Tuesday, 25 September 2012

تعارفِ آئمہِ فقہ اور ان کی کتبِ حدیث

فقہ کے مشھور چار اماموں (ائمہ اربعہ) کی طرف منسوب کتب احادیث

١. مسانید امام الاعظم : امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رح  (٨٠-١٥٠ ہجری)؛

امام اعظم ابوحنیفہؒ کا موضوع زیادہ ترفقہ تھا حدیث نہیں؛ تاہم آپ ضمناً احادیث بھی روایت کرتے جاتے تھے، جنھیں آپ کے شاگرد آپ سے روایت کردیتے تھے، مختلف علماء نے آپ سے روایت شدہ احادیث کو جمع کیا ہے، علامہ خوارزمی (۶۶۵ھ) نے ان کے پندرہ جمع شدہ مجموعے مسانید ابی حنیفہ کے نام سے مرتب کیئے ہیں، ان مجموعوں کوامام صاحبؒ سے براہِ راست نقل کرنے والے امام ابویوسفؒ، امام محمدؒ، امام صاحبؒ کے صاحبزادے حمادؒ اور امام حسن بن زیادؒ ہیں، ان میں سب سے بہتر مجموعہ محدث جلیل موسیٰ بن زکریا حنفی کا ہے، اسے ہی مسندابی حنیفہ کہا جاتا ہے، یہ کتاب مصر، ہندوستان اور پاکستان میں بارہا چھپ چکی ہے۔
محدثِ کبیر ملاعلی قاریؒ نے مسندالانام فی شرح الامام کے نام سے اس کی شرح لکھی جو سنہ ۱۸۸۹ء میں مطبع محمدی لاہور نے شائع کی تھی، یہ کتاب مولانا محمدحسن سنبھلی کے حاشیہ کے ساتھ اصح المطابع لکھنؤ سے سنہ ۱۳۰۹ھ میں شائع ہوئی۔

خناسوں کا وسوسہ: امام صاحب کی کوئی حدیث کی (خود کی لکھی) کتاب نہیں ہے، ان کے شاگردوں نے لکھ کر ان کی طرف منسوب کردی ہیں؟
جواب: جس طرح الله کے رسول صلی الله عالیہ وسلم نے خود قرآن نہیں لکھا، بلکہ جو یاد کیا وہ اپنے شاگرد (صحابہ) سے لکھواتے، تو شیعہ کی طرح کہنا کے یہ قرآن نبی والا نہیں کیونکہ یہ نبی نے نہیں لکھا بلکہ صحابہ (رض) کا لکھا (گھڑا) ہوا ہے، صحیح نہیں ہوگا. ایسے ہی امام صاحب نے جو احادیث صحابہ رضی الله عنہم سے حفظ کیں ان سے انکے شاگرد لکھ کر محفوظ کر گۓ.
--------------------------------------------------------------------
٢. موطا امام مالک : امام مالک بن انس رح (٩٣-١٧٩ ہجری)؛


مؤطا لفظ توطیہ سے ہے، توطیہ کے معنی روندنے، تیار کرنے اور آسان کرنے کے ہیں، امام مالکؒ نے اسے مرتب کرکے ستر فقہاء کے سامنے پیش کیا، سب نے اس سے اتفاق کیا، اسی وجہ سے اس اتفاق شدہ مجموعہ کو مؤطا کہا گیا، امام مالکؒ نے اسے فقہاء کے سامنے کیوں پیش کیا؟ محدثین کے سامنے کیوں نہیں؟ ملحوظ رہے کہ ان دنوں فقہاء ہی حدیث کے اصل امین سمجھے جاتے تھے اور یہی لوگ مراداتِ حدیث کوزیادہ جاننے والے مانے جاتے تھے۔
امام مالکؒ کا موضوع چونکہ زیادہ ترفقہ تھا، اس لیئے آپ نے اس میں سند کے اتصال کی بجائے تعامل امت کوزیادہ اہمیت دی ہے، آپ اس میں اقوالِ صحابہؓ اور تابعینؒ بھی لے آئے ہیں، آپ کے ہاں سنت وہی ہے جس پر اُمت میں تسلسل سے عمل ہوتا آیا ہو، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

"مز جہ باقوال الصحابۃ وفتاویٰ التابعین ومن بعدھم"۔ 

(مقدمہ فتح الباری:۴)

ترجمہ: آپ نے صحابہ کے اقوال اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں کے فتاوے اس میں شامل کیئے ہیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اسے فقہ کی کتاب شمار کرتے ہیں (مسوی عربی شرح موطا:۴) جہاں تک اس کی اسانید کا تعلق ہے اس کے بارے میں لکھتے ہیں:

"لیس فیہ مرسل ولامنقطع الاوقداتصل السند بہ من طرق اخریٰ"۔

(حجۃ اللہ البالغہ:۱/۱۳۳)

ترجمہ: اس میں کوئی مرسل اور منقطع روایت ایسی نہیں جودوسرے طرق سے متصل نہ ہوچکی ہو۔

مؤطاامام مالک میں ۸۲۲/روایات مرفوع ہیں، جوحضور   تک پہنچتی ہیں ان میں سے بھی ۲۴۴/مرسل ہیں، جوتابعینؒ کی روایت سے حضور   تک پہنچی ہیں، انہیں محدثین کی اصطلاح میں مرسل کہتے ہیں، اس دور میں مرسل احادیث لائقِ قبول سمجھی جاتی تھیں، جب تک جھوٹ اور فتنوں کا دور شروع نہیں ہوا، امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ جیسے اکابر مرسل روایات کوبلاتردد قبول کرتے رہے، امام مالکؒ سے مؤطا کے سولہ نسخے آگے چلے، جن میں صحیح ترین نسخہ امام یحییٰ بن یحییٰ مصمودی اندلسی کا ہے، مؤطا مالک ان دنوں اسے ہی کہتے ہیں، بڑے بڑے متبحر علماء نے اس کی شروح اور حواشی لکھے ہیں، حضرت امام شافعیؒ نے لکھا ہے:

"ماعلی ظہرالارض کتاب بعد کتاب اللہ اصح من کتاب مالک"۔

(تزئین المالک:۷۳)

ترجمہ:تختۂ زمین پر کوئی کتاب قرآن کریم کے بعد مؤطا سے زیادہ صحیح نہیں۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب صحیح بخاری اور صحیح مسلم وجود میں نہ آئی تھیں اور صحتِ سند کے لحاظ سے مؤطا مالک اپنی مثال آپ تھی، اس کی کوئی روایت جرح راوی کی وجہ سے ضعیف نہیں، امام مالکؒ سے ایک ہزار کے قریب علماء نے مؤطا لکھی۔

(بستان المحدثین اردو ترجمہ:۲۲، مطبع: کراچی)


----------------------------------------------------------------------
٣. مسند امام الشافعی : ابو عبد الله محمد بن ادریس الشافعی رح (١٥٠-٢٠٤ ہجری )؛

آپ کا زیادہ ترموضوع فقہ تھا؛ مگرآپ اس کے ضمن میں احادیث بھی روایت کرتے تھے، آپ کے دور میں فتنے بہت اُبھر آئے تھے اور جھوٹ عام ہوچکا تھا، اس لیئے آپ نے راویوں کی جانچ پڑتال پر بہت زور دیا اور تعامل امت کی نسبت صحت سند کواپنا مآخذ بنایا، آپ نے یہ مسندخودترتیب نہیں دی، اس کے مرتب ابوالعباس محمدبن یعقوب الاصم (۶۴۶ھ) ہیں، یہ مسند امام شافعیؒ سے امام مزنیؒ نے اور امام مزنیؒ سے امام طحاویؒ (۳۲۱ھ)نے بھی روایت کی ہے، اس کی بھی کئی شروح لکھی گئیں جن میں مجدالدین ابن اثیرالجزریؒ (۶۰۶ھ)اور امام سیوطیؒ کی شرحیں زیادہ معروف ہیں۔

-------------------------------------------------------------------------------------
musnad imam ahmad ibn hambal tarjamah by shaykh
٤. مسند امام احمد : احمد بن محمد بن حنبل ابو عبداللہ شیبانی رح (١٦٤-٢٤١ ہجری)؛
http://islamicbookslibrary.wordpress.com/2010/09/26/953/


مسند احمد کی موجودہ ترتیب آپ کے صاحبزادے عبداللہ کی ہے، قاضی شوکانی لکھتے ہیں: امام احمدؒ نے جس روایت پر سکوت اختیار کیا ہے اور اس پر جرح نہیں کی وہ لائق احتجاج ہے (نیل الاوطار:۱/۱۳) اس سے اس مسند کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے، حافظ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ مسنداحمد کی شرط روایت ابوداؤد کی ان شرائط سے قوی ہے جوانھوں نے اپنی سنن میں اختیار کی ہیں، امام ابوداؤدؒ (۲۷۵ھ) لکھتے ہیں:

"وماالم اذکر فیہ شیئا فھو صالح وبعضھا اصح من بعض"۔   

(مقدمہ سنن ابی داؤد:۶)

ترجمہ: اور جس راوی کے بارے میں میں نے کچھ نہیں لکھا وہ اس لائق ہے کہ اس سے حجت پکڑی جائے۔

علامہ ابن الجوزیؒ اور حافظ عراقیؒ نے مسنداحمد کی ۳۸/روایات کوموضوع قرار دیا ہے، حافظ ابنِ حجرعسقلانیؒ نے ان میں ۹/روایات کا پورا دفاع کیا ہے اور اس پر ایک مستقل کتاب ("القول المسدد فی الذب عن مسنداحمد" اس کا نا م ہے) لکھی ہے، جو حیدرآباد دکن سے شائع ہوچکی ہے، چودہ روایات کا جواب حافظ جلال الدین سیوطیؒ نے "الذیل الممہد" میں دیا ہے، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہولیؒ نے مسندامام احمد کوطبقۂ ثانیہ کی کتابوں میں جگہ دی ہے، حافظ سراج الدین عمر بن علی ابن الملقن (۸۰۴ھ) نے مسنداحمد کا ایک اختصار بھی کیا ہے اور علامہ ابوالحسن سندھیؒ (۱۲۳۹ھ) نے مسنداحمد کی ایک شرح بھی لکھی ہے، شیخ احمدبن عبدالرحمن البناء نے اسے فقہی ابواب پر مرتب کیا اور شیخ احمد شاکر نے اس پر تحقیقی کام کیا ہے، اس کا نام الفتح الربانی من مسنداحمد بن حنبل شیبانی ہے یہ ۲۲/جلدوں میں ہے سنہ۱۳۵۳ھ میں پہلی جلد شائع ہوئی سنہ ۱۳۷۷ھ میں آخری جلد مطبع غوریہ مصر سے شائع ہوئی۔
پہلے دور کے یہ دس نمونے مختلف قسموں پر جمع ہوئے ہیں، اس دور کی اور بھی بہت کتابیں تھیں، جواس وقت ہماری رسائی میں نہیں؛ لیکن ان کے حوالے شروح حدیث میں عام ملتے ہیں اور ان کے مخطوطات بھی کہیں کہیں موجود ہیں، ان کے تعارف کا عملاً کوئی فائدہ نہیں، صرف چند نام پڑھ لیجئے:
سنن مکحول الدمشقی (۱۱۶ھ)، سنن ابن جریج المکی (۱۵۰ھ)، جامع معمر بن راشد (۱۵۳ھ)، جامع سفیان الثوری (۱۶۱ھ)، مسنداحمد بن عمروالبزار (۱۶۷ھ)، مسندوکیع بن الجراح (۱۹۷ھ)، مسندابن الجارود الطیالسی (۲۰۴ھ)، مسندالفریابی (۲۱۲ھ)، مسندابی عبید قاسم بن سلام (۲۲۴ھ) مسندابن المدینی (۲۳۴ھ)، مسنداسحٰق بن راہویہ (۲۳۸ھ)، خدا کرے یہ مجموعے بھی شائع ہوجائیں ان سے باب حدیث میں نئی تحقیقات کا اضافہ ہوگا؛ بحمدللہ یہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور نٹ پربھی دستیاب ہیں، ڈیجیٹل لائبریری سے فائدہ اٹھانے والے تواس سے خوب فائدہ اٹھارہے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ اس دور کے آخر میں تالیف حدیث اپنے فنی کمال کوپہنچ گئی اور محدثین نے وہ گراں قدر مجموعے مرتب کیئے کہ خود فن ان پر ناز کرنے لگا، صحیح بخاری اور صحیح مسلم اسی دورِ آخر کی تالیفات ہیں۔


