Friday, 26 October 2012

ڈیجیٹل کیمرہ کی تصویر کا حکم

نبى ﷺ كى تصوير نہ ہونے كا سبب

شريعت نے ہر وہ دروازہ بند كيا ہے جو شرک كا ذريعہ ہو اور شرک كى طرف لے جائے، اور ان وسائل ميں تصوير بھى شامل ہے، چنانچہ شريعتَ اسلاميہ نے تصوير حرام كى ہے، اور تصوير بنانے والے پر لعنت كى ہے، بلكہ ايسا كرنے والے كے ليے بہت سخت وعيد آئى ہے.

حضرت عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ام حبيبہ اور ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہما نے نبى كريم ﷺ كے سامنے حبشہ ميں ديكھے ہوئے ايك چرچ (کلیسا) كا ذكر كيا جس ميں تصاوير تھيں تو رسول كريم ﷺ نے فرمايا:
" يہ وہ لوگ ہيں جب ان ميں كوئى نيک و صالح شخص فوت ہو جاتا تو وہ اس كى قبر پر مسجد بنا ليتے، اور يہ تصاوير اس ميں بنا كر ركھ ديتے، تو يہ روزِ قيامت اللہ كے ہاں مخلوق ميں سب سے برے لوگ ہونگے "
[صحيح بخارى - كتاب الصلاۃ - حديث نمبر (434)، صحیح مسلم - کتاب المساجد - حدیث نمبر (528)، سنن النسائی - کتاب المساجد - حدیث نمبر (704)].




حضرت عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صﷺ سفر سے واپس تشريف لائے تو ميں نے اپنے طاقچہ جس ميں ميرے كھلونے ركھے تھے پر پردہ لگا ركھا تھا جس پر مجسموں كى تصاوير تھيں، چنانچہ جب رسول كريم ﷺ نے اسے ديكھا ت واسے پھاڑ ديا، اور فرمايا:
" روز قيامت سب سے زيادہ عذاب ان لوگوں كو ہو گا جو اللہ تعالى كى مخلوق پيدا كرنے كا مقابلہ كرتے ہيں، تو ميں نے اس پردہ كا ايك يا دو تكيے بنا ليے "
[صحيح بخارى كتاب اللباس حديث نمبر ( 5498 )].

اور عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم ﷺ كو فرماتے ہوئے سنا:
" روزِ قيامت اللہ تعالى كے ہاں سب سے زياہ عذاب مصوروں كو ہوگا "
[صحيح بخارى - كتاب اللباس - حديث نمبر ( 5494 )].

اور دوسری حدیث میں فرمایا:  بے شک ان تصویر والوں كو--- اسمیں ان تصویروں کی طرف اشارہ کیا ہے جو کپڑوں میں ہوتی ہیں) روز قیامت انہیں عذاب دیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ جس كو تم نے بنایا اسے زنده كرو۔

[صحیح بخاری - کتاب البیوع - حدیث نمبر (2105)، صحیح مسلم - کتاب اللباس والزینۃ - حدیث نمبر(2107)، موطا امام مالک - کتاب الجامع - حدیث نمبر (1803)]


