Tuesday, 16 October 2012

فضائلِ صدقات کی عبارت میں شرک کے وہم کا جواب


سوال: حضرت شیخ نے فضائلِ صدقات حصہ دوم میں حدیث ۱۰/کے تحت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا خط نقل کیا ہے جس کے آخر میں وہ یہ کہتے ہیں کہ یا اللہ بہت کمزورہوں، گناہ گار ہوں، سب تیرا ہی ظل ہے، اور میں ہوں وہ تو ہے اور جو تو ہے وہ میں ہوں، اور میں تو شرک درشرک ہے۔ اس عبارت کولے کر غیر مقلدین بڑاڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ یہ جماعتی ہمہ اوست کی تبلیغ کرتے ہیں اور ان دیوبندیوں کا یہی عقیدہ ہے۔ اس کے بارے میں تفصیل سے وضاحت فرمائیں؟

جواب: سب تیرا ہی ظل ہے? اس جملے کا واضح مطلب یہ ہے کہ تمام موجودات کا وجود ذاتِ باری تعالیٰ کے وجود سے ہے۔ موجودات کا اپنا مستقل ذاتی وجود نہیں بلکہ تمام موجودات اپنے وجود میں ذاتِ باری تعالیٰ کی محتاج ہیں اور اس کی قدرت کاملہ کا نتیجہ ہیں۔ ?میں ہوں وہ تو ہے جو تو ہے وہ میں ہوں? یہ جملہ صوفیا کی اصطلاح ?عینیت? کی ایک تعبیر ہے جس کا مطلب صوفیا کے یہاں عین ذاتِ باری تعالیٰ کا احتیاج ہے۔ یعنی جتنی مخلوقات اور اسباب ظاہریہ ہیں، ان کا وجود اور ان کی تاثیر ہیچ اور کالعدم نظر آنے لگے اور آدمی اپنے کو صرف عین ذاتِ باری تعالیٰ کا محتاج سمجھنے لگے۔ جس شخص کو اللہ نے حقیقت شناس نگاہ دی ہو وہ جب اس کائنات میں اللہ کے وجود کی معرفت حاصل کرتا ہے تو اسے تمام موجودات کالعدم اور ان کی تاثیرات ہیچ نظر آنے لگتی ہے، اور اسے اپنے ہرعمل کے پیچھے ذاتِ باری تعالیٰ کی وہ قدرت نظر آتی ہے جس کی آیت کریمہ ?فَلَم تَقتُلوهُم وَلٰكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُم ۚ وَما رَمَيتَ إِذ رَمَيتَ وَلٰكِنَّ اللَّهَ رَمىٰ ۚ وَلِيُبلِىَ المُؤمِنينَ مِنهُ بَلاءً حَسَنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَميعٌ عَليمٌ {8:17}(ترجمہ: سو تم نے ان کو نہیں مارا لیکن اللہ نے ان کو مارا اور تو نے نہینں پھینکی مٹھی خا ک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی اور تاکہ کرے ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوب احسان بیشک اللہ ہے سننے والا جاننے والا) میں نشاندہی کی گئی ہے۔ اور جس کو حدیث قدسی میں یوں بیان کیا گیا ہے۔
ولا یزال عبدي یتقرب إليّ بالنوافل حتی أحببتُہ فکنتُ سمْعُہ الذي یسمع بہ، وبصرہ الذي یبصر بہ، ویدہ التي یبطش بھا ورِجلہ التي یمشي بھا? (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1432 حدیث قدسی, کتاب الرقاق, باب تواضع کا بیان۔)
ترجمہ: ...اور میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعے مجھ سے قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ ...[مختصر صحیح بخاری: ٢/١٣٨٧(٦١٢)]


