اردو لغت میں سِیاسَت کہتے ہیں:
[فیروز اللغات: ص825]
عربی لغت میں السياسة کہتے ہیں ملکی تدبیر وانتظام۔ اور السياسة المدنية یعنی شہری انتظام، عدل واستقامت کے ساتھ اس طرح پر انتظام کرنا کہ سب کی معاشی حالت اچھی ہو۔
نبی ﷺ کی سچی پیشگوئی:
لَتُنْقَضَنَّ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، فَكُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَةٌ تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا، وَأَوَّلُهُنَّ نَقْضًا الْحُكْمُ وَآخِرُهُنَّ الصَّلَاةُ۔
ترجمہ:
اسلام کی سب کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹیں گی، جب بھی اسلام کی کوئی کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس کے بعد والی کڑی سے چمٹنے لگیں گے۔ سب سے پہلے جو کڑی ٹوٹے گی وہ اسلام کا نظامِ حکومت ہوگا اور سب سے آخر میں ٹوٹنے والی کڑی نماز ہوگی۔
[مسند(امام)احمد: حدیث#22160]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ ، وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ وَكُنْتُ أَسُوسُهُ ، فَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْخِدْمَةِ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ كُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ وَأَقُومُ عَلَيْهِ وَأَسُوسُهُ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَعْطَاهَا خَادِمًا ، قَالَتْ : كَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ ، فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ فَجَاءَنِي رَجُلٌ ، فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ : إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ ، قَالَتْ : إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ ، أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَيَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ ، فَجَاءَ ، فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ : إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ ، قَالَتْ : مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا دَارِي ؟ فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ : مَا لَكِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلًا فَقِيرًا يَبِيعُ ، فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ ، فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي ، فَقَالَ : هَبِيهَا لِي ، قَالَتْ : إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا " .
[مسند أحمد:26972، صحيح البخاري:5224، صحيح مسلم:2182، صحيح ابن حبان:4500، السنن الكبرى للنسائي:9125، المعجم الكبير للطبراني:250، السنن الكبرى للبيهقي:14717، زاد المعاد: 5/170]

اس حدیث کی شرح میں علامہ بدرالدین عینی حنفی لکھتے ہیں: ’’سیاست سے مراد اُن امور کا اہتمام کرنا جن میں امت کے لیے صلاح وفلاح ہو اور یہ اس لیے کہ جب بنی اسرائیل میں فساد برپا ہوتا تو اللہ تعالیٰ دفعِ فساد کے لیے نبی بھیجتا جو اُن کے معاملات کو راستی پر قائم رکھتا اور تورات کے احکام میں جو تحریف وہ کرچکے ہوتے، اُن کا ازالہ فرماتا‘‘۔
[عمدۃ القاری: جز:16، ص: 43]
انبیاء کی سیاست کاری کی مندرجہ بالا حکمت بیان کرنے کے بعد اس حدیث کی شرح میں علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی مزید لکھتے ہیں: ’’اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رعایا کے لیے اس امر کا اہتمام ضروری ہے کہ اُن کے (نظمِ اجتماعی کے ) معاملات کو قائم رکھا جائے اور انھیں راستی پر جاری رکھا جائے اور مظلوم کو ظالم سے انصاف دلایا جائے،نبی کریم ﷺ کے اس فرمان: ’’بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اگر میرے بعد نبی کا آنا ممکن ہوتا تو بنی اسرائیل کی طرح میری امت میں (آنے والے زمانوں میں) برپا ہونے والے فساد کی وہ نبی اصلاح کرتا (لیکن میں خاتم النبیّٖن ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا)، سو انبیائے بنی اسرائیل کا نظمِ اجتماعی کی صلاح وفلاح کا کام سرانجام دینے کے لیے خلفاء ہوں گے‘‘۔
[فتح الباری: ج:6، ص:497]
اسی لیے حدیث پاک میں ہے:’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کی طرف سے جواب دہ ہے، سربراہِ ملک نگہبان ہے اور وہ اپنے ماتحت لوگوں کی طرف سے جواب دہ ہے، مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف سے جواب دہ ہے، عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اور وہ اپنے ماتحت لوگوں کی طرف سے جواب دہ ہے، نوکر اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور وہ اپنے زیر تصرف چیزوں کی طرف سے جواب دہ ہے اور میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: مرد اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اپنے زیر تصرف چیزوں کی طرف سے جواب دہ ہے اور تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اس سے اس کے ماتحت لوگوں کے متعلق سوال کیا جائے ‘‘۔
[صحیح البخاری: 893]
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’ان لوگوں کو اگر ہم زمین میں اقتدار عطا فرمائیں تو(لازم ہے کہ) وہ نماز قائم کریں ،زکوٰۃ ادا کریں اور نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے‘‘۔
[سورۃ الحج:41]
اس سے معلوم ہوا کہ نظامِ صلوٰۃ ونظامِ زکوٰۃ کے قیام اور امر بالمعروف اور نھی عن المنکَر کے نفاذ کے لیے بھی تمکین یعنی ’’زمین کے کسی حصے پر اقتدار ‘‘چاہیے ۔ہماری دینی درسیات میں فلسفے کی تعریف یہ بتائی جاتی تھی:’’فلسفہ چیزوں کی حقیقت وماہیت کو ،جیساکہ وہ ہیں، جاننے کا نام ہے‘‘۔
پھر اس کی تین قسمیں ہیں:
(۱) تہذیبِ نفس، یعنی فرد کی اپنی اصلاح اور علم کے حصول کا اولین مقصد بھی نفس کی اصلاح ہے،تہذیب کے لفظی معنی ہیں: ’’مختلف جہات میں پھیلی ہوئی درخت کی بے ہنگم شاخوں کی کانٹ چھانٹ کرنا تاکہ درخت زمین سے نمی کی صورت میں جو توانائی حاصل کرتا ہے، وہ منقَسم ہوکر ضائع نہ ہو اور درخت صحیح سَمت میں پروان چڑھتا رہے ‘‘۔ پس تہذیبِ نفس کے معنی بھی یہی ہیں: ’’انسان کے نفس کو خواہشاتِ باطلہ کی جھاڑ جھنکار سے پاک وصاف کر کے صحیح نشوونما کا موقع دیا جائے تاکہ وہ نفسِ لوّامہ سے ارتقا کرکے نفسِ مطمئنّہ کی منزل کو پاسکے ‘‘۔
(۲) تدبیرِ منزل : اس سے مراد ہر ایک کاخاندان سے لے کر اداروں تک اپنے دائرۂ کار واختیار میں حُسنِ تدبیر اختیار کرنا اور احسن طریقے سے معاملات کو چلانا ، جیساکہ حدیث پاک میں ہے: ’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اکرم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اُس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، حاکم ِ وقت سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ملازم اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے، اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ یہ باتیں میں نے رسول اکرم ﷺ سے سنیں اور میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اور آدمی اپنے باپ کے گھر کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ،پس ہر ایک (کسی نہ کسی درجے میں )نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘[صحیح البخاری:2409]
(۳) سیاستِ مُدَن: ’’یعنی رعایا کی صلاح وفلاح اور بہبود کے لیے مملکت وریاست اور حکومت کے نظمِ اجتماعی کی احسن طریقے سے تدبیر کرنا ، بندے کے خَلق اور خالق کے ساتھ روابط کو صحیح سَمت میں استوار کرنا ،یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی رعایت کرنا ، معاشرے میں عدلِ اجتماعی کو قائم کرنا ، جیساکہ رسول اللہ ﷺ کے پہلے خلیفۂ راشد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے اوّلین خطبۂ خلافت میں فرمایا تھا: ’’لوگو! مجھے تم پر حاکم بنادیا گیا ہے، حالانکہ میں اس بات کا دعویدار نہیں ہوں کہ میں تم سب سے بہتر ہوں، پس اگر میں راہِ راست پر چلوں توتم پر میری مدد کرنا لازم ہے اور اگر(بالفرض) میں راہِ راست سے بھٹک جائوں تو تم مجھے سیدھا کردو ، سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے ،تم میں سے جو کمزور ہے، وہ میرے نزدیک طاقتور ہے تاوقتیکہ میں ظالم سے اس کا حق چھین کر اسے لوٹادوں اور تم میں سے جو طاقتور ہے ، وہ میرے نزدیک کمزور ہے تاوقتیکہ میں اس سے مظلوم کا حق چھین لوں ،ان شاء اللہ تعالیٰ، جس قوم میں فحاشی فروغ پاتی ہے ، اللہ اس پر آفتیں نازل فرماتا ہے اور جو قوم شعارِ جہاد کو چھوڑ دیتی ہے ، اس پر ذلّت مسلّط کردی جاتی ہے، سو اگر میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروں تو تم پر میری اطاعت لازم ہے اور اگر (بالفرض)میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں ہے، کیونکہ کسی ایسے معاملے میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے، جس میں اللہ کی نافرمانی لازم آئے۔
اس خطبے میں ریاستِ اسلامی کے سارے فلسفے اور حکومت کے فرائض کو بیان کردیا گیا ہے کہ حکومت کی اولین ذمے داری عدلِ اجتماعی کا قیام ہے، ظلم کی طرف بڑھنے والے ظالم کے ہاتھ کو جھٹکنا ہے اور مظلوم کی داد رسی کرنا ہے، معاشرے میں عفّت ، حیا اور تقوے کو فروغ دینا ہے، جہاد کے شِعار کو جاری رکھنا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو جادۂ مستقیم پر کار بند رہنا ہے۔
مگر اب ہمارے ہاں سیاست دشنام ہے ، اتّہام ہے ، الزام ہے ، مفادات کا سمٹائو ہے ، اختیارات کو اپنی ذات میں مرکوز کرنا ہے ، دجل ہے، فریب ہے، عیّاری ہے ، اسی لیے کوئی کسی سے دجل وفریب کرے تو اردو کا محاورہ بن گیا ہے:’’میرے ساتھ سیاست نہ کرو‘‘، گویا سیاستِ دوراں دیانت وامانت کی ضد ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُن کے حقداروں کو ادا کرو‘‘۔
[سورۃ النسآء:158]
حدیث پاک میں ہے: رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا:قیامت کب آئے گی، آپ ﷺ نے فرمایا: جب امانت ضائع کردی جائے گی ، سائل نے پوچھا: امانت کیسے ضائع ہوگی، آپ ﷺ نے فرمایا: جب مسلمانوں کے (نظمِ اجتماعی) کے امور نااہلوں کے سپرد کردیے جائیں، تو قیامت کا انتظار کرو۔‘‘۔
[صحیح البخاری:59]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن اور اس زمانہ میں رُوَیْبِضَۃ بات کرے گا۔ آپ سے سوال کیا گیا: رُوَیْبِضَۃ کیا ہے، آپﷺنے فرمایا: حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا۔
[سنن ابن ماجہ: 4036]
*حکمرانوں کی اطاعت کے بیان میں اگرچہ وہ تمہارے حقوق نہ دیں:*
حضرت علقمہ بن وائل ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سلمی بن یزید جعفی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ اس بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے حاکم مسلط ہوجائیں جو ہم سے اپنے حقوق تو مانگیں اور ہمارے حقوق کو روک لیں؟ آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا: اس نے آپ ﷺ سے پھر پوچھا آپ ﷺ نے پھر اعراض فرمایا، پھر اس نے دوسری یا تیسری مرتبہ پوچھا تو اسے اشعث بن قیس نے کھینچ لیا اور کہا:
[صحیح مسلم» حدیث نمبر: 4782]
(دوسری روایت میں ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
*اس کیا بات سنو اور اطاعت کرو کیونکہ ان پر ان کا بوجھ اور تمہارے اوپر تمہارا بوجھ ہے۔*
[جامع ترمذی:2199، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ:3176]
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْخُرُوجِ عَلَى الْأَئِمَّةِ وَالْأُمَرَاءِ وَخَلْعِهِمْ وَسَبِّهِمْ وَالطَّعْنِ عَلَيْهِمْ وَمَا جَاءَ مِنَ التَّغْلِيظِ فِي ذَلِكَ
بَيَانُ الْخَبَرِ المُوجِبِ عَلَى الرَّعِيَّةِ الْوَفَاءَ بِبَيْعَةِ الْإِمَامِ، وَتَرْكِ الِامْتِنَاعِ مِنْ إِعْطَاءِ حَقِّهِمُ الَّذِي يَجِبُ لَهُمْ
ذِكْرُ الْإِخْبَارِ بِأَنَّ عَلَى الْمَرْءِ عِنْدَ ظُهُورِ الْجَوْرِ أَدَاءَ الْحَقِّ الَّذِي عَلَيْهِ دُونَ الِامْتِنَاعِ عَلَى الْأُمَرَاءِ
علماء پر اسلامی سیاست کی آگاہی(مساجد میں بھی) دینا لازم ہے۔
آدابِ حکومت وسیاست:
(1) امارت کو "بغیراہلیت" خود طلب نہ کرنا۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اے عبدالرحمان بن سمرہ! امارت کو طلب نہ کرنا، اس لیے کہ اگر یہ تیرے مانگنے پر دی گئی تو تجھے اس کے حوالے کردیا جائے گا، اور اگر تیرے مانگے بغیر دی گئی تو تیری اس پر مدد کی جائے گی۔
[صحيح البخاري» كتاب الاحكام» بابا من لم يسال الامارة... حديث7146]
تفسیر الرازی:18/ 473 سورۃ یوسف: آیۃ55
(2) نااہل کو عہدہ نہ سونپنا۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
جب امانت ضائع کی جانے لگے تو قیامت کا انتظار کرو۔
پوچھا گیا:
امانت کا ضائع کرنا کیا ہے؟
فرمایا:
جب معاملات نااہل کے حوالہ کئے جائیں تو تم قیامت کا انتظار(تیاری) کرو۔
[صحیح البخاری» حدیث59، السیاسۃ الشرعیۃ(امام)ابن تیمیۃ: صفحہ10]
الله حکم دیتا ہے تم سب کو کہ ادا کیا کرو امانتیں انکے اہل کو
[سورۃ النساء:58]
مؤمن کسی سے دو مرتبہ دھوکہ نہ کھائے۔
رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مؤمن کو ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا۔
[بخاري:6133]
القرآن:
یعقوب نے کہا : میں اس(بنیامین)کو تمہارے ساتھ اس وقت تک ہرگز نہیں بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام پر مجھ سے یہ عہد نہ کرو کہ اسے ضرور میرے پاس واپس لے کر آؤ گے، الا یہ کہ تم(واقعی)بےبس ہوجاؤ۔ چنانچہ جب انہوں نے اپنے والد کو یہ عہد دے دیا تو والد نے کہا: جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے۔
[سورۃ یوسف:64]
(3) ماہر اور امانتدار شخص کو امیر متعین کرنا۔
القرآن:
۔۔۔چنانچہ جب(یوسف، بادشاہ کے پاس آگئے اور) بادشاہ نے ان سے باتیں کیں،تو اس نے کہا: آج اسے ہمارے پاس تمہارا بڑا مرتبہ ہوگا اور تم پر پورا بھروسہ کیا جائے گا. یوسف نے کہا کہ: آپ مجھے ملک کے خزانوں(کے انتظام)پر مقرر کر دیجئے، یقین رکھئے کہ میں(خیانت سے محفوظ رکھنے والا)امانتدار اور(عدلِ الٰہی کا)خوب علم رکھتا ہوں۔
[سورۃ یوسف:54+55]
(4) عالم اور بہادر شخص کو متعین کرنا اگرچہ غریب ہو۔
القرآن:
اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ: الله نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔ کہنے لگے: بھلا اس کو ہم پر بادشاہت کرنے کا حق کہاں سے آگیا ؟ ہم اس کے مقابلے میں بادشاہت کے زیادہ مستحق ہیں، اور اس کو تو مالی وسعت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا: الله نے ان کو تم پر فضیلت دے کر چنا ہے اور انہیں علم اور جسم میں(تم سے)زیادہ وسعت عطا کی ہے، اور اللہ اپنا ملک جس کو چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔
[سورۃ البقرة : آیت 247]
(5) صالح وزیر اور مشیر متعین کرنا۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالی نے کسی نبی کو نہیں بھیجا اور نہ کسی خلیفہ کو، مگر ان کے دو وزیر ہوتے ہیں: ایک وزیر اچھی باتوں کا حکم کرتا ہے اور حاکم کو اس پر ابھارتا ہے، اور ایک وزیر برے کاموں کا حکم کرتا ہے اور حاکم کو اس پر ابھارتا ہے، لہذا معصوم تو وہی ہے جس کی اللہ حفاظت فرمائے۔
[صحیح بخاری:6611]
تفسیر ابن کثیر:2/ 106 سورۃ آل عمران:118
مسلمانوں پر کافر/منافق/نااہل عزیز قریب کو عہدہ سونپنا بددیانتی ہے۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
جس نے مسلمانوں کی کسی شیء پر کسی ایسے شخص کو والی(حاکم/افسر)بنادیا کہ اس سے بہتر اور مسلمانوں کیلئے درست موجود ہے{کتاب وسنت کا زیادہ جاننے والا ہو}تو اس نے الله اور اس کے رسول ﷺ سے خیانت کی۔
[السیاسة الشرعية(امام)ابن تيمية: ص7{بیھقی:20364}]
دلائلِ قرآن،سورۃ النساء:58،الانفال:27
جائز اور ناجائز موروثیت-اقرباپروری کا معیار:
قابل ہو تو قریبی(رشتہ دار)کی سفارش کرنا حق ہے، دوسروں پر زیادتی نہیں۔
القرآن:
اور(موسیٰ نے رب سے فرمایا کہ)میرے لیے میرے خاندان ہی کے ایک فرد کو وزیر(مددگار)مقرر کردیجیے۔
[سورۃ نمبر 20 طه، آیت نمبر 29]
بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی، اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو وزیر(مددگار)کے طور پر(ہم ہی نے)مقرر کیا تھا۔
[سورۃ نمبر 25 الفرقان، آیت نمبر 35]
نوٹ:
موروثی تجارت ٹھیک ہے، موروثی زراعت ٹھیک ہے، موروثی صحافت بھی ٹھیک ہے توموروثی سیاست (اس لئے کہ مغرب کی اندھی تقلید کرنے والوں کیلئے مغرب میں موروثی سیاست ہے ہی نہیں) بھی انبیاء کے وارثین کیلئے ٹھیک بلکہ حق ہے۔
عہدہ ایک امانت ہے۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
یہ(حکومت وامارت)بھی ایک امانت ہے، اور قیامت کے دن یہ ذلت وندامت کا موجب ہے سوا یہ کہ امارت کو حق طریق سے لیا، اور اس کے حقوق کو اس میں پوری طرح ادا کیا۔
[صحیح مسلم» حدیث#1825،
المستدرک الحاکم:7019،
السنن الکبریٰ بیھقی:20212]
بےشک الله حکم دیتا ہے تم سب کو کہ ادا کیا کرو امانتیں انکے اہل کو
[تفسیر القاسمی:3/182»سورۃ النساء:58]
وؤٹ کی شرعی حیثیت (1)شہادت یا (2)مشورہ دینے کی طرح ہے۔
عادلانہ شہادت دینا فرض اور چھپانا حرام ہے۔
القرآن:
۔۔۔۔۔اور گواہی کو مت چھپاؤ، اور جو گواہی کو چھپائے وہ گنہگار دل کا حامل ہے، اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔
[سورۃ البقرۃ:283]
اور اجتہادی واجتماعی معاملات میں اہل علم وعقل ساتھیوں سے امیر(حاکم)کو مشورہ لینے کا حکم دیا گیا ہے۔
القرآن:
۔۔۔۔۔اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔ پھر جب تم رائے پختہ کر کے کسی بات کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ اللہ یقینا توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
[حوالہ سورۃ آل عمران:159]
کثرت کو بطورِ دلیل پیش کرنا کیسا ہے؟
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں، اگر آپ ان کا کہا مان لوگے، تو وہ آپ کو(اے نبی!) الله کی راہ سے بہکادیں گے، (کیونکہ) بےشک وہ پیچھے چلتے ہیں "اپنےخیال" پر ہی اور وہ سب بس "اٹکل" ہی چلاتے ہیں.
[سورۃ الانعام:116]
(کیونکہ) اکثر لوگ ہیں...
جاھل [سورۃ الانعام:111]
بےعقل [سورۃ المائدۃ:103]
نافرمان [سورۃ الاعراف:102]
بےعلم [سورۃ الاعراف:187]
بےایمان [سورۃ ھود:17]
ناشکرے [سورۃ یوسف:38]
مشرک [سورۃ یوسف:106]
انکاری [سورۃ الاسراء:89]
جھگڑالو [سورۃ الکھف:54]
ناحق پسند [سورۃ المومنون:70]
جھوٹے [سورۃ الشعراء:223]
لہٰذا وہی اکثریت معتبر ہے جن میں یہ بری عادتیں نہ ہوں، بلکہ ان کے متضاد خوبیاں موجود ہوں۔
اکثریت معتبر ہے۔۔۔۔علماء کی، عقلاء کی، فرمانبرداروں کی، مومنوں کی، شکرگذاروں کی، توحید والوں موحدین کی، سچوں کی۔
4036
(6) مرد(بہادر) کو امیر ونگہبان بنانا۔
رسول الله ﷺ نے پیشگوئی فرمائی کہ:
وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے اپنا ولی(سربراہ)کسی عورت کو بنایا۔
[صحیح بخاری:7099، جامع ترمذی:2262، سنن نسائی:5388]
تفسیر الثعلبی:7/ 193 سورۃ النحل:آیۃ 23
تفسیر ابن کثیر:2/ 256 سورۃ النساء:آیۃ 34
(7) امیر-حاکم کا باجماعت نماز کا خصوصی اہتمام کرنا.
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرو وہ تم سے محبت کریں, اور تم ان کے جنازے میں شرکت کرتے ہو اور وہ تمہارے جنازوں میں شرکت کریں۔ اور تمہارے بدترین حکمرانوں میں سے وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہوں تم ان پر لعنت کرنے والے ہو اور وہ تم پر لعنت کرتے ہوں۔
ہم نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس وقت انہیں معزول نہ کردیں؟
فرمایا:
نہیں، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں۔
[صحیح مسلم:4805(1481)]
اگر ظالم حکمران مسلط ہو جائیں تو مسلمان کو کیا کرنا چاہئے؟
(1)اطاعت (2)نصیحت (3)صبر (4)اپنی اصلاح (5)دعا۔
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
(1)گناہ کے علاؤہ میں انکی"اطاعت"کرنا۔
[حوالہ»بخاری:2957-7257،سورۃ النساء:59]
(2)افضل یہ ہے کہ ہتھیار سے لڑنے اور بےعزت کئے بغیر خفیہ طریقہ اور نرمی سے"نصیحت"وخیرخواہی کرنا، زبان سے عدل/حق کی بات کہنا۔
[حوالہ»مسلم:95(196) ترمذی:2174»حوالہ۔سورۃ المائدة:79،غافر:29]
(3)انکی مالی وجسمانی زیادتیوں کے باوجود"صبر"کرنا، اس بنیاد پر بغاوت نہ کرنا۔۔
[حوالہ»صحیح مسلم:1847(4785) تفسير.سورة النساء:59]
(4)انکی برائی کرتے رہنے کے بجائے اپنی غلطیوں کی نشاندہی اور "اصلاح"میں مشغول رہنا۔
[حوالہ»المعجم الاوسط للطبرانی:8962 تفسير.سورة المائدة:105،الرعد:11]
(5)اللہ سے"دعا"کرنا کہ وہ ہمیں ظالم کی آزمائش میں مبتلا نہ کرے۔
[حوالہ»سورۃ یونس:85،آل عمران:26]
مسلم حکمران کے 10 حقوق:
(8) تمام امیروں-حاکموں کا نماز باجماعت کا خصوصی اہتمام کرنا۔
حضرت نافعؒ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں تمام حاکموں کو یہ خط لکھا کے کہ: تمہارے تمام کاموں میں سب سے اہم میرے نزدیک نماز ہے، جو شخص اس کی حفاظت کرے اور پابندی کرے تو گیا اس نے پورے دین کی حفاظت کی، اور جس نے اس کو ضائع کر دیا تو وہ اس کے علاوہ کی چیزوں کو بہ درجۂ اُولیٰ ضائع کرے گا۔
[مؤطا مالک:9، بیھقی:2096]
(9)مخلوق کی رائے کے بجائے الله کے حکم کے مطابق"فیصلے"یعنی عدل کرنا۔
اللہ پاک کا ارشاد ہے:
اور ہم حکم دیتے ہیں کہ تم ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے "نازل" کیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔
[سورۃ المائدۃ:49]
اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔
[النساء:58]
۔۔۔اور جو فیصلہ نہ کرے الله کی نازل کردہ(نصیحتِ عدل)کے مطابق۔۔۔
تو وہی لوگ کافر ہیں۔[المائدۃ:44]
تو وہی لوگ ظالم ہیں.[المائدۃ:45]
تو وہی لوگ فاسق ہیں۔[المائدۃ:47]
(10) اپنی قوم کی خیرخواہی چاہنا اور ان کو دھوکا نہ دینا.
