پھیلا دے گا بائیں طرف (ملکوں میں) اے اللہ کے بندو! جمے رہنا ایمان پر کیونکہ میں تم سے اس کی ایسی صفت بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی (پس اس صفت سے تم خوب اس کو پہچان لوگے) پہلے تو وہ کہے گا میں نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے پھر دوبارہ کہے گا میں تمہارا رب ہوں اور دیکھو تم اپنے رب کو مرنے تک نہیں دیکھ سکتے اور ایک بات اور ہے وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہوگا کافر۔ اس کو ہر ایک مومن (بقدر الٰہی) پڑھ لے گا خواہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو اور اس کا فتنہ ہوگا کہ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی لیکن اس کی جنت دوزخ ہے اور اس کی دوزخ جنت ہے پس جو کوئی اس کی دوزخ میں ڈالا جائے گا (اور وہ سچے مومنوں کو دوزخ میں ڈالنے کا حکم دے گا) وہ اللہ سے فریاد کرے اور سورت الکہف کے شروع کی (دس) آیتیں پڑھے اور وہ دوزخ اللہ کے حکم سے اس پر ٹھنڈی ہوجائے گی اور سلامتی جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ ٹھنڈی ہوگئی اور اس کا فتنہ یہ بھی ہوگا کہ ایک گنوار دیہاتی سے کہے گا دیکھ اگر میں تیرے ماں باپ کو زندہ کروں جب تو مجھ کو اپنا رب کہے گا ؟ وہ کہے گا بیشک پھر وہ شیطان دجال کے حکم سے اس کے ماں باپ کی صورت بن کر آئیں گے اور کہیں گے بیٹا اس کی اطاعت کر یہ تیرا رب ہے (معاذ اللہ)۔ اور ایک فتنہ اس کا یہ بھی ہوگا کہ آدمی پر غالب ہو کر اس کو مار ڈالے گا بلکہ آری سے چیر کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا پھر (اپنے معتقدوں سے) کہے گا دیکھو میں اپنے اس بندے کو اب زندہ کرتا ہوں۔ اب بھی وہ یہ کہے گا کہ میرا رب اور کوئی ہے سوا میرے؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کو زندہ کر دے گا۔ اس سے دجال خبیث کہے گا: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہے گا: میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن ہے، تو دجال ہے، قسم اللہ کی آج تو مجھے خوب معلوم ہوا کہ تو دجال ہی ہے۔ ابوالحسن علی بن محمد طنافسی نے کہا (جو شیخ ہیں ابن ماجہ کے اس حدیث میں) ہم سے عبیداللہ بن ولید وصافی نے بیان کیا انہوں نے عطیہ سے روایت کی۔ انہوں نے ابوسعید خدری (رض) سے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اس مرد کا درجہ میری امت میں سب سے بلند ہوگا جنت میں۔ اور ابوسعید نے کہا: قسم اللہ کی ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ یہ مرد جو دجال سے ایسا مقابلہ کریں گے کوئی نہیں ہے سوائے حضرت عمر کے۔ یہاں تک کہ حضرت عمر گزر گئے۔ محاربی نے کہا اب پھر ہم ابوامامہ کی حدیث کو جس کو ابورافع نے روایت کیا بیان کرتے ہیں (کیونکہ ابوسعید کی حدیث درمیان میں اس مرد کے ذکر پر آگئی تھی۔ اخیر دجال کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ آسمان کو حکم کرے گا پانی برسانے کے لیے تو پانی بر سے گا اور زمین کو حکم کرے غلہ اگانے کا وہ غلہ اگائے گی اور اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ ایک قبیلے پر سے گزرے گا۔ وہ لوگ اس کو سچا کہیں گے تو وہ آسمان کو حکم کرے گا غلہ اور گھاس اگانے کا تو وہ اگ آئے گی یہاں تک ان کے جانور اسی دن شام کو نہایت موٹے اور بڑے اور کھوکھیں بھری ہوئی اور تھن دودھ سے پھولے ہوئے آئیں گے (ایک دن میں یہ سب باتیں ہوجائیں گی پانی بہت برسنا چارہ بہت پیدا ہونا جانوروں کا اس کو کھا کر تیار ہوجانا ان کے تھن دودھ سے بھر جانا معاذ اللہ کیا بڑا فتنہ ہوگا) ۔ غرض دنیا میں کوئی ٹکڑا زمین کا باقی نہ رہے گا جہاں دجال نہ جائے گا اور اس پر غالب نہ ہوگا سوائے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے ان دونوں شہر میں جس راہ میں آئے گا اس کو فرشتے ملیں گے ننگی تلواریں لیے ہوئے یہاں تک کہ دجال اتر پڑے گا چھوٹی لال پہاڑی کے پاس جہاں کھاری تر زمین ختم ہوئی ہے اور مدینہ میں تین بار زلزلہ آئے گا (یعنی مدینہ اپنے لوگوں کو لے کر تین بار حرکت کرے گا) تو جو منافق مرد یا منافق عورت مدینہ میں ہوں گے وہ دجال کے پاس چلے جائیں گے اور مدینہ پلیدی کو اپنے میں سے دور کر دے گا جیسے بھٹی لوہے کا میل دور کردیتی ہے اس دن کا نام یوم الخلاص ہوگا (یعنی چھٹکارے کا دن) ام شریک بنت ابوعکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! عرب کے لوگ اس دن کہاں ہوں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عرب