Sunday, 21 October 2012

سیاسیاتِ اسلام

علمِ سِیاسَت کو سِیاسِیات کہتے ہیں۔[فیروز اللغات:825]
اردو لغت میں سِیاسَت کہتے ہیں:(1) حکومت، سلطنت، ملکی نظام (2) رُعب داب (3) گوش مالی، سزا۔[فیروز اللغات:825]

عربی لغت میں السياسة کہتے ہیں ملکی تدبیر وانتظام۔ اور السياسة المدنية یعنی شہری انتظام، عدل واستقامت کے ساتھ اس طرح پر انتظام کرنا کہ سب کی معاشی حالت اچھی ہو۔[مصباح اللغات:389]


قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پر مشتمل ہے، مثلاً: عدل وانصاف، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، مظلوموں سے اظہارِ ہمدردی وحمایت، ظالم اور ظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیاءِ کرام اور اولیاءِ عظام کا اندازِ سیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوكٍ وَلَا شَيْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ ، قَالَتْ : فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَكْفِيهِ مَئُونَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ ، وَأَعْلِفُهُ وَأَسْتَقِي الْمَاءَ وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ ، وَكَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ ، قَالَتْ : وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ ، قَالَتْ : فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَدَعَانِي ، ثُمَّ قَالَ : إِخْ إِخْ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ ، قَالَتْ : فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى عَلَى رَأْسِكِ أَشَدُّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ " ، قَالَتْ : حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ ، فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي .
[صحيح مسلم » كِتَاب السَّلَامِ » بَاب جَوَازِ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ الْأَجْنَبِيَّةِ ... رقم الحديث: 4057(2182)]
محمد بن علا، ابوکریب ہمدانی، ابواسامہ، ہشام، ابی، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت زبیر بن العوام ؓ نے مجھ سے نکاح کیا اور ان کے پاس نہ زمین تھی نہ مال نہ خادم اور نہ ایک گھوڑے کے سوا اور کوئی چیز میں ان کے گھوڑے کو چارہ ڈالتی تھی اور ان کی طرف سے اس کی خبر گیری اور خدمت کرتی تھی اور ان کے اونٹ کے لئے گٹھلیاں کوٹتی تھی اس کو گھاس ڈالتی اور پانی پلاتی تھی اور ڈول کے ذریعہ پانی نکالتی تھی اور میری انصاری ہمسائیاں مجھے روٹی پکا دیتی تھیں اور وہ بڑے اخلاص والی عورتیں تھیں اور میں حضرت زبیر ؓ کی اس زمین سے اپنے سر پر گٹھلیاں لاتی تھی جو انہیں رسول اللہ ﷺ نے عطا کی تھی اور وہ زمین دو تہائی فرسخ دور تھی میں ایک دن اس حال میں آئی کہ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوگئی اور آپ ﷺ کے اصحاب میں سے چند آدمی آپ کے ساتھ تھے آپ ﷺ نے مجھے بلایا پھر اونٹ بٹھانے کے لئے اخ اخ کہا تاکہ آپ مجھے اپنے پیچھے سوار کرلیں فرماتی ہیں مجھے حیاء آئی اور اے زبیر میں تیری غیرت سے واقف تھی۔ تو حضرت زبیر ؓ نے کہا تیرا اپنے سر پر گٹھلیاں اٹھانا مجھے آپ ﷺ کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت دشوار تھا یہاں تک کہ حضرت ابوبکر ؓ نے اس واقعہ کے بعد میرے پاس ایک خادمہ بھیج دی پھر اس نے مجھے گھاس کے کام سے دور کردیا گویا کہ اس خادمہ نے مجھے آزاد کردیا۔ 


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ ، وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ وَكُنْتُ أَسُوسُهُ ، فَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْخِدْمَةِ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ كُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ وَأَقُومُ عَلَيْهِ وَأَسُوسُهُ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَعْطَاهَا خَادِمًا ، قَالَتْ : كَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ ، فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ فَجَاءَنِي رَجُلٌ ، فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ : إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ ، قَالَتْ : إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ ، أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَيَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ ، فَجَاءَ ، فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ : إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ ، قَالَتْ : مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا دَارِي ؟ فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ : مَا لَكِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلًا فَقِيرًا يَبِيعُ ، فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ ، فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي ، فَقَالَ : هَبِيهَا لِي ، قَالَتْ : إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا " .
[صحيح مسلم » كِتَاب السَّلَامِ » بَاب جَوَازِ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ الْأَجْنَبِيَّةِ ... رقم الحديث: 4058(2182)]
محمد بن عبیدالغبری حماد بن زید ایوب بن ابی ملیکہ حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت زبیر ؓ کے گھر کا کام کاج کرتی تھی اور ان کا ایک گھوڑا تھا اور میں اس کی دیکھ بھال کرتی اور میرے لئے گھوڑے کی دیکھ بھال کرنے سے زیادہ سخت کوئی کام نہ تھا پھر انہیں ایک خادمہ مل گئی نبی ﷺ کی خدمت میں کچھ قیدی پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے ان میں سے ایک خادم انہیں عطا کردیا کہتی ہیں کہ اس نے میرے گھوڑے کی دیکھ بھال کرنے کی مشقت کو اپنے اوپر ڈال لیا ایک آدمی نے آکر کہا اے ام عبداللہ میں غریب آدمی ہوں میں نے تیرے گھر کے سایہ میں خرید و فروخت کرنے کا ارادہ کیا ہے انہوں نے کہا میں اگر تجھے اجازت دے بھی دوں لیکن زبیر اس سے انکار کریں گے اس لئے اس وقت آکر اجازت طلب کرو جب حضرت زبیر ؓ گھر پر موجود ہوں پھر وہ آیا اور عرض کیا اے ام عبداللہ میں ایک غریب آدمی ہوں میں نے آپ کے گھر کے سایہ میں خرید و فروخت کرنے کا ارادہ کیا ہے اسماء نے کہا کیا تیرے لئے میرے گھر کے علاوہ پورے مدینہ میں کوئی اور جگہ نہیں ہے تو اسماء سے حضرت زبیر نے کہا تجھے کیا ہوگیا ہے کہ ایک ضرورت مند آدمی کو خرید و فروخت سے منع کر رہی ہے پس وہ دکانداری کرنے لگا اور خوب کمائی کی اور میں نے وہی باندی اس کے ہاتھ فروخت کر دی پس زبیر ؓ اس حال میں آئے کہ میرے پاس اس کی قیمت میری گود میں تھی تو انہوں نے کہا اس رقم کو میرے لئے ہبہ کر دو اسماء نے کہا میں انہیں صدقہ کر چکی ہوں۔ 

[مسند أحمد:26972،صحيح البخاري:5224، صحيح مسلم:2182،صحيح ابن حبان:4500، السنن الكبرى للنسائي:9125،  المعجم الكبير للطبراني:250، السنن الكبرى للبيهقي:14717، زاد المعاد: 5/170]

سیاست، انبیاء کا کام:
 RULING & POLITICS IS THE PROPHETIC WORK
القرآن : قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ [یوسف:55]
یوسف نے کہا مجھ کو مقرر کر ملک کے خزانوں پر نگہبان ہوں خوب جاننے والا
He said, :Appoint me to (supervise) the treasures of the land. I am indeed a knowledgeable keeper.

حضرت یوسفؑ نے خود درخواست کر کے مالیات کا کام اپنے سر لیا۔ تاکہ اس ذریعہ سے عامہ خلائق کو پورا نفع پہنچا سکیں۔ خصوصاً آنے والے خوفناک قحط میں نہایت خوش انتظامی سے مخلوق کی خبر گیری اور حکومت کی مالی حالت کو مضبوط رکھ سکیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام دنیا کی عقل بھی کامل رکھتے ہیں۔ اور یہ کہ ہمدردی خلائق کے لیے مالیات کے قصوں میں پڑنا شان نبوت یا بزرگی کے خلاف نہیں سمجھتے نیز ایک آدمی اگر نیک نیتی سے یہ سمجھے کہ فلاں منصب کا میں اہل ہوں اور دوسروں سے یہ کام اچھی طرح بن نہ پڑے گا تو مسلمانوں کی خیر طلبی اور نفع رسانی کی غرض سے اس کی خواہش یا درخواست کر سکتا ہے۔ اگر حسب ضرورت اپنے بعض خصال حسنہ اور اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کرنا پڑے تو یہ ناجائز مدح سرائی میں داخل نہیں۔ عبدالرحمن بن سمرہ کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص از خود امارت طلب کرے تو اس کا بار اسی کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے (غیبی اعانت مددگار نہیں ہوتی) یہ اس وقت ہے جب طلب کرنا محض نفس پروری اور جاہ پسندی وغیرہ اغراض کی بناء پر ہو۔ واللہ اعلم۔


السنّه : AL-SUNNAH
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، قَالَ : قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَخَمْسَ سِنِينَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ، قَالَ : فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ " .
حضرت ابوحازمؒ سے روایت ہے کہ میں پانچ سال تک حضرت ابوہریرہؓ کے ساتھ رہا تو میں نے ان کو نبی ﷺ سے حدیث روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے جب کوئی نبی وفات پا جاتا تو اس کا خلیفہ ونائب نبی ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور عنقریب میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے صحابہ نے عرض کیا آپ ﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جس کے ہاتھ پر پہلے بیعت کرلو اسے پورا کرو اور احکام کا حق انکو ادا کرو بے شک اللہ ان سے انکی رعایا کے بارے میں سوال کرنے والا ہے۔
It has been narrated by Abu Huraira that the Holy Prophet (may pceace be upon him) said: Banu Isra'il were ruled over by the Prophets. When one Prophet died, another succeeded him; but after me there is no prophet and there will be caliphs and they will be quite large in number. His Companions said: What do you order us to do (in case we come to have more than one Caliph)? He said: The one to whom allegiance is sworn first has a supremacy over the others. Concede to them their due rights (i. e. obey them). God (Himself) will question them about the subjects whom He had entrusted to them.
تشریح :
( فوابیعۃ الاول فالاول) کا مطلب یہ ہے کہ خلفیہ وامیر کی بیت پوری کرو جو پہلے مقرر ہوا پھر اس خلیفہ وامیر کی واطاعت کرو جو اس کے بعد مقرر ہوا! اور اس دوسرے خلیفہ وامیر کو " اول " اس امیر وخلیفہ کی نسبت سے فرمایا گیا ہے جو اس کے بعد مقرر ہوگا ۔ گویا حاصل یہ ہے کہ جس طرح علی الترتیب ایک کے بعد دوسراخلیفہ مقرر ہو اس طرح تم بھی ترتیب کے ساتھ ایک کے بعد دوسرے خلیفہ کی بیعت واطاعت کرنا ہے ہاں اگر ایک ہی وقت میں دو شخص امارت وخلافت کا دعوی کریں تو تم اس شخص کی بیعت وطاعت کرو جو پہلے مقرر ہوا ہے اور دوسرے کے بارے میں یہ سمجھو کہ یہ شخص حکومت و سیاست کے لالچ میں غلط دعوی کر رہا ہے لہٰذا اس کو اپنا خلیفہ وامیر ماننے سے انکار کر دو چنانچہ آگے جو حدیث آ رہی ہے اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے ۔
(اعطوہم حقہم) (ان کے حقوق ادا کرو ) گویا پہلے جملہ (فوبیعۃ الاول) (پہلے امیر کی اطاعت پوری کرو ) کا بدل ہے اور حدیث کے آخری الفاظ یعنی (فان اللہ سائلہم) الخ دراصل پہلے جملہ کی علت کو بیان کرتے ہیں جس میں خلیفہ وامیر کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، گویا اس جملہ میں اختصار کو اختیار کیا گیا ہے پورا مفہوم یہ ہے کہ تم ان کے حقوق ادا کرو اگرچہ وہ تمہارے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کریں ۔
حدیث کے آخر میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ خلیفہ وامیر (سربراہ مملکت) کو رعایا کے حقوق کی حفاظت وادائیگی کی جو (ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ اس کے لئے قیامت کے دن احکم الحاکمین کی بارگارہ میں جواب دہ ہوگا ، اس نے دنیا میں جن لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہوگی اس سے ان لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کرائی جائے گی اور وہ اس پر قادر نہ ہو سکے تو سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ۔


دین خیرخواہی کا نام ہے
حضرت تمیم داری رضي الله عنه حضورصلى الله عليه وسلمکا ارشاد نقل کرتے ہیں: 
الدِّينُ النَّصِيحَةُ ، قُلْنَا : لِمَنْ ؟ قَالَ : لِلَّهِ ، وَلِكِتَابِهِ ، وَلِرَسُولِهِ ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَعَامَّتِهِمْ “․

دین خیرخواہی کا نام ہے، ہم لوگوں نے عرض کیا کہ خیر خواہی کس کے ساتھ کی جائے؟ آپ صلى الله عليه وسلمنے ارشاد فرمایا: اللہ کے ساتھ، اس کی کتاب کے ساتھ، اس کے رسول کے ساتھ، ائمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے ساتھ۔

ایک حدیث میں ہے کہ:
مَنْ لَا يُصْبِحُ وَيُمْسِي نَاصِحًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِإِمَامِهِ وَلِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ.
جس کی صبح وشام اس حال میں نہ ہو کہ وہ اللہ کا، اس کے رسول کا، اس کی کتاب کا ، ائمہ کا اور عام مسلمانوں کا خیر خواہ نہ ہو تو وہ مسلمانوں میں سے نہیں۔
[أخرجه الطبرانى فى الأوسط (7/270، رقم 7473) . وأخرجه أيضًا: فى الصغير (2/131، رقم 907) . قال الهيثمى (1/87) : فيه عبد الله بن أبى جعفر الرازى ضعفه محمد بن حميد، ووثقه أبو حاتم، وأبو زرعة، وابن حبان.]


اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم

دَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَان ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ الله بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولُ اللهِ ، أَنْصُرُهُ إِذَا كَانَ مَظْلُومًا ، أَفَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ ظَالِمًا كَيْفَ أَنْصُرُهُ ؟ ، قَالَ : تَحْجُزُهُ أَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ " .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْإِكْرَاهِ » بَاب يَمِينِ الرَّجُلِ لِصَاحِبِهِ إِنَّهُ أَخُوهُ ... رقم الحديث: 6466(6952)]
حضرت  انسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ظالم یا مظلوم بھائی کی مدد کرو، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن ظالم کی کس طرح مدد کریں، آپ نے فرمایا اس کا ہاتھ پکڑ لو (یعنی اس کو ظلم سے روکو)۔
إِنَّمَا المُؤمِنونَ إِخوَةٌ فَأَصلِحوا بَينَ أَخَوَيكُم ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُرحَمونَ {49:10}
مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے
The believers are but brethren; wherefore make reconciliation between your brethren and fear Allah, that haply ye may be shewn mercy.
یعنی صلح اور جنگ کی ہر ایک حالت میں یہ ملحوظ رہے کہ دو بھائیوں کی لڑائی یا دو بھائیوں کی مصالحت ہے۔ دشمنوں اور کافروں کی طرح برتاؤ نہ کیا جائے۔ جب دو بھائی آپس میں ٹکرا جائیں تو یوں ہی انکے حال پر نہ چھوڑ دو۔ بلکہ اصلاح ذات البین کی پوری کوشش کرو۔ اور ایسی کوشش کرتے وقت خدا سے ڈرتے رہو کہ کسی کی بیجا طرفداری یا انتقامی جذبہ سے کام لینے کی نوبت نہ آئے۔
==============================
اسلام اور حکومت ISLAM & GOVERNMENT
اسلام ، دنیا کا یگانہ مذہب بھی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی اسلام جس طرح انسانیت عامہ کی دینی ، مذہبی اور اخلاقی ، اخروی فلاح کا سب سے آخری اور مکمل قانون ہدایت ہے اس طرح وہ ایک ایسی لافانی سیاسی طاقت بھی ہے جو انسانوں کے عام فائدے ، عام بہتری اور عام تنظیم کے لئے حکومت وسیاست سے اپنے تعلق کو برملا اظہار کرتی ہے ۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اسلام صرف ایک مذہب ہی نہیں بلکہ مذہب کی حیثیت سے کچھ اور بھی ہے اس کو حکومت حاکمیت ، سیاست اور سلطنت سے وہی تعلق ہے جو اس کائنات کی کسی بھی بڑی حقیقت سے ہو سکتا ہے اس کو محض ایک ایسا نظام نہیں کہا جا سکتا ہے جو صرف باطن کی اصلاح کا فرض انجام دیتا ہے بلکہ اس کو ایسا دینی نظام بھی سمجھنا چاہئے جو خدا ترس وخدا شناس روح کی قوت سے دنیا کے مادی نظام پر عالمگیر غلبہ کا دعوی رکھتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم جو اسلامی تصورات ونظریات کا سر چشمہ ہے اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایات کی شارح و ترجمان ہیں ، ان کا ایک بہت بڑا حصہ اسلام اور حکومت وسیاست کے تعلق کو ثابت کرتا ہے کہیں تاریخی انداز میں ، کہیں تعلیمات کے پیرایہ میں اور کہیں نعمت الہٰی کو ظاہری کرتے ہوئے ہم پر یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اسلام اور حکومت خدا کا حق ہے اس لئے اسلام کا ایک بنیادی مقصد یہ بھی ہے کہ اس زمین پر خدا کی حکومت قائم کی جائے اور اس کا اتارا ہوا قانون نافذ کیا جائے ۔
ہم میں سے جو کج فکر لوگ " مذہب اور سیاست " کے درمیان تفریق کی دیوار حائل کر کے اسلام کو سیاست و حکومت سے بالکل بے تعلق وبے واسطہ رکھنا چاہتے ہیں وہ دراصل مسلم مخالف عناصر کے اس شاطر دماغ کی سازش کا شکار ہیں جو خود تو حقیقی معنے میں آج تک حکومت کو " مذہب " سے آزاد نہ کر سکا لیکن مسلمانوں کی سیاسی پرواز اور ہمہ گیر پیش قدمی کو مضمحل کرنے کے لئے " مذہب " اور سیاست وحکومت " کی مستقل بحثیں پیدا کر کے مسلمانوں کے چشمہ فکر وعمل میں دین اور دنیا کی پلیدگی کا زہر گھول رہا ہے ۔ 

چند سیاسی اور انتظامی اصول:

شاہ ولی الله محدث دھلوی نے سیاسیات اور نظم حکومت کے بارے میں بھی کچھ بنیادی اصول دنیا کو فراہم کیے. فرماتے ہیں:

(١) زمین کا حقیقی مالک الله تعالیٰ اور ظاہری نظم کے لحاظ سے ریاست (سٹیٹ) ہے. باشندگان ملک کی حیثیت وہ ہے جو کسی مسافر خانہ میں ٹھہرنے والوں کی ہے. ملکیت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حق انتفاع میں دوسرے کی دخل اندازی قنوناً ممنوع ہے.

(٢) سارے انسان برابر ہیں، کسی کو یہ حق نہیں کہ اپنے آپ کو مالک الملک، ملک الناس، مالک قوم یا انسانوں کی گردنوں کا مالک تصور کرے. نہ یہ کسی کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی صاحب اقتدار کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرے.
(٣) ریاست کر سربراہ کی وہ حیثیت ہے کہ جو کسی وقف کے متولی کی ہوتی ہے. وقف کا متولی اگر ضرورت مند ہو تو اتنا وظیفہ لے سکتا ہے کہ وہ ملک کے عام باشندوں کی طرح اپنی زندگی گزار سکے.
(٤) ہر انسان کے لئے خواہ وہ مزدور ہو یا کسان کہ روٹی ، کپڑا ، مکان اور ایسی استطاعت کہ نکاح کر سکے اور بچوں کی تعلیم و تربیت کرسکے. بلا لحاظ مذہب و نسل ہر ایک انسان کا یہ بنیادی اور پیدائشی حق ہے.
(٥) اسی طرح مذھب ، نسل یا کسی رنگ کے تفاوت کے بغیر عام باشندگان ملک کے معاملات میں یکسانیت کے ساتھ عدل و انصاف ، ان کے جان و مال کی حفاظت ، ان کی عزت اور ناموس کی حفاظت ، حق ملکیت میں آزادی ، حقوق شہریت میں یکسانیت ہر باشندہ ملک کا بنیادی حق ہے.
(٦) زبان و تہذیب کو زندہ رکھنا ہر ایک فرقہ کا بنیادی حق ہے.
[علماء میدان سیاست میں: صفحہ#١٩٩-٢٠٠]

==========================











آزاد عوامی حکومت - اسلامی تصور


          اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے، اس میں زندگی کے ہر شعبہ کے لیے پوری رہنمائی موجود ہے، سیاست وحکمرانی بھی دنیاوی زندگی کا اہم ترین باب ہے، یہ انسانی معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہے، اس کے بغیر نہ نظم وضبط قائم ہوسکتا ہے، نہ رشتوں اور مرتبوں کا احترام باقی رہ سکتا ہے، نہ صلاحیتوں کا صحیح استعمال ہوسکتا ہے اور نہ روئے زمین جنت کا نمونہ بن سکتی ہے․․․ اسی لیے انسانی تاریخ کے ہر دور میں اس کو ایک اجتماعی ضرورت کے طور پر برتا گیا، ہر عہد کے بہترین دماغوں نے اس کے لیے اپنی صلاحیتیں صرف کیں، ہر علاقہ کی چنیدہ شخصیتوں نے اس میں حصہ لیا، اس کی تشکیل وتاسیس سے لے کر اس کی توسیع وترقی تک کے اصول وضوابط بنائے گئے، اور تاریخی ارتقا کے ساتھ اس تصور نے بھی ترقی کی، یہ فکر انسانی کی جولانگاہ رہی، یہی چیز انسانی معاشرہ کو دوسری تمام مخلوقات کے مقابلے میں قابلِ رشک عظمت عطا کرتی ہے، روئے زمین کا تمام تر حسن اسی اجتماعی نظام کی بدولت ہے اور یہی بات انسانوں کو ساری کائنات سے ممتاز کرتی ہے، رب کائنات نے جس وقت تخلیق انسانی کا فیصلہ فرمایا اسی وقت اس کی حیثیت کا تعین ان الفاظ میں فرمایا:
          واذ قال ربک للملٰئکة انی جاعل فی الارض خلیفة (البقرة:۳۰)
          ترجمہ: اور جس وقت تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔
          یہ قدرت کا بہت قیمتی عطیہ ہے، وہ لوگ بڑے صاحب نصیب ہیں جو انسانیت کی اس عظیم اجتماعی ضرورت کے لیے منتخب ہوتے ہیں، قرآنِ کریم کے اندازِ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ضرورت کے لیے تیار ہونے والے لوگ بہت ہی غیرمعمولی ہوتے ہیں، بشرطیکہ وہ اس کو اسی طرح برتیں جس طرح اس مقام کا حق ہے:
          وعد اللّٰہ الذین آمنوا منکم عملوا الصالحٰت لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم (النور:۵۵)
          ترجمہ: ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں سے اللہ پاک کا وعدہ ہے کہ ان کو روئے زمین کی خلافت عطا فرمائیں گے، جس طرح کہ ان سے پہلے لوگوں کو عطا فرمایا تھا۔
          اسلام نے زندگی کے ہر مرحلے کی طرح اس باب میں بھی کافی ہدایات دی ہیں اوراسلامی تاریخ میں اس کے بیش قیمت عملی نمونے بھی موجود ہیں، حکومت کی تشکیل وتاسیس اور طریقہٴ انتخاب سے لے کر اس کی توسیع واستحکام تک اور آئینی اور اصولی نظریات سے عملی جزئیات تک ہر مرحلے کے لیے اسلامی تعلیمات میں مکمل ہدایات موجود ہیں، جن کی روشنی میں حقیقی بنیادوں پر پہلے بھی اسلامی حکومتیں قائم ہوئی ہیں اور آئندہ بھی قائم ہوسکتی ہیں۔
نظریاتی حکومت:
          اللہ پاک نے جس زمینی خلافت کے لیے انسانوں کا انتخاب فرمایا وہ دراصل ایک نظریاتی حکومت ہے، جو مخصوص تصورات پر تشکیل پاتی ہے اور معروف اور مثبت اقدار پر فروغ پاتی ہے، حضرت داؤد علیہ السلام ان اولوالعزم پیغمبروں میں ہیں جن کو نبوت کے ساتھ ساتھ خلافت ارضی سے بھی سرفراز کیاگیا تھا، ان کو مخاطب کرکے رب العالمین نے ارشاد فرمایا:
          یا داوٴد انا جعلناک خلیفة فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ولاتتبع الہویٰ فیضلک عن سبیل اللّٰہ (ص۲۶)
          ترجمہ: اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین کا خلیفہ بنایا ہے؛ اس لیے لوگوں کے لیے آپ کے فیصلے کی بنیاد خالص حق پر ہونا چاہیے، لوگوں کی خواہشات اور تقاضوں کے پیچھے نہ چلیں ورنہ وہ راہِ حق سے آپ کو دور کردیں گے۔

{4:153}{28:35}
          ایک جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
          ثم جعلناکم خلائف فی الارض من بعدہم لننظر کیف تعملون (یونس:۱۴)
          ترجمہ: پھر ہم نے خلافت ارضی ان کے بعد تم کو عطا کی تاکہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو؟
          ایک جگہ بعض ان بنیادی مقاصد کا ذکر کیاگیاہے جن کے لیے اسلامی حکومت وجود میں لائی جاتی ہے:
          الذین ان مکناہم فی الارض أقامو الصلوٰة وآتوالزکوٰة وأمروا بالمعروف ونہوا عن المنکر (الحج:۴۱)
          ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تونماز قائم کریں گے، زکوٰة دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔
          سورة الحدید میں ہے:
          لقد أرسلنا رسلنا بالبینات وأنزلنا معہم الکتٰب والمیزان لیقوم الناس بالقسط وأنزلنا الحدید فیہ بأس شدید ومنافع للناس (الحدید:۲۵)
          ترجمہ: ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی؛ تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اورہم نے لوہا اتارا جس میں سخت قوت اور لوگوں کے لیے سامانِ نفع ہے۔
          لوہا سے مراد یہاں سیاسی قوت ہے۔ (التفسیر الکبیر للرازی، ج۱۵، ص۲۴۳ نسخہ الشاملہ)
دوانتہاؤں کے درمیان:
          قرآن کریم اور احادیث پاک میں ایسی متعدد ہدایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام روئے زمین پر ایک ایسی آئینی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں حکمراں اور رعایا دونوں کسی بالاتر قانون کے پابند ہوں، جہاں قانون حکمراں طبقے کے لیے بازیچہٴ اطفال نہ بنے، جہاں انسانوں کی مرضی سے نہیں؛ بلکہ رب العالمین کے مقرر کردہ اصول وکلیات کی روشنی میں نظام العمل مرتب ہوسکے، جس پر کسی خاص طبقہ یا ٹولہ کی جاگیرداری نہ ہو، اور جس کے انتخاب سے لے کر انتظام تک میں ارباب حل وعقد اوراصحاب دانش کی آراء سے استفادہ کیا جائے۔
          دنیا میں حکمرانی کی اب تک کی تاریخ دو الگ الگ انتہاؤں کو چھورہی ہے، یا تو وہ آمریت کے ذہن سے جنم لیتی ہے یا عوامی آزادی کے بطن سے، دوسرے لفظوں میں حکومت یا تو ایک فرد یا طبقہ کی غلام ہوجاتی ہے یا پھر ہر کس وناکس کے خیالات کی پابند، تمام تر اختیارات کسی فرد یا ٹولے کو مل جانا جتنا خطرناک ہے، ہر بوالہوس کو صاحب اختیار بنانا اس سے بھی زیادہ خطرناک اور مشکل ہے، اسلام ان دو انتہاؤں کے درمیان ایک ایسی آئینی حکومت کا طرفدار ہے، جہاں اختیارات کسی ایک فرد یا خاندان تک محدود نہ ہو اور نہ ریاست کے ہر ہر فرد کو شریک کرنے کی پابندی، اسلام یہ اختیار ہر علاقہ کے ارباب حل وعقد اور اصحابِ علم ودانش کو دیتا ہے کہ وہ باہم مشورہ سے امیر کا انتخاب کریں۔ فقہاء نے اہلیت امیر کا ایک معیار مقرر کیا ہے، جو شخص بھی اس معیار مطلوب پر پورا اترے اس کو یہ ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔
اسلامی تصور حکومت:
          اسی طرح اسلامی نظریہٴ حکومت عام نظریہٴ حکمرانی سے مختلف ہے، عام تصور یہ ہے کہ یہ ایک اعزاز ہے، جو خوش نصیب لوگوں کو حاصل ہوتا ہے، اسی لیے قرون قدیمہ میں اس کے لیے کچھ لوگ یا خاندان مخصوص ہوتے تھے، اور اس خصوصیت کو آسمانی باور کرایاجاتا تھا، اسی لیے عام خاندانوں کے لوگ کبھی یہ خیال بھی نہیں کرسکتے تھے کہ وہ بھی کبھی مسند اقتدار پر بیٹھ سکتے ہیں، اسلام کے آنے کے بعد جب انسانی رجحانات میں تبدیلی آئی اور اسلامی فتوحات نے عالمی تصورات میں انقلاب برپا کیا، تو وہ دنیا جو اسلامی تعلیمات کی نورانیت سے محروم ہے، وہاں یہ تو نہ ہوا کہ اسلامی نظریہٴ حکمرانی کو پذیرائی ملتی؛ لیکن اتنا ضرور ہوا کہ اس آسمانی امتیاز کا طِلِسم پارہ پارہ ہوگیا، اور ہر طبقہ کے لوگ اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، ہر ایک نے اس کو اپنے استحقاق کا مسئلہ بنالیا، عورتیں بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہیں، اس لیے کہ حق کے معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے، دنیا کی پوری تاریخ حکمرانی انہی حقائق کے گرد گھوم رہی ہے، غیراسلامی دنیا میں ایسے حکمراں شاید انگلیوں پر گنے جاسکیں، جنھوں نے ان سفلی جذبات سے بلندہوکر حکمرانی کے حقوق ادا کیے ہوں۔
          اس کے بالمقابل اسلامی نظریہٴ حکومت یہ ہے کہ یہ کوئی پیدائشی اعزاز نہیں؛ بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہے، یہ مقام عزت نہیں، موقع خدمت ہے، یہ قدرت کامحض عطیہ نہیں؛ بلکہ فریضہ بھی ہے، یہ کامیابی نہیں آزمائش ہے، اس کی نہیں بلکہ اس سے بچنے کی آرزو کرنی چاہیے، قرآن وحدیث کی متعدد نصوص میں اس تصور کی ترجمانی کی گئی ہے، قرآن پاک میں اللہ پاک کا ارشاد ہے:
          ان اللّٰہ یأمرکم أن توٴدوا الأمانات الیٰ أہلہا واذا حکمتم بین الناس أن تحکموا بالعدل ان اللّٰہ نعما یعظکم بہ ان اللّٰہ کان سمیعاً بصیراً (النسا:۵۸)
          ترجمہ: اللہ پاک تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم امانتیں اہل امانت کے حوالے کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلے کی نوبت آئے تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو، اللہ پاک تمہیں اچھی نصیحت کرتے ہیں اور اللہ پاک سننے اور دیکھنے والے ہیں۔
          ارشاد نبوی ہے:
          ألا کلکم راع وکلکم مسوٴل عن رعیتہ فالامام الأعظم الذی علی الناس راع وہو مسوٴل عن رعیتہ (بخاری شریف، کتاب الاحکام، مسلم شریف کتاب الامارة)
          ترجمہ: سنو! تم میں سے ہر شخص جواب دہ ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھ ہوگی پس حکمرانِ اعلیٰ بھی اپنی رعایا کے حق میں جواب دہ ہے۔
          ایک اور حدیث میں ارشاد ہے:
          من ولی لنا عملاً ولم تکن لہ زوجة فلیتخذ زوجة ومن لم یکن لہ خادم فلیتخذ خادماً اولیس لہ مسکن فلیتخذ مسکناً اولیس لہ دابة فلیتخذ دابة فمن أصاب سویٰ ذٰلک فہو غال أو سارق (کنزل العمال ج۶ ص۳۴۶)
          ترجمہ: جس شخص کو حکومت کا کوئی منصب حوالے کیا جائے، اور اس کے پاس بیوی نہ ہوتو بیوی حاصل کرلے، خادم نہ ہوتو خادم بنالے، جس کے پاس گھر نہ ہو گھر بنالے، سواری نہ ہو تو سواری کا انتظام کرلے اس سے زیادہ جو حاصل کرتا ہے وہ خائن ہے یا چور۔
          سرکار دو عالم   صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری کو مخاطب فرماکر ارشاد فرمایا:
          یا أبا ذر! انک ضعیف وانہا أمانة وانہا یوم القیامة خزی وندامة الا من أخذ بحقہا وأدی الذی علیہ فیہا (کنز العمال ج۶ ح۱۲۲۶۸)
          ترجمہ: اے ابوذر! تم ایک کمزور شخص ہو اور منصبِ حکومت ایک امانت ہے اور روز قیامت باعث ذلت وندامت، سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے اس کے حق کا لحاظ رکھا اور ذمہ داریاں پوری کیں۔
          امیر میں کیسی احساس ذمہ داری ہونی چاہیے اس کی ترجمانی حضرت عمر بن خطاب کے اس قول سے ہوتی ہے:
          لوہلک حمل من ولد الضان ضیاعاً بشاطیٴ الفرات خشیت أن یسألنی اللّٰہ (کنزالعمال ج۵ ح ۲۵۱۲)
          ترجمہ: دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی اگر ہلاک ہوجائے تو مجھے ڈرلگتا ہے کہ اللہ پاک مجھ سے باز برس نہ کرے۔
اعزاز نہیں آزمائش:
          اسی لیے اسلامی تصور کے مطابق کوئی سمجھدار شخص عام حالات میں جان بوجھ کر اپنی گردن اس میں پھنسانا پسند نہیں کرسکتا؛ بلکہ جو شخص اس کا خواہش مند ہو یا اس کے لیے تگ ودو کرے اس کو ناپسندیدہ شخص قرار دیا جاتا ہے، اور اصولی طور پر اس کو یہ ذمہ داری نہیں دی جاسکتی، ارشاد نبوی ہے:
          انا واللّٰہ لانولی علٰی عملنا ہٰذا أحداً سألہ أو حرص علیہ (بخاری کتاب الاحکام، مسلم کتاب الامارة)
          ترجمہ: بخدا ہم کسی ایسے شخص کو یہ منصب نہیں دے سکتے جو اس کا خواہشمند یا حریص ہو۔
          ان أخونکم عندنا من طلبہ (أبوداوٴد کتاب الامارة)
          ترجمہ: تم میں سب سے بڑا خائن وہ ہے جو منصب کا طلب گار ہو۔
          حضرت عبدالرحمن بن سمرہ کو مخاطب فرماکر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
          یا عبدالرحمن بن سمرة لاتسأل الامارة فانک اذا أوتیتہا عن مسئلة وکلت الیہا و ان أوتیتہا عن غیرمسلة أعنت علیہا (کنز العمال ج۶ ح ۶۹)
          ترجمہ: اے عبدالرحمن بن سمرہ! منصب کا سوال مت کرو اس لیے کہ اگر طلب پر تم کو یہ دیا جائے تو تم کو اسی کے حوالے کردیا جائے گا اور بلاطلب ملے تو نصرتِ الٰہی شامل حال ہوگی۔
عہدہ کا کوئی امیدوار نہیں:
          یہ ہدایات اسلامی تصور حکومت کو سمجھنے کے لیے بہت کافی ہیں اور اسی تصور امارت کی بنا پر اسلامی سوسائٹی میں کسی شخص کا دعویٰ حکومت لے کر اٹھنا بہت مستبعد بات ہے، آج کی طرح امیدواروں کی بڑی تعداد، ترغیب و تحریص کے ہزار ہتھکنڈے، پروپیگنڈوں کی گرم بازاری کا اسلامی نظام حکومت میں تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، عہد نبوت کے بعد اسلامی عہد حکومت کے لیے خلفاء اربعہ اور خلیفہٴ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دور رہنما اور آئیڈیل ہے، اس پورے عہد میں ایک بھی ایسی مثال نہیں دکھائی جاسکتی کہ کسی خلیفہ یا حکمراں کو ان کی خواہش کی بنیاد پر حکومت سونپی گئی ہو، حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پیش رو خلیفہ سلمان بن عبدالملک کا انتقال ہوا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے حاشیہٴ خیال میں بھی نہ تھا کہ اگلے خلیفہ کے طور پر ان کا نام منتخب ہوگا، یہ تو اس وقت پتہ چلا جب مرحوم خلیفہ کی تحریر برسر مجلس پڑھی گئی، حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنے نام کا انتخاب دیکھ کر حیران ہوگئے ، اسی وقت منبر پر تشریف لے گئے اور تقریر کی اوراس میں اعلان فرمایا:
          انی واللّٰہ ما استوٴمرت فی ہذا الأمر وأنتم بالخیار وفی روایة أخریٰ انی قد ابتلیت بہذا الأمر من غیر رای منی ولا طابة لہ ولا مشورة من المسلمین وانی قد خلعت ما فی أعناقکم من بیعتی فاختاروا لأنفسکم (الأحکام السلطانیة للماوردی ص۴)
          ترجمہ: بخدا اس معاملہ میں مجھ سے کوئی مشورہ نہیں کیاگیا؛ اس لیے آپ تمام لوگوں کو اختیار ہے، ایک روایت میں ہے کہ اس معاملہ میں مجھے میری رائے اور مرضی اور مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر مجھے مبتلا کردیاگیا ہے، اس لیے میں اپنی بیعت سے آپ سب کو آزاد کرتا ہوں، جس کو چاہیں آپ لوگ اختیار کرلیں۔
اسلامی طریقہٴ انتخاب:
          (۱) یہ کام ریاست کے اربابِ حل وعقد کا ہے، کہ وہ پوری دیانت وامانت کے ساتھ اہل شخص کا انتخاب کریں جس میں اجتماعی اور انتظامی امور کی صلاحیت ہو اور دینی واخلاقی طور پر قوم کے نزدیک قابل اعتماد ہو، فقہاء نے اس ضمن میں بعض شرائط کا ذکر کیا ہے جن میں کچھ اتفاقی ہیں اور کچھ اختلافی:
شرائط اہلیتِ امامت:
          (۱) مسلمان ہو، اس لیے کہ جواز شہادت کے لیے اسلام شرط ہے، مسلمانوں کے خلاف کافروں کی شہادت درست نہیں؛ جب کہ ولایت کا درجہ شہادت سے بلند ہے، اس شرط کا ماخذ یہ آیت کریمہ ہے:ولن یجعل اللّٰہ للکافرین علی الموٴمنین سبیلاً (النساء:۱۴۱)
          ترجمہ: اور اللہ پاک کافروں کو اہل ایمان پر ہرگز کوئی سبیل نہیں دے گا۔
          ظاہر ہے کہ حکومت سے بڑھ کر سبیل کیا ہوسکتی ہے؟
          (۲) عاقل وبالغ ہو، کسی بچے یا پاگل کی امامت درست نہیں؛ اس لیے کہ وہ خود اپنے معاملات میں دوسروں کے محتاج ہیں تو پوری ریاست اور قوم کے معاملات ومسائل کا بوجھ وہ کیا اٹھاسکتے ہیں؟ یہ تو بہت بنیادی بات ہے؛ بلکہ کم از کم اتنا صاحب فہم ہونا چاہیے کہ ریاست کے معاملات ومسائل کو سمجھے اور قومی وملکی امور میں دشمن کے فریب سے خود کو بچا سکے، ایک اثر صحابی سے اس پر روشنی پڑتی ہے:
          تعوذوا باللّٰہ من رأس السبعین․․․ وامارة الصبیان (أخرجہ أحمد ۲/۳۲۶ ط السلفیة واسنادہ ضعیف، المیزان للذہبی ۳/۴۰۲ ط الحلبی)
          ترجمہ: ستر (۷۰) کے آغاز․․․ اور بچوں کی حکومت سے پناہ چاہو۔
          (۳) مرد ہو، اسلام میں عورتوں کو خلافت کا بار دینے کی اجازت نہیں،اور نہ اس کی فطری ساخت اس جیسی بڑی ذمہ داریاں اٹھانے کی متحمل ہے، رسول خدا  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
          لن یفلح قوم وَلّوأمرَہم امرأة (رواہ البخاری وأحمد والنسائی والترمذی فتح الباری ۸/۱۲۶ ط السلفیة)
          ترجمہ: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات کی ذمہ داری کسی عورت کے حوالے کردے۔
          (۴) آزاد ہو، غلام نہ ہو۔
          (۵) اعضاء وحواس صحیح سالم ہوں،اور امور خلافت کی انجام دہی پر خود قدرت رکھتا ہو۔
بعض مختلف فیہ شرطیں:
          (۶) عدالت واجتہاد؛ فقہاء مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک امیرکے لیے عادل ہونا شرط ہے (یعنی ایسا شخص جو امانت ودیانت اور اخلاقِ فاضلہ کا حامل ہو، صادق القول ہو، گناہوں سے بچتا ہو، اعتماد اور وقار رکھتاہو، رضا اور غضب ہرحال میں قابلِ بھروسہ ہو، اس کی دینی اور اخلاقی حالت لوگوں میں معروف اورمسلم ہو) اور صاحبِ اجتہاد (یعنی اتنا علم وفہم کی مختلف مسائل وواقعات میں کسی نتیجے تک پہنچنے کی اس میں صلاحیت ہو) اسی لیے ان کے نزدیک صاحب عدل و اجتہاد شخصیت کے رہتے ہوئے کسی فاسق یا غیرمجتہد کو امیر بنانا درست نہیں ہے، حنفیہ کی رائے میں امیر میں یہ صفات بطور شرطِ صحت نہیں؛ بلکہ بطور اولویت مطلوب ہیں، یعنی اگر عادل ومجتہد شخصیت کی موجودگی میں کسی ایسے شخص کو یہ ذمہ داری دے دی جائے، جو ان صفات سے محروم ہوتو یہ انتخاب کا غیر مناسب طریقہ تو ہوگا، مگر منتخب شدہ امیر کی امارت باطل نہیں ہوگی۔ (حاشیہ ابن عابدین ۱/۳۸، ۴/۳۰۵، الأحکام السلطانیہ للماوردی ص۶، جواہر الاکلیل ۲/۲۲۱، شرح الروض ۴/۱۰۸، مغنی المحتاج ۴/۱۳۰، الانصاف ۱۰/۱۱۰)
          (۷) سماعت وبصارت اور ہاتھ اور پاؤں سلامت ہوں، جمہور فقہاء کے نزدیک اس کے بغیر امامت منعقد ہی نہیں ہوتی؛ اس لیے ان کے نزدیک اندھے، بہرے، ہاتھ اور کان کٹے کو امام بنانا درست نہیں، اور اگر شروع میں صحیح سلامت تھا بعد میں یہ نقائص پیدا ہوگئے تو اس کی امامت باطل ہوجائے گی۔
          (۸) بہتر نسب کا حامل ہو، جمہور فقہاء کے نزدیک امام کے لیے قریشی النسل ہونا ضروری ہے، بعض علماء اس کو ضروری قرار نہیں دیتے، جمہور کا مأخذ حدیث پاک ہے:
          الائمة من قریش (أخرجہ الطیالسی ص۱۲۵ ط دائرة المعارف النظامیہ، واصلہ فی البخاری مع الفتح ۱۳/۱۱۴ ط السلفیة) بلفظ ان ہذا الأمر من قریش․․․
          ترجمہ: ائمہ قریش سے ہوں گے۔
          (۹) بعض علماء نے سیاسی بصیرت اور صاحب رائے ہونے کی بھی قید لگائی ہے، یعنی اسے سیاسی مسائل، ملکی اور قومی مصالح اور اجتماعی ضروریات اور تقاضوں کی خبر ہو، ماوردی کے الفاظ ہیں:
          الرایٴ المفضي الیٰ سیاسة الرعیة وتدبیر المصالح (الأحکام السلطانیة ص۴)
          اسی سے ملتی جلتی بات بعض دوسرے علماء نے بھی لکھی ہے، دیکھیے (اصول الدین للبغدادی ۲۷۷، مقدمہ ابن خلدون ۱۶۱، فصل ۲۶ ط المہدی)
          (۱۰) بعض اصحاب علم نے مضبوط قوتِ ارادی، عزم وہمت، صلابت وجرأت، چیلنجوں کامقابلہ کرنے کی صلاحیت، ملک وملت کی حفاظت، مظلوموں کی داد رسی، شرعی قوانین اور نظامِ عدل ومساوات کے اجراء کی صلاحیت اور جذبہ کی بھی قید لگائی ہے۔ (حوالہ جات بالا، عقائد نسفیہ ۱۴۵)
          خلیفہ کے انتخاب کا یہی اصل طریقہ ہے کہ قوم کے ارباب حل وعقد کے مشورے سے یہ عمل میں آئے، اور جس شخصیت کا انتخاب ہو پہلے یہ حضرات اس کے ہاتھ پر بیعت کریں، یہی اصل اسوہ ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا، آپ دنیا سے تشریف لے گئے اور امیر کے مسئلے کوامت کے حوالہ فرمادیا، یہ راستہ خطرات اوراندیشوں سے پاک ہے، یہ ہر زمانے میں سکہٴ رائج الوقت کی طرح چل سکتا ہے۔
ارباب شوریٰ کی صفات:
          تمام علماء اہل سنت نے اس کو سب سے افضل طریقہ قرار دیا ہے؛ البتہ یہاں ایک ضمنی بحث یہ آتی ہے کہ اربابِ شوریٰ کس قسم کے لوگ ہونے چاہئیں اور ان کی کم از کم تعداد کیا ہوگی؟
          اربابِ شوریٰ کے معیار کا تعین علماء نے اس طرح کیا ہے کہ وہ عادل یعنی دینی واخلاقی لحاظ سے قابلِ اعتماد، صاحبِ علم (کم از کم مسائل امارت اور اہلیت امارت کی تفصیلات جانتے ہوں)، صاحب رائے اور حکمت وتدبیر کے فن سے واقف ہوں، موقع ومحل کی نزاکت سے آشنا ہوں، ضروری حد تک لوگوں کی نفسیات سمجھتے ہوں۔ (حاشیہ الدسوقی ۴/۲۹۸، الاحکام السلطانیہ ص۳، ۴)
          شافعیہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ اگر انتخاب کا اختیار فرد واحد کو ہوتو احکام امامت کے مسئلے میں اس کا مجتہد ہونا شرط ہے، اورار کئی لوگ مل کر یہ فریضہ انجام دیں تو ان میں کسی ایک کا مجتہد ہونا ضروری ہے۔ (مغنی المحتاج ۴/۱۳۱، اسنی المطالب ۴/۱۰۹)
اربابِ شوریٰ کی تعداد:
          جہاں تک تعداد کا مسئلہ ہے تو اس میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، بعض حنفیہ کی رائے میں فی الجملہ ایک جماعت ہونی چاہیے، کوئی خاص تعداد مقرر نہیں ہے۔ (حاشیہ ابن عابدین ۱/۳۶۹)
          مالکیہ اورحنابلہ کی رائے یہ ہے کہ مجلس انتخاب میں اکثر ارباب حل وعقد کی شرکت وتائید ضروری ہے اور جو لوگ شرکت نہ کرسکیں وہ اپنا نمائندہ بھیجیں، اسی طرح ہر شہر سے نمائندگی ضروری ہے، اس کے بغیر امیرکا انتخاب غیرآئینی ہوگا؛ جب کہ شافعیہ کے نزدیک ہر شہر کے ارباب حل وعقد کی شرکت ونمائندگی ضروری نہیں ہے؛ اس لیے کہ اس میں بہت زحمت ہے، ایک تعداد ہونی چاہیے، پھر ان میں کئی آراء ہیں، بعض کی رائے ہے کہ پانچ کی تعداد کافی ہے، استدلال حضرت صدیق اکبر کی بیعت سے کیاگیا ہے، نیز حضرت فاروق اعظم نے جو چھ(۶) رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، اس میں ایک امیرکو چننے کے لیے پانچ کی تعداد ہی رہ جاتی ہے، بعض شافعیہ چالیس(۴۰) کے قائل نظر آتے ہیں، یہ جمعہ پر قیاس کرتے ہیں، مگر شافعیہ کا راجح مسلک یہ ہے کہ کوئی عدد مقرر نہیں ہے؛ بلکہ پوری ریاست میں اگر ایک ہی شخص حل وعقد کی اہلیت رکھتا ہوتو اسی ایک کے انتخاب سے امارت منعقد ہوجائے گی، اور پوری قوم پر اس کی تائید واتباع لازم ہوگی (مغنی المحتاج ۴/۱۳۰، ۱۳۱، روضة الطالبین ۱۰/۴۳، اسنی المطالب ۴/۱۰۹)
افضل کو چھوڑ کر غیرافضل کا انتخاب:
          یہاں ایک بحث یہ آتی ہے کہ اگر شوریٰ کسی مصلحت کے تحت افضل ترین لوگوں کی موجودگی میں نسبتاً کم تر درجہ کے شخص کو منصب امارت کے لیے چن لے تو کیا یہ انتخاب درست ہوگا؟ ایک طبقہ کی رائے یہ ہے کہ یہ انتخاب غلط قرار دیا جائے گا (الفصل فی الملل والاہواء والنحل ۴/۱۸۳)
          لیکن اکثر فقہا اور متکلمین کا مسلک یہ ہے کہ افضل کے رہتے ہوئے غیر افضل کا انتخاب اگرچہ بہتر نہیں ہے؛ لیکن اگر اس میں تمام شرائطِ اہلیت پائی جاتی ہوں تو انتخاب درست قرار دیا جائے گا، جس طرح کہ زیادہ لائق شخص کے رہتے ہوئے نسبتاً کم تر شخص کو منصب قضاء حوالہ کرنا درست ہے؛ اس لیے کہ اصل چیز اہلیت ہے، اور فضیلت محض وجہِ ترجیح بنتی ہے؛ البتہ ارباب شوریٰ کے لیے یہ ہدایت ہے کہ بلا عذر اس قسم کے غیرمتوازن انتخاب سے احتراز کریں؛ البتہ کوئی مجبوری ہو، مثلاً افضل شخص قطعی طور پر یہ ذمہ داری قبول کرنے کو آمادہ نہ ہو، یا وموجود نہ ہو، یا بیمار رہتا ہو، یا لوگوں میں زیادہ مقبول ومحبوب نہ ہو وغیرہ، تو ان صورتوں میں افضل کے رہتے ہوئے غیرافضل کو امیر بنانا درست ہے (الأحکام السلطانیہ ص۵۰)
انتخاب کا دوسرا طریقہ:
          انتخاب امیر کا دوسرا طریقہ جس کو فقہاء نے بالاتفاق درست قرار دیا ہے، وہ یہ کہ خلیفہٴ وقت خود اپنی زندگی میں اپنے بعد کے لیے امیر نامزد کردے، علامہ ماوردی نے اس کے جواز پر اجماع امت نقل کیا ہے،اس کا سب سے بڑا مأخذ حضرت صدیق اکبر کا عمل ہے، کہ آپ نے اپنی وفات سے پیشتر حضرت عمر فاروق کو اپنا جانشین تجویز فرمایا اوراس کا اعلان بھی اپنی زندگی میں فرمادیا، حضرت صدیق کی وفات کے بعد مسلمانوں نے بالاتفاق حضرت عمر کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا، کسی ایک شخص نے بھی حضرت صدیق کے اس انتخاب کی مخالفت نہیں کی، حضرت عمر بن خطاب نے اپنے جانشین کے انتخاب کا یہ طریقہ اختیار فرمایاکہ کسی ایک شخص کو نامزد کرنے کے بجائے معاملہ ارباب حل وعقد کی ایک جماعت کے حوالے کردیا، یہ ایک محفوظ راستہ تھا؛ البتہ اس میں امیر کے اس اختیار پر روشنی پڑتی ہے کہ امیر کے معاملے کو تمام مسلمانوں کے بجائے ایک مخصوص کمیٹی کے حوالے کرسکتا ہے، اس چیز کو بھی تمام صحابہ نے من وعن تسلیم کیا، چنانچہ حضرت عمر کی وفات کے بعد جس وقت اس مجلس منتخبہ کی میٹنگ ہورہی تھی حضرت عباسنے اس مجلس میں شرکت کی خواہش کی تو حضرت علی نے جو اس کمیٹی کے اہم رکن تھے سختی کے ساتھ ان کو روک دیا۔ (الموسوعة الفقہیہ)
          حضرت صدیق کے عمل سے ولی عہدی کا دستور جاری ہوا، یعنی امیر کو یہ اختیار حاصل ہوا کہ وہ اپنی حیات میں اپنا جانشین نامزد کردے۔
          یہاں یہ نکتہ زیربحث آیا ہے کہ آیا محض نامزدگی سے امارت قائم ہوجاتی ہے یا امیر کی وفات کے بعد دوبارہ تمام مسلمانوں کا اس سے بیعت کرنا ضروری ہے؟ بعض علماء بصرہ کا خیال ہے کہ ولی عہد خواہ کوئی ہو اپنا عزیز قریب ہو یا غیر، ہرحال میں محض نامزدگی کافی نہیں ہے؛ بلکہ امیر کی وفات کے بعد اس ولی عہدی کی تجدید دوبارہ مسلمانوں کی بیعت کے ذریعہ ضروری ہوگی، اگر مسلمان اس کے لیے راضی نہیں ہوئے تواس کی ولی عہدی منسوخ ہوجائے گی؛ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ ولی عہد اگر امیر کا کوئی انتہائی قریب ترین رشتہ دار نہ ہوتو مسلمانوں کی رضامندی شرط نہیں ہے، اس لیے کہ حضرت عمر کے مسئلے میں صحابہ سے اس طرح کی کوئی رضامندی حاصل نہیں کی گئی تھی؛ البتہ ولی عہد اپنا بیٹا یا باپ اور کوئی انتہائی عزیز ترین قریب ہوتو اس صورت میں علماء کی آراء مختلف ہیں:
          (۱) ایک رائے ہے کہ امیرکے لیے اپنے بیٹے یا باپ وغیرہ کو ارباب حل وعقد اور اصحاب علم وفہم کے مشورے کے بغیر تنہا اپنی مرضی سے ولی عہد بنانا جائزنہیں ہے؛ اس لیے کہ یہ یا تو شہادت کے زمرے میں آتا ہے یا حکم کے، اور دونوں صورتیں تہمت سے خالی نہیں۔
          (۲) دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں؛ اس لیے کہ وہ امیر ہے اور اس کی دیانت وامانت پر لوگوں نے اعتماد کیا ہے؛ اس لیے اپنے جانشین کے مسئلے میں بھی اس پر اعتماد کیا جانا چاہیے، اس صورت میں اس کے نسب سے زیادہ اس کے مقام کا لحاظ رکھنا مقدم ہوگا۔
          (۳) تیسری رائے یہ ہے کہ امام کسی اجنبی کو جس سے اس کا باپ یا بیٹے کا رشتہ نہ ہو اپنی مرضی سے اہل مشورہ سے مشورہ کیے بغیر ولی عہد بناسکتا ہے؛ لیکن اپنے بیٹے یا باپ کے معاملے میں شوریٰ سے مشورہ ضروری ہے؛ اس لیے کہ اپنی اولاد یا اپنے والد کے حق میں انسان بالعموم کمزور ثابت ہوتا ہے، طبیعت کا میلان ادھر ہوتا ہے؛ اس لیے نفس کے لیے بڑے مواقع ہیں؛ البتہ بھائی یا اور کسی رشتہ دار کے معاملے میں توسع ہے وہ عام اجنبیوں کی طرح ہیں، یہ ایک معتدل رائے ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے (الاحکام السلطانیہ للماوردی ص۱۰)
ولی عہدی کی شرائط قبولیت:
          * البتہ جمہور فقہاء کے نزدیک ضروری ہے کہ ولی عہد میں وہ تمام شرائط اہلیت موجود ہوں جو امام کے لیے ضروری ہیں۔
          * ولی عہد نے امیر کی زندگی میں یہ ذمہ داری قبول کرلی ہو، ورنہ یہ محض خلافت کی وصیت قرار پائے گی، اور احکامِ وصیت جاری ہوں گے (مغنی المحتاج ۴/۱۳۱)
          * ولی عہد میں ولی عہدی قبول کرنے کے وقت سے خلافت کے سنبھالنے تک شرائطِ اہلیت مسلسل موجود رہی ہوں؛ اس لیے کسی نابالغ، مجنون یا فاسق کو ولی عہد بنانا درست نہ ہوگا، اور اگر ولی عہد بناتے وقت یہ عیوب نہ تھے؛ لیکن بعد میں پیدا ہوگئے تو بھی ولی عہدی باطل ہوجائے گی۔ (مغنی المحتاج ۴/۱۳۱،اسنی المطالب ۴/۱۰۹، ۱۱۰، الأحکام السلطانیہ لأبی یعلیٰ ص۹،۱۰)
          حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ نابالغ کو ولی عہد بنایا جاسکتا ہے، بشرطیکہ امام کی وفات کے بعد ملکی معاملات اور ذمہ داریوں کے لیے عارضی طور پر اس کا کوئی نائب مقرر کردیا جائے، جو ولی عہد کے بلوغ تک امورِ مملکت انجام دے، وعلی عہد کے بالغ ہونے کے بعد نائب خود بخود معزول ہوجائے گا۔ (حاشیہ ابن عابدین ۱/۳۶۹)
تیسرا طریقہ:
          امارت کی تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی صاحب قوت واختیار بالجبر پوری ریاست پر قبضہ کرلے، اور اپنی امارت کا اعلان کردے، تو جمہور فقہاء کے نزدیک اس کی امارت درست ہوگی، اور اس کی اقتداء میں نماز، جہاد وحج وغیرہ کرنا درست ہوگا اوراس کے خلاف بغاوت جائز نہ ہوگی؛ البتہ شافعیہ نے اس میں یہ شرط لگائی ہے کہ اس شخص میں اہلیت امارت کی جملہ شرائط موجود ہونی ضروری ہے، ورنہ اس کی خلافت جائز نہ ہوگی، محض غاصبانہ قبضہ قرار پائے گا۔ (الأحکام السلطانیہ لأبی یعلیٰ ص۷،۸، حجة البالغة ۲/۱۱۱، حاشیہ ابن عابدین ۳/۳۱۹، مغنی المحتاج ۴/۱۳۰، حاشیہ الدسوقی علی الشرح الکبیر ۴/۲۹۸)
          اس کا ماخذ دراصل وہ حدیث پاک ہے جس میں ارشاد فرمایاگیا ہے کہ:
          ان أمر علیکم عبد مجدع أسود یقودکم بکتاب اللّٰہ فاسمعوا لہ وأطیعوا (صحیح مسلم ۳/۹۴۴ ط عیسیٰ الحلبی)
          ترجمہ: اگر تم پر کوئی کن کٹا غلام بھی امیر ہوجائے جو کتاب اللہ کے مطابق تم پر حکومت کرے تو اس کی سنو اور اطاعت کرو۔
          * اسی طرح واقعہٴ حرہ کے موقعہ پر حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے میں منقول ہے کہ انھوں نے اہل مدینہ کے ساتھ نماز پڑھی اور ارشاد فرمایا: ”نحن مع من غلب“ جو غالب آجائے ہم اس کے ساتھ ہیں۔ (الأحکام السلطانیہ لأبی یعلیٰ ص۷،۸)
          * علا وہ ازیں اس صورت میں سخت فتنہ اور جان ومال کے ضیاع کا اندیشہ ہے؛ اس لیے عام مسلمانوں کے لیے عافیت اور سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ قوت قاہرہ کے سامنے سرِتسلیم خم کردیا جائے، اس کی اطاعت قبول کرلی جائے؛ تاکہ ایک طرف مسلمانوں کے جان ومال کا بھی تحفظ ہو اور ملک وملت کے وہ داخلی مسائل معلق نہ رہ جائیں جو امیر کے بغیر انجام نہیں پاسکتے۔ (حوالہٴ بالا)
عوامی انقلاب:
          جو حکمراں عوامی انقلاب اور افرادی قوت کے ذریعہ اقتدار میںآ تے ہیں وہ بھی اسی زمرہ میں آتے ہیں، الا یہ کہ خواص اور اہل علم وفضل کا طبقہ بھی اس کی تائید کررہا ہو ، اسلامی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جن میں عوامی طاقت کے ذریعہ حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش کی گئی، اورمتعدد کامیابی بھی ملی، خود حضرت امام حسین کا سفر کوفہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، حضرت عبداللہ بن زبیر نے عوامی انقلاب کے ذریعہ مکہ معظمہ میں اپنی حکومت قائم فرمائی، وغیرہ۔ بعد کے ادوار میں بھی ایسی کئی کوششوں کا تذکرہ ملتا ہے جن میں بعض کو ہمارے مشہور ائمہ کی تائید بھی حاصل ہوئی، مثلاً خلافتِ بنی امیہ کے زمانے۔ (صفر ۱۲۲ھ م ۷۴۰/) میں حضرت زید بن علی نے عوامی تحریض پر حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش فرمائی، جس کو حضرت امام ابوحنیفہ کی تائید حاصل ہوئی، آپ نے ان کو مالی مدد بھی فراہم کی۔ (الجصاص:۱/۸۱، الخیرات الحسان للمکی:۱/۲۶۰)
          عوامی انقلاب ایک قوتِ قاہرہ ہے، اور اس کے ذریعہ جو حکومت قائم ہوتی ہے وہ شرعاً درست ہوتی ہے اوراس کی قیادت میں وہ تمام امور انجام دئیے جاسکتے ہیں، جس کے لیے اسلامی حکومت کی ضرورت پڑتی ہے؛ البتہ عوامی انقلاب کے ذریعہ برسراقتدار آنے والے حکمراں کو چاہیے کہ وہ اربابِ علم وتقویٰ اور اصحابِ فضل و فہم پر مشتمل ایک شورائی نظام قائم کرے، عوامی ووٹنگ کی شریعت اسلامی میں کوئی حقیقت نہیں ہے، تاہم اسلام اس کے ذریعہ قائم ہونے والی حکومتوں کو ناجائز نہیں کہتا، اسلام کے پاس اپنا ایک نظام العمل ہے، ایک دستور اورآئین ہے، اور دنیا کو اس کی بہرحال ضرورت ہے؛ تاکہ اسلامی نظام کے وہ تمام شعبے قائم اور جاری ہوں، جن سے یہ روئے زمین جنت نظیر بن سکتی ہے؛ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اسلام اپنے نظام کے علاوہ دنیا کے تمام نظاموں کو غلط قرار دیتاہو، اوراگر عوام اور خواص کی شرکت سے حکومت عمل میں آتی ہے تو اس سے اگرچہ وہ مثبت نتائج حاصل نہیں ہوتے جو اسلامی نظام کا نصب العین ہیں؛ لیکن اس کے جواز اوراس سے حاصل شدہ ثمرات کی صحت شبہ سے بالاتر ہے، واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم واحکم۔
***
==========================

ووٹ کی شرعی حثیت "شہادت" کے ہے:
آپ جس شخص کو "ووٹ" دیتے ہیں گویا اس کے بارے میں یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص آپ کی نظر میں اسیمبلی کی رکنیت یا حکومت کا اہل (حکومت کا شرعی علم و قابلیت رکھتا) ہے. اور آپ کے حلقہ_انتخاب میں آپ کے نزدیک اس منصب کے لئے اس شخص سے زیادہ کوئی موزوں نہیں. لہذا ووٹ پر وہ تمام احکام جاری ہوتے ہیں جو شہادت پر جاری ہوتے ہیں.
جھوٹی بات کی مذمت "بت پرستی" کے ساتھ ذکر فرمائی گئی ہے :
قرآن و حدیث : حبیب بن نعمان سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھی جب فارغ ہو کر پیچھے مڑے تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر کر دی گئی ہے (گناہ کے اعتبار سے) تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی، (فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ) 22۔ الحج : 30) ، آخر تک۔ پس بتوں کی گندگی سے بچتے رہو اور جھوٹی بات سے بچتے رہو۔ بایں طور کہ اللہ ہی کی طرف جھکے رہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔
[سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 206 (18275) - فیصلوں کا بیان : جھوٹی گواہی دینے کا بیان]

"شہادت" نہ دینا بھی کبیرہ گناہ ہے:
...وَلا تَكتُمُوا الشَّهٰدَةَ ۚ وَمَن يَكتُمها فَإِنَّهُ ءاثِمٌ قَلبُهُ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ عَليمٌ {2:283}
ترجمہ: ...اور جو شخص اس کو چھپاوے تو بیشک گنہگار ہے دل اس کا اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے.

حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَتَمَ شَهَادَةً إِذَا دُعِيَ إِلَيْهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَ بِالزُّورِ " .
ترجمہ: جس کسی کو شہادت کے لئے بلایا جاۓ، پھر وہ اسے چھپاۓ تو وہ ایسا ہے جیسے جھوٹی گواہی دینے والا.
[جمع الفوائد بحوالہ طبرانی: ١/٦٢، ٤٢٩٩(٤١٦٧)]



گندے شخص کو گندہ نہیں کہا جاتا، کیونکہ اس کے گندے ہونے پر سب متفق ہوتے ہیں اور اس کے شر سے بچنے کیلئے کھل کر مخالفت نہیں کرپاتے۔ زیادہ بدزبانی اسی سے کی جاتی ہے جس سے دوسرے خود کو مامون و سلامت سمجھتے ہیں۔

کون شخص بہتر ہے اور کون بدتر:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ؟ " فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ، وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ، وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ "۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے بیٹھے ہوئے صحابہ کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا کیا میں تمہیں یہ بتاؤں کہ تم میں نیک ترین کون شخص ہے اور تمہارے آدمیوں کو تمہارے بدترین آدمیوں سے جدا کر کے دکھا دوں؟ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ یہ سن کر خاموش رہے کیونکہ انہیں خوف ہوا کہ اگر حضور نے عام مفہوم اور عنوان کلی کے طور پر بتانے کے بجائے مشخص و متعین یعنی ایک ایک شخص کا نام لے کر بتا دیا کہ فلاں نیک اور فلاں بد تو اس سے بڑی ذلت اور رسوائی کیا ہو گی یہاں تک کہ جب حضور نے مذکورہ ارشا کو تین بار فرمایا تو ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں بتا دیجیے اور ہمارے نیک آدمیوں کو ہمارے بد آدمیوں سے ممیز و ممتاز کر دیں، حضورنے فرمایا تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جس سے لوگ بھلائی کی توقع کرتے ہیں اور اس کے شر سے محفوظ و مامون ہیں اور تم میں سے بدترین وہ شخص ہیں جس سے لوگ بھلائی کی توقع نہ کریں اور اس کے شر سے محفوظ و مامون نہ ہوں، (ترمذی، بہیقی) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[احمد:8812+8920 ،وأخرجه الترمذي (2263) ، وأخرجه ابن حبان (527) و (528) ، والقضاعي في "مسند الشهاب" (1247) ، والبيهقي في "شعب الِإيمان" (11268)]
تشریح
بہترین اور بدترین شخص کی پہچان تو یہ ہے کہ جس کو حدیث میں فرمایا گیا ہے ، رہا وہ شخص جس سے لوگ بھلائی کی امید تو رکھتے ہوں، لیکن اس کے شر سے محفوظ و مامون نہ ہوں یا وہ شخص کہ جس کے شر سے تو لوگ محفوظ و مامون ہوں مگر اس سے بھلائی کی توقع نہ رکھتے ہوں تو ایسا شخص بین بین ہو گا کہ اس کو نہ بہتر کہیں گے نہ بدترین۔ 

[مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 924]













جمہوری نظام میں الیکشن- اسلامی نقطئہ نظر


حکومت ،حکمراں اور طریقہٴ حکمرانی :
آزادی، انسان کے لیے ایک قیمتی نعمت اور بیش بہا سرمایہ ہے ،ہرانسان رحمِ مادرسے آزاد پیدا ہوتاہے؛اسی لیے آزادی اس کی شرست میں داخل ہے۔آزادی کا احساس انسان کے اندر خودداری وخود اعتمادی اور اپنے آپ کی تکمیل وتعمیر کے جذبات پیدا کر تا ہے ؛لیکن جب آزادی کا یہ احساس ایک حد سے بڑھ جا تا ہے ،یا اس احساس کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے اورانسان کی آزادی خطرے میں پڑجاتی ہے ؛تو انسان میں بغاوت ،حیوانیت ،خود سری جیسے اوصاف پروان چڑھنے لگتے ہیں اور وہ اپنے دائرہ سے بڑھ کر دوسروں کی آزادی کو پائمال کرنے لگتا ہے ۔پھر جب ایسے انسانوں کی معاشرہ میں کثرت ہوتی ہے ؛تو انتشار ،آپسی ٹکراؤاور انارکی کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور کبھی کُشت وخون کے بھیانک مناظر بھی سامنے آتے ہیں؛ لیکن چوں کہ انسان مدنی الطبع بھی ہے؛ اس لیے ابتدائے آفرینش سے انسان اپنی پیدائشی آزادی کے با وجود ایک نظام کی تابعداری کرکے اور ایک حکم راں کی ما تحتی قبول کر کے زندگی گذارنے کا عادی رہا ہے۔ ایک نظام حکومت سے وابستہ ہوکر وہ دشمنوں سے اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے ۔اور آپس میں بقائے باہم کے اصول پر کاربند ہوکر پرامن زندگی گذارتا ہے، حکم رانی کے الگ الگ طریقے الگ الگ زمانے میں رائج رہے ہیں ۔ کبھی شخصی حکومت رہی، تو کبھی خاندانی حکومت ۔کبھی استبدادی نظام رہا، تو کبھی عوامی نظام۔ تاریخ کے زیادہ تر مراحل میں ایسی حکومتوں کا غلبہ رہا جن کے حکمراں زمامِ اقتدار سنبھالتے ہی خدائی کا دعویداربن بیٹھے اور محکوم عوام کو اپنا غلام بنا کر ان سے اپنی بندگی کروانے لگے ۔
خلافت اور اللہ کی حاکمیت:
جب اللہ تعالی نے اپنے آخری پسندیدہ دین کے طور پر شریعت اسلامیہ کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ۔تو اسلام نے اپنے ماننے والوں میں یہ بنیادی عقیدہ راسخ کیا کہ سارے انسان پیدائشی طور پر آزاد ہیں ؛ لیکن یہ آزادی لا محدود نہیں ؛جس سے انسان اپنے خالق کا باغی، وحشی اور سرکش ہوجائے؛بلکہ سارے انسان اللہ وَحْدَہ لَاشَرِیْکَ لَہ کے بندے ہیں ۔ اسلام نے انسانوں کو اپنے ہم مثل کی بندگی سے نکال کر خداوندِ قدوس کی بندگی میں داخل کیا اور انسانوں کی زندگی پر اللہ تعالی کی حکم رانی کے نظریہ کو پختہ ومستحکم کیا ۔جیساکہ اہلِ نجران کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتوب گرامی میں صراحتا موجود ہے : فَانِّي أدْعُوْکُمْ الٰی عِبَادَةِ اللّٰہِ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ وَأدْعُوْکُمْ الٰی وِلاَیَةِ اللّٰہِ مِنْ وِلاَیَةِ الْعِبَادِکہ میں تمھیں دعوت دیتاہوں بندوں کی عبادت چھوڑکرایک اللہ کی بندگی کی اور بندوں کی حکمرانی سے نکل کر ایک اللہ کی حکمرانی میںآ نے کی ۔(البدایہ والنہایہ ۵/۶۴)
اور حضرت مغیرہ بن شعبہ نے حاکمِ فارس رستم کے دربار میں اپنے مقصدِ اصلی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایاتھا ۔ وَاخْرَاجُ الْعِبَادِ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ الٰی عِبَادَةِ اللّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِکہ میری آمد کا مقصد بندوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر ایک غلبہ والے اللہ کی بندگی میں داخل کرنا ہے۔ (البدایہ والنہا یة۷/ ۳۶)
خلافتِ اسلامی کا تصور:
اسلام خلافت کے طرز حکومت کو پسند کرتا ہے؛ جس میں اصل حاکمیت اللہ کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ألاَ لَہ الْخَلْقُ وَالْأمْرُ۔(الاعراف ۵۴)”آگاہ رہو!اسی کے لیے ہے پیدا کرنا اور حکم چلانا “۔ اورامیر ،سلطان اور حکم راں اللہ تعالی کے عادلانہ احکام کو نافذ کرنے میں؛ اس کا نائب اور خلیفہ ہوتا ہے ۔یہ مقام بھی اللہ کا عطا کردہ ہے ،ارشاد ہے: وَیَجْعَلَکُمْ خُلَفَاءَ الْأرْضِ(النمل ۲۸)”وہ تمھیں روئے زمیں کا خلیفہ بناتاہے“۔
 اہلِ اسلام نے حکومتِ الٰہیہ اور خلافتِ راشدہ کاایسا بے نظیر نظام دنیا کے ایک بڑے حصہ پر قائم کیا کہ اس سے بہتر کسی نظام کا مشاہدہ آج تک چشم فلک نے نہیں کیا ہے ؛جس کے حکم راں عدل وانصاف راست گوئی وپاک بازی صفائی قلب اور روشن ضمیری اور خداترسی ورعایا پروری میں اپنی مثال آپ تھے ۔
جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں
 الحمد للہ دنیا صدیوں تک اسلامی نظامِ خلافت اور اس کی رحمت وبرکت سے مستفید ہوتی رہی ؛ لیکن جب اپنی بد اعمالیوں اور دشمن کی سازشوں کی وجہ سے نظام خلافت کا بالکلیہ خاتمہ ہوگیا ؛ تو دنیا میں ایک ایسے طریقہٴ حکم رانی کو رواج ملا، جسے” جمہوریت “کہتے ہیں۔ جمہوری نظام حکومت اپنے اندر خوبیان بھی رکھتی ہیں اوراس میں خرابیاں بھی ہیں ۔اس کی بعض نمایاں خرابیوں کی طرف اشارہ علامہ اقبال کے ان اشعار میں بھی موجود ہے:
جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں           بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
اور یہ بھی کہ
سلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ                 جو نقشِ کہن آئے نظر اس کو مٹادو
          جمہوریت کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں اکثریت پرمبنی فیصلے ہوتے ہیں اگرچہ اکثریت اور تعداد پر فیصلہ اسلامی نقطئہ نظرسے بھی ہر جگہ مذموم نہیں ہے ۔بسا اوقات اکثریت ہی میں قوت رائے مضمر ہوتی ہے ۔جیساکہ علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ اکثر فقہاء کا کسی مسئلہ پر متفق ہونا حجتِ شرعی ہے اگرچہ اسے اجماع نہیں کہا جاسکتاہے ۔اسی طرح خلافت کے انعقاد کے لیے بھی پوری امت کا اجماع ضروری نہیں؛ بلکہ اکثر لوگوں کا متفق ہونا کافی ہے ۔اسی لیے فقہاء نے قاعدہ بنایا” لِلْأکْثَرِ حُکْمُ الْکُل “ (الفقہ الاسلامی وادلتہ۸/۲۶۲)
اپنی خوبی اور خامی سے قطعِ نظرحقیقت یہ ہے کہ جمہوریت انتہائی تیزی کے ساتھ پوری دنیا میں رواج پا چکی ہے اور اس کی مختلف شکلیں تقریبا دنیا بھر میں مروج ہیں،بعض اسلامی اصول سے نسبتاً ہم آہنگ ہیں اور بعض متصادم ۔اس میں مختلف طرزِ حکومت کو سمو لینے کی گنجائش ہے ۔بعض اسلامی ممالک میں اسلامی جمہوریت کا بھی تجربہ کیا جارہاہے ۔جمہوری حکومتوں کی بنیاد عوام کے ذریعہ منتخب ہونے والی حکومت پر ہوتی ہے؛ اس لیے الیکشن در حقیقت جمہوری ممالک کے لیے بہت ہی خاص موقع ہوتا ہے؛چوں کہ الیکشن کے عمل کا سارادار ومدارووٹ پر ہوتا ہے؛ اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ووٹ کی شرعی حیثیت کیاہے؟
 ووٹ کی شرعی حیثیت :
ووٹ ((voteانگریزی زبان کا لفظ ہے ۔اس کا عر بی متبادل انتخاب اور تصویت ہے۔ جب کہ اس کا اردو متبادل ہے :نمائندہ چننا ،حق رائے دہی کا استعمال کرناہے ۔جمہوری ممالک میں پارلیمنٹ اسمبلی ،کونسل ،بلدیہ یا اس جیسے اداروں کے لیے عوام کے ذریعہ نمائندہ چننے کا عمل ووٹ پر منحصر ہوتا ہے؛چوں یہ کہ اصطلاح مستحدث اورنئی ہے ۔حکومت سازی کے لیے انجام دیا جانے والا یہ عمل چوں کہ عہد سلف میں موجود نہیں تھا؛ اس لیے اس کا استعمال قرآن وحدیث میں نہیں ہواہے؛لیکن معنوی اور اصولی طور پر اس کے لیے ذخیرئہ شریعت میں ہدایتیں موجود ہیں۔
 شرعی نقطئہ نظر سے ووٹ کی متعدد حیثیتیں ہوسکتی ہیں ۔
          (۱)شہادت : شہادت کا مفہوم ہے عینی مشاہدہ یا بصیرت کی بنیاد پر کسی چیزکے بر حق ہونے کی گواہی دینا ۔قَوْلٌ صَادِرٌ عَنْ عِلْمٍ حَصَلَ بِمُشَاہَدَةِ بَصَرٍ أوْ بَصِیْرَةٍ (راغب،جرجانی) ایک لحاظ سے ووٹ کی حیثیت عرفی شہادت اور گواہی کی ہے؛اس لیے کہ ووٹر ووٹنگ یا حق رائے دہی کے استعمال کے وقت یہ سمجھتا ہے کہ فلاں امیدوار اس عہدہ کے لائق ہے ؛جس کے لیے اس نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے یاپارٹی کی طرف سے اسے امیدوارنام زد کیا گیا ہے ۔اور وہ پوری دیانت داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو انجام دے سکتا ہے ،وہ اس بات کی گواہی دیتاہے کہ وہ امیدوار اس مقصد کے لیے موزون اور ” قوی وامین “ ہے ۔چاہے وہ دوسرے کاموں کے لیے موزوں نہ ہو ۔
          (۲)سفارش :ووٹ کی ایک حیثیت سفارش کی بھی ہے ۔گویا کہ ووٹر کسی متعین امیدوار کے سلسلہ میں مجاز اتھارٹی سے یہ سفارش کرتاہے کہ وہ ممبر پارلیمنٹ یا ممبر اسمبلی بننے کے لائق اور اہل ہے اور وہ اس عہدہ کی اورمنصب کی ذمہ داریوں کو بہتر طورپر انجام دے سکتاہے ؛لہٰذا میں اس کے انتخاب کی سفارش کرتا ہوں۔شفارش کے بارے میں قرآن کریم کا حکم یہ ہے: مَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَکُنْ لَہ نَصِیْبٌ مِنْہَا وَمَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَکُنْ لَہ کِفْلٌ مِنْہَا وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ مُقِیْتاً (النساء:۸۵) یعنی جو شخص اچھی بات کی سفارش کرے گا اس کے لیے اس کے اجر میں سے ایک حصہ ہوگا اور جو بری بات کی سفارش کرے گا اس کے لیے بھی اس کے گناہ کاکچھ بوجھ ہوگااور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں۔
          لہٰذا رائے دہندگان اگراچھے امیدوار کا انتخاب کریں گے تو یہ عمل ان کے لیے باعثِ اجر ہوگا اور اگر غلط امیدوار کا انتخاب کریں گے توباعثِ مواخذہ ہوگا۔
          (۳) وکالت:وکالت کا مفہوم ہے کسی مخصوص کام کے لیے کسی انسان کو اپنا نمائندہ اور نائب چننا ۔ووٹ کی ایک حیثیت وکالت کی بھی ہے ۔گویا ووٹ دینے والا حقِ رائے دہی کا استعمال کرکے درحقیقت اس حلقہ کے کسی امیدوار کو سیاسی امور،کار ِحکومت کی انجام دہی ۔ یا پارلیمنٹ کی تشکیل اور وزیر کے انتخاب کے لیے اپنا وکیل اور نمائندہ منتخب کرتا ہے؛ اس اعتبار سے اگر ووٹر نے سیاسی امور کی انجام دہی کے لیے کسی نا اہل امیدوار کو کامیاب بنا دیا اور جیتنے کے بعد اس شخص نے قوم وملت کے حقوق کو پامال کیا اورظلم وزیادتی کوراہ دی؛ توووٹربھی اپنے رول کی حدتک اس کے گناہ میں شریک ہوں گے ۔اور اگر اچھے کام کیے؛ تو اس کی نیکیوں میں شریک ہوں گے؛لیکن حقیقت یہ ہے کہ ووٹ کے اندر چاروں مفہوم ہونے کے باوجود اس پر شہادت کا مفہوم غالب ہے؛ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ووٹ کی شرعی حیثیت شہادت کی ہے ۔
ووٹ دینے کا شرعی حکم :
          ہندوستان کے آئین نے یہاں کے ہر شہری کو ووٹ دینے اور امیدوار بننے اور دیگر انتخابی عمل میں شرکت کا حق دیا ہے ۔(بھارت کا آئین ص۸۰ )اب مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستان کے ایک شہری کی حیثیت سے انتخابی عمل میں شرکت کا کیا حکم ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ووٹ دینا اور دوسرے انتخابی عمل میں شرکت کرنے کا حکم حالات اور موقع ومحل کے لحاظ مختلف ہے۔ بعض حالات میں انتخابی عمل میں شرکت کرنا اور ووٹ ڈالنا محض جائز ہوتا ہے اور کبھی مستحب اور واجب ہوتا ہے۔ ہندوستان میں موجودہ حالات میں الیکشن میں شرکت کرنا واجب لغیرہ ہے۔ اور دنیا کے جن ممالک کے احوال ہندوستان سے مشابہہ ہوں؛ ان ممالک میں بھی الیکشن میں شرکت کرنا واجب لغیرہ ہوگا۔ یعنی فی نفسہ ووٹ دینا واجب نہیں ہے؛ لیکن جن امور کا انجام دینا شریعت نے واجب قرار دیا ہے وہ ووٹ پر موقوف ہیں۔ مشہور قاعدہ ہے: مَا لاَ یَتِمُّ الْوَاجِبُ الاَّ بِہ فَہُوَ وَاجِبٌ (الاشباہ والنظائر لابن نجیم ۹۱) یعنی واجب کی تکمیل جس چیز پر موقوف ہو وہ بھی واجب ہوتی ہے ۔
وجوب کے دلائل :
(۱)جیساکہ کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ ووٹ کی حیثیت شہادت کی ہے۔ شہادت ِحق شریعت کا ایک اہم حکم ہے ۔اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتاہے کہ قرآن کریم میں شہادت اور اس کے مشتقات کااستعمال ایک سو ساٹھ سے زیادہ مقامات پر ہوا ہے ۔ان میں سے مقصد کے لحاظ سے واضح چند آیات کو ذیل میں ذکر کیا جاتاہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَلاَ تَکْتُمُوا الشَّہَادَةَ وَمَنْ یَکْتُمْہَا فَانَّہ آثِمٌ قَلْبُہ (البقرہ ۲۸۳)اور گواہی کومت چھپاؤ اور جس نے گواہی کو چھپا دیا تو یقینا اس کا دل گنہ گار ہے ۔
          اس آیت کے تحت امام قرطبی مالکی فرماتے ہیں کہ:اس آیت میں اللہ تعالی نے شہادت اور گواہی کے چھپانے سے منع فرمایاہے ۔متعدد قرائن سے اس ممانعت کو وجوب پر محمول کیا جائے گا۔ ان میں سے ایک قرینہ یہ ہے کہ اس پرگنہ گار ہونے کی وعید آئی ہے ۔انھوں نے بطور استدلال حضرت عبد اللہ بن عباس کا یہ قول پیش فرمایا ہے : عَلٰی الشَّاہِدِ أنْ یَشْہَدَ حَیْثُمَا اسْتُشْہِدَ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی۳/۴۱۵)یعنی گواہ کو جہاں گواہی کے لیے طلب کیا جائے؛ تو اس کے لیے گواہی دینا ضروری ہے ۔
          امام طبری نے اس ضمن میں اس کی بھی وضاحت فرمائی کہ گواہی چھپانے کی ممانعت اس شکل میں ہے جب کسی حق کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو(تفسیر الطبری ۶/۹۹)
          (۲) اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَلَا یَاْبَ الشُّھَدَاءُ اذَا مَا دُعُوا (البقرہ۲۸۲)اور گواہوں کو جب گواہی کے لیے مدعو کیا جائے تو چاہیے کہ وہ انکا ر نہ کریں۔علامہ ابن عطیہ فرماتے ہیں کہ جب گواہ کو معلوم ہو کہ گواہی میں اس کی تاخیر کی وجہ سے کسی کا حق تلف ہوجائے گا تو اس پر گواہی کی ادائیگی لا زم ہے ۔(تفسیر ابن عطیہ ۲ /۵۱۳)
          امام طبری نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ مذکورہ آیت میں امر استحباب کے لیے ہے؛لیکن اخیر میں امام ِموصوف اس کی وضاحت بھی فرماتے ہیں”کہ اگر انسان ایسی جگہ پر ہو؛ جہاں اس کے علاوہ شہادت کے لیے کوئی اور شخص دستیاب نہ ہو ؛تو اس اس کے لیے اداءِ شہادت فرض ہوگا“۔
ہندوستان کا پس منظر:
اس پس منظر میں اگر ہندوستان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے ؛تو معلوم ہوگا کہ یہاں حکومت کی بنیادالیکشن پرہے اور الیکشن میں فتحیاب افراد سے پارلیمنٹ کی تشکیل ہوتی ہے اور حکومت سازی وہ پارٹی کرتی ہے جسے معمولی اکثریت یعنی کم از کم نصف سے زائد کم از کم ایک ممبرکی تائید حاصل ہو ۔جس طرح امیدواروں کی جیت بسا اوقات چند ووٹوں کے فرق سے ہوتی ہے ؛اسی طرح حکومت کا بننا اور بگڑنا بھی محض ایک ووٹ سے ہوتا ہے ۔اور پارلیمنٹ میں محض ایک وو ٹ کا فرق پوری حکومت کی فتح یا شکست کا ذریعہ بن جاتا ہے اور انجام کار کبھی ایسی نا پسندیدہ پارٹی یا افراد مسندِ اقتدار پر فائز ہوجاتے ہیں؛ جو مسلمانوں کے لیے سم ِقاتل کے مانند ہوتے ہیں۔ اور مناسب اور موزوں افراد مقابلہ میں پچھڑ جاتے ہیں۔واقعات گواہ ہیں کہ ہندستان میں متعصب پارٹیوں کی گورنمنٹ محض چند ووٹوں کے فرق سے تختہٴ اقتدار پر فائز ہوگئی اور اس نے ایسے فیصلے کیے جو آج بھی مسلمانوں کے لیے سوہان ِروح ہیں ۔اور یہ حکومت کبھی گیارہ دن میں اور کبھی گیارہ مہینے میں چند ووٹوں کے ذریعہ گربھی گئی ۔لہٰذ اجمہوری ممالک میں الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے عمل کومحض مباح نہیں؛ بلکہ واجب سے کم درجہ نہیں قرار دیا جاسکتاہے۔
          (۳) یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاءَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰی أنْفُسِکُمْ أوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْأقْرَبِیْنَ انْ یَکُنْ غَنِیًّا أوْ فَقِیْرًا فَا للّٰہُ أوْلٰی بِہِمَا فَلاَ تَتَّبِعُوا الْہَوَیٰ انْ تَعْدِلُوا وَانْ تَلْوُوْا أوْ تُعْرِضُوْا فَانَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا(النساء ۱۳۵)
          ”اے ایمان والو!تم لوگ انصاف قائم کرنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو۔اگرچہ اپنے والدین یا رشتہ داروں کے خلاف کیوں نہ ہو(جس کے خلاف گواہی دے رہے ہو) وہ مال دار ہو یا غریب؛کیوں کہ اللہ ہی ان دونوں کا زیادہ خیر خواہ ہے؛ پس تم خواہش نفسانی کی پیروی مت کرو کہ انصاف سے ہٹ جاؤ اور اگر سخن سازی اور پہلو تہی کروگے تو اللہ تمہارے کاموں سے خوب باخبر ہیں“۔
          اس آیت کریمہ میں ہر حال میں عدل وانصاف کو قائم کرنے اور صرف اللہ کے لیے گواہی کا حکم دیا گیا ہے اور اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ انسان کبھی بھی شہادت کے عمل کے دوران اپنے رشتہ دار اور دوست ودشمن میں تفریق نہ کرے؛ بلکہ عدل کو معیاربنائے ۔اور ان احکامات کی عدم پابندی کو کجروی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
          (۴) یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنْآنُ قَوْمٍ عَلٰی أنْ تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ہُوَ أقْرَبُ لِلتَّقْویٰ وَاتَّقُوا اللّٰہَ انَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (المائدة۸)
          ”اے ایمان والو!اللہ کا حق ادا کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنے رہو۔ کسی قوم کی دشمنی تم کو ناانصافی پر آمادہ نہ کرے یہی تقوی سے قریب تر ہے اوراللہ سے ڈرتے رہو یقینا وہ تمہارے اعمال سے باخبر ہیں۔“
          امام طبری فرماتے ہیں کہ” یہ آیت کریمہ یہودیوں کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی؛ جب یہودیوں نے نعوذباللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکے قتل کا نا پاک ارادہ کیا تھا! اس کے ذریعہ تمام اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا کہ ان کے مجرم ہونے اور مسلمانوں کے سخت دشمن ہونے کے باوجود ان کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کیا جائے ۔“اس سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ کہ الیکشن میں امیدوار اگر ان لوگوں میں سے ہو، جن سے ہماری ذاتی دشمنی چل رہی ہو؛ لیکن وہ ملک وقوم کے لیے زیادہ موزون ہو، تو ایسے مواقع پر خاص طور پر عدل کے تقاضوں کو بروئے کار لا نا اور اللہ سے ڈرنا ضروری ہے ۔جب بھی ووٹ دیا جائے تو اہل اور مناسب وموزون امیدوار یا نسبتاً بہتر امیدوار کا انتخاب کیا جائے؛ اس لیے کہ غلط امیدوار کا انتخاب جھوٹی گواہی ہے اور جھوٹی گواہی گناہِ کبیرہ ہے۔
          (۵)اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَاجْتَنِبُو ا قَوْلَ الزُّوْرِ (الحج ۳۰) اور تم جھوٹی باتوں سے بچتے رہو ۔
(۶) اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہٴ کرام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :کیا میں تم کو اکبرُالکبائر (سب سے بڑے گناہ) کے بارے میں نہ بتاؤں ؟صحابہٴ کرام نے فرمایاکیوں نہیں یا رسول اللہ!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نا فرمانی کرنا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھیک سے بیٹھ گئے؛ حالاں کہ آپ پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور فرمایا سنو!جھوٹی گواہی دینا۔ اس آخری جملہ کو آپ برابر دہراتے رہے؛ یہاں تک کہ ہم لوگوں کو خیال ہوا کاش آپ خاموش ہوجاتے !(بخاری، ماقیل فی شہادة الزور ۱/۳۶۲)
          لہٰذا نا اہل کو ووٹ نہ دینا اور اچھے امیدواروں کو ووٹ دینا واجب ہے ۔
ووٹ دینا اضافہٴ قوت کی ایک شکل :
           جمہوری ممالک میں افرادی قوت کی بڑی اہمیت ہے ۔اور اقلیتوں کے لیے ووٹ بہت بڑی طاقت ہے ،جس کے ذریعہ کوئی بھی قوم اقلیت میں ہونے کے باوجود بادشادنہیں ؛تو بادشاہ گر بننے کی صلاحیت ضرور رکھتی ہے ۔مسلمان بہت سے ممالک میں مضبوط اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اپنے ووٹ کی قوت کے ذریعہ اپنے حقوق کی حفاظت کرسکتے ہیں ؛لہٰذا ایسے حالات میں ووٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنا در حقیقت اپنی سیاسی قوت کو کم زور کرنا ہے ۔
الیکشن میں اپنے آپ کو بہ حیثیت امیدوار پیش کرنے کا حکم :
          الیکشن میں اپنے کو امیدوار کے طور پر پیش کرنا چند شرطوں کے ساتھ جائز ہے۔ اول یہ کہ کوئی دوسرآدمی عوامی نمائندہ بننے کے لیے دستیاب نہیں ہو۔ یا دستیاب تو ہو؛ لیکن وہ اس کام کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو۔یا متعدد افراد امیدواربننے کے لیے تیار ہیں؛لیکن وہ افراداس عہدہ کے لیے غیرمناسب یا غیر موزون ہیں اور اپنے بارے میں اسے یقین ہو کہ وہ اس کا م کے لیے فراہم افراد میں سب سے بہتر اور لائق ترین ہے اور وہ اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کو ادا کرکے ملک وقوم کی بہتر خدمت انجام دے سکتاہے ۔اور ان امور کو انجام دیتے وقت اسے اپنے عقیدہ اور ایمان کی حفاظت کا پورا یقین ہو ۔اور اس کام کے لیے آمادگی کا سبب حبِّ ما ل اور حب جاہ نہ ہو؛ بلکہ خلق اللہ کی صحیح خدمت اور انصاف کے ساتھ ان کے حقوق کو ادا کرنا مقصود ہو ۔تو ایسے افراد کے لیے اپنے آپ کو عہدہ کے لیے پیش کرنا صرف جائزہی نہیں ؛بلکہ بہتر ہوگا ۔
           اللہ تعالی نے قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں یہ بیان کیا کہ خشک سالی اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات سے نمٹنے اور لوگوں کو بھوک مری سے بچانے کے لیے انھوں نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے فرمایا: قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰی خَزَائِنِ الْأرْضِ انِّي حَفِیْظٌ عَلِیْم (یوسف ۵۵)کہ ”یوسف علیہ السلام نے کہا کہ مجھے ملکی خزانوں پر مامور کردیجیے میں نگہبان ہوں اور خوب واقف کار بھی “۔
          رہے وہ افراد جو ان اوصاف سے عاری ہوں؛ ان کے لیے عہدہ طلبی اور الیکشن میں امیدوار بننا جائز نہیں ہے ۔
          علامہ ماوردی نے الاحکام السلطانیہ میں نقل کیاہے کہ بعض حضرات نے حضرت یوسف علیہ السلام کے مذکورہ عمل کی بنا پر کا فر اور ظالم حکم رانوں کا عہدہ قبول کرنا اس شرط کے ساتھ جائزرکھا ہے کہ خود اس کو کوئی کا م خلاف شرع نہ کرنا پڑے؛کیوں کہ انھوں نے اپنے زمانہ کے فرعون کے عہدہ کو قبول کیا تھا۔ اور بعض حضرات نے اس کو بھی جائز نہیں رکھا ہے؛ مگر جمہور علماء اور فقہاء نے جواز کے قول کو ہی اختیار فرمایا ہے ۔ (الاحکام السلطانیہ ۱/۱۳۰ تفسیر قرطبی)
نظامِ طاغوت میں شرکت کا اعتراض:
          اس ضمن میں بعض حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ الیکشن میں شرکت کا مطلب ہے لادینی نظام میں شرکت اور امیدواروں کے فسق اور بعض اوقات ان کے کفر سے راضی ہونا ۔اور یہ شرعا ممنوع ہے؛لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ نظامِ باطل کے بعض اجزاء کا اختیار کرنا جو کسی مسلمان یا پوری مسلم قوم کے لیے نفع بخش ہوبالکلیہ ممنوع نہیں ہے ،بلکہ بعض حالات میں اس کی اجازت ہے؛ بلکہ اگر کوئی مضبوط مسلم امیدوار نہ ہو تو غیر مسلم امیدوار کا انتخاب بھی صحیح ہوگا؛ جب کہ اس امیدوار یا پارٹی کے انتخاب سے اندرون ملک یا بیرون ملک مسلمانوں کے عمومی مصالح وابستہ ہوں کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرے گا یا ان کے حق کی آواز بلند کرے گا یا علی الاقل وہ ہمارے دشمنوں کی مدد نہیں کرے گا۔اور اگر اس حلقہ میں کوئی مضبوط مسلم امیدوار موجود ہو؛ تو اس کے حق میں ووٹ دینا لازمی ہوگا ۔جہاں تک سرے سے ووٹ نہ دینے یا الیکشن سے بائیکاٹ کرنے کا نظریہ ہے؛ تو اس میں مسلمانوں کیے لیے کوئی مصلحت نہیں ہے؛ بلکہ بسا اوقاات انتخابی عمل سے مسلمانوں کے الگ تھلگ رہنے کی صورت میں بعض ایسے متعصب افراد کے منتخب ہونے کا امکان ہوتا ہے جوموقع ملنے پرمسلم دشمنی میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتے ۔جو یقینا مسلمانوں کے لیے نقصان دِہ ہوتا ہے ۔ظاہر ہے مسلمانوں کے لیے جلبِ منفعت اور دفع مضرت اور حرج اور تنگی کو دور کرنا مقاصد دین میں سے ہے ۔
کیا دستور سے وفاداری کا حلف اٹھانا درست ہے ؟
          پارلیمنٹ اور اس جیسے دوسرے اداروں میں حلف برداری کے وقت الگ الگ الفاظ اور الگ الگ جملوں کا استعمال کیا جاتاہے ۔اور عام طور پر صدق دل سے یہ اقرار کرتاہوں یا یہ عزم کرتا ہوں یا یہ عہد کرتا ہوجیسے جملے استعمال کیے جاتے ہیں اور اس میں اللہ کا نام نہیں لیا جاتاہے۔ اور کبھی کبھار اللہ کا نام لیا بھی جاتاہے ۔کیااللہ کے نام کے بغیر محض اقرار یا عزم کو شرعا حلف کہا جاسکتاہے ۔یا نہیں ؟چوں کہ اللہ کے نام یا اس کی صفات میں سے کسی ایک کا ذکر کرنا حلف اور قسم کے لیے رکن ہے؛ لہٰذ علماء کی ایک جماعت جن میں اما م زفرشامل ہیں، ایسے الفاظ کو شرعا قسم نہیں قرار دیتی اور اس پر قسم کے احکام بھی جاری نہیں کرتی ۔وہ کہتے ہیں کہ یہ محض وعدہ ہے۔ قسم شرعی نہیں۔(ہدایہ ۲/۴۸۰)
          دوسرے حضرات جن میں ہمارے ائمہ ثلثہ شامل ہیں، اللہ کے نام یا صفات کے ذکر کو ضروری تو قرار دیتے ہیں؛ لیکن اگر کسی جملہ میں اللہ کا نام یا ان کی صفت لفظاً مذکور نہیں ہے تو وہاں وہ معنوی یا مجازی طور پراسے مذکور مان لیتے ہیں۔
           لیکن جمہوری ممالک میں جہاں آزمائشوں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسلم ممبران پارلیمنٹ کے ان الفاط کو اس وقت تک قسم نہ قرار دیا جائے جب تک وہ صراحتاًاللہ کے نام یا صفات کیساتھ قسم نہ کھائیں۔محض اقرار یا عزم کے الفاظ کو وعدہ قرار دیا جائے۔ اور شریعت میں وعدہ کی پاس داری کے احکاما ت بھی دیئے گئے ہیں؛ مگرناجائز امور کے وعدہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے ؛لہٰذا دستور کے اس حصہ کے متعلق ان کا وعدہ واجب الوفاہوگا جو شریعت سے متصادم نہیں ہے۔اوراگراللہ کے نام کے ساتھ قسم کھایا گیا ہے؛ توقسم تو منعقد ہوگی؛ مگر شریعت سے متصادم حصوں کے سلسلہ میں ان کا قسم قابلِ نفاذنہ ہوگا؛ بلکہ ان کی ذمہ داری ہوگی کہ قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کریں۔
سیکولر پارٹی میں شرکت اورر اس کا امیدوار بننا :
          سیکولر پاٹی میں شمولیت اور اس کی طرف سے پارلیمنٹ، اسمبلی یابلدیہ کے انتخابات میں ممبر بننے کی مشروط اجازت ہے ۔اور شرائط وہی ہیں؛ جن کا تفصیل کے ساتھ گزشتہ سطور میں تذکرہ ہوچکا ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ اپنے ایمان اور عقیدہ کے تحفظ کا یقین ہو ۔محض نمائش مقصود نہ ہو؛ بلکہ قوم وملت اور ملک ووطن کی خدمت کا جذبہ ہو۔اگر ان کے اختیار میں ہو تو پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے مسلمانوں کے لیے الگ دفعات وضع کروائے جائیں ۔ممکن نہ ہو تو اس پارٹی میں تو شمولیت اختیار کی جائے اور اس کے اسلام مخالف دفعات سے براء ت ظاہر کی جائے اور ان میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے ۔پارٹی کی وفاداری سے زیادہ قوم کی وفاداری اس کو عزیز ہو۔ اور قوم کی خدمت کا جذبہ ہر جذبہ پر غالب ہو بہتر ہے کہ اس طرح کی سیکولر سیاسی پارٹیوں میں شرکت باضابطہ تحریری طور پرمعاہدہ کے ذریعہ عمل میں آئے۔ جیساکہ میثاقِ مدینہ میں آں حضور صلی اللہ علیہ وسلمنے مدینہ کے اور آس پاس کے یہود اور مشرک قبائل سے معاہدہ کیا تھا ۔اس کے علاوہ ہندوستان میں صاحب تقوی اور بابصیرت اہل علم نے آزادی کے بعد سیکولر پارٹیوں میں شرکت بھی کی ہے خود ممبر بنے ہیں اور دوسروں کو بھی ممبر بنایا ہے اور ان پارٹیوں کی طرف سے الیکشن کے لیے امیدوار بھی بنتے رہے ہیں۔اور پارلیمنٹ کے ممبر کے طور پر مسلم مسائل کو اٹھاتے رہے ہیں،مثلا اسیرِمالٹا شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ،ملک کے پہلے وزیر تعلیم امام الہندمولانا ابوالکلام آزاداور مجاہدِ ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی(سابق ایم پی ) ،امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ،(سابق ممبر اسمبلی بہار) فدائے ملت حضرت مولانا اسعد مدنی ،(سابق ایم پی) مولاناسید احمد ہاشمی(سابق ایم پی ) اور مولانا اسحق سنبھلی(سابق ایم پی ) وغیرہ،اس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ حضرات علمی اور شرعی طور پر بھی اس عمل کو صحیح سمجھتے تھے۔ مولانا آزاد کی اس سلسلہ میں کئی معرکة الآراء تحریریں موجود ہیں ۔
مسلم دشمن پارٹیوں میں شرکت:
          جو سیاسی پارٹیاں کھلے طور پر مسلم دشمن ہیں اور ان کے منشور میں اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت ہے ۔کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کے ایسی پارٹی میں شامل ہو یا ان پارٹیوں کی طرف سے الیکشن کے موقعہ پر امیدوار بنے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے: لاَ تَرْکُنُوا الٰی الَّذِیْنَ ظَلَمُوا فَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مشنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ أوْلِیَاءَ ثُمَّ لاَ تُنْصَرُوْن(ھود ۱۱۳)یعنی اور ان لوگوں کی طرف مت جھکو جو ظالم ہیں ورنہ تمھیں بھی جہنم کی آگ پکڑلے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی کار ساز نہ ہوگا اور تمہاری مدد بھی نہیں کی جائے گی ۔ اورسورئہ ممتحنہ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّکُمْ أوْلِیَاءَ (الممتحنہ۱ ) اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ!
          مذکورہ آیات میں اسلام کے دشمنوں کے ساتھ دوستی قائم کرنے کو سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے؛ لہٰذا وہ سیاسی پارٹیاں جو اسلام اور مسلم دشمنی کو اپنا شعار بنائے ہوئی ہیں،منظم فسادات بھڑکا کر مسلمانوں کی جان مال اورعزت وآبرو سے کھلواڑ کرتی ہیں؛ ان کے مقدس مقامات کو تباہ کرتی ہیں اور اس پر خوش بھی ہوتی ہیں؛ ایسی پارٹیوں میں مسلمانوں کی شمولیت احکام الٰہی کی صریح خلاف ووزی ہے ۔
الیکشن اور خواتین :
بعض پیدائشی اور فطری اسباب کی بنیاد پر اللہ تعالی نے مردوں اور عورتوں کے درمیان تقسیم کار کا اصول قائم کیا ہے ۔اور اسی کے پیشِ نظر مردوں کو عورتوں پر قوّامیت عطا کی گئی ہے اور اسے شرم وحیا کا مجسم پیکر قرار دے کر ہر اس چیز کی ممانعت کی گئی ہے جو ان کی فطری حیا اور پیدائشی اوصاف سے متصادم ہو۔ باہر نکلنے، غیر محرموں کے سامنے جانے اورپردہ کرنے کے سلسلہ میں عورتوں کے خصوصی مسائل ہیں ۔ان کے بارے میں قرآنِ کریم اور احادیث شریفہ میں خاص احکامات بیان کیے گئے ہیں۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عََٰی النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْض(النساء۳۴)کہ مرد نگہبان ہیں عورتوں کے؛ اس سبب سے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔سورئہ احزاب میں اللہ کا ارشاد ہے: وَقَرْنَ فِيْ بُیُوْتِکُنَّ وَلاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْأوْلٰی(۳۳)اور تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور پچھلی جاہلیت کی طرح بناوٴ سنگار کرکے مت نکلا کرو۔ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ اہلِ فارس نے کسری کی بیٹی کو اپنا سربراہ بنا لیاہے؛ تو آپ نے فرمایا: لَنْ یَّفْلَحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أمْرَہُمْ امْرَأةً(بخاری رقم ۴۱۶۳)وہ قوم کبھی کام یا ب نہیں ہوسکتی جو کسی عورت کو اپنا سربراہ بنا لے ۔
          ان نصوص کے پیش نظر علما ئے امت نے یہ مسئلہ اخذ کیا کہ عورت سربراہ مملکت نہیں بن سکتی؛ لیکن وہ پردہ اور دیگر شرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئے وہ تما م گھریلو اور سماجی امور انجام دے سکتی ہے ۔جن امورمیں اجنبی مرد وعورت کے اختلاط کا امکان ہو ان امور کی ان کے لیے اجازت نہیں ہے ۔عورت حدود وقصاص کے علاوہ دیگر معاملات کو فیصل کرنے کے لیے امام ابوحنیفہ کی رائے میں قاضی بھی بن سکتی ہے ۔(المرأة بین الفقہ والقانون۳۹)وہ پردہ میں رہ کر ووٹ بھی دے سکتی ہے اور حکومت کے اعلی امور میں مشورہ بھی دے سکتی ہے ۔
          اگر خواتین کے لیے مردوں سے علاحدہ نشست کا انتظام ہو اور وہ مکمل پردے میں ایوان کی کاروائی اور دیگرسیاسی وسماجی سرگرمیوں میں شرکت کرسکیں ودیگر شرعی حدود کی رعایت کرسکیں تواس صورت میں ان کے لیے امیدواربننادرست ہوگا اوراگر وہ ان حدودِ شرعیہ کی رعایت نہ کرسکیں؛توان کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں شرکت درست نہیں ہے۔ وَاللّٰہُ أعْلَمُ بِالصَّوَابِ
اللّٰہُمَّ أرِنَا الْحَقَّ حَقًا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَہ وَأرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً وَأرْزُقْنَا اجْتِنَابَہ
***