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
جس شخص کو کسی قوم کا امیر بنایا گیا ہوں، اور وہ اس حال میں مرے کہ اس نے اپنی رعیت کے ساتھ دھوکہ کیا ہو، تو الله اس پر جنت کو حرام کر دیتے ہیں۔
[صحیح البخاری»کتاب الأحکام، باب من استراعىٰ رعية فلم ينصح، حديث7151]
حقیقی خیرخواہ جانئیے:
سورۃ الاعراف:68+79+93، ھود:34
ذخیرہ اندوزی اور نرخ مقرر کرنے کے متعلق:
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اگر کسی نے میری امت میں ایک رات بھی مہنگائی کی خواہش کی، تو الله اس کے چالیس سال کے اعمال ضائع کر دیں گے۔
[جامع الأحادیث:21836]
تفسیر الطبری:2/434سورۃ الاعراف:188
حضرت علیؓ سے روایت ہے ۔۔۔ حضرت عمرؓ نے ایسے(مہنگائی میں بچنے کیلئے ذخیرہ کردہ)ڈھیروں کو جلانے کا حکم دیا۔
[جامع الأحادیث:32963]
(11) حاکم کا اپنی قوم کی ضروریات کا خیال کرنا۔
رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جو امام یا والی کسی محتاج، ضرورتمند، اور مجبور لوگوں کیلئے اپنے دروازے بند رکھے گا، الله پاک اس کی محتاجی، ضرورت اور مجبوری کے وقت آسمان کے دروازے بند کردے گا۔
[سنن الترمذي»ابواب الأحكام»باب ما جاء في امام الرغية... حديث# 1332]
تفسیر الطبری:9/252سورۃ آل عمران:126
(12) رعیت کے ساتھ سخاوت کا معاملہ کرنا۔
الله کے رسول ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے۔
[بخاری:6]
الله کے رسول ﷺ سے کبھی بھی کوئی بھی چیز مانگی جاتی تو وہ کبھی بھی انکار نہ کرتے، یہاں تک کہ ایک شخص نے ان سے دو پہاڑوں کے درمیان ایک بکری مانگی تو انہوں نے وہ بھی اسے دے دی۔
[مسلم:2312]
۔۔۔اور تمہارے دین کیلئے درستگی واصلاح والی چیز صرف سخاوت اور حسنِ اخلاق ہیں.
[تنبیه الغالفلین:726]
(13) رعیت کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا۔
رسول الله ﷺ نے حُکّام کے حق میں (الله کو) پکارتے فرمایا:
اے الله! جس شخص کو میری امت کے کسی معاملہ میں حاکم بنایا جائے اور وہ ان پر سختی کرے، تو تُو بھی اس پر سختی کر؛ اور جس شخص کو میری امت کے کسی معاملہ میں حاکم بنایا جائے اور وہ ان پر نرمی کرے، تو تُو بھی اس پر نرمی کر۔
[صحيح مسلم»كتاب الامارة»بال فصيلة الامير العادل»حديث#1828]
دلائل قرآن،سورة آل عمران:159
القرآن:
اس پر انہوں نے کہا : اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کرلیا ہے، اے ہمارے پروردگار! ہمیں ان ظالم لوگوں کے ہاتھوں آزمائش میں نہ ڈالیے۔ اور اپنی رحمت سے ہمیں کافر قوم سے نجات دے دیجیے۔
[سورۃ نمبر 10 يونس، آیت نمبر 85-86]
نوٹ:
(1)الله ہی کو ہر چیز پر قادر ماننا چاہئے۔
[حوالہ سورۃ آل عمران:26]
(2)ظالم۔اور کافر حکمرانوں کے مسلط ہونے کو بھی الله ہی کی آزمائش ماننا چاہئے۔
[حوالہ سورۃ الانعام؛129، النساء:90]
اور الله ہی پیغمبروں کو مسلط کرتا ہے جس پر چاہتا ہے۔
[الحشر:6]
(3) صبر کرنے والے سچے مومنوں کو پرکھنے کیلئے الله پاک چیزوں(ذرائع، وسائل، اسباب) یعنی۔۔۔خوف، بھوک، مال، جان اور ثمرات میں نقص "ضرور بالضرور" آزمائے گا۔
[حوالہ سورۃ بقرۃ:155، محمد:31]
لہٰذا مخلوق کی سازش کو اصل قوت نہ سمجھنا چاہئے۔ جیسے: کاغذ پر لکھنے والا قلم کو قرار نہیں دیا جاتا۔
(4)الله کی آزمائش میں الله ہی سے مدد مانگنا چاہئے۔
[حوالہ سورۃ البقرۃ:156، یونس:85]
(5)برے حکمران کی علامت۔۔۔اجتماعی ضرورت کے بجائے محض اپنی خواہش کے سبب جان بوجھ کر رعایہ پر ظلم وسختی کرنا ہے۔
(6)اچھے حکمران کی علامت رعایہ پر نرمی کا مسلسل ارادہ وکوشش کرنا ہے۔
(7)عوام کو اپنے لیڈر/نمائندوں کی عقیدت یا احترام میں معتدل Neutral رہنا چاہئے کہ مقرر شدہ مسلم حکمران کے فیصلوں کی نرمی یا سختی دونوں کے مطابق دعا کرنے کے بجائے...صرف بددعا ہی نہ کرے۔ (کیونکہ) بددعا کے ساتھ دعا کرنا سنت ہے۔
[صحیح ابن حبان:553]
(8)امت یعنی تمام مسلمانوں کے معاملات کے نفع ونقصان کی فکر وخیرخواہی میں رہنا چاہئے، نہ کہ صرف اور صرف اپنی پارٹی کے۔
(9)مسلم ظالم حکمران سے مسلح لڑائی کے بجائے۔۔۔تنہائی میں نصیحت کرنا چاہئے [حاکم:5269] اور حق/عدل کی بات کہنا افضل جہاد ہے۔[ابوداؤد:4344] پھر اپنی اصلاح) اور اللہ سے دعا میں مشغول رہنا چاہئے۔
(10)ہدایت کردہ کوششوں/طریقوں کے بعد۔۔۔۔دنیا یا آخرت میں خیر کا نتیجہ ملنے کا۔۔۔مومن کو الله پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.»
ترجمہ:
”پہلوان وہ نہیں ہے جو (کشتی لڑنے میں) اپنے مقابل کو گرا دے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔
[صحيح البخاري:6114، صحيح مسلم:2609]
حقیقی قوت عضلات اور جسم کی قوت نہیں ہے اور نہ ہی وہ شخص طاقتور ہوتا ہے جو لوگوں کو ہمیشہ پچھاڑ دے۔ بلکہ حقیقی طاقت ور تو وہ ہے جو غصے کی شدت میں اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ کرکے اسے قابو کرلے۔ کیونکہ یہ اس کے اپنے نفس پر کنڑول اور شیطان پر غلبے کی دلیل ہے۔
(14) بڑائی نہ جتلانا۔
القرآن:
اور میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرمادے تو بات اور ہے ( کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا) بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
[سورۃ یوسف : آیت 53]
۔۔۔ تم اپنے آپ کو پاکیزہ نہ ٹھہراؤ، وہ(اللہ)خوب جانتا ہے کہ کون مُتّقی(ڈرنے والا پرہیزگار)ہے۔
[سورۃ النجم:32]سورۃ النساء 49
متقی(پرہیزگار)کون؟
القرآن:
جو (1)بےدیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں (2)اور نماز قائم کرتے ہیں (3)اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے (اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔
[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 3]
جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں، (4)اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔
[سورۃ نمبر 3 آل عمران، آیت نمبر 134]
جو دیکھے بغیر اپنے پروردگار سے ڈریں، اور جن کو قیامت کی گھڑی کا خوف لگا ہوا ہو۔
[سورۃ نمبر 21 الأنبياء، آیت نمبر 49]
(15) اہلِ علم وفضل کے ساتھ شرافت کا معاملہ کرنا۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ شخص پر.
[ترمذي»كِتَاب الْعِلْمِ»بَاب فِي فَضْلِ الْفِقْهِ...حديث#2628]
عالموں کی بزرگی(عزت و اکرام)کرو! اس لئے کہ وہ نبیوں کے وارث ہیں، جس نے ان کی بزرگی کی اس نے الله اور رسول کی بزرگی کی۔
[جامع الأحاديث،للسيوطي:4353]
تفسیر سورۃ المجادلۃ:11
القرآن:
جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز شخص آئے تو اس کا اکرام کرو۔
[سنن ابن ماجه:3712، بیھقی:16686]
القرآن:
مساوات اور عدل میں فرق:
https://raahedaleel.blogspot.com/2021/03/blog-post_22.html
(16) حاکم کا تجسُّس نہ کرنا۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
امیر(حاکم)جب رعایا کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو انہیں بگاڑ دیتا ہے۔
[سنن ابوداؤد» کتاب الادب» باب فی التجسس،حدیث/4889]
تفسیر ابن کثیر:
اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔۔۔
[سورۃ الحجرات: آیت12]
(17) کسی عہدے سے پہلے جس سے تحفے کا لین دین نہ ہو، اس کا تحفہ قبول نہ کرنا۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
الْهَدِيَّةُ إِلَى الْإمَامِ غُلُولٌ.
ترجمہ:
حاکم کو تحفہ دینا خیانت ہے۔
[طبرانی:11486، صحيح الجامع:705]
جب دینا بددیانتی ہے تو لینا یقیناً جرم ہوا کیونکہ ناجائز کو جائز کرنے یا حقدار کے حق سے محروم کرنے کیلئے،عہدے واختیار کی مدت میں جو کچھ دیا جاتا ہے، وہ بددیانتی و رشوت ہے۔
قبیلہ ازد کے ایک صحابی کو جنہیں ابن اتبیہ کہتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے [بنی سلیم کے] صدقہ وصول کرنے کے لیے عامل(تحصیلدار) بنایا۔ [پھر جب یہ عامل واپس آیا اور نبی کریم ﷺ نے ان کا حساب لیا ‘ اس نے سرکاری مال علیحدہ کیا اور کچھ مال کی نسبت کہنے لگا کہ]کہ یہ تم لوگوں کا ہے (یعنی بیت المال کا) اور یہ مجھے ہدیہ(تحفہ) میں ملا ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ اپنے والد یا اپنی والدہ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا۔ دیکھتا وہاں بھی انہیں ہدیہ ملتا ہے یا نہیں۔ [اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا، امابعد! میں تم میں سے کسی ایک کو اس کام پر عامل بناتا ہوں جس کا اللہ نے مجھے والی بنایا ہے پھر وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تمہارا مال اور یہ تحفہ ہے جو مجھے دیا گیا تھا۔ اسے اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھا رہنا چاہیے تھا تاکہ اس کا تحفہ وہیں پہنچ جاتا۔] اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اس (مال زکوٰۃ) میں سے اگر کوئی شخص کچھ بھی (ناجائز) لے لے گا تو قیامت کے دن اسے وہ اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ [بلکہ میں تم میں ہر اس شخص کو پہچان لوں گا جو اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ] اگر اونٹ ہے تو وہ اپنی آواز نکالتا ہوا آئے گا، گائے ہے تو وہ اپنی اور اگر بکری ہے تو وہ اپنی آواز نکالتی ہوگی۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ ہم نے آپ ﷺ کی بغل مبارک کی سفیدی بھی دیکھ لی (اور فرمایا) اے اللہ! کیا میں نے تیرا حکم پہنچا دیا۔ اے اللہ! کیا میں نے تیرا حکم پہنچا دیا۔ تین مرتبہ (آپ ﷺ نے یہی فرمایا) ۔
[صحيح البخاری - حدیث نمبر 2597، 6979، 7174، 7197]
(18) اجتماعی نظم واتحاد کو قائم رکھنے کیلئے حکمران کی سننا اور ماننا، اگرچہ حکمران (1)جسمانی یا (2)مالی ظلم کرے۔
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم شر (گمراہیوں کی جہالت) میں مبتلا تھے، اللہ پاک ہمارے پاس آپ کے ذریعے اس بھلائی (ہدایتِ اسلام) کو لایا، جس میں ہم ہیں، تو کیا اس بھلائی کے پیچھے بھی کوئی برائی ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
ہاں۔
میں نے عرض کیا:
کیا اس برائی کے پیچھے کوئی خیر بھی ہوگی؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
ہاں۔
میں نے عرض کیا:
کیا اس خیر کے پیچھے کوئی برائی بھی ہوگی؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
ہاں۔
میں نے عرض کیا:
کیا اس خیر کے پیچھے کوئی برائی ہوگی؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو میری ہدایت سے راہنمائی حاصل نہ کریں گے اور نہ میری سنت کو اپنائیں گے، اور عنقریب ان میں ایسے لوگ کھڑے ہوں گے کہ ان کے دل انسانی جسموں میں شیطان کے دل ہوں گے۔
میں نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول ﷺ میں کیا کروں اگر اس زمانہ کو پاؤں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
حاکم کی بات سن اور اطاعت کر اگرچہ (1)تیری پیٹھ پر مارا جائے یا (2)تیرا مال غصب کرلیا جائے، پھر بھی ان کی بات سن اور اطاعت کر۔
کتاب:-امارت اور خلافت کا بیان،
باب:-فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت(جس کا امام ہو) کے ساتھ رہنے کا حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
باب:-حکمران کی طرف سے پہنچنے والی اذیت پر صبر کا بیان، اور اپنے دل میں برائی کا انکار کرنا، اور اس سے لڑائی کیلئے نکلنے کو چھوڑ دینے کا بیان۔
[السنن الكبرى للبيهقي:16617]
آخری زمانے، اور قیامت کی نشانیوں کے بیان میں۔
[ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:2740]
حکمران کا حق، سننا اور ماننا۔
کتابِ ہدایت اور نبوی سنت کو لازم پکڑنا۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ لِحَبَشِيٍّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ۔
ترجمہ:
(حاکم کی) سن اور کہا مان خواہ وہ حبشی ہو جس کا سر کشمش کی طرح(چھوٹا)ہو۔
[مسند الطيالسى: 2087 ، صحیح البخارى: 664.]
أَسْمَعَ وَأُطِيعَ ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ۔
ترجمہ:
(حاکم کی) سن اور کہا مان خواہ وہ سیاہ کالا اور لولا لنگڑا ہو۔
[مسند الطيالسى: 452 ، مسند أحمد (5/161، رقم 21465) ، صحیح مسلم (1/448، رقم 648) ، وابن خزيمة فى السياسة كما فى إتحاف المهرة للحافظ (14/152، رقم 17547) ، وابن حبان (4/622، رقم 1718) .]
خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
مسلمان پر(حکمران کی)سننا اور ماننا لازم ہے، خواہ وہ پسند کرے یا نا پسند، سوائے یہ کہ اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے، پھر اگر ایسا کوئی حکم اسے دیا جائے تو اس معاملے میں اس پر سننے اور ماننے کی کوئی ذمہ داری نہیں۔
[صحیح مسلم»کتاب الامارۃ»باب وجوب الطارۃ الامراء۔۔۔حدیث نمبر 1839]
تفسیر البغوی»سورۃ النساء:59
آدابِ سیاسیاتِ اسلام:-
*جماعت کو لازم پکڑنا۔۔۔یعنی۔۔۔امام، مقتدا، پیشوا، رہبر کی اطاعت میں متحد رہنا۔*
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
*جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔ امام کی مثال ڈھال جیسی ہے کہ اس کے پیچھے رہ کر اس کی آڑ میں (یعنی اس کے ساتھ ہو کر) جنگ کی جاتی ہے۔ اور اسی کے ذریعہ (دشمن کے حملہ سے صلح کرکے) بچا جاتا ہے، پس اگر امام تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کا حکم دے اور انصاف کرے اس کا ثواب اسے ملے گا، لیکن اگر بےانصافی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔*
[صحیح(امام)بخاری» کتاب:-جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ » *باب:-امام (بادشاہِ اسلام) کے ساتھ ہو کر لڑنا اور اس کے زیر سایہ اپنا (دشمن کے حملوں سے) بچاؤ کرنا۔*، حدیث نمبر: 2957]
[صحیح(امام)مسلم » کتاب:-امارت اور خلافت کا بیان، *باب:-امام کے مسلمانوں کے لئے ڈھال ہونے کے بیان میں*، حدیث نمبر: 4772]
[سنن(امام)ابوداؤد» کتاب: جہاد کا بیان، *باب:-امام جو عہد کرے اس کی پابندی سب لوگوں پر ضروری ہے۔* حدیث نمبر: 2757]
[سنن(امام)نسائی» کتاب:-بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ، *باب:-امام کے واسطے کیا باتیں لازم ہیں؟* حدیث نمبر: 4201]
[السنن الكبرى للبيهقي» کتاب الجزية، *باب:-رسول اللہ ﷺ کے بعد ائمہ کی صلح کا بیان جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی ہے۔* حدیث نمبر 18816]
https://youtu.be/41PwUKve4Ao
القرآن:
*اے ایمان والو! (1)کہا مانو اللہ کا، (2)اور کہا مانو رسول کا بھی، (3)اور تم(مسلمانوں) میں سے حکم والوں کا۔۔۔*
[سورۃ النساء:59]
تفسیر:
مومنو! کہا مانو (1)کتاب اللہ کا اور (2)سنتِ رسول کا (3)اور علماء وحکمرانوں کے اجماعی متفقہ باتوں کا۔۔۔
[تفسیر من سعید بن منصور:652-653، تفسیر من الجامع لابن وھب:228، تفسیر ابن المنذر:1932، سنن الدارمی:225، تفسیر ابن ابی حاتم:5535، حاکم:422ـ423، شرح اصول اعتقاد-اللالکائی:75-77]
یعنی
(1)قرآن (2)سنت (3)اجماع مانو۔
جہاد فى سبيل اللہ كے ليے امام المسلمين كى اجازت كى شرط كا حكم
جب دشمن مسلمانوں پر حملہ آور ہو جائے تو اس حالت ميں ہر مسلمان شخص پر قتال اور لڑائى كرنا فرض ہو جاتا ہے، اور اس وقت امام المسلمين كى اجازت حاصل كرنے كى شرط نہيں.
رہا وہ جہاد جس كا مقصد فتوحات ميں وسعت دينا، اور كفار كو اسلام كى دعوت دينا، اور جو اللہ تعالى كے حكم كے سامنے سرخم تسليم نہ كرے اس كے خلاف لڑنا، تو اس كے ليے امام المسلمين كى اجازت حاصل كرنا شرط ہے، تو اس طرح امور ميں انظباط پيدا ہوتا ہے.
ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اور جہاد كا معاملہ امام المسلمين اور اس كے اجتہاد كے سپرد ہے، اور اس سلسلے ميں رعايا كے ليے امام المسلمين كى رائے پر عمل كرنا لازم ہے " .
[المغنى ( 10 / 368 )].
اور امام المسلمين كى اجازت افراتفرى پيدا كرنے ميں مانع ہے، جس كا اللہ كے دشمنوں كى اور مسلمانوں كى قوت اور امور كو مد نظر ركھے بغير بعض مسلمانوں كا كفار كے خلاف اعلان جہاد كرنے سے پيدا ہونا ممكن ہے.
مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:
اعلاء كلمۃ اللہ اور دين اسلام كى حمايت، اور دين كى نشر و تبليغ اور اس كى حدود اور حرمات كى حفاظت كے ليے جہاد كرنا ہر اس شخص پر فرض ہے جو ايسا كرنے كى قدرت و طاقت ركھتا ہو.
ليكن افراتفرى اور بدنظمى كے خوف سے بچنے كے ليے جس كا انجام اچھا نہ ہو لشكر روانہ كرنا ضرورى ہيں؛ اسى ليے اس كے شروع ہونے اور اس ميں داخل ہونے كے ليے مسلمانوں كے ولى الامر كا عمل دخل ہے، تو علماء كرام اس كے ليے اٹھ كھڑے ہوں.
تو جب جہاد شروع ہو اور مسلمانوں كو اس كے ليے نكلنے كا كہا جائے تو جو شخص بھى اس پر قادر ہو اور اس كى استطاعت ركھتا ہو تو وہ خالصتا اللہ تعالى كى رضا اور حق كى مدد و نصرت اور دين اسلام كى حمايت و بچاؤ كے ليے اس دعوت كو قبول كرے، اور جو شخص بھى ضرورت ہونے كے باوجود بغير كسى عذر جہاد سے پيچھے رہا وہ گنہگار ہوگا " انتہى.
[فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 12 / 12 ).]
اور لوگوں كا امام المسلمين كى جانب سے اكٹھا ہونا ان كى وقوت و طاقت ميں اضافہ كريگا، اس پر مستزاد يہ كہ ان كا امام المسلمين كى ہر اس كام ميں اطاعت كا التزام كرنا جو شريعت كے مخالف نہ ہو شرعى واجب ہے، اس سے مسلمان مجاہدين كى صفوف ميں وحدت پيدا ہوگى اور وہ سب مل كر دين حنيف اور اللہ كى شريعت كى مدد و حمايت كرينگے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ كہتے ہيں:
ولاية أمر الناس من أعظم واجبات الدين، بل لا تمام للدين والدنيا إلا بها، فإن بني آدم لا تتم مصلحتهم إلا بالاجتماع لحاجة بعضهم
ترجمہ:
" يہ جاننا ضرورى ہے كہ لوگوں كا اولى الامر بننا عظيم دينى واجبات ميں شامل ہوتا ہے، بلكہ اس كے بغير نہ تو دين اور نہ دنيا قائم ہو سكتى ہے كيونكہ بنى آدم كى مصلحتيں اور ضروريات لوگوں كے اجتماع كے بغير پورى نہيں ہو سكتيں، كيونكہ وہ ايك دوسرے كے محتاج ہيں، اور اجتماع كے ليے كسى بڑے كى ضرورت ہوتى ہے.
[السياسة الشرعية في إصلاح الراعي والرعية - ط عطاءات العلم: صفحہ237]
حتى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
«إِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ.»
ترجمہ:
" جب تين اشخاص سفر پر نكليں تو اپنے ميں سے كسى ايك كو اپنا امير بنا ليں "
[سنن أبي داود:2608]
اسے ابوداود رحمہ اللہ نے ابو سعيد خدرى رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے.
اور امام احمد رحمہ اللہ مسند احمد ميں عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُونَ بِأَرْضِ فَلَاةٍ إِلَّا أَمَّرُوا عَلَيْهِمْ أَحَدَهُمْ
ترجمہ:
" كوئى تين اشخاص زمين كے كسى بھى حصہ ميں ہوں تو ان كے ليے حلال نہيں مگر وہ اپنے اوپر كسى ايك كو امير مقرر كر ليں "
[مسند أحمد:6647، المعجم الكبير للطبراني:139]
تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سفر جيسى ضرورت ميں بھى جو كہ ايك قليل سا اجتماع ہے ميں امير بنانا واجب كيا ہے جو كہ باقى سب اجتماعات پر تنبيہ ہے؛ اور اس ليے كہ اللہ سبحانہ وتعالى نے امر بالمعروف اور نہى عن المنكر كا كام واجب كيا ہے، اور يہ كام قوت و طاقت اور امارت كے بغير پورا نہيں ہو سكتا.
تو اسى طرح جہاد، عدل و انصاف، حج كرنا، جمعہ اور عيدوں كى ادائيگى، اور مظلوم كى نصرت و مدد، حدود كا نفاذ جيسے وہ سب امور جو اللہ تعالى نے فرض اور واجب كيے ہيں، يہ سب قوت و طاقت اور امارت كے بغير پورے نہيں ہوتے.
اسى ليے روايت كي گئى ہے كہ:
«إِنَّ السُّلْطَانَ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ
ترجمہ:
" حكمران اور سلطان زمين ميں اللہ كا سايہ ہے "
[الأموال لابن زنجويه:32، السنة لابن أبي عاصم:1013+1024، مسند البزار:5383]
اور كہا جاتا ہے:
سِتُّونَ سَنَةً مِنْ سُلْطَانٍ ظَالِمٍ خَيْرٌ مِنْ لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ بِلَا سُلْطَانٍ
ترجمہ:
" ظالم حكمران كے ساتھ ساٹھ(60) برس، حكمران كے بغير ايك رات سے بہتر ہيں " اور تجربہ اسے بيان كرتا ہے ".
