Friday, 26 October 2012

جمعہ - فضائل، مسائل اور احکام


جمعہ - فضائل، مسائل اور احکام

   
بسم اللہ الرحمن الرحیم
          اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبّ الْعَالَمِیْن، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیمِ وَعَلٰی اٰلِہِ وَاَصحَابِہ اَجْمَعِین
                اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ساری کائنات پیدا فرمائی اور ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دی․․․․ سات دن بنائے ، اور جمعہ کے دن کو دیگر ایام پر فوقیت دی۔ جمعہ کے فضائل میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کے تمام ایام میں صرف جمعہ کے نام سے ہی قرآن کریم میں سورہ نازل ہوئی ہے جس کی رہتی دنیا تک تلاوت ہوتی رہے گی، ان شاء اللہ۔
سورہٴ جمعہ کا مختصر بیان:
                سورہٴ جمعہ مدنی ہے۔ اس سورہ میں ۱۱ آیات اور ۲ رکوع ہیں۔ اس کی ابتدا اللہ جل شانہ کی تسبیح اور تعریف سے کی گئی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی چارصفتیں بیان کی گئی ہیں:
                (۱)          الملک (بادشاہ) حقیقی ودائمی بادشاہ، جس کی بادشاہت پر کبھی زوال نہیں ہے۔
                (۲)         القدوس (پاک ذات) جو ہر عیب سے پاک وصاف ہے۔
                (۳)         العزیز (زبردست) جو چاہتا ہے کرتا ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے، ساری کائنات کے بغیر سب کچھ کرنے والا ہے۔
                (۴)         الحکیم (حکمت والا) اُس کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کی رسالت ونبوت کا ذکر کیا گیا ہے کہ ہم نے ناخوانداہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو اُنھیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا ہے ، اُن کو پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے۔ پھر یہود ونصاری کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس سورہ کی آخری ۳ آیتوں میں نمازجمعہ کا ذکر ہے:
                ”اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے، یعنی نماز کی اذان ہوجائے، تو اللہ کی یاد کے لیے جلدی کرو۔ اور خرید وفروخت چھوڑدو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ ﴿آیت ۹﴾ اور جب نماز ہوجائے تو زمین میں پھیل جاوٴ اور اللہ کا فضل تلاش کرو یعنی رزق حلال تلاش کرو۔ اور اللہ کو بہت یاد کرو؛ تاکہ تم کامیاب ہوجاوٴ۔ ﴿آیت ۱۰﴾ جب لوگ سودا بکتا دیکھتے ہیں یا تماشہ ہوتا ہوا دیکھتے ہیں، تو اُدھر بھاگ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ تو فرمادیجیے جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے، تماشے سے اور سودے سے، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والے ہیں“۔ ﴿آیت ۱۱
                آخری آیت (نمبر ۱۱) کا شان نزول : ابتداء ِاسلام میں جمعہ کی نماز پہلے اور خطبہ بعد میں ہوتا تھا؛ چنانچہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کی نماز سے فراغت کے بعد خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک وحیہ بن خلیفہ کا قافلہ ملک ِشام سے غلّہ لے کر مدینہ منورہ پہنچا۔ اُس زمانے میں مدینہ منورہ میں غلّہ کی انتہائی کمی تھی۔ صحابہٴ کرام نے سمجھا کہ نمازِ جمعہ سے فراغت ہوگئی ہے اور گھروں میں غلّہ نہیں ہے، کہیں سامان ختم نہ ہوجائے؛ چنانچہ خطبہٴ جمعہ چھوڑکر باہر خرید وفروخت کے لیے چلے گئے، صرف ۱۲ صحابہ مسجد میں رہ گئے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
                حضرت عراک بن مالک  جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکرلوٹ کر مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہوجاتے اور یہ دعا پڑھتے:
                اللّٰہُمَّ اِنّی اَجَبْتُ دَعْوَتَکَ، وَصَلّیْتُ فَرِیْضَتَک، وَانْتَشَرْتُ کَمَا اَمَرْتَنِی فَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِک وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقِین۔
                اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی، اور تیری فرض نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما ، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے۔ (ابن ابی حاتم) تفسیر ابن کثیر۔ اس آیت کے پیش نظر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے بعد خرید وفروخت کرے، اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ (تفسیر ابن کثیر)۔
اذانِ جمعہ:
                جس اذان کا اس آیت میں ذکر ہے، اس سے مراد وہ اذان ہے، جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ہوتی ہے۔ نبیِ اکرمﷺ کے زمانے میں یہی ایک اذان تھی۔ جب آپ حجرہ سے تشریف لاتے، منبر پر جاتے، تو آپ کے منبر پر بیٹھنے کے بعد آپ ﷺکے سامنے یہ اذان ہوتی تھی۔ اس سے پہلے کی اذان حضور اکرم ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے زمانے میں نہیں تھی۔ حضرت عثمان بن عفان کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہوگئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان (زوراء) پر کہلوائی تاکہ لوگ نماز کی تیاری میں مشغول ہوجائیں۔ زوراء: مسجد کے قریب سب سے بلند مکان تھا۔
ایک اہم نقطہ:
                 اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا: ”جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے“ ”جب نماز سے فارغ ہوجائیں“ یہ اذان کس طرح دیجائے؟ اس کے الفاظ کیاہوں؟ نماز کس طرح ادا کریں؟ یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے، البتہ حدیث میں ہے۔ معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کریم سمجھنا ممکن نہیں ہے۔
جمعہ کا نام جمعہ کیوں رکھا گیا:
                 اس کے مختلف اسباب ذکر کیے جاتے ہیں:
                (۱) جمعہ ”جمع“ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: جمع ہونا؛ کیونکہ مسلمان اِس دن بڑی مساجد میں جمع ہوتے ہیں اور امت ِمسلمہ کے اجتماعات ہوتے ہیں ، اِس لیے اِس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ (۲) چھ دن میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور تمام مخلوق کو پیدا فرمایا۔ جمعہ کے دن مخلوقات کی تخلیق مکمل ہوئی یعنی ساری مخلوق اس دن جمع ہوگئی؛ اس لیے اِس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ (۳) اِس دن یعنی جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، یعنی اُن کو اِس دن جمع کیا گیا۔
اسلام کا پہلا جمعہ:
                یوم الجمعہ کو پہلے ”یوم العروبہ“ کہا جاتا تھا۔ نبیِ اکرم ﷺ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے اور سورہٴ جمعہ کے نزول سے قبل انصار صحابہ نے مدینہ منورہ میں دیکھا کہ یہودی ہفتہ کے دن ، اور نصاریٰ اتوار کے دن جمع ہوکر عبادت کرتے ہیں؛ لہٰذا سب نے طے کیا کہ ہم بھی ایک دن اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے جمع ہوں؛ چنانچہ حضرت ابو امامہ کے پاس جمعہ کے دن لوگ جمع ہوئے، حضرت اسعد بن زرارة  نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ لوگوں نے اپنے اِس اجتماع کی بنیاد پر اِس دن کا نام ”یوم الجمعہ“ رکھا ؛ اس طرح سے یہ اسلام کا پہلا جمعہ ہے (تفسیر قرطبی)
نبی اکرم  کا پہلا جمعہ:
                نبی اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ کے قریب بنو عمروبن عوف کی بستی قبا میں چند روز کے لیے قیام فرمایا۔ قُبا سے روانہ ہونے سے ایک روز قبل جمعرات کے دن آپ ﷺ نے مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے، جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی۔ جمعہ کے دن صبح کو نبی اکرم ﷺ قُبا سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ جب بنو سالم بن عوف کی آبادی میں پہونچے تو جمعہ کا وقت ہوگیا، تو آپ ﷺ نے بطنِ وادی میں اُس مقام پر جمعہ پڑھایا جہاں اب مسجد (مسجد جمعہ) بنی ہوئی ہے۔ یہ نبی اکرم ﷺ کا پہلا جمعہ ہے(تفسیر قرطبی)۔

