Monday, 10 September 2012

نمازِ وتر- اہمیت، تعدادِ رکعت اور پڑھنے کا طریقہ


نمازِ وتر- اہمیت، تعدادِ رکعت اور پڑھنے کا طریقہ

وتر کے معنی طاق (Odd Number) کے ہیں۔ احادیث نبویہ کی روشنی میں امت مسلمہ متفق ہے کہ ہمیں نمازِ وتر کی خاص پابندی کرنی چاہیے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفروحضر ہمیشہ نمازِ وتر کا اہتمام فرماتے تھے، نیز نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ِوتر پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے حتی کہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص وقت پر وتر نہ پڑھ سکے تو وہ بعد میں اس کی قضا کرے۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو وتر کی ادائیگی کاحکم ( امر) متعدد مرتبہ دیا ہے، عربی زبان میں امر کا صیغہ عموماً وجوب کے لئے ہوا کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازِ وتر کا زندگی میں ایک مرتبہ بھی چھوڑنا حتی کہ حج کے موقع پر مزدلفہ میں بھی ثابت نہیں ہے، جیساکہ سعودی عرب کے سابق مفتی عام شیخ عبد العزیز بن باز نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا ہے جو انٹرنیٹ کے اس لنک پر پڑھا جاسکتا ہے:


وتر کو واجب یا سنت موٴکدہ اشد التاکید کادرجہ دینے میں زمانہٴ قدیم سے فقہاء وعلماء کے درمیان اختلاف چلا آرہا ہے۔ فقہاء وعلماء کی ایک جماعت نے سنتِ موٴکدہ اشد التاکید کہا ہے؛ جب کہ فقہاء وعلماء کی دوسری جماعت مثلاً شیخ نعمان بن ثابت یعنی امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ) ۸۰ھ -۱۵۰ھ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں واجب قرار دیا ہے، جس کا درجہ فرض سے یقینا کم ہے۔ جن فقہاء وعلماء نے سنت موٴکدہ اشد التاکید کہا ہے، انھوں نے بھی احادیث شریفہ کی روشنی میں یہی فرمایا ہے کہ نماز وتر کا ہمیشہ اہتمام کرنا چاہیے اور وقت پر ادا نہ کرنے پر اس کی قضا کرنی چاہیے۔ شیخ امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ (۱۶۴ھ۔ ۲۴۱ھ) نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ: جس نے جان بوجھ کر نمازِ وتر کو چھوڑا، وہ برا شخص ہے اور اس کی شہادت قبول نہیں کرنی چاہیے۔ (۱) علامہ ابن تیمیہ نے بھی نماز ِوتر چھوڑنے والے کی شہادت قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غرضے کہ عملی اعتبار سے امتِ مسلمہ متفق ہے کہ نماز ِوتر کی ہمیشہ پابندی کرنی چاہیے اور وقت پر ادا نہ کرنے پر اس کی قضا بھی کرنی چاہیے خواہ اس کو جو بھی عنوان دیا جائے۔

نمازِ وتر کی اہمیت وتاکید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں:

(۱) عَنْ اَبِی سَعِید الخُدْرِی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صلى الله عليه وسلم : اَوْتِرُوْا قَبْلَ اَنْ تُصْبِحُوا(۲)

حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صبح ہونے سے قبل نماز وتر پڑھو۔

(۲) عَنْ عَلِی قالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یَا اَہْلَ الْقُرْآنِ اَوْتِرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ(۳)

حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے مسلمانو! وتر پڑھو؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بھی وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔

(۳) عَنْ خارجةَ بنِ حذافہ اَنَّہ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ اَمَدَّکُمْ بِصَلَاةٍ ہِیَ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ․ الوِتْرُ جَعَلَہُ اللّٰہُ لَکُمْ فِیْمَا بَیْنَ صَلاةِ الْعِشَاءِ اِلَی اَن یَّطْلُعَ الْفَجْرُ(۴)

حضرت خارجہ بن حذافہ فرماتے ہیں کہ: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نماز عطا فرمائی ہے، وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے،اور وہ وتر کی نماز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نماز تمہارے لیے نماز عشا کے بعد سے صبح ہونے تک مقرر کی ہے․․․․ محدثین نے تحریر کیا ہے کہ سرخ اونٹوں سے بہتر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ: نمازِ وتر دنیا وما فیہا سے بہتر ہے؛ کیونکہ اُس زمانہ میں سرخ اونٹ سب سے زیادہ قیمتی چیز تھی۔

(۴) عَنْ اَبِی سَعِیدِ الخُدری قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صلى الله عليه وسلم : مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِہِ اَوْ نَسِیَہُ فَلْیُصَلِّہِ اِذَا ذَکَرَہ(۵)

حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص وتر سے سوتا رہ جائے یا بھول جائے تو جب یاد آئے (یا وہ جاگے) تو اسی وقت پڑھ لے۔

(۵) عن بریدة قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم یقول: اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا، اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا، اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا(۶)

حضرت بریدہ اسلمی فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نمازِ وتر حق ہے، جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ نمازِ وتر حق ہے، جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ نمازِ وتر حق ہے، جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں․․․․․․ بعض روایت میں یہ حدیث ”الوتر واجِبٌ“ کے لفظ سے مروی ہے۔

جن حضرات نے وتر کو واجب قرار نہیں دیا ہے، حسب معمول انہوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دینے کی کوشش کی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض محدثین نے اِس حدیث کی سند میں آئے ایک راوی (ابو منیب عبد اللہ بن عبد اللہ العتکی) کو ضعیف قرار دیا ہے ؛جب کہ محدثین کی دوسری جماعت مثلاً امام یحییٰ بن معین (۱۵۸ھ ۲۳۳ھ) انھیں ثقہ کہتے ہیں، امام حاکم نے اِس حدیث کو صحیح علی شرط الشیخین قرار دیا ہے۔ امام داوٴد نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد اس پر خاموشی اختیار کی ہے، جو اُن کے نزدیک حدیث کے صحیح یا کم از کم حسن ہونے کے دلیل ہوتی ہے۔(۷)

نمازِ وتر کا وقت:

نمازِ وتر کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبح ہونے تک رہتا ہے، جیساکہ حدیث نمبر (۱ و ۳) میں مذکور ہے۔ بعض علماء نے نماز فجر کی ادائیگی تک نماز وتر کا وقت تحریر کیا ہے؛ مگر جمہور علماء کے نزدیک صبح ہونے کے بعد وتر ادا نہ کیے جائیں؛ بلکہ طلوعِ آفتاب کے بعد نمازِ وتر کی قضا کی جائے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح ہونے کے بعد سے طلوع آفتاب تک صرف دو رکعت سنت موٴکدہ اور دو رکعت فرض ادا کی جائیں۔ جیساکہ جلیل القدر تابعی شیخ سعید بن المسیب کا فتویٰ ہے، جو امام بیہقی نے اپنی کتاب "سنن البیہقی الکبریٰ حدیث ۴۲۳۴ باب من لم یصل بعد الفجر الاّ رکعتی الفجر ثم بَادَرَ بِالفَرْضِ" میں صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ شیخ سعید بن المسیب نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ صبح ہونے کے بعد دو رکعت سے زیادہ نماز پڑھتا ہے اور اِس نماز میں خوب رکوع وسجدے کرتا ہے تو شیخ سعید بن المسیب نے اسے اِس کام سے منع کیا۔ اس شخص نے کہا کہ کیا اللہ مجھے نماز پر عذاب دے گا؟ تو شیخ سعید بن المسیب نے جواب دیا : نہیں، لیکن تمہیں سنت کی خلاف ورزی پر عذاب دے گا۔۔

شیخ عبد العزیز بن باز کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ جو شخص صبح ہونے تک وتر نہ پڑھ سکے تو وہ طلوعِ آفتاب کے بعد پڑھے۔(۸)




كيا وتر كى نماز رات كى نماز سے مختلف ہے ؟

الحمد للہ : نماز وتر رات كى نماز ميں ہى شامل ہوتى ہے، ليكن اس كے باوجود ان دونوں ميں فرق ہے:

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: " نماز وتر رات كى نماز ميں سے ہے، اور يہ سنت اور رات كى نماز كا اختتام ہے، رات كے آخر يا درميان يا عشاء كى نماز كے بعد رات كے شروع ميں ايك ركعت وتر كى ادائيگى سے رات كى نماز كا اختتام كيا جاتا ہے، رات كو اس كے ليے جتنى نماز ميسر ہو ادا كرے اور ايك پھر ايك ركعت ادا كر كے اس كا اختتام كرے" ديكھيں: فتاوى ابن باز ( 11/ 309 )؛
اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: " قولى اور فعلى سنت نے رات كى نماز اور وتر ميں فرق كيا ہے، اور اسى طرح اہل علم نے بھى اس كى كيفيت اور حكم ميں فرق كيا ہے:



ان دونوں نمازوں ميں قولى سنت كى تفريق:ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث ميں ہے كہ ايك شخص نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے رات كى نماز كى كيفيت كے متعلق دريافت كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: " دو دو ہے، اور جب آپ كو صبح كا خدشہ ہو تو ايك وتر ادا كر لو"
صحيح بخارى ديكھيں فتح البارى ( 3 / 20 )؛

ان دونوں نمازوں كے مابين فعلى سنت كى تفريق: عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں ہے وہ بيان كرتى ہيں كہ: " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز ادا كرتے اور ميں ان بستر پر ليٹى ہوتى تھى اور جب وہ وتر ادا كرنا چاہتے تو مجھے بيدار كر كے وتر ادا كرتے"
صحيح بخارى ديكھيں: فتح البارى ( 2 / 487 )؛

اور مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ان الفاظ كے ساتھ روايت كي ہے:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم رات كى نماز ادا كرتے اور ميں ان كے سامنے ليٹى ہوتى تھى، اور جب وتر باقى رہ جاتا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم مجھے بيدار كر كے وتر ادا كرتے"صحيح مسلم ( 1 / 51 )؛


اور عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے ہى مسلم رحمہ اللہ نے روايت كى ہے كہ
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم رات كو تيرہ ركعت ادا كرتے جن ميں پانچ وتر ہوتے ان وتروں ميں صرف آخرى ركعت ميں بيٹھتے تھے"

صحيح مسلم ( 1 / 508 )؛

اور عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا ہى سے مروى ہے جب سعد بن ھشام بن عامر نے ان سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے وتر كے متعلق دريافت كيا تو وہ كہنے لگيں:
" اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نو ركعت ادا كرتے ان ميں سے صرف آٹھويں ركعت ميں بيٹھتے اور اللہ كا ذكر اور اس كى حمد بيان كرتےاور اللہ سے دعا كر كے بغير سلام پھيرے اٹھ جاتے اور پھر نويں ركعت كر كے بيٹھتے اور اللہ كا ذكر اور اس كى حمد بيان كرتے اور اللہ تعالى سے دعا كر كے سلام پھيرتے اور يہ سلام ہميں سناتے تھے" صحيح مسلم ( 1 / 513 )؛


اور رات كى نماز اور وتر ميں علماء كرام نے جو فرق كيا ہے وہ يہ ہے: علماء كرام وتر كے وجوب ميں اختلاف كرتے ہيں ابو حنيفہ رحمہ اللہ تعالى اسے واجب قرار ديتے ہيں ، اور امام احمد سے بھى يہ ايك روايت ہے جو " الانصاف " اور " الفروع" ميں مذكور ہے، امام احمد كہتے ہيں: جس نے جان بوجھ كر وتر ترك كيا وہ برا آدمى ہے، اور اس كى گواہى قبول نہيں كرنى چاہيے. 
اور مشھور مذہب يہ ہے كہ وتر سنت ہے، اور امام مالك اور امام شافعى رحمہم اللہ كا مذہب يہى ہے.


ليكن رات كى نماز ميں كوئى اختلاف نہيں، فتح البارى ميں ہے: " بعض تابعين كے كسى سے بھى اس كے وجوب ميں كوئى قول منقول نہيں ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں: بعض تابعين نے بطور شاذ قيام الليل كو واجب قرار ديا ہے، چاہے بكرى كا دودھ نكالنے كى مدت جتنا ہى قيام كيا جائے اور علماء كى جماعت كا مسلك ہے كہ يہ مندوب ہے" ديكھيں: فتح البارى ( 3 / 27 )؛ واللہ اعلم



نماز وتر کے لیے افضل وقت:

رات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد پڑھ کر نماز ِوتر کی ادائیگی افضل ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل معمول بھی یہی تھا؛ البتہ وہ حضرات جو رات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد اور نمازِ وتر کا اہتمام نہیں کرسکتے ہیں تو وہ سونے سے قبل ہی وتر ادا کرلیں ۔

(۶) حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کو خوف ہے کہ وہ آخری رات میں اٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتاہے تو وہ رات کے شروع حصہ میں ہی وتر ادا کرلے؛ البتہ جس کو رغبت ہے کہ وہ رات کے آخری حصہ میں نماز وتر ادا کرے تواُسے ایسا ہی کرنا چاہیے؛ کیونکہ رات کے آخری حصہ میں ادا کی گئی نماز کے وقت فرشتے حاضر رہتے ہیں اور یہی افضل ہے۔(۹)

(۷) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ میرے خلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے․․․․․جن میں سے ایک ․․․․․سونے سے قبل وتر کی ادائیگی ہے۔ میں انھیں مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا۔(۱۰)

وتر چھوٹ جائے تو قضا کریں:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں تمام فقہاء وعلماء نمازِ وتر کی قضا کی مشروعیت پر تو متفق ہیں( جیساکہ سعودی عرب کے بڑے علماء کی کونسل "اللَّجنةُ الدائمةُ لِلْبُحُوثِ العِلْمِیَّة والافتاء" نے فتویٰ نمبر ۱۱۲۷۱میں تحریر کیا ہے)، لیکن قضا کے وقت میں ان کی آراء مختلف ہیں، اگرچہ تقریباً تمام ہی فقہاء وعلماء طلوعِ آفتاب سے زوالِ آفتاب تک کے وقت کو نماز وتر کی قضا کا بہترین وقت قرار دیتے ہیں۔

(۸) حضرت ابو سعید خدری کی حدیث (نمبر۴) گزرچکی ہے۔ سنن بیہقی میں یہ حدیث قدرے وضاحت کے ساتھ وارد ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص وتر پڑھے بغیر سوگیا، وہ صبح کو پڑھے اور جو بھول گیا وہ یاد آنے پر پڑھے۔(۱۱)

(۹) امام مالک فرماتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ، حضرت عبادہ بن صامت وغیرہ صحابہٴ کرام نے فجر کے بعد وتر پڑھے (یعنی بروقت نہ پڑھ سکے تو بعد میں بطور قضا پڑھے)(۱۲)

وضاحت: جوحضرات رات کے آخری حصہ میں نمازِ وترکا اہتمام کرتے ہیں تو کبھی کبھی بشری تقاضے کی وجہ سے وہ نمازِ وتر وقت پر ادا نہیں کرپاتے ہیں۔

(۱۰) حضرت عمر فاروق سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ … کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص کا رات کا کوئی معمول سونے کی وجہ سے رہ جائے اور وہ فجر کے بعد ظہر سے قبل ادا کرلے تو اس کے لیے ایسا ہی ہے، جیساکہ اس نے اس کو معمول کے مطابق ادا کیا۔(۱۳)

وتر کی تعداد رکعت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد طریقوں سے یہ وتر ادا کیے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ طریقے آج تک امت مسلمہ میں زندہ رکھے ہیں، مندرجہ ذیل دو طریقے امت مسلمہ میں زیادہ رائج ہیں:

(۱) وترکی ۳ رکعت اس طرح ادا کی جائیں کہ ۲ رکعت پر سلام پھیر دیا جائے اور پھر ایک رکعت ادا کی جائے، یعنی ۳ رکعت دو تشہد اور ۲ سلام کے ساتھ۔

نوٹ: کچھ حضرات نے سہولت پر عمل کرنے کاکچھ زیادہ ہی مزاج بنالیا ہے؛ چنانچہ وہ صرف ایک ہی رکعت وتر ادا کرلیتے ہیں، صرف ایک رکعت وتر ادا کرنے سے بچنا چاہیے؛کیونکہ فقہاء وعلماء کی ایک جماعت کی رائے میں ایسا کرنا صحیح نہیں ہے۔