[مجموع الفتاوى ابن تيميہ ( 28 / 390 - 391 )]
اور شيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ كا كہنا ہے:
" كسى بھى لشكر كے ليے امام المسلمين كى اجازت كے بغير جنگ كرنا جائز نہيں، چاہے معاملہ جيسا بھى ہو؛ كيونكہ جنہيں جنگ كرنے اور جہاد كرنا مخاطب كيا گيا ہے وہ ولى الامر اور حكمران ہيں، نہ كہ افراد، لوگوں ميں سے افراد اہل حل و عقد كے تابع ہيں، اس ليے كسى كے ليے بھى امام المسلمين كى اجازت كے بغير جنگ اور جہاد كرنا جائز نہيں، ليكن اگر دفاع كا معاملہ ہو تو پھر اجازت كى كوئى ضرورت نہيں، جب دشمن اچانك حملہ آور ہو اور انہيں اس كے شر كا خدشہ ہو تو اس وقت وہ اپنا دفاع كرتے ہوئے دشمن سے لڑ سكتے ہيں، كيونكہ اس وقت لڑائى كرنا متعين ہو چكى ہے.
يہ اس ليے جائز نہيں كہ امر امام كے ساتھ معلق ہے، تو امام المسلمين كى اجازت كے بغير جنگ اور غزوہ كرنا اس كى حدود سے تجاوز اور اس پر انتشار ہے، اور اس ليے بھى كہ اگر لوگوں كے ليے امام المسلمين كى اجازت كے بغير جہاد اور جنگ كرنى جائز ہوتى تو معاملہ افراتفرى كا شكار ہو جاتا، جو چاہتا اپنے گھوڑے پر سوار ہو كر جنگ كرنے نكل جاتا، اور اس ليے بھى كہ اگر لوگوں كے ليے ايسا ممكن ہو جائے تو عظيم فساد كھڑا ہو جائيگا، تو كچھ لوگ تيارى شروع كر ديں كہ وہ دشمن كے خلاف جنگ كى تيار كر رہے ہيں، اور وہ امام المسلمين كے خلاف جنگ كرنے كا ارادہ ركھتے ہوں، يا پھر لوگوں ميں سے كسى گروہ پر بغاوت اور ظلم كرنا چاہتے ہوں جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
اور اگر مومنوں ميں سے دو گروہ آپس ميں لڑ پڑيں تو ان دونوں كے مابين صلح كروا دو۔
[سورۃ الحجرات:9]
ان تين امور اور اس كے علاوہ دوسرے امور كى بنا پر بھى امام المسلمين كى اجازت كے بغير جہاد كرنا جائز نہيں ہے " انتہى.
[الشرح الممتع ( 8 / 22 )]
(20) ظلم/ناحق میں اپنی قوم/پارٹی/جماعت کا ساتھ نہ دینا۔
(21) حکمرانوں/سیاستدانوں کو درستگی پر لانا عوام پر لازم ہے۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
الله تعالی تین چیزوں سے تم سے راضی ہے...(1)اللہ تعالی ہی کی عبادت کیا کرو،اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ (2)اور اللہ کی رسی﴿قرآن﴾کو مضبوط تھامے رہو جمع ہوکر اور(جماعت کو چھوڑ کر)گروہ گروہ نہ بن جاؤ (3)اور ان لوگوں کو نصیحت کرتے رہو جنہیں الله نے تمہارے معاملات کا والی(حاکم)بنایا ہے۔
[صحیح ابن حبان:3388]احمد:8718
جو صرف نصیحت ہی نہ کرے بلکہ اجتماعی/ملکی مفاد میں حکمران کی مدد بھی کرے۔
سياسياتِ اسلام»
تین جائز خفیہ سرگوشیاں»
القرآن:
لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، سوائے یہ کہ کوئی شخص صدقے کا یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔ اور جو شخص اللہ کی خوشنودی حاصل کے کرنے کے لیے ایسا کرے گا، ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔
[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 114]
*Difference b/w Diplomacy & Hypocrisy:By Dr Israr Ahmed*
https://youtu.be/aGShqmtuQ1Q
افضل جہاد:
ظالم(مسلم)حکمران کے خلاف ہتھیار کے بجائے زبانی جہاد افضل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ:
اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم
| ||||
(19) دوستی یا دشمنی میں بھی حد سے نہ بڑھنا۔
رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اپنے دوست سے تھوڑی دوستی کر، ممکن ہے کہ کسی وقت وہ تمہارا دشمن بن جائے۔۔۔اور اپنے دشمن سے تھوڑی دشمنی کر، ممکن ہے کہ کسی وقت وہ تمہارا دوست بن جائے۔
[جامع ترمذی» کتاب البر والصلہ، باب الاقتصاد۔۔۔ حدیث#1917]
تفسیر الزمخشری:3/290،سورۃ الفرقان:آیۃ63
تفسیر ابن کثیر:8/118،سورۃ الممتحنۃ:آیۃ7
حضرت لقمان حکیم نے نصیحت فرمائی کہ:
يا بني! لا تكن حلوًا فتبلع، ولا مرًّا فتلفظ
ترجمہ:
بیٹا! نہ تو اتنا میٹھا بنو کہ لوگ تمہیں نگل جائیں، نہ اتنا کڑوا بنو کہ لوگ تھوک دیں۔
[تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی(6/515)»سورۃ لقمان، آیت#13]
(20) لیڈر/سرداروں کے درجہ/حیثیت کا بھی احترام وعزت کرنا اور نرمی سے بات کرنا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز شخص آئے تو اس کا اکرام کرو۔
[سنن ابن ماجه:3712، بیھقی:16686]
القرآن:
جاکر تم دونوں اس(فرعون)سے نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے، یا (اللہ سے) ڈر جائے۔
[تفسیر القرطبی:11/200،سورۃ طٰہٰ:آیۃ44]
القرآن:
غیر اسلامی ریاست کی خصوصیات:(۱)غیر اسلامی ریاست میں خدا کے اقتدارِ اعلیٰ کی نفی کی جاتی ہے۔القرآن:غرض یہ کہ اس(فرعون) نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں ناحق گھمنڈ کیا، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ انہیں ہمارے پاس واپس نہیں لایا جائے گا۔[سورۃ القصص:39]
(۲)غیر اسلامی ریاست میں دوسروں کے معاشی استحصال کی اجازت ہوتی ہے۔ جس کی واضح مثال سودی (رشوت، سٹہ بازی یا جوا وغیرہ کے) نظام کی مضبوطی اور وسعت ہے۔[کتاب مقدس، نیا اور پرانا عہد نامہ، میکاہ، 6: 10،11]
(۳)غیر اسلامی ریاست میں اخلاقیات کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔القرآن:اور فرعون نے اپنی قوم کو برے راستے پر لگایا، اور انہیں صحیح راستہ نہ دکھایا۔[سورۃ طٰہٰ:79]
(۴)غیر اسلامی ریاست میں اپنے اقتدار کی مضبوطی کے لیے انسانوں کو گروہوں اور جماعتوں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔القرآن:واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی اختیار کر رکھی تھی، اور اس نے وہاں کے باشندوں کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم کردیا تھا جن میں سے ایک گروہ کو اس نے اتنا دبا کر رکھا ہوا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو فساد پھیلایا کرتے ہیں۔[سورۃ القصص:4]
جیسے اعمال ویسے حکمران:
أَعْمَالُكُمْ عُمَّالُكُمْ۔
[شرح السنة للبغوي:3845]
حضرت ابو بکرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«كَمَا تَكُونُوا يُوَلَّى عَلَيْكُمْ»
ترجمہ:
جیسے تم ہوگے ویسے ہی تم پر والی (مسلط) ہوں گے۔
[معجم الشيوخ لابن جميع الصيداوي: صفحہ149، شعب الإيمان:7006]
حضرت ابو بکرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«كَمَا تَكُونُونَ يُوَلَّى أَوْ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ»
جیسے تم ہوگے، ویسے ہی تم پر والی یا حکمران مسلط کردیے جائیں گے۔
[مسند الشهاب القضاعي:577، الفردوس بمأثور الخطاب:4918]
القرآن:
اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں۔
[سورۃ الانعام:129 (تفسیر الدر المنثور:3/ 358)]
حکمرانوں کو برا بھلا کہنے کے بجاۓ اپنی اصلاح پر مشغول رہنا:
حضرت ابودرداءؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
«إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا، مَالِكُ الْمُلُوكِ وَمَلِكُ الْمُلُوكِ، قُلُوبُ الْمُلُوكِ فِي يَدِي، وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا أَطَاعُونِي حَوَّلْتُ قُلُوبَ مُلُوكِهِمْ عَلَيْهِمْ بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا عَصَوْنِي حَوَّلْتُ قُلُوبَهُمْ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْطَةِ وَالنِّقْمَةِ فَسَامُوهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ، فَلَا تَشْغَلُوا أَنْفُسَكُمْ بِالدُّعَاءِ عَلَى الْمُلُوكِ، وَلَكِنِ اشْتَغِلُوا بِالذِّكْرِ وَالتَّضَرُّعِ إِلَيَّ أَكْفِكُمْ مُلُوكَكُمْ»
ترجمہ:
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ: میں اللہ ہوں میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، میں بادشاہ ہوں کا مالک ہوں بلکہ بادشاہوں کا بادشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں جب بندے میری فرماں برداری کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں کے دلوں کوان کی طرف رحمت وشفقت کرنے کے لیے پھیر دیتا ہوں اور میرے بندے جب میری نافرمانی پر اترجاتے ہیں تو میں ان کی طرف بادشاہوں کے دلوں کو غصہ اور انتقام کے لیے متوجہ کردیتا ہوں، پس وہ ان کو سخت عذاب اور تکالیف میں مبتلا کردیتے ہیں اس لیے خود کو بادشاہوں پر بددعا میں مشغول نہ کرو، بلکہ خود کو میرے ذکر(نصیحت) اور میری طرف گڑگڑانے (دعا مانگنے) میں مشغول رکھو تاکہ میں تمہارے بادشاہوں سے تم کو کافی ہوجاؤں۔
[المعجم الأوسط للطبراني:8962، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء:2/ 388]
القرآن:
اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، اگر تم صحیح راستے پر ہوگے تو جو لوگ گمراہ ہیں وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، اس وقت وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا عمل کرتے رہے ہو۔
کہو کہ : اے اللہ ! اے اقتدار کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کردیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔
[سورۃ آل عمران:26-غرائب التفسير وعجائب التأويل-الكرماني:1/ 249]
خلاصہ یہ ہے کہ رعایا کے ساتھ حکمرانوں کے رویہ کا تعلق باطنی طور پر لوگوں کے اعمال وکردار سے ہوتا ہے کہ اگر رعایا کے لوگ اللہ کی اطاعت و فرمان برداری کرتے ہیں اور ان کے اعمال ومعاملات بالعموم راست بازی ونیک کرداری کے پابند ہوتے ہیں تو ان کا ظالم حکم ران بھی ان کے حق میں عادل نرم خو اور شفیق بن جاتا ہے اور اگر رعایا کے لوگ اللہ کی سرکشی وطغیانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان کے اعمال ومعاملات عام طور پر بد کر داری کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں تو پھر ان کا عادل ونرم خو حکم ران بھی ان کے حق میں غضب ناک اور سخت گیر ہو جاتا ہے؛ لہٰذا حکم ران کے ظلم وستم اور اس کی سخت گیری وانصافی پر اس کو برا بھلا کہنے اور اس کے لیے بدعا کرنے کی بجائے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے ، ایسے حالات میں اپنی بداعمالیوں پر ندامت کے ساتھ توبہ استغفار کیا جائے ، اللہ تعالیٰ کے دربار میں عاجزی وزاری کے ساتھ التجا و فریاد کی جائے اور اپنے اعمال و اپنے معاملات کو مکمل طور پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع کر دیا جائے تاکہ رحمتِ الٰہی متوجہ ہو اور ظالم حکم ران کے دل کو عدل وانصاف اور نرمی وشفقت کی طرف پھیر دے ۔
الله پاک کی کسی قوم سے رضامندی اور ناراضگی کی علامات:
حضرت حسن البصریؒ روایت کرتے ہیں، رسول الله ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى بِقَوْمٍ خَيْرًا جَعَلَ أَمْرَهُمْ إِلَى حُلَمَائِهِمْ، وَفَيْأَهُمْ عِنْدَ سُمَحَائِهِمْ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ شَرًّا جَعَلَ أَمْرَهُمْ إِلَى سُفَهَائِهِمْ، وَفَيْأَهُمْ عِنْدَ بُخَلَائِهِمْ»
ترجمہ:
جب الله تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ خیر(وبھلائی)کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے(اجتماعی/حکومتی) (1)معاملات بردبار عقلمندوں کے حوالے کرتا ہے، اور(2)مال ان کے سخیوں کو دیتا ہے۔
اور
جب الله کسی قوم سے برائی ارادہ فرماتا ہے تو ان کے (1)معاملات بےوقوف حکمرانوں کے حوالے کرتا ہے اور(2)مال ان کے بخیل(کنجوس)لوگوں کو دیتا ہے۔
[کتاب العقوبات(امام)ابن ابی الدنیا(م281ھ) : حدیث#31، کتاب الحلم(امام)ابن ابی الدنیا:75]
[الآثار لأبي يوسف: ص214، الفرج بعد الشدة للتنوخي:1/ 399، الداء والدواء-ابن القيم: ص48]
نوٹ:
جب دوسری نشانی عام ہو تو پہلی نشانی بھی ساتھ اور لازم ہوگی، ورنہ دونوں علامتیں نہیں ہوں گی۔
وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِالنَّاسِ صَلاحًا عَمَّلَ عَلَيْهِمْ صُلَحَاؤُهُمْ، وَقَضَى بَيْنَهُمْ فُقَهَاؤُهُمْ، وَجَعَلَ الْمَالَ فِي سُمَحَائِهِمْ، وَإِذَا أَرَادَ بِالْعِبَادِ شَرًّا عَمَّلَ عَلَيْهِمْ سُفَهَاؤُهُمْ، وَقَضَى بَيْنَهُمْ جُهَلاؤُهُمْ، وَجَعَلَ الْمَالَ عِنْدَ بُخَلائِهِمْ
ترجمہ:
اور جب اللہ چاہے گا لوگوں کی اصلاح تو ان پر عامل(حاکم Ruler) بنادے گا ان کے نیکوکاروں کو، اور فَیصل(Judge) بنائے گا ان کے فقہاء کو، اور مال دے گا ان کے سخیوں کو۔ اور جب اللہ چاہے گا بندوں سے برائی تو ان پر ان کے بےوقوفوں کو عامل(حاکم Ruler) بنادے گا، اور فَیصل(Judge) بنائے گا ان کے جہلاء کو، اور مال دے گا ان کے کنجوسوں کو۔
[عيون الأخبار-الدينوري:، 1/ 119، أنساب الأشراف للبلاذري:303، حلم معاوية لابن أبي الدنيا:31]
[البيان والتبيين-الجاحظ:1/ 290، تاريخ دمشق لابن عساكر: ج68 ص129، مسند الدیلمی:954(زهر الفردوس:236)، الجامع الصغير وزيادته:1356]
نوٹ:
(1) نیکوکاروں کو حکمران بنایا جائے، نہ کہ بدکاروں کو
(2) اور فقہاء یعنی ماہرِ شریعت کو جج مقرر کیا جائے، نہ کہ دین سے جاہل کو۔
قرآنی گواہی:
ہر شخص کے آگے اور پیچھے وہ نگران (فرشتے) مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے باری باری اس کی حفاظت کرتے ہیں (15) یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔ (16) اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کا ٹالنا ممکن نہیں، اور ایسے لوگوں کا خود اس کے سوا کوئی رکھوالا نہیں ہوسکتا۔
[سورۃ الرعد:11]الفتح:11
15: نگران سے یہاں مراد فرشتے ہیں اس آیت نے واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں جو باری باری اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ قرآن کریم میں اصل لفظ معقبت استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں باری باری آنے والے اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں آئی ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت دن کے وقت انسانوں کی نگرانی پر مامور ہے اور دوسری جماعت رات کے وقت ان کی حفاظت کرتی ہے۔ ابو داؤد کی ایک روایت میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ فرشتے مختلف حادثات سے انسانوں کی حفاظت کرتے ہیں، البتہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہی یہ ہو کہ کسی شخص کو کسی تکلیف میں مبتلا کیا جائے تو یہ فرشتے وہاں سے ہٹ جاتے ہیں۔ 16: انسانوں کی حفاظت پر جو فرشتے مقرر ہیں، اس سے کسی کو یہ غلطی فہمی ہوسکتی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے حفاظت کا یہ انتظام کر رکھا ہے تو انسان کو بےفکر ہوجانا چاہیے۔ اور گناہ ثواب کی پرواہ بھی نہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ فرشتے حفاظت کرلیں گے آیت کے اس حصے میں اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ کہ یوں تو اللہ تعالیٰ کسی قوم کی اچھی حالت کو بدحالی سے خود بخود نہیں بدلتا، لیکن جب وہ نافرمانی پر کمر باندھ کر اپنی حالت خود بدل ڈالیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے۔ اور اسے کوئی دور نہیں کرسکتا۔ چنانچہ وہ نگران فرشتے بھی ایسی صورت میں کام نہیں دیتے۔
حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا اے باری تعالیٰ ! تیری مخلوق سے تیرے راضی ہونے کی علامت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ان کی کھیتی اگنے کے وقت بارش برساتا ہوں، اور فصل کٹنے کے وقت بارش روک لیتا ہوں، اور ان کے معاملات عقلمند لوگوں کے سپرد کرتا ہوں اور ان کے مالِ غنیمت سخی لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہوں۔ پھر عرض کیا ناراضگی کی علامت کیا ہے فرمایا: فصل کٹنے کے وقت بارش برساتا ہوں، اور اگنے کے وقت روک لیتا ہوں، اور ان کے امورِ حکومت کم عقل لوگوں کے سپر کر دیتا ہوں، اور مال غنیمت بخیلوں کے حوالے کر دیتا ہوں۔
[شعب الایمان-البيهقي:7388، تاريخ دمشق لابن عساكر: ج61 ص145، تفسیر الدر المنثور-سورۃ الانعام:129]
نظام اسلامی کے بنیادی اصول:
نظام اسلامی کے بنیادی اصول کو جو دراصل قرآن و حدیث اور خلافت راشدہ کے طریقے سے ماخوذ ہیں حضرت علامہ سید سلیمان ندوی رحمة اللہ علیہ نے تتبع و جستجو کے بعد مندرجہ ذیل لفظوں کے ساتھ بیان کیا ہے:
(۱) خلیفہ کے انتخاب میں پوری بصیرت سے کام لیا جائے؛ یعنی جتنی کوشش ممکن ہو کی جائے، پھر انتخاب کے بعد اس کے احکام جو کتاب و سنت اور مصالح مسلمین کے خلاف نہ ہو مان لیے جائیں۔
(۲) امور مہمہ میں جو منصوص نہ ہوں اہل حل و عقد سے مشورہ کیا جائے۔
(۳) بیت المال خلیفہ کی ذاتی ملک نہیں وہ صرف مصالح مسلمین کے لئے ہے۔
(۴) سلطنت کے نظم و نسق میں حددرجہ سادگی اور کفایت شعاری اختیار کی جائے۔
(۵) عہدہ دار اور اہل منصب میں ادائے فرض کے اندر پوری دیانت برتی جائے۔
(۶) عہدہ داران سلطنت کیلئے مقررہ وظیفہ کے علاوہ رعایا سے کسی قسم کا تحفہ، قطعاً ناجائزہے۔
(۷) رعایا سے شرعی ٹیکس کے علاوہ دوسرے قسم کے غیر شرعی ٹیکس نہیں لیے جاسکتے۔
(۸) حکام پر پورا پورا عدل فرض ہے، عدل و انصاف کی راہ میں رشوت، طرف داری اور بے انصافی ظلم اور گناہ کبیرہ ہے۔
(۹) کاشت کار اور زمین دار کے درمیان اتنا ہی تعلق ہے جتنا ایک مزدور یا اجارہ دار اورمالک کے درمیان۔
(۱۰) اسلامی سلطنت کے اندر ہرمسلمان جو معذور نہ ہو اس کا سپاہی ہے۔
[اسلامی نظریہٴ سیاست، ص:۴]

چند سیاسی اور انتظامی اصول:
شاہ ولی الله محدث دھلویؒ نے سیاسیات اور نظم حکومت کے بارے میں بھی کچھ بنیادی اصول دنیا کو فراہم کیے. فرماتے ہیں:
(١) زمین کا حقیقی مالک الله تعالیٰ اور ظاہری نظم کے لحاظ سے ریاست (State) ہے. باشندگانِ ملک کی حیثیت وہ ہے جو کسی مسافر خانہ میں ٹھہرنے والوں کی ہے. ملکیت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حقِ انتفاع میں دوسرے کی دخل اندازی قنوناً ممنوع ہے.
(٢) سارے انسان برابر ہیں، کسی کو یہ حق نہیں کہ اپنے آپ کو مالک الملک، ملک الناس، مالک قوم یا انسانوں کی گردنوں کا مالک تصور کرے. نہ یہ کسی کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی صاحب اقتدار کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرے.
(٣) ریاست کر سربراہ کی وہ حیثیت ہے کہ جو کسی وقف کے متولی کی ہوتی ہے. وقف کا متولی اگر ضرورت مند ہو تو اتنا وظیفہ لے سکتا ہے کہ وہ ملک کے عام باشندوں کی طرح اپنی زندگی گزار سکے.
(٤) ہر انسان کے لئے خواہ وہ مزدور ہو یا کسان کہ روٹی ، کپڑا ، مکان اور ایسی استطاعت کہ نکاح کر سکے اور بچوں کی تعلیم و تربیت کرسکے. بلا لحاظ مذہب و نسل ہر ایک انسان کا یہ بنیادی اور پیدائشی حق ہے.
(٥) اسی طرح مذھب ، نسل یا کسی رنگ کے تفاوت کے بغیر عام باشندگان ملک کے معاملات میں یکسانیت کے ساتھ عدل و انصاف ، ان کے جان و مال کی حفاظت ، ان کی عزت اور ناموس کی حفاظت ، حق ملکیت میں آزادی ، حقوق شہریت میں یکسانیت ہر باشندہ ملک کا بنیادی حق ہے.
(٦) زبان و تہذیب کو زندہ رکھنا ہر ایک فرقہ کا بنیادی حق ہے.
[علماء میدان سیاست میں: صفحہ#١٩٩-٢٠٠]
اسلامی جمہوریت کی بنیادیں:
(1)مساوات (2)شورائی نظام (3) اربابِ اختیار کا معتمد علیہ ہونا۔
اسلامی ریاست کا مزاج نہ آمریت کو گوارا کر سکتا ہے اور نہ مورثی شہنشاہیت کو، اس کا مزاج خالص جمہوری اور شورائی ہے۔ اسلامی جمہوریت کی پہلی بنیاد انسانی مساوات ہے، دوسری بنیاد شورائی نظام ہے اور تیسری بنیاد ریاست کی ذمہ داریاں ان کو سونپی جائیں جو اس کام کے اہل ہوں اور جن پر لوگوں کو اعتماد ہو۔
اللہ پاک نے یوں ارشاد فرمایا:
اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تا کہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکو ۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو، اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور پورا خبردار ہے۔
[سورۃ الحجرات:13]
سیدنا جابر رضى اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایام تشریق کے درمیانے دن کو خطبۃ الوداع ارشاد فرمایا اور فرمایا:
”لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ، جیسا کہ ارشاد باری تعالىٰ ہے: ”اللہ تعالىٰ کے ہاں تم میں سے وہ شخص سب سے زیادہ معزز ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے“، خبردار! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ پھر فرمایا: ”حاضر لوگ یہ باتیں غائب لوگوں تک پہنچا دیں۔“
[مسند ابن المبارك:239، مسند أحمد:23489، صحيح الترغيب:2964]
فوائد: …حدیث ِ مبارکہ کا ابتدائی حصہ انتہائی قابل غور ہے۔ لوگوں نے حسب و نسب، حسن و جمال، عہدہ و منصب، سیاست و سیادت، مال و دولت، بھاری تنخواہوں والی نوکریوں، دنیوی تعلیم کی ڈگریوں اور اس قسم کے دوسرے اسبابِ دنیا کو اعزاز کی علامت سمجھ رکھا ہے، بلکہ بعض شیطان تو بدمعاشی، بغاوت، ظلم، ڈاکہ زنی اور قتل تک کے جرائم کو اپنے لیے عزت کا سبب سمجھتے ہیں۔ اس بگاڑ کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے آپ کو ظاہری طور پر معزز اور بڑا ثابت کرنے کی کوشش کی اور باطن کی اصلاح کو بھول گئے، جبکہ شریعت کا قانون یہ تھا کہ اگر باطن کی اصلاح کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ شریعت کی روشنی میں ظاہر کو درست رکھا جائے تو ایسی عزتیں ملتی ہیں کہ انسان اپنی سوچوںکے مطابق ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا، لیکن کاش کہ ہماری مزاج شریعت کو اپنی مجبوری سمجھتے۔ جبکہ شریعت ِ مطہرہ کی روشنی میں اِن سب امور و اسباب میں آزمائش کا عنصر پایا جاتا ہے، رہا مسئلہ مقام ومرتبہ اور فضیلت و عظمت کا تو وہ صرف اور صرف قرآن و حدیث کا عملی طور پر لحاظ رکھنے میں پایا جاتا ہے۔
قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں، حاکم اورمحکوم، صاحب امر اور مامور میں اسلام کوئی تمیز نہیں کرتا، قانون سب کیلئے ایک ہی ہے۔
ایک بار ایک معزز خاتون کو چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جانے والی تھی، کچھ صحابہؓ نے پیغمبر ﷺ سے سفارش کی، آپ نے سفارش کو غصہ سے رد کردیا اور فرمایا:
وَاَلَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ سَرَقَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا۔
ترجمہ:
اس ذات کی قسم جس کی مٹھی میں محمد کی جان ہے، اگر (میں)محمد کی بیٹی فاطمہ نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ ضرور کاٹ دیتا۔
[المحلى بالآثار-ابن حزم:2106، سنن النسائي:4901]
یہ ہے وہ معیاری قانون اورمعاشرتی مساوات جس کا تصور کیا جاسکتا ہے۔
(2)اسلامی جمہوریت کی دوسری بنیاد اربابِ اختیار کا معتمد علیہ ہونا ہے، یعنی یہ کہ ریاست کی ذمہ داریاں ان کو سونپی جائیں جو اس کام کے اہل ہوں اور جن پر لوگوں کو اعتماد ہو۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
”تمہارے بہترین امام اور قائد وہ ہیں جن کو تم چاہتے ہو اور وہ تم کو چاہتے ہوں اور تم ان کو دعائیں دیتے اور وہ تم کو دعائیں دیتے ہوں اور تم میں بدترین رہنما وہ ہیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو اور وہ تم کو ناپسند کرتے ہوں اور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہوں اور تم ان پر لعنت بھیجتے ہو۔“
[صحیح مسلم:4805(1481)]
(3)اسلامی جمہوری ریاست کی دوسری بنیاد شوریٰ ہے۔
یعنی مسلمانوں کے معتمد علیہ افراد تمام امور سلطنت کو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق مسلمانوں کے مشورے کی روشنی میں طے کریں۔ اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی ﷺ سے فرماتے ہیں:
وَ شَا وِرھُم فِی الاَمرِ .