                یہودیوں نے ہفتہ کا دن پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہیں ہوئی تھی، نصاری نے اتوار کو اختیار کیا، جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتدا ہوئی تھی۔ اور اِس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب سے پیچھے ہیں؛ لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔مسلم کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں ہوگا (ابن کثیر)۔
جمعہ کے دن کی اہمیت کے متعلق چند احادیث:
                $  رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن سارے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر کے دن سے بھی زیادہ مرتبہ والا ہے۔ اس دن کی پانچ باتیں خاص ہیں :
                (۱)          اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔
                 (۲)        اِسی دن اُن کو زمین پر اتارا۔
                 (۳)        اِسی دن اُن کو موت دی۔
                (۴)         اِس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اس میں جو چیز بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا فرماتے ہیں؛ بشرطیکہ کسی حرام چیز کا سوال نہ کرے۔
                (۵)         اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ تمام مقرب فرشتے ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر سب جمعہ کے دن سے گھبراتے ہیں کہ کہیں قیامت قائم نہ ہوجائے؛ اس لیے کہ قیامت، جمعہ کے دن ہی آئے گی (ابن ماجہ)۔
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سورج کے طلوع وغروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں ،یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے (صحیح ابن حبان
                $ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن ارشاد فرمایا : مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اِس دن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے؛ لہٰذا اِس دن غسل کیا کرو اور مسواک کیا کرو (طبرانی، مجمع الزوائد)۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن ہفتہ کی عید ہے۔
                $ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی سورہٴ بروج میں﴿وشاھد ومشہود﴾ کے ذریعہ قسم کھائی ہے۔ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے یعنی اِس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا،یہ جمعہ کا دن قیامت کے دن اُس کی گواہی دے گا۔
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل نماز‘ جمعہ کے دن فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہے (طبرانی ، بزاز)۔
                $ جہنم کی آگ روزانہ دہکائی جاتی ہے؛ مگر جمعہ کے دن اس کی عظمت اور خاص اہمیت وفضیلت کی وجہ سے جہنم کی آگ نہیں دہکائی جاتی ۔ (زاد المعاد ۱ / ۳۸۷)۔
جمعہ کے دن قبولیت والی گھڑی کی تعیین :
                $ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا : اس میں ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے، اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت فرمادیتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ وہ ساعت مختصر سی ہے (بخاری)۔
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ گھڑی خطبہ شروع ہونے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک کا درمیانی وقت ہے (مسلم
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان بندہ جو مانگتا ہے، اللہ اُس کو ضرور عطا فرمادیتے ہیں۔ اور وہ گھڑی عصر کے بعد ہوتی ہے (مسند احمد مذکورہ حدیث شریف اوردیگر احادیث کی روشنی میں جمعہ کے دن قبولیت والی گھڑی کے متعلق علماء نے دو وقتوں کی تحدید کی ہے: (۱) دونوں خطبوں کا درمیانی وقت، جب امام منبر پر کچھ لمحات کے لیے بیٹھتا ہے۔ (۲) غروبِ آفتاب سے کچھ وقت قبل۔
نماز ِجمعہ کی فضیلت:
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچوں نمازیں، جمعہ کی نماز پچھلے جمعہ تک اور رمضان کے روزے پچھلے رمضان تک درمیانی اوقات کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں؛ جب کہ اِن اعمال کو کرنے والا بڑے گناہوں سے بچے (مسلم یعنی چھوٹے گناہوں کی معافی ہوجاتی ہے۔
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے، خوب دھیان سے خطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک ، اور مزید تین دن کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں (مسلم) ۔
جمعہ کی نماز کے لیے مسجد جلدی پہنچنا :
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح (اہتمام کے ساتھ) غسل کرتا ہے پھر پہلی فرصت میں مسجد جاتا ہے تو گویا اس نے اللہ کی خوشنودی کے لیے اونٹنی قربان کی۔ جو دوسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے گائے قربان کی۔ جو تیسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے مینڈھا قربان کیا۔ جو چوتھی فرصت میں جاتا ہے، گویا اس نے مرغی قربان کی۔جو پانچویں فرصت میں جاتا ہے، گویا اس نے انڈے سے خدا کی خوشنودی حاصل کی۔ پھر جب امام خطبہ کے لیے نکل آتا ہے توفرشتے خطبہ میں شریک ہوکر خطبہ سننے لگتے ہیں (بخاری، مسلم)۔ یہ فرصت(گھڑی) کس وقت سے شروع ہوتی ہے، علماء کی چند آراء ہیں؛ مگر خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ حتی الامکان مسجد جلدی پہونچیں، اگر زیادہ جلدی نہ جاسکیں تو کم از کم خطبہ شروع ہونے سے کچھ وقت قبل ضرور مسجد پہنچ جائیں۔
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے ہر دروازے پر کھڑے ہوجاتے ہیں، پہلے آنے والے کا نام پہلے، اس کے بعد آنے والے کا نام اس کے بعد لکھتے ہیں(اسی طرح آنے والوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب سے لکھتے رہتے ہیں)۔ جب امام خطبہ دینے کے لیے آتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر (جن میں آنے والوں کے نام لکھے گئے ہیں) لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں (مسلم)۔
                خطبہٴ جمعہ شروع ہونے کے بعد مسجد پہونچنے والے حضرات کی نمازِ جمعہ تو ادا ہوجاتی ہے، مگر نمازِ جمعہ کی فضیلت اُن کو حاصل نہیں ہوتی ۔
خطبہٴ جمعہ:
                جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ نماز سے قبل دو خطبے دئے جائیں؛ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ جمعہ کے دن دو خطبے دئے (مسلم)۔ دونوں خطبوں کے درمیان خطیب کا بیٹھنا بھی سنت ہے(مسلم)۔ منبرپر کھڑے ہوکر ہاتھ میں عصا لے کر خطبہ دینا سنت ہے۔
دورانِ خطبہ کسی طرح کی بات کرنا؛ حتی کہ نصیحت کرنا بھی منع ہے:
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے جمعہ کے روز دورانِ خطبہ اپنے ساتھی سے کہا (خاموش رہو ) اس نے بھی لغو کام کیا(مسلم)۔
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا یعنی دورانِ خطبہ اُن سے کھیلتا رہا (یا ہاتھ ، چٹائی، کپڑے وغیرہ سے کھیلتا رہا) تو اس نے فضول کام کیا (اور اس کی وجہ سے جمعہ کا خاص ثواب ضائع کردیا) (مسلم
                $ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ کے دوران گوٹھ مارکر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے (ترمذی (آدمی اپنے گھٹنے کھڑے کرکے رانوں کو پیٹ سے لگاکر دونوں ہاتھوں کو باندھ لے تو اسے گوٹھ مارنا کہتے ہیں) ۔
                $ حضرت عبد اللہ بن بسر فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن منبر کے قریب بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہوا آیا جب کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: بیٹھ جا، تونے تکلیف دی اور تاخیر کی (صحیح ابن حبان
                نوٹ: جب امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے جانا منع ہے،پیچھے جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے۔
جمعہ کی نماز کا حکم: جمعہ کی نماز ہر اُس مسلمان، صحت مند، بالغ ،مردپر فرض ہے جو کسی شہر یا ایسے علاقے میں مقیم ہو جہاں روز مرہ کی ضروریات مہیّا ہوں۔ معلوم ہوا کہ عورتوں، بچوں، مسافر اور مریض پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے؛ البتہ عورتیں، بچے، مسافر اور مریض اگر جمعہ کی نماز میں حاضر ہوجائیں تو نماز ادا ہوجائے گی۔ ورنہ اِن حضرات کو جمعہ کی نماز کی جگہ ظہر کی نماز ادا کرنی ہوگی۔
                اگر آپ صحراء میں ہیں جہاں کوئی نہیں ، یا ہوائی جہاز میں سوار ہیں توآپ ظہر کی نماز ادا فرمالیں۔
                نماز ِجمعہ کی دو رکعت فرض ہیں، جس کے لیے جماعت شرط ہے۔ جمعہ کی دونوں رکعت میں جہری قراء ت ضروری ہے۔ نمازِ جمعہ میں سورة الاعلیٰ اور سورہٴ الغاشیہ، یا سورة الجمعہ اور سورة المنافقون کی تلاوت کرنا مسنون ہے۔
جمعہ کے چند سنن وآداب :
                جمعہ کے دن غسل کرنا واحب یا سنت ِموٴکدہ ہے،یعنی عذرِ شرعی کے بغیر جمعہ کے دن کے غسل کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ پاکی کا اہتمام کرنا، تیل لگانا ، خوشبواستعمال کرنا، اور حسب ِاستطاعت اچھے کپڑے پہننا سنت ہے۔
                $ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ‘ گناہوں کو بالوں کی جڑوں تک سے نکال دیتا ہے (طبرانی ، مجمع الزوائد)۔ یعنی صغائر گناہ معاف ہوجاتے ہیں، بڑے گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے؛ اگر صغائر گناہ نہیں ہیں تو نیکیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
                $ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، جتنا ہوسکے پاکی کا اہتمام کرتا ہے اور تیل لگاتا ہے یا خوشبو استعمال کرتا ہے، پھر مسجد جاتا ہے، مسجد پہنچ کر جو دو آدمی پہلے سے بیٹھے ہوں ان کے درمیان میں نہیں بیٹھتا، اور جتنی توفیق ہو جمعہ سے پہلے نماز پڑھتا ہے، پھر جب امام خطبہ دیتا ہے اس کو توجہ اور خاموشی سے سنتا ہے تو اِس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک کے گناہ کو معاف ہوجاتے ہیں (بخاری
                $ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، پھر مسجد میں آیا، اور جتنی نماز اس کے مقدر میں تھی ادا کی، پھرخطبہ ہونے تک خاموش رہا اور امام کے ساتھ فرض نماز ادا کی، اس کے جمعہ سے جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں (مسلم
                $ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا : جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، اگر خوشبو ہو تو اسے بھی استعمال کرتا ہے، اچھے کپڑے پہنتا ہے، اس کے بعدمسجد جاتا ہے ، پھر مسجد آکر اگر موقع ہو تو نفل نماز پڑھ لیتا ہے اور کسی کو تکلیف نہیں پہونچاتا۔ پھر جب امام خطبہ دینے کے لیے آتا ہے، اس وقت سے نماز ہونے تک خاموش رہتا ہے یعنی کوئی بات چیت نہیں کرتا تو یہ اعمال اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہو جاتے ہیں (مسند احمد)۔
سننِ جمعہ :
                مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی نماز سے قبل بابرکت گھڑیوں میں جتنی زیادہ سے زیادہ نماز پڑھ سکیں ، پڑھیں۔ کم از کم خطبہ شروع ہونے سے پہلے چار رکعتیں تو پڑھ ہی لیں جیسا کہ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ صفحہ ۱۳۱) میں مذکور ہے: مشہور تابعی حضرت ابراہیم  فرماتے ہیں کہ حضراتِ صحابہ کرام نمازِ جمعہ سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے (نماز پیمبر صفحہ۲۷۹)۔
                نمازِ جمعہ کے بعد دو رکعتیں یا چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، یہ تینوں عمل نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت ہیں۔ بہتر یہ ہے کے چھ رکعت پڑھ لیں تاکہ تمام احادیث پر عمل ہوجائے اور چھ رکعتوں کا ثواب بھی مل جائے؛ اسی لیے علامہ ابن تیمیہ  فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے جمعہ کے بعد چار رکعات پڑھنی چاہئیں، اور حضراتِ صحابہ کرام سے چھ رکعات بھی منقول ہیں (مختصر فتاوی ابن تیمیہ، صفحہ ۷۹) (نماز پیمبر صفحہ ۲۸۱)۔
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز پڑھ لے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے (مسلم
                $ حضرت سالم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے (مسلم
                $ حضرت عطاء  فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر بن عبد اللہ  کو جمعہ کے بعد نماز پڑھتے دیکھا کہ جس مصلیٰ پر آپ نے جمعہ پڑھا، اس سے تھوڑا سا ہٹ جاتے تھے، پھر دو رکعتیں پڑھتے، پھر چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ میں نے حضرت عطاء  سے پوچھا کہ آپ نے حضرت عبداللہ بن عمر  کو کتنی مرتبہ ایسا کرتے دیکھا؟ انھوں نے فرمایا کہ بہت مرتبہ۔ (ابو داوٴد)۔
نمازِ جمعہ چھوڑنے پر وعیدیں:
                $ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جمعہ نہ پڑھنے والوں کے بارے میں فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ کسی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں پھر جمعہ نہ پڑھنے والوں کو اُن کے گھروں سمیت جلاڈالوں (مسلم
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : خبردار! لوگ جمعہ چھوڑنے سے رک جائیں یا پھر اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں پر مہر لگادے گا، پھر یہ لوگ غافلین میں سے ہوجائیں گے (مسلم)۔
                $ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے تین جمعہ غفلت کی وجہ سے چھوڑ دئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا (نسائی، ابن ماجہ، ترمذی، ابوداوٴد
جمعہ کی نماز کے لیے پیدل جانا :
                $ حضرت یزید بن ابی مریم فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز کے لیے پیدل جارہا تھا کہ حضرت عبایہ بن رافع  مجھے مل گئے اور فرمانے لگے تمہیں خوشخبری ہو کہ تمہارے یہ قدم اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ہیں۔ میں نے ابو عبس  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے قدم اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوئے تو وہ قدم جہنم کی آگ پر حرام ہے (ترمذی:1632)۔ اسی مضمون کی روایت کچھ لفظی اختلاف کے ساتھ صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔
جمعہ کے دن یا رات میں سورہٴ کہف کی تلاوت:
                $ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص سورہٴ کہف کی تلاوت جمعہ کے دن کرے گا، آئندہ جمعہ تک اس کے لیے ایک خاص نور کی روشنی رہے گی (نسائی، بیہقی، حاکم)۔
                $ سورہٴ کہف کے پڑھنے سے گھر میں سکینت وبرکت نازل ہوتی ہے۔ حضرت براء بن عازب  فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک صحابی نے سورہٴ کہف پڑھی، گھر میں ایک جانور تھا، وہ بدکنا شروع ہوگیا، انہوں نے غور سے دیکھا کہ کیا بات ہے؟ تو انھیں ایک بادل نظر آیا جس نے انھیں ڈھانپ رکھا تھا۔ صحابی  نے اس واقعہ کا ذکر جب نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سورہٴ کہف پڑھا کرو۔ قرآن کریم پڑھتے وقت سکینت نازل ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری،فضل سورة الکہف۔ مسلم،کتاب الصلاة)۔
جمعہ کے دن دُرود شریف پڑھنے کی خاص فضیلت:
                $ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اِس دن کثرت سے دُرود پڑھاکرو؛کیونکہ تمہارا دُرود پڑھنا مجھے پہونچایا جاتا ہے (مسند احمد، ابوداوٴد، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان )۔
                $ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کثرت سے دُرود پڑھا کرو، جو ایسا کرے گا، میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا (بیہقی)۔
جمعہ کے دن یا رات میں انتقال کرجانے والے کی خاص فضیلت:
                $ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں انتقال کرجائے، اللہ تعالیٰ اُس کو قبر کے فتنہ سے محفوظ فرمادیتے ہیں (مسند احمد ، ترمذی)۔