اس حدیث کا مضمون مذکورہ فی السوال عبارت کے مضمون سے کافی قریب ہے۔ پس ?عینیت? اسی طرح ?وحدةالوجود? کی اصطلاح کا صرف اتنا مطلب ہے کہ عارف کو ذاتِ باری تعالیٰ کے وجود کی معرفت ہوجائے اوراس کو اس درجہ استغراق ہو کہ جملہ مخلوقات سے بے خبر ہوجائے۔ اور تمام مخلوقات سے بے نیاز ہوکر اپنے کو صرف اسی ایک ذات کا محتاج سمجھنے لگے۔ ?وحدة الوجود? یا ?عینیت? کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمام موجودات اور باری تعالیٰ کا وجود متحد ہے جیسا کہ ظاہراً سمجھ میں آتا ہے، بلکہ یہ کھلا ہوا شرک ہے اور اسی کو حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے ?شرک در شرک? فرمایا ہے۔ پس کسی صاحب فن پر اعتراض کرنے سے پہلے متعلق فن کی اصطلاحات اور تعبیرات کا جاننا ضروری ہے۔ ورنہ پھر ایک صحیح العقیدہ کی طرف غلط اور کفریہ عقائد منسوب کرکے اس وعید کے مستحق ہوں گے جو حدیث پاک میں وارد ہوئی ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أیما امرئ قال لأخیہ یا کافر فقد باء بھا أحدھما إن کان کما قال وإلاّ رجعت علیہ۔ رواہ مسلم۔

ترجمہ: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پہ کفر آئے گا اگر وہ واقعی کافر ہوگیا تو ٹھیک ہے ورنہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔
[صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 218 - ایمان کا بیان : مسلمان بھائی کو کافر کہنے والے کے حال کے بیان میں]



یہی بات امام غزالی ؒنے لکھی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
والرابعة: ان لا يری فی الوجود الا واحدًا وهی مشاهدة الصديقين و تسميه الصوفيه الفناء فی التوحيد، لانه من حيث لا يری الا واحدًا فلا يری نفسه ايضاً واذا لم ير نفسه لکونه مستغرقاً بالتوحيد، کان فانياً عن نفسه فی توحيده بمعنی انه فنی عن رؤية نفسه والخلق.(احياء علوم الدين ٤/٢٤٥)
''توحید کا آخری مرتبہ یہ ہے کہ بندہ صرف ذات باری ہی کو موجود دیکھے۔ یہی صد یقین کا مشاہدہ ہے اور صوفیہ اِسے ہی فنا فی التوحید کہتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس مرتبہ میں بندہ چونکہ وجود واحد کے سوا کچھ نہیں دیکھتا، چنانچہ وہ اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا۔ اور جب وہ توحید میں اس استغراق کے باعث اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا تو اُس کی ذات اِس توحید میں فنا ہو جاتی ہے، یعنی اِس مرتبہ میںاُس کا نفس اور مخلوق، دونوں اُس کی نگاہوں کے لیے معدوم ہو جاتے ہیں۔''

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی شاعر کی کہی سب سے سچی بات لبید شاعر کا یہ کلام ہے: أَلَا کُلُّ شَیۡءٍ مَا خَلَا اللہَ،بَاطِلُ  یعنی اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔[بخٓاری:6147]


امام غزالی رح نے لکھا ہے:
فاعلم ان هذه غاية علوم المکاشفات واسرار هذا العلم لا يجوز ان تسطر فی کتاب، فقد قالالعارفون: افشاء سر الربوبية کفر.(احياء علوم الدين ٤/٢٤٦)
''پس جاننا چاہیے کہ علوم مکاشفات کی اصل غایت یہی توحید ہے اور اِس علم کے اسرار کسی کتاب میں لکھے نہیں جا سکتے، اِس لیے کہ حدیث عارفاں ہے کہ سرربوبیت کو فاش کرنا کفر ہے۔''



شیخ احمد سرہندی رح نے 

توحید شہودی کا نظریہ پیش کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ عالم چونکہ مرتبہ وہم میں بہرحال ثابت ہے، اِس لیے نفی صرف شہود کی ہونی چاہیے۔ اُن کے نزدیک، اِس مقام پر سالک اللہ کے سوا کچھ نہیں دیکھتا۔ چنانچہ اِس وقت اُس کی توحید یہ ہے کہ وہ مشہود صرف اللہ کو مانے۔ ''مکتوبات'' میں ہے:
توحید شہودی یکے دیدن است، یعنی مشہود سالک جزیکے نہ باشد۔ (مکتوبات ١، مکتوب ٤٣)
''توحید شہودی یہ ہے کہ تنہا ذات حق ہی دکھائی دے، یعنی سالک کا مشہود اُس ذات کے سوا کوئی دوسرا نہ ہو۔''










No comments:

Post a Comment