==========================

 افواہ وبدگمانی کے فساد کا سد باب

 وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْخُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عن أبى هريرة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا ، أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ " .[صحيح مسلم » بَاب النَّهْيِ عَنِ الْحَدِيثِ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ... رقم الحديث: 6(5)]
حضرت  ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کافی ہے کسی آدمی کے جھوٹے ہونے کیلئے یہی بات کہ وہ (بلاتحقیق) کہدے ہر وہ بات جو وہ سنے۔

افواہ پھیلانے کی مذمت:

وَإِذا جاءَهُم أَمرٌ مِنَ الأَمنِ أَوِ الخَوفِ أَذاعوا بِهِ ۖ وَلَو رَدّوهُ إِلَى الرَّسولِ وَإِلىٰ أُولِى الأَمرِ مِنهُم لَعَلِمَهُ الَّذينَ يَستَنبِطونَهُ مِنهُم ۗ وَلَولا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ لَاتَّبَعتُمُ الشَّيطٰنَ إِلّا قَليلًا {4:83}
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

جھوٹی خبروں کی تحقیق کا حکم:

يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن جاءَكُم فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنوا أَن تُصيبوا قَومًا بِجَهٰلَةٍ فَتُصبِحوا عَلىٰ ما فَعَلتُم نٰدِمينَ {49:6}
مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے



==========================

محبت ونفرت میں اعتدال

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أُرَاهُ رَفَعَهُ ، قَالَ : " أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا ، وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا ".
حضرت  ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے دوست سے اعتدال کے ساتھ محبت رکھو، شاید کہ کسی دن وہ قابلِ نفرت ہوجائے۔ اور اپنے دشمن کے ساتھ اعتدال سے نفرت رکھو، شاید کہ کسی دن وہ تمھارا محبوب بن جائے۔

عَسَى اللَّهُ أَن يَجعَلَ بَينَكُم وَبَينَ الَّذينَ عادَيتُم مِنهُم مَوَدَّةً ۚ وَاللَّهُ قَديرٌ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ {60:7}
عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو دوستی پیدا کردے۔ اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے



====================================
افضل جہاد:
 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ أَوْ أَمِيرٍ جَائِرٍ " .
[سنن أبي داود » كِتَاب الْمَلَاحِمِ » بَاب الْأَمْرِ وَالنَّهْيِ ... رقم الحديث: 3783(4344)]
افضل جہاد، حق وانصاف کی بات کہنا ہے ظالم بادشاہ یا حاکم کے پاس۔


وَقالَ رَجُلٌ مُؤمِنٌ مِن ءالِ فِرعَونَ يَكتُمُ إيمٰنَهُ أَتَقتُلونَ رَجُلًا أَن يَقولَ رَبِّىَ اللَّهُ وَقَد جاءَكُم بِالبَيِّنٰتِ مِن رَبِّكُم ۖ وَإِن يَكُ كٰذِبًا فَعَلَيهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِن يَكُ صادِقًا يُصِبكُم بَعضُ الَّذى يَعِدُكُم ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدى مَن هُوَ مُسرِفٌ كَذّابٌ {40:28}
اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے



==========================

اولو الامر کی اطاعت:

القرآن : يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم ۖ فَإِن تَنٰزَعتُم فى شَيءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا {4:59}

ترجمہ : اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسولؐ کا اور اُولِي الْاَمْرِ(علماء و فقہاء) کا جو تم (مسلمانوں) میں سے ہوں، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اسے لوٹاؤ اللہ (کےکلام) اور رسولؐ (کی فرمان) کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام. (النساء: ٥٩)
تشریح: اس آیت میں ادلہ اربعہ (چاروں دلیلوں) کی طرف اشارہ ہے: اَطِيْعُوا اللّٰهَ سے مراد "قرآن" ہے، اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ سے مراد "سنّت" ہے، اور اُولِي الْاَمْرِ سے مراد "علماء و فقہاء" ہیں، ان میں اگر اختلاف و تنازع نہ ہو بلکہ اتفاق ہوجاتے تو اسے "اجماعِ فقہاء" کہتے ہیں.(یعنی اجماعِ فقہاء کو بھی مانو). اور اگر ان اُولِي الْاَمْرِ(علماء و فقہاء) میں اختلاف ہو تو ہر ایک مجتہد عالم کا اپنی راۓ سے اجتہاد کرتے اس نئے غیر واضح اختلافی مسئلے کا قرآن و سنّت کی طرف لوٹانا اور استنباط کرنا "اجتہادِ شرعی" یا "قیاسِ مجتہد" کہتے ہیں.

قرآن و سنّت کی طرف لوٹانے کا اہل کون؟
مفسر امام ابو بکر جصاصؒ (متوفی ۳۷۰ھ) اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں کہ: "اولو الامر" کی اطاعت کا حکم دینے کے فورا بعد الله تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ "پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو لوٹاؤ اللہ اور رسول کی طرف" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اولو الامر سے مراد علماء و فقہاء ہیں، کیونکہ الله تعالیٰ نے لوگوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا (یعنی جس بات پر ان کا اتفاق و اجماع ہو، وہ بھی قرآن و سنّت کی بعد قطعی دلیل و حکم ہے)، "پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں" فرماکر اولو الامر کو حکم دیا کہ جس معاملہ میں ان کے درمیاں اختلاف ہو اسے الله کی کتاب اور نبی کی سنّت کی طرف لوٹادو، یہ حکم علماء و فقہاء ہی کو ہوسکتا ہے، کیونکہ عوام الناس اور غیرعالم کا یہ مقام نہیں ہے، اس لئے کہ وہ اس بات س واقف نہیں ہوتے کہ کتاب الله و سنّت کی طرف کسی معاملہ کو لوٹانے کا کیا طریقہ ہے اور نہ انھیں نت نئے مسائل (کا حل قرآن و سنّت سے اجتہاد کرتے) مستنبط کرنے کے دلائل کے طریقوں کا علم ہوتا ہے، لہذا ثابت ہوگیا کہ یہ خطاب علماء و فقہاء کو ہے.[احکام القرآن، للجصاص : 2/257]

کسی مخصوص بات پر ادھوری آیت بیان کرنا:
الحدیث : حضرت عطاء رح بیان کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ اولوالامر ہیں ان کی اطاعت کرو۔"(النساء:٥٩) حضرت عطاء رح ارشاد فرماتے ہیں: اس سے مراد علم اور فقہ کے ماہرین ہیں اور رسول کی اطاعت سے مراد کتاب اللہ اور سنت کی پیروی کرنا ہے ۔
اکثر مفسرین اس سے فقہاء اور علماء مراد لیتے ہیں، حاکم نے حضرت عبداللہ ابن جابر کا قول نقل کیا ہے: "أُولِي الْأَمْرِ، قال الفقہ والخیر"۔ (مستدرک:۱/۱۲۳)
ترجمہ: "أُولِي الْأَمْرِ" سے مراد اصحابِ فقہ وخیر ہیں۔
ترجمان القرآن میں حضرت ابن عباسؓ کی بھی یہی تفسیر نقل کی گئی ہے:
"أُولِي الْأَمْرِ، یعنی اهل الفقه والدین"۔ (مستدرک:۱/۱۲۳)
ترجمہ: "أُولِي الْأَمْرِ" سے اصحاب فقہ اور اہلِ دین مراد ہیں۔


اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ لِحَبَشِيٍّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ۔
(حاکم کی) سن اور کہا مان خواہ وہ حبشی ہو جس کا سر کشمش کی طرح(چھوٹا)ہو۔
[أخرجه الطيالسى (ص 280، رقم 2087) ، والبخارى (1/247، رقم 664) .]


أَسْمَعَ وَأُطِيعَ ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ۔

(حاکم کی) سن اور کہا مان خواہ وہ سیاہ کالا اور لولا لنگڑا ہو۔
[أخرجه الطيالسى (ص 61، رقم 452) ، وأحمد (5/161، رقم 21465) ، ومسلم (1/448، رقم 648) ، وابن خزيمة فى السياسة كما فى إتحاف المهرة للحافظ (14/152، رقم 17547) ، وابن حبان (4/622، رقم 1718) .]



حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الْخَوْلانِيُّ ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " السُّلْطَانُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الأَرْضِ ، فَمَنْ أَكْرَمَهُ أَكْرَمَ اللَّهَ ، وَمَنْ أَهَانَهُ أَهَانَهُ اللَّهُ " .

 المحدث : الألباني | المصدر : تخريج كتاب السنة1024 | خلاصة حكم المحدث : حسن



إختلاف كا حل :
حدیث # 2
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ السَّلَامِيُّ , حَدَّثَنِي أَبُو خَلَفٍ الْأَعْمَى , قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ أُمَّتِي لَنْ تَجْتَمِعُ عَلَى ضَلَالَةٍ , فَإِذَا رَأَيْتُمُ اخْتِلَافًا فَعَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ ".
[سنن ابن ماجه (سنة الوفاة:275) : کتاب الفتن، باب السواد الاعظم ... رقم الحديث: 3948(3950)]

حضرت انس بن مالکؓ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللهؐ نے فرمایا "میری امت کسی گمراہی پر جمع (متفق) نہیں ہوگی، بس جب تم (لوگوں میں) اختلاف دیکھو تو سوادِ اعظم (سب سے عظیم جماعت) کو لازم پکڑلو (یعنی اس کی اتباع کرو)".




اسلام کا مشاورتی نظام اہمیت اور طریقہٴ کار



انسان کو زندگی میں بیشتر ایسے امور پیش آتے ہیں جن میں وہ تذبذب کا شکار ہوجاتا ہے۔کرنے اور نہ کرنے دونوں پہلووٴں پر اس کی نظر ہوتی ہے، وہ سر دست یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ موجودہ حالات میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ کام کے کس رخ کو اختیار کرنے میں اس کے لیے بھلائی اور ہدایت ہے؟ کشمکش کی اس صورتِ حال میں شریعت نے ہدایت دی ہے کہ ایسے تمام مواقع پر ازخود فیصلہ کرنے اور اپنی عقل و دانش پر اعتماد کرنے کے بجائے متعلقہ کام کے ماہرینِ فن، اربابِ نظر اور ہمدرد وبہی خواہ افراد سے رائے معلوم کرلی جائے، پھر باہمی غور و فکر کے بعد جس جانب دل مائل ہو، ا للہ پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اختیار کر لے، اس کو ”مشورہ یا مشاورت“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
            صالح، کامیاب اورپرامن زندگی گزارنے کے لیے مشاورتی نظام اپنانا ازحد ضروری ہے، بلاشبہ مشورہ خیر و برکت، عروج و ترقی اور نزولِ رحمت کا ذریعہ ہے، اس میں نقصان و شرمندگی کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ رسولِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَا شَقٰی عَبْدٌ بِمَشْوَرَةٍ وَمَا سَعِدَ بِاسْتِغْنَاءِ رَأیٍ یعنی کوئی انسان مشورہ سے کبھی نا کام اور نامراد نہیں ہوتا اور نہ ہی مشورہ ترک کر کے کبھی کوئی بھلائی حاصل کرسکتا ہے۔ (قرطبی۴/۱۶۱)
            ایک موقع پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: مَاخَابَ مَنِ اسْتَخَارَ وَلَا نَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ ”جس نے استخارہ کیا وہ نا کام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہ ہوا۔“ (المعجم الأوسط للطبرانی: ۶۸۱۶)
            اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے: اَلْمَشْوَرَةُ حِصْنٌ مِنَ النِّدَامَةِ وَ أمْنٌ مِنَ الْمَلَامَةِ“ مشورہ شرمندگی سے بچاوٴ کا قلعہ ہے اور ملامت سے مامون رہنے کا ذریعہ ہے۔“ (ادب الدنیا والدین ۱/۲۷۷)
             اس میں حکمت یہ ہے کہ ایک انسان جب اپنی رائے پر عمل کرتے ہوئے کوئی کام کرتا ہے اگر اس میں نا کامی ہوجائے تو بہت سی زبانیں لعن طعن کرنے لگتی ہیں، ملامت کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے اور پھر بڑی ذلت محسوس ہوتی ہے؛ لیکن اگر مشورہ کے بعد کوئی کام کیا جائے تو عام طورپر اس میں نا کامی نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ مشورہ کی برکت سے خیر کی راہیں کھول دیتا ہے اور اگر فیصلہ تقدیر کے سبب مشورہ کے تحت کیا ہوا کام بار آور اور نتیجہ خیز نہیں ہوسکا تو بھی اس میں لوگوں کے سامنے شرمندگی اٹھانی نہیں پڑتی؛ اس لیے کہ اس میں صرف اسی کی عقل و فکر شامل نہیں ہے؛ بلکہ مختلف اربابِ نظر اور ماہرینِ فن کی رائیں اور عقلیں شامل ہیں، ملامت کس کس کو کی جائے اور ملامت کرنے والا بھی اپنی اصابتِ رائے کی ضمانت نہیں دے سکتا ؛اس لیے مشورہ میں دیگر اہم فائدوں کے ساتھ ا یک بڑا فائدہ ملامت اور طعن و تشنیع سے نجات بھی بتایا گیا ہے، ایک شاعر مشورہ کی اسی افادیت کے پیشِ نظر کہتا ہے :
الرأیُ کَاللَّیْلِ مُسْوَدٌّ جَوَانِبُہ      $       وَاللَّیْلُ لَایَنْجَلِی الّا بِالْاِصْبَاح
فَاضْمُمْ مَصَابِیْحَ آرَاءِ الرِّجَالِ الٰی      $       مِصْبَاحِ رَأیِکَ تَزْدَدْ وُضُوْءَ مِصْبَاح
            ” رائے تاریک رات کی طرح ہے کہ اس کے اطراف سیاہ ہیں اور رات کا اندھیرا بغیر صبح کے زائل نہیں ہوتا، لوگوں کی رائے کی مشعل کو اپنے چراغ کے ساتھ ملا لینے سے تیرے چراغ کی روشنی زیادہ ہوجائے گی “ یعنی آدمی اپنی رائے سے ایک پہلو کو سمجھتا ہے؛ مگر جیسا کہ رات میں اگرچہ قریب کی چیز کا احساس و ادراک ہوجاتا ہے؛ مگر ذرا فاصلہ کی چیز نظر نہیں آتی، اسی طرح تنہا اپنی رائے سے تمام پہلو روشن نہیں ہوتے، وہ برابر معرضِ خفاء میں رہتے ہیں؛ لیکن جب صبح ہوکر شب کی تاریکی زائل ہو جاتی ہے تو مشرق و مغرب، جنوب وشمال کی تمام چیزیں روشن ہوجاتی ہیں، اسی طرح جب اپنی رائے کے ساتھ دوسروں کی رائے کو ملالیا گیا تو گویا ایک چراغ کے ساتھ جس کی روشنی تھوڑی دور تک پھیلی ہوئی تھی، ہزاروں شمعوں کو روشن کر دیا اور عالم کے نورانی ہوجانے سے خود اس کے چراغ کی روشنی بھی بڑھ گئی اور اطراف و جوانب کی سب چھوٹی بڑی چیزیں ظاہر و نمودار ہو گئیں۔
            بعض بلغاء کا قول ہے:
            مِنْ حَقِّ الْعَاقِلِ أَنْ یُضِیْفَ الٰی رَأیِہ آرَاءَ العُقَلَاءِ، یَجْمَعُ الٰی عَقْلِہ عُقُوْلَ الْحُکَمَاءِ فَانَّ الرَّأیَ الْفَذَّ رُبَّمَا ذَلَّ وَالْعَقْلَ الْفَرْدَ رُبَّمَا ضَلَّ ”عاقل کا فرض یہ ہے کہ اپنی رائے کے ساتھ عقلاء کی رائے کا اضافہ کرے اور اپنی عقل کے ساتھ حکماء کی عقل کو جمع کرے؛ کیوں کہ اکیلی رائے بسا اوقات ذلیل ہوتی ہے اور پھسل جاتی ہے اور تنہا عقل بسا اوقات گمراہ ہوجاتی ہے“ ۔ ظاہر ہے کہ اپنی عقل کے ساتھ جب دیگر عقلوں اور اپنے تجربہ کے ساتھ دیگر تجربات کو ملا لیا جائے تو اس میں استحکام پیدا ہوگا اور غلطی کا امکان کم ہو جائے گا، خواہ وہ عقلیں اپنے تئیں ناقص ہی کیوں نہ ہوں؛ چوں کہ مشورہ میں شریک افراد بڑی مشقتوں سے حاصل کیے ہوئے تجربات کی روشنی میں رائے دیتے ہیں؛ اس لیے مشورہ کرنے والے کو اہم اور قیمتی باتیں مفت مل جاتی ہیں جن کو اگر وہ خود حاصل کرنا چاہے تو زندگی ختم کرکے بھی حاصل ہونا یقینی نہیں ہے؛ اسی لیے حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: تجربہ کار تجھ کو وہ رائے دیتا ہے جو اس کو نہایت گراں قیمت پر ملی ہے یعنی نہایت مشقت و تحملِ مصائب کے بعد حاصل ہوئی ہے اور تو اس کو مفت بلا تعب اڑا تا ہے۔ (اسلام میں مشورہ کی اہمیت از مفتی محمد شفیع ۶۱ تا۶۳)
             حضرت علی کا یہ قول بھی کتنا جامع ہے: اَلْاِسْتِشَارَةُ عَیْنُ الْہِدَایَةِ وَ قَدْ خَاطَرَ مَنِ اسْتَغْنٰی بِرَأیِہ۔ (المدخل: ۴/۲۸) مشورہ عین ہدایت ہے اور جو شخص اپنی رائے سے ہی خوش ہوگیا وہ خطرات سے دوچار ہوا۔ خلاصہ یہ کہ مشورہ ایک مہتم بالشان امر ہے، رشدوہدایت اور خیر وصلاح اس سے وابستہ ہے؛ جب تک مشورہ کا نظام باقی رہے گا، فساد اور ضلالت و گمراہی راہ نہیں پا سکے گی، امن اور سکون کا ماحول رہے گا، یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے حُکّام تم میں سے بہترین آدمی ہوں اور تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارے معاملات آپس میں مشورہ سے طے ہواکریں تو زمین کے اوپر رہنا تمہارے لیے بہتر ہے اور جب تمہارے حُکّام بدترین افراد ہوں اور تمہارے مالدار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کے اندر دفن ہوجانا تمہارے زندہ رہنے سے بہتر ہوگا۔“ (روح المعانی: ۷/۵۳۱)
             دنیا کے حالات پر جن کی نظر ہے وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ دنیا میں جتنے بھی دینی و ملی ادارے چل رہے ہیں، ان میں جن کا نظام مشورہ سے مربوط ہے، ان کے تمام امور مستحکم اور پائیدار ہیں اور وہ تمام داخلی و خارجی فتنے و فساد سے پاک ہیں؛ لیکن جب کسی ادارے یا حکومت کو خاندانی یا وراثتی نظام پر چلایا جاتا ہے کہ پہلے باپ حکمراں تھا تو محض اس بنیاد پر بیٹا اس کا اہل قرار پائے ا ور یہی سلسلہ چلتا رہے تو پھر یاد رکھنی چاہیے کہ یہ حکومت دیر پا نہیں ہوتی، ہزار طرح کے مسائل وہاں جنم لیتے ہیں اور ایک دن پورا شہر فتنہ وفساد کے لپیٹ میں آجاتا ہے، جیسا کہ زمانہٴ جاہلیت میں حکمرانی کا یہی طریقہ رائج تھا، اسی وجہ سے وہاں ہر گھر، ہر خاندان، ہر قبیلہ الگ الگ خانوں میں منقسم ہوگیا تھا فتنہ و فساد کا ایک سیلاب تھا، جس پر کوئی بندش نہیں تھی، لوگوں کو کسی گرفت کا احساس نہیں تھا؛ اس لیے جو شخص جو چاہتا کرتا تھا اور پھر یہیں سے زنا کاری ، شراب نوشی، ڈاکہ زنی، لوٹ کھسوٹ، قتل وغارت گری، جیسے ہزاروں جرائم وجودمیں آئے اسلام نے اس طریقہ کو مٹا کر مشاورتی نظام قائم کیا، مختلف نوعیتوں سے مشورہ کی اہمیت بیان کی گئی؛ بلکہ اس کو مسلمانوں کا وصف خاص قرار دیا گیا۔ ارشاد باری ہے : وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمْ وَ اَقَامُوْا الصَّلٰوةَ وَ اَمْرُہُمْ شُوْریٰ بَیْنَہُمْ وَ مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ۔(شوریٰ:۳۸) ”ایمان والے وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم کو مانا، نماز قائم کی اور ان کے کام باہم مشورہ سے ہوتے ہیں اور جو ہم نے دیا ہے اسے خرچ کرتے ہیں۔“ اس آیت میں مسلمانوں کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، ان میں ایک وصف باہمی مشورہ بھی ہے یعنی کسی اہم معاملہ کو آپسی رایوں کے ذریعہ حل کیا جانا کامل اور پختہ ایمان مسلمانوں کی صفت ہے، اطاعت ِ خداوندی اور اقامت ِ صلوٰة کے بعد فوری طور پر مشورہ کے معاملہ کو بیان کرنے سے اس کی غیر معمولی اہمیت کا پتہ چلتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ صحابہٴ کرام اور بالخصوص خلفاءِ راشدین نے مشورہ کو اپنا معمول بنایا تھا۔
            اللہ تعالیٰ نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مشورہ کا حکم دیا تھا ارشاد ہے: ”وَشَاوِرْہُمْ فِیْ الْاَمْرِ۔“ (اٰل عمران: ۱۰۹) اے نبی! آپ معاملات اور متفرق امور میں صحابہٴ کرام سے مشورہ کیا کیجیے۔“ بظاہر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کی حاجت نہیں تھی؛ کیوں کہ آپ کے لیے وحی کا دروازہ کھلا ہوا تھا، آپ چاہتے تو وحی کے ذریعہ معلوم ہوسکتا تھا کہ کیا اور کس طرح کرنا چاہیے؟ اسی لیے مفسرینِ کرام نے یہاں بحث کی ہے کہ حکمِ مشورہ سے کیا مراد ہے۔ حضرت قتادہ، ربیع اوردوسرے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ صحابہٴ کرام کے اطمینانِ قلب اوران کو وقار بخشنے کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا؛ اس لیے کہ عرب میں مشورہ اور رائے طلبی باعثِ عزت و افتخار تھا۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں: فَقَالَتْ طَائِفَةٌ ذَلِکَ فِيْ مَکََائِدِ الْحُرُوْبِ وَ عِنْدَ لِقَاءِ الْعَدُوِّ وَ تَطَیُّباً لِنُفُوْسِھِمْ وَرَفْعاً لِأقدْارِھِمْ وَ جَألُّفًا عَلٰی دِیْنِہِمْ(قرطی۴/۱۶۱)
            حقیقت یہ ہے کہ وحی کے ذریعہ اگرچہ بہت سے امور میں آپ کی رہنمائی کردی جاتی تھی؛ مگر بعض حکمت ا ور مصالح کے پیش نظر چند امور کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے اور صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا، ان ہی مواقع میں آپ کو صحابہٴ کرام سے مشورہ کا حکم دیا گیا؛ تا کہ امت میں مشورہ کی سنت جاری ہوسکے اور لوگ یہ سمجھیں کہ جب نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکمل فہم و بصیرت ہونے کے باوجود مشورہ کا حکم دیا گیا تو پھر ہم اس کے زیادہ محتاج ا ور ضرورت مند ہیں؛ چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا:
            اَمَّا انَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ لَغَنِیَّا عَنْہَا وَلٰکِنْ جَعَلَہَا اللّٰہُ تَعالٰی رَحْمَةً لِأمَّتِيْ (الدرالمنثور: ۴/۳۵۹) یعنی یاد رکھو! کہ اللہ اور اس کے رسول مشورہ سے بالکل مستغنی ہیں؛ لیکن خدا تعالیٰ نے اس کو امت کے لیے رحمت کا سبب بنایا ہے۔ وَ اِنَّمَا أرَادَ أنْ یُعَلِّمَہُمْ مَّا فِی الْمُشَاوَرَةِ مِنَ الْفَضْلِ وَلِتَقْتَدِیْ بِہ أُمَّةٌ مِّنْ بَعْدِہ ”اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعہ مسلمانوں کو مشورہ کی فضیلت کا سبق سکھانے کا ارادہ کیا ہے؛ تا کہ آپ کے بعد آپ کی امت اس کی پیروی کریں“ (قرطبی:۲/۱۶۱)
             حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشورہ کرنے والا کسی کو نہیں پایا یعنی آپ ہر قابلِ غور معاملہ میں اپنے صحابہ سے مشورہ کر کے ہی کوئی فیصلہ فرماتے، مثلاً :بدر کی لڑائی سے فراغت ہوچکی تو آپ نے اسیرانِ جنگ ِ بدر کے بارے میں صحابہ سے مشورہ فرمایا کہ ان کو معاوضہ لے کر رہا کر دیا جائے یا قتل کیا جائے یا، مثلاً: غزوہٴ اُحد کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا مدینہ شہر کے اندر رہ کر مدافعت کی جائے یا شہر سے باہر نکل کر۔ عام طور سے صحابہ کرام کی رائے باہر نکلنے کی ہوئی تو آپ نے اس کو قبو ل فرمایا۔ غزوہٴ خندق میں ایک خاص معاہدہ پر صلح کرنے کا معاملہ درپیش ہوا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ کو مناسب نہیں سمجھا؛ اس لیے ان دونوں نے اختلاف کیا آپ نے ان دونوں کی رائے قبول کرلی، حدیبیہ کے ایک معاملہ میں مشورہ لیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے پر فیصلہ فرمادیا، قصہٴ اِفک میں صحابہٴ کرام سے مشورہ لیا، اسی طرح اذان کی بابت بھی اپنے صحابہ سے مشورہ کیا کہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حکمت کی بناء پر کسی خاص جانب رہنمائی نہ کی جاتی، ان میں صحابہٴ کرام سے آپ مشورہ فرماتے، اس میں ان لوگوں کے لیے جو مشورہ کو کھیل اور لغو کام سمجھتے ہیں یا جن کو مشورہ لینے میں عار اور خفت محسوس ہوتی ہے؛ حالانکہ مشورہ طلب کرنے میں ہی عزت ہے، مشورہ کرنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا، اگر کامیاب ہوجائے تو اس کی مدح کی جاتی ہے اور اگر مشورہ کے بعد بھی کامیابی نہ ملی تو اسے معذور سمجھا جاتا ہے؛ لیکن اگر مشورہ کیے بغیر کوئی کام کیا گیا اور کام نہیں بن سکا تو پھر اس کی ذلت ہی ذلت ہے، ہزار لوگ اس کو طعن و تشنیع کریں گے اور مختلف باتیں اس کو سننے کے لیے اس کو تیار رہنا ہوگا۔
            تخلیق آدم علیہ السلام کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے اس کا تذکرہ کیا تھا اور ان کی رائے معلوم کی تھی جس کی تفصیل (سورہ بقرہ آیت ۳۰) کے ذیل میں دیکھی جاسکتی ہے، اس سے در حقیقت فرشتوں سے مشورہ طلب کرنا مقصد نہیں تھا؛ بلکہ انسانوں کے دل و دماغ میں مشورہ کی اہمیت پیدا کرنا مقصد تھا کہ خالق کائنات کے اس عمل کو پوری کائنات میں طریقہ بنایا جائے؛ مگر افسوس ! کہ آج دیگر اعمالِ خیر کی طرح مشورہ کی سنت بھی ہماری زندگی اور معاشرہ سے رخصت ہوگئی جس کے بھیانک نتائج ہمارے سامنے ہیں، ساری محنتوں مشقتوں اور کوششوں کے باوجود نا کامی ہمارے حصہ میں ہے، ہر طرف انفرادی اور اجتماعی جگہوں میں خلفشار اور انتشار پایا جاتا ہے بسا اوقات نا کامی اور نقصان کے بعد مشورہ نہ کرنے پر افسوس بھی ہوتا ہے؛ مگر اب کیا حاصل؟ ضرورت ہے کہ اہم اور قابلِ غور مسائل میں کام کے آغاز سے پہلے ہی مشورہ کو اپنا معمول بنایا جائے؛ تا کہ محنتیں بار آور اور نتیجہ خیز ثابت ہوں، یقینا مشورہ میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت بھی ہے اور ہزار دینی و دنیوی فائدے بھی ، کاش! امت ِ مسلمہ کی زندگی اور معاشرہ میں مشورہ کی سنت جاری ہوجائے۔
مشورہ کے امور
            لیکن اب سوال یہ ہے کہ مشورہ کہاں اور کن چیزوں میں کیا جائے؟ اس سلسلہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ جن امور میں شریعت کا فیصلہ متعین ہے کہ یہ چیز فرض ہے یا واجب ہے یا حرام یا مکروہ ہے، ان امور میں مشورہ کی ضرورت نہیں؛ بلکہ جائز بھی نہیں ہے، جیسے کوئی شخص یہ مشورہ کرے کہ نماز پڑھے یا نہیں، زکوٰة دے یا نہیں، حج کرے یا نہیں، یہ چیزیں مشورہ کی نہیں ہیں، ان کے لیے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم متعین ہے کہ ان کا کرنا ہر حال میں ضروری ہے یا اسی طرح جن چیزوں کو شریعت نے منع کیا ہے، جیسے زناکاری، شراب نوشی، ڈاکہ زنی وغیرہ ان میں بھی مشورہ کی حاجت نہیں، ان سے تو بہرحال رکنا لازمی ہے؛ البتہ طریق کار کے بارے میں مشورہ کیا جاسکتا ہے، جیسے حج میں جانے کے لیے مختلف راستے ہیں، بعض پُراَمن ہیں اور بعض میں خطرہ ہے، تو اس موقع پر تجربہ کار افراد کی رائے معلوم کی جاسکتی ہے کہ ان مختلف راستوں میں اس کے لیے کون سا راستہ بہتر ہوگا، یا اسی طرح ایک شخص مریض ہے اس کو تردد ہے کہ مجھ کو اس حالت میں تیمم کی اجازت ہے یا نہیں، اس بارے میں اطباء یا تجربہ کاروں سے مشورہ کرسکتا ہے، اسی طرح وہ احکام ومسائل جن کے بارے میں قرآن و حدیث، اقوالِ صحابہ یا سلف کی کتابوں میں کوئی صراحت نہیں ہے، جدید اور نئے زمانہ سے ان کا تعلق ہے، ان میں مشورہ کرنا نہ صرف جائز؛ بلکہ اربابِ فقہ اور صاحب ِ نظر علمائے دین سے ان کے بارے میں پوچھنا اور حکم ِ شرعی معلوم کرنا واجب ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا حکم صراحتا ً قرآن میں نازل نہیں ہوا اور آپ سے بھی اس کے متعلق کوئی ارشاد ہم نے نہ سنا ہو تو ہم کیا کریں؟ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسے کام کے لیے اپنے لوگوں میں سے عبادت گزار فقہا کو جمع کرو اور ان کے مشورہ سے اس کا فیصلہ کرو، کسی کی تنہا رائے سے فیصلہ نہ کرو۔ (معارف القرآن: ۲/۲۲۰)
            دینی امور کے علاوہ معاشی، معاشرتی، سماجی، انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پیش آنے والے معاملات میں بھی مشورہ کو اپنانا چاہیے، جہاں شریعت، عقل و عادت کے اعتبار سے کوئی جانب متعین ہو اور نہ ہی اس کا نافع ہونا یقینی ہو، امورِ طبعیہ جیسے بھوک اور پیاس کے وقت روٹی کھانا یا پانی پینا، اس میں مشورہ کرنے اور کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھے بھوک لگی ہے کھانا کھانا چاہیے یا نہیں؟ عام حالات میں یہ سوال حماقت ہے، ہاں بیماری کے وقت یا اس کے ذرائع اور طرق یا مختلف اغذیہ اور اشربہ میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے میں اگر کسی کے اندر خطرہ کا احتمال ہو تو مشورہ کرنا مستحسن یا ضروری ہوگا۔ یہاں اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشورہ کی ترغیب اور ہدایت تو دی ہے؛ مگر اپنی رحمت ِ عامہ کی بناء پر چند مخصوص جگہوں کے علاوہ انسان کو مقید نہیں کیا کہ کوئی معاملہ بلامشورہ کر ہی نہ سکے، بسااوقات اہم معاملات پیش آتے ہیں اور ایک تجربہ کار انسان کو اس کے انتظام و انصرام اور حل کا طریقہ معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ کسی صاحب ِ عقل و دانش سے مشورہ کرے گا تو اس کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں بتلا سکتا، اس حالت میں اگر وہ بلامشورہ کام کربیٹھے تو کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح معاملات کی نوعیت اور منافع و خطرات کی عظمت و وقعت اور قوت و ضعف کے اعتبار سے مشورہ کے حکم ِ استحسان میں فرق ہوجائے گا، بعض مواقع میں مشورہ نہایت اہم اور ضروری ہوگا اور بعض جگہ درجہٴ استحسان میں رہے گا۔ بہرحال وہ امور جن میں کوئی جانب شرعاً، عقلاً، عرفاً، عادتاً معین نہیں اور جن کے مختلف جوانب میں خطرات و منافع کا احتمال ہے، یعنی نتائج مبہم اور مخفی ہوں، ان میں مشورہ کو اپنا معمول بنانا چاہیے۔ اس میں اتباعِ سنت کے علاوہ ہزار فوائد ہیں، اہلِ علم اور مشورہ کے پابند حضرات اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔
مشورہ کن سے کیا جائے؟
            مشورہ ہمیشہ ایسے شخص سے کرنا چاہیے جس کو متعلقہ معاملے میں پوری بصیرت اور تجربہ حاصل ہو؛ چنانچہ دینی معاملات میں ماہر اور صاحب ِ نظر عالم ِ دین سے مشورہ کرنا چاہیے اور کسی بیماری اور جسمانی صحت کے بارے میں کسی اچھے ڈاکٹر کا انتخاب ہی مفید ہوگا۔ غرض جس طرح کا معاملہ ہے، اسی فن کے ماہرین اور تجربہ کار کا انتخاب کیا جائے؛ کیوں کہ تجربہ کے بغیر صرف عقل کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتی، گویا مشورہ لینے کے لیے عقل اور تجربہ دونوں کا بیک وقت موجود ہونا نہایت ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے بغیر صحیح رہنمائی نہیں مل سکتی۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: اِسْتَشِیْرُوْا ذَوِيِ الْعُقُوْلِ تُرْشَدُوا وَ لَاتَعْصَوْہُمْ فَتَنْدَمُوا۔ (مسند ِ شہاب: ۶۷۳) ”عقلمندوں سے مشورہ کرو، کامیابی ملے گی اور ان کی مخالفت نہ کرو ورنہ شرمندگی ہوگی۔“ حضرت عبداللہ بن الحسن نے اپنے صاحبزادہ محمد بن عبداللہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: ”جاہل کے مشورہ سے بچو اگرچہ کہ وہ خیرخواہ ہو جیسا کہ عقلمند کی دشمنی سے بچتے ہو۔“ (المدخل: ۴/۲۹)
            کسی میں اگر عقل اور تجربہ نہیں ہے تو وہ مشورہ کا اہل بھی نہیں ہے، اگر اس سے مشورہ کیا جائے تو پہلے وہ مشورہ ہی کیا دے گا اور اگر مشورہ دے گا بھی تو اس مشورے سے کیا فائدہ؛ اس لیے مشورہ کے لیے عقلمند، ماہر اور تجربہ کار ہونے کی شرط لگائی گئی ہے۔ اسلام کی شورائیت اور موجودہ جمہوریت میں یہی بڑا فرق ہے کہ شورائیت کا تعلق اہلیت سے ہے اور جمہوریت کا اکثریت سے، جس پارٹی کو اکثر لوگوں نے منتخب کرلیا وہی حکمرانی کا حق دار ہے، چاہے ووٹ دینے والے پاگل اور دیوانہ ہی کیوں نہ ہوں، یہی وجہ ہے کہ جُمہوری نظام ایک تباہ کن نظام ہے، عقل و خرد سے اس نظام کا کوئی واسطہ نہیں ہے، اسلام نے اپنا نظام شورائیت پر رکھا ہے، یعنی ماہرین، تجربہ کار اور عقلمندوں کے مشورے سے کوئی فیصلہ صادر کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضراتِ شیخین، صدیق اکبر اور فاروقِ اعظم کی رائے کو جمہور صحابہ پر فوقیت دیتے اور آپ ان دونوں حضرات سے مخاطب ہوکر فرماتے:لَوِاجْتَمَعْتُمَا فِیْ مَشْوَرَةٍ مَاخَالَفْتُکُمَا۔ ”جب تم دونوں کسی رائے پر متفق ہوجاوٴ تو میں تم دونوں کے خلاف نہیں کرتا۔“ (مسند ِ احمد) معلوم ہوا کہ محض کثرت کا شریعت ِ اسلامی میں کوئی اعتبار نہیں، قوتِ عقل و بصیرت اہم چیز ہے۔
            اسی طرح مشورہ کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے جو متقی اور دیندار ہو، جس میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور عنداللہ جواب دہی کا احساس نہ ہو، اس کے مشورہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، پتہ نہیں اس نے صحیح مشورہ دیا ہے یا نہیں، ممکن ہے کہ اس کے نزدیک دوسری رائے بہتر ہو اور محض نقصان پہنچانے کے لیے اس کو یہ رائے دی ہو؛ تاکہ مشورہ کرنے والے کو نقصان اور پریشانی میں دیکھ کر ہنسنے اور مذاق کا موقع مل سکے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پرانے زمانے کا کوئی بغض دل میں چھپا ہوتا ہے اور وہ موقع کی تاک میں رہتا ہے، غلط مشورہ دے کر نقصان پہنچانے میں وہی بدلے کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے؛ لیکن جب آدمی میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا تو اس طرح کے احتمالات اور امکان سے دل مطمئن ہوگا، اسی لیے اہل علم نے لکھا ہے کہ مشورہ دینے والے کو دیکھنا چاہیے کہ اس میں ہمدردی کا جذبہ ہے یا نہیں، اگر ہمدردی کا داعیہ نہیں بالخصوص مشورہ لینے والے کے حق میں مشیر کا دل حسد و کینہ اور بدخواہی سے پُر ہو تو اس سے مشورہ ہرگز نہیں لینا چاہیے، اس کا مشورہ سم ِ قاتل سے کم نہیں ہوگا۔
            مشورہ لینے کے لیے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ مشیر فکر و نظر کے اعتبار سے صالح ہے یا نہیں، جذباتی انسان کا مشورہ معتبر نہیں ہوسکتا ہے؛ اس لیے کہ ایسے شخص کا مشورہ اس امکان سے خالی نہیں کہ غیظ و غضب میں مبتلا ہوکر یا جذبات کے رَو میں بہہ کر اس نے یہ رائے دی ہو، اسی طرح جس کا قلب ایسے ہجوم و افکار سے خالی نہ ہو جن کی وجہ سے دماغ پریشان اور قلب مشغول ہوجاتا ہے، ان سے بھی مشورہ طلب نہیں کرنا چاہیے؛ اس لیے کہ وہ اس پوزیشن میں ہے کہ اپنی پوری عقل لڑاکر اس کی تمام جہتوں پر غور کرسکتا ہے اور نہ ہی مستشیر کی رہبری کرسکتا ہے۔
            جس کا مفاد وابستہ ہو اس سے بھی مشورہ نہ کیا جائے، جیسے کسی دکاندار سے کسی چیز کے خریدنے کے بارے میں اگر پوچھا جائے گا تو وہ اس کی بہت ساری خوبیاں بیان کردے گا؛ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اس سامان کے فروخت ہونے میں اس کے منافع پوشیدہ ہیں؛ اس لیے اس سامان کے کمزور پہلووٴں کو وہ پردہٴ راز میں رکھتا ہے۔ مشورہ لینے والے کو چاہیے کہ سوچ سمجھ کر مشیر کا انتخاب کرے، ورنہ مشورہ سے فائدہ کے بجائے نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مشیر کے فرائض
            (۱) جس معاملہ میں اس سے مشورہ لیا جارہا ہے ، اگر اس میں مکمل بصیرت ہو تو مشورہ دے، ورنہ صاف کہہ دے کہ مجھے اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے ؛ اس لیے میں مشورہ کا اہل نہیں ہوں ، یہ کوئی ہتک اور بے عزتی کی بات نہیں؛ بلکہ اس کے اخلاص اور جذبہٴ ہمدردی کی بنیاد پر اجر وثواب کا مستحق ہوگا ، مشورہ لینے والے کا بھی اعتماد بڑھ جائے گا اور اسے یقین ہوجائے گا کہ یہ میرے حق میں مخلص ہے ، آج کل لوگوں کا یہ مزاج ہے کہ کچھ آئے یا نہ آئے مشورہ لیتے وقت ضرور کچھ نہ کچھ جواب اور مشورہ دے دیتے ہیں ، یہ دیانت کے خلاف ہے۔
            (۲) غور و فکر کے بعد مشیر کا ذہن جس طرف مائل ہورہا ہے ، کسی رعایت کے بغیر صاف طور پر اس کا اظہار کردے ، یعنی مشیر کا ایک اہم فریضہ یہ بھی ہے کہ اسے اپنے بھائی کا حق سمجھتے ہوئے صحیح مشورہ دے ، رسولِ اکرم ا نے جان بوجھ کر کسی کے معاملہ کو بگاڑنے کے لیے یا کسی کا نقصان کرانے کے لیے مشورہ دینے کو خیانت اور گناہ قرار دیا ہے ارشاد ہے : ”مَنِ اسْتَشَارَ أخَاہُ فَأشَارَہ عَلَیْہِ بِأمْرِہ وَہُوَ یَرَیٰ الرُّشْدَ غَیْرَ ذٰلِکَ فَقَدْ خَانَہ “ (مسند احمد) ” جس نے اپنے بھائی سے مشورہ کیا اور اس نے اسے کوئی ایسا مشورہ دیا جس کے علاوہ میں وہ کامیابی سمجھتا ہو تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔ “ مشورہ دینے میں اس بات کی ہرگز پرواہ نہ کرے کہ اگر میں اس کو یہ مشورہ دوں گا تو شاید اس کا دل ٹوٹ جائے گا ، یہ مجھ سے ناراض اور رنجیدہ ہوجائے گا ۔ کیوں کہ مشورہ طلب کرنے کے بعد اس کی گنجائش نہیں رہتی کہ خوش کرنے کے لیے غلط اور خلافِ حقیقت رائے دی جائے ، کسی انسان کی نہیں؛ بلکہ اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کا خیال رکھے اور جو مشورہ ذہن میں آئے دو ٹوک انداز میں بیان کردے ۔ اس کے ذیل میں علماء اور فقہاء نے اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ صحیح مشورہ دینے میں اگر کسی کی غیبت بھی ہورہی ہو تو بھی صحیح بات بتائے ، شرعاً ان مواقع میں غیبت معاف ہے ۔ مثلاً رشتہ کے لیے کسی لڑکی یا لڑکے کے بارے میں سوال کیا جائے ، اگر اس میں کوئی عیب ہے اور آپ کو معلوم ہے تو مشورہ لینے والے کو ضرور مطلع کردینا چاہیے اور اس موقع پر اظہارِ عیب معاف ہے؛ کیوں کہ یہاں کسی کی زندگی کے بننے اور بگڑنے کا مسئلہ ہے ۔
            (۳) مشورہ دینے والے کی ذمہ داری ہے کہ جس معاملہ میں مشورہ لیا گیا ہے ، اس کو راز میں رکھے ، لوگوں کے سامنے اس کو ظاہر نہ کرے ، جیسے کسی نے اپنی بیوی کے کسی معاملہ کے بارے میں مشورہ کیا یا لڑکی اور لڑکے کے رشتہ یا کسی اور معاملہ میں رائے معلوم کی تو گویا یہ مشیر اور مستشیر کے درمیان ایک راز کی بات ہوگی ، ہوسکتا ہے کہ مشورہ لینے والا چاہتا ہو کہ اس کی یہ باتیں مشیر کے علاوہ دوسروں تک نہ پہنچے ، دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے یقینا اس کو تکلیف پہنچے گی اور یہ خیانت کا معاملہ ہوگا ، رسولِ اکرم ا نے ارشاد فرمایا ”اَلْمُسْتَشَارُ مُوٴتَمِنٌ “ ( ترمذی ) یعنی جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے وہ امانت دار ہوتا ہے ، اسے امانت داری کا پورا حق ادا کرنا چاہیے۔ آج کل دیگر خرابیوں کے ساتھ ایک خرابی یہ بھی ہے کہ کسی کے راز کو راز نہیں سمجھا جاتا ، کسی کے بارے میں کوئی چیز معلوم ہوتی ہے تو فوراً اسے عام کرنے کی فکر ہوجاتی ہے اور پھر اس کے نتیجے میں جھگڑے، فسادات دشمنیاں اور ناچاقیاں پھیلتی ہیں ، ضرورت ہے کہ دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کیا جائے اور اتحاد و یگانگت کا ماحول بنایا جائے ۔
            (۴) مشیر کا کام ہے صرف مشورہ دینا ، اصرار یا رائے تھوپنے کا مزاج درست نہیں ہے، مشورہ لینے والے کا مقصد ہوتا ہے کہ مختلف جہتوں سے معاملہ کو پہچانا اور جانا جائے پھر غور و فکر کے بعد کسی ایک پہلو کو اختیار کیا جائے ، ظاہر ہے کہ مشورہ طلب کرنے والا مشورہ میں شریک تمام افراد کی رایوں اور خیالات پر عمل نہیں کرسکتا ، وہ صرف اپنے ذاتی حالات کے اعتبار سے صرف کسی ایک کی رائے کو پسند کرسکتا ہے؛ اس لیے اگر کسی کے مشورہ پر عمل نہ کیا جائے تو اس سے دل گیر اور رنجیدہ نہیں ہونا چاہیے ، خوش دلی اور خندہ پیشانی سے مشورہ کرنے والے کے فیصلہ پر رضامندی کا اظہار کیا جائے ، حضرت بریرہ کا نکاح حضرت مغیث سے ہوا تھا ، حضرت بریرہ پہلے باندی تھیں ، جب وہ آزاد کی گئیں تو رسولِ اکرم ا نے شریعت کا حکم سنایا کہ تمہیں اختیار ہے چاہو تو اپنے شوہر کے نکاح میں رہو اور چاہو تو علاحدگی اختیار کرلو ، حضرت بریرہ شوہر سے خوش نہیں تھیں؛ اس لیے انہوں نے علاحدگی کا ارادہ کرلیا ، ان کے شوہر حضرت مغیث کو ان سے کافی محبت تھی ، وہ چاہتے تھے کہ بریرہ علاحدگی اختیار نہ کریں ، حضرت مغیث نے بہت کوشش کی؛ مگر وہ تیار نہ ہوئیں ، بالآخر نبیِ کریم ا سے حضرت مغیث نے سفارش کرائی ، حضرت بریرہ نے سوال کیا یا رسول اللہ ! یہ آپ کا مشورہ ہے یا حکم ہے ؟ اگر حکم ہے تو سرتابی کی مجھے جرأت نہیں ، آپ ا نے فرمایا کہ یہ حکم نہیں مشورہ ہے ، حضرت بریرہنے عرض کیا پھر تو میں آزاد ہوں کہ اس مشورہ کو قبول کروں یا نہ کروں ، میری زندگی ان کے ساتھ گزرنی مشکل ہے؛ اس لیے میں ان سے علاحدگی اختیار کرتی ہوں آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے ۔ (مشکوٰة: ۲۷۶)
            حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ صائب الرائے کون ہوسکتا ہے؛ لیکن چوں کہ مشورہ تھا؛ اس لیے حضرت بریرہ کے نہ ماننے پر آپ نے کسی طرح ناراضگی ظاہر نہیں کی، موجودہ دور کے لیے یہ حدیث بڑی سبق آموز ہے ، ذاتی رائے کو عام لوگوں پر مسلط کرنے کا مزاج عام ہوگیا ہے، جس کے سبب بدنظمی اور بدعنوانی کا ہر طرف ایک سیلاب ہے۔ اپنی رائے کو محض ایک معمولی رائے سمجھنا چاہیے، نہ کہ قولی فیصلہ؛ تاکہ مشورہ کاحقیقی فائدہ حاصل ہوسکے ۔
مشورہ میں عمر کی قید نہیں
            ہر وہ شخص جس میں مشورہ کی اہلیت پائی جاتی ہو ، یعنی عقلمند تجربہ کار اور متقی وغیرہ ہو تو اس سے مشورہ لیا جاسکتا ہے خواہ عمر کم ہو یا زیادہ ، مشورہ کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے ، سیدنا حضرت عمر بن الخطاب بعض وقت حضرت عبد اللہ بن عباسکی رائے پر فیصلہ نافذ فرماتے تھے ، حالانکہ مجلس میں اکثر ایسے صحابہ موجود ہوتے تھے جو حضرت عبد اللہ بن عباس سے عمر، علم اور تعداد میں زیادہ ہوتے تھے ، معلوم ہوا کہ چھوٹوں سے مشورہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہاں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اگر مشورہ کی اہلیت رکھنے والے ضابطے کے بڑے موجود نہ ہوں تو اپنے اہل و عیال جن پر اعتماد ہو ان سے کم سے کم مشورہ ضرور کرلینا چاہیے ، انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ غیب سے مشورہ کی برکت سے ضرور کوئی راستہ نکالے گا ، صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کہ مسلمان عمرہ کرنے سے روک دیے گئے تھے ، حضورِ اکرم ا نے صحابہٴ کرام سے اسی مقام پر احرام کھولنے کا حکم دیا، مگر صحابہٴ کرام پس و پیش کررہے تھے ، آپ ا نے امّ المومنین حضرت امّ سلمہ سے مشورہ کیا ، انہوں نے فرمایا : یارسول اللہ ! یہ حضراتِ صحابہ جذبات اور جوش کے عالم میں مغلوب ہیں ، اس لیے ان کے طرزِ عمل کا کچھ خیال نہ کیجیے اور آپ خود پہلے اپنا احرام کھول لیجیے ، یہ مشورہ کامیاب ہوا، صحابہٴ کرام نے آپ کی اتباع میں احرام کھول دیا ۔ حضرت امّ ِ سلمہٴ آپ سے عمر میں چھوٹی اور بیوی تھیں پھر بھی ضرورت پڑنے پر آپ نے ان سے مشورہ کیا ۔
اگر مشورہ میں اختلاف ہوجائے
            کچھ لوگ اپنی عقل و دانش اور تجربہ و فن کے اعتبار سے ایک کام کو بہتر سمجھتے ہوں اور مشورہ میں شریک دوسرے افراد اس کو بہتر نہیں سمجھتے ہوں یا اس طرح کا اور کوئی اختلاف ہوجائے تو وہاں دیکھنا چاہیے کہ کون سی رائے قرآن و سنت کے مطابق یا قریب تر ہے، اس پر عمل کرلیا جائے ، اقلیت یا اکثریت کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں ، افراد کی کمی اور زیادتی پر نظر نہ رکھی جائے ، علامہ قرطبی لکھتے ہیں۔ ”وَالشُّوْریٰ مَبْنِیَّةٌ عَلٰی اخْتِلاَفِ الآرَاءِ وَالْمُسْتَشِیْرُ یَنْظُرُ فِیْ ذٰلِکَ الْخِلاَفِ وَیَنْظُرُ أَقْرَبَہَا قَوْلاً الٰی الْکِتَابِ وَالسُّنَّةِ انْ أمْکَنَہ فَاِذَا أرْشَدَہُ اللّٰہُ تعالٰی الٰی مَا شَاءَ مِنْہُ عَزَمَ عَلَیْہِ۔“ (قرطبی: ۴/۱۶۲)
مانگے بغیر مشورہ دینا
            مشورہ طلب کیے بغیر از خود مشورہ دینا بہتر نہیں ہے، طرفہ کہتا ہے : نا اہل کے لیے اپنی ہمدردی خرچ مت کر جو شخص تیری رائے سے استغناء کرے تو اس سے بے پرواہ ہوجا! ( اسلام میں مشورہ کی اہمیت صفحہ ۱۰۷)؛ البتہ اگر مشیر یہ سمجھے کہ کوئی شخص غلط راہ پر چلنے سے ہلاکت میں پڑسکتا ہے اور اس کو یقین ہے کہ اگر میں نے سکوت اختیار کیا تو وہ تباہ و برباد ہوجائے گاتو اس وقت از خود بڑھ کر اظہارِ رائے کرنا اور صحیح راستہ بتانا ضروری ہوجاتا ہے ، جیسے ولایت و حکومت کی خواہش ممنوع ہے؛ مگر سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کی حکومت طلب کی تھی؛ اس لیے کہ وہاں اصلاح اسی طریق سے ممکن تھی ۔
اللہ پر توکل
            اللہ تعالیٰ نے مشورہ کا حکم دیا ، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا کہ مشورہ کے بعد جس پہلو کو بھی اختیار کیا جائے، اس کے بارے میں اللہ پر توکل اور اعتماد رکھنا چاہیے؛ کیوں کہ مشورہ کا تعلق تدبیر سے ہے اور تدبیر پرتقدیر ہمیشہ غالب آتی ہے ، اصحابِ عقل اور اربابِ نظر و ماہرینِ فن کی رائے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ درست اور مثمر و منتج بھی ہو ، سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے قبضہٴ قدرت میں ہیں؛ اس لیے ایک مسلمان کا کام ہے کہ مشورہ لینے کے بعد اس پر عمل کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین اور اعتماد رکھے۔
%%%
==========================