$           $           $







جمعہ کی نماز کا حکم


اللہ تعالی نے فرمایا: جب جمعہ کے دن نماز کیلئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، اور خریدو فروخت کو چھوڑدو یہ تمہارے حق میں بہتر ہوگا اگر تم کچھ جانتے ہو۔ حوالہ
إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ(الجمعة:۹)
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کیلئے آئے اور خاموش رہے تو اس کے وہ تمام  گناہ جو  گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے معاف کردئے جاتے ہیں بلکہ تین دن زیادہ (کے گناہ بھی معاف کردئے جاتے ہیں)، اور جس نے کنکریوں کو الٹ پلٹ کیا اس نے لغو کام کیا۔  حوالہ
مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا(مسلم، بَاب فَضْلِ مَنْ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ فِي الْخُطْبَةِ ۱۴۱۹)
اور آپ  نے یہ بھی فرمایا: جو شخص تین جمعہ کو ہلکا سمجھتے ہوئے چھوڑ دے تو اللہ تعالی اس کے دل پر مہر لگادیتے ہیں۔ حوالہ
مَنْ تَرَکَ ثَلاَثَ جُمُعٍ تَھَاوُنًاطَبَعَ اللہ عَلَیٰ قَلْبِہٖ (ابوداود بَاب التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ ۸۸۸)
جمعہ کی دو جہری رکعتیں ہیں اور یہ مستقل فرض عین ہیں ، یہ ظہر کے بدلہ میں نہیں ہیں ، لیکن جس شخص کی جمعہ کی نماز چھوٹ جائے تو اس پر ظہر کی چار رکعت فرض ہوں گے۔ حوالہ
ياأيها الذين آمنوا  إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ(الجمعة:۹)،عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى وَمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا » (دارقطني باب فِيمَنْ يُدْرِكُ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً أَوْ لَمْ يُدْرِكْهَا:۱۶۲۰)۔







جمعہ فرض ہونے کے شرائط



جمعہ کی نماز اس شخص پر فرض ہوتی ہے جس میں مندرجہ ذیل شرطیں پائی جائیں۔
(۱) مرد ہو ، عورت پر جمعہ کی نماز فرض نہیں۔حوالہ
 عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مسلم، فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً عَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَوْ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ أَوْ مَرِيضٌ (ابوداود بَاب الْجُمُعَةِ لِلْمَمْلُوكِ وَالْمَرْأَةِ ۹۰۱)
(۲) آزاد ہو ، غلام پر جمعہ کی نماز فرض نہیں۔حوالہ
 عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مسلم، فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً عَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَوْ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ أَوْ مَرِيضٌ (ابوداود بَاب الْجُمُعَةِ لِلْمَمْلُوكِ وَالْمَرْأَةِ ۹۰۱)
(۳) شہر یا کسی ایسی جگہ میں مقیم ہو جو شہر کے حکم میں ہو، مسافر پر جمعہ فرض نہیں ، اسی طرح گاؤں میں رہنے والے پر بھی جمعہ فرض نہیں۔حوالہ
 عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ  صلى الله عليه وسلم  قَالَ « مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَعَلَيْهِ الْجُمُعَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلاَّ مَرِيضٌ أَوْ مُسَافِرٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِىٌّ أَوْ مَمْلُوكٌ فَمَنِ اسْتَغْنَى بِلَهْوٍ أَوْ تِجَارَةٍ اسْتَغْنَى اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهُ غَنِىٌّ حَمِيدٌ ».(دار قطني  باب مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ.۱۵۹۵)
(۴)صحت و تندرست ہو، بیمار پر جمعہ فرض نہیں۔حوالہ
 عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مسلم، فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً عَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَوْ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ أَوْ مَرِيضٌ (ابوداود بَاب الْجُمُعَةِ لِلْمَمْلُوكِ وَالْمَرْأَةِ ۹۰۱)
(۵)خوف وغیرہ سے مامون و محفوظ ہو، لہذا ایسے شخص پر جو ظالم کے ظلم کے خوف سے چھپا ہوا ہو جمعہ فرض نہیں ۔حوالہ
عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ :سَمِعْتُ الْحَسَنَ وَسُئِلَ عَنِ الْخَائِفِ ، عَلَيْهِ جُمُعَةٌ ؟ فَقَالَ :وَمَا خَوْفُهُ ؟ قَالَ :مِنَ السُّلْطَانِ ، قَالَ :إِنَّ لَهُ عُذْرًا. (مصنف ابن ابي شيبة مَنْ رَخُّصَ لَهُ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ ۱۵۳/۲)
(۶) بینا ہو ، نابینا پر جمعہ فرض نہ ہوگی۔حوالہ
 عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ قَالُوا وَمَا الْعُذْرُ قَالَ خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى(ابوداود بَاب فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ ۴۶۴)
(۷) چلنے پر قادر ہو، لہذا جو شخص چلنے پر قادر نہ ہو اس پر جمعہ فرض نہیں۔حوالہ
 عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مسلم، فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً عَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَوْ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ أَوْ مَرِيضٌ (ابوداود بَاب الْجُمُعَةِ لِلْمَمْلُوكِ وَالْمَرْأَةِ ۹۰۱)۔
مسئلہ: جس شخص پر جمعہ فرض نہیں ، اگر وہ جمعہ پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہوجائیگی اور اس کے ذمہ سے ظہر ساقط ہوجائیگی، بلکہ اس کے لئے جمعہ کی نماز مستحب ہے۔حوالہ
عن أَبِى الزِّنَادِ قَالَ :كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ فَذَكَرَ الْفُقَهَاءَ السَّبْعَةَ مِنَ التَّابِعِينَ فِى مَشْيَخَةٍ جُلَّةٍ سِوَاهُمْ مِنْ نُظَرَائِهِمْ أَهْلُ فَقْهٍ وَفَضْلٍ وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِى الشَّىْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا فَذَكَرَ مِنْ أَقَاوِيلِهِمْ أَشْيَاءَ ثُمَّ قَالَ :وَكَانُوا يَقُولُونَ إِنْ شَهِدَتِ امْرَأَةٌ الْجُمُعَةَ أَوْ شَيْئًا مِنَ الأَعْيَادِ أَجْزَأَ عَنْهَا قَالُوا :وَالْغِلْمَانُ وَالْمَمَالِيكُ وَالْمُسَافِرُونَ وَالْمَرْضَى كَذَلِكَ لاَ جُمُعَةَ عَلَيْهِمْ وَلاَ عِيدَ فَمَنْ شَهِدَ مِنْهُمْ جُمُعَةً أَوْ عِيدًا أَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ.(السنن الكبري للبيهقي باب مَنْ لاَ جُمُعَةَ عَلَيْهِ إِذَا شَهِدَهَا صَلاَّهَا رَكْعَتَيْنِ ۵۸۶۰) 
 اور عورت اپنے گھر میں ظہر کی نماز پڑھے گی، اس لئے کہ اس کا جماعت میں شرکت کرنا ممنوع ہے۔حوالہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قُلْتُ لِعَمْرَةَ أَوَمُنِعْنَ قَالَتْ نَعَمْ(بخاري بَاب خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ وَالْغَلَسِ ۸۲۲)۔




جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی شرطیں




          جب تک مندرجہ ذیل شرطیں نہ پائیں جائیں جمعہ کی نماز صحیح نہیں ہوتی۔
(۱) شہر اور فناء شہر (اطراف شہر) کا ہونا، لہذا گاؤں میں جمعہ کی نماز صحیح نہیں ہوگی۔ شہر اور فناء شہر کے بہت سے جگہوں میں جمعہ قائم کرنا صحیح ہے۔ حوالہ
 عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ عَلِىٌّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ لاَ جُمُعَةَ وَلاَ تَشْرِيقَ إِلاَّ فِى مِصْرٍ جَامِعٍ. (السنن الكبري للبيهقي باب الْعَدَدِ الَّذِينَ إِذَا كَانُوا فِى قَرْيَةٍ وَجَبَتْ عَلَيْهِمُ الْجُمُعَةُ ۵۸۲۳)
(۲)بادشاہ یا اس کا نائب ہونا۔ حوالہ
 عن شَيْبَانَ حَدَّثَنِى مَوْلًى لآلِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ:أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ عَنِ الْقُرَى الَّتِى بَيْنَ مَكَّةَ والْمَدِينَةِ مَا تَرَى فِى الْجُمُعَةِ؟ قَالَ:نَعَمْ إِذَا كَانَ عَلَيْهِمْ أَمِيرٌ فَلْيُجَمِّعْ۔
(۳) ظہر کے وقت میں جمعہ کی نمازکا ہونا، ظہر کے وقت سے پہلے یا ظہر کے بعد جمعہ صحیح نہیں ہوتی۔ حوالہ
 عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ(بخاري بَاب وَقْتُ الْجُمُعَةِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ ۸۵۳)
(۴) خطبہ دینا، جب کہ اسے نماز سے پہلے ظہر کے وقت میں پڑھا جائے ، اور اس وقت خطبہ سننے کے لئے ان لوگوں میں سے جن سے جمعہ ہوتا ہے کم از کم ایک کا حاضر ہو نا ضروری ہے۔حوالہ
عَنِ الزُّهْرِىِّ قَالَ ۔۔۔ :وَبَلَغَنَا أَنَّهُ لاَ جُمُعَةَ إِلاَّ بِخُطْبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَخْطُبْ صَلَّى أَرْبَعًا(السنن الكبري للبيهقي باب وُجُوبِ الْخُطْبَةِ ۵۹۱۲)،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْن(بخاري بَاب إِذَا رَأَى الْإِمَامُ رَجُلًا جَاءَ وَهُوَ يَخْطُبُ أَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ: ۸۷۸) عن عطاء قال الخطبة يوم الجمعة قبل الصلاة (مصنف عبد الرزاق باب وجوب الخطبة  ۲۲۲/۳)، مذکورہ پہلی حدیث میں صحابی کا خطبہ کے وقت آنا اس بات کوبتلاتا ہے کہ خطبہ نماز سے پہلے ہے ورنہ وہ خطبہ سے پہلے ہی تشریف لاتے اور خطبہ نماز کے ایک حصہ کی طرح ہے؛ اس لیے اسے نماز کی طرح وقتِ جمعہ ہی میں ادا کرنا ضروری ہے۔  وَقْتُ الْخُطْبَةِ فَوَقْتُ الْجُمُعَةِ وَهُوَ وَقْتُ الظُّهْرِ لَكِنْ قَبْلَ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ لِمَا ذَكَرْنَا أَنَّهَا شَرْطُ الْجُمُعَةِ وَشَرْطُ الشَّيْءِ يَكُونُ سَابِقًا عَلَيْهِ وَهَكَذَا فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (بدائع الصنائع فَصْلٌ بَيَانُ شرائط الجمعة:۳۰/۳)۔
(۵) اذن عام یعنی عام اجازت ہونا : اذن عام کا مطلب یہ ہےکہ وہ جگہ جہاں نماز جمعہ ہورہی ہو ہر آنے والے کو اس میں آنے کی اجازت ہو ، لہذا کسی ایسے گھر میں جس کا دروازہ لوگوں پر بند ہو جمعہ کی نماز صحیح نہیں ہوتی۔ حوالہ
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَذِنَ النَّبِيُّ الْجُمُعَةَ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ وَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَجْمَعَ بِمَكَّةَ فَكَتَبَ إلَى مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ "أَمَّا بَعْدُ فَانْظُرْ الْيَوْمَ الَّذِي تَجْهَرُ فِيهِ الْيَهُودُ بِالزَّبُورِ فَاجْمَعُوا نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ فَإِذَا مَالَ النَّهَارُ عَنْ شَطْرِهِ عِنْدَ الزَّوَالِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَتَقَرَّبُوا إلَى اللَّهِ بِرَكْعَتَيْنِ التلخیص الحبیر، کتاب الجمعۃ، حدیث نمبر:۶۲۵۔ قلت:وفی  الحدیث دلالۃ علی ان شرط الجمعۃ ان تؤدی علی سبیل الاشتہار،لما فیہ ان النبی  اذن الجمعۃ قبل ان یھاجر،ولم یستطع ان یجمع بمکۃ ولایخفی ان مکۃ موضع صالح للجمعۃ حتما، لکونہا مصرا، ولم یکن النبی  عاجزا عن الوقت، ولاعن الخطبۃ، والجماعۃ، لأجل کونہ مختفیا فی بیت، فانہ کان یقیم سائر الصلوات بالجماعۃ کذلک، ولکنہ لم یستطع ان یؤد  ی الجمعۃ علی سبیل الاشتہار، والاذن العام، لمافیہ من مخافۃ اذی الکفار، وھجومھم علی المسلمین،ففیہ دلیل قول الحنیفۃ باشتراط الاذن العام للجمعۃ۔
 (اعلاء السنن، باب وقت الجمعہ بعد الزوال:۸/۵۸۔)
(۶) جمعہ جماعت کے ساتھ ہو، لہذا جمعہ کی نماز اگر تن تنہا پڑھے تو نماز صحیح نہیں ہوگی۔ جمعہ کی نماز میں امام کے علاوہ تین آدمیوں کی موجودگی سے جماعت ہوجاتی ہے۔ اگر مسافر یا مریض جمعہ کی نماز کی امامت کرے تو نماز صحیح ہوگی۔ حوالہ
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مسلم، فِي جَمَاعَةٍ (ابوداود بَاب الْجُمُعَةِ لِلْمَمْلُوكِ وَالْمَرْأَةِ ۹۰۱) عن بن جريج قال قلت لعطاء أواجبة صلاة يوم الفطر على الناس أجمعين قال لا إلا في الجماعة قال ما الجمعة بأن يوتى أوجب بذلك منها الا في الجماعة فكيف في الفطر قال عطاء لا يتمان أربعا في جماعة ولا غيرها(مصنف عبد الرزاق باب وجوب صلاة الفطر والأضحى ۵۷۰۸) عَنْ صَالِحِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ :خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى السُّوَيْدَاءِ مُتَبَدِّيًا ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْجُمُعَةُ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، فَجَمَعُوا لَهُ حَصْبَاءَ ، قَالَ :فَقَامَ فَخَطَبَ ، ثُمَّ صَلَّى الْجُمُعَةَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ :الإِمَامُ يُجَمِّعُ حَيْثُ مَا كَانَ(مصنف ابن ابي شيبة الإِمَامُ يَكُونُ مُسَافِرًا فَيَمُرُّ بِالْمَوْضِعِ ۱۴۸/۲)




