ربوبیتِ الہٰی پر
کیا تم نے اس شخص (کے حال) پر غور کیا جس کو اللہ نے سلطنت کیا دے دی تھی کہ وہ اپنے پروردگار (کے وجود ہی) کے بارے میں ابراہیم سے بحث کرنے لگا ؟ جب ابراہیم نے کہا کہ : میرا پروردگار وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی، تو وہ کہنے لگا کہ : میں بھی زندگی دیتا ہوں اور موت دیتا ہوں۔ (174) ابراہیم نے کہا : اچھا اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم ذرا اسے مغرب سے تو نکال کر لاؤ، اس پر وہ کافر مبہوت ہو کر رہ گیا۔ اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
[سورہ البقرہ، آیت:258]
تفسیر:
(174) یہ بابل کا بادشاہ نمرود تھا جو خدائی کا بھی دعوے دار تھا، اس نے جو دعوی کیا کہ میں زندگی اور موت دیتا ہوں اس کا مطلب یہ تھا کہ بادشاہ ہونے کی وجہ سے جس کو چاہوں موت کے گھاٹ اتاردوں اور جس کو چاہوں موت کا مستحق ہونے کے باوجود معاف کرکے آزاد کردوں، اور اس طرح اسے زندگی دے دوں، ظاہر ہے کہ اس کا جواب قطعی طور پر غیر متعلق تھا، اس لئے کہ گفتگو زندگی اور موت کے اسباب سے نہیں ان کی تخلیق سے ہورہی تھی ؛ لیکن حضرت ابراہیم ؑ نے دیکھا کہ وہ یا تو موت اور حیات کی تخلیق کا مطلب ہی نہیں سمجھتا یا کٹ حجتی پر اترآیا ہے، اس لئے انہوں نے ایک ایسی بات فرمائی جس کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا، مگر لاجواب ہو کر حق کو قبول کرنے کے بجائے اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو قید کیا، پھر آگ میں ڈالنے کا حکم دیا، جس کا ذکر قرآن کریم نے سورة انبیاء (68 تا 71) سورة عنکبوت (24) اور سورة صافات (97) میں فرمایا ہے۔
ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس (رض) سے لفظ آیت ’’ الم تر الی الذی حاج ابرہم ‘‘ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ نمرود بن کنعان تھا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مناظرہ کیا تھا۔ لوگ گمان کرتے تھے کہ یہ پہلا آدمی تھا جو زمین میں بادشاہ بنا تھا۔ اس کے پاس دو آدمی لائے گئے ان میں سے ایک کو قتل کردیا گیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا گیا۔ اور کہنے لگا میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ اور اس نے کہا کہ میں اس طرح زندہ کرتا ہوں یعنی جس کو چاہتا ہوں قتل کردیتا ہوں۔
امام نسفیؒ فرماتے ہیں:
اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ علم کلام میں بات کرنا اور مناظرہ کرنا مباح ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ الم ترا لی الذی حاج ابراہیم فی ربہ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں وہ شخص جس نے ابراہیم ( علیہ السلام) سے جھگڑا کیا۔ ان کے رب کے متعلق۔
حآجّ باب مفاعلہ سے ہے اور وہ دو کے مابین ہوتا ہے۔ جیسے مقاتلہ۔ پس اس سے خود یہ نکل آیا کہ ابراہیم ( علیہ السلام) نے بھی اس سے مناظرہ کیا۔ اگر یہ جائز نہ ہوتا۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) اس کو بذات خود نہ کرتے۔ کیونکہ انبیاء (علیہ السلام) ارتکاب حرام سے معصوم ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں کفار کو ایمان باللہ اور توحید باری تعالیٰ کی طرف بلانے کا حکم دیا گیا۔ جب ہم ان کو دعوت دیں گے تو لازماً وہ ہم سے اس پر دلیل طلب کرینگے۔ اور یہ مناظرہ کے بعد ہوگی۔ (انظر شرح التاویلات)
[تفسیر المدارک، لامام النسفی]
اور (اسی طرح) دو قسمیں ہیں اونٹ میں (بھی) اور دو قسمیں ہیں گائے میں (بھی) آپ کہیے کہ (اللہ نے) آیا دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو؟ یا اس (بچہ) کو جسے دونوں مادہ اپنے رحموں میں لئے ہوئے ہیں؟ کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا تھا؟
اشیاء کی تحلیل و تحریم اللہ کا کام ہے:
اشیاء کی تحلیل و تحریم محض خدا کے حکم سے ہو سکتی ہے اور خدا کا حکم یا بواسطہ انبیاء پہنچے گا یا بلاواسطہ حق تعالیٰ کسی کو مخاطب فرمائے تو اسے معلوم ہو۔ یہاں دونوں صورتیں منفی ہیں۔ پہلی شق کے انتفاء پر نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ الخ میں اور دوسری کی نفی پر اَمْ کُنْتُمْ شُھَدَآءَ اِذْ وَصّٰکُمُ الخ میں متنبہ فرمایا ہے۔ پھر مشرکین کےدعاوی میں افتراء و اضلال کےسواء اور کیا چیز باقی رہ گئ۔ بلاشبہ اس سے زیادہ ظالم کوئی نہیں ہو سکتا جو خدا پر بہتان باندھے اور علم و تحقیق سے تہی دست ہونے کے باوجود لوگوں کو باطل اور غلط مسائل بیان کر کے گمراہ کرتا پھرے۔ جس شخص نے اس قدر ڈھٹائی اختیار کر لی اور ایسے ظلم عظیم پر کمر باندھ لی، اس کے ہدایت پانے کی توقع رکھنا فضول ہے۔
اصولیین نے آیت سے تحقیق میں مناظرہ کا حکم نکالا ہے ۔ چنانچہ یہاں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخالفین سے مناظرہ کا حکم مل رہا ہے اور آیت سے قیاس واستنباط کا بھی اثبات ہورہا ہے ۔
ربوبیتِ الہٰی پر
حضرت موسیٰ اور فرعون کا مناظرہ
انا قد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولیٰ
اُلوہیتِ مسیح کا رد:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ الْهُذَلِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ۔[ابوداود]
ترجمہ:
عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بن خطاب نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "قدریوں (تقدیر کا انکار کرنے والوں) کو اپنے پاس نہ بٹھاؤ (ان کی مجلس میں نہ آؤ جاؤ) اور نہ ہی ان سے فیصلے کراؤ یا ان سے مناظرہ وغیرہ کرنے میں پہل کرو"۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَیرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِحْتَجَّ اٰدَمُ وَمُوْسٰی عِنْدَ رَبِّھِمَا فَحَجَّ اٰدَمُ مُوْسٰی قَالَ مُوْسٰی اَنْتَ اٰدَمُ الَّذِیْ خَلَقَکَ اللّٰہُ بِےَدِہٖ وَنَفَخَ فِےْکَ مِنْ رُّوْحِہٖ وَاَسْجَدَ لَکَ مَلٰئِکَتَہُ وَاَسْکَنَکَ فِیْ جَنَّتِہٖ ثُمَّ اَھْبَطْتَّ النَّاسَ بِخَطِےْئَتِکَ اِلَی الْاَرْضِ قَالَ اٰدَمُ اَنْتَ مُوْسٰی الَّذِی اصْطَفَاکَ اللّٰہُ بِرِسَالَتِہٖ وَبِکَلَامِہٖ وَاَعْطَاکَ الْاَلْوَاحَ فِےْھَا تِبْےَانُ کُلِّ شَیْءٍ وَقَرَّ بَکَ نَجِّےًا فَبِکَمْ وَجَدتَّ اللّٰہَ کَتَبَ التَّورٰۃَ قَبْلَ اَنْ اُخْلَقَ قَالَ مُوْسٰی بِاَرْبَعِےْنَ عَامًا قَالَ اٰدَمُ فَھَلْ وَجَدْتَّ فِےْھَا وَعَصٰی اٰدَمُ رَبَّہُ فَغَوٰی قَالَ نَعَمْ قَالَ اَفتَلُوْمُنِی عَلٰی اَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیَّ اَنْ اَعْمَلَہُ قَبْلَ اَنْ ےَّخْلُقَنِیْ بِاَرْبَعِےْنَ سَنَۃً قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَحَجَّ اٰدَمُ مُوْسَی۔(صحیح مسلم)
ترجمہ:
" اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا (عالم رواح میں) آدم و موسیٰ علیہما السلام نے اپنے پروردگار کے سامنے مناظرہ کیا اور حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا آپ وہی آدم ہیں جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا آپ میں اپنی روح پھونکی تھی، فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا تھا اور اپنی جنت میں آپ کو رکھا تھا اور پھر آپ نے اپنی خطاء سے لوگوں کو زمین پر اتروا دیا تھا (یعنی اگر آپ خطا نہ کرتے تو یہاں زمین پر نہ اتارے جاتے اور آپ کی اولاد اس دنیا میں نہ پھیلتی بلکہ جنت میں رہتی) آدم علیہ السلام نے کہا تم وہی موسیٰ ہو جن کو اللہ نے اپنے منصب رسالت سے نواز کر برگزیدہ کیا اور ہم کلامی کے شرف سے مشرف فرمایا تھا اور تم کو وہ تختیاں دی تھیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور پھر تم کو سر گوشی کے لئے تقرب کی عزت بخشی تھی اور کیا تم جانتے ہو اللہ نے میری پیدائش سے کتنے عرصہ پہلے تورات کو لکھ دیا تھا؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا " چالیس سال پہلے! آدم علیہ االسلام نے پوچھا " کیا تم نے تورات میں یہ لکھے ہوئے الفاظ نہیں پائے (ا یت وعصی آدم ربہ فغوی) (یعنی آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور گمراہ ہوگیا۔ موسی علیہ السلام نے کہاں ہاں۔ آدم علیہ السلام نے کہا پھر تم مجھ کو میرے اس عمل پر کیوں ملامت کرتے ہو جس کو اللہ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے میرے لئے لکھ دیا تھا،" رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا " اس دلیل سے ) آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غائب آگئے۔" (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے جو دلیل پیش کی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے چونکہ میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے یہ لکھ دیا تھا کہ میں شیطان کے گمراہ کرنے کی وجہ سے بہک جاؤں گا اور اللہ کے حکم کی نافرمانی کر کے شجر ممنوع کا استعمال کرلوں گا۔ لہٰذا اس میں میرے کسب و اختیار کو کوئی دخل نہیں ہے بلکہ یہ گمراہی میرے مقدر میں لکھی گئی تھی اس لئے اس کا مجھ سے صادر ہونا لازم و ضروری تھا لہٰذا میں مورد الزام نہیں ٹھہر سکتا۔
علامہ تورپشتی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس گمراہی کو میری پیدائش سے بھی پہلے میرے لئے لوح محفوظ میں مقدر فرما دیا تھا جس کا ملطب یہ تھا کہ وہ ضرور بروقت وقوع پذیر ہوگی، لہٰذا جب وقت مقدر آپہنچا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ امر مقدر اور اللہ تعالیٰ کے علم کے خلاف دہ عمل ممنوع سر زد نہ ہوتا چنانچہ تم مجھ پر یہ الزام تو ڈال رہے ہو اور تمہیں سبب ظاہری یعنی میرا کسب و اختیار تو یاد رہا لیکن اصل چیز یعنی مقدر سے تم صرف نظر کر گئے۔
حضرت آدم و موسیٰ علیہما السلام کا مناظرہ اس عالم دنیا میں نہیں ہوا جہاں اسباب سے قطع نظر درست نہیں ہے بلکہ یہ مناظرہ عالم بالا میں ان دونوں کی روجوں کے درمیان ہوا تھا۔ اسی لئے یہاں یہ بات بطور خاص ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اگر کوئی عاصی و گناہ گار اس قسم کی دلیل کا سہارا لینے لگے تو وہ اس کے لئے کار آمد نہیں ہوگی، کیونکہ حضرت آدم کا معاملہ اس جہاں میں تھا جہاں وہ اسباب کے مکلف نہیں تھے اور پھر ان کی یہ خطاء بارگارہ الوہیت سے معاف بھی کر دی گئی تھی، لہٰذا یہاں تو کسب و اختیار اور ابواب کی بنا پر مواخذہ ہوگا کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ پر جو تختیاں اتری تھیں وہ زمرد کی تھیں اور ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ستر اونٹوں پر لادی جاتی تھیں، ان تختیوں میں ان کی قوم کے لئے اللہ کی جانب سے احکام و مسائل لکھے ہوئے تھے، ان تختیوں میں جو مضامین مذکور تھے وہ قدیم ہیں لہٰذا چالیس سال کی تحدید ان مضامین کے بارہ میں نہیں ہوگی بلکہ یہ کہا جائے گا کہ وہ مضامین جو ان تختیوں پر لکھے گئے تھے، ان کے لکھنے کی مدت آدم کی پیدائش سے چالیس سال قبل ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَنَحْنُ عِنْدَهَا جُلُوسٌ مَرْجِعَهُ مِنْ الْعِرَاقِ لَيَالِيَ قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ هَلْ أَنْتَ صَادِقِي عَمَّا أَسْأَلُكَ عَنْهُ تُحَدِّثُنِي عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَمَا لِي لَا أَصْدُقُكِ قَالَتْ فَحَدِّثْنِي عَنْ قِصَّتِهِمْ قَالَ فَإِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا كَاتَبَ مُعَاوِيَةَ وَحَكَمَ الْحَكَمَانِ خَرَجَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةُ آلَافٍ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ فَنَزَلُوا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا حَرُورَاءُ مِنْ جَانِبِ الْكُوفَةِ وَإِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِيصٍ أَلْبَسَكَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَاسْمٍ سَمَّاكَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَكَّمْتَ فِي دِينِ اللَّهِ فَلَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ تَعَالَى فَلَمَّا أَنْ بَلَغَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا عَتَبُوا عَلَيْهِ وَفَارَقُوهُ عَلَيْهِ فَأَمَرَ مُؤَذِّنًا فَأَذَّنَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَّا رَجُلٌ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا أَنْ امْتَلَأَتْ الدَّارُ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ دَعَا بِمُصْحَفٍ إِمَامٍ عَظِيمٍ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَصُكُّهُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ أَيُّهَا الْمُصْحَفُ حَدِّثْ النَّاسَ فَنَادَاهُ النَّاسُ فَقَالُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَسْأَلُ عَنْهُ إِنَّمَا هُوَ مِدَادٌ فِي وَرَقٍ وَنَحْنُ نَتَكَلَّمُ بِمَا رُوِينَا مِنْهُ فَمَاذَا تُرِيدُ قَالَ أَصْحَابُكُمْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خَرَجُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ كِتَابُ اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ فِي امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقْ اللَّهُ بَيْنَهُمَا فَأُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ دَمًا وَحُرْمَةً مِنْ امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ وَنَقَمُوا عَلَيَّ أَنْ كَاتَبْتُ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَقَدْ جَاءَنَا سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ حِينَ صَالَحَ قَوْمَهُ قُرَيْشًا فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ سُهَيْلٌ لَا تَكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ كَيْفَ نَكْتُبُ فَقَالَ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ أُخَالِفْكَ فَكَتَبَ هَذَا مَا صَالَحَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قُرَيْشًا يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عَلِيٌّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْكَرَهُمْ قَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ يَا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ إِنَّ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ فَأَنَا أُعَرِّفُهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا يَعْرِفُهُ بِهِ هَذَا مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ وَفِي قَوْمِهِ قَوْمٌ خَصِمُونَ فَرُدُّوهُ إِلَى صَاحِبِهِ وَلَا تُوَاضِعُوهُ كِتَابَ اللَّهِ فَقَامَ خُطَبَاؤُهُمْ فَقَالُوا وَاللَّهِ لَنُوَاضِعَنَّهُ كِتَابَ اللَّهِ فَإِنْ جَاءَ بِحَقٍّ نَعْرِفُهُ لَنَتَّبِعَنَّهُ وَإِنْ جَاءَ بِبَاطِلٍ لَنُبَكِّتَنَّهُ بِبَاطِلِهِ فَوَاضَعُوا عَبْدَ اللَّهِ الْكِتَابَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَرَجَعَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ كُلُّهُمْ تَائِبٌ فِيهِمْ ابْنُ الْكَوَّاءِ حَتَّى أَدْخَلَهُمْ عَلَى عَلِيٍّ الْكُوفَةَ فَبَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى بَقِيَّتِهِمْ فَقَالَ قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَيْتُمْ فَقِفُوا حَيْثُ شِئْتُمْ حَتَّى تَجْتَمِعَ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا تَسْفِكُوا دَمًا حَرَامًا أَوْ تَقْطَعُوا سَبِيلًا أَوْ تَظْلِمُوا ذِمَّةً فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَيْكُمْ الْحَرْبَ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا ابْنَ شَدَّادٍ فَقَدْ قَتَلَهُمْ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا بَعَثَ إِلَيْهِمْ حَتَّى قَطَعُوا السَّبِيلَ وَسَفَكُوا الدَّمَ وَاسْتَحَلُّوا أَهْلَ الذِّمَّةِ فَقَالَتْ أَاللَّهِ قَالَ أَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كَانَ قَالَتْ فَمَا شَيْءٌ بَلَغَنِي عَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ يَتَحَدَّثُونَهُ يَقُولُونَ ذُو الثُّدَيِّ وَذُو الثُّدَيِّ قَالَ قَدْ رَأَيْتُهُ وَقُمْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهِ فِي الْقَتْلَى فَدَعَا النَّاسَ فَقَالَ أَتَعْرِفُونَ هَذَا فَمَا أَكْثَرَ مَنْ جَاءَ يَقُولُ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي وَرَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي وَلَمْ يَأْتُوا فِيهِ بِثَبَتٍ يُعْرَفُ إِلَّا ذَلِكَ قَالَتْ فَمَا قَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ قَامَ عَلَيْهِ كَمَا يَزْعُمُ أَهْلُ الْعِرَاقِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَتْ هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ أَنَّهُ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا قَالَتْ أَجَلْ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ يَرْحَمُ اللَّهُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّهُ كَانَ مِنْ كَلَامِهِ لَا يَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ إِلَّا قَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَيَذْهَبُ أَهْلُ الْعِرَاقِ يَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَيَزِيدُونَ عَلَيْهِ فِي الْحَدِيثِ
ترجمہ:
عبیداللہ بن عیاض کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چند روز بعد حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ عراق سے واپس آکر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت ہم لوگ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے، حضرت عائشہ ؓ نے ان سے فرمایا عبداللہ! میں تم سے جو پوچھوں گی، اس کا صحیح جواب دوگے؟ کیا تم مجھے ان لوگوں کے بارے بتا سکتے ہو جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوشہید کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے سچ کیوں نہیں بولوں گا، فرمایا کہ پھر مجھے ان کا قصہ سناؤ۔
حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت شروع کی اور دونوں ثالثوں نے اپنا اپنا فیصلہ سنادیا، تو آٹھ ہزار لوگ جنہیں قراء کہا جاتا تھا ، نکل کر کوفہ کے ایک طرف حروراء نامی علاقے میں چلے گئے، وہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئے تھے اور ان کا یہ کہنا تھا کہ اللہ نے آپ کو جو قمیص پہنائی تھی، آپ نے اسے اتار دیا اور اللہ نے آپ کو جو نام عطاء کیا تھا آپ نے اسے اپنے آپ سے دور کردیا، پھر آپ نے جاکر دین کے معاملے ثالث کو قبول کرلیا، حالانکہ حکم تو صرف اللہ کا ہی چلتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ لوگ ان سے ناراض ہو کر جدا ہوگئے ہیں تو انہوں نے منادی کو یہ نداء لگانے کا حکم دیا کہ امیرالمومنین کے پاس صرف وہی شخص آئے جس نے قرآن کریم اٹھا رکھا ہو، جب ان کا گھر قرآن پڑھنے والوں سے بھر گیا تو انہوں نے قرآن کریم کا ایک بڑا نسخہ منگوا کر اپنے سامنے رکھا اور اسے اپنے ہاتھ سے ہلاتے ہوئے کہنے لگے اے قرآن! لوگوں کو بتا، یہ دیکھ کر لوگ کہنے لگے امیرالمومنین! آپ اس نسخے سے کیا پوچھ رہے ہیں ؟ یہ تو کاغذ میں روشنائی ہے، ہاں ! اس کے حوالے ہم تک جو احکام پہنچے ہیں وہ ہم ایک دوسرے سے بیان کرتے ہیں، آپ کا اس سے مقصد کیا ہے؟ فرمایا تمہارے یہ ساتھی جو ہم سے جدا ہو کر چلے گئے ہیں ، میرے اور ان کے درمیان قرآن کریم ہی فیصلہ کرے گا، اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم میں میاں بیوی کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کی طرف سے اور ایک ثالث عورت کے اہل خانہ کی طرف سے بھیجو، اگر ان کی نیت محض اصلاح کی ہوئی تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا، میرا خیال ہے کہ ایک آدمی اور ایک عورت کی نسبت پوری امت کا خون اور حرمت زیادہ اہم ہے (اس لئے اگر میں نے اس معاملہ میں ثالثی کو قبول کیا تو کونسا گناہ کیا؟) اور انہیں اس بات پر جو غصہ ہے کہ میں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خط و کتاب کی ہے ( تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تو پھر مسلمان اور صحابی ہیں) جب ہم نبی ﷺ کے ساتھ حدیبیہ میں تھے اور سہیل بن عمرو ہمارے پاس آیا تھا اور نبی ﷺ نے اپنی قوم قریش سے صلح کی تھی تو اس وقت نبی ﷺ نے مجھ سے ہی لکھوایا تھا ، بسم اللہ الرحمن الرحیم، اس پر سہیل نے کہا کہ آپ اس طرح مت لکھوائیے؟ نی ﷺ نے فرمایا پھر کس طرح لکھوائیں؟ اس نے کہا کہ آپ باسمک اللہم لکھیں ۔ اس کے بعد نبی ﷺ نے اپنا نام محمد رسول اللہ لکھوایا تو اس نے کہا کہ اگر میں آپ کو اللہ کا پیغمبر مانتا تو کبھی آپ کی مخالفت نہ کرتا، چنانچہ نبی ﷺ نے یہ الفاظ لکھوائے
ہذا ماصالح محمد بن عبداللہ قریشا
اور اللہ فرماتا ہے کہ پیغمبر اللہ ﷺ کی ذات میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجود ہے (میں نے تو اس نمونے کی پیروی کی ہے)
اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس سمجھانے کے لئے بھیجا، راوی کہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ گیا تھا، جب ہم ان کے وسط لشکر میں پہنچے تو ابن الکواء نامی ایک شخص لوگوں کے سامنے تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے حاملین قرآن! یہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آئے ہیں، جو شخص انہیں نہ جانتا ہو، میں اس کے سامنے ان کا تعارف قرآن کریم سے پیش کر دیتاہوں، یہ وہی ہیں کہ ان کے اور ان کی قوم کے بارے میں قرآن کریم میں قوم خصمون، یعنی جھگڑالو قوم کا لفظ وارد ہوا ہے، اس لئے انہیں ان کے ساتھی یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس بھیج دو اور کتاب اللہ کو ان کے سامنے مت بچھاؤ۔ یہ سن کر ان کے خطباء کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ بخدا! ہم تو ان کے سامنے کتاب اللہ کو پیش کریں گے، اگر یہ حق بات لے کر آئے ہیں تو ہم ان کی پیروی کریں گے اور اگر یہ باطل لے کر آئے ہیں تو ہم اس باطل کو خاموش کرا دیں گے، چنانچہ تین دن تک وہ لوگ کتاب اللہ کو سامنے رکھ کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مناظرہ کرتے رہے، جس کے نتیجے میں ان میں سے چار ہزار لوگ اپنے عقائد سے رجوع کر کے توبہ تائب ہو کر واپس آگئے، جن میں خود ابن الکواء بھی شامل تھا اور یہ سب کے سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بقیہ افراد کی طرف قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوا دیا کہ ہمارا اور ان لوگوں کا جو معاملہ ہوا وہ تم نے دیکھ لیا، اب تم جہاں چاہو ٹھہرو، تاآنکہ امت مسلمہ متفق ہوجائے، ہمارے اور تمہارے درمیان یہ معاہدہ ہے کہ تم ناحق کسی کا خون نہ بہاؤ، ڈاکے نہ ڈالو اور ذمیوں پر ظلم وستم نہ ڈھاؤ، اگر تم نے ایسا کیا تو ہم تم پر جنگ مسلط کر دیں گے کیونکہ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔
یہ ساری روئیداد سن کر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ابن شداد! کیا انہوں نے پھر قتال کیا ان لوگوں سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس وقت تک ان کے پاس اپنا کوئی لشکر نہیں بھیجا جب تک انہوں نے مذکورہ معاہدے کو ختم نہ کر دیا انہوں نے ڈاکے دالے، لوگوں کا خون ناحق بہایا اور ذمیوں پر دست درازی کو حلال سمجھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کیا بخدا! ایسا ہی ہوا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، ایسا ہی ہوا ہے۔ پھر حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہ اس بات کی کیا حقیقت ہے جو مجھ تک اہل عراق کے ذریعے پہنچی ہے کہ ذوالثدی نامی کوئی شخص تھا؟ حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے خود اس شخص کو دیکھا ہے اور مقتولین میں اس کی لاش پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا بھی ہوا ہوں اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بلا کر پوچھا تھا کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟ اکثر لوگوں نے یہی کہا کہ میں نے اسے فلاں محلے کی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے اسے فلاں محلے کی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، کوئی مضبوط بات جس سے اس کی پہچان ہوسکتی، وہ لوگ نہ بتاسکے۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی لاش کے پاس کھڑے تھے تو انہوں نے کیا وہی بات کہی تھی جو اہل عراق بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ نے اس کے علاوہ بھی ان کے منہ سے کوئی بات سنی؟ انہوں نے کہا بخدا! نہیں، فرمایا اچھا ٹھیک ہے، اللہ علی پر رحم فرمائے، یہ ان کا تکیہ کلام ہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں جب بھی کوئی چیز اچھی یا تعجب خیز معلوم ہوتی ہے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا اور اہل عراق ان کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا شروع کردیتے ہیں اور اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں ۔
ایاس بن معاویہؒ
اس پر امام اوزاعیؒ نے کہا:
یہ تو بڑی گمراہی کے رستے پر ہیں۔
وفدِ قدریہ:
یہ سن کر امام ابو حنیفہؒ کا رخ کیا اور آپ کے پاس آکر کہنے لگے کہ ہم آپ کے پاس سے مباحثہ کرنا چاہتے ہیں۔
امام ابو حنیفہؒ:
کس بارے میں مباحثہ کرنا چاہتے ہو؟
وفدِ قدریہ:
تقدیر کے مسئلے پر؟
امام ابو حنیفہؒ:
کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ علمِ تقدیر میں بات کرنا تو سورج کی شعاعوں میں جھانکنے کے مترادف ہے آپ جتنی گہری نظر سے اسے دیکھوگے اتنی ہی زیادہ طبیعت میں حیرت وپریشانی بڑھے گی۔
وفدِ قدریہ:
پھر قضاء قدر اور عدلِ باری تعالیٰ کے بارے میں بات کرلو؟
امام ابو حنیفہؒ:
اس پر بات کرنی ہے تو اللہ کا نام لو اور شروع کرو۔
وفدِ قدریہ:
اے ابو حنیفہؒ! کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کے مخلوقات میں سے کسی کے بارے میں سنا ہے کہ اس نے ایسا کام سرانجام دیا جو اللہ کے قبضہ قدرت میں نہ ہو؟
امام ابو حنیفہؒ:
نہیں، ایسا تو نہیں سنا، لیکن اللہ تعالیٰ کی قضاء کی دو قسمیں ہیں:(1) اللہ تعالیٰ کا امر جو اس کی طرف سے وحی کی گئی ہو۔(2) دوسری اللہ تعالیٰ کی قدرت۔ اب قدرت تو اللہ تعالیٰ کی انکے معاملات میں جاری وساری ہے اور اسکی وجہ سے انکو کفر میں مبتلا کردیا گیا ہے، لیکن اللہ نے اس بات سے ان کو منع کیا ہے۔
اور
اللہ تعالیٰ کا امر بھی دو طرح سے ہے:(1) امرِ کینونی: یہ وہ امر ہت جو اللہ نے کسی کو حکم تو دیا لیکن یہ امر اسکی وحی والے امر سے مختلف ہو، (2) اور دوسرا امر وحی جو پہلے ذکر کیا۔
وفدِ قدریہ:
اچھا آپ یہ بتائیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کا امر اس کے ارادے کے موافق ہوتا ہے یا مخالف ہوتا ہے؟
امام ابو حنیفہؒ:
اللہ کا امر تو اس کے ارادے میں سے ہی ہوتا ہے لیکن اس کا ارادہ اس کے امر میں سے نہیں ہوتا، اور اس بات کی تصدیق چاہئے تو اللہ تعالیٰ کا وہ قول کو حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:
بےشک مجھے خواب میں یہ بتایا گیا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں۔ اب تو بتا تیری کیا رائے ہے؟ آپ نے جواب دیا: اے ابا جان! جو آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ اس کو کر گذرئے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔[سورۃ الصٰفٰت:102]
اب جواب میں ان شاء اللہ کے بغیر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے، اس لئے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے امر میں سے تو تھا لیکن اسماعیلؑ کا ذبح کیا جانا اس کے ارادے میں سے نہ تھا۔
وفدِ قدریہ:
اچھا تو یہود ونصاریٰ کی ان باتوں کے بارے میں بتائیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہیں تھیں، ان کی کیا حقیقت تھی کیونکہ انہوں نے کہا:
یہودیوں نے کہا کہ عزیرؑ اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانیوں نے کہا کہ عیسیٰ اللہ کا بیٹا ہے۔[سورۃ التوبۃ:30]
تو کیا اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بارے میں فیصلہ کیا تھا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسی بری باتیں کریں یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیوی ہونے یا اولاد کا محتاج ہونے کی نسبت کریں؟
امام ابو حنیفہؒ:
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں تو فیصلہ نہیں کیا تھا البتہ اپنے بندوں کے بارے میں ضرور فیصلہ کیا تھا، اس لئے کہ اگر اپنے بارے میں فیصلہ کیا ہوتا تو یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہوتی اس کی قضاء نہ ہوتی۔
وفدِ قدریہ:
اچھا آپ یہ بتائین کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں یہ ارادہ کرتے ہیں کہ وہ کفر میں مبتلا ہوجائے تو یہ اس کے ساتھ اچھائی کرتے ہیں یا برائی کرتے ہیں؟
امام ابو حنیفہؒ:
اس بارے میں ہم نہ تو یہ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ برائی کی گئی یا ظلم کیا گیا ہے۔ ہاں اتنی بات ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے اوامر کی مخالفت کرے یہ بات ناممکن ہے، اور اللہ تعالیٰ اس بات سے بلند وبرتر ہیں کہ اس کے اوامر کی مخالفت کی جاسکے۔ لہٰذا بندوں میں سے جو شخص بھی یہ بات جانتا ہے کہ اللہ کے ارادے کی کیا حقیقت ہے یہ بات اس کے ایمان میں سے ہے۔
وفدِ قدریہ:
اے ابو حنیفہؒ ! کیا آپ مومن ہیں؟
امام ابو حنیفہؒ:
ہاں، میں مومن ہوں۔
وفدِ قدریہ:
کیا آپ اللہ کے ہاں بھی مومن ہیں؟
امام ابو حنیفہؒ:
آپ نے میرے علم واستطاعت کے مطابق سوال کیا ہے یا اللہ کے علم واستعداد کے بارے میں سوال کیا ہے؟
وفدِ قدریہ:
بلکہ ہم نے تو آپ کے علم واستعداد کے مطابق سوال کیا ہے؟ اللہ کے علم کے بارے میں سوال نہیں کیا۔
امام ابو حنیفہؒ:
میں اپنے علم کی حقیقت تو جانتا ہوں کہ میں مومن ہوں اور اللہ تعالیٰ کے علم واستعداد کے بارے میں میں نہیں جانتا۔
وفدِ قدریہ:
اے ابوحنیفہ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں سے کسی ایک حرف کا بھی انکار کردے؟
امام ابو حنیفہؒ:
وہ شخص کافر ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو تہدید کرتے ہوئے اور وعید سناتے ہوئے فرمایا:
پھر تم میں سے جو شخص چاہے ایمان لے آئے اور جو شخص چاہے کفر اختیار کرلے۔[سورۃ الکھف:29]
وفدِ قدریہ:
یہ آیت تو وعید کے زمرے میں سے ہے؟
امام ابو حنیفہؒ:
میں نہ ایمان لاتا ہوں اور نہ کفر کرتا ہوں تو اب کیا ہوگا؟ یقیناََ تم اپنے بنائے ہوئے جال میں خود پھنس جاؤگے اس لئے کہ کیا تم نہیں دیکھتے: کہ اگر میں ایمان نہ لاؤں تو میں اللہ کے ارادے کے لحاظ سے کفر اختیار کرنے میں مجبور ہوں، اور اگر میں کفر اختیار نہ کروں تو میں اللہ کے ارادے کے لحاظ سے ایمان لانے پر مجبور ہوں۔
وفدِ قدریہ:
اے ابوحنیفہ! تو لوگوں کو کب تک گمراہ کرتا رہے گا؟
امام ابو حنیفہؒ:
افسوس تمہارے حال پر، جس کو اللہ ہدایت دینا چاہے میں اسے کیسے گمراہ کرسکتا ہوں؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: اور اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔[سورۃ النحل:93، فاطر:8]
[الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء: ص165، دار الكتب العلمية - بيروت]
امام شافعیؒ کا منکر حدیث سے ایک مناظرہ (لازمی پڑھیے)
بسم اللہ الرحمن الرحیمالسلام علیکم ورحمتہ اللہ!پروفیسر محمد ابو زہرہ کلیہ اصول الدین الازہر یونیوسٹی نے اپنی کتاب ”الحدیث والمحدثون“ میں حضرت الامام محقق اسلام حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک مناظرہ جو کہ ایک منکر حدیث سے ہوا ،نقل کیا ہے ۔ جس کا ترجمہ پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم نے کیا ۔۔۔۔ اور یہ مناظرہ ماہنامہ بینات(ربیع الثانی1428ھ مئی2007ء, جلد 70, شمارہ 4)میں شایع ہوا ۔۔۔۔*افادہٴ عام کی غرض سے قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے ۔منکر حدیث: امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئےآپ عربی ہیں اور قرآن آپ کی زبان میں اترا ہے‘ آپ جانتے ہیں کہ یہ محفوظ کتاب ہے‘ اس میں خداوندی فرائض بیان کئے گئے ہیں‘ اگر کوئی شخص اس کے کسی حرف میں بھی شک وشبہ کا اظہار کرے تو آپ اس سے توبہ کا مطالبہ کریں گے‘ اگر توبہ کرے تو فبہا‘ ورنہ (مرتد سمجھ کر) اسے قتل کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا:”تبیاناً لکل شئ“اس میں ہر چیز کا بیان ہے۔ جب یہ بات ہے تو تمہارا یہ قول کیسے درست ہے کہ فرض عام بھی ہوتا ہے اور خاص بھی؟ نیز یہ بھی کہ امر وجوب کے لئے بھی ہوتا ہے اور اباحت کے لئے بھی؟ دوسری طرف آپ ایک شخص سے ایک یا دو تین احادیث روایت کرتے ہیں ،پھر وہ شخص دوسرے شخص سے‘ یہاں تک کہ راویوں کا سلسلہ نبی اکرم اتک پہنچ جاتاہے‘ مجھے معلوم ہے کہ آپ برملا کہا کرتے ہیں کہ: فلاں شخص سے فلاں حدیث کے نقل کرنے میں غلطی سرزد ہوئی ۔ میں جانتاہوں کہ اگر آپ ایک حدیث کی بناء پر کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرائیں اور کوئی شخص اس حدیث کے بارے میں یہ کہہ دے کہ: نبی کریم ا نے ایسا نہیں فرمایا‘ بلکہ تم سے یا اس شخص سے غلطی سرزد ہوئی ہے جس سے آپ نے یہ حدیث سنی ،تو تم اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کروگے‘ تم اسے صرف یہ بات کہو گے کہ تم نے بہت بری بات کہی‘ یہ بات کیوں کر درست ہے کہ احادیث کی بناء پر قرآن کے ظاہری احکام میں تفریق کی جائے؟ جب تم حدیث کو وہی اہمیت دیتے ہو جو قرآن کو حاصل ہے تو اس حدیث کا انکار کرنے والے کے خلاف تم کونسی حجت قائم کر سکو گے؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :- جو شخص اس زبان سے واقف ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا‘ وہ اس حقیقت سے باخبر ہے کہ احادیث رسول اللہ ا پر عمل کرنا ضروری ہے۔منکر حدیث: اس کی کوئی دلیل آپ کو یاد ہو تو پیش کیجئے!امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :- اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے:”هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ الخ (الجمعہ 2)ترجمہ:۔”وہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیات سناتا اور ان کو پاک کرتا اور کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے“۔منکر حدیث: کتاب سے تو کتاب الٰہی مراد ہے، مگر حکمت کیا چیز ہے؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :حکمت سے حدیث رسول مراد ہے۔منکر حدیث: کیا اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم ا اجمالاً بھی قرآن کی تعلیم دیتے تھے اور حکمت یعنی مذکورہ احکام بھی بیان فرماتے تھے؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :غالباً آپ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں جو فرائض مذکور ہیں، مثلاً: نماز‘ زکوٰة‘ حج وغیرہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ان کی کیفیت اور تفصیل بیان فرمادیا کرتے تھے۔منکر حدیث:جی ہاں ! میرا یہی مطلب ہے۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:- تو میں بھی آپ سے یہی کہہ رہا ہوں کہ فرائض کی تفصیل حدیث رسول ا سے معلوم ہوتی ہے۔منکر حدیث:اس امر کا بھی احتمال ہے کہ کتاب اور حکمت دونوں سے ایک ہی چیز مراد ہو، اور کلام کو تکرار واعادہ پر محمول کیا جائے؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: آپ ہی بتایئے کہ دونوں سے ایک چیز مراد لینا بہتر ہے یا دونوں؟