=======================================================

فقہاء حدیث ائمہ مجتہدین


صحابہؓ وتابعینؒ کے بعد ائمہ مجتہدین کی باری آتی ہے، یہ حضرات علمِ اصول کے امام اور فقہ واحادیث کے جامع تھے ، موضوع ان کا زیادہ ترفقہ رہا، اس لیئے ان کی شہرت مجتہد Theorist کے طور پر زیادہ رہی، محدثین انہیں حفاظِ حدیث میں بھی ذکر کرتے ہیں اور فقہاء انہیں اپنے میں سے مجتہد قرار دیتے ہیں، ان میں سے بعض کی امت میں پیروی جاری ہوئی اور بعض کی نہیں، بعض ان میں سے اپنے اساتذہ سے نسبت برقرار رکھنے کے باعث مجتہد منتسب سمجھے گئے؛ تاہم اس میں شبہ نہیں کہ یہ حضرات حدیث وفقہ کے جامع اور اپنے اپنے درجہ میں مجتہد مطلق کا مقام رکھتے تھے، ان میں ہم حضرت امام ابوحنیفہؒ (۱۵۰ھ)، امام اوزاعیؒ (۱۵۷ھ)، سفیان الثوریؒ (۱۶۱ھ)، امام لیث بن سعد مصریؒ (۱۷۵ھ)، امام مالکؒ (۱۷۹ھ)، امام ابویوسفؒ (۱۸۲ھ)، امام محمدؒ (۱۸۹ھ)، امام شافعیؒ (۲۰۴ھ)، اسحاق بن راہویہؒ (۲۳۸ھ) اور امام احمد بن حنبلؒ (۲۴۱ھ) کا ذکر کریں گے، حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ان حضرات کو مجتہد تسلیم کیا ہے، ائمہ اربعہ امام اوزاعی، سفیان الثوریؒ، لیث مصریؒ، امام ابویوسفؒ، امام محمدؒ اور اسحاق بن راہویہؒ یہ دس حضرات ہوتے ہیں، جومجتہدین کہلائے، یہ حضرات اپنے اپنے وقت کے فقہائے حدیث تھے، اب ان کا فرداً فرداً ذکر ہوتا ہے۔

(۱)حضرت امام ابوحنیفہ ؒ


امام ابوحنیفہؒ (پیدئش: ۸۰ھ) کی شہرت زیادہ ترامام مجتہد کی حیثیت سے ہے؛ لیکن علمائے حدیث نے آپ کو محدثین میں بھی ذکر کیا ہے، محدثین کا ذکر اس عنوان سے کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فلاں فلاں سے احادیث سنیں اور ان سے آگے فلاں فلاں نے روایت لیں، حضرت امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں بھی یہ پیرایہ تعارف موجود ہے، حافظ ابن عبدالبر مالکیؒ (سنہ ۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:

"قد قال الامام علی بن المدینی ابوحنیفہ روی عنہ الثوری وابن المبارک وحماد بن زید وہشام ووکیع وعباد بن العوام وجعفر بن عون وھو ثقہ لاباس بہ وکان شعبہ حسن الرای فیہ"۔             

    (روی حماد بن زید عن ابی حنیفۃ احادیث کثیرۃ، الانتقاء:۱۳۰)

ترجمہ: امام علی بن المدینی کہتے ہیں کہ سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک، حمادبن زید، ہشام، وکیع، عباد بن عوام، جعفر بن عون نے امام ابوحنیفہؒ سے حدیث روایت کی ہے، ابوحنیفہ ثقہ تھے ان سے روایت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور شعبہ امام ابوحنیفہ کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔

حافظ شمس الدین ذہبی لکھتے ہیں:

"وحدث عن عطاء ونافع وعبد الرحمن بن هرمز الاعرج وعدى بن ثابت وسلمة بن كهيل وابي جعفر محمد بن علي وقتادة وعمرو بن دينار وابي اسحاق وخلق كثير..... وحدث عنه وكيع ويزيد بن هارون وسعد بن الصلت وابوعاصم وعبد الرزاق وعبيد الله بن موسى وابو نعيم وابو عبد الرحمن المقرى وبشر كثير، وكان اماما ورعا"۔   

  (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۶۸)

ترجمہ: امام ابوحنیفہ نے عطاء، نافع، عبدالرحمن بن ہرمز الاعرج، سلمہ بن کہیل، ابی جعفر، محمدبن علی، قتادہ، عمرو بن دینار، ابی اسحاق اور بہت سے لوگوں سے حدیث روایت کی ہے اور ابوحنیفہ سے وکیع، یزید بن ہارون، سعد بن صلت، ابوعاصم، عبدالرزاق، عبیداللہ بن موسیٰ، ابونعیم، ابوعبدالرحمن المقری اور خلق کثیر نے روایت لی ہے اور ابوحنیفہ امام تھے اور زاہد پرہیزگار تھے۔

ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ اہلِ مکہ کے محدث اور مفتی عطاء بن ابی رباح سے کس کس نے حدیث راویت کی ہے؟:

"وعنه ايوب وحسين المعلم وابن جريج وابن اسحاق والاوزاعي وابو حنيفة وهمام بن يحيى وجرير ابن حازم"۔  

        (تذکرۃ الحفاظ:۱/۹۲)

خطیب تبریزی، صاحب مشکوٰۃ لکھتے ہیں:

"سمع عطاء بن ابی رباح وابااسحاق السبیعی ومحمد بن المنکد رونا فعاوہشام بن عروۃ وسماک بن حرب وغیرہم وروی عنہ عبداللہ بن المبارک وکیع بن الجراح ویزید بن ہارون والقاضی ابویوسف ومحمد بن الحسن الشیبانی وغیرہم"۔                 

  (الاکمال:۶۲۴)

ترجمہ: ابوحنیفہؒ نے عطا بن رباح اور ابواسحاق السبیعی اور محمدبن المنکدر اور ہشام بن عروہ اور سماک بن حرب وغیرہ حضرات سے روایت لی اور ابوحنیفہؒ سے عبداللہ بن مبارک اوروکیع بن الجراح اور یزید بن ہارون اور قاضی ابویوسف اور محمد بن حسن الشیبانی وغیرہ حضرات نے روایت لی ہیں ۔

حضرت عبدالرحمن المقری (۲۱۳ھ) جب آپ سے روایت کرتے توفرماتے مجھ سے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی جو (فن حدیث میں) بادشاہوں کا بادشاہ تھا، خطیب بغدادیؒ لکھتے ہیں:

"کان اذاحدث عن ابی حنیفۃ قال حدثنا شاہنشاہ"۔

آپ کے اساتذہ وتلامذہ ان کے علاوہ بھی بہت سے تھے، آپ نے بلند پایہ محدثین سے محدثین کے طور پر روایات لیں اور آگے محدثین کے طرز پر انہیں محدثین سے روایت کیا، آپ کے تلامذہ میں سے عبداللہ بن مبارک اور وکیع بن الجراح کے تذکرے کتب رجال میں دیکھیں، یہ حضرات فنِ حدیث میں اپنے وقت کے آفتاب وماہتاب تھے، ان جیسے اکابر محدثین کا حدیث میں آپ کی شاگردی کرنا اس فن میں آپ کی عظمتِ شان کی کھلی شہادت ہے، یہ صحیح ہے کہ آپ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی طرح مکثرین روایت میں سے نہ تھے؛ لیکن اس سے آپ کے علمِ حدیث میں کمزور ہونے کا شبہ کسی جاہل کوبھی نہ ہوسکے گا، محدثین آپ کے ذکر کے بغیرآگے نہ چلتے تھے، مشکوٰۃ شریف حدیث کی کتاب ہے جس میں ایک روایت بھی آپ سے منقول نہیں؛ مگرخطیب تبریزی "الاکمال فی اسماء الرجال" میں آپ کے ذکر کے بغیر آگے نہیں چل سکے، آپ کے وفور علم کی شہادت آپ کودینی پڑی اور ظاہر ہے کہ ان دنوں علم سے مراد علم حدیث ہی لیا جاتا تھا، مصنف مذکور لکھتے ہیں:

"والغرض بایراد ذکرہ فی ہذا الکتاب وان لم نرد عنہ حدیثاً فی المشکوٰۃ للتبرک بہ لعلو رتبتہ ووفور علمہ"    

       (الاکمال فی أسماء الرجال:۶۲۴)

ترجمہ: اورغرض اس کتاب میں آپ کا ذکرلانے سے یہ ہے کہ اگرچہ ہم مشکوٰۃ میں اُن سے کوئی حدیث نہیں لائے ہیں کہ آپ کے ذکر سے برکت حاصل ہوجائے، یہ آپ کے علوِمرتبہ اور وفور علم کی وجہ سے ہے۔

وفورِ علم سے مرادِ حدیث کا علم وافر نہیں تو اور کیا ہے؟ رہا فقہ تویہ علم اسی وقت بنتا ہے جب یہ حدیث پر مرتب ہو اسے علم حدیث لازم ہے؛یہی نہیں کہ آپ نے محدثین کے طرز پر روایات لیں اور آگے روایت کیں؛ بلکہ روایتِ حدیث اور راویوں کے صدق وکذب پر بھی آپ کی پوری نظر تھی، امام اوزاعیؒ سے ایک مسئلے پر گفتگو ہوئی اور دونوں طرف سے احادیث سند کے ساتھ پڑھی گئیں توآپ نے دونوں طرف کے راویوں پر تبصرہ فرمایا اور باوجود یہ کہ دونوں طرف کے روات ثقہ تھے، آپ نے راویوں کے علو فہم پر بحث شروع کردی (سند الانام فی شرح مسند الامام:۲۰) اور دونوں طرف کے راویوں کا نام لے لے کر بتایا کہ حماد بن ابی سلیمان زہری سے افقہ ہیں اور فلاں فلاں سے افقہ ہے اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے مقابلے میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہیں، اس سے واضح ہے کہ آپ راویوں پر تنقیدی نظر رکھتے تھے، ایک دوسری جگہ راویوں کے صدق وکذب پر آپ گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:

"مارأیت احداً افضل من عطاء"۔                 

  (تذکرہ:۱/۹۲)

میں نے عطاء بن ابی رباح سے زیادہ اچھا (راوی) کسی کو نہیں دیکھا...... اور یہ بھی فرمایا:

"مالقیت فیمن لقیت اکذب من جابر الجعفی"۔              

(تہذیب التہذیب:۳/۴۸)

میں جن لوگوں سے ملاہوں ان میں جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کسی کو نہیں پایا۔

حافظ ابنِ حجر نے زید بن عیاش کے بارے میں آپ کی رائے نقل کی ہے "انہ مجہول" (تہذیب التہذیب:۴/۴۲۴)طلق بن حبیب پر آپ نے اس کے عقیدہ کی رو سے جرح کی ہے "کان یری القدر" (الجواہر المضیہ:۱/۳۰) محدثین ہی راویوں پر اس درجہ تنقیدی نظر رکھتے ہیں، حافظ شمس الدین الذہبیؒ لکھتے ہیں:

"قال ابوحنیفۃ رایت ربیعہ واباالزناد وابوالزناد افقہ الرجلین"۔ 

(تذکرہ:۱/۱۲۷)

ترجمہ:ابوحنیفہؒ کہتے ہیں میں نے ربیعہ اور ابوالزناد دونوں کودیکھا، ابوالزناد زیادہ فقیہ تھے۔

محدثین کا آپ کے متعلق اس قسم کی آراء کا اظہار کرنا اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ آپ رواۃ حدیث کے فہم ودرایت پر کتنی گہری نظر رکھتے تھے، حضرت سفیان الثوریؒ کے علمی مرتبہ اور شانِ علم حدیث سے کون واقف نہیں، اتنے بڑے محدث کے بارے میں آپ سے رائے لی گئی کہ ان سے حدیث لی جائے یا نہیں؟ امام بیہقیؒ لکھتے ہیں:

"عبد الحميد قال: سمعت أباسعد الصاغاني يقول: جاء رجل إلى أبي حنيفة فقال: ماترى في الأخذ عن الثوري؟ فقال: اكتب عنه ماخلا حديث أبي إسحاق عن الحارث عن علي، وحديث جابر الجعفي"۔

(کتاب القرأۃ للبیہقی:۱۳۴)

ترجمہ: عبدالحمید الحمانی کہتے ہیں میں نے ابوسعدصاغانی کوکہتے ہوئے سنا کہ ایک شخص امام ابوحنیفہ کے پاس آیا اور پوچھا سفیان ثوری سے روایت لینے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان سے حدیث لے لو؛ ماسوائے ان حدیثوں کے جنھیں وہ ابواسحاق عن الحارث کی سند سے روایت کریں یاجنھیں وہ جابر جعفی سے نقل کریں۔