خطبہ کی سنتیں




مندرجہ ذیل چیزیں خطبہ میں مسنون ہیں۔
(۱)خطیب کا حدث اور نجاست سے پاک ہونا۔ حوالہ
 وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا الْغُسْلُ عَلَى مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ… عن سَالِم بْن عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ (بخاري بَاب هَلْ عَلَى مَنْ لَمْ يَشْهَدْ الْجُمُعَةَ غُسْلٌ مِنْ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَغَيْرِهِمْ ۸۴۵)
(۲) خطیب کے ستر کا چھپا ہوا ہونا۔
(۳) خطبہ شروع کرنے سے پہلے خطیب کا منبر پر بیٹھنا۔ حوالہ
 عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى يَفْرَغَ أُرَاهُ قَالَ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ ثُمَّ يَجْلِسُ فَلَا يَتَكَلَّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ (ابوداود بَاب الْجُلُوسِ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ ۹۲۱)
(۴) خطیب کے سامنے اذان دینا۔ حوالہ
 عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا (بخاري بَاب الْأَذَانِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ۸۶۱)
(۵) کھڑے ہوکر خطبہ دینا۔ حوالہ
 عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُومُ كَمَا تَفْعَلُونَ الْآنَ (بخاري بَاب الْخُطْبَةِ قَائِمًا ۸۶۹)
(۶) اللہ کی حمد وثنا سے خطبہ شروع کرنا۔ حوالہ
 عن جَابِر بْن عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَتْ خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي(مسلم، بَاب تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ ۱۴۳۵)
(۷) اللہ کی شان کے مناسب تعریف کرنا۔ حوالہ
عن جَابِر بْن عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَتْ خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي(مسلم، بَاب تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ ۱۴۳۵)
(۸) خطبہ میں کلمات شہادت کا پڑھنا۔ حوالہ
 عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مِنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ مَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ وَلَا يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا (ابوداود بَاب الرَّجُلِ يَخْطُبُ عَلَى قَوْسٍ ۹۲۵)
 (۹) خطبہ میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا اور کم سے کم قرآن کی ایک آیت پڑھنا۔ حوالہ
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ (مسلم، بَاب ذِكْرِ الْخُطْبَتَيْنِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَمَا فِيهِمَا مِنْ الْجَلْسَةِ ۱۴۲۶)
(۱۰) خطبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا۔ حوالہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ (ترمذي بَاب مَا جَاءَ فِي الْقَوْمِ يَجْلِسُونَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ ۳۳۰۲)
(۱۱) دو خطبے پڑھنا، دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی سی بیٹھک سے فاصلہ کرنا۔ حوالہ
 عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ (مسلم، بَاب ذِكْرِ الْخُطْبَتَيْنِ 
(۱۲) دوسرے خطبہ کو اللہ کی تعریف اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود سے شروع کرنا۔ حوالہ
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ (ترمذي بَاب مَا جَاءَ فِي الْقَوْمِ يَجْلِسُونَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ ۳۳۰۲) عن جَابِر بْن عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَتْ خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي(مسلم، بَاب تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ ۱۴۳۵)
(۱۳) دوسرے خطبہ میں مومن مرد ، عورتوں کے لئے دعا کرنا اور ان کے لئے مغفرت طلب کرنا ۔ حوالہ
 أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يستغفر للمؤمنين والمسلم،ين والمسلمات كل جمعة .(مسند بزار مسند سمرة بن جندب رصي الله عنه ۱۵۹/۲ (
(۱۴) خطبہ اتنی زور دار آواز میں ہونا کہ اسے لوگ سن سکیں۔ حوالہ
 عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ (مسلم، بَاب تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ ۱۴۳۵)
(۱۵) خطبہ کو اتنا مختصر کرنا کہ ایک لمبی سورۃ کے برابر ہو جائے۔ حوالہ
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُطِيلُ الْمَوْعِظَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِنَّمَا هُنَّ كَلِمَاتٌ يَسِيرَاتٌ(ابوداود، بَاب إِقْصَارِ الْخُطَبِ: ۹۳۳)




نماز جمعہ سے متعلق فروعات




         مسئلہ: پہلی اذان کے ساتھ ہی خرید وفروخت کو چھوڑ کر مسجد کی طرف چلنا واجب ہے۔حوالہ
 ياأيها الذين آمنوا  إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ(الجمعة:۹)
         مسئلہ: جب امام خطبہ دینے کیلئے نکل پڑے تو نماز سے فارغ ہونے تک نماز اور گفتگو کرنا جائز نہیں اور نہ سلام کا جواب دینا جائز ہے اور نہ ہی چھنکنے والے کیلئے دعا دی جائے گی۔حوالہ
 إذا دخل أحدُكم المسجدَ والإمامُ على المنبرِ فلا صلاةَ ولا كلامَ حتى يفرغَ الإمامُ (جمع الجوامع أو الجامع الكبير للسيوطي ۲۲۳۰/۱)
          مسئلہ:خطیب کو خطبہ لمبا کرنا مکروہ ہے۔حوالہ
 عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِقْصَارِ الْخُطَبِ (ابوداود بَاب إِقْصَارِ الْخُطَبِ ۹۳۲)
         مسئلہ: خطیب کا خطبہ کی کسی سنت کو چھوڑنا مکروہ ہے۔ حوالہ
عن أَنَس بْن مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ… فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي (بخاري بَاب التَّرْغِيبِ فِي النِّكَاحِ الخ ۴۶۷۵)
         مسئلہ: کھانا، پینا ، کھیلنا اور خطبہ کے وقت آنے والے کی طرف متوجہ ہونا مکروہ ہے۔ حوالہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ قَالَ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا(مسند احمد مُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ۹۱۲۰)
          مسئلہ: خطیب جس وقت منبر پر کھڑا ہو تو لوگوں کو سلام نہ کرے۔ حوالہ
 ولا يسلم على القوم عند الحنفية؛ لأنه يلجئهم إلى ما نهوا عنه من الكلام، (الفقه الاسلامي وادلته سنن الخطبة ومكروهاتها: ۴۴۹/۲)
         مسئلہ:جو شخص تشہد میں یا سجدہ میں جمعہ کو پالے تو اس نے جمعہ کو پالیا، وہ دورکعت مکمل کرے۔ حوالہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ (ابوداود بَاب مَنْ أَدْرَكَ مِنْ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً۹۴۶)، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاةَ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا (بخاري بَاب قَوْلِ الرَّجُلِ فَاتَتْنَا الصَّلَاةُ: ۵۹۹)، مذکورہ حدیث میں عموم ہے کہ امام کی جماعت میں سے جومل جائے اسے پڑھ لو اور جوچھوڑ جائے اس کومکمل کرلو اس طرح یہ مذکورہ صورت کوبھی شامل ہوجائیگی کہ کوئی جمعہ کے تشہد میں یاسجدہ میں امام کوپالے توجوچھوڑ گیا ہے اس کوامام کے سلام پھیرنے کے بعد مکمل کرلے۔
          مسئلہ:معذور اور قیدی کیلئے جمعہ کے دن شہر میں جماعت کے ساتھ ظہر پڑھنا مکروہ ہے۔حوالہ
 عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ :قَالَ عَلِيٌّ :لاَ جَمَاعَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ إِلاَّ مَعَ الإِمَامِ(مصنف ابن شيبة فِي الْقَوْمِ يُجَمِّعُونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذَا لَمْ يَشْهَدُوهَا ۱۳۵/۲)









جمعة المبارک کی پانچ خصوصیات :