حافظ ابن حجرؒ نے امام نوویؒ کے مذکورہ کلام کی تلخیص کے بعد ذکر کیا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ سایہ دار اور غیر سایہ دار دونوں طرح کی تصویروں کی حرمت میں عموم کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو امام احمدؒ نے حضرت علیؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سےكوئى شخص كو جو بھی مدینہ جائے وہ وہاں کوئی بت نہ چھوڑے مگر یہ کہ اسے توڑ ديے اور نہ ہی کوئی تصویر مگر یہ کہ اسے مٹا دے۔ یعنی مٹا دے۔
[صحیح مسلم - کتاب الجنائز - حدیث نمبر (969)، سنن ترمذٰی - کتاب الجنائز - حدیث نمبر (1049)، سنن نسائی - کتاب الجنائز - حدیث نمبر (2031)، سنن ابوداؤد - کتاب الجنائز - حدیث نمبر (3218)]
اور اسی روایت میں ہے: جس شخص نے ان چیزوں میں سے کسی چيز کی صنعت کی طرف واپسی کی، تو اس نے محمد ﷺ پر نازل کردہ وحی کا انکار کیا۔ 
[مسند احمن بن حنبل(1/87)]
میں کہتاہوں: کہ نبی کریم ﷺ نے ان تصاویر کو مٹایا جو کعبہ شریف کی دیواروں پر تھیں۔ اور جسکا سایہ نہیں ہے۔
امام مسلمؒ نے بھی اپنی کتاب صحیح مسلم میں حضرت علیؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: كسى تصویر كو نہ چھوڑو مگراسے مٹا دو اور کوئی اونچی قبر نہ چھوڑو مگر اسے برابر کردو۔
[صحیح مسلم - کتاب الجنائز - حدیث نمبر (969)، سنن ترمذٰی - کتاب الجنائز - حدیث نمبر (1049)، سنن نسائی - کتاب الجنائز - حدیث نمبر (2031)، سنن ابوداؤد - کتاب الجنائز - حدیث نمبر (3218)]

یہ حدیث ان تمام تصویروں کو شامل ہے جن کا سایہ ہو یا نہ ہو۔


تو پھر نبى كريم ﷺ اپنى تصوير بنانے کی اجازت كيسے دے سكتے تھے، اور اسى ليے كسى صحابى نے بھى آپ ﷺ كى تصوير بنانے كى جرات بھى نہيں كى، كيونكہ صحابہ تصوير حرام ہونے كا حكم جانتے تھے.

اور پھر اللہ سبحانہ وتعالى نے غلو سے اجتناب كرنے كا حكم ديتے ہوئے فرمايا:

﴿ اے اہل كتاب تم اپنے دين ميں غلو مت كرو ﴾النساء ( 171 ).

اور رسول كريم ﷺ نے اپنے متعلق ہر اس كام سے اجتناب كرنے كا حكم ديتے ہوئے فرمايا جس ميں غلو ہو:
" تم ميرے متعلق غلو سے كام مت لو جس طرح عيسائيوں نے عيسى بن مريم كے متعلق غلو سے كام ليا، ميں تو صرف اللہ كا بندہ ہوں، تو تم اللہ كا بندہ اور اس كا رسول ہى كہو "
[صحيح بخارى احاديث الانبياء حديث نمبر ( 3189 )].

امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے:
" بنى آدم كے كفر كا سبب صالحين اور نيك لوگوں كے متعلق غلو كرنے كے متعلق وارد شدہ احاديث "

وہ كہتے ہيں صحيح بخارى ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ اللہ تعالى كے فرمان:
﴿ اور انہوں نےكہا كہ ہرگز اپنے معبودوں كو نہ چھوڑنا، اور نہ ود اور سواع اور يغوث اور يعوق اور نسر كو چھوڑنا ﴾نوح ( 23 ).

كى تفسير ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما نے كہا:
" يہ نوح عليہ السلام كى قوم كے نيك و صالح آدميوں كے نام ہيں، اور جب يہ لوگ فوت ہو گئے تو شيطان نے ان كى قوم كے دلوں ميں ڈالا كہ وہ ان كى تصاوير اپنى بيٹھنى والى جگہوں ميں لگائيں جہاں ان كے بڑے لوگ بيٹھتے تھے، اور انہوں نے ان كو نام بھى انہى كے ديں، تو انہوں نے ايسا ہى كيا ليكن ان كى عبادت نہيں كى جاتى تھى، ليكن جب يہ لوگ فوت ہو گئے اور علم ختم ہو گيا تو ان كى عبادت كى جانے لگى "۔




ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" كئى ايک سلف رحمہم اللہ نے كہا ہے:

جب يہ لوگ مر گئے تو وہ ان كى قبروں پر اعتكاف كرنے لگے پھر انہوں نے ان كى تصاوير بنا ليں، اور جب زيادہ مدت بيت گئى تو ان كى عبادت كى جانے لگى "۔

ديكھيں: فتح المجيد شرح كتاب التوحيد تاليف عبد الرحمن بن حسن صفحہ نمبر ( 219 ).

