Friday, 26 October 2012

نبیِ رحمت (ﷺ) اور کسبِ معاش



نبیِ رحمت ﷺ اور کسبِ معاش



                یٰایُّہا الرُّسُلُ کُلُوْا مّنَ الطَّیِّبَاتِ (الآیة) اس خدائی حکم اور قانونِ الٰہی پر تمام انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام نے اپنے اپنے زمانے اور عہد کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے عمل کیا بالخصوص نبی آخر الزماں، رحمت عالم، ہادیٴ دوعالم حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بھی مذکورہ قرآنی دستور کو عملی جامہ پہنایا، آقائے دو جہاں کبھی دایہ حلیمہ کے بچوں کے ساتھ بکریاں چراتے ہیں، تو کبھی خواجہ ابوطالب کے ساتھ بغرض تجارت شام کا سفر کرنے پر بضد ہوتے ہیں، محبوب رب العالمین اگر خدیجتہ الکبریٰ کا مال، مضاربت کے طور پر لے کر شام کا سفر فرماتے ہیں، تو اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے بدلے جنگل میں چراتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں؛ کیوں کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اپنے ہاتھوں کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہوتا اور اللہ کے نبی حضرت داؤد علیٰ نبینا وعلی الصلوٰة والسلام اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے تھے اور حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمة اللہ علیہ ”معارف القرآن“ میں فرماتے ہیں کہ: کسبِ معاش کے ذرائع میں تجارت اور محنت سب سے افضل اور اطیب ذریعہٴ معاش ہے؛ لہٰذا رسولِ خدا ﷺ نے تجارت اور سوداگری فرمائی ہے۔
شغل تجارت
                (۱) حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء سے روایت ہے کہ میں نے بعثت سے قبل ایک مرتبہ محمد بن عبداللہ ﷺ سے ایک معاملہ کیا، میرے ذمہ کچھ دینار باقی تھا، میں نے آپ ﷺ سے وعدہ کیا کہ میں ابھی لے کر آتا ہوں، اتفاق سے گھر جاکر وعدہ بھول گیا، تین دن کے بعد یاد آیا کہ آپ ﷺ سے وعدہ کرکے آیا تھا، یاد آتے ہی فوراً وعدہ گاہ پہنچا تو آپ ﷺ کو اسی مقام پر منتظر پایا۔ آپ ﷺ نے صرف اتنا فرمایا کہ: تم نے مجھ کو زحمت دی، میں تین روز سے اسی جگہ تمہارا انتظار کررہا ہوں۔
                (۲) آپ ﷺ نے بعثت سے قبل عبداللہ بن سائب کے ساتھ بھی تجارت میں شرکت فرمائی تھی، وہ آپ ﷺ سے کہتے ہیں کنتَ شریکی فنعم الشریکُ لا تداری ولا تماری (آپ ﷺ تو میرے شریک تجارت تھے اور کیا ہی اچھے شریک تھے، نہ کسی بات کو ٹالتے تھے اور نہ کسی بات میں جھگڑتے تھے)۔
                (۳) آپ ﷺ نے قیس بن سائب کے ساتھ بھی تجارت میں شرکت فرمائی تھی، وہ فرماتے ہیں کان خیرَ شریکٍ لا یماری ولا یشاری (آپ بہترین شریک تھے، نہ جھگڑتے تھے، نہ کسی قسم کا مناقشہ کرتے تھے)۔
                (۴) حضرت خدیجہ بنت خویلد کے مال میں بطور مضاربت ملکِ شام جاکر تجارت کرنا تواتر کی حد تک مشہور ومعروف ہے، اسی سفر میں حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ ساتھ تھے، انھوں نے آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کا خوب مشاہدہ کیا اور واپسی پر وہ رُودادِ سفر بیان کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک صاحب نے آپ ﷺ سے کہا: لات وعزی کی قسم کھاؤ! آپ ﷺ نے فرمایا میں نے کبھی لات وعزّٰی کی قسم نہیں کھائی، یہ سن کر وہ صاحب کہنے لگے یہ نبی آخر الزماں کی علامت ہے؛ غرض یہ کہ یہی سفر عقدِ مسنون کا سبب اور ذریعہ ثابت ہوا۔
اصولِ تجارت
                قرآن کریم، احادیث رسول ﷺ اور سیرتِ طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بزنس اور تجارت بہترین پیشہ اور نبی کی سنت ہے، بشرطیکہ اسلامی اصول اور آداب کا لحاظ رکھا جائے؛ لہٰذا تجارت پیشہ لوگوں کو بہت سے اہم اور شرعی امور کی پابندی کرنی چاہیے اور متعدد کاموں سے بچنا اور پرہیز کرنا چاہیے اور ساتھ ہی عقیدہ یہ ہو کہ ان امور کی پابندی اور پرہیز سے دارین کی فلاح مقدر ہوگی۔
تجارت میں مطلوب اوصاف
                (۱) تقویٰ: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تاجر لوگ قیامت کے دن نافرمان لوگوں میں شامل کرکے اٹھائے جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈریں، نیکی اختیار کریں اور سچ بولیں۔
                (۲) امانت ودیانت: رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: التاجرُ الصدوقُ الأمینُ مع النبیین والصدیقین والشہداء (سچا امانت دار تاجر آخرت میں انبیا، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا) (ترمذی،ج۳،ص۱۴۵)
                (۳) سچائی: اوپر کی روایت میں دیانت وامانت کے ساتھ ایک وصف صدق اور سچائی بھی مذکورہے۔
                (۴) نرمی اور حسن اخلاق: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مزارعت کو حرام نہیں فرمایا؛ بلکہ یوں ارشاد فرمایا کہ: ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو (مشکوٰة شریف،ص۳۱۵)
                (۵) بہتر ادائیگی: آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جو ادائیگی میں سب سے بہتر ہو (بخاری شریف، ج۱،ص۳۲۲)
                (۶) تول میں جھکاؤ: اجرت لے کر وزن کرنے والے سے حبیب کبریا ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ زِنْ وأرْجحْ (تولو اور جھکاہوا تولو)
                (۷) صبح سویرے بیداری: اللہ کے نبی ﷺ نے دعاء فرمائی کہ اے اللہ میری امت کے لیے اس کی صبح کے اوقات میں برکت عطا فرما، لہٰذا راویِ حدیث حضرت صخرغامدی اپنے تاجروں کو صبح کے وقت ہی بھیجتے تھے؛ چنانچہ وہ مالدار ہوگئے اور ان کے مال میں اضافہ ہوگیا۔ (مشکوٰة شریف،ص۳۳۹)
                (۸) صدقہ: قیس بن غرزہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اس زمانہ میں ہمیں ”سماسرہ“ کہا جاتا تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ”تجار“ کی جماعت! بیشک شیطان اور گناہ دونوں خریدوفروخت میں آجاتے ہیں، پس تم اپنی تجارت کے ساتھ صدقہ کو ملالو (مشکوٰة شریف،ص۲۴۳)
                (۹) سخاوت: نبیِ آخر الزماں ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ سخی انسان پر رحم فرمائے جب وہ بیچے جب وہ خریدے اور جب وہ تقاضہ کرے (بخاری شریف ج۱،ص۲۷۸)
                (۱۰) تنگ دست کی رعایت: نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کسی تنگ دست کو مہلت دے یا معاف کردے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اللہ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا (ترمذی شریف، ج۱،ص۱۵۶)
                مذکورہ بالا اوصاف کے علاوہ تاجر میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع بہت ضروری ہے اور حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی رحمة اللہ علیہ سیرتِ المصطفیٰ کی پہلی جلد میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سب سے زیادہ بامروت، سب سے زیادہ خلیق، سب سے زیادہ پڑوسیوں کے خبرگیر، سب سے زیادہ حلیم وبردبار، سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ امانت دار تھے، لہٰذا یہ تمام اوصاف ہر مسلمان میں ہونے چاہئیں خواہ وہ تاجر ہو یا نہ ہو۔
جن چیزوں جن سے تاجر کو بچنا چاہیے
                (۱) ناپ تول میں کمی: ارشاد باری ہے وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِیْنَ الَّذِیْن اذا اکْتَالُوا علی الناسِ یَسْتَوفُونَ وَاذا کَالواہُمْ أوْ وَزَنُواہم یُخْسِرُونَ (تطفیف) (بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے کہ جب وہ لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیتے ہیں اور جب لوگوں کو ناپ کریا تول کر دیں تو گھٹادیتے ہیں)
                (۲) دھوکہ: رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا مَنْ غَشّ فَلَیْسَ مِنَّا (جو کوئی دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں) (مشکوٰة شریف ص۲۴۸)
                (۳) جھوٹ: ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتلاؤں، صحابہ نے عرض کیا: ضرور بتلائیے اے اللہ کے رسول ﷺ! فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ ﷺ سہارا لگاکر بیٹھے ہوئے تھے تو بیٹھ گئے اور فرمایا: یاد رکھو اور جھوٹ بات اور جھوٹی گواہی سے بچے (راوی نے) دو مرتبہ کہا، پھر آپ ﷺ اسی کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ ﷺ خاموش نہ ہوں گے (بخاری شریف ص۸۸۴)
                (۵) وعدہ خلافی کرنا: اوپر حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء کی روایت میں گزرا کہ آپ ﷺ حسب وعدہ تین روز تک وعدہ گاہ پر انتظار فرماتے رہے اور بعد میں کوئی جھگڑا یا برا بھلا بھی نہیں کہا (سیرت المصطفیٰ جلد۱)
                (۶) قسم کھانا: عام طور پر تجارت پیشہ لوگوں میں جھوٹی سچی قسمیں کھانے کی عادت ہوتی ہے، لیکن حضرت خدیجہ کے مال کو لے کر جب شام تجارت کے لیے گئے تھے تو میسرہ بیان کرتے ہیں ایک صاحب قسم کھلانے لگے تو آپ ﷺ نے قسم کھانے سے انکار فرمادیا (سیرت مصطفی جلد۱)
                (۷) بیجا مناقشہ کرنا: حضرت قیس بن سائب کی روایت گزری کہ آپ ﷺ بہترین شریک تجارت تھے اور جھگڑا کرتے تھے نہ کسی قسم کا مناقشہ کرتے تھے (ایضاً)
                (۸) کسی کو نقصان پہنچانا: نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کسی مسلمان کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور کسی کو مشقت میں ڈالے اللہ اس پر مشقت ڈالے گا (مشکوٰة شریف ص۲۴۹)
                (۹) گالی گلوج: فحش گوئی اور ہر بُری بات سے اجتناب بھی ضروری ہے، کیوں کہ آپ ﷺ ان چیزوں سے سب سے زیادہ بچتے اور پرہیز کرتے تھے۔
بکرایاں چرانا
                فخرالاولین والآخرین، امام الانبیاء والمرسلین، شفیع المذنبین، رحمة للعالمین اور حبیب ربّ العالمین حضرت محمد ﷺ نے جب آنکھیں کھولیں اور ذرا ہوش سنبھالا تو رضاعی والدئہ محترمہ حلیمہ سعدیہ سے پوچھا کہ: رضاعی بھائی عبداللہ نظر نہیں آتے، حضرت سعدیہ نے فرمایا کہ: وہ بکریاں چرانے جاتے ہیں، اسی وقت فرمایا کل سے میں بھی بھائی عبداللہ کے ہمراہ بکریاں چرانے جاؤں گا، گویا اسی وقت یہ احساس فرمالیا کہ: اپنا بار دوسروں پر ڈالنے کے بجائے خود اٹھانا چاہیے، نیز جب آپ مکہ میں رہتے تھے تو اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے بدلے چراتے تھے۔
                حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مقام” الظہران“ میں ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ وہاں پیلو کے پھل چننے لگے، آپ ﷺ نے فرمایا: سیاہ دیکھ کر چنو وہ زیادہ خوش ذائقہ اور لذیذ ہوتے ہیں، ہم نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ ﷺ بکریاں چرایا کرتے تھے؟ کہ آپ کو یہ بات معلوم ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے بھی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ہاں میں اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط پر چرایا کرتا تھا۔
اجرت پر بکریاں چرانا
                اجرت لے کر کوئی کام کرنا، خواہ بکریاں چرانا ہو یا کوئی دوسرا کام کرنا شانِ نبوت ورسالت کے خلاف نہیں ہے، بعض سیرت نگاروں کو ایسا محسوس ہوا تو انھوں نے اس واقعہ کی تاویلات فرمائی ہیں؛ حالاں کہ محققین کی رائے یہی ہے کہ کام کی اجرت اور مزدوری لینا کوئی غیرشرعی امر نہیں ہے اور نہ ہی مقامِ رسالت کے خلاف ہے، ہاں! تبلیغ احکام اور اشاعت دین پر اجرت لینا شانِ نبوت کے خلاف ہے، جس کو جابجا کلام الٰہی میں بیان کیاگیا ہے، نسائی شریف میں حضرت نصر بن حزن سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ اونٹ والے اور بکریوں والے آپس میں فخر کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ موسیٰ علیہ السلام نبی بناکر بھیجے گئے اور وہ بکریوں کے چرانے والے تھے، داؤد علیہ السلام نبی بناکر بھیجے گئے اور وہ بھی بکریاں چرانے والے تھے اور میں بھی نبی بناکر بھیجا گیا اور میں بھی اپنے گھروالوں کی بکریاں مقامِ اجیاد میں چرایا کرتا تھا۔
حضرات انبیا علیہم السلام سے بکریاں چروانا
                حاملینِ نبوت ورسالت حضرات انبیا ورسل علیہم الصلوٰة والسلام کو چوں کہ بارگاہِ ایزدی سے ایک خاص مقصد اور مشن کے تحت بھیجاگیا تھا اور وہ ہے امت کی گلہ بانی یعنی بعثت ونبوت سے سرفراز فرمانے کے بعد بنی نوعِ آدم کو ہر ہر نشیب و فراز سے بچاتے ہوئے ہموار راستہ پر چلانا اور گمراہ کن اور پیچیدہ راستوں سے نکال کر صراطِ مستقیم اور معتدل راہ پر چلاتے ہوئے منزلِ مقصود تک پہنچانا، اس مقدس و پاکباز گروہ اور جماعت کا فریضہٴ منصبی ہوتا تھا اور افرادِ انسان بالکل بے خبر اور بے نکیل جانور کی طرح ہر طرف دوڑنا اور ہر چراگاہ سے چرنا، اپنا فطری عمل جانتے ہیں، پس انبیاء علیہم السلام ہر ہر گام پر حفاظت فرماتے ہیں، جبکہ ہر چہار جانب سے انسانی بھیڑیے شیطان کے حملے ہوتے ہیں، ساتھ ہی نفوس کا مستقل من چاہا راستہ ہوتا ہے، جو رب چاہے راستوں سے ذرہ برابر میل نہیں کھاتا، پس یہ دونوں درندے یعنی شیطان اور نفسِ امّارہ گمراہ کن راستوں کو تمام تر زیبائش و آرائش سے آراستہ کرکے اولادِ آدم اور حوّا کے لاڈلوں کو راہِ راست اور خدائی ڈگر سے ہٹاکر کسی بھی غلط راستے پر ڈالنے کو مقصدِ زندگی سمجھتے ہیں اور شیطان اپنی ذریات کو اسی پر انعامات سے نوازتا ہے کہ کسی صورت بھی انسانوں کو راہِ جنت سے برگشتہ کرکے راہِ جہنم پر گامزن کردیا جائے، اس صورتِ حال میں اگر انبیاء اور رسولوں کی مقدس جماعت کی اور ان کے پیروکاروں کی کاوش وکوشش اور جدوجہد نہ ہوں تو راہِ راست کے راہرو حضرات اور خدا کے فرماں برداروں کا کیا حال ہوگا؟ وہ کسی ادنیٰ عقل رکھنے والے پر بھی مخفی نہیں ہے، اولادِ آدم اور بناتِ حوّا کی یہ حالت جانوروں میں بکریوں سے بہت زیادہ میل کھاتی ہے کہ اونٹ، گائے، بیل اور بھینس کو چرانا اور سنبھالنا اتنا مشکل نہیں ہے، جتنا بکریوں کو چرانا اور ان کی حفاظت کرنا مشکل ترین ہے؛ کیوں کہ بکریاں کبھی اِدھر بھاگتی ہیں تو کبھی اُدھر، ابھی یہاں ہیں تو تھوڑی دیر میں وہاں نظر آتی ہیں اور چرواہا بے چارہ سرگرداں اور پریشان رہتا ہے ، کبھی اِدھر سے روکتا ہے توکبھی اُدھر سے، مزید براں بھیڑیے کا خوف وخطرہ ہمہ وقت لگا رہتا ہے، درندہ ہمیشہ گھات میں رہتا ہے کہ کب چرواہے کی نظر ہٹے اور وہ اپنا کام تمام کربھاگے، چرواہا چاہتا ہے کہ تمام بکریاں یکجا اکٹھی رہیں؛ تاکہ بھیڑیوں اور درندوں سے حفاظت رہے، صبح سے شام تک بھیڑبکریوں کے پیچھے پیچھے اسی طرح بھاگتا اور دوڑتا رہتا ہے، بالکل اسی طرح حضراتِ انبیاء اولاد آدم کے ریوڑ اور امت کے افراد کے لیے متفکر اور پریشان رہتے ہیں کہ تمام افرادِ امت اور بنی آدم کا پورا ریوڑ راہِ راست اور صراطِ مستقیم پر گامزن رہے۔ شیطان اور نفس امّارہ کے حملے سے ہرہر فرد محفوظ رہے، بلکہ نبی اور رسول کو اپنی قوم اور امت کی فکر چرواہے سے بہت زیادہ ہوتی ہے کہ چرواہا کم از کم رات کو سکون کی نیند سوتا ہے؛ لیکن نبی ورسول کو سوتے، جاگتے، کھاتے، پیتے، چلتے، پھرتے ہر وقت یہی فکر رہتی ہے کہ امت میں صلاح وفلاح کیسے پیدا ہو اور قوم اپنی ہلاکت وبربادی کے راستے سے بچ کر دائمی راحت وآرام کا راستہ کس طرح اختیار کرے اور قوم وملت بالکل بکریوں کی طرح اپنی ہلاکت وتباہی کی فکر نہیں کرتی، شیطانی درندوں اور نفس کے پھندوں میں قوم پھنستی رہتی ہے، نبی قوم کی یہ حالت دیکھ کر اس قدر دکھی ہوتے ہیں کہ مخلوق اس کا اندازہ شاید نہ کرسکے؛ البتہ خالق کو اس کا اندازہ ضرور ہوتا ہے؛ کیوں کہ وہ عَالِمُ الغَیْب وَالشَّہَادَةِ ہے، پس ارشادِ باری ہے: لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ أنْ لاَّ یَکُوْنُوْا مُوٴْمِنِیْنَ(الکہف) (شاید آپ ﷺ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے اپنی جان دیدیں گے)
حرفِ آخر      
                اللہ رب العزت کا یہ مقدس گروہ نہایت برگزیدہ اور چنیدہ ہوتا ہے، تمام انسانوں میں خداتعالیٰ کا سب سے پسندیدہ طبقہ یہی انبیاء اور رسولوں کا ہے، اگر باری تعالیٰ چاہتا تو دنیا کا مال ودولت اور حکومت واقتدار اس مقدس جماعت کے قدموں میں ڈال دیتا؛ لیکن قانونِ الٰہی اور خدائے بزرگ وبرتر کی عادتِ مبارکہ بالکل مختلف رہی ہے کہ یہ مقربین بارگاہِ خدا اکثر وبیشتر فقر وفاقہ اور تنگ دستی میں مبتلا رہے ہیں، اپنی اور اہل خانہ کی ضروریاتِ زندگی کے لیے جدوجہد اور محنت ومشقت کرتے نظر آتے ہیں وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ امت اور قوم سبق حاصل کرے؛ کیوں کہ انسانوں کی اکثریت غربت وافلاس کی شکار ہے اوریہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کی تصدیق کرنے اور پیروی کرنے میں پہل کرنے والے بھی یہی لوگ ہوتے ہیں اور دولت مند حضرات اور صاحب اقتدار لوگ ہمیشہ یا اکثر وبیشتر مخالفت کرتے ہیں؛ کیوں کہ ان کو اپنا اقتدار، اپنی چودھراہٹ اور اپنی موج ومستی ختم ہوتی دِکھتی ہے؛ چنانچہ مخالفت پر کمر کس لیتے ہیں اور دبے کچلے لوگ، معاشرہ میں کمتر سمجھے جانے والے لوگ اور فقر وفاقہ میں مبتلا افراد نبی اور رسول کا دامن تھامنے اور ساتھ دینے میں ہی عافیت وراحت محسوس کرتے ہیں۔ پس نبی اور رسول اپنے ماننے والوں کی اکثریت کو ذریعہٴ معاش کا راستہ دکھانے کے لیے کبھی تجارت کو اختیار کرتے ہیں اور اس کے فضائل وفوائد بیان کرتے ہیں تاکہ امت کا بڑا طبقہ اس پیشہ سے جڑکر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا معاش درست کرسکے، کبھی نبی بکریاں چراتے ہیں کہ امت کا دوسرا گروہ اور بہت سے افراد اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوسرے کام اختیار کرے خواہ اپنے مویشی سے یا دوسرے لوگوں کے مویشیوں کو اجرت پر چراکر بچوں کی پرورش وغیرہ کا نظم کرسکے؛ بہرکیف ہر طبقہ اور ہر جماعت اصولِ شریعت (قرآن وحدیث) کے ساتھ ذریعہٴ معاش اختیار کرسکتا ہے؛ چنانچہ ہر وہ پیشہ جائز ہوگا جس میں اصولِ شریعت کی مخالفت نہ ہو اور اتباع سنت کی بھی نیت ہو، تو دنیا کے ساتھ ساتھ ذخیرئہ آخرت بھی ہوگا، خدا تعالیٰ تمام امت کو اتباعِ سیدالمرسلین کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق نصیب فرمائے! آمین یا رب العالمین۔

$           $           $





اسلامی تجارت



عقائد وعبادت کی طرح معاملات بھی دین کا ایک اہم شعبہ ہے ، جس طرح عقائد اور عبادات کے بارے میں جزئیات واحکام بیان کیے گئے ہیں ،اسی طرح شریعت اسلامی نے معاملات کی تفصیلات بھی بیان کرنے کا اہتمام کیاہے ، حلال وحرام،مکروہ اور غیر مکروہ ، جائز اور طیب مال کے مکمل احکام قرآن وحدیث میں موجود ہیں اور شریعت کی دیگر جزئیات کی طرح اس میں بھی مکمل رہنمائی کی گئی ہے ، جولوگ نماز اور روزہ کا اہتمام کرتے ہیں؛ مگر صفائی معاملات اور جائز وناجائز کی فکر نہیں کرتے ، وہ کبھی اللہ کے مقرب نہیں ہوسکتے ؛ اس لیے ان کا عمل شریعت پر ناقص ہے ، افسوس ہے کہ عرصہٴ دراز سے مسلمانوں کے درمیان معاملات سے متعلق جو شرعی احکام ہیں ان کی اہمیت دلوں سے مٹ گئی ہے اور دین صرف عقائد وعبادات کانام سمجھا جانے لگا ، حلال وحرام کی فکر رفتہ رفتہ ختم ہوگئی ہے اور دن بہ دن اس سے غفلت بڑھتی جا رہی ہے ، جس کے سبب مسلمان اقتصادیات میں پیچھے ہیں اور خاطر خواہ معاشیات میں انھیں ترقی نہیں مل رہی ہے ۔
تجارت کسب معاش کا بہترین طریقہ ہے ، اسے اگر جائز اور شرعی اصول کے مطابق انجام دیاجائے تو دنیوی اعتبارسے یہ تجارت نفع بخش ہوگی اور اخروی اعتبار سے بھی یہ بڑے اونچے مقام اور انتہائی اجروثواب کا موجب ہوگی ، تجارت اگرچہ دنیاکے حصول اور مالی منفعت کے لیے کی جاتی ہے ، تاہم یہ خدا کا فضل ہے کہ زاویہٴ نگاہ اگر تھوڑا ساتبدیل کردیا جائے اورتجارت کرنے والے یہ سوچ لیں کہ خداکا حکم ہے ، حلال روزی کی تلاش اور حلال پیسوں کے ذریعے اولاد کی پرورش ، بیوی اوروالدین کی ضروریات کی تکمیل ؛ اس لیے ماتحتوں کے حقوق ادا کرنے اور غریب ونادار افراد کی مدد کرنے کے لیے یہ کا روبار کر رہے ہیں اور پھر وہ کا روبار بھی اسلامی اصول کی روشنی میں کیاجائے تو ایسی تجارت کی بڑی فضیلت آئی ہے اور ایسے افراد کو انبیاء وصلحاء کی معیت کی خو شخبری دی گئی ہے ، ایک موقع پر رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” التاجر الصدوق الأمین مع النبین والصدیقین والشہداء “ (سنن الترمذي، حدیث نمبر :۱۲۵۲)
” جوتاجر تجارت کے اندر سچائی اور امانت کو اختیار کرے تو وہ قیامت کے دن انبیاء ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا“
ایک درسری روایت میں ہے :
”التجار یحشرون یوم القیامة فجارًا إلّا من اتقی وَبَرَّ وصدق “ (المعجم الکبیر للطبراني، حدیث نمبر :۴۵۴۰ )
 ” تجار قیامت کے دن فاسق و فاجر بناکر اٹھائے جائیں گے؛ مگر جو لوگ تقوی وسچائی اور اچھی طرح سے معاملہ کرے گا وہ اس میں شامل نہیں ہوں گے“
ان دونوں احادیث میں تجارت پیشہ افراد کی بظاہر دوحالتیں بیان کی گئی ہیں : ایک میں ان کی مدح بیان کی گئی ہے تو دوسری میں اس کی مذمت ، یہ دراصل تاجر کے الگ الگ قسموں کا بیان ہے ، جو تاجر نیک نیت اور صالح ہو، تجارت سے کسبِ حلال کا ارادہ کرتا ہو ، ایسے لوگوں کا حشر بھی اچھا ہوگا اور وہ اپنی نیک نیتی اور صالحیت کی بنیاد پر قیامت کے دن اونچے مقام کے حامل ہوں گے اور جولوگ تجارت اسلامی اصول سے ہٹ کرانجام دیتے ہیں ، حلال وحرام کی تمیزکے بغیر صرف دولت جمع کرنا ان کا مقصد ہوتا ہے ، فریب دے کر ، جھوٹ بول کر ، دغادے کر ، دوسروں کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر ، بس ایسے تجارت پیشہ افراد کو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فاسق وفاجر کہا اوران کا حشر بھی قیامت کے دن بُرے لوگوں کے ساتھ ہوگا۔
اس لیے اہل علم اور فقہاء کرام نے قرآن وحد یث کی روشنی میں کا میاب اور نفع بخش تجارت کے لیے چند اصول بیان کیے ہیں ، جن کی روشنی میں تجارت کی جائے تو دنیا میں بھی نفع ہوگا اور آخرت کے اعتبارسے بھی یہ تجارت بے انتہاء اجروثواب کا باعث ہوگی ، یعنی ان کی یہ تجارت دین کی سرگرمیوں میں شامل ہوجائے گی ، ایک تاجر کو چاہیے کہ تجارت کرتے ہوے ضرور ان اصولوں کو پیش نظرر کھیں ، افادہٴ عام کے لیے نمبر وار ذیل کی سطروں میں ان اصول وضوابط کو لکھا جارہاہے :
(۱) کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ہمیشہ سچائی اختیار کیجیے ؛جھوٹ بولنے اورجھوٹی قسمیں کھاکر جو لوگ اپنی تجارت کو فروغ دیتے ہیں ، وقتی طور پرا گرچہ نفع معلوم ہوتا ہے؛ مگر درحقیقت ایسی کمائی اور ایسی تجارت سے برکت اٹھالی جاتی ہے ، رسول اکر م  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
”فإن صدقا وبینا بورک لہما في بیعہما وإن کتما وکذبا محقت برکة بیعہما“ (صحیح بخاریحدیث نمبر : ۱۹۳۷)
”خرید نے اور بیچنے والے اگر سچائی سے کام لیں اور معاملے کو واضح کر دیں تو ان کی خرید وفروخت میں بر کت دی جاتی ہے ، اور اگر دونوں کوئی بات چھپالیں اور جھوٹ بولیں تو ان کے کا روبارسے برکت اٹھا لی جاتی ہے “
ایک دوسری روایت میں ہے :
” قیامت کے روز اللہ تعالی تین شخصوں سے بات کرے گا ، نہ اس کی طرف منہ اٹھا کر دیکھے گا اور نہ اس کو پاک صاف کرکے جنت میں داخل کرے گا (اس میں سے ایک )جو جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنے کا روبار کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے“ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۳۰۶)
اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک موقع پر یہ بھی فرمایا :
”اپنا مال بیچنے کے لیے کثرت سے جھوٹی قسمیں کھانے سے بچو! یہ چیز وقتی طور پر تو فروغ کی معلوم ہوتی ہے ؛ لیکن آخر کار کا روبار سے برکت ختم ہو جاتی ہے “ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۴۲۱۰)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سودا بیچنے والوں کو جھوٹی قسمیں کھانے اور حھوٹ بولنے سے مکمل طور پر احتیاط کرنا چاہیے ، جھوٹ کا سہارالینا خریدار کو دھو کہ دینا اور دھوکہ دہی بڑے گناہ اور فسادِ عظیم کا باعث ہے جس سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے ۔
(۲)مال کا عیب چھپانے اور خریدار کو فریب دینے سے پر ہیز کیجیے ، بسا اوقات مال بیچنے والے نقلی مال اصلی بتاکر بیچتے ہیں اور کبھی مال کے عیوب کو چھپا لیتے ہیں ، اس طرح مال فروخت کرنے پر وہ اپنے آپ کو ہو شیار ، چالاک اوربہت عقلمند تصور کرتے ہیں ، یادر کھیے !یہ عقلمند نہیں ، انتہائی گھاٹے کا سوداہے ، یہ لوگ دنیا وآخرت دونوں جگہ خسارے میں رہیں گے ۔
 ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس ڈھیر میں ڈالا تو انگلیوں پرکچھ تری محسوس ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے غلے والے سے پوچھا یہ کیاہے ؟ دوکان دارنے کہا : یارسول اللہ !اس ڈھیر پر بارش ہوگئی تھی، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : پھر تم نے بھیگے ہوے غلے کو اوپر کیوں نہیں رکھ دیا کہ لوگ اسے دیکھ لیتے ، جوشخص دھوکہ دے ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں“ (صحیح مسلم، حدیث نمبر : ۲۹۵)
 شریعت کے روسے تجارت کا اہم اصول یہ ہے کہ مال کا کوئی عیب نہ چھپایا جائے، صاف صاف تمام چیز یں بیان کردی جائیں ،ا یسے ہی کاروبامیں غیب سے برکت نازل ہوتی ہے اور وہ کاروبار فروغ پاتا ہے ۔
(۳)کاروبارمیں ہمیشہ دیانت وامانت اختیار کیجیے ، مال اچھا ہے تواچھا بتائے اورخراب ہے تو اس کی بھی وضاحت کر دیجیے ، کبھی کسی کو خراب مال دے کریا مجبوری کے وقت عرف وعادت سے زیادہ نفع لے کر اپنی حلال کمائی کو حرام نہ بنائے ، حرام رزق ساری برائیوں کی جڑہے ؛ اس لیے تھوڑا کمائے ،مگر حلال اور طیب مال حاصل کرنے کی کو شش کیجیے ،سچے اور امانتدار تا جرین کی حدیث میں بڑی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔
(۴)ناپ تول میں کمی نہ کیجیے ، تجارتی معاملات میں یاعام لین دین حق دار کو اس کے حق سے کم دینا ہلاکت اور خسارہ کا باعث ہے ، قرآن نے خاص طور پر اس سے دوررہنے کی ہداہت دی ہے ، اور ناپ تول میں کمی کر نے والوں کو اللہ کے غضب سے بچنے کی تلقین کی :
﴿وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ oالَّذِیْنَ إِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ oوَإِذَا کَالُوْہُمْ أَوْ وَّزَنُوْہُمْ یُخْسِرُوْنَ o أَلَا یَظُنُّ أُولٰئِکَ أَنَّہُم مَّبْعُوْثُوْنَ oلِیَوْمٍ عَظِیْمٍ oیَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ﴾ (المطففین : ۱ - ۶)
” تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں پوراپورا لیتے ہیں ،جب ان کو ناب کریاتول کر دیتے ہیں تو انھیں کم دیتے ہیں ، کیایہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں ، اس دن کہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “
اپنا حق کسی کے ذمہ ہوتو اسے حق سے زیادہ وصول کرنا اور دوسروں کاحق اپنے اوپر ہوتو حق سے کم دینا ، یہ عام ذہن اور عام سوچ ہے؛ مگر یہ سوچ اور یہ طر یقہٴ کار درست نہیں ہے ، یہ طریقہ اور انداز غیر شرعی اور ناپسندیدہ ہے ، ایسے افراد کے لیے خدا نے تباہی اور ہلاکت کی دھمکی ہے ، ظاہرہے ، جس کام پر اللہ تعالی ہلاکت کی دھمکی دے اس میں خیر کا کوئی پہلو نہیں ہوسکتا ہے ، وہ ہر اعتباسے بُرا اور قابل نفرت ہے۔
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے لوگوں کو کم تولنے کے بجائے جھکتا تولنے کی نصیحت فرمائی ہے :
” زِن ورجح “ (ترمذی،، حدیث نمبر : ۱۳۵۳)
”جب تم وزن کیا کرو تو زیادہ کرو “
دوسر موقع پرفرمایا :
”إذا وزنتم فأرجحوا “ (ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۲۳۰۷)
”جب تم وزن کرو تو زیادہ کرو “
(۵)تجارت کرنے کے ساتھ حقوق اللہ کی ادا ئیگی کا خاص خیال رکھا جائے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کاروبارمیں ڈوب کر خدا سے کنارہ کشی اختیار کرلی جائے ، ایسے کاروبامیں کبھی اللہ کی رحمت نازل نہیں ہو سکتی ، تجارت یقینا اچھی چیز ہے؛ مگر اس کے حدود میں رہتے ہوے یہ کیاجائے ، ضرورت سے زیادہ اس میں مشغولیت ہلاکت اور موجبِ خسارہ ہے ؛ اس لیے علماء ور اہل تحقیق نے لکھا ہے کہ جب کبھی ایسا موقع آئے کہ ایک طرف معاشی تقاضے ہوں اور درسری طرف دینی تقاضے توایک موٴمن کو چاہیے کہ معاشی تقاضے کو چھوڑکر دینی تقاضے کی طرف دوڑپڑے ، اگر ایساکیا تو دنیوی واخروی دونوں اعتبارسے وہ کا میاب ہوگا۔
 اسی طرح تجارت پیشہ افراد کو چاہیے کہ ہاتھ پاوٴں کاروبار میں مشغول رکھیں اور اپنے دل و دماغ کو خدا کی یاد میں بسائے رکھیں ، ان کی توجہ ہر آن خدا کی طرف لگی ہوئی ہو ، جب کبھی اذان ہو فوری طور پر مسجد کی طرف دوڑ پڑیں ، اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے خدا کی حمد و ثنا اور عظمت و کبریائی کے کلمات زبان سے نکل رہے ہوں ۔
معاش کی اہمیت موٴمن کو اس دھوکہ میں نہ ڈال دے کہ یہی سب سے بڑی چیز ہے اوریہی زندگی کا اصل مسئلہ ہے ؛ بلکہ وہ خدا کی رحمت اور اس کے اخروی انعام کو ہی اصل اورسب سے بڑی چیز سمجھیں اور کسی بھی حال میں دنیا سے لَو نہ لگائیں ۔
حضراتِ صحابہ تجارت کرتے مگر جب بھی اللہ کا حق سامنے ہوتا وہ تجارت کو چھوڑ کر اس کی ادائیگی میں مشغول ہوجاتے ، حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :
”کان القوم یتبایعون ویتجرون ولکنہم إذا نابہم حق من حقوق اللّٰہ لم تلہہم تجارة ولا بیع عن ذکر اللّٰہ حتی یوٴدوہ إلی اللّٰہ“ (صحیح البخاري، کتاب البیوع، باب التجارة في البر)
” صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم خرید و فروخت کرتے ، تجارت کرتے تھے ؛ لیکن جب انھیں اللہ کے حقوق میں سے کوئی حق پیش آتا تو تجارت اور بیع اللہ کے ذکر سے نہ روک سکتی ، تاآں کہ وہ اللہ کے حق کو ادا کردیتے “
صحابہ رضی اللہ عنہم کی زندگی ہمارے لیے قابلِ تقلید ہے ، جن کی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے خاص تربیت فرمائی تھی ، ان میں ایمان اتنا راسخ تھا کہ ایمانی تقاضوں پر کسی شئ کا غلبہ نہیں ہوسکتا تھا ، وہ وہی کرتے جس کا مطالبہ ایمان کی جانب سے ہوتا ، دنیا اور دنیا کی خواہشات نے کبھی ان کے دل و دماغ کو آلودہ نہیں کیا ، یقینا ہمارے لیے ان کی زندگی میں ہزار عبرتیں پوشیدہ ہیں ۔
(۷)اپنے مال میں غریبوں کا حق تسلیم کیجیے ، اگر آپ صاحبِ نصاب ہیں تو مکمل حساب و کتاب کرکے زکوة نکالیے اور صاحبِ نصاب نہیں ہیں تو بھی فقراء ومساکین کو خدا کے نام پر کچھ نہ کچھ دیتے رہیے ، صدقہ و خیرات کی عادت ڈالیے ، کسی سائل کو اپنے در سے محروم نہ کیجیے اور نہ اسے ڈانٹیے اور بُرا بھلا کہیے ، کیا معلوم اللہ تعالیٰ کب کس کی زبان سے نکلی ہوئی بات قبول کرلے ، وہ شخص خوش ہوگا تو اس کی زبان سے دعائیں نکلیں گی اور نہ دینے پر ناراض ہوگا اور وہ بد دعا کرے گا ؛ اس لیے بہتر ہے کہ در پر آنے والا جیسا بھی ہو اسے خالی واپس نہ کریں ، اسی طرح دینی اداروں اور ملی کاموں میں بھی مالی تعاون کے ذریعہ حصہ لے کر اپنی اجتماعی حوصلہ مندی اور دین کے لیے سب کچھ قربان کرنے کا ثبوت دیجیے ۔
(۸)خریداروں کے ساتھ ہمیشہ نرمی کا معاملہ کیجیے ، اچھے اخلاق ، اچھی زبان اورمیٹھے الفاظ کے ذریعہ خریداروں کو اعتماد میں لیا جاسکتا ہے ، ان کا اعتماد جب آپ پر ہوجائے گا تو دوسری دکانوں کے بجائے وہ آپ کے پاس ہی آئیں گے ، ایسے وقت کاروبار کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ ان کے ساتھ خیر خواہی کریں ، کم سے کم نفع پر مال دے کر اچھے اخلاق کا ثبوت دیں ، ان کو کبھی دھوکہ نہ دیں ، اگر کبھی وہ آپ سے ادھار مانگیں تو اپنی گنجائش کے مطابق انھیں مایوس نہ کیجیے اور ادھار دینے کے بعد مطالبہ کے وقت سخت لب و لہجہ استعمال نہ کیجیے ، رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے :
”رحم اللّٰہ رجلا سمحا إذا باع وإذا اشتری وإذا اقتضی“ (صحیح البخاري، حدیث نمبر : ۲۰۷۶)
” خدا اس شخص پر رحم فرمائے جو خرید و فروخت اور تقاضا کرنے میں نرمی اور خوش اخلاقی سے کام لیتا ہے “
ایک موقع پر یہ بھی فرمایا :
”من سرہ أن ینجیہ اللہ من کرب یوم القیامة فلینفس عن معسر أو یضع عنہ“ (صحیح مسلم حدیث نمبر : ۴۰۸۳)
” جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ خدا اس کو روزِ قیامت کے غم اور گھٹن سے بجائے تو اسے چاہیے کہ تنگ دست قرض دار کو مہلت دے یا قرض کا بوجھ اس کے اوپر سے اتاردے ، یعنی معاف کردے “
کسی نے اگر قرض لیا ہو ، اس سے بھی نرم گفتگو اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ، کیا معلوم کہ وہ کس پریشانی اور تکلیف میں ہے ، اللہ کا کرم اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم دوسروں کو قرض دے رہے ہیں ، ورنہ ہمیں بھی وہ محتاج بناسکتا تھا ۔
(۹)حرام اشیاء کی تجارت نہ کیجیے ، جو اشیاء اسلام نے حرام قرار دی ہیں ، ان کو مال تجارت بنانا یا ان کی خرید و فروخت کرنا بھی حرام ہے ، جیسے شراب ، افیوں ، ہیروئن وغیرہ ․․․․․․ اسی طرح لاٹری ، سٹہ بازی ، قُحبہ گری ، سودی لین دین ، اخلاق سوز فلمیں اور آڈیو ویڈیو کیسٹس ، آلات موسیقی ، گانے بجانے کے اسکول یا اکیڈمیاں ، اخلاق سوز ناول ، فحش لٹریچر اور رسالے وغیرہ اس ممانعت میں شامل ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے :
”إن اللّٰہ ورسولہ حرم بیع الخمر والمیتة والخنزیر والأصنام“ (صحیح البخاري حدیث نمبر :۲۲۳۶)
” اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب ، مردار ، خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے “
ایک دوسرے موقع پر فرمایا :
”إن اللّٰہ إذا حرم شیئا حرم ثمنہ“ (صحیح ابن حبان ، حدیث نمبر : ۴۹۳۸)
” اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے ، اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے “
مذکورہ حدیث میں اگرچہ بعض چیزوں کا تذکرہ ہے؛ مگر جتنے ناجائز امور ہیں ، ان سب کا یہی حکم ہوگا ، مسلمانوں کو چاہیے کہ حرام اور ناجائز چیزوں کو بیع کا مال نہ بنائیں ، اس میں گناہ اور عصیان پر تعاون لازم آئے گا ، جو بجائے خود غضب الٰہی کو دعوت دیتا ہے ۔
(۱۰)دکان کو وقت پر کھولیے ، کوشش کیجیے کہ صبح کی اولین ساعتوں میں کاروبار کا آغاز کیا جائے ؛ اس لیے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت کیے جانے والے کاموں میں برکت کی دعا فر مائی ہے ، خود رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا معمول تھا کہ جب بھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  چھوٹا دستہ یا بڑا لشکر روانہ کرتے تو دن کے ابتدائی وقت روانہ فرماتے ، روایت میں ہے:
” حضرت صخر رضی اللہ عنہ ایک تاجر تھے ، جب وہ اپنے آدمیوں کو تجارت کے لیے روانہ کرتے تو دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے تھے ، جس کی وجہ سے وہ صاحبِ ثروت ہوے اور ان کے پاس مال کی کثرت و فراوانی ہوگئی “
آج مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ صبح سویرے ہی سے تجارت وغیرہ کا آغاز کریں، اس طرح سنت پر عمل ہوگا اور برکت کا ذریعہ بھی ، ہندوستان یا وہ ممالک جہاں اس کا رواج نہیں ہے ، ان جگہوں میں صبح دکان کھولنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، تاہم سنتوں پر عمل کا اور غیب سے سامان فروخت ہونے کا انتظام ہوگا اور اگر تمام مسلمان مل کر اس پر عمل شروع کردیں تو خود بخود صبح کاروبار شروع ہونے کا ماحول بن جائے گا ، یا ایسی جگہ جہاں تجارت یا کوئی بھی عمل صبح کی اولین ساعت میں شروع کیا جاسکتا ہے ، وہاں اس حدیث پر ضرور عمل کرنا چاہیے ۔
اب تک جن باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ان کا تعلق دنیوی تجارت سے تھا ، ایک مسلمان کو دنیوی تجارت اور کاروبار سے زیادہ آخرت کی اس تجارت کی طرف توجہ دینی چاہیے جس کا نفع ابدی اور لازوالی ہے ، جس پر کبھی فنائیت طاری نہیں ہوگی ، جس کی طرف خود اللہ تعالیٰ نے رہنمائی کی ہے اور اس کے ذریعہ جہنم کے دردناک عذاب سے نجات پانے کی تلقین کی ہے :
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا ہَلْ أَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَةٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ أَلِیْمٍ oتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْن﴾ (الصف : ۱۰ - ۱۱)
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! میں بتاوٴں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچائے؟ ایمان لاوٴ، اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو “
اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ دنیوی تجارت بھی اسلامی اصول و ضوابط کے مطابق انجام دیں! اس لیے کہ ایمان والے اسلامی اصول کے پابند ہیں ، اگر تجارت قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائے گئے اصول کے مطابق انجام دیں تو یہ اسلامی تجارت کہلائے گی اور دنیوی سرگرمیاں بھی فکر آخرت کی دائرے میں شامل ہوجائیں گی ،آج ہم اپنے کاروبار کا جائزہ لیں ، کیا ہماری تجارت ، دکانیں اور اقتصادی سرگرمیاں بتائے گئے اصول کے مطابق ہیں ؟ آج ہر آدمی کی خواہش مال و دولت جمع کرنا ہے ، خواہ وہ حلال راستے سے ہو یا حرام طریقے پر ، جس کے سبب مسلمان گھروں سے روحانیت ختم ہوگئی ہے ، مال کی کثرت کے باوجود زندگی اور عمل میں خیر و برکت نہیں، حقیقی سکون اور قلبی طمانینت سے ہم محروم ہیں ، اگر آپ چاہتے ہیں کہ روح کو بالیدگی اور قلب کو سکون ملے ، پُر لطف زندگی آپ کو پیاری ہے تو اسلامی تجارت کو اپنائیے اوراسی کے ساتھ اس تجارت کو کبھی ذہنوں سے اوجھل نہ ہونے دیجیے جو جہنم کی جھلسادینے والی آگ سے نجات دلانے والی ہے کہ یہی کامیابی حقیقی کامیابی اور لازوال عیش ہے ۔
$ $ $