غور کیجئے جب حضرت امام سفیان ثوری جیسے محدث کے بارے میں بھی آپ سے رائے لی جارہی ہےتو آپ کا اپنا مقام حدیث میں کیا ہوگا؟ اجتہاد واستنباط یاتطبیق وترجیح میں تومجتہدین آپ سے اختلاف کرسکتے ہیں؛ لیکن کسی مقام پریہ کہہ دینا کہ یہ حدیث حضرت امام کونہ پہنچی ہوگی ہرگز درست نہیں؛ اس دور میں یہ بعض الظن اثم کے قبیل میں سے ہے، محدث جلیل ملاعلی قاری احیاء العلوم کی ایک عبارت پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"فالظن بأبي حنيفة أن هذه الأحاديث لم تبلغه ولوبلغته لقال بها قلت هذا من بعض الظن فإن حسن الظن بأبي حنيفة أنه أحاط بالأحاديث الشريفة من الصحيحة والضعيفة، لكنه مارجح الحديث الدال على الحرمة أوحمله على الكراهة جمعا بين الأحاديث وعملا بالرواية والدراية"۔

(سندالانام:۵۲)

الحافظ اور الحجۃ کے درجے کے محدثین توبہت ہوئے؛ لیکن بہت کم ہوئے جن کا علم تمام احادیث کومحیط مانا گیا ہو، حضرت امام ان کبارِ محدثین میں سے ہیں، جن کاعلم تمام احادیثِ صحیحہ اور ضعیفہ کومحیط مانا گیا، ایک مرتبہ یحییٰ بن معینؒ سے امام ابوحنیفہؒ کے متعلق پوچھا گیا توفرمایا کہ ثقہ میں ثقہ ہیں، ایک مرتبہ فرمایا حدیث فقہ میں اور سچے ہیں اور دین کے بارے میں قابلِ اعتماد ہیں۔

(تاریخ بغداد خطیب:۱۳/۴۱۹،۴۲۰)

امام ابوداؤد فرماتے ہیں:

"ان ابا حنیفۃ کان اماما"۔

(تذکرہ:۵/۱۶۰) 

   ترجمہ:بے شک ابوحنیفہؒ امام تھے۔

حضرت سفیان بن عیینہ (۱۹۸ھ) کس پائے کے محدث تھے یہ اہلِ علم سے مخفی نہیں، آپ کوفہ آئے توعلماء حدیث تب آپ سے حدیث سننے کے لیئے تیار ہوئے، جب حضرت امام ابوحنیفہؒ نے آپ کے محدث ہونے کی تصدیق کی، آپ نے فرمایا: یہ شخص عمرو بن دینار کی روایات کا سب سے بڑا عالم ہے، اس پر علماء سفیان بن عیینہ کے گرد جمع ہوگئے، حضرت سفیانؒ کہتے ہیں:

"قدمت الکوفۃ فقال ابوحنیفۃ ہذا اعلم الناس بحدیث عمروبن دینار فاجتمعوا علی فحدثتھم"۔ 

                   (الجواہرالمضیئۃ:۱/۳۰)

سفیان بن عیینہ کومحدث بنانے میں بڑے بڑے محدثین کی محنتیں ہوئیں؛ مگراس میں سبقت حضرت امام ابوحنیفہؒ کی ہے۔

حضرت سفیان خود کہتے ہیں:

"اوّل من صیرنی محدثا ابوحنیفۃ"۔      

(الجواہر نقلاً عن ابن خلکان:۱/۱۰۳)

ترجمہ:جسں نے سب سے پہلے مجھے محدث بنایا ابوحنیفہ تھے۔

حافظ ذہبیؒ فرماتے ہیں محدثِ حرم حضرت سفیان کوفی تھے، اب آپ خود سمجھ لیں کہ آپ نے حضرت امام سے کس قدر استفادہ کیا ہوگا، آپ مسلکاً بھی حنفی تھے۔                    

   (الجواہر:۱/۲۵۰)

یحییٰ بن زکریا ابی زائدہ کی جلالتِ علم سے کون واقف نہیں، حافظ ذہبیؒ انہیں "الحافظ الثبت المتقن الفقیہ"(تذکرہ:۱/۲۴۶) لکھتے ہیں،  آپ حضرت امام کے شاگرد تھے اور بقول حضرت امام طحاویؒ حضرت امام کے اُن پہلے دس اصحاب میں سے تھے جوتدوین علم میں آپ کے ساتھ بیٹھے، فن حدیث کے ان جیسے اکابر کا حضرت امام سے یہ قریبی رابطہ بتلاتا ہے کہ حضرت امام فن روایت میں بھی ان جبالِ علم کے شیخ تھے اور اکابر محدثین نہ صرف ان کے علم حدیث کے قائل تھے؛ بلکہ ان سے اپنے محدث ہونے کی سند لیتے تھے۔

حضرت امام حدیثِ منقول پر عمل کرنے سے پہلے یہ دیکھتے تھے کہ کثیرتعداد متقی لوگ اس حدیث کواِس صحابیؓ سے روایت کرتے ہوں، یہ روایت کرنا لفظاً ضروری نہیں، خبرِواحد اپنی جگہ معتبر ہے؛ لیکن اُن کے ہاں اس کا عمل میں آیا ہوا ہونا ضروری تھا، جوحدیث معمول بہ نہ رہی ہو؛ اِس سے ان کے ہاں سنت ثابت نہیں ہوتی، سنت کے ثابت ہونے کے لیئے ضروری ہے کہ اس پر عمل بھی ہوتا آیا ہو، امام مالکؒ کانظریۂ حدیث بھی تقریباً یہی تھا، وہ حدیث کی بجائے سنت پر زیادہ زور دیتے تھے؛ مؤطا میں بار بار سنت کا لفظ لاتے ہیں اور اس سے صحابہؓ وتابعینؒ کا تواتر عمل مراد ہوتا ہے جب فتنے پھیلے اور جھوٹ کا بازار گرم ہوا تومحدثین روایت اور اسناد کے گرد پہرہ دینے لگے، اِن بدلے ہوئے حالات میں حدیث سے تمسک بذریعہ اسناد ہونے لگا اور تواتر عمل کی اس طرح تلاش نہ رہی جس طرح پہلے دور میں ہوتی تھی، اس نئے دور کے مجدد حضرت امام شافعیؒ ہیں؛ لیکن اس میں شک نہیں کہ پہلے دور میں حدیث کی بجائے سنت کوزیادہ اہمیت دی جاتی تھی، حافظ شمس الدین الذہبیؒ حضرت امام ابوحنیفہؒ کانظریۂ حدیث اُن کے اپنے الفاظ میں اس طرح نقل کرتے ہیں:

"آخذ بکتاب اللہ فمالم اجد فبسنۃ رسول اللہ والاثار الصحاح عنہ التی فشت فی ایدی الثقات عن الثقات فان لم اجد فبقول اصحابہ اٰخذ بقول من شئت...... وامااذا انتہی الامرالی ابراہیم والشعبی والحسن والعطاء فاجتہد کمااجتہدوا"۔  

(مناقب ابی حنیفۃ للذہبی:۲۰)

ترجمہ: میں فیصلہ کتاب اللہ سے لیتا ہوں جواس میں نہ ملے اسے حضور   کی سنت اور ان صحیح آثار سے لیتا ہوں جوحضور سے ثقہ لوگوں کے ہاں ثقات کی روایت سے پھیل چکے ہوں، ان میں بھی نہ ملے تومیں صحابہ کرامؓ سے لیتا ہوں اور جس کا فیصلہ مجھے اچھا (قوی) لگے لے لیتا ہوں..... اور جب معاملہ ابراہیم نخعیؒ، علامہ شعبیؒ، حضرت حسن بصریؒ اور عطاء بن ابی رباحؒ تک پہنچے تومیں بھی اس طرح اجتہاد کرتا ہوں جس طرح ان پہلوؤں نے اجتہاد کیا تھا۔

حضرت امام یہاں آثارِ صحیحہ کے عملاً پھیلے ہوئے ہونے پر زور دے رہے ہیں اور یہی اُن کا نظریہ حدیث تھا، حضرت علامہ عبدالوہاب الشعرانیؒ (۹۷۳ھ) لکھتے ہیں:

"وقد کان الامام ابوحنیفۃ یشترط فی الحدیث المنقول عن رسول اللہ قبل العمل بہ ان یرویہ عن ذٰلک الصحابی جمع اتقیاء عن مثلہم"۔        

(المیزان الکبریٰ للشعرانی:۱/۶۲)

ترجمہ: امام ابوحنیفہؒ حضور   سےنقل شدہ حدیث کومعمول بہ ٹھہرانے سے پہلے یہ ضروری ٹھہرائے تھے کہ اسے اس صحابیؓ سے ان جیسے نیک لوگوں کی ایک جماعت نے روایت کیا ہو۔

 محقق ابن الہمامؒ (۸۶۱ھ) کی حضرت امام کے اس اصل پر گہری نظر تھی، آپؒ تصریح کرتے ہیں کہ جب کوئی صحابیؓ اپنی روایت کردہ حدیث پر عمل نہ کرے اس کے خلاف فتوےٰ دے تو وہ روایت ازخود حجت نہ رہے گی؛ کیونکہ اس کے ساتھ تواترِ عمل ثابت نہیں ہوسکا، حضرت امام کا یہ نظریہ بیشک نہایت سخت ہے، روایت کے ساتھ راوی کا عمل ساتھ ساتھ چلے، ایسے راوی توصحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بہت کم ملیں گے، حضرت امامؒ تواتر عمل کے اس حد تک قائل تھے کہ وہ اس کی تائید میں ان روایات وآثار سے مدد لیتے تھے، جواپنی جگہ مرسل ہوں؛ مگرعملاً اتصال رکھتے ہوں، آپؒ کی املاء کردہ کتاب الآثار اور امام مالکؒ کے مؤطا میں آپؒ اسی نظریہ کوجگہ جگہ کارفرما پائیں گے، حافظ ابنِ عبدالبر مالکیؒ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:

"أنہ کان یذھب فی ذلک الی عرضھا علٰی مااجتمع علیہ من الاحادیث ومعانی القرآن فماشذ من ذلک ردہ وسماہ شاذاً"۔                

   (الموافقات للشاطبی:۳/۲۶)

ترجمہ:امام صاحبؒ ایسے موقع پر اس روایت کواس موضوع کی دوسری احادیث اور قرآنی مطالب سے ملاکر دیکھتے جوروایت اس مجموعی موقف سے علیٰحدہ رہتی آپؒ اسے (عمل میں) قبول نہ کرتے اور اس کا نام شاذIsolated رکھتے۔

حضرت امام کے نظریہ حدیث میں یہ اصول بھی کار فرما ہے کہ آثارِ صحابہ اور ضعیف حدیث کوبھی نظرانداز نہ کیا جائے، اُن کے ہاں آثارِ صحابہ اور ضعیف حدیث کے ہوتے ہوئے اجتہاد اور قیاس سے کام نہ لینا چاہئے، اپنی رائے پر ضعیف حدیث اور آثارِ صحابہ کوترجیح دینی چاہیے، یہ صرف حضرت امام کی ہی رائے نہ تھی، کل فقہاء عراق اسی نظریہ کے تھے، علامہ ابنِ حزمؒ نے اس پر فقہاء عراق کا اجماع نقل کیا ہے؛ ضعیف حدیث سے یہاں وہ روایت مراد نہیں، جس کا ضعف انتہائی شدید قسم کا ہویا وہ موضوع ہونے کے بالکل قریب جاچکی ہو، متکلمین کا جوطبقہ مسائل ذات وصفات میں تاویل کی راہ چلا حضرت امام اس مسلک کے نہ تھے، اس باب میں آپ محدثین کی روش پرتھے اور آیات صفات پر بلاتاویل ایمان رکھتے تھے، حافظ ابنِ کثیرؒ (۷۷۴ھ) آپ کا تعارف ان الفاظ میں کراتے ہیں:

"هوالامام أبوحنيفة واسمه النعمان بن ثابت التيمي مولاهم الكوفي، فقيه العراق، وأحد أئمة الاسلام، والسادة الاعلام، وأحد أركان العلماء، وأحد الائمة الاربعة أصحاب المذاهب المتنوعة"۔                

   (البدایہ والنہایہ:۱/۱۰۷)

علامہ ذہبیؒ (۷۴۸ھ) آپ کے لیئے امام اعظم کا لقب اختیار کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:

".....کان اماماً ورعاً عالماً عاملاً متعبدا کبیرالشان"۔          

   (تذکرہ:۱/۱۵۸)