اسى ليے نبى كريم ﷺ كى كوئى تصوير نہيں پائى جاتى، كيونكہ اس اجتناب كرنے كا كہا گيا اس ليے كہ يہ شرك كى طرف لے جاتى ہے.




نیز یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے فتح مکہ کے دن کعبہ کی دیواروں کی تصویریں مٹادیں، وہ تصویریں عکسی تصاویر کے حکم میں ہے، اگر ہم مان بھی لیں کہ عکسی تصویر اور آئینہ کی تصویر دونوں میں مشابہت ہے، پھر بھی یہاں قیاس جإئز نہیں ہے؛ کیونکہ نص صریح موجود ہے، اور شریعت کا اصول ہے کہ نص صریح کی موجودگی میں قیاس جائز نہیں ہے، بلکہ قیاس تو اس جگہ کیا جاتا ہے جہاں صریح نص نہ ہو، جیساکہ اہل علم اور اہل اصول کے یہاں یہ بات مسلم ہے۔


اور نبى كريم ﷺ كى رسالت كى گواہى دينے كا تقاضا يہ ہے كہ ہم نبى كريم ﷺ پر ايمان لائيں، اور آپ جو لائے ہيں اس پر ايمان ركھيں، چاہے نبى كريم ﷺ كى كوئى بھى تصوير نہ پائى جائے، اور پھر مومن لوگوں كو نبى كريم ﷺ كى پيروى اور اتباع كرنے كے ليے آپ ﷺ كى تصوير كى كوئى ضرورت بھى نہيں.

پھر يہ بات بھى ہے كہ صحيح روايات ميں نبى كريم ﷺ كى صفات اور وصف بيان كيا گيا ہے، جو نبى كريم ﷺ كى تصوير سے مستغنى كر ديتا ہے، ذيل ميں نبى كريم ﷺ كے اوصاف درج كيے جاتے ہيں:

1 - نبى كريم ﷺ كا چہرہ سب سے زيادہ خوبصورت تھا.

2 - نبى كريم ﷺ كے كندھوں كا درميانى حصہ عرض اور چوڑا تھا.

3 - نبى كريم ﷺ نہ تو زيادہ لمبے تھے، اور نہ ہى چھوٹے قد كے مالك تھے.

4 - نبى كريم ﷺ كا چہرہ مبارك گول اور سرخى مائل يعنى گلابى تھا.

5 - نبى كريم ﷺ كى آنكھيں شديد سياہ تھيں، يعنى سرمگى آنكھوں كے مالك تھے.

6 - نبى كريم ﷺ لمبى پلكوں كے مالك تھے.

7 - نبى كريم ﷺ خاتم النبيين سب لوگوں سے زيادہ سخى، اور سب سے زيادہ شرح صدر والے، اور لہجے ميں سب سے زيادہ سچائى اختيار كرنے والے، اور سب سے زيادہ نرم دل، اور سب سے زيادہ حسن معاشرت كرنے والے تھے، جو شخص آپ كو اچانك ديكھ ليتا آپ سے ہيبت كھا جاتا، اور جو شخص آپ كے ساتھ ملتا اور آپ كے تعلق قائم كر ليتا وہ آپ سے محبت كرنے لگتا، آپ كى صفت بيان كرنے والا كہتا ہے: ميں نے آپ سے قبل اور آپ كے بعد آپ جيسا كوئى شخص نہيں ديكھا.

نبى كريم ﷺ كے اوصاف ديكھنے كے ليے [سنن ترمذى: كتاب المناقب، حديث نمبر ( 3571 )] كا مطالعہ كريں.