 


جدید اقتصادی مشکلات اور قرآن کریم



جب سے انسان نے اللہ کی اس زمین پر قدم رکھا ہے اس کے سامنے دو نقطئہ نظر رہے ہیں:
          ایک یہ کہ انسان کی زندگی ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے اور زمین کی گود پر ختم ہوجاتی ہے اسے آپ زندگی کا ”مادی تصور“ کہہ سکتے ہیں۔
          دوسرا نقطئہ نظر یہ ہے کہ دنیا کی یہ زندگی ہی کل زندگی نہیں ہے؛ بلکہ پوری زندگی کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے اسے ہم زندگی کا ”مذہبی تصور“ کہہ سکتے ہیں۔
          زندگی کے پہلے نقطئہ نظر یعنی ”مادی تصور“ کے مطابق انسان ان ہی چیزوں کو اہمیت دے گا جن کی اسے اس مادی زندگی میں ضرورت ہے۔
          ان دنیاوی چیزوں میں اس کے لیے معاش کا مسئلہ سب سے اہم مسئلہ ہے۔
          زندگی کے ”مذہبی تصور“ کے مطابق زندگی کے سارے مسائل میں انسان کا بنیادی مسئلہ یہ ٹھہرتا ہے کہ وہ اپنے نفس کو غلط خواہشات سے پاک وصاف کرے اور اس کو اللہ کے احکام کے تابع بنائے۔
          اسلام نہ تو مادی ضروریات سے کنارہ کشی کی دعوت دیتا ہے، نہ مادے اور روح میں تفریق کرکے، انھیں الگ الگ رکھ کر ان کی ترقی کی الگ الگ راہیں تجویزکرتا ہے؛ بلکہ وہ ایسی شاہراہ متعین کرتا ہے، جس پر روح اور مادہ دونوں مل کر ساتھ سفر کرسکیں اور انسان کو اس کی منزل پر پہنچاسکے۔
          یہ نظامِ زندگی انسانیت کی صحیح تعمیر اور اس کی مکمل ترقی کی ضمانت دیتا ہے، اس نظام کا ایک ایک جز اور ایک ایک حصہ اصل مقصد کا خادم ہے۔
          معیشت اور اقتصاد بھی اس نظام کا ایک حصہ ہے، اسلام نے اقتصادی اور معاشی نظام کی تشکیل ایسے حکیمانہ انداز میں کی ہے کہ وہ انسان کے لیے تزکیہٴ نفس کا ایک فطری ذریعہ اور انسانیت کی ترقی کا ایک وسیلہ اور زینہ بن جائے۔
اسلام میں دولت کا مقام
          اسلام ایک دین ہے جس کا نصب العین ہے کہ انسان کو خالقِ کائنات کی مرضیات کے مطابق زندگی بسر کرنے کا ڈھنگ بتائے اور اس کی بخشی ہوئی تمام قوتوں سے صحیح طور پر کام لے اور اس طرح دونوں جہان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی اپنی زندگی کو خوشگوار اور بامراد بناسکے۔
          چنانچہ اسلام مال ودولت کو زندگی کے قیام کا ذریعہ اور اللہ کا فضل قرار دیتا ہے اور اس کے کمانے کا حکم دیتا ہے۔
          فرمایا: اَمْوَالَکم التی جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قیاماً
          ترجمہ: تمہارے وہ مال جن کو اللہ نے تمہاری زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا۔
          اور فرمایا: وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ ترجمہ: اور اللہ کا فضل تلاش کرو!۔
نوعِ انسانی کا مشترک ذخیرئہ رزق
          اللہ تعالیٰ نے یہ ساری دولت پوری نوعِ انسانی کی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیدا کی ہے، زمین کے اوپر اور اس کے پیٹ میں جو کچھ بھی ہے؛ اس لیے ہے کہ اللہ کی مخلوق کے لیے رزق کے سامان اور زندگی کی ضروریات فراہم ہوں۔
          فرمایا: خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْأرْضِ جَمِیْعاً ترجمہ: زمین میں جو کچھ ہے وہ تم سب کے لیے پیدا کیاہے۔
           اور زمین میں ہی نہیں؛ بلکہ فضاؤں میں بھی جو کچھ ہے وہ بھی تمام انسانوں کے لیے ہے۔
          فرمایا: وَسَخَّرَلَکُمُ اللَّیْلَ والنَّہَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرَاتٍ بِأمْرِہ
          ترجمہ: تمہارے لیے رات اور دن کو مسخر کردیا ہے اور چاند اور سورج کو اور ستارے اس کے حکم کے تابع ہیں۔
          گویا یہ پوری دنیا اور اس کے وسائل دنیا کے تمام انسانوں کا مشترک سرمایہ ہیں اور ہر فرد کا بنیادی حق ہے کہ اس میں حصہ پائے۔
          ہر شخص یہ بنیادی حق کس طرح حاصل کرتا ہے، اسلام کا اقتصادی نظام اسی سوال کا جواب ہے۔
اسلام کا اقتصادی نظام
          جس دولت کو اسلام نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اس کو اللہ کا فضل قرار دیاہے، اس کے حاصل کرنے اور اس کی تقسیم کا نظام بھی اس نے اس کے شایانِ شان بنایا ہے۔
          یہ حقیقت ہے کہ تمام انسانوں میں کسبِ معاش کی صلاحیتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور سب کے لیے حالات سازگار نہیں ہوتے؛ اس لیے کچھ لوگوں کو ضرورت کے مطابق بھی معاش حاصل نہیں ہوتا ہے۔
          اور ایک طبقہ وہ ہوتا ہے جو اپنی ضرورت کے مطابق ہی حاصل کرپاتا ہے۔
          تیسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جو اپنی ضرورتوں سے بڑھ کر حاصل کرلیتاہے۔
          ایک اچھا اقتصادی اور معاشی نظام وہ ہوتا ہے، جو معیشت کے اختلاف کو اعتدال کے حدوں سے آگے بڑھنے نہ دے اور ایسی صورت پیدا نہ ہونے دے کہ دوسرا طبقہ محرومی کی حالت میں مبتلا رہے۔
اسلام میں معاشی حقوق کے ضوابط
          اسلام کے اقتصادی اور معاشی نظام کی اصل بنیاد اخلاق ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ انسان فرشتہ نہیں ہے، اس کی نظروں میں ہمیشہ زندگی کی اعلیٰ قدریں نہیں رہتیں؛ اس لیے اسلام نے معاشرے کے حاجت مند افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کا کام صرف مالداروں کے احساسِ ذمہ داری پر نہیں چھوڑا؛ بلکہ ایسا جامع نظام پیش کیا جس میں قابلِ اطمینان حل موجود ہے۔
          اسلام نے معاشی حقوق کا جو صابطہ بنایا ہے، وہ درج ذیل دفعات پر مشتمل ہے:
          ۱-       سب لوگوں کے لیے کسبِ معاش کی کھلی آزادی۔
          ۲-       جولوگ اپنی صلاحیتوں اور حالات کے سازگار ہونے کی وجہ سے زیادہ ذرائع حاصل کرلیں، ان پر دو طرح کی ذمہ داریاں ہیں:
          ایک ذمہ داری یہ ہے کہ اہلِ ثروت کو اپنی آمدنی کا ایک حصہ لازماً اپنے غریب بھائیوں کو دینا پڑے گا۔
          دوسرے یہ کہ دولت کمانے اور دولت خرچ کرنے کے ان طریقوں کی ممانعت ہوگی، جن سے دنیا میں دولت پرستی پیدا ہوتی ہے۔
          ۳-       کوئی شخص یا ادارہ دولت سے دولت پیدا نہیں کرسکتا، یعنی سود مہاجنی ہو یا تجارتی یا بینک کے ذریعے، اس میں اپنی دولت نہیں لگاسکتا، اسلام کی نظر میں سود انتہائی سنگین جرم ہے اور سود لینے والا لعنت کا مستحق ہے، اس کے ساتھ سود دینے والا، سودی معاملات کی دستاویز لکھنے والا اور اس کے گواہ سب اس لعنت میں شریک ہیں۔
          ۴-       کوئی مشترک تجارتی ادارہ ایسا کاروبار نہیں کرسکتا جس میں ایک فریق کا نفع تو متعین ہو؛ مگر دوسرے کا محض اتفاق کے حوالے ہو۔
          ۵-       ایسے لین دین ممنوع ہیں جن میں دھوکا ہوسکتا ہے، مثلاً جس چیز کا سودا ہورہا ہے وہ سامنے موجود نہ ہو یا اس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ وہ چیز کیسی ہے۔
          ۶-       جو چیزیں دیکھنے والے کے اختیار میں نہ ہوں ان کو وہ محض اپنے موہوم اختیار کے ذریعے نہیں بیچ سکتا، مثلاً اڑنے والے پرندے، زیرملکیت تالاب کی مچھلیاں، زمین کے اندر پٹرول، کوئلہ، تانبہ، سونا چاندی، کوئی بھی معدنی چیز؛ اس لیے کہ وہ زمین آپ کی مملوکہ ہے آپ بیچ نہیں سکتے اور نہ کوئی آپ سے خریدسکتا ہے۔
          ۷-       ذخیرہ اندوزی منع ہے، چاہے تاجر کرے یا صنعت کار۔
          ۸-       جوئے، سٹے، وعدے کے سودے جن سے بلا محنت روپیہ سمیٹنے کی ذہنیت پرورش پاتی ہے۔
          ۹-       تعیش کے سامان جو قطعی حرام ہیں، ان کا بنانا اور بیچنا قطعاً ممنوع ہے۔
          ۱۰-      محنت اور سرمایے کے باہمی تعلق کو اسلام ایک حد تک آزاد رکھتا ہے۔
          جدید اقتصادی نظام میں سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ پورا نظام سود پر قائم ہے، بینک سودی سسٹم پر چلتے ہیں۔
          حالانکہ بینک آج کے دور کی ایک اہم ضرورت ہے، بینک ہمارے سرمایے کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت سی خدمات انجام دیتا ہے، بینکوں کے کچھ کام ایسے ہیں جن میں سود نہیں ہے ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، یہ کوشش بھی جاری ہے کہ بینک کاری اسلام کے تصور کے مطابق ہو۔
          اسلامی بینک کاری میں سود کا تصور نہیں ہے؛ اس لیے پیداوار کی قیمت کم ہوتی ہے اور سرمایہ زیادہ پیدا ہوتا ہے۔
          خوشحالی کا راز یہ ہے کہ سرمایہ کی گردش کو تیز کیا جائے، سرمایہ رگوں میں دوڑتے ہوئے اس خون کی طرح ہے جو جسم کے ہر حصے کو طاقت دیتا ہے یا بہتے ہوئے اس پانی کی طرح ہے جو زمین کو سیراب کرتا ہے اور شادابی لاتا ہے؛ اس لیے قرآن کہتا ہے کہ:
          اَحَلَّ اللّٰہُ البَیْعَ وَحَرَّمَ الرِبوا
          ترجمہ: اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔
          قرآن حکیم کا بتلایا ہوا اقتصادی نظام انسانیت کی معاشی فلاح کا ضامن ہے؛ مگر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اسلام کا اقتصادی نظام اسلام کے پورے نظام حیات کا ایک جز ہے اور اس جز کے فائدے اس وقت تک پوری طرح محسوس نہیں کیے جاسکتے؛ جب تک اس جز کو اپنے کل کے اندر اس کے موزوں مقام پر نہ رکھا جائے۔
***




مسئلہٴ معاش اور اسلامی تعلیمات

(۱/۲)