الامام اعظم، فقیہ العراق، حضرت امام متورع، عالم، عامل، متقی اور کبیرالشان تھے۔

امام مکی بن ابراہیمؒ فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہؒ اعلم اہل الارض تھے (مقدمہ اوجزالمسالک:۶۰) یعنی کرۂ ارضی کے اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم تھے، علم ان دنوں علمِ حدیث کوہی کہا جاتا تھا، علامہ ابنِ خلدونؒ فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہؒ علم حدیث کے بڑے مجتہدین میں سے تھے (مقدمہ ابنِ خلدون:۴۴۵) اور لکھتے ہیں کہ فقہ میں آپ کا مقام اتنا بلند تھا کہ کوئی دوسرا ان کی نظیر نہ تھا اور ان کے تمام ہمعصر علماء نے ان کی اس فضیلت کا اقرار کیا ہے خاص طور پر امام مالکؒ اور امام شافعیؒ نے(مقدمہ:۴۴۸) امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن سعید القطان (۱۹۸ھ) فرماتے ہیں کہ ہم خدائے قدوس کی تکذیب نہیں کرتے، ہم نے امام ابوحنیفہؒ سے بہتر رائے اور بات کسی سے نہیں دیکھی (تہذیب التہذیب:۱۰/۴۴۹) آپ بھی حضرت امام کے قول پر فتویٰ دیتے تھے، حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں:

"کان یحییٰ القطان یفتی بقول ابی حنیفہ ایضا"۔       

   (تذکرہ:۱/۲۸۲)

یہ اِس درجہ کے امام تھے کہ امام احمدؒ فرماتے ہیں: "مارأیت بعینی مثل یحییٰ بن سعید القطان"۔    

      (تذکرہ:۱/۲۷۵)

میں نے اپنی آنکھوں سے یحییٰ بن سعید کی مثال کسی کو نہ دیکھا۔

اِس درجے کے عظیم القدر محدث کا فقہی مسائل میں امام ابوحنیفہؒ کی پیروی کرنا اور اُن کے قول پر فتوےٰ دینا اس با ت کا پتہ دیتا ہے کہ حضرت امامؒ حدیث وفقہ میں کتنا اونچا مقام رکھتے تھے، عبداللہ بن داؤدؒ کہتے ہیں:

"جب کوئی آثار یاحدیث کا قصد کرے تو (اس کے لیئے) سفیانؒ ہیں اور جب آثار یاحدیث کی باریکیوں کومعلوم کرنا چاہے توامام ابوحنیفہؒ ہیں"۔         

   (سیرالاحناف:۲۹)

امام مسعر بن کدامؒ (۱۵۵ھ) کی جلالتِ قدر سے کون واقف نہیں، شعبہ کہتے ہیں ہم نے اُن کا نام مصحف (قرآن) رکھا ہوا تھا، یحییٰ بن سعید القطانؒ کہتے ہیں میں نے حدیث میں ان سے زیادہ ثابت کسی کونہیں پایا، محمد بن بشرؒ کہتے ہیں میں نے اُن سے دس کم ایک ہزار احادیث لکھیں، یہ مسعربن کدامؒ حضرت امامؒ کے ہم سبق تھے، آپؒ کہتے ہیں:

"طلبت مع ابی حنیفۃ الحدیث فغلبنا واخذنا فی الزھد فبرع علینا وطلبنا معہ الفقہ فجاء منہ ماترون"۔

(مناقب ابی حنیفۃ للذھبی:۲۷)

ترجمہ: میں نے اور ابوحنیفہؒ نے اکٹھے حدیث پڑھنی شروع کی وہ ہم پر غالب رہے اورعلم حدیث میں ہم سب طلبہ سے بڑھ گئے، ہم زہد وسلوک میں پڑے تو اس میں بھی وہ کمال پر پہنچے اور ہم نے اُن کے ساتھ فقہ پڑھنا شروع کیا تواس میں بھی وہ اس مقام پر آپہنچے جو تم دیکھ رہے ہو۔

مسعر بن کدامؒ جیسے محدث کی یہ شہادت حضرت امام کے علم حدیث میں اسبق ہونے کی ایک کھلی دلیل ہے، کم از کم پانچ لاکھ احادیث بیک نظر آپ کے سامنے ہوتی تھیں، آپ نے اپنے بیٹے حماد کوجن پانچ حدیثوں پر عمل کرنے کی وصیت کی ان کے بارے میں فرمایا کہ میں نے یہ پانچ لاکھ احادیث سے انتخاب کی ہیں، وصیت ۱۹/کے تحت لکھتے ہیں:

"ان تعمل بخمسۃ احادیث جمعتھا من خمس مائۃ الف حدیث"۔

(وصیۃ الامام الاعظم لابن حماد:۶۵)

ترجمہ:ان پانچ احادیث کو خاص طور پر معمول بہ بنانا، میں نے انہیں پانچ لاکھ احادیث سے چنا ہے۔

(۱)"وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"

اورہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہو۔

( بخاری، كِتَاب الْإِيمَانِ،بَاب مَاجَاءَ إِنَّ الْأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَالْحِسْبَةِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَانَوَى،حدیث نمبر:۵۲، شاملہ، موقع الإسلام۔)

(۲)"مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ"

( ترمذی، كِتَاب الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب فِيمَنْ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ يُضْحِكُ بِهَا النَّاسَ،حدیث نمبر:۲۲۳۹، شاملہ، موقع الإسلام۔)

(۳)"لَايُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَايُحِبُّ لِنَفْسِهِ"

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنےبھائی کے لیےوہی پسند نہ کرے جواپنےنفس کو پسند ہے۔

(بخاری،كِتَاب الْإِيمَانِ،بَاب مِنْ الْإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَايُحِبُّ لِنَفْسِهِ،حدیث نمبر:۱۲، شاملہ، موقع الإسلام۔)

(۴)"إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ"

بے شک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں۔

(مسندِاحمد،أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ،حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر:۱۷۶۴۹، شاملہ، موقع الإسلام۔)

(۵)"الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"

مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

(مسلم،كِتَاب الْإِيمَانِ،بَاب بَيَانِ تَفَاضُلِ الْإِسْلَامِ وَأَيُّ أُمُورِهِ أَفْضَلُ،حدیث نمبر:۵۸، شاملہ، موقع الإسلام۔)


حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا نظریہ حدیث


حضرت امام حدیثِ منقول پر عمل کرنے سے پہلے یہ دیکھتے تھے کہ کثیرتعداد متقی لوگ اس حدیث کواِس صحابیؓ سے روایت کرتے ہوں، یہ روایت کرنا لفظاً ضروری نہیں، خبرِواحد اپنی جگہ معتبر ہے؛ لیکن اُن کے ہاں اس کا عمل میں آیا ہوا ہونا ضروری تھا، جوحدیث معمول بہ نہ رہی ہو؛ اِس سے ان کے ہاں سنت ثابت نہیں ہوتی، سنت کے ثابت ہونے کے لیئے ضروری ہے کہ اس پر عمل بھی ہوتا آیا ہو، امام مالکؒ کانظریۂ حدیث بھی تقریباً یہی تھا، وہ حدیث کی بجائے سنت پر زیادہ زور دیتے تھے؛ مؤطا میں بار بار سنت کا لفظ لاتے ہیں اور اس سے صحابہؓ وتابعینؒ کا تواتر عمل مراد ہوتا ہے جب فتنے پھیلے اور جھوٹ کا بازار گرم ہوا تومحدثین روایت اور اسناد کے گرد پہرہ دینے لگے، اِن بدلے ہوئے حالات میں حدیث سے تمسک بذریعہ اسناد ہونے لگا اور تواتر عمل کی اس طرح تلاش نہ رہی جس طرح پہلے دور میں ہوتی تھی، اس نئے دور کے مجدد حضرت امام شافعیؒ ہیں؛ لیکن اس میں شک نہیں کہ پہلے دور میں حدیث کی بجائے سنت کوزیادہ اہمیت دی جاتی تھی، حافظ شمس الدین الذہبیؒ حضرت امام ابوحنیفہؒ کانظریۂ حدیث اُن کے اپنے الفاظ میں اس طرح نقل کرتے ہیں:

"آخذ بکتاب اللہ فمالم اجد فبسنۃ رسول اللہ والاثار الصحاح عنہ التی فشت فی ایدی الثقات عن الثقات فان لم اجد فبقول اصحابہ اٰخذ بقول من شئت...... وامااذا انتہی الامرالی ابراہیم والشعبی والحسن والعطاء فاجتہد کمااجتہدوا"۔  

(مناقب ابی حنیفۃ للذہبی:۲۰)

ترجمہ: میں فیصلہ کتاب اللہ سے لیتا ہوں جواس میں نہ ملے اسے حضور   کی سنت اور ان صحیح آثار سے لیتا ہوں جوحضور سے ثقہ لوگوں کے ہاں ثقات کی روایت سے پھیل چکے ہوں، ان میں بھی نہ ملے تومیں صحابہ کرامؓ سے لیتا ہوں اور جس کا فیصلہ مجھے اچھا (قوی) لگے لے لیتا ہوں..... اور جب معاملہ ابراہیم نخعیؒ، علامہ شعبیؒ، حضرت حسن بصریؒ اور عطاء بن ابی رباحؒ تک پہنچے تومیں بھی اس طرح اجتہاد کرتا ہوں جس طرح ان پہلوؤں نے اجتہاد کیا تھا۔

حضرت امام یہاں آثارِ صحیحہ کے عملاً پھیلے ہوئے ہونے پر زور دے رہے ہیں اور یہی اُن کا نظریہ حدیث تھا، حضرت علامہ عبدالوہاب الشعرانیؒ (۹۷۳ھ) لکھتے ہیں:

"وقد کان الامام ابوحنیفۃ یشترط فی الحدیث المنقول عن رسول اللہ قبل العمل بہ ان یرویہ عن ذٰلک الصحابی جمع اتقیاء عن مثلہم"۔        

(المیزان الکبریٰ للشعرانی:۱/۶۲)

ترجمہ: امام ابوحنیفہؒ حضور   سےنقل شدہ حدیث کومعمول بہ ٹھہرانے سے پہلے یہ ضروری ٹھہرائے تھے کہ اسے اس صحابیؓ سے ان جیسے نیک لوگوں کی ایک جماعت نے روایت کیا ہو۔

 محقق ابن الہمامؒ (۸۶۱ھ) کی حضرت امام کے اس اصل پر گہری نظر تھی، آپؒ تصریح کرتے ہیں کہ جب کوئی صحابیؓ اپنی روایت کردہ حدیث پر عمل نہ کرے اس کے خلاف فتوےٰ دے تو وہ روایت ازخود حجت نہ رہے گی؛ کیونکہ اس کے ساتھ تواترِ عمل ثابت نہیں ہوسکا، حضرت امام کا یہ نظریہ بیشک نہایت سخت ہے، روایت کے ساتھ راوی کا عمل ساتھ ساتھ چلے، ایسے راوی توصحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بہت کم ملیں گے، حضرت امامؒ تواتر عمل کے اس حد تک قائل تھے کہ وہ اس کی تائید میں ان روایات وآثار سے مدد لیتے تھے، جواپنی جگہ مرسل ہوں؛ مگرعملاً اتصال رکھتے ہوں، آپؒ کی املاء کردہ کتاب الآثار اور امام مالکؒ کے مؤطا میں آپؒ اسی نظریہ کوجگہ جگہ کارفرما پائیں گے، حافظ ابنِ عبدالبر مالکیؒ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:

"أنہ کان یذھب فی ذلک الی عرضھا علٰی مااجتمع علیہ من الاحادیث ومعانی القرآن فماشذ من ذلک ردہ وسماہ شاذاً"۔                

   (الموافقات للشاطبی:۳/۲۶)

ترجمہ:امام صاحبؒ ایسے موقع پر اس روایت کواس موضوع کی دوسری احادیث اور قرآنی مطالب سے ملاکر دیکھتے جوروایت اس مجموعی موقف سے علیٰحدہ رہتی آپؒ اسے (عمل میں) قبول نہ کرتے اور اس کا نام شاذIsolated رکھتے۔