ترجمہ:
”اور ان سے معاملات میں مشورہ کرو “
[سورۃ آل عمران:159]
اور اولیِ الامر(یعنی حکم دینے والے حکمرانوں) کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:
وَ اَمرُھُم شُورَیٰ بَینَھُم
ترجمہ:
”اور جن کا ہر کام مشورہ سے ہوتا ہے۔“
[سورۃ الشوریٰ:38]
انفرادی کے مقابلے اجتماعی رائے کا احترام:
نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے قول و عمل سے مسلمانوں کو شوریٰ کی اہمیت و ضرورت سے آگاہ کیا ہے، حضرت علی ؓ سے روایت ہے :
”فرماتے ہیں میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ! اگر ہمارے درمیان کوئی واقعہ پیش آ جائے جس کے بارے میں نہ کوئی حکم قرآن میں نازل ہو، نہ حدیث میں کوئی بیان ہو، تو ایسے واقعہ کے متعلق آپ ﷺ کا کیا ارشاد ہے؟ فرمایا:
تُشَاوِرُونَ الْفُقَهَاءَ وَالْعَابِدِينَ ، وَلا تُمْضُوا فِيهِ رَأْيَ خَاصَّةٍ
ترجمہ:
اس بارے میں فقہاء(یعنی ماہرینِ شریعت) اور عابدین(یعنی زیادہ عبادت کرنے والوں) سے مشورہ لیا کرو، اور کسی خاص شخص کی (انفرادی) راۓ کو نافذ نہ کرو.“
[المعجم الأوسط للطبراني:1647][مسند خليفة بن خياط: 46]
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے :
مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ مَشُورَةً لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:
میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے والا ہو۔
[سنن الترمذي:1714، مسند أحمد:18928، تفسير ابن أبي حاتم:4413]
مشاورت کا حکم ہر اہم معاملے اور اس کی ہر منزل کے لئے ہے، اس کی شکل کیا ہو؟ اس کا تعین ہر زمانے کے حالات کے مطابق کیا جائے گا، لیکن اس کی روح یہ ہے کہ مشورہ ان لوگوں سے کیا جائے جو اہل حل وعقد ہوں، فہم و بصیرت رکھتے ہوں اور لوگوں کے معتمد علیہ ہوں، مسلمانوں کے تمام اجتماعی کام مشورے سے طے ہوں اور کوئی شخص اپنی من مانی نہ کرے، کوئی اجتماعی کام جتنے لوگوں سے متعلق ہو، مشورہ میں ان سب کو یا ان کے نمائندوں کو شریک کیا جائے اور مشورہ آزادانہ، بے لاگ اور مخلصانہ ہو، اگر یہ چیزیں موجود ہوں تو شوریٰ کا حق ادا ہو جاتا ہے، خواہ اسکی شکل کوئی بھی تجویز کی جائے۔
جمہور کی تعریف:
(1)الجُمْهُورُ الرَّمْلُ الْكَثِيرُ الْمُتَرَاكِمُ الْوَاسِعُ ۔۔۔۔ (2)وجُمهورُ كُلِّ شَيْءٍ: معظمُه ۔۔۔۔ (3)وجُمهورُ النَّاسِ: جُلُّهُم. (4)وجَماهير الْقَوْمِ: أَشرافهم
ترجمہ:
(۱)جمہور تہ بہ تہ ریت کے بڑے ڈھیر کو کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ (۲)ہر چیز کے بڑے حصے ۔۔۔۔ (۳)اور لوگوں کی اکثریت کو۔ (۴)اور قوم کے ممتاز ونمایاں افراد کو بھی کہتے ہیں۔
[لسان العرب-الإمام ابن منظور(م711ھ) : ج4 ، ص149]
[کتاب العين-الإمام الخليل بن أحمد الفراهيدي (م170ھ) : ج4 ، ص117]
(4)وجَماهير الْقَوْمِ: أَشرافهم۔ قَالَ الله تَعَالَى {قَالَ المَلأُ من قومه} [سورۃ الْأَعْرَاف: 60]
ترجمہ:
اور قوم کے ممتاز ونمایاں افراد کو بھی کہتے ہیں۔ اللہ پاک نے فرمایا{ان کی قوم کے سرداروں نے کہا}[سورۃ الْأَعْرَاف:60]
[تهذيب اللغة-الإمام الأزهري (م370ھ) : ج6 ، ص272]
[المخصص-الإمام ابن سيده (م458ھ) : ج5 ، ص12]
وَفِي حَدِيثِ ۔۔۔ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: إِنا لَا ندَعْ مَروانَ يَرمي جَماهيرَ قُرَيْشٍ بمَشَاقِصِه ۔۔۔ أَي جَمَاعَاتِهَا۔
ترجمہ:
ایک حدیث میں ہے: ابن الزبیر نے معاویہ سے کہا: ہم مروان کو قریش کے ہجوم کو مصیبت میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یعنی قریش کی جماعتیں۔
[لسان العرب-الإمام ابن منظور(م711ھ) : ج4 ، ص149]
(1)الله کی ماننے والے لوگوں کا، لوگوں پر "خدائی" احکام نافذ کرنا اسلامی طرزِ جمہوریت ہے۔
اور
(مخلوق/شیطان/نفس کی ماننے والے) لوگوں کا، لوگوں پر "مخلوق" میں سے کسی کے احکام نافذ کرنا یہ کفریہ طرزِ جمہوریت ہے۔
[دلائلِ قرآن» سورۃ الاعراف:3،(النساء:115+59)، الانعام:116]
القرآن:
(لوگو) جو کتاب تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی ہے، اس کے پیچھے چلو، اور اپنے پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے (من گھڑت) سرپرستوں کے پیچھے نہ چلو۔ (مگر) تم لوگ نصیحت کم ہی مانتے ہو۔
[سورۃ الاعراف:3]
(2)کفریہ جمہوریت میں بندوں کو گِنا(شمار)کرتے ہیں، تولہ نہیں کرتے۔
[علامہ محمد اقبال، کلیات اقبال، لاہور، علم و عرفان پبلیشرز]
یعنی
ان پڑھ اور پڑھے لکھے کی رائے ۔۔۔ نافرمان اور فرمانبردار کی شہادت/سفارش/وؤٹ ایک جیسی حیثیت رکھتے ہیں۔
جمہوریت کا اسلامی تصور کیا ہے؟
خلاصہ:
موجودہ ”اصطلاحی جمہوریت“ میں کچھ چیزیں تو ایسی ہیں جو اسلام کے بالکل خلاف ہیں، مثلاً: عوام کے اقتدار اعلیٰ کا تصور، اسمبلیوں اور پارلیامینٹوں کے ممبران کا خدائی احکام کی پابندی کے بغیر خود مختار ’واضع قانون“ ہونا اور امیدوار حکومت کا از خود اقتدار طلب کرنا، اسی طرح لوگوں کی قابلیت اور صلاحیت سے قطع نظر مطلق اکثریت کو معیار بنانا (جس میں ایک ان پڑھ، جاہل اور ایک پڑھا لکھا مدبر، عالم فاضل یہاں تک کہ صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سب کی رائے کو برابر کا درجہ دیا جاتا ہے) بھی اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔
لیکن ”جمہوریت“ میں بہت سی باتیں اسلام کے مطابق بھی ہیں یعنی شورائی حکومت، تقسیم اختیارات، آزادئ اظہار رائے اور عوام کے سامنے حکومت کا جواب دہ ہونا وغیرہ، عرف عام میں یہی باتیں ”جمہوریت“ کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں؛ لہٰذا اگر اول الذکر خلافِ اسلام باتوں کی اصلاح کرلی جائے مثلاً علی الاطلاق کثرتِ رائے کا اعتبار کرنے کے بہ جائے ایسے لوگوں کی کثرتِ رائے کا اعتبار کیا جائے جو معاشرے میں بہ حیثیت مجموعی بابصیرت امانت دار اور قابل ہوں، اور انھیں صرف مباح اور مجتہد فیہ امور میں فیصلے کا حق ہو، اسی طرح کچھ دیگر اصلاحات کرلی جائیں تو جمہوریت اسلام سے قریب ہوجائے گی؛ بلکہ اسے ”اسلامی جمہوریت“ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔
جمہوریت کے متعلق پاکستانی مذہبی راہنما کا مؤقف:
نفاذِ عدل»عادل بادشاہ کی فضیلت:
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
انصاف پرور لوگ قیامت کے دن رحمٰن
عزوجل کے دائیں طرف نور کے منبروں پر ہوں گے اور رحمٰن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔
وہ انصاف پرور لوگ اپنے اہل وعیال اور اپنی رعایا پر عدل وانصاف کرتے ہیں۔
[صحیح مسلم» حدیث#1827 سننے النسائی»5379]
التفسیر المنیر،للزحیلی:5/128،سورۃ
النساء:58+59
بدائع السلك في طبائع الملك:1/230
اسلامی نظامِ حکومت وسیاست» نفاذِ عدل:عادل بادشاہ کی فضیلت:
حضرت ابوسعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول
الله ﷺ نے فرمایا:
قیامت کے روز الله کے پاس سب سے
محبوب اور اس سے قریب تر مجلس والا امام(حاکم)عادل ہوگا، اور اللہ کے ہاں مبغوض
ترین اور اس سے بہت دور ظالم امام(حاکم)ہوگا۔
[مسند احمد»11174، سنن الترمذي»1329]
تفسیر البغوي:1/650سورۃ النساء:58
تفسیر ابن کثیر:7/62،سورۃ ص:25
قیامِ عدل کی فضیلت:
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول
الله ﷺ نے فرمایا:
حدود الله(شرعی سزاؤں)میں سے کسی حد
کا(واقعی مجرم پر) قائم کرنا ہے، زیادہ بہتر ہے چالیس راتیں الله کے شہروں میں
بارش برسنے سے۔
[صحیح الجامع الصغیر» حدیث#1139، سنن
ابن ماجۃ#
تفسیر الزمخشري»3/210،سورة النور:آية2
حضرت ابوھریرہؓ سے بھی روایت ہے۔۔۔
[سنن النسائی:4950، صحیح ابن حبان:4398]
حق وباطل حکمرانی کا دنیاوی انجام:
حضرت واثلة بن اسقعؓ سے روایت ہے کہ
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
کوئی مسلمان مسلمانوں کے کسی معاملے
کا سربراہ نہیں بنتا مگر اللہ پاک اس پر دو فرشتے مقرر فرماتا ہے جو اس کی درست
راہ کی طرف رہنمائی کرتے رہتے ہیں، جب تک کہ وہ حق کی"نیت"رکھے۔ اور جو
وہ جان بوجھ کر ظلم کی نیت کرتا ہے تو وہ فرشتے اس کو اس کے سپرد کردیتے ہیں۔
[المعجم الکبیر(امام)الطبراني:204،
مجمع الزوائد(امام)الھیثمي:6995،
السياسة الشرعية(امام)ابن تيمية: ص805]
مسلط ہوجانے والا حکمران کون؟ اور اس کا حکم:
حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:
پیش کئے گئے مجھ پر تین(قسم کے)لوگ جہنم میں داخل ہونے والے: (1)مسلط ہوجانے والا حکمران، اور(2)مال وثروت والا جو ادا نہ کرے الله کا حق(یعنی زکوٰۃ)، اور(3)فخر کرنے والا فقیر۔
[صحیح ابن حبان:7481]
تفسير الرازي»سورة البقرة:81
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:
چھ(6)قسم کے لوگوں پر میں نے لعنت کی ہے اور الله نے بھی لعنت کی ہے، اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے۔۔۔
(ان میں تیسرا)طاقت کے بل پر مسلط ہونے والا(حکمران)
تاکہ وہ ذلیل کرے اسے(یعنی مؤمنوں/علماء کو)جسے الله نے عزت دی
اور اسے عزت دے جسے الله نے ذلیل ٹھہرایا(یعنی کفار ومنافقین کو)۔۔۔
[صحیح ابن حبان:5749،سنن ترمذی:2154]
تفسيرالدرالمنثور»سورة البقرة:126
منافق کو سردار Leader نہ کہیں»
حضرت بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مت کہو منافق کو سید(یعنی سردار)، کیونکہ اگر تم ایسا کہوگے تو تم اپنے رب(یعنی خالق مالک رازق)کو ناراض کرلوگے.
[مسند أحمد:22939، سنن أبي داود:4977، سنن النسائی:244]
آزاد عوامی حکومت - اسلامی تصور
نوٹ :
گندے شخص کو گندہ کہنا نہیں پڑتا، کیونکہ اس کے گندے ہونے پر سب متفق ہوتے ہیں اور اس کے شر سے بچنے کیلئے کھل کر مخالفت نہیں کرپاتے۔ زیادہ بدزبانی اسی سے کی جاتی ہے جس سے دوسرے خود کو مامون و سلامت سمجھتے ہیں۔
کون شخص بہتر ہے اور کون بدتر:
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے بیٹھے ہوئے صحابہ کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا کیا میں تمہیں یہ بتاؤں کہ تم میں نیک ترین کون شخص ہے اور تمہارے آدمیوں کو تمہارے بدترین آدمیوں سے جدا کر کے دکھا دوں؟ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ یہ سن کر خاموش رہے کیونکہ انہیں خوف ہوا کہ اگر حضور نے عام مفہوم اور عنوان کلی کے طور پر بتانے کے بجائے مشخص و متعین یعنی ایک ایک شخص کا نام لے کر بتا دیا کہ فلاں نیک اور فلاں بد تو اس سے بڑی ذلت اور رسوائی کیا ہو گی یہاں تک کہ جب حضور نے مذکورہ ارشاد کو تین بار فرمایا تو ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں بتا دیجیے اور ہمارے نیک آدمیوں کو ہمارے بد آدمیوں سے ممیز و ممتاز کر دیں، حضورنے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جس سے لوگ بھلائی کی توقع کرتے ہیں اور اس کے شر سے محفوظ و مامون ہیں اور تم میں سے بدترین وہ شخص ہیں جس سے لوگ بھلائی کی توقع نہ کریں اور اس کے شر سے محفوظ و مامون نہ ہوں، (ترمذی، بہیقی) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[احمد:8812+8920 ،وأخرجه الترمذي (2263) ، وأخرجه ابن حبان (527) و (528) ، والقضاعي في "مسند الشهاب" (1247) ، والبيهقي في "شعب الِإيمان" (11268)]
تشریح:
بہترین اور بدترین شخص کی پہچان تو یہ ہے کہ جس کو حدیث میں فرمایا گیا ہے ، رہا وہ شخص جس سے لوگ بھلائی کی امید تو رکھتے ہوں، لیکن اس کے شر سے محفوظ و مامون نہ ہوں یا وہ شخص کہ جس کے شر سے تو لوگ محفوظ و مامون ہوں مگر اس سے بھلائی کی توقع نہ رکھتے ہوں تو ایسا شخص بین بین ہو گا کہ اس کو نہ بہتر کہیں گے نہ بدترین۔
[مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 924]
جمہوری نظام میں الیکشن- اسلامی نقطئہ نظر
==========================
افواہ وبدگمانی کے فساد کا سد باب
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کافی ہے کسی آدمی کے جھوٹے ہونے کیلئے یہی بات کہ وہ (بلاتحقیق) کہدے ہر وہ بات جو وہ سنے۔[صحيح مسلم » بَاب النَّهْيِ عَنِ الْحَدِيثِ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ... رقم الحديث: 6(5)]
افواہ پھیلانے کی مذمت:
وَإِذا جاءَهُم أَمرٌ مِنَ
الأَمنِ أَوِ الخَوفِ أَذاعوا بِهِ ۖ وَلَو رَدّوهُ إِلَى الرَّسولِ وَإِلىٰ
أُولِى الأَمرِ مِنهُم لَعَلِمَهُ الَّذينَ يَستَنبِطونَهُ مِنهُم ۗ وَلَولا
فَضلُ اللَّهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ لَاتَّبَعتُمُ الشَّيطٰنَ إِلّا قَليلًا
{4:83}
|
اور
جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور
اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی
تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص
کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے
|
جھوٹی خبروں کی تحقیق کا حکم:
يٰأَيُّهَا الَّذينَ
ءامَنوا إِن جاءَكُم فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنوا أَن تُصيبوا قَومًا
بِجَهٰلَةٍ فَتُصبِحوا عَلىٰ ما فَعَلتُم نٰدِمينَ {49:6}
|
مومنو!
اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا)
کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے
|
محبت ونفرت میں اعتدال
اختلاف اور مخالفت میں فرق: علماء کی رائے میں علمی اختلاف ہو تو وہ شرعی وسعت اور رحمت ہے۔ اکثر علماء کی رائے معتبر، راجح اور افضل ہوتی ہے۔ لیکن مخالفت یہ ہے کہ مال، عہدے یا شہرت کی لالچ یا تعصب کی وجہ سے متشددانہ اور جارحانہ رویہ اختیار کرنا، اعلانیہ مخالفت کرکے دوسروں کو مخالفت پر ابھارنا، مخالف کی سمجھ کے بجائے اسکے دین وایمان پر حملہ کرنا۔
|
اولو الامر کی اطاعت:
اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کردو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔ [سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 59] تفسیر: 41: أُولِي الْأَمْرِ : سے مراد اکثر مفسرین کے مطابق مسلمان حکمران ہیں، جائز امور میں ان کے احکام کی اطاعت بھی مسلمانوں کا فرض ہے، البتہ یہ اطاعت اس شرط کے ساتھ ہے کہ وہ کسی ایسی بات کا حکم نہ دیں جو شرعاً جائز ہو، اس بات کو قرآن کریم نے دو طرح واضح فرمایا ہے، ایک تو اس طرح کے اصحاب اختیار کی اطاعت کا ذکر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد فرمایا ہے، جس میں یہ اشارہ ہوگیا کہ حکمرانوں کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تابع ہے، دوسرے اگلے جملے میں مزید صراحت کے ساتھ بتادیا کہ اگر کسی معاملہ میں یہ اختلاف پیدا ہوجائے کہ آیا حکمرانوں کا دیا ہوا حکم صحیح اور قابل اطاعت ہے یا نہیں، تو اسے اللہ اور اس کے رسول کے حوالے کردو، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم کو قرآن اور سنت کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھو، اگر وہ قرآن وسنت کے خلاف ہو تو اس کی اطاعت واجب نہیں ہے اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ ایسا حکم واپس لیں اور اگر وہ حکم قرآن وسنت کے کسی صریح یا اجماعی طو رپر مسلم حکم کے خلاف نہیں ہے تو عام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس پر عمل کریں۔
کسی مخصوص بات پر ادھوری آیت بیان کرنا:
الحدیث : حضرت عطاء رح بیان کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ اولوالامر ہیں ان کی اطاعت کرو۔"(النساء:٥٩) حضرت عطاء رح ارشاد فرماتے ہیں: اس سے مراد علم اور فقہ کے ماہرین ہیں اور رسول کی اطاعت سے مراد کتاب اللہ اور سنت کی پیروی کرنا ہے ۔
اکثر مفسرین اس سے فقہاء اور علماء مراد لیتے ہیں، حاکم نے حضرت عبداللہ ابن جابر کا قول نقل کیا ہے: "أُولِي الْأَمْرِ، قال الفقہ والخیر"۔ (مستدرک:۱/۱۲۳)
ترجمہ: "أُولِي الْأَمْرِ" سے مراد اصحابِ فقہ وخیر ہیں۔
ترجمان القرآن میں حضرت ابن عباسؓ کی بھی یہی تفسیر نقل کی گئی ہے:
"أُولِي الْأَمْرِ، یعنی اهل الفقه والدین"۔ (مستدرک:۱/۱۲۳)
ترجمہ: "أُولِي الْأَمْرِ" سے اصحاب فقہ اور اہلِ دین مراد ہیں۔
حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الْخَوْلانِيُّ ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " السُّلْطَانُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الأَرْضِ ، فَمَنْ أَكْرَمَهُ أَكْرَمَ اللَّهَ ، وَمَنْ أَهَانَهُ أَهَانَهُ اللَّهُ " .
[السنة لابن أبي عاصم » بَابٌ فِي ذِكْرِ فَضْلِ تَعْزِيرِ الأَمِيرِ وَتَوْقِيرِهِ ... رقم الحديث: 853(1024)]
المحدث : الألباني | المصدر : تخريج كتاب السنة: 1024 | خلاصة حكم المحدث : حسن
إختلاف كا حل :
حدیث # 2
حضرت انس بن مالکؓ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللهؐ نے فرمایا "میری امت کسی گمراہی پر جمع (متفق) نہیں ہوگی، بس جب تم (لوگوں میں) اختلاف دیکھو تو سوادِ اعظم (سب سے عظیم جماعت) کو لازم پکڑلو (یعنی اس کی اتباع کرو)".