بلاشك و شبہ ہر مومن شخص نبى كريم ﷺ سے ملاقات كى خواہش ركھتا ہے، اسى ليے حديث ميں وارد ہے:

حضرت ابو ہريرہؓ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم ﷺ نے فرمايا:

" ميرى امت ميں سے ميرے ساتھ سب سے زيادہ محبت كرنے والے وہ لوگ ہيں جو ميرے بعد ہونگے، ان ميں ايك چاہے گا كہ كاش وہ اپنے اہل و عيال اور اپنے مال كے بدلے مجھے ديكھ لے "
[صحيح مسلم - بال الجنۃ و صفۃ نعيمہا - حديث نمبر ( 5060 ).]

بلاشك و شبہ نبى كريم ﷺ كى محبت اور آپ ﷺ كى اتباع و پيروى يہ دونوں چيزيں نبى كريم ﷺ كے ساتھ جنت ميں اكٹھے ہونے كا سبب ہيں، اور نبى كريم ﷺ سے محبت كى نشانى يہ بھى ہے كہ خواب ميں آپ ﷺ كا ديدار ہو، اور آپ كو انہى صفات ميں ديكھا جائے جو صحيح احاديث ميں ثابت ہيں:

حضرت ابو ہريرہؓ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے:
" جس نے مجھے نيند ميں خواب ميں ديكھا تو وہ مجھے بيدارى ميں بھى ديكھےگا، اور شيطان ميرى شكل نہيں بن سكتا "

ابو عبد اللہ كہتے ہيں: ابن سيرين رحمہ اللہ كا قول ہے: جب نبى كريم ﷺ كو ان كى صورت و شكل ميں ديكھے "
[صحيح بخارى كتاب التعبير ( 6478 )].

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد ﷺپر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.







تصاوير كو سنبھال كر ركھنے كى دو قسميں ہيں:

پہلى قسم:

تصوير مجسمہ يعنى اس تصوير كا جسم ہو يہ تصوير ركھنى حرام ہے، ابن عربى نے اس پر اجماع نقل كيا ہے.

ديكھيں: فتح البارى ( 10 / 388 )، ان كا كہنا ہے: يہ اجماع بچيوں كى گڈيوں كے علاوہ ہے.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس اپنى گڈيوں اور پٹولوں ( بچيوں كے كھلونے ) سے كھيلا كرتى تھى، اور ميرى سہيلياں بھى تھيں جو ميرے ساتھ كھيلا كرتى تھيں، اور جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم گھر ميں داخل ہوتے وہ آپ سے شرما كر بھاگ جاتى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم انہيں ميرے پاس بھيج ديتے تو وہ ميرے ساتھ كھيلا كرتى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5779 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2440 ).

دوسرى قسم:

تصوير غير مجسمہ ہو، يعنى كسى چيز پر بنائى گئى ہو، اس كى كئى ايك قسميں ہيں:

1 - اسے تعظيم اور قدر كى نگاہ سے لٹكايا گيا ہو، جس طرح كہ بادشاہوں اور صدر اور وزير اعظم اور وزراء اور علماء كى تصاوير لٹكائى جاتى ہے، يہ حرام ہے، كيونكہ ايسا كرنے ميں مخلوق ميں غلو ہے.

2 - تصوير يادگار كے طور پر لٹكائى گئى ہو جس طرح دوست و احباب اپنے دوستوں كى تصاوير لگاتے ہيں، تو يہ بھى حرام ہے، اس كى دليل صحيح بخارى كى درج ذيل حديث ہے:

حضرت ابو طلحہؓ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:
" جس گھر ميں تصوير اور كتا ہو وہاں فرشتے داخل نہيں ہوتے "۔
[أخرجه أحمد (4/28، رقم 16391) ، والبخارى (3/1179، رقم 3053) ، ومسلم (3/1665، رقم 2106) ، والترمذى (5/114، رقم 2804) وقال: حسن صحيح. والنسائى فى الكبرى (5/500، رقم 9771) ، وابن ماجه(2/1203، رقم 3649) .]