حضرت امام کے نظریہ حدیث میں یہ اصول بھی کار فرما ہے کہ آثارِ صحابہ اور ضعیف حدیث کوبھی نظرانداز نہ کیا جائے، اُن کے ہاں آثارِ صحابہ اور ضعیف حدیث کے ہوتے ہوئے اجتہاد اور قیاس سے کام نہ لینا چاہئے، اپنی رائے پر ضعیف حدیث اور آثارِ صحابہ کوترجیح دینی چاہیے، یہ صرف حضرت امام کی ہی رائے نہ تھی، کل فقہاء عراق اسی نظریہ کے تھے، علامہ ابنِ حزمؒ نے اس پر فقہاء عراق کا اجماع نقل کیا ہے؛ ضعیف حدیث سے یہاں وہ روایت مراد نہیں، جس کا ضعف انتہائی شدید قسم کا ہویا وہ موضوع ہونے کے بالکل قریب جاچکی ہو، متکلمین کا جوطبقہ مسائل ذات وصفات میں تاویل کی راہ چلا حضرت امام اس مسلک کے نہ تھے، اس باب میں آپ محدثین کی روش پرتھے اور آیات صفات پر بلاتاویل ایمان رکھتے تھے، حافظ ابنِ کثیرؒ (۷۷۴ھ) آپ کا تعارف ان الفاظ میں کراتے ہیں:

"هوالامام أبوحنيفة واسمه النعمان بن ثابت التيمي مولاهم الكوفي، فقيه العراق، وأحد أئمة الاسلام، والسادة الاعلام، وأحد أركان العلماء، وأحد الائمة الاربعة أصحاب المذاهب المتنوعة"۔                

   (البدایہ والنہایہ:۱/۱۰۷)

علامہ ذہبیؒ (۷۴۸ھ) آپ کے لیئے امام اعظم کا لقب اختیار کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:

".....کان اماماً ورعاً عالماً عاملاً متعبدا کبیرالشان"۔          

   (تذکرہ:۱/۱۵۸)

الامام اعظم، فقیہ العراق، حضرت امام متورع، عالم، عامل، متقی اور کبیرالشان تھے۔

امام مکی بن ابراہیمؒ فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہؒ اعلم اہل الارض تھے (مقدمہ اوجزالمسالک:۶۰) یعنی کرۂ ارضی کے اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم تھے، علم ان دنوں علمِ حدیث کوہی کہا جاتا تھا، علامہ ابنِ خلدونؒ فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہؒ علم حدیث کے بڑے مجتہدین میں سے تھے (مقدمہ ابنِ خلدون:۴۴۵) اور لکھتے ہیں کہ فقہ میں آپ کا مقام اتنا بلند تھا کہ کوئی دوسرا ان کی نظیر نہ تھا اور ان کے تمام ہمعصر علماء نے ان کی اس فضیلت کا اقرار کیا ہے خاص طور پر امام مالکؒ اور امام شافعیؒ نے(مقدمہ:۴۴۸) امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن سعید القطان (۱۹۸ھ) فرماتے ہیں کہ ہم خدائے قدوس کی تکذیب نہیں کرتے، ہم نے امام ابوحنیفہؒ سے بہتر رائے اور بات کسی سے نہیں دیکھی (تہذیب التہذیب:۱۰/۴۴۹) آپ بھی حضرت امام کے قول پر فتویٰ دیتے تھے، حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں:

"کان یحییٰ القطان یفتی بقول ابی حنیفہ ایضا"۔       

   (تذکرہ:۱/۲۸۲)

یہ اِس درجہ کے امام تھے کہ امام احمدؒ فرماتے ہیں: "مارأیت بعینی مثل یحییٰ بن سعید القطان"۔    

      (تذکرہ:۱/۲۷۵)

میں نے اپنی آنکھوں سے یحییٰ بن سعید کی مثال کسی کو نہ دیکھا۔

اِس درجے کے عظیم القدر محدث کا فقہی مسائل میں امام ابوحنیفہؒ کی پیروی کرنا اور اُن کے قول پر فتوےٰ دینا اس با ت کا پتہ دیتا ہے کہ حضرت امامؒ حدیث وفقہ میں کتنا اونچا مقام رکھتے تھے، عبداللہ بن داؤدؒ کہتے ہیں:

"جب کوئی آثار یاحدیث کا قصد کرے تو (اس کے لیئے) سفیانؒ ہیں اور جب آثار یاحدیث کی باریکیوں کومعلوم کرنا چاہے توامام ابوحنیفہؒ ہیں"۔         

   (سیرالاحناف:۲۹)

امام مسعر بن کدامؒ (۱۵۵ھ) کی جلالتِ قدر سے کون واقف نہیں، شعبہ کہتے ہیں ہم نے اُن کا نام مصحف (قرآن) رکھا ہوا تھا، یحییٰ بن سعید القطانؒ کہتے ہیں میں نے حدیث میں ان سے زیادہ ثابت کسی کونہیں پایا، محمد بن بشرؒ کہتے ہیں میں نے اُن سے دس کم ایک ہزار احادیث لکھیں، یہ مسعربن کدامؒ حضرت امامؒ کے ہم سبق تھے، آپؒ کہتے ہیں:

"طلبت مع ابی حنیفۃ الحدیث فغلبنا واخذنا فی الزھد فبرع علینا وطلبنا معہ الفقہ فجاء منہ ماترون"۔

(مناقب ابی حنیفۃ للذھبی:۲۷)

ترجمہ: میں نے اور ابوحنیفہؒ نے اکٹھے حدیث پڑھنی شروع کی وہ ہم پر غالب رہے اورعلم حدیث میں ہم سب طلبہ سے بڑھ گئے، ہم زہد وسلوک میں پڑے تو اس میں بھی وہ کمال پر پہنچے اور ہم نے اُن کے ساتھ فقہ پڑھنا شروع کیا تواس میں بھی وہ اس مقام پر آپہنچے جو تم دیکھ رہے ہو۔

مسعر بن کدامؒ جیسے محدث کی یہ شہادت حضرت امام کے علم حدیث میں اسبق ہونے کی ایک کھلی دلیل ہے، کم از کم پانچ لاکھ احادیث بیک نظر آپ کے سامنے ہوتی تھیں، آپ نے اپنے بیٹے حماد کوجن پانچ حدیثوں پر عمل کرنے کی وصیت کی ان کے بارے میں فرمایا کہ میں نے یہ پانچ لاکھ احادیث سے انتخاب کی ہیں، وصیت ۱۹/کے تحت لکھتے ہیں:

"ان تعمل بخمسۃ احادیث جمعتھا من خمس مائۃ الف حدیث"۔

(وصیۃ الامام الاعظم لابن حماد:۶۵)

ترجمہ:ان پانچ احادیث کو خاص طور پر معمول بہ بنانا، میں نے انہیں پانچ لاکھ احادیث سے چنا ہے۔

(۱)"وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"

اورہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہو۔

( بخاری، كِتَاب الْإِيمَانِ،بَاب مَاجَاءَ إِنَّ الْأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَالْحِسْبَةِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَانَوَى،حدیث نمبر:۵۲، شاملہ، موقع الإسلام۔)

(۲)"مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ"

( ترمذی، كِتَاب الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب فِيمَنْ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ يُضْحِكُ بِهَا النَّاسَ،حدیث نمبر:۲۲۳۹، شاملہ، موقع الإسلام۔)

(۳)"لَايُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَايُحِبُّ لِنَفْسِهِ"

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنےبھائی کے لیےوہی پسند نہ کرے جواپنےنفس کو پسند ہے۔

(بخاری،كِتَاب الْإِيمَانِ،بَاب مِنْ الْإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَايُحِبُّ لِنَفْسِهِ،حدیث نمبر:۱۲، شاملہ، موقع الإسلام۔)

(۴)"إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ"

بے شک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں۔

(مسندِاحمد،أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ،حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر:۱۷۶۴۹، شاملہ، موقع الإسلام۔)

(۵)"الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"

مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

(مسلم،كِتَاب الْإِيمَانِ،بَاب بَيَانِ تَفَاضُلِ الْإِسْلَامِ وَأَيُّ أُمُورِهِ أَفْضَلُ،حدیث نمبر:۵۸، شاملہ، موقع الإسلام۔)


حضرت امام اعظم ؒ کی تابعیت


حضورِاکرم   کی وفات کے وقت جوعمرحضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تھی حضرت امامؒ تقریباً اسی عمر کے تھے کہ حضور   کے کئی صحابہؓ موجود تھے، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیؓ (۸۷ھ)، سہل بن سعد ساعدیؓ (۹۱ھ)، حضرت انس بن مالکؓ (۹۳ھ)، حضرت عبداللہ بن بسرؓ المازنی (۹۶ھ)، حضرت عامر بن واثلہ الاسقعؓ (۱۰۲ھ) اِس وقت زندہ تھے، حضرت عامرؓ کی وفات کے وقت حضرت امامؒ کی عمر ۲۲/سال کی تھی اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفیؓ تورہتے ہی کوفہ میں تھے، حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں:

"مولدہ سنۃ ثمانین رای انس بن مالکؓ غیرمرۃ لماقدم علیہم الکوفۃ"۔

(تذکرہ:۱/۱۵۸)

ترجمہ:حضرت امامؒ کی پیدائش سنہ۸۰ھ میں ہوئی، آپؒ نے حضرت انس بن مالکؓ (۹۳ھ) کوجب وہ کوفہ گئے توکئی دفعہ دیکھا۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ حضورؐ سے گیارہ برس کی عمر میں روایت لے سکتے ہیں توحضرت امامؒ، حضرت انسؓ سے حدیث کیوں نہ سن سکتے تھے، یہ بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی کہ آپؒ نے حضرت انسؓ کی بارہا زیارت کی ہو اور اُن سے احادیث نہ سنی ہوں، نہ حضرت انسؓ کے بارے میں تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی مجالس میں احادیث نہ پڑھتے ہوں، یہ علیٰحدہ بات ہے کہ امام نے انہیں روایت نہ کیا ہو۔

اہلِ کوفہ کی ایک منفرد عادت


اہلِ کوفہ حدیث کے بارے میں کچھ زیادہ ہی محتاط ہوئے ہیں، خطیب بغدادیؒ لکھتے ہیں:

"ان اھل الکوفۃ لم یکن الواحد منہم یسمع الحدیث الابعد استکمالہ عشرین سنۃ"۔

(الکفایہ:۵۴)

اہلِ کوفہ میں سے کوئی بیس سال کی عمر سے پہلے حدیث کا باقاعدہ سماع نہ کرتا تھا۔

اِس صورتِ حال میں بہت ممکن ہے کہ آپؒ نے اُن سے احادیث سنی توہوں لیکن بیس سال سے کم ہونے کے باعث اُنہیں آگے عام روایت نہ کیا ہو، دارِقطنی کا یہ کہنا کہ آپؒ نے حضرت انس بن مالکؓ کودیکھا توضرور ہے؛ لیکن اُن سے احادیث نہیں سنیں، اِس معنی پر محمول ہوگا کہ بیس سال سے کم عمر کے سماع کواہلِ کوفہ سماع شمار نہ کرتے تھے اور جہاں کہیں حضرت امامؒ نے ان سے روایت کردی وہ محض تبرک کے طور پر ہوگی اور عام عادت سے ایک استثناء ہوگا، حافظ بدرالدین عینیؒ اور ملا علی قاریؒ نے حضرت امام رحمہ اللہ کا صحابہؓ سے روایت لینا تسلیم کیا ہے، یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں کہ حضرت امامؒ نے حضرت عائشہ بنتِ عجردؓ سے بھی حدیث سنی ہے اور وہ براہِ راست حضور   سے اپنا سماع پیش کرتی ہیں، حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

"ان اباحنیفۃ صاحب الرأی سمع عائشہ بنت عجرد وتقول سمعت رسول اللہ  "۔

(لسان المیزان،حرف العين المهملة،من اسمه عباد وعبادة:۲/۱۲، شاملہ، موقع الوراق)

الحاصل حضرت امامؒ تابعین میں سے تھے اور یہ وہ فضیلت ہے جوائمۂ اربعہؒ میں سے اور کسی کوحاصل نہیں ہے، ملاعلی قاری نے "مسندالانام" میں حضرت امام کی عائشہ بنتِ عجرد سے روایت نقل کی ہے۔

حضرت امام اعظم رحمہ اللہ کی ثقاہت


حافظ ابنِ حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

"وقال محمد بن سعد العوفي سمعت ابن معين يقول كان أبوحنيفة ثقة لايحدث بالحديث إلابما يحفظه ولايحدث بمالايحفظ"۔

(تہذیب التہذیب،الجزء العاشر،حرف النون:۱۰/۴۰۱،شاملہ،موقع یعسوب)

ترجمہ:محمدبن سعدؒ عوفی نے یحییٰ بن معینؒ سے سنا وہ کہتے تھے ابوحنیفہؒ ثقہ ہیں، وہی حدیث روایت فرماتے جوآپؒ کویاد ہوتی اور جویاد نہ رہتی اُسے بیان نہ کرتے تھے۔