[سنن ابن ماجه (سنة الوفاة:275) : کتاب الفتن، باب السواد الاعظم ... رقم الحديث: 3948(3950)]
اسلام کا مشاورتی نظام اہمیت اور طریقہٴ کار
انسان کو زندگی میں بیشتر ایسے امور پیش آتے ہیں جن میں وہ تذبذب کا شکار ہوجاتا ہے۔کرنے اور نہ کرنے دونوں پہلووٴں پر اس کی نظر ہوتی ہے، وہ سر دست یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ موجودہ حالات میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ کام کے کس رخ کو اختیار کرنے میں اس کے لیے بھلائی اور ہدایت ہے؟ کشمکش کی اس صورتِ حال میں شریعت نے ہدایت دی ہے کہ ایسے تمام مواقع پر ازخود فیصلہ کرنے اور اپنی عقل و دانش پر اعتماد کرنے کے بجائے متعلقہ کام کے ماہرینِ فن، اربابِ نظر اور ہمدرد وبہی خواہ افراد سے رائے معلوم کرلی جائے، پھر باہمی غور و فکر کے بعد جس جانب دل مائل ہو، ا للہ پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اختیار کر لے، اس کو ”مشورہ یا مشاورت“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
صالح، کامیاب اور پرامن زندگی گزارنے کے لیے مشاورتی نظام اپنانا ازحد ضروری ہے، بلاشبہ مشورہ خیر و برکت، عروج و ترقی اور نزولِ رحمت کا ذریعہ ہے، اس میں نقصان و شرمندگی کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَا شَقٰی عَبْدٌ بِمَشْوَرَةٍ وَمَا سَعِدَ بِاسْتِغْنَاءِ رَأیٍ یعنی کوئی انسان مشورہ سے کبھی نا کام اور نامراد نہیں ہوتا اور نہ ہی مشورہ ترک کر کے کبھی کوئی بھلائی حاصل کرسکتا ہے۔ (قرطبی۴/۱۶۱)
ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: مَاخَابَ مَنِ اسْتَخَارَ وَلَا نَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ ”جس نے استخارہ کیا وہ نا کام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہ ہوا۔“ (المعجم الأوسط للطبرانی: ۶۸۱۶)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے: اَلْمَشْوَرَةُ حِصْنٌ مِنَ النِّدَامَةِ وَ أمْنٌ مِنَ الْمَلَامَةِ“ مشورہ شرمندگی سے بچاوٴ کا قلعہ ہے اور ملامت سے مامون رہنے کا ذریعہ ہے۔“ (ادب الدنیا والدین ۱/۲۷۷)
اس میں حکمت یہ ہے کہ ایک انسان جب اپنی رائے پر عمل کرتے ہوئے کوئی کام کرتا ہے اگر اس میں نا کامی ہوجائے تو بہت سی زبانیں لعن طعن کرنے لگتی ہیں، ملامت کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے اور پھر بڑی ذلت محسوس ہوتی ہے؛ لیکن اگر مشورہ کے بعد کوئی کام کیا جائے تو عام طورپر اس میں نا کامی نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ مشورہ کی برکت سے خیر کی راہیں کھول دیتا ہے اور اگر فیصلہ تقدیر کے سبب مشورہ کے تحت کیا ہوا کام بار آور اور نتیجہ خیز نہیں ہوسکا تو بھی اس میں لوگوں کے سامنے شرمندگی اٹھانی نہیں پڑتی؛ اس لیے کہ اس میں صرف اسی کی عقل و فکر شامل نہیں ہے؛ بلکہ مختلف اربابِ نظر اور ماہرینِ فن کی رائیں اور عقلیں شامل ہیں، ملامت کس کس کو کی جائے اور ملامت کرنے والا بھی اپنی اصابتِ رائے کی ضمانت نہیں دے سکتا ؛اس لیے مشورہ میں دیگر اہم فائدوں کے ساتھ ا یک بڑا فائدہ ملامت اور طعن و تشنیع سے نجات بھی بتایا گیا ہے، ایک شاعر مشورہ کی اسی افادیت کے پیشِ نظر کہتا ہے :
الرأیُ کَاللَّیْلِ مُسْوَدٌّ جَوَانِبُہ $ وَاللَّیْلُ لَایَنْجَلِی الّا بِالْاِصْبَاح
فَاضْمُمْ مَصَابِیْحَ آرَاءِ الرِّجَالِ الٰی $ مِصْبَاحِ رَأیِکَ تَزْدَدْ وُضُوْءَ مِصْبَاح
” رائے تاریک رات کی طرح ہے کہ اس کے اطراف سیاہ ہیں اور رات کا اندھیرا بغیر صبح کے زائل نہیں ہوتا، لوگوں کی رائے کی مشعل کو اپنے چراغ کے ساتھ ملا لینے سے تیرے چراغ کی روشنی زیادہ ہوجائے گی “ یعنی آدمی اپنی رائے سے ایک پہلو کو سمجھتا ہے؛ مگر جیسا کہ رات میں اگرچہ قریب کی چیز کا احساس و ادراک ہوجاتا ہے؛ مگر ذرا فاصلہ کی چیز نظر نہیں آتی، اسی طرح تنہا اپنی رائے سے تمام پہلو روشن نہیں ہوتے، وہ برابر معرضِ خفاء میں رہتے ہیں؛ لیکن جب صبح ہوکر شب کی تاریکی زائل ہو جاتی ہے تو مشرق و مغرب، جنوب وشمال کی تمام چیزیں روشن ہوجاتی ہیں، اسی طرح جب اپنی رائے کے ساتھ دوسروں کی رائے کو ملالیا گیا تو گویا ایک چراغ کے ساتھ جس کی روشنی تھوڑی دور تک پھیلی ہوئی تھی، ہزاروں شمعوں کو روشن کر دیا اور عالم کے نورانی ہوجانے سے خود اس کے چراغ کی روشنی بھی بڑھ گئی اور اطراف و جوانب کی سب چھوٹی بڑی چیزیں ظاہر و نمودار ہو گئیں۔
بعض بلغاء کا قول ہے:
مِنْ حَقِّ الْعَاقِلِ أَنْ یُضِیْفَ الٰی رَأیِہ آرَاءَ العُقَلَاءِ، یَجْمَعُ الٰی عَقْلِہ عُقُوْلَ الْحُکَمَاءِ فَانَّ الرَّأیَ الْفَذَّ رُبَّمَا ذَلَّ وَالْعَقْلَ الْفَرْدَ رُبَّمَا ضَلَّ ”عاقل کا فرض یہ ہے کہ اپنی رائے کے ساتھ عقلاء کی رائے کا اضافہ کرے اور اپنی عقل کے ساتھ حکماء کی عقل کو جمع کرے؛ کیوں کہ اکیلی رائے بسا اوقات ذلیل ہوتی ہے اور پھسل جاتی ہے اور تنہا عقل بسا اوقات گمراہ ہوجاتی ہے“ ۔ ظاہر ہے کہ اپنی عقل کے ساتھ جب دیگر عقلوں اور اپنے تجربہ کے ساتھ دیگر تجربات کو ملا لیا جائے تو اس میں استحکام پیدا ہوگا اور غلطی کا امکان کم ہو جائے گا، خواہ وہ عقلیں اپنے تئیں ناقص ہی کیوں نہ ہوں؛ چوں کہ مشورہ میں شریک افراد بڑی مشقتوں سے حاصل کیے ہوئے تجربات کی روشنی میں رائے دیتے ہیں؛ اس لیے مشورہ کرنے والے کو اہم اور قیمتی باتیں مفت مل جاتی ہیں جن کو اگر وہ خود حاصل کرنا چاہے تو زندگی ختم کرکے بھی حاصل ہونا یقینی نہیں ہے؛ اسی لیے حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: تجربہ کار تجھ کو وہ رائے دیتا ہے جو اس کو نہایت گراں قیمت پر ملی ہے یعنی نہایت مشقت و تحملِ مصائب کے بعد حاصل ہوئی ہے اور تو اس کو مفت بلا تعب اڑا تا ہے۔ (اسلام میں مشورہ کی اہمیت از مفتی محمد شفیع ۶۱ تا۶۳)
حضرت علی کا یہ قول بھی کتنا جامع ہے: اَلْاِسْتِشَارَةُ عَیْنُ الْہِدَایَةِ وَ قَدْ خَاطَرَ مَنِ اسْتَغْنٰی بِرَأیِہ۔ (المدخل: ۴/۲۸) مشورہ عین ہدایت ہے اور جو شخص اپنی رائے سے ہی خوش ہوگیا وہ خطرات سے دوچار ہوا۔ خلاصہ یہ کہ مشورہ ایک مہتم بالشان امر ہے، رشدوہدایت اور خیر وصلاح اس سے وابستہ ہے؛ جب تک مشورہ کا نظام باقی رہے گا، فساد اور ضلالت و گمراہی راہ نہیں پا سکے گی، امن اور سکون کا ماحول رہے گا، یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے حُکّام تم میں سے بہترین آدمی ہوں اور تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارے معاملات آپس میں مشورہ سے طے ہواکریں تو زمین کے اوپر رہنا تمہارے لیے بہتر ہے اور جب تمہارے حُکّام بدترین افراد ہوں اور تمہارے مالدار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کے اندر دفن ہوجانا تمہارے زندہ رہنے سے بہتر ہوگا۔“ (روح المعانی: ۷/۵۳۱)
دنیا کے حالات پر جن کی نظر ہے وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ دنیا میں جتنے بھی دینی و ملی ادارے چل رہے ہیں، ان میں جن کا نظام مشورہ سے مربوط ہے، ان کے تمام امور مستحکم اور پائیدار ہیں اور وہ تمام داخلی و خارجی فتنے و فساد سے پاک ہیں؛ لیکن جب کسی ادارے یا حکومت کو خاندانی یا وراثتی نظام پر چلایا جاتا ہے کہ پہلے باپ حکمراں تھا تو محض اس بنیاد پر بیٹا اس کا اہل قرار پائے ا ور یہی سلسلہ چلتا رہے تو پھر یاد رکھنی چاہیے کہ یہ حکومت دیر پا نہیں ہوتی، ہزار طرح کے مسائل وہاں جنم لیتے ہیں اور ایک دن پورا شہر فتنہ وفساد کے لپیٹ میں آجاتا ہے، جیسا کہ زمانہٴ جاہلیت میں حکمرانی کا یہی طریقہ رائج تھا، اسی وجہ سے وہاں ہر گھر، ہر خاندان، ہر قبیلہ الگ الگ خانوں میں منقسم ہوگیا تھا فتنہ و فساد کا ایک سیلاب تھا، جس پر کوئی بندش نہیں تھی، لوگوں کو کسی گرفت کا احساس نہیں تھا؛ اس لیے جو شخص جو چاہتا کرتا تھا اور پھر یہیں سے زنا کاری ، شراب نوشی، ڈاکہ زنی، لوٹ کھسوٹ، قتل وغارت گری، جیسے ہزاروں جرائم وجودمیں آئے اسلام نے اس طریقہ کو مٹا کر مشاورتی نظام قائم کیا، مختلف نوعیتوں سے مشورہ کی اہمیت بیان کی گئی؛ بلکہ اس کو مسلمانوں کا وصف خاص قرار دیا گیا۔ ارشاد باری ہے : وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمْ وَ اَقَامُوْا الصَّلٰوةَ وَ اَمْرُہُمْ شُوْریٰ بَیْنَہُمْ وَ مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ۔(شوریٰ:۳۸) ”ایمان والے وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم کو مانا، نماز قائم کی اور ان کے کام باہم مشورہ سے ہوتے ہیں اور جو ہم نے دیا ہے اسے خرچ کرتے ہیں۔“ اس آیت میں مسلمانوں کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، ان میں ایک وصف باہمی مشورہ بھی ہے یعنی کسی اہم معاملہ کو آپسی رایوں کے ذریعہ حل کیا جانا کامل اور پختہ ایمان مسلمانوں کی صفت ہے، اطاعت ِ خداوندی اور اقامت ِ صلوٰة کے بعد فوری طور پر مشورہ کے معاملہ کو بیان کرنے سے اس کی غیر معمولی اہمیت کا پتہ چلتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ صحابہٴ کرام اور بالخصوص خلفاءِ راشدین نے مشورہ کو اپنا معمول بنایا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مشورہ کا حکم دیا تھا ارشاد ہے: ”وَشَاوِرْہُمْ فِیْ الْاَمْرِ۔“ (اٰل عمران: ۱۰۹) اے نبی! آپ معاملات اور متفرق امور میں صحابہٴ کرام سے مشورہ کیا کیجیے۔“ بظاہر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کی حاجت نہیں تھی؛ کیوں کہ آپ کے لیے وحی کا دروازہ کھلا ہوا تھا، آپ چاہتے تو وحی کے ذریعہ معلوم ہوسکتا تھا کہ کیا اور کس طرح کرنا چاہیے؟ اسی لیے مفسرینِ کرام نے یہاں بحث کی ہے کہ حکمِ مشورہ سے کیا مراد ہے۔ حضرت قتادہ، ربیع اوردوسرے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ صحابہٴ کرام کے اطمینانِ قلب اوران کو وقار بخشنے کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا؛ اس لیے کہ عرب میں مشورہ اور رائے طلبی باعثِ عزت و افتخار تھا۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں: فَقَالَتْ طَائِفَةٌ ذَلِکَ فِيْ مَکََائِدِ الْحُرُوْبِ وَ عِنْدَ لِقَاءِ الْعَدُوِّ وَ تَطَیُّباً لِنُفُوْسِھِمْ وَرَفْعاً لِأقدْارِھِمْ وَ جَألُّفًا عَلٰی دِیْنِہِمْ(قرطی۴/۱۶۱)
حقیقت یہ ہے کہ وحی کے ذریعہ اگرچہ بہت سے امور میں آپ کی رہنمائی کردی جاتی تھی؛ مگر بعض حکمت ا ور مصالح کے پیش نظر چند امور کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے اور صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا، ان ہی مواقع میں آپ کو صحابہٴ کرام سے مشورہ کا حکم دیا گیا؛ تا کہ امت میں مشورہ کی سنت جاری ہوسکے اور لوگ یہ سمجھیں کہ جب نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکمل فہم و بصیرت ہونے کے باوجود مشورہ کا حکم دیا گیا تو پھر ہم اس کے زیادہ محتاج ا ور ضرورت مند ہیں؛ چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا:
اَمَّا انَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ لَغَنِیَّا عَنْہَا وَلٰکِنْ جَعَلَہَا اللّٰہُ تَعالٰی رَحْمَةً لِأمَّتِيْ (الدرالمنثور: ۴/۳۵۹) یعنی یاد رکھو! کہ اللہ اور اس کے رسول مشورہ سے بالکل مستغنی ہیں؛ لیکن خدا تعالیٰ نے اس کو امت کے لیے رحمت کا سبب بنایا ہے۔ وَ اِنَّمَا أرَادَ أنْ یُعَلِّمَہُمْ مَّا فِی الْمُشَاوَرَةِ مِنَ الْفَضْلِ وَلِتَقْتَدِیْ بِہ أُمَّةٌ مِّنْ بَعْدِہ ”اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعہ مسلمانوں کو مشورہ کی فضیلت کا سبق سکھانے کا ارادہ کیا ہے؛ تا کہ آپ کے بعد آپ کی امت اس کی پیروی کریں“ (قرطبی:۲/۱۶۱)
حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشورہ کرنے والا کسی کو نہیں پایا یعنی آپ ہر قابلِ غور معاملہ میں اپنے صحابہ سے مشورہ کر کے ہی کوئی فیصلہ فرماتے، مثلاً :بدر کی لڑائی سے فراغت ہوچکی تو آپ نے اسیرانِ جنگ ِ بدر کے بارے میں صحابہ سے مشورہ فرمایا کہ ان کو معاوضہ لے کر رہا کر دیا جائے یا قتل کیا جائے یا، مثلاً: غزوہٴ اُحد کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا مدینہ شہر کے اندر رہ کر مدافعت کی جائے یا شہر سے باہر نکل کر۔ عام طور سے صحابہ کرام کی رائے باہر نکلنے کی ہوئی تو آپ نے اس کو قبو ل فرمایا۔ غزوہٴ خندق میں ایک خاص معاہدہ پر صلح کرنے کا معاملہ درپیش ہوا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ کو مناسب نہیں سمجھا؛ اس لیے ان دونوں نے اختلاف کیا آپ نے ان دونوں کی رائے قبول کرلی، حدیبیہ کے ایک معاملہ میں مشورہ لیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے پر فیصلہ فرمادیا، قصہٴ اِفک میں صحابہٴ کرام سے مشورہ لیا، اسی طرح اذان کی بابت بھی اپنے صحابہ سے مشورہ کیا کہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حکمت کی بناء پر کسی خاص جانب رہنمائی نہ کی جاتی، ان میں صحابہٴ کرام سے آپ مشورہ فرماتے، اس میں ان لوگوں کے لیے جو مشورہ کو کھیل اور لغو کام سمجھتے ہیں یا جن کو مشورہ لینے میں عار اور خفت محسوس ہوتی ہے؛ حالانکہ مشورہ طلب کرنے میں ہی عزت ہے، مشورہ کرنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا، اگر کامیاب ہوجائے تو اس کی مدح کی جاتی ہے اور اگر مشورہ کے بعد بھی کامیابی نہ ملی تو اسے معذور سمجھا جاتا ہے؛ لیکن اگر مشورہ کیے بغیر کوئی کام کیا گیا اور کام نہیں بن سکا تو پھر اس کی ذلت ہی ذلت ہے، ہزار لوگ اس کو طعن و تشنیع کریں گے اور مختلف باتیں اس کو سننے کے لیے اس کو تیار رہنا ہوگا۔
تخلیق آدم علیہ السلام کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے اس کا تذکرہ کیا تھا اور ان کی رائے معلوم کی تھی جس کی تفصیل (سورہ بقرہ آیت ۳۰) کے ذیل میں دیکھی جاسکتی ہے، اس سے در حقیقت فرشتوں سے مشورہ طلب کرنا مقصد نہیں تھا؛ بلکہ انسانوں کے دل و دماغ میں مشورہ کی اہمیت پیدا کرنا مقصد تھا کہ خالق کائنات کے اس عمل کو پوری کائنات میں طریقہ بنایا جائے؛ مگر افسوس ! کہ آج دیگر اعمالِ خیر کی طرح مشورہ کی سنت بھی ہماری زندگی اور معاشرہ سے رخصت ہوگئی جس کے بھیانک نتائج ہمارے سامنے ہیں، ساری محنتوں مشقتوں اور کوششوں کے باوجود نا کامی ہمارے حصہ میں ہے، ہر طرف انفرادی اور اجتماعی جگہوں میں خلفشار اور انتشار پایا جاتا ہے بسا اوقات نا کامی اور نقصان کے بعد مشورہ نہ کرنے پر افسوس بھی ہوتا ہے؛ مگر اب کیا حاصل؟ ضرورت ہے کہ اہم اور قابلِ غور مسائل میں کام کے آغاز سے پہلے ہی مشورہ کو اپنا معمول بنایا جائے؛ تا کہ محنتیں بار آور اور نتیجہ خیز ثابت ہوں، یقینا مشورہ میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت بھی ہے اور ہزار دینی و دنیوی فائدے بھی ، کاش! امت ِ مسلمہ کی زندگی اور معاشرہ میں مشورہ کی سنت جاری ہوجائے۔
مشورہ کے امور
لیکن اب سوال یہ ہے کہ مشورہ کہاں اور کن چیزوں میں کیا جائے؟ اس سلسلہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ جن امور میں شریعت کا فیصلہ متعین ہے کہ یہ چیز فرض ہے یا واجب ہے یا حرام یا مکروہ ہے، ان امور میں مشورہ کی ضرورت نہیں؛ بلکہ جائز بھی نہیں ہے، جیسے کوئی شخص یہ مشورہ کرے کہ نماز پڑھے یا نہیں، زکوٰة دے یا نہیں، حج کرے یا نہیں، یہ چیزیں مشورہ کی نہیں ہیں، ان کے لیے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم متعین ہے کہ ان کا کرنا ہر حال میں ضروری ہے یا اسی طرح جن چیزوں کو شریعت نے منع کیا ہے، جیسے زناکاری، شراب نوشی، ڈاکہ زنی وغیرہ ان میں بھی مشورہ کی حاجت نہیں، ان سے تو بہرحال رکنا لازمی ہے؛ البتہ طریق کار کے بارے میں مشورہ کیا جاسکتا ہے، جیسے حج میں جانے کے لیے مختلف راستے ہیں، بعض پُراَمن ہیں اور بعض میں خطرہ ہے، تو اس موقع پر تجربہ کار افراد کی رائے معلوم کی جاسکتی ہے کہ ان مختلف راستوں میں اس کے لیے کون سا راستہ بہتر ہوگا، یا اسی طرح ایک شخص مریض ہے اس کو تردد ہے کہ مجھ کو اس حالت میں تیمم کی اجازت ہے یا نہیں، اس بارے میں اطباء یا تجربہ کاروں سے مشورہ کرسکتا ہے، اسی طرح وہ احکام ومسائل جن کے بارے میں قرآن و حدیث، اقوالِ صحابہ یا سلف کی کتابوں میں کوئی صراحت نہیں ہے، جدید اور نئے زمانہ سے ان کا تعلق ہے، ان میں مشورہ کرنا نہ صرف جائز؛ بلکہ اربابِ فقہ اور صاحب ِ نظر علمائے دین سے ان کے بارے میں پوچھنا اور حکم ِ شرعی معلوم کرنا واجب ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا حکم صراحتا ً قرآن میں نازل نہیں ہوا اور آپ سے بھی اس کے متعلق کوئی ارشاد ہم نے نہ سنا ہو تو ہم کیا کریں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسے کام کے لیے اپنے لوگوں میں سے عبادت گزار فقہا کو جمع کرو اور ان کے مشورہ سے اس کا فیصلہ کرو، کسی کی تنہا رائے سے فیصلہ نہ کرو۔ (معارف القرآن: ۲/۲۲۰)
دینی امور کے علاوہ معاشی، معاشرتی، سماجی، انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پیش آنے والے معاملات میں بھی مشورہ کو اپنانا چاہیے، جہاں شریعت، عقل و عادت کے اعتبار سے کوئی جانب متعین ہو اور نہ ہی اس کا نافع ہونا یقینی ہو، امورِ طبعیہ جیسے بھوک اور پیاس کے وقت روٹی کھانا یا پانی پینا، اس میں مشورہ کرنے اور کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھے بھوک لگی ہے کھانا کھانا چاہیے یا نہیں؟ عام حالات میں یہ سوال حماقت ہے، ہاں بیماری کے وقت یا اس کے ذرائع اور طرق یا مختلف اغذیہ اور اشربہ میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے میں اگر کسی کے اندر خطرہ کا احتمال ہو تو مشورہ کرنا مستحسن یا ضروری ہوگا۔ یہاں اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشورہ کی ترغیب اور ہدایت تو دی ہے؛ مگر اپنی رحمت ِ عامہ کی بناء پر چند مخصوص جگہوں کے علاوہ انسان کو مقید نہیں کیا کہ کوئی معاملہ بلامشورہ کر ہی نہ سکے، بسااوقات اہم معاملات پیش آتے ہیں اور ایک تجربہ کار انسان کو اس کے انتظام و انصرام اور حل کا طریقہ معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ کسی صاحب ِ عقل و دانش سے مشورہ کرے گا تو اس کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں بتلا سکتا، اس حالت میں اگر وہ بلامشورہ کام کربیٹھے تو کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح معاملات کی نوعیت اور منافع و خطرات کی عظمت و وقعت اور قوت و ضعف کے اعتبار سے مشورہ کے حکم ِ استحسان میں فرق ہوجائے گا، بعض مواقع میں مشورہ نہایت اہم اور ضروری ہوگا اور بعض جگہ درجہٴ استحسان میں رہے گا۔ بہرحال وہ امور جن میں کوئی جانب شرعاً، عقلاً، عرفاً، عادتاً معین نہیں اور جن کے مختلف جوانب میں خطرات و منافع کا احتمال ہے، یعنی نتائج مبہم اور مخفی ہوں، ان میں مشورہ کو اپنا معمول بنانا چاہیے۔ اس میں اتباعِ سنت کے علاوہ ہزار فوائد ہیں، اہلِ علم اور مشورہ کے پابند حضرات اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔
مشورہ کن سے کیا جائے؟
مشورہ ہمیشہ ایسے شخص سے کرنا چاہیے جس کو متعلقہ معاملے میں پوری بصیرت اور تجربہ حاصل ہو؛ چنانچہ دینی معاملات میں ماہر اور صاحب ِ نظر عالم ِ دین سے مشورہ کرنا چاہیے اور کسی بیماری اور جسمانی صحت کے بارے میں کسی اچھے ڈاکٹر کا انتخاب ہی مفید ہوگا۔ غرض جس طرح کا معاملہ ہے، اسی فن کے ماہرین اور تجربہ کار کا انتخاب کیا جائے؛ کیوں کہ تجربہ کے بغیر صرف عقل کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتی، گویا مشورہ لینے کے لیے عقل اور تجربہ دونوں کا بیک وقت موجود ہونا نہایت ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے بغیر صحیح رہنمائی نہیں مل سکتی۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: اِسْتَشِیْرُوْا ذَوِيِ الْعُقُوْلِ تُرْشَدُوا وَ لَاتَعْصَوْہُمْ فَتَنْدَمُوا۔ (مسند ِ شہاب: ۶۷۳) ”عقلمندوں سے مشورہ کرو، کامیابی ملے گی اور ان کی مخالفت نہ کرو ورنہ شرمندگی ہوگی۔“ حضرت عبداللہ بن الحسن نے اپنے صاحبزادہ محمد بن عبداللہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: ”جاہل کے مشورہ سے بچو اگرچہ کہ وہ خیرخواہ ہو جیسا کہ عقلمند کی دشمنی سے بچتے ہو۔“ (المدخل: ۴/۲۹)