نمازِ جمعہ زوال کے بعد



بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن، وَالصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ وَعَلٰی آلِہِ وَاَصْحَابِہِ اَجْمَعِیْن۔
نماز کی وقت پر ادائیگی سے متعلق آیات قرآنیہ اور احادیث متواترہ کی روشنی میں جمہور مفسرین، محدثین، فقہاء وعلماء کرام کا اتفاق ہے کہ فرض نماز کو اس کے متعین اور مقرر وقت پر پڑھنا فرض ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: اِنَّ الصَّلَاةَ کَانَتْ عَلَی الْمُوٴمِنِیْنَ کِتَاباً مَّوْقُوْتاً (سورة النساء ۱۰۳)بے شک نماز اہل ایمان پر فرض ہے جس کا وقت مقرر ہے۔
نماز جمعہ دیگر نمازوں سے مختلف ہے کہ وہ وقت کے بعد پڑھی ہی نہیں جاسکتی؛ کیونکہ دیگر فرض نمازیں وقت ختم ہونے پر بطور قضا پڑھی جاتی ہیں، جبکہ نماز جمعہ فوت ہونے پر نماز ظہر یعنی چار رکعت ادا کی جاتی ہیں۔ تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ وقت‘ جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے۔ صحیح مسلم کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے امام نووی  نے اپنی کتاب (المجموع ۴/۲۶۴) میں تحریر کیا ہے کہ امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ جمعہ کی قضا نہیں ہے، یعنی جس کا جمعہ فوت ہوگیا اسے نماز ظہر ادا کرنی ہوگی۔ ا سی طرح پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ جس نے نماز جمعہ ظہر کے وقت میں ادا کی اس نے نماز جمعہ وقت پر ادا کیا جیساکہ حضرت امام شافعی رحمة اللہ علیہ اور دیگر فقہاء نے اس مسئلہ پر اجماع امت ذکر کیا ہے۔ پوری امت مسلمہ متفق ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی ادا کرنی چاہئے؛ کیونکہ پوری زندگی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول رہا ہے اور زوال آفتاب کے بعد نماز جمعہ ادا کرنے میں کسی کا کوئی اختلاف بھی نہیں ہے۔ زوال آفتا ب سے قبل نماز جمعہ کی ادائیگی کی صورت میں جمہور محدثین وفقہاء وعلماء، نیز حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمة اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ زوال آفتاب کے بعد نماز جمعہ دوبارہ ادا کرنی ہوگی اور وقت ختم ہونے پر نماز ظہر کی قضا کرنی ہوگی۔
حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کے مشہور قول کے مطابق سعودی عرب کی عام مساجد میں جمعہ کی پہلی اذان تو زوال آفتاب سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے قبل ہوتی ہے لیکن جمہور محدثین وفقہاء وعلماء کی قرآن وحدیث کی روشنی پر مبنی رائے کے مطابق خطبہ کی اذان زوال آفتاب کے بعد ہوتی ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی میں پہلی اذان بھی جمہور محدثین وفقہاء وعلماء کے قول کے مطابق زوال آفتاب کے بعد ہی ہوتی ہے۔ مگر کبھی کبھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض مساجد میں خطبہ والی اذان زوال آفتاب سے قبل ہی دے دی جاتی ہے، جس سے بعض حضرات کو تشویش ہوتی ہے کہ چند منٹ انتظار کرنے میں کونسی دشواری ہے، صرف چند منٹ کے انتظار پر کافی حضرات دوسری اذان سے قبل مسجد پہنچ کر جمعہ کی فضیلت حاصل کرنے والے بن جائیں گے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کی روشنی میں جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ دوسری اذان شروع ہونے کے بعد مسجد پہنچنے والوں کی نماز جمعہ تو ادا ہوجاتی ہے لیکن انہیں جمعہ کی فضیلت کا کوئی بھی حصہ نہیں ملتا اور نہ ہی ان کا نام فرشتوں کے رجسٹر میں درج کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب کے علماء نے احتیاط پر مبنی جمہور علماء کی رائے کا احترام کرتے ہوئے یہی کہا ہے کہ عام مساجد میں خطبہ کی اذان زوال آفتاب سے قبل نہ دی جائے اور حرمین شریفین میں پہلی اذان بھی زوال آفتاب کے بعد دی جائے۔
موضوع کی اہمیت کے مدنظر یہ مضمون تحریر کر رہا ہوں، اللہ تعالیٰ صحیح بات لکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
نماز جمعہ کے اول وقت کے متعلق فقہاء وعلماء کی دو رائیں ہیں۔ دونوں رائے ذکر کرنے سے قبل اختلاف کی اصل وجہ ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ بعض روایات نماز جمعہ جلدی پڑھنے کے متعلق وارد ہوئی ہیں، حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ نے ان سے سمجھا کہ نماز جمعہ زوال آفتاب سے قبل پڑھی جاسکتی ہے، حالانکہ کسی ایک صحیح حدیث میں بھی وضاحت کے ساتھ مذکور نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال آفتاب سے قبل جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ جمہور محدثین وفقہاء وعلماء، نیز حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمة اللہ علیہم نے کہا ان احادیث میں صرف نماز جمعہ کے لئے جلدی جانے کی تاکید کی گئی ہے نہ کہ زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ کی ادائیگی کی۔
جمہور محدثین وفقہاء وعلماء، نیز حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمة اللہ علیہم اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کی دوسری روایت کے مطابق نماز جمعہ کا وقت ظہر کی طرح زوال آفتاب کے بعد سے ہی شروع ہوتا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ کا مشہور قول یہ ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی پڑھنی چاہئے لیکن اگر زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ ادا کرلی گئی تو زوال آفتاب کے بعد اعادہ کی ضرورت نہیں ہے؛ کیونکہ جمعہ بھی عید ہے، اس لئے چاشت کے وقت پڑھنے کی گنجائش ہے۔ مشہور حنبلی عالم علامہ ابن رجب رحمة اللہ علیہ تحریر کرتے ہیں کہ صحیح مذہب کے مطابق جمعہ کی نماز زوال آفتاب کے بعد ہی واجب ہوتی ہے اگرچہ پہلے ادا کرنے کی گنجائش ہے۔
جمہور محدثین وفقہاء وعلماء کے قول کے بعض دلائل:
جمہور علماء کے متعدد دلائل ہیں، لیکن اختصار کے مدنظر صحیح بخاری وصحیح مسلم میں وارد صرف دو احادیث ذکر کررہا ہوں:
(۱) حدیث کی سب سے مستند کتاب لکھنے والے حضرت امام بخاری رحمة اللہ نے اپنی مشہور ومعروف کتاب (صحیح بخاری) میں کتاب الجمعہ کے تحت ایک باب (Chapter) کا نام اس طرح تحریر کیا ہے: "جمعہ کا وقت زوال آفتاب کے بعدہے، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت نعمان بن بشیر اور حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم اجمعین سے اسی طرح منقول ہے" غرضیکہ صحابہٴ کرام کے ساتھ حضرت امام بخاری رحمة اللہ کا بھی موقف واضح ہے کہ نماز جمعہ کا وقت زوال آفتاب کے بعد سے ہی شروع ہوتا ہے۔ حضرت امام بخاری رحمة اللہ علیہ اسی باب میں یہ حدیث ذکر کرتے ہیں: اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ علیہ وسلم کَانَ یُصَلِّی الجُمُعَةَ حِیْنَ تَمِیْلُ الشَّمْسُ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ پڑھا کرتے تھے جس وقت سورج ڈھلتا یعنی زوال کے بعد جمعہ پڑھتے تھے۔ صحیح بخاری کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے علامہ ابن حجر رحمة اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں تحریر کرتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال آفتاب کے بعد ہی نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔ (فتح الباری)
یہ حدیث امام بخاری رحمة اللہ کے علاوہ دیگر محدثین مثلاً امام ترمذی نے بھی اپنی کتاب "ترمذی" میں ذکر کی ہے۔ خود حضرت امام احمد بن حنبل رحمةاللہ علیہ نے اپنی کتاب "مسند احمد" میں بھی ذکر کی ہے۔
(۲) حدیث کی دوسری مستند کتاب (صحیح مسلم) میں امام مسلم رحمةاللہ علیہ نے کتاب الجمعہ کے تحت ایک باب (Chapter)کا نام اس طرح تحریر کیا ہے: "جمعہ کی نماز زوال آفتاب کے بعد" اور اس باب میں یہ حدیث ذکر فرمائی ہے: حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب سورج زائل ہوجاتا تھا جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر سایہ تلاش کرتے ہوئے لوٹتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمة اللہ عنہ نے بھی صحیح بخاری میں ذکر فرمائی ہے۔
نوٹ: صحیح بخاری وصحیح مسلم میں وارد ان دونوں احادیث میں وضاحت کے ساتھ مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازجمعہ زوال آفتاب کے بعد پڑھا کرتے تھے۔
حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ کے قول کے دلائل:
(۱) حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم لوگ غداء (دوپہر کا کھانا) اور قیلولہ جمعہ کے بعد کیا کرتے تھے۔ ( صحیح بخاری وصحیح مسلم) وجہ استدلال یہ ہے کہ لغت میں غداء (دوپہر کا کھانا) کے معنی ہیں وہ کھانا جو زوال آفتاب سے پہلے کھایا جائے۔ جب غداء نماز جمعہ کے بعد کھایا جائے گا تو نماز جمعہ زوال آفتاب سے پہلے ہونی چاہئے۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ صحابہ کرام جمعہ کے روز بھی زوال آفتاب سے پہلے کھایا کرتے تھے، بلکہ وہ کھانا جو زوال آفتاب کے بعد کھایا جاتا ہے اسے عرفاً غداء ہی کہتے ہیں جیسا کہ موجودہ زمانہ میں۔ مثلاً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے متعلق ارشاد فرمایا : ہَلمُّوا الی الغداء المبارک لیکن دنیا کا کوئی عالم بھی یہ نہیں کہتا کہ سحری زوال سے قبل کھائی جاسکتی ہے۔
(۲) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر لوٹ کر اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام دیتے تھے۔ راوی حضرت حسن بیان کرتے ہیں کہ میں نے راوی حضرت جعفر سے کہا کہ اس وقت کیا وقت ہوتا تھا۔ فرمایا آفتاب ڈھلنے کا وقت۔ (صحیح مسلم) اس حدیث سے نماز جمعہ کا زوال آفتاب سے پہلے پڑھنے کو ثابت کرنا صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ جمعہ کے دن زوال آفتاب کے بعد نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد بھی پانی لانے والے اونٹوں کو آرام دلایا جاسکتا ہے جیساکہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ نیز یہ صحابی رسول حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا قول نہیں بلکہ راوی کا ہے، غرضیکہ اس مبہم عبارت سے نماز جمعہ کا وقت زوال آفتاب سے قبل شروع ہونا، ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
(۳) حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کا استدلال حضرت عبداللہ بن سیدان سلمی رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ہے جو سنن دار قطنی اور مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے جس میں خلفاء راشدین کا زوال سے پہلے جمعہ پڑھنا مروی ہے۔ مگر اس حدیث کی سند میں ضعف کی وجہ سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے جیساکہ صحیح مسلم کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے امام نووی رحمة اللہ نے تحریر کیا ہے کہ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے نماز جمعہ سے متعلق آثار ضعیف ہیں، اور اگر صحیح مان بھی لیا جائے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح احادیث کی بناء پر اس مذکورہ حدیث میں تاویل اور توجیہ ہی کی جائے گی۔
(۴) حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ نے بعض ان احادیث سے بھی استدلال کیا ہے جن میں نماز جمعہ کے لئے سویرے جانے کی ترغیب وارد ہوئی ہے؛ لیکن ان احادیث سے زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ کی ادائیگی کو ثابت کرنا صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ ان احادیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز جمعہ کے لئے سویرے حتی کہ چاشت کے وقت مسجد چلے جانا چاہئے ، مگر ان احادیث میں اس طرح کی کوئی وضاحت وارد نہیں ہے کہ جمعہ کی نماز زوال آفتاب سے قبل ادا کی جاسکتی ہے۔
خلاصہٴ کلام: پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ جمعہ کے دن ظہر کی جگہ نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے اور اگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے جماعت کے ساتھ نماز جمعہ ادا نہیں کرسکا تو اسے نماز ظہر ہی ادا کرنی ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص نماز جمعہ وقت پر نہیں پڑھ سکا تو قضا ظہر کی نماز (یعنی چار رکعت) کی کرنی ہوگی۔ اسی طرح جمہور محدثین وفقہاء وعلماء کا اتفاق ہے کہ نماز جمعہ کا آخری وقت‘ ظہر کے آخری وقت کے مانند ہے، یعنی عصر کا وقت ہونے پر نماز جمعہ کا وقت ختم ہوجائے گا۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ نے بھی یہی کہا ہے کہ نماز جمعہ کا آخری وقت‘ نماز ظہر کے آخری وقت کی طرح ہے۔ جب جمعہ کا آخری وقت ظہر کے آخری وقت کی طرح ہے تو نماز جمعہ کا اول وقت بھی ظہر کے اول وقت کی طرح ہونا چاہئے۔
اس پر بھی پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی ادا کرنی چاہئے ، البتہ صرف امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اگر زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ ادا کرلی گئی تو نماز کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ جمہور محدثین وفقہاء وعلماء نے کہا کہ زوال آفتاب سے قبل جمعہ پڑھنے پر نماز جمعہ ادا ہی نہیں ہوگی۔ لہذا احتیاط کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی ادا کی جائے؛ بلکہ پہلی اذان بھی زوال آفتاب کے بعد دی جائے تو اختلاف سے بچنے کے لئے بہتر ہے۔
جمہور محدثین وفقہاء وعلماء نیز حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمة اللہ علیہم اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کی دوسری روایت کے دلائل مفہوم اور سند کے اعتبار سے زیادہ قوی ہیں۔
درج ذیل اسباب کی وجہ سے جمہور محدثین وفقہاء وعلماء کا قول ہی زیادہ صحیح ہے:
(۱) جمہور علماء کے دلائل صحیح احادیث سے ثابت ہونے کے ساتھ اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہیں، جبکہ دوسری رائے کے بعض دلائل اگرچہ صحیح احادیث پر مشتمل ہیں لیکن وہ اپنے مفہوم میں واضح نہیں ہیں، نیز دیگر روایات وآثار مفہوم میں تو واضح ہیں لیکن ان کی سند میں ضعف ہے۔
(۲) جمہور محدثین وفقہاء وعلماء حتی کہ چاروں ائمہ میں سے تینوں ائمہ، امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام نووی رحمة اللہ علیہم اور چودہ سو سال سے جید علماء کی یہی رائے ہے کہ نماز جمعہ کا وقت زوال آفتاب کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔
(۳) جمہور علماء کا قول اختیار کرنے میں احتیاط بھی ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد پڑھنے پر دنیا کے کسی بھی عالم کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ کی ادائیگی پر جمہور فقہاء وعلماء کا فیصلہ ہے کہ نماز جمعہ ادا نہیں ہوگی اور بعد میں نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا۔
(۴) اگرچہ حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ نے زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ کی ادائیگی کی گنجائش رکھی ہے مگر انہوں نے یہی کہا ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی ادا کرنا بہتر ہے، چنانچہ سعودی علماء (جو اختلافی مسائل میں حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں) نے یہی کہا ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ادا کی جائے۔
(۵) امام المحدثین حضرت امام بخاری رحمةا للہ کی شہادت کے مطابق حضرت عمر، حضرت علی، حضرت نعمان بن بشیر اور حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم اجمعین کا یہی موقف ہے کہ زوال آفتاب کے بعد نماز جمعہ کا وقت ہوتا ہے۔ حضرت امام بخاری  اور حضرت امام مسلم  نے اپنی کتابوں (صحیح بخاری وصحیح مسلم) میں باب (Chapter)کا نام رکھ کر ہی اپنا موقف واضح کردیا کہ زوال آفتاب کے بعد ہی نماز جمعہ کا وقت شروع ہوتا ہے۔
(۶) نماز جمعہ ظہر کی نماز کا بدل ہے اور آخری وقت کے متعلق حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کا موقف جمہور علماء کے مطابق ہے، کہ عصر کے وقت پر جمعہ کا وقت ختم ہوجاتا ہے، لہٰذا نماز جمعہ کا اول وقت بھی نماز ظہر کی طرح زوال آفتاب کے بعد سے ہی ہونا چاہئے۔
(۷) جمعہ کے وقت کی ابتداء زوال آفتاب سے قبل ماننے پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس وقت یا لمحہ سے نماز جمعہ کے وقت کی ابتداء مانی جائے؟ احادیث میں کوئی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے حنبلی مکتب فکر کے علماء میں بھی وقت کی ابتداء کے متعلق اختلاف ہے، چنانچہ بعض علماء نے تحریر کیا ہے کہ نماز عید کی طرح سورج کے روشن ہونے سے جمعہ کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سعودی عرب میں عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز اشراق کا وقت شروع ہوتے ہی فوراً ادا کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے گرمیوں میں ساڑھے پانچ بجے عید کی نماز ادا ہوجاتی ہے۔ غرضیکہ زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ پڑھنے کا کوئی ثبوت احادیث میں نہیں ملتا ہے۔
(۸) زوال آفتاب کے بعد اذان اور نماز جمعہ کی ادائیگی کی صورت میں نماز پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، اور یہ شریعت میں مطلوب ہے۔
(۹) خواتین اور معذور حضرات جن کو اپنے گھر نماز ظہر ادا کرنی ہوتی ہے، زوال آفتاب کے بعد پہلی اذان دینے پر انہیں نماز ظہر کی ادائیگی کا وقت معلوم ہوجائے گا۔ لیکن زوال آفتاب سے ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ قبل اذان دینے سے ان حضرات کے لئے نماز کے وقت شروع ہونے کا کوئی اعلان نہیں ہوگا۔
حنبلی مکتب فکر کے مشہور عالم دین علامہ ابن قدامہ رحمة اللہ علیہ اپنی مایہ ناز کتاب (المغنی: ۳/۱۵۹) میں تحریر کرتے ہیں کہ امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ جمعہ زوال آفتاب کے بعد قائم کرنا چاہئے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز زوال آفتاب کے بعد پڑھتے تھے اور پھر نماز پڑھ کر سایہ تلاش کرتے ہوئے لوٹتے تھے ۔ (بخاری ومسلم) اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ پڑھا کرتے تھے جس وقت سورج ڈھلتا۔ (صحیح بخاری) اس میں کوئی اختلاف بھی نہیں ہے؛ کیونکہ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ زوال آفتاب کے بعد یقینا جمعہ کا وقت ہے لیکن زوال آفتاب سے قبل کے متعلق اختلاف ہے۔
اب جبکہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی ہونی چاہئے تاکہ نماز جیسی اہم عبادت کی ادائیگی میں کوئی شک وشبہ نہ رہے، تو بعض مساجد میں خطبہ کی اذان کا زوال آفتاب سے قبل دینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ بلکہ اگر پہلی اذان بھی زوال آفتاب کے بعد دی جائے تواس میں زیادہ احتیاط ہے نیز دیگر تمام ائمہ کی رائے کا احترام بھی ہے اور کسی طرح کا کوئی نقصان بھی نہیں ہے بلکہ زوال آفتاب سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل اذان دینے سے اذان کامقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ زوا ل آفتاب کے بعد پہلی اذان دینے پر نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوسکتا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ نے صرف یہی تو کہا ہے کہ اگر نماز جمعہ زوال آفتاب سے قبل ادا کرلی گئی تو اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے؛ لیکن انہوں نے یہ تعلیم وترغیب نہیں دی کہ ہم زوال آفتاب سے قبل اذان اوّل کا اہتمام کرلیں۔ الحمد للہ ہمارے علماء کی جد وجہد سے حرمین میں جمعہ کی پہلی اذان زوال آفتاب کے بعد ہوتی ہے، دعا کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ عام مساجد میں بھی شروع ہوجائے تاکہ پہلی اذان بھی ایسے وقت میں دی جائے کہ اس میں دنیا کے کسی عالم کا کوئی اختلاف نہ ہو۔
$ $ $