(۲) ایک سلام اور دو قاعدوں کے ساتھ نمازِ مغرب کی طرح وتر کی تین رکعت ادا کی جائیں۔

اِن مذکورہ دونوں شکلوں میں وتر کی ادائیگی صحیح ہے؛البتہ فقہاء وعلماء کرام نے اپنے اپنے نقطئہ نظر سے وتر کی کسی ایک شکل کو راجح قرار دیا ہے، مثلاً سعودی عرب کے علماء نے پہلی صورت کو راجح قرار دیا ہے ؛ جب کہ دیگر فقہاء وعلماء مثلاً شیخ نعمان بن ثابت یعنی امام ابوحنیفہ ( ۸۰ھ -۱۵۰ھ) نے دوسری شکل کو مندرجہ ذیل احادیث شریفہ کی روشنی میں راجح قرار دیا ہے:

وتر کی تین رکعت :

(۱۱) حضرت عائشہ نے فرمایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں ۱۱/ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ۴/ رکعت پڑھتے تھے، ان کے حسن اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھو۔ پھر آپ ۴/ رکعت پڑھتے تھے، ان کے حسن اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔(۱۴) یہ حدیث، حدیث کی ہر مشہور کتاب میں موجود ہے ،اس حدیث میں تین رکعت وتر کا ذکر ہے۔


(۱۲)

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ الأَصْبَغِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْعَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الْوِتْرِ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ بِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " .

 حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں سورہٴ فاتحہ اور ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأعْلیٰ“، دوسری رکعت میں ”قُل یَا أیُّہَا الکَافِرُون“ اور تیسری رکعت میں ”قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أحَد“ پڑھتے تھے ۔