کسی میں اگر عقل اور تجربہ نہیں ہے تو وہ مشورہ کا اہل بھی نہیں ہے، اگر اس سے مشورہ کیا جائے تو پہلے وہ مشورہ ہی کیا دے گا اور اگر مشورہ دے گا بھی تو اس مشورے سے کیا فائدہ؛ اس لیے مشورہ کے لیے عقلمند، ماہر اور تجربہ کار ہونے کی شرط لگائی گئی ہے۔ اسلام کی شورائیت اور موجودہ جمہوریت میں یہی بڑا فرق ہے کہ شورائیت کا تعلق اہلیت سے ہے اور جمہوریت کا اکثریت سے، جس پارٹی کو اکثر لوگوں نے منتخب کرلیا وہی حکمرانی کا حق دار ہے، چاہے ووٹ دینے والے پاگل اور دیوانہ ہی کیوں نہ ہوں، یہی وجہ ہے کہ جُمہوری نظام ایک تباہ کن نظام ہے، عقل و خرد سے اس نظام کا کوئی واسطہ نہیں ہے، اسلام نے اپنا نظام شورائیت پر رکھا ہے، یعنی ماہرین، تجربہ کار اور عقلمندوں کے مشورے سے کوئی فیصلہ صادر کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضراتِ شیخین، صدیق اکبر اور فاروقِ اعظم کی رائے کو جمہور صحابہ پر فوقیت دیتے اور آپ ان دونوں حضرات سے مخاطب ہوکر فرماتے:لَوِاجْتَمَعْتُمَا فِیْ مَشْوَرَةٍ مَاخَالَفْتُکُمَا۔ ”جب تم دونوں کسی رائے پر متفق ہوجاوٴ تو میں تم دونوں کے خلاف نہیں کرتا۔“ (مسند ِ احمد) معلوم ہوا کہ محض کثرت کا شریعت ِ اسلامی میں کوئی اعتبار نہیں، قوتِ عقل و بصیرت اہم چیز ہے۔
اسی طرح مشورہ کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے جو متقی اور دیندار ہو، جس میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور عنداللہ جواب دہی کا احساس نہ ہو، اس کے مشورہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، پتہ نہیں اس نے صحیح مشورہ دیا ہے یا نہیں، ممکن ہے کہ اس کے نزدیک دوسری رائے بہتر ہو اور محض نقصان پہنچانے کے لیے اس کو یہ رائے دی ہو؛ تاکہ مشورہ کرنے والے کو نقصان اور پریشانی میں دیکھ کر ہنسنے اور مذاق کا موقع مل سکے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پرانے زمانے کا کوئی بغض دل میں چھپا ہوتا ہے اور وہ موقع کی تاک میں رہتا ہے، غلط مشورہ دے کر نقصان پہنچانے میں وہی بدلے کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے؛ لیکن جب آدمی میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا تو اس طرح کے احتمالات اور امکان سے دل مطمئن ہوگا، اسی لیے اہل علم نے لکھا ہے کہ مشورہ دینے والے کو دیکھنا چاہیے کہ اس میں ہمدردی کا جذبہ ہے یا نہیں، اگر ہمدردی کا داعیہ نہیں بالخصوص مشورہ لینے والے کے حق میں مشیر کا دل حسد و کینہ اور بدخواہی سے پُر ہو تو اس سے مشورہ ہرگز نہیں لینا چاہیے، اس کا مشورہ سم ِ قاتل سے کم نہیں ہوگا۔
مشورہ لینے کے لیے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ مشیر فکر و نظر کے اعتبار سے صالح ہے یا نہیں، جذباتی انسان کا مشورہ معتبر نہیں ہوسکتا ہے؛ اس لیے کہ ایسے شخص کا مشورہ اس امکان سے خالی نہیں کہ غیظ و غضب میں مبتلا ہوکر یا جذبات کے رَو میں بہہ کر اس نے یہ رائے دی ہو، اسی طرح جس کا قلب ایسے ہجوم و افکار سے خالی نہ ہو جن کی وجہ سے دماغ پریشان اور قلب مشغول ہوجاتا ہے، ان سے بھی مشورہ طلب نہیں کرنا چاہیے؛ اس لیے کہ وہ اس پوزیشن میں ہے کہ اپنی پوری عقل لڑاکر اس کی تمام جہتوں پر غور کرسکتا ہے اور نہ ہی مستشیر کی رہبری کرسکتا ہے۔
جس کا مفاد وابستہ ہو اس سے بھی مشورہ نہ کیا جائے، جیسے کسی دکاندار سے کسی چیز کے خریدنے کے بارے میں اگر پوچھا جائے گا تو وہ اس کی بہت ساری خوبیاں بیان کردے گا؛ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اس سامان کے فروخت ہونے میں اس کے منافع پوشیدہ ہیں؛ اس لیے اس سامان کے کمزور پہلووٴں کو وہ پردہٴ راز میں رکھتا ہے۔ مشورہ لینے والے کو چاہیے کہ سوچ سمجھ کر مشیر کا انتخاب کرے، ورنہ مشورہ سے فائدہ کے بجائے نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مشیر کے فرائض
(۱) جس معاملہ میں اس سے مشورہ لیا جارہا ہے ، اگر اس میں مکمل بصیرت ہو تو مشورہ دے، ورنہ صاف کہہ دے کہ مجھے اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے ؛ اس لیے میں مشورہ کا اہل نہیں ہوں ، یہ کوئی ہتک اور بے عزتی کی بات نہیں؛ بلکہ اس کے اخلاص اور جذبہٴ ہمدردی کی بنیاد پر اجر وثواب کا مستحق ہوگا ، مشورہ لینے والے کا بھی اعتماد بڑھ جائے گا اور اسے یقین ہوجائے گا کہ یہ میرے حق میں مخلص ہے ، آج کل لوگوں کا یہ مزاج ہے کہ کچھ آئے یا نہ آئے مشورہ لیتے وقت ضرور کچھ نہ کچھ جواب اور مشورہ دے دیتے ہیں ، یہ دیانت کے خلاف ہے۔
(۲) غور و فکر کے بعد مشیر کا ذہن جس طرف مائل ہورہا ہے ، کسی رعایت کے بغیر صاف طور پر اس کا اظہار کردے ، یعنی مشیر کا ایک اہم فریضہ یہ بھی ہے کہ اسے اپنے بھائی کا حق سمجھتے ہوئے صحیح مشورہ دے ، رسولِ اکرم ا نے جان بوجھ کر کسی کے معاملہ کو بگاڑنے کے لیے یا کسی کا نقصان کرانے کے لیے مشورہ دینے کو خیانت اور گناہ قرار دیا ہے ارشاد ہے : ”مَنِ اسْتَشَارَ أخَاہُ فَأشَارَہ عَلَیْہِ بِأمْرِہ وَہُوَ یَرَیٰ الرُّشْدَ غَیْرَ ذٰلِکَ فَقَدْ خَانَہ “ (مسند احمد) ” جس نے اپنے بھائی سے مشورہ کیا اور اس نے اسے کوئی ایسا مشورہ دیا جس کے علاوہ میں وہ کامیابی سمجھتا ہو تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔ “ مشورہ دینے میں اس بات کی ہرگز پرواہ نہ کرے کہ اگر میں اس کو یہ مشورہ دوں گا تو شاید اس کا دل ٹوٹ جائے گا ، یہ مجھ سے ناراض اور رنجیدہ ہوجائے گا ۔ کیوں کہ مشورہ طلب کرنے کے بعد اس کی گنجائش نہیں رہتی کہ خوش کرنے کے لیے غلط اور خلافِ حقیقت رائے دی جائے ، کسی انسان کی نہیں؛ بلکہ اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کا خیال رکھے اور جو مشورہ ذہن میں آئے دو ٹوک انداز میں بیان کردے ۔ اس کے ذیل میں علماء اور فقہاء نے اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ صحیح مشورہ دینے میں اگر کسی کی غیبت بھی ہورہی ہو تو بھی صحیح بات بتائے ، شرعاً ان مواقع میں غیبت معاف ہے ۔ مثلاً رشتہ کے لیے کسی لڑکی یا لڑکے کے بارے میں سوال کیا جائے ، اگر اس میں کوئی عیب ہے اور آپ کو معلوم ہے تو مشورہ لینے والے کو ضرور مطلع کردینا چاہیے اور اس موقع پر اظہارِ عیب معاف ہے؛ کیوں کہ یہاں کسی کی زندگی کے بننے اور بگڑنے کا مسئلہ ہے ۔
(۳) مشورہ دینے والے کی ذمہ داری ہے کہ جس معاملہ میں مشورہ لیا گیا ہے ، اس کو راز میں رکھے ، لوگوں کے سامنے اس کو ظاہر نہ کرے ، جیسے کسی نے اپنی بیوی کے کسی معاملہ کے بارے میں مشورہ کیا یا لڑکی اور لڑکے کے رشتہ یا کسی اور معاملہ میں رائے معلوم کی تو گویا یہ مشیر اور مستشیر کے درمیان ایک راز کی بات ہوگی ، ہوسکتا ہے کہ مشورہ لینے والا چاہتا ہو کہ اس کی یہ باتیں مشیر کے علاوہ دوسروں تک نہ پہنچے ، دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے یقینا اس کو تکلیف پہنچے گی اور یہ خیانت کا معاملہ ہوگا ، رسولِ اکرم ا نے ارشاد فرمایا ”اَلْمُسْتَشَارُ مُوٴتَمِنٌ “ ( ترمذی ) یعنی جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے وہ امانت دار ہوتا ہے ، اسے امانت داری کا پورا حق ادا کرنا چاہیے۔ آج کل دیگر خرابیوں کے ساتھ ایک خرابی یہ بھی ہے کہ کسی کے راز کو راز نہیں سمجھا جاتا ، کسی کے بارے میں کوئی چیز معلوم ہوتی ہے تو فوراً اسے عام کرنے کی فکر ہوجاتی ہے اور پھر اس کے نتیجے میں جھگڑے، فسادات دشمنیاں اور ناچاقیاں پھیلتی ہیں ، ضرورت ہے کہ دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کیا جائے اور اتحاد و یگانگت کا ماحول بنایا جائے ۔
(۴) مشیر کا کام ہے صرف مشورہ دینا ، اصرار یا رائے تھوپنے کا مزاج درست نہیں ہے، مشورہ لینے والے کا مقصد ہوتا ہے کہ مختلف جہتوں سے معاملہ کو پہچانا اور جانا جائے پھر غور و فکر کے بعد کسی ایک پہلو کو اختیار کیا جائے ، ظاہر ہے کہ مشورہ طلب کرنے والا مشورہ میں شریک تمام افراد کی رایوں اور خیالات پر عمل نہیں کرسکتا ، وہ صرف اپنے ذاتی حالات کے اعتبار سے صرف کسی ایک کی رائے کو پسند کرسکتا ہے؛ اس لیے اگر کسی کے مشورہ پر عمل نہ کیا جائے تو اس سے دل گیر اور رنجیدہ نہیں ہونا چاہیے ، خوش دلی اور خندہ پیشانی سے مشورہ کرنے والے کے فیصلہ پر رضامندی کا اظہار کیا جائے ، حضرت بریرہ کا نکاح حضرت مغیث سے ہوا تھا ، حضرت بریرہ پہلے باندی تھیں ، جب وہ آزاد کی گئیں تو رسولِ اکرم ا نے شریعت کا حکم سنایا کہ تمہیں اختیار ہے چاہو تو اپنے شوہر کے نکاح میں رہو اور چاہو تو علاحدگی اختیار کرلو ، حضرت بریرہ شوہر سے خوش نہیں تھیں؛ اس لیے انہوں نے علاحدگی کا ارادہ کرلیا ، ان کے شوہر حضرت مغیث کو ان سے کافی محبت تھی ، وہ چاہتے تھے کہ بریرہ علاحدگی اختیار نہ کریں ، حضرت مغیث نے بہت کوشش کی؛ مگر وہ تیار نہ ہوئیں ، بالآخر نبیِ کریم ا سے حضرت مغیث نے سفارش کرائی ، حضرت بریرہ نے سوال کیا یا رسول اللہ ! یہ آپ کا مشورہ ہے یا حکم ہے ؟ اگر حکم ہے تو سرتابی کی مجھے جرأت نہیں ، آپ ا نے فرمایا کہ یہ حکم نہیں مشورہ ہے ، حضرت بریرہنے عرض کیا پھر تو میں آزاد ہوں کہ اس مشورہ کو قبول کروں یا نہ کروں ، میری زندگی ان کے ساتھ گزرنی مشکل ہے؛ اس لیے میں ان سے علاحدگی اختیار کرتی ہوں آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے ۔ (مشکوٰة: ۲۷۶)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ صائب الرائے کون ہوسکتا ہے؛ لیکن چوں کہ مشورہ تھا؛ اس لیے حضرت بریرہ کے نہ ماننے پر آپ نے کسی طرح ناراضگی ظاہر نہیں کی، موجودہ دور کے لیے یہ حدیث بڑی سبق آموز ہے ، ذاتی رائے کو عام لوگوں پر مسلط کرنے کا مزاج عام ہوگیا ہے، جس کے سبب بدنظمی اور بدعنوانی کا ہر طرف ایک سیلاب ہے۔ اپنی رائے کو محض ایک معمولی رائے سمجھنا چاہیے، نہ کہ قولی فیصلہ؛ تاکہ مشورہ کاحقیقی فائدہ حاصل ہوسکے ۔
مشورہ میں عمر کی قید نہیں
ہر وہ شخص جس میں مشورہ کی اہلیت پائی جاتی ہو ، یعنی عقلمند تجربہ کار اور متقی وغیرہ ہو تو اس سے مشورہ لیا جاسکتا ہے خواہ عمر کم ہو یا زیادہ ، مشورہ کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے ، سیدنا حضرت عمر بن الخطاب بعض وقت حضرت عبد اللہ بن عباسکی رائے پر فیصلہ نافذ فرماتے تھے ، حالانکہ مجلس میں اکثر ایسے صحابہ موجود ہوتے تھے جو حضرت عبد اللہ بن عباس سے عمر، علم اور تعداد میں زیادہ ہوتے تھے ، معلوم ہوا کہ چھوٹوں سے مشورہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہاں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اگر مشورہ کی اہلیت رکھنے والے ضابطے کے بڑے موجود نہ ہوں تو اپنے اہل و عیال جن پر اعتماد ہو ان سے کم سے کم مشورہ ضرور کرلینا چاہیے ، انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ غیب سے مشورہ کی برکت سے ضرور کوئی راستہ نکالے گا ، صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کہ مسلمان عمرہ کرنے سے روک دیے گئے تھے ، حضورِ اکرم ا نے صحابہٴ کرام سے اسی مقام پر احرام کھولنے کا حکم دیا، مگر صحابہٴ کرام پس و پیش کررہے تھے ، آپ ا نے امّ المومنین حضرت امّ سلمہ سے مشورہ کیا ، انہوں نے فرمایا : یارسول اللہ ! یہ حضراتِ صحابہ جذبات اور جوش کے عالم میں مغلوب ہیں ، اس لیے ان کے طرزِ عمل کا کچھ خیال نہ کیجیے اور آپ خود پہلے اپنا احرام کھول لیجیے ، یہ مشورہ کامیاب ہوا، صحابہٴ کرام نے آپ کی اتباع میں احرام کھول دیا ۔ حضرت امّ ِ سلمہٴ آپ سے عمر میں چھوٹی اور بیوی تھیں پھر بھی ضرورت پڑنے پر آپ نے ان سے مشورہ کیا ۔
اگر مشورہ میں اختلاف ہوجائے
کچھ لوگ اپنی عقل و دانش اور تجربہ و فن کے اعتبار سے ایک کام کو بہتر سمجھتے ہوں اور مشورہ میں شریک دوسرے افراد اس کو بہتر نہیں سمجھتے ہوں یا اس طرح کا اور کوئی اختلاف ہوجائے تو وہاں دیکھنا چاہیے کہ کون سی رائے قرآن و سنت کے مطابق یا قریب تر ہے، اس پر عمل کرلیا جائے ، اقلیت یا اکثریت کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں ، افراد کی کمی اور زیادتی پر نظر نہ رکھی جائے ، علامہ قرطبی لکھتے ہیں۔ ”وَالشُّوْریٰ مَبْنِیَّةٌ عَلٰی اخْتِلاَفِ الآرَاءِ وَالْمُسْتَشِیْرُ یَنْظُرُ فِیْ ذٰلِکَ الْخِلاَفِ وَیَنْظُرُ أَقْرَبَہَا قَوْلاً الٰی الْکِتَابِ وَالسُّنَّةِ انْ أمْکَنَہ فَاِذَا أرْشَدَہُ اللّٰہُ تعالٰی الٰی مَا شَاءَ مِنْہُ عَزَمَ عَلَیْہِ۔“ (قرطبی: ۴/۱۶۲)
مانگے بغیر مشورہ دینا
مشورہ طلب کیے بغیر از خود مشورہ دینا بہتر نہیں ہے، طرفہ کہتا ہے : نا اہل کے لیے اپنی ہمدردی خرچ مت کر جو شخص تیری رائے سے استغناء کرے تو اس سے بے پرواہ ہوجا! ( اسلام میں مشورہ کی اہمیت صفحہ ۱۰۷)؛ البتہ اگر مشیر یہ سمجھے کہ کوئی شخص غلط راہ پر چلنے سے ہلاکت میں پڑسکتا ہے اور اس کو یقین ہے کہ اگر میں نے سکوت اختیار کیا تو وہ تباہ و برباد ہوجائے گاتو اس وقت از خود بڑھ کر اظہارِ رائے کرنا اور صحیح راستہ بتانا ضروری ہوجاتا ہے ، جیسے ولایت و حکومت کی خواہش ممنوع ہے؛ مگر سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کی حکومت طلب کی تھی؛ اس لیے کہ وہاں اصلاح اسی طریق سے ممکن تھی ۔
اللہ پر توکل
اللہ تعالیٰ نے مشورہ کا حکم دیا ، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا کہ مشورہ کے بعد جس پہلو کو بھی اختیار کیا جائے، اس کے بارے میں اللہ پر توکل اور اعتماد رکھنا چاہیے؛ کیوں کہ مشورہ کا تعلق تدبیر سے ہے اور تدبیر پرتقدیر ہمیشہ غالب آتی ہے ، اصحابِ عقل اور اربابِ نظر و ماہرینِ فن کی رائے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ درست اور مثمر و منتج بھی ہو ، سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے قبضہٴ قدرت میں ہیں؛ اس لیے ایک مسلمان کا کام ہے کہ مشورہ لینے کے بعد اس پر عمل کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین اور اعتماد رکھے۔
%%%
|
۱ ۔ دس سال تک آپس میں لڑائی موقوف رہے گی ۔ ۲ ۔ قریش کا جو شخص اپنے ولی اورآقاکی اجازت کے بغیر مدینہ جائے گا وہ واپس کردیا جائے گا ، اگرچہ وہ مسلمان ہوکر جائے ۔ ۳ ۔ اور مسلمانوں میں سے کوئی مدینہ سے مکہ آجائے اس کو واپس نہ کیا جائے گا ۔ ۴ ۔ اس دوران کوئی ایک دوسرے پر تلوار نہ اٹھائے گا ۔ ۵ ۔ محمد ( ﷺ ) اس سال بغیرعمرہ کےمدینہ واپس جائیں گے ، مکہ میں داخل نہ ہونگے ، آئندہ سال صرف تین دن مکہ میں رہ کرعمرہ کے بعد واپس ہوجائیں گےاورتلواروں کے سواکوئی ہتھیار شامل نہ ہوگا ، اور تلواریں بھی نیام میں ہونگی ۔ ۶ ۔ قبائل متحدہ کو اختیار ہوگا کہ جس کے ساتھ چاہیں معاہدہ و صلح میں شامل ہوجائیں۔
اسلام اور مذہبی رواداری
سیاسی تعصب اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ ہمہ وقت ایک پارٹی دوسری پارٹی کے عیوب ونقائص اور غلطیوں کولوگوں کے سامنے لانے میں لگی رہتی ہے، حتی کہ اُس پارٹی سے متنفّر کردیتی ہے ،
کچھ لوگ تو صوبے کے مختلف ہونے کی وجہ سے تعصب رکھتے ہیں کہ فلاں صوبے کے افراد بُرے ہوتے ہیں، انکے اندر اس طرح کی خامیاں پائ جاتی ہیں،اور کچھ لوگ ملک کے مختلف ہونے کی وجہ سے متعصبانہ رویہ اختیار کرتے ہیں کہ فلاں ملک کے افراد میں یہ بُری خصلت پائ جاتی ہے ،اسکی وجہ سے تکبر پیدا ہوجاتا ہے، پھر تنزّلی شروع ہوجاتی ہے، اور جلد ہی اللہ ایسے شخص کو ذلّت و رسوائ کا مزہ چکھاتا ہے،
سیرت طیبہ میں بلدیاتی نظام
بلدیہ عوامی نمائندوں کی منتخب جماعت کو کہا جاتا ہے، جس کا تعلق عوامی فلاح و بہبود اور خدمات کی فراہمی کے ساتھ ہو۔ ان خدمات میں صفائی کا انتظام، راستوں اور سڑکوں کی تعمیر، صحت و علاج معالجے کے مراکز کا قیام، اور صاف پانی کی فراہمی کا نظام وغیرہ شامل ہیں۔ ایسے شہری اداروں کو انگریزی میں "میونسپلٹی" کہا جاتا ہے۔
تمام ممالک اپنے شہریوں کے بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اقدامات اٹھاتے ہیں۔ آئین ِ پاکستان 1973ء کے آرٹیکل /a 140 کے تحت بھی ایسے عوامی اداروں کے قیام کا تذکرہ کیا گیا ہے، جو عوامی خدمات اور سہولیات کو یقینی بنانے میں معاون ہوں۔بلدیاتی نظام (میونسپلٹی) اور بنیادی عوامی سہولیات کی فراہمی کو عصرِحاضر میں ترقی کے ناپنے کے پیمانے کے طور پر دیکھا جاتا ہے،اور سہولیات کی فراوانی جتنی زیادہ ہوتی ہے اس شہر، علاقہ کو ترقی یافتہ سمجھا جاتاہے۔ اس مقالہ میں ریاستِ مدینہ کے بلدیاتی نظام (میونسپلٹی) اور بنیادی عوامی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا ہے، اور اس سے عصرِ حاضر کے بلدیاتی نظام اور سہولتوں کی فراہمی کے لیے استنباط کیا گیا ہے۔
اللہ تعالی نے رسول اللہﷺ کو پوری اُمت کے لیے بہترین نمونہ بناکر بھیجا تھا، اور آپﷺ کی زندگی کے ہر گوشہ میں اُمت کے لیے عملی رہنمائی موجود ہے۔ آپﷺ کی ذاتی اور خانگی طرزِ حیات ایک کامیاب گھریلو زندگی کے لیے بہترین نمونہ ہے، تو تمدن اور اجتماعی طرز زندگی کے لیے سیرت طیبہ میں انسانوں کے ہر طبقہ اور صنف کے لیے واضح ہدایات موجود ہیں۔
دینِ اسلام فقط عبادات ہی کا نام نہیں، بلکہ اس کی تعلیمات اور احکام فرد کی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ، اس کے معاشرتی تعلقات اور سیاسی و سماجی زندگی کے ساتھ بھی تعلق رکھتے ہیں۔ بلکہ جس ماحول اور علاقہ میں اس کی بودو باش اور سکونت ہو، اس کے متعلق بھی واضح ہدایات فراہم کرتا ہے۔ دینِ اسلام کے اسی ہمہ گیری کی وجہ سے اس کو دیگر ادیان پر امتیاز حاصل ہے اور اس کو دینِ فطرت قرار دیا گیا ہے۔
عوامی خدمات اور سہولتوں کی ایک طویل فہرست ہے ، مگر زیرِ نظر مضمون میں بلدیاتی نظام کی طرف سے شہریوں کو فراہم کی جانے والی چیدہ چیدہ سہولیات اور بلدیاتی حکومتوں کی ذمہ داریوں کا تذکرہ کرنے کے بعد اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ میں ان امور کے بارے میں کیا رویہ اور رجحان ملتا ہے۔ بلدیاتی حکومت کی چیدہ چیدہ ذمہ داریاں درجِ ذیل ہیں:* تمام سرکاری اداروں کی کارکردگی کو جانچنا اور ان کی نگرانی کرنا۔
- قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا تاکہ امن و امان میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔
- اراضی کی پیمائش کرنا، نئی آبادیوں کو بسانے کے لئے عوام کی رہنمائی کرنا اور آبادیوں کو جملہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا جن میں پانی وغیرہ شامل ہیں۔
- بازاروں کی نگرانی کرنا، اشیاء کی کوالٹی اور قیمتوں پر نظر رکھنا،گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنا۔
- نئے ترقیاتی منصوبہ جات مثلاً نئی سڑکیں بنانا، کا اجراء کرنا اور پرانے منصوبہ جات کی دیکھ بھال کرنا۔
- شہریوں کے لئےتعلیم کا بندوبست کرنا۔ (تعلیمِ اطفال و تعلیمِ بالغاں)
- قدرتی وسائل کا تحفظ کرنا، مثلاً جنگلات کی حفاظت کرنا وغیرہ۔([1])
درج بالا تمام امور کی رعایت رکھنا ایک بلدیاتی حکومت کی ذمہ داری ہے کیوں کہ یہ تمام امور وہ ہیں جن کا ایک فرد کی زندگی سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے۔ درج ذیل سیرتِ نبوی میں ان امور کے بارے میں اختیار کی جانے والی تدابیر اور حکمتِ عملیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
مسجد بطورِ مرکز
بلدیاتی نظام میں میونسپل ایڈمنسٹریشن آفس کو مرکزی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس آفس میں متعلقہ افراد ہر وقت موجود ہوتے ہیں اور انتظامی امور میں درپیش مشکلات کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تحصیل اور گاؤں کی سطح پر متعدد کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں جن کے لئے مختص عمارات کو کمیونٹی سنٹر کا نام دیا جاتا ہے۔ دورِ رسالت ﷺ میں بلدیاتی حکومت کے مرکزی دفتر اور ذیلی کمیونٹی سنٹرز کی مثال مسجد کی صورت میں نظر آتی ہے۔
اسلامی معاشرہ میں مسجد کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ عبادت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے افراد کے باہمی ربط و تعلق کے لیے مرکزی محور مسجد ہی ہے، جو مادی اور معنوی طور پرمعاشرے کے تقویت کا باعث بنتی ہے ۔ اسی اہمیت کی وجہ سے مسجد کو دیگر عوامی سہولیات میں سرفہرست رکھا گیا ہے۔
معاشرے کے لیے مسجد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد سب سے پہلے جو کام سرانجام دیا، وہ مسجد کی تعمیر تھی۔([2])