Add caption






عن ابی ھریرۃأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إنما مثل المهجر إلى الصلاة كمثل الذي يهدي البدنة ثم الذي على أثره كالذي يهدي البقرة ثم الذي على أثره كالذي يهدي الكبش ثم الذي على أثره كالذي يهدي الدجاجة ثم الذي على أثره كالذي يهدي البيضة (سنن النسائي: 936)








لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ ».
(صحيح مسلم ,باب التغليظ في ترك الجمعة:2039)






جمعہ کے دن عمدہ لباس:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَعَمْرٌو ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ ، أَوْ مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدْتُمْ ، أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ " . قَالَ عَمْرٌو : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ حَبَّانَ ، عَنْ ابْنِ سَلَامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
[سنن أبي داود » كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ » بَاب اللُّبْسِ لِلْجُمُعَةِ ... رقم الحديث: 912]
(سنن أبي داؤد :1080 باب اللُّبْسِ لِلْجُمُعَةِ, وصححه الألباني)

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ما على أحدكم إن وجد أن يتخذ ثوبين ليوم الجمعة سوى ثوبي مهنتهيوسف بن عبد اللهسنن أبي داود9121078أبو داود السجستاني275
2ما على أحدكم أن يتخذ ثوبين للجمعة سوى ثوبي مهنة أهلهيوسف بن عبد اللهالمعجم الكبير للطبراني18222736سليمان بن أحمد الطبراني360
3لا يضر رجلا أن يتخذ ثوبين للجمعة سوى ثوبي مهنتهيوسف بن عبد اللهفوائد منتقاة من حديث ابن أبي صابر29---عبد العزيز بن أبي صابر330
4لا يضر رجلا أن يتخذ ثوبين للجمعة غير ثوبي مهنتهيوسف بن عبد اللهالجمعة وفضلها للمروزي38---أحمد بن علي المروزي292