کے لوگ (مومن مخلصین) اس دن کم ہوں گے اور دجال کے ساتھ بیشمار لوگ ہوں گے ان کو لڑنے کی طاقت نہ ہوگی) اور ان عرب (مومنین میں سے اکثر لوگ (اس وقت) بیت المقدس میں ہوں گے انکا امام ایک نیک شخص ہوگا یا آپ کے نائب ایک روز انکا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھنا چاہے گا اتنے میں حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) صبح کے وقت اتریں گے تو یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ دیں گے پھر اس سے کہیں گے تو ہی آگے بڑھ اور نماز پڑھا اس لیے کہ یہ نماز تیرے ہی لیے قائم ہوئی تھی (یعنی تکبیر تیری ہی امانت کی نیت سے ہوئی تھی) خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا جب نماز سے فارغ ہوگا حضرت عیسیٰ (مسلمانوں سے) فرمائیں گے (جو قلعہ یا شہر میں محصور ہوں گے اور دجال ان کو گھیرے ہوگا) دروازہ قلعہ کا یا شہر کا کھول دو ۔ دروازہ کھول دیا جائے گا وہاں پر دجال ہوگا ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ جن میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہوگی اس کے زیور کے ساتھ اور چادر ہوگی جب دجال حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو ایسا گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا اور بھاگے گا اور حضرت عیسیٰ فرمائیں گے میری ایک مار تجھ کو کھانا ہے تو اس سے بچ نہ سکے آخر باب لد کے پاس جو مشرق کی طرف ہے اس کو پائیں گے اور اس کو قتل کریں گے پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا (یہود مردود دجال کے پیدا ہوتے ہی اس کے ساتھ ہوجائیں گے اور کہیں گے یہی سچا مسیح ہے جس کے آنے کا وعدہ اگلے نبیوں نے کیا تھا اور چونکہ یہود مردود حضرت عیسیٰ کے دشمن تھے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس لیے مسلمانوں کی ضد اور عداوت سے بھی اور دجال کے ساتھ ہوجائیں گے دوسری روایت میں ہے کہ اصفہان کے یہود میں سے ستر ہزار یہودی دجال کے پیرو ہوجائیں گے) خیر یہ حال ہوجائے گا کہ یہودی اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے جس چیز کی آڑ میں چھپے گا اس چیز کو اللہ بولنے کی طاقت دے گا پتھر ہو یا درخت یا دیوار یا جانور سو ایک درخت کے جس کو غرقد کہتے ہیں وہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے) وہ یہودیوں کا درخت ہے (یہود اس کو بہت لگاتے ہیں اور اس کی تعظیم کرتے ہیں) نہیں بولے گا تو یہ چیز (جس کی آڑ میں یہودی چھپے گا) کہے گی اے اللہ کے مسلمان بندے یہ یہودی ہے تو آ اور اس کو مار ڈال اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دجال ایک چالیس برس تک رہے گا لیکن ایک برس چھ مہینے کے برابر ہوگا اور ایک برس ایک مہینے کے برابر ہوگا اور ایک مہینہ ایک ہفتہ کے برابر اور اخیر دن دجال کے ایسے ہوں گے جیسے چنگاری اڑتی جاتی ہے (ہوا میں) تم میں سے کوئی صبح کو مدینہ کے ایک دروازے پر ہوگا پھر دوسرے دروازہ پر نہ پہنچے گا کہ شام ہوجائے گی۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم ان چھوٹے دنوں میں نماز کیونکر پڑھیں آپ نے فرمایا اندازہ سے نماز پڑھ لینا جیسے لمبے دنوں میں اندازہ کرتے ہو اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حضرت عیسیٰ میری امت میں ایک عادل حاکم اور منصف امام ہوں گے اور صلیب کو جو نصاری لٹکائے رہتے ہیں) توڑ ڈالیں گے۔ اور سور کو مار ڈالیں گے اس کا کھانا بند کرا دیں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے (بلکہ کہیں گے کافروں سے یا مسلمان ہوجاؤ یا قتل ہونا قبول کرو اور بعضوں نے کہا جزیہ لینا اس وجہ سے بند کردیں گے کہ کوئی فقیر نہ ہوگا۔ سب مالدار ہوں گے پھر جزیہ کن لوگوں کے واسطے لیا جائے اور بعضوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ جزیہ مقرر کردیں گے سب کافروں پر یعنی لڑائی موقوف ہوجائے گی اور کافر جزئیے پر راضی ہوجائیں گے اور صدقہ (زکوہ لینا) موقوف کردیں گے تو نہ بکریوں پر نہ اونٹوں پر کوئی زکوۃ لینے والا مقرر کریں گے اور آپس میں لوگوں کے کینہ اور بغض اٹھ جائے گا اور ہر ایک زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا۔ یہاں تک کہ بچہ اپنا ہاتھ سانپ کے منہ میں دے دے گا وہ کچھ نقصان نہ پہنچائے گا اور ایک چھوٹی بچی شیر کو بھگا دے گی وہ اس کو ضرر نہ پہنچائے گا اور بھیڑ یا بکریوں میں اس طرح رہے گا جیسے کتا، جو ان میں رہتا ہے اور زمین صلح سے بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھرجاتا ہے اور سب لوگوں کا کلمہ ایک ہوجائے گا سوائے اللہ کے کسی کی پرستش نہ ہوگی (تو سب کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھیں گے) اور لڑائی اپنے سب سامان ڈال دے گی۔ یعنی ہتھیار اور آلات اتار کر رکھ دیں گے مطلب یہ ہے کہ لڑائی دنیا سے اٹھ جائے گی اور قریش کی سلطنت جاتی رہے گی اور زمین کا یہ حال ہوگا کہ جیسے چاندی کی سینی (طشت) وہ اپنا میوہ ایسے آگائے گی جیسے آدم کے عہد میں اگاتی تھی۔ (یعنی شروع زمانہ میں جب زمین میں بہت قوت تھی) یہاں تک کہ کئی آدمی انگور کے ایک خوشے پر جمع ہوں گے اور سب سیر ہوجائیں گے (اتنے بڑے انگور ہوں گے) اور کئی کئی آدمی انگور کے ایک خوشے پر جمع ہوں گے اور سب سیر ہوجائیں گے اور بیل اس قدر داموں سے بکے گا (کیونکہ لوگوں کی زراعت کی طرف توجہ ہوگی تو بیل مہنگا ہوگا) اور گھوڑا تو چند روپوں میں بکے گا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑا کیوں سستا ہوگا۔ آپ نے فرمایا اس لیے کہ لڑائی کے لیے کوئی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا پھر لوگوں نے عرض کیا بیل کیوں مہنگا ہوگا۔ آپ نے فرمایا ساری زمین میں کھیتی ہوگی اور دجال کے نکلنے سے تین برس پہلے قحط ہوگا ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے پہلے سال میں اللہ تعالیٰ یہ حکم کرے گا آسمان کو کہ دو تہائی بارش روک لے اور زمین کو یہ حکم کرے گا کہ تہائی پیداوار روک لے پھر تیسرے سال میں اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم کرے گا کہ بالکل پانی نہ برسائے ایک قطرہ بارش نہ ہوگا اور زمین کو یہ حکم ہوگا کہ ایک دانہ نہ اگائے تو گھاس تک نہ اگے گی نہ کوئی سبزی آخر گھر والا جانور (جیسے گائے بکری) تو کوئی باقی نہ رہے گا سب مرجائیں گے مگر جو اللہ چاہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر لوگ کیسے جئیں گے اس زمانہ میں آپ نے فرمایا جو لوگ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اور اللَّهُ أَکْبَرُ اور سُبْحَانَ اللَّهِ اور الْحَمْدُ لِلَّهِ کہیں گے ان کو کھانے کی حاجت نہ رہے گی (یہ تسبیح اور تہلیل کھانے کے قائم مقام ہوگی) حافظ ابوعبداللہ ابن ماجہ نے کہا میں نے (اپنے شیخ) ابوالحسن طنافسی سے سنا وہ کہتے تھے میں نے عبدالرحمن محاربی سے سنا وہ کہتے تھے یہ حدیث تو اس لائق ہے کہ مکتب کے استاد کو دے دی جائے وہ بچوں کو مکتب میں سکھلائے۔
[ابن ماجہ:4077، حاکم:8620]
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ عَفَازَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَقِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى، وَعِيسَى "، قَالَ: " فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ، فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا، فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا، فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى عِيسَى، فَقَالَ : أَمَّا وَجْبَتُهَا، فَلَا يَعْلَمُهَا أَحَدٌ إِلَّا اللهُ، ذَلِكَ وَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ، قَالَ: وَمَعِي قَضِيبَينِ ، فَإِذَا رَآنِي، ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ، قَالَ: فَيُهْلِكُهُ اللهُ، حَتَّى إِنَّ الْحَجَرَ، وَالشَّجَرَ لَيَقُولُ: يَا مُسْلِمُ، إِنَّ تَحْتِي كَافِرًا، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، قَالَ: فَيُهْلِكُهُمُ اللهُ، ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ وَأَوْطَانِهِمْ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ، وَمَأْجُوجُ، وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَيَطَئُونَ بِلَادَهُمْ، لَا يَأْتُونَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَهْلَكُوهُ، وَلَا يَمُرُّونَ عَلَى مَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ، ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَيَّ فَيَشْكُونَهُمْ، فَأَدْعُو اللهَ عَلَيْهِمْ، فَيُهْلِكُهُمُ اللهُ وَيُمِيتُهُمْ، حَتَّى تَجْوَى الْأَرْضُ مِنْ نَتْنِ رِيحِهِمْ، قَالَ: فَيُنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ، فَتَجْرُفُ أَجْسَادَهُمْ حَتَّى يَقْذِفَهُمْ فِي الْبَحْرِ " قَالَ أَبِي: " ذَهَبَ عَلَيَّ هَاهُنَا شَيْءٌ لَمْ أَفْهَمْهُ، كَأَدِيمٍ "، وَقَالَ يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ: " ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ، وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ " ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ، قَالَ: " فَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ: أَنَّ ذَلِكَ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ، فَإِنَّ السَّاعَةَ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ، الَّتِي لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَؤُهُمْ بِوِلَادَتِهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا "۔
حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: شب معراج میری ملاقات حضرت ابراہیم، موسی اور عیسی علیہ السلام سے ہوئی، انہوں نے قیامت کا تذکرہ چھیڑ دیا اور یہ معاملہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا، انہوں نے فرمایا کہ مجھے تو اس کا کچھ علم نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ معاملہ حضرت موسی علیہ السلام کے سامنے پیش کیا، انہوں نے بھی فرمایا کہ مجھے بھی اس کا کچھ علم نہیں ہے، پھر یہ معاملہ حضرت عیسی علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا حقیقی علم تو اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے، البتہ میرے پروردگار نے مجھے یہ بتا رکھا ہے کہ قیامت کے قریب دجال کا خروج ہوگا، میرے پاس دو شاخیں ہوں گی، دجال مجھے دیکھتے ہی اس طرح پگھلنا شروع ہو جائے گا جیسے قلعی پگھل جاتی ہے، اس کے بعد اللہ اسے ختم کروا دے گا، یہاں تک کہ شجر و حجر پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مسلم! یہ میرے نیچے کافر چھپا ہوا ہے، آکر اسے قتل کر، یوں اللہ ان سب کو بھی ختم کروا دے گا۔ پھر لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کو لوٹ جائیں گے، اس وقت یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جو ہر بلندی سے پھسلتے ہوئے محسوس ہوں گے، وہ تمام شہروں کو روند ڈالیں گے، میں اللہ سے ان کے خلاف بد دعاء کروں گا، تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کر دے گا یہاں تک کہ ساری زمین ان کی بدبو سے بھر جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائیں گے جو ان کے جسموں کو بہا کر لے جائے گی اور سمندر میں پھینک دے گی، (میرے والد صاحب کہتے ہیں کہ یہاں کچھ رہ گیا ہے جو میں سمجھ نہیں سکا، بہرحال دوسرے راوی کہتے ہیں ) اس کے بعد پہاڑوں کو گرا دیا جائے گا اور زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ دیا جائے گا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ جب یہ واقعات پیش آجائیں تو قیامت کی مثال اس امید والی اونٹنی کی ہوگی جس کی مدت حمل پوری ہوچکی ہو اور اس کے مالک کو معلوم نہ ہو کہ کب اچانک ہی اس کے یہاں دن یا رات میں بچہ پیدا ہوجائے۔
[مسند احمد (3556) وأخرجه ابن أبي شيبة 15/157-158، وابن ماجه (4081) ، وأبو يعلى (5294) ، والشاشي (845) و (847) و (848) ، والحاكم 4/488-489، و545-546، من طرق عن يزيد بن هارون، عن العوام، به، موقوفاً، وعندهم قال العوام: فوجدت تصديق ذلك في كتاب الله تعالى: (حتى إذا فتحت يأجوج ومأجوج وهم من كل حَدَب ينسلون) ، قال البوصيري في "مصباح الزجاجة" 4/202: هذا إسناد صحيح رجاله ثقات، مؤثر بن عفازة ذكره ابن حبان في "الثقات"، وباقي رجال الإسناد ثقات، وقال الحاكم: هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، ووافقه الذهبي!
وأخرجه الطبري 17/91 أيضاً من طريق أصبغ بن زيد، عن العوام، به، مرفوعاً.
ويشهد لبعض هذا الحديث وهو إهلاك يأجوج ومأجوج بعد مقتل الدجال ما أخرجه مسلم (2937) (110) من حديث النواس بن سمعان مطولاً في ذكر أشراط الساعة، لكن يخالف ما عند مسلم في الحديث المذكور أن الله يرسل على يأجوج ومأجوج طيراً كأعناق البخت، فتحملهم، فتطرحهم حيث شاء الله.
وقوله بعد ذلك: "ثم تنسف الجبال وتمد الأرض مد الأديم" يخالف ما هو معروف أن ذلك يكون حين قيام الساعة لا قبلها.
قال السندي: قوله: "فردوا أمرهم إلى إبراهيم": لكونه أفضلهم ولأنه أب لهم.
قوله: "أما وجبتها"، أي: وقوعها، بمعنى: أنه متى يكون؟
قضيبين: تثنية قضيب، وهو السيف الدقيق.
فيهلكه الله، أي: ومن معه من الكفرة.
من كل حَدَب: مرتفع من الأرض.
ينسلون: يسرعون.
حتى تجوى الأرض: في "النهاية": يقال: جَوِيَ، يجوى: إذا أنتن.]