اسلام اور مذہبی رواداری




اسلام نام ہے زندگی گزارنے کے اس طریقہ کاجو آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی انبیاء کرام علیہم السلام کا تھا،اور بعد میں آنے والی تمام انسانیت کا رہے گا،اسی طریقہ کی تبلیغ و اشاعت کے لیے دنیا میں نبیوں کا طویل سلسلہ قائم کیا گیا:
          شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہ نُوْحًا وَّالَّذِیْ أوْحَیْنَا الَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہ ابْرَاہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسیٰ أنْ أقِیْمُوْا الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہ
          ترجمہ: اللہ تعالی نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا حکم نوح کو دیا گیا،اور جس کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کی گئی،اور جس کا حکم موسی اور عیسی کو دیا کہ دین کو قائم کرو اور اس میں اختلاف برپا مت کرو۔(شوری:۱۳)
          ایسا دین جو ہمیشہ سے سارے انبیائے کرام کا ہے اور جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے،اسی کا نام اسلام ہے:
          اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاسْلَام (آل عمران:۱۹)
          ترجمہ: اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔
          ایسے عمومی دین میں زور زبر دستی کی گنجائش نہیں، ہر پسند اور کامیاب طریقہ کے انتخاب میں لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے؛ تاکہ اندازہ ہو کہ کون صحیح راستہ اختیار کرتا ہے اور کون غلط۔
          قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُوْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ، انَّا اَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِیْنَ نَارًا(الکہف:۲۹)
          ترجمہ: اے نبی آپ کہہ دیجیے یہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے،اب جس کا جی چا ہے مان لے جس کا جی چاہے انکار کر دے،ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے۔
مذہبی تعصب اور اسلام
          اسلام اپنے افکارونظریات کو بہ زور طاقت مسلط کرنے اور اپنے مذہب و تہذیب میں دوسروں کوضم کرنے کی کوشش کرنے سے منع کرتا ہے،ارشاد خداوندی ہے :
          لاَ اکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُوٴْمِنْ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَیٰ لاَانْفِصَامَ لَہَا(البقرہ:۲۵۶)
          ترجمہ: دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ہے،سرکشی کے معاملہ میں ہدایت واضح ہو چکی ہے، جو معبودانِ باطل کا منکر اور اللہ پر ایمان رکھتا ہو،اس نے مضبوط سہارا تھام لیا،جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔
          دیگر مذہبی شعائر کو برا بھلا کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے؛
          وَلاَ تَسُبُّو الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْم(انعام:۱۰۸)
          ترجمہ:اللہ کے علاوہ جن معبود کو یہ لوگ پکارتے ہیں،انھیں گالیاں مت دو،کہیں ایسا نہ ہو کہ جہالت کی بنیاد پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ , فَأَكْرِمُوهُ " .
جب تمہارے پاس کسی قوم کا رئیس ائے تو اس کا اکرام (عزت ومہربانی) کرو۔

          ہر انسان کو خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہواپنی اپنی عبادت گاہوں سے والہانہ عقیدت ہوتی ہے،ان کے مسمار کر دینے سے ان فسادیوں کے تئیں اس کے دل میں نفرت و عداوت کا شعلہ بھڑکتا رہتا ہے، جب بھی اسے موقع ملتا ہے اس کے جذبات مشتعل ہوجاتے ہیں اور وہ تشددو فساد پر ا ترآتا ہے،جس سے پورا شہر اور ملک دہشت و فساد کا شکار ہوجاتا ہے۔
          خلیفہٴ اول حضرت ابو بکر صدیق نے کفار کے مذہبی معاملات کے تعلق سے جو معاہدہ لکھا، اس کے الفاظ اس طرح ہیں:
          لاَیُہْدَمُ لَہُمْ بِیْعَةٌ وَلاَ کَنِیْسَةٌ وَلاَ قَصْرٌ مِنْ قُصُوْرِہِمْ الَّتِي کَانُوْا یَتَحَصَّنُوْنَ اذَا نَزَلَ بِہِمْ عَدُوٌّ لَہُمْ وََلَا یُمْنَعُوْنَ مِنْ ضَرْبِ النَّوَاقِیْسِ وَلاَ مِنْ اخْرَاجِ الصُّلْبَانِ فِیْ عِیْدِہِمْ
          ان کے چرچ اور کنیسے منہدم نہیں کیے جائیں گے،اور نہ کوئی ایسی عمارت گرائی جائے گی جس میں وہ ضرورت کے وقت دشمنوں کے حملہ میں قلعہ بند ہو تے ہیں،ناقوس اور گھنٹیاں بجانے کی ممانعت نہیں ہوگی،اور نہ تہواروں کے موقعوں پر صلیب نکالنے سے روکے جائیں گے، (کتاب الخراج لابی یوسف،ص:۱۷۲)
          حضرت عمر نے غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت کے لیے جو معاہدہ تحریر فرمایا، اس کے بعض اجزا اس طرح ہیں:
          ”یہ امان ہے جو اللہ کے غلام امیر المومنین عمرنے اہلِ ایلیا کو دی،یہ امان جان و مال، گرجا، صلیب،تندرست و بیمار اوران کے تمام اہلِ مذہب کے لیے ہے،نہ ان کے گرجا میں سکونت اختیار کی جائے گی،نہ وہ ڈھائے جائیں گے،نہ ان کے احاطے کو نقصان پہنچایا جائے گا، نہ ان کے صلیبوں اور ان کے مال میں کمی کی جائے گی،مذہب کے بارے میں ان پر کوئی جبر نہیں کیا جائے گا،نہ ان میں سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔“(الفاروق،ج:۲،ص:۱۳۷)
          حضرت عثمان نے ان تمام معاہدوں کو اسی طرح باقی رکھا جس طرح عہدِ رسالت،حضرت ابو بکراور حضرت عمر کے عہد میں تھے۔
          ایک مرتبہ غیر مسلموں کی شکایت پر آپ نے اپنے گورنرولید بن عتبہ کوایک تادیبی خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا:
          ”عراق میں مقیم نجران کے باشندوں کے سردار نے آکر میرے پاس شکایت کی ہے اور مجھے وہ شرط دکھائی ہے جو عمر نے ان کے ساتھ طے کی تھی، میں نے ان کے جزیہ میں سے تیس جوڑوں کی تخفیف کر دی ہے،انھیں میں نے اللہ جَلَّ شَانُہ کی راہ میں بخش دیا ہے،اور وہ ساری زمین دے دی جو عمر نے انھیں یمنی زمین کے عوض صدقہ کی تھی،اب تم ان کے ساتھ بھلائی کرو؛ کیوں کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنھیں ذمہ حاصل ہے،عمر نے ان کے لیے جو صحیفہ تیار کیا تھا، اسے غور سے دیکھ لو،اور اس میں جو کچھ درج ہے وہ پورا کرو“!( کتاب الخراج، اردو ترجمہ::۲۷۶)
          کچھ غیر مسلموں نے حضرت علی سے ان کے گورنر عمرو بن مسلمہ کی سخت مزاجی کی شکایت کی تو حضرت علی نے گورنر کو لکھا :
          ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے علاقہ کے غیر مسلموں کو تمہاری سخت مزاجی کی شکایت ہے،اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے،نرمی اور سختی دونوں سے کام لو؛لیکن سختی ظلم کی حد تک نہ پہنچ جائے․․․․ان کے خون سے اپنا دامن محفوظ رکھو“!
          اسلام تمام انسانوں کے مذہبی معاملات کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحیح رہنمائی اور خدائی نظام کی دعوت دینے کا حکم بھی دیتا ہے؛ تا کہ انسان کو دنیا میں امن و سکون حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی پر سکون زندگی نصیب ہو۔
 دشمنوں کے ساتھ عفو ودر گزر کا معاملہ
           دنیا کے ذخیرئہ اخلاق میں مذہبی رواداری کے تعلق سے یہ بات نادر الوجود ہے کہ اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب نے دشمنوں، بطور خاص مذہب و عقیدہ کی بنیاد پر جانی دشمنوں کے ساتھ عفو و درگزرکے برتاؤ کو لازمی قرار دیا ہو، اسلامی تعلیما ت میں اس طرح کے ہزاروں عملی ثبوت تاریخ کے صفحات پہ جلی قلم سے ثبت ہیں۔
          قرآن مجید میں ارشاد ہے:
          اِدْفَعْ بِالتِي ہِيَ أحْسَنُ فَاذَ الَّذِيْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہ وَلِيٌّ حَمِیْم․(حمٓ السجدہ:۳۴)
          ترجمہ: تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی، وہ جگری دوست بن گیاہے۔
          آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ان تعلیمات کا مطالعہ کیجیے جو صحیح ترین سندوں کے ساتھ ہم تک پہونچی ہیں،اندازہ ہو گا کہ دشمنوں کے ساتھ عفوو درگزر ،ہمدردی و غمخواری،اور حسن سلوک کی جو مثالیں پیش کی ہیں، معلوم دنیا کی تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتیں،نمونہ کے لیے چند واقعات اختصار کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں:
          اللہ کے رسول… نے اپنے سخت ترین دشمنوں کے ساتھ بھی کبھی انتقام کا معاملہ نہیں کیا۔
          اہلِ مکہ نے اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ جو ظلم اور زیادتیاں کی ہیں،وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں متعدد مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قاتلانہ حملہ کیا گیا،ایک مرتبہ تمام قبائل کے افراد آپ… کو قتل کرنے کے لیے گھر میں گھس آئے،بالآخر آپ کو اپنے محبوب شہراور خانہ کعبہ کو الوداع کہنا پڑا؛لیکن ۹سال بعد جب اسی شہر مکہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبضہ ہو گیا،اور سامنے وہی ظالم و جابر اب بھی موجود تھے جنہوں نے اسی شہر میں آپ… کو پورے خاندان سمیت شعب ابی طالب کی گھاٹیوں میں محصور کر کے مکمل بائیکاٹ کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں پوری توانائی صرف کر دی تھی،جب آپ… اسی شہر مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے،لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ محمد پرانے مظالم کا بدلہ لیں گے؛لیکن ہادئیِ برحق نے ان کے توقع کے خلاف یہ اعلان کردیا:
          لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ؛ اِذْہَبُوْا فَأنْتُمُ الطُّلَقَاءُ
          ترجمہ:آج تم پر کوئی الزام نہیں،اللہ تمہاری غلطی کو معاف کرے گا،جاؤ تم سب آزادہو۔ (ابن ہشام،ج:۲ص:۲۷۳)
          وحشی  جورسول اللہ کے عزیز ترین چچا کا قاتل،ہند زوجہٴ ابو سفیان جس نے حضرت حمزہ کا سینہ چاک کر کے دل و جگرکوچبایا تھا، سب کو معاف کردیا۔(بخاری، کتاب المغازی،باب قتل حمزہ،بخاری کتاب الفضائل،ذکر ھند)
          حضرت عکرمہ جو اسلام کے شدید ترین دشمن ابو جہل کے بیٹے ہیں،اسلام لانے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی رکھنے میں ابو جہل سے کم نہ تھے؛لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اللہ کے رسول… نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا ۔(موطا امام مالک ،کتاب النکاح،باب نکاح المشرک)
           اور دوسری روایت میں وارد ہے کہ ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پہ یہ کلمات جاری تھے:
          مَرْحَبًا بِالرَّاکِبِ الْمُہَاجِرِ․ اے ہجرت کرنے والے سوار خوش آمدید۔(مشکوٰة کتاب الادب،باب المصافحة والمعانقہ،بحوالہ ترمذی)
          عمروبن وہب جس کو صفوان بن امیہ نے رسول اللہ… کے قتل پرمامور کیا تھا،فتح مکہ کے روز ڈر کے مارے جدہ بھاگ گئے ،صفوان بن امیہ ہی کے کہنے پر،ان کو واپس بلا کر معافیِ عام میں شامل کیاگیا۔( سیرت ابن ہشام،ج:۲ص:۲۷۶)
          ہباربن الاسود جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب کو جب وہ حاملہ تھیں،جان بوجھ کر دشمنی کی وجہ سے اونٹ سے گرا یا،جس سے ان کو سخت اذیت پہنچی اور حمل ضائع ہو گیا، فتح مکہ کے روز جب ہبار قبضہ میں آئے تو ان کو بھی معاف کر دیا گیا۔( اصابہ،ذکر ھبار بن الاسود،ج:۶ص:۲۷۹)
          ابو سفیان جو دشمنانِ اسلام کے سردار تھے،فتحِ مکہ کے روز ان کو صرف معاف ہی نہیں کیا گیا؛ بلکہ یہ اعلان کردیاگیا کہ جو کوئی ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کا قصور بھی معاف ہو جائے گا۔ (بخاری ومسلم،فتح مکة)
          رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اشعث بن قیس مرتدین کے ساتھ ہوگئے تھے، وہ جب گرفتار کر کے حضرت ابو بکرصدیق کے سامنے حاضر کیے گئے، تو اشعث نے توبہ کر لی،حضرت ابوبکرصدیق نے ان کو معاف کر دیا۔(خلفائے راشدین ص:۵۷،یعقوبی ج:۲،ص۱۴۹)
اسلام اور انسانی برادری
          اسلام نے بلا تفریق مذہب وملت انسانی برادری کا وہ نقشہ کھینچا ہے، جس پر سچائی سے عمل کرلیا جائے تو یہ شر وفساد ،ظلم و جبر اور بے پناہ انارکی سے بھری ہوئی دنیاجنت نشان بن جائے،محض انسانیت کی بنیاد پر تعلق و محبت کی جو مثال اسلام نے قائم کی ہے د نیا کی کسی تعلیم،کسی مذہب اور کسی مفکر کی وہاں تک رسائی نہ ہو سکی۔آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
          ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو،سب مل کر خدا کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ،اور ایک روایت میں ہے کہ ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو۔(بخاری کتاب الادب)
          ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:
          جورحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔(ایضاً)
          تم زمین والوں پہ رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کریگا۔(حاکم مستدرک ،کتاب البر والصلة)
          اسلام کی دی ہوئی رافت ورحمت کی تعلیم میں انسان کے ساتھ جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، اللہ کے رسول کا ارشاد ہے:
          جو انسان کوئی درخت لگائے گا اس میں سے جو انسان یا پرندہ بھی کھائے گا،اس کا ثواب اس لگانے والے کو ملے گا۔(بخاری،کتاب الادب ،باب رحمةالناس والبھائم )
          ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے ایک ایسے شخص کا جس نے ایک جانور کے ساتھ حسن سلوک کیا تھا،تذکرہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ اس کے اس کام پر بھی ثواب ملا،صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیاجانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرنے میں ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر اس چیز کے ساتھ نیک سلوک کرنے میں ثواب ہے جس میں زندگی کی تری (ترجگر) ہے۔ (بخاری،کتاب الادب ،باب رحمةالناس والبھائم)
          ایک غیر مسلم بوڑھے شخص کو حضرت عمر نے بھیک مانگتے ہوئے دیکھا ،آپ نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تم بھیک کیوں مانگتے ہو؟اس نے جواب دیا ٹیکس ادا کرنے کے لیے اور اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے،حضرت عمر اس کو اپنے گھر لے گئے ،کچھ دیا اور خزانہ کے انچارج کے پاس یہ لکھ کر بھیجا کہ اس کی اور اس جیسے لوگوں کی دیکھ بھال کیا کرو،خدا کی قسم یہ انصاف نہیں ہے کہ اس کی جوانی کی کمائی ہم لوگ کھائیں اور بوڑھے ہونے پر اس کی مدد چھوڑ دیں،قران میں فقراء ومساکین کے لیے صدقہ کی اجازت ہے،فقراء تو وہی ہیں جو مسلمان ہیں،اور یہ لوگ غیر مسلم مساکین ہیں،ان سے جزیہ نہ لیا جائے،اور مسلمانوں کے بیت المال سے ایسے لوگوں کے لیے وظیفہ جاری کر دیا جائے۔(کتاب الخراج)
***





”قیدیوں کے مسائل اسلامی نقطہٴ نظر سے“

آج دنیا میں انسانوں کے درمیان جو طبقاتی تقسیم اور ان کے درمیان حقوق کی ناہمواری پائی جاتی ہے اس کی ایک بدترین مثال انسانوں کا وہ طبقہ ہے جو اپنے بعض حالات کی بناء پر قیدخانہ کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گذارنے پر مجبور ہے، اس کے بالمقابل اسلام کے عادلانہ نظام میں انسانی تمام طبقات کے لئے مثالی توازن و ہم آہنگی اور ان کے حقوق و جذبات کی ہرممکن رعایت پائی جاتی ہے۔
اسلام نے اپنی تمام تعلیمات میں قیدیوں کے ساتھ عام انسانی احترام میں کوئی کمی نہیں کی، اسلامی نقطئہ نظر سے ہر انسان ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوا ہے اس لئے اس کو اپنے حقوق کے معاملے میں پوری آزادی ملنی چاہئے۔ البتہ انسان کبھی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتا ہے، جو عام انسانی اجتماع کے لئے ضرر رساں ثابت ہوتی ہیں ایسے موقعہ پر عام انسانی مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ اس شخص کی سرگرمیوں کو محدود کیاجائے، یا اس پر مکمل بندش عائد کردی جائے، اسی کے لئے قید کی ضرورت پڑتی ہے، حضرت نبی کریم صلى الله عليه وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد میں کوئی باقاعدہ قید خانہ یا جیل کا نظام نہیں تھا، اور نہ کبھی باضابطہ حضور صلى الله عليه وسلم  نے کسی کے لئے قید کی سزا تجویز فرمائی۔ (اقضیة رسول اللہ صلى الله عليه وسلم لابن فرح/۱۱، تبصرة الحکام لابن فرحون، الموسوعة ۱۶/۲۸۴)
صرف تحقیق حال کے لئے بعض ملزمین کو وقتی طور پر قید کا حکم فرمایا، مثلاً:
ایک مرتبہ قبیلہ بنوغفار کے دو شخص حضور صلى الله عليه وسلم کے حضور پیش کیے گئے، ان پر دو اونٹوں کی چوری کا الزام تھا، حضور صلى الله عليه وسلم نے ایک کو روک لیا اور دوسرے کو اونٹ تلاش کرنے کا حکم دیا، بالآخر وہ دوسرا شخص دونوں اونٹ لے کر دربار نبوت میں واپس ہوا اور پھر دونوں کی رہائی عمل میں آئی۔ (مصنف عبدالرزاق ۱۰/۲۱۶-۲۱۷)
قید کا نظام
عہد فاروقی سے اس کا آغاز ہوا اور ضرورت کے تحت قید خانہ کا نظام رائج کیاگیا، حضرت عمر فاروق رضى الله تعالى عنه کے حکم پر مکہ کے گورنر نافع بن عبدالحارث نے اس غرض سے چار ہزار (۴۰۰۰) درہم میں صفوان بن امیہ کا مکان خریدا، اسی طرح حضرت علی نے کوفہ میں باقاعدہ قیدخانہ قائم کیا۔ (المبسوط۲۰/۸۹، الطرق الحکمیہ ۱۰۳، الموسوعة ۱۶/۳۱۶)
نیز حضرت ابوموسیٰ اشعری رضى الله تعالى عنه نے کوفہ میں اور حضرت عبداللہ بن زبیررضى الله تعالى عنه نے مکہ مکرمہ میں اپنے اپنے عہد حکومت میں قیدخانہ قائم فرمایا۔ (تفسیر خازن ۲/۷۱، زاد لمعاد ۲/۷۴، الموسوعة ۱۶/۲۸۶)
پھر بعد کے ادوار میں تمام ہی مسلم حکمرانوں نے اس نظام کو باقی رکھا، اور اسلامی قاضیوں نے مختلف جرائم میں قید کی سزا تجویز فرمائی - لیکن یہ سب محض وقتی اور ناگزیر ضرورت کے تحت گوارا کیاگیا، اسی لئے قید کے کسی مرحلے پر بھی انسانی احترام کو نظر انداز نہیں کیاگیا، اسلام نے قیدیوں کے ساتھ مراعات اور حسن سلوک کی تعلیم دی، اور ہرحال میں اس پہلو پر دھیان مرکوز رکھا کہ وہ بھی تمہاری طرح انسان ہیں، ان کے پاس بھی ضروریات اور تقاضے ہیں اور وہ بھی جذبہ واحساس رکھتے ہیں، اور کل وہ بھی تمہاری طرح آزاد تھے، حالات زمانہ نے ان کو اس حال تک پہنچادیا ہے، اس لئے ان کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کرو۔
قیدیوں کے لئے اسلامی ہدایات
غزوہ بدر میں فتح کے بعد جنگی قیدی حضور صلى الله عليه وسلم کے سامنے پیش کیے گئے تو زبان نبوت سے جو جملہ صادر ہوا وہ قیدیوں اور کمزور طبقہ کے لیے نبوت کا سب سے بڑا عطیہ ہے، حضور صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:
یا ایہا الناس ان اللّٰہ قد امکنکم وانما ہم اخوانکم بالامس (مجمع الزوائد۱/۸۷)
ترجمہ: اے لوگو! اللہ نے آج تم کو ان پر قدرت دی ہے اور کل یہ تمہارے بھائی تھے۔
قرآن کریم میں قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا ابرار اور مقربین کی صفت قرار دیاگیا:
ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا (سورہ دہر:۸)
ترجمہ: اور یہ لوگ پوری محبت و خلوص کے ساتھ مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔
حضور صلى الله عليه وسلم نے یہ ہدایت فرمائی:
استوصوا بالاساری خیرا (طبرانی کبیر بحوالہ سیرة المصطفیٰ ۱/۵۷۹، مولانا ادریس کاندھلوی)
ترجمہ: قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت قبول کرو۔
غلام جیسے کمزور طبقہ کے بارے میں فرمایا:
فاطعمہ مما تاکلون واکسوہ مما تکسون (احمدوابوداؤد، مشکوٰة ۲۹۲)
ترجمہ: جو خود کھاتے ہو ان کوکھلاؤ اور جو خود پہنتے ہو ان کو پہناؤ۔
ان کی عزت نفس کا بھی پورا لحاظ فرمایا، اور ارشاد فرمایا:
لاتقل عبدی ولا امتی ولکن قل فتائی وفتاتی (مجمع الزوائد۶/۸۷)
ترجمہ: غلام اور باندی کہہ کر ان کو مت پکارو بلکہ اے میرے بیٹے اور ایے میری بیٹی کہہ کر آواز دو۔
انہی تعلیمات کا اثر تھا کہ عہد اوّل میں جن مسلمانوں کے پاس قیدی تھے وہ اوّل کھانا قیدیوں کو کھلاتے اور بعد میں خود کھاتے اوراگر کھانا نہ بچتا تو خود کھجور پر اکتفاء کرلیتے۔
حضرت مصعب بن عمیر کے حقیقی بھائی ابوعزیز بن عمر بھی ایک بار قید ہوکر آئے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں انصار کے جس گھر میں تھا ان کا یہ حال تھا کہ صبح و شام جو تھوڑی بہت روٹی بنتی وہ مجھ کوکھلادیتے اور خود کھجور کھاتے، میں شرماتا اور ہر چند اصرار کرتاکہ روٹی آپ لوگ کھائیں لیکن نہ مانتے اور یہ کہتے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہم کو قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے۔ (مجمع الزوائد ۶/۸۶)
(دعویٰ) الزام عائد کرنے کا ضابطہ
غرض اسلام ہر انسان کی شخصی آزادی اوراحترام کو بہت اہمیت دیتا ہے، اور کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا ہے کہ کسی کی آزادی و عزت نفس کو نقصان پہنچائے، اسی لیے شریعت اسلامیہ اس کی اجازت نہیں دیتی کہ خواہ مخواہ کسی پر الزام لگاکر اس کی حیثیت کو مجروح کیا جائے، اور نہ اسلامی عدالت اس کی مجاز ہے کہ محض الزام کی بنا پر کسی کو مجرم قرار دے، الزام لگانے کے لیے ضابطہ مقرر کیاگیا کہ
البینة علی المدّعی والیمین علی من انکر (متفق علیہ: نصب الرایہ ۴/۹۵)
ترجمہ: ”دعوی پیش کرنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثبوت فراہم کرے بصورتِ دیگر منکر سے قسم لے کر اس کو بری قرار دیا جائے گا۔“
بلکہ بعض صورتوں میں تو ثبوت فراہم نہ کرنے کی صورت میں خود مدعی کو مجرم قرار دیا جاتا ہے، اوراس کو بے بنیاد الزام لگانے کے جرم میں سزا دی جاتی ہے، مثلاً کوئی شخص کسی پر ”زنا“ کا الزام لگائے اوراس کو اصول کے مطابق ثابت نہ کرسکے، تو خود الزام لگانے والے پر حد قذف عائد کی جاتی ہے، اس سے تعزیرات کے باب میں اسلام کے تصورِ جرم کا پتہ چلتا ہے کہ ”جرم“ صرف وہ ہے جس کو ثابت کردیا جائے۔ اور جو ثابت نہ ہوسکے وہ صرف ”الزام“ ہے۔
ملزم کو قید کرنے کا مسئلہ
محض الزام کی بناء پر کسی پر سزانافذ نہیں کی جاسکتی، البتہ کبھی ایسی صورت پیش آسکتی ہے جس میں الزام کی تنقیح اور ثبوت کی فراہمی میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے، اس درمیانی مدت میں ملزم کے ساتھ کیا سلوک کیاجائے؟ جبکہ وہ ابھی مجرم نہیں ہے، لیکن تنقیح دعویٰ تک کیا اس کو ”قید“ میں رکھا جاسکتا ہے؟ اس باب میں فقہاء کی آراء مختلف ہیں۔
(۱) قاضی شریح، امام ابویوسف،اور امام الحرمین کی رائے میں مکمل ثبوت کے بغیر محض الزام کی بنا پر کسی کو قیدنہیں کیاجاسکتا، قاضی شریح نے ایک مالی معاملہ میں ماخوذ ملزم کو ثبوت نہ ملنے کی صورت میں محض قسم لے کر بری کردیاتھا۔ (تبصرة الحکام ۱/۴۰۷)
امام ابویوسف اس طرح کی صورت میں زیادہ سے زیادہ کسی معتبر ضمانت دار کا مطالبہ کرتے ہیں، ضمانت مل جانے کی صورت میں ملزم کو اپنے گھر جانے کی اجازت ہے۔ (کتاب الخراج ۱۹۰،۱۹۱)
اس سلسلے میں ایک واقعہ حضرت عمر بن الخطاب کا نقل کیا جاتاہے کہ ان کے پاس ایک ملزم گرفتار کرکے لایاگیا،اور ثبوت فراہم نہ ہوسکا تو آپ نے اس کو چھوڑدیا۔ (المحلی لابن حزم ۱۱/۱۳۱، مصنف عبدالرزاق ۱۰/۲۱۷)
(۲) بعض فقہاء حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کی رائے یہ ہے کہ جن مقدمات میں ثبوت جرم کے بعد قید ہی کی سزا مقرر ہے، مثلاً مالی معاملات، ان میں مکمل ثبوت کی فراہمی کے بغیر ملزم کو قید میں رکھنا درست نہیں ہے۔
سحنون وغیرہ کی رائے یہ ہے کہ جن مقدمات کی سزا قید نہیں ہے مثلاً حدود و قصاص کے معاملات، ان میں عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک ملزم کو قید میں رکھا جاسکتا ہے۔ (حاشیہ القلیوبی۴/۳۰۶، درمختار مع رد المحتار ۴/۴۰، ۵/۲۹۹، العنایہ للباہرتی ۵/۴۰۱، المغنی لابن قدامہ ۹/۳۲۸)
(۳) جمہور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ اگر ملزم کوئی معروف اور نیک شخص ہو، اور اس کی ذاتی زندگی غیرمشتبہ اور صاف ستھری سمجھی جاتی ہو، تو ایسے شخص کو بلاثبوت قید کرنا یا سزا دینا درست نہیں، البتہ مستورالحال شخص کو تحقیق حال تک قید کرنا درست ہے، یا ملزم کوئی مشتبہ شخص ہو اور اس طرح کے الزامات اس پر لگتے رہے ہوں تو اس کو بھی قید کرنا درست بلکہ نسبتاً بہتر ہے۔ (حاشیہ ابن عابدین ۴/۸۸، حاشیہ الدسوقی ۳/۲۷۹، الاحکام السلطانیہ للماوردی ۲۱۹، المغنی لابن قدامہ۹/۳۲۸ بحوالہ الموسوعة ۱۶/۲۹۲)
قید کا ثبوت
جمہور کی بنیاد درج ذیل آیات واحادیث ہیں:
* قرآن کریم میں ارشاد ہے:
وتحبسونہما من بعد الصلوة فیقسمان باللّٰہ (مائدة:۱۰۶)
ترجمہ: ان کو قید کرو نماز کے بعد، پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں۔
اس میں ادائے حق تک قید کرنے کا جواز ملتا ہے۔
* اسی طرح ایک حدیث جس کا ذکر اس سے قبل آچکا ہے کہ ”دربار نبوت میں قبیلہ بنوغفار کے دو شخص دو اونٹوں کی چوری کے الزام میں پکڑکر لائے گئے، آپ نے دونوں میں سے ایک کو اپنے پاس روک لیا، اور دوسرے کو اونٹ حاضر کرنے کا حکم دیا، بالآخر وہ شخص گیا اور دونوں اونٹ لے کر حاضر ہوا۔ (مصنف عبدالرزاق ۱۰/۲۱۶،۲۱۷، مطبوعہ مجلس علمی ڈابھیل)
نیز روایت ہے کہ واقعہ خیبر کے بعد ابن ابی الحقیق کو دربار نبوت میں پیش کیاگیا، اس پر ایک خزانہ کو چھپانے کا الزام تھا، جبکہ اس کا دعویٰ تھا کہ خزانہ خرچ ہوچکا ہے، مگر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس شبہ کی بنا پر اس کا دعویٰ رد کردیا کہ ابھی جنگ کو بہت دن نہیں ہوئے، اور مال بہت زیادہ تھا۔ (العہد قریب والمال اکثر) اور آپ نے تحقیق حال تک اس کو قید رکھنے کا حکم دیا، اور حضرت زبیر بن عوام رضى الله تعالى عنه کو ملزم کے احتساب اور پوچھ گچھ پر مامور فرمایا، حضرت زبیررضى الله تعالى عنه کی تھوڑی سی تادیبی کارروائی کے بعد ہی اس نے خزانہ کی نشاندہی کردی۔ (ثم امر الزبیر ان یمسہ بعذاب حتی ظہر الکنز) (ابوداؤد۳/۴۰۸، تحقیق عزت عبید دعاس، فتح الباری ۵/۳۲۸ مطبوعہ السلفیہ تبصرة الحکام ۲/۱۱۴)
* حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے دو ملزموں کو اقرار تک قید کرنے کا حکم دیا۔ (تبصرة الحکام ۲/۱۴۰)
ان احادیث و آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمہور فقہاء کا موقف اس سلسلے میں زیادہ مضبوط ہے۔ نیز یہ بات قرین قیاس بھی ہے، اس لیے کہ ملزم بعض حالات میں اپنے برے انجام سے بچنے کے لیے راہ فرار اختیار کرسکتا ہے، اور اس طرح عدالتی کاروائی تعطل کا شکار ہوسکتی ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ ملزم کے باہر رہنے کی صورت میں مدعی کی طرف سے اسے کسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑے، اس لیے ملزم اور مدعی دونوں کے لیے محفوظ صورت یہ ہے کہ ملزم کو حراست میں رکھا جائے، اور عدالتی کاروائی مکمل ہونے تک اس کی حفاظت کا انتظام کیا جائے۔ البتہ ملزم اگر معروف اور غیرمشتبہ شخص ہو، اس کے فرار ہونے کا اندیشہ نہ ہو اور نہ اس کی ذاتی حفاظت کا کوئی خطرہ ہو، تو عدالت اس پر اعتماد کرسکتی ہے، اسی طرح اس کا لحاظ بھی ضروری ہے کہ مشتبہ ملزم جس کو عدالت کاروائی مکمل ہونے تک قید کرنے کا حکم دے گی وہ قید خانہ میں عام شہری کی طرح زندگی گذارے گا اور اس کو کسی قسم کی ذہنی یا جسمانی اذیت نہیں دی جائے گی۔
قید کی مدت
اکثر فقہاء کی رائے یہ ہے کہ مشتبہ ملزم کے لیے قید کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے، یہ حاکم کی صوابدید اور متعلقہ حالات پر موقوف ہے، جتنے دنوں میں صورت حال منقح ہوجائے، اتنے دنوں تک قیدمیں رکھنے کی گنجائش ہے، علامہ ابن تیمیہ نے اس قول کو امام مالک، امام احمد اور محققین حنفیہ کی طرف منسوب کیاہے۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ ۳۵/۳۹۷، حاشیہ ابن عابدین ۴/۸۸)
جبکہ مالکیہ کی یہ تصریح بھی ملتی ہے کہ مستورالحال کو لمبے عرصہ تک قید میں نہیں رکھا جاسکتا، لمبے عرصہ کا اطلاق ان کے نزدیک ایک سال سے زائد پر ہوتا ہے۔ (تبصرة الحکام ۱/۲۶۶، بحوالہ الموسوعة ۱۶/۲۹۴)
بعض فقہاء کا خیال ہے کہ مستورالحال ملزم کو ایک دن سے زیادہ قید نہیں کیا جاسکتا، کچھ لوگوں نے دو تین دن مقرر کیاہے، اور بعض نے اس کو وسعت دے کر ایک ماہ تک کی اجازت دی ہے۔ (حاشیہ ابن عابدین ۴/۸۸، تبصرة الحکام ۲/۱۴۸، المغنی لابن قدامہ ۹/۳۲۸)
مگر حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا ظاہر مذہب وہی ہے جو اوپر مذکورہوا کہ مدت کی کوئی تحدید نہیں کی جاسکتی، متعلقہ حالات اور حاکم کی رائے پر منحصر ہے، حضرت عمر بن عبدالعزیز کی بھی یہی رائے نقل کی جاتی ہے۔ (الاحکام السلطانیہ للماوردی ۲۲۰)
* ایسے لوگ جن پر کسی قسم کا الزام تو نہ ہو، مگر ان سے مفاد عامہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، ایسے لوگوں کو بھی نظربند یا قید کرنے کی فقہاء نے اجازت دی ہے، فقہاء نے اس کی مثال میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جن کی نظر لگتی ہو۔ (حاشیہ ابن عابدین ۶/۳۶۴، حاشیہ القلیوبی ۴/۱۶۲، فتح الباری ۱۰/۲۰۵)
* اسی طرح ایسے مجرمین جن کا جرم ثابت ہوچکا ہو، اور عدالت نے ان کو قابل سزا قرار دیا ہو، مگر بیماری یا کسی اور سبب سے متعلقہ سزا ان پر جاری نہ کی جاسکتی ہو تو سبب کے خاتمہ تک ان کو قید میں رکھنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ مجرم ایساہو جس کے فرار کا اندیشہ ہو، بصورت دیگر اس کو آزاد رکھ کر سبب کے خاتمہ کا انتظار کیا جائے گا۔ (درمختار مع رد المحتار ۴/۱۶، المدونہ ۵/۲۰۶)
*  *  *
قیدیوں کے حقوق
جن ملزمین پر جرم ثابت ہوجائے اورعدالت ان کے لیے سزائے قیدکا فیصلہ سنادے، ان کو سزا کے طورپر قیدخانہ میں رکھا جائے گا، مگر عام حالات میں ان کو عام انسانی حقوق سے محروم نہیں کیاجائے گا، اور ان کی بنیادی ضروریات کا پورا لحاظ رکھا جائے گا، فقہاء اسلام نے پوری تفصیل کے ساتھ ان امور پر روشنی ڈالی ہے، مثلاً:
(الف) : ”مذہبی امور“
قیدیوں کو ان کے مذہبی امور میں مکمل آزادی حاصل ہوگی، وہ اپنے مذہب کے مطابق عبادت وغیرہ انجام دے سکیں گے، ان کے مذہب کے مطابق ان کو غذا فراہم کی جائے گی، فقہاء نے صراحت کی ہے کہ مسلم قیدیوں کو وضو اور نماز وغیرہ سے روکنا درست نہیں ہے۔ (درمختار مع ردالمحتار ۵/۳۷۸، ۳۷۹، حاشیہ القلیوبی ۴/۲۰۵)
اگر جمعہ اور عیدین کا انتظام قیدخانہ میں ہو، اور شرائط جمعہ بھی موجود ہوں تو قیدیوں کو قیدخانہ ہی میں جمعہ و عیدین کی اجازت ہوگی، حنفیہ کے کلام سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ قیدیوں کے لیے جمعہ کی اجازت ہے، اوراگر جمعہ کا انتظام نہ ہو، تو قیدی تنہا تنہا ظہر ادا کریں گے۔ (ہدایہ ۱/۶۳، المبسوط ۲/۳۶)
بعض حنابلہ کی رائے یہ ہے کہ قید خانہ میں جمعہ وعیدین کا انتظام نہ ہونے کی صورت میں قیدیوں کو باہر نکلنے کی اجازت ہوگی، شافعیہ میں بغوی رحمة الله عليه اور بوبطی، اور حنفیہ میں سرخسی کی بھی یہی رائے معلوم ہوتی ہے۔ (الموسوعة الفقہیہ ۱۶/۳۲۱ بحوالہ غایة المنتہی للکرخی ۱/۲۰۶، روضہ الطالبین ۴/۱۴۰)
مگر مذاہب اربعہ کے جمہور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ جمعہ وعیدین کے لیے قیدیوں کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے، البتہ اگر بعض قیدیوں کے لیے حاکم اس میں مضائقہ نہ سمجھے تو حرج نہیں۔ (الموسوعة الفقہیہ ۱۶/۳۲۱ بحوالہ حاشیہ ابن عابدین ۵/۳۷۷، المبسوط ۲۰/۹۰، المغنی ۲/۳۳۹ وغیرہا)
ظاہر ہے کہ اس عموم میں ان کی مذہبی کتابوں کا احترام بھی شامل ہے، اس لیے کہ قید کا مقصد تادیب واصلاح ہے، توہین آمیز یا اشتعال انگیز سلوک کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی، اس لیے کہ اس سے رد عمل کی نفسیات جنم لیتی ہیں، اور اصلاح کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔
رہا دوسرے قیدیوں کے درمیان دعوت دین کا کام؛ تو یہ حاکم کی صوابدید پر موقوف ہونا چاہئے اس لیے کہ دعوت اس کی بنیادی یا مذہبی ضروریات میں شامل نہیں ہے، نیز دعوتی کام کبھی قیدیوں میں گروپ بندی بھی پیدا کرسکتی ہے، اور داعی قیدی اس طرح قوت بھی حاصل کرسکتا ہے، اس لیے اس کی اجازت حاکم کی رائے پر منحصر ہوگی، داعی قیدی کے شخصی حالات اگر مثبت محسوس ہوں تو حاکم اس کو دعوتی کام کی اجازت دے سکتا ہے ورنہ نہیں۔
(ب): ”جسمانی ضروریات“
قیدیوں کی جسمانی ضروریات اور بنیادی راحت و آرام کا لحاظ رکھنا بھی لازم ہے، مثلاً: مناسب غذا اور پینے کا صاف ستھرا پانی فراہم کیا جائے گا، حفظان صحت کے لیے اگر ورزش و تفریح کی ضرورت ہوتو اس کی اجازت ہوگی، ایسی تنگ جگہوں میں قیدیوں کو رکھنا درست نہیں ہے، جہاں ہوا اور روشنی کا گذر نہ ہو، یا جہاں کھڑا ہونا یا پاؤں پھیلاکر لیٹنا ممکن نہ ہو، جہاں گھٹن کا احساس ہو، یا ایسی جگہ پر رکھنا جہاں دھواں بھرا ہوا ہو، یا سخت گرم یا سخت ٹھنڈے مکان میں جہاں زندگی دشوار ہو، یا کھلے آسمان کے نیچے جہاں گرمی یا سردی سے جسم بیمار پڑجائے، ایسی جگہوں پر قیدیوں کو رکھنے کی اجازت نہیں ہے، فقہاء نے صراحت کی ہے کہ اگر کسی قیدی کو ایسے تنگ مقامات پر رکھا گیا، یا غذا اور پانی کا معقول انتظام نہیں کیاگیا، اور وہ مرگیا، تو اس کی دیت اس شخص کے ذمہ لازم ہے جس کی لاپرواہی سے قیدی کا یہ انجام ہوا ہے، بلکہ بعض فقہاء نے تو قصاص کو واجب کیاہے۔ (الاحکام السلطانیہ للماوردی ۲۳۹، حاشیہ ابن عابدین ۲/۴۲۱، فتاویٰ ہندیہ ۳/۴۱۴، الموسوعة۱۶/۳۲۷)
”طبی سہولیات“
طبی سہولیات بھی قیدیوں کو فراہم کی جائیں گی، اور اگر جیل میں یہ سہولتیں میسر نہ ہوں تو شافعیہ اور مالکیہ ان کو جیل سے باہر لے جانے کی اجازت دیتے ہیں، البتہ مفتی بہ قول میں حنفیہ یہ قید لگاتے ہیں کہ بیمار قیدیوں کو باہر لے جانے کے لیے معتبر ضمانت شرط ہے، مسلم خلفاء اور حکمرانوں کا تعامل اس باب میں شروع سے یہی رہا کہ قیدیوں کی جسمانی صحت اور طبی سہولیات کی طرف پوری توجہ دی گئی، حضرت عمر بن عبدالعزیز نے باقاعدہ ایک فرمان کے ذریعہ مملکت کے تمام افسروں کو اس کی طرف خصوصی طور پر توجہ دلائی تھی، خلیفہ مقتدر کے زمانہ میں ڈاکٹروں کی خصوصی خدمات بیمار قیدیوں کے لیے حاصل کی گئی تھیں اور دوا علاج کا پورا نظام بنایاگیا تھا یہ ڈاکٹر ہر روز قیدخانہ پہنچ کر قیدیوں کا معائنہ کرتے اور علاج تجویز کرتے تھے۔ (حاشیہ ابن عابدین ۵/۳۷۸، فتاویٰ ہندیہ ۴/۴۱۸، شرح ادب القاضی للخصاف ۲/۳۷۵، حاشیہ القلیوبی ۲/۲۹۲، طبقات ابن سعد ۵/۳۵۶، الموسوعة ۱۶/۳۲۱)
بیوی سے تعلق کے سلسلے میں فقہاء کی آرا مختلف ہیں:
(۱) ایک رائے جس کو اکثر حنفیہ نے اختیار کیا ہے، اورحنابلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ قیدی کو بیوی سے ملنے کی اجازت دی جائے گی بشرطیکہ تنہائی کی ایسی جگہ وہاں میسر ہو، اس لیے کہ پیٹ کی طرح شرمگاہ کی بھوک بھی ایک ضرورت ہے، اس لیے اس ضرورت سے اس کو روکا نہیں جائیگا۔ (المغنی ۷/۳۴،۳۵، ہدایہ۳/۲۳۱، فتح القدیر ۵/۴۷۱، فتاویٰ ہندیہ ۳/۲۱۸)
(۲) دوسری رائے جس کو مالکیہ کا مذہب کہا گیا ہے، بیوی سے تنہائی میں ملنے کی اجازت نہیں ہوگی اس لیے کہ جنسی تعلق کھانے کی طرح حوائج اصلیہ میں شامل نہیں ہے، نیز اس طرح کی لذتوں سے روکنے سے قیدی کی دل شکنی ہوگی،اور وہ اپنے اصلاح حال کی طرف زیادہ تیزی کے ساتھ توجہ دے گا۔ (الشرح الکبیر..... ۳/۲۸۱، تبصرة الحکام ۲/۲۰۵، الموسوعة الفقہیہ ۱۶/۳۲۴)
(۳) اور بعض شوافع کی رائے ہے کہ یہ بھی حاکم کی صوابدید پر موقوف ہے،اگر وہ مصلحت سمجھے تو اجازت دیدے ورنہ نہیں۔ (حاشیہ القلیوبی ۲/۳۹۲، الموسوعة ۱۶/۳۲۴)
(ج): ”سماجی حقوق“
قیدیوں کو عام حالات میں اخبارات پڑھنے، ریڈیو سننے، تعلیم و ہنر سیکھنے، احباب و اقارب سے رابطہ رکھنے اور دوسرے قیدیوں سے ملنے کی اجازت ہوگی، البتہ اگر کسی وجہ سے حاکم وقت بعض قیدیوں کے لیے اس کو خلاف مصلحت سمجھے تو اس پر پابندی عائد کرسکتا ہے، بعض شوافع سے اسکی صراحت نقل کی گئی ہے۔ (دیکھئے حاشیہ القلیوبی ۲/۳۹۲، رسنی المطالب مع حاشیہ الرملی ۲/۱۸۸، الموسوعة الفقہیہ ۱۶/۳۲۴)
جس طرح کہ حاکم کو اس کی اجازت ہے کہ کسی خاص مجرم کو اس کے جرم کے پس منظر میں قید تنہائی کی سزا دے، جہاں کسی سے ملنے کی اس کو اجازت نہ ہو، فقہاء نے اس کی بھی صراحت کی ہے۔ (المبسوط ۲۰/۹۰، فتاویٰ ابن تیمیہ ۱۵/۳۱۰، المغنی ۸/۱۲۴، الموسوعة ۱۶/۳۱۹)
(د): ”اخلاقی امور“
فقہاء نے جرائم کے لحاظ سے الگ الگ قید خانہ یا قید خانہ میں الگ الگ حصے بنانے کی تجویز دی ہے، امام ابویوسف رحمة الله عليه نے اپنی کتاب ”الخراج“ میں، باقاعدہ ایک باب اس عنوان پر قائم کیاہے، اور مجرمین کو بنیادی طور پر تین حصوں میں منقسم کیا ہے:
۱- اہل فجور: یعنی جن گناہوں کا تعلق اخلاقی مفاسد سے ہو۔
۲- اہل تلصص: یعنی چوری وغیرہ کے قبیل کی چیزیں۔
۳- اہل جنایات: یعنی ظلم و زیادتی کے ذیل کی چیزیں۔
اس طرح کی کچھ اور تقسیمات بعض دیگر فقہاء کے یہاں بھی ملتی ہیں، ان تقسیمات کا مقصد یہ ہے کہ قیدیوں میں جرائم پھیلنے سے روکا جائے، اس لیے کہ جرائم کا رجحان بڑی تیزی سے ساتھ پھیلتا ہے، اورایک طرح کا مجرم دوسری طرح کے مجرم سے بہت جلد متاثر ہونے لگتا ہے، لیکن اگر ہر قسم کے مجرمین الگ الگ ہوں، تو دوسرے جرائم سے ان کے محفوظ رہنے کا زیادہ امکان ہے۔ (کتاب الخراج ۱۶۱، ابن عابدین ۵/۳۷۰، الموسوعة ۱۶/۳۱۹)
* اسی طرح اخلاقی مفاسد سے بچنے کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ مردوں اور عورتوں کو الگ الگ رکھا جائے، تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے، بلکہ عورتوں کے حصے کا نگراں افسر بھی کسی عورت ہی کو رہنا چاہئے،اگر اس قسم کی عورت میسر نہ ہو تو صلاح و تقویٰ میں معروف شخص کا انتخاب ہونا چاہئے۔ (مبسوط ۲۰/۹۰، فتاویٰ ہندیہ ۳/۴۱۴، جواہر الاکلیل للآبی ۲/۹۳، الموسوعة ۱۶/۳۱۷)
* کبھی بالغوں کے ساتھ نابالغ لڑکے بھی بعض جرائم میں شریک ہوجاتے ہیں، ایسے نابالغ لڑکوں کو قید میں ڈالا جاسکتا ہے یا نہیں؟
مالکیہ اور شافعیہ کا مسلک یہ ہے کہ صرف تادیبی کاروائی کی جائے گی، قید میں نہیں ڈالا جائے گا خواہ مالی معاملہ ہو یا غیرمالی، لیکن فقہاء حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ مالی اور غیرمالی دونوں قسم کے جرائم میں نابالغ لڑکوں کو محض تادیب و تنبیہ کے لیے (نہ کہ سزا کے طور پر) قید میں ڈالنے کی اجازت ہے، تاکہ عام لوگ ان کے ضرر سے محفوظ رہیں، اور ان بچوں کی تنبیہ بھی ہو، البتہ ایسی صورت میں فقہاء نے لازم قرار دیا ہے کہ ان کو بالغوں سے الگ ایسی جگہ پر رکھا جائے، جہاں ان کاکوئی مناسب رہنما اور مربی موجود ہو، تاکہ وہ بالغوں کے شرسے ممکن طور پر محفوظ رہ سکیں۔ (درمختار۴/۲۵۳، فتاویٰ ابن تیمیہ ۳۴/۱۷۹، حاشیہ الدسوقی۳/۲۸۰، معین الحکام ۱۸۷، الموسوعة ۱۶/۳۱۷،۳۱۸)
”طریقہٴ احتساب“
۳- یہ ایک حقیقت ہے کہ ثبوت جرم کے لیے اگر شواہد موجود نہ ہوں، تو مجرم آسانی کے ساتھ اپنے جرم کا اقرار نہیں کرتا، اس کے لیے تھوڑی سختی کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی ایک مثال عہد نبوت میں ابن ابی الحقیق کا واقعہ ہے، جس نے ایک خزانہ غائب کردیا تھا، اور اس کااقرار نہیں کررہا تھا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے حکم پر حضرت زبیر ابن العوام نے جب اس کے ساتھ سختی کی تو اس نے اس کا اقرار کیا۔ (رواہ البخاری، فتح الباری ۵/۳۲۸)
اسی روایت کی بنا پر فقہاء نے مجرموں کے ساتھ فی الجملہ سختی کی اجازت دی ہے، اوراگرچیکہ جبر واکراہ کی حالت میں اقرار معتبر نہیں ہے، مگر متاخرین حنفیہ نے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر اس کی افادیت تسلیم کی ہے، اوراس حالت کے اقرار کو کسی نہ کسی درجہ میں درست قرار دیا ہے، چوری کی بحث کے ذیل میں حصکفی لکھتے ہیں:
فیقطع اذا اقربہا مرة طائعاً واقرارہ بہا مکرہا باطل ومن المتأخرین من أفتی بصحتہ و یحل بضربہ لیقر. (درمختار۶/۱۰۶)
شامی نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حدود کے لیے اگرچہ کہ یہ اقرار معتبر نہیں ہے مگر دیت و تعزیر کے لیے اس کا اعتبار کیاجائے گا (دیکھئے ردالمحتار ۶/۱۰۸،۱۰۹)
مگر یہ سختی اسی حد تک جائز ہے جب تک وحشیانہ حد تک نہ پہنچے، اسی لیے فقہاء نے مجرموں کے ساتھ تادیبی معاملہ کو محدود کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
انما ہو السوط والجن (کتاب الخراج لابی یوسف ۱۳۵)
مجرم کے لیے کوڑا ہے یا قید، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
اس لیے ایسی کسی بھی کارروائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو انسانی حدوں کو پار کرجائے اور جس سے مجرم کو شدید جسمانی نقصان پہنچے، فقہاء نے تو قیدخانہ میں سزا کے طورپر بھی وحشیانہ حرکتوں سے منع کیا ہے، چہ جائے کہ احتساب کے مرحلے میں۔ جبکہ ابھی سزا کافیصلہ آنا باقی ہو۔
لہٰذا سزا کے طور پر ہو یا اعتراف جرم کے لیے درج ذیل کاروائیوں کی اجازت نہیں ہے:
*قیدیوں کو دھوپ میں کھڑا کرنا * ان کے سرپر تیل ڈالنا * داڑھی مونڈھنا * کتے، بچھو یا اور کوئی درندہ جانور چھوڑنا (کتاب الخراج ۱۳۵، المغنی ۷/۶۴۱، تبصرة الحکام ۲/۱۴۷، الموسوعة ۱۶/۳۲۸) اس لیے کہ یہ خلاف شرع بھی ہے اور جسمانی نقصان کا باعث بھی۔
* قیدیوں کو بے لباس کرنا، اس لیے کہ سترعورت ضروری ہے۔ (حاشیہ ابن عابدین ۴/۱۳، الاحکام السلطانیہ للماوردی ۲۳۹)
* بھوکا پیاسا رکھنا * جسم کے کسی حصہ کو آگ سے جلانا یا الکٹرک شاٹ لگانا * پانی میں غوطے دینا۔ (السیاسة الشرعیة لابن تیمیہ ۱۵۲، فتح الباری ۶/۱۵۰)
* سخت ٹھنڈک میں برف کی سلوں پرڈال دینا۔
*مسلسل جاگتے رہنے پر مجبور کرنا اوراس کے لیے اس کی جائے رہائش میں تیز روشنی یا تیز آواز کا انتظام کرنا، * چہرے پر مارنا * گردن میں ناقابل برداشت بوجھ ڈال دینا * زمین پر لٹاکر مارنا وغیرہ۔ (فتاویٰ ہندیہ ۳/۴۱۴، الاحکام السلطانیہ للماوردی ۲۳۹)
* قیدی کے خاندان کو گالی دینا یا سب و شتم کرنا (بدائع الصنائع ۷/۶۴)
* ناک، کان یاجسم کا کوئی حصہ کاٹنا یا توڑنا، یہ مثلہ ہے اور سخت ممنوع ہے، وغیرہ (بدائع الصنائع ۷/۲۰) اور ہر وہ کام جو خلاف شرع ہو یا جس سے جسم کو کلی یا جزوی نقصان پہنچے۔
”قیدی کو بیڑی ڈالنا“
۴- قیدیوں کو فرار سے بچنے کے لیے زنجیروں میں جکڑا جاسکتا ہے، ان کو ہتھکڑی بھی پہنائی جاسکتی ہے۔ بیڑی بھی ڈالی جاسکتی ہے، جیسا کہ حضرت عمررضى الله تعالى عنه کے سامنے ایک ملزم کو ہتھکڑی لگاکر لایاگیا۔ (مصنف عبدالرزاق ۱۰/۲۱۷) نیز حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک ملزم کے بارے میں فرمایا (جس پر چوری کا الزام تھا اور وہ کہتا تھا کہ میں نے اسے خریدا ہے) فاشددہ فی السجن وثاقا ولا تحلہ حتی یاتیہ امر اللّٰہ، اس کو قید خانہ میں مضبوط باندھ دو اور معاملہ کی تحقیق تک نہ کھولو۔ (المحلی لابن حزم ۱۱/۱۳۱)
لیکن ایسا وقتی طور پر کرنے کی اجازت ہوگی، ان چیزوں کو تسلسل کے ساتھ باقی رکھنا درست نہیں، اس لیے کہ ان حالتوں میں بنیادی ضروریات بھی پوری کرنی دشوار ہوجاتی ہے۔ فقہاء نے قیدیوں کو قضائے حاجت سے روکنے کی اجازت نہیں دی ہے، اسی طرح ایسی تنگ جگہ میں رکھنے کی اجازت بھی نہیں دی ہے جہاں ایک دوسرے سے بے پردگی ہو، یا وضو اور نماز جیسی ضروریات پوری نہ کی جاسکتی ہوں۔ (الشرح الکبیر...... ۳/۲۸۲، درمختار مع الحاشیہ ۵/۳۷۸،۳۷۹)
”قید تنہائی“
۵- حاکم کی اگر رائے ہو تو کسی مجرم کو اس کے خصوصی جرم کے پس منظر میں قید تنہائی دی جاسکتی ہے، الموسوعة میں مبسوط سرخسی، ابن عابدین، فتاویٰ ہندیہ حاشیہ دسوقی، حاشیہ قلیوبی اور دیگر بہت سی کتابوں کے حوالے سے لکھا ہے:
ویجوز للحاکم عزل السجین وحبسہ منفردا فی غرفة یقفل علیہ بابہا، ان کان فی دلک مصلحة. (الموسوعة الفقہیہ۱۶/۳۱۹)
”قیدیوں سے جبری کام لینا“
۶- (الف): فقہاء شافعیہ وحنابلہ نے قیدیوں کو اجرت پر کام کرنے کی اجازت دی ہے، تاکہ وہ اپنے گھریلو اخراجات یا قرض وغیرہ کی ادائیگی کا انتظام کرسکیں۔ (الموسوعة الفقیہ ۱۶/۳۲۱ بحوالہ رسی المطالب مع حاشیہ الرملی ۲/۱۸۸، المغنی ۴/۴۹۵، ہندیہ ۳/۴۱۸)
(ب): لیکن حنفیہ کا مسلک معتمد اور دیگر فقہاء کی رائے یہ ہے کہ قیدیوں کو بااجرت کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، ورنہ قیدخانہ کی ساری معنویت ہی ختم ہوجائے گی، قیدخانہ اس کے لیے دوکان یا کارخانہ کی طرح بن جائے گا،اور قید کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ (ابن عابدین ۵/۲۷۸، فتاویٰ ہندیہ ۳/۴۱۸)
(ج) تیسری رائے جس کو کویت کے لجنة الفقہاء نے اختیار کیا ہے کہ یہ حاکم کی صوابدید پر موقوف ہے۔ (الموسوعة الفقہیہ ۱۶/۳۲۲)
دوسری اور تیسری رائے کا مقتضا یہ معلوم ہوتا ہے کہ حاکم کی اگر رائے ہوتو سزایافتہ قیدیوں سے بلااجرت جبری کام لیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ کام ان کی طاقت سے باہر نہ ہو،اور ان کی صلاحیت اور ذوق سے ہم آہنگ ہو، البتہ جن قیدیوں کا مقدمہ ابھی زیرسماعت ہے، ان کا معاملہ اس سے مستثنیٰ رکھنا چاہئے۔
”ملزم اور مجرم کا فرق“
۷- جن قیدیوں کا مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے،اور جن کے بارے میں سزائے قید کا فیصلہ ہوچکا ہے، قیدخانوں میں سلوک کے اعتبار سے ان میں فرق کرنا ضروری ہے، یہی عدل کا تقاضا ہے، ورنہ سزایافتہ اور غیرسزایافتہ کا فرق باقی نہ رہے گا۔ اسی لیے بہت سے فقہاء نے دونوں قسم کے قیدیوں کے لیے الگ الگ قیدخانہ یا قیدخانہ میں الگ الگ حصہ مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قرافی، ماوردی، زبیری اور حنابلہ کے ایک طبقہ کی رائے یہ ہے کہ زیرسماعت ملزمین کو قید کرنے کا اختیار صرف حاکم کو ہے، عدالت کو نہیں، عدالت صرف انہی ملزمین کو قید کرسکتی ہے، جن کے لیے سزائے قید کافیصلہ ہوچکا ہو، پہلی قسم کے قیدخانہ کو ”سجن الوالی“ اور دوسری قسم کے قیدخانہ کو ”سجن القاضی“ کہا جاتا تھا، اگرچیکہ بعد میں دونوں قسم کے اختیارات عدالت ہی کو دے دیے گئے، اور عدالت دونوں قسم کے ملزمین کو قید کرنے کی مجازہوگی، لیکن فقہاء کی رائے کے مطابق کم از کم دونوں کے لیے قیام اور سلوک میں امتیاز کرنا ضروری ہے، تاکہ ظلم و زیادتی کا اندیشہ باقی نہ رہے۔ (الموسوعة الفقہیہ ۱۶/۳۱۸، ۳۱۹، حاشیہ ابن عابدین ۵/۳۷۸، ۴۹۹، تبصرة الحاکم ۱/۳۰۴، لسان الحکام ۲۵۱، الاحکام السلطانیہ للماوردی ۲۱۹)
”ملزم کے قید کی مدت“
۸- زیرسماعت قیدیوں کو فیصلہ سے قبل اتنے دنوں تک قید میں رکھنا جوان کے اوپر عائد فرد جرم کی اصل سزاہے، درست نہیں، بعض فقہاء حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ ایسے مقدمات میں جن کی آخری سزاہی قیدہوسکتی ہو،ملزم کو قیدکرنے کی اجازت نہیں دیتے، اس لیے کہ فیصلہ و سزا سے قبل سزا کا کوئی جواز نہیں ہے، لیکن جو فقہاء (اور اکثر فقہاء کی یہی رائے ہے) قید کی اجازت دیتے ہیں، بشرطیکہ ملزم مجہول الحال ہو اور صلاح وتقویٰ میں معروف نہ ہو، ان میں زیادہ تر فقہاء نے فیصلہ سے قبل قید کی مدت کو حاکم کی رائے پر چھوڑ دیا ہے، مگر کچھ نے اس کی مدت ایک ماہ (رد المحتار ۶/۱۰۸) کچھ نے ایک دن، بعض نے دو یا تین دن، اور مالکیہ نے ایک سال سے کم مقید کی ہے۔ (الموسوعة الفقہیہ ۱۶/۲۹۴، ۲۹۵)
دراصل یہ مدت عدالتی کارروائی کو چاک و چوبند کرنے کے لیے ہے، کسی عدالت کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اپنی غفلت و ناکامی کا بدلہ بے قصور ملزموں سے لے، اور اپنی سست رفتار کاروائی کی بنا پر ملزموں کو برسوں جیل میں بے یارومددگار چھوڑ دے، جبکہ اس کا امکان بھی موجود ہے کہ ملزم نتیجتاً بے قصور ثابت ہو۔
”ملزم اگر بری ثابت ہو“
۹- اگر زیر سماعت ملزم کو قید میں رکھا گیا، اور بعد میں عدالت نے اسے بری قرار دیا، تو وہ زمانہٴ قید میں ہونے والی ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا ہرجانہ طلب کرنے کا مجاز نہیں ہے، بشرطیکہ قیدکی مدت معروف اصولوں کے مطابق ہو، اور اس دوران اس کے ساتھ کوئی ناروا سلوک بھی نہ کیاگیا ہو، اس لیے کہ جس حدتک قید کی فقہاء نے اجازت دی ہے، وہ ان نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی ہے، اور اسی لیے ملزم کے حالات کے لحاظ سے زمانہٴ قید میں کمی بیشی روا رکھی گئی ہے۔
”قیدی کو رابطہ کی اجازت“
۱۰- قیدی کو اپنے مقدمات کے سلسلے میں وکیل سے رابطہ اور صفائی پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، اس لیے کہ حراست کا مقصد تحقیق حال ہے، اگر قیدی کو اپنے معاملہ میں رابطہ اور بیان صفائی کا اختیار نہ دیا جائے تو حقیقت حاصل کیسے واضح ہوسکتی ہے؟ بلکہ اگر قیدی پر کچھ دوسرے اور مقدمات بھی ہوں تو ان کے لیے بھی بطور خود یا بذریعہ وکیل عدالتی کارروائی کے لیے اس کو نکلنے کی اجازت دی جائے گی، صرف اتنی دیر کہ زیربحث مقدمہ کی اس سے متعلق کارروائی مکمل ہوجائے۔ (درمختار مع رد المحتار ۵/۳۷۸، ۴۹۹، لسان الحکام لابن الشحنہ ۲۵۱، تبصرة الحکام ۱/۳۰۴، المغنی ۹/۲۰۷، الموسوعة الفقہیہ ۱۶/۳۲۶)
قیدی خواتین کے شیرخوار بچے
۱۱- خواتین قیدیوں کو اپنے ساتھ ایسے شیرخوار بچوں کو جوماں کے بغیر نہ رہ سکتے ہوں، جیل میں رکھنے کی اجازت ہوگی، یہی شرعی اصولوں کا تقاضہ ہے، اس لیے کہ ماں کے جرم کی وجہ سے بچوں کو ماں کی ممتا سے محروم رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے، علاوہ ازیں بچوں کی علاحدگی خود قیدی خواتین کے لیے بھی مسلسل ذہنی اذیت کا باعث ہوگی، اس سلسلے میں بعض احادیث و آثار سے کافی روشنی ملتی ہے۔
نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے (جنگ میں پکڑی جانے والی خواتین کے بارے میں جن کو باندی بنالیا گیا ہو، اور ان کے ساتھ چھوٹا بچہ ہو) ارشاد فرمایا:
* لاتولہ والدة عن ولدہا (رواہ البیہقی، نصب الرایة ۳/۲۶۶)
ترجمہ: ماں کو اپنے بچہ سے الگ نہیں کیاجائے گا۔
* ایک روایت میں ارشاد گرامی اس طرح نقل کیاگیا ہے:
من فرق بین والدة وولدہا فرق اللّٰہ بینہ وبین احبتہ یوم القیامة (بیہقی ۹/۱۲۶، دارقطنی ۳/۶۷)
ترجمہ: جو شخص ماں کو اس کے بچہ سے الگ کرے گا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو اپنے دوستوں سے الگ کردے گا۔
* حضرت عبادة ابن الصامت روایت کرتے ہیں کہ:
نہی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یفرق بین الام وولدہا فقیل یا رسول اللّٰہ (صلى الله عليه وسلم) الٰی متی؟ قال حتی یبلغ الغلام و تحیض الجاریة. (سنن دارقطنی ۳/۶۷)
ترجمہ: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ماں کو اس کے بچہ سے الگ کرنے سے منع فرمایا، آپ صلى الله عليه وسلم سے عرض کیاگیا یا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کب تک؟ ارشاد فرمایا کہ جب تک لڑکا بالغ نہ ہوجائے اور لڑکی کو حیض نہ آجائے۔
* حضرت عمران بن حصین رضى الله تعالى عنه کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:
ملعون من فرق بین والدة وولدہا (حاکم ۲/۵۵، دارقطنی ۳/۶۷)
ترجمہ: وہ شخص ملعون ہے جو ماں کو اپنے بچہ سے الگ کردے۔
* حضرت علی کرم اللہ وجہہ روایت کرتے ہیں:
وہب لی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم غلامین اخوین فبعث احدہا فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا علي ما فعل غلامک؟ فاخبرتہ فقال ردہ ردہ. (ابوداؤد حدیث نمبر ۲۶۹۶، ترمذی حدیث نمبر ۱۲۸۴، حاکم ۲/۵۵، دارقطنی ۳/۶۶)
ترجمہ: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مجھے دو غلام عطا فرمائے جو دونوں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کردیا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک دن غلاموں کے بارے میں دریافت فرمایا تو میں نے بیچنے کے بارے میں بتادیا تو آپ نے فرمایا کہ واپس کرو۔
* ایک مشہور حدیث سے بھی اس پر روشنی پڑتی ہے، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:
من لم یرحم صغیرنا ولم یوٴقر کبیرنا فلیس منا (مسند احمد۱/۲۵۷، ترمذی حدیث ۱۹۲۱)
ترجمہ: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔
ان احادیث کا مقتضا یہ ہے کہ قیدی خواتین کو ان کے شیرخوار بچوں سے الگ نہ کیا جائے۔
*  *  *