انسان کی معاشی کفالت کا خدائی اعلان
          حضرت انسان کی ابتدائے آفرینش میں غورکرنے سے پتہ چلتاہے کہ جس طرح خالق بشریت نے اسے وجودعطافرمایا،اسی طرح اس کی تمام ضروریات کابھی انتظام فرمایا،تخلیق آدم علیہ الصلاة والسلام کے وقت سے ہی انسان کی بنیادی ضرورتوں اورحوائج کے پیش نظراللہ رب العزت نے جب اسے جنت میں مکین فرمایاتواس کی معاشی کفالت بھی فرمائی،اوراس کی بھوک،پیاس،لباس اوررہائش کے انتظام کااعلان بھی ان الفاظ میں فرمایا:
          ﴿انَّ لَکَ أنْ لاَ تَجُوْعَ فِیْہَا وَلاَ تَعْریٰ، وَأنَّکَ لاَ تَظْمَوٴُ فِیْہَا وَلاَ تَضْحٰی﴾(۱)
          ترجمہ:تجھ کویہ ملاکہ نہ بھوکاہوتواس میں اورنہ ننگا اوریہ کہ نہ پیاس کھینچے تواس میں،نہ دھوپ۔
          حضرت مولاناادریس کاندھلوی رحمہ اللہ آیتِ مذکورہ کی تفسیرمیں فرماتے ہیں:”غرض یہ کہ کھانے اورپینے اورغذااورقیام اورطعام اورلباس کے سب آرام تجھ کویہاں حاصل ہیں، اگر یہاں سے نکالاگیاتودنیاوی رزق اورغذاکے حول کے لیے تجھے بڑی مشقتیں اٹھانی پڑیں گی۔“(۲)
          حضرت مولانامفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”جنت میں ضروریاتِ زندگی کی یہ بنیادی چاروں چیزیں بے مانگے، بلامشقت ملتی ہیں“۔(۳)
          یعنی جنت میں توضروریاتِ زندگی کی ان چاربنیادی چیزوں کاحصول بغیرکسی مشقت کے ہے؛ لیکن دنیامیں ان کے حصول میں مشقت ومحنت کی ضرورت ہوگی،لہٰذاجب اللہ تعالیٰ نے انسان کودنیاکے اندربھیجاتوضرورتِ معاش کے ساتھ اسے کسبِ معاش کی صلاحیتوں سے بھی نوازا، اور اس صلاحیت کوآرزوئے خوب سے خوب ترکی مہمیزلگائی؛چناں چہ بتدائے انسانیت سے لے کر عصرِحاضرتک انسان اپنی ضرورتوں اورصلاحیتوں کے مطابق کسبِ معاش کے لیے تگ ودو کرتا نظر آتا ہے،اوراسے ہمیشہ سے خوب سے خوب ترکی جستجورہی ہے۔
 انسانی ضروریات اور معیشت کا تعلق
          یہ بات بھی روزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ انسانی ضروریات کا عمومی تعلق انسانی معیشت کے ساتھ جوڑاگیاہے اورمعیشت کوآسمانی بارش اورزمین کے خزانوں سے منسلک کردیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت کاارشادہے:
          ﴿وَلَقَدْ مَکَّنَکُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ﴾(۴)
          ارشادربانی کامطلب یہ ہے: ہم نے تمہیں زمیں میں باختیاربناکرتمہاری معیشت کا سامان اس میں رکھ دیاہے،جس طرح اللہ رب العزت نے انسان کے رزق اورمعیشت کوزمین اوراس کے خزانوں کے ساتھ مربوط فرمایاہے، اسی طرح آسمان سے بذریعہٴ بارش رزق اتارکرجسم کی غذا کے اسباب مہیاکیے ہیں،قرآن مجیدمیں ارشادربانی ہے:
          ﴿وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ﴾(۵)
          ترجمہ: اورآسمان میں ہے روزی تمہاری اورجوکچھ تم سے وعدہ کیا۔
          ”وفی السماء رزقُکم “کی تفسیرمیں بعض حضرا ت نے بیان کیاکہ یہ بارش ہے، جس سے اللہ بندوں کارزق پیدافرماتاہے۔(۶)
          خالقِ کون ومکان نے انسان کی تخلیق فرماکرپیدائش سے لے کرموت تک،ہرمرحلے میں اس کے حال کے مناسب اس کی ضروریات کے اسباب مہیافرمائے ہیں،نہ صرف اس کی غذا؛ بلکہ پرورش کانظام بھی قائم فرمایاہے،پیدائش کے روزِاول سے ہی اللہ کی مہربانیوں کاسلسلہ شروع ہوجاتاہے کہ نومولودکی ماں کے محبت بھرے سینے سے دودھ کے چشمے جاری فرمادیتے ہیں، پھر جوں جوں بچپن سے لے کربلوغ اورشعورکوپہنچتاہے تواس کے رزق اوروسائلِ رزق رزّاق العالمین کی طرف سے فراہم کیے جاتے ہیں،جن کے ذریعے وہ اپنی ضروریات کاانتظام کرتاہے،اللہ تعالیٰ کی رزاقی کاکیاکہناکہ وہ تمام عالم کے انسانوں کوان کے ماحول کے مطابق رزق فراہم کرتاہے،اس کی عطاسے بدترین دشمن اورنافرمان بھی محروم نہیں رہتا۔
انسان کی بے راہ روی
          مگریہ انسان ہی ہے کہ جب اس پرنفسیانی خواہشات کاغلبہ ہوجاتاہے اورشیطان اس کوصراطِ مستقیم سے ہٹاکراتباعِ نفس کی راہ پرڈال دیتاہے تویہ اپنی جائز وناجائزخواہشات کی تکمیل کے لیے افراط وتفریط سے کام لیتاہے ،دیگرانسانوں کے حقِ معاش پربھی ڈاکہ ڈالنے لگتاہے،کبھی طاقت کے نشے میں مست ہوکردولت اوروسائلِدولت پرقابض ہوجاتاہے،توکبھی دوسرے انسانوں سے محنت ومزدوری کرواکران کاحق ِمحنت اوراجرت ادانہیں کر تااورکبھی خوب سے خوب ترکی تلاش وجستجو میں خدائی پابندیوں کو پھلانگ کر سود اور دیگر ناجائز ذرائعِ آمدنی کو اختیار کرتا ہے، غرض، ہرممکن طریقہ سے اپنی ناجائزخواہشات کی تکمیل ہوتی ہے۔
 کسبِ معاش میں افراط وتفریط سے ممانعت
          رب العالمین نے تمام مخلوقات کی روزی اپنے ذمہ لی ہے،اوردنیاکودارُالاسباب قراردے کر اپنی سنت جاری فرمائی کہ محنت اورکوشش کے بقدرمعاش اوراسبابِ معاش فراہم کیے جائیں گے، انسان خداکی عطاکردہ کسبی صلاحیتوں سے خداکے خزانوں سے بھرپوراستفادہ کرسکتا ہے؛ مگر یادرہے کہ انسانیت کاتقاضہ ہے کہ اس حوالے سے افراط وتفریط سے کام نہ لیاجائے ،عدل وانصاف کادامن چھوٹنے نہ پائے،جائزاورصحیح ذرائع آمدنی ومعاش کواختیارکیاجائے،خداکی منع کردہ چیزوں سے مکمل اجتناب کیاجائے ،جوچیزجس شخص کی ملکیت میں ہے، اس کے حق کااحترام کیاجائے؛البتہ دوسرے کی شئے مملوکہ کوحاصل کرنے کادرست طریقہ یہ ہے کہ خرید و فروخت اورلین دین کے ذریعے تبادلہ کی شکل اختیارکی جائے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا قول
          حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ”حجة اللہ البالغہ“میں اس مضمون کوبہت ہی خوبصورت پیرائے میں بیان فرمایاہے:
          اعْلَمْ!أنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ وَجَعَلَ مَعَایِشَہُمْ فِي الْأرْضِ، وَأبَاحَ لَہُمُ الاِنْتِفَاعَ بِمَافِیْہَا، وَقَعَتْ بَیْنَہُمُ الْمَشْحَةُ وَالْمُشَاجَرَةُ، فَکَانَ حُکْمُ اللّٰہِ عِنْدَ ذَلِکَ تَحْرِیْمٌ أنْ یُزَاحِمَ الإْنْسَانُ صَاحِبَہ فِیْمَااخْتُصَّ بِہ؛ لَسَبَقَ یَدُہ إلَیْہِ أوْ یَدُ مُوْرِثِہ، أوْ لِوَجْہِ مِّنَ الْوُجُوہِ الْمُعْتَبَرَةِ عِنْدَہُمْ، إلاّبِمُبَادَلَةٍ أوْتَرَاضٍ مُعْتَمَدٍ عَلٰی عِلْمٍ مِنْ غَیْرِ تَدْلِیْسٍ وَرُکُوْبِ غَرَرٍ، وَأیْضًا لَمَّا کَانَ النَّاسُ مَدْنِیِّیْنَ بِالطَّبْعَةِ لَا تَسْتَقِیْمُ مَعَایِشُہُمْ إلاَّ بِتَعَاوُنٍ بَیْنَہُمْ، نَزَلَ الْقَضَاءُ بِإیْجَابِ التَّعَاوُنِ، وَأنْ لَایَخْلُوَ أَحَدٌ مِّنْہُمْ مِمَّا لَہ دَخَلٌ فِي التَّمَدُّنِ، إلَّا عِنْدَ حَاجَةٍ لَایَجِدُ مِنْہَا بُدًّا۔(۷)
          (ترجمہ)یہ واضح رہے کہ اللہ تعالی نے جب مخلوق کوپیداکیااورزمین میں اس کی معاشی ضروریات کے لیے سامان فراہم کردیا،اوران کوسب کے لیے مباح اورعام کردیاتومخلوق میں(ان سے متمتع ہونے کے حوالے سے)مزاحمت اورمناقشت شروع ہوگئی،تب اللہ تعالی نے حکم دیاکہ کوئی شخص سبقت اورپہل کرکے کسی شئے کواپنے قبضے میں کرلے،یامورث کے قبضہ کی وجہ سے اس کی وراثت میں آجائے،یاان کے علاوہ ایسے دوسرے طریقوں سے اس کاقبضہ ہوجائے جواللہ تعالی کے نزدیک جائزطریقے قرارپاچکے ہیں،تودوسرے شخص کواس کی مقبوضہ شئے میں مزاحمت کاحق نہیں؛البتہ دوسرے کی مقبوضہ شئے کوحاصل کرنے کے لیے جائز طریقہ یہ ہے کہ خریدوفروخت اورلین دین کے ذریعے تبادلہ کی شکل اختیارکی جائے،یامعتبرطریقوں یاباہمی رضامندی سے لین دین انجام پائے توبہت بہترہے،انسان چوں کہ مدنی الطبع یعنی معاشرے میں مل جل کررہنے والاواقع ہواہے ،لہٰذااس کی زندگی تعاون واشتراک کے بغیرناممکن ہے،تواللہ تعالی نے تعاون واشترک ِباہمی کوواجب قراردیاہے اوریہ بھی لازم کیاکہ بغیرضرورت ِ شدیدہ کے کسی فردکوایسے امورسے کنارہ کش ہونے کاحق نہیں جوتہذیب ومعاشرت کے مسئلہ میں دخیل ہوں“۔
مسئلہٴ معاش اور انسانی کوششیں
          مشاہدہ ہے کہ انسان اپنے معاشی مسائل کے حل اوراس کے تقاضوں کوپوراکرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ سرگرمِ عمل رہتاہے؛ بلکہ جنون کی حد تک اس میں مصروفِ کارہوتاہے،اسی تگ ودومیں بعض دفعہ اس کی سوچنے اورسمجھنے کی قوتیں ماؤف ہوجاتی ہیں،اوروہ اپنے ہوش وہواس تک کھوبیٹھتاہے،غرض معاشی تحفظ کے لیے جوبھی راہ سوجھتی ہے ،یاجس راہ پربھی روشنی دکھائی دیتی ہے اس کے نتائج وعواقب سے بے نیازہوکرخواہشات کے بے لگام گھوڑے پرسوارہوکرسرپٹ دوڑے چلے جاتاہے،کبھی ایک راہ اختیارکرتاہے توکبھی دوسری،درست راہ کی طرف راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے ہربارگوہرِمقصودہاتھ نہیں آتا،اس کادامن یاس وحرمان کے کانٹوں میں مزید الجھ جاتاہے،مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے چلے جاتے ہیں،معاشی بوجھ سے سبکدوش ہونے کے بجائے وہ مزیداس کے پنجے میں دبتاچلاجاتاہے۔
مختلف زمانوں میں انسانی ذرائع معاش
          ہرزمانہ میں انسان نے اپنے معاشی مسائل کے حل اورضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے لیے مختلف ذرائع کواختیارکیا،اوّلاًرزق کے تمام ذرائع زمین میں تھے اورانسانی زندگی کاپہلادوراسی زمین کی پیداوارپراکتفاکرتاتھا،یازمین پرچلنے والے جانوراسے شکارکی صورت میں مل جاتے تھے،صدیوں تک یہی عمل جاری رہا،پھرتہذیب وتمدن کاعمل بڑھتاگیااورضروریات میں اضافہ ہواتونئے نئے ذرائعِ معاش بھی وجودمیں آنے لگے،اوریوں مصنوعات کادورشروع ہوا،انسانی زندگی کے ابتدائی دورمیں تبادلہٴ اشیاء کانظام رائج ہوااورایک طویل زمانہ تک اسی کارواج رہا، ہرایک اپنی ضرورت کی چیزلے کردوسرے کواس کی ضرورت کی چیزفراہم کرتاتھا،مرورِزمانہ کے ساتھ اس مقصدکے لیے مختلف ذرائع ایجادہوتے رہے،یہاں تک کہ سونے، چاندی، دھاتوں کے بدلے معاملات انجام پانے لگے،پھرسکوں کادورآیا،پھرمعیشت کی جدیدشکلیں اورنظریے وجودپذیرہوئے اوردنیاسکوں سے کاغذی کرنسی کی طرف آگئی،اورآج نوبت کاغذی کرنسی سے مختلف کارڈزتک پہنچ گئی کہ ضروت مندخریداری کرکے بجائے عوض میں کاغذی نوٹ دینے کے تاجرکوکارڈدکھاتاہے اوراپنی مطلوبہ اشیاء حاصل کرلیتاہے،جس رفتارسے ایجادات ہورہی ہیں اور جس طرح انسان لامحدودخواہشات کی تکمیل میں لگاہواہے،اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسی پربات رکے گی نہیں؛بلکہ مزید نئی صور تیں جودمیں آئیں گی۔
کسبِ معاش اور اسلامی تعلیمات
          اسلام کسی معاشی نظام اورمعاشی نظریے کانام نہیں؛بلکہ یہ ایک دین اورمکمل نظامِ حیات ہے،جس میں زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق کامل واکمل رہنمائی موجودہے،دیگرشعبہ جات زندگی کی طرح معاش،کسبِ معاش اوران سے متعلقہ امورکے لیے اسلام نے احکامات بیان فرمائے ہیں،بعض حضرات اسلام کوبھی ایک معاشی نظریہ اورنظام سمجھ کراس کاتقابل دیگر جدید وقدیم معاشی نظاموں سے کرتے ہیں،جوکسی طرح بھی درست نہیں؛اس لیے کہ تاریخِ انسانی کے ہردور میں معاشی مسائل کے حل کے لیے ہمہ نوع اورباہم دیگرمتضادنظریات پیش کیے جاتے رہے ہیں،اورآئندہ بھی ایسا ہوتارہے گا؛لیکن زمانہ شاہدہے کہ یہ نظریات زمان ومکان کے ساتھ سا تھ بدلتے مٹتے اورتبدیل ہوتے رہتے ہیں؛جب کہ اسلام نوعِ انسانی کے لیے عالم گیر،دائمی، ابدی ،حتمی اورکامیابی کاضامن لائحہٴ عمل مہیا کرتا ہے،اپنی وسعت ،ہمہ گیری،جامعیت اوراکملیت کے باوصف اسلام نے حیاتِ انسانی کے تمام پہلوؤں کے لیے جامع ومانع پروگرام مرحمت فرمایاہے،اس میں معاشی زندگی کے حوالے سے بھی رہنمائی کی گئی ہے۔
          کسبِ معاش کے لیے اسلامی احکامات اوراس کے فراہم کردہ اصولوں میں محنت،اس کی ضرورت واہمیت سرمایہ کاحصول وحرفت،زمین کی ملکیت ،پیداواری صلاحیت اورپیداوارکے احکام،لین دین میں معاہدات اورعہدکی پابندی،صداقت ،امانت،دیانت داری ،راست بازی، حق گوئی اورسچائی کی تلقین،دھوکہ دہی،ذخیرہ اندوزی،ناجائزمنافع خوری، بلیک مارکیٹنگ اور ملاوٹ کی مذمت و ممانعت،رشوت اورسودکی قباحت وحرمت اورمخربِ اخلاق ذرائع آمدنی سے اجتناب ودیگرکئی اورپہلوؤں سے متعلق احکام وہدایات کووضاحت کے ساتھ بیان کیا گیاہے۔ اس کے علاوہ معاشرتی زندگی کے حوالہ سے ہمدردی ،غم گساری ،ایثاروقربانی اوراللہ کی راہ میں خرچ کواہمیت دی گئی ہے،فرداورمعاشرہ کوان کاحکم دیاگیاہے۔
محنت
          کسبِ معاش میں محنت کوخاص اہمیت حاصل ہے،خودمحنت کرکے کمانے کو سراہا گیا ہے؛ چناں چہ بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے :
          ”مَا أکَلَ أحَدٌ طَعَاماً قَطُّ خَیْرًا مِنْ أنْ یَأکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدِہ، وَأنَّ نَبِيَّ اللّٰہِ دَاؤُدَ علیہ السلامُ کَانَ یَأکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدِہ (۸)
          ترجمہ:تم میں کوئی اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہترکوئی چیزنہیں کھاتا،اوراللہ کے نبی داؤدعلیہ السلام اپنے ہاتھ سے کماکرکھاتے تھے۔
          ایک دوسری روایت میں ہے:
          ”لأنْ یَّحْتَطِبَ أحَدُکُمْ حِزْمَةً عَلٰی ظَہْرِہ خَیْرٌ مِنْ أنْ یَّسْأَلَ أَحَدًا فَیُعْطِیَہ أَوْ یَمْنَعُہ (۹)
          ترجمہ: تم سے کوئی اپنی پشت پرلکڑیوں کاگٹھااٹھائے یہ اس بات سے بہترہے کہ کسی سے کوئی سوال کرے،کوئی اسے دے یانہ دے۔
          حلال کمائی کوفریضہ سے تعبیرکیاگیاہے؛چناں چہ ارشادنبوی ہے:
          ”کَسْبُ الْحَلَالِ فَرِیْضَةٌ بَعْدَالْفَرِیْضَةِ“(۱۰)
          ترجمہ: حلال روزی کمانافرائضِ (لازمہ)کے بعدفریضہ ہے۔
          حضرت ابوہریرة رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں حضورِاکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے طلبِ معاش کی فکر کو (مخصوص)گناہوں کاکفارہ قراردیاہے؛چناں چہ ارشاد گرامی ہے:
          ”اِنَّ مِنَ الذُّنُوْبِ ذُنُوْبًا، لاَ تُکَفِّرُہَا الصَّلٰوةُ وَلاَ الصِّیَامُ وَلاَ الْحَجُّ وَلاَ الْعُمْرَةُ، قَالُوْا: فَمَا یُکَفِّرُہَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟! قَالَ: اَلْہُمُوْمُ فِيْ طَلَبِ الْمَعِیْشَةِ“(۱۱)
          (ترجمہ)”گناہوں میں سے بعض گناہ ایسے ہیں،جنہیں نہ نمازمعاف کرواتی ہے، نہ ہی روزہ اورنہ حج وعمرہ معاف کراتے ہیں،صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم! پھر انھیں کون سی چیزمعاف کرواتی ہے؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان کاکفارہ کسبِ معاش میں پیش آنے والی پریشانیاں ہیں“۔
          خودحضورِاکرم  صلی اللہ علیہ وسلمکے اسوئہ حسنہ کااولین پہلویہ ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم خودمحنت فرماکراللہ تعالیٰ کے خزانوں سے روزی کماتے،خودکھاتے اوردوسروں کوکھلاتے تھے،قبل ازنبوت کی حیاتِ طیبہ میں کئی ایک تجارتی اسفارجوشام،بصرہ اوریمن کی طرف اختیارفرمائے قابلِ ذکرہیں۔(۱۲)
          حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک اورپاکیزہ تعلیمات سے یہ معلوم ہوتاہے کہ خوداپنے ہاتھ سے محنت کرکے حلال روزی کماناشریعت میں محموداورمطلوب ہے۔
سرمایہ اوراس کاحصول
          اسلام دولت اورسرمایہ کوناپسندیدہ نظرسے نہیں دیکھتا؛بلکہ اسلامی تعلیمات میں جگہ جگہ اسے ”خیر“ کے لفظ سے تعبیرکیاگیاہے؛چناں چہ ارشادربانی ہے: ﴿وَانَّہ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْد﴾(۱۳)
          ترجمہ: بے شک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہیں۔
          سورة البقرة میں ارشادخداوندی ہے:﴿وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ الَیْکُمْ﴾(۱۴)
          ترجمہ: اورتم مال میں سے جوکچھ خرچ کروگے تمہیں پوراپورادیاجائے گا۔
 حلال ذرائعِ آمدنی
          مال کاحصول حلال طریقے سے ہوناضروری ہے،حلال مال وہی ہوگا جس کاذریعہ بھی حلال ہوگا،ورنہ حلال رزق بھی حرام اورناپاک تصورہوگا،جیسے حلال اناج اورگندم چوری کے ذریعے ،اسی طرح حلال روپے رشوت اورغبن کے ذریعے،ناپ تول میں کمی،یاملاوٹ کرکے اورجھوٹ بول کرکمائے جائیں تویہ ساری چیزیں حلال رزق کوبھی حرام کردینے والی ہیں۔
          مال کے حصول میں دیانت وامانت کے اصول کومرکزی نکتہ کی حیثیت دی گئی ہے؛تاکہ باہمی مفادات کااحترام وتقدس قائم رہ سکے؛چناں چہ باطل طریقے سے ایک دوسرے کے مال کوکھانے سے منع کیاگیاہے،ارشاد باری تعالی ہے:
          ﴿یَاأیُّہَاالَّذِیْنَ آمَنُوْالَاتَاْٴکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾(۱۵)
          ترجمہ: اے ایمان والو!اپنے مال آپس میں باطل طریقہ سے مت کھاؤ۔
          حلال رزق کوحلال طریقہ سے کمانے کی ترغیب آپ علیہ الصلوٰة السلام نے ایک دوسرے اندازمیں بھی ارشاد فرمائی ہے؛چناں چہ ارشادمبارک ہے:
          ”أیُّمَاعَبْدٍ نَبَتَ لَحْمُہ مِنَ السُّحْتِ وَالرِّبَا، فَالنَّارُأوْلٰی بِہ (۱۶)
          ترجمہ: جس شخص کاگوشت پوست ظلم اورسودسے پلے بڑھے،اس کے لیے جہنم کی آگ ہی زیادہ بہترہے۔
          دوسرے کاحق چاہے زیادہ ہویامعمولی ،ناجائزطریقہ سے قبضہ کرنے سے منع کیاگیاہے، حدیث آیا ہے:
          ”مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الأرْضِ ظُلْماً طَوَّقَہ اللّٰہُ ایَّاہُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنْ سَبْعِیْنَ أَرْضِیْنَ“․(۱۷)
          ترجمہ: جس شخص نے ظالمانہ طورپرکسی سے زمین کا ایک بالشت حصہ لے لیا،قیامت کے روزاللہ تعالی سات زمینوں کابوجھ اس کے گلے میں ڈال دے گا۔
          ایک اورروایت میں معمولی اشیاء کے بارے میں فرمایا:
          ”مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِیٴٍ مُسْلِمٍ بِیَمِیْنِہ فَقَدْ أوْجَبَ اللّٰہُ لَہ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَیْہِ الْجَنَّةَ، فَقَالَ لَہ رَجُلٌ: وَانْ کَانَ شَیْئًا یَسِیْرًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟! قَالَ: وَانْ کَانَ قَضِیْباً مِنْ أرَاکٍ“․(۱۸)
          ترجمہ: جس نے کسی مسلمان کاحق قسم کے ذریعے ختم کردیا،اللہ نے اس کے لیے جہنم واجب کردی اوراس پرجنت کوحرام کردیا،ایک شخص نے عرض کیاکہ اگربہت معمولی سی چیزکامعاملہ ہوتو؟(پھربھی ایساہی ہوگا)فرمایا:اگرچہ اراک درخت کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔
جدیدمعاشی نظریات اوراسلام
          معاشی مسائل میں غوطہ زنی سے پہلے ایک بنیادی نکتے کاسمجھناضروری ہے،جس کی وجہ سے جدیدماشی نظریات اورمعاش کے اسلامی احکام میں تمیزاورفرق سہل ہوجاتاہے،وہ یہ کہ اسلام اگرچہ سہولیات دنیوی کے ترک اورطلبِ رزق کی مشغولیت کوناپسندیدہ سمجھنے میں رہبانیت کامخالف ہے،اورمعاشی میدان میں انسانی حرکت کونہ صرف مباح؛ بلکہ بعض اوقات اسے پسندیدہ اورضروری قراردیتاہے؛لیکن اس سب کے باوجودمعاش کوانسان کے لیے بنیادی مسئلہ قرار نہیں دیتا، نہ ہی معاشی ترقی کوحیاتِ انسانی کامقصودومنتہاسمجھتا ہے،یہیں سے مادیت پرمبنی معیشت اورمعیشت کے اسلامی احکام میں بڑااوربنیادی فرق واضح ہوجاتاہے کہ مادیت پرست معیشت ہی کوانسان کی زندگی کامقصودومنتہاقراردیتے ہیں،جب کہ اسلام یہ کہتاہے کہ بقدرضرورت طلبِ معاش سے کوئی فردبشرمستغنی نہیں؛لیکن اسی کوانسانیت کی معراج سمجھنے کی ہرگزاجازت نہیں کہ انسان اسے اپنی کامیابی وناکامی کے لیے معیارقراردے۔(۱۹)
مسائلِ اربعہ کا حل اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
          معاش کوانسانی زندگی کامقصدومنتہاقراردینے والوں نے جن چارمسائل کومعیشت کی بنیاد بنایا اورانھیں حل کرنے کے لیے اپنے مذعومہ نظریات پیش کیے ،اسلامی احکامات کے تناظرمیں ان کاجائزة لینے سے جوباتیں سامنے آتی ہیں،ان کاخلاصہ درج ذیل ہے:
طلب ورسدکے فطری قوانین کااعتراف
          اسلام طلب ورسدکے فطری قوانین کانہ صرف معترف ہے؛بلکہ اس حوالے سے ہدایات بھی فراہم کرتاہے،قرآن کریم میں اللہ رب العزت کاارشادہے:
          ﴿نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَعِیْشَتَہُمْ فِي الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضُہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیَّا﴾(۲۰)
          ترجمہ: ہم نے ان کے درمیان معیشت کوتقسیم کیاہے اوران میں سے بعض کوبعض پردرجات میں فوقیت دی ہے؛تاکہ ان میں سے ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔
          یہاں کام لینے کوطلب اورکام کرنے کورسدسے تعبیرکیاجاسکتاہے،یہی وہ چیزہے جس کی باہمی کشمکش اورامتزاج سے ایک متوازن معیشت وجودمیں آسکتی ہے۔
          ہم نے پہلے عرض کیاتھاکہ اسلام اس حوالے سے ہدایات بھی فراہم کرتاہے،لہٰذاایک موقع پرجب آپ علیہ السلام سے بازارمیں فروخت ہونے والی اشیاء کی قیمتیں اورنرخ متعین کرنے کی درخواست کی گئی توجواب میں آپ علیہ السلام نے ارشادفرمایا:
          ”إنَّ اللّٰہَ ہُوَالْمَسْعُرِالْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ“(۲۱)
          ترجمہ:بے شک اللہ تعالی ہی قیمت مقررکرنے والے ہیں،وہی چیزوں کی رسدمیں کمی اور زیادتی کرنے والے ہیں،اوروہی رزاق ہیں۔
          ایک اورحدیث میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایاگیاہے کہ بازارمیں رائج طلب ورسد کے قوانین فطری ہیں،ان میں تبدیلی درست نہیں،آپ نے شہریوں کودیہات والوں کے لیے یعنی ان سے مال لے کرخودشہرمیں مہنگے داموں فروخت کرنے سے منع فرمایااورساتھ ہی یہ بھی ارشادفرمایا:
          ”دَعُوا النَّاسَ یَرْزُقُ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ مِنْ بَعْضٍ“․(۲۲)
          ترجمہ: لوگوں کوآزادچھوڑدوتاکہ اللہ تعالی ان میں سے بعض کوبعض کے ذریعے رزق عطافرمائے۔
          اس حدیث میں تیسرے شخص کی مداخلت کومنع فرمایاگیا؛تاکہ طلب ورسدکاصحیح توازن قائم ہو،اورذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی قلت پیداکرکے طلب ورسدکے قدرتی نظام میں بگاڑ سے حفاظت ہوسکے،گویااسلام کے معاشی احکام سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فی الجملہ طلب ورسداورذاتی منافع کے محرک کااعتبارہے؛لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی بتادیا کہ جدیدمعاشی نظریات کی طرح ان کوبے لگام نہیں چھوڑاگیاکہ جس طرح چاہیں معاملہ کریں؛ کیوں کہ مطلق آزادی ذخیرہ اندوزیوں کوجنم دیتی ہے،جس سے مارکیٹ کانظام درہم برہم ہوجاتاہے۔(۲۳)
 متوازن معیشت
          مارکیٹ کوسرمایہ داروں کے تسلط اوردیگرمفاسدسے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کے معاشی احکام سے واقف ہوں اوران پرعمل پیرا ہوں، تاکہ شخصی آزادی اورمارکیٹ کی آزادفضاکے درمیان توازن ومعاشرہ کی آزادی کے درمیان توازن قائم ہوسکے۔
          اسلام کے بتائے ہوئے احکام میں سود،قماراورسٹہ بازی کی حرمت خاص اہمیت رکھتی ہے؛ کیوں کہ یہی وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے سے مال وسرمایہ سمٹ کرصرف چندسرمایہ داروں کے ہاتھوں میں آجاتاہے،تاریخ گواہ ہے کہ سرمایہ داریت ومادیت کاطوفان انہی مذکورہ بالااسباب کے نتیجے میں برپاہوا،اورآج پورے خطہٴ ارضی کواپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ذخیرہ اندوزی، قافلوں کے شہرمیں آمدسے قبل ہی خریدوفروخت،شہری کادیہاتی کے لیے معاملہ اورتمام بیوعاتِ فاسدہ اورباطلہ کی حرمت کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان سے مارکیٹ کے فطری اصول متاثرہوتے ہیں، رسدوطلب کے قوانین معطل ہوکرچندسرمایہ داروں کے ہاتھ کھلونا بن کررہ جاتے ہیں۔(۲۴)
ذاتی منافع کے محرک پرعائد اسلامی پابندیاں
          اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے مقابلے میں سرمایہ داریت میں ذاتی منافع کے محرک کوبالکل آزاد چھوڑ دیاگیاہے،جس کے نتیجے میں وہ خرابیاں پیداہوئیں جن کاذکرگزشتہ سطور میں کیاگیا، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ذاتی منافع کے محرک پرجوپابندیاں عائد ہوتی ہیں، وہ تین طرح کی ہیں:
(۱)     خدائی پابندیاں
          سب سے پہلے تواسلام نے معاشی سرگرمیوں پرحلال وحرام کی کچھ ایسی ابدی پابندیاں عائد کی ہیں جوہرجگہ اورہرزمانے میں نافذالعمل ہیں،یہ پابندیاں نہ صرف عقلِ انسانی کے موافق ہیں؛ بلکہ وحیِ الٰہی کے ذریعہ سے ان کوابدی حیثیت بھی دی گئی ہے؛تاکہ کوئی مادہ پرست اور فاسدالعقل شخص اپنی عقلی تاویلاتِ فاسدہ کے ذریعے ان سے چھٹکاراحاصل کرکے معیشت اور معاشرے کوناہمواریوں میں مبتلانہ کرسکے ۔
          تکملة فتح الملہم میں ان پابندیوں کوان الفاظ میں بیان کیاگیاہے:
          ”فَلاَ یَجُوْزُ لِأَحَدٍ مِّنَ الْمُکْتَسِبِیْنَ أنْ یَکْسِبَ الْمَالَ بِطَرِیْقَةٍ غَیْرِ مَشْرُوْعَةٍ مِّنَ الرِّبَوٰ وَالْقِمَارِ وَالتَّخْمِیْنِ وَسَائِرِ الْبُیُوْعِ الْفَاسِدَةِ أَوِ الْبَاطِلَةِ“․(۲۵)
          ترجمہ: کسی تاجرکے لیے یہ جائزنہیں کہ وہ سود،قمار،سٹہ بازی وردیگرتمام بیوع فاسدہ وباطلہ کے غیرمشروع طریقہ سے مال کمائے۔(کیوں کہ یہ چیزیں عموماًاجارہ داریوں کے قیام کاذریعہ بنتی ہیں)۔
(۲)    حکومتی پابندیاں
          تمام حالات میں جب کہ معاملات ہدایاتِ الٰہیہ کی روشنی میں انجام دیے جارہے ہوں تواسلام معاشی سرگرمیوں میں حکومت کومداخلت کی اجازت نہیں دیتا؛البتہ اگرکوئی عمومی مصلحت ہو، یاکوئی اپنی ذاتی اجارہ داری قائم کررہاہوتوحکومتِ وقت تاجروں پرایسی پابندیاں عائدکرسکتی ہے،جن سے معیشت ناہمواری کاشکارہونے سے بچ جائے۔
          چناں چہ ایک مرتبہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ بازارتشریف لائے تودیکھاکہ ایک شخص کوئی چیزاس کے معروف نرخ سے بہت کم داموں میں فروخت کررہاہے ،توآپ نے اس سے فرمایا:
          ”إمَّا أنْ تَزِیْدَ فِي السِّعْرِ وَإمَّا أنْ تَرْفَعَ مِنْ سُوْقِنَا“․(۲۶)
          ترجمہ: یاتم دام میں اضافہ کرو،ورنہ ہمارے بازارسے اٹھ جاؤ۔
          اس حدیث سے یہ معلوم ہواکہ حکومت کسی مصلحت کے تحت کوئی پابندی عائدکرسکتی ہے؛ کیوں کہ مارکیٹ میں اگرکوئی معروف نرخ سے کم قیمت پرخریدوفروخت کرے تواس سے دیگر تاجروں کے لیے جائزنفع کاراستہ بندہوسکتاہے،لہٰذااس سے کہاگیا:یاتوتم معروف بھاؤ پر فروخت کرو،ورنہ یہ بازارچھوڑکرچلے جاؤ؛البتہ یہ ضروری ہے کہ حکومت کی طرف سے عائدکردہ پابندیاں قرآن وسنت کے کسی حکم سے متصادم نہ ہوں،وگرنہ وہ پابندیاں قابلِ التفات وقابلِ عمل نہیں ہوں گے؛ کیوں کہ اسلام ہمیں اس کی تعلیم دیتا ہے کہ خدا ئی احکام کے مقابلہ میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں،جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے:
          ”لاَ طَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِيْ مَعْصِیَةِ الْخَالِقِ“۔(۲۷)
          ترجمہ: خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔
(۳)    اخلاقی پابندیاں
          اسلامی تعلیمات میں قدم قدم پرانسان کویہ بتایاگیاہے کہ معاشی سرگرمیاں اوران سے حاصل ہونے والے مادی فوائدانسان کی زندگی کامنتہاء مقصودنہیں؛بلکہ وجہ تخلیقِ آدم اخروی زندگی کی لازوال کامیابیوں کاحصول ہے،اگرکائنات کے کسی بھی خطے میں اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اوراحکام کامکمل نفاذہوتووہاں سے اشتراکیت،شیوعیت اورسرمایہ داریت کے تمام زہریلے اثرات ختم ہوجائیں گے،جس کے نتیجہ میں وہاں ظلم،قساوت اورنفس پرستی سے پاک معیشت وجود میں آئے گی۔(۲۸)
          اسلام نے تجارت ومعیشت کوپاکیزہ اورصاف ستھرارکھنے کے لیے جوضوابط وقوانین مقرر کیے ہیں وہ نہ صرف دنیامیں حلال رزق کے حصول کاذریعہ ہیں؛بلکہ آخرت میں اعلیٰ درجات کاباعث بھی ہیں۔ (باقی آئندہ)
***
حوالہ جات
(۱)         طہ:۱۱۸،۱۱۹۔
(۲)        معارف القرن،سورة طہ،آیت :۱۱۸،۱۱۹:۵/۱۶۶،(۱۴۲۲ھ)ط،مکتبہ المعارف، شہدادپور،سندھ۔
(۳)        معارف القرن،سورة طہ،آیت :۱۱۸،۱۱۹:۵/۱۶۶،(۱۴۲۲ھ)ط،ادارة المعارف، کراچی۔
(۴)        الأعراف:۱۰۔
(۵)        الذاریات:۲۲۔
(۶)        معارف القرآن للکاندھلوی:۷/۶ص۵،طةمکتبہ المعارف شہدادپور۔
(۷)        حجة اللہ البالغہ،باب من أبواب ابتغاء الرزق:۲/۲۷۳،ط،زمزم پبلشرزکراچی۔
(۸)        البخاری،ابوعبداللہ محمدبن اسماعیل،الجامع الصحیح،کتاب البوع،باب کسب الرجل وعملہ بیدہ،(رقم الحدیث: ۲۰۷۴): ۴۱۲، دارالکتاب العربی ،بیروت۔
(۹)        حوالاسابق،رقم الحدیث:۲۰۷۴۔
(۱۰)       البیہقی،أبوبکرأحمدبن الحسین بن علی،السنن الکبری،کتاب الاجارة،باب کسب الرجل وعملہ بیدہ“(رقم الحدیث:۱۲۳۰): ۶/۱۲۸‘ ط ۱۳۴۴ھ،مجلس دائرة النظامیة،حیدرآباد،الہند۔
(۱۱)        الہیثمی،نورالدین علی بن أبی بکر،مجمع الزوائد،کتاب البیوع،باب الکسب والتجارة ومحبتہا والحث علی طلب الرزق،(رقم الحدیث:۶۲۳۹):۴/۱۰۹،دارالفکر‘بیروت۔
(۱۲)       علامہ شبلی نعمانی،سیرة النبی  صلی اللہ علیہ وسلم،ظہورِقدسی،شغل تجارت:۱/۱۸۷کواپریٹیو کیپٹل پرنٹنگ پریس،لاہور،ط:پنجم۔
(۱۳)       العادیات:۸۔
(۱۴)       البقرة:۲۷۲۔
(۱۵)       البقرة:۱۸۸۔
(۱۶)       الطبرانی،أبوالقاسم سلیمان بن أحمد،المعجم الأوسط،(رقم لحدیث:۶۴۹۵): ۶/۳۱۰، ت:طارق بن عوض اللہ الحسینی، ط: دارالحرمین‘ القاہرة ۱۴۱۵ھ۔
(۱۷)       القشیری،أبوالحسین مسلم بن حجاج بن مسلم،صحیح مسلم،کتاب البیوع ،باب تحریم الظلم وغصب الأرض وغیرہا،(رقم الحدیث: ۴۱۳۲)، ص:۷۰۳،ط،دارالسلام ،الریاض ۱۴۱۹ھ۔
(۱۸)       الأصبحی،مالک بن أنس بن مالک بن أبی عامربن الحارث ،موطاالإمام مالک ،کتاب الأقضیة،باب ماجاء فی الحنث علی منبرالنبی  صلی اللہ علیہ وسلم،ص:۶۳۶،قدیمی،کراچی۔
(۱۹)       تکملة فتح الملہم،کتاب البیوع،مسئلة الاقتصاد فی الإسلام(ملخصاً):۱/۳۰۰،۳۰۱،مکتبة دارالعلوم کراتشی،۱۴۱۴ھ۔
(۲۰)       الزخرف:۳۲۔
(۲۱)       السجستانی،أبوداؤد سلیمان بن الأشعث الأذدی،سنن أبی داؤد،کتاب الإجارة،باب فی الشعیر،(رقم الحدیث:۳۴۵۱): ۳/۳۷۴، ۳۷۵،دارإحیاء التراث العربی،۱۴۲۱ھ۔
(۲۲)       الترمذی،أبوعیسی محمدبن عیسی بن سورة،سنن الترمذی،کتاب البیوع،باب ماجاء لایبیع حاضرلباد،(رقم الحدیث:۱۲۲۳): ۲/۲۶۶، دارالکتب العلمیة،بیروت ۱۴۲۱ھ۔
(۲۳)      تکملة فتح الملہم،کتاب البیوع،المذہب الاقتصادی الإسلامی:۱/۳۱۰،۳۱۱،مکتبة دارالعلوم کراتشی۔
(۲۴)      حوالا سابق:۱/۳۱۱،۳۱۲۔
(۲۵)      تکملة فتح الملہم،کتاب البیوع،المذہب الاقتصادی الإسلامی:۱/۳۱۲،مکتبة دارالعلوم کراتشی۔
(۲۶)       إمام دارالہجرة،مالک بن أنس،مؤطاالإمام مالک،کتاب البیوع،باب الحکرة والتربص، ص: ۵۹۱،قدیمی،کراچی۔
(۲۷)      التبریز ی،الخطیب،ولی الدین ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ،مشکاة المصابیح،کتاب الامارة والقضاء،الفصل الثانی،(رقم الحدث:۳۶۹۶):۳/۸،دارالکتب العلمیة، بیروت، ۱۴۲۴ھ- ۲۰۰۳م۔
(۲۸)      تکملة فتح الملہم،کتاب البیوع،المذہب الاقتصادی الإسلامی،تدخل الأخلاق:۱/۳۱۳،مکتبة دارالعلوم کراتشی۔
***





مسئلہٴ معاش اور اسلامی تعلیمات

(۲/۲)