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: أَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ لِنَعْرِضَ عَلَيْهِ مُصْحَفًا لَنَا عَلَى مُصْحَفِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْجُمُعَةُ أَمَرَنَا فَاغْتَسَلْنَا، ثُمَّ أُتِينَا بِطِيبٍ فَتَطَيَّبْنَا، ثُمَّ جِئْنَا الْمَسْجِدَ، فَجَلَسْنَا إِلَى رَجُلٍ، فَحَدَّثَنَا عَنِ الدَّجَّالِ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَجَلَسْنَا، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَكُونُ لِلْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةُ أَمْصَارٍ: مِصْرٌ بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ، وَمِصْرٌ بِالْحِيرَةِ، وَمِصْرٌ بِالشَّامِ، فَيَفْزَعُ النَّاسُ ثَلَاثَ فَزَعَاتٍ، فَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أَعْرَاضِ النَّاسِ، فَيَهْزِمُ مَنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، فَأَوَّلُ مِصْرٍ يَرِدُهُ الْمِصْرُ الَّذِي بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ، فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ تَقُولُ: نُشَامُّهُ، نَنْظُرُ مَا هُوَ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بالْأَعْرَابِ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ، وَمَعَ الدَّجَّالِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ، وَأَكْثَرُ تَبَعِهِ الْيَهُودُ وَالنِّسَاءُ، ثُمَّ يَأْتِي الْمِصْرَ الَّذِي يَلِيهِ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ تَقُولُ: نُشَامُّهُ وَنَنْظُرُ مَا هُوَ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بالْأَعْرَابِ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ بِغَرْبِيِّ الشَّامِ، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَقَبَةِ أَفِيقٍ، فَيَبْعَثُونَ سَرْحًا لَهُمْ، فَيُصَابُ سَرْحُهُمْ، فَيَشْتَدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، وَتُصِيبُهُمْ مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ، وَجَهْدٌ شَدِيدٌ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُحْرِقُ وَتَرَ قَوْسِهِ فَيَأْكُلُهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّحَرِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَاكُمُ الْغَوْثُ، ثَلَاثًا، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: إِنَّ هَذَا لَصَوْتُ رَجُلٍ شَبْعَانَ، وَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَيَقُولُ لَهُ أَمِيرُهُمْ: يا رُوحَ اللهِ، تَقَدَّمْ صَلِّ، فَيَقُولُ هَذِهِ الْأُمَّةُ أُمَرَاءُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَيَتَقَدَّمُ أَمِيرُهُمْ فَيُصَلِّي، فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ، أَخَذَ عِيسَى حَرْبَتَهُ، فَيَذْهَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ، فَإِذَا رَآهُ الدَّجَّالُ، ذَابَ، كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ، فَيَضَعُ حَرْبَتَهُ بَيْنَ ثَنْدُوَتِهِ، فَيَقْتُلُهُ وَيَنْهَزِمُ أَصْحَابُهُ، فَلَيْسَ يَوْمَئِذٍ شَيْءٌ يُوَارِي مِنْهُمْ أَحَدًا، حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ لَتَقُولُ يَا مُؤْمِنُ، هَذَا كَافِرٌ وَيَقُولُ الْحَجَرُ يَا مُؤْمِنُ هَذَا كَافِرٌ "۔
ابو نضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ہم لوگ حضرت عثمان بن ابی العاصؓ کے پاس آئے تاکہ مصحف کا ان کے مصحف کے ساتھ تقابل کر سکیں ؟ جب جمعہ کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے غسل کیا، پھر ہمارے پاس خوشبو لائی گئی، جو ہم نے لگالی، پھر ہم مسجد میں آکر ایک آدمی کے پاس بیٹھ گئے، اس نے ہمیں دجال کے متعلق حدیث سنانا شروع کر دیں، اسی اثناء میں حضرت عثمان بن ابی العاصؓ بھی آگئے، ہم ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے، انہوں نے ہمیں بیٹھنے کے لئے کہا اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے، ایک شہر دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، ایک حیرہ میں اور ایک شام میں ۔ لوگوں پر تین مرتبہ خوف وہراس کے واقعات پیش آئیں گے، پھر دجال کا خروج ہوجائے گا اور وہ اہل مشرق کو شکست دے دے گا، پھر سب سے پہلے وہ اس شہر پر حملہ کرے گا جو دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، وہاں کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے، ایک فرقہ تو کھڑا ہوگا اور کہے گا کہ ہم اس کے پاس جا کر دیکھتے ہیں کہ وہ ہے کیا؟ دوسرا گروہ دیہاتیوں میں جا ملے گا اور تیسرا گروہ قریب کے شہر میں منتقل ہو جائے گا، اس وقت دجال کی معیت میں ستر ہزار افراد ہوں گے جنہوں نے سبز چادریں اوڑھ رکھی ہوں گی اور اس کے اکثر پیروکار یہودی اور عورتیں ہوں گی۔ پھر وہ دوسرے شہر کا رخ کرے گا تو وہاں کے لوگ بھی اسی طرح تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ( جیسا کہ ابھی گذرا) اس طرح مسلمان سمٹ کر افیق نامی گھاٹی میں جمع ہو جائیں گے، پھر وہ اپنا ایک دستہ مقابلہ کے لئے بھیجیں گے لیکن وہ سب شہید ہو جائیں گے، اس وقت مسلمان بڑی سختی کا شکار ہوں گے، انہیں شدید بھوک اور انتہائی پریشانی کا سامنا ہوگا حتی کہ ایک آدمی اپنی کمان کی تانت جلا کر اسے کھانے لگے گا۔ ابھی وہ انہی حالات میں ہوں گے کہ ایک دن صبح کے وقت ایک منادی آواز لگائے گا اے لوگو! تمہارے پاس فریاد رس آپہنچا، لوگ آپس میں کہیں گے کہ یہ تو کسی پیٹ بھرے ہوئے آدمی کی آواز ہے، اسی وقت نماز فجر کے قریب حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا، مسلمانوں کا امیر (امام مہدیؓ) ان سے درخواست کرے گا کہ اے روح اللہ! آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے، وہ فرمائیں گے کہ اس امت کے لوگ ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں ، لہذا ان کا امیر ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے۔ جب حضرت عیسی علیہ السلام نماز سے فارغ ہوں گے تو اپنا نیزہ لے کر دجال کی طرف روانہ ہوں گے، دجال جب انہیں دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، حضرت عیسی علیہ السلام اپنا نیزہ اس کی چھاتیوں کے درمیان ماریں گے اور اسے قتل کر ڈالیں گے، اس کے پیروکار (شکست کھا جائیں گے اور اس دن کوئی چیز ایسی نہ ہوگی جو انہیں اپنے پیچھے چھپالے، حتی کہ درخت بھی کہے گا کہ اے مومن! یہ کافر ہے اور پتھر بھی کہیں گے کہ اے مومن! یہ کافر ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
وأخرجه الحاكم في "المستدرك" 4/478 من طريق سعيد بن هبيرة، عن حماد بن زيد، عن أيوب السختياني وعلي بن زيد بن جدعان، به. وقال: هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم بذكر أيوب السختياني ولم يخرجاه.]