خلاصة حكم المحدث: حسن




الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1يقرأ في الوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الرحمن بن أبزىمصنف ابن أبي شيبة3578337464ابن ابي شيبة235
2يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدأبي بن كعبمصنف ابن أبي شيبة3578437465ابن ابي شيبة235
3يوتر بثلاث يقرأ فيهن ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عباسمصنف ابن أبي شيبة3578537466ابن ابي شيبة235
4أوتر ب سبح اسم ربك الأعلىعمران بن الحصينمصنف ابن أبي شيبة3578637467ابن ابي شيبة235
5يقرأ في وتره ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحد فإذا سلم قال سبحانك الملك القدوس ثلاث مراتعبد الرحمن بن أبزىمصنف ابن أبي شيبة67106936ابن ابي شيبة235
6يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحد يقول في آخر صلاته إذا جلس سبحان الملك القدوس ثلاثا يمد بها صوته في الآخرةعبد الرحمن بن أبزىمصنف ابن أبي شيبة67116937ابن ابي شيبة235
7يوتر ب سبح اسم ربك الأعلىعمران بن الحصينمصنف ابن أبي شيبة67126938ابن ابي شيبة235
8يقرأ في الركعة الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية ب قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة ب قل هو الله أحد و المعوذتينعائشة بنت عبد اللهمسند إسحاق بن راهويه14961678إسحاق بن راهويه238
9يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى وقل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن علقمةتعليقات الدارقطني على المجروحين لابن حبان2401 : 232الدارقطني385
10يوتر بثلاث ركعات يقرأ في الأولى ب سبح اسم ربكعبد الرحمن بن أبزىمسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم1371 : 108أبو حنيفة150
11يوترعبد الرحمن بن أبزىمسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم1381 : 109أبو حنيفة150
12يوتر بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرون وقل هو الله أحدعبد الرحمن بن أبزىمسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم1391 : 110أبو حنيفة150
13يوتر بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرون وقل هو الله أحدأبي بن كعبمسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم1401 : 110أبو حنيفة150
14يقرأ في الركعة الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة قل هو الله أحدأبي بن كعبمسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم1411 : 111أبو حنيفة150
15يوتر بثلاث ركعات يقرأ في الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة قل هو الله أحدعبد الرحمن بن أبزىمسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم1421 : 111أبو حنيفة150
16يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عباسحديث شعبة بن الحجاج العتكي173---محمد بن المظفر بن موسى379
17أوتر بثلاث ركعات ب سبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرون وقل هو الله أحدأبي بن كعبمسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم1431 : 112أبو حنيفة150
18أوتر بثلاث ركعات ب سبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرون وقل هو الله أحدعبد الرحمن بن صخرمسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم1441 : 112أبو حنيفة150
19يوتر ب سبح اسم ربك الأعلىأبي بن كعبجزء الحسن بن شاذان26---الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان426
20يوتر ب إذا زلزلت والعاديات و ألهاكم و تبت و قل هو الله أحدعلي بن أبي طالبحديث شعبة بن الحجاج العتكي136---محمد بن المظفر بن موسى379
21يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحد إذا سلم قال سبحان الملك القدوس ثلاثا يرفع بها صوته بالآخرةعبد الرحمن بن أبزىأجزاء أبي علي بن شاذان152---الحسن بن خلف بن شاذان246
22يوتر بثلاث يقرأ في الأولىب سبح اسم ربك الأعلىعمران بن الحصينالجزء الأول من الفوائد المنتقاة لابن أبي الفوارس40---أبو الفتح بن أبي الفوارس412
23يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدأبي بن كعبمسند أحمد بن حنبل2066220637أحمد بن حنبل241
24يقرأ في الوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرونأبي بن كعبمسند أحمد بن حنبل2066320638أحمد بن حنبل241
25يوتر بسبح اسم ربك الأعلىعبد الرحمن بن أبزىمسند أحمد بن حنبل1505414928أحمد بن حنبل241
26يقرأ في الوتر بسبح اسم ربك الأعلى وقل يأيها الكافرون وقل هو الله أحد فإذا سلم قال سبحان الملك القدوس سبحان الملك القدوس سبحان الملك القدوس ورفع بها صوتهعبد الرحمن بن أبزىمسند أحمد بن حنبل1505514929أحمد بن حنبل241
27يقرأ في الوتر بسبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرونعبد الرحمن بن أبزىمسند أحمد بن حنبل1505614930أحمد بن حنبل241
28يوتر بسبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرون وقل هو الله أحد إذا سلم قال سبحان الملك القدوسعبد الرحمن بن أبزىمسند أحمد بن حنبل1505714931أحمد بن حنبل241
29يوتر بسبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرون وقل هو الله أحد إذا سلم قال سبحان الملك القدوس ثلاثا يرفع صوته بالآخرةعبد الرحمن بن أبزىمسند أحمد بن حنبل1505814933أحمد بن حنبل241
30يوتر بسبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرون وقل هو الله أحد إذا سلم قال سبحان الملك القدوس ثلاث مرارعبد الرحمن بن أبزىمسند أحمد بن حنبل1505914934أحمد بن حنبل241
31يوتر بسبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرون وقل هو الله أحد إذا أراد أن ينصرف من الوتر قال سبحان الملك القدوس ثلاث مرات ثم يرفع صوته في الثالثةعبد الرحمن بن أبزىمسند أحمد بن حنبل1506114936أحمد بن حنبل241
32يوتر بسبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرون وقل هو الله أحد إذا جلس في آخر صلاته سبحان الملك القدوس ثلاثا يمد بالآخرة صوتهعبد الرحمن بن أبزىمسند أحمد بن حنبل1506214937أحمد بن حنبل241
33يوتر بسبح اسم ربك الأعلىعبد الرحمن بن أبزىمسند أحمد بن حنبل1506614941أحمد بن حنبل241
34يوتر بثلاثعبد الله بن عباسمسند أحمد بن حنبل26372735أحمد بن حنبل241
35يوتر بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عباسمسند أحمد بن حنبل26182715أحمد بن حنبل241
36يوتر بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عباسمسند أحمد بن حنبل26232720أحمد بن حنبل241
37يوتر بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عباسمسند أحمد بن حنبل27882900أحمد بن حنبل241
38يوتر بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عباسمسند أحمد بن حنبل26732772أحمد بن حنبل241
39يوتر بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عباسمسند أحمد بن حنبل34003521أحمد بن حنبل241
40يوتر بثلاثعلي بن أبي طالبمسند أحمد بن حنبل667687أحمد بن حنبل241
41يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عمرفوائد أبي بكر النصيبي20---أبو بكر بن خلاد النصيبي510
42ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحد فإذا سلم قال سبحان الملك القدوس ثلاثاعبد الرحمن بن أبزىجزء من حديث أبي عبد الله القطان71---الحسين بن يحيى بن عياش القطان334
43يقرأ في الوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحد فإذا سلم قال سبحان الملك القدوس ثلاث مرات يرفع بها صوتهعبد الرحمن بن أبزىالثالث من فوائد الحنائي23---أبو القاسم الحنائي459
44أوتر رسول الله صلى الله عليه بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلىعبد الله بن عباسمنتقى حديث أبي عبد الله محمد بن مخلد46---محمد بن مخلد الدوري331
45يوتر بسبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحدأبي بن كعبمسند عبد بن حميد177176عبد بن حميد249
46يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحد فإذا سلم قال ثلاث مرات سبحان الملك القدوسعبد الرحمن بن أبزىمسند عبد بن حميد318312عبد بن حميد249
47يوتر بثلاثعبد الله بن عباسالثالث من الفوائد المنتقاة لابن أبي الفوارس168---أبو الفتح بن أبي الفوارس412
48يوتر بثلاث يقرأ في الأولى بالحمد و قل هو الله أحدعلي بن أبي طالبمشيخة أبي عبد الله الرازي114---محمد بن أحمد بن إبراهيم الرازي371
49يوتر ب سبحعبد الله بن عباسجزء فيه سبعة مجالس من أمالي ابن بشران44---أبو القاسم بن بشران430
50يوتر بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عباسسنن الدارمي15541586عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي255
51يوتر بثلاث يقرأ في الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية ب قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة ب قل هو الله أحدعبد الله بن عباسسنن الدارمي15571589عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي255
52يوتر ب سبح اسم ربك الأعلىعبد الرحمن بن أبزىالتاسع من حديث ابن منده34---محمد بن منده بن أبي الهيثم الأصبهاني430
53يوتر بثلاث يقرأ في أول ركعة بسبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية قل يأيها الكافرون وفي الثالثة قل هو الله أحد وقل أعوذ برب الفلق وقل أعوذ برب الناسعائشة بنت عبد اللهالثاني من حديث أبي العباس الأصم94---محمد بن يعقوب الأصم346
54يوتر ب ألهاكم التكاثرعلي بن أبي طالبأمالي الجرجاني237---محمد بن إبراهيم بن جعفر الجرجاني330
55يوتر بثلاث يقرأ في الركعة الأولى ب سبح اسم ربكعمران بن الحصينبغية الباحث عن زوائد مسند الحارث232224الهيثمي807
56ما يقرأ في الوتر فقال ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الرحمن بن سمرةأسد الغابة8723 : 452علي بن الأثير630
57يقرأ في الركعة الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفيعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2532925377أحمد بن حنبل241
58يقرأ في الوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحد فإذا سلم قال سبحان الملك القدوس ثلاث مراتأبي بن كعبالأحاديث المختارة1132---الضياء المقدسي643
59يوتر بثلاث ركعات كان يقرأ في الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية ب قل يأيها الكافرون وفي الثالثة قل هو الله أحد ويقنت قبل الركوع فإذا فرغ قال عند فراغه سبحان الملك القدوس ثلاث مرات يطيل في آخرهنأبي بن كعبالأحاديث المختارة1133---الضياء المقدسي643
60يوتر بثلاث يقرأ في الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية ب قل يأيها الكافرون وفي الثالثة ب قل هو الله أحدعبد الله بن عباسالأحاديث المختارة3706---الضياء المقدسي643
61يوتر ب سبح و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحد وكان إذا انصرف قال ثلاث مرات سبحان الملك القدوسعبد الله بن عباسالأحاديث المختارة3602---الضياء المقدسي643
62يوتر بثلاث يقرأ في الأولى بسبح وفي الثانية بقل يا أيها الكافرون وفي الثالثة بقل هو الله أحدعمران بن الحصينسير أعلام النبلاء الذهبي499---الذهبي748
63يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدأبي بن كعبالأحاديث المختارة1129---الضياء المقدسي643
64يقرأ في الوتر سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحد ويقنت قبل الركوعأبي بن كعبالأحاديث المختارة1130---الضياء المقدسي643
65يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدأبي بن كعبالأحاديث المختارة1131---الضياء المقدسي643
66يقرأ في الوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدأنس بن مالكالأحاديث المختارة1820---الضياء المقدسي643
67يقرأ في الوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدأنس بن مالكالأحاديث المختارة1821---الضياء المقدسي643
68يوتر بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلى و قل هو الله أحد في ركعة ركعةعبد الله بن عباسالأحاديث المختارة3668---الضياء المقدسي643
69يوتر بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عباسالأحاديث المختارة3669---الضياء المقدسي643
70يوتر ب سبح و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحد في كل ركعة سورةعبد الله بن عباسالأحاديث المختارة3670---الضياء المقدسي643
71يوتر بثلاث ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو اللهعبد الله بن عباسالأحاديث المختارة3671---الضياء المقدسي643
72يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحدأبي بن كعبسنن ابن ماجه11611171ابن ماجة القزويني275
73يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عباسسنن ابن ماجه11621172ابن ماجة القزويني275
74يقرأ في الركعة الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة قل هو الله أحد و المعوذتينعائشة بنت عبد اللهسنن ابن ماجه11631173ابن ماجة القزويني275
75يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عباسالبحر الزخار بمسند البزار 10-138295016أبو بكر البزار292
76يقرأ في الوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن عمرالبحر الزخار بمسند البزار 10-1311415381أبو بكر البزار292
77يقرأ في الوتر في الركعة الأولى بسبح اسم ربك الأعلى والثانية بقل يا أيها الكافرون والثالثة قل هو الله أحدعبد الله بن عباسالبحر الزخار بمسند البزار 10-136074759أبو بكر البزار292
78يوتر بسبح اسم ربك الأعلى وقل يا أيها الكافرون وقل هو الله أحدعبد الله بن عباسالبحر الزخار بمسند البزار 10-136084760أبو بكر البزار292
79يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل للذين كفروا و الله الواحد الصمدعائشة بنت عبد اللهسنن أبي داود12161423أبو داود السجستاني275
80إذا سلم في الوتر قال سبحان الملك القدوسأبي بن كعبسنن أبي داود12211430أبو داود السجستاني275
81يقرأ في الركعتين اللتين يوتر بعدهما ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون وفي الوتر ب قل هو الله أحد و قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناسعائشة بنت عبد اللهالأنوار في شمائل النبي المختار608---الحسين بن مسعود البغوي516
82يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحد وإذا سلم يقول سبحان الملك القدوس سبحان الملك القدوس سبحان الملك القدوس ويرفع صوته في الثالثةعبد الرحمن بن أبزىالأنوار في شمائل النبي المختار609---الحسين بن مسعود البغوي516
83يقرأ في الركعتين اللتين يوتر بعدهما سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون ويقرأ في الوتر قل هو الله أحد سورة و قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناسعائشة بنت عبد اللهالوسيط في تفسير القرآن المجيد1086---الواحدي468
84يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدأبي بن كعبمعجم شيوخ الابرقوهى46---أحمد بن إسحاق بن محمد الأبرقوهي701
85يوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت كان يقرأ في الركعة الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية ب قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة ب قل هو الله أحد والمعوذتينعائشة بنت عبد اللهتهذيب الكمال للمزي146718:118يوسف المزي742
86يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدجندب بن عبد اللهالفوائد المعللة لأبي زرعة الدمشقي26---أبو زرعة الدمشقي281
87يقرأ في الركعة الآخرة من الوتر ب قل هو الله أحد والمعوذتين يجمعهن في ركعة الوترضميرة بن سعيدالمدونة الكبرى لمالك بن أنس1311 : 151مالك بن أنس179
88يوتر بثلاث يقرأ فيهن بتسع سور من المفصل يقرأ في كل ركعة بثلاث سور آخرهن قل هو الله أحدعلي بن أبي طالبجامع الترمذي422460محمد بن عيسى الترمذي256
89يقرأ في الوتر ب سبح اسم ربك الأعلى وقل يأيها الكافرون وقل هو الله أحد في ركعة ركعةعبد الله بن عباسجامع الترمذي424462محمد بن عيسى الترمذي256
90يوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت كان يقرأ في الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية ب قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة ب قل هو الله أحد والمعوذتينعائشة بنت عبد اللهجامع الترمذي425463محمد بن عيسى الترمذي256
91كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في الركعتين اللتين يوتر بعدهما ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون وفي الوتر ب قل هو الله أحد و قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناسعائشة بنت عبد اللهجزء محمد بن يحيى الذهلي95---محمد بن يحيى الذهلي258
92يقرأ في الوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدأنس بن مالكحديث السراج برواية الشحامي1799---محمد بن إسحاق بن إبراهيم السراج313
93يقرأ في الوتر في الركعة الأولى ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية قل يأيها الكافرون وفي الثالثة قل هو الله أحد و قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناسعائشة بنت عبد اللهحديث السراج برواية الشحامي1800---محمد بن إسحاق بن إبراهيم السراج313
94أوتر ب سبح اسم ربك الأعلىعمران بن الحصينحديث السراج برواية الشحامي1801---محمد بن إسحاق بن إبراهيم السراج313
95يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن مسعودالبحر الزخار بمسند البزار15591730أبو بكر البزار292
96يوتر ب سبح اسم ربك الأعلى و قل يأيها الكافرون و قل هو الله أحدعبد الله بن مسعودالبحر الزخار بمسند البزار15631734أبو بكر البزار292
97يقرأ في الركعة الأولى من الوتر ب سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة قل هو الله أحدعبد الرحمن بن أبزىالآثار لأبي يوسف341347يعقوب بن إبراهيم182
98يوتر ب سبح اسم ربك الأعلىعمران بن الحصينالبحر الزخار بمسند البزار30703604أبو بكر البزار292
99إذا جلس في آخر صلاته في الوتر قال سبحان الملك القدوس ثلاثا يمد بها صوتهعبد الرحمن بن أبزىصلاة الوتر للمروزي79387محمد بن نصر المروزي294
100يوتر بثلاث يقرأ فيهن في الأولى ب سبح اسم ربك الأعلىعبد الله بن علقمةالبحر الزخار بمسند البزار28883373أبو بكر البزار292