منکر حدیث: ہوسکتا ہے کہ کتاب وحکمت سے دو چیزیں یعنی کتاب وسنت مراد لی جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی چیز یعنی قرآن مراد ہو۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: ہر دو احتمالات میں سے جو واضح تر ہے وہی افضل ہے اور جو بات ہم نے کہی ہے‘ قرآن کریم میں اس کی دلیل موجود ہے۔منکر حدیث: وہ دلیل کیا اور کہاں ہے؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ فرماتاہے:”وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّـهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا الخ (الاحزاب:34)ترجمہ:۔”اور تمہارے گھروں میں خدا کی آیات اور جس حکمت کی تلاوت کی جاتی ہے‘ اس کو یاد کرتی رہو‘ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نرمی کرنے والا اور آگاہ ہے“۔اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ امہات المؤمنین کے گھروں میں دو چیزوں کی تلاوت کی جاتی تھی۔منکر حدیث: قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے ،مگر حکمت کی تلاوت کا کیا مطلب ہے؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: تلاوت کے معنی یہ ہیں کہ: جس طرح قرآن کے ساتھ نطق کیا جاتاہے‘ اسی طرح سنت کا اظہار بھی قوت گویائی ہی کے ذریعے کیا جاتاہے۔منکر حدیث: بے شک اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمت‘ قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز ہے۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ نے ہم پر رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض ٹھہرایا ہے۔منکر حدیث:اس کی کیا دلیل ہے ؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :اللہ تعالیٰ فرماتاہے:1- ”فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا الخ۔ (النساء:65)ترجمہ:۔”اور تیرے رب کی قسم! لوگ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو فیصل نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ آپ صادر کردیں‘ اس کے بارے میں اپنے جی میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اپنا سرتسلیم خم کردیں“۔2-”مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ الخ (النساء:80)ترجمہ:۔”جس نے رسول کی اطاعت کی ،اس نے اللہ کی اطاعت کی“۔3-”فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ الخ(النور:63)ترجمہ:”جو لوگ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں یا دردناک عذاب میں گرفتار ہوجائیں“۔منکر حدیث: یہ درست ہے کہ حکمت سے سنت رسول مراد ہے ،اگر میرے ہم خیال لوگوں کی یہ بات صحیح ہوتی کہ ان آیات میں رسول کے احکام کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور رسول کا حکم وہی ہے جو اللہ نے قرآن کریم میں نازل کیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص رسول کے احکام کی اطاعت نہیں کرتا‘ اس کو احکام خداوندی کا تسلیم نہ کرنے والا قرار دینا چاہئے‘ نہ کہ صرف احکام رسول کا باغی۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ نے رسول کے احکام کا اتباع ہم پر فرض قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا:”وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا الخ۔ (الحشر:7)ترجمہ:۔”رسول جو کچھ تم کو دے، وہ لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو“۔قرآن سے بوضاحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنا اور جس بات سے منع کریں، اس سے باز رہنا ہم پر فرض ہے۔منکر حدیث: جو بات ہم پر فرض ہے وہ ہم سے پہلوں اور پچھلوں سب پر فرض ہے؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: جی ہاں!منکر حدیث: اگر رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے احکام کی اطاعت ہم پر فرض ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ا ہم پر کسی بات کو فرض ٹھہرا تے ہیں تو آپ ایک ایسے امر کی جانب ہماری رہنمائی کرتے ہیں جس کی اطاعت ہمارے لئے ضروری ہے؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: جی ہاں!امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ نے اطاعت رسول کا جو حکم دیا ہے‘ کیا آپ یا آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی شخص جس نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہو‘ احادیث نبویہ کے بغیر اس کی تعمیل کرسکتا ہے؟ اور حدیث نبوی کو نظر انداز کرکے احکام رسول کی تعمیل ممکن ہے؟ علاوہ ازیں حدیث نبوی قرآن کے ناسخ ومنسوخ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔منکر حدیث: اس کی کوئی مثال ذکر کیجئے؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: قرآن میں فرمایا:”كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ“۔ (ابقرۃ :180)ترجمہ:۔”جب تم میں سے کسی کا آخری وقت آجائے اور اس نے مال چھوڑا ہو تو تم پر والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے وصیت فرض کی گئی ہے“۔ترکہ کی تقسیم سے متعلق قرآن میں ہے:”وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ․․․ الخ (النساء:11)ترجمہ:․․․”اور اگر میت کی اولاد بھی ہو تو اس کے ترکہ میں سے والدین میں سے ہرایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ پھر اگر نہ ہو اس کی اولاد اور وارث بن رہے ہوں اس کے ماں باپ ہی تو اس کی ماں کا ایک تہائی حصہ ہے پھر اگر ہوں میت کے بھائی بہن تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ۔۔۔۔۔۔“۔حدیث نبوی کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ ترکہ کی تقسیم سے متعلق آیت نے وصیت پر مشتمل آیت کو منسوخ کردیا‘ اگر ہم حدیث نبوی کو تسلیم نہ کرتے ہوتے اور ایک شخص ہمیں کہتا کہ وصیت پر مشتمل آیت نے تقسیم ورثہ سے متعلق آیت کو منسوخ کردیا او راس پر حجت صرف حدیث ہی کے ذریعے سے قائم کی جاسکتی ہے۔منکر حدیث: آپ نے مجھ پر حجت تمام کردی ہے اور میں تسلیم کرتاہوں کہ حدیث نبوی کو قبول کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے‘ حق کے ظاہر ہوجانے کے بعد میں اس بات میں عار محسوس نہیں کرتا کہ حدیث نبوی کے بارے میں اپنا موقف چھوڑ کر اپنا زاویہ نگاہ اختیار کرلوں‘ بلکہ مجھے اس حقیقت کا اعتراف کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں کہ ظہور حق کے بعد اس کو تسلیم کرنا میرے لئے ضروری تھا‘ مگر بتایئے کہ: اس کا کیا مطلب کہ قرآن کے بعض عام احکام اپنے عموم پر رہتے ہیں اور بعض دفعہ ان میں تحصیص پیدا ہوجاتی ہے؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے جواب میں متعدد مثالیں ذکر کیں ،پھر اپنے حریف کو مخاطب کرکے فرمایا: اب آپ پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کی اطاعت کو قرآن کریم میں فرض قرار دیا اور اس کے ساتھ ساتھ آپ صلیٰ*اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے عام وخاص اور ناسخ ومنسوخ کا شارح وترجمان ٹھہرایا ہے۔منکر حدیث: جی ہاں ! آپ کا ارشاد بجا ہے‘ مگر میں تو ہمیشہ اس کی مخالفت کرتا رہا‘ یہاں تک کہ اس نقطہٴ نظر کی غلطی مجھ پر واضح ہوگئی۔ اس ضمن میں منکر حدیث دو فرقوں میں بٹ گئے ہیں: ایک فریق کا کہنا یہ ہے کہ حدیث نبوی مطلقاً حجت نہیں ہے اور قرآن کریم میں ہر چیز کی وضاحت وصراحت موجود ہے۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: حدیث نبوی سے صاف انکار کا نتیجہ کیا نکلا؟منکر حدیث:بہت برا نتیجہ برآمد ہوا۔اس لئے کہ انکار حدیث کا عقیدہ رکھنے والے یہ کہتے ہیں کہ :جو شخص کم از کم ایسا کام کرے جس کو صلوٰة یا زکوٰة کہہ سکتے ہیں‘ اس نے صلوٰة وزکوٰة کا حق ادا کردیا‘ اس میں وقت کی پابندی نہیں، اگر کوئی شخص ہر روز یا کئی دنوں میں دو رکعت نماز ادا کرلے تو اس نے صلوٰة کا فریضہ ادا کردیا‘ وہ کہتے ہیں کہ: جو حکم قرآن میں نہ وارد ہو‘ وہ کسی پر فرض نہیں۔ منکر حدیث کا دوسرا فرقہ کہتا ہے کہ جو حکم قرآن میں مذکور ہے، اس کے بارے میں حدیث کو قبول کیا جاسکتا ہے اور جس ضمن میں قرآن وارد نہیں ہوا‘ اس میں حدیث کو قبول نہیں کیا جاسکتا‘ نتیجہ اس کا بھی وہی ہوا جو پہلے فرقہ کا ہوا تھا۔ اس فرقہ نے پہلے حدیث کو رد کیا اور پھر اس کو قبول بھی کرنے لگے‘ یہ لوگ کسی خاص وعام یا ناسخ ومنسوخ کو تسلیم نہیں کرتے،ان دونوں کا گمراہ ہونا واضح ہے۔ اور میں ان میں سے کسی کو بھی حق نہیں سمجھتا‘ مگر میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ: آپ ایک حرام چیز کو بلاد لیل کیسے حلال سمجھنے لگے ہیں؟ کیا آپ کے پاس اس کی کوئی دلیل موجود ہے؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:دلیل موجود ہے۔منکر حدیث: کونسی دلیل؟امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: میرے پاس جو شخص بیٹھا ہے‘ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا اس کا خون اور مال حرام ہے یا نہیں؟منکر حدیث: اس کا خون اور مال حرام ہے۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اگر وہ شخص شہادت دے کہ اس فلاں شخص کو قتل کیا اور اس کا مال لے لیا اور وہ مال آپ کے پاس موجود ہے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا رویہ ہوگا؟ (آپ کیا رویہ اختیار کریں گے؟)منکر حدیث: میں اس کو فوراً قتل کردوں گا اور اس سے مال لے کر وارثوں کو لوٹا دوں گا۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: کیا یہ ممکن نہیں کہ گواہوں نے جھوٹی اور غلط گواہی دی ہو؟منکر حدیث:ایسا ہوسکتا ہے۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: پھر آپ نے جھوٹی گواہی کی بناء پر اس شخص کے مال اور خون کو کیسے مباح قرار دیا‘ حالانکہ وہ خون اور مال حرام تھا؟منکر حدیث:اس لئے کہ شہادت قبول کرنا ضروری امر ہے۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:اگر تم گواہوں کی گواہی کو ظاہری صداقت کی بنا پر قبول کرنا ضروری سمجھتے ہو اور باطن کا علم تو صرف ذات خداوندی ہی کو ہے تو ہم راوی کے لئے جو شرائط عائد کرتے ہیں‘ وہ گواہ کی شرائط سے زیادہ کڑی ہیں‘ چنانچہ جن لوگوں کی شہادت کو قبول کرتے ہیں‘ ضروری نہیں کہ ان کی روایت کردہ حدیث کو بھی صحیح سمجھ لیں ۔راوی کی صداقت اور غلطی کا پتہ تو ان رواة ورجال سے بھی چل جاتاہے جو روایت حدیث میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں‘ علاوہ ازیں کتاب وسنت سے بھی راوی کی غلطی واضح ہوجاتی ہے‘ مگر شہادت میں ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔منکر حدیث: میں تسلیم کرتاہوں کہ حدیث نبوی دین میں حجت ہے اور رسول کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے فرض ٹھہرایا ہے‘ جب میں نے رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کو قبول کیا تو گویا خدا کے حکم کو قبول کیا۔ حدیث ِ رسول کی حجیت پر سب مسلمانوں کا اجماع منعقد ہوچکا ہے اور اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں‘ آپ کے بتانے سے مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ مسلمان ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں ۔برادران اسلام!آپ نے مناظرہ پڑھا‘ یہ مناظرہ ان لوگوں کو پڑھوائیں جو اس فتنے کے جال میں پھنس گئے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام مسلمانوں کو علمائے حق کے دامن سے وابستہ رکھے اور صحابہ کرام واہل بیت عظام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین ۔(کتاب الام ج:7 ص:250 بحوالہ: ”الحدیث والمحدثون“ اردو ترجمہ: ص:362تا368 مترجم پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم)ماہنامہ بینات, ربیع الثانی1428ھ مئی2007ء, جلد 70, شمارہ 4
034:022
قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍۢ وَمَا لَهُۥ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍۢ
ترجمہ:
تو کہہ پکارو ان کو جن کو گمان کرتے ہو سوائے اللہ کے وہ مالک نہیں ایک ذرہ بھر کے آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ ساجھا ہے اور نہ ان میں کوئی اس کا مددگار
تفسیر:
خلاصہ تفسیر
آپ (ان لوگوں سے) فرمائیے کہ جن (معبودوں) کو تم خدا کے سوا (دخیل خدائی) سمجھ رہے ہو، ان کو (اپنی حاجتوں کے لئے) پکارو (تو سہی معلوم ہو جائے گا کہ کتنی قدرت اور اختیار رکھتے ہیں ان کی حالت واقعیہ تو یہ ہے کہ) وہ ذرہ برابر (کسی چیز کا) اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں کی (کائنات) میں اور نہ زمین (کی کائنات) میں اور نہ ان کی ان دونوں (کے پیدا کرنے) میں کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا (کسی کام میں) مددگار ہے، اور خدا کے سامنے (کسی کی) سفارش کسی کے لئے کام نہیں آتی (بلکہ سفارش ہی نہیں ہو سکتی) مگر اس کے لئے جس کی نسبت وہ (کسی سفارش کرنے والے کو) اجازت دے دے، (کفار و مشرکین میں کچھ جاہل تھے تو ایسے تھے جو پتھر کے خود تراشیدہ بتوں ہی کو حاجت روا اور کار فرما اور خدائی کا شریک سمجھتے تھے، ان کے رد کے لئے تو آیت کے پہلے جملے آئے،(آیت) (لا یملکون مثقال ذرة ومالہم فیہما من شرک) اور بعض لوگ اتنا قادر تو نہیں کہتے تھے مگر یہ عقیدہ رکھتے کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کے رد کے لئے یہ فرمایا (آیت) (مالہ منہم من ظہیر) اور کچھ ایسے سمجھدار تھے کہ ان بےجان بتوں کو کسی چیز کا خالق یا خالق کا مددگار تو نہیں مانتے تھے، مگر یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کے نزدیک مقبول ہیں کہ جس کی سفارش کر دیں اس کا کام بن جاتا ہے، جیسا کہ وہ کہا کرتے تھے (ھولاء شفعاؤنا عنداللہ) ان کے رد کے لئے فرمایا (ولا تنفع الشفاعة عندہ) جس کا حاصل یہ ہے کہ ان بتوں میں کسی قابلیت کے تو تم بھی قائل نہیں مگر تم اس دھوکہ میں ہو کہ ان کو اللہ کے نزدیک مقبولیت حاصل ہے۔ یہ محض تمہارا خیال بےبنیاد ہے، نہ ان میں کوئی قابلیت اور نہ اللہ کے نزدیک مقبولیت۔ آگے یہ ارشاد فرمایا کہ ان میں تو نہ کوئی قابلیت ہے نہ مقبولیت، جن میں قابلیت بھی موجود ہو اور مقبولیت بھی جیسے اللہ کے فرشتے وہ بھی کسی کی سفارش کرنے میں خود مختار نہیں، بلکہ ان کے لئے شفاعت کا قانون یہ ہے کہ جس شخص کے لئے سفارش کرنے کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جائے صرف اس کی سفارش کرسکتے ہیں اور وہ بھی بڑی مشکل سے۔ کیونکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کی ہیبت وجلال سے مغلوب ہیں، جب ان کو کوئی عام حکم دیا جاتا ہے یا کسی کے لئے سفارش ہی کا حکم ملتا ہے تو وہ حکم سننے کے وقت ہیبت سے مدہوش ہو جاتے ہیں ۔ جب یہ ہیبت کی کیفیت رفع ہو جاتی ہے اس وقت حکم پر غور کرتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ کر تحقیق کرلیتے ہیں کہ ہم نے جو حکم سنا ہے وہ کیا ہے، اس تحقیق کے بعد وہ حکم کی تعمیل کرتے ہیں جس میں کسی کی سفارش کا حکم بھی داخل ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ کے فرشتے جو قابلیت بھی رکھتے ہیں، مقبولیت عند اللہ بھی، وہ بھی کسی کی سفارش از خود بلا اجازت نہیں کر سکتے، اور جب کسی کے لئے اجازت ملتی بھی ہے تو خود ہیبت سے مدہوش جیسے ہو جاتے ہیں، اس کے بعد جب ہوش درست ہوتا ہے تو سفارش کرتے ہیں، تو یہ پتھروں کے خود تراشیدہ بت جن میں نہ کسی طرح کی قابلیت ہے نہ مقبولیت، وہ کیسے کسی کی سفارش کرسکتے ہیں؟ فرشتوں کے مدہوش ہو جانے وغیرہ کا ذکر آگے آیت میں اس طرح آیا ہے کہ) یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ (جو حکم سننے کے وقت طاری ہوئی تھی) دور ہو جاتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا حکم فرمایا وہ کہتے ہیں کہ (فلاں) حق بات کا حکم فرمایا (جیسے طالب علم سبق پڑھنے کے بعد استاد کی تقریر کو صحیح کرنے اور یاد کرنے کے لئے باہم اس کا اعادہ کیا کرتے ہیں، یہ فرشتے بھی اپنے سنے ہوئے حکم کی باہم ایک دوسرے سے تحقیق وتصدیق کرتے ہیں ۔ اس کے بعد حکم کی تعمیل کرتے ہیں) اور (اس کے روبرو فرشتوں کا ایسا حال ہو جانا کیا بعید ہے) وہ عالی شان سب سے بڑا ہے۔
اور آپ (ان سے تحقیق توحید کے لئے یہ بھی) پوچھئے کہ تم کو آسمان و زمین سے (پانی برسا کر اور نباتات نکال کر) کون روزی دیتا ہے (چونکہ اس کا جواب ان کے نزدیک ہی متعین ہے، اس لئے) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ (روزی دیتا ہے) اور (یہ بھی کہئے کہ اس مسئلہ توحید میں) بیشک ہم یا تم ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی میں (یعنی یہ تو ہو نہیں سکتا کہ دو متضاد چیزیں توحید اور شرک دونوں صحیح اور حق ہوں، اور دونوں طرح کے عقیدے رکھنے والے اہل حق ہوں بلکہ ضروری ہے کہ ان دونوں عقیدوں میں سے ایک صحیح دوسرا غلط ہو ۔ صحیح عقیدے کے رکھنے والے ہدایت پر اور غلط کا عقیدہ رکھنے والے گمراہی پر ہوں گے۔ اب تم غور کرلو کہ ان میں کون سا عقیدہ صحیح ہے اور کون حق و ہدایت پر ہے کون گمراہی پر ) آپ (ان سے اس بحث و مناظرہ میں یہ بھی) فرما دیجئے (کہ ہم نے کھول کر حق و باطل کو واضح طور پر بیان کردیا ہے، اب تم اور ہم ہر ایک اپنے عمل کا ذمہ دار ہے) تم سے ہمارے جرائم کی باز پرس نہ ہوگی اور ہم سے تمہارے اعمال کی باز پرس نہ ہوگی اور (آپ ان سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (ایک وقت ضرور آنے والا ہے جس میں) ہمارا رب سب کو (ایک جگہ) جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ (عملی) کر دے گا اور وہ بڑا فیصلہ کرنے والا اور (سب کا حال) جاننے والا ہے، آپ (یہ بھی) کہئے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی شان عالی اور قدرت کاملہ کے دلائل سن لئے اور اپنے بتوں کی بےبسی بھی دیکھ لی) مجھ کو ذرا وہ تو دکھلاؤ جن کو تم نے شریک بنا کر (استحقاق عبادت میں) خدا کے ساتھ ملا رکھا ہے، ہرگز (اس کا کوئی شریک) نہیں بلکہ (واقع میں) وہی ہے اللہ (یعنی معبود برحق) زبردست حکمت والا۔
معارف ومسائل
آیات مذکورہ میں حکم ربانی کے نزول کے وقت جو فرشتوں کا مدہوش ہو جانا پھر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ پاچھ کرنے کا ذکر ہے، اس کا بیان صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس طرح آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی حکم نافذ فرماتے ہیں تو سب فرشتے خشوع و خضوع سے اپنے پر مارنے لگتے ہیں (اور مدہوش جیسے ہو جاتے ہیں) جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ اور ہیبت و جلال کا وہ اثر دور ہو جاتا ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے کہتے ہیں کہ فلاں حکم حق ارشاد فرمایا ہے۔ الحدیث۔
اور صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابن عباس کسی صحابی سے یہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک اسمہ جب کوئی حکم دیتا ہے تو عرش کے اٹھانے والے فرشتے تسیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح کو سن کر ان کے قریب والے آسمان کے فرشتے تسبیح پڑھنے لگتے ہیں، پھر ان کی تسبیح کو سن کر اس سے نیچے والے آسمان کے فرشتے تسبیح پڑھنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ یہ نوبت سماء دنیا (نیچے کے آسمان) تک پہنچ جاتی ہے (اور سب آسمانوں کے فرشتے تسبیح میں مشغول ہو جاتے ہیں) پھر وہ فرشتے جو حملہ عرش کے قریب ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے رب نے کیا فرمایا وہ بتلا دیتے ہیں، پھر اسی طرح ان سے نیچے کے آسمان والے اوپر والوں سے یہی سوال کرتے ہیں، یہاں تک کہ سوال و جواب کا یہ سلسلہ سماء دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔ الحدیث (مظہری)
قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ
ترجمہ:
تو کہہ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے بتلا دے کہ اللہ اور یا ہم یا تم بیشک ہدایت پر ہیں یا پڑے ہیں گمراہی میں صریح
تفسیر:
بحث و مناظرہ میں مخاطب کے نفسیات کی رعایت اور اشتعال انگیزی سے پرہیز :
(آیت) وانا او ایاکم لعلی ھدی او فی ضلال مبین، یہ مشرکین و کفار کے ساتھ خطاب ہے۔ دلائل واضحہ سے اللہ تعالیٰ کا خالق و مالک ہونا اور قادر و مطلق ہونا واضح کردیا گیا، بتوں اور غیر اللہ کی بےبسی اور کمزوری کا مشاہدہ کرا دیا گیا، ان سب باتوں کے بعد موقع اس کا تھا کہ مشرکین کو خطاب کر کے کہا جاتا کہ تم جاہل اور گمراہ ہو کہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور شیاطین کی پرستش کرتے ہو ۔ مگر قرآن حکیم نے اس جگہ جو حکیمانہ عنوان اختیار فرمایا وہ دعوت و تبلیغ اور مخالفین اسلام اور اہل باطل سے بحث و مناظرہ کرنے والوں کے لئے ایک اہم ہدایت نامہ ہے کہ اس آیت میں ان کو کافر گمراہ کہنے کی بجائے عنوان یہ رکھا کہ ان دلائل واضحہ کی روشنی میں یہ تو کوئی سمجھدار آدمی کہہ نہیں سکتا کہ توحید و شرک دونوں باتیں حق ہیں اور اہل توحید اور مشرک دونوں حق پرست ہیں، بلکہ یقینی ہے کہ ان دونوں میں سے ایک حق پر دوسرا گمراہی پر ہے۔ اب تم خود سوچ لو اور فیصلہ کرلو کہ ہم حق پر ہیں یا تم۔ مخاطب کو خود کافر گمراہ کہنے سے اس کو اشتعال ہوتا، اس سے گریز کیا گیا، اور ایسا مشفقانہ عنوان اختیار کیا کہ سنگدل مخالف بھی غور کرنے پر مجبور ہو جائے۔ (از قرطبی و بیان القرآن)
یہ پیغمبرانہ دعوت و موعظمت اور مجادلہ بالتی ھی احسن کا طریقہ جو علماء کو وقت پیش نظر رکھنا چاہئے، اس کے نظر انداز ہونے ہی سے دعوت و تبلیغ اور بحث و مناظرہ بےاثر بلکہ مضر ہو کر رہ جاتا ہے۔ مخالفین ضد پر آ جاتے ہیں ان کی گمراہی اور پختہ ہو جاتی ہے۔





No comments:
Post a Comment