اسلام میں دیگر اقوام اور
اہل مذاہب کے ساتھ حسن سلوک

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلام میں دیگراقوام اور اہل مذاہب کے حقوق:
یہ پروپیگنڈہ بڑے زوروشور سے کیا جارہا ہے کہ اسلام اور اس کے ماننے والے دوسرے مذہب والوں کو برداشت کرنے کے روادار نہیں، یہ ایک گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے،اس کا حقیقت سے کوئی و اسطہ نہیں، یہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی عالمی سازش کا ایک حصہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام دین ِرحمت ہے، اس کا دامنِمحبت ورحمت ساری انسانیت کو محیط ہے۔ اسلام نے اپنے پیرو کاروں کوسخت تاکید کی ہے کہ وہ دیگر اقوام اور اہل مذاہب کے ساتھ مساوات، ہمدردی، غم خواری ورواداری کا معاملہ کریں، اور اسلامی نظامِ حکومت میں ان کے ساتھ کسی طرح کی زیادتی، بھید بھاؤ،امتیاز کا برتاؤ نہ کیا جائے۔ ان کی جان ومال، عزت وآبرو، اموال و جائداد اور انسانی حقوق کی حفاظت کی جائے۔ ارشاد قرآنی ہے:
لَایَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْا اِلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْن (الممتحنہ:۸)
اللہ تم کو منع نہیں کرتا ان لوگوں سے جو لڑے نہیں دین کے سلسلہ میں اور نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ ان کے ساتھ کرو بھلائی اور انصاف کا سلوک، بے شک اللہ چاہتا ہے انصاف والوں کو۔
اس آیت کریمہ کی تفسیرمیں حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمة الله عليه تحریر فرماتے ہیں کہ : مکہ میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو آپ مسلمان نہ ہوئے اور مسلمان ہونے والوں سے ضد اور پرخاش بھی نہیں رکھی نہ دین کے معاملہ میں ان سے لڑے، نہ ان کو ستانے اورنکالنے میں ظالموں کے مددگار بنے، اس قسم کے غیر مسلموں کے ساتھ بھلائی اور خوش خلقی سے پیش آنے کو اسلام نہیں روکتا، جب وہ تمہارے ساتھ نرمی اور رواداری سے پیش آتے ہیں تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور دنیا کو دکھلادو کہ اسلامی اخلاق کا معیار کس قدر بلند ہے،اسلام کی تعلیم یہ نہیں کہ اگر غیر مسلموں کی ایک قوم مسلمانوں سے برسرپیکار ہے تو تمام غیرمسلموں کو بلاتمیز ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا شروع کردیں ایسا کرنا حکمت وانصاف کے خلاف ہوگا۔(حاشیہ: ترجمہ شیخ الہند:ص:۷۲۹)
دیگر مذاہب والوں کے ساتھ تعاون اور عدم تعاون کا اسلامی اصول یہی ہے کہ ان کے ساتھ مشترک سماجی وملکی مسائل ومعاملات میں، جن میں شرعی نقطہ ٴ نظر سے اشتراک وتعاون کرنے میں کوئی ممانعت نہ ہو ان میں ساتھ دینا چاہیے۔
دیگر مذاہب یا اقوام کے کچھ لوگ اگر مسلمانوں سے سخت عداوت اور دشمنی بھی رکھتے ہوں تب بھی اسلام نے ان کے ساتھ رواداری کی تعلیم دی ہے:ارشاد ربانی ہے:
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَینَہ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ
(سورہٴ فصلت:۲۴)
بدی کا بدلہ نیکی سے دو پھر جس شخص کے ساتھ تمہاری عداوت ہے وہ تمہارا گرم جوش حامی بن جائے گا۔
کفار مکہ کے ساتھ حسن سلوک:
 وہ کونسا ظلم تھا جوکفار ومشرکین نے مکہ مکرمہ میں سرکاردوعالم صلى الله عليه وسلم اور صحابہٴ کرام کے ساتھ روا نہ رکھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کو جادوگر، شاعر اور کاہن کہاگیا، آپ صلى الله عليه وسلم کو جسمانی اور ذہنی اذیتیں دی گئیں، آپ صلى الله عليه وسلم پر پتھروں اور سنگریزوں کی بارش کی گئی، آپ صلى الله عليه وسلم کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے، آپ صلى الله عليه وسلم کا گلا گھونٹا گیا، نماز کی حالت میں آپ صلى الله عليه وسلم پر اونٹ کی اوجھڑی رکھ دی گئی، آپ صلى الله عليه وسلم کے قتل کے منصوبے تیار کیے گئے۔ تین سال تک شعب ابی طالب میں آپ صلى الله عليه وسلم کومحصور رکھا گیا۔جس میں ببول کے پتے کھاکر گزارہ کرنے کی نوبت آئی، طائف میں آپ کو سخت اذیت پہنچائی گئی، لوگوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کو گالیاں دیں اور اتنا زدوکوب کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے نعلین مبارک خون سے لبریز ہوگئے۔ آپ  صلى الله عليه وسلم کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کیاگیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں بھی سکون واطمینان سے رہنے نہیں دیاگیا۔ اور طرح طرح کی یورشیں جاری رکھی گئیں، یہودیوں کے ساتھ مل کر رحمت ِ عالم  صلى الله عليه وسلم اور مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند مہم چھیڑ دی گئی۔ فتح مکہ کے موقع پر کفار مکہ کو موت اپنے سامنے نظر آرہی تھی ان کو خطرہ تھا کہ آج ان کی ایذا رسانیوں کا انتقام لیا جائے گا،سرکاردوعالم صلى الله عليه وسلم نے ان کو مخاطب کرکے فرمایا: اے قریشیو! تم کو کیا توقع ہے،اس وقت میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا؟ انھوں نے جواب دیا: ہم اچھی ہی امید رکھتے ہیں، آپ کریم النفس اور شریف بھائی ہیں اور کریم اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا:
”میں تم سے وہی کہتا ہوں جو یوسف عليه السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا، آج تم پر کوئی الزام نہیں؛ جاؤ تم سب آزاد ہو“(زاد المعارج:۱/۴۲۴)
کیا انسانی تاریخ اس رحم وکرم کی کوئی مثال پیش کرسکتی ہے؟
یہودیوں کے ساتھ حسن سلوک:
یہودیوں کے مختلف قبائل مدینہ میں آباد تھے، نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کے مدینہ ہجرت فرماجانے کے بعد، ابتداءً یہود غیر جانب داراور خاموش رہے لیکن اس کے بعد وہ اسلام اور نبی رحمت صلى الله عليه وسلم اور مسلمانوں کے تئیں اپنی عداوت اور معاندانہ رویہ زیادہ دنوں تک نہ چھپا سکے۔ انہوں نے سرکارِ دوعالم صلى الله عليه وسلم اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی خفیہ سازشیں کیں، بغاوت کے منصوبے بنائے، آپ صلى الله عليه وسلم کے کھانے میں زہر ملایا آپ صلى الله عليه وسلم کو شہید کرنے کی تدبیریں سوچیں، اسلام اور مسلمانوں کو زَک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، اس کی ایک وجہ یہودیوں میں حسد، تنگ دلی، اورجمود وتعصب کا پایاجانا تھا۔ دوسرے ان کے عقائد باطلہ، اخلاق رذیلہ اور گندی سرشت تھی۔ لیکن قربان جائیے رحمت ِ عالم صلى الله عليه وسلم پر کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے ساتھ نہایت اعلیٰ اخلاق کامظاہرہ کیا۔
مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد سرکارِدوعالم صلى الله عليه وسلم نے یہودیوں کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کیا تاکہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان خوش گوار تعلقات قائم ہوں، اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رواداری کا برتاؤ کریں اور مشکلات میں ایک دوسرے کی مدد کریں، معاہدہ کی چند دفعات یہ تھیں۔
۱-  تمام یہودیوں کو شہریت کے وہی حقوق حاصل ہوں گے جو اسلام سے پہلے انھیں حاصل تھے۔
۲- مسلمان تمام لوگوں سے دوستانہ برتاؤ رکھیں گے۔
۳-                اگر کوئی مسلمان کسی یثرب والے کے ہاتھ مارا جائے تو بہ شرط منظوری ورثاء قاتل سے خوں بہا لیا جائے گا۔
۴-                باشندگان مدینہ میں سے جو شخص کسی سنگین جرم کا مرتکب ہو اس کے اہل وعیال سے اس کی سزا کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔
۵-                 موقع پیش آنے پر یہودی مسلمانوں کی مدد کریں گے، اور مسلمان یہودیوں کی ۔
۶- حلیفوں میں سے کوئی فریق اپنے حلیف کے ساتھ دروغ گوئی نہیں کرے گا۔
۷-                مظلوموں اور ستم رسیدہ شخص کی خواہ کسی قوم سے ہو مدد کی جائے گی۔
۸-                یہود پر جو بیرونی دشمن حملہ آور ہوگا تو مسلمانوں پر ان کی امداد لازمی ہوگی۔
۹-                 یہود کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔
۱۰-               مسلمانوں میں سے جو شخص ظلم یا زیادتی کرے گا تو مسلمان اسے سزادیں گے۔
۱۱-                بنی عوف کے یہود ی مسلمانوں میں ہی شمار ہوں گے۔
۱۲-               یہودیوں اور مسلمانوں میں جس وقت کوئی قضیہ پیش آئیگا تو اس کا فیصلہ رسول الله کریں گے۔
۱۳-               یہ عہد نامہ کبھی کسی ظالم یاخاطی کی جانب داری نہیں کریگا۔ (سیرة ابن ہشام: ص:۵۰۱- تا- ۵۰۴)
آپ نے ملاحظہ فرمایا اس معاہدے میں کس فیاضی اور انصاف کے ساتھ یہودیوں کو مساویانہ حقوق دیے گئے ہیں۔
سرکاردوعالم صلى الله عليه وسلم اس معاہدے کے مطابق یہودیوں کے ساتھ برتاؤ کرتے رہے لیکن یہودیوں نے اس معاہدے کی پاس داری نہیں کی، مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کی مدد کی اور اسلام اور مسلمانوں کے ہمیشہ درپے آزار رہے۔
عیسائیوں کے ساتھ حسن سلوک:
عیسائیوں کے ساتھ بھی سرورعالم صلى الله عليه وسلم نے مثالی رواداری برتی۔ مکہ مکرمہ اور یمن کے درمیان واقع ”نجران“ کا ایک موقر وفد آپ صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا انھوں نے سرکاردوعالم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ مذہبی معاملات میں گفتگو کی عیسائیوں کے ساتھ اس موقع پر ایک تاریخی معاہدہ ہوا، جس میں عیسائیوں کو مختلف حقوق دینے پر اتفاق کیاگیا ہے۔معاہدہ کی دفعات درج ذیل ہیں:
(۱)                ان کی جان محفوظ رہے گی۔
۲)              ا ن کی زمین جائداد اور مال وغیرہ ان کے قبضے میں رہے گا۔
(۳)               ان کے کسی مذہبی نظام میں تبدیلی نہ کی جائے گی۔ مذہبی عہدے دار اپنے اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
(۴)               صلیبیوں اور عورتوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے گا۔
(۵)               ان کی کسی چیز پر قبضہ نہ کیاجائے گا۔
(۶)                ان سے فوجی خدمت نہ لی جائے گی۔
(۷)               اور نہ پیداوار کا عشر لیا جائے گا۔
(۸)               ان کے ملک میں فوج نہ بھیجی جائے گی۔
(۹)                ان کے معاملات اور مقدمات میں پوراانصاف کیا جائے گا۔
(۱۰)              ان پر کسی قسم کا ظلم نہ ہونے پائے گا۔
(۱۱)               سود خواری کی اجازت نہ ہوگی۔
(۱۲)              کوئی ناکردہ گناہ کسی مجرم کے بدلے میں نہ پکڑا جائے گا۔
(۱۳)             اور نہ کوئی ظالمانہ زحمت دی جائے گی۔ (دین رحمت:۲۳۹، بحوالہ: فتوح البلدان بلاذری)
مذکورہ بالا جو حقوق اسلام نے دیگر اقوام اور رعایا کو عطا کیے ہیں ان سے زیادہ حقوق تو کوئی اپنی حکومت بھی نہیں دے سکتی۔
جو غیر مسلم اسلامی حکومت میں رہتے ہیں اس کے متعلق اسلامی نقطہ ٴ نظر یہ ہے کہ وہ اللہ ورسول کی پناہ میں ہیں اسی لیے ان کو ذمی کہا جاتاہے اسلامی قانون یہ ہے کہ جو غیر مسلم (ذمی) مسلمانوں کی ذمہ داری میں ہیں ان پر کوئی ظلم ہو تو اس کی مدافعت مسلمانوں پر ایسی ہی لازم ہے جیسی خود مسلمانوں پر ظلم ہوتواس کا دفع کرنا ضروری ہے۔ (المبسوط للسرخسی:۱/۸۵)
منافقین کے ساتھ حسن سلوک:
مدینہ منورہ میں ایک طبقہ ان مفاد پرستوں کا بھی پیدا ہوگیا تھا جو زبان سے ایمان لے آیا تھا مگر دل ایمان ویقین سے یکسر خالی تھے، یہ لوگ اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھ کر بظاہر مسلمانوں کے ساتھ ہوگئے تھے، مسلمانوں کے تئیں سخت کینہ، بغض اور حسد رکھتے تھے، ان کا سربراہ عبداللہ بن ابی ابن سلول تھا، یہ مدینہ کا بااثر آدمی تھا اور سرکاردوعالم صلى الله عليه وسلم کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے مدینہ کے لوگ اس کو حکمراں بنانے کی تیاری کررہے تھے۔ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کی ہجرت کے بعد اس کی آرزو خاک میں مل گئی۔ اپنے کو مسلمان ظاہر کرنے کے باوجود دل سے کافر ہی رہا، منافقین نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی تمام ترکوششیں کیں، نبی رحمت صلى الله عليه وسلم کی شان میں گستاخیاں کیں، کافروں اور یہودیوں سے مل کر اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے تیار کیے،ان سب شرارتوں اور عداوتوں کے باوجود سرکاردوعالم صلى الله عليه وسلم اور مسلمانوں نے ان کے ساتھ بھی حسن اخلاق اور رواداری ہی کا معاملہ فرمایا عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ بھی سرکار دوعالم صلى الله عليه وسلم نے پڑھائی۔ ان کے لڑکے کی درخواست پر اپنا جبہ مبارکہ اس کے کفن کے لیے مرحمت فرمایا۔
اسلامی حکومت میں غیر مسلم رعایا(ذمیوں) کے حقوق:
اسلام تمام افراد بشر اور طبقات انسانی کے لیے رحمت ورافت کا پیکر بن کر آیا تھا، اس لیے اس نے غیر مسلم اقوام اور رعایا کے ساتھ مثالی رحم وکرم، مساوات وہمدردی، اور رواداری کا معاملہ کیا ہے اور ان کو انسانی تاریخ میں پہلی بار وہ سماجی اور قومی حقوق عطا کیے جو کسی مذہب یا تمدن والوں نے دوسرے مذہب وتمدن والوں کو کبھی نہیں دیئے۔ جوغیر مسلم اسلامی ریاست میں قیام پذیر ہوں اسلام نے ان کی جان، مال، عزت وآبرو اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دی ہے۔اور حکمرانوں کو پابند کیا ہے کہ ان کے ساتھ مسلمانوں کے مساوی سلوک کیا جائے۔ ان غیر مسلم رعایا(ذمیوں) کے بارے میں اسلامی تصوریہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی پناہ میں ہیں۔ا س بناء پر اسلامی قانون ہے کہ جو غیر مسلم، مسلمانوں کی ذمہ داری میں ہیں ان پر کوئی ظلم ہوتو اس کی مدافعت مسلمانوں پر ایسی ہی لازم ہے جیسی خود مسلمانوں پر ظلم ہوتو اس کا دفع کرنا ضروری ہے۔(مبسوط سرخسی:۱/۸۵)
اگر کوئی مسلمان ذمی پرظلم کرتا ہے تو یہ مسلمان پر ظلم کرنے سے زیادہ سخت ہے ۔(درمختار مع ردالمحتار:۵/۳۹۶)
جو حقوق مسلمانوں کو حاصل ہیں وہی حقوق ذمیوں کو بھی حاصل ہوں گے، نیز جو واجبات مسلمانوں پر ہیں وہی واجبات ذمی پر بھی ہیں۔ ذمیوں کا خون مسلمانوں کے خون کی طرح محفوظ ہے اور ان کے مال ہمارے مال کی طرح محفوظ ہے۔(درمختار کتاب الجہاد)
اسلام نے طے کیا ہے کہ جو شخص اس غیرمسلم کو قتل کرے گا جس سے معاہدہ ہوچکا ہے وہ جنت کی بوسے بھی محروم رہے گا جب کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت تک پہنچتی ہے۔(حدیث شریف:ابن کثیر:۲/۲۸۹)
ذمیوں کے اموال اور املاک کی حفاظت بھی اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
سرکار دوعالم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد گرامی ہے: سنو جو کسی معاہد (غیرمسلم) پر ظلم کرے، یا اس کے حقوق میں کمی کرے گا،یا طاقت سے زیادہ اس کو مکلف کرے گا یا اس کی کوئی چیز اس کی مرضی کے بغیر لے گا تو میں قیامت کے دن اس کی طرف سے دعوے دار بنوں گا۔(مشکاة شریف:ص:۳۵۴)
غیرمسلم رعایا کو اتنی آزادی حاصل تھی کہ ان کے تعلیمی ادارے آزاد ہوتے اوران کے شخصی قوانین کے لیے عدالتیں بھی آزاد رہیں۔
ذمیوں کو جو حقوق اسلام میں عطا کیے گئے ہیں وہ معاہدئہ اہل نجران کے ضمن میں تفصیل سے بیان کئے جاچکے ہیں۔
مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے سلسلہ میں اسلامی ہدایات:
مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر کفار مظالم کے پہاڑ توڑرہے تھے،ان کا جینا دوبھر کردیا تھا ہر طرح سے ا ن کو پریشان کیا جارہا تھا، مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے حبشہ اور پھر مدینہ منورہ چلے جانے کے بعد بھی سکون میسر نہ آیا، اور کفار یہود اور منافقین کی مشترکہ سازشوں کا شکارر ہے۔ مدینہ کو تاخت وتاراج کرنے اور مسلمانوں کو ملیا میٹ کرنے کے ارادے سے ایک لشکر جرار نے مدینہ پر چڑھائی کردی اس انتہائی مجبوری کی حالت میں اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہ گیا تھا کہ تلوار کا مقابلہ تلوار سے کیاجائے چناں چہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو لڑائی کی اجازت دی اور فرمایا:حکم ہوا ان لوگوں کو جن سے کافر لڑتے ہیں،اس واسطہ کہ ان پر ظلم ہوا۔اور اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے وہ لوگ، جن کو نکالاگیا ان کے گھروں سے اور دعویٰ کچھ نہیں سوائے اس کے،کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔(سورہ حج:آیت:۳۹)
جہاد کی اجازت ظلم وستم کے مقابلہ کے لیے دی گئی اور برسرپیکار لوگوں کے سلسلہ میں بے نظیر رواداری اور حسن اخلاق کی تعلیم بھی دی گئی جو کسی بھی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی چناں چہ اس سلسلہ میں ہدایات درج ذیل ہیں:
(۱)                جنگ میں خود پیش قدمی سے روکا(بقرہ:۱۹۱)
(۲)               ظلم وزیادتی کی ممانعت کی (بقرہ:۱۹۰)
(۳)               جنگ کی بس اس وقت تک اجازت دی جب تک فتنہ وفساد فرونہ ہوجائے(حج:۱۳۹)
(۴)               دشمن کے قاصدوں کو امن دیا (ہدایہ ونہایہ:۳/۴۷)
(۵)               دشمن کی عورتوں، بچوں،معذوروں ، کو مارنے سے منع کیا(تاریخ ابن خلدون:۲/۴۸۹)
(۶)                سرسبز کھیتوں اور پھل دار درختوں کے کاٹنے کی ممانعت فرمائی(تاریخ ابن خلدون:۲/۴۸۹)
(۷)               عبادت گاہوں کو ڈھانے اور تارک الدنیا عابدوں اور مذہبی رہنماؤں کو قتل کرنے سے روکا (ایضاً)
(۸)               اسیران جنگ کو تکلیف پہنچانے کی ممانعت فرمائی۔
(۹)                دشمن اپنے کو کم زور دیکھ کر صلح کی درخواست کرے تو اسے قبول کرنے کی ہدایت فرمائی۔
(۱۰)              پناہ میں آنے والے غیر مسلم کو امن دینے اور عافیت سے رکھنے کی تاکید فرئی۔ (سورئہ توبہ:۳۶)
(۱۱)               محض مال غنیمت کے لیے جہاد کرنے سے روکا۔(ابوداؤد:۱/۳۴۸)
(۱۲)              لوٹ کے مال کو حرام قرار دیا۔ (تاریخ ابن خلدون)
(۱۳)             معاہدہ کرنے والے ذمیوں کی جان ومال کی پوری حفاظت کا مسلمانوں کو پابند فرمایا۔ (دین رحمت:۲۳۹،بحوالہ فتوح البلدان)
وطن کی محبت اسلام میں:
یہ حقیقت ہے کہ انسان کو دنیا میں جینے اور زندگی بسر کرنے کے لیے ہمیشہ ہی غذا کی ضرورت پڑتی ہے انسان کو یہ غذاز مین سے حاصل ہوتی ہے اور بجا طورپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوا ہے، سورئہ حج میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ دوسری آیت شریفہ میں ارشاد فرمایا ہے: ہم نے تم کو زمین میں ٹھہرایا اور تمہارے لیے زندگی کے سامان زمین سے پیدا کئے(سورئہ اعراف) دوسری آیت کریمہ میں ارشاد ربانی ہے: تم زمین میں ہی زندگی بسر کروگے اور زمین میں ہی مروگے اور زمین میں سے ہی نکالے جاؤگے(سورئہ اعراف) جس زمین سے آدمی کا خمیر اٹھاہے جہاں وہ پیدا ہوا اور زندگی بسر کررہاہے اس سے انسان کوفطری لگاؤ اور تعلق ہوتا ہے،اسی لیے عربی زبان کا مشہور مقولہ ہے: انسان کی پیدائشی سرزمین اس کی دودھ پلانے والی ماں ہے، مشہور حکیمانہ جملہ ہے :حب الوطن من الایمان: وطن کی محبت ایمان کا تقاضاہے۔
سرورعالم صلى الله عليه وسلم جب ہجرت فرماکر مکہ مکرمہ سے جانے لگے تو فرمایا کرتے تھے: اے مکہ توخدا کا شہر ہے تومجھے کس قدر محبوب ہے،اے کاش تیرے باشندے مجھے نکلنے پر مجبور نہ کرتے تو میں تجھ کو نہ چھوڑتا۔ (جمع الفوائد:۱/۱۹۵)
جب سرورعالم صلى الله عليه وسلم نے مدینہ منورہ کو وطن بنالیا تو دعا میں فرمایاکرتے تھے: اے اللہ ہمارے اندر مدینے کی اتنی محبت پیدا کردے جتنی تونے مکہ کی محبت دی ہے،مدینے کی آب وہوا درست فرمادے اور ہمارے لیے مدینے کے صاع اور مد (ناپنے کے پیمانے) میں برکت عطا فرما اور مدینہ کے بخار کو (حجفہ مقام) کی طرف منتقل فرمادے۔(بخاری شریف:۱/۵۵۸)
اس حدیث شریف سے وطن عزیز کی محبت کا بھی بخوبی پتہ چلتا ہے نیز اس کی اقتصادی ترقی اور آب وہوا کی درستگی اور صحت وعافیت کی بحالی کی شدید رغبت بھی ظاہرہوئی ہے،اس لیے وطن مالوف کی محبت فطری تقاضابھی ہے اور شرعی بھی۔
ہندوستان کی فضیلت:
حضرت شیخ الاسلام مولاناحسین احمد مدنی علیہ الرحمہ، صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند وصدر جمعیة علماء ہند رقم طراز ہیں:
”اسلامی کتابیں یہ بتاتی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام ہندوستان ہی میں اتارے گئے اور یہاں ہی سکونت کی، اور یہاں ہی سے ان کی نسل دنیا میں پھیلی اور اسی وجہ سے انسانوں کو آدمی کہا جاتاہے“۔ (ہمارا ہندوستان اور اسکے فضائل، بحوالہ تفسیر ابن کثیر:۱/۸۰)
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمدطیب صاحب علیہ الرحمہ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند تحریر فرماتے ہیں:
”ہندوستان نبوت کا دارالخلافہ ہے،یہا ں سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام تشریف لائے حضرت شیث علیہ السلام دوسرے رسول تھے جو اس سرزمین پر وارد ہوئے ان کی قبر شریف کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ اجودھیا میں ہے“۔
دارالعلوم دیوبند کے بانی حجة الاسلام حضرت مولانا محمدقاسم صاحب نانوتوی رحمة الله عليه  نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ رام چندر جی اور کرشن جی کے نام ادب سے لیے جائیں اور ان کے ساتھ گستاخی نہ کی جائے۔ (قومی اتحاد:ص:۷)
حضرت مولانا محمد میاں صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
۱)               انسانیت کا دارالخلافہ ہندوستان ہے۔
(۲)               چوں کہ خلیفہ نبی تھا جس کے پاس حضرت جبرئیل تشریف لایا کرتے تھے لہٰذا سرزمین ہند سب سے پہلے آفتاب نبوت کا مشرق بنا۔
(۳)               اسی سرزمین پر سب سے پہلے حضرت جبرئیل کا نزول ہوا۔
(۴)               ابن سعد نے طبقات میں نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے جسم کا خمیر ”وجنی“ نامی علاقے کی خاک سے بنایا ہے۔ لہٰذا ہندوستان کو یہ شرف حاصل ہے کہ سب سے پہلے نبی … کا خمیر یہیں کی خاک سے بنایاگیا اور حضرت آدم تمام انسانوں کے ابوالآباء تھے اس لیے جملہ انبیاء اور تمام انسانوں کے روحانی اور مادّی اصل واصول کا خمیر ہندوستان ہی سے بنایا گیا، توالد و تناسل کے اصول پر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جملہ انبیاء ،اولیاء اور صلحاء کرام علماء ومشائخ کااوّلین عنصر اسی خاک پاک سے وجود پذیر ہوا۔
حضرت ابن عباس رضى الله تعالى عنه کی روایت ہے کہ عہد ِ الست ہندوستان کے مقام وجنی میں ہی لیا گیا۔ اللہ نے تمام انسانوں کی روحوں کو حضرت آدم کی پشت سے برآمد کرکے ان کو خطاب کیا اور فرمایا کہ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ تمام روحوں نے متفقہ طورپر اللہ کی پروردگاری کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ضرور آپ ہی ہمارے پروردگار ہیں۔(ہمارا ہندوستان اور اس کے فضائل)
وطن عزیز ہندوستان میں مسلمانوں کے ملکی فرائض:
محدث عصر حضرت علامہ انورشاہ کشمیری رحمة الله عليه سابق صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں:
”ہندوستان یا کسی دوسرے غیر مسلم اکثریت والے ملک میں ہر مسلمان اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اسلام نے عام انسانوں کے لیے امن اور آزادی کے جو حقوق تسلیم کیے ہیں اپنے اختیار اور اپنی طاقت کی حد تک ان حقوق کی حفاظت کرے ظاہرہے اس مقصد کے تحت ہر مسلمان کو ملک کی سیاسی، معاشی اور شہری سرگرمیوں میں بقدر طاقت حصہ لینا پڑے گا،تاکہ اپنے ہاتھ میں سیاسی اور معاشی قوت کے ذریعہ وہ ملک کے عام باشندوں کی جان ومال اور روٹی کپڑے کے حقوق کی حفاظت کا اپنے وسائل کی حد تک فرض انجام دے سکے۔ ایک مسلمان اگر محض تماشائی بن کر زندگی گذارنا چاہے اور ملک کی سیاسی سرگرمیوں اور معاشی واقتصادی جدوجہد سے کنارہ کش رہے تو وہ خدا کے عام بندوں کی خدمت کا فرض کیسے ادا کرسکتا ہے۔ (ہندوستان میں مسلمانوں کے ملکی فرائض)
ہمارے اکابر علماء کرام اور عام مسلمانوں نے ہمیشہ ملک میں محبت واتحاد، حسن معاشرت ، فرقہ وارانہ یگانگت اور قومی یک جہتی ورواداری کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
”ہم باشندگانِ ہندوستان بحیثیت ہندوستانی ہونے کے، ایک اشتراک رکھتے ہیں، جو کہ اختلاف ِمذاہب اور اختلاف تہذیب کے ساتھ ہر حال میں باقی رہتا ہے جس طرح ہماری صورتوں کے اختلافات ذاتوں اور صورتوں کے تباین، رنگتوں اور قامتوں کے افتراقات سے ہماری مشترکہ انسانیت میں فرق نہیں آتا اسی طرح ہمارے مذہبی اور تہذیبی اختلافات ہمارے وطنی اشتراک میں خلل انداز نہیں ہیں، ہم سب وطنی حیثیت سے ہندوستانی ہیں ۔
لہٰذا وطنی منافع کے حصول اور مضرتوں کے ازالے کا فکر اور اس کے لیے جدوجہد مسلمانو ں کا بھی اسی طرح فریضہ ہے جس طرح دوسری ملتوں اور غیرمسلم قوموں کا اس کے لیے سب کو مل کر پوری طرح کوشش کرنی ازبس ضروری ہے،اگر آگ لگنے کے وقت تمام گاؤں کے باشندے آگ نہ بجھائیں تو تمام گاؤں برباد ہوجائے گا، اور سبھی کے لیے زندگی وبال ہو جائے گی۔اسی طرح ایک ملک کے باشندوں کا فرض ہے خواہ ہندوہوں یا مسلمان ، سکھ ہوں یا پارسی کہ ملک پر جب کوئی عام مصیبت پڑجائے،تو مشترکہ قوت سے اس کے دور کرنے کی جدوجہد کریں اشتراک وطن کے فرائض سب پریکساں عائد ہوتے ہیں،مذاہب کے اختلاف سے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، ہر ایک اپنے مذہب پر پوری طرح قائم رہ کے ایسے فرائض کو انجام دے سکتا ہے، یہی اشتراک، میونسپل بورڈوں، کونسلوں، اسمبلیوں میں پایاجاتاہے، اور مختلف المذاہب ممبر فرائض ِشہر یا ضلع یا صوبہ یا ملک کو انجام دیتے ہیں اور اس کو ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی معنی اس جگہ متحدہ قومیت کے ہیں۔ (ماخوذ ازخطبات فدائے ملت:ص:۱۶،۲۱۵)
* * *



مذہبی آزادی - بقائے باہم کا ایک درخشاں اصول
(قرآن وسنت کے تناظر میں)