عقیدہ ،اخلاق اور معیشت
          اسلام نے معیشت کی بنیادعقیدہ اوراخلاق پررکھی ہے،اوروہ تجارکوفہمائش کرتاہے کہ اللہ ان کے ہرڈھکے چھپے کوہروقت دیکھتااورجانتاہے:
          ﴿إنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا﴾(۲۹)
          اسلام تمام مسلمانوں کوآپس میں بھائی قراردے کران کویہ تعلیم دیتاہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی پسندکریں جوانہیں اپنے لیے پسندہے: ”لاَ یُوٴْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأخِیْہ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہ(۳۰)
          ترجمہ:”تم میں کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والانہیں ہوسکتا؛ جب تک وہ اپنے (مسلمان)بھائی کے لیے وہی پسندنہ کرے جواپنے لیے پسندکرتاہے،،۔
          غورفرمائیں!جب ایک مسلمان دوسرے کے لیے وہی پسندکرے گاجواس کی اپنی پسندہے توپھریہ کیوں کر ممکن ہے کہ وہ ناپ تول میں کمی کرکے،یاعیب داراورناقص چیزفروخت کرکے زیادہ اورکھرے مال کی قیمت وصول کرے اوریوں اپنے بھائی کامعاشی استحصال کرے،اسلام تواپنے ماننے والوں کواس بات کی تعلیم دیتاہے کہ وہ عیوب کوچھپاکرچیزوں کوفروخت نہ کریں، ورنہ ان کایہ عمل نہ صرف ان کے کاروبارسے برکت کوختم کردے گا؛بلکہ اللہ کی لعنت کاباعث بھی بن جائے گا،حدیث شریف میں اس مضمون کویوں بیان فرمایاگیاہے:
          ”مَنْ بَٓعَ عَیْبًا لَمْ یُبَیِّنْہُ، لَمْ یَزَلْ فِیْ مَقْتِ اللّٰہِ، أَوْ لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِکَةُ تَلْعَنُہ“(۳۱)
          ترجمہ:”جس کسی نے کوئی چیز فروخت کی،جس کے عیب پراس نے خریدارکوآگاہ نہیں کیا تھا، توووہ ہمیشہ اللہ کے غصہ میں رہے گا،یافرشتے ہمیشہ اس پرلعنت کرتے رہیں گے“۔
          اسی طرح اسلامی تعلیمات میں یہ بھی ہے کہ خریدوفروخت کرنے والابااخلاق ہو،نرم خوئی اس کی طبیعت میں رچی بسی ہوئی ہو،دورانِ معاملہ عزتِ نفس کادامن ہاتھ سے جانے نہ دے، ایسے افرادکے لیے زبانِ نبوت سے ان الفاظ میں دعاکے الفاظ واردہوئے ہیں:
          ”رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلاً سَمْحًا اذَا بَاعَ وَاذَا اشْتَریٰ وَاذَا اقْتَضٰی“(۳۲)
          ترجمہ: اللہ کی رحمت ہواس شخص پرجو درگزر کرنے والا ہو،جب کبھی بیچے،خریدے اورقرض کامطالبہ کرے۔
          ذیل میں ہم کچھ خدائی قیودات اوراخلاقی پابندیوں کاذکرکرتے ہیں:
ذخیرہ اندوزی کی ممانعت
          معیشت کے عمل کوصاف وشفاف رکھنے اوراجارہ داریوں سے حفاظت کے پیش نظراسلام نے ذخیرہ اندوزی(Hoarding)کواس کی تمام انواع واقسام کے ساتھ ممنوع قرار دیا ہے، اور اسلامی حکومت کواس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ ا س ملعون عمل کوروکنے کے لیے دخل اندازی کرے۔
          جوتاجرذخیرہ اندوزی کرکے مصنوعی قلت پیداکرے اورپھرمارکیٹ میں اپنامال اپنی مرضی کی قیمت پرفروخت کرے، اسے خطاکاراورملعون قراردیاگیاہے،ارشادِنبوی  صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
          ”مَنِ احْتَکَرَ یُرِیْدُ أنْ یَتَعَالٰی بِہَا عَلی الْمُسْلِمِیْنَ فَہُوَ خَاطِیٴٌ“(۳۳)
          ترجمہ: ”جس نے ذخیرہ اندوزی اس ارادہ سے کی کہ وہ اس طرح مسلمانوں پراس چیزکی قیمت چڑھائے وہ خطاکارہے“۔
          دوسری روایت میں ہے:
          ”اَلْجَالِبُ مَرْزُوْقٌ وَالْمُحْتَکِرُ مَلْعُوْنٌ“(۳۴)
          ترجمہ:”تاجرکو(اللہ تعالی کی طرف سے)رزق دیاجاتاہے اورذخیرہ اندوزی کرنے والا لعنتی ہے“۔
          اسلام کے قانونِ تجارت نے ذخیرہ اندوزی کی تمام ممکنہ صورتوں کوبھی مردود قرار دیا ہے، دورِحاضرمیں سرمایہ داربسااوقات کسی جنس کوممکن طورپرمارکیٹ سے خریدتے ہیں،یاپھروہ جنس صرف ان کے کارخانے اورمل میں بنتی ہے،اسے ذخیرہ کرلیتے ہیں،پھربعدازاں اپنی مرضی سے رسدوطلب میں عدمِ توازن قائم کرکے من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں،کچھ عرصہ قبل پاکستان میں آٹے اورچینی کابحران اس کی واضح مثالیں ہیں کہ حکمرانوں اورچندسرمایہ داروں کی ملی بھگت سے غریب ایک ایک لقمے کوترس گئے تھے۔
ذخیرہ اندوزی کی مہذب صورتیں
          موجودہ دورمیں ذخیرہ اندوزی کی درج ذیل مہذب صورتیں رائج ہیں:
(۱)شرکتِ قابضہ
          ایسی شرکت میں پیداواری کاروبارکے اکثرحصص حصہ دارہی خریدتے ہیں،لہٰذاوہ کسی شے یاخدمت کی پیداواری حداورقیمت اپنی مرضی سے معین کرتے ہیں اوریوں خریداروں کااستحصال کرتے ہیں۔
(۲)اوماج
          یہ ایک ایسااستحصالی طریقہ ہے جس میں چندکمپنیاں مل کرایک وحدت(Uonit)قائم کرتی ہیں، جس سے اشیاء کی پیداواراورقیمتوں پران کی اجارہ داری قائم ہوجاتی ہے ،وہ اپنی مرضی سے اشیاء کی پیداوارکوبڑھاتے اورگھٹاتے ہیں،مارکیٹ میں ضرورت کے باوجودصرف قیمتیں بڑھانے کے لیے اسے گوداموں میں اسٹاک کردیاجاتاہے اور قیمتیں چڑھ جانے کے بعد بیچا جاتا ہے۔
(۳)وحدتِ قیمت
          سرمایہ دارانہ نظام کی ”برکات“ میں سے یہ بھی ہے کہ چندمل مالکان یاکارخانہ دارمل کرکسی شے کی بازارمیں ایک قیمت طے کرلیتے ہیں،چوں کہ وہ شے ان کے علاوہ کوئی اورنہیں بناتا،تواس متعین قیمت سے کم پرکہیں اورسے دستیاب نہیں ہوتی،جس کی وجہ سے گاہک ان کی من مانی قیمت پرخریداری کرنے پرمجبورہوجاتاہے،یوں اس طرح سرمایہ دارعوام کااستحصال کرکے اپنے نفع کازیادہ سے زیادہ حصول ممکن بنالیتے ہیں۔
سودکی حرمت
          دنیاکے قدیم اورجدیدمعاشی نظریوں میں سودکومرکزی حیثیت حاصل ہے،سرمایہ دارانہ نظام نے پورے معاشی ڈھانچے اورکاروباری لین دین کوکچھ اس طرح ترتیب دیاہے کہ سودبین الاقوامی طورپرمعاملات میں جزولاینفک کی حیثیت اختیارکرچکاہے،معاشی تعلقات کے انفرادی اوراجتماعی پہلوممکن طورسے اس کینسرمیں مبتلاہوچکے ہیں۔
          سوداوراس کی تمام اقسام حتی کہ شبہ سودسے بھی مسلمانوں کومنع کیاگیاہے،مسلمان ہونے کے باوجودکسی کے لیے یہ ہرگزروانہیں کہ وہ سودی معاملات میں ملوث ہو،اللہ نے سودکی حرمت کونہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایاہے:
          ﴿وَأحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِبوا﴾(۳۵)       
          اس جرم میں ملوث افرادکوشدیدترین وعیدسنائی گئی ہے،قرآن مجیدمیں ارشادربانی ہے:
          ﴿یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمنوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَوا، انْ کُنْتُمْ مُوٴمِنِیْنَ، فَانْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہ﴾(۳۶)
          ترجمہ:”اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو،اورسودکی باقی (تمام رقم)چھوڑدو،اگرتم واقعی ایماندارہو،اوراگرتم نے ایسانہ کیا،تواللہ اوراس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو“۔
          سودی معاملات میں کسی بھی طرح ملوث ہونے والے پراللہ نے لعنت فرمائی ہے،اللہ کے رسول کاارشادہے:
          ”لَعَنَ اللّٰہُ آکلَ الرِبوا وَمُوْکِلَہ وَکَاتِبَہ وَشَاہِدَیْہِ، وَقَالَ: ہُمْ سَواء“(۳۷)
          ترجمہ:”اللہ نے سودخور،اورسودکھلانے والے اورسودی دستاویزلکھنے والے اوراس کی گواہی دینے والوں پرلعنت کی ہے،اورفرمایاکہ اللہ کی لعنت میں وہ سب برابرہیں“۔
سودی معاملات اورسودخواری کی شناعت وقباحت بیا ن کرتے ہوئے فرمایا:
          ”اَلرِّبَا سَبْعُوْنَ حَوْبًا أیْسَرُہَا نِکاحُ الرَّجُلِ أمَّہ“(۳۸)
          ترجمہ:”سودکے سترگناہ ہیں،(یعنی اس کے گناہ کے ستردرجے ہیں)اس کاکم تردرجہ آدمی کااپنی ماں سے ہمبستری کرناہے“۔
ملاوٹ سے ممانعت
          کسبِ معاش کی جدوجہدکے دوران حصولِ دولت کی بعض آسان راہیں بھی نکلتی ہیں،اشیاء صرف کی کوالٹی کوتبدیل کرکے گھٹیااورمعمولی شے کوصحیح داموں میں فروخت کرنا،ملاوٹ سے کام لینا عصرِحاضرمیں ہنراورنفع آوری کابہترین ذریعہ بن چکاہے،اسلام میں اس طرح کے عمل کونہایت قبیح اورانسانیت سوزقراردے کرممنوع قراردیاگیاہے،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاوٹ کرنے والوں کو انتہائی شدیدوعیدسنائی ہے:
          ”مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا“(۳۹)
          ترجمہ:”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں“۔
          مدینہ منورہ میں ایک بازارسے گزرتے ہوئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے غلہ کے ڈھیرکی نچلی سطح کو گیلا پاکر اس کے تاجرسے ارشادفرمایا:
          ”أَفَلَا جَعَلْتَہ فَوْقَ الطَّعَامِ کَیْ یَراہُ النَّاسُ“(۴۰)
          ترجمہ:”گیلی گندم کواس ڈھیرکے اوپرکیوں نہیں ڈالتا تاکہ لوگ اسے بہ آسانی دیکھ سکیں“۔
          بغیرعیب بتائے شے کوفروخت کرنے سے منع کیاگیاہے:ارشادنبوی ہے:
          ”لاَ یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِیْہِ بِیْعًا فِیْہِ عَیْبٌ الاَّ بَیَّنَہ (۴۱)
          ترجمہ:”کسی مسلمان کے لیے جائزنہیں کہ وہ بغیربتائے کسی عیب دارچیزکودینی بھائی کے ہاتھ فروخت کرے“۔
          غرض اسلام نے ملاوٹ اوردھوکہ دہی کے تمام چوردروازوں کوبندکرکے ایک مامون اورپاکیزہ معیشت کاماحول فراہم کیاہے۔
رشوت اورسٹہ بازی کی ممانعت
          آج کی معاشی زندگی میں رشوت معاشرہ کاایک جزولاینفک بن چکاہے،لوگ اسے آسان اورسہل ذرائع آمدنی میں شمارکرتے ہیں،اسلام نے اسے ان الفاظ میں ممنوع قراردیا:
          ”لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم الرَّاشِیْ وَالْمُرتَشِیْ“۔(۴۲)
          ترجمہ:”رشوت لینے اوردینے والے پراللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے لعنت فرمائی ہے“۔
          جوا،سٹہ ،قماربازی،شراب سازی وشراب فروشی،زنااورمحرکاتِ زنااوردیگرمخربِ اخلاق کام جن سے معاشرے کااخلاقی معیارپست ہوتاہے،اسلام ایسے ذرائع آمدنی ووسائلِ دولت کوکسبِ معاش کے اسباب کے طور پر اختیار کرنے سے منع فرماتا ہے، موجودہ دور میں لاٹری، ریس، سٹہ بازی کی مختلف صورتیں جنہیں جدیدترین سائنٹفک بنیادوں پررواج دیاگیاہے،وہ بھی اسلامی نقطئہ نظرسے ممنوع قرارپاتی ہیں،قرآن مجیدمیں ارشادباری تعالی ہے:
          ﴿انَّمَا الْخَمَرُ وَالْمَیْسِرُ وَالأنْصَابُ وَالأزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہ﴾(۴۳)
          ترجمہ:”بے شک شراب ،جوا،بت اور(پانسے)جوئے کے تیرسب ناپاک ہیں، اور کارِ شیطان ہیں،ان سے بچو“۔
اجرت زنا کی حرمت
          زناکاری کو بطورذریعہٴ معاش اپنانے سے منع کر تے ہوئے حضورِاکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے زناکاری کی اجرت کوناجائزقراردیا،حضرت ابومسعوانصاری فرماتے ہیں:
          ”انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم نَہٰی عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَمَہْرِ الْبَغْیِ وَحُلْوَانِ الْکَاہِنِ“(۴۴)
          ترجمہ:”رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کتے کی قیمت ،زناکی اجرت اورکہانت کامعاوضہ لینے سے منع فرمایاہے“۔
          اسی طرح فلم سازی،فلم فروشی ،ٹی وی،وی سی آراورجرائدکے ذریعہ مخربِ اخلاق ناظر اور لٹریچر کی ترویج واشاعت ،ڈانسنگ کلب اورتھیٹر،غیراخلاقی کام اورجانداروں کی تصویرسازی وغیرہ تمام مخربِ ایمان واخلاق ذرائعِ آمدن سے اسلام منع کرتاہے۔حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کاارشادگرامی ہے:
          ”انَّ اللّٰہَ اذا حَرّم شَیْئًا حَرَّمَ ثَمَنَہ (۴۵)
          ترجمہ:”اللہ تعالی نے جس چیزکوحرام کیاہے اس کی قیمت کوبھی حرام فرمایاہے“۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالی کا قول   
          حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
          ”زناکی اجرت خبیث ہے،اورآپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے کاہن کواجرت دینے اورمغنیہ کے کسب سے منع فرمایاہے،اس کی دوحکمتیں نظرآتی ہیں،ایک تویہ کہ ممنوعہ کسب اختیارکرنے سے لوگوں کو معصیت کی ترغیب ملتی ہے؛جبکہ اس مال کی حرمت اوراس سے انتفاع کی ممانعت لوگوں کواس برائی سے روکنے کاسبب بنتی ہے“۔
          چندسطروں کے بعدفرماتے ہیں:
          ”الإعَانَةُ فِی الْمَعْصِیَةِ وَتَرْوِیْجِہَا وَ تَقْرِیْبُ النَّاسِ الَیْہَا مَعْصِیَةٌ وَفَسَادٌ فِی الأرْضِ“(۴۶)
          ترجمہ:”گناہ کے کام میں معاونت اوراس کی ترویج اورلوگوں کوگناہ کے قریب کرنا(یعنی اس کاماحول فراہم کرنا)اللہ کی نافرمانی اورزمین پرفسادپھیلانے کاباعث ہے“۔
ناپ تول میں کمی کی حرمت
          ناپ تول میں کمی ایک ایسی لعنت ہے، جس میں آج کے لوگوں کی طرح بعض اممِ سابقہ کے تجار بھی مبتلاتھے،اللہ تعالیٰ نے ہرزمانے میں جب یہ قبیح عادت لوگوں میں رائج ہوئی تووقت کے نبی کے ذریعے اس کی مذمت کی،اوراس سے بازرہنے کاحکم دیا،سورئہ اعراف میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کواس قبیح حرکت سے بازرہنے کاحکم دیاگیاہے۔(۴۷)
          ناپ تول میں کمی یہ ایسامکروہ حیلہ ہے، جس کے ذریعے تاجرکم مال دے کرزیادہ دام وصول کرلیتے ہیں،قران مجیدمیں اس حوالے سے ارشادِباری تعالی ہے:
          ﴿وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِیْنَ، الَّذِیْنَ اذَا اکْتَالُوا عَلی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ، وَاذَا کَالُوا ہُمْ أَوْ وَزَنُوہُمْ یُخْسِرُوْنَ﴾(۴۸)
          ترجمہ: ”خرابی ہے گھٹاکردینے والوں کے لیے ،وہ لوگ کہ جب دوسروں سے مال لیں تو پورا پورالیں اورجب دوسروں کوناپ کریاتول کردیں توکم دیں“۔
          اسلام توناپ تول میں عدل وانصاف سے آگے بڑھ کرلوگوں کے ساتھ مزیداحسان کادرس دیتاہے ،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ا سی بات کی تعلیم دیتے ہوئے ارشادفرمایا:
          ”زِنْ وَأرْجِحْ“(۴۹)
          ترجمہ:”تول اورجھکتاتول“۔
          ناپ تول پوراپورادینے سے خوشگوارمعاشرتی نتائج برآمدہوتے ہیں،لوگ ایک دوسرے پر اعتمادکرنے لگ جاتے ہیں اورتعلقات میں بہتری پیداہوجاتی ہے،اسلام اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ سے اس بات کی تعلیم دیتاہواآیاہے کہ وہ نہ صرف ناپ تول میں عدل وانصاف سے کام لیں؛بلکہ مزیداحسان کرنے کواختیارکریں۔
معیشت سے متعلق اسلامی احکامات کاسیکھنا
          اس کے علاوہ معیشت کے اسلامی احکام میں خریدوفروخت سے متعلق عاقدین(معاملہ کرنے والے)کی اہلیت،رضامندی،خریدوفروخت میں اختیار،شرائط،بیع کی جملہ اقسام، مرابحہ، سلم،قبضہ کے مسائل،شرکت ومضاربت،قرض وتجارتی معاہدات حتی کہ غیرمسلموں سے بھی معاشی معاملات کے حوالے سے مکمل تفصیلات موجودہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کوسیکھ کرعمل کیاجائے؛ تاکہ ایک بہترین اورمتوازن معیشت وجودمیں آئے۔
          خیرالقرون کے زمانہ میں اس بات کاباقاعدہ اہتمام کیاجاتاتھاکہ لوگ معیشت سے متعلق اسلام کے احکامات کوسیکھنے کے بعدمارکیٹ اوربازارمیں آئیں،جولوگ اس حوالے سے اسلامی تعلیم سے بے بہرہ ہوتے انھیں بازارمیں خریدوفروخت کے لیے بیٹھنے سے منع کیاجاتاتھا،حضرت عمررضی اللہ عنہ سے یہی بات منقول ہے:
          ”کَانَ عُمَرُ بْنُ الْحَطَّابِ یَضْرِبُ بِالدُّرَّةِ مَنْ یَقْعُدُ فِی السُّوْقِ وَہُوَ لاَ یَعْرِفُ الأحْکَامَ وَیَقُوْلُ: لاَ یَقْعُدُ فِی سُوْقِنَا مَنْ لاَ یَعْرِفُ الرِّبا“(۵۰)
          ترجمہ:”حضرت عمررضی اللہ عنہ ایسے شخص کودرہ سے مارتے جو بازار میں آکر (خرید و فروخت)کے لیے بیٹھتا؛مگروہ ان کے احکام سے جاہل ہو،اورفرماتے:جوشخص ربا(سود)کے احکام نہیں جانتاوہ ہمارے بازارمیں نہ بیٹھاکرے“۔
          اس زمانے میں باقاعدہ محتسب(بازارکانگران) مقررکیاجاتا تھا،جوبازارمیں گھوم پھرکرمختلف دکانداروں سے بیع وشراء کے متعلق سوالات کرتا،اگرکسی کواحکام کاعلم نہ ہوتاتووہ اسے دکان سے اٹھادیتاتھا۔امام مالک رحمہ اللہ امراء کویہ ہدایت فرماتے تھے کہ وہ تجارکواکٹھاکرکے ان کے سامنے پیش کریں،آپ ان میں کسی کواس حوالے سے جاہل پاتے تواس سے ارشاد فرماتے: ”پہلے خریدوفروخت کے احکام سیکھو،پھربازارمیں آکربیٹھو“۔(۵۱)
          قارئینِ کرام!جب تک اسلامی خلافت وحکومت قائم تھی تومسلمانوں نے جیسے زندگی کے دیگر شعبوں میں قابلِ تقلیداوربے مثال کارنامے سرانجام دیے،ایسے ہی معیشت اورکفالتِ عامہ کے حوالے سے بھی ایسابھرپورکرداراداکیاکہ رہتی دنیاتک کوئی اس کی مثال پیش نہیں کرسکتا، مسلمان حکمرانوں اوراربابِ حل وعقدکی جہاں یہ کوشش ہوتی تھی کہ تجارمعیشت کے احکام سیکھ کر تجارت کریں؛تاکہ سوداوردیگرناجائزوحرام معاملات سے بچ سکیں،وہاں کفالتِ عامہ کاایساجامع نظام ترتیب دیاجس میں بلاکسی تخصیص واعتبارمعاشرے کے ہرفردکوکسی نہ کسی شکل میں اتناسامان معاش ہرحال میں ضرورمیسرہو،جس کے بغیرعام طورپرکوئی بھی انسان نہ اطمینان کے ساتھ جی سکتاہے اورنہ ہی اپنے متعلقہ فرائض وحقوق سرانجام دے پاتاہے۔(۵۲)
 معاشی مساوات
          ان حضرات نے اسلام کے دیے ہوئے مقدس اورپاکیزہ احکام کوعملی طورپرنافذکیا،جس کی وجہ سے ملکی اورقومی دولت کی گردش چنداغنیاء اوربڑے مالدارلوگوں تک محدودہونے کے بجائے معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچی،خصوصاًغرباء اورمستحقین کواس سے خوب مستفید ہونے کاموقع ملا،یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اسلام افرادمعاشرہ کے درمیان جس معاشی مساوات کوپیداکرناچاہتاہے وہ یہ نہیں کہ معاشرے کے تمام افراددولت وثروت میں یکساں اور برابر ہوں،جتنی دولت اوروسائل معاش ایک فردکے پاس ہوں،اتنے ہی دیگرتمام کے پاس بھی ہوں؛کیوں کہ ایسی مساوات خیالی دنیامیں توممکن ہے؛لیکن حقیقت کی دنیامیں ایسانہ توممکن ہے اور نہ ہی سنتِ الٰہیہ کے مطابق ؛کیوں کہ اللہ تعالی نے درجاتِ معیشت میں تفاوت کاجونظام قائم فرمایاہے،وہ اس کے ذریعے اپنے بندوں کوآزمارہے ہیں کہ کون اس کابندہ ہے اورکس نے مادے کوالٰہ بنایاہواہے۔
اسلام میں دولت کے بہاؤ کا رخ
          اسلام کے بتائے ہوئے اصول وضوابظ کے مطابق معیشت میں ہمیشہ دولت کا بہاؤ اوپر سے نیچے کی طرف رہتاہے،دولت وسرمایہ سمٹ کرچندمخصوص ہاتھوں میں کھلونا بننے کے بجائے معاشرے کے ہرفردکی پہنچ میں ہوتاہے،اگرکسی خطے میں بھی اسلامی نظامِ حکومت نافذ کردیا جائے، اورکفالتِ عامہ کے شعبوں میں سے صرف زکوة کاعمل ہی صحیح معنوں میں شروع ہوجائے، توسوفیصدیقین سے کہاجاسکتاہے کہ وہ خطہ ہرطرح کے افلاس اورمعاشی بدحالی سے پاک ہوجائے گا اورپھرسے قرونِ اولی کی یادتازہ ہوجائے گی کہ معاشرہ میں پھرزکوة کابھی کوئی محتاج نہیں رہے گا۔
اسلام میں معیشت وکفالتِ عامہ
          اسلام میں معیشت کے احکام کوجاننے اوراسلام میں کفالتِ عامہ کے تصورکوسمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن وحدیث اورفقہِ اسلامی میں مذکوربیوع اوراس کی اقسام،قرض،سود،لین دین، ہبہ،عاریت، مضاربت،شرکت، مزارعت،پانی کے احکام،زمینوں کے احکام،زکوة کی فرضیت، وصولی اورتقسیم کے مسائل،غنائم ،فئ،خراج اورجزیہ کے احکام،تقسیمِ دولت، وراثت، حلال وحرام،اجارہ ،احتکارواکتنازکی ممانعت،ضرائب ونوائب،صدقات نافلہ اوران سے متعلقہ دیگر تمام مضامین کابغورمطالعہ کریں؛تاکہ علی وجہ البصیرة مذکورہ نظام کوسمجھاجاسکے ،اس فقہی معاشی خزانہ کے علاوہ مسلمان علماء کرام نے اس حوالے سے مستقل تصانیف بھی چھوڑی ہیں،جواپنی جامعیت کے اعتبارسے مختلف مسائل کاحل بتاتی ہیں،افسوس !صدافسوس!کہ ان کتب کاترجمہ یورپ کے مستشرقین اپنی اپنی زبانوں میں کرکے ان سے استفادہ کررہے ہیں،اورہم مسلمان اپنے اس وقیع علمی ورثے سے غافل ہیں۔
          ان گراں قدرکتب میں سے چندیہ ہیں:
          (۱) کتاب الأموال:حمیدبن رنجویہ اورابوعبیدقاسم بن سلام رحمہم اللہ کی ایک ہی عنوان سے الگ الگ تصنیف ہے۔
          (۲) کتاب الخَراج:امام ابویوسف اوریحییٰ بن آدم القرشی رحمہم اللہ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔
          (۳) الأحکام السلطانیة:ابوالحسن علی بن حبیب البصری اورابویعلی محمدبن حسین الفراء کی بیش بہااورمستندکتب ہیں۔(۵۳)
          اسلام جواپنی حقانیت اورسچائی کی وجہ سے مختصرسے عرصے میں جزیرئہ عرب سے نکل کر سارے عالم پرچھاگیااورہزاروں سال تک دنیاپرحکمرانی کی،لوگوں کوہدایت کی راہیں دکھائیں، زندگی کے تمام شعبوں میں بہترین قابلِ تقلیدکارنامے انجام دیے،باطل روزِاول سے ہی اس سے نالاں تھا،اس نے ہرممکن کوشش اورسازش کے ذریعہ یہ چاہاکہ اسلام کامقدس نظامِ زندگی خطہ ارض پرنافذ نہ رہے،وگرنہ لوگ اسلام کے نظامِ زندگی کے محاسن کی وجہ سے نہ صرف دیگرتمام باطل نظاموں کوٹھکرادیں گے؛بلکہ خود مذہبِ اسلام کے پیروکار بن بیٹھیں گے ،ساتویں صدی عیسوی میں وجودمیں آنے والے نظامِ زندگی کومٹانے کے لیے دنیانے کیاکیانہ کیا!!،تاریخ کاہرادنی طالب علم اس سے پوری طرح واقف ہے۔
          افسوس! خلافت کے زوال کے بعدسے دنیائے باطل کواس بات کابھرپورموقع ملاکہ وہ اسلام اوراس کے پاکیزہ نظام کے خلاف کھل کرپروپیگنڈہ کرے،اوراسے ایک ناقص اورپرانے زمانے کانظام قراردے،خاص کرمعاشیات کے شعبے میں نئے نظریات متعارف کرواکے اس نے انسانیت کوجس دردناک عذاب میں مبتلاکیاہے، اس کاصرف اورصرف ایک ہی حل ہے اوروہ اسلامی نظامِ حکومت یعنی خلافت ہے۔
فقدان ِخلافت کے نقصانات
          اب چوں کہ بدقسمتی سے اور بوجہ شامتِ اعمال ہمارے سامنے کوئی ایساماڈل اسلامی طرزِحکومت وخلافت کاموجودنہیں کہ جس میں زندگی کے دیگرشعبوں کی طرح معاش کانظام بھی عملی طورسے نافذہوتااورتمام طبقات کے لوگوں کی کفالتِ عامہ کاکوئی عملی مظہرسامنے موجود ہوتا، توہم عالمِ انسانیت کوبتادیتے کہ اسلام نے معیشت کے مسائل کا یوں حل بتایا ہے۔ خیر! اسلام چوں کہ قیامت تک کے لیے رہنمائی اوررہبری کرنے آیاہے،تواب ہم اسلام کے اصول وضوابط ہی کی روشنی میں موجودہ جدیدنظریات کوپرکھیں گے اوران کے صحیح اورغلط ہونے کافیصلہ کریں گے۔
          جدیدمعاشی نظریات میں بینک اورکمپنی کومرکزی حیثیت حاصل ہے،پھران دونوں سے سیکڑوں مسائل نے جنم لیاہے،ان میں سے ایک کریڈٹ کارڈاوراس طرح کے دیگرکارڈزکے ذریعے معاملات کانجام دیناہے۔
جدیدمعاشی نظریات سے پیداشدہ مسائل
          آج کی دنیاصنعتی انقلاب کے بعدتکنیکی اعتبارسے بہت آگے جاچکی ہے،تجارت اور سرمایہ کاری کی اس قدرجدیداورمتنوع شکلیں پیداہوچکی ہیں جن کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی، مثلا بینکنگ کانظام،کرنسی کانظام،موجودہ عالمی تجارت کانظام،کریڈٹ کارڈزکانظام،انشورنس اور تکافل، شیرز کی خریدوفروخت کانظام،اوران سب نظاموں کوچلانے کے لیے اداروں، فرموں اور کمپنیوں کانظام وغیرہ۔(۵۴)
          اس طرح کے تجارتی مسائل میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیاخریدی ہوئی شے پرقبضہ کرنے سے پہلے اس کوفروخت کیاجاسکتاہے یانہیں؟اوراس کامنافع حاصل کرناجائزہوگایانہیں؟آج قبضہ کے عنوان سے بہت سارے مسائل پیداہورہے ہیں،کیاچیک،ڈرافٹ،کریڈٹ کارڈ یا دوسری سنداتِ مالی کوقبضہ تصورکیاجائے گا،یانہیں؟یاکریڈٹ کارڈکے ذریعہ ادائیگی کوفوری قبضہ تسلیم کیاجائے گایانہیں؟بین الاقوامی تجارت میں آج زیادہ ترمعاملات،فیکس اورای میل کے ذریعے انجام پارہے ہیں،کروڑہاکروڑ روپے کے معاملات اور لین دین طے پاتے ہیں؛جب کہ ہر دو فریق ہزارہامیل کی دوری پرہوتے ہیں،اسی طرح ایک ملک کاتاجردوسرے ملک میںLC (سندِاعتماد) کھلواکرکاروبارکرتاہے،دوسرے ملک کاتاجرمال کاشمپنٹ (Shipment) کرتا ہے اورقبل اس کے کہ مال خریدارتک پہنچے،خریداریہ محسوس کرتے ہوئے کہ بازارمیں تیزی آچکی ہے،اگرمیں ابھی اس مال کوفروخت کرڈالوں تومجھے زیادہ نفع ملے گا،وہ اس مال کواپنے قبضہ میں آنے سے قبل ہی( جب کہ مال راستہ میں ہوتاہے)،فروخت کرڈالتاہے۔(۵۵)
          عصرِ حاضر میں ان تمام جدیدصورتوں میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے، معاملات میں عدل وقسط کی رعایت کم سے کم ،یامعدوم ہے اورغرراوردھوکہ عام ہے ،نہ ذہنوں میں خدا کاتصورہے،نہ آخرت کی جواب دہی کی فکر؛اس لیے تجارت کے رائج طریقوں میں صرف مادی اورنقدنفع مطلوب رہ گیاہے۔(۵۶)
          ایک متوازن معاشی نظام کو وجود دینے کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی نظامِ خلافت قائم کیا جائے اور معیشت سے متعلق تمام اسلامی احکامات کو عملی شکل دی جائے۔
حوالہ جات
(۲۹)       النساء:۱۔
(۳۰)      البخاری،الجامع الصحیح،کتاب الإیمان،باب من الإیمان أن یحب لآخیہ مایحب لنفسہ۔(رقم الحدیث:۱۳)
(۳۱)       القزوینی، أبوعبداللہ محمدبن یزید،سنن ابن ماجہ،کتاب التجارات،باب من باع عیبافلیبینہ(رقم الحدیث: ۲۲۴۷) : ۳/۵۷۸، دارالجیل،بیروت ۱۴۱۸ھ۔
(۳۲)      البخاری،أبوعبداللہ محمدبن اسماعیل ،الحامع الصحیح،کتاب البیوع،باب:السمولة والسماحة فی الشراء،والبیع ومن طلب حقافلیطلبہ فی عفاف،(رقم الحدیث :۲۰۷۵) ، ص:۴۱۲،دارالکتاب العربی۔
(۳۳)      النیسابوری،ابوعبد اللہ محمد بن عبداللہ الحاکم،المستدرک علی الصحیحین،کتاب البیوع،(رقم الحدیث:۲۲۱۱،:۲/۱۴۵،قدیمی کراچی۔
(۳۴)      القزوینی،ابوعبد اللہ محمد بن یزید،سنن ابن ماجہ،کتاب التجارات،باب الحکرةوالجلب(رقم الحدیث: ۲۱۵۳): ۳/۵۱۸، دار الجیل،بیروت ۔
(۳۵)      البقرة:۲۷۵۔
(۳۶)      البقرة:۲۷۸۔
(۳۷)      القشیری،أبوالحسن مسلم بن حجاج ،صحیح مسلم،کتاب المساقاة،باب لعن آکل الربوا وموکلہ،(رقم الحدیث:۴۰۹۳)، ص:۶۹۷، دارالسلام،الریاض۔
(۳۸)      العبسی،أبوبکرعبداللہ بن محمدبن أبی شیبہ،المصنف،کتاب البیوع والأقضیة،(رقم الحدیث:۲۲۴۳۷):۱۱/۳۱۹،المجلس العلمی ۱۳۲۷ھ۔
(۳۹)       القشیری،أبوالحسین مسلم بن مسلم بن الحجاج بن مسلم ،صحیح مسلم،کتاب الإیمان،باب قول النبی  صلی اللہ علیہ وسلم :من غش فلیس منا، (رقم الحدیث:۲۸۳)، ص:۵۷، دارالسلام،الریاض ۱۴۱۹ھ۔
(۴۰)      حوالہٴ سابق۔
(۴۱)       القزوینی،أبوعبداللہ محمدیزید،سنن ابن ماجہ،کتاب التجارات،باب من باع عیبافلیبینہ(رقم الحدیث:۲۲۴۶): ۳/۵۷۸، دارالجیل ،بیروت۔
(۴۲)      الترمذی،أبوعیسی محمدبن عیسی بن سورة،سنن الترمذی،کتاب الأحکام،باب ماجاء فی الراشی والمرتشی فی الحکم،(رقم الحدیث: ۱۳۳۷): ۲/۳۳۵،دارالکتب العلمیة،۱۴۲۱ھ۔
(۴۳)      المائدہ:۹۰۔
(۴۴)      النسائی،أباعبدالرحمن أحمدبن شعیب،سنن النسائی،کتاب الصید والذبائح،النہی عن ثمن الکلب (رقم الحدیث: ۴۳۰۳) الجزء الرابع:۴/۲۱۵،دارالمعرفة،بیروت ۱۴۲۲ھ۔
(۴۵)      الدارمی،أبوحاتم محمدبن حبان بن أحمدبن حبان،صحیح ابن حبانةکتاب البیوع،ذکرالخبرالدال علی أن بیع الخنازیروالکلاب محرم ولایجوزاستعمالہ،(رقم الحدیث:۴۹۳۸):۱۱/۳۱۳،مؤسسة الرسالة۔
(۴۶)      الدہلوی،أحمدبن عبدالرحیم شاہ ولی اللہ،حجةاللہ البالغة،باب البیوع المنہی عنہا،وجوہ کراہیة البیوع:۲/۲۸۸،زمزم پیلشرز کراتشی۔
(۴۷)      الأعراف:۸۵۔
(۴۸)      المطففین:۱،۳۔
(۴۹)       القزوینی،أبوعبداللہ محمدبن یزید،سنن ابن ماجة،کتاب التجارات،باب الرحجان فی الوزن(رقم الحدیث: ۲۲۲): ۳/۵۶۲، دارالجیل ،بیروت ۱۴۱۸ھ۔
(۵۰)      الکتانی،عبدالحی،نظام الحکومة النبویة المسمی ب”التراتیب الإداریة،القسم التاسع،حتی یتعلموا أحکامہ وآدابہ وماینجی من الربا: ۲/۱۸،دارالکتاب العربی،بیروت۔
(۵۱)       حوالہٴ سابق:۲/۱۹۔
(۵۲)      مروجہ تکافل کاجائزة،مفتی محمد راشد ڈسکوی،باب اول،اسلام کانظام کفالت،ص:۱۰،دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی، غیرمطبوع۔
(۵۳)      تفصیلی تعارف کے لیے دیکھیئے:اسلام کامعاشی نظام،ڈاکٹرنورمحمدغفاری،اسلامی معاشیات کے مصادر ومراجع: ۴۳-۵۷، مرکزتحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری،لاہور۱۹۹۴ء۔
(۵۴)      شیئرزکی شرعی حیثیت اوراس کے احکام،مقدمہ، ص :۱،۲،دارالإفتاء جامعہ فاروقیہ کراچی،غیرمطبوع ۔
(۵۵)      جدیدتجارتی شکلیں،مولانامجاہدالاسلام قاسمی صاحب،ابتدائیہ،ص:۷،۸ ادارة القرآن والعلوم الإسلامیة،کراچی۔
(۵۶)      حوالہٴ سابق۔
***


 