مسجد کی اہمیت کو مزید اجاگر کرنے کے لئے عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ بنفس نفیس مسجد نبوی کی تعمیر میں شریک ہوئے ، خود اینٹیں لاتے، سیدنا طلق بن علی کو گارا گھولنے کا حکم دیتے([3])۔
مسجد کی اس اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے شہری نظام کی اصلاح کے لیے چند نکات اخذ کئے جاسکتے ہیں:
۱۔مسجد مروجہ متعدد کمیونٹی سنٹرز کا بہترین نعم البدل ہے ،اس کو بیک وقت کئی ایسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، جو معاشرے کی تعمیر و ترقی اور درست سمت میں سفر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔مسجد جہاں ایک طرف عبادات کے ساتھ تعلیم وتعلم کا ذریعہ بنتی ہے وہیں دوسری جانب لوگوں کی اصلاح کے لیے وعظ ونصیحت اور باہمی ربط و اتفاق کا ذریعہ بھی ہوتی ہے۔([4])
۲۔مسجد کے ذریعے معاشرے میں تعاون اور ایک دوسرے کے احوال سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
"كانت مواضع الأئمة ومجامع الأمة هي المساجد فإن النبي ﷺ أسس مسجده المبارك على التقوى: ففيه الصلاة والقراءة والذكر وتعليم العلم والخطب وفيه السياسة"([5])
مساجد مسلم قيادت اور امت مسلمہ كى اجتماع گاه ہے۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اپنى مبارک مسجد کی بنیاد تقوی پر رکھی، جہاں نماز، تلاوت، ذکر، تعلیم وتعلم، وعظ ونصیحت اور سیاسی سرگرمیاں ہوتیں۔
۳۔مسجد کی تعمیر میں آپﷺ کی عملی شرکت آپﷺ کی تواضع ، انکساری کاعملی نمونہ ہے، جس میں مسلمانوں کے سربراہان اور بڑوں کے لیے ایک عمدہ ترغیب ہے کہ مسجد کی مادی و معنوی تعمیر میں سب سے کلیدی کردار اُنہی کا ہونا چاہیے۔
موجودہ دور کی ضلعی انتظامیہ کو دیکھا جائے تو اس میں کام کرنے والے افراد کو ان خدمات کا باقاعدہ معاوضہ دیا جاتا ہے جبکہ دورِ رسالت میں ایسا کوئی انتظام نہ تھا بلکہ ان امور کی طرف لوگوں کو راغب کرنے کے لئے ترغیب و تحریض سے کام لیا جاتا تھا اور ان میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ترغیب و تحریض کا یہ پہلو مالی منفعت کے بغیر خدمت کرنے کے جذبے کو ابھارنے کا نہایت عمدہ طریقہ ہے کیونکہ احساسِ ذمہ داری ہی وہ واحد چیز ہے جو کسی بھی معاشرے کو درست سمت میں گامزن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے نیز دنیاوی منفعت کا حصول پیشِ نظر نہ ہو تو نہ صرف مفادات میں ٹکراؤ کا امکان معدوم ہو جاتا ہے بلکہ معاشرے کی ترقی میں ہر شخص بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔
امن وامان کا قیام
کسی بھی معاشرے میں امن وامان کو برقرار رکھنا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ معاشرہ امن وامان کے بغیر نہیں چل سکتا، بدامنی کے ہوتے ہوئے ، کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ امن وامان کو برقرار رکھنے کے لئے باہمی بھائی چارہ، محبت واعتماد اور خیرخواہی کی فضا کا ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ جب تک اہلِ علاقہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص نہ ہوں اور ان میں باہمی تعاون نہ ہو، نظام کی کامیابی کے لیے جتنے بھی جتن کئے جائیں، وہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے۔([6])
باہمی محبت و اعتماد اور خیرخواہی کے علاوہ دوسرا بنیادی عنصر مذہبی آزادی اور رواداری ہے تا کہ مختلف عقائد و نظریات کے حامل افراد اپنے اپنے مذاہب پر عمل کرنے میں آزاد ہوں نیز ہر فرد کو اس بات کا یقین ہو کہ اس کی جان اور اس کا مال دونوں محفوظ ہیں۔
ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے آنحضرتﷺ نے دو اقدامات کئے:* مہاجرین و انصار کے درمیان عقدِ مواخات کیا۔
- یہود اور دیگر غیر مسلم قبائل کے ساتھ معاہدۂ امن کیا۔
امن وامان کے قیام کے لیے پہلا قدم: عقدِ مواخات
عقدِ مواخات کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارگی،باہمی اعتماد و محبت اور خیرخواہی کی فضا قائم ہوئی بلکہ بہت سے دیگر مسائل کے حل میں بھی اس کا کردار نمایاں رہا۔ لیکن اس معاہدہ کا اصل مقصد کیا تھا، اس ضمن میں حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں:
"أن هذه المؤاخاة إنما شرعت لأجل ارتفاق بعضهم من بعض وليتألف قلوب بعضهم على بعض"([7])
اس مواخات کا مقصد یہ تھا کہ صحابہ کرام ایک دوسرے کی مدد کریں، اور آپس میں قلبی انس و محبت پیدا ہو سکے۔
اسى ضمن ميں علامہ سہیلی فرماتے ہیں:
"آخى رسول الله ﷺ بين أصحابه حين نزلوا المدينة، ليذهب عنهم وحشة الغربة ويؤنسهم من مفارقة الأهل والعشيرة ويشد أزر بعضهم ببعض" ([8])
رسول اللہﷺ نے مدینہ آنے کے بعد اپنے صحابہ کرام میں مواخات قائم کی، تاکہ اجنبیت کی وحشت اور گھر اور خاندان کے چھوڑنے کی قلق ختم ہوجائے، اور صحابہ کرام آپس میں ایک دوسرے کے مدد گار بن جائیں۔
گویا مواخات کا مقصد باہمی الفت و محبت کا فروغ اور اجنبیت و نامونوسیت کی دیوار کو گرا کر ایک كردینا تھا۔ یہی کام بلدیاتی حکومت گلی،محلے کی سطح پر کمیٹیاں یا کمیونٹیز بنا کر کرتی ہے تاکہ معاشرے میں امن او ررواداری قائم رہ سکے۔
سیرتِ طیبہ میں کثیر تعداد میں ایسی روایات موجود ہیں جو باہمی تعاون اور الفت و محبت کی تلقین کرتى ہیں([9])، جب کہ اِن ہدایات کے برعکس ہمارے معاشرے میں اسی چیز کا فقدان ہے اور معاشرتی فساد کا بنیادی سبب بھی یہی ہے کہ یہاں قوی ، کمزور کا حق دباتا ہے، اور دوسروں کے ساتھ تعاون اور بھلائی کرنے کے بجائے ، صرف ذاتی خواہشات کی تکمیل میں ساری توانائیاں خرچ ہو جاتی ہیں۔
امن و امان کے قیام کے لیے دوسرا قدم : معاہدۂ امن
رسول اللہﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے، تو اسلام کے علاوہ دیگر ادیان ، بالخصوص یہودی بھی آباد تھے۔ چنانچہ پُرامن معاشرے کے قیام کے لیے آپ ﷺ نے مسلمانوں اور یہودیوں میں باہمی تعلقات قائم کرنے کے لیے ایک تحریری معاہدہ فرمایا۔([10])
اس معاہدہ میں یہودیوں کو اپنے دین اور اموال پر برقرار رکھا گیا۔ قصاص اور خون بہا کے قدیم طریقوں کو بدستور قائم رکھا گیا۔ جس میں تحریر تھا کہ ظلم اور فساد میں کسی کی رعایت نہیں ہوگی۔ معاہدے کے تمام فریقوں پر لازم ہےکہ وہ مدینہ منورہ میں فساد برپا نہ کريں۔ یہودیوں کی جان ومال کی حفاظت مسلمانوں کے ذمہ ہوگی اور ہر فریق اپنے اخراجات کا خود ذمہ دار ہوگا۔مدینہ پر حملے کی صورت میں سب باہمی تعاون کریں گے اور ہر فریق دشمن کے مقابلے میں دوسرے کی مدد کرے گا۔([11])
اِس معاہدے سے شہری نظام کی کامیابی کے لیے مندرجہ ذیل نکات اخذ کئے جاسکتے ہیں:
۱۔معاشرہ کا ہر فرد بلا تفریق مذہب و نسل اہمیت رکھتا ہے، اور ان تمام افراد کا باہمی تعلقات کو استوار کرنا انتہائی ضروری ہے، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔اس معاہدے سے ان لوگوں کی غلط فہمی کا بھی ازالہ ہوتا ہے جو اسلام کو صرف عبادات میں منحصر سمجھتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ آنے کے بعد دیگرعبادات کے قیام سے پہلے معاشرے کے افراد کا باہمی ربط قائم فرمایا۔([12])
۲۔اِس معاہدے سے ایک طرف مسلمان یہودیوں کی شرارتوں سے محفوظ رہے، تو دوسری طرف یہودی بھی اِس معاشرے میں امن اور اطمینان کی زندگی بسر کرنے لگے۔ اِس معاہدے میں اقلیتوں کے حقوق کی طرف بھی اشارہ ہے۔
۳۔رسول اللہﷺ نے اِس معاہدے میں مسلمانوں اور یہودیوں میں سے ہر ایک پر یہ بات لازم کردی، کہ بیرونی دشمن کے حملے کی صورت میں ایک فریق دوسرے کے ساتھ تعاون کرے گا۔([13])
شہر کی حفاظت:
شہری نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے، کہ وہاں کے باشندے اندرونی امن کے ساتھ بیرونی دشمن سے بھی محفوظ ہوں، اور ہر شہری اپنے علاقے کی حفاظت کے جذبے سے سرشار ہو۔اندرونی امن کے قیام کے لئے موجودہ دور میں پولیس کا محکمہ موجود ہے اور اس محکمہ کی معاونت کے لئے دیگر سرکاری ادارے بھی موجود ہیں۔ دورِ رسالت میں اندرونی امن و امان کے قیام کے لئے باقاعدہ پولیس کا محکمہ قائم نہیں تھا کہ وہ لوگوں کے اعمال و افعال کی نگرانی کرتا اور ناقضِ امن معاملات میں ملوث ہونے پر ان پرگرفت کرتا بلکہ ہرشخص انفرادی طور پر اس بات کی کوشش کرتا کہ اس سے کوئی ایسا کام سرزد نہ ہوجائے جو نقضِ امن کا باعث بن کر انتشار پھیلانے والا ہو۔
بیرونی دشمن سے مدینہ کے شہریوں کی حفاظت کے لئے آنحضرت ﷺ نے درج ذیل دو اقدامات کئے:* یہود كے علاوه گرد و نواح کے قبائل سے بهى امن کا معاہدہ کیا جس کی رو سے ہر فریق کسی بیرونی حملہ کی صورت میں دوسرے فریق کی مدد کرنے کا پابند تھا۔
- آپ ﷺ بذاتِ خود مدینہ منورہ کا گشت فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ اس سلسلے میں حضرت انس کی روایت ہے کہ ایک رات اہلِ مدینہ ایک آواز کی وجہ سے ڈر گئے اور لوگ اس آواز کی طرف روانہ ہوئے تو سامنے سے نبی اکرم ﷺ، جو لوگوں سے پہلے ہی اس آواز کے تعاقب میں نکل پڑے تھے، گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر، گلےمیں تلوارلٹکائے، یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ پرواہ مت کرو، یہ آواز سمندر کی طرف سے آئی تھی۔([14])
درج بالا واقعہ سے شہريوں كے جان ومال كے تحفظ كا جو تصور ملتاہے،خلافت راشده ميں اس كا باقاعده اہتمام نظر آتا ہے اور آج كے نظام بلديات ميں اس كے پيش نظر شعبہ پوليس كے رات كو گشت كو مزيد فعال بنانے كى ضرورت ہے تاكہ امن وامان ا ور تحفظ جان ومال كو يقينى بنايا جا سكے۔
رہائش اور کھانے کی سہولیات مہیا کرنا
کسی بھی بلدیاتی نظام اور شہری حکومت کے لیے یہ بات ضروری ہے، کہ وہ اپنے باشندوں کے لیے رہائش کا معقول انتظام کرے۔کیوں کہ جب تک رعایا کو آرام کے ساتھ رہنے کی جگہ میسر نہ ہو، تب تک وہ دوسرے اہم امور کے لیے فارغ نہیں ہوتے۔ بلدیاتی نظام میں رہائش کی فراہمی اس طور پر کی جاتی ہے کہ آبادکاری کے اس عمل میں ایک ترتیب اور نظم برقرار رکھا جائے تاکہ مزید رہائشی منصوبوں کے اجراء کی صورت میں قدیم آبادیوں کو فراہم کردہ سہولیات میں کمی واقع نہ ہو۔ رہائش کی اہمیت کے پیشِ نظر رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ میں تمام صحابہ کرام کے لیےرہائش کا انتظام بھی کیا ۔ انصار مقامی باشندے ہونے کی وجہ سے پہلے سے گھروں کے مالک تھے اور صاحبِ جائیداد بھی تھے، جبکہ مہاجرین بڑی تعداد میں مکہ مکرمہ سےہجرت کرکے آئے ہوئے تھےان کے پاس نہ تو ذاتی گھر تھے اور نہ ہی جائیدادیں۔ ([15])
ہجرتِ رسول ﷺ سے مدینہ منورہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی تو اس میں رہائش اختیار کرنے کی غرض سے آنے والوں میں صرف مہاجرین ہی نہیں تھے بلکہ عرب کے دوسرے قبائل کے لوگ بھی مختلف اطراف سے مدینہ منورہ کی طرف امڈ آئے۔ محدود وسائل کے ساتھ اتنی بڑی تعداد کے لیے رہائش کا انتظام کرنا آسان کام نہیں تھا۔ لیکن آپﷺ نے اُن کے رہائش کا ایسا زبردست بندوبست کردیاجو عمرانیات کے ماہرین کے لیے سیرتِ طیبہ کا انتہائی دل چسپ موضوع ہے۔
اس مسئلے کا حل نکالتے ہوئے آپﷺ نے بعض مہاجرین کے لیے ابتدائی رہائش کے طور پر مسجد نبوی میں ایک خیمہ لگایا، جس کو صفہ کہا جاتا تھا، یہ اُن لوگوں کا گھر ہوتا تھا جن کے پاس رہائش کا کوئی انتظام نہیں تھا۔([16])
اصحابِ صفہ کی رہائش کے انتظام کے ساتھ ساتھ اُن کے کھانے کا انتظام بھی رسول اللہﷺ کیا کرتے تھے۔([17]) چنانچہ آپ ﷺنے بعض مہاجرین کی رہائش کا انتظام کسی مال دار انصاری کے ذمہ لگا دیا تاکہ قیام و طعام دونوں ضروریات بآسانی پوری ہو سکیں اور معاشرے میں توازن برقرار رہے نیز اصحابِ صفہ کو روزانہ رات کے وقت صحابہ کرام کے درمیان تقسیم فرما دیتے تاکہ ان کے ساتھ کھانا کھا سکیں۔([18]) نیز آپ ﷺ دوسروں کی مدد کی ترغیب دیتے رہتے۔ ایک مرتبہ فرمایا:
»لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ، وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ«([19])
وہ کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جو خود سیر شکم ہو کر سوئے ، جب کہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔
اس عمل سے آپ ﷺ نے امت کو یہ پیغام دیاکہ معاشرے کے مالدار افراد غریب اور نادار افراد کے لئے نہ صرف رہائش کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں بلکہ ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
کھانے کا انتظام اس بات کا بھی تقاضہ کرتا تھا کہ مسلمانوں میں تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہو۔ اس مقصد کے لئے طویل مدتی منصوبے کے طور پر باقاعدہ بازاروں اور تجارتی مراکز کا قیام عمل میں آیا جس کی تفصیل آئندہ عنوان کے تحت درج کی جا رہی ہے۔
بازاروں اور تجارتی مراکز کا قیام
مدینہ منورہ كى جانب ہجرت کے وقت مدینہ میں تجارت پر یہود کی اجارہ داری تھی اور ان کا اپنا ایک بازار تھا جس کا نام "سوق قینقاع" تھا۔ عقدِ مواخات کے بعد متعدد صحابہ کرام نے اس بازار کا رخ کیا۔حضرت انس فرماتے ہیں:
«قدم عبد الرحمن بن عوف المدينة فآخى النبي صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الأنصاري فعرض عليه أن يناصفه أهله وماله، فقال: عبد الرحمن بارك الله لك في أهلك ومالك دلني على السوق» ([20])
عبد الرحمن بن عوف جب مدینہ آئے، اور آپﷺ نے آپ اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارگی قائم کی، تو حضرت سعد نے اُسے اپنا مال اور اہل آدھا آدھا کرنے کے لیے پیش کیا۔ عبد الرحمن بن عوف نے فرمایا: اللہ تعالی آپ کے اہل اور مال میں برکت عطا فرمائے، مجھے تو بازار کا راستہ دکھاؤ۔ (تاکہ میں اپنے لیے خود کماؤں) ۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کا اپنے انصاری بھائی سے بازار کا راستہ پوچھنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مہاجرین تجارتی امور اور سرگرمیوں میں حصہ لینے سے غافل نہ تھے۔
آپ ﷺ نے یہود کی تجارتی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لئے الگ سے بازار کا قیام عمل میں لایا۔ ایک روایت کے مطابق:
ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے بازار قائم کرنے کے لئے ایک جگہ دیکھی ہے، کیا آپ ﷺ اسے دیکھنا پسند فرمائیں گے؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ پھر اس کے ساتھ اس جگہ تشریف لے گئے اور وہ جگہ اتنی پسند آئی کہ آپ ﷺ نے اپنے پاؤں وہاں پر زور زور سے مارتے ہوئے فرمایا: یہی تمہارا بازار ہے،اب تم کوئی کوتاہی نہ کرنا اور نہ ہی اس پر کوئی ٹیکس مقرر کرنا۔([21])
اس روایت سے بلدیاتی حکومت کی درج ذیل ذمہ داریاں سامنے آتی ہیں:
1۔نئے بازار قائم کرنا۔
2۔ضرورت كے مطابق تاجروں کو اس بازار کے آباد کرنے کی ترغیب دینا۔
3۔نئے قائم کردہ بازار میں ٹیکس نہ لگانا۔
ان تینوں امور کو دیکھا جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ حکومت کے لئے یہ کافی نہیں کہ وہ صرف بازار قائم کر دے بلکہ اس پر لازم ہے اس بازار کو آباد کرنے کے لئے تاجروں کو سہولیات بھی فراہم کرے۔ ٹیکس نہ لگانا تاجروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں سے ایک اہم سہولت ہے کیونکہ ٹیکس نہ ہونے کی وجہ سے تاجر اس بازار میں بغیر کسی خوف اور ڈر کے تجارتی سرگرمیاں سرانجام دیں گے۔
معیاری اشیاء کی فراہمی
انسانی زندگی کا تحفظ مقاصدِ شریعت میں سے بنیادی مقصد ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے اسلام کی تعلیم انتہائی سادہ ہے۔ »المسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ«([22]) کا ارشادِ نبوی تمام دقیق اور گنجلک ابحاث اور فلسفوں کو نہایت مختصر الفاظ میں بیان کردیتا ہے اور زبان اور ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچانے کو اصل ایمان قرار دیتا ہے۔
کھانے پینے کی اشیاء کا ملاوٹ سے پاک بالکل خالص صورت میں افراد تک پہنچایاجانا ،تعلیماتِ نبوی ﷺ کا اصل منشا ہے۔ اس بارے میں آنحضرت ﷺ کا طرزِ عمل درج ذیل حدیث سے واضح ہو جاتا ہے:
»أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلاً، فَقَالَ: يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ، مَا هَذَا؟، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ،قَالَ: أَفَلاَ جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا«([23])
حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ غلہ کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے اور اس ڈھیر میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو انگلیوں میں نمی کو محسوس کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے غلہ والے! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس ڈھیر پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو نے اسے غلہ کے اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ بھی اسے دیکھ لیتے۔ پھر ارشاد فرمایا: دھوکہ دینے والا ہم میں سے نہیں ہے۔
اس روایت سے دو امور کا استنباط کیا جا سکتا ہے:
1۔بازار میں فروخت کی جانے والی اشیاء کی جانچ پڑتال کرنا درست ہے۔
2۔اسلام میں دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کی اجازت بالکل نہیں ہے۔
بازار میں اشیاء کی جانچ پڑتال کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اس بارے میں ظاہر سی بات ہے کہ حکومتِ وقت یا اس کی طرف سے مقرر کردہ کوئی فرد ہی اس کا ذمہ دار ہو سکتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی ذاتِ عاليه اپنی حیاتِ مبارکہ میں مسلمانوں کے تمام معاملات میں ذمہ دار تھی اور آپ ﷺ کا بازاروں میں جانا اور وہاں پر فروخت ہونے والی اشیاء کی جانچ پڑتال کرنا بحیثیت حکمران تھا۔موجودہ دور میں یہ ذمہ داری حکومت کی طرف سے مقرر کردہ عامل یا افسر کی ہےکہ بازار میں جائے اور وہاں پر موجود اشیاء کا جائزہ لے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ عوام تک پہنچنے والے اشیائے خوردنی بغیر کسی ملاوٹ کے پہنچ رہی ہیں۔
»مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا« کے الفاظ عام ہیں اور اس میں دھوکہ دہی کی تمام صورتیں شامل ہوجاتی ہیں جن میں عیب دار اشیاء کو فروخت کرنا،جھوٹی قسمیں کھا کر فروخت کرنا،عمدہ چیز دکھا کر گھٹیا چیز دے دینا،اشیاء کی معیادی تاریخ (Expiry Date) ختم ہونے پر تاریخ کو مٹا دینا یا اس پر نئی تاریخ لگا کر فروخت کر دینا، ناپ تول میں کمی کر دینا وغیرہ شامل ہیں۔ دھوکہ دہی کی یہ تمام صورتیں ایسی ہیں جن میں سے ہر ایک کے بارے میں قرآن و سنت سے مستقلاً دلائل موجود ہیں۔
دوسری بات جس کی طرف اس حدیث میں اشارہ نہیں ہے وہ یہ ہے کہ آیا دھوکہ دہی کے مرتکب شخص کو اس پر کوئی سزا بھی دی جائے گی یا نہیں؟ حدیث اس بارے میں خاموش ہے۔ لیکن ظاہر سی بات ہے کہ حاکمِ وقت کو اگر مصالحِ عامہ اور مفادِ عامہ کی رعایت رکھنی ہے تو اسے اس بات کا اختیار بھی ہے کہ وہ دھوکہ دہی سے بچاؤ کی ہر ممکنہ صورت اختیار کرے جس میں فراڈ کرنے والوں کو سزا دینا بھی شامل ہے۔
دھوکہ سے بچنے کی کیا صورت ہو گی؟ اس بارے میں آنحضرت ﷺ کی ایک اور حدیث سے رہنمائی ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا«([24])
جب دو آدمی خرید و فروخت کا معاملہ کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار حاصل ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں۔
قیمتوں کو کنٹرول کرنا
بازاروں میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور کمی ہونا ایک لازمی امر ہے جس سے بچنا ممکن نہیں ہے لیکن اگر قیمتوں میں اتنا اضافہ کر دیا جائے کہ وہ اشیاء عام شخص کی قوتِ خرید سے باہر ہو جائیں یا مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتوں کو بڑھا دیا جائے تو حکومت اس میں مداخلت کر کے قیمتوں کو مقرر کر سکتی ہے۔ قیمتوں کو مقرر کرنا "تسعیر" مستقل بحث کا متقاضی ہے، یہاں صرف اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ سیرتِ طیبہ میں قیمتوں کو مقرر کرنے کے بارے میں دو طرح کی روایات ملتی ہیں، کچھ روایات میں قیمتوں کو مقرر کرنے کی بظاہر ممانعت معلوم ہوتی ہے جیسے:
»غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالُوا:يَا رَسُولَ اللَّهِ!سَعِّرْ لَنَا،فَقَالَ:"إِنَّ اللَّهَ هُوَ المُسَعِّرُ القَابِضُ البَاسِطُ الرَّزَّاقُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَال«۔([25])