3 - خوبصورتى اور زينت كے ليے لگائى گئى ہو، تو يہ بھى حرام ہے، اس كى دليل بخارى اور مسلم كى درج ذيل حديث ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:
" رسول كريم ﷺ سفر سے واپس تشريف لائے تو ميں نے ديوار ميں ايك طاق جس ميں ميرے كھلونے ركھے تھے پر كپڑے كا پردہ لٹكا ركھا تھا جس ميں تصاوير تھيں، تو جب رسول كريم ﷺ نے اسے ديكھا تو اسے پھاڑ ديا اور فرمايا:
" روز قيامت سب سے زيادہ شديد عذاب ان لوگوں كو ہو گا جو اللہ كى پيدا كردہ مخلوق بنانے ميں مقابلہ كرتے ہيں "

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ميں نے اس كا ايک يا دو تكيے بناليے"۔
[صحيح بخارى حديث نمبر ( 5610 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2107 ).]

4 - ان تصاوير كى اہانت يعنى توہين ہوتى ہو، مثلا وہ تصاوير جو چٹائى اور قالين يا تكيہ اور سرہانے وغيرہ ميں ہوں، امام نووى رحمہ اللہ نے جمہور صحابہ كرام اور تابعين علماء كرام سے اس كا جواز نقل كيا ہے.

5 - يہ تصاوير ان ميں سے ہوں جو عام مصيبت بن چكى ہے، اور جس سے اجتناب كرنا بہت ہى مشكل ہے، مثلا پيسوں اور كرنسى وغيرہ پر بنى ہوئى تصاوير، جس ميں آج امت اسلاميۃ مبتلا ہے، مجھے تو يہى لگتا ہے كہ جس كے ہاتھ لگيں بغير قصد كے اس پر كوئى حرج نہيں.

سوم:

بچوں كا گڈيوں وغيرہ سے كھيلنا:

حرام اور مكروہ سے بچوں كے كھلونے مستثنى ہيں، ليكن وہ كونسے كھلونے مستثنى ہيں ؟

كيونكہ پہلے جو كھلونے بنائے جاتے تھے ان ميں نہ تو آنكھيں ہوتى تھيں، اور نہ ہى ہونٹ اور ناك وغيرہ، جيسا كہ آج كل كے كھلونوں ميں ديكھا جا رہا ہے، اس ليے ميرى رائے تو يہى ہے كہ ان تصاوير سے بھى اجتناب كيا جائے، اور جس قسم كے كھلونے پہلے استعمال كيے جاتے تھے، انہيں پر ہى اقتصار كيا جائے.


[ديكھيں: فتاوى العقيدۃ شيخ ابن عثيمين ( 661 - 679 )].




تصاویر کی حرمت کا دارومدار ذی روح کی تصویر بنانے پر ہے ، چاہے وہ دیواریا کپڑے اورکاغذ پر رنگ کے ساتھ بنائي جائے یاپھر کسی چيز کو کرید کر بنائيں یا وہ بناوٹ میں بنی ہو یعنی کپڑے وغیرہ کی بنائي میں ہی ، اور چاہے وہ تصویر برش اورقلم کے ساتھ بنی ہویاپھر کسی آلے کے ساتھ اس میں کوئي فرق نہيں ، اورچاہے وہ تصویر کسی چيز کی طبعی حالت کی بنائي جائے یا خیالی ہو، چھوٹی ہویا بڑی ، خوبصورت ہویا بدصورت ، یا پھر لکیریں لگا کرہڈیوں کا ڈھانچہ بنائے جائے یہ سب ایک ہی ہے اوراس کا حکم بھی ایک ہی ہوگا ۔
لھذا تحریم کا دائرہ ذی روح کی تصاویر تک ہے چاہے وہ تصاویر خیالی ہوں جوپہلے لوگوں کی شبیہ سی بنائي جائے مثلا فرعونوں یا پھر صلیبی جنگوں کے قائدوں اورفوجیوں کی اوراسی طرح گرجاگھروں میں عیسی اور مریم علیہ السلام کےمجسمے وغیرہ ۔۔۔۔ الخ

اس لیے کہ عمومی طور پر نصوص اسی پردلالت کرتی ہیں ، اورپھر اس لیے کہ اس میں برابری پائي جاتی ہے اورشرک کا ذریعہ بھی ہے ۔ انتہی ۔

دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدا‏ئمۃ للبحوث العلمیہ والافتاء ( 1 / 479 ) ۔
امام مسلمؒ نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے بیان کیا ہے کہ : نبی ﷺ سفر سے واپس تشریف لائے تومیں نے اپنے دورازے پر ایک پردہ لٹکارکھا تھا جس میں پروں والے گھوڑے کی تصاویر تھیں ، تونبی ﷺ نے مجھے یہ پردہ اتارنے کا حکم دیا ۔
[صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2107 )] ۔

حدیث میں آئے ہوئے لفظ " الدرکون " ایک قسم کے پردے کو درکون کہا جاتا ہے ۔


لھذا یہ حدیث ذی روح کی تصاویر کی ممانعت پر دلالت کرتی ہے چاہے وہ تصاویر خیالی ہوکیوں نہ ہوں اورحقیقتا ان کا کوئي وجود نہ پایا جائے ، کیونکہ فی الواقع پروں والے گھوڑے کا کوئي وجود نہيں پایا جاتا ۔




حرمتِ تصویر کی نوعیت



                 تصویر کی حرمت پر بہت سے علماء نے اب تک بہت کچھ لکھا ہے اور ہند و بیرونِ ہند کے دارالافتاوٴں سے بھی اس کے بارے میں حرمت کے فتاوی باربار جاری ہوتے رہے ہیں۔ اور تقریباً اس کا حرام و ناجائز ہونا عوام و خواص کے نزدیک ایک مسلمہ امر ہے ؛مگر اس کے باوجو د اس میں عوام تو عوام خواصِ امت کا بھی ابتلاء عام ہے ، اور اسی صورتِ حال کو دیکھ کر بعض ناواقف لوگوں کو اس کے جائز ہونے کا شبہ ہوجاتا ہے ،بالخصوص جب علماء و مدارس اسلامیہ کے ذمہ دار حضرات کی جانب سے تصاویر کے سلسلہ میں نرم رویہ برتا جاتا ہے اور ان کی تصاویر اخبارات و رسائل وجرائد میں بلا کسی روک ٹوک کے شائع ہوتی ہیں، تو ایک عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یہ حلال ہونے کی وجہ سے لی جا رہی ہے یا یہ کہ ان کے تساہل کا نتیجہ ہے؟ پھر جب وہ علماء کی جانب رجوع کرتا ہے اور اس کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ یہ تو حرام ہے ۔اس سے اس کی پریشانی اور بڑھ جاتی ہے اور وہ علماء کے بارے میں کسی منفی رائے کے قائم کرنے میں حق بجانب معلوم ہوتا ہے۔ علماء کی تصاویر کے سلسلہ نے جہاں عوام الناس کو بے چینی و پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، وہیں اس سے ایک حرام کے حلال سمجھنے کا رجحان بھی پیدا ہو رہا ہے ، جو اور بھی زیادہ خطرناک و انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے ؛ کیونکہ حرام کو حرام اورحلال کو حلال سمجھنا ایمان کا لازمہ ہے ،اگر کوئی حرام کو حلال سمجھنے لگے تو اس سے ایمان بھی متأثر ہو تا ہے ۔
                 کسی عربی شاعر نے اسی صورت پر دلگیر ہو کر یہ مرثیہ لکھا ہے :
کَفٰی حُزْنًا لِلدِّینِ أَنّ حَمَاتَہُ
اِذَا خَذَلُوْہُ قُلْ لَنَا کَیْفَ یُْنصَر
مَتٰی یَسْلَمُ الْاِسْلَامُ مِمَّا أَصَابَہ
اِذَا کَانَ مَنْ یُرْجٰی یُخَافُ وَ یُحْذَر