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت تاجر



کائنات میں بسنے والے ہر ہر فرد کی کامل رہبری کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے رحمة للعالمین حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، سب سے آخر میں بھیج کر، قیامت تک کے لیے آنجناب کے سر پر تمام جہانوں کی سرداری ونبوت کا تاج رکھ کر اعلان کر دیا گیاکہ اے دنیا بھر میں بسنے والے انسانو! اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر اور پُرسکون بنانا چاہتے ہو تو تمہارے لیے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلمکی مبارک ہستی میں بہترین نمونہ موجود ہے(الاحزاب:۲۱) ان سے رہنمائی حاصل کرو اور دنیا وآخرت کی ابدی خوشیوں اور نعمتوں کو اپنا مقدر بناوٴ، گویا کہ اس اعلان میں دنیا میں بسنے والے ہر ہر انسان کو دعوت ِعام دی گئی ہے کہ جہاں ہو، جس شعبے میں ہو، جس قسم کی رہنمائی چاہتے ہو، جس وقت چاہتے ہو، تمہیں مایوسی نہ ہو گی، تمہیں تمہاری مطلوبہ چیز سے متعلق مکمل رہنمائی ملے گی، شرط یہ ہے کہ تم میں طلبِ صادق ہو، چنانچہ! تاجر ہو یا کاشتکار،شریک ہو یا مضارب، مزدور ہو یا کوئی بھی محنت کَش، ماں ہو یا باپ، بیٹا ہو یا بیٹی، میاں ہو یا بیوی، مسافر ہو یا مقیم، صحت مند ہو یا مریض، شہری ہو یا دیہاتی، پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ؛ اگر وہ چاہے کہ میرے لیے میرے شعبے میں رہنمائی ملے، تو اس کے لیے جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہستی میں نمونہ موجود ہے، مذکورہ آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے سامنے جنابِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو لا کھڑا کیا ہے کہ میرے اس محبوب کو دیکھو، تمہیں ہر چیز ملے گی، اپنے سے متعلق روشنی حاصل کرو اور اس پر عمل پیرا ہو کر اللہ کے محبوب بن جاوٴ، تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تشریح میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”ھٰذہ الآیة الکریمة أصلٌ کبیرٌ في التأسّي برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في أقوالہ، وأفعالہ، وأحوالہ“ (تفسیر ابن کثیر، سورة الأحزاب:۳۱، ۶/۳۹۱)
کہ یہ آیت کریمہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کی اتباع کرنے میں بہت بڑی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
      یہی وجہ ہے کہ علماء امت نے امتِ محمدیہ کی آسانی اور سہولت کی خاطر جنابِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے ہر ہر پہلو کو پوری طرح واضح کرنے کے لیے خوب سے خوب محنت کی، بے شمار کتب تصنیف کیں؛ تا کہ کوئی بھی شخص اپنے شعبے سے متعلق جنابِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کو دیکھنا چاہے تو اسے بغیر دقّت کے آپ علیہ الصلاة والسلام کی تعلیمات معلوم ہو سکیں، جنابِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنا نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر حق بھی ہے، اور محبت کا تقاضا بھی، اور یہ بات بھی پوری طرح واضح رہنی چاہیے کہ یہ حق اور تقاضا صرف ماہِ ربیع الاول کے پہلے بارہ دن یاپورے مہینے کے لیے ہی نہیں؛ بلکہ پوری زندگی اور زندگی کے ہر ہر لمحے کے لیے ہے۔
      ان سطور سے مقصود نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیاتِ طیبہ کو سمیٹنا نہیں ہے؛ بلکہ صرف آپ علیہ الصلاة والسلام کی سیرتِ طیبہ سے تجارت کے پہلو کو واضح کرنا مقصود ہے،آپ علیہ الصلاة والسلام نے تجارت کا پیشہ اپنایا اور رزقِ حلال سے اپنی زندگی کا رشتہ اُستوار رکھا، نبوت کے اس پہلو کو سمجھنے کے لیے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کے دو حصے ہیں، ایک: نبوت ملنے سے قبل کا اوردوسرا: نبوت ملنے کے بعد کا، اول الذکر کا دورانیہ چالیس سال ہے اور ثانی الذکر کادورانیہ تیئس سال، اس دوسرے حصے کے پھر دو حصے ہیں، ایک: مکی دور اور دوسرا: مدنی دور۔
نبوت سے قبل کی معاشی کیفیت
نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوت سے پہلے والا دور مالی اور معاشی اعتبار سے کوئی خوش الحال دور نہیں تھا؛ لیکن اس کے برعکس یہ کہنا بھی درست نہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی زیادہ مفلوک الحال زندگی بسرکر رہے تھے؛ البتہ یہ ضرور تھا کہ آنجناب بچپن سے ہی محنت ومشقت کر کے اپنی مدد آپ ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کا ذہن رکھتے تھے۔
والد کی طرف سے ملنے والی میراث
 جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی تو آپ کے سرسے والد کا سایہ اٹھ چکا تھا، ان کی طرف سے بطورِ میراث بھی کوئی جائیداد آپ کی طرف منتقل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ کتب ِ سیرت میں اس کی تفصیل میں صرف یہ منقول ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو میراث میں صرف پانچ اونٹ، چند بکریاں اور ایک باندی ملی، جس کا نام ”ام ایمن“ تھا، (اس باندی کو بھی جنابِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے وقت یعنی: پچیس سال کی عمر میں آزاد کر دیا تھا) اس کے علاوہ مزید کوئی چیز میراث میں نہ ملی تھی، ملاحظہ ہو:
”ترک عبدُ اللّٰہ بنُ عبدِ المطلب أمَ أیمنَ وخمسةَ أحمالِ أوارکَ، یعني: تأکل الأراک، وقطعة غنم، فورث ذٰلک رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم “ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ذکر وفات عبد اللہ بن عبد المطلب: ۱/۸۰)
      میراث میں ملنے والی اشیاء اس قابل نہ تھیں کہ آپ کی کفالت کے لیے کافی ہو جاتی، یہی وجہ تھی کہ دیہاتی علاقوں سے آکر جو عورتیں بچوں کو پرورش اور تربیت کے لیے لے جایا کرتی تھیں، آپ علیہ الصلاة والسلام کی طرف ان میں سے کسی کا بھی رجحان آپ کی طرف نہیں ہوا کہ یہ تو یتیم اور غریب بچہ ہے،اس کی پرورش کرنے پر ہمیں اس کی والدہ کی طرف سے کچھ خاص معاوضہ نہ مل سکے گا، اور حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے جو آپ علیہ الصلاة والسلام کا انتخاب کیا تھا، وہ بھی ابتداء نہیں کیا تھا؛ بلکہ جب ان کے لیے کوئی اور بچہ نہ بچا ، تو پھر ان کو خیال آیا چلو خالی ہاتھ واپس جانے کے بجائے اس یتیم بچے کو ہی لے جانا چاہیے۔
دادا اور چچا کی کفالت میں
      ان ابتدائی دو سالوں میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت آپ کے دادا عبد المطلب کرتے رہے، دو سال کے بعد آپ کے دادا بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے، دادا کے انتقال کے بعد آپ کے چچا ابو طالب نے آپ کی کفالت اپنے ذمہ لے لی، ابو طالب آپ کے حقیقی چچا تھے، جو بہت ہی ذوق وشوق اور محبت سے آپ کی پرورش کرتے رہے اور آپ کی ضروریات پوری کرنے کی اپنی مقدور بھر سعی کرتے رہے؛ چنانچہ ! آپ کے چچا جب تجارت کی غرض سے دوسرے شہروں میں جاتے تو اپنے بھتیجے کو بھی ہمراہ لے جاتے۔
بکریاں چرانا
مکہ مکرمہ میں حصولِ معاش کے لیے عام طور پر گلہ بانی اور تجارت عام تھی؛ چنانچہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ کی ابتداء میں ہی اپنے معاش کے بارے میں از خود فکر کی، ابتداء ً اہلِ مکہ کی بکریاں اجرت پر چراتے تھے، بعد میں تجارت کا پیشہ بھی اختیار کیا، اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں تھی؛ بلکہ یہ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور تواضع کی کھلی دلیل ہے؛ اس لیے کہ بکریاں چرانے والے شخص میں جفاکشی، تحمل وبردباری اور نرم دلی پیدا ہو جاتی ہے؛ اس لیے کہ بکریاں چرانا معمولی کام نہیں ہے؛ بلکہ بہت ہی زیادہ ہوشیاری اور بیدار مغزی والا کام ہے؛ اس لیے کہ بکریاں بہت کمزور مخلوق ہوتی ہیں، تیز اور پھرتیلی ہوتی ہیں، انھیں قابو میں رکھنے کے لیے بھی خوب پھرتی کی ضرورت ہوتی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس جانور کے قابو سے باہر ہونے کی صورت میں ان پر غصہ اتارنا بھی ممکن نہیں، یعنی: غصہ کی وجہ سے مار بھی نہیں سکتے؛ کیونکہ وہ کمزور ہوتی ہیں، اس بنا پر بکریاں چرانے والوں میں کافی تحمل پیدا ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے بکریاں چرائی ہیں، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ما بعث اللہ نبیاً إلّا رعیٰ الغنمَ، فقال أصحابُہ: وأنتَ؟ فقال: نعم! کنتُ أرعاھا علیٰ قَراریط لأھلِ مکةَ (صحیح البخاري، کتاب الإجارات، باب رعی الغنم علی قراریط، رقم الحدیث:۲۲۶۲)
نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ نے جو بھی نبی بھیجا، اس نے بکریاں ضرور چرائیں، صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ نے بھی ؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں! میں بھی مکہ والوں کی بکریاں قراریط پر چراتا تھا۔
”قراریط“ سے کیا مراد ہے؟ اس میں اختلاف ہے ، بعض کا قول یہ ہے کہ یہ درہم یا دینار کے ایک ٹکڑے کا نام ہے، اس صورت میں مطلب یہ بنے گا کہ کچھ قراریط کے عوض بکریاں چرائیں، اور بعض کا قول ہے کہ یہ مکہ مکرمہ کے ایک محلہ ”جیاد“کا نام ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ مقام قراریط میں بکریاں چرائیں، علامہ ابن ملقن رحمہ اللہ نے اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ یہ ایک جگہ کا نام ہے۔(التوضیح لشرح الجامع الصحیح ، کتاب الإجارات، باب رعی الغنم، رقم الحدیث: ۲۲۶۲، ۱۵/ ۳۵، ۳۶)
اسی طرح ایک بار نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ جنگل تشریف لے گئے، صحابہ بیریاں توڑ توڑ کر کھانے لگے، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو خوب سیاہ ہوں وہ کھاوٴ، وہ زیادہ مزے کی ہوتی ہیں، یہ میرا اس زمانے کاتجربہ ہے، جب میں بچپن میں یہاں بکریاں چرایا کرتا تھا۔ (صحیح ابن حبان، کتاب الإجارة، ذکر العلة التي من أجلھا قال صلی اللہ علیہ وسلم للکباث الأسود: إنہ أطیب من غیرہ، رقم الحدیث: ۵۱۴۴، ۱۱/۵۴۴)
ملک ِ شام کی طرف پہلا سفر  
      نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف دو سفر کیے، پہلا: اپنے چچا کے ہمراہ؛ لیکن اس سفر میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم بطورِ تاجر شریک نہ تھے؛بلکہ محض تجارتی تجربات حاصل کرنے کے لیے آپ کے چچا نے آپ کو ساتھ لیا تھا، اسی سفر میں بحیرا راہب والا مشہور قصہ پیش آیا، جس کے کہنے پر آپ کے چچا نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو حفاظت کی خاطر مکہ واپس بھیج دیا۔ (الطبقات الکبریٰ، ذکر أبي طالب وضمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلیہ، وخروجہ معہ إلی الشام في المرة الأولی۱/۹۹)
ملکِ شام کی طرف دوسرا سفر
اور دوسرا سفر: آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تاجر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامان لے کر اجرت پر کیا۔قصہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پچیس برس کے ہوگئے تو آپ کے چچا ابو طالب نے کہا کہ اے بھتیجے! میں ایسا شخص ہوں کہ میرے پاس مال نہیں ہے، زمانہ کی سختیاں ہم پر بڑھتی جا رہی ہیں، تمہاری قوم کا شام کی طرف سفر کرنے کا وقت قریب ہے، خدیجہ بنت خویلد اپنا تجارتی سامان دوسروں کو دے کر بھیجا کرتی ہے، تم بھی اجرت پر اس کا سامان لے جاوٴ، اس سے تمہیں معقول معاوضہ مل جائے گا، یہ گفتگو حضرت خدیجہ کو معلوم ہوئی تو اس نے خود آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیج کر بلوایا کہ جتنا معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں، آپ کو اس سے دوگنا دوں گی، اس پر ابو طالب نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ یہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہاری جانب کھینچ کر بھیجا ہے، اس کے بعد آپ  صلی اللہ علیہ وسلم قافلے کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے، آپ کے ہمراہ حضرت خدیجہ کا غلام ”میسرہ “بھی تھا، جب قافلہ شام کے شہر بصریٰ میں پہنچا تو وہاں نسطورا راہب نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم میں نبوت کی علامات پہچان کر آپ کے نبی آخر الزمان ہونے کی پیشین گوئی کی۔
دوسرا اہم واقعہ یہ پیش آیا کہ جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی سامان فروخت کر لیا تو ایک شخص سے کچھ بات چیت بڑھ گئی، اس نے کہا کہ لات وعزیٰ کی قسم اٹھاوٴ، تو آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مَا حَلَفْتُ بِھِمَا قَطُّ، وَإنّي لَأَمُرُّ فَأَعْرِضُ عَنْھُمَا“․میں نے کبھی ان دونوں کی قسم نہیں کھائی، میں تو ان کے پاس سے گذرتے ہوئے ان سے منہ موڑلیتا ہوں۔اس شخص نے یہ بات سن کر کہا، حق بات تو وہی ہے، جو تم نے کہی، پھر اس شخص نے میسرہ سے مخاطب ہو کر کہا: ”ھٰذا وَاللّٰہِ نَبِيٌ، تَجِدُہ أَحْبَارُنَا مَنْعُوْتاً فِيْ کُتُبِھِمْ“۔خدا کی قسم یہ تو وہی نبی ہے، جس کی صفات ہمارے علماء کتابوں میں لکھی ہوئی پاتے ہیں۔
تیسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ میسرہ نے دیکھا کہ جب تیز گرمی ہوتی تودو فرشتے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کر رہے ہوتے تھے، یہ سب کچھ دیکھ کر میسرہ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ہی زیادہ متاثر تھا، واپسی میں ظہر کے وقت جب واپس پہنچے تو حضرت خدیجہ نے اپنے بالاخانے میں بیٹھے بیٹھے دیکھا کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر بیٹھے اس طرح تشریف لا رہے تھے کہ دو فرشتوں نے آپ پر سایہ کیا ہوا تھا، حضرت خدیجہ اور ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی عورتوں نے یہ منظر دیکھ کر بہت تعجب کیا، اور پھر جب میسرہ کی زبانی سفر کے عجائب، نفعِ کثیر اور نسطورا راہب اور اس جھگڑا کرنے والے شخص کی باتیں سنیں تو بہت زیادہ متاثر ہوئیں، حضرت خدیجہ بہت زیادہ دور اندیش، مستقل مزاج، شریف، با عزت اور بہت مال دار عورت تھیں، انھوں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح کا پیغام بھیج کر نکاح کر لیا، اس وقت نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پچیس سال اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال تھی۔ (ملخّص من الطبقات الکبریٰ، ذکر خروج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی الشام في المرة الثانیة، ذکر تزویج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجة بنت خویلد۱/۱۰۷-۱۰۹)
یمن کی طرف دو سفر
جو تجارتی اسفار نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی وجہ سے کیے، ان میں دو سفر یمن کی طرف بھی تھے، امام حاکم رحمہ اللہ نے المستدرک میں نقل کیا ہے:
”استأجرتْ خدیجةُ رضوانُ اللّٰہ علیھا رسولَ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم سفرتین إلیٰ جُرَشَ، کل سفرةٍ بقَلوصٍ“ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفة الصحابة، ومنھم خدیجة بنت خویلد، رقم الحدیث۴۸۳۴، ۳/۲۰۰)
کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کو جرش (یمن کے ایک مقام)کی طرف دو بار تجارت کے لیے اونٹنیوں کے عوض بھیجا۔
بحرین کی طرف سفر
نبوت سے قبل آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے بحرین کی طرف سفر کرنے کا بھی اشارہ ملتا ہے، وہ اس طرح کہ جس طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرب کے تمام دور دراز مقامات سے وفود حاضر خدمت ہوتے رہے، انھیں وفود میں بحرین سے وفدِ عبد القیس بھی آیا، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ وفد سے بحرین کے ایک ایک مقام کا نام لے کر وہاں کے احوال دریافت فرمائے، تو لوگوں نے تعجب سے پوچھا، کہ اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم! آپ تو ہمارے ملک کے احوال ہم سے بھی زیادہ جانتے ہیں، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا: کہ ہاں میں تمہارے ملک میں خوب گھوما ہوں۔(ملاحظہ فرمائیں: مسند أحمد بن حنبل، بقیة حدیث وفد عبد القیس، رقم الحدیث: ۱۵۵۵۹، ۲۴/۳۲۷)
تجارتی اسفار میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائلِ حمیدہ
نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عمر مبارک کے پچیسویں سال تک تجارتی اسفار میں اپنے اخلاقِ کریمانہ، حسنِ معاملہ، راست بازی، صدق ودیانت کی وجہ سے اتنے زیادہ مشہور ہو چکے تھے کہ خلقِ خدا میں آپ ”صادق وامین “کے لقب سے مشہور ہو گئے تھے، لوگ کُھلے اعتماد کے ساتھ آپ کے پاس بے دھڑک اپنی امانتیں رکھواتے تھے، انھیں خصائل کی بنا پر حضرت خدیجہ بن خویلد رضی اللہ عنہا کی رغبت نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوئی تھی اور پیغام ِ نکاح بھیج دیا تھا۔
لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرنا
تجارتی معاملات کی کامیابی کے لیے معاملات کی صفائی اور لڑائی جھگڑے سے پرہیز اہم ترین کردار ادا کرتا ہے اور یہ صفات نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم میں بدرجہٴ اتم موجود تھیں؛ چنانچہ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم زمانہٴ جاہلیت میں میرے شریک ہوتے تھے، اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم شرکاء میں سے بہترین شریک تھے، نہ لڑائی کرتے تھے اور نہ ہی جھگڑا کرتے تھے۔ (الإصابة في تمییز الصحابة، القاف بعدھا الیاء، ۵/۴۷۱)
بحث وتکرار سے اجتناب
مسلمان تاجر کی صفات میں سے ایک صفت معاملات کے وقت شور شرابا اور آپس کی بے جا بحث وتکرار سے بچنا بھی ہے، اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وصف عظیم کی گواہی زمانہٴ نبوت سے پہلے بھی دی جاتی تھی؛ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری تعریف اور میرا تذکرہ کرنے لگے، تو آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہاری نسبت ان سے زائد واقف ہوں، میں نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ سچ فرماتے ہیں، آپ زمانہٴ جاہلیت میں میرے شریک ہوتے تھے، اور آپ کتنے بہترین شریک ہوتے تھے کہ نہ شور شرابا (بحث وتکرار) کرتے تھے اور نہ جھگڑا کرتے تھے۔ (سنن أبي داوٴد، کتاب الأدب، باب في کراھیة المراء، رقم الحدیث: ۴۸۳۸)
ایفائے وعدہ
وعدوں کی پاسداری تجّار کی بہت بڑی خوبی شمار ہوتی ہے، آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر یہ وصف کیسا تھا؟ اس بارے میں ”حضرت عبد اللہ بن ابی حمسآء رجی اللہ عنہ “ سے روایت ہے کہ میں نے نبوت ملنے سے قبل آپ سے خرید وفروخت کا ایک معاملہ کیا، خریدی گئی شئے کی قیمت میں سے کچھ رقم میرے ذمہ باقی رہ گئی، تو میں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ میں کل اسی جگہ آ کر آپ کو بقیہ رقم ادا کر دوں گا، پھر میں بھول گیا، اور مجھے تین روز بعد یاد آیا، میں اس جگہ گیا، تو دیکھا کہ جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ تشریف فرما ہیں، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے نوجوان! تم نے مجھے اذیت پہنچائی، میں تین دن سے اسی جگہ پر تمہارا منتظر ہوں۔ (سنن أبي داوٴد، کتاب الأدب، باب في العدة، رقم الحدیث: ۴۹۹۸)
نبوت کے بعد معاشی صورتِ حال
جناب ِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت مل جانے کے بعد حصول معاش کے لیے کچھ کیا یا نہیں؟ اس بارے میں بالاتفاق قولِ فیصل یہ ہے کہ بعثت کے بعد آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محنت اور توجہ صرف اور صرف احیائے دینِ متین کی طرف مبذول کر دی تھی، بعثت کے بعد آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی قسم کی معاشی مشغولیت کا ثبوت نہیں ملتاہے؛ البتہ ! دین کے دیگر شعبوں کی طرف راہنمائی کی طرح اس شعبے کی بھی بہت واضح اور تفصیلی انداز میں راہنمائی کی، اس میدان سے کامیابی کے ساتھ گذرجانے والوں کو جہاں بہت بڑی بڑی بشارتیں سنائیں تو وہاں اس میدان کے چور، ڈاکووٴں اور خائنوں کو وعیدیں سنا سنا کر انھیں لوٹ آنے کی طرف بھی متوجہ کیا، نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کا جائزہ لیا جائے تو عبادت کے احکام اور معاملات کے احکام میں ایک اور تین کی نسبت نظر آئے گی، یعنی : عبادات سے متعلق احکام ایک ربع اور معاملات سے متعلق احکام تین ربع ملیں گے؛ چنانچہ کتبِ فقہ میں اہم ترین کتاب” ہدایہ “کو دیکھ لیا جائے کہ اس کی چار ضخیم جلدوں میں سے صرف ایک جلد عبادات کے بارے میں ہے اور تین جلدیں معاملات کے بارے میں ہیں، اسی سے شعبہٴ معاملات کی اہمیت کا اندازہ کر لیا جائے۔
ایک غلط ذہن کی اصلاح
موجودہ دور میں ایک طبقہ کم عقلی اور کم علمی کی وجہ سے یہ ذہن رکھتاہے کہ محنت کرنے اور کمانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ تو رزق دینے میں ہماری محنت کے محتاج نہیں ہیں، وہ ایسے بھی دینے پر قادر ہیں، لہٰذا ہمیں کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، ہم تو اعمال کے ذریعے اللہ سے لیں گے، اسباب کے ذریعے نہیں۔
تو اس بارے میں اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ ایک ہے اسباب کا اختیار کرنا اور انھیں استعمال کرنا، اور ایک ہے ان اسباب کو دل میں اتارنا، اور ان پر یقین رکھنا؛ پہلی چیز کو اپنانا محمود اور مطلوب ہے اور دوسری چیز کو اپنانا مذموم ہے، ہماری محنت کا رُخ یہ ہونا چاہیے کہ ہم ان اسباب کی محبت اور یقین دل سے نکالیں اور اس کے برعکس یقین اللہ تعالیٰ پر رکھیں کہ ہماری ہر طرح کی ضروریات پوری کرنے والی ذات؛ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، وہ چاہے تو اسباب کے ذریعے ہماری حاجات وضروریات پوری کر دے اور چاہے تو ان اسباب کے بغیر محض اپنی قدرت سے ہماری ضروریات وحاجات پوری کر دے، وہ اس پر پوری طرح قادر اور خود مختار ہے؛ البتہ ہم دنیا میں اسباب اختیار کرنے کے پابند ہیں؛ تاکہ بوقتِ حاجت وضرورت ہماری نگاہ وتوجہ غیر اللہ کی طرف نہ اٹھ جائے۔
اس بات میں تو کوئی شک وشبہ ہے ہی نہیں کہ اللہ رب العزت ہماری محنتوں کے محتاج نہیں ہیں؛ لیکن کیا شریعت کا مزاج اور منشا بھی یہی ہے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں، بالخصوص جب اس ترکِ اسباب کا نتیجہ یہ نکلتا ہو کہ بیوی، بچوں اور والدین کے حقوق تلف ہوتے ہیں اور یہ غیروں کے اموال کی طرف حرص وہوس کے ساتھ دیکھتا رہتا ہے، تو یاد رکھیں کہ اس طرح کے لوگوں کو شریعت اس طرزِ عمل کی تعلیم نہیں دیتی؛ بلکہ سیرتِ نبوی اور سیرتِ صحابہ تو حلال طریقے سے کسب ِ معاش کی تعلیم دیتی ہے، ایسے بے شمار واقعات ہیں جن سے یہ سبق ملتا ہے کہ کماکر کھاوٴ، دوسرے کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاوٴ، یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ تونگری کی وجہ سے آج کے دور میں ہمارا دین وایمان محفوظ رہے گا، ورنہ اندیشہ ہے کہ اختیاری فقر وفاقہ کہیں کفر وشرک کے قریب ہی نہ لے جائے۔ہاں! اولیاء اللہ اور یقین و توکل کے اعلیٰ درجہ پر فائض لوگوں کا معاملہ اور ہے۔
حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کی ذریں نصائح
حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گذشتہ زمانہ میں مال کو بُراسمجھا جاتا تھا؛ لیکن جہاں تک آج کے زمانہ کا تعلق ہے تو اب مال ودولت مسلمانوں کی ڈھال ہے، حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایاکہ اگر یہ درہم ودینار اور روپیہ پیسہ نہ ہوتا تو یہ سلاطین وامراء ہمیں رومال بناکر ذلیل وپامال کر ڈالتے، نیز! انہوں نے فرمایا: کسی شخص کے پاس اگر تھوڑا بہت بھی مال ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کی اصلاح کرے؛ کیوں کہ ہمارا یہ زمانہ ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی محتاج ومفلس ہو گا تو اپنے دین کو اپنے ہاتھ سے گنوانے والا سب سے پہلا شخص وہی ہو گا۔ (حلیة الأولیاء طبقات الأصفیاء، سفیان الثوري، ۶/ ۳۸۱)
توضیحات شرح مشکاة میں لکھا ہے: پچھلے زمانہ میں مال ودولت کو ناپسند کیا جاتا تھا، موٴمن اورمتقی حضرات مال کو مکروہ سمجھتے تھے؛ کیوں کہ عام ماحول زہد وتقویٰ کا تھا، لوگ غریب و فقیر کو ذلیل وفقیر نہیں سمجھتے تھے، مالی کمزوری کی وجہ سے اس کے ایمان کو تباہ نہیں کرتے تھے، نیز بادشاہ اور حکمران بھی اچھے ہوتے تھے، جو غریب کو سنبھالا دیتے تھے؛ اس لیے لوگ مال ودولت اکٹھا نہیں کرتے تھے اور اکٹھا کرنے کو معیوب سمجھتے تھے؛ مگر اب معاملہ اس کے برعکس ہے کہ غریب وفقیر آدمی کو معاشرہ میں ذلیل وحقیر سمجھتے ہیں، اور پیسے کی بنیاد پر اس کے ایمان کو خریدا جاتا ہے، نیز حکمران بھی خیر خواہ نہیں رہے، تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ غریب آدمی مالداروں اور حکمرانوں کا دستِ نگر اور دست وپاہ بن جائے گا، اور ان کے ہاتھ صاف کرنے اور میل کچیل صاف کرنے کے لیے تولیہ اور رومال بن جائے گا۔
پھر مزید لکھا ہے: جس شخص کے پاس اس مال میں سے کچھ بھی ہو وہ اس کی اصلاح کرے، مطلب یہ کہ تھوڑا پیسہ بھی ہو تو اس کو کسی کاروبار میں لگا دے، یہ اس کی ترقی وبڑھوتری ہے، یا پھر اصلاح کا مطلب یہ ہے کہ اس کو قناعت کے ساتھ خرچ کرے ، اسراف نہ کرے۔ (۷/۳۷۵، مکتبہ عصریہ، کراچی)
کمائی کے ذرائع
کسبِ معاش کے بہت سے ذرائع ہیں، ان میں سے کون سا افضل ہے ؟! اس کی تعیین میں سلفِ صالحین کا اختلاف ہے، اس بارے میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندہلوی رحمہ اللہ کی ایک بہترین کتاب ”فضائل ِ تجارت“ سے خلاصةً کچھ بحث ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔
حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”میرے نزدیک کمائی کے ذرائع تین ہیں: تجارت، زراعت اور اجارہ۔ اورہر ایک کے فضائل میں بہت کثرت سے احادیث ہیں، بعض حضرات نے صنعت و حرفت کو بھی اس میں شامل کیا ہے، جیسا کہ اوپر گذرا۔ میرے نزدیک وہ ذرائع آمدنی میں نہیں، اسبابِ آمدنی میں ہے اور آمدنی کے اسباب بہت سے ہیں: ہبہ ہے، میراث ہے، صدقہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جنہوں نے اس کو کمائی کے اسباب میں شمار کیا ، میرے نزدیک صحیح نہیں؛ اس لیے کہ نرا صنعت وحرفت کمائی نہیں ہے؛ کیوں کہ اگر ایک شخص کو جوتے بنانے آتے ہیں یا جوتے بنانے کا پیشہ کرتا ہے، وہ جوتے بنا بنا کر کوٹھی بھر لے ، اس سے کیا آمدنی ہو گی؟ یا تو اس کو بیچے گا یا (پھر یہ جوتے) کسی کا نوکر ہو کر اس کا (مال)بنائے۔یہ دونوں طریقے تجارت یا اجارہ میں آ گئے، اور اس سے بھی زیادہ قبیح ”جہاد“ کو کمائی کے اسباب میں شمار کرنا ہے؛ اس لیے کہ جہاد میں اگر کمائی کی نیت ہو گئی تو جہاد ہی باطل ہے․․․․․․․․․ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ میرے نزدیک تجارت افضل ہے، وہ بحیثیت پیشہ کے ہے؛ اس لیے کہ تجارت میں آدمی اپنے اوقات کا مالک ہوتا ہے، تعلیم وتعلم، تبلیغ، افتاء وغیرہ کی خدمت بھی کر سکتا ہے، لہٰذا اگر اجارہ دینی کاموں کے لیے ہوتو وہ تجارت سے بھی افضل ہے؛ اس لیے کہ وہ واقعی دین کا کام ہے؛ مگر شرط یہ ہے کہ وہی دین کا کام مقصود ہو اور تنخواہ بدرجہٴ مجبوری ہے۔ میرے اکابرِ دیوبند کا زیادہ معاملہ اسی کا رہا، اور اس کا مدار اِس پر ہے کہ کام کو اصل سمجھے اور تنخواہ کو اللہ کا عطیّہ؛اس لیے اگر کسی جگہ پر کوئی دینی کام کر رہا ہو، تدریس، افتاء وغیرہ اور اس سے زیادہ کسی دوسرے مدرسہ میں تنخواہ ملے، تو پہلی جگہ کو محض کثرتِ تنخواہ کی وجہ سے نہ چھوڑے۔میں نے جملہ اکابر کا یہ معمول بہت اہتمام سے ہمیشہ دیکھا، جس کو آپ بیتی نمبر۶، صفحہ ۱۵۵ میں لکھوا چکا ہوں کہ انہوں نے اپنی تنخواہوں کو ہمیشہ اپنی حیثیت سے زیادہ سمجھا ․․․․․․․․․․․․․․ درحقیقت میرے اکابر کے بہت سے واقعات اس کی تائید میں ہیں کہ تنخواہ اصل یا معتد بہ چیز نہیں سمجھتے تھے۔ جیسا میں نے اوپر لکھا اور تنخواہ محض عطیہٴ الٰہی سمجھتے تھے، جو ہم لوگوں میں بالکل مفقود ہے، یہی وہ چیز ہے جس کی بنا پر میں اجارہٴ تعلیم کو سب انواع سے افضل لکھا ہے۔ ․․․․․․․․․․․․․․․اس ملازمت کے بعد تجارت افضل ہے؛ اس لیے کہ تاجر اپنے اوقات کا حاکم ہوتا ہے، وہ تجارت کے ساتھ دوسرے دینی کام تعلیم، تدریس، تبلیغ وغیرہ بھی کر سکتا ہے، اس کے علاوہ تجارت کی فضیلت میں مختلف آیات واحادیث ہیں؛ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إن اللّٰہ اشتریٰ من الموٴمنین أنفسھم وأموالھم بأن لھم الجنة﴾(التوبة: ۱۱۱)
خدا نے موٴمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں، (اور اس کے)عوض میں اُن کے لیے بہشت (تیار) کی ہے۔
اور بھی بہت سی آیات تجارت کی فضیلت میں ہیں، ان کے علاوہ احادیث میں ہے:
”التاجرُ الصدوقُ الأمینُ مع النبیینَ والصدیقینَ والشھدآء“(سنن الترمذي، کتاب البیوع، التجار وتسمیة النبي صلی اللہ علیہ وسلم إیاھم، رقم الحدیث:۱۲۰۹)
سچا، امانت دار تاجر(قیامت میں) انبیاء، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہو گا۔
”إنّ أَطْیَبَ الْکَسْبِ کَسْبُ التُّجَّارِ الَّذِیْنَ إذَا حَدّثُوْا لَمْ یَکْذِبوا، وَإذَا ائْتُمِنُوْا لَمْ یَخُوْنُوْا، وإذَا وَعَدُوا لَمْ یُخْلِفوا، وإذَا اشْتَرَوْا لَمْ یَذُمُّوْا، وَإذَا بَاعُوا لَمْ یَمْدَحُوْا، وَإذَا کَانَ عَلَیْہِمْ لَمْ یَمْطُلُوا، وَإذَا کَانَ لَھُمْ لَمْ یُعَسِروا“(شعب الإیمان للبیھقي، الرابع والثلاثون من شعب الإیمان وھو باب في حفظ اللسان، رقم الحدیث: ۴۸۵۴)
بہترین کمائی اُن تاجروں کی ہے، جو جھوٹ نہیں بولتے، امانت میں خیانت نہیں کرتے، وعدہ خلافی نہیں کرتے اور خریدتے وقت چیز کی مذمت نہیں کرتے (تا کہ بیچنے والا قیمت کم کر کے دے دے) اور جب (خود) بیچتے ہیں، تو (بہت زیادہ) تعریف نہیں کرتے (تا کہ زیادہ ملے) اور اگر ان کے ذمہ کسی کا کچھ نکلتا ہو تو ٹال مٹول نہیں کرتے اور اگر خود ان کا کسی کے ذمہ نکلتا ہوتو وصول کرنے میں تنگ نہیں کرتے۔
عن أنس رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”التاجِرُ الصَّدُوْقُ تَحْتَ ظِلِّ الْعَرْشِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ“(اتحاف الخیرة المھرة بزوائد المسانید العشرة، کتاب الفتن، باب في التلاعن وتحریم دم المسلم، رقم الحدیث:۷۷۵۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچ بولنے والا تاجر قیامت میں عرش کے سایہ میں ہو گا۔
عن أبي أمامة رضي اللہ عنہ أنَّ رسولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”إن التاجِرَ إذَا کَانَ فیہ أربعُ خِصَالٍ طَابَ کَسْبُہ، إذا اشْتَریٰ لَمْ یذُمَّ، وَإذَا بَاعَ لَمْ یَمْدَحْ، وَلَمْ یَدْلُسْ فِي الْبَیْعِ، وَلَمْ یَحلِفْ فِیْمَا بَیْنَ ذٰلک“(الترغیب والترھیب، کتاب البیوع، باب فضل التاجر الأمین والترغیب في الصدق في المعاملة، رقم الحدیث: ۷۹۷)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ جب تاجر میں چار باتیں آ جائیں تو اس کی کمائی پاک ہو جاتی ہے، جب خریدے تو اس چیز کی مذمت نہ کرے اور بیچے تو (اپنی چیز کی بہت زیادہ) تعریف نہ کرے۔ اور بیچنے میں گڑ بڑ نہ کرے اور خرید و فروخت میں قسم نہ کھائے۔
وعن حکیم بن حزامٍ رضي اللہ عنہ أن رسولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”اَلْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا، فإنْ صَدَقَا وَبَیَّنا بُورِکَ لَھُمَا فِيْ بَیْعِھِمَا، وإنْ کَتَمَا وَکذَبا، فعسیٰ أن یربَحا رِبحاً، ویَمْحَقَا برَکةَ بَیْعِھِمَا“ (صحیح البخاري، کتاب البیوع، باب کان البائع بالخیار ھل یجوز البیع، رقم الحدیث: ۲۱۱۴)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ خرید وفروخت کرنے والے کو (بیع توڑنے کا) حق ہے، جب تک وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں۔ اگر بائع ومشتری سچ بولیں اور مال اور قیمت کے عیب اور کھرے کھوٹے ہونے کوبیان کر دیں تو ان کی بیع میں برکت ہوتی ہے اور اگر عیب کو چھپا لیں اور جھوٹے اوصاف بتائیں تو شاید کچھ نفع تو کما لیں (لیکن) بیع کی برکت ختم کر دہتے ہیں۔
قال المناوي: رجالہ ثقات، ”تِسْعَةُ أَعْشَارِ الرِّزْقِ في التِّجَارَةِ، وَالْعُشْرُ في المَوَاشِيْ، یعنی: النَّتَاج“ (نظام الحکومة النبویة المسمیٰ التراتیب الإداریة، المقدمة الخامسة: باب ما ذکر في الأسواق، ۲/۱۲)
مناوی فرماتے ہیں: رزق کے نو حصے تجارت میں ہیں اور ایک حصہ جانوروں کی پرورش میں ہے۔
أخرج الدیلمي عن ابن عباس رضي اللہ عنہما: ”أَوْصِیْکُمْ بِالتُّجَارِ خَیْرًا، فإنَّھُمْ بُردُ الآفاق وأُمَنَاءُ اللّٰہِ في الأرض“(نظام الحکومة النبویة المسمیٰ التراتیب الإداریة، المقدمة الخامسة: باب ما ذکر في الأسواق، ۲/۱۲)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں تمہیں تاجروں کے ساتھ خیر کے برتاوٴ کی وصیت کرتا ہوں؛ کیوں کہ یہ لوگ ڈاکیے اور زمین میں اللہ کے امین ہیں۔
تجارت کے بعد میرے نزدیک زراعت افضل ہے، زراعت کے متعلق حدیث میں آیا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا کہ : ”کوئی مسلمان جو درخت لگائے یا زراعت کرے، پھر اس میں سے کوئی انسان یا پرندہ یا کوئی جانور کھا لے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔اور مسلم کی روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اس میں سے کچھ چوری ہو جائے تو وہ بھی اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔
اور ضرورت کے اعتبار سے بھی زراعت اہم ہے؛ کیوں کہ اگر زراعت نہ کی جائے تو کھائیں گے کہاں سے؟ !․․․․․․․․․ باقی اپنی زمین دوسرے کو دینا، مزارعت کہلاتا ہے، زراعت اور چیز ہے اور مزارعت اور چیز ہے۔ حاصل یہ ہے کہ قواعدِ شرعیہ کی رعایت ہر چیز میں ضروری ہے، جیسا کہ اس بارے میں أوجز المسالک:۵/ ۲۲۰، باب کراء الأرض میں بہت لمبی بحث کی گئی ہے۔ اور شرعی حدود کی رعایت ان ہی تینوں میں نہیں؛ بلکہ دین کے ہر معاملہ میں ضروری ہے۔․․․․․․․․․․ ان سب کے بعد نہایت ضروری اور اہم امر یہ ہے کہ کسب کے؛ بلکہ ہر عمل میں شریعتِ مطہرہ کی رعایت ضروری ہے، جس کو احیاء العلوم:۲/۶۴ میں مستقل باب کے تحت بیان کیا ہے؛ چنانچہ امام غزالی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
”بیع اور شراء کے ذریعہ مال حاصل کرنے کے مسائل سیکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے، جو اس مشغلہ میں لگا ہوا ہو؛ کیوں کہ طلبِ علم کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس سے ان تمام مشاغل کا علم طلب کرنا مراد ہو گا، مشغلہ رکھنے والوں کو جن مسائل کی حاجت ہو۔ اور کسب کرنے والاکسب کے مسائل جاننے کا محتاج ہے اور جب اس سلسلہ کے احکام جان لے تو معاملات کو فاسد کرنے والی چیزوں سے واقف ہو جائے گا، لہٰذا ان سے بچے گا، اور ایسے شاذ ونادر مسائل جو باعث اشکال ہوں،ان کے ہوتے ہوئے معاملہ کرنے میں سوال کر کے علم حاصل کرنے تک توقف کرے گا؛ کیوں کہ جب کوئی شخص معاملات کو فاسد کرنے والے امور کو اجمالی طور پر نہ جانے تو اسے یہ معلوم نہیں ہو سکتاکہ میں کس کے بارے میں توقف کروں اور سوال کر کے اس کو جانوں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں پیشگی علم حاصل نہیں کرتا، اس وقت تک کام کرتا رہوں گا؛ جب تک کوئی واقعہ پیش نہ آجائے، جب کوئی واقعہ پیش آئے گا تو معلوم کر لوں گا، تو اس شخص کو جواب دیا جائے گا کہ جب تک تو اِجمالی طور پر معاملات کو فاسد کرنے والی چیزوں کو نہ جانے گا تجھے کیسے پتہ چلے گاکہ مجھے فلاں موقع پر معلوم کرنا چاہیے۔ جسے اجمالی علم بھی نہ ہو وہ برابر تصرفات کرتارہے گا اور ان کو صحیح سمجھتا رہے گا۔ لہٰذا علم تجارت سے اوّلا اس قدر جاننا ضروری ہے کہ جس سے جائز وناجائز میں تمیز ہو اور یہ پتہ چل سکے کہ کون سا معاملہ وضاحت کے ساتھ جائز ہے اور صحیح ہے، اور کس میں اشکال ہے۔“(ملخص من فضائل تجارت، ص: ۴۸-۷۲، مکتبة البشریٰ)
اِن تفصیلات کے بعد ہم سب کے لیے از حد ضروری ہے کہ ہم حدودِ شرعیہ کے اندر رہتے ہوئے کسبِ معاش کریں، اور حصول معاش سے قبل اس کا علم شرعی ضرور بالضرور حاصل کر لیں، مبادا یہ کہ یہ کمائی کل بروزِ قیامت ہمارے لیے وبال بن جائے اور ہماری آخرت برباد ہو جائے۔
یہی وجہ تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے بازار میں وہی شخص خرید وفروخت کیا کرے، جس نے اپنے اس کاروبار سے متعلق علم حاصل کر لیا ہو۔
”لَا یَبِیْعُ فِيْ سُوْقِنَا إلّا مَنْ قَدْ تَفَقَّہَ فِي الدِّیْنِ“ (سنن الترمذي، کتاب الصلاة، أبواب الوتر، فضل الصلاة علی النبي، رقم الحدیث: ۴۸۷)
اللہ رب العزت زندگی کے ہر ہر شعبے میں احکامات معلوم کر کے ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے،آمین
”اللھم انفَعْنا بما علّمْتَنا وعلِّمْنا ما یَنفَعُنا وارزُقْنا علماً تنفَعُنا بہ“
$ $ $