اسلام ایک استدلالی وعقلی اور مبرہن ومدلل مذہب ہے۔ جسے مالک الملک نے ایک اصول وضابطے کی شکل میں کائنات انسانی میں بسنے والے لوگوں کے لئے طے کرکے دنیا میں اتار دیا ہے۔ یہ انسان کے لئے زندگی کے تمام تر شعبہ جات میں اس کی مکمل رہنمائی کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا، اس کی تبلیغ و دعوت کے اصول حکمت و دانشمندی، وعظ و تلقین اور بحث ومباحثہ پر قائم ہیں۔ پیغمبراسلام صلى الله عليه وسلم پر جو صحیفہٴ ربانی نازل ہوا، اس نے سب سے پہلے عقل انسانی کو مخاطب کیا۔اور غور وفکر، فہم و تدبر کی دعوت دی کہ اسلام اپنی کسی بھی تعلیم کو لوگوں پر زبردستی نہیں تھوپتا ہے۔ بلکہ وہ لوگوں کو غور وفکر کا موقع فراہم کرتا ہے۔ حق وباطل کے امتیاز کو واضح کرتا ہے۔ ضلالت وگمراہی اور نجات و فلاح کے راستے سے لوگوں کو روشناس کراتا ہے پھر یہ کہ جو مذہب اپنی ترویج واشاعت کے لئے دعوت و تبلیغ، ارشاد و تلقین کا راستہ اختیار کرنے اور سوچنے سمجھنے کا لوگوں سے مطالبہ کرتا ہو، وہ بھلا کیوں کسی مذہب کے پیروکاروں کو جبر وکراہ کے ذریعہ اپنے مذہب میں داخل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور زور زبردستی اختیار کرے گا۔متعصبین اور معاندین اسلام اس کی اشاعت کو فتوحات اور ملکی محاربات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے ان کی زبان نہیں تھک رہی ہے کہ، اسلام کو بزور شمشیر پھیلایا گیا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ اسلام نے اپنی ذاتی خوبیوں اور محاسن سے لوگوں کو اپنا مطیع فرمان نہیں بنایا بلکہ اپنی طاقت و قوت سے جبر واکراہ کے ذریعہ دین اسلام کا قلاوہ ان کی گردن میں ڈال دیا ہے اور اسی جبر واکراہ نے امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ رضا ورغبت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ لیکن ہم تعلیمات اسلام کی روشنی میں اس قسم کی مسموم ذہنیت رکھنے والوں کے باطل خیالات کو پرکھیں گے، کہ قرآنی آیات اور تعلیمات نبوی صلى الله عليه وسلم میں مذہبی آزادی کے سلسلہ میں کیا احکام وتعلیمات موجود ہیں اوراسلام کے ماننے والے ان تعلیمات پر کتنا عمل پیراہوئے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کو طویل معرکہ آرائیوں سے سابقہ پڑا ہے۔ ان کے یہ محاربات جارحانہ ہوں یا مدافعانہ، فتوحاتِ ملکی کے لئے ہوں یا اعلاء کلمة اللہ کے لئے، ان تمام محاربات و فتوحات کا مقصد اور حاصل یہ نہ تھا کہ کسی کو بزورِ شمشیر اور حکومت و اقتدار کے بل بوتے پر مسلمان بنایا جائے اسلام نے تو صرف اور صرف اپنی خوبیوں اور محاسن سے عالم میں رسوخ اور مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس نے جس تیزی کے ساتھ اقوام وملل کے اذہان و قلوب کو مسخر کیا اس طرح کی نظیر دوسرے مذاہب میں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ یہ بات کہ اسلام میں کوئی زور و زبردستی نہیں ہے، اس کو ثابت کرنے کے لئے شریعت اسلام کے اصول، رسول صلى الله عليه وسلم کے اوصاف وخصائل اخلاق حمیدہ وطریقہ تعلیم اور پھر آپ کے بعد آپ کے صحابہ کا طرز عمل یہ ساری چیزیں تاریخ میں محفوظ ہیں۔ شریعت اسلام نے بہ زور و تخویف کسی کو مسلمان بنانے کی سخت ممانعت کی ہے قرآن کی متعدد آیات اس بات پر شاہد عدل ہیں۔
(۱) لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی فمن یکفر بالطاغوت ویومن باللّٰہ فقد استمسک بالعروة الوثقٰی لا انفصام لہا واللّٰہ سمیع علیم. (سورہ البقرة ۲۵۶)
ترجمہ: زبردستی نہیں ہے دین کے معاملہ میں بے شک جدا ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے اب جب کوئی نہ مانے گمراہ کرنے والوں کو اور یقین لائے اللہ پر تو اس نے پکڑلیا حلقہ مضبوط جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ جانتا اور سنتا ہے۔
(۲) افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مومنین. (یونس ۹۹)
ترجمہ: کیا تو زبردستی کرے گا لوگوں پرکہ ہوجائیں با ایمان۔
(۳) ولا تسبو الذین یدعون من دون اللّٰہ فیسبو اللّٰہ عدواً بغیر علم. (الانعام۱۰۸)
ترجمہ: اور تم لوگ برا نہ کہو ان کو جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا بس وہ برا کہنے لگیں گے بربنائے دشمنی بغیر جانے۔
(۴) ولو شاء ربک لجعل الناس امة واحدة ولا یزالون مختلفین الا من رحم ربک ولذٰلک خلقہم وتمت کلمة ربک لأملئن جہنم من الجنة والناس اجمعین. (ہود:۱۱۸-۱۱۹)
ترجمہ: اوراگر چاہتا تیرا رب تو بنادیتا لوگوں کو ایک جماعت اور لوگ ہمیشہ باہم اختلاف کرتے رہیں گے مگر جن پر رحم کیا تیرے رب نے اور اسی واسطے ان کو پیدا کیا اور پوری ہوئی بات تیرے رب کی کہ البتہ بھر دوں گا دوزخ جنوں سے اور آدمیوں سے اکٹھے۔
(۵) ولو شاء ربک لآمن من فی الارض کلہم جمیعا افانت تکرہ الناس حتّٰی یکونوا موٴمنین. (یونس۹۹)
ترجمہ: اوراگر تیرا رب چاہتا بے شک ایمان لے کر آتے جتنے لوگ کہ زمین میں ہیں سارے۔
(۶) ولو شاء اللّٰہ ما اشرکوا. (الانعام:۱۰۷)
ترجمہ: اوراگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے۔
(۷) ان نشأ ننزل علیہم من السماء آیة فظلت اعناقہم لہا خاضعین. (الشعراء:۴)
ترجمہ: اگر ہم چاہیں تو اتار دیں ان پر آسمان سے ایک نشانی پھر ہوجائیں ان کی گردنین ان کے آگے نیچی۔
(۸) انک لا تہدی من احببت ولکن اللّٰہ یہدی من یشاء وہو اعلم بالمہتدین. (القصص:۵۶)
ترجمہ: تو راہ پر نہیں لاسکتا جس کو تو چاہے لیکن اللہ راہ پر لاتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر آئیں گے۔
(۹) وما انت علیہم بجبار فذکر بالقرآن من یخاف وعید. (ق:۴۵)
ترجمہ: تو نہیں ہے ان پر زور کرنے والا سو تو سمجھا قرآن سے اس کو جوڈرے میرے ڈرانے سے۔
(۱۰) فذکر انما انت مذکر لست علیہم بمصیطر. (الغاشیہ: ۲۱-۲۲)
ترجمہ: سو تو سمجھائے جا تیرا کام سمجھانا ہے تو نہیں ہے ان پر مسلط۔
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے انسانوں کو ارادہ واختیار کی آزادی دی ہے۔ اور رد و قبول کے فیصلوں کو اس کے ہاتھوں سونپ دیا ہے۔ دین ومذاہب کے سلسلے میں وہ بالکل آزاد ہیں۔ چاہے تو قبول کرکے اپنی دنیا وآخرت کو سنواریں،اور چاہے تو انجامِ بد کے لئے تیار ہوجائیں۔ کیونکہ اسلامی ریاست کے ذریعہ ان پر زور زبردستی، طاقت وقوت اور جبر واکراہ اور حکومت واقتدار کا استعمال کرکے اپنا ہم مذہب بنانا ناجائز ہے۔ اسی لئے تمام انبیاء ورسل کو اللہ نے پیغام رساں بنایا اور انہیں حکم دیا کہ صرف میرا پیغامِ حق ان تک پہنچادو، تم پھر اپنے فرضِ منصبی سے آزاد ہو۔ تمہارا کام صرف پیغام رسانی کا ہے۔ وہ اپنے مذہبی رسم ورواج، دین ومذہب کے افعال واعمال کی ادائیگی میں قطعی طور پر کسی کے پابند نہیں ہیں حق و باطل کا فیصلہ تو ہم کریں گے۔ لا اکراہ فی الدین کی آیت کے ذیل میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں:
”لا یتصور الاکراہ فی ان یومن احد اذ الاکراہ الزام الغیر فعلا لایرضی بہ الفاعل وذا لایتصور الا فی افعال الجوارح واما الایمان فہو عقد القلب وانقیادہ لایوجد بالاکراہ“ (تفسیرمظہری،ج:۱، ص:۲۸۰)
کسی کے ایمان قبول کرنے کے باب میں مجبور کرنے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ مجبور کرنے کا مطلب ہے کسی کے سر ایسا کام تھوپ دیا جس کو وہ ناپسند کرتا ہے لہٰذا یہ چیز افعال وجوارح میں تو پائی جاسکتی ہے لیکن ایمان جو تصدیق قلبی اور انقیاد محض کا نام ہے دباؤ کے ساتھ نہیں پایا جاسکتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسر قرآن مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں:
”اس اصل عظیم کا اعلان کہ دین واعتقاد کے معاملے میں کسی طرح کا جبر واکراہ جائز نہیں۔ دین کی راہ دل کے اعتقاد و یقین کی راہ ہے۔اور اعتقاد دعوت وموعظت سے پیداہوسکتا ہے نہ کہ جبر واکراہ سے۔ احکامِ جہاد کے بعد بھی یہ ذکر اس لئے کیاگیا تاکہ واضح ہوجائے کہ جنگ کی اجازت ظلم وتشدد کے انسداد کے لئے دی گئی ہے نہ کہ دین کی اشاعت کے لئے۔ دین کی اشاعت کا ذریعہ ایک ہی ہے اور وہ دعوت ہے۔ (مولانا ابوالکلام آزاد: ترجمان القرآن ص:۲۳۲ جلد دوم)
اس میں کچھ تردد شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ مسلمانوں نے اس حکم خداوندی اور عہدنامہٴ رسول کی پاسداری کی ہے بلکہ ان احکامات ومعاہدات کے مطیع و فرمانبردار بن کر رہے اور ان کا پورا پورا حق ادا کیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم اور آپ کے خلفاء راشدین نے مختلف اقوام وملل سے جو معاہدے کیے اور ان کے ساتھ جو صلح نامے تیار کئے ان میں ہمیں اسلام کی وسعت نظری کا اندازہ اور دریادلی کا ثبوت ملتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ غیر اقوام کے لوگوں نے بھی اس چیز کو تسلیم کیا ہے۔ کہ اسلام کس طرح سے غیر مذاہب کے لوگوں کا ادب واحترام محفوظ رکھتا ہے انھیں کس طرح سے مذہبی آزادی، معاشرتی و تجارتی آزادی کی چھوٹ دیتا ہے۔ بطور مثال کچھ معاہدات وصلح نامہ حوالہٴ قرطاس کئے جاتے ہیں اہل نجران کی درخواست پر نبی صلى الله عليه وسلم نے جو انہیں صلح نامہ لکھ کر دیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے۔“
ولنجران وحاشیتہم جوار اللّٰہ وذمة محمد النبی صلی اللّٰہ علی انفسہم وملتہم، وارضہم واموالہم وغائبہم وشاہدہم وغیرہم وبعثہم وامثلتہم لا یغیر ما کانوا علیہ ولا یغیر حق من حقوقہم. (فتوح البلدان ص ۷۳)
ترجمہ: نجران کے عیسائیوں اور ان کے ہمسایوں کے لئے پناہ اللہ کی اور محمد نبی صلى الله عليه وسلم کا عہد ہے ان کے جانوں کے لئے۔ ان کے مذہب ان کی زمین، ان کے اموال، ان کے حاضر وغائب، ان کے اونٹوں ان کے قاصدوں،اور ان کے مذہبی نشانات سب کے لئے جس حالات پر وہ اب تک ہیں اسی پر بحال رہیں گے۔ ان کے حقوق میں سے کوئی حق اور نشانات میں سے کوئی نشان نہ بدلا جائے گا۔
حضرت عمر نے اہل بیت المقدس کو جو صلح نامہ لکھ کر دیا تھا اس کے الفاظ اس طرح ہیں:
اعطاہم امانا لانفسہم واموالہم ولکنائسہم وصلبانہم وسقیمہا وبریہا وسائر ملتہا انہ لا یسکن کنائسہم ولا تہدم ولا ینتقص منہا ولا من صلبہم ولا من مثئی من اموالہم ولا یکرہون علی دینہم ولا یضار احد عنہم. (تاریخ طبری فتح المقدس، ج۴، ص۱۵۹)
ترجمہ: ان کو امان دی ان کی جان ومال اور ان کے کنیسوں اور صلیبوں اور ان کے تندرستوں اور بیماروں کے لئے یہ امان ایلیا کی ساری ملت کے ہے۔عہد کیاجاتا ہے کہ ان کے کنیسوں کو مسلمانوں کا مسکن نہ بنایا جائے گا اور نہ ہی ان کو منہدم کیا جائے گا۔ نہ ان کے احاطوں اور ان کی عمارتوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔ نہ ان کی صلیبوں اور ان کے اموال میں سے کسی چیز کو نقصان پہنچایا جائے گا ان پر دین کے معاملے میں کوئی جبر نہ کیا جائے گا اور نہ ان میں سے کسی کو ضرر پہنچایاجائے گا۔
۱۴ھ میں فتح دمشق کا واقعہ پیش آیا حضرت خالد بن ولید نے اس موقع سے جو امان نامہ لکھ کر اہل دمشق کو دیا اس کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:
اعطاہم امانا علی انفسہم واموالہم وکنائسہم وسور مدینتہم لا یہدم ولا یسکن شیٴ عن دورہم. (فتوح البلدان ص ۱۲۷-۱۲۸)
ان کو امان دی ان کی جان ومال کے لئے اوران کے کنیسوں اور ان کے شہر کے فصیل کے لئے ان کے مکانات میں سے نہ کوئی توڑا جائے گا اورنہ ہی مسلمانوں کا مسکن بنایا جائے گا۔
حضرت خالد بن ولید نے اہل عانات کو صلح نامہ لکھ کردیا تھا۔
لایہدم لہم بیعة ولا کنیسة وعلی ان یضربوا نواقیسہم فی ای ساعة شاوٴا من لیل او نہار الا فی اوقات الصلاة وعلی ان یخرجوا الصلبان فی ایام عیدہم. (فتوح البلدان ص۸۶)
ان کاکوئی معبد اور کوئی گرجا گھر منہدم نہ کیا جائے گا رات دن میں جس وقت چاہیں اپنے ناقوس بجائیں مگر اوقات نماز کا احترام ملحوظ رکھیں ان کو حق ہوگا کہ اپنے ایام عیدمیں صلیب نکالیں۔
اسلام نے غیرمسلموں کے ساتھ عزت واحترام کا معاملہ کیا اور ان کا کتنا پاس ولحاظ رکھا۔ اگر انھوں نے اسلامی ریاست میں رہنا قبول کرلیا اور ان سے عہد وپیمان ہوچکا تو۔ اب ان کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری قرار پائی۔ اب کسی طرح کی ظلم وزیادتی کا ان کو شکار نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ اس کا اندازہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان مبارک سے ہوتا ہے۔
الا من ظلم معاہدًا وانتقصہ او کلفہ فوق طاقتہ او اخد منہ شیئاً بغیر طیب نفس فانا حجیجہ یوم القیامة. (ابوداؤد : حدیث نمبر ۳۰۵۲)
”خبردار جس کسی نے معاہد (غیرمسلم) پر ظلم کیا یا اس کا حق غصب کیا یا اس کی استطاعت سے زیادہ اس سے کام لیا۔ اس کی رضا کے بغیر اس کی کوئی چیز لی تو بروز قیامت میں اس کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جھگڑوں گا۔ (القرطبی، الجامع لاحکام القرآن ج:۸، ص:۱۱۵)
حضرت ابوبکررضى الله تعالى عنه جس کسی لشکر کو روانہ فرماتے اس کو یہ ہدایت دیتے تھے:
ولا تہدموا بیعة ولا تقتلو الولدان ولا الشیوخ ولا النساء وستجدون اقوامًا حبسوا انفسہم فی الصوامع فدعوہم، وما حبسوا انفسہم لہ وستجدون آحرین اتخد الشیطان فی روٴوسہم افحاصًا فاذا وجدتم اولیک فاضربوا اعناقہم.
کسی عبادت گاہ کو مت گرانا اور نہ ہی بچوں بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا تمہیں بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جنھوں نے اپنے آپ کو گرجا گھروں میں محبوس کررکھا ہے اور دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا۔ ان کے علاوہ تمہیں کچھ دوسرے لوگ ملیں گے جو شیطانی سوچ کے حامل ہیں جب تمہیں ایسے لوگ ملیں تو ان کی گردنیں اڑادینا۔ (البیہقی، السنن الکبریٰ، جلد ۹، ص:۸۵، عبدالرزاق المصنف ۵-۱۹۹)
ایک فعہ حضرت عمرو بن عاص ولی مصر کے بیٹے نے ایک غیرمسلم کو ناحق سزا دی۔ خلیفہ وقت امیرالمومنین حضرت عمر رضى الله تعالى عنه کے پاس جب اس کی شکایت ہوئی تو انھوں نے سرعام گورنرمصر کے بیٹے کو اس غیرمسلم مصری سے سزادلوائی اور ساتھ ہی فرمایا تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔
حضرت عمر رضى الله تعالى عنه نے بیت المقدس کے کلیسا کے ایک گوشے میں نماز پڑھی پھر خیال آیا کہ کہیں مسلمان میری نماز کو حجت قرار دے کر عیسائیوں کو نکال نہ دیں اسلئے ایک خاص عہد نامہ لکھواکر بطریق (پادری) کو دیا۔ جس کی رو سے کلیسا کو عیسائیوں کیلئے مخصوص کردیاگیا۔ اور یہ پابندی لگادی گئی کہ ایک ہی مسلمان کلیسا میں داخل ہوسکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ (اسلامی ریاست، امین احسن اصلاحی،ص:۲۹)
علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں:
”حضرت عبداللہ بن عباس کا فتوی بھی اس لحاظ سے تھا کہ اس وقت تک مسلمان اور دوسری قومیں اچھی طرح ملی بھی نہیں تھیں۔ لیکن جب یہ حالت نہیں رہی، تو وہ فیصلہ بھی نہیں رہا۔ چنانچہ خاص اسلامی شہروں میں اکثریت کے ساتھ گرجا، بت خانے، آتش کدے بنے کہ ان کا شمار نہیں ہوسکتا۔ بغداد خاص مسلمانوں کا آباد کیا ہوا شہر ہے۔ وہاں کے گرجوں کے نام مجمع البلدان میں کثرت سے ملتے ہیں۔ قاہرہ میں جو گرجے بنے وہ مسلمانوں ہی کے عہد میں بنے۔ (رسائل شبلی)
اسلام قطعی طور پر مذہب کے سلسلہ میں جبر واکراہ کو سرے سے خارج قرار دیتا ہے۔ اس لئے کہ اسلام صرف ظاہری و روایتی رسوم کا نام نہیں ہے بلکہ وہ لوگوں کے دلوں کو اپنی دعوت و تبلیغ کا نشیمن بنانا چاہتا ہے۔ وہ انسان کے خرمن دل کو نور ایمانی سے منور کرنا چاہتا ہے۔ کیسا اسلام اسے درکار ہے کیسے دین و مذہب کا متقاضی ہے سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:
”اسلام کی دو حیثیت ہے ایک حیثیت میں وہ دنیا کے لئے اللہ کا قانون ہے۔ دوسری حیثیت میں وہ نیکی و تقویٰ کی جانب ایک دعوت اور پکار ہے۔ پہلی حیثیت کا منشاء دنیا میں امن قائم کرنا ہے اس کو ظالم و سرکش انسانوں کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچانا اور دنیا والوں کو اخلاق وانسانیت کے حدود کا پابند بنانا ہے۔ جس کے لئے قوت وطاقت کے استعمال کی ضرورت ہے لیکن دوسری حیثیت میں وہ قلوب کا تزکیہ کرنے والا ارواح کو پاک وصاف کرنے والا، حیوانی کثافتوں کو دور کرکے بنی آدم کو اعلیٰ درجہ کا انسان بنانے والا ہے۔ جس کے لئے تلوار کی دھار نہیں بلکہ ہدایت کا نور، دست و پاکا انقیاد نہیں بلکہ دلوں کا جھکاؤ اور جسموں کی پابندی نہیں بلکہ روحوں کی اسیری درکار ہے۔اگر کوئی شخص سرپر تلوار چمکتی ہوئی دیکھ کر لا الٰہ الا اللہ کہہ دے مگر اس کا دل بدستور ماسوی اللہ کا بتکدہ بنارہے تو دل کی تصدیق کے بغیر یہ زبان کا اقرار کسی کام کا نہیں اسلام کے لئے اس کی حلقہ بگوشی قطعاً بیکار ہے۔ (الجہاد فی الاسلام،ص:۱۶۵)
علامہ سید سلیمان ندوی اپنے مقالہ ”ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کیوں کر ہوئی“ میں لکھتے ہیں: ”تمام دنیا کے مذاہب میں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے یہ فلسفہ دنیا میں ظاہر کیا کہ ”مذہب یقین کا نام ہے اور یقین تلوار کی دھار اور نیزہ کی نوک سے نہیں پیدا کیا جاسکتا“ (بحوالہ غیرمسلموں سے تعلقات اور مذہبی رواداری، مفتی سرور فاروقی، جمعیت پیام امن)
آپ صلى الله عليه وسلم اور سلاطین اسلام مذہبی آزادی اور رواداری کے ایسے نقوش چھوڑ گئے جس کی مثال پیش کرنے سے دنیا کی (قدیم وجدید تاریخ) قاصر ہے غزوئہ خیبر میں جو مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا تھا اس میں توریت کے متعدد نسخے تھے۔ یہودیوں نے درخواست کی وہ ان کو عطا کردئیے جائیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حکم دیا کہ یہ سب صحیفے ان کے حوالے کردئیے جائیں۔ یہودی فاضل ڈاکٹر اسرائیل ولفنسون اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
”اس واقعہ سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان مذہبی صحیفوں کا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے دل میں کس درجہ احترام تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کی اس رواداری اور فراخ دلی کا یہودیوں پر بڑا اثر پڑا۔ وہ آپ کے اس احسان کو کبھی بھول نہیں سکتے کہ آپ نے ان کے صحیفوں کے ساتھ کوئی ایسا سلوک نہیں کیا جن سے ان کی بے حرمتی لازم آتی ہو۔ اس کے بالمقابل انہیں یہ واقعہ بھی خوب یاد ہے کہ جب رومیوں سے یروشلم کو سن ۷۰ قبل مسیح میں فتح کیا تھا تو انھوں نے ان مقدس صحیفوں کو آگ لگادی اور ان کو اپنے پاؤں سے روندا۔ اسی طرح متعصب نصرانیوں نے اندلس میں یہودیوں پر مظالم کے دوران توریت کے صحیفے نذر آتش کئے یہ ہے وہ عظیم فرق جو ان فاتحین (جن کا ابھی ذکر گذرا ہے) اور اسلام کے نبی کے درمیان ہمیں نظر آتا ہے۔ (تاریخ الیہود فی بلاد العرب ص۱۷۰) (ماخوذ رسول اللہ کی انسانیت نوازی عبدالعلیم حبیب ندوی، ادارہ احیاء علم لکھنوٴ)
ایک اور فاضل موٴرخ مسٹرجیسن جو ایک بے باک تاریخ داں ہیں جنھوں نے موجودہ دور کے تمام عیسائیوں اور مسلم موٴرخوں کی تحریروں کا بہت ہی باریک بینی سے اور ناقدانہ مطالعہ کیا ہے، لکھتے ہیں:
”آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے نہایت فراخدلی کے ساتھ اسلامی مملکت میں آباد عیسائیوں کی جان، ان کی تجارت اور ان کے مال واسباب اور مذہبی امور کی ادائیگی اور ہر قسم کے تحفظ کی ضمانت دے دی۔ اور رواداری کے اصول پر نہ صرف خلفائے راشدین ہی نے پوری سختی سے عمل کیا تھا بلکہ تمام عرب حکمراں بھی رواداری کے اس اصول پر کاربند رہے۔ اسلام اورمسلمانوں کے عروج کی تاریخ رواداری، بے توجہی اور ان کے اعلیٰ قدروں کو اجاگر کرنے کی تاریخ ہے۔ اس دور کی مسلمانوں کی سلطنتیں ستم رسیدہ، یہودیوں،اور نسطوری، یعقوبی اور دوسرے عقائد رکھنے والے عیسائیوں کی پناہ گاہ تھیں اور ان کے مذہبی عقائد سے اختلاف کے باوجود مسلم ممالک میں انھیں پناہ لینے کی کھلی آزادی تھی۔ بلکہ انھیں مذہبی فرائض کی ادائیگی اور اپنی عبادت گاہوں کو تعمیر کرنے کی بھی آزادی حاصل تھی“۔ (بحوالہ اسلام اور رواداری ص:۵۹، دعوت، دہلی ۱۳ ستمبر ۱۹۸۳/)
ہملٹن نامی ایک انگریز سیاح جو باشاہ عالمگیر کے زمانے میں ہندوستان آیا تھا وہ اپنے سفرنامے میں مختلف شہروں کا عینی مشاہدہ درج کرتے ہوئے شہر ٹھٹھ کے متعلق لکھتا ہے:
”حکومت کا مسلمہ مذہب اسلام ہے۔ لیکن تعداد میں اگر دس ہندو ہیں تو ایک مسلمان ہے، ہندوؤں کے ساتھ مذہبی رواداری پوری طرح برتی جاتی ہے۔ وہ اپنے برت رکھتے ہیں، پوجا پاٹ کرتے ہیں اور تہواروں کو اسی طرح مناتے ہیں جیسے کہ اگلے زمانے میں مناتے تھے۔ جبکہ بادشاہت ہندوؤں کی تھی۔ (سفرنامہ ہملٹن، ج:۱، ص:۱۲۷-۱۲۸)
سرولیم میور نے لکھا:
”رسول خدا نے بنی حارث اور نجران کے پادریوں کو پوری مذہبی آزادی دینے کا اقرار کیا تھا۔ وہ اپنے طریقے پر اپنے گرجاؤں میں جس طرح چاہیں عبادت کریں بشپ اور راہب اپنی جگہ پر بحال رہیں جب تک یہ لوگ امن وامان کے ساتھ رہیں ان کے ساتھ کچھ تعرض نہ ہوگا۔ (لائف آف محمد جلد دوم ص۲۹۹)
دین ومذہب کے سلسلے میں مسلمانوں کے ساتھ دوسری اقوام نے کیا سلوک و برتاؤ کیا، کس طرح سے انھیں مذہبی جبر واکراہ کا شکار بنایا اس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں آج تک محفوظ ہے۔ کہ اندلس کی سرزمین پر مسلمانوں نے کئی سو سال تک حکومت کی اور وہاں کے چپہ چپہ پر اسلامی تہذیب وثقافت کی یادگاریں قائم کیں۔ لیکن جب حکومت واقتدار ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ادبار نے ان کو آگھیرا تو عیسائیوں نے ان کے ساتھ کیسی سفاکی و درندگی کا مظاہرہ کیا۔ ایک انگریز مورخ کی زبانی سنئے وہ لکھتا ہے:
”غرناطہ کے سقوط کے بعد ان تمام عربوں کی موت تھی۔ جنھوں نے اسپین پر سات سو اکیاسی (۷۸۱) سال (۷۱۱-۱۴۹۲) تک حکومت کی، فردی ننڈ سے معاہدہ تو ضرور ہوگیا تھا۔ لیکن اس پر عمل کرنے کا اس کا مطلق ارادہ نہ تھا۔ اس نے غرناطہ پر قبضہ کرلیا۔ یہی اس کی زندگی کا مقصد تھا۔ وہ اپنی سیاسی زندگی میں ذاتی مفاد کی خاطر ہر چیز کو قربان کرسکتا تھا۔ اس نے سوچ رکھا تھا کہ وہ عربوں کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنے مذہب اور طرز زندگی کو ترک کرکے یہاں کے باشندوں میں ضم ہوجائیں۔ وہ اپنے مذہبی قوانین میں تبدیلی اس طرح کرتا رہا کہ سارے مسلمان کیتھولک بنے رہیں۔ مسلمانوں پر عبادت کرنے کی پابندی عائد کی گئی۔ پھر وہ کھل کر اس اعلان کے ساتھ سامنے آگیا کہ وہ مسلمان جو عیسائیت قبول نہ کریں ملک بدر کردئیے جائیں۔ غرناطہ میں کہرام مچ گیا، مگر کوئی سماعت نہیں ہوئی مسلمان گرجا جاتے عیسائیوں کی طرح عبادت کرتے، مگر گھر آکر توبہ استغفار کرتے۔ “ (ہسٹری آف دی ورلڈ جلد ششم حصہ دوم ص ۲۵۸)
سنگدلی اور بے رحمی کی یہی تاریخ صقلیہ میں بھی دہرائی گئی۔ جہاں عربوں نے دوسوسال تک حکومت کی تھی۔ لیکن جب ۱۰۷۲ میں پلرمو کی لڑائی میں شکست ہوئی تو جس طرح مسلمانوں کو تباہ کیا وہ بھی ایک موٴرخ کی زبانی سنئے:
”پلرمو میں پانچ سو مسجدیں تھیں، ان کو منہدم کرکے گرجا گھر میں تبدیل کردیاگیا۔ وہاں علماء صوفیا اور حکماء کی جتنی قبریں تھیں، سب نیست و نابود کردی گئیں۔ چارلس دوم کے زمانے میں سسلی کے مسلمانوں کو زبردستی عیسائیوں کا بپتسہ دیاگیا۔ نوسیرا اور بوسیرا کے مسلمانوں کی تعداد اسّی (۸۰) ہزار تھی ان کو زبردستی عیسائی بنالیاگیا۔ ساری جگہیں مسلمانوں سے خالی کرالی گئیں۔ (ہسٹری آف ورلڈ ۹۰/۸۲)
اسلام نے دوسرے مذاہب وادیان کے ماننے والوں کو کتنا عزت وتوقیر سے نوازا، ان کو کس طرح کی مذہبی آزادی دی اور کس طرح ان کے حقوق کا پاس ولحاظ رکھا۔ اس کے بالمقابل مسلمانوں کے ساتھ دوسرے مذاہب کے لوگوں نے کیا طریقہ کار اپنایا کس طرح سے ان کی عزت وناموس سے کھلواڑ کیا اور ان کے مذہبی حقوق کو چھین لیا۔ اور ان کو اپنا دین ومذہب ماننے پر مجبور کیا۔ ہم نے انھیں کی زبانی مندرجہ بالا سطروں میں ملاحظہ کیاہے۔ یہ ہے وہ واضح فرق اسلام میں اور دوسرے ادیان ومذاہب میں اسلام جیسی وسعت قلبی دنیا آج تک پیش کرنے سے قاصر ہے۔
قرآن کریم اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم اور خلفاء راشدین وسلاطین اسلام نے مذہبی آزادی کے معاملے میں جس وسعت ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے اور جتنا انھوں نے دین ومذہب کے سلسلہ میں استغنا سے کام لیا اس کی مثال اور کہیں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ دوسرے مذہب کی تعلیمات میں اور ان کے ماننے والوں میں مذہبی امور کو انجام دینے کی اس طرح کی آزادی دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ مذہبی آزادی اسلام میں کتنی ہے اس کے ثبوت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے کوئی کمیٹی یا کوئی ادارہ قائم نہیں کیاگیا۔ اسلامی ریاست میں یہود ونصاریٰ پوری آزادی کے ساتھ مذہبی امور کو ادا کرتے تھے ان کو بھی ملت اسلامیہ میں وہی حقوق حاصل تھے جو خود مسلمانوں کو حاصل تھے ان کے جان ومال کی وہی قدروقیمت تھی جو ایک مسلمان کے جان ومال کی تھی۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے اگر اس قسم کی تدبیریں کی جاتیں جو دوسرے ادیان و مذاہب کی ترویج واشاعت کیلئے اختیار کی گئی ہیں، تو بلاد اسلام میں کسی غیر مذہب یا اس کے ماننے والوں کا وجود بھی باقی نہ رہتا۔ اسلام کی ذاتی خوبیوں اور سادہ تعلیم کے ساتھ اگر سامانِ رضا ورغبت کو بھی جمع کردیا جاتا تو کیا ایک بھی ایسا انسان باقی رہ جاتا جو اسلام کو قبول نہ کرلیتا۔ کیا جس طرح ”اندلس“ (اسپین) جیسا وسیع ملک جہاں کروڑوں مسلمان تھے پھر مسلمانوں سے خالی ہوگیا۔ روم، شام، عراق، ہند وسندھ وغیرہ اور خود ”اندلس“ کا ہی حال پامال نہ ہوتا، تاآنکہ سوائے اسلام کے دوسرے مذاہب وادیان کا نام و نشان مٹ چکاہوتا، لیکن ایسا ہرگز نہ ہوا۔
بہرحال اسلام نے مساوات اور مذہبی آزادی کے وہ فراخدل اصول وضابطے تیار کیے جن کی وجہ سے سلطنت اسلامیہ کے عروج کے زمانہ میں یہودی وعیسائی اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے ایک ساتھ رہتے تھے اور بڑے بڑے عہدے حاصل کرنے میں مسلمانوں سے مزاحمت کرتے تھے۔
***






قرآن وحدیث کے تناظر میں حقوقِ انسانی کی تشریح

بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے وہ خونچکاں حالات، جہاں جان ومال، عزت وآبرو ہر چیز خطرے میں تھی، اس کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک روح فرسا کیفیت طاری ہوجاتی ہے، اخوت ومحبت ، ہمدردی وغم گساری، نامانوس بلکہ ناپید تھی، معمولی معمولی سی باتوں پر جنگ چھڑ جاتی اور ایسی بھیانک شکل اختیار کرلیتی، جس کا تذکرہ تو کجا تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے، غرض ہر طرف ظلم وبربریت کا دور دورہ تھا، ایسے مہیب سائے میں فاران کی چوٹی سے ایک آفتاب عالمتاب نمودار ہوا جس کی ضیاء پاش کرنوں سے ایک نئی صبح کا آغاز ہوا، دم توڑتی اور جاں بلب انسانیت کو آبِ حیات ملا، اور انسانیت پہلی بار اپنے حقوق سے آشنا ہوئی۔
حقوق انسانی کے معنی: یہ دو کلموں سے مرکب ہے حقوق جو حق کی جمع ہے: وہ چیز جو ثابت ہو (کسی فرد یا جماعت کیلئے) انسانی: انسان کی طرف منسوب ہے، انسان کی تعریف وہ جاندار یعنی جسم و روح والاجو قادرالکلام ہو۔
حقوق انسانی کا مفہوم: انسان اس دنیا میں تنہا نہیں رہ سکتا، وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے پر مجبور ہے، اپنی ضروریاتِ زندگی کی تکمیل اور آفات ومصائب کے ازالہ کے سلسلہ میں دوسرے انسانوں کے تعاون کا محتاج ہے، اس قضیہ کے پیش نظر ہر انسان کا یہ عقلی و طبعی حق بنتا ہے کہ دوسرااس کی مدد کرے،اس کے حقوق و فرائض کا لحاظ رکھے۔
حقوق انسانی کی ارتقائی تاریخ کا مختصر جائزہ: حقوق انسانی پر کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی بحث کرنے سے قبل ان حقوق کی ارتقائی تاریخ کا مختصر جائزہ لینا بے محل نہ ہوگا تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے، اور آج کی مہذب دنیا (امریکہ) جو انسانی حقوق کی رٹ لگاتے نہیں تھکتا، یہ جان جائے کہ انسانی حقوق کے جس کھوکھلے تصور تک وہ اب پہنچا ہے اس سے کہیں زیادہ جامع اور واضح تصور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سوسال قبل پیش کردیا تھا۔ خطبہٴ حجة الوداع کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی شدومد اور تاکید کے ساتھ حقوق انسانی ہی کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
حقوق انسانی کے شعور وارتقاء کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک ندوی فاضل جناب مولانا سید احمد ومیض ندوی اپنے وقیع مضمون میں رقمطراز ہیں ”صنعتی انقلاب کے آغاز سے مغرب میں حقوق انسانی کا شعور پیدا ہوا کہ انسان کے بھی بحیثیت انسان ہونے کے چند فطری حقوق ہوتے ہیں جن سے کسی بھی فرد کو محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ انسانی حقوق کا شعور بیسویں صدی کے شروع میں نمودار ہوا اور انقلابِ فرانس کا اہم جزو قرار پایا، اس میں قوم کی حاکمیت، آزادی، مساوات اور ملکیت جیسی فطری حقوق وغیرہ کا اثبات کیاگیا تھا، تدریجاً حقوق انسانی کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا، اور اخیر میں حقوقِ انسانی کا عالمی منشور سامنے آیا، دسمبر ۱۹۴۶/ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک ریزرویشن پاس کیا جس میں انسانوں کی نسل کشی کو ایک بین الاقوامی جرم قرار دیاگیا۔ ۱۹۴۸/ میں نسل کشی کے انسداد کیلئے ایک قرار داد پاس کی گئی اور ۱۲/جنوری ۱۹۸۱/ میں نفاذ ہوا۔
حقیقی انسانی حقوق: انسان کے بنیادی اور فطری حقوق کے تحت جن جن امور کو شامل کیاجاتا ہے ان میں حقوق اِنسانی کا جامع ترین تصور، انسانی مساوات کا حق، انسانی عزت وآبرو کی حفاظت، انسانی جان ومال اورجائداد کی حفاظت، مذہبی آزادی کا حق، آزادیٴ ضمیر کا حق ضروریات زندگی کا انتظام، انسانی حقوق میں فرد ومعاشرے کی رعایت، بچوں کے حقوق کی حفاظت،اسی طرح انسانوں کے معاشی وثقافتی اور تعلیمی حقوق نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔
حقوقِ انسانی کی صحیح تشریح: سطور بالا میں دور حاضر کے انسانی حقوق کے ارتقاء کا جو سرسری جائزہ لیاگیا ہے اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مغرب میں حقوق انسانی کے تصور کی دو تین صدیوں قبل کوئی تاریخ نہیں ہے۔ جبکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی حقوق انسانی کا ایک جامع تصور انسانیت کے سامنے پیش کرکے بذاتِ خود اسے عملی جامہ پہناکر ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کی۔
فاضل مضمون نگار مولانا ندوی حقوقِ انسانی کے اس مغربی منشور کی عدم تاثیر اور فرسودگی کے اسباب ومحرکات متعین کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”جن مغربی ممالک نے منشور حقوقِ انسانی کی داغ بیل ڈالی تھی، آج وہی ممالک حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں میں پیش پیش نظر آتے ہیں، چنانچہ آئے دن ان ممالک میں جرائم پیشہ افراد کی شرح میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ مفکرین و مدبرین نے اس کے بہت سے اسباب متعین کیئے ہیں، لیکن حقوق انسانی پر ڈاکہ زنی کا بنیادی سبب ان انسانی حقوق کے نفاذ کیلئے کسی داخلی قوتِ نافذہ کا فقدان ہے، علاوہ ازیں مغرب کے حقوق انسانی کا فلسفہ صرف اس کے مفادات کے اردگرد گھومتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حقوقِ انسانی ایک نظریہ بن کر رہ گیا، جس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوقِ انسانی کے صحیح نفاذ اور ان کو عملی زندگی سے مربوط کرنے کے لیے فکر آخرت سے جوڑدیا جس کے باعث بندوں کے اندر حقوقِ انسانی کی رعایت وحفاظت کی ایسی اسپرٹ پیدا ہوگئی کہ بندہ از خود حقوق انسانی کا محافظ بن جاتا ہے۔
حقوقِ انسانی کا جامع ترین تصور اسلام نے دیا: مغرب نے حقوقِ انسانی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ انتہائی ناقص اور فرسودہ ہے، اس کے اندر اتنی وسعت نہیں کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرسکے اس کے باوجود مغرب حقوق انسانی کی رٹ لگائے تھکتا نہیں، لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مربوط نظام، انسانی حقوق کا پیش کیا وہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے، جن میں احترام انسانیت، بشری نفسیات ورجحانات اور انسان کے معاشرتی، تعلیمی، شہری، ملکی، ملی، ثقافتی، تمدنی اورمعاشی تقاضوں اور ضروریات کا مکمل لحاظ کیاگیا ہے اور حقوق کی ادائیگی کو اسلام نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اگر کسی شخص نے دنیا میں کسی کا حق ادا نہیں کیا تو آخرت میں اس کو ادا کرنا پڑے گا ورنہ سزا بھگتنی پڑے گی، حتیٰ کہ جانوروں کے آپسی ظلم وستم کا انتقام بھی لیا جائے گا۔ اللہ کے رسول نے فرمایا: حق والوں کو ان کے حقوق تمہیں ضرور بالضرور قیامت کے روز ادا کرنے پڑیں گے، حتیٰ کہ بے سنگھے بکرے کو سینگھ والی بکری سے بدلہ دیا جائے گا۔
زکوٰة اور حقوق انسانی: یہ ایک بدیہی امر ہے کہ ایک مخصوص طبقہ کے پاس مال ودولت کے منجمد رہنے سے کمزور طبقے بیروزگاری کے شکار ہوجاتے ہیں، اور انسانی معاشرہ کی ایک معتد بہ تعداد خط افلاس کے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اسلامی قوانین نے زکوٰة کو فرض قرار دے کر سالانہ آمدنی کا ڈھائی فیصد حصہ غریبوں کیلئے خاص کیا کہ دولت ایک ہاتھ میں سمٹ کر نہ رہ جائے، صدقہ وخیرات کی اہمیت اجاگر کرکے غرباء ومساکین کا بھرپور خیال رکھا، ارشاد ربانی ہے: وَفِیْ أمْوَالِہِم حَقٌ للسَّائِلِ وَالمَحْرُومِ اور ان کے مالوں میں غرباء ومساکین کا حق ہے۔
اسلام میں انسانیت کی میزبانی: اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بناکر دنیا کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ اعزاز بخشا، اس کے احترام واکرام کی تعلیم دی، اس کو خوبصورت سانچہ میں ڈھال کر اسے دنیا کی نعمتوں سے مالا مال کیا، ارشاد ربانی ہے: ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ہے اور خشکی ودریا میں ان کو سواری دی، اور پاکیزہ چیزوں سے روزی دی اور ہم نے ان کو بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ہم نے آدمی کو اچھی شکل وصورت میں پیدا کیا ہے۔ تیسری جگہ فرمایا: اللہ نے تمہارے نفع کیلئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کی ہیں۔ چوتھی جگہ یوں فرمایا: میں سب جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اسلام نے انسانی حرمت وشرافت کی اتنی پاسداری کی کہ انسان کا احترام پس مرگ تک باقی رکھا، چنانچہ آپ کے زمانے میں ایک عورت کا جنازہ گذررہا تھا، اللہ کے رسول کھڑے ہوگئے، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو یہودی ہے، اللہ کے رسول نے فرمایا ألیسَتْ نفسًا: یعنی کیا وہ انسان نہیں؟ اسی طرح نبوت وشریعت کی دولت بھی صرف اور صرف انسان ہی کو عطا کیاگیا ہے، اسی طرح اسلام نے علوم وعقل اور خرد جیسی گرانقدر انعام سے نوازا، ارشاد ہے: اللہ کی تمام پیداکردہ چیزوں میں عقل اللہ کے نزدیک سب سے باعزت ہے۔
انسانی اخوت ومساوات: محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ ونسل، قومیت ووطنیت، اور اونچ نیچ کے سارے امتیازات کا یکسر خاتمہ کرکے ایک عالمگیر مساوات کا آفاقی تصور پیش کیا، اور ببانگ دُہل یہ اعلان کردیا کہ سب انسان آدم کی اولاد ہیں، لہٰذا سب کا درجہ مساوی ہے، حجة الوداع کے موقع پر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تاریخی خطبہ میں جن بنیادی انسانی حقوق سے وصیت وہدایت فرمائی ان میں انسانی وحدت ومساوات کا مسئلہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے، ارشاد نبوی ہے:
اے لوگو! یقینا تمہارا پروردگار ایک ہے، تمہارے باپ بھی ایک ہیں، تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے، یقینا تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی اورپاک باز ہو، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری نہیں مگر تقویٰ کی بنا پر، اور فتح مکہ کے موقع پر ایک اہم خطبہ میں اسی طرح کا حکم ارشاد فرمایا۔ اسی طرح ارشاد ربانی ہے: لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا (یعنی اوّل) اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلادئیے، دوسری جگہ ارشاد ہے: لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قوم اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو، اور خدا کے نزدیک تم میں سے قابل اکرام اور عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو۔
انسانی جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت: یہ انسانی حقوق میں سب سے پہلا اور بنیادی حق ہے اس لیے کہ جان سب سے قیمتی اثاثہ ہے، اس کے اردگرد زندگی کی سرگرمیاں گھومتی ہیں، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہ تھی، سب سے پہلے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان وحشی درندوں کو انسانی جان کا احترام سکھایا، اور ایک جان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا۔ قرآن پاک میں بھی اس کی تائید کی گئی چنانچہ ارشاد باری ہے: جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے، یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اس نے گویا تمام لوگوں کا قتل کیا، اور جو اس کی زندگی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا۔ اسی طرح ارشاد نبوی ہے: رحم کرنے والوں پر اللہ رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا۔ دوسری حدیث میں ارشاد ہے: اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو انسانوں پر رحم نہ کرے۔ اور مال کے تحفظ کو یوں موکد کیاگیا ہے، ارشاد ربانی: اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ، واضح رہے کہ انسانی زندگی کی بقاء کے لیے مال بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
جس طرح حق زندگی اور تحفظ مال، انسان کے بنیادی حقوق ہیں، اسی طرح عزت وآبرو کا تحفظ بھی انسان کا بنیادی حق ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے، ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، ممکن ہے کہ وہ اس سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ، اور ایک دوسرے کو برے نام سے مت پکارو۔
تحفظ آزادی (شخصی ومذہبی): اسلامی معاشرہ میں چونکہ ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہیں کسی کا کسی پر بیجا دباؤ نہیں، ہر ایک آزاد اور خود مختار ہے اس لیے اسلام نے انسان کی شخصی آزادی کی بقاء کے لیے انسان کی نجی اور پرائیویٹ زندگی میں مداخلت سے دوسروں کو روکا ہے اور خواہ مخواہ کی دخل اندازی ٹوہ بازی اور بلا اجازت کسی کے گھر میں دخول سے منع کیا ہے۔ ارشاد حق ہے: مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں) کے گھروں میں گھروالوں سے اجازت لیے اور ان کو سلام کیے بغیر داخل نہ ہواکرو۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: اے ایمان والو! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ (بعض) گمان گناہ ہے اور ایک دوسرے کے حال کی ٹوہ میں نہ رہا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ اسی طرح اسلام میں مذہب اور ضمیر واعتقاد کے تحفظ کی گارنٹی یوں دی گئی: دین اسلام میں زبردستی نہیں ہے، ہدایت یقینا گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے۔ ایک دانشور مفکر لکھتے ہیں ”صبر واعتقاد کی آزادی ہی کا قیمتی حق تھا، جسے حاصل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ کے سیزدہ سالہ دور ابتلاء میں مسلمانوں نے ماریں کھاکھا کر کلمہ حق کہااور بالآخر یہ حق ثابت ہوکر رہا۔ اسلامی تاریخ اس بات سے عاری ہے کہ مسلمانوں نے کبھی اپنی غیرمسلم رعایا کو اسلام قبول کرنے پرمجبور کیا ہو، یا کسی قوم کو مارمار کر کلمہ پڑھوایا ہو۔
عورتوں، بچوں، غلاموں، یتیموں اور حاجتمندوں کے حقوق: اعلان نبوت سے قبل عورتوں کی حالت بڑی ناگفتہ بہ تھی، معاشرہ میں اس کی حیثیت سامان لذت سے کچھ زیادہ نہ تھی، معاشی، سماجی ہرلحاظ سے بے بس تھی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سسکتی، بلکتی عورت کی فریاد رسی کی اس کے حقیقی مقام کومتعین فرمایا: چنانچہ حجة الوداع کے موقع پر ان کے حقوق کو بھی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔ اسی طرح قبل از اسلام اسقاط حمل اور دختر کشی کی رسم عروج پر تھی، اسلام نے سختی کے ساتھ اس گھناؤنے فعل سے منع کیا۔ ارشاد ہے: اپنی اولاد کو فقر وفاقہ کے خوف سے نہ قتل کرو، ان کو اور تم کو روزی ہم ہی دیتے ہیں۔ یقینا یہ بڑا گناہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں غلاموں اور غریبوں کے حقوق بھی روندے، پامال کیے جاتے انہیں حقارت وذلت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، اسلام نے انہیں بھی اتنے حقوق دئیے کہ ان کی سطح زندگی بلند کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ چنانچہ ایسے ایسے اصول وقوانین طے کیے جن سے لوگ زیادہ سے زیادہ غلامی کی طوق سے نکل سکے بریں بنا بہت سے گناہوں اور حکم عدولیوں کا کفارہ غلاموں کی آزادی رکھی، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا۔
٭٭٭






فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
                       

اسلام مسلمانوں کو نظم واتحاد کے ساتھ جماعتی زندگی گذارنے کی تعلیم دیتا ہے وہ انتشار اور خودسرائی کو قطعاً برداشت نہیں کرتا، اس لئے اس نے نظام عبادت کی روح اجتماعیت و شیرازہ بندی پر رکھا تاکہ مسلمان ایک مرکز سے وابستہ رہیں
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
غور کیجئے کہ نمازیں ہر شخص تنہا تنہا بھی ادا کرسکتا ہے۔ بلکہ یہ طریقہ ریا و نمود سے محفوظ اور اخلاص وللہیت سے قریب تر ہے، لیکن پنج وقتہ نمازوں کے لئے جماعت کو واجب قرار دیا، جمعہ وعیدین کے لئے گاؤں کی بڑی جامع مسجد اور عیدگاہ میں اکٹھا ہوکر ایک امام کے پیچھے باجماعت نماز ادا کرنے کو لازم ٹھہرایا تاکہ مسلمانوں کے اندر برادرانہ مساوات کی تربیت دی جاسکے اور دلوں میں اتحاد و ہم آہنگی کے جذبہ کو فروغ مل سکے، نماز باجماعت ادا کرنے کی حکمتوں اور مصلحتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ہندوستان کے ممتاز مورخ وسیرة نگار حضرت علامہ سیدسلیمان ندوی رحمة الله عليه رقم طراز ہیں کہ
”جماعت کی نماز مسلمانوں میں برادرانہ مساوات اور انسانی برابری کی درس گاہ ہے، یہاں امیرو غریب، کالے گورے، رومی و حبشی، عرب و عجم کی کوئی تمیز نہیں ہے سب ایک ساتھ، ایک درجہ اور ایک صف میں کھڑے ہوکر خدا کے آگے سرنگوں ہوتے ہیں۔ یہاں شاہ و گدا اور شریف و رذیل کی تفریق نہیں، سب ہی ایک زمین پر، ایک امام کے پیچھے ایک صف میں دوش بدوش کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی کسی کو اپنی جگہ سے نہیں ہٹاسکتا۔ (سیرة النبی ۵/۱۸۹) گویا۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
نماز میں اجتماع کی وجہ سے اللہ کی طرف سے برکتوں کا نزول ہوتا ہے، آسمان سے رحمتیں اترتی ہیں اور ان کو اپنے سایہ میں ڈھانپ لیتی ہیں، ٹھیک اسی طرح زکوٰة میں بھی اجتماعی نظام کو ملحوظ رکھا گیا، اس کے ذریعہ قوم کے ضعیف و بے سہارا طبقہ کی پرورش و کفالت ہوتی ہے، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا خذ من اغنیائہم وترد الی فقرائہم زکوٰة ان کے مالداروں سے لی جائے اور حاجت مندوں کو واپس کردی جائے، اسلام نے اجتماعی طورپر ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کا حکم دیا، ایسا ہوسکتا تھا کہ ہر ملک کے مسلمان آب و ہوا اور موسم کے لحاظ سے الگ الگ مہینوں میں روزے رکھ لیتے، لیکن تمام مسلمانوں پر ایک ہی مہینہ میں روزہ فرض کیا تاکہ جماعتی شان برقرار رہے، پوری دنیا کے مالدار مسلمانوں پر ایک خاص ایام میں حج کا حکم دیاگیا یہ بات بھی ممکن تھی کہ ہر ممالک کے مسلمانوں کے لئے الگ الگ مہینوں میں فریضہ حج ادا کرنے کی تاکید کی جاتی تاکہ ازدہام کم ہوتا اور مناسک حج کی ادائیگی میں کوئی دشواری پیش نہ آتی، لیکن حکم دیا گیا کہ نہیں، سبھوں کو ذی الحجہ کے ایام میں حج بیت اللہ کا طواف کرنا، صفا ومروہ کا سعی کرنا اور ارکان حج کو ادا کرنا ضروری ہے، تاکہ مسلمانوں میں اجتماعیت اور آفاقیت کا مزاج پیدا ہو اور سارے مسلمان وطنیت، قومیت، تمدن ومعاشرت کے تمام امتیازات کو مٹاکر سب ایک ہی ملت (ملت ابراہیمی) میں گم ہوجائیں اور ایک ہی بولی میں خدا سے باتیں کریں۔ حاکم ہو یا محکوم، عالم وفاضل ہو یا فقیر بے نوا سب اپنی امتیازی حیثیت کو مٹاکر اپنی انانیت اور خودی کو قربان کرکے مالک کے دروازے پر بھکاری بن کر آئے ہیں، یہی وہ وحدت کا رنگ ہے جو ان تمام مادی امتیازات کو مٹادیتا ہے، اسلام کے اسی نظم واتحاد نے انصار کے دو بڑے قبیلے اوس و خزرج کو شیروشکر بنادیا، یہ دونوں ہمیشہ دو مستقل قوموں اور حریفوں کی طرف ایک دوسرے کے مقابلہ میں صف آرا اور نبرد آزا رہتے تھے۔ کسی شاعر نے کہا۔
وہ اوس اور خزرج کی باہم لڑائی
صدی جس میں آدھی انھوں نے گنوائی
اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے کلمہ کی بنیاد پر دونوں کو متحد کردیا، اب یہ دونوں ایک دوسرے کے مونس وہمدرد اور غمگسار بن گئے، صحابی رسول حضرت بلال حبشی رضي الله تعالى عنه کی سماجی حیثیت مکہ میں کچھ نہ تھی، وہ غلام تھے، سیاہ فام تھے بے ننگ ونام تھے، لیکن جب ان کا قلب نور ایمان سے منور ہوگیا اور مشرف بہ اسلام ہوئے، تو انہیں یہ مقام اور مرتبہ ملا کہ دیوار کعبہ پر کھڑے ہوکر اذان دی، حضرت ابوبکر صدیق اور عمر فاروق کے برابر بیٹھنے لگے، کیوں کہ ایمان کا رشتہ خاندانی ونسلی رشتوں سے زیادہ مضبوط ومستحکم ہوتا ہے اور بقول حضرت مولانا ابوالکلام آزاد کہ ”دنیا کے تمام رشتے، عہد مودت، خون و نسل کے باندھے ہوئے پیماں وفا ومحبت ٹوٹ سکتے ہیں، مگر جو رشتہ ایک چین کے مسلمانوں کو افریقہ کے مسلمان سے، ایک عرب کے بدو کو تاتار کے چرواہے سے اور ہندوستان کے نومسلم کو مکہ مکرمہ کے صحیح النسب قریشی سے پیوست ویک جان کرتا ہے، دنیا میں کوئی طاقت نہیں جو اسے توڑ سکے اور اس زنجیر کو کاٹ سکے۔ جس میں خدا کے ہاتھوں نے انسانوں کے دلوں کو ہمیشہ کے لئے جکڑ دیا ہے (خطبات آزاد ۱۸) انہیں رشتوں کی وجہ سے دنیا کے ایک کنارے کسی مسلمان کو تلوے میں کانٹا چبھتا ہے تو اس کی ٹیس دوسرے کنارے میں رہنے والے مسلمان اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں۔حدیث پاک میں فرمایاگیا: تری المومنین فی تراحہم وتواذہم وتعاطفہم کمثل الجسد اذا اشتکی عضوا تداعی لہ سائر الجسد بالسہر والحمٰی تم مسلمانوں کو باہم رحم دل، باہم محبت کرنے والے اور ایک دوسرے کی تکلیف کے احساس کے بارے میں ایسا دیکھوگے جیسا کہ ایک قالب اور ایک عضو بیمار پڑجائے تو سارا جسم بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے اور بیداری کے لئے تیار رہتا ہے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے مسلمانوں کی وحدت واجتماعیت کو ایک عمارت کی مانند قرار دیا۔ فرمایا المومن للمومن کالبنیان یشد بعضہ بعضا ثم شبک اصابعہ ایک مومن دوسرے مومن کے لئے ایک عمارت کی طرح ہے جس طرح مکان کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کے لئے مضبوطی اور قوت کا باعث ہوتی ہے پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے ملاکر سمجھایا، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ جو مذہب عالمگیر وحدت واخوت کا داعی و پیامبر ہے آج خود اس کے پیروکار گروہی و علاقائی عصبیت، خاندانی و نسلی برتری، زبان و بیان اور مسلکی اختلاف کی بنیاد پر انتشار و افتراق کے شکار ہوگئے، انھوں نے رنگ و نسل کے امتیاز و اختلاف کی اونچی اونچی دیواریں کھڑی کردیں کوئی سید خاندان سے تعلق رکھتا ہے تو اس کو اپنے عالی نسب ہونے پر فخر ہے کوئی شیخ و پٹھان ہے تو منصوریوں اور سبزی فروشوں کو نیچی نظروں سے دیکھتا ہے۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
افسوس کہ جب قیامت آئے گی تو یہ سارے خاندانی و نسلی رشتے اپنا وجود کھودیں گے، فلا انساب بینہم نسب اور رشتہ داری اس دن کام نہیں آئے گی اس لئے کہ گروہ بندی اور فرقہ بندی شعار جاہلیت ہے۔ حضور صلى الله عليه وسلم نے فتح مکہ کے موقعہ پر آباؤ اجداد اور خاندان کی مفاخرت پر پوری قوت سے چوٹ لگاتے ہوئے فرمایا معشر قریش ان اللّٰہ اذہب فیکم نخوة الجاہلیة وتعظمہا بالآباء قریش کے لوگو! اللہ نے تم کو جاہلیت کی جھوٹی نخوت سے نجات دیدی اور باپ دادا کی بنیاد پر بڑائی جتنلانے کا دستور ختم کردیا، پس جس کسی نے بھی شعار جاہلیت کو زندہ کیا ذات و برادری کی بنیاد پرملت کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، حدیث شریف میں ہے من دعا بدعوا لجاہلیة فہو من جثی جہنم جو جاہلیت کا نعرہ لگائے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اسلام گروہ بندی اور داخلی انتشار کو قطعاً برداشت نہیں کرتا۔ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے حجة الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا یا ایہا الناس الا ان ربکم واحد لافضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی، علی عربی ولا لاسود علی احمر ولا لاحمر علی اسود الا بالتقوی اے لوگو! تم سب کا رب ایک ہے کسی عربی کو عجمی پر، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی کالے کو گورے پر، اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کی بنیاد پر اس لئے کہ حسب ونسب، خاندان اور قبیلے ایک دوسرے کے تعارف اور شناخت کے لئے بنائے گئے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے یا ایہا الناس انا خلقناکم من ذکر وانثی وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللّٰہ اتقاکم اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لئے بانٹ دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے معزز وہ ہیں جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہیں (سورہ الحجرات۱۳) قرآن کریم نے انسانوں کی بنائی ہوئی تمام تفریقات کو توڑ دیا اور بتلایا کہ فخر و عزت کی چیز درحقیقت ایمان اور تقویٰ ہے۔
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
اس لئے قرآن کہتا ہے کہ سب مل کر اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ ہوجاؤ اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو مضبوطی سے پکڑلو، واعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعا ولا تفرقوا تم سب اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑلو اور ٹکڑوں میں نہ بٹو، جس طرح بٹی ہوئی رسی ایک دوسرے کو قوت پہنچاتی ہے تم بھی اتحاد واجتماعیت کی زندگی گذار کر اسلام کو فروغ دو، اگر منتشر رہوگے تو تمہاری اجتماعی قوت ختم ہوجائے گی، قرآن پاک میں ہے ولا تنازعو فتفشلوا وتذہب ریحکم آپس میں نہ جھگڑو، ورنہ تمہارے قدموں میں لغزش پیداہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، بزرگوں نے لکھا ہے کہ جب لوگ گروہ بندیوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں تو ان سے سنجیدگی اور اعتدال کا دامن چھوٹ جاتاہے پھر وہ بے راہ روی کے شکار ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر طہٰ جابر فیاض علوانی نے اپنی بے نظیر تصنیف ”ادب الاختلاف فی الاسلام“ میں لکھا ہے کہ جب اختلاف بڑھتا ہے تو اس کی خلیجیں وسیع سے وسیع تر ہوتی جاتی ہیں اور آدمی کے حواس پر اس کے اثرات اس حد تک چھاجاتے ہیں کہ وہ نقطہ اتحاد کو بھول جاتا ہے اس کی نظر میں اسلامی اخلاق کی ابتدائی چیزیں بھی نہیں آپاتیں جس کی وجہ سے اس کا معیار فکر بدل جاتا ہے(ص۱۳) پھر اس سے وحدت امت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودالحسن صاحب مالٹا کی چار سالہ جیل سے رہائی کے بعد دیوبند تشریف لائے تو فرمایا کہ ہم نے مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں پھر فرمایا کہ میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے ایک ان کا قرآن کو چھوڑنا، دوسرے ان کے آپس کے اختلاف اور خانہ جنگی، اس لئے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیاہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے، بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی میں قائم کئے جائیں، بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معنی سے روشناس کرایا جائے۔ اور قرآنی تعلیمات پر عمل کیاجائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ وجدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے (وحدت امت ص۴۰) ماضی میں اسپین کی مسلم حکومت (۷۱۱- ۱۴۹۲) کے ختم ہونے کی وجہ بھی مسلمانوں کا باہمی اختلاف تھا۔ اسپینی مسلمانوں نے جس وقت مسیحی قوتوں سے شکست کھائی اس وقت وہ علم وتہذیب اور سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں اپنے حریف سے بدرجہا بڑھے ہوئے تھے اس کے باوجود ان کے شکست و ریخت کی وجہ یہ تھی کہ عیسائی باہم متحد ومنظم تھے جب کہ مسلمان فرقوں اور جماعتوں میں بٹ گئے، امراء و عمال نے مرکز خلافت سے بغاوت کرکے اپنی چھوٹی چھوٹی خودمختار حکومتیں قائم کرلی تھیں (الاسلام ۱۲۸) اسلام نے اسی فکر میں تبدیلی لانے کے لئے ایک مرکز سے وابستہ رہنے کی تعلیم دی، مسلمانوں کی تعظیم و تکریم کو ایمان کی علامت قرار دیا، حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ المسلم اخو المسلم لا یظلمہ ولا یسلمہ ومن کان فی حاجة اخیہ کان اللّٰہ فی حاجتہ ومن فرج عن مسلم کربة فرج اللّٰہ عنہ کربة من کربات یوم القیامة ومن ستر مسلمًا سترہ اللّٰہ یوم القیامة مسلمان مسلمان سب بھائی ہیں نہ ایک دوسرے پر ظلم کرتا ہے نہ اس کو کسی مصیبت میں ڈال سکتا ہے، جو اپنے کسی بھائی کی حاجت روائی کی فکر میں رہتا ہے اللہ اس کی حاجت روائی کرتاہے اور جو کسی مسلمان کی کوئی مشکل آسان کردیتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کی مشکلات میں اس کی مشکل آسان کردیتاہے اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ بھی آخرت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمالیتا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے المسلم اخو المسلم لایظلمہ ولا یخذلہ ولایحقرہ التقوی ہہنا ویشیر الی صدرہ ثلث مرار بحسب امراء من الشر ان یحقر اخاہ المسلم کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ(بہ روایت ابوہریرہ) مسلمان سب بھائی بھائی ہیں ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر نہ ظلم کرسکتا ہے نہ بروقت اس کی مدد سے دست کش ہوسکتا ہے اور نہ اس کو حقیر کرسکتا ہے اس کے بعد آپ نے سینہ کی طرف تین بار اشارہ کرکے فرمایا کہ اصل تقوی یہاں ہے برائی کے لئے بس اتنی ہی بات کافی ہے کہ اپنے کسی بھائی کو ذلیل اور حقیر سمجھے یاد رکھو کہ ہر مسلمان پورا کا پورا قابل احترام ہوتا ہے اس کی جان بھی، اس کا مال بھی، اور اس کی آبرو بھی (مسلم شریف) اب وقت آگیا ہے کہ تمام خود غرضیوں اور مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر ملت اسلامیہ کے اتحاد میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور ایک ایسی طاقت بنائی جائے جس کو قرآن پاک نے بنیان مرصوص (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) سے تعبیر کیا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اختلاف و افتراق سے بچنے اور اتحاد و اجتماعیت کی زندگی گذارنے کی توفیق بخشے آمین۔
بتان رنگ وخوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی ، نہ افغانی
                                                                                                                                                                                                (علامہ اقبال)




***




سلاطین ہند کے عہد میں

غیرمسلموں کی شرعی حیثیت

                نورنبوت کی شعاعیں غار حرا سے چمکیں تواس کا عکس سرزمین ہند پر بھی پڑا، اور پہلی صدی ہجری ہی میں نہ صرف مسلمان ہندوستان میں مقیم وآباد ہونے لگے، بلکہ یہاں باقاعدہ طریقے سے مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی، اس طرح سندھ و نواحی سندھ حکومت اسلامیہ کا ایک حصہ بن گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ محمد بن قاسم(۱) کی طرح کسی اور عرب فاتح نے یہاں حکومت نہیں کی تاہم مرکز سے اس کا تعلق کبھی بھی منقطع نہ ہوا۔ اور برابر بلکہ متواتر عرب ولاة یہاں آتے جاتے رہے۔ محمدبن قاسم کے بعد محمود غزنوی(۲) نے یہاں دوبارہ مسلمانوں کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور سندھ وملتان اور پنجاب وغیرہ کے علاقے کواپنے زیرنگیں کیا۔ اور متعدد حملوں کے ذریعہ دہلی کے اکناف و اطراف تک کی زمین کو نعرئہ تکبیر سے بلند کیا۔ مگر ان کے انتقال کے بعداس خاندان کے دیگر حکمرانوں نے وہ کامیابی دکھانے میں کمزور ثابت ہوئے جس طرح محمود غزنوی نے یہاں کارہائے نمایاں انجام دئیے تھے۔ اس کے بعد شہاب الدین غوری(۳) نے ہندوستان پر منظم حملہ کیا اور متعدد علاقوں کو فتح کرکے مسلم سلطنت سے جوڑا۔ یہاں تک کہ اسی کے غلام قطب الدین ایبک(۴) باضابطہ طریقے سے ہندوستان میں مسلم حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے جس کا پایہ تخت دہلی قرار پایا۔ اس کے بعد سے لے کرانگریزی حکومت کے قائم ہونے تک پورا ہندوستان مسلمانوں کے قبضہ و تصرف میں رہا اور مسلم حکمراں اپنی رعایا کی خوش حالی اور ترقی کے لیے برابر کوشاں رہے۔ ان کی رعایا میں نہ صرف مسلمان تھے جو یا تو باہر سے آئے تھے، یا یہاں کی پیداوار تھے بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی ، پارسی اور دوسرے لوگ بھی تھے۔ جنھیں مسلمانوں کی طرح کلی آزادی حاصل تھی اورحکومت میں بھی ان کا عمل دخل تھا اور اونچے عہدوں پر فائز تھے۔ اب چوں کہ مسلم حکومت میں یا تو صرف مسلمان مقیم وآباد ہوں گے،یا پھر اور دوسرے لوگ بھی ہوں گے جن کی شرعی حیثیت کا تعین ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کی زیرنگرانی کس حیثیت سے رہیں گے،اور انہیں یہاں رہنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ اوراگر وہ رہیں گے تو وہ کس حساب سے اورکس قاعدہ کلیہ کے تحت سلطنت اسلامیہ کو ٹیکس ادا کریں گے۔ چنانچہ پیش نظر مضمون میں انہی چیزوں پر قرآن وحدیث اور فقہ کی روشنی میں بحث کی گئی اور غیرمسلموں کی شرعی حیثیت متعین کی گئی ہے۔ تاکہ ان اعتراضات و شبہات کا ازالہ ہوسکے جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام نے غیرمسلموں کے جان ومال، عزت وآبرو کا خیال نہیں رکھا اور ان کے حقوق کی پامالی کا حکم دیا ہے جس کے پیش نظر مسلم فرمارواؤں نے غیرمسلموں کے ساتھ نامنصفانہ سلوک کیا ہے۔
ذمی اور معاہد کواسلامی مملکت میں کیا حقوق حاصل ہوں گے
                جس کسی نئے علاقے یا ملک کو فتح کرکے مسلمان اس پر اپنا قبضہ واقتدار حاصل کرے تو مفتوحین میں سے جو لوگ مسلمانوں کی حکومت تسلیم کرکے یہاں رہنا چاہیں اور عہد کریں کہ وہ مملکت اسلامیہ کے خلاف بغاوت، سرکشی اور کسی سازش میں ملوث نہ ہوں گے تو اب حکومت اسلامیہ کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ان مفتوحین اورمعاہدین کو ذمی کی حیثیت سے تسلیم کرکے اس کے جان و مال اور عزت و آبرو کی بالکل اسی طرح حفاظت کرے جس طرح وہ مملکت میں مقیم و موجود مسلمان رعایا کی محافظت کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ البتہ ایسے مفتوحین اور معاہدین سے اسلامی حکومت کچھ سالانہ ٹیکس (جزیہ) وصول کرنے کا حق رکھتی ہے۔ یہ ٹیکس انہی لوگوں سے حاصل کیے جائیں گے جو فوجی خدمت کے قابل ہوں گے۔ عورت، بوڑھے، بچے، لونڈی، غلام اورمذہبی خدام اس کلیہ سے مستثنیٰ قرار دئیے جائیں گے(۵)۔ ٹیکس کی وصولی میں ذمی کی مالی حیثیت کا بہرصورت خیال رکھا جائے گا(۶)۔ اس رقم کی ادائیگی کے بعداہل ذمہ سے نہ صرف فوجی خدمات ساقط ہوجائیں گے، بلکہ وہ اپنے سماجی اور عائلی معاملات میں بھی اسلامی قانون کے پابند نہ ہوں گے(۷)۔ مگر وہ مسلم علاقوں میں کوئی نئی مذہبی عبادت گاہ اپنی مرضی سے تعمیر نہیں کرسکتے(۸)۔ البتہ پرانے معابد اور خستہ مذہبی مقامات کی دوبارہ تعمیر اورجدید کاری کرسکتے ہیں(۹)۔ انہیں مسلم علاقوں میں رہتے ہوئے اس امرکو ملحوظ رکھنا ہوگا کہ وہ ایسے امورانجام دینے سے پرہیز کریں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہو اوران کے مذہبی معتقدات کو ٹھیس لگتی ہو(۱۰)۔ ان باتوں کے باوجود اگر وہ اپنی مرضی سے اپنے نزاعی معاملات کے حل کے لیے شرعی عدالت سے رجوع کریں تو فیصلہ شرع کے مطابق ہی کیا جائے گا(۱۱)۔ اگر شخصی قانون سے تعلق رکھنے والے کسی معاملہ میں ایک فریق ہندو اور دوسرا مسلمان ہوتوایسی صورت میں بھی فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق ہوگا(۱۲)۔ لیکن کسی معاہد یا مفتوحین کو بلاوجہ کسی مسلمان نے قتل کردیا تو اس کے عوض قاتل کا بھی سرقلم کیاجائے گا اور اگرمقتول کے ورثا اپنی مرضی سے معاوضہ لے کر یا بلا معاوضہ معاف کردے تو قاتل بری ہوجائے گا(۱۳)۔ اسی طرح کوئی مسلمان بغیرکسی اہم سبب کے معاہد سے معاہدہ نہیں توڑسکتا جب تک کہ فریق ثانی کی رضامندی نہ ہو۔ معاہدہ خواہ اہل کتاب سے کیاجائے یا مشرکوں سے(۱۴)۔
غیرمسلموں کی شرعی حیثیت کا مسئلہ ہندوستانی تناظرمیں
                مذکورہ فقہی تصریحات کی روشنی میں سلاطین ہند کے عہد میں غیرمسلموں کی شرعی حیثیت کے تعین کے سلسلے میں غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عہد اموی میں حجاج بن یوسف کے ایما پر محمد بن قاسم نے ہندوستان پر منظم اور کامیاب حملہ کرکے سندھ کو اسلامی قلم رو میں شامل کیا۔ جس کی بناپر یہاں کے ہنود نے مسلمانوں کی ماتحتی قبول کرکے سندھ ہی میں رہناگوارا کیا۔ چنانچہ اس وقت پہلی مرتبہ یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ یہاں کے ہنود کی شرعی حیثیت کیاہوگی اورانہیں کس حد تک اور کہاں تک آزادانہ زندگی بسر کرنے کی اجازت ہوگی۔
                یہ بات متحقق ہے کہ محمد بن قاسم نے یہاں کے باشندے جو بدھ اور برہمنی مت سے تعلق رکھتے تھے کو ذمی کا درجہ دے کر ان سے سالانہ جزیہ وصول کیا۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے مذہب پر قائم رہے اور اپنے سماجی اور عائلی معاملات میں بھی سلطنت کے شرعی قوانین سے بری کردئیے گئے۔ انھوں نے اپنے مندروں میں عبادت اور پوجا پاٹ کرنے کے ساتھ ساتھ بعض قدیم اور خستہ عبادت گاہوں کی تعمیر و مرمت کی(۱۵)۔
                تاریخی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب محمد بن قاسم نے سندھ پر اقتدار حاصل کیا تو برابر ان کی مراسلت حجاج بن یوسف سے قائم رہی، اور ہر تیسرے روز حجاج کے پاس خط بھیجنے اور ان کی طرف سے جواب ملنے کی صراحت موجود ہے(۱۶)۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ محمد بن قاسم نے اپنے پہلے حملہ میں کامیابی کے بعد یہاں کے ہنود کی شرعی حیثیت معلوم کرنے کے لیے تفصیلات حجاج بن یوسف کو بھیجی ہوں گی، کیوں کہ ہندوؤں کے ہاں الہامی کتاب کے فقدان کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہوگا کہ یہاں کے لوگ اہل کتاب ہیں یا شبہ اہل کتاب، یا مشرک۔ لہٰذا یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ حجاج نے علماء وقت سے رجوع کرنے کے بعد محمد بن قاسم کو اطلاع دی ہوگی کہ انہیں شبہ اہل کتاب کے زمرے میں شامل کرکے ہرقسم کی آزادی اوران سے سالانہ جزیہ وصول کیا(۱۷)۔ جیسا کہ پروفیسر ظفرالاسلام اصلاحی رقم طراز ہیں:
”ہندوستان کے بعض علماء اورجدید دانشوروں نے ہندوستان کے ذمیوں کو شبہ اہل کتاب کے زمرے میں رکھا۔ جب کہ قدیم ماخذ سے اسکی کوئی وضاحت نہیں ہوتی، لیکن ذمیوں کے منادر کے سلسلے میں محمد بن قاسم کا جو اعلامیہ رہا اس سے صاف واضح ہوتا ہے جو چچ نامہ میں مذکورہے کہ ہندوؤں کی عبادت گاہوں کی وہی حیثیت ہے جو شام و عراق کے یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کی ہے(۱۸)۔“
اہل کتاب سے جزیہ لینا قرآنی فیصلہ
 اور مجوس سے جزیہ لینا حدیث سے ثابت ہے
                اہل کتاب سے جزیہ وصول کرنے کا حکم قرآن سے ثابت ہے جبکہ مجوسیوں سے جزیہ کی وصولی کے سلسلے میں قرآن میں کوئی صراحت نہیں ملتی۔ لیکن رسول خدا نے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے ہجرکے مجوسیوں کو تحریری صورت میں اسلام کی دعوت دی، جس میں تحریر تھا کہ جو شخص اسلام لے آئے گا اس کا اسلام قبول کیا جائے گا اورجونہیں قبول کرے گا اس پر جزیہ لگایا جائے گا۔ نیز اس کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا، نہ اس کی عورتوں سے نکاح کیاجائے گا۔ اسی حکم کو پیش نظر رکھ کر حضرت عمر نے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا، اور جس کی گواہی حضرت عبدالرحمن بن عوف نے دی تھی۔
فقہائے اسلام نے کن لوگوں کو ذمی قرار دیا ہے؟
                اسلام کے علاوہ دوسرے بہت سے قدیم وجدید مذاہب ہیں جن کے ماننے والوں کی خاصی تعداد ہے، جن میں یہودیت،نصرانیت، مجوسیت، بدھ ازم، جین ازم اور ہندو ازم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان میں بعض مذاہب کی وضاحت کتاب و سنت اور فقہاء کرام کی تصریحات سے ہوتی ہیں کہ فلاں فلاں مذاہب اہل کتاب ہیں۔ البتہ کچھ دوسرے مذاہب کے متعلق کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ ان کی حیثیت کیا ہے۔ چنانچہ فقہائے کرام نے ایسے مذاہب کے متعلق جو تفصیلات بیان کی ہیں اس کی روشنی میں ہندوؤں کی شرعی حیثیت کا تعین بہ آسانی کیا جاسکتا ہے، جس کی روشنی میں سلاطین ہند نے غیرمسلموں کو حقوق عطا کیے۔
                امام ابوحنیفہ(۱۹) کے علاوہ امام احمد کے ایک قول کے مطابق اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) کے علاوہ مشرکین و کفار کو ذمی قرار دیاجائے گا۔ البتہ مشرکین عرب اس سے مستثنیٰ ہوں گے جن کے لیے قرآن میں اسلام اور تلوار کے علاوہ تیسری صورت نہیں(۲۰)۔ امام مالک(۲۱) کے نزدیک عرب اور غیر عرب کو بھی ذمی کا درجہ دیاجائے گا(۲۲)۔ اہل کتاب اورمجوسی کو ہی ذمی کی حیثیت حاصل ہوگی امام شافعی(۲۳) کے مسلک کے مطابق(۲۴)۔
جزیہ کن لوگوں سے وصول کیا جائے گا؟
                اسی کے ساتھ جن ذمیوں سے جزیہ وصول کیا جائے گا اس سلسلے میں بھی فقہاء کا اختلاف پایا جاتاہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک جزیہ اہل کتاب سے وصول کیاجائے گا خواہ وہ عرب ہوں یا عجم، اور عجم کے مشرکوں سے بھی لیاجائے گا چاہے وہ مجوسی ہوں یا بت پرست، البتہ مرتدوں سے نہیں لیا جائیگا(۲۵)۔ امام ابویوسف(۲۶) کا قول ہے کہ عرب سے بالکل جزیہ نہیں لیا جائیگا، اہل کتاب ہوں یا مشرک، جزیہ صرف عجمیوں سے لیا جائیگا، اہل کتاب سے بھی اورمشرکوں سے بھی(۲۷)۔
                امام اوزاعی(۲۸) کے نزدیک ہر کافر سے جزیہ لیا جائے گا، خواہ وہ عرب ہوں یا عجمی کتابی یاکوئی اور۔ ہاں مرتدوں سے اور قریش کے مشرکوں سے نہیں لیا جائے گا(۲۹)۔ امام شافعی کے بقول جزیہ مذہب کی بنیاد پر ہے، شخصیت کی بنیاد پر نہیں ہے، لہٰذا صرف اہل کتاب سے جزیہ لیاجائے گا خواہ وہ عربی ہوں یا عجمی، بت پرستوں سے بالکل نہیں لیاجائے گا۔ امام شافعی کے نزدیک مجوسی اہل کتاب ہیں(۳۰)۔
                جن لوگوں نے اہل عرب سے جزیہ وصول کرنے کی صراحت کی ہے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ(۳۱) نے لکھا ہے کہ اہل کتاب اور مجوس سے اس وقت تک مقاتلہ کرنے کا حکم واجب ہے جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائیں یا جزیہ دینا قبول نہ کریں۔ ان کے سوا جو دوسرے ․․․ ہیں ان سے جزیہ قبول کرنے کے متعلق علماء میں اختلاف ہے لیکن عام فقہاء مشرکین عرب سے جزیہ قبول کرنا روا نہیں رکھتے، بعض فرقے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں،لیکن بعض ان شرائع کو جو بالکل ظاہر اورمتواتر ہیں منکر ہیں۔ ان کے خلاف بھی باتفاق مسلمین اس وقت تک جہاد واجب ہے جب تک کہ تمام دین اللہ ہی کا نہ ہوجائے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مانعین زکوٰة سے جہاد کیا تھا، ابتدا میں بعض صحابہ کو ان کے قتال میں توقف تھا، لیکن آخر میں سب متفق ہوگئے۔(۳۲)
محمد بن قاسم کے عہد میں ہندوؤں کی جو شرعی حیثیت
 متعین کی گئی وہ بعد کے عہد میں بھی برقرار رہی
                شبہ اہل کتاب کے زمرے میں یہاں کے ہنود کو شامل کرکے محمد بن قاسم کے عہد میں غیرمسلموں کی شرعی حیثیت متعین کی گئی اور انہیں ذمی کا درجہ دیاگیا۔ چنانچہ غیرمسلموں کی یہی حیثیت بعدکے عہد میں بھی برقرار رہی۔ مگرجب التمش(۳۳) کا زمانہ حکومت آیا اور فقہ نے زور پکڑا تو نئے نئے مسائل درپیش اور مدون ہوئے تو علمائے وقت نے اس مسئلہ کو ابھارا کہ یہاں کے ہندوؤں کی شرعی حیثیت کیاہو؟ ایک طبقہ انہیں اہل ذمہ کے حقوق دئیے جانے کے حق میں نہ تھا اور ان کے ساتھ اما الاسلام اور اما القتل کے اصول پر عمل کرنے پر مصر تھے، کیوں کہ وہ اہل کتاب نہیں ہیں۔ جبکہ دوسرے علماء کی رائے اس کے برعکس تھی۔ جب یہ مسئلہ بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو بادشاہ نے اول الذکر طبقہ کی اس رائے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے غیرمسلموں کو سابقہ حیثیت پربرقرار رکھا اور اپنے وزیر نظام الملک جنیدی(۳۴) سے کہا کہ ان علماء کو یہ جواب دیں کہ اس وقت مذکورہ اصول پر عمل نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ:
”ابھی ابھی ہندوستان فتح ہوا ہے،اس وقت مسلمانوں کا تناسب بس اس قدر ہے کہ جیسے آٹے میں نمک۔ اس صورت میں اگراس اصول پر عمل کیاگیا تو یہ ممکن ہے کہ ہندو متحد ہوجائیں اور ملک میں فساد برپا کردیں گے اورہماری طاقت کمزور ہے، اس لیے ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے، لیکن جب ذرا وقت گذر جائے گا اورمسلمان ہرجگہ پہنچ جائیں گے اورآباد ہوجائیں گے اور لشکروں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا تو ہم ہندوؤں کے ساتھ یہی معاملہ کریں گے“۔(۳۵)
                یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مشرکین و کفار کو بھی ذمی کا درجہ دیا جائے گا، جب کہ شافعی کے یہاں ایسا نہیں ہے اور جن علماء نے عہد التمش میں اس مسئلہ کو ابھارا وہ اسی آخرالذکر مسلک سے تعلق رکھتے تھے، جن میں ایک عالم دین سید مبارک(۳۶) غزنوی بھی تھے۔ چوں کہ بادشاہ وقت کا تعلق حنفی مسلک سے تھا، لہٰذا اس نے امام ابوحنیفہ کے قول پر عمل کرکے اسے ذمی کا درجہ دیا اور چوں کہ علماء وفد کی باتوں کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا تھا لہٰذا انہیں مذکورہ جواب دے کر خاموش کردیاگیا۔ اس وقت سے لے کر بعد کے عہد میں بھی ہندوؤں کی یہی حیثیت برقرار رہی جیساکہ محمد بن قاسم کے عہد میں تھی۔ چنانچہ پروفیسر ظفرالاسلام اصلاحی لکھتے ہیں:
”سندھ میں محمد بن قاسم کی حکومت کے دوران ہندوؤں کی جو قانونی حیثیت قانونی و عملی طور پر تسلیم کی گئی تھی وہی تیرہویں صدی عیسوی کی ابتدا میں دہلی سلطنت کے قیام کے بعد بھی برقرار رہی جیسا کہ اس زمانہ کی تاریخی کتب اور سرکاری دستاویز سے واضح ثبوت ملتا ہے۔“(۳۷)
ہندوستان میں انبیاء و رسل کے بعثت کا امکان
                قرآنی تصریحات کے مطابق ہر قوم و ملت میں نبی اور رسول بھیجے گئے، تاکہ ان کی زبان اور ان کے مزاج کے مطابق خدا کا پیغام پہنچائیں اور سمجھائیں تاکہ وہ برائیوں اور غلط کاموں سے اجتناب کریں اور اللہ کی رضا حاصل کریں۔ اس اعزاز سے ہندوستان کو محروم کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے عہد میں علماء کی ایک بڑی تعداد نے وضاحت کی ہے کہ ہندوستان میں بھی خدا کے فرستادہ آئے ہیں جنھوں نے احکام الٰہی کی تبلیغ کی۔ حضرت مجددالف ثانی(۳۸) کی یہی رائے ہے۔ حضرت مرزا مظہر جان جاناں(۳۹) نے نبی کی آمد کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ہندوؤں میں وید الہامی کتاب ہے جو برہما فرشتے کے ذریعہ بھیجی گئی ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی(۴۰) کا بھی یہی خیال ہے۔ بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی(۴۱) کا مسلک اس سلسلے میں اتنا محتاط تھا کہ وہ رام چندرجی اور کرشن جی کی شان میں گستاخی کو منع فرماتے تھے؛ کیوں کہ ان کے خیال میں ان کے رسول ہونے کا امکان ہے(۴۲)۔ مولانا مناظراحسن گیلانی(۴۳) نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں نبی و رسول کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا(۴۴)۔ شاہ عبدالرحمن چشتی نے متعدد حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ ہندو دھرم اور سماج میں نبی و رسول کی بعثت کا تصور ہے(۴۵)۔ حضرت تھانوی(۴۷) اور شیخ الحدیث مولانا زکریا(۴۸) کی رائے میں یہاں نبی و رسول کے مبعوث ہونے کے واضح اشارے ملتے ہیں(۴۹)۔ عبدالرزاق ہانسوی، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، جناب اجمل خاں، سید اخلاق دہلوی، شمس نوید عثمانی وغیرہ کی یہی رائے ہے(۵۰)۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی(۵۱) کی تفسیر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں نبی ورسول آئے کیوں کہ وید میں نبی آخرالزماں کے مبعوث ہونے کی شہادت ملتی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
میں کہتا ہوں کہ اگر مجوسیوں کے اسلاف کا اہل کتاب ہونا ان مجوسیوں کے اہل کتاب قرار دینے کیلئے کافی ہے تو ہمارے زمانہ کے ہندو بت پرست بھی اہل کتاب ہوجائیں گے۔ ان کے پاس بھی وید نام کی ایک کتاب ہے، جس کے چار حصے ہیں، اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ خدائی کتاب ہے، پھر ان کے اکثراصول بھی شرعی اصول کے موافق ہیں اور جن اصولوں میں اختلاف ہے وہ شیطانی آمیزش کا نتیجہ ہے۔ جس طرح شیطانی تفرقہ اندازی سے مسلمانوں کی جماعت پھٹ کر بہتر فرقے بن گئی۔ ہندوؤں کے اہل کتاب ہونے کی تائید قرآن سے بھی ہورہی ہے۔ اللہ نے فرمایا وان من امة الاخلا فیہا نذیر ہرامت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر ضرور گذرا ہے۔ مجوسیوں سے توہندو اہل کتاب کہلانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ مجوسیوں کے بادشاہ نے تو نشہ سے بدمست ہوکر اپنی بہن سے زنا کی اوراپنے دین و کتاب کو چھوڑ دیا اور دین آدم کا مدعی بن بیٹھا، مگر ہندوؤں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی، البتہ رسول اللہ کی رسالت کا انکار کرنے کی وجہ سے کافرہوگئے۔ مجھ سے بیان کیاگیا ہے کہ چوتھے وید میں رسول اللہ کی بعثت کی بشارت مذکور ہے جسکو پڑھ کر ہندو مسلمان ہوگئے۔“(۵۲)
                مذکورہ اقتباس میں شامل آیت قرآنی کی تفسیر و توضیح بیان کرتے ہوئے مولانا سید اخلاق حسین دہلوی لکھتے ہیں کہ:
”اس بیان سے یہ مستفاد ہے کہ اگرکوئی قوم یا امت کسی کتاب کے خدائی کتاب ہونے کا دعویٰ کرتی ہے جیسا کہ مجوس و صائبین تو یہ کہہ کر کہ قرآن پاک میں اس کا نام نہیں ہے،اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ جنہیں قرآن پاک کا علم ہے وہ جانتے ہیں کہ قرآن پاک میں سب ہی آسمانی یا خدائی کتابوں کے نام نہیں ہیں۔ اس لیے کہ قرآن پاک فہرست کتب نہیں ہے، البتہ قرآن پاک میں سابقہ تین آسمانی کتابوں کے نام واضح طورپر ہیں جو اس عہد میں معروف و مروج تھیں، چوتھا نام خود قرآن پاک کا ہے۔ ان کے علاوہ سابقہ آسمانی کتابوں کا ذکر مجملاً ہے، جیسے الزبر والکتاب المنیر وصحف الاولٰی ، بہرحال جن کتابوں کو بعض قومیں آسمانی کتاب مانتی ہیں تو ان کے متنوں کے مطالعہ سے روشنی حاصل کی جاسکتی ہے کہ اگر وہ توحیدی ہدایات سے اور تصور آخرت سے مزین ہیں اور طاغوتی لغویات سے فی نفسہ مبرا ہیں تو ان کا آسمانی کتابیں ہونا اقرب از یقین ہے۔ البتہ تحریف والحاق کو مسترد قرار دینا ہوگا جو آسمانی کتاب میں لاحق ہوتا رہا ہے، لیکن فی نفسہ انکار نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ ہمیں یہ ہدایات بھی نہیں ہے کہ ہم انکار ہی کریں تسلیم نہ کریں، اس لیے خد ما صفا و دع ما کدر پر عمل کرنا ہوگا اور توحید و تصور آخرت کی عظمت کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔“(۵۳)
                اسی طرح مولانا ابوالکلام(۵۴) آزاد نے لکھا ہے کہ اگر مجوسی وصائبی کو اہل کتاب کے زمرے میں شامل کیا جاسکتا ہے تو ہندو بدرجہ اولیٰ اس میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔ اگر مجوسیوں کے پاس زنداوستا خدائی کتاب کا دعویٰ ہے جسے وہ پڑھتے پڑھاتے ہیں تو ہندوؤں کے ہاں بھی اس قسم کی کتابیں موجود ہونے کا امکان ہے اور یہ باتیں وہی کہہ سکتا ہے جنہیں ان کے حالات کا گہرا علم ہے۔(۵۵)
                ان باتوں کے علاوہ مسنداحمد کی حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل بھیجے گئے(۵۶)، جن میں کچھ کی وضاحت قرآن میں موجود ہے، جبکہ بیشتر کے متعلق کوئی صراحت نہیں ملتی۔ اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غیرمسلموں میں نبی و رسول کا امکان ہے۔
                یہ تمام تصریحات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہندوستان میں انبیاء و رسل مبعوث ہوئے۔ لیکن ان آرا سے کلی طور پر اتفاق اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ کوئی واضح دلیل سامنے نہ آجائے، لیکن علماء کی رائے کی روشنی میں یہ فیصلہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ مسلم حکومت کے قیام کے ابتدائی زمانہ میں انہی تصریحات کی روشنی میں معاصر علماء و فقہائے ہندوستان کے غیرمسلموں کو شبہ اہل کتاب کے زمرے میں شامل کرکے ان کی شرعی حیثیت متعین کی جس پر محمدبن قاسم اور بعد کے سلاطین نے عمل کیا۔