دجال کے بارے میں کتب احادیث میں باقاعدہ ابواب موجود ہیں۔ آپ جو بھی حدیث کی کتاب اٹھائیں گے اس میں دجال کا ذکر ضرور آئے گا۔ علامات قیامت میں ذکر آئے گا یا پھر الگ سے باب بھی ہو سکتا ہے۔ چند حوالہ جات درج ذیل ہیں۔
1. بخاری، الصحیح، 6 : 2606، باب ذکر الدجال، دار ابن کثیر الیمامۃ بیروت
2. مسلم، الصحیح، 1 : 154، باب ذکر المسیح بن مریم والمسیح الدجال، دار احیاء التراث العربی بیروت
3. ابی داؤد، السنن، 4 : 115، باب خروج الدجال، دار الفکر
4. ترمذی، السنن، 4 : 507 سے 515، باب ما جاء فی الدجال سے باب ما جاء فی قتل عیسی بن مریم الدجال، دار احیاء التراث العربی بیروت
5. ابن ماجہ، السنن، 2 : 1353، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسی بن مریم وخرج یاجوج وماجوج، دار الفکر بیروت
6. عبد الرزاق، المصنف، 11 : 389، باب الدجال، المکتب الاسلامی بیروت
ان کے علاوہ مسند احمد بن حنبل، مؤطا امام مالک، سنن نسائی الکبری، المستدرک علی الصحیحین امام حاکم، صحیح ابن حبان سنن البیھقی الکبری، مسند ابی عوانۃ، مصنف ابن ابی شیبۃ، مسند ابی یعلی، مسند اسحاق بن راہویہ، مسند البزار، مسند ابن ابی شیبۃ، المعجم الکبیر، المعجم الصغیر اور المعجم الاوسط طبرانی میں بھی دجال کے بارے میں احادیث بیان کی گئی ہیں۔
اور ان میں سے اکثر احادیث صحیح ہیں ،جن کا انکار ایک منکر حدیث ہی کر سکتا ہے۔
جن میں اس کے حلیہ، اس کے دعویٰ اور اس کے فتنہ و فساد پھیلانے کی تفصیل ذکر کی گئی ہے، چند احادیث کا خلاصہ درج ذیل ہے:
۱:…رنگ سرخ، جسم بھاری بھرکم، قد پستہ، سر کے بال نہایت خمیدہ الجھے ہوئے، ایک آنکھ بالکل سپاٹ، دوسری عیب دار، پیشانی پر “ک، ف، ر” یعنی “کافر” کا لفظ لکھا ہوگا جسے ہر خواندہ و ناخواندہ موٴمن پڑھ سکے گا۔
۲:…پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا اور پھر ترقی کرکے خدائی کا مدعی ہوگا۔
۳:…اس کا ابتدائی خروج اصفہان خراسان سے ہوگا اور عراق و شام کے درمیان راستہ میں اعلانیہ دعوت دے گا۔
۴:…گدھے پر سوار ہوگا، ستر ہزار یہودی اس کی فوج میں ہوں گے۔
۵:…آندھی کی طرح چلے گا اور مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ اور بیت المقدس کے علاوہ ساری زمین میں گھومے پھرے گا۔
۶:…مدینہ میں جانے کی غرض سے احد پہاڑ کے پیچھے ڈیرہ ڈالے گا، مگر خدا کے فرشتے اسے مدینہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے، وہاں سے ملک شام کا رخ کرے گا اور وہاں جاکر ہلاک ہوگا۔
۷:…اس دوران مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے اور مدینہ طیبہ میں جتنے منافق ہوں گے وہ گھبراکر باہر نکلیں گے اور دجال سے جاملیں گے۔
۸:…جب بیت المقدس کے قریب پہنچے گا تو اہل اسلام اس کے مقابلہ میں نکلیں گے اور دجال کی فوج ان کا محاصرہ کرلے گی۔
۹:…مسلمان بیت المقدس میں محصور ہوجائیں گے اور اس محاصرہ میں ان کو سخت ابتلا پیش آئے گا۔
۱۰:…ایک دن صبح کے وقت آواز آئے گی: “تمہارے پاس مدد آپہنچی!” مسلمان یہ آواز سن کر کہیں گے کہ: “مدد کہاں سے آسکتی ہے؟ یہ کسی پیٹ بھرے کی آواز ہے۔
۱۱:…عین اس وقت جبکہ فجر کی نماز کی اقامت ہوچکی ہوگی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے شرقی منارہ کے پاس نزول فرمائیں گے۔
۱۲:…ان کی تشریف آوری پر امام مہدی (جو مصلّے پر جاچکے ہوں گے) پیچھے ہٹ جائیں گے اور ان سے امامت کی درخواست کریں گے، مگر آپ امام مہدی کو حکم فرمائیں گے کہ نماز پڑھائیں کیونکہ اس نماز کی اقامت آپ کے لئے ہوئی ہے۔
۱۳:…نماز سے فارغ ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دروازہ کھولنے کا حکم دیں گے، آپ کے ہاتھ میں اس وقت ایک چھوٹا سا نیزہ ہوگا، دجال آپ کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔ آپ اس سے فرمائیں گے کہ: اللہ تعالیٰ نے میری ایک ضرب تیرے لئے لکھ رکھی ہے، جس سے تو بچ نہیں سکتا! دجال بھاگنے لگے گا، مگر آپ “بابِ لُدّ” کے پاس اس کو جالیں گے اور نیزے سے اس کو ہلاک کردیں گے اور اس کا نیزے پر لگا ہوا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔
۱۴:…اس وقت اہل اسلام اور دجال کی فوج میں مقابلہ ہوگا، دجالی فوج تہہ تیغ ہوجائے گی اور شجر و حجر پکار اٹھیں گے کہ: “اے موٴمن! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، اس کو قتل کر۔”
یہ دجال کا مختصر سا احوال ہے، احادیث شریفہ میں اس کی بہت سی تفصیلات بیان فرمائی گئی ہیں۔
مسیح دجال کا خروج مشرق کی جانب سے ہوگا ، وہ نکلنے کے بعد زمین میں ہر ایک شہر اوربستی میں جاۓ گا لیکن وہ مکہ اور مدینہ اور مسجد اقصی اور مسجد طور میں داخل نہیں ہو سکتا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں اس کا تذکرہ موجود ہے ۔
ابو بکر صدیقؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں حدیث بیان کرتے ہوۓ فرمایا:
(دجال کا ظہور مشرقی جانب کے ایک شہر خراسان سے نکلے گا )
علامہ البانیؒ نے صحیح ترمذی میں اس حدیث کوصحیح قراردیا ہے ۔
انس بن مالکؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :
اور امام مسلمؒ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث روایت بیان کی ہے جس میں تمیم داریؓ اور جساسۃ کا قصہ بیان کیا گیا ہے کہ دجال نے انہیں یہ کہا کہ :
( قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دی جاۓ تو میں نکلنے کے بعد چالیس دن میں کوئ ایسی بستی نہیں ہو گی جس میں داخل نہ ہو جاؤں لیکن مکہ اور طیبہ – یعنی مدینہ – میں داخل نہیں ہوسکوں گا کیونکہ وہ دونوں مجھ پرحرام ہیں ، جب بھی میں ان میں سے کسی ایک میں جانے کی کوشش کروں گا تومیرا استقبال ایک ایسا فرشتہ کرے گا جس نے ھاتھ میں ننگی تلوار سونت رکھی ہوگی اور وہ مجھے اس میں داخل ہونے سے روک دے گا ، اور اس کے ہر راستے پر فرشتے پہرہ دے رہے ہوں گے ۔
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول ﷺ نے اپنی چھڑی منبر پر مارتے ہوۓ فرمایا : کہ یہ طیبہ ہے یہ طیبہ ہے یہ طیبہ ہے یعنی مدینہ ، کیا میں نے تمہیں اس کے متعلق بتایا نہیں تھا ، تو لوگ کہنے لگے جی ہاں ، تو نبی ﷺ نے کہنے لگے مجھے تمیمؓ کی حدیث پسند آئ کہ وہ دجال اور مکہ اور مدینہ کے متعلق جو میں تمہیں بیان کیا کرتا تھا اس کے موافق ہے )
اورامام احمدؒ تعالی نے نبی ﷺ سے حدیث روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :
(میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرایا تھا اور وہ خراب پھسی ہوئ آنکھ والا ہے ، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے بائيں آنکھ کے متعلق کہا ، اور اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چل رہی ہوں گی اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ زمین میں چالیس دن رہے گا اورصرف چار مسجدوں کو چھوڑ کر وہ ہر جگہ پر جاۓ گا ، وہ چار مسجدیں یہ ہیں ، مسجد حرام ، مسجد نبوی ، مسجد اقصی ، اور مسجد طور )۔
اور احاديث میں اس بات کا حکم آیا ہے کہ جب دجال کا خروج ہو تو اس سے دور ہی رہا جاۓ تاکہ جو کچھ شبہات اور خارق عادت اشیاءاس کےساتھ ہیں ان کی وجہ سے کہیں فتنہ میں نہ پڑ جاۓ ، کیونکہ ایک شخص آۓ گا جو کہ یہ گمان کرتا ہوگا کہ وہ مومن ہے اورایمان پر ثابت قدم ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس کی پیروی کر لے گا ۔
عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :
( جو بھی دجال کا سنے کہ وہ آ چکا ہے تو اسے چاہۓ کہ وہ اس سے دور ہی رہے ، اللہ تعالی کی قسم بیشک ایک ایسا شخص آۓ گا جو کہ یہ خیال کرتا ہوگا کہ وہ مومن ہے لیکن ان شبہات کی بنا پر جودجال لے کرآۓ گا وہ اس کی پیروی کرنے لگےگا )
تو یہ حديث اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے فرار ممکن ہے اور نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا ہے کہ جو اس پالے وہ دجال پر سورۃ الکہف کی شروع والی آیات پڑھے۔
طیب کا قول ہےکہ : اس کا معنی یہ ہے کہ ان آیا ت کا پڑھنا دجال کے فتنہ سے امن کا باعث ہے ۔
اور ابوداود رحمہ اللہ تعالی نے یہ الفاظ زیادہ ذکر کۓ ہیں ( بیشک یہ آیات اس کے فتنہ سے تمہیں بچانے والی ہیں )
اللہ تعالی سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہميں اس کے شر سے محفوظ رکھے ،اور اس کے فتنہ سے بچاۓ آمین ۔
واللہ تعالی اعلم .
حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ: ذَكَرْنَا الدَّجَّالَ فَسَأَلْنَا عَلِيًّا مَتَى خُرُوجُهُ؟ قَالَ: " لَا يَخْفَى عَلَى مُؤْمِنٍ , عَيْنُهُ الْيُمْنَى مَطْمُوسَةٌ , بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَتَهَجَّاهَا لَنَا عَلِيٌّ , قَالَ: فَقُلْنَا: وَمَتَى يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: حِينَ يَفْخَرُ الْجَارُ عَلَى جَارِهِ , وَيَأْكُلُ الشَّدِيدُ الضَّعِيفَ وَتُقْطَعُ الْأَرْحَامُ , وَيَخْتَلِفُونَ اخْتِلَافَ أَصَابِعِي هَؤُلَاءِ وَشَبَّكَهَا وَرَفَعَهَا هَكَذَا , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَيْفَ تَأْمُرُنَا عِنْدَ ذَلِكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: لَا أَبَا لَكَ , إِنَّكَ لَنْ تُدْرِكَ ذَلِكَ قَالَ: فَطَابَتْ أَنْفُسُنَا۔
وَلَو بَسَطَ اللَّهُ الرِّزقَ لِعِبادِهِ لَبَغَوا فِى الأَرضِ وَلٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ ما يَشاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبادِهِ خَبيرٌ بَصيرٌ {42:27}
|
اور اگر پھیلا دے اللہ روزی اپنے بندوں کو تو دھوم اٹھا دیں ملک میں ولیکن اتارتا ہے ماپ کر جتنی چاہتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کی خبر رکھتا ہے دیکھتا ہے [۳۹]
|
غنا کو عام نہ کرنے کی حکمت:خدا کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ اگر چاہے تو اپنے تمام بندوں کو غنی اور تونگر بنا دے۔ لیکن اسکی حکمت مقتضی نہیں کہ سب کو بے اندازہ روزی دیکر خوش عیش رکھا جائے۔ ایسا کیا جاتا تو عمومًا لوگ طغیان و تمرد اختیار کر کے دنیا میں اودھم مچا دیتے۔ نہ خدا کے سامنے جھکتے نہ اسکی مخلوق کو خاطر میں لاتے، جو سامان دیا جاتا کوئی اس پرقناعت نہ کرتا حرص اور زیادہ بڑھ جاتی جیسا کہ ہم بحالت موجودہ بھی عمومًا مرفّہ الحال لوگوں میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ جتنا آ جائے اس سے زیادہ کے طالب رہتے ہیں، کوشش اور تمنا یہ ہوتی ہے کہ سب کے گھر خالی کر کے اپنا گھر بھر لیں ظاہر ہے کہ ان جذبات کے ماتحت غِنا اور خوشحالی کی صورت میں کیسا عام اور زبردست تصادم ہوتا اور کسی کو کسی سے دبنے کی کوئی وجہ نہ رہتی۔ ہاں دنیا کے عام مذاق اور رجحان کے خلاف فرض کیجئے کسی وقت غیر معمولی طور پر کسی مصلح اعظم اور مامور من اللہ کی نگرانی میں عام خوشحالی اور فارغ البالی کے باوجود باہمی آویزش اور طغیان و سرکشی کی نوبت نہ آئے اور زمانہ کے انقلاب عظیم سے دنیا کی طبائع ہی میں انقلاب پیدا کر دیا جائے وہ اس عادی اور اکثری قاعدہ سے مستثنٰی ہو گا۔ بہرحال دنیا کو بحالت موجودہ جس نظام پرچلانا ہے اس کا مقتضی یہ ہی ہے کہ غنا عام نہ کیا جائے بلکہ ہر ایک کو اسکی استعداد و احوال کی رعایت سے جتنا مناسب ہو جانچ تول کر دیا جائے۔ اور یہ خدا ہی کو خبر ہے کس کے حق میں کیا صورت اصلح ہے۔ کیونکہ سب کے اگلے اور پچھلے حالات اسی کے سامنے ہیں۔
|
![]() |





.jpeg)


.jpeg)
















beautiful sharing brother.. Jazak Allah
ReplyDelete