قدیم اور جدید معاشی نظریات کا تعارف
جاگیردارانہ نظام کازوال اورعہدجدیدکاآغاز
تیرھویں اورچودھویں صدی میں یورپ کے حالات میں بڑے پیمانے پرتبدیلی آناشروع ہوئی،اس کااہم سبب اسلام اورعیسائیت کے درمیان لڑی جانے والی صلیبی جنگیں تھیں،جس کے نتیجہ میں مشرقی بحیرہ روم اور اس کے بڑے جزیرے مسلمانوں کے تسلط سے نکل کراہل یورپ کی دست رس میں آگئے،ان جنگوں کی بدولت جہازرانی اورتجربات ارتقا پذیر ہوئے، تاجروں اورساہوکاروں کاایک بڑاطبقہ وجودمیں آیا،جوان جنگوں میں شریک ہونے والے فوجی سرداروں اورجاگیرداروں کومالی امدادبطورقرض دیاکرتے تھے، تجارتی ترقی اورسرمایہ داروں کے اس نئے طبقے نے آہستہ آہستہ جاگیرداری نظام میں دراڑیں ڈال دیں۔

جاگیرداروں کی چیرہ دستیوں سے یورپی عوام اورحکم ران دونوں تنگ تھے، لہٰذاوہاں کے بادشاہوں نے عوامی تائیدکابھرپورفائدہ اٹھایا اور یورپ کے اکثرممالک خصوصاً انگلستان اورفرانس میں پائدار مرکزی حکومتیں قائم کیں اورتجارت وصنعت کی خودبراہ راست سرپرستی کرکے انہیں خوب ترقی دی۔1453ء میں قسطنطنیہ پرمسلمانوں کے قبضے سے آبنائے باسفورس اور اہل یورپ کی مشرقی ممالک سے تجارتی گزرگاہیں مسلمانوں کے زیرتصرف آگئیں،جس کی وجہ سے اہل یورپ کونئے بحری راستوں کوتلاش کرناپڑا،جب کہ دوسری طرف 1492ء میں عیسائی بادشاہ فرڈی ننڈ(Frdi Nand)اورملکہ ازابیلا (Isabella) کے گٹھ جوڑاورسازشوں کی وجہ سے اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سوسال سے قائم حکومت کاخاتمہ ہوا،وہاں ایک عیسائی ریاست کی داغ بیل ڈالی گئی۔

1598ء میں اہل مغرب نے واسکوڈی گاما(Vascode Gama)کی سرکردگی میں ہندوستان کی سرزمین پرقدم رکھا،جب کہ اندلس کے باشاہ اورملکہ کی سرپرستی میں کولمبس (Columbus) نے مسلمان جہاز رانوں کی مدد سے امریکہ کانیابراعظم دریافت کرلیاتھا۔امریکہ کی دریافت اورہندوستان کے بحری راستوں کی تلاش سے یورپ کی تجارت، صنعت اورزراعت میں نمایاں اورایسی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں ،جنہیں مجموعی طورسے ایک صنعتی انقلاب سے تعبیرکیاجاسکتاہے،اس صنعتی انقلاب سے اہل یورپ کے لیے صنعت اور تجارت کے لیے ایک وسیع میدان میسرہوا،نئی نئی صنعتیں وجودمیں آنے لگیں،بڑے بڑے شہرآباد ہوئے،غرض سولہویں صدی کے ان بدلے ہوئے حالات کے سامنے قرون وسطی کے جاگیرداری نظام نے دم توڑدیا۔

سترھویں سے اٹھارویں صدی تک مطلق العنان شاہی نظام اپنے پورے جوبن پررہا،ہرطرف خودمختارباد شاہت کاراج تھا،عوام کونہ توشخصی حقوق حاصل تھے اورنہ ہی سیاسی حقوق ،انسانی حوائج اورمصالح عامہ کے حق میں آواز اٹھاناشہنشاہیت کی شان کے خلاف تھا۔یورپ اورکلیسانے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے نتیجے میں ابھرنے والی علمی تحریک کی ابتدا میں شدیدمخالفت کی،اس تحریک کے علم برداروں کوانتہائی شدیداورسخت ترین سزائیں دیں،حتی کہ اس تحریک کے ایک معروف رہنما جان ہس(John Huss) اوراس کے شاگردجیروم(Jerome)کونذرآتش کیا گیا، کلیساکے ان لرزہ خیزمظالم اورنام نہادمذہبی پیشواؤں کی تنگ نظری اور نفس پرستی بالآخران کے لیے موت کاپھندابن کررہی۔

اصلاح مذہب، جدیدسائنسی تحقیقات اورفلسفے میں نئے افکار ونظریات کی نومولودتحریک چوں کہ حقیقی بیداری کانتیجہ تھی،اس لیے تشددسے دبنے کے بجائے مزیدآگے بڑھتی چلی گئی،آزادی فکراورجدت پسندی کے سیلاب نے مذہبی اقتدارکاخاتمہ کردیا،اس نئی تحریک کے نتیجے میں جیسے کلیساکے مذہبی اقتدارکاخاتمہ ہوا،قریب تھاکہ عیسائی مذہب ہی کی جڑیں اکھڑجاتیں اوراس کامکمل خاتمہ ہوجاتا،کہ عیسائیوں میں پروٹسٹنٹ (Protestant)کے نام سے ایک نیافرقہ وجودمیں آیا،جس نے مذہب کودنیاسے جدا قرار دیا، جدیدعلمی تحقیقات کی حوصلہ افزائی کی،حکم رانوں اوربڑے بڑے رئیسوں کی آغوش میں پناہ لے کران کے ہرجائزوناجائزکام کی تائید کی،نتیجہ یہ نکلا کہ روشن خیال اورآزادفکرطبقہ نے نہ صرف مذہب کا انکار کیا، بلکہ وہ سرے سے خداکے وجودہی کے منکربن بیٹھے،یوں اس طرح یورپ میں جنم لینے والے جدیدفلسفہ اورنظریات خالص مادیت،دہریت اورالحادکاشکارہوتے چلے گئے،نئے سیاسی انقلابات اورجدیدمعاشرے نے قدیم مذہب اور اخلاقی روایات کی ہر قیدسے آزادہو کر ایک سیاسی دنیا بنائی، جس میں قدیم جاہلیت کی رسموں، طور طریقوں اورمعاشی اصطلاحات کو جدیدیت اورآزادی فکرکے خوش نمالبادے میں دنیاکے سامنے پیش کیاگیا۔

سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism)
گذشتہ صفحات میں جاگیردارانہ نظام کی حقیقت ،پس منظر،زوال کے اسباب اورعہدجدیدکاتذکرہ آچکاہے،اسی کے ذیل میں صنعتی انقلاب کے بارے میں کچھ سطورلکھی گئی تھیں،اب مزیداس بارے میں وضاحت پیش خدمت ہے۔

اٹھارویں صدی عیسوی میں صنعتی انقلاب نے مزیدترقی کی، بھاپ اوربجلی کی ایجادواستعمال نے صنعت وحرفت ،زراعت ومواصلات کے شعبوں کو چار چاند لگادیے،زندگی کے ہر شعبے میں ہونے والی عجیب وغریب ایجادات سے اہل یورپ کی زندگی کانقشہ ہی بدل گیا،دستکاریوں کی جگہ ملوں،کارخانوں اورفیکٹریوں نے لے لی،گاؤں اوردیہات کے لوگ حصول روزگارکے لیے شہروں کارخ کرنے لگے،جس کے نتیجے میں بڑے بڑے شہر وجود میں آگئے،اسباب راحت وتعیش بآسانی دست یاب ہونے لگے اورنفسانی خواہشات کی تکمیل کاایک نہ رکنے والاسیلاب امڈآیا،مگرخالص مادی اورلادینی بنیاد پرحاصل کی جانے والی صنعتی ترقی اس عیارانہ نظام سرمایہ داری(Capitalism)کاپیش خیمہ ثابت ہوئی،جس کے بے رحم جال میں پھنسنے کے بعدعوام کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھاکہ موت اس جال کی گرفت میں زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے، یاجاگیرداروں کی اس چکی میں،جس کے درمیان وہ کئی سال پستے رہے تھے۔

صنعتی انقلاب اوراس کی پیداکردہ خوش حالی پرسود،سٹے اورقمار وغیرہ کے ذریعہ چندسرمایہ داراورمہاجن سانپ بن کربیٹھ گئے،انہوں نے صنعت وتجارت کاجو نظام قائم کیا اسی نظام کو نظام سرمایہ داری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ زیرنظرتحریر میں گفتگونظام سرمایہ داری کے اصل فلسفے سے ہوررہی ہے،اس کی رائج الوقت صورتوں سے نہیں،بعدکے حالات سے مجبور ہوکرمختلف ممالک نے اس نظام میں کچھ ترمیم شروع کی، جس کاسلسلہ آج بھی جاری ہے،صنعت وتجارت میں حکومت کادخل بڑھ رہاہے اورفردکی آزادی گھٹ رہی ہے،تاہم یہ ترمیمیں ایسی جزوی اورغیرمؤثرہیں کہ ان سے معاشرے کے مجموعی حالات پرکوئی گہرااثرمرتب نہیں ہوتااوروہ الجھنیں ختم نہیں ہوتیں جن سے اس نظام کاخمیرتیارہواہے۔

معیشت کے بنیادی ستون کہلانے والے چارمسئلوں کا جوحل اس نظام نے پیش کیاہے،اس پرگفتگوکرنے سے پہلے اس کی حقیقت پرکلام کرنامناسب معلوم ہوتاہے، تاکہ اس نظام کی بنیادوں،اہم اصول اورنتائج سے بھی واقفیت حاصل ہوجائے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقت
اس نظام کابنیادی اصول”بے قیدمشقت“ہے،جس کامطلب یہ ہے کہ صنعت وتجارت اورکسب معاش کے تمام طریقے اورمعاشیات کا پورا نظام ہرقسم کے سرکاری قانون اورمذہبی پابندیوں سے کامل طورپرآزادہونا چاہیے، حکومت اورمذہب کویہ حق نہیں پہنچتاکہ وہ فردکے معاشی اوراقتصادی نظام میں کسی قسم کی مداخلت کرے۔فردکی حدسے بڑھی ہوئی یہ آزادی اس مفروضے پرقائم ہے کہ ہرشخص اپنے اچھے برے کی سمجھ خودرکھتاہے،اس کویہ بتانے کی نہ حکومت کوضرورت ہے کہ وہ اپنامعاشی کاروبارکیسے چلائے اورنہ کسی معلم اخلاق کی ضرورت ہے، جوحرص وطمع سے بازرہنے اورایثاروسخاوت جیسی صفات کی تلقین کرے۔رہامذہب تووہ ایک ڈھونگ ہے،جس کی پیروی آزادی فکرکے اس دورمیں ایک مہذب انسان کوزیب نہیں دیتی۔

انفرادی ملکیت خواہ وسائل پیداوارکی شکل میں ہو،یاعام اشیا ، وہ کلی طورپرآزادہوتی ہیں،خریدوفروخت کی جوبھی صورت فریقین کی باہمی رضامندی سے طے پائے اسے روکنے کانہ مذہب کواختیارہے،نہ کسی حکومت کو،افرادہرطرح سے آزادہوتے ہیں کہ جس طرح چاہیں نفع کمائیں،اس مقصدکے لیے پیداوارکوجس قدرچاہیں گھٹائیں یا بڑھائیں،پیداوارجس قسم کی چاہیں تیارکریں،کسی قسم کی کوئی قانونی یامذہبی تحدیدعائدنہیں کی جاسکتی۔

اس نظام میں جس طرح حصول ”انفرادی ملکیت“کے تمام ذرائع میں فردکوکھلی چھٹی دی گئی ہے ،اسی طرح خرچ وصرف کے معاملے میں بھی اس سے کوئی بازپرس نہیں،مادی منافع کے علاوہ کسی دوسری مدمیں دولت کاخرچ کرنا ناپیدہوتاہے،نہ ہی کوئی مذہب یاقانون فردسے اس کامطالبہ کرسکتاہے۔اس پورے نظام میں ذاتی نفع کوکل معاشی نظام کی روح قراردیاگیاہے،ذاتی نفع کی خاطر ہروہ طریقہ کاراختیارکیاجاسکتاہے،جواس کے لیے مفیدہو،اگرچہ اس میں ملک وقوم کانقصان ہورہاہو،اس حوالے سے وہ کسی کوجواب دہ نہیں۔

بنیادی معاشی مسائل
یہ بات تومعاشی مفکرین کے نزدیک مسلم ہے کہ انسانی ضروریات اورخواہشات انسانی وسائل کے مقابلے میں زیادہ ہیں،دست یاب وسائل کواس طرح استعمال کرناکہ زیادہ سے زیادہ ضرورتیں پوری ہوجائیں،اسے معاشیات،اقتصاداورانگریزی زبان میں اکنامکس (Economics) کہتے ہیں،اس نقطہ نظرسے معیشت کے چاربنیادی مسائل ہیں،جن کو حل کیے بغیرکسی بھی معیشت کی گاڑی نہیں چل سکتی،وہ مسائل درج ذیل ہیں:

ترجیحات کاتعین(Determination of Priorties)
فرداورملک کے وسائل محدودہوتے ہیں،ان کے ذریعے تمام انسانی خواہشات کی بیک وقت تکمیل ناممکن ہے، لہٰذایہ متعین کرناکہ ان وسائل کے ذریعے کن ضروریات کو پورا کیاجائے؟اورکس چیز کی پیداوار کو ترجیح دی جائے،کون سی ضرورت اورخواہش کومقدم کیاجائے اورکس کومؤخرکیاجائے؟اس مسئلہ کانام ”ترجیحات کاتعین“ہے۔

وسائل کی تخصیص(Allocation of Resources)
وسائل پیداوار،سرمایہ،محنت اورزمین کوکن کاموں میں اورکس مقدار سے لگایاجائے؟زمین پرکیااگایاجائے؟کارخانوں سے کس طرح کی اشیاء اور مصنوعات حاصل کی جائیں، اس بات کا فیصلہ ”وسائل کی تخصیص“ کہلاتاہے۔

آمدنی کی تقسیم(Distribution of Income)
مذکورہ بالاوسائل کواستعمال میں لانے کے بعدان سے حاصل شدہ پیداوار،یاآمدنی کوکس طرح اورکن بنیادوں پرتقسیم کیاجائے؟یہ”آمدنی کی تقسیم“کہلاتی ہے۔

ترقی(Development)
معاشی حاصلات کوترقی دیناکہ ان سے حاصل شدہ پیداوارکمیت وکیفیت کے لحاظ سے اچھی ہو، اسباب معیشت میں اضافہ ہو اور نئی نئی ایجادات وجود میں لائی جائیں، تاکہ لوگوں کو ذرائع آمدن بسہولت مہیا ہوں، اورمعاشرہ ترقی پذیرہوسکے، اس بات کومعیشت کی اصطلاح میں ”ترقی“ کے نام سے جاناجاتاہے۔

بنیادی معاشی مسائل کاحل اورسرمایہ دارانہ نظام
ڈاکٹرنورمحمدغفاری صاحب اپنی کتاب ”اسلام کامعاشی نظام“ میں بعنوان”سرمایہ دارانہ نظام کاحل“لکھتے ہیں:”سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کے معاشی مسئلہ کے حل کی بنیاددوباتوں پررکھی ہے:فردکواس کے معاشی مسئلہ کے حل کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے، یعنی اس کی معاشی سرگرمیوں پرکسی قسم کی اخلاقی یاقانونی پابندی نہ ہو،وہ جس طریقہ یاذریعہ سے چاہے،کمائے اوراس کمائی ہوئی دولت کوجس طرح چاہے خرچ کرے،وہ جوذریعہ معاش اپنے لیے چاہے پسندکرے،اسے کوئی روکنے ٹوکنے والانہ ہو۔

ریاست فردکی معاشی سرگرمیوں میں دخل اندازی نہیں کرے گی،بلکہ ان کی دیکھ بھال کرے گی،انہیں قانونی تحفظ دے گی،جس کے عوض فردریاست کوچندٹیکس بطورمعاوضہ حفاظت اورسہولت اداکرے گا۔

سرمایہ دارانہ نظام نے تین اصولوں کی روشنی میں معیشت کے بنیادی مسائل کوحل کرنے کی کوشش کی:
ذاتی ملکیت(Private Property)
اس نظام کاپہلااصول اورفلسفہ یہ ہے کہ انسان ہرقسم کی اشیا چاہے ان کاتعلق استعمال سے ہو،یاپیداوارسے ہو،انہیں وہ اپنی ذاتی ملکیت میں رکھ سکتاہے۔

ذاتی منافع کامحرک(Profit Motive)
پیداوارکے عمل میں ذاتی منافع کے حصول کوبنیادی حیثیت حاصل ہے اوریہی چیزاساسی محرک قرارپایاہے۔

حکومت کی عدم مداخلت (Laissez faire)
”کرنے دو“کی پالیسی کے تحت تیسرااصول یہ اپنایاگیاہے کہ تجارتی معاملات میں حکومت تاجرکوتنگ نہیں کرے،اسے کھلی چھوٹ حاصل ہوگی کہ وہ جس طرح چاہے تجارت کرے، حکومت اس کی معاشی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گی، اگرچہ بعدمیں اس پالیسی پرمکمل عمل درآمد نہیں کیا جاسکا، سرمایہ دارانہ ممالک میں حکومت کی مداخلت کسی نہ کسی عنوان سے جاری رہتی ہے،جواس کے اصول اورفلسفہ کے خلاف ہے۔

معاشی مسائل حل کرنے کاطریقہ کار
معیشت کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے سرمایہ دارانہ نظام نے ذاتی منافع کے محرک کاسہارالیااس نظام کاکہنایہ ہے کہ ان چاروں مسائل کوحل کرنے کاایک ہی طریقہ ہے کہ ہر انسان کوتجارتی اورصنعتی سرگرمیوں کے لیے بالکل آزادچھوڑدیاجائے،اوراسے اختیاردیاجائے کہ زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لیے جوطریقہ بھی وہ مناسب سمجھے اسے اختیارکرے،تومذکورہ مسائل خودبخودہی حل ہوتے چلے جائیں گے،کیوں کہ ہرشخص زیادہ نفع کی لالچ میں وہی کام کرے گاجس کی معاشرے کوضرورت ہے؛کیوں کہ دنیامیں قانون رسدوطلب(Supply and Demand) کارفرما ہے، لہٰذااگرتاجرکوزیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لیے آزادچھوڑدیاجائے تووہ اپنے نفع کی خاطروہ چیزمارکیٹ میں لائے گا جس کی ضرورت یاطلب زیادہ ہوگی،اسی طرح معاشرے میں انہی اشیا کی پیداواربڑھے گی جن کی معاشرے کوضرورت ہے،اوراتنی ہی مقدارمیں ان کی پیداوارہوگی جتنی اس ضرورت کوپوراکرنے کے لیے واقعتاًدرکارہے،اس کوترجیحات کاتعین کہتے ہیں۔

وسائل کی تخصیص کاتعلق ترجیحات کے تعین سے ہے، لہٰذا رسد وطلب کے قوانین جس طرح ترجیحات کاتعین کرتے ہیں،اسی طرح وسائل کی تخصیص کاعمل بھی سرانجام دیتے ہیں،نتیجتاً ہرمارکیٹ کی طلب کو پورا کیاجاسکے اوراسے زیادہ منافع حاصل ہوجائے،جب کہ آمدنی کی تقسیم کے بارے میں سرمایہ دارانہ نظام کا کہناہے کہ عوامل پیدائش: زمین، محنت، سرمایہ اورآجریاتنظیم کے درمیان آمدنی کی تقسیم کاعمل انجام پائے گا، بایں طور کہ زمین والے کوکرایہ،محنت کرنے والے کواجرت ،سرمایہ فراہم کرنے والے کوسود اورآجرجواس عمل پیدائش کااصل محرک ہے اسے منافع دیا جائے اورعوامل پیدائش کے معاوضے کاتعین بھی طلب ورسدکی بنیادپرہوگا کہ جس کی طلب جس قدرزیادہ ہوگی اس کامعاوضہ بھی اتناہی زیادہ ہوگا۔

باقی رہی بات ترقی کی،توطلب ورسدکے قوانین کی بنیاد پرتاجر جب زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کاطلب گارہوگاتولازماًوہ نئی سے نئی چیزیں، بہترسے بہتراندازمیں مارکیٹ میں لائے گا،جس کے نتیجے میں ترقی کاعمل بھی وجودمیں آجائے گااورمعیشت ترقی پذیرہوگی۔

سرمایہ داریت اور جمہوریت کا اشتراک
یورپ میں معاشی تبدیلیوں کے ساتھ سیاسی میدان میں بھی ایک ہمہ گیرانقلاب انگڑائیاں لے رہاتھا،آزادفکرطبقہ شخصی حکومتوں کوختم کرکے جمہوری حکومتیں قائم کرناچاہتاتھا،دوسری طرف سرمایہ دارلوگ بھی حکومت کی ان قانونی پابندیوں سے بیزارتھے،جوان کی نفع اندوزی کوپابندکررہی تھیں،اسی کانتیجہ تھاکہ انیسویں صدی میں یورپ کے اکثرممالک جمہوری حکومتوں کے زیراثرآگئے،معاشی وسائل اورملکی دولت پرقابض ہونے کی وجہ سے نئی جمہوری حکومتیں سرمایہ داروں کے قبضے میں آگئیں،یوں یورپ کی کل آبادی دوحصوں میں بٹ گئی،ایک طرف گنے چنے سرمایہ دار،جوپوری دولت اورتمام وسائل پیداوارکے مالک تھے اورعنان حکومت بھی ان کی ذاتی اغراض کے تابع ہوچکی تھی،دوسری طرف وہ بے یارومددگارمفلس لوگ تھے جوانتہائی شدیدمحنت ومشقت کے باوجودبھی زندگی کی بنیادی ضروریات کوترس رہے تھے، مزدوروں اورمحنت کشوں کاطبقہ اپنے معاشی حالات سے تنگ آگیا اورایک عرصہ تک سرمایہ داروں کے ظلم کی چکی میں پسنے کے بعد انہوں نے اپنے حقوق منوانے کے لیے مزدورانجمنیں قائم کرناشروع کردیں،یورپ کے بعض مفکرین بھی اس تحریک کی حمایت کرنے لگے،یوں یہی تحریک رفتہ رفتہ اشتراکیت کی بھیانک صورت میں ڈھلتی چلی گئی،سوشل ازم کے علم برداروں نے مزدوروں اورمحنت کشوں کے جذبات کوہڑتالوں، توڑپھوڑ،قانون شکنی اورتشددمیں استعمال کرکے متعددممالک میں انقلاب برپاکرکے سوشلسٹ نظام نافذکردیا۔(جاری)
اشتراکیت(Socialism)
سوشلزم جسے اردومیں”اشتراکیت“اورعربی میں ”الاشتراکیة“ کہتے ہیں،درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کے ردعمل کے طور پر وجود میں آیا، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہرہے،اس نے سرمایہ دارانہ نظام کے بنیادی فلسفے کوچیلنج کرتے ہوئے یہ ماننے سے انکارکیاکہ معیشت کے بنیادی مسائل محض ذاتی منافع کے محرک،شخصی ملکیت اوررسدوطلب کی قوتوں کی بنیادپرحل کیے جاسکتے ہیں۔

اشتراکیت ان تمام خرابیوں کے سدباب کادعوی لے کرمیدان میں آئی،جوسرمایہ دارانہ نظام کے مرہون منت تھے،اشتراکیت نے سرمایہ داریت کے بنیادی فلسفے ”انفرادیت“کوردکرتے ہوئے اجتماعیت اور جماعت کانظریہ پیش کیااورکہاکہ جماعت ہی سب کچھ ہے،فردکچھ نہیں، لہٰذاوسائل پیداوار کو فرد کی ملکیت قرار دینا درست نہیں،بلکہ حکومت ہی تمام وسائل پیداوارکی مالک ہے،اس کویہ علم ہوگاکہ کل وسائل کتنے ہیں؟ معاشرے کی ضروریات کیاکیاہیں؟لہٰذاوہی تمام زرعی،صنعتی اورتجارتی پالیسیاں بنانے اورنافذکرنے کی مجازہے،وہی افرادکے پیشے معین کرنے کاحق رکھتی ہے گویاوسائل کی تخصیص،ترجیحات کاتعین اورترقی کے تینوں کام حکومت کی منصوبہ بندی کے تحت انجام پائیں گے،جہاں تک آمدنی کی تقسیم کامعاملہ ہے،تواشتراکیت کاکہناہے کہ حقیقت میں عامل پیداوارصرف زمین اورمحنت ہیں،زمین انفرادی ملکیت نہیں،بلکہ حکومت کی ملکیت ہے،تواس کالگان دینے کی ضرورت نہیں،رہی محنت تواس کی اجرت کاتعین بھی حکومت اپنی منصوبہ بندی کے تحت کرے گی،گویاان کے نزدیک بھی معاشی مسائل کاایک ہی حل ہے اوروہ حکومتی منصوبہ بندی ہے،اسی وجہ سے اسے منصوبہ بند معیشت (Planned Economy)بھی کہاجاتاہے۔

اشتراکیت سے بحث کرنے والے حضرات نے اس کی تین بڑی قسمیں بیان کی ہیں:
1... قدیم اشتراکی نظریات
2... ارتقائی،یامعاشی اشتراکیت
3... مارکس کی انقلابی اشتراکیت
(یورپ کے تین معاشی نظام،ص:48،اداراة المعارف کراچی)

ہم یہاں ان کی تفصیلات سے تعرض نہیں کریں گے ،البتہ اشتراکیت کے بنیادی اصولوں پرایک نگاہ ضرورڈالیں گے،تاکہ اس کی پوری حقیقت کوسمجھنے میں آسانی ہو۔

اشتراکیت کے بنیادی اصول
اشتراکیت کے فلسفے کاجائزہ لینے سے اس کے مندرجہ ذیل چار بنیادی اصول سامنے آتے ہیں:

اجتماعی ملکیت(Collective Property)
اس اصل کاحاصل یہ ہے کہ وسائل پیداوارقومی ملکیت میں ہوں گے اورحکومت کی منصوبہ بندی کے تحت استعمال ہوں گے،ذاتی استعمال کے علاوہ وسائل پیداوارپرکوئی ذاتی ملکیت نہیں ہوگی،حکومت وقت ہی قومی نمائندہ کی حیثیت سے ان کی مالک ہوگی۔

منصوبہ بندی(Planning)
اس نقطہ نظرکاخاصہ یہ ہے کہ تمام معاشی مسائل کاحل اورفیصلے حکومتی منصوبہ بندی کے تحت کیے جائیں گے،حکومت ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ کون سے وسائل کہاں اورکتنی مقدارمیں لگائے جائیں؟اورمحنت کرنے والوں کی کیااجرت مقررکی جائے؟غرض اس میں ہرمعاشی فیصلہ سرکاری منصوبہ بندی کے تابع ہوتاہے۔

اجتماعی مفاد(Collective interest)
اس نظام میں حکومتی منصوبہ بندی کے تحت اجتماعی مفادکومرکزی اور کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

آمدنی کی منصفانہ تقسیم(Equitable Distributian of Income)
امیراورغریب کے درمیان موجودفاصلوں کوکم کرنے کے لیے یہ اصول پیش کیاکہ جوکچھ بھی آمدنی حاصل ہووہ افراد کے درمیان منصفانہ طورپرتقسیم ہو،عملاًایساہوایانہیں؟،یہ ایک الگ بحث ہے،البتہ اشتراکیت میں کم ازکم یہ دعوی ضرورکیاگیاکہ اس نظام میں تنخواہوں اوراجرتوں کے درمیان تفاوت بہت زیادہ نہیں ہے۔

اشتراکیت اورمعاشرے پراس کے اثرات
اشتراکیت صرف معاشی یاسیاسی نظام نہیں،بلکہ یہ ایک مستقل فلسفہ، مرتب،مربوط اورتمام مذاہب سے مختلف ایک الگ نظریہ حیا ت ہے، جوسیاست ومعیشت ،اخلاق ومعاشرت،مابعدالطبیعی تخیلات وعقائد اور انسانی زندگی کے ہرشعبے میں رہنمائی کامدعی ہے۔

کارل مارکس(Karl Marx)نے، جوایک ٹھیٹھ یہودی خاندان سے تعلق رکھتاتھااورساری عمراحساس محرومی کاشکاررہا،اپنے ساتھی فریڈرک اینجلزکے ساتھ مل کراشتراکیت کے نام سے جوفلسفہ مرتب کیااس میں دوچیزیں نمایاں ہیں:
1... سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نفرت وبغاوت
2... دین ومذہب کی حقارت،بیزاری اورعداوت

اس فلسفے کی روسے”اشتراکی حکومت“ایک ایسی آمریت اور ڈکٹیڑشپ ہے،جونہ خداکے سامنے جواب دہ سمجھی جائے،نہ عوام کے سامنے،جوکسی مذہب کی پابندہونہ اخلاق کی،آئین کی پابندہو نہ قانون کی،اس مطلق العنان ڈکٹیٹرشپ نے فردکے ساتھ وہ سلوک کیاجوکسی مشین کے بے جان پرزے کے ساتھ کیاجاتاہے۔پیشے اوراظہاررائے کی آزادی اورانفرادی ملکیت چھین کراس کواتناگھونٹ دیاکہ اس کی فطری آزادی بھی سلب ہوکررہ گئی۔

رسدوطلب کے قدرتی قوانین کاانکارکرکے اس کی جگہ حکومتی منصوبہ بندی کوہرمرض کاعلاج قراردیا،حالاں کہ انسانی زندگی اورمعاشرے کوسینکڑوں ایسے مسائل درپیش رہتے ہیں،جس میں انسان کی وضع کی ہوئی منصوبہ بندی ناکام ہوجاتی ہے اوراس منصوبہ بندی کے نتیجے میں فردومعاشرہ ایک غیرفطری اورمصنوعی نظام کے جال میں پھنستاچلاجاتاہے اوروسائل چندبرسراقتدارافرادکے قبضے میں چلے جاتے ہیں،ذاتی منافع کے محرک کوختم کردینے سے فکروعمل دونوں میں سستی اورکاہلی کے جراثیم پیداہوجاتے ہیں اورلوگ ظالم وجابرحکومتوں کے ایسے شکنجوں میں پھنستے ہیں جہاں کسی کوپھڑپھڑانے اورچیخنے چلانے کی آزادی بھی حاصل نہیں ہوتی۔

اشتراکیت نے دنیاکوکیادیا؟ 
اشتراکیت نے دنیاکوکیادیا؟خوداس کے سب سے بڑے داعی اورمرکزروس، جوسویت یونین کہلاتاتھا،کے خاتمے کے موقع پرروس کے صدریلسن نے کہا:”کاش اشتراکیت (UTOPAIN)نظریے کاتجربہ روس جیسے عظیم ملک میں کرنے کے بجائے افریقہ کے کسی چھوٹے رقبے میں کرلیاگیاہوتا،تاکہ اس کی تباہ کاریوں کوجاننے کے لیے چوہتر (74)سال نہ لگتے۔“اسی طرح مشرقی جرمنی میں لوگوں نے دیواربرلن کوتوڑکراشتراکیت کی ناکامی کاعملاًاعتراف کیا۔

سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات
اشتراکیت کے زوال اورناکامی کے بعدسرمایہ دارممالک نے بڑے شد ومدسے یہ پروپیگنڈاکیاکہ سوشلزم کی ناکامی ان کی کام یابی کی دلیل ہے،جب کہ حقیقت میں اشتراکیت کے زوال کاسبب سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقی غلطیوں کی اصلاح کے بجائے غلط لائحہ عمل کااختیارکرناتھا،جس پرہم گذشتہ صفحات میں گفتگوکرچکے ہیں۔اب یہاں سرمایہ داریت کے بنیادی اصول ذاتی منافع کے محرک کوکھلی چھوٹ دینے اورخوداس نظام کے نتیجے میں جوخرابیاں سرمایہ دارمعاشرے میں پیداہوئیں اورملک وقوم پراس کے جومہلک اثرات پڑتے ہیں،ان کاخلاصہ پیش خدمت ہے:
1... مذہب کونظام سیاست ومعیشت سے الگ کرکے گرجاؤں، مسجدوں اور خانقاہوں تک محدودکردیاجاتاہے،تاکہ وہ ان کی ناجائزنفع اندوزی میں رکاوٹ نہ بن سکے۔

2... ذاتی منافع کے محرک کو بے لگام چھوڑنے کی وجہ سے یہ اکثرلوگوں کے سفلی جذبات کوہوادے کر،ان کی غلط خواہشات کی تسکین کاسبب بنتاہے،منافع کے حصول کے لیے حلال وحرام میں کوئی تفریق نہ ہونے کی وجہ سے لوگ نفع کمانے کے لیے ایسے ذرائع کواختیارکرتے ہیں، جن سے معاشرے میں اخلاقی بگاڑپھیلتاہے،چناں چہ مغربی ممالک میں عریانی اورفحاشی کاایک اہم سبب یہ بھی ہے۔

3... اس نظام میں تجارت وصنعت اوردولت کی گردش سود، قمار، اورآڑھت کی بنیادوں پرہوتی ہے،حالاں کہ ان کی وجہ سے معیشت کے فطری توازن میں بگاڑپیداہوتاہے، پورے ملک کے وسائل پیداواراوردولت کے تمام خزانے چندساہوکاروں اورسرمایہ داروں کے ہاتھ میں سمٹ کرجمع ہوجاتے ہیں،رسدوطلب کے فطری قوانین مفلوج ہوجاتے ہیں،شخصی اجارہ داریوں کی وجہ سے اشیا کی قیمتوں کانظام متوازن نہیں رہتا اورایک مصنوعی نظام وجودمیں آجاتاہے،جس کے بے رحم شکنجے میں پھنس کرپورامعاشرہ دردناک عذاب میں مبتلاہوجاتاہے۔

4... بڑے سرمایہ داراورتاجرعملاًپورے نظام تجارت پرقابض ہو جاتے ہیں اورچھوٹے چھوٹے تاجروں کواس قابل نہیں چھوڑتے کہ وہ اپنے کاروبارکوترقی دے سکیں،یاباقی رکھ سکیں،چھوٹے پیمانے پرکاروبارکرنے والے روز بروز کم ہوتے جاتے ہیں، یابڑے سرمایہ داروں کی تجارتی پالیسیوں کے تابع محض ہوکرزندگی گزارنے پرمجبورہوجاتے ہیں۔

5... سرمایہ داروں اورنوکرشاہی کے گٹھ جوڑسے سرمایہ دارانہ حکومتیں اپنے ہی اصول ”عدم مداخلت(Laissez Faint)“سے انحراف کرکے مختلف قوانین اورناجائزٹیکسوں کے ذریعے کسی تجارت کی ہمت افزائی اورکسی کی حوصلہ شکنی کرتی رہتی ہیں، جس کا فائدہ صرف بااثر سرمایہ داروں کو پہنچتاہے۔

6... اس نظام میں غریب غریب تراورامیراورسرمایہ دارکی دولت میں بڑہوتری اورروزانہ اضافہ ہونے کی وجہ سے وہ امیرترہوتے جاتے ہیں، معیارزندگی کواتنابلندکردیاجاتاہے کہ متوسط اورسفیدپوش طبقے اس کا ساتھ نہیں دے پاتے،جس سے اَن گنت معاشرتی الجھنیں اوربے شمار معاشی ناہمواریاں پیداہوجاتی ہیں۔

7... سرمایہ دارانہ نظام میں تقسیم دولت کانظام ناہمواری کا شکار ہو جاتاہے،سوداورقمارپرمبنی اس نظام کی وجہ سے ملک کی کل آبادی دوطبقوں میں بٹ جاتی ہے،دولت کے بہاؤکارخ امیروں اورسرمایہ داروں کی طرف رہتاہے،غریبوں اورمزدوروں کی طرف نہیں ہوتا،اسی وجہ سے سرمایہ دار اور مزدورکی طبقاتی کشمکش کاآغازہوتاہے۔

8... ملوں اورفیکڑیوں کی اجارہ داری کی وجہ سے گھریلو صنعتوں اور دست کاریوں سے تیارہونے والامال ان کی پیداواراورسیلنگ ریشو (Saling Ratio)کامقابلہ نہیں کر پاتا، دست کار اپنا پیشہ چھوڑکرمزدوری اورملازمت کرنے پرمجبورہوجاتے ہیں،جس کی وجہ سے گھریلو صنعتیں اور دست کاریاں زوال پذیرہوجاتی ہیں۔

9... ملازمت اورمزدوری کے طلب گاروں میں روزبروزاضافہ ہوتا جاتاہے،مشینوں کے روزافزوں استعمال کی وجہ سے انسانی کھپت میں کمی آجاتی ہے، جس سے پورے ملک میں بے روزگاری کاطوفان برپا ہو جاتا ہے، نتیجتاًمزدورکم سے کم اجرت پرمشکل اورہرطرح کامحنت طلب کام بھی کرنے پرمجبورہوجاتے ہیں۔

10... سرمایہ دارطبقہ اپنے سرمایہ کے زورسے حکومتی پالیسی کواپنی حکمت عملی کے تابع کرلیتاہے ،مارکیٹ میں وہی اشیا لائی جاتی ہیں جن سے سرمایہ دارکازیادہ سے زیادہ نفع ہوتاہے۔ملک وقوم کاکوئی فائدہ ان کے پیش نظرنہیں ہوتا،یہ نظام پوری سوسائٹی اوراس کے تمدن کواپنے رنگ میں رنگ لیتاہے،صرف مال دارہی ہرعزت وشرافت کامعیاربن جاتاہے،علم ،عقل اوراعلی اخلاق کی بجائے انسان کی قدرومنزلت اس کے بینک بیلنس سے پہچانی جاتی ہے،مادیت پرستی اورکمانے کی ایسی دھن لوگوں پر سوار ہو جاتی ہے کہ وہ خودغرضی ،سنگ دلی ،عیاشی اوراخلاقی طورپردیوالیہ پن کاشکارہوجاتے ہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے:”اسلام اور جدید معاشی مسائل اور یورپ کے تین معاشی نظام“)

خلاصہ یہ کہ یہ پورانظام سرمایہ دارکے سرمایہ میں اضافے کاایک آلہ ہے،سودکے اس نظام میں پوری قوم کے سرمائے کوچندبڑے سرمایہ دار اپنے مفادمیں استعمال کرتے ہیں اوراس کے بدلے قوم کوبہت تھوڑا سا حصہ واپس کرتے ہیں اوریہ تھوڑاساحصہ بھی اشیا کی لاگت میں شامل کرکے دوبارہ عام صارفین ہی سے وصول کرلیتے ہیں اوراپنے نقصان کی تلافی بھی عوام کی بچتوں سے کرتے ہیں اوراس طرح سودکامجموعی رخ اس طرف رہتاہے کہ عوام کی بچتوں کااصل کاروباری فائدہ بڑے سرمایہ داروں کو پہنچے اورعوام اس سے کم سے کم مستفیدہوں،اس طرح دولت کے بہاؤ کارخ ہمیشہ اوپرکی طرف رہتاہے۔ (معاشی نظام، ڈاکٹر محمد آدم ایڈوکیٹ،ص:115،ادارہ فروغ ادب کراچی)

سرمایہ دارانہ نظام(Capitalism)کی حقیقت
قارئین کرام! یہ ہے وہ سرمایہ دارانہ نظام جس میں Accumulation of wealthدولت کی اس ریل پیل سے معاشرے اورانسانی گروہوں کوکنڑول کیاجاتاہے،جب کہ دولت کابہاؤہرحال میں عوام الناس سے خاص الخواص (سرمایہ داروں)کی جانب ہی رہتاہے، آپ نے دیکھاکہ سب سے نچلی سطح پرعوام الناس اوران کے متعلقین ہیں،خواہ ان کاتعلق زراعت،صنعت وحرفت،تجارت،ٹریڈنگ یاسروس وغیرہ کسی بھی شعبے سے ہو،یہ لوگ ایک ہی لگی بندھی آمدنی کاطبقہ کہلاتے ہیں، اوریہ دولت بصورت جنس یاخدمت کے پیداوارکرکے اپنے سے اوپروالی سطح پرپہنچاتے رہتے ہیں اوران کااپنے معاوضوں پرقطعی کوئی اختیارنہیں ہوتا، بلکہ اوپروالے سرمایہ داران کے لیے جوبھی معاوضہ مقررکریں،یہ اس پراکتفا کرنے پرمجبورہیں۔

اب اوپروالی سطح کے لوگ مختلف ذرائع سے اپنی دولت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں،سطح درسطح یہ عمل انجام پاتا چلاجاتاہے اورنتیجے میں چند مخصوص اشخاص کی عوام الناس پرکلی طورسے اجارہ داری قائم ہوجاتی ہے، ان معامالات میں سب سے اہم رول کمپنیوں اور بینکوں کا ہوتاہے،جن کے روح رواں وہ سودی نظامات ہیں،جن کے تحت یہ چلتے ہیں،خواہ ان کانام کچھ بھی ہو، دوسری طرف ریاستی محصولات کی مدمیں ٹیکسوں کاایک ایسانظام enforceکیاجاتاہے، جن کا منتہائے مقصودبینکوں میں رائج سودی نظام کوتقویت دینے کے سوااورکچھ نہیں ہوتا۔

چورمعاشرے کی تشکیل
بہرحال خواہ وہ کمپنیاں ہوں،یابینکاری اورحکومتی ٹیکس ،سب کا مقصدناجائزدولت سمیٹناہوتاہے،اگرچہ ان کے طریقہ واردات میں کچھ فرق ہو،سرمایہ دارعوام الناس سے دولت بٹورتاہے ،جب کہ دوسری طرف حکومت ان سے ناجائزحد تک ٹیکس وصول کرتی ہے،اب سب کے پاس اس نظام کے نتیجے میں ایک ہی راستہ رہ جاتاہے اور وہ ہے چوری کاراستہ۔

ایک عام آدمی سے لے کرسرمایہ داراورسربراہان مملکت تک سب کسی نہ کسی سطح اورصورت میں کمائی کے ناجائز اورچوردروازے تلاش کرتے ہیں،ان ساری تفصیلات کے بعدہم یہ فیصلہ قاری پرچھوڑتے ہیں کہ کیا ایسانہیں کہ اس نظام کاحاصل ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں سودی نظام کے سایہ تلے چوری کاایک خاص امتیازی مقام حاصل ہو؟!!!،اب ایسے نظام میں عدل وانصاف کو تلاش کرنا اوراس کے ذریعے انسانی معاشرے کی تعمیروترقی کے بلند وبانگ دعوے کرنانری حماقت نہیں تواورکیاہے ۔!!!



اسلام كا نظامِ كفالتِ عامہ


 

اسلام كا نیرِ تاباں ایسی روشنی لے كر نمودار ہوا كہ ظلمت بھری دنیا كے گوشے گوشے كو نورانیت سے بھردیا، صرف ۲۳ سال كی قلیل مدت میں اسلام نے اپنا لوہا منوالیا اور ہر میدان میں ایسا نظام پیش كیا كہ دنیا امن كا گہوارہ بن گئی، شیر اور بكری ایك ہی گھاٹ پر پانی پیتے نظر آنے لگے، امراء كو عزت ملی تو غریبوں كو سكون اور آسائش ملی، ہر فرد دوسرے كے غم كو اپنا غم اور دوسرے كی تكلیف كو اپنی تكلیف سمجھنے لگا، حتی كہ پورا معاشرہ ایك جسد ِ واحد كا نظارہ پیش كرنے لگا، جس كے ایك حصے كی تكلیف كو محسوس كرنے والا صرف ایك عضو ہی نہیں ہوتا؛ بلكہ پورا جسم ہوتا ہے۔
           اسلام كا نظامِ كفالت یا نظامِ تكافل بھی  ایسا جامع نظام ہے جس میں بلا كسی تخصیص وامتیاز، معاشرے كے ہر فرد كو كسی نہ كسی شكل میں اتنا سامانِ معاش ہرحال میں میسر ہوجائے، جس كے بغیر عام طور پر كوئی انسان نہ اطمینان كے ساتھ زندہ رہ سكتا ہے، اور نہ ہی اپنے متعلقہ فرائض وحقوق سرانجام دے سكتا ہے، اس نظام كے تحت ملكی وقومی دولت كی گردش كا دائرۂ كار چند اغنیاء اور بڑے مالدار لوگوں كے درمیان محدود نہ ہونے پائے كہ دوسرے ان كے رحم وكرم كے محتاج ہوں؛ بلكہ اس صورت میں تو اور بھی خصوصیت كے ساتھ اسلام اس بات كی تعلیم دیتا ہے، كہ معاشرے كے وہ افراد جو مسكین، محتاج اور نادار ہوں اور كسی طبعی عذر كی وجہ سے معذور ہوں، جس كی وجہ سے كوئی معاشی كام كرنے اور اپنے لیے خود روزی كمانے كے لائق نہ ہوں، یا مناسب روزگار نہ ملنے كی وجہ سے حالت ایسی ہوگئی ہوتو ایسے ضرورت مند افراد كی ’’معاشی كفالت‘‘ حكومت كی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے اوراسی طرح جو اُن كے عزیز وقریب ہیں، اُن كے ذمہ اِن كی كفالت ہوگی اور معاشرے كے دیگر جو مالدار لوگ ہیں وہ صدقاتِ واجبہ و نافلہ اور عطیات سے ایسے افراد كی كفالت كا انتظام كریں گے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے:
          اسلام افرادِ معاشرہ كے درمیان جس معاشی مساوات كو پیدا كرنا چاہتا ہے، وہ یہ نہیں كہ معاشرے كے تمام افراد كے درمیان مال ودولت یكساں اور برابر ہو، جتنی اور جیسی ایك فرد كے پاس ہو اتنی اور ویسی ہی تمام افراد كے پاس ہو، كیونكہ ایسی مساوات، خیالی دنیا میں تو ہوسكتی ہے؛ لیكن حقیقت كی دنیا میں نہیں ہوسكتی، اسلام جس مساوات كو چاہتا ہے، وہ یہ ہے كہ مال ودولت كی كمی بیشی كے ساتھ ساتھ افرادِ معاشرہ كے معیارِ زندگی اور مظاہر معیشت میں زیادہ سے زیادہ ہو؛ لہٰذا اسلام غنی كو حكم دیتا ہے كہ وہ اپنا زائد اور اضافی مال راہ خدامیں خرچ كركے اللہ تعالیٰ كی خوشنودی اور روحانی عظمت اور اخلاقی برتری حاصل كرے۔
          اس كے بعد یہ جاننا بھی نہایت ضروری ہے كہ مغربی دنیا اور بعض جدّت كی طرف مائل مسلم دانشور بھی یہ پروپیگنڈہ كرتے نظر آتے ہیں كہ ’’اسلام نے كوئی معاشی نظام نہیں دیا‘‘ ان كا یہ كہنا انتہائی مضحكہ خیز معلوم ہوتا ہے؛ اس لیے كہ معیشت كا تعلق حصولِ رزق اور پیدائش ِ دولت سے ہے، اور یہ بات واضح ہے كہ كھانے پینے، پہننے، اوڑھنے اور رہنے سہنے كے لیے انتظام كیا جانا انسانی تاریخ كا اتنا قدیم عنصر ہے، جتنی دنیا كی تاریخ، تو كیا ایسا ممكن ہے كہ اسلام آنے كے بعد ہزار سال تك (جوكہ دنیا میں اسلام كے عروج كا دور ہے) لوگ ضروریاتِ زندگی سے محروم تھے؟!
          ہرگز نہیں! بلكہ حضراتِ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم كا مختصر دور تو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور كردیتا ہے،كہ جو نظام محض ۲۳/سال میں انھوں نے پوری دنیا میں متعارف كراكے رائج بھی كردیا اور وہ ۳۲/سال تك اپنی پوری آب وتاب كے ساتھ قائم رہا، پھر غیروں كی سازشوں اور كوششوں سے اِس نظام كے ختم ہونے تك ایك ہزار برس لگ گئے، یعنی جو فلسفۂ معاش ساتویں صدی عیسوی میں انسانیت كے سامنے آیا اُس كے اثرات سترہویں صدی عیسوی تك بھی مٹائے نہ جاسكے، اور آج بیسویں صدی میں بھی دنیا كی ایك بہت بڑی آبادی اِس نظام كو اپنائے ہوئے ہے، پھر اِس نظام كو فرسودہ كیونكر كہا جاسكتا ہے؟!
          اسلامی نظامِ معاش ونظامِ كفالت كو برباد كرنے كے لیے برسہا برس كی كوششیں ہوئیں، منصوبے بنے، اُن پر عمل ہوا، اور ایك حد تك اِن اسلام دشمن عناصر كو كامیابی بھی ہوئی، اُن منصوبوں میں سے ایك منصوبہ ’’نظامِ انشورنس‘‘ بھی ہے جو اسلام كے نظامِ كفالت ِ عامہ كو ختم كرنے كے لیے وجود میں آیا، ایك نظر اِس مغربی نظامِ انشورنس كے مقاصد پر ڈال لی جائے تاكہ اس كے مقابل اسلام كے نظامِ كفالت كی جامعیت اور افادیت پوری طرح واضح ہوجائے۔
          نظام انشورنس سماجی اور معاشی تحفظ كا ضامن نہیں بن سكتا؛ كیوںكہ اِس كا دائرہ كار انتہائی محدود ہے، اگر تھوڑا بہت نظر آرہا ہے تو محض اِن ہی افراد كے لیے یہ نظام ہے، جو كمپنی كی پالیسی لیتے ہیں، یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو عام طور پر سرمایہ دار ہی ہوتے ہیں، اِس نظام میں ایسے طبقہ یا افراد كے لیے كوئی حصہ نہیں ہے، جو اُن كے پالیسی ہولڈر نہیں ہیں، جو معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں، ایسے افراد كو سہارا دینے كا، ان كا ساتھ دینے كا، ان كو چلانے كا، گرے پڑے ہوؤں كو اٹھانے كا كوئی پروگرام یا كوئی حصہ نہیں ہے، جو معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں، اِس نظام میں نہ یتیم بچوں كے سروں پر ركھنے كے لیے دست ِ شفقت ہے (كیوں كہ ان كا باپ پالیسی ہولڈر نہیں تھا) اور اُس بیوہ كے لیے كھانے كے ایك لقمہ كا بھی انتظام نہیں ہے، جس كا مزدور خاوند بیمہ كمپنی میں اپنا یا اپنی اس بیوہ كا بیمہ نہ كراسكا تھا، اِس نظام میں اُن غرباء اور مساكین كے لیے كوئی پالیسی یا انتظام نہیں ہے، جو مكان نہ ہونے كے باعث كھلے آسمان تلے زندگی بسر كررہے ہیں یا دن بھر مزدوری نہ ملنے كے سبب بھوكے سونے پر مجبور ہیں، ایسا كیوں؟ اِس لیے كہ وہ بیمہ كمپنی كے ممبر نہیں ہیں، اُن كے پاس اِن كی اَقساط ادا كرنے كے لیے وسائل نہیں ہیں۔
          مذكورہ تفصیل كے بعد یہ بات كھل كر سامنے آجاتی ہے، كہ ’’نظامِ انشورنس‘‘ جس پر آج مغرب فخر كررہاہے اور غریبوں كو اپنا محسن ہونا بتارہا ہے، جس كے پُرفریب اور پُركشش اشتہارات ’’ہرفكر كو دور كیجیے‘‘! اور ’’غم كو اپنے قریب بھی نہ بھٹكنے دیجیے!‘‘ كا سبق پڑھا رہے ہیں، دراصل یہ (نظام) مذموم سرمایہ كاری كی كوكھ سے جنم لینے والا ایك نیا نظام استحصال، دولت كو اپنے پاس جمع كرتے رہنے كا جدید حیلہ اور عالمِ اسلام میں یہودی كاروبار كو فروغ دینے والا ذہنی، فكری وعملی منصوبہ ہے، جس كا مقصد صرف اور صرف یہ ہے كہ ’’امیر كے لیے سب كچھ اور نادار وبے كَس غریب كے لیے كچھ نہیں‘‘۔
          اِس كے برعكس اسلام كے نظامِ كفالت ِ عامہ كو پہچانیے اور اِس كی جامعیت اور كاملیت كا بڑی بیدار مغزی اور پوری بصیرت سے جائزہ لیجیے كہ كتنا دودھ اور كتنا پانی ہے؟! جس كا مقصد اسلامی ریاست كے متمول، صاحبِ ثروت افراد سے جائز اور شرعی طریقے سے لے كر اور عرباء ومساكین و معذورین سے كچھ بھی نہ لے كر مملكت وریاست كے تمام باشندوں (بلا تمیز مسلم وكافر) كی ہر قسم كی سماجی، ومعاشی حاجات وضروریات كی كفالت، غیرمتوقع پیش آمدہ حادثات كا تحفظ اور نقصانات كی تلافی كی ضمانت دینا ہے۔
          یہ نظام (كفالت) اس معاشی نظام كا ایك حصہ ہے جس كا مقصد محض معاشی كفالت نہیں؛ بلكہ اس كے ساتھ ساتھ امن وسلامتی كی ضمانت دینا ہے، اس (اسلامی نظام) كاركن بننے كے لیے كوئی قسط اور كوئی فیس نہیں ادا كرنا پڑتی؛ بلكہ صرف احكاماتِ الٰہیہ كے سامنے سرتسلیم خم كرتے ہوئے اسلام كو بحیثیت ضابطہ حیات تسلیم كرنا، امراء كا جائز شرعی واجبات (زكاة، صدقات واجبہ، عشر وغیرہ) ادا كرنا اور پوری زندگی اللہ كا بندہ بن كر رہنا اور بصورتِ ذمی، اسلامی ریاست كا وفادار شہری بن كر رہنا اور معمولی جزیہ (بدلِ تحفظ) كا ادا كرنا ہے۔
          اسلام جس قسم كا نظامِ كفالت پیش كرتا ہے، اس میں اوّلیت اس بات كو دی گئی ہے كہ اسلامی ریاست كا كوئی شخص بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم نہ رہے، اس نظام میں امیر كو ترغیب دے كر، اور آخرت كا خوف دلاكر یہ درس دیا جاتا ہے كہ وہ غریب اور محروم المعیشت تك اس كی ضروریاتِ زندگی پہونچائے، جو شخص مفلس اور نادار كی حاجت روائی نہ كرے وہ كامل مسلمان ہی نہیں۔

معاشی نظام سے متعلق قرآن پاك كا  اُسلوب

          اسلام میں كمال حاصل كرنے كے لیے جن صفات كا ہونا ضروری ہے، اُن میں سے ایك صفت غرباء كو كھانا كھلانے كی تلقین بھی ہے، ملاحظہ ہو:
          ’’أرءیتَ الذی یكَذِّبُ بالدِّینِ، فَذٰلِكَ الَّذِی یدُعُّ الیتِیمَ، وَلَا یحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِینِ‘‘۔ (الماعون: ۱ تا ۳)
          ترجمہ: ’’كیا تونے ایسے شخص كو دیكھا جو جزا وسزا كا منكر ہے؟ وہی تو ہے جو یتیم كو دھكے دیتا ہے اور مسكین كو كھانا كھلانے كی تلقین نہیں كرتا۔‘‘
          دیكھیے! غریب كو خود كھانا كھلانے سے انكار تو دور كی بات ہے، یہاں تو اگر كوئی فرد كسی دوسرے متمول شخص كو كسی بھوكے كو كھانا كھلانے كی تلقین نہیں كرتا تب بھی اسے صحیح اور كامل دین دار قرار نہیں دیا جارہا۔
          ایك اور جگہ تو بہت سخت لہجے میں فرمایاگیا:
          ’’خُذُوْہ فَغُلُّوہ، ثُمَّ الجَحِیمَ صَلُّوہ، ثُمَّ فِی سِلْسِلَةٍ ذِرْعُہا سَبْعُوْنَ ذِرَاعاً فَاسْلُكُوہ، إنَّہٗ كَانَ لاَ یؤمِنُ بِاللّٰہ العَظِیمِ، وَلاَ یحُضُّ عَلٰی طَعَامٍ۔‘‘ (الحاقة: ۳۰ تا ۳۴)
          ترجمہ: اسے پكڑو اور اس كے گلے میں طوق ڈالو، پھر اسے جہنم میں داخل كرو پھر اسے سترگز لمبی زنجیر میں جكڑدو،یقیناً یہ وہی ہے جو خدائے بزرگ وبرتر پر ایمان نہیں لایا تھا، اور نہ ہی محتاج كو كھانا كھلانے كی ترغیب دیتا تھا۔‘‘
          ایك اور جگہ ایمان والوں كی صفات ذكر كرتے ہوئے ارشاد فرمایاگیا:
          ’’وَیطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْكِیناً وَیتِیماً وأسِیراً‘‘. (الدہر:۸)
          ترجمہ: ’’اور وہ اللہ تعالیٰ كی محبت میں (اپنا) كھانا مسكین، یتیم اور قیدی كو كھلاتے ہیں۔‘‘
          ایك اور جگہ ارشاد فرمایا:
          ’’فِی أَمْوَالِہمْ حَقٌ مَعْلُوْمٌ، لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ‘‘. (المعارج: ۲۴، ۲۵)
          ترجمہ: ’’ان كے اموال میں ایك مقررہ حصہ ہے، مانگنے والوں كا اور ہارے ہوئے كا۔‘‘
          مذكورہ آیات میں امراء كے لیے ایك راہ عمل متعین كردی گئی، اور پھر دوسرے طرز پر مقصد یہ بتایا گیا كہ:
          ’’كَی لاَ یكُونَ دُوْلَةً بَینَ الأَغْنِیاءِ مِنْكُمْ‘ ‘. (الحشر:۷)
          ترجمہ:  ’’تاكہ وہ (دولت) تمہارے مالداروں ہی كے درمیان گردش نہ كرتی رہے۔‘‘
          آیتِ كریمہ میں اسلامی معاشرے اور حكومت كی معاشی پالیسی كا یہ بنیادی قاعدہ بیان كیاگیا ہے كہ دولت كی گردش پورے معاشرے میں عام ہونی چاہیے، ایسا نہ ہو كہ مال صرف مالداروں میں ہی گھومتا رہے، یا امیر! روز بروز امیر تر اور غریب دن بدن غریب تر ہوتے چلے جائیں، اس مقصد كے لیے سود حرام كیاگیا، زكوٰة فرض كی گئی، مالِ غنیمت میں خُمس مقرر كیاگیا، صدقات كی ترغیب دی گئی، مختلف قسم كے كفارات كی ایسی صورت تجویز كی گئی جن سے غریب افراد كی خاطر خواہ دلداری اور حاجت براری ہوسكے، میراث كا ایسا قانون بنایا گیا كہ ہر مرنے والے كی چھوڑی ہوئی دولت زیادہ سے زیادہ وسیع دائرے میں پھیل جائے، اخلاقی حیثیت سے بخل كو سخت قابلِ مذمت اور سخاوت و فیاضی كو بہترین صفت قرار دیاگیا، الغرض وہ تمام انتظامات كیے گئے كہ دولت پر بااثر لوگوں كی اجارہ داری قائم نہ ہو اور دولت كا بہاؤ امیروں سے غریبوں كی طرف بھی ہوجائے۔