نبى ﷺ كے زمانے ميں قيمتيں بڑھ گئيں، صحابه كرام رضى الله عنهم نے كها اے الله كے رسول ﷺ همارے لئے قيمتيں مقرر فرماديں تو رسول الله ﷺ نے فرمايا: يقينا الله تعالى قيمتيں مقرر فرمانے والا هے، تنگى و كشادگى كرنے والا هے،بهت زياده رزق عطاكرنے والا هے، اور ميں اميد كرتا هوں كه ميں اپنے رب سے اس حالت ميں ملوں كے تم ميں سے كوئى بھى ايسا نه هو جو مجھ سے مال اور خون كے ظلم كے بارے ميں طلب كرنے والا هو۔
البتہ مصنوعی گرانی کے وقت قیمتیں مقرر کرنے کی طرف روایات میں اشارہ ملتا ہے، جیسےكہ ايك حدیث ميں ہے :
»مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ العَبْدِ قُوِّمَ العَبْدُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ، وَعَتَقَ عَلَيْهِ العَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ«([26])
وہ شخص جس نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردیا (تو دیکھا جائے گا)اگر اس کے پاس اتنا مال ہے جو غلام کی قیمت کو کفایت کرجاتا ہے،تو غلام کی قیمت لگوائی جائے گی اور ہر شریک کو اس کے حصے کے بقدر اس مال میں سے قیمت ادا کردی جائے گی اور غلا م آزاد تصور ہوگا وگرنہ غلام صرف اُسی کی جانب سے آزاد ہوگا اور باقیوں کی جانب سے اس کی عبدیت برقرار رہے گی۔
درج بالا حدیث میں عتاق کے ایک مسئلہ کی صورت بیان کی گئی ہے۔ وجۂ استدلال یہ ہے کہ روایت میں مالک کو زائد قیمت وصول کرنے کا حق نہیں دیا گیا جو درحقیقت تسعیر ہی ہے۔
الغرض اشیائے ضروریہ کا مناسب قیمتوں میں ملنا ہر فرد کا حق ہے، کوئی بھی شخص کسی سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔ اگر بازار میں مہنگائی پیدا کر دی جائے تو اس کے اصل اسباب کو جان کر ان کا ازالہ کرنا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے۔ نیز یہ بات بھی قابلِ لحاظ ہے کہ حکومتی سرگرمی کی وجہ سے آئندہ کے لئے بھی گراں فروشی کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔چند تاجروں کو نفع پہنچا کر ہزاروں لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرنا کسی بھی طرح قرینِ انصاف نہیں ہے۔البتہ بازاروں میں اگر قدرتی عوامل کی بناء پر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو اس میں مداخلت کرنا درست نہیں لیکن اگر مصنوعی طور پر قیمتوں میں اضافہ کیا جائے تو اس میں مداخلت کرنا حکومتی فريضہ ہے۔
ذخیرہ اندوزی کی ممانعت
مصنوعی گرانی کے عوامل میں سے ایک سبب ذخیرہ اندوزی بھی ہے جس کی شناعت اور ممانعت احادیث میں وارد ہوئی ہے۔احادیث میں ذخیرہ اندوز کو خطاکار کہا گیا ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:
»لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ«([27])
ذخیرہ اندوزی صرف خطا کار ہی کرتا ہے۔
ایک روایت میں ذخیرہ اندوز ی کرنے والے کے افلاس و غربت اور جذام جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہونے کی وعید مذکور ہے([28])جبکہ ایک اور روایت میں چالیس دن تک ذخیرہ اندوزی کرنے والے سے اللہ کی براءت کا تذکرہ ہے([29])۔ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کو ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے چاہیے تاکہ شہریوں کو اس کے نقصانات سے بچایا جا سکے۔
پینے کے لیے صاف پانی کا انتظام:
پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اس لیے شہری نظام میں اربابِ اختیار کے لیےضروری ہے، کہ وہ لوگوں کے لیے صاف پانی کا انتظام کریں۔ آيت ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ﴾([30])كے مطابق پانی کو انسانی حیات کی بقا کا اساسی ذریعہ قرار ديا گيا ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آپﷺ نے اہلِ مدینہ کے لیے صاف پانی کی فراہمی کا انتظام کرنے کا ارادہ فرمایا تونظرِ انتخاب مدینہ منورہ میں ایک یہودی کےکنویں پر پڑی جس کا نام "رومہ" تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مدینہ میں صاف اور میٹھے پانی کا واحد ذریعہ یہی کنواں تھا۔آپ ﷺ نے ایک دن فرمایا:
»مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ، فَيَكُونُ دَلْوُهُ فِيهَا كَدِلاَءِ المُسْلِمِينَ«([31])
بیرِ رومہ کون خرید لے گا؟ (تاکہ پھر وہ اُس کے لیے خاص نہ ہو)، بلکہ دوسرے مسلمان بھی اُس میں برابر کے شریک ہو۔
آپﷺ کے کہنے پر حضرت عثمان نے وہ کنواں بیس ہزار درہم میں خریدلیا، اور نہ صرف مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کردیابلکہ مدینہ کے دیگر باشندوں کو بھی اس سے اپنی ضرورت پوری کرنے کی عام اجازت تھی([32])۔
صرف صاف پانی کی فراہمی تک ہی یہ معاملہ محدود نہیں رہتا بلکہ ایسے انتظامات کرنا کہ پانی کی فراہمی کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہے اور پانی مضرِ صحت بھی نہ بنے، بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس مقصد کی غرض سے آپ ﷺ نے پانی کو غلاظت اور گندگی سے پاک رکھنے کی ہدایات بھی دی ہیں۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
»لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي المَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي«([33])
تم میں سے کوئی بھی ٹھہرے ہوئے پانی میں پاخانہ نہ کرے۔
ٹھہرے ہوئے پانی میں پاخانہ کی ممانعت کی وجہ بیان کرتے ہوئے ابنِ بطال لکھتے ہیں:
آپ ﷺ نے انھیں ٹھہرے ہوئے پانی میں پاخانہ کرنے پر زجر اس وجہ سے کی ہے کہ کہیں پانی خراب نہ ہو جائے اور لوگوں کی صاف پانی تک رسائی دشوار نہ ہو۔([34])
نیز آپ ﷺ نے دیگر ارشادات میں پانی کی فراہمی کی ترغیب دی اور اس کو ان صدقہ جاریہ میں شمار فرمایا جس کا ثواب انسان کی موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
سیوریج سسٹم:
انسانی آبادی کو اس تعفن و گندگی سے بچانے کے لیے آنحضرت ﷺ نے امتِ مسلمہ کو براہ راست احکامات بھی ارشاد فرمائے ہیں جن میں درج ذیل تین مقامات پر قضائے حاجت نہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں:* راستوں میں۔
- سایہ دار جگہوں میں۔
- موارد یعنی ایسی جگہ جہاں پانی کا انتظام ہو اور لوگوں کی آمد و رفت لگی رہتی ہو۔
آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
»اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ،قَالُوا:وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:"الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ فِي ظِلِّهِمْ«([37])
دو لعنت كا سبب بننے والى چيزوں سے بچو، صحابه كرام نے كها اے الله كے رسول ﷺ دو لعنت كا سبب بننے والى كيا چيزيں هيں؟ فرمايا: لوگوں كے راستے ميں پيشاب كرنا يا ان كى سايه دار جگهوں ميں پيشاب كرنا۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
»اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَةَ: الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَالظِّلِّ«([38])
معاذ بن جبل سے روايت ہے وه فرماتے هيں رسول ا لله ﷺنے فرمايا: تين لعنت والى جگهوں سے بچو، گھاٹ پر پيشاب كرنا ، راستوں پر اور سايه دار جگه ميں پيشاب كرنا۔
لہذا سیوریج سسٹم کی پائپ لائنز بچھانے میں اس بات کو ملحوظ رکھنا بے حد ضروری ہے کہ ان کا گزر صاف پانی کے چشموں،نہروں یا پائپ لائنز کے قریب سے نہ ہو کیونکہ سیوریج کے اثرات اس پانی میں منتقل ہونے کے اندیشہ کا خدشہ موجود ہے نیز عام شاہراہوں میں بچھائی جانے والی پائپ لائنز میں بھی اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ ان میں کسی وقتی خرابی کی وجہ سے عام لوگوں کو کسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شاہراہوں اور راستوں کا انتظام:
ملکی ترقی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب کشادہ سڑکیں اور شاہراہیں ہے۔ جدید دنیا میں مواصلات کی ترقی کی وجہ سے شاہراہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ رش اور ازدحام کو ختم کرنے کے لیے مختلف تدبیریں اختیار کی جاتی ہیں۔ آپﷺ نے مدینہ منورہ کی تعمیر اور ترقی کے لیے راستوں سے رکاوٹیں ختم کرنے کا حکم دیا ، اور لوگوں کو راستوں میں کھڑا ہونے سے منع فرمایا ۔
آپﷺ نے صحابہ کرام کو ایک مرتبہ فرمایا:
کہ جب تمہارا آپس میں راستے پر اختلاف ہو، تو راستے کی چوڑائی سات گز رکھا کرو۔([39])
علامہ عینی فرماتے ہیں:
یہ حکم اِس لیے دیا، تاکہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو۔([40])
مصروف راستوں کو بند کرنا، اور اُن میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے بھی آپﷺ نے منع فرماتے۔بعض صحابہ کرام راستوں میں بیٹھتے تھے، آپﷺ نے انہیں منع فرمایا:
»إِيَّاكُمْ وَالجُلُوسَ عَلَى الطُّرُقَاتِ«([41]) خبردار!راستوں میں مت بیٹھو۔
آپﷺ صحابہ کرام کو راستوں کو کشادہ اور کار آمد رکھنے کی ترغیب دینے کے لیے اِس عمل کی فضیلت بھی بیان فرماتے تھے، ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:
»لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ، فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ، كَانَتْ تُؤْذِي النَّاسَ«([42])
میں نے جنت میں ایک آدمی کو مزے کرتے ہوئے دیکھا، کیوں کہ اُس نے راستے سے ایسے درخت کو کاٹا تھا، جو لوگوں کی تکلیف کا باعث تھا۔
اِس حدیث سے بلدیاتی نظام کا یہ اہم نکتہ بھی ثابت ہوتا ہے، کہ شہر میں جگہ جگہ ناجائز تصرفات پر پابندی ہونی چاہیے، اور ناجائز تصرفات کی صورت میں نہ صرف اُن کو ہٹانا چاہیے بلکہ ایسا کرنے والے افراد کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
فقہاء کرام کا اِس بات پر اتفاق ہے، کہ شارعِ عام میں ایسے تصرفات کرنا ناجائز ہے، جو گزرنے والوں کے تکلیف کا سبب بنیں۔ ([43])
شہرکی صفائی کا انتظام:
ہر علاقہ میں شہروں کی صفائی کا اہتمام کیا جاتا ہے، بلکہ اِس مقصد کے لیے مستقل مہم چلائی جاتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ کے گلی کوچوں کی صفائی کا بھی انتظام کیا ہوا تھا، اور اِس مقصد کے لیے صحابہ کرام کو مستقل ترغیب دیا کرتے تھے، بلکہ اِس کو ایمان کا شعبہ قرار دیا۔ آپﷺ کا ارشاد ہے:
»الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ-أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ-شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ«([44])
ایمان کے 70 یا كچھ 60 يا كچھ شعبے ہیں۔ سب سے افضل توحید کا اقرار ہے، اور سب سے ادنی راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیاء بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
ابن بطال فرماتے ہیں:
"إماطة الأذى وكل ما يؤذى الناس فى الطرق مأجور عليه"([45])
گندگی اور لوگوں کے لئے تکلیف کا باعث بننے والی ہر چیز کو راستے سے ہٹانا باعثِ اجر ہے۔
ایک حدیث میں آپﷺ نے راستوں سے گندگی ہٹانے کو صدقہ قرار دیا ہے۔([46]) ایک مرتبہ ابوبرزہ نے پوچھا:اے اللہ کے رسول مجھے کوئی نفع بخش عمل سکھائے، تو آپﷺ نے فرمایا:مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹایا کرو۔([47])
شہری نظام میں اربابِ اختیار پر لازم ہےکہ وہ راستوں سے ایسی اشیاء جو لوگوں کی تکلیف کا باعث بنے،کوہٹانے کا انتظام کریں۔ بلدیاتی نظام میں اِس مقصد کے لیےمستقل صفائی والے مقرر ہوتے ہیں لیکن رسول اللہﷺ نے اِس کام کے لیے ہر شہری کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، اور ایسا کرنے کو صدقہ قرار دیا۔ علامہ مناوی فرماتے ہیں:
"وفيه فضل إزالة الأذى من الطريق كشجر وغصن يؤذي وحجر يتعثر به أو قذر أو جيفة وذلك من شعب الإيمان" ([48])
اِس حدیث میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی فضیلت ہے، جیسے درخت، تکلیف دہ کانٹا، پتھر جس سے لوگ ٹھوکر کھائیں، گندگی یا مردار۔ اور یہ ایمان کے حصوں میں سے ہے۔
نتائج بحث
اِس مقالہ سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں:
۱۔عصرِ حاضر میں بنیادی شہری حقوق یا بلدیاتی نظام (میونسپلٹی) کے عنوان سے جو سہولیات حکومت کی ذمہ داری میں شمار کی جاتی ہیں، اُن کی فراہمی اور فروغ عصرِ نبوی ﷺ ہی میں مدینہ منورہ کے قیام کی ساتھ کر دی گئی تھیں۔
۲۔مساجد کا قیام اور نظم و نسق حکومت کی اولین فرض منصبی میں سے ہے۔
۳۔معاشرے کے تمام افراد میں بلا تفریق مذہب و نسل باہمی تعاون ، بھائی چارہ اور فلاح و بہبود کا فروغ ، کامیاب بلدیاتی نظام کا ضامن ہے۔
۴۔نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کے باشندوں کے لیے کھانے ، پینے اور رہائش کا انتظام کرکے ، شہریوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی عملی مثال قائم فرمائی۔
۵۔لوگوں کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے نئے بازاروں کا قیام بے حد ضروری ہے لیکن ان بازاروں کے قیام سے پہلے ان کے لئے مناسب جگہ کو ڈھونڈا جائے اور پھر اس کو آباد کرنے کے لئے تاجروں کو سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔
۶۔پانی کی ضرورت کو پورا کیا جائے تو اس میں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ فراہم کردہ پانی میں گندگی اور نجاست کا حلول نہ ہونے پائے کیونکہ اس سے بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
۷۔سیوریج لائنز بچھا کر ان کے گٹر آبادی سے دور بنائے جائیں اور ان کے لئے ایسی جگہ کا بندوبست کیا جائے جہاں پر وہ جذب ہو سکیں تاکہ بدبو اور تعفن فضا میں آلودگی پھیلانے کا باعث نہ بن سکے۔
۸۔راستوں اور شاہراؤں کو کشادہ اور صاف رکھنا ، نیز ان سے تجاوزات اور تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانے کے لیے سیرتِ طیبہ میں واضح ہدایات دی گئی ہیں ، اور عصر حاضر میں ان تعلیمات کو فروغ دینے سے متعلقہ مسائل کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
۹۔دور نبوى ميں انسانى فلاح وبہبود كے تمام كاموں كے انجام دہى كے لئےمساجد كااستعمال ايك طرف سادگى كى طرف اشاره ہے تو دوسرى طرف فلاح وتربيت معاشره كے تمام امور سرانجام دينا عبادت كا درجہ ركھتے ہيں۔
حوالہ جات
- ↑ (1)www۔lgkp۔gov۔pk ,Retrieved on May 28, 2018
- ↑ ()ابن ھشام، عبدالملک، السیرۃ النبویۃ، مکتبہ مصطفی البابی، مصر،۱۳۷۵ھ،۱/۴۹۴
- ↑ ()ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، دارالکتب العلمیۃ، بیروت،۱۴۱۰ھ، ۱/۱۸۵
- ↑ ()زید ان، عبدالکریم، ڈاکٹر، فقہ السیرۃ، دار التدمریۃ، سعودی عرب،۱۴۲۴ھ، ص:۳۳۴
- ↑ ()ابن تیمیہ، احمد بن عبدالعلیم، مجموع الفتاوی، مجمع الملک فہد، سعودی عرب،۱۴۱۶ھ، ۳۵/۳۹
- ↑ ()فقہ السیرۃ، ص:۳۴۲
- ↑ ()ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر، البدایۃ والنہایۃ، دار احیاء التراث العربی، بیروت،۱۴۰۸ھ، ۳/۲۷۸
- ↑ ()سہیلی، عبدالرحمن بن عبداللہ، الروض الانف، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۲۱ھ، ۴/۱۷۸
- ↑ ()مثلاً:رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:»لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ« (بخاری، محمد بن اسماعیل،صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب لاخیہ مایحب لنفسہ، حدیث نمبر:۱۳،تحقیق:محمد زہیر بن ناصر،دار الطوق النجاۃ، ۱۴۲۲ھ)
- ↑ ()البدایۃ والنہایۃ،۳/۲۷۸
- ↑ ()السیرۃ النبویۃ، ۱ /۵۰۲-۵۰۴
- ↑ ()فقہ السیرۃ، ص:۳۵۲
- ↑ ()السیرۃ النبویۃ، ۱ /۵۰۲- ۵۰۴
- ↑ ()صحیح بخاری، کتاب الجھاد والسیر،باب الحمائل و تعلیق السیف بالعنق،حدیث نمبر:۲۹۰۸،تحقیق:محمد زہیر بن ناصر،2/39
- ↑ ()الطبقات الکبری، ۱/۱۸۴
- ↑ ()ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ دمشق، دار الفکر، بیروت،۱۴۱۵ھ، ۲/۲۸
- ↑ ()ابن اثیر، علی بن ابو الکرم، اسد الغابۃ، دار الفکر، بیروت،۱۴۰۹ھ، ۲/۴۸۰
- ↑ ()حلبی،علی بن برہان الدین،سیرۃ حلبیۃ (اردو)،مترجم:مولانا محمد اسلم قاسمی،دارالاشاعت کراچی،مئی، ۲۰۰۹ء،۲/۲۱۶
- ↑ ()بیہقی،احمد بن حسین،السنن الکبری،کتاب الضحایا،باب صاحب المال لا یمنع المضطرفضلا،حدیث نمبر: ۱۹۶۶۸، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ۱۴۲۴ھ، ۱۰/۵
- ↑ ()صحیح بخاری،کتاب المناقب، باب کیف آخی النبیﷺ بین اصحابہ، حدیث نمبر:۳۹۳۷،۵/۶۹
- ↑ ()طبرانی،سلمان بن احمد بن ایوب،المعجم الکبیر،حدیث نمبر:۵۸۶،باب المیم، الزبیر بن ابی اسید عن ابیہ،تحقیق:حمدی بن عبدالمجید، مکتبہ ابن تیمیہ ،قاہرہ،طبع دوم:۱۹۹۴ء
- ↑ ()صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ،حدیث نمبر:۱۰
- ↑ ()ترمذی،محمد بن عیسیٰ، سنن ترمذی،ابواب البیوع، باب ما جاء فی کراہیۃ الغش فی البیوع،حدیث نمبر:۱۳۱۵،تحقیق:بشار عواد معروف،دارالغرب الاسلامی،بیروت،۱۹۹۸ء،قشیری،مسلم بن الحجاج،صحيح مسلم، کتاب الایمان،باب قول النبیﷺ:«من غشنا فليس منا» حدیث نمبر:۱۰۲،تحقیق:محمد فواد عبدالباقی،دار احیاء التراث العربی، بیروت
- ↑ ()صحیح مسلم، کتاب البیوع، باب ثبوت خیار المجلس للمتبایعین، حدیث نمبر:۱۵۳۱
- ↑ ()سنن ترمذی، ابواب البیوع، باب ما جاء فی التسعیر، حدیث نمبر:۱۳۱۴۔ایسی روایت مصنف عبد الرزاق میں بھی موجود ہے،صنعانی،عبدالرزاق بن ھمام بن نافع،المصنف،حدیث نمبر:۱۴۸۹۹، کتاب البیوع، باب: ھل یسعر؟،تحقیق:حبیب الرحمن اعظمی،المجلس العلمی،انڈیا،طبع دوم:۱۴۰۳ھ
- ↑ ()صحيح بخارى،حديث نمبر: ۲۵۲۲
- ↑ ()صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب تحریم الاحتکار فی الاقوات،حدیث نمبر: ۱۶۰۵
- ↑ ()»مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ،ضَرَبَهُ اللهُ بِالْإِفْلاسِ،أَوْ بِجُذَامٍ«احمد بن حنبل،مسند احمد، مسند عمر بن الخطاب،حدیث نمبر:۱۳۵،مسند الخلفاء الراشدین،تحقیق:شعیب ارنوؤط،مؤسسۃ الرسالۃ بیروت،طبع اول: ۲۰۰۱ء
- ↑ ()مسند احمد،مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند عبداللہ بن عمر،حدیث نمبر:۴۸۸۰
- ↑ ()سورةالانبیاء:30
- ↑ ()صحیح بخاری، کتاب المساقاۃ، باب فی الشرب، ۳/۱۰۹
- ↑ ()حلبی، علی بن ابراہیم، السیرۃ الحلبیۃ، دار الکتب العلمیۃ، بیروت،۱۴۲۷ھ، ۲/۱۰۴
- ↑ ()صحیح بخاری،کتاب الوضوء،باب البول فی الماء الدائم،حدیث نمبر:239،۱/۵۷
- ↑ ()ابن بطال،علی بن خلف،تحقیق:ابو تميم ياسر بن ابراہيم،مكتبۃ الرشد،السعوديۃ،رياض،طبع دوم:2003ء، ۱/۳۵۳
- ↑ ()دیکھیے: ابوداود، سليمان بن اشعث،سنن ابو داود، کتاب الطھارۃ،باب التخلی عند الخلاء،حدیث نمبر:۲،تحقیق:محمد محیی الدين عبد الحميد،المكتبۃ العصريۃ، صيدا،بيروت
- ↑ ()»إِنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ،فَأَتَى دَمِثًا فِي أَصْلِ جِدَارٍ فَبَالَ،ثُمَّ قَالَ ﷺ:"إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ مَوْضِعًا«۔( سنن ابو داؤد،کتاب الطھارۃ،باب الرجل یتبوأ لبولہ،حدیث نمبر:۳)
- ↑ ()صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ،باب النھی عن التخلی فى الطرق والظلال،حدیث نمبر:۲۶۹
- ↑ ()سنن ابو داود، کتاب الطھارۃ، باب المواضع التی نھی النبی ﷺ عن البول فیہا، حدیث نمبر:۲۶
- ↑ ()صحیح بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب اذا اختلفوا فی الطریق المیتاء، حدیث نمبر: ۲۴۷۳
- ↑ ()عينى،محمود بن احمد، عمدۃ القاری،دار احياء التراث العربی ،بيروت،۱۳/۲۴
- ↑ ()صحیح بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب افنیۃ الدور والجلوس فیھا،حدیث نمبر:۲۴۶۵، ۳/۱۶۵
- ↑ ()صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل ازالۃ الاذی عن الطریق،حدیث نمبر:۱۹۱۴
- ↑ ()الموسوعۃ الفقھیۃ الکويتیۃ، دارالسلاسل، کویت،۱۴۰۴ھ، ۲۸/۳۵۰
- ↑ ()صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب شعب الایمان ، حدیث نمبر:۳۵، ۱/۶۳
- ↑ ()ابن بطال، علی بن خلف، شرح صحیح البخاری، مکتبۃ الرشد، سعودی عرب،۱۴۲۳ھ، ۶ /۶۰۰
- ↑ ()صحیح بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب اماطۃ الاذی، ۳/۱۳۳
- ↑ ()ابن ماجہ،محمد بن یزید قزوینی،سنن ابن ماجہ،کتاب الادب،باب اماطۃ الاذی عن الطریق،حدیث نمبر:۳۶۸۱،دار احیاء التراث العربی، بیروت،۲/۴۹۱
- ↑ ()مناوی، زین الدین محمد عبدالروف، فتح القدیر شرح الجامع الصغیر، المکتبۃ التجاریۃ الکبری، مصر،۱۳۵۶ھ، ۵/۲۷۹























No comments:
Post a Comment