جن لوگوں نے حضرت امام کی اس ثقاہت کومجروح کرنے کی کوشش کی ہے اُن کے پاس سوائے تعصب اور دشمنی کے اور کوئی وجہ جرح نہیں ملتی..... یہ یحییٰ بن معین کون ہیں اور کس درجے کے ہیں؟ حضرت امام احمدؒ فرماتے ہیں، علم رجال میں یہ ہم میں سے سب سے آگے ہیں، اب ان کی توثیق کے مقابلے میں کس کی بات سنی جاسکتی ہے، آپؒ سے اگرروایات کم ہیں تو اس کی صرف یہ وجہ ہے کہ آپؒ کی شروط روایت بہت سخت تھیں۔
خطیب بغدادی یحییٰ بن معین سے نقل کرتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک حدیث نقل کرنے کے لیئے یہ شرط تھی کہ وہ سننے کے بعد سے اسے برابر یاد رہنی چاہئے؛ اگریاد نہ رہے تواس کو روایت کرنا آپ کے نزدیک درست نہ تھا۔

حضرت امام کے اقران


جولوگ حضرت امام کواپنے وقت کے دیگر اہلِ علم سے جدا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ یہ نہیں دیکھتے کہ حضرت امام قرون وسطیٰ تک صحابہ وتابعین کے علم کے اِسی طرح وارث شمار ہوتے رہےہیں جس طرح حضرت سفیان الثوری، امام اوزاعی اور امام مالکؒ وغیرہم من جبال اہلِ العلم اور آپ کا علم اِسی درجہ میں سند سمجھا جاتا رہا ہے، جس طرح اِن حضرات کا..... حافظ شمس الدین الذہبیؒ (۷۴۸ھ) ایک جگہ علم منطق جدل اور حکمت یونان پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"لم تكن والله من علم الصحابة ولاالتابعين ولامن علم الأوزاعي والثوري ومالك وأبي حنيفة وابن أبي ذئب وشعبة ولاوالله عرفها ابن المبارك ولاأبويوسف القائل من طلب الدين بالكلام تزندق ولاوكيع ولابن مهدي ولابن وهب ولاالشافعي"۔

(تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۹۲)

ترجمہ:یہ علم بخدا صحابہ اور تابعین کے علوم میں سے نہیں نہ یہ اوزاعی، سفیان ثوری، امام مالکؒ، امام اابوحنیفہؒ، ابنِ ابی ذئب اور امام شعبہ کے علوم میں سے ہیں، بخدا انہیں نہ عبداللہ بن مبارک نے جانا نہ امام ابویوسفؒ نے نہ امام وکیعؒ نے نہ عبدالرحمن بن المہدیؒ نے نہ ابنِ وہب نے اور نہ امام شافعیؒ نے۔

کچھ انصاف کیجئے اور دیکھئے کہ اُمتِ اسلامیہ نے جن جبالِ علم کوجنم دیا اور جن کے علم وفن پر یہ امت اب تک نازاں ہے، کیا ان میں بلاکسی استثناء امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کا ذکر نہیں کیا جارہا ہے؟ ان حضرات نے اگرحدیث کم روایت کی ہے تواس کی وجہ یہ تھی صالحین اوّلین کا ایک طبقہ یہ مسلک رکھتا تھا کہ زیادہ حدیث روایت نہ کی جائے، علامہ شعبیؒ فرماتے ہیں:

"کرہ الصالحون الاولون الاکثار من الحدیث"۔          

  (تذکرۃ الحفاظ:۱/۷۷)

علامہ ذہبیؒ نے مذکورہ بالا عبارت میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کوکن ائمہ علم کے ساتھ برابر کا شریک کیا ہے، سفیان الثوریؒ، امام مالکؒ اور اوزاعیؒ کے ساتھ اور یہ وہ حضرات ہیں کہ اگر کسی بات پر متفق ہوجائیں تواس کا سنت ہونا ازخود ثابت ہوجاتا ہے؛ گواُس کی سنیت پر کوئی نص موجود نہ ہو، اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"إذااجتمع الثوري ومالك والأوزاعي على أمرفهو سنة وان لم يكن فيه نص"۔

(تذکرۃ الحفاظ:۱۹۵)

اب آپ ہی اندازہ کریں کہ حضرت امامؒ کس درجہ کے ائمہ علم کے ساتھ برابر کی نسبت رکھتے تھے اور یہ کہ آپ کے اقران میں کون کون سے جبالِ علم تھے۔

محدثین میں اہلُ الرّائے


ائمہ حدیث میں اہلُ الرائے صرف وہی حضرات ہوئے جومجتہد کے درجہ تک پہنچے تھے، نص صریح نہ ہونے کی صورت میں کسی مسئلہ میں رائے دینا کوئی معمولی کام نہ تھا، ابن قتیبہؒ نے معارف میں اصحاب الرائے کا عنوان قائم کرکے اِن میں سفیان الثوریؒ، امام مالکؒ اور امام اوزاعیؒ کو بھی ذکر کیا ہے؛ سواگرکسی نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو اہلُ الرائے میں لکھ دیا تویہ ان کے مجہتدانہ مقام کا ایک علمی اعتراف ہے، محدث ہونے کا انکار نہیں؛ پھرصرف حنفیہ میں ہی اہل الرائے نہیں، حافظ محمد بن الحارث الخشنی نے قضاۃ قرطبہ میں مالکیہ کوبھی اصحاب الرائے میں ذکر کیا ہے، علامہ سلیمان بن عبدالقوی الطوقی الحنبلی نے اصولِ حنابلہ پر مختصر الروضہ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، اِس میں ہے:

"اعلم ان اصحاب الرای بحسب الاضافۃ ہم کل من تصرف فی الاحکام بالرای فیتناول جمیع علماء الاسلام لان کل واحد من المجتہدین لایستغنی فی اجتہادہ عن نظر ورای ولوبتحقیق المناط وتنقیحہ الذی لانزاع فیہ"۔

ترجمہ:جان لوکہ اصحاب الرائے باعتبار اضافت تمام وہ علماء ہیں جو احکام میں فکر کوراہ دیتے ہیں؛ سویہ لفظ تمام علماءِ اسلام کوشامل ہوگا؛ کیونکہ مجتہدین میں سے کوئی بھی اپنے اجتہاد میں نظرورای سے مستغنی نہیں؛ گووہ تحقیقِ مناط سے ہو اور اس تنقیح سے ہو جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

تدوین فقہ کے کام کوسرانجام دینے کے باعث حضرت امام نے حدیث کا کوئی مجموعہ مرتب نہیں کیا؛ لیکن فقہی مباحث کے ضمن میں بہت سی احادیث آپ نے اپنے تلامذہ کے سامنے روایت کیں، آپ کی جوروایات آپ سے آگے آپ کے تلامذہ میں چلتی رہیں انہیں حصفکیؒنے جمع کیا ہے؛ پھرابوالموید محمدبن محمود الخوارزمی نے تمام مسانید کو سنہ ۶۶۵ھ میں یکجا جمع کیا؛ اِسی مجموعہ کو "مسندِامام اعظمؒ" کہا جاتا ہے، اِس کے لائق اعتماد ہونے کے لیئے موسیٰ بن زکریا الحصفکی کی ثقہ شخصیت کے علاوہ یہ بات بھی لائقِ غور ہے کہ عمدۃ المحدثین ملاعلی قاریؒ جیسے اکابر نے اس مسندِامام کی شرح لکھی ہے، جو"سندالانام" کے نام سے معروف ہے اور علماء میں بے حد مقبول ہے، امام وکیع بن الجراح کی علمی منزلت اور فن حدیث میں مرکزی حیثیت اہلِ علم سے مخفی نہیں ہے، صحیح بخاری اور صحیح مسلم آپ کی مرویات سے بھری پڑی ہیں، علمِ حدیث کے ایسے بالغ نظر علماء کا امام ابوحنیفہؒ سے حدیث سننا اور پھراِن کے اس قدر گرویدہ ہوجانا کہ انہی کے قول پر فتوےٰ دینا حضرت امام کی علمی منزلت کی ناقابلِ انکار تاریخی شہادت ہے، حافظ ابنِ عبدالبر مالکیؒ امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن معین سے نقل کرتے ہیں:

"وکان (وکیع) یفتی برأی أبی حنیفۃ وکان یحفظ حدیثہ کلہ وکان قد سمع من ابی حنیفۃ حدیثاً کثیراً"۔                         

  (کتاب الانتقاء:۲/۱۵۰۔ جامع بیان العلم:۲/۱۴۹)

ترجمہ:حضرت وکیع حضرت امام ابوحنیفہؒ کی فقہ کے مطابق فتوےٰ دیتے تھے اور آپ کی روایت کردہ تمام احادیث یاد رکھتے تھے اور انہوں نے آپ سے بہت سی احادیث سنی تھیں۔

حافظ شمس الدین الذہبیؒ (۷۴۸ھ) بھی وکیع کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

"وقال يحيى: مارأيت افضل منه يقوم الليل ويسرد الصوم ويفتى بقول ابي حنيفة"۔

(تذکرۃ الحفاظ:۲۸۲)

وکیع جیسے حافظ الحدیث اور عظیم محدث کا آپ کی تقلید کرنا اور فقہ حنفی پر فتوےٰ دینا حضرت امام کے مقام حدیث کی ایک کھلی شہادت ہے؛ پھرچند نہیں آپ نے ان سے کثیراحادیث سنیں، علم حدیث اور علم فقہ کے علاوہ آپ کی کلام پر بھی گہری نظر تھی، عراق کے کوفی اور بصری اعتقادی فتنوں نے حضرت امام کواس طرف بھی متوجہ کردیا تھا، آپ نے محدثین کے مسلک پررہتے ہوئے ان الحادی تحریکات کا خوب مقابلہ کیا، خطیب بغدادی (۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:

"علمِ عقائد اور علمِ کلام میں لوگ ابوحنیفہؒ کے عیال اور خوشہ چیں ہیں"۔   

(بغدادی:۱۳/۱۶۱)

علامہ ابنِ خلدونؒ لکھتے ہیں:

"والامام أبوحنيفة إنماقلت روايته لماشدد في شروط الرواية والتحمل"۔

(مقدمہ تاریخ ابنِ خلدون:۱/۴۴۵،شاملہ، موقعِ یعسوب)

ترجمہ:اور امام ابوحنیفہؒ کی روایت قلیل اس لیئے ہیں کہ آپ نے روایت اور تحملِ روایت کی شرطوں میں سختی کی ہے۔

بایں ہمہ آپ کثیرالروایۃ تھے، وکیع نے آپ سے کثیراحادیث سنی ہیں۔


(۲)حضرت امام مالکؒ (۱۷۹ھ)


حضرت امام مالکؒ امام دارالھجرۃ کے نام سے معروف ہیں، حدیث کی خدمت میں آپؒ نے حدیث کی مشہور کتاب مؤطا تالیف کی، اس کتاب کومرتب کرنے کے بعد سترعلماء کے سامنے پیش کیا گیا توسب نے مؤاطات (موافقت) ظاہر کی؛ اِسی لیے اس کا نام مؤطا رکھا گیا، حضرت شاہ ولی اللہؒ کے قول کے مطابق مؤطا میں سترہ سو کے قریب روایات ہیں، جن میں سے ۶۰۰/ مسند اور ۳۰۰/مرسل ہیں، بقایا فتاویٰ صحابہؓ اور اقوالِ تابعین ہیں، حضرت امام مالکؒ سے مؤطا پڑھنے والے حضرات میں امام شافعیؒ، یحییٰ اندلسیؒ اور امام محمدؒ کے اسماء سرفہرست ہیں، امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ "اصح الکتب بعد کتاب اللہ المؤطا" (موطا مالک، روایت محمدبن الحسن:۱/۳۰، شاملہ،ناشر:دارالقلم، دمشق) مگر یہ بات اس وقت کی ہے جب صحیح بخاری اور صحیح مسلم تالیف نہ ہوئی تھیں۔
محدث نے الفاظِ حدیث کی خدمت کی تواس کا نام حافظِ حدیث ہوا اور مجتہد نے معانی حدیث کی خدمت کی تواس کا لقب عالمِ حدیث اور فقیہ ہوا، امام مالکؒ میں اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں خصوصیات ودیعت فرمائی تھیں کہ احادیث کا ذخیرہ بھی جمع کیا اور فقہ کے بھی امام ٹھہرے:

"اخرج إِبْنِ ابِیْ حَاتِم عَنْ طریق مَالِکْ بِنْ أَنَس عَنْ رَبِیْعَۃَ قَالَ ان اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالَیٰ أَنْزَلَ إِلَیْکم الْکِتَابَ مُفَصِّلاً وَتَرَکَ فِيهِ مَوْضِعًا لِلسُّنَّةِ، وَسَنَّ رَّسُولُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ فِيهَا مَوْضِعًا لِلرَّأْيِ"۔

(الدرالمنثور فی التأویل بالماثور، جلال الدین السیوطی:۴/۱۲۰، شاملہ،موقع التفاسیر)

ترجمہ:امام مالکؒ امام ربیعہؒ سے نقل کرتے ہیں کہ ربیعہؒ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مفصل کتاب نازل فرمائی اور اس میں حدیث کے لیئے جگہ چھوڑی اور آنحضرت   نے بہت سی باتیں حدیث میں بیان فرمائیں اور قیاس کے لیئے جگہ رکھی۔

الفاظ مقصود بالذات نہیں، مقصود اطاعت اور اتباع شریعت ہے اور یہ مقصد معانی کے سمجھنے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے، مقصود بالذات معنی ہیں، الفاظ نہیں الفاظ مقصود بالعرض ہیں، امام مالکؒ تبع تابعینؒ کے طبقہ میں تھے، آپؒ کے شیوخ واساتذہ کی تعداد نوسو تھی، جن میں تین سو تابعینؒ اور چھ سو تبع تابعینؒ تھے (تہذیب الاسماء للنووی:) امام شافعیؒ کا فرمان ہے کہ آپؒ کواگرحدیث کے ایک ٹکڑے پر بھی شک پڑجاتا توپوری کی پوری ترک کردیتے تھے، محدثینؒ کے نزدیک اصح الاسانید میں بحث ہے، مشہور ہے کہ جس کے راوی مالکؒ نافعؒ سے اور نافعؒ ابن عمرؓ سے ہوں وہ اسناد سب سے صحیح ہے (ترجمان السنہ:۱/۲۴۲) لیثؒ، ابنِ مبارکؒ، امام شافعیؒ اور امام محمدؒ جیسے مشاہیر امت آپؒ کے تلامذہ میں سے ہیں اور ابنِ وہبؒ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں ایک منادی سے سنی کہ مدینہ میں ایک مالک بن انس اور ابن ابی ذئبؒ کے سوا کوئی فتوےٰ نہ دیا کرے (مشاہیرِامت:۲۹، از قاری محمدطیبؒ) امام احمدبن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ میں نے امام اسحاق بن ابراہیمؒ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ اگر امام مالکؒ امام اوزاعیؒ اور امام ثوریؒ کسی مسئلہ پر متفق ہوجائیں تووہی مسئلہ حق اور سنت ہوگا؛ اگرچہ اس میں نص نہ موجود ہو (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۹۵) ابن سعدؒ فرماتے ہیں کہ امام مالکؒ ثقہ، مامون، ثبت، متورع، فقیہ، عالم اور حجت ہیں (تہذیب التہذیب:۱۰/۸) علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ امام مالکؒ الامام الحافظ فقیہ الامت شیخ الاسلام اور امام دارالھجرت تھے (تذکرہ:۱/۱۹۳) آپؒ کا مسلک زیادہ تراُندلس ومغرب پہنچا (بستان المحدیثن:۲۶) افریقی ممالک خصوصاً مغربی افریقہ میں زیادہ تراُنہی کے مقلد ہیں، اس جلالت علم کے باوجود وہ امام ابوحنیفہؒ کے معتقد تھے "نظرمالک فی کتب ابی حنیفۃ وانتفعہ بھا کمارواہ الدراوردی وغیرہ" (الانتقاء:۱۴) سو یہ حقیقت ہے کہ امام مالکؒ کا امام ابوحنیفہؒ کی کتابوں کو دیکھنا اور ان سے نفع حاصل کرنا ثابت ہے۔


(۳)حضرت امام شافعیؒ (۲۰۴ھ)



امام محمدبن ادریس الشافعیؒ کی پرورش انتہائی نامساعد حالات اور تنگدستی میں ہوئی، بسااوقات آپؒ کوعلمی یادداشتوں کوتحریر کرنے کے لیئے کاغذ بھی میسر نہ آتا تھا، آپؒ جانوروں کی ہڈیوں پر بھی لکھ لیتے تھے، تیرہ سال کی عمر میں امام مالکؒ کی خدمت میں پہنچے، مؤطا حفظ کرچکے تھے، دوسرے سال عراق چلے گئے، آپؒ کوپندرہ سال کی عمر میں آپؒ کے شیخ مسلم بن خالدؒ نے فتوےٰ نویسی کی اجازت دے دی تھی، علم حدیث وفقہ اور تفسیر وادب میں کمال حاصل کیا، امام نوویؒ نے شرح مہذب میں لکھا ہے کہ امام عبدالرحمن بن مہدیؒ کے فرمانے پر آپؒ نے اصولِ فقہ پر "الرسالہ" تحریر کیا، آپؒ کواصولِ فقہ کاموسس کہا جاتا ہے، فقہ میں آپؒ صرف صحیح احادیث کو لیتے اور ضعیف کو ترک کردیتے، آپؒ کی تصنیف کتاب الاُم اور الرسالہ آج بھی دستیاب ہیں۔

"وقال الزعفرانی کان اصحاب الحدیث رقودًا حتی ایقظھم الشافعی وقال ربیع بن سلیمان کان اصحاب الحدیث لایعرفون تفسیر الحدیث حتی جاء الشافعی"۔

(توالی التاسیس للحافظ ابنِ حجر :۵۹)

ترجمہ:زعفرانی کہتے ہیں کہ اصحابِ حدیث محوِخواب تھے، امام شافعیؒ نے آکرانہیں بیدار کیا (یعنی معانی اور فقہ کی طرف متوجہ کیا) ربیع بن سلیمانؒ کہتے ہیں کہ اصحابِ حدیث تفسیر اور شرح سے واقف نہ تھے امام شافعیؒ نے آکر حدیث کے معانی سمجھائے۔

علامہ ذہبی آپ کی تعریف یوں کرتے ہیں:

"الامام العالم، حبرالامۃ وناصرالسنۃ"۔          

  (تذکرہ:۱/۳۲۹)

ترجمہ:اونچے درجہ کے امام، امت کے عالم اور سنت کے مددگار تھے۔

امام احمدبن حنبلؒ فرماتے ہیں اگرامام شافعیؒ نہ ہوتے تو میں حدیث کے ناسخ ومنسوخ کوہرگز نہ پہنچتا ان کی مجلس میں بیٹھنے سے مجھ کویہ سب کچھ حاصل ہوا (مشاہیرامت، ازقاری محمدطیب صاحب:۲۸) علماء کا آپ کی ثقاہت وعبادت اور نزاہت وامانت اور زہد وورع پر اتفاق ہے، حافظ ابنِ حجرؒ نے لکھا ہے کہ امام شافعیؒ جب بغداد تشریف لائے توامام احمد بن حنبلؒ نے اس حلقۂ درس کوچھوڑ دیا جس میں یحییٰ بن معینؒ اور اُن کے معاصرین شریک ہوتے تھے اور امام شافعیؒ کی صحبت اختیار کی؛ حتی کہ اگر امام شافعیؒ کہیں جاتے توامام احمدؒ اُن کی سواری کے ساتھ ساتھ چلتے، یحییٰ بن معینؒ کویہ ناگوار گزرا اور کہلا بھیجا کہ یہ طریقہ ترک کردیں، امام احمد بن حنبلؒ نے کہلا بھیجا کہ اگر فقہ (مفہومِ حدیث) سمجھنا چاہتے ہوتو امام شافعیؒ کی سواری کی دُم پکڑ کرچلو، آپؒ کے خادم بنو (توالی التاسیس،ابنِ حجر:۵۷) آپؒ فقہ وحدیث کے امام اور جلیل القدر عالم ہونے کے ساتھ ساتھ سخی بھی تھے، بقول حمیدی آپ ایک مرتبہ صنعاء سے تشریف لائے، خیمہ مکہ سے باہر لگا ہوا تھا اور آپؒ کے پاس دس ہزار دینار تھے، لوگ آپ کی ملاقات کے لیئے آتے تھے توآپ اُن میں تقسیم فرماتے؛ یہاں تک کہ دس ہزار دینار اسی جگہ تقسیم کردیئے۔

(ترجمان السنۃ:۱/۲۴۶)

شروع شروع میں تحقیقِ اسناد پر آپؒ کی توجہ زیادہ تھی، ان کے ہاں حدیث کی قبولیت کا معیار اس کی صحت سند تھا، استفاضہ عمل کوکچھ نہ سمجھتے تھے؛ لیکن آخری دور میں آپؒ بھی اِس طرف پلٹے، جوامام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ کا نظریہ تھا کہ تواتر عمل کے ہوتے ہوئے اسناد کی ضرورت نہیں رہتی، بیس رکعت تراویح کے ثبوت میں اُن کے پاس کوئی صحیح حدیث نہ تھی، آپؒ نے یہاں اہلِ مکہ کے عملی استفاضہ سے استدلال کیا، امام ترمذیؒ لکھتے ہیں:

"وَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَهَكَذَا أَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بِمَكَّةَ يُصَلُّونَ عِشْرِينَ رَكْعَةً"۔

(ترمذی، كِتَاب الصَّوْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب مَاجَاءَ فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ،حدیث نمبر:۷۳۴، شاملہ، موقع الإسلام)

ترجمہ: اور امام شافعیؒ نے کہا اور اسی طرح پایا ہم نے شہر مکہ میں لوگوں کوبیس رکعت تراویح پڑھتے ہیں۔

اس فکری تبدیلی کے باعث بہت سے مسائل میں آپؒ کے دودو قول ملتے ہیں، قولِ قدیم اورقولِ جدید..... اور فقہاء شافعیہ میں اس کی بحث رہی ہے۔


امام شافعیؒ کے تفردات



کبھی آپؒ اپنی تحقیق میں سب ائمہ کوپیچھے چھوڑدیتے ہیں، اِن مسائل کوآپؒ کے تفردات کہا جاتا ہے، فاتحہ خلف الامام کوفرض سمجھنے میں آپؒ دوسرے سب اماموں سے علیٰحدہ ہیں، امام احمد بن حنبلؒ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کے قائل تھے؛ مگراسے فرض نہ سمجھتے تھے، ائمہ اربعہ میں سے تین امام، امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کوفرض نہیں کہتے، امام شافعیؒ اِس مسئلہ میں سب سے علیٰحدہ ہیں، اِس طرح آپ کے کچھ اور تفردات بھی ہیں، مسئلہ طلاق میں آپؒ جمہور امت کے ساتھ ہیں، منفرد نہیں، آپ رحمہ اللہ ایک مجلس میں تین دفعہ دی گئی طلاق کوتین طلاق قرار دیتے تھے، آپؒ کے مقلدین کوبھی اِس مسئلہ میں کبھی اختلاف نہیں ہوا، ایک مجلس میں تین دفعہ دی گئی طلاق گوسنت کے خلاف ہے، طلاق بدعت ہے؛ لیکن اِس کے واقع ہوجانے میں ائمہ اربعہ کا اختلاف نہیں، حضرت امام نووی شافعیؒ لکھتے ہیں:

"وقد اختلف العلماء فیمن قال لامرأتہ انت طالق ثلٰثاً فقال الشافعی ومالک وابوحنیفۃ واحمد وجماھیرالعلماء من السلف والخلف یقع الثلاث"۔ 

(نووی شرح مسلم:۱/۲۹۰)

سویہ کہنا کسی طرح درست نہیں کہ مسئلہ طلاق میں آپؒ دوسرے ائمہ سے منفرد تھے اور اُن کا طریقہ موجودہ دور کے غیرمقلد حضرات کا ساتھا، آپؒ حضرت امام ابوحنیفہؒ کا بہت احترام کرتے، دل ودماغ سے اُن کی جلالتِ علمی کا اعتراف کرتے، ایک دفعہ حضرت امامؒ کی مسجد میں نماز پڑھی تورکوع کے وقت رفع یدین نہ کیا، لوگوں نے سبب پوچھا توفرمایا کہ حضرت امامؒ کا علمی رعب میرے دل پرچھاگیا تھا، احترامِ اکابر کی اس سے بڑی روشن مثال اور کیا ہوگی۔


(۴)حضرت امام احمد بن حنبلؒ (۲۴۱ھ)