ترجمہ : حضرت ابوھریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأعْلیٰ“، دوسری رکعت میں "قُل یَا أیُّہا الکافرون" اور تیسری رکعت میں "قل ہُوَ اللّٰہُ أحَد" اور معوذتين (یعنی قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس) پڑھتے تھے.



(۱۳) حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ وہ رات میں تہجد کی ۸/ رکعت پڑھتے، پھر تین وتر پڑھتے اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔(۱۶)

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازِ وتر تین رکعت ہے،نیز تین رکعت وتر کے جواز پر تمام علماء امت کا اجماع ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ جمہور صحابہٴ کرام کو بھی تین وتر پسند تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر صحابہٴ کرام اور بعد میں آنے والے جمہور اہل علم کا پسندیدہ عمل بھی یہی ہے کہ وتر کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأعْلیٰ، دوسری رکعت میں سورہٴ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورہٴ اخلاص پڑھی جائے ۔(۱۷) ایک رکعت وتر پڑھنے میں علماء امت کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے، لہٰذا قوتِ دلائل کے ساتھ ساتھ احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وتر میں تین رکعت ہی پڑھی جائیں۔

ایک سلام ودوتشہد کے ساتھ تین رکعت وتر:

(۱۴) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی دو رکعت پر سلام نہیں پھیرتے تھے۔(۱۸)


(۱۵)

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1 ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ سورة الكافرون آية 1 ، وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 1 ، وَلا يُسَلِّمُ إِلا فِي آخِرِهِنَّ ، وَيَقُولُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ : سُبْحَانَ الْمَلَكِ الْقُدُّوسِ ثَلاثًا .
[السنن الكبرى للنسائي » كِتَابُ الصَّلاةِ » كَيْفَ الْوِتْرُ بِثَلاثٍ ، رقم الحديث: 445]

 حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأعْلیٰ“، دوسری رکعت میں "قُل یَا أیُّہا الکافرون" اور تیسری رکعت میں "قل ہُوَ اللّٰہُ أحَد" پڑھتے تھے اور تیسری رکعت کے اختتام پر سلام پھیرتے تھے۔(۱۹)


الراوي: أبي بن كعب المحدث: الألباني - المصدر: صحيح النسائي - الصفحة أو الرقم: 1699
خلاصة حكم المحدث: صحيح



(۱۶) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد گھر میں تشریف لاتے تھے، پھر دو رکعت پڑھتے تھے، پھرمزید دو رکعت پہلی دو نوں رکعتوں سے لمبی پڑھتے تھے، پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور درمیان میں (سلام کے ذریعہ) فصل نہیں کرتے تھے (یعنی یہ تینوں رکعت ایک ہی سلام سے پڑھتے تھے(۲۰)

(۱۷) حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مغرب کی نماز، دن کی وتر ہے ، پس رات میں بھی وتر پڑھو۔(۲۱)

(۱۸) حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رات کے وتر میں دن کے وتر یعنی نمازِ مغرب کی طرح تین رکعت ہیں۔(۲۲)

(۱۹) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابی بن کعب تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور مغرب کی نماز کی طرح تیسری رکعت میں سلام پھیرتے تھے ۔(۲۳)

(۲۰) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ وتر کی تین رکعت ہیں اور آخر میں ہی سلام پھیرا جائے۔(۲۴)

(۲۱) صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس نے تین رکعت وتر پڑھی اور صرف آخری رکعت میں سلام پھیرا۔(۲۵)




﴿وضاحت﴾: ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ وتر کی تین رکعتیں ایک سلام سے ہیں، رہا دوسری رکعت کے بعد قاعدہ کرنے کا ثبوت تو ایک صحیح حدیث بھی ایسی نہیں ملتی، جس میں یہ ذکر ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر ایک سلام سے پڑھتے تھے اور دوسری رکعت کے بعد قاعدہ کرنے سے منع کرتے تھے۔ اس کے برعکس متعدد ایسی احادیث ملتی ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن رات کی ہر نماز میں ہر دوسری رکعت پر قاعدہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ وتر کا اس عموم سے مستثنیٰ ہونا کسی ایک حدیث میں نہیں ملتا، اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بیان فرماتے اور صحابہٴ کرام اہتمام سے امت تک پہونچاتے۔

بعض حضرات نے دار قطنی اور بیہقی میں وارد حضرت ابوہریرہ کی حدیث کے صرف ایک حصہ (وَلاَ تَشَبَّہُوا بِصَلاَةِ الْمَغْرِب) کو ذکر کرکے تحریر کردیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سلام اور دو تشہد کے ذریعہ نماز ِ وتر پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

حدیث کے صرف ایک حصہ کو ذکر کرکے کوئی فیصلہ کرنا ایسا ہی ہوگا، جیسے کہ کوئی کہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور دلیل کے طور پر پیش کرے (وَلاَ تَقْرَبُوا الصَّلاة۔۔۔ )۔

دار قطنی اور بیہقی میں وارد اس حدیث کے مکمل الفاظ اس طرح ہیں (لَا تُوتِرُوْا بِثَلاثٍ، اَوْتِرُوا بِخَمْسٍ اَوْ سَبْع وَلا تَشَبَّہُوا بِصَلاةِ الْمَغْرِب) ۔ اگر اس حدیث کا تعلق صرف وتر سے ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ مغرب کی طرح تین وتر نہ پڑھو؛ بلکہ پانچ یا سات پڑھو، جس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ یقینا اس کا دوسرا مفہوم ہے۔ ممکن ہے کہ اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہو، یعنی جب تم نماز تہجد اور اس کے بعد وتر پڑھنا چاہو تو کم از کم ۵یا ۷رکعت پڑھو۔

اور اگر یہ تسلیم کربھی لیا جائے کہ نبی اکرم … نے نمازِ وتر میں مغرب سے مشابہت سے منع فرمایا ہے، تو کس بنیاد پر ہم یہ کہیں گے کہ اِس سے مراد یہ ہے کہ دوسری رکعت میں قاعدہ نہ کیا جائے۔ کل قیامت تک بھی کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے دار قطنی اور بیہقی میں وارد اِس حدیث کا یہ مفہوم ثابت نہیں کرسکتاہے۔ اس کے یہ مطلب بھی تو ہوسکتے ہیں:

(۱) نماز وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو یعنی وتر کی تیسری رکعت میں بھی سورہٴ فاتحہ کے بعد کوئی سورت ملاوٴ؛ تاکہ مغرب اور وتر میں فرق ہوجائے۔

(۲) نماز وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو یعنی وتر میں دعائے قنوت بھی پڑھو؛ تاکہ مغرب اور وتر میں فرق ہوجائے۔

غرضیکہ اِس حدیث کی بنیاد پر یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کی تین رکعت ایک سلام سے پڑھنے پر وتر کی دوسری رکعت میں قاعدہ کرنے سے منع فرمایا ہے، صحیح نہیں ہے؛کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں حدیث کا یہ مفہوم مذکور نہیں ہے۔ ہاں کسی عالم یا فقیہ کی اپنی رائے ہوسکتی ہے جو غلطی کا احتمال رکھتی ہے، جس پر عمل کرنا ہمارے لیے ضروری نہیں ہے۔ فقہاء وعلماء کی دوسری جماعت مثلاً امام ابوحنیفہ کی رائے یہ ہے کہ اِس حدیث سے یہ مفہوم لینا صحیح نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے مختلف فیہ مسائل میں وسعت سے کام لینا چاہیے، امام ابوحنیفہ کی رائے کو قرآن وسنت کے خلاف قرار دینے کی ناکام کوشش نہیں کرنی چاہیے!

اس موقع کو غنیمت سمجھ کر یہ بات واضح کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ اِن دنوں بعض حضرات امام ابوحنیفہ ( جنہیں تقریباً سات صحابہٴ کرام کے دیدار کا شرف حاصل ہے) کی قرآن وسنت کی روشنی میں بعض آراء ( اگر وہ اُن کے علماء کی رائے سے مختلف ہوتی ہے) کو قرآن وسنت کے خلاف بتاتے ہیں اور ایسا تاثر پیش کرتے ہیں کہ جو انہوں نے ۱۴۰۰ سال کے بعد قرآن وسنت کو سمجھا ہے، وہی صحیح ہے، صحابہٴ کرام اور بڑے بڑے تابعین کی صحبت سے مستفید ہونے والے حضرت امام ابوحنیفہ نے قرآن وسنت کے خلاف فیصلہ فرمایا ہے اور اُن کی رائے پر اس طرح لعن وطعن شروع کردیتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے یہ رائے گیتا، رامائن اور بائیبل سے اخذ کی ہے، نعوذ باللہ․․․․․ اگر کسی مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کی رائے کی دلیل ترمذی جیسی مستندکتاب میں وارد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول یا عمل پر مشتمل ہوتی ہے، تو بخاری ومسلم کی حدیث کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔۔ ایک سلام اور دو تشہد سے وتر کی تین رکعت کو غلط قرار دینے کے لیے صحیحین ہی نہیں؛ بلکہ صحاح ستہ سے بھی باہر نکل کر دار قطنی اور بیہقی کی اُس روایت کو بنیاد بنایا جارہا ہے، جس کے متعدد مفہوم ہوسکتے ہیں۔

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

دعائے قنوت کا وقت:

دعائے قنوت خواہ رکوع سے قبل یا رکوع کے بعد پڑھی جائے، دونوں شکلوں میں نماز ادا ہوجائے گی؛ البتہ افضل وقت کے متعلق فقہاء وعلماء کے درمیان اختلاف ہے۔ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبد اللہ بن مسعود کی رائے یہ ہے کہ دعائے قنوت پورے سال رکوع سے قبل پڑھی جائے۔(۲۶) شیخ امام ابوحنیفہ ، شیخ امام سفیان ثوری ، شیخ امام اسحاق اور شیخ امام ابن مبارک جیسے جلیل القدر فقہاء نے متعدد احادیث کی بناء پر اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ اس کی دلیل میں اختصار کی وجہ سے صرف دو حدیثیں ذکر کررہا ہوں:

(۲۲) حضرت عاصم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک سے قنوت کے متعلق سوال کیا ؟ حضرت انس نے فرمایا : قنوت ثابت ہے۔ میں نے عرض کیا : رکوع سے قبل یا بعد؟ حضرت انس نے فرمایا : رکوع سے قبل۔ میں نے کہا کہ فلاں نے مجھے آپ کی بابت بتایا ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد پڑھی ہے؟ حضرت انس نے فرمایا : اس نے جھوٹ کہا ہے۔ رکوع کے بعد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ماہ دعاء قنوت پڑھی ہے۔(۲۷)

بخاری شریف کی سب سے زیادہ مشہور شرح لکھنے والے علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ حضرت انس کی تمام روایات کو پیش نظر رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دعا قنوت کسی خاص وجہ سے (دعا وغیرہ کے لیے) پڑھی جائے تو بالاتفاق وہ رکوع کے بعد ہے اور جو قنوت عام حالات میں پڑھی جائے تو حضرت انس سے صحیح طور پر یہی ثابت ہے کہ وہ رکوع سے پہلے ہے۔(۲۸)

(۲۳) حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے۔(۲۹)

دعائے قنوت سے قبل رفعِ یدین:

(۲۴) حضرت اسود حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ وہ وتر کی آخری رکعت میں ”قل ہو اللہ احد“ پڑھتے، پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور اس کے بعد رکوع سے پہلے دعاء قنوت پڑھتے تھے۔(۳۰)

دعائے قنوت:

جودعائے قنوت عموماً ہم پڑھتے ہیں (اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکُ وَنُوٴمِنُ بِکَ ۔۔ ۔۔۔۔)، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ تفصیلات کے لیے دیکھیں:(۳۱)

خلاصہٴ کلام:

فرض نمازوں کے ساتھ ہمیں نماز وتر کا خاص اہتمام کرنا چاہیے جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں ذکر کیا گیا ہے۔ نیز سنن ونوافل کا بھی اہتمام کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہوجائے، جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ بندہ نوافل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے قریب ہوتا جاتا ہے۔ نیز اگر خدانخواستہ قیامت کے دن فرض نمازوں میں کچھ کمی نکلے تو سنن ونوافل سے اس کی تکمیل کردی جائے، جیساکہ احادیث میں ذکر آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نمازوں کا اہتمام کرنے والا بنائے اور ہماری نمازوں میں خشوع وخضوع پیدا فرمائے؛ تاکہ ہماری نمازیں دنیا میں ہمیں برائیوں سے روکنے کا ذریعہ بنیں اور قیامت کے دن جہنم کی آگ سے بچانے کا ذریعہ بنیں۔

***

حواشی:

(۱) فتاویٰ علامہ ابن تیمیہ ۲۳/۱۲۷، ۲۵۳۔ (۲) مسلم حدیث نمبر ۷۵۴، ۱۲۵۳، ترمذی․ حدیث نمبر ۴۳۰۔ (۳) ابی داوٴد، باب استحباب الوتر ۱۴۱۶، نسائی، باب الامر بالوتر ۱۶۷۵، ابن ماجہ، باب ماجاء فی الوتر ۱۱۶۹، ترمذی، باب ما جاء ان الوتر لیس بحتم ۴۵۳۔ (۴) ترمذی۔ باب ماجاء فی الوتر۴۵۲،ابن ماجہ۔ باب ماجاء فی الوتر ۱۱۶۸، ابی داوٴد۔ باب استحباب الوتر ۱۴۱۸۔ (۵) ابی داوٴد۔ باب فی الدعاء بعد الوتر۱۴۳۱، ترمذی۔ باب ما جاء فی الرجل ینام عن الوتر او ینساہ ۴۶۵، ابن ماجہ۔ باب ماجاء فی من نام عن الوتر ۱۱۸۸۔ (۶) سنن ابی داوٴد باب فی من لم یوتر ۱۴۱۹۔ (۷) درس ترمذی، مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم) ۔ (۸) (مجموع فتاویٰ ابن باز ۱۱/۳۰۰)جو انٹرنیٹ کے اس لنک پر پڑھا جاسکتا ہے: ۔ (۹) بخاری ومسلم۔ (۱۰) بخاری ومسلم وترمذی ونسائی وابوداوٴد ومسند احمد۔ (۱۱) سنن کبری للبیہقی ۔ ابواب الوتر۔ (۱۲) موٴطا مالک۔ الوتر بعد الفجر۔ (۱۳) بخاری، مسلم ۷۴۷، ترمذی۔ باب ما ذکر فیمن فاتہ حزبہ من اللیل فقضاہ بالنہار، نسائی۔ باب متی یقضی من نام عن حزبہ من اللیل، ابن ماجہ۔ باب ما جاء فیمن نام عن حزبہ من اللیل۔ (۱۴) بخاری ومسلم وترمذی وابوداوٴد و ابن ماجہ ونسائی۔ (۱۵) ترمذی ․․․ باب ما یقرء فی الوتر․․․ وقال الحاکم صحیحٌ علی شرط الشیخین․ (۱۶) نسائی باب الوتر۔ (۱۷) ترمذی ۔ (۱۸)نسائی باب کیف الوتر بثلاث ۱۶۹۸۔ (۱۹) نسائی باب ذکر اختلاف الفاظ الناقلین لخبر أبی بن کعب فی الوتر ۱۷۰۱، أبوداوٴد باب ما یقرا فی الوتر ۱۴۲۳، ابن ماجہ باب ما جاء فی ما یقرا فی الوتر ۱۱۷۱۔ (۲۰) مسند احمد ۶/۱۵۶ ، مسند النساء، حدیث السیدہ عائشہ ۲۵۷۳۸، نیزملاحظہ ہو زاد المعاد ۱/۳۳۰ فصل فی سیاق صلاتہ … باللیل ووترہ۔ (۲۱)مسند احمد ۲/۳۰، موٴطا مالک ، باب الامر بالوتر صحیح الجامع الصغیر للالبانی ۲ /۷۱۲ حدیث نمبر ۳۸۳۴۔ (۲۲) المعجم الکبیر للطبرانی ۹/۲۸۲ حدیث نمبر ۹۴۱۹ ورجالہ رجال الصحیح، مجمع الزوائد ۲/۵۰۳ باب عدد الوتر حدیث نمبر ۳۴۵۵۔ (۲۳) مصنف عبد الرزاق ۳/۲۶ باب کیف التسلیم فی الوتر حدیث نمبر ۴۶۵۹۔ (۲۴) مصنف ابن ابی شیبہ ۲ /۹۰ باب من کان یوتر بثلاث او اکثر حدیث نمبر ۶۸۳۴۔ (۲۵) مصنف ابن ابی شیبہ ۲ /۹۱ باب من کان یوتر بثلاث او اکثر حدیث نمبر ۶۸۴۰۔ (۲۶) ترمذی۔ (۲۷) بخاری۔ باب القنوت قبل الرکوع او بعدہ) ۔ (۲۸) فتح الباری صفحہ ۴۹۱ باب القنوت قبل الرکوع اور بعدہ۔ (۲۹) ابن ماجہ ۔ باب ما جاء فی القنوت قبل الرکوع وبعدہ حدیث نمبر ۱۱۸۲۔ (۳۰) جزء رفع الیدین للامام البخاری ص ۲۸۔ (۳۱) مصنف ابن ابی شیبہ ۲/۹۵ باب فی قنوت الوتر حدیث نمبر ۶۸۹۳، سنن کبری للبیہقی ۲ /۲۱۱۔

***

احکام و مسائلِ نمازِ وتر

رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَلْوِتْرُحَقٌ، فَمَنْ لَّمْ یُوْ تِرْ فَلَیْسَ مِنَّا، وتر ایک حق ہے ، جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیںحوالہ
(ابوداود بَاب فِيمَنْ لَمْ يُوتِرْ ۱۲۰۹)
مسئلہ: وتر واجب ہے ، اگر وتر بھولے سے یا جان بوجھ کر چھوڑدے تواس کی قضاء ضروری ہے ۔حوالہ
 عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ(ترمذي بَاب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَنَامُ عَنْ الْوِتْرِ أَوْ يَنْسَاهُ ۴۲۷)
مسئلہ:  وتر کی نماز ایک سلام سے تین رکعت ہے۔حوالہ
، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ (مسلم، بَاب الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ۱۲۸۰)عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُسَلِّمُ فِي رَكْعَتَيْ الْوِتْرِ(نسائي بَاب كَيْفَ الْوِتْرُ بِثَلَاثٍ۱۶۸۰) عن عائشة ، قالت :« كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بثلاث لا يسلم إلا في آخرهن (المستدرك وأما حديث بكر بن وائل ۱۰۹۰) 
مسئلہ: کھڑے ہونے پر قدرت کے باوجود بیٹھ کر وتر کی نماز پڑھنا جائز نہیں۔حوالہ
 عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ بِي بَوَاسِيرُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ(بخاري بَاب إِذَا لَمْ يُطِقْ قَاعِدًا صَلَّى عَلَى جَنْبٍ ۱۰۵۰)
مسئلہ: اسی طرح جانور پر سوار ہو کر وتر پڑھنا جائز نہیں ہاں جبکہ کوئی عذر ہو۔حوالہ
عَنْ { ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُوتِرُ بِالْأَرْضِ ، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ كَذَلِكَ (شرح معاني الاثار بَابُ الْوِتْرِ هَلْ يُصَلَّى فِي السَّفَرِ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَمْ لَا ۲۵۹/۲)عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَقَالَ سَعِيدٌ فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ لَحِقْتُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَيْنَ كُنْتَ فَقُلْتُ خَشِيتُ الصُّبْحَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَقُلْتُ بَلَى وَاللَّهِ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ(بخاري بَاب الْوِتْرِ عَلَى الدَّابَّةِ ۹۴۴)
 مسئلہ: نماز ی کا وتر کی ہر رکعت میں نفل کی طرح سورۂ فاتحہ اور دوسری سورتیں پڑھنا ضروری ہے۔حوالہ
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَأَلْنَا عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ ( ترمذی،بَاب مَا جَاءَ فِيمَا يُقْرَأُ بِهِ فِي الْوِتْر، حدیث نمبر:۴۲۵)۔ 
مسئلہ:مسئلہ:وتر کی دوسری رکعت میں تشہد کے لئے بیٹھے، اور تشہد پر کچھ اضافہ نہ کرے۔۔حوالہ
 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا لَانَدْرِي مَانَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ..... فَقَالَ إِذَاقَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ، الخ( نسائی، باب کیف التشھد الأول، حدیث نمبر:۱۱۵۱ )
مسئلہ: جب تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو تونہ ثنا پڑھے اور نہ تعوذ پڑھے-
مسئلہ:جب تیسری رکعت میں سورت کی قرات سے فارغ ہو جائے تو اس وقت دونوں ہاتھوں کا کانوں کے برابر اٹھانا اور تکبیر کہنا ضروری ہے ، جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کرتے ہیں۔حوالہ
  عَنْ الأَسْوَدِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ كَبَّرَ ثُمَّ قَنَتَ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقُنُوتِ كَبَّرَ ثُمَّ رَكَعَ. …عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ :ارْفَعْ يَدَيْك لِلْقُنُوتِ)مصنف ابن ابي شيبة  فِي التَّكْبِيرِ لِلْقُنُوتِ ۳۰۷/۲)
پھر رکوع سے پہلے کھڑے کھڑے دعائے قنوت پڑھے۔حوالہ
 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ قَبْلَ الرُّكُوعِ (ترمذي كِتَاب الْعِلَلِ ۴۹۶/۱۲)
مسئلہ: دعائے قنوت وتر میں سال بھر واجب ہے۔حوالہ
عن النخعي :أن ابن مسعود كان يقنت السنة كلها في الوتر (المعجم الكبير عبد الله بن مسعود الهذلي ۲۸۳/۹)
مسئلہ:   امام مقتدی اور منفرد میں سے ہر شخص (آہستہ سے) دعاءقنوت پڑھے۔حوالہ
 عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ :لاَ وِتْرَ إِلاَّ بِقُنُوتٍ. )مصنف ابن ابي شيبة  مَنْ قَالَ :لاَ وِتْرَ إِلاَّ بِقُنُوتٍ.۳۰۸/۲)
حضرت  عبداللہ بن مسعود رضی اللہ سے منقول قنوت پڑھنا سنت ہے اور وہ یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَھْدِیْکَ نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ وَنَشْکُرُکَ وَلاَ نَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکَ مَنْ یَّفْجُرُکَ۔ اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعَیٰ وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْرَحْمَتَکَ وَنَخْشَیٰ عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ۔