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ما على أحدكم لو اشترى ثوبين ليوم الجمعة سوى ثوب مهنتهعبد الله بن سلامسنن ابن ماجه10851095ابن ماجة القزويني275
2ما على أحدكم إن وجد أو ما عليكم إن وجدتم أن تتخذوا ثوبين ليوم الجمعة سوى ثوبي مهنتهعبد الله بن سلامالأحاديث المختارة3262---الضياء المقدسي643
3ما عليكم إن وجدتم أن تتخذوا ثوبين ليوم الجمعة سوى ثوبي المهنةعبد الله بن سلامالأحاديث المختارة3263---الضياء المقدسي643
4ما على أحدكم إن وجد أن يتخذ ثوبين ليوم الجمعة سوى ثوبي مهنتهعبد الله بن سلامالسنن الكبرى للبيهقي54923 : 241البيهقي458
5ما على أحدكم لو اشترى ثوبين ليوم الجمعة سوى ثوب مهنتهعبد الله بن سلاممسند عبد بن حميد507499عبد بن حميد249
6ما على أحدكم لو اتخذ ثوبين لجمعته سوى ثوبي مهنتهعبد الله بن سلامالمعجم الكبير للطبراني2114121156سليمان بن أحمد الطبراني360
7ما عليكم إن وجدتم أن تتخذوا ثوبين ليوم الجمعة سوى ثوبي المهنةعبد الله بن سلامالمعجم الكبير للطبراني2117221187سليمان بن أحمد الطبراني360
8ما على أحدكم لو اشترى ثوبين ليوم جمعة سوى ثوب مهنتهعبد الله بن سلامتلبيس إبليس لابن الجوزي88160أبو الفرج ابن الجوزي597
9لا يضر أحدكم أن يتخذ ثوبين للجمعة سوى ثوبي مهنتهعبد الله بن سلامالتمهيد لابن عبد البر441124 : 37ابن عبد البر القرطبي463
10وما على أحدكم لو اشترى ثوبين لجمعته سوى ثوبي مهنتهعبد الله بن سلامالتمهيد لابن عبد البر441324 : 38ابن عبد البر القرطبي463
11ما على أحدكم لو اشترى ثوبين ليوم الجمعة سوى ثوبي مهنتهعبد الله بن سلامطرح التثريب للعراقي4443 : 851أبو زرعة العراقي806




حَدَّثَنِى أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِىُّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ وَدَنَا مِنَ الإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا ».
[سنن أبي داود » كِتَاب الطَّهَارَةِ » بَاب فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ... رقم الحديث: 292]
[سنن ابن ماجه » كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا » بَاب مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ... رقم الحديث: 1077]
المحدث : الألباني
المصدر : صحيح أبي داود الصفحة أو الرقم: 345 خلاصة حكم المحدث : صحيح
المصدر : صحيح ابن ماجه الصفحة أو الرقم: 898 خلاصة حكم المحدث : صحيح
المصدر : تخريج مشكاة المصابيح الصفحة أو الرقم: 1334 خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح
المصدر : صحيح الجامع الصفحة أو الرقم: 6405 خلاصة حكم المحدث : صحيح
المصدر : صحيح الترغيب الصفحة أو الرقم: 690 خلاصة حكم المحدث : صحيح
[حديث أبى الأشعث عن أوس: أخرجه الطيالسى (ص 152، رقم 1114) ، وأحمد (4/104، رقم 17002) ، وابن أبى شيبة (1/433، رقم 4990) ، وابن سعد (5/511) ، وأبو داود (1/95، رقم 345) والترمذى (2/367، رقم 496) وقال: حسن. والنسائى (3/95، رقم 1381) ، وابن ماجه (1/346، رقم 1087) ، والدارمى (1/437، رقم 1547) ، وابن حبان (7/19، رقم 2781) ، والطبرانى (1/215، رقم 585) ، والبيهقى (3/229، رقم 5670) .
حديث الأشعث عن ابن عمرو: أخرجه الحاكم (1/418، رقم 1043) ، والبيهقى (3/227، رقم 5658) .
حديث أوس بن أوس عن أبى بكر: أورده الدارقطنى فى العلل (1/246، رقم 45) .
حديث شداد بن أوس: أخرجه الطبرانى (7/279، رقم 7134) قال الهيثمى (2/178) : فيه عبد الوهاب بن الضحاك وهو متروك.]







حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: لَحِقَنِي عَبَايَةُ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَأَنَا رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَى الْجُمُعَةِ مَاشِيًا وَهُوَ رَاكِبٌ، قَالَ: أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَهُمَا اللهُ عَلَى النَّارِ "۔
[مسند احمد (15935) وأخرجه البخاري (907) ، والترمذي (1632) ، والنسائي في "المجتبى" 6/14، وابن أبي عاصم في "الجهاد" (112) ، وفي "الآحاد والمثاني" (1973) ، والدولابي 1/43، وابن حبان (4605) ، وأبو نعيم في "الحلية" 2/8، والبيهقي في "السنن" 3/229، والبغوي في "شرح السنة" (2618) من طريق الوليد بن مسلم، بهذا الأسناد.]





 

جمعہ کی برکت سے درجات میں ترقی:
حدیث:حضرت سمرہ بن جندبؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:

احْضُرُوا الْجُمْعَۃَ وَادْنُوا مِنْ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا

(مسنداحمد:۵/۱۰۔ ابوداؤد:۱۱۹۸)

ترجمہ:نماز جمعہ میں حاضری دیا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کرو؛ کیونکہ آدمی دور ہوتا جاتا ہے؛ حتی کہ جنت میں بھی مؤخرکردیا جائے گا اگرچہ اس میں داخل ہوچکے گا۔

[أخرجه أحمد (5/10، رقم 20112) ، والبيهقى (3/238، رقم 5724) . وأخرجه أيضًا: الطبرانى فى الصغير (1/216، رقم 346) ، قال الهيثمى (2/177) : فيه الحكم بن عبد الملك، وهو ضعيف. والبيهقى فى شعب الإيمان (3/106، رقم 3018) ، والديلمى (1/107، رقم 361) . وأخرجه الطبرانى (7/206، رقم 6854) .]



Day Of Jumma
عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ لْيُخَالِفْ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ وَلَكِنْ يَقُولُ افْسَحُوا » 
(صحيح مسلم:5817 باب تحريم اقامة الإنسان من موضعه )









سیدنا ابوہریرہ کی ایک حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے اسی مرتبہ یہ درود شریف پڑھے تو اس کے اسی سال کے گناہ معاف ہوں گے اور اسی سال کی عبادت کا ثواب اس کے لئے لکھا جائے گا۔(القول البدیع:۱۸۸)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّی وَعَلٰی آلِہ وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً
حضرت سہل بن عبداللہ کی روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد یہ درود شریف اسی مرتبہ پڑھے گا اس کے اسی سال کے گناہ معاف ہوں گے۔( القول البدیع:۱۸۹)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّی وَعَلٰی آلِہ وَسَلِّمْ













بدھ، جمعرات، جمعہ کا روزہ رکھنا
حدیث:حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ صَامَ الأَرْبِعَاءَ وَالْخَمِيسَ وَالْجُمْعَةَ بَنَى الله لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ۔

(طبرانی فی الکبیر عن ابی امامہؓ وفی الاوسط عن انسؓ وابن عباسؓ۔ البدورالسافرہ:۱۸۰۹)


ترجمہ:جس شخص نے بدھ، جمعرات اور جمعہ کوروزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں محل بناتے ہیں۔











جمعہ کا دن اور بازار جنت !
حوالہ : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ فِى الْجَنَّةِ لَسُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِى وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالاً فَيَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ وَقَدِ ازْدَادُوا حُسْنًا وَجَمَالاً فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالاً. فَيَقُولُونَ وَأَنْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالاً ۔( صحيح مسلم: 7324)



جنتی حضرات علماء کرام کے جنت میں محتاج ہوں گے:
حدیث:حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا:

إنّ أهْلَ الجَنَّةِ لَيَحْتاجُونَ إلى العُلَماءِ في الجَنّةِ وذلِكَ يَزُورونَ الله تَعَالَى فِيْ كُلِّ جُمُعَةٍ فَيَقُولُ تَمَنّوْا مَاشِئْتُمْ فَيَلْتَفِتُونَ إلى العُلَماء فَيَقُولُونَ مَاذَا نَتَمَنّى عَلَی رَبِّنَا فَيَقُولُونَ تَمَنّوْا كَذَا وَكَذَا فَهُمْ يَحْتَاجُونَ إلَيْهِمْ في الجَنَّةِ كمايَحْتَاجُونَ إلَيْهِمْ في الدُّنْيا۔

(مسندالفردوس دیلمی:۸۸۰۔ لسان المیزان:۵/۵۵۔ میزان الاعتدال:۷۰۶۶)

ترجمہ:جنت والے جنت میں بھی علماء کے محتاج ہوں گے اور وہ اس طرح سے کہ جنتی ہرجمعہ کواللہ تعالیٰ کی زیارت سے مشرف ہوں گے اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے تم جوچاہو تمنا کریں؟ تووہ بتائیں گے کہ تم اس اس طرح کی تمنا کرو؛ چنانچہ یہ حضرات جنت میں علماء کرام کے اسی طرح سے محتاج ہوں گے جس طرح سے یہ ان کے دنیا میں محتاج ہیں۔
حضرت سلیمان بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جنت والے لوگ جنت میں علماء کرام کے محتاج ہوں گے جس طرح سے وہ دنیا میں علماء کے محتاج ہوتے ہیں (وہ اس طرح سے کہ) ان کے پاس ان کے رب تعالیٰ کی طرف سے ایلچی حاضر ہوں گے اور کہیں گے کہ آپ حضرات اپنے رب تعالیٰ سے (نعمتیں) مانگو تووہ کہیں گے کہ ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا مانگیں پھران میں سے ایک دوسرے سے کہے گا: چلو ان علماء کی طرف جب ہمیں دنیا میں کوئی مشکل مسئلہ پیش آتا تھا تب بھی توہم ان کے پاس جایا کرتے تھے؛ پھروہ (ان علماء کے پاس جاکر) کہیں گے کہ ہمارے پاس ہمارے رب تعالیٰ کی طرف سے ایلچی تشریف لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کچھ مانگنے کا حکم فرماتے ہیں جب کہ ہمیں علم نہیں کہ ہم کیا مانگیں؟ تواللہ تعالیٰ علماء کے سامنے (ان نعمتوں کا) اظہار کردیں گے توعلماء ان عوام اہلِ جنت کوبتائیں گے کہ تم ایسا ایسا سوال کرو؛ چنانچہ (ویسے ہی) سوال کریں گے اور ان کووہ چیزیں عطاء کی جائیں گی۔

(ابن عساکر، تاریخ دمشق ابن عساکر۔ البدورالسافرہ:۲۱۹۱)





No comments:

Post a Comment