اپنے زمانہ کے متفق علیہ امام اور جلیل القدر محدث تھے، علی بن المدینیؒ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کودواشخاص کے ذریعے عزت نصیب فرمائی پہلے شخص فتنہ ارتداد کے وقت حضرت ابوبکرصدیقؓ تھے اور دوسرے فتنۂ خلقِ قرآن کے وقت حضرت امام احمد بن حنبلؒ تھے، امام احمدؒ امام المحدثین تھے، بخاریؒ، مسلمؒ اور ابوداؤدؒ سب حضرات آپؒ کے تلامذہ میں سے ہیں، آپؒ صاحبِ مذہب ہیں، آپؒ کی فقہ "فقہ حنبلی" کے نام سے موسوم ہے، آپ کوایک لاکھ کے قریب احادیث یاد تھیں، آپؒ کی مسند احمد میں بہت سی وہ احادیث جمع ہیں جودوسرے محدثین کے ہاں نہیں ملتیں، ثابت قدمی، حق گوئی اور اتباعِ سنت میں اپنی مثال آپ تھے، یہ آپؒ کا استقلال ہی تھا کہ فتنہ خلقِ قرآن میں روزانہ کوڑے کھاتے؛ مگرخلقِ قرآن کا اقرار ہرگز نہ کرتے، جب انتقال ہوا تو آٹھ لاکھ مرد اور ساٹھ ہزار عورتیں جنازہ میں شریک ہوئیں، حنبل بن اسحاق جوامام احمدؒ کے بھتیجے ہیں؛ انہوں نے امام احمدؒ سے نقل کیا ہے کہ آپؒ نے مسنداحمد سات لاکھ سے زیادہ ذخیرۂ احادیث سے منتخب کی ہے۔
علامہ خطیب بغدادیؒ (۴۶۳ھ) اپنی سند کے ساتھ احمد بن محمد بن خالد البرقیؒ سے روایت کرتے ہیں کہ ہماری موجودگی میں ایک شخص امام احمد بن حنبلؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے حلال وحرام کے ایک مسئلے کے بارے میں دریافت کیا؛ انہوں نے کہا خدا تجھ پر رحم کرے کسی اور سے پوچھ لے، سائل نے کہا حضرتؒ ہم توآپؒ ہی سے اس کا جواب سننا چاہتے ہیں، امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا:

"سل عافاک اللہ غیرنا سل الفقہاء سل اباثور"۔         

  (بغدادی:۶/۶۶)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تجھے عافیت سے رکھے کسی اور سے پوچھ لے، فقہاء سے پوچھ ابوثور سے پوچھ۔

 اِس سے پتہ چلتا ہے کہ آپؒ پر حدیث کا غلبہ تھا، فقہ میں آپؒ دوسرے ائمہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دیتے تھے، آپؒ سرخیلِ محدثین اور مقتدائے ملت ہیں اور اہلِ سنت کے امام ہیں؛ مگر مسائل کے بارہ میں کس قدر احتیاط سے چلتے ہیں کہ دوسرے فقہاء کا راستہ دکھاتے ہیں اور خود فتوےٰ دینے سے حتی الوسع احتراز کرتے ہیں، آپؒ فقہاء کی طرف رُجوع کرنے کا اس لیئے حکم دیتے کہ فقہاء قرآن وحدیث کے مطابق ہی مسائل کا استنباط کرتے ہیں، علامہ ذہبیؒ امام احمدؒ کی تعریف اِن الفاظ سے کرتے ہیں، شیخ الاسلام، سیدالمسلمین، الحافظ اور الحجۃ (تذکرہ:۲/۱۷) امام شافعیؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے بغداد میں امام احمدؒ سے بڑا کوئی نہیں دیکھا (بغدادی:۴/۴۱۹۔ تذکرہ:۲/۱۷۔ البدایہ والنہایہ:۱/۳۳۵) محدث ابراہیم حربی کہا کرتے تھے کہ امام احمد بن حنبلؒ میں اللہ تعالیٰ نے اوّلین وآخرین کے علوم جمع کردیئے تھے۔   

(تذکرہ:۲/۱۷)


حضرت امام احمدؒ کا نظریۂ حدیث


حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم کواپنے لیئے حجت اور سند سمجھتے تھے، آپؒ کا عقیدہ تھا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے ہیں، اُمت پر اُن کی پیروی لازم ہے، صحابی کی بات کوحجۃ تسلیم کرنے میں آپؒ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے ساتھ ہیں، حافظ ابنِ عبدالبر مالکیؒ (۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:

"(قال ابوعمرو) جعل للصحابۃ فی ذلک مالم یجعل لغیرہم واظنہ مال الی ظاہر حدیث اصحابی کالنجوم واللہ اعلم والی نحو ھذا کان احمد بن حنبل یذھب"۔

(جامع بیان العلم:۲/۱۴۵)

ترجمہ:امام ابوحنیفہؒ نے صحابہ کے لیئے وہ درجہ مانا ہے جو دوسرے راوویوں کے لیئے نہیں، آپ حدیث"اصحابی کالنجوم" کے ظاہر کی طرف مائل ہیں، امام احمد کی بھی یہی رائے تھی۔

اِسی اُصول پر آپؒ کا موقف یہ تھا کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ نہ پڑھنے سے نماز ہوجاتی ہے؛ کیونکہ حضور   کے صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؒ پوری صراحت سے فرماچکے ہیں کہ سورۂ فاتحہ پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی مگر امام کے پیچھے، آپ ہی سوچیں کہ صحابی کا اِس قدر صریح فیصلہ، کیا نظر انداز کیاجاسکتا ہے؟۔
حضرت امام ابوحنیفہ کی طرح حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا موقف بھی یہی ہے کہ حدیثِ ضعیف کواپنے قیاس اور اجتہاد پر مقدم کرنا چاہیے، ضعیف حدیث کو کلیۃً نظرانداز کردینا قطعاً صحیح نہیں، جب کسی موضوع پر صحیح حدیث نہ ملے تووہاں ضعیف حدیث کو ہی لے لینا چاہئے، حضرت امام اعظمؒ اور حضرت امام احمدؒ کا مسلک اس باب میں ایک ہے، حافظ ابنِ قیمؒ (۷۵۱ھ) لکھتے ہیں:

"فتقديم الحديث الضعيف وآثار الصحابة على القياس والرأي قوله وقول الإمام أحمد"۔

(اعلام الموقعین عن رب العالمین، كلام التابعين في الرأي:۷/۵)

ترجمہ:سوضعیف حدیث اور آثارِ صحابہ کوقیاس اور رائے پر مقدم کرنا امام ابوحنیفہؒ کا مذہب ہے اور یہی قول امام احمد کا ہے۔

صحابہ رضی اللہ عنہم کی پیروی سے جوفقہ مرتب ہوئی اللہ تعالیٰ اسے بڑی قبولیت سے نوازتے رہے ہیں، تاریخ اسلامی میں حکومتی سطح پر زیادہ تردوہی فقہ نافذ العمل رہی ہیں، فقہ حنفی اور فقہ حنبلی، دورِ اوّل میں قاضی القضاۃ حضرت امام ابویوسفؒ تھے، اِس دَور میں سعودی عرب کواللہ تعالیٰ نے یہ توفیق بخشی ہے کہ انہوں نے اللہ کی حدود قائم کیں اور فقہ حنبلی کے مطابق فیصلے کیئے، جن حضرات کا ہم نے یہاں تذکرہ کیا ہے، وہ سب ائمہ حدیث تھے، ائمہ حدیث میں صرف وہی حضرات شامل نہیں ہوتے جوکہ صرف روایات کواسانید اور مختلف طرق سے بیان کرسکیں؛ بلکہ وہ بھی ائمہ حدیث ہوتے ہیں جوحدیث کی کسی بھی نوع کی خدمت کریں؛ خواہ اسناد بیان کریں؛ خواہ مسائل کا استنباط کریں اور علماء کا اِس پر اجماع ہے، صاحب کنزالعمال لکھتے ہیں:

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کوکوئی مسئلہ پیش آتا تواہل الرائے اور اہل الفقہ کومشورہ کے لیئے بلاتے، مہاجرینؓ وانصارؓ میں سے اہلِ علم کوبلاتے، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اورحضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ اورحضرت ابی بن کعبؓ اورحضرت زید بن ثابتؓ کوبلاتے،یہی لوگ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ خلافت میں فتوےٰ دیا کرتے تھے،پھر حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے وہ بھی انہی حضرات سے مشورہ لیا کرتے تھے اور فتویٰ کا مدار انہی حضرات پر تھا۔

(کنز العمال:۳/۱۳۴)

اس روایت سے صاف ظاہرہے کہ علماء حدیث سب صحابہ کرام تھے،مگر اہل الرائے اور اہل الفقہ صرف فقہاء صحابہؓ ہی تھے،فقہ حدیث سے جدا کوئی چیز نہ تھی،یہ حدیث کی ہی تفسیر ہوتی تھی،اسے محض رائے سمجھ لینا بہت بڑی غلطی ہے،سو ید بن نصرؒ جو کہ امام ترمذیؒ اورامام نسائیؒ کے شیوخ میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارکؒ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے:

"لاتقولو ارای ابو حنیفۃ ولکن قولوا تفسیر الحدیث"۔

(کتاب المناقب للموفق:۲/۵۱)

ترجمہ:یہ نہ کہا کرو ابو حنیفہ کی رائے بلکہ کہو یہ حدیث کی شرح اور تفسیر ہے۔

فقہ حدیث سے الگ کوئی چیز نہیں فقہ کے خلاف ذہن بنانا خود حدیث سے بدگمان کرنا ہے، لفظ رای یہ فقہی استنباط کا ہی دوسرانام ہے،اجتہاد رائے سے ہی تو ہوتا ہے،حضرت عمرؓ نے قاضی شریح کو لکھا تھا:

"فَاخْتَرْ أَىَّ الأَمْرَيْنِ شِئْتَ : إِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْتَهِدَ رَأْيَكَ"۔

(سنن الدارمی،باب الفتیاوما فیہ من الشدۃ،حدیث نمبر:۱۶۹)

ترجمہ ان دوکاموں میں سے جس کو چاہے اختیار کرلے چاہے تو اپنی رائے سے اجتہاد کرلینا۔

حضرت زید بن ثابت نے اس کے ساتھ دوسرے مجتہدین سے معلوم کرلینے کی بھی تعلیم دی ہے۔

"فَادْعُ أَهْلَ الرَّأْىِ ثُمَّ اجْتَهِدْ وَاخْتَرْ لِنَفْسِكَ وَلاَحَرَجَ"۔

(سنن دارمی:۱/۶۰۔سنن کبری بیہقی:۱۰/۱۱۵)

دوسرے اہل الرائے سے بھی پوچھ لینا پھر اجتہاد کرنا اوراپنا موقف اختیار کرنا اوراس میں کوئی حرج نہیں۔

صحابہ میں حضرت ابوبکرؓ (مستدرک حاکم:۴/۳۴۰) حضرت عمرؓ (میزان کبریٰ للشعرانی:۱/۴۹)  حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ (شرح فقہ اکبر:۷۹)حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت ابوالدردا، حضرت زید بن ثابت حضرت عبداللہ عباس (سنن دارمی:۱/۵۹۔ مستدرک:۱/۱۲۷۔ سنن بیہقی:۱۰/۱۱۵) اور مغیرہ بن شعبہ(مستدرک حاکم:۳/۴۴۷) سب اہل الرائے تھے۔


2 comments:

  1. ماشاءاللہ بھائی۔ بہت ہی اعلیٰ اور زبردست۔۔۔ آپ کی محنت قابل قدر ہے۔ نہایت شاندار مضمون اور ائمہ اربعہ کا نہایت دقیق تعارف۔ اور یہی بات وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ آج بزرگان دین اور فقہا فی الدین جو کہ اصل وارث ہیں نبی پاک سلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اور صحابہ کے علم کے ان کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور ان کی قدر و منزلت سے امت کے ہر فرد ادنیٰ و اعلیٰ کو اس سے آگاہ کیا جائے۔
    جزاک اللہ۔ اللہ پاک آپ کے کام کو بلندیوں تک لے جائے اور برکتیں اور کامیابی آپ کا مقدر ہوں۔ اٰمین

    ReplyDelete
    Replies
    1. رَبَّنَا اغفِر لَنا وَلِإِخوٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمٰنِ وَلا تَجعَل فى قُلوبِنا غِلًّا لِلَّذينَ ءامَنوا رَبَّنا إِنَّكَ رَءوفٌ رَحيمٌ {59:10}
      اے ہمارے پروردگار! ہمارے لئے اور ہمارے بھائیوں کے لئے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے
      آمین

      Delete