ترجمہ:اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے اور تجھ سے ہدایت طلب کرتے ہیں اور تجھ سے بخشش چاہتے ہیں اور تیرے سامنے توبہ کرتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اور تیری بہتر ثنا بیان کرتے ہیں اور تیرا شکر ادا کرتے ہیں ہم تیری ناشکری نہیں کرتے اور ہم الگ ہوتے ہیں اور چھوڑتے ہیں جو تیری نافرمانی کرتا ہے۔ اے اللہ ! ہم خاص تیری عبادت کرتے ہیں اور تیرے لئے ہی نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور ہم تیری بندگی کے لئے حاضر ہوتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں، بیشک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے۔حوالہ


(مصنف ابن ابی شیبہ، مايدعو به الرجل في قنوت الوتر، جلدنمبر:۷/۱۱۴

جو شخص اس منقول قنوت پڑھنے پر قادر نہ ہو تو وہ کہے:’’ رَبَّنَا اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ‘‘ اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں قبر کے عذاب سے بچالے۔حوالہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(بخاري بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً۵۹۱۰)
 یا تین مرتبہ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ  کہے یا تین مرتبہ یَارَبِّ  کہدے۔حوالہ
اگر نمازی قنوت پڑھنا بھول جائے اور اس کو رکوع کی حالت میں یاد آجائے تو رکوع میں قنوت نہ پڑھے اور نہ ہی قنوت پڑھنے کیلئے اٹھ کر کھڑا ہو ، بلکہ واجب کو بھولے سے چھوڑدینے کی وجہ سلام کے بعد سجدہ سہو کرے  اسی طرح اگر اسے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یاد آجائے تو قنوت نہ پڑھے ، بلکہ سلام کے بعد سجدہ سہوکرلے،اگر رکوع سے اٹھنے کے بعد قنوت پڑھ لے تو رکوع کو نہ لوٹائے لیکن سجدہ سہو کرے ، اس لئے کہ اس نے قنوت کو اپنی جگہ سے مؤخر کیا ہے۔
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ :مَنْ نَسِىَ الْقُنُوتَ فِى الْوِتْرِ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ.(السنن الكبري للبيهقي باب مَنْ نَسِىَ الْقُنُوتَ سَجَدَ لِلسَّهْوِ ۴۰۴۲)
 مسئلہ:اگر امام مقتدی کے قنوت سے فارغ ہو نے سے پہلے رکوع کرے تو مقتدی اس کی پیروی نہ کرے بلکہ قنوت کو مکمل کرے پھر اس کے ساتھ رکوع میں شریک ہو جائے۔حوالہ
 عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ :لاَ وِتْرَ إِلاَّ بِقُنُوتٍ.  )مصنف ابن ابي شيبة  مَنْ قَالَ :لاَ وِتْرَ إِلاَّ بِقُنُوتٍ.۳۰۸/۲)
 ہاں اگر امام کے ساتھ رکوع کے ملنے کی اميد نہ ہو تو امام کی پیروی کرے اور قنوت چھوڑ دے ۔حوالہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ(بخاري بَاب إِقَامَةُ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ ۶۸۰)عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ (بخاري بَاب إِيجَابِ التَّكْبِيرِ وَافْتِتَاحِ الصَّلَاةِ: ۶۹۲) مذکورہ نصوص سے معلوم ہوا کہ امام کی متابعت ضروری ہے، اب اگروہ دعائے قنوت میں لگا رہے اور رکوع میں امام کے ساتھ نہ مل پائے تواس کا ایک رکن میں امام کی متابعت نہ کرنا پایا جائے گا پھر اس کی نماز فاسد ہوجائے گی؛ اس لیے اس صورت میں قنوت چھوڑ کرامام کی متابعت کرلے گا۔
مسئلہ: اگر امام دعائے قنوت چھوڑدے تو مقتدی کا اگر امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہونا ممکن ہو تو قنوت پڑھ لے۔حوالہ
 عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ :لاَ وِتْرَ إِلاَّ بِقُنُوتٍ. )مصنف ابن ابي شيبة  مَنْ قَالَ :لاَ وِتْرَ إِلاَّ بِقُنُوتٍ. ۳۰۸/۲)
 اور اگر امام کے ساتھ رکوع کے چھوٹ جانے کا اندیشہ ہو تو امام کی پیروی کرے اور قنوت چھوڑدے۔ حوالہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ(بخاري بَاب إِقَامَةُ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ ۶۸۰) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ (بخاري بَاب إِيجَابِ التَّكْبِيرِ وَافْتِتَاحِ الصَّلَاةِ: ۶۹۲) مذکورہ نصوص سے معلوم ہوا کہ امام کی متابعت ضروری ہے، اب اگروہ دعائے قنوت میں لگا رہے اور رکوع میں امام کے ساتھ نہ مل پائے تواس کا ایک رکن میں امام کی متابعت نہ کرنا پایا جائے گا پھر اس کی نماز فاسد ہوجائے گی؛ اس لیے اس صورت میں قنوت چھوڑ کرامام کی متابعت کرلے گا۔
مسئلہ:قنوت ، وتر کے علاوہ صرف مصائب کے وقت پڑھا جائے گا، حوادث و مصائب کے وقت پڑھا جانے والا قنوت صرف امام کے لئے رکوع سے سراٹھانے کے بعد مسنون ہے نہ کہ منفرد کے لئے ۔حوالہ
 عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَقَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ أَوَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ قَالَ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا(بخاري باب الْقُنُوتِ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ ۹۴۶)
 امام کے لئے بہتر یہ ہے کہ مصائب میں درج ذیل قنوت کو پڑھے ، مزید اس میں سنت سے ثابت شدہ زیادتی کی جاسکتی ہے۔حوالہ
اَللّٰھُمَّ اھْدِنَا بِفَضْلِکَ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ ، وَعَافِنَا فِیْمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنَا فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لَنَا فِیْمَا أَعْطَیْتَ، وَقِنَا شَرَّمَا قَضَیْتَ ، فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلاَ یُقْضَیٰ عَلَیْکَ، وَاِنَّہٗ لاَ یُذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ ، وَلَا یَعِزُّمَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ ، وَصَلَّی اللُّہُ عَلَی سَیِّدِنَا مُحَمِّدٍ وَّالِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ ‘’(ترمذی، بَاب مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ۴۲۶)
مسئلہ:اگر مسبوق اپنے امام کو تیسری رکعت کے رکوع میں پالے تو حکما قنوت پانے والا ہوگا ، لہذا وہ اپنی نماز مکمل کرنے کے لئے کھڑا ہوتے وقت قنوت نہیں پڑھے گا۔حوالہ
 عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ  صلى الله عليه وسلم  قَالَ « مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ فَقَدْ أَدْرَكَهَا قَبْلَ أَنْ يُقِيمَ الإِمَامُ صُلْبَهُ(دار قطنی باب مَنْ أَدْرَكَ الإِمَامَ قَبْلَ إِقَامَةِ صُلْبِهِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ.۱۳۲۹)
مسئلہ: رمضان میں وتر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا آخری رات میں تنہا پڑھنے سے افضل ہے  ۔حوالہ
عَنْ مَالِك عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ أَنَّهُ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ بِثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ رَكْعَةً  (موطامالك بَاب مَا جَاءَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ: ۲۳۳) مذکورہ اثر سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین رمضان میں جماعت کے ساتھ وترادا کیا کرتے تھے اور یہ حضرات امتِ محمدیہ میں سب سے زیادہ بہتر اور افضل پرعمل کرنے والے تھے؛ اس لیے فقہاء کرام نے رمضان میں وتر جماعت سے پڑھنے کوافضل قرار دیا ہے۔
 اورغیر رمضان میں وتر کی جماعت مکروہ ہے ۔حوالہ
 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَطَوُّعِهِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ(مسلم، بَاب جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا ۱۲۰۱) مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وترگھر میں تنہا ادا فرماتے تھے؛ اس لیے غیررمضان میں وترباجماعت مکروہ قرار دی گئی۔








No comments:

Post a Comment