کیا جزیہ اسلامی ہی کی محدثات ہے:
                جب یہ بات متحقق ہوگئی کہ ہندوستان کے غی0رمسلموں کو فقہائے اسلام نے شبہ اہل کتاب کا درجہ دے کر انہیں ذمی کی حیثیت دی، تو اب یہ دیکھنا ہے کہ ان پرجو جزیہ نافذ کیاگیا، کیا وہ صرف اسلام ہی کا طریقہ ہے یا اس سے پہلے بھی حکمراں جماعت اپنی رعایا سے اس قسم کی رقم وصول کرتی تھی۔ چنانچہ اس سلسلے میں جرجی زیدان(۵۷) نے اسکی تاریخی حیثیت کا تعین کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
”جزیہ کچھ اسلام کی محدثات (نئی پیدا کی ہوئی باتوں) میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ تمدن قدیم سے رائج چلا آرہا ہے۔ ایتھینز کے رہنے والے یونانیوں سے پانچویں صدی قبل مسیح میں سواحل ایشیاء کوچک کے رہنے والوں پر جزیہ مقرر کیاگیا تھا اورانھوں نے اس جزیہ کا تقرر اس ذمہ داری کے مقابلہ میں کیا تھا جو انھوں نے ان مقامات کے باشندوں کو اہل فینیفیہ کے حملوں سے محفوظ رکھنے کی بابت اٹھائی تھی اور فینیفیہ اس زمانے میں فارس کا مقبوضہ ملک تھا۔ ان سواحل کے باشندوں کو اپنی جانوں کی حفاظت کے مقابلہ میں مال کا دے دینا آسان معلوم ہوا اور انھوں نے اسے خوشی کے ساتھ منظور کرلیاتھا۔ رومانی لوگوں نے جن قوموں کو زیر کرکے اپنا تابع و فرماں بردار بنایا ان پر انھوں نے مسلمانوں کے اس مقدار جزیہ سے جس کو فاتحین اسلام نے اس زمانہ کے بہت عرصہ بعد مقرر کیاتھا کہیں اور کئی حصہ بڑھ کر جزیہ مقرر کردیاتھا؛ کیوں کہ رومانی لوگوں نے جس زمانہ میں گال (فرانس کا ملک) فتح کیا ہے تو انھوں نے وہاں کے ہر ایک باشندہ پر جزیہ مقرر کیا تھا جس کی تعداد ۹ سے ۱۵ گنی سالانہ تک کے مابین ہوتی تھی، یا یوں کہنا چاہیے کہ مسلمانوں کے مقرر کردہ جزیہ سے سات گنی تھی۔“(۵۸)
                پروفیسر خلیق احمد نظامی نے متعدد مستند حوالوں کی روشنی میں ثابت کیاہے کہ اسلام سے پہلے اوراس کے بعد بھی دنیا کے مختلف ممالک اور ملل کے سربراہ اپنی رعایا سے ایک مخصوص رقم وصول کرتی تھی، جو اسلامی جزیہ سے ہرگز مختلف نہیں، چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
”تاریخی شواہد سے ثابت ہے کہ اسلام سے پہلے جزیہ کا لفظ رائج ہوچکا تھا اور نوشیرواں عادل نے اس کے قواعد بھی مرتب کیے تھے۔ ایران اور روم میں اس طرح کے ٹیکس لیے جاتے تھے۔ عرب کے جو علاقے ان کے زیر نگیں تھے وہ اسی طرح کے ٹیکسوں سے واقف تھے۔ ہندوستان کے شہری بھی اس قسم کے ٹیکسوں سے ناواقف نہ تھے۔ قنوج کا گہروار خاندان ایک ٹیکس ترشکی ڈانڈا وصول کرتا تھا۔ ٹاڈنے لکھا ہے کہ اس کے زمانہ میں بھی بعض راج پوت ریاستیں ایک روپیہ فی کس وصول کرتی تھی۔ ڈاکٹر ترپاٹھی کا خیال ہے کہ کم و بیش اسی نوعیت کے ٹیکس فرانس میں Hoste tax ،جرمنی میں Commen Penny انگلستان میں Sculage کے نام سے وصول کیے جاتے تھے۔“(۶۰)
                علامہ شبلی نعمانی(۶۱) نے بھی اپنی تحقیق میں وضاحت کی ہے کہ جزیہ اسلام سے بہت پہلے کی پیداوار ہے اور غالبا نوشیرواں کے عہد میں نہ صرف اس کا نفاذ ہوا بلکہ اس نے اس حوالے سے باضابطہ اصول و ضوابط مرتب کیے۔ اس ضابطے میں معزز حضرات شامل نہ کیے گئے اور صرف متوسط اور مفلوک الحال لوگوں سے جزیہ بمعنی ٹیکس وصول کیا جاتا رہا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
”جہاں تک ہم کو معلوم ہے کہ ایران و عرب میں خراج و جزیہ کے وہ قواعد جو باقی اسلام میں رائج ہیں، نوشیرواں کے عہد میں مرتب ہوئے۔ امام ابوجعفر طبری جو بہت بڑے محدث اور مورخ تھے نوشیرواں کے انتظامات ملکی کے بیان میں لکھتے ہیں کہ : ”لوگوں پر جزیہ مقرر کیاگیاجس کی شرح ۱۲ درہم اور ۸ و ۶ و ۴ تھی، لیکن خاندانی شرفا اور امرا اور اہل فوج اور پیشوایانِ مذہب اور اہل قلم اور عہدہ داران دربار جزیہ سے مستثنیٰ تھے اور وہ لوگ بھی جن کی عمر ۵۰ سے زیادہ یا بیس کے کم ہوتی تھی“۔ امام موصوف اس واقعہ کے بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ : حضرت عمر نے جب فارس کو فتح کیا تو ان ہی قاعدوں کی تقلید کی۔ علامہ ابوحنیفہ دینوری نے بھی کتاب الاخبار والاحوال میں بعینہ اس تفصیل کو نقل کیا ہے․․․․ اس غرض سے نوشیرواں نے جزیہ کا قاعدہ جاری کیا اس کی وجہ علامہ طبری نے نوشیرواں کے اقوال سے یہ نقل کی ہے کہ ”اہل فوج ملک کے محافظ ہیں اور ملک کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں، اس لیے لوگوں کی آمدنی سے ان لیے ایک رقم خاص مقرر کی کہ ان کی محنتوں کا معاوضہ ہو ․․․“ خراج و جزیہ کے متعلق جو کچھ ان مورخوں نے لکھا ہے اس کی تائید فردوسی کے اشعار سے بھی ہوتی ہے، اگرچہ بعض امور میں دونوں کا بیان مختلف ہے۔“(۶۲)
جزیہ کی وصولی اسلامی سلطنت کی ناگزیر ضرورت:
                قابل ذکر ہے کہ ٹیکس ہو یا جزیہ کسی بھی مملکت کے سربراہ کے لیے اپنے ملک میں مقیم رعایا سے وصول کرنا ناگزیرامر ہے، جس کے بغیر حکومت کا نظم و نسق سنبھالا نہیں جاسکتا، کیوں کہ اس طرح کی رقم وصول کرکے رعایاپر ہی مختلف طریقے سے خرچ کردی جاتی ہے۔ مگر اس ٹیکس کی وصولی میں رعایا کے کسی بھی طبقہ کی تخصیص نہیں۔ اس کے برعکس اسلام نے غیر مسلموں سے ٹیکس وصولی میں اس کی مالی حیثیت کے علاوہ سماج کے کمزور طبقہ کو اس سے بری کردیا، جس کی وضاحت کی جاچکی ہے، اور جس مقدار میں رقم وصول کی جاتی تھی اس کی ادائیگی کسی بھی فرد کے لیے چنداں مشکل نہ تھا، جو دوسرے سربراہ مملک جبراً و قہرا اپنی رعایاسے وصول کرتے تھے۔
                اس کے علاوہ بعضے وقت اس رقم سے ذمی اور معاہد کی مدد بھی کی جاتی تھی جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ حضرت عمر(۶۳) نے اپنے زمانہ خلافت میں ایک غیرمسلم بوڑھے شخص کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا، انھوں نے اس بوڑھے فقیر سے پوچھا کہ تیرا کیا مذہب ہے، اس نے اپنا مذہب یہودی بتایا، حضرت عمر کو اس بوڑھے پر بہت ترس آیا۔ وہ فقیر کو اپنے ساتھ لائے اور روپے پیسے دینے کے بعد بیت المال کے افسر سے کہلا بھیجا کہ اس بوڑھے اوراس کے ساتھیوں پر خیال کرو۔ اللہ کی قسم! یہ ناانصافی ہوگی کہ اس کی جوانی کی کمائی ہم کھائیں اور اب یہ بوڑھا ہوگیا ہے تو اس کو ہم نکال دیں۔ صدقے کی نسبت جو خدا نے کہا ہے کہ فقیروں اورمسکینوں کو دینا چاہیے تو فقیروں سے مسلمان اور مسکینوں سے اہل کتاب مراد ہیں۔(۶۴)
                اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں نے غیرمسلموں سے جزیہ وصول کرکے انہیں ہر قسم کی آزادی اور امان دے دیا۔ یہاں تک کہ انہیں یہ بھی ضمانت دی کہ دشمنوں کے حملے اور ان کے ظلم سے انہیں محفوظ رکھا جائے گا۔ جب کبھی مسلم فاتح اس قسم کے حقوق دینے میں خود کو کمزور پایا تو وصول کی جانے والی جزیہ کی رقم کو واپس کردیا یہ کہہ کر کہ ان حالات میں تمہاری حفاظت ممکن نہیں، تم اپنی حفاظت خود کرو، جس کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت عمر ہی کے زمانے میں جب اسلامی فوجیں حمص (شام) سے ہٹ آئیں تو حضرت عبیدہ(۶۵) رضی اللہ عنہ نے وہاں کے یہودیوں اور عیسائیوں کو بلاکر کئی لاکھ رقم جزیہ کی یہ کہہ کر واپس کردی کہ اب تمہاری حفاظت نہیں کرسکتے، اس لیے جزیے کی رقم بھی نہیں رکھ سکتے۔ اس قسم کی حفاظت اور تعاون کی مثال کیا دنیا کے کسی دوسرے فاتحین کی تاریخ میں مل سکتی ہے کہ اس نے غیر مذہب رعایا کی خاطرداری اوراس کی حفاظت کی ذمہ داری اس انداز میں لی ہو(۶۶)۔ بلکہ اگر تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہود و نصاریٰ نے جب بھی عروج حاصل کیا تو ایک نے دوسرے پر کتنے شدید مظالم ڈھائے اور انہیں نیست و نابود کیا۔ حکمراں جماعت نے کمزور طبقہ کو بڑی بے دردی سے کچلا اور ستایا۔ خود ہندوستان میں ہندو مذہب اور بدھ مت کے عروج و زوال کی داستان بڑی کرب ناک ہے ایک دوسرے نے اپنے زمانہ عروج میں محکوم طبقہ کا جینا حرام کردیا اور ایک دوسرے کے معابد و منادر کو منہدم اور مسمار کیا۔(۶۷)
                تاریخ ہند خاموش ہے کہ مسلم حکمرانوں نے ہندوستان میں داخل ہونے کے بعد جزیہ کی وصولی سے پہلے یا اس کے بعد اپنی غیرمسلم رعایاکو تعصب و تنگ نظری کی بنا پر ستایا اور تہہ تیغ کیا اور ان کے منادر و معابد پر دست درازی کی بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جنھوں نے جزیہ ادا کیا یا جو ٹیکس دینے سے مجبور رہے سب کو یکساں حقوق ملے، جس حد تک فقہاء نے ان کے حقوق متعین کیے ہیں۔ بلکہ بعضے وقت تو حکمراں جماعت ان حقوق متعینہ سے زیادہ ان کا خیال رکھا اور سلطنت کے اہم امور ان کے سپرد کیے اور ان پر غیر معمولی اعتماد و بھروسہ کیا۔
”مسلمان فاتح نے مفتوحوں کے ساتھ عقلمندی اور فیاضی کا سلوک کیا۔ مال گزاری کا پرانا نظام قائم رہنے دیا، اور قدیمی ملازموں کو برقرار رکھا، ہندوپجاریوں اور برہمنوں کو اپنے مندروں میں پرستش کی اجازت دی اور ان پر فقط ایک خفیف سا محصول عاید کیا جو آمدنی کے مطابق ادا کرنا پڑتا تھا۔ زمینداروں کو اجازت دی گئی کہ وہ برہمنوں اور ہندوؤں کو قدیم ٹیکس دیتے رہیں۔“
                سندھ میں داخلہ کے بعد محمد بن قاسم نے اگر کچھ متمول لوگوں سے جزیہ وصول کیاتو اس کے ساتھ انھوں نے غیرمسلموں کو جس فراخ دلی سے عہدے اور مناصب دئیے اس پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالتے ہوئے شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں کہ:
”محمد بن قاسم نے پرانے نظام کو حتی الوسع تبدیل نہ کیا، راجا داہر کے وزیراعظم کو وزارت پر برقرار رکھا اور اس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے تمام نظام سلطنت ہندوؤں کے ہاتھ میں رہنے دیا۔ عرب فوجی اور سپاہیانہ انتظام کے لیے تھے، مسلمانوں کے مقدمات کا فیصلہ قاضی کرتے تھے، لیکن ہندوؤں کے لیے ان کی پنچائتیں بدستور قائم رہیں۔“
                جزیہ دے کر غیرمسلم اسلامی ریاست کی طرف سے فوجی خدمات، ملک کی نگہداشت اور دوسرے کاموں سے بری ہوجاتے اور انہیں مسلمانوں کے مساوی حقوق حاصل ہوجاتے۔ حالاں کہ مسلمانوں کو اس طرح کے کئی ٹیکس زکوٰة و صدقات اور عشر و خراج نکالنے پڑتے تھے اور حکومت ان سے وصول کرتی تھی، باوجود اس کے ملک کی فلاح و بہبود اوراس کی تعمیر و ترقی کے ساتھ فوجی خدمات پر بھی مامور ہونا پڑتا ہے، جہاد میں شرکت کرنا پڑتا تھا۔ چنانچہ جزیہ کی وصولی کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ یوسف القرضاوی لکھتے ہیں کہ:
”ذمیوں پر جزیہ لگانے کی ایک دوسری وجہ بھی تھی اور یہ وہی وجہ ہے جس کا سہارا ہر زمانہ میں کوئی بھی حکومت ٹیکس لگاتے وقت لیتی ہے، یعنی مفاد عامہ کے اخراجات مثلاً پولیس اور عدالت کا نظام، سڑکوں اور پلوں وغیرہ کی تعمیر کے کام جو معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہیں اور جن سے ہرشہری چاہے وہ مسلمان ہو یا غیرمسلم یکساں فائدہ اٹھاتا ہے۔ مسلمان زکوٰة، صدقہٴ فطر اور دیگر ٹیکسوں کی صورت میں اس طرح کے اخراجات میں حصہ لیتے ہیں۔ اگر غیرمسلمین جزیہ کی صورت میں ایک معمولی رقم کے ذریعہ ان میں حصہ لیں تو تعجب کی کیا بات ہوگی۔“(۹۷)
                پھر علامہ موصوف یہ بھی لکھتے ہیں کہ:
”اس فریضہ کے بدلہ وطن کے دفاع و حفاظت کے اخراجات میں شرکت کیلئے غیرمسلم شہریوں پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے اسے اصطلاحاً جزیہ کہتے ہیں، چنانچہ جزیہ کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ وہ فوجی خدمت کا مالی بدل ہے نہ کہ اسلامی حکومت کے سامنے جھکنے کی علامت۔“(۹۷)
جزیہ کب ساقط ہوگا:
                جزیہ فوجی خدمات سے سبکدوشی کا بدل ہے، اگر کوئی ذمی اپنی مرضی سے اس میں شامل ہونا چاہتا ہے یا ریاست کے مفاد کے لیے اپنی خدمات پیش کرنا چاہتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر دشمنان اسلام سے دارالاسلام کو بچانے کے لیے جنگ میں حصہ لیتے ہیں تو ایسی صورت میں ان سے جزیہ ساقط ہوجائے گا اور تمام حقوق مثل مسلمان کے اسے حاصل رہیں گے۔“(۹۸)
                اسی طرح اگر حکام وقت ذمیوں کی حفاظت کرپانے پر قادر نہیں ہیں تو پھر ضروری ہوگا کہ امارت کے سربراہ جزیہ کی رقم واپس کردیں۔ جس کی طرف گذشتہ سطور میں اشارہ کیا جاچکا ہے کہ ایسے حالات میں لی گئی جزیہ کی رقم واپس کردی گئی۔(۹۹)
                انہی رعایتوں سے فائدہ اٹھاکر بہت سے ذمیوں نے ترقی کے اعلیٰ مدارج طے کیے اور بڑے بڑے عہدے ان کے ذمے کیے گئے (۱۰۰) اور بقول مولانا شبلی نعمانی ہرزمانے میں سیکڑوں اور ہزاروں عیسائی، یہودی، ہندو، آتش پرست سرکاری خدمتوں پر مامور ہوئے، ہندوستان میں ایک خاص تغیر ہوا، یعنی یہ کہ ہندوؤں نے کثرت سے فوجی خدمتیں قبول کیں اور فوج میں بہت بڑا حصہ ان کا تھا۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہندوؤں نے ہرقسم کے بڑے بڑے عہدے حاصل کیے۔(۱۰۱)
تنقیض معادہ کی صورت اور علت:
                ذمی یا معاہد کو اسلامی قلم رو میں ہر قسم کی آزادی اور مراعات حاصل ہوں گی، جو ایک مسلمان کو حاصل ہوتے ہیں۔ البتہ وہ اسلامی قلم رو میں ایساکوئی کام نہیں کریں گے جو حکومت کے منشا کے خلاف ہو۔ مثلاً
                اگر ذمی جزیہ ادا کرنے یا معاہدہ کے خلاف کسی حکم کوماننے سے انکار کردے، یا کسی مسلمان کو قتل کردے، یا مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے لوگوں کو جمع کرے، یا کسی مسلمان عورت سے زنا کرے یعنی نکاح (غیرشرعی) کرکے مسلمان عورت سے قربت کرے، یا کسی مسلمان کو اسلام کی طرف سے ورغلائے، یا مسلمانوں کو راستہ میں لوٹ لے اور رہزنی کرے یا مشرکوں کے لیے جاسوسی کرے، یا مسلمانوں کے خلاف کافروں کی راہنمائی کرے، یا کافروں کو مسلمانوں کی خبریں اور مسلمانوں کے رازوں سے واقف کرے تو ظاہر روایت کے مطابق ایسے ذمی کا معاہدہ توڑ دیا جائے گا اور وہ ذمی نہیں رہے گا۔ ایک دوسری روایت یہ ہے کہ معاہدہ ذمیت کی شکست صرف اسی وقت کی جاسکتی ہے کہ ذمی اداء جزیہ سے یا ہمارے احکام کو ماننے سے انکار کردے۔(۶۸)
                امام مالک نے فرمایا کہ صرف تین وجوہ سے ذمیت کا معاہدہ توڑا جاسکتا ہے۔ جزیہ دینے سے انکار کردے یا اسلام کے احکام کو لاگوہونے سے انکار کردے، یا مسلمانوں سے لڑنے کا پکا ارادہ کرلے۔ ہاں اگر مندرجہ بالا امور کی شرط معاہدے کے وقت کرلی گئی ہو تو پھر امور مندرجہ بالا میں سے اگر کوئی خدمت کرے تواس کی ذمیت کا معاہدہ توڑدیا جائے گا۔(۶۹)
                امام شافعی نے فرمایا کہ مسلمان عورتوں سے اگر ذمی زنا کرے یا برائے نام نکاح کے بعد مسلمان عورت سے قربت کرے یا رہزنی کرے تو ان تینوں صورتوں میں معاہدہ نہیں توڑا جاسکتا۔ باقی مذکورہ بالا صورتوں میں معاہدہ توڑ دیا جائے گا۔(۷۰) امام مالک کے شاگرد قاسم کے نزدیک رہزنی کی صورت میں بھی شکست معاہدہ کی جاسکتی ہے۔(۷۱)
                امام ابوحنیفہ نے کہا کہ صرف اس صورت میں معاہدہ توڑا جاسکتا ہے کہ ذمی دارالحرب سے مل جائے یا اس کے پاس کوئی فوجی طاقت ہو جس کی وجہ سے وہ دارالاسلام کے کسی حصہ پر قابض ہوگیا ہو۔ ان دونوں صورتوں میں وہ حربی ہوجائے گا۔ ذمی نہ رہے گا، باقی کسی صورت میں جزیہ کا وعدہ کرلیتے ہیں اور جزیہ کو اپنے اوپر لاگو مان لیتے ہیں (اس کے بعد ادا بھی کرتے ہیں یا نہیں یہ دوسری بات ہے) جزیہ ادا کرنا معاہدے کی بنیاد نہیں ہے۔ اب اگر کوئی آدمی جزیہ نہیں دیتا اوراس کے پاس جنگی یافوجی قوت بھی نہیں ہے تواس نہ دینے کا اعتبار نہیں (ہم اس کو باغی یا جری نہیں کہہ سکتے) امام المسلمین اس کو گرفتار کراسکتا ہے اور مارسکتا ہے۔(۷۲)
جزیہ کی مقدار کیاہوگی:
                حکومت اسلامی مقیم غیرمسلموں سے جزیہ کی رقم کتنی مقدار میں وصول کی جائے گی۔ اس کے بارے میں امام ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اس کا تعین باہم صلح اوررضامندی سے ہونا چاہیے۔ دونوں جتنی مقدار میں جزیہ کی رقم طے کرلیں۔ دلیل کے لیے فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے یمن کے نجرانیوں سے، قسط وار دوہزار کپڑے کے جوڑوں کی شرط پر صلح کی تھی۔ ایک قسط ماہ رجب میں ادا کریں اور دوسری قسط ماہ صفر میں۔ اور اگر مصالحت کے بجائے بطور غلبہ ان پر اقتدار حاصل کیاگیا تو ہر مال دار سے چار درہم ماہانہ کے اعتبار سے یعنی سالانہ ۴۸ درہم، متوسط درجہ سے دو درہم ماہانہ کے حساب سے اور غریب سے برسرروزگار سے جو سال کے زیادہ حصوں میں تندرست رہتا ہو ایک درہم ماہانہ کے حساب سے جزیہ وصول کیا جائے گا۔(۷۳)
                یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ ہندوستان کی فتح بزور طاقت ہوئی تھی۔ اس لیے ابتدائی مسلم فاتحوں نے یہاں کی ذمی (غیرمسلموں) سے جزیہ کی رقم مذکورہ بالا تصریح کی روشنی میں اسی مقدار میں وصول کیا جس کا ادا کرنا چنداں مشکل نہیں۔
                امام مالک کا مشہور قول یہ ہے کہ امیر غریب کا کوئی فرق نہیں ہر شخص سے چار دینار یا چالیس درہم سالانہ لیے جائیں۔(۷۳) امام شافعی کے نزدیک ہر غریب امیر سے سالانہ ایک دینارلیا جائے(۷۴)۔ امام احمد کے چار اقوال مختلف روایات میںآ ئے ہیں۔ پہلی روایت میں وہ امام ابوحنیفہ کے ساتھ ہیں۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ مقدار کی تعین امیر اسلام کی رائے پر ہے۔ متعین مقدار کوئی نہیں۔ تیسری روایت میںآ یا ہے کہ کم سے کم ایک دینار سالانہ لیا جائے، زیادہ کی حد بندی نہیں ہے۔ چوتھی روایت میںآ یا ہے کہ صرف اہل یمن کے لیے ایک دینار فی کش سالانہ مخصوص تھا۔ (یہ حکم عمومی ہر ذمی کے لیے نہیں)(۷۵)
                امام ابوحنیفہ کے نزدیک سال شروع ہوتے ہی پورے سال کا جزیہ ادا کرنا واجب ہوگا۔ امام مالک کا قول بھی ایک روایت میں یہی آیا ہے۔ لہٰذا ذمیت کا معاہدہ ہوتے ہی سال بھر کا جزیہ اداکرنا لازم ہے۔ امام شافعی اورامام احمد کے نزدیک اداء جزیہ کا وجوب سال ختم ہونے پر ہوتا ہے، اس لیے سال گزرنے سے پہلے مطالبہ نہیں کیاجاسکتا۔ امام مالک کا بھی مشہور قول یہی ہے۔(۷۷)
                اگر دوران سال یا سال تمام ہونے کے بعد ذمی مرجائے اور جزیہ ادا نہ کیا ہو تو امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک واجب الادا رقم جزیہ ساقط ہوجائے گی۔ (اس کے ترکہ سے وصول نہیں کی جائے گی) کیوں کہ جزیہ کفر کی دنیوی سزا ہے اور موت سے تمام دنیوی سزائیں ساقط ہوجاتی ہیں، جس طرح حدود (وقصاص) کا سقوط ہوجاتا ہے(۷۸)۔ امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک جزیہ چوں کہ دارالاسلام میں رہنے کا اور حفاظت جان کا معاوضہ ہے اور سکونت و حفاظت سے مرنے والا سال بھر فائدہ اٹھاچکا ہے اس لیے معاوضہ کی ادائیگی واجب ہے اورجزیہ اس کے ترکہ سے وصول کیا جائے گا، بالکل اسی طرح جس طرح دوسرے قرض ترکہ سے وصول کیے جاتے ہیں۔(۷۹)
ذمی اور معاہد کن لوگوں کو کہا جائے گا:
                ذمی اور معاہد اگرچہ دو مختلف فقہی اصطلاحات ہیں۔ مگر سلطنت اسلامی میں آجانے کے بعد دونوں کے احکام یکساں ہی ہیں۔ یعنی یہ کہ سلطان وقت غیرمسلموں کی حتی المقدور نگہداشت کرے اوراس کی راحت رسانی اور اس کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔ یہ ساری سہولتیں دراصل جزیہ کا بدل ہے۔ چنانچہ ذمی اور معاہد کے سلسلے میں جو احکام ملتے ہیں اور ان کی جو تعریف شرعی واصطلاحی کی گئی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے:
”ذمی یا ذمہ کے معنی عہد، کفالت، حرمت، ذمے داری اور حق کے آتے ہیں۔ ”رجل ذمی“ کے معنی ہیں رجل لہ عہد یعنی وہ شخص جس سے کوئی عہد وپیمان کیاگیا ہو۔ اس لیے اہل العہد اور اہل الذمہ مترادف الفاظ ہیں۔ جوہری نے لکھا ہے کہ اہل العقد کو اہل الذمہ کہا جاتا ہے۔ ابوعبیدہ نے ذمہ کے معنی امان کیے ہیں، چنانچہ حدیث نبوی ویسعی بذمتہم ادناہم میں ذمہ کے معنی ”امان“ ہی کے لیے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ قوم میں سے کوئی ایک شخص بھی کسی کو اماں دے دے تو پوری قوم کا فرض ہے کہ جسے امان دی گئی ہے،اس کی حفاظت کرے اوراسے گزند نہ پہنچائے۔ چنانچہ ایک غلام نے دشمن کے ایک لشکر کو امان دے دی تھی تو حضرت عمر نے اس کے وعدے کو قائم رکھا تھا۔ معاہد کو ذمی اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی حفاظت، امان، ذمے داری اور معاہدے میں ہوتے ہیں۔ (لدخولہم فی عہد المسلمین وامانہم) قرآن مجید میں ہے: لا یرقبون فی مومن الا ولا ذمة (التوبہ:۹) یعنی کسی مسلمان کے حق میں قرابت اور عہد کا لحاظ نہیں کرتے۔ یہاں ذمہ سے عہد مراد ہے۔ اصطلاح میں یہ وہ ذمہ داری ہے جو اسلامی حکومت اپنی غیرمسلم رعایا کو ذمی یا اہل ذمہ کہا جاتا ہے۔ گویا یہ وہ لوگ ہیں جن کے جان ومال اور عزت و آبرو اور شہری حقوق کی حفاظت کا اسلامی حکومت نے ذمہ لیا ہے۔ یہ ذمہ داری بڑی مقدس ہے۔ امام ابوزید نے لکھا ہے کہ: ان الذمة شرعاً وصفٌ یصیر بہ الانسان اہلا لما لہ ولما علیہ یعنی اصطلاح شریعت میں ذمہ سے مراد وہ وصف ہے جس کے ذریعہ کوئی شخص اپنے حقوق اور ذمے داریوں کا اہل گردانا جاتا ہے۔ اسلامی اصطلاح میں ذمی لفظ میں ذم یاتحقیر کا پہلو نہیں، بلکہ لفظ ذمی میں اس کی حفاظت کی کفالت اور اس کی شہریت کی حفاظت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ اسلامی حکومت میں رہنے والا وہ غیرمسلم ہے جس کی حفاظت کرنے اورجس کے حقوق ادا کرنے کا اسلامی حکومت نے ذمہ لیا ہے۔“(۹۱)
شرعی احکام میں ذمی اور معاہد برابر ہیں:
                ذمی اور معاہد دو اصطلاحیں عام طور سے مروج ہیں جو اسلامی مملکت میں رہتے ہیں، ان کے احکام بھی یکساں ہیں، البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ ذمی جو ممالک جنگ کے بعد فتح ہوئے اور وہاں کے باشندوں کی اسلامی ریاست نے جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری لی اور انہیں مذہبی آزادی دی اور ان کے قانونی حقوق متعین کیے اور ان سے فوجی خدمات نہیں لی گئی انہیں اصطلاح میں ذمی کہا جائے گا اور ان حقوق کے عطا کرنے کے بعد ایسے لوگوں سے ریاست کے حکام ایک رقم وصول کریں گے جو جزیہ کہلاتا ہے۔(۹۲)
                وہ غیرمسلم علاقے جو جنگ کے ذریعہ فتح نہیں ہوئے بلکہ بعض شرائط کی بناپر وہ اسلامی ریاست میں شامل ہوکر اس کا حصہ بن گئے اور شرائط کے تعین میں دونوں قوموں نے رضامندی ظاہر کردی جو ملک کی سالمیت اوراس کے مفاد کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں کرسکتے، لہٰذا جن شرائط کے ساتھ معاہد اور پابندی کی گئی تو ایسے لوگوں کو معاہد کہا جائے گا۔(۹۳)
                مختصر یہ کہ ذمی اور معاہد میں بس اتنا فرق ہے کہ ذمی کو اسلامی ریاست اپنی طرف سے حقوق دیتی ہے اور معاہد ریاست سے معاہدہ کے تحت اپنے حقوق کا تعین کرنا ہے۔ علماء جب ذمی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو دونوں طرح کے لوگ اس میں شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ علامہ ابن اثیر معاہد کے سلسلے میں لکھتے ہیں کہ:
                المعاہد من کان بینک وبینہ عہد واکثر ما یطلق فی الحدیث علی اہل الذمة وقد یطلق علی غیرہم من الکفار اذا صولحوا علی ترک الحرب مدة ما لانہ معصوم المال یجری حکمہ مجری حکم الذمی“(۹۴)
ذمیوں کے لیے لباس کا مسئلہ:
                اسلامی حکومت میں مقیم ذمیوں کے لباس کا مسئلہ ہمیشہ موضوع بحث بنا رہا ہے۔ غیرمسلم حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ذمیوں کو الگ قسم کالباس پہناکر ان کی تذلیل و تحقیر کی ہے۔ یہ غلط فہمی دراصل اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ ان لوگوں نے اسلامی احکامات کو سمجھنے میں غلطی کی ہے۔ یہاں چندجزئیات ذمیوں کے لباس کے سلسلے میں پیش کیے جاتے ہیں، اس کے بعد اس لباس کو زیب تن کرانے کی اصل غرض و غایات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ غالباً اس قسم کا پہلا واقعہ حیرہ کے معاہدہ میں پیش آیا کہ ذمیوں کا لباس مسلمانوں کے مشابہ نہ ہو، کتاب الخراج میں ہے: ولہم کل ما لبسوا من الذی اِلاّ ذمّی الحرب من غیر ان یتشبہوا بالمسلمین(۱۰۲) (ان کو حق حاصل ہے کہ جیسا لباس چاہیں زیب تن کریں، مگر فوجی لباس پہننے سے احتراز کریں اور مسلمانوں سے لباس میں مشابہت اختیار نہ کریں) دمشق میں جب معاہدہ ہوا تو خود عیسائیوں نے اپنی شرائط میں اس تجویز کو شامل کرکے پیش کیا کہ ”ہم مسلمانوں سے ان کے لباس میں کسی قسم کی مشابہت اختیار نہ کریں گے، نہ ٹوپی میں ، نہ عمامہ میں، نہ جونبوں میں اور نہ مانگ نکالنے میں“(۱۰۳)
                اس طرح کے احکامات جو مختلف کتب فقہیّہ میں ملتے ہیں، اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ اس سے ذمیوں کی تحقیر ہوتی ہے؛ بلکہ دونوں قوموں یا مختلف ملکوں میں امتیاز پیدا کرنے کے لیے یہ احکام جاری کیے گئے تھے۔ نیز مسلمانوں کے لیے بھی ضروری تھا کہ وہ غیرمسلموں کے سے تشبہ اختیار نہ کریں۔ چنانچہ اس سلسلے میں مولانا مودودی(۱۰۴) نے جو بحث کی ہے اس سے ان اعتراض کی عقدہ کشائی ہوتی ہے جو غیرمسلم بغیر سوچے سمجھے اس قسم کے اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
”لباس کے تشابہ میں جو مفاسد پوشیدہ ہیں ان سے اسلام غافل نہیں ہے، خصوصیت کے ساتھ محکوم قوموں میں اکثر یہ عیب پیدا ہوجایا کرتا ہے کہ وہ اپنے قومی لباس اور اپنی قومی معاشرت کو ذلیل سمجھنے لگتے ہیں اور حاکم قوم کالباس اور طرز معاشرت اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ غلامانہ دہنیت آج بھی دنیا کی محکوم قوموں میں موجود ہے۔ خود ہندوستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ بے شمار ہندی نژاد حضرات انگریزی لباس بڑے شوق کے ساتھ پہنتے ہیں اور اسے پہن کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ گویاترقی کے کسی بہت ہی اعلیٰ مرتبہ پر پہنچ گئے ہیں، حالانکہ کسی انگریز نے کبھی ہندوستانی لباس نہیں پہنا اور آمر خالص انگریزی سوسائٹیوں میں کبھی پہنا بھی ہے تو تفاخر کے لیے نہیں بلکہ تفنن اور مسخرہ پن کے لیے نفسیات محکومیت کے اس نکتہ کو ائمہ اسلام خوب سمجھتے تھے، اس لیے انھوں نے اہل الذمہ کو تشبہ بالمسلمین سے منع کرکے ان کی تذلیل و تحقیر نہیں کی بلکہ ان کی قومی عزت و شرافت کو برقرار رکھا۔ ممکن ہے کہ اس قسم کے قوانین بعض لوگوں کی نگاہ میں موجب حقارت ہوں، مگر ہمارے نزدیک اس میں کوئی تحقیر نہیں ہے؛ بلکہ ہم بہت خوش ہوتے کہ اگر ہمارے انگریز حکمراں بھی ہم کو یورپین لباس اور طرز معاشرت اختیار کرنے سے حکماً منع کردیتے۔“(۱۰۵)
                حضرت عمر رضی اللہ عنہ اگر ذمیوں کے لباس کے سلسلے میں احکام نافذ کیے تھے کہ وہ عرب کے لباس استعمال نہ کریں۔ اس کے برعکس انھوں نے اہل عرب کو بھی عجم کی وضع سے پرہیز کرنے کی تاکید کی تھی۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ عتبہ بن فرقد کو ایک فرمان کے ذریعہ تاکید کی کہ:
”تم کو اپنے باپ اسمٰعیل کا لباس پہننا چاہیے، خبردار عیش طلبی اور اہل عجم کی وضع نہ اختیار کرو، موزہ اور جامہ پہننا چھوڑ دو۔“(۱۰۶)
                تاریخ اسلام کا مطالعہ کیاجائے تو یہ بات بھی واضح طور پر نظر آتی ہے کہ مسلمان جہاں جہاں پہنچے اور انکی حکومتیں قائم ہوئیں۔ انھوں نے مفتوح قوم کا لباس استعمال کرنا شروع کردیا۔ مثلاً جب سندھ میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی تو سلاطین اور فرمارواؤں نے اور عام مسلمانوں نے ہندوؤں کی وضع اختیار کی۔ ابن جوقل نے سندھ اور منصورہ کے مسلمانوں کے لباس کے سلسلے میں لکھا ہے کہ:
”یہاں کے مسلمانوں کا لباس عراق جیسا ہے، لیکن یہاں کے بادشاہوں کی وضع ہندو راجاؤں کے قریب قریب ہے۔ یہی جغرافیہ داں کھیسایت کے متعلق لکھتا ہے کہ یہاں کے مسلمان اور کافروں کی ایک وضع ہے، دونوں ایک سا لباس پہنتے ہیں اور بال بڑے رکھتے ہیں۔“(۱۰۷)
                اس کے علاوہ سلاطین ہند نے بھی ہندوستان میں اپنی حکومت کے قیام کے بعد ہمیشہ ہندوستانی لباس استعمال کرتے رہے اور عام مسلمانوں کا بھی یہی طرز عمل رہا۔ دھوتی جو خاص ہندوؤں کا لباس ہے مسلمانوں نے اسے بھی استعمال کیااور بعض سلاطین نے تومختلف قسم کے زیورات بھی استعمال کیے، ہندو راجاؤں مہاراجاؤں کی طرز پر۔ چنانچہ لباس کے تشابہ کے سلسلے میں جو اعتراضات کیے جاتے ہیں وہ کم عقلی اور ناخواندگی کی ایک بڑی دلیل ہے۔ انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ:
”اگر ان کا لباس ذلت اور تحقیر کی علامت ہوتا تو مسلمان ذلت اور تحقیر کو کیوں گوارا کرتے، عباسیوں کی سلطنت کا آغاز درحقیقت منصور کے عہد سے سمجھا جاتا ہے، اس نے دربار کے لیے جو ٹوپی اختیار کی وہ وہی مجوسیوں کی ٹوپی تھی جو خاص ان کی قومی علامت تھی۔ معتصم باللہ جسکے زمانے میں دولت عباسیہ پورے شباب پر پہنچ چکی تھی، اس نے بالکل شاہان عجم کی وضع اختیار کرلی تھی۔ مورخ مسعودی نے لکھا ہے کہ:
”وہ ٹوپی اوڑھنے، پگڑی باندھنے اور سازوسامان رکھنے میں رئیسانِ عجم کی تقلید کا بہت شائع تھا، چنانچہ اس کو دیکھ کر سب نے اس کی وضع اختیار کرلی اور اس وضع کا نام معتصمی پڑگیا۔“(۱۰۸)
مذہبی آزادی
                شروع میں عرض کیا جاچکا ہے کہ وہ علاقے جس کو ذمیوں نے آباد کیا اوراس میں لوگوں کو بسایا وہاں وہ اپنی مرضی سے اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرسکتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ مسلم علاقے جہاں مسلمانوں کی کثیرآبادی ہے اور جس کو مسلمانوں نے بنایاہے اور بسایا ہے وہاں اپنی مرضی سے کوئی عبادت خانہ نہیں بناسکتے۔ اور نہ وہاں وہ ایسے کوئی امور انجام دیں گے جس سے اسلام کو نقصان پہنچتا ہو اور مسلمانوں کی تذلیل و تحقیر ہوتی ہے۔(۱۰۹) حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں سوال کیاگیا تو انھوں نے کہا کہ جو شہر مسلمانوں کے خاص آباد کردہ ہیں وہاں غیرمذہب والوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ گرجا اور بت خانہ بنائیں، یا سنکھ بجائیں۔ باقی جو قدیم شہر ہیں وہاں ذمیوں سے جومعاہدہ ہے مسلمانوں کو اس کا پورا کرنا ضروری ہوگا۔(۱۱۰)
                باوجود اس حکم کے مسلمانوں کے عہد میں بالخصوص ان شہروں میں جس کو مسلمانوں نے بسایا اور آباد کیا کثرت سے گرجا تعمیر ہوئے۔ اس کی واضح مثال عراق ہے جس کو مسلمانوں نے بسایا تھا۔ قاہرہ میں جو گرجے ہیں وہ مسلمانوں ہی کے عہد میں بنے۔ اس کے علاوہ بہت سے پرانے معبد کی مرمت اور جدیدکاری ہوئی۔ یہاں پھر اس بات کو دہرایا جاتاہے کہ جزیہ کی وصولی کے ساتھ ہی انہیں ہر قسم کی آزادی حاصل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں کافی شہادتیں ملتی ہیں کہ جب دونوں قوموں میں صلح اورمعاہدہ، یا مسلمانوں نے کسی ملک پر فتح حاصل کی تو معاہدہ اور جزیہ کے تعین کے وقت یہ باتیں منظور کیں کہ:
”مسلمانوں اور ذمیوں سے جزیہ کی بنا پر جو صلح ہوئی ، اس شرط پر ہوئی تھی کہ ان کی خانقاہیں اور گرجے شہر کے اندر ہوں یا باہر برباد نہ کیے جائیں گے اور یہ کہ ان کا کوئی دشمن ان پر چڑھ آئے تو ان کی طرف سے مقابلہ کیا جائے گا اور یہ کہ وہ تیوہاروں میں صلیب نکالنے کے مجاز ہیں، چنانچہ تمام شام اورحیرہ (باستثنا بعض مواضع کے) ان ہی شرائط پر فتح ہوا اور یہی وجہ ہے کہ خانقاہیں اور گرجے اسی طرح چھوڑ دئیے گئے اور برباد نہیں کیے گئے۔“
                حضرت خالد نے ایک صلح اس شرط پر کیا کہ:
                لایہدم لہم بیعة ولا کنسیة وعلٰی ان یضربوا نواقیسہم فی اي ساعة شاوٴا من لیل او نہار الا فی اوقات الصلوٰة وعلی ان یخرجوا الصلبان فی ایام عیدہم“․
                (ان کے گرجے برباد نہ کیے جائیں، وہ نماز کے وقتوں کے سوا، رات دن میں جس وقت چاہیں ناقوس بجائیں اور تمام تیوہاروں میں صلیب نکالیں۔)
امصار مسلمین کن علاقوں کو کہاجائے گا
                بدائع صنائع میں ذمیوں کے شخصی و مذہبی معاملات میں جو توسیع ملتی ہے اس سے بھی اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ اسلام نے ذمیوں کو کس فراوانی سے حقوق عطا کیے ہیں۔
”جو بستیاں اور مقامات امصار مسلمین میں سے نہیں ہیں، ان میں ذمیوں کو شراب و خنزیر بیچنے اور صلیب نکالنے اور ناقوس بجانے سے نہیں روکا جائے گا خواہ وہاں مسلمان کتنی ہی کثیر تعداد میں آباد ہوں۔ البتہ یہ افعال امصار مسلمین میں مکروہ ہیں جہاں جمعہ وعیدین اور حدود قائم کی جاتی ہوں․․․ رہا وہ فسق جس کی حرمت کے وہ بھی قائل ہیں، مثلاً زنا اور دوسرے تمام فواحش جو ان کے دین میں بھی حرام ہیں تواس کے اظہار سے ان کو ہر حال میں روکا جائے گا خواہ امصار مسلمین میں ہوں یا خود ان کے اپنے امصار ہوں۔“
                مسلم ممالک میں مقیم غیرمسلموں کے متعلق جو چند شرعی ممانعت کے احکام ملتے ہیں وہ کسی عصبیت یا اور کسی اور وجہ سے نہیں ہیں بلکہ اس ممانعت کا منشا یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات اور ان کی دینی حمیت کا تھوڑا سا خیال رکھیں، ان کے مذہب کی حرمت کو پامال نہ کریں، وہ کسی مسلم آبادی میں اس طرح کا مظاہر نہ کریں جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں اور فتنہ وفساد کی آگ بھڑک اٹھے۔
                یہاں اس امر کی صراحت ضروری ہے کہ امصار مسلمین کن علاقوں کو کہا جائیگا۔ ہندوستانی تناظر میں ایساکوئی علاقہ شروع میں نہیں تھا جس پر اس قسم کی تعریف منطبق ہوتی ہو۔ اس سلسلے میں اس بات کا خیال بہرحال ضروری ہے کہ اس میں وہ علاقے آجاتے ہیں جہاں کے باشندے اسلام قبول کرلیں، مثلاً مدینہ منورہ، طائف، یمن، نیز اس میں وہ شہر بھی آجاتے ہیں جن کا پہلے وجود نہ تھا بلکہ مسلمانوں نے ہی وہاں کی زمینوں کو تقسیم کرکے وہاں اقامت اختیار کی مثلاً کوفہ، بصرہ اور اسی ضمن میں سرحدی علاقے بھی آتے ہیں۔ اس تعریف میں وہ علاقے بھی آجاتے ہیں جو مسلمانوں کی فوجی قوت کے ذریعے فتح کرے اور امام فتح کے بعد ان علاقوں کو وہاں کے اصل باشندوں کے حوالے کردینا مناسب نہ خیال کرے بلکہ فاتحین میں اس علاقہ کو تقسیم کردے جیسے رسول اللہ … نے اہل حیرہ کے ساتھ معاملہ کیا تھا۔
محمد بن قاسم کا برتاؤ ذمی اور معاہد کے ساتھ
                مسلمان جہاں جہاں پہنچے اور اپنی حکومت قائم کی بزور طاقت یا صلح و معاہدہ کے ذریعہ وہاں انھوں نے ذمیوں اور معاہدین کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا اور انہیں ہر قسم کی آزادی، بلکہ ان کے اصل حقوق سے بھی تجاوز کرکے انہیں خوش رکھنے کی کوشش کی نہ صرف یہ کہ انھوں نے ان کے پرانے معبدوں کو قائم رکھے بلکہ نئے معبدوں کی تعمیر کی بھی اجازت دی۔ اس کے علاوہ ان کے اخراجات کے لیے کافی مقدار میں جائیدادیں وقف کردیں تاکہ یہاں نظام بہتر طریقے سے انجام پاسکے۔ نیز مجاوروں اور پادریوں کے لیے روزینے بھی مقرر کیے۔ اورجب محمد بن قاسم نے سندھ کو فتح کیا تو برہمنوں کو مندر میں پوجا پاٹ کرنے اور نذر و نیاز چڑھانے کی فراخ دلی سے جو اجازت دی اس کی تفصیل حچ نامہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں سید طفیل احمد منگلوری لکھتے ہیں کہ:
”اب رہا مسئلہ محمد بن قاسم کا برہمنوں اور مندروں کے ساتھ برتاؤکا۔ اس کی نسبت اس زمانہ کے ہندو مورخوں نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کے مندر وغیرہ نہیں توڑے۔ زمانہ قدیم میں عام خیال یہ تھا کہ ہرقوم کے دیوتا جنگ کے وقت اپنی اپنی قوم کو مدد دیتے ہیں، پس جب کوئی قوم فتح پاتی تواس قوم کے معبود کی طاقت دیکھ کر مفتوح قوم کے لوگ فاتح قوم کا مذہب اختیار کرلیتے۔ اسی کلیہ کے مطابق راجہ داہر کے مارے جانے پر جب ہندوستان کے لوگ مسلمان ہونے لگے تو محمد بن قاسم نے دوسرے روز اعلان کردیا کہ جو شخص چاہے اسلام قبول کرے اور جو چاہے اپنے آبائی مذہب پر قائم رہے، ہماری طرف سے کوئی تعرض نہ ہوگا۔ برہمن آباد فتح ہونے پر مندروں کے پجاری محمد بن قاسم کے پاس گئے اور کہا کہ ہندوؤں نے مسلمان سپاہیوں کے ڈرسے بتوں کی پوجا کے لیے مندروں میں آنا کم کردیا ہے جس سے ہماری آمدنی میں فرق آگیا ہے۔ مندروں کی مرمت بھی نہیں ہوتی ہے، تم انہیں درست کرادو اور ہندوؤں کو مجبور کرو کہ وہ مندروں میں آکر پوجا پاٹ کریں۔“
                یہ سن کر خلیفہ سے بذریعہ خط کے استصواب کیاگیا جو اب آنے پر محمد بن قاسم نے اعلان کردیا کہ دان، پن، دکشنا، بھینٹ جس طرح پہلے دیتے تھے اب بھی دیں۔ اپنے مندروں میں آزادانہ پوجا پاٹ کریں، سرکاری مال گزاری میں سے تین روپیہ فی صدی برہمنوں کے لیے الگ خزانے میں جمع کیا، اس روپیہ کو برہمن جس وقت چاہیں اپنے مندروں کی مرمت اور ضروری سامان کے لیے خزانہ سے لے سکتے ہیں۔ پھر سب سے بڑے پنڈت کو رانا کا خطاب دے کر ان کو امورمذہبی کا مہتمم اور افسر مقرر کردیا۔“
                محمد بن قاسم کی فتح سندھ کے فوراً بعد ہی اس کے عفو و درگذر اور صلح و امان کے خاور کھل گئے۔ جو انکے مقرر حدود سے بھی زیادہ تھے جس سے حجاج بن یوسف کو خطرہ لاحق ہونے لگا کہ اگر محمد بن قاسم اسی طرح رواداری سے کام لیتا تو کوئی بعید نہیں کہ دشمن اسے کمزوری پر محمول کرنے لگے اور پھر یہاں مسلمانوں کو ناکامی سے ہم کنار ہونا پڑے، چنانچہ حجاج نے قاسم کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ امان دینے میں زیادہ فراخ دلی سے کام نہ لیا جائے، بلکہ انہیں اتنی ہی رعایت دی جائے جسکے وہ مستحق ہیں۔
”چچازاد بھائی! آپ کا پرمسرت خط ملا، پڑھ کر بے انتہا محظوظ ہوا۔ یہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم جن اصولوں پر عمل درآمد کررہے ہو وہ بالکل شروع کے مطابق ہیں، لیکن سنتا ہوں کہ تم نے چھوٹے بڑے سب کو یکساں امان دے دی ہے، دوست دشمن میں کوئی تمیز نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافر جہاں ہیں قتل کرڈالو، خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا حکم واجب العمل ہے۔ امان دینے کے لیے اس قدر دریادلی نہ کرو، اس طرح امان دینے سے آئندہ کارروائی رک جائے گی، حالاں کہ تم اس کے ذمہ دار بناکر بھیجے گئے ہو۔ آئندہ سوائے ذی عزت لوگوں کے کسی دشمن کو پناہ نہ دینا ورنہ تمہارے بے انتہا رحم کو لوگ کمزوری تصور کریں گے اور تمہاری شوکت جاتی رہے گی۔“
                محمد بن قاسم کے فیاضانہ سلوک کا سندھ کے برہمنوں پر خاصا مثبت اثر پڑا، اور بہت سے لوگ مسلمان ہونے لگے۔ اور برہمنوں نے ملکی انتظامات و انصرام میں داخلہ حاصل کرکے بڑے خوش گوار ماحول پیداکیے۔ مال گزاری وغیرہ کے اصول کرنے کا حق بھی انہی لوگوں کے ذمہ رہنے دیا۔ اس رعایت سے وہ لوگ نہ صرف خوش تھے؛ بلکہ ان لوگوں نے جگہ جگہ پہنچ کر اس عفو و درگزر اور حسن سلوک کا تذکرہ اور پرچار کیا، جس سے اور بھی ماحول خوش گوار ہوتا گیا اور بہت سے لوگ اطاعت گزاری پر مجبور ہوئے۔ وہ جہاں پہنچتے اپنے ہم قوموں کویہ کہہ کر اطاعت گزاری کا درس دیتے کہ:
”ہماری سلطنت تباہ ہوگئی اور فوجی طاقت جاتی رہی، اب ہم میں مقابلہ کی تاب نہیں ہے یقینا ہم گھر سے نکال دئیے جاتے اور تمام جائدادوں سے محروم ہوتے، فقط حاکم قوم کی مروت اور عدل وانصاف سے ہم اس وقت بھی معزز عہدوں پر ہیں اور ہر چیز ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ یا تو ہم لوگ اہل وعیال کو لے کر ہندوستان ہجرت کرجائیں، ایسی صورت میں ہم لوگ بالکل مفلس ہوجائیں گے، کیوں کہ تمام جائدادیں اسی جگہ چھوڑنی پڑیں گی اور یا پھر مطیع رہ کر جزیہ ادا کریں اور آرام و عزت سے زندگی بسر کریں۔“
ایفائے عہد کی بے نظیر مثال
                مسلمانوں نے جب کسی سے کوئی عہد کرلیاتو پھر ہرممکن کوشش کی کہ اس کو برقرار رکھا جائے۔ ہندوستان کی فتح کے تناظر میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا کہ جس کے پاس و لحاظ کرنے میں محمد بن قاسم کو متذبذب ہوناپڑا۔ واقعہ یہ ہے کہ کچھ مفسد لوگ عفو و درگزر کے باوجود بھی ماحول کو ناخوشگوار بنانے کی کوشش کررہے تھے، جن کو کسی طرح گرفتار کرکے محمد بن قاسم کے سامنے پیش کیاگیا، ان کی نازیبا حرکت کے پیش نظر محمد بن قاسم نے ان لوگوں کے قتل کا حکم جاری کردیا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ اگر میری اور میرے بال بچوں کی جاں بخشی کی ضمانت دی جائے تو میں ایک عجیب بات ظاہر کروں گا، جس سے اب تک مسلمانوں کا واسطہ نہیں پڑا ہوگا، مگر اس عجیب بات کا انکشاف صرف سپہ سالار کے سامنے کروں گا۔ اس بات سے اسلامی عساکر نے سمجھا کہ کسی اہم واقعہ کا یہ انکشاف کرنے والا ہے۔ یا پھر کسی خزانے کا پتہ دینے والا ہے۔ اس لیے اس کی درخواست قبول کرلی گئی۔ اور اسے تحریری امان دے دیاگیا۔ امان حاصل کرتے ہی اس نے اپنے بال کھولے، داڑھی اور مونچھ کے بال کھینچ کر لمبے کیے، پھر لپیٹ کر اپنے پاؤں کے انگوٹھے کو گدی تک لے گیا اور ناچنے لگا۔ وہ ناچتا جاتا اورکہتا جاتا کہ دیکھو کیسی عجیب بات ہے آج تک کسی نے ایسا نہ دیکھا ہوگا۔ اس کی اس حرکت پر مسلمان حیرت زدہ ہوئے اور یہ اس کا فریب شمار کرکے اس کا قتل کرنا چاہاکہ اس قسم کا تماشا کوئی ایسی چیز نہیں، مگر محمد بن قاسم نے ایفائے عہد کی فی الحال تکمیل کرتے ہوئے اس کا قتل کرنے کے بجائے اس کے تمام متعلقین کے ساتھ اسے نظر بند کردیا اور قتل کوملتوی کردیا۔ پھر اس معاملہ کی اطلاع حجاج کو کی۔ حجاج اپنے درباری علماء سے استفسار کیا، جواب ملاکہ اس کو آزاد کردیا جائے تاکہ معاہدہ کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اور مثال میں صحابہ کے عہد کا ایک ایسا ہی واقعہ پیش کیا۔ پھر حجاج نے محمد قاسم کو اطلاع کی کہ اسے رہا کردیاجائے۔ چنانچہ اس فریبی اورمکار کو رہا کردیاگیا۔
                اندازہ کیاجاسکتاہے کہ اس فریب کے باوجود محمد بن قاسم نے اس کے تمام حواری کے رہا کردیا۔ اس سے زیادہ عفو و درگذر اور رواداری کی اور کیا مثال ہوسکتی ہے۔ یہی وہ بے مثال رواداری ہے کہ سندھیوں کی نظر میں محمد بن قاسم محبوب بن گئے، جن کی آواز پر وہ جان دینے کو ہروقت تیار رہتے تھے۔ اور جب انہیں قید کرکے واسط کی جیل میں بھیجا جارہاتھا تو یہاں کے لوگ غم میں آنسو بہائے اور جب ان کا انتقال ہوگیا تو یادگار کے طور پر ان کا مجسمہ بنایا۔ اس محبت اور رواداری سے ہندومسلمانوں میں اس قدر قریبی تعلقات قائم ہوگئے کہ خاص عرب میں مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگیوں میں ہندوشریک ہوتے تھے چنانچہ برہمنوں کا ایک خاندان اپنے آپ کو اسی بناپر حسینی برہمن کہتا ہے کہ بقول ان کے ان کے بزرگوں نے کربلا میں سادات کا ساتھ دیا تھا۔
$ $ $
______________________________$ $ $

سلاطین غزنوی کا ہندوؤں کے ساتھ برتاؤ
          محمد بن قاسم کے بعد محمود غزنوی نے ہندوستان پر حکومت کی، لوگ اس کے متعدد حملوں کا ذکر خوب بڑھا چڑھا کر اور مرچ مصالحہ لگاکر کرتے ہیں۔ مگر ان کے حملوں کے وجوہات کو یکسر فراموش کردیتے ہیں یا جان بوجھ کر چھپادیتے ہیں۔ یہ میرا دعویٰ ہے کہ اگر راجہ جے پال اس کے والد سبکتگین کو مجبور نہ کرتا کہ وہ ہندوستان پر حملہ آور ہوتو شاید اتنی جلدی غزنوی خاندان ہندوستان کی طرف متوجہ ہوکر اسے غزنی سلطنت کا حصہ نہ بناتے۔ باوجود اس کے وہ اپنے متعدد حملوں اور ہندوؤں کی طرف کی جانے والے عہد وپیمان کی خلاف ورزی کے بعد بھی اس نے ہندوؤں کے حقوق کو تسلیم کیا اور ہرجگہ اعلان معافی کے بعد غیرمسلموں کو اپنی فوج میں بھرتی کیا اور انہیں اعلیٰ عہدے پر فائز کیا۔ اور جس کے رہنے اور اس کی سہولت کے لیے اس نے اپنی سلطنت کے قریب ایک مستقل بستی بسادی جس میں وہ آزادانہ طریقے سے زندگی بسر کرتے تھے۔ ان دونوں سپاہیوں اور قائدوں کی فوج میں ہندو اور مسلمان سپہ سالار اور لشکر ہوتے تھے:
”کیوں کہ یہ لڑائیاں خالص سیاسی نہ تھیں اور مذہبی یا قومی نہ تھیں۔ اس لیے ایک طرف سرحدوں کے مسلمان راجہ جے پال کے ساتھ ہوکر سلطان محمود کے خلاف لڑتے تھے تو دوسری طرف محمود کی ہندو فوجیں راجاؤں کے خلاف لڑتی تھیں۔ چنانچہ شیخ حمید راجہ جے پال کی فوج کا کمانڈر تھا، برخلاف اس کے کوٹ کی لڑائی میں قلعہ بھیم کا ہندو راجہ محمود کے ساتھ تھا، اور اس لڑائی کے بعد دس ہزار ہندو محمود کی فوج میں داخل ہوئے جن کا سپہ سالار سوبند رائے تھا۔ اسی طرح تھانیسر کی لڑائی میں محمود کے ساتھ بارہ ہزار ہندو تھے۔ جب قنوج، مہابن اور برن (بلندشہر) پر فوج کشی ہوئی تو راجہ کشمیر برابر سلطان محمود کی رہبری کررہے تھے۔ حتیٰ کہ سب سے زیادہ مشہور سومناتھ کی لڑائی میں سمندر کی طرف سے جو حملہ کیاگیا اس میں ہندوسپاہی کشتیوں پر سوار تھے اور یقینی بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے ہندو نہ کمزور تھے نہ بزدل اور نہ بے حمیت، جو اپنے مذہب کے خلاف محمود کے ساتھ ہوجاتے؛ بلکہ جرأت، مردانگی اور فراخ دلی میں ترک مسلمان کے جوڑ کے تھے۔“ (ہندومسلم ․․۱۸۷)
          سلطان محمود کے بعد جب حکومت اس کی اولاد میں منتقل ہوئی تو اس زمانے میں بھی بڑے عہدے دار ہندو ہی تھے۔ جب سلطان مسعود کے نائب احمد نیالتگین نے شرکشی کی تو تمام مسلمان درباریوں کو چھوڑ کر سلطان مسعود نے ایک ہندو سردار تلک نامی کو متعین کیا جس نے احمد کو شکست دی۔ اسی سردار نے سلطان مسعود کی طرف سے راجہ ہانسی کے خلاف لڑکر قلعہ ہانسی کو فتح کیا۔
          غزنوی سلاطین کے بعد سلاطین غوری کے زمانہ میں بھی غیرمسلموں کے حقوق اور ان کی شرعی حیثیت کا پاس ولحاظ کیاگیا۔ اور حتیٰ المقدور کوشش کی گئی کہ غیرمسلموں سے جنگ میں اور دوسرے معاملات میں بھی شرع کی خلاف ورزی نہ کی جائے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ جب شہاب الدین غوری انہلواڑہ کی فتح میں ناکام ہوکر غزنیں میں مقیم ہوا اور اپنی شکست کا انتقام لینے کے لیے جنگی تیاریوں میں مصروف تھا تو کسی نے عرضی لکھ کر بھیجی کہ انہلواڑہ میں ایک مشہور سوداگر ہے، جس کا نام و سالہ ابہر ہے، وہ ہمیشہ لاکھوں کا مال تجارت کی غرض سے ان علاقوں میں بھجوایاکرتا ہے۔ چنانچہ اس وقت بھی اس کا دس لاکھ کے قریب کا مال غزنیں میں آیا پڑا ہے۔ اگر بادشاہ سلامت چاہیں تو اس مال کو ضبط کرکے خزانہ میں بھجوایا جاسکتا ہے، اس سے نہ صرف خزانہ معمور ہوگا بلکہ شاہی شان وشوکت میں اضافہ ہوگا۔ سلطان نے عرضی کی پست پر لکھ کر روانہ کردیا کہ وسالہ ابہر کا یہ مال اگر انہلواڑہ میں ہوتا اور وہاں اس پر قبضہ کیاجاتا تو ہمارے لیے حلال ہوتا، لیکن غزنیں میں اس مال پر قبضہ کرنا ہمارے لیے حرام ہے، کیونکہ وہ میری پناہ میں ہے۔
عہد سلطنت میں غیرمسلموں کے حقوق
          عہد سلطنت یا سلاطین دہلی کے عہد کئی اعتبار سے ممتاز نظر آتا ہے کہ اس عہد میں ملک کی تعمیر و ترقی اور مسلم حکومت کے استحکام و دوام کے ساتھ مختلف علوم و فنون کی ترویج و اشاعت ہوئی اور جس میں علوم فقہیہ کو عروج حاصل ہوا۔ اس عہد میں فقہا کی اتنی کثرت تھی کہ ہر طرف فقہی مسائل کا چرچا اور غلغلہ تھا اور خود بادشاہ وقت کو علوم فقہیہ سے کافی دلچسپی تھی۔ بالخصوص عہد فیروزشاہی کے ممتاز فقہا میں شیخ اسحاق مغربی، شیخ حسین بن احمد بخاری، شیخ عثمان چشتی اودھی، مولانا جمال الدین دہلوی، شیخ حسن صنعانی، داؤد بن حسین شیرازی، مولانا نجم الدین سمرقندی، شیخ حسین یوسف سمرقندی، نجم الدین انتشار نیشاپوری وغیرہ ہیں۔ اس کے عہد میں جو فقہی کتابیں معرض وجود میں آئیں ان میں فتاویٰ تاتارخانیہ، فتاویٰ فیروز شاہی، تحفة النصائح، طرفة الفقہاء، فوائد فیروزشاہی کے علاوہ اور بھی دوسری کتابیں تحریر کی گئیں نیز درسیات کی متعدد فقہی کتابوں کے شروح و حواشی زیور طبع سے آراستہ ہوئیں۔ ان کتابوں میں غیرمسلموں کے ساتھ ذمیوں اور حربیوں کے حقوق اور ان کے مسائل کو زیر بحث لاکر ہندوستانی تناظر میں ان کی شرعی حیثیت متعین کی گئی اور پھر اس پر عمل درآمد کیاگیا۔ بطور مثال اور نمونہ کے یہاں صرف ایک استفتا نقل کیا جاتا ہے جس میں ذمیوں کے مسائل اور ان کے حقوق کی وضاحت کی گئی ہے۔ جو فتاویٰ فیروزشاہی میں ہے:
سوال: اگر کوئی ذمی مسلمانوں کو سلام کرے تو کیا مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ وہ وعلیک کہہ کر اس کا جواب دے؟
جواب: ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
سوال: اگر کوئی ذمی مسلمانوں کو اپنے گھر مہمان کی حیثیت سے بلائے، جب کہ د