احادیثِ مباركہ كا معاشی نظام سے متعلق اُسلوب

          سرمایہ دارانہ نظام كا خاصہ ہے كہ یہ افرادِ معاشرہ سے سخاوت كو بالكلیہ ہی ختم كردیتا ہے، چنانچہ اِس نظام كی كسی بھی كتاب كو اُٹھاكے دیكھ لیا جائے كہ اس میں سخاوت وفیاضی كا كوئی ایك بھی عنوان ڈھونڈنے سے نہ مل سكے گا، اس كی وجہ یہی ہے كہ اس نظام كا خمیر ہی بخل اور امساك سے اٹھایاگیا ہے، جب كہ سخاوت وفیاضی كریمانہ اَخلاق كے وہ حصے ہیں جو اللہ رب العزت كی راہ میں خرچ كرنے سے فقراء ومساكین كی محبت، دنیاداری كی حقارت جیسی عمدہ روحانی غذا پاتے ہیں، نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخاوت وفیاضی كے اوصافِ حمیدہ كے ذریعے اپنے مال ودولت میں امت كے غریب و بے كس كو بھی شامل فرمایا اور اِس طرح گردشِ دولت كی راہیں كشادہ كردیں اور بخل واِرتكازِ دولت كی عاداتِ رذیلہ كے مضر اثرات كو ختم فرمایا، اور اِس خصلتِ حمیدہ میں امت كو بھی اپنے ساتھ شامل فرمایا، جا بجا ان كی ذہن سازی كی، كبھی ترغیب كے ذریعے اور كبھی ترہیب كے ذریعے، لیكن اِن سب سے بڑھ كر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم كا اپنا پاكیزہ عمل نمونہ تھا، جس كی ادنیٰ سی جھلك پہلی بار نازل ہونے والی وحی كے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طاری ہونے والی گھبراہٹ كو دیكھ كر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا كا آپ كو تسلی دیتے ہوئے آپ كی اعلیٰ صفات شمار كروانا ہے، ملاحظہ ہو:
          ’’فَقَالَتْ خَدِیجَةُ: كَلّا وَاللّٰہ مَا یخْزِیكَ اللّٰہ أبَداً إنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحْمَ تَحْمِلُ الكلَّ وَتَكْسِبُ المَعْدُومَ وتُقْرِی الضَّیفَ وَتُعِینُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ‘‘ (صحیح البخاری، كتاب بدء الوحی، رقم الحدیث: ۳، ۱/۷، دارطوق النجاة)
          ترجمہ: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم كی گھبراہٹ كو دیكھ كر) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ہرگز نہیں! اللہ تعالیٰ آپ كو كبھی رسوا نہیں كریں گے، آپ تو رشتوں كو جوڑنے والے ہیں، آپ تو كمزوروں، بے كسوں كا سہارا بنتے ہیں، جن كا كوئی كمانے والا نہیں آپ اُن كو كماكر كھلاتے ہیں، ناتوانوں كے بوجھ اُٹھاتے ہیں، مہمانوں كی مہمان نوازی كرتے ہیں اور آفت زدہ لوگوں كی مدد كرتے ہیں۔‘‘
          یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم كی صفاتِ عالیہ كی ایك ادنیٰ سی جھلك ہے، ورنہ تو پوری حیاتِ طیبہ یہی اُسوہ پیش كرتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
          ’’أیما أَہلِ عَرْصَةٍ أصْبَح فِیہمْ اِمْرَءٌ جَائِعاً فقد بَرِئَتْ مِنْہمْ ذِمَّةُ اللّٰہ‘‘۔ (المستدرك علی الصحیحین، كتاب البیوع، رقم الحدیث: ۲۱۶۵، ۲/۱۴، دارالكتب العلمیة)
          ترجمہ: ’’كسی بھی بستی میں كوئی شخص اس حال میں صبح كرے كہ وہ رات بھر بھوكا رہا ہو، تو اللہ رب العزت كا ذمہ اس بستی سے بری ہے۔‘‘
          نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غرباء كی امداد كی اس قدر ترغیب دی كہ صحابہ رضی اللہ عنہ كہنے لگے كہ ہمارے پاس جو زائد اموال ہیں ان میں ہمارا كوئی حق نہیں ہے، ملاحظہ ہو:
          ’’عَنْ أبی سعیدِن الْخُدْرِی رضی اللّٰہ عنہ قال: ’’بَینَمَا نَحْنُ فِی سَفَرٍ مَعَ النَّبِی صلی اللہ علیہ وسلم إذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلٰی رَاحِلَةٍ لہ، فَجَلَ یصْرِفُ بَصَرَہٗ یمِیناً وشِمالاً‘‘، فقال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’مَنْ كَانَ مَعَہ فَضْلُ ظَہرٍ فَلْیعُدْ بِہٖ عَلی مَن لاَ ظَہرَ لَہٗ، وَمَنْ كَانَ لَہٗ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْیعُدْ بِہٖ عَلٰی مَنْ لاَ زَادَ لَہٗ‘‘ فذكر من أصنافِ المالِ ما ذكر حتیٰ رَأینا أنَّہ لا حَقَّ لأحدٍ مِنّا فی فَضْلٍ‘‘۔ (ریاض الصالحین، باب الإیثار والمواساة، رقم الحدیث: ۵۶۶، ص:۱۷۳، دارالسلام)
          ترجمہ: ’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ‘‘ روایت كرتے ہیں كہ ہم نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم كے ہمراہ ایك سفر میں تھے كہ ایك شخص آیا اور دائیں بائیں دیكھنے لگا، تو نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا كہ جس كے پاس زائد سواری ہو وہ اُسے دے دے جس كے پاس سواری نہ ہو، اور جس كے پاس ضرورت سے زائد زادِ راہ ہوتو وہ (اُس توشے كو) اُسے دے دے جس كے پاس زادِ راہ نہ ہو، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف انواع كے اموال (اسی طرح اوروں كو دے دینے) كا ذكر فرماتے رہے كہ ہم (میں سے ہرایك) نے گمان كرلیا تھا كہ ہم میں سے كسی كو بھی اپنے ضرورت سے زائد مال پر كوئی حق نہیں۔‘‘
          ایك اور حدیث شریف میں ارشاد فرمایا:
          ’’مَنْ كَانَ عِندَہ طَعَامُ إثنینِ فَلْیذْہبْ بِثَالثٍ، فإن أربعٌ فخامسٍ، أو سادسٍ‘‘ (صحیح بخاری، كتاب الہیبة، رقم الحدیث: ۲۵۸۱، ۱/۱۵۶، دارالشعب القاہرة)
          ترجمہ: آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ’’جس كے پاس دو آدمیوں كا كھانا ہو وہ تیسرے آدمی كو اپنا مہمان بنالے، اور اگر چار (آدمیوں) كا كھانا ہو تو پانچویں یا چھٹے كو (اپنا مہمان بنالے)‘‘۔
          ایك اور روایت میں ہے كہ:
          ’’طعامُ الإثنینِ كافی الثلاثةِ وطعامُ الثلاثةِ كافی الأربعةِ‘‘ (ریاض الصالحین، باب الإیثار والمواساة، رقم الحدیث: ۵۶۵، ص:۱۷۳، دارالسلام)
          ترجمہ: ’’دو افراد كا كھانا تین افراد كو كفایت كرجائے گا او رتین كا كھانا چار كو كفایت كرجائے گا‘‘۔ كفالت كے اس سلسلے كو مزید وضاحت كے ساتھ بیان كرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
          ’’عَنْ جَابِرٍ رضی اللّٰہ عنہ یقول: سَمِعْتُ رسولَ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ’’طعامُ الواحدِ یكْفِی الإثنینِ وطعامُ الإثنینِ یكفی الأربعةَ وطعامُ الأربعةِ یكفی الثمانیةَ‘‘. (صحیح مسلم، كتاب الأشربة، باب فضیلة المواساة، رقم الحدیث: ۵۴۸۹، ۲/۱۳۲، دارالجیل، بیروت)
          ترجمہ:  ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں كہ میں نے نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم كو ارشاد فرماتے ہوئے سنا كہ ایك فرد كا كھانا دو كے لیے كافی ہوجائے گا، دو كا كھانا چار افراد كے لیے كافی ہوجائے گا، اور اسی طرح چار افراد كا كھانا آٹھ افراد كے لیے كافی ہوسكتا ہے۔‘‘
          یہ ہیں وہ تعلیمات جو اسلام كی جامعیت كا منہ بولتا ثبوت ہیں، جن پر عمل پیرا ہوكر یہ امت وحدتِ امت كا نمونہ پیش كرسكتی ہے، یہ تصور امت كے اندر سے منافرت كی بوتك مٹادیتا ہے، اور امت مسلمہ كو یك جان كردیتا ہے، اس كی بہت ہی دلكش تعبیر نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے:
          ’’مَثَلُ المؤمنینَ فِی تَوادِّہمْ وتَرَاحُمِہمْ وتَعَاطُفِہمْ مِثْلَ الجَسَدِ إذا اشْتَكیٰ منہ عُضْوٌ تَداعىٰ لَہٗ سائرُ الجِسْمِ بِالسَہرِ وَالحَمىٰ‘‘ (صحیح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تراحم الؤمنین، رقم الحدیث: ۶۷۵۱، ۸/۲۰، دارالجیل، بیروت)
          ترجمہ: ’’مؤمنین كی مثال ان كے آپس میں محبت وشفقت، اُنس  ومودت اور لطف وكرم میں  ایك جسم كی مانند ہے، جس كے ایك عضو كو تكلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم بیداری اور بخارمیں اس كا شریك ہوتا ہے۔‘‘ اس سے اندازہ كرلینا چاہیے كہ كیا مغرب كا پیش كردہ ’’نظامِ انشورنس‘‘، اسلام كے ’’نظامِ كفالت عامہ‘‘ كے برابر ہوسكتا ہے؟!
          اس كے علاوہ اور بہت سی روایات وآثار اس بارے میں منقول ہیں، مثلا:
          ’’صَحَّ عَن أبی عبیدةَ بنِ الجراحِ وَثَلثُ مائةِ مِنَ الصحابةِ أن زَادَہمْ فنی، فأمرہم أبو عبیدةُ، فأجمعوا أزوادَہم فی مِزْودین وجَعَلَ یقُوتُہم إیاہا على السواء‘‘. (الملّٰى لابن حزم، كتاب الزكاة، إن اللّٰہ فرض على الأغنیاء ما یكفی الفقراء، ۴/۲۸۳، دارالكتب العلمیة)
          ترجمہ: ’’حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور تین سو صحابہ كرام رضی اللہ عنہم سے متعلق یہ روایت درجۂ صحت كو پہنچتی ہے كہ (ایك مرتبہ) ان كا سامانِ خوردونوش ختم ہونے كے قریب آلگا تو حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے حكم دیا كہ جس جس كے پاس جس قدر ہے، وہ حاضر كرے اور پھر سب كو یكجا كیا اور ان سب میں برابر تقسیم كركے سب كو ’’قوتِ لایموت‘‘ كا سامان مہیا كردیا۔‘‘
          وَعَنْ أبی موسىٰ رضی اللّٰہ عنہ، قال قال رسولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم إن الأَشْعَرِیین إذا أرَامَلُوا فی الغزوِ، أو قَلّ طعامُ عیالِہمْ بالمدینةِ، جَمَعُوا مَا كان عندَہم فی ثوبٍ واحدٍ، ثم اقْتَسَمُوہ بَینَہم فی إناءٍ  واحدٍ بالسویة، فَہمْ مِنِّی وأنا مِنْہم‘‘. (ریاض الصالحین، باب الإیثار والمواساة، رقم الحدیث: ۵۶۸، ص:۱۷۳، دارالسلام)
          غور كریں اس حدیث شریف میں نبی كریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعری قبیلہ والوں كی اس وجہ سے تعریف كی كہ جب كبھی سفر حضر میں ان كے ہاں غلہ كی كمی ہوجاتی تو وہ اپنا غلہ ایك كپڑے میں جمع كردیتے اور پھر برابر تقسیم كرلیتے؛ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان كے بارے میں خوش ہوكر فرمایا: ’’وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔‘‘
          ’’المحلی بالآثار‘‘  میں علامہ ابن حزمؒ نے لكھا ہے كہ ’’اس بات پر صحابہ كرام رضی اللہ عنہم كا اجماع ہے كہ اگر كوئی شخص بھوكا، ننگا یا ضروریاتِ زندگی سے محروم ہے تو مالدار كے خاص مال میں سے اس كی كفالت كرنا فرض ہے۔‘‘ (المحلی بالآثار، كتاب الزكاة: ۴/۲۸۳، دارالكتب العلمیة)
          ’’اسلام كا اقتصادی نظام‘‘ میں حضرت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی رحمہ اللہ نے لكھاہے كہ تمام ائمۂ مجتہدین كا بھی یہی مسلك ہے (اسلام كا اقتصادی نظام، ص:۴۶، ندوة المصنّفین)
          خلاصۂ كلام! اسلام اپنی تعلیمات كے ذریعے تعاون وتكافل كا وہ اعلیٰ ترین معیار قائم كرتا ہے، جس كی بلندیوں تك آج مذموم سرمایہ دار اور لادین اشتراكی ذہن ركھنے والے كا تخیل، پرواز ہی نہیں كرسكتا۔ اسلام معاشی كمزوریاں دور كرنے كے لیے اجتماعی كفالتِ عامہ كا جو تصور پیش كرتا ہے اُسے صرف وعظ وتلقین ہی تك نہیں چھوڑا، اور نہ ہی اسے صرف انفرادی اور اجتماعی وجدان كے رحم وكرم كے سپرد كیا ہے؛ بلكہ اسلامی ریاست كے امیرالمؤمنین كو ذمہ دار بنایا ہے، كہ وہ اس نظام كو عملی جامہ پہنائے اوراس كے احیاء میں آنے والی ہرركاوٹ دور كرے۔

اسلامی نظامِ تكافل كی حدود اورطریقہ كار

          مندرجہ بالا سطور میں یہ بات تفصیل سے گذرچكی ہے كہ كفالت ِ عامہ بنیادی طور پر اسلامی ریاست كی ذمہ داری ہے، اس كے تحت اب جائزہ اس بات كا لینا ہے كہ یہ نظام، ریاست میں بسنے والے صرف مسلمانوں كے لیے ہوگا یا غیرمسلم بھی اس نظام سے مستفید ہوسكیں گے اور پھر اس نظام كے تحت كس قسم كی ضروریات پوری كی جائیں؟ ہر انسان كے ساتھ كچھ ضرو ریات ایسی ہوتی ہیں، جو انسانیت كی فلاح وبہبود سے متعلق ہوتی ہیں، مثلاً تعلیم، صحت، تزویج، نومولود بچوں كے وظائف، معذور افراد كی دیكھ بھال، مقروضوں كے قرضوں كی ادائیگی وغیرہ۔
          اس كے بعد یہ جاننا بھی ضروری ہے ، نظامِ كفالت كا سارا بوجھ سركاری ریاست كے ہی ذمے ہے یا معاشرے كے افراد بھی اس میں شامل ہیں؛ چنانچہ معلوم ہوتا ہے كہ افرادِ امت كے ذمہ بھی كچھ مختلف نوعیت كی ذمہ داریاں لاحق ہوتی ہیں، جن میں كچھ قانونی اور كچھ اخلاقی ذمہ داریاں ہیں، قانونی ذمہ داریوں كو ’’صدقاتِ واجبہ‘‘ (مثلاً: زكوٰة، عشر، صدقۂ فطر، كفارات، اور نذور وغیرہ) اور اخلاقی ذمہ داریوں كو ’’انفاق‘‘ (مثلاً: صدقاتِ نافلہ، قرضِ حسنہ، ہبہ، عاریت، وصیت، امانت، اوقاف، میراث، اور نفقات وغیرہ) سے تعبیر كیا جاسكتا ہے۔
          پھر اس كے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے كہ یہی سركاری ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری كرنے كے لیے مصارف كہاں سے اور كیسے لائیں گے؟ اس كے لیے كون كون سے ذرائع اختیار كیے جائیں گے؟ تو یہ مصارف اور ذرائع آمدنی اسلام میں متعین ہیں، مثلاً: زكوٰة، خمس، متعین شرائط كے ساتھ جائز ٹیكس، اموالِ فاضلہ، خراج، منافع تجارت وغیرہ۔
          خلاصۂ كلام! اگر مندرجہ بالا شعبوں كا احیاء ہوجائے اور یہ مصروفِ عمل ہوجائیں تو ممكن ہی نہیں كہ ملك میں دولت كے ذخائر پر محض چند اور مخصوص افراد قابض ہوں، اور گردشِ دولت كا بہاؤ صرف اور صرف سرمایہ كاروں كی طرف ہی ہو، اوراس كے برعكس دوسری طرف غریب طبقہ ظلم كی چكی میں پس رہا ہو، اور بھوك پیاس كی حالت میں ایك ایك لقمے كا محتاج ہو۔
          اگر اسلام كا یہ نظامِ كفالت وجود میں ہو تو كوئی وجہ نہیں كہ ہمیں غیروں كے بنائے ہوئے نظامِ انشورنس وغیرہ كا سہارا لینا پڑے اور اپنے دین ومذہب كا خون كرنا پڑے؛ البتہ اس كے لیے انتھك محنت كرنا ہوگی، كہ جس طرح آج سے چودہ سو سال قبل یہ نظامِ كامل پوری طرح چمكتا ہوا، انسان كو انسان اور جہالت و نفسانیت میں ڈوبے معاشرے كو ایك صالح اور پُرامن معاشرے میں ڈھال چكا تھا، جس كی حقانیت كا اعتراف اپنے تو اپنے، غیر بھی كرنے پر مجبور ہوگئے، اسلامی اخوت اور بھائی چارے كی ایسی ایسی مثالیں قائم ہوئیں كہ آج تك مغرب معاشرہ اس كی كوئی نظیر پیش نہ كرسكا، تو كوئی وجہ نہیں كہ كوئی نظام اس وقت ’’جب كوئی ظاہری ٹھاٹ باٹ نہ تھے‘‘ اپنا اثر قائم كرسكتا ہو اور آج كے دور میں بے اثر ہو!! اگر معاشرے كے چند بااثر افراد مل كر ہمت وكوشش كرلیں اور اپنے فاضل اموال كو مذكورہ بالا مدّات میں خرچ كرلیں اور پھر ان كی دیكھا دیكھی كچھ اور، اور پھر كچھ اور، حتیٰ كہ ہر طرف ایك عام فضا بن جائے تو یقیناً مقصود حاصل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

اسلام كا نظامِ كفالت كن كن افراد كے لیے مفید ہوگا؟

          اسلامی ریاست میں بسنے والے چونكہ صرف مسلمان ہی نہیں ہوتے؛ بلكہ غیرمسلم بھی ہوتے ہیں تو ریاست میں مقیم ہر مسلم وغیرمسلم كی كفالت اس نظام كا حصہ ہے۔ حضرت ابوبكر صدیق رضی اللہ عنہ كے عہد ِ مبارك میں جب ’’حیرہ‘‘ فتح ہوا تو اس موقع پر ایك معاہدہ لكھا گیا جس میں مسلم اور غیرمسلم دونوں كے لیے كفالت ِ عامہ كا ذكر ہے، ملاحظہ ہو:
          ’’وَجَعَلتُ لہم أیما شیخٍ ضعُفَ عَنِ العَمَلِ أو أصَابَتْہ اٰفةٌ مِنْ اٰفاتٍ أو غَنِیاً فافتَقَرَ وصَارَ أہلُ دینہ یتَصَدَّقُونَ علیہ، طُرِحَتْ جِزْیةٌ، وعِیلَ مِنْ بیتِ مالِ المسلمینَ وعِیالُہٗ ما أقامَ بِدارِالہجرةِ ودارِالإسلام‘‘ (كتاب الخراج لأبی یوسف، باب فی الكنائس والبیع والصلبان، ص:۱۴۴، مطبوعة سلفیة)
          اس كا مفہوم یہ ہے كہ حضرت صدیق اكبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا كہ: ’’میں طے كرتا ہوں كہ اگر ذمیوں میں سے كوئی ضعیف ہو، كام نہ كرسكتا ہو، یا آسمانی یا زمینی آفات میں سے كوئی آفت اس پر آپڑے،یا ان كا كوئی مالدار محتاج ہوجائے اوراس كے اہلِ مذہب اس كو خیرات دینے لگیں، تو ایسے تمام افراد كا جزیہ معاف ہے، اور بیت المال سے ان كی اور ان كے اہلِ خانہ كی كفالت كی جائے گی، جب تك وہ دارالہجرة اور دارالاسلام میں اقامت پذیر ہوں۔‘‘
          اسی تناظر میں دورِ فاروقی كا بھی ایك واقعہ ملاحظہ كرلیا جائے جسے امام ابویوسفؒ نے اپنی كتاب الخَراج میں نقل كیا ہے:
          ’’قال: وحدَّثَنی عمرُ بنُ نافعٍ عن أبی بكرٍ قال: مَرَّ عمرُ بنُ الخطابِ رضی اللّٰہ عنہ بِبَابِ قومٍ وعلیہ سائلٌ یسأل، شیخٌ كبیرٌ، ضریرُ البصر، فضَرَبَ عضُدَہ مِنْ خَلْفِہ وقال: مِن أی أہلِ الكتاب أنتَ؟ فقال: یہودی، قال: فما ألجأك إلی ما أرىٰ؟ قال: أُسأَلُ الجزیةَ، والحاجةَ، والسِنَّ، قال: فأخذ عمرُ بیدِہٖ وذَہبَ بہ إلی منزلِہٖ، فرضَخَ لہ بشیء مِنَ المنزِلِ، ثم أَرْسَلَ إلى خازنِ بیتِ المال، فقال: اُنْظُرْ ہذا ہوَ ضُربائَہ، واللّٰہ ما أنصفناہ أن أكلنا شبیبتَہ، ثم نخذُلُہ عند الہرَم ﴿إنما الصدقات للفقراء والمساكین﴾ و ’’الفقراء‘‘ من المسلمین، وہذا من ’’المساكین‘‘ من أہل الكتاب، ووضع عنہ الجزیةَ وعن ضُربائِہ، قال أبوبكر: أنا شہدت ذلك من عُمَرَ ورأیتُ ذٰلك الشیخَ‘‘. (كتاب الخراج لأبی یوسف، فی من یجب علیہ الجزیة، ص:۱۲۶، الطبعة السلفیة القاہرة)
          ’’اس كا مفہوم یہ ہے كہ ایك بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایك نابینا بوڑھے شخص كو بھیك مانگتے دیكھا، اس سے پوچھنے پر پتہ چلا كہ وہ یہودی ہے، بھیك مانگنے كا سبب دریافت كیا تو اس نے جواب دیا كہ جزیہ كی ادائیگی، معاشی ضروریات اور پیرانہ سالی نے (بھیك مانگنے پر مجبور كردیا) یہ سن كر آپ رضی اللہ عنہ اس كا ہاتھ پكڑ كر اپنے گھر لے گئے، جو موجود تھا وہ دیا، اور پھر بیت المال كے خزانچی كے پاس فرمان بھیجا كہ یہ اور اس جیسے دوسرے حاجت مندوں كی تفتیش كرو، اللہ كی قسم! ہم اس كے ساتھ ہرگز انصاف نہیں كرسكتے كہ اس كی جوانی كی محنت (بصورتِ جزیہ) تو كھائیں مگر اس كے بڑھاپے میں اسے بھیك مانگنے كے لیے چھوڑ دیں، قرآن پاك میں ہے:  ﴿إنما الصدقات للفقراء والمساكین﴾  اور میرے نزدیك یہاں ’’فقراء‘‘ سے مراد مسلمان مفلس ہیں (اور ’’مساكین‘‘ سے مراد اہل كتاب كے مساكین وفقراء ہیں) اور یہ سائل مساكینِ اہلِ كتاب میں سے ہے، اس كے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس كا جزیہ معاف كردیا۔‘‘
          مذكورہ بالا اور اس جیسی اور بہت سی نظائر سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے كہ اسلام كا نظامِ كفالت بلا تمیز مسلم وكافر سب كے لیے ہے، یہ ایسا ابر ِ رحمت ہے جو باغ اور كوڑے كركٹ، ہر جگہ برستا ہے۔

كن ضروریات كو پوراكیا جائے گا؟

          انسان كی ضروریات دو قسم كی ہیں: اوّل وہ ضروریات جن پر انسان كی زندگی كا دارومدار ہے، اور دوسری وہ ضروریات جو حیاتِ انسانی میں نكھار كا سبب بنتی ہیں:

پہلی قسم كی ضرویات:

          ضروریات كی اس قسم میں بنیادی طور پر خوراك، لباس، جائے سكونت، اور ابتدائی وضروری طبی امداد شامل ہے، اسلامی حكومت تمام مذكورہ ضروریات كو پورا كرے گی، مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ لكھتے ہیں كہ: ’’اسلامی حكومت كے سربراہ كے لیے ضروری ہے كہ وہ ہر فرد خواہ وہ امیر ہو یا فقیر، مرد ہو یا عورت كو اس كی استعداد اور حالت كے مطابق ان تین بنیادی ضروریات كے حصول كے لیے ہر قسم كی سہولیات پہنچائے، وہ تین چیزیں یہ ہیں: (۱) كھانے پینے كی سہولت، كیوںكہ یہ ہر فرد كی زندگی كا ذریعہ ہے، اور اس كے بغیر زندگی كا تصور ہی نہیں۔ (۲) لباس كی ضرورت، خواہ وہ روئی كا ہو یا كتان (قیمتی كپڑا) یا اُون كا۔ (۳) ازدواجی زندگی كی سہولت، كیوںكہ یہ انسانی نسل كی بقاء كے لیے ضروری ہے۔‘‘ (اسلام كا اقتصادی نظام، ص:۱۵۳، ندوة المصنّفین)

دوسری قسم كی ضروریات:

          اس قسم میں وہ ضروریات شامل ہیں، جو انسان كو اخلاقی اعتبار سے اور معاشرتی اعتبار سے مضبوط كرتی ہیں، ان میں تعلیم وتربیت، صحت ودیگر مصائب، غیرشادی شدہ اور شادی شدہ افراد كی كفالت، مقروضوں كے قرضوں كی ادائیگی، ومولود بچوں كے وظائف، اپاہج وناكارہ افراد كی كفالت، سرایوں كی تعمیر، خواتین اسلام كی كفالت وغیرہ وغیرہ۔ (ان تمام صورتوں كے تفصیلی احكامات كتاب الاموال لابی عبید، كتاب الخراج لیحیٰ بن آدم القرشی، سیرة عمر بن عبدالعزیز لابن عبدالحكیم، سیرة عمر بن عبدالعزیز لابن جوزی، سیرة عمر بن الخطاب لابن جوزی، تاریخ الخلفاء للسیوطی، الطبقات الكبریٰ لابن سعد میں ملاحظہ كیے جاسكتے ہیں)

كفالت كس حد تك كی جائے گی؟

          اسلام كے نظامِ كفالت عامہ كی حدود كیا ہیں؟ تو جاننا چاہیے كہ جوں جو اسلامی ریاست وسیع ہوتی جائے گی اور وسائل بڑھتے جائیں گے، اسی طرح كفالت كا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا؛ چنانچہ اسلام كا نظامِ تكافل وكفالت ِ عامہ كی وسعت، جامعیت، كاملیت وحدود كا اندازہ لگانے كے لیے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جنھیں خلیفۂ راشد تسلیم كیاگیا ہے، كا نمونہ ہمارے سامنے ہے كہ:
          ’’كَتَبَ عمرُ بنُ عبدِالعزیزِ رَحِمَہ اللّٰہ إلى عَبْدِ الحمیدِ بنِ عبدِالرحمٰنِ، وہو بالعراقِ، ’’أن أخرِجْ للناسِ أعطیاتہم‘‘ فكتب إلیہ عبدالحمید، ’’إنی قد أخرجت للناس أعطیاتہم، وقد بقی فی بیت المال‘‘ فكتب إلیہ: ’’أن انظر كلَّ من أدان فی غیر سفہ ولا سرف، فاقض عنہ‘‘ فكتب إلیہ: ’’إنی قد قضیت عنہم، قد بقی فی بیت مال المسلمین مالٌ‘‘ فتكب إلیہ: ’’أن انظر كل بكرٍ لیس لہ مالٌ، فشاء أن زوجہ، فزوِّجہ واصدق عنہ‘‘ فكتب إلیہ: ’’إنی قدزوّجتُ كل من وجدتُ، وقد بقی فی بیت مال المسلمین مالٌ‘‘ فكتب إلیہ: بعد مخرج ہذا، ’’أن انظر من كانت علیہ جزیة فضعف عن أرضہ فأسلفہ ما یقوی بہ علىٰ عمل أرضہ، فإنا لا نریدہم لعامٍ ولا لعامین‘‘ قال: قال لعمری ہٰذا أو نحوہ‘‘ (كتاب الأموال لأبی عبید، الجزء الثالث: صنع عمر بن عبدالعزیز فی تقسیم الفیء: ۱/۳۶۳، دارالہدی النبوی، مصر)
          مذكورہ روایت كا خلاصہ یہ ہے كہ: ’’حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے گورنر كے نام لكھا كہ وہ لوگوں كے عطایا ان كو ادا كرے، گورنر نے جواب لكھا كہ میں نے عوام كے عطایا انھیں ادا كردئیے ہیں؛ مگر بیت المال كی رقم بچی پڑی ہے (اس كا كیا كروں؟) تو آپؒ نے لكھا كہ ایسے مقروضوں كو تلاش كرو جنھوں نے كسی بغیر نادانی كے كاموں كے، یا بغیر فضول خرچی كے قرض لیا ہو، ان كا قرض ادا كردو، گورنر نے لكھا كہ میں نے ایسے تمام (مقروضوں) كے قرضے ادا كردیے ہیں، پھر بھی مسلمانوں كے بیت المال میں رقم بچ گئی ہے، آپؒ نے لكھا كہ ہر ایسے كنوارے كو تلاش كرو جس كے پاس مال نہ ہو، مگر وہ شادی كرنا چاہتا ہو، اس كی شادی كراؤ، اور اس كا مہر ادا كرو، گورنر نے لكھا كہ میں نے جس كسی كو ایسا پایا، اس كا نكاح كرادیا ہے، مگر پھر بھی بیت المال میں رقم باقی ہے، آپؒ نے لكھا كہ ہر ایسے ذمی (شخص) كو تلاش كرو جس پر جزیہ ہو، اور (مفلسی كے باعث) اپنی زمین آباد كرنے سے عاجز ہو، اسے قرضہ دو تاكہ وہ اپنی زمین (كی آبادكاری) كا كام كرنے كے قابل ہوجائے، كیوںكہ ہم ان (ذمیوں) كو صرف ایك سال یا دو سال كے لیے ہی نہیں ركھنا چاہتے (بلكہ ان سے حسن وسلوك كا طویل رشتہ چاہتے ہیں)‘‘۔
          اس روایت سے خوب اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے كہ اسلام كا نظامِ كفالت ِ عامہ كتنا جامع اور وسیع ہے كہ وسائل كی دستیابی كےساتھ ساتھ اس كا دائرہ بڑھتا جاتا ہے اور پھیلتا جاتا ہے، اور پھر رعایا كی ضروریات كی تكمیل كا اندازہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ كے ایك ارشاد سے بخوبی لگایا جاسكتا ہے، فرمایا:
          ’’أما وَاللّٰہ! لَئِنْ بَقِیتُ لِأرامِلِ أہلِ العراقِ لأدعنہن لاَ یفْتَقِرْنَ إلىٰ أمیرٍ بعدی‘‘. (كتاب الخراج لیحیىٰ بن آدم القرشی، باب الرفق بأہل الجزیة، رقم الحدیث: ۲۴۰، ص:۷۳، المكتبة العلمیة)
          فرمایا: ’’اللہ (جل شانہ) كی قسم! اگر میں اہلِ عراق كی بیواؤں كے لیے (اگلے سال تك) زندہ رہ سكا، تو انھیں ایسا (غنی) كردوںگا كہ وہ میرے بعد كسی امیر كی اعانت كی محتاج نہ رہیں گی‘‘۔ اور پھر ان خواہشات كی تكمیل حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ كے دورِ خلافت میں ہوئی جس كی طرف ان كے ایك گورنر یحییٰ بن سعید نے اشارہ كیا ہے، ملاحظہ ہو:
          ’’قال یحیىٰ بنُ سعید بعثنی عمرُ بنُ عبدِالعزیز رحمہ اللّٰہ إلی صدقاتِ إفریقیةَ، فاقْتَضَیتُہا وطَلَبْتُ فقراء، نعطیہا لہم، فلم نجد بہا فقیراً ولم نجد من یأخذہا منی، قد أغنىٰ عمرُ بنُ عبدِالعزیزِ الناسَ، فاشتریتُ بہا رقاباً فأعتقتہم، وولائہم للمسلمین‘‘. (سیرة عمر بن عبدالعزیز لابن عبدالحكیم: ۱/۶۵)
          یحییٰ بن سعید بیان كرتے ہیں كہ ’’مجھے امیرالمومنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے افریقہ میں صدقات كی وصولی كے لیے بھیجا، میں نے صدقات وصول كیے اور ایسے لوگوں كی تلاش كی جنھیں صدقات دے سكوں؛ مگر ایسا شخص نہ ملا جو صدقہ قبول كرے، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اہل عراق كو (اتنا) غنی كردیا تھا (كہ انھیں صدقہ قبول كرنے كی حاجت ہی نہیں رہی تھی) بالآخر میں نے اس صدقہ سے غلاموں كو خریدكے آزاد كیا۔‘‘
          یہ انتہاء ہے اسلام كے نظامِ كفالت ِ عامہ كی، اس حقیقت سے نظریں چُراكر مغرب كے قائم كردہ نظاموں كو قائم كرنا، ان كو رواج دینا بالخصوص ’’نظامِ انشورنس‘‘ كو اسلام كے اس كامل نظام كے مقابل كھڑا كرنا ظلم نہیں تواور كیا ہے؟ انسان كا بنایا ہوا نظام شاید قانون ساز كی تجوری كو تو بھرسكتا ہو؛ لیكن ہر ہر انسان كے لیے وہ مفید ومعاون ہو، ایسا ہونا محال ہے، اس عالمی ضرورت كو پورا كرنے كے لیے قانونِ الٰہی ہی كارگرد ثابت ہوسكتا ہے، كوئی اور نہیں۔
          نظامِ انشورنس كی خامیاں جو شرعاً اسے ناجائز قرار دیتی ہیں ان كی تفصیلات موجودہ دور كے تمام اكابرین نے ذكر كی ہیں، جو اس یہودی ذہنیت كے قائم كردہ نظام كے كھوكھلے پن كو پوری طرح واضح كردیتی ہیں، ملاحظہ ہو: امداد الفتاویٰ:۳/۳۱۰، امداد الاحكام:۳/۴۹۰، كفایت المفتی:۸/۸۲، احسن الفتاویٰ: ۷/۲۳، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (امداد المفتیین): ۲/۷۰۷، نظام الفتاویٰ: ۱/۱۸۳،۲/۲۸۶، فتاویٰ محمودیہ ’’مطبوع جامعہ فاروقیہ‘‘: ۱۶/۳۸۷،  فتاویٰ حقانیہ: ۶/۲۱۹، فتاویٰ بینات: ۴/۱۳۶، كتاب الفتاویٰ از مفتی گل حسن صاحب: ۱۲۷/۱، كتاب الفتاویٰ از مولانا سیف اللہ خالد رحمانی صاحب: ۵/۳۵۸، جدید فقہی مسائل:۱/۲۶۰، آپ كے مسائل اور ان كا حل: ۶/۲۵۵، جدید معاملات كے شرعی احكامات: ۱/۱۷۱، جدید مسائل كا شرعی حل، ص:۱۰۶، اسلام اور جدید دور كے مسائل، ص:۱۷۳، اور بیمۂ زندگی از مفتی ولی حسن ٹونكیؒ ومفتی محمد شفیع عثمانیؒ دیوبندی۔

No comments:

Post a Comment