                (دین پر غم کے لیے یہ کافی ہے کہ دین کے محافظ ہی جب اس کو ذلیل کریں تو مجھے بتاوٴ دین کی کیسے نصرت ہو گی ؟ اسلام کب ان باتوں سے محفوظ رہ سکتا ہے جو اس کو پیش آرہی ہیں جبکہ جن لوگوں سے اسلام کی حفاظت کے لیے امید لگی ہوئی تھی انھیں سے اس کو خوف وخطرہ لاحق ہو گیا ہے)
                 آج کئی مدارس اور علماء اور دینی و ملی تحریکات کے ذمہ داران کی تصاویر آئے دن اخبارات میں بلا تامل شائع ہو تی ہیں ، یہاں تک کہ بعض علماء کی جانب سے شائع ہو نے والے ماہناموں میں بھی تصاویر کی بھرمار ہو تی ہے اور ان میں عورتوں اور لڑ کیوں کی تصاویر بھی ہو تی ہیں ۔کیا یہ صورتِ حال انتہائی تعجب خیزاور افسوس ناک نہیں ؟ علماء جو رہبرانِ قوم تھے ان کا خود یہ حال ہو تو عوام الناس کہاں جائیں ؟ کسی شاعر نے کہا:
بِالْمِلْحِ نُصْلِحُ مَا نَخْشٰی تَغَیُّرَہ                 فَکَیْفَ بِالْمِلْحِ اِنْ حَلَّتْ بِہِ الْغِیَر
                (ہم نمک کے ذریعہ اس کھانے کی اصلاح کرتے ہیں جس کے خراب ہوجانے کا خدشہ ہو ، اگر نمک ہی میں خرابی پیدا ہو جائے تو کیا حال ہو گا)
                 ہمارے اکابر و علماء و مشائخ تو حلال امور میں بھی احتیاط برتتے اور لوگوں کے لیے تقوے کا ایک اعلی نمونہ ہوا کرتے تھے ،اور یہاں یہ ہو رہا ہے کہ حرام کا ارتکاب بے محابا اور کھلے طور پر کیا جا رہا ہے ۔اگر اس میں اختلاف بھی مان لیا جائے تو رہبرانِ قوم کا کیا فرض بنتا ہے ؟ اس پر غور کیجیے ۔
 حرمتِ تصویراور جمہورِ امت کا مسلک
                 عکسی تصویراور ٹی وی اور ویڈیو کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ علماء ہند و پاک ہی ان کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور عالم اسلام کے دوسرے علماء جیسے علماء عرب و مصر وغیرہ سب کے سب ان کو جائز کہتے ہیں ،یہ غلط فہمی خود بندے کو بھی رہی ،لیکن ایک مطالعہ کے دوران علماء عرب و مصر کے متعدد فتاوی وتحریرات نظر سے گزریں تو اندازہ ہوا کہ ان حضرات میں سے بھی جمہورعلماء کا ” عکسی تصویر“ اور” ٹی وی“ اور” ویڈیو “کے بارے میں وہی نقطہ ٴ نظر ہے جو ہندوستانی و پاکستانی علماء کا شروع سے رہا ہے ۔
                 ہاں اس میں شک نہیں کہ وہاں کے بعض گنے چنے علماء نے عکسی تصویر کو جائز کہا ہے اور ٹی وی اور ویڈیو کی تصاویر کو بھی عکس مان کر ان کو بھی جائز کہا ہے،لیکن یہ وہاں کے جمہور کا فتوی نہیں ہے، جمہور علماء اسی کے قائل ہیں کہ یہ تصاویر کے حکم میں ہیں اور اس لیے حرام و ناجائز ہیں ۔ اور خود وہاں کے علماء نے مجوزین کا خوب رد و انکار بھی کردیا ہے ۔جیسے شیخ حمود بن عبد اللہ التویجری نے ” تحریم التصویر “ اور” الاعلان بالنکیر علی المفتونین بالتصویر “نامی رسائل اسی سلسلہ میں لکھے ہیں ، نیز جامعہ قصیم کے استاذ شیخ عبد اللہ بن محمد الطیار نے ” صناعة الصورة بالید مع بیان احکام التصویر الفوتوغرافي “ کے نام سے رسالہ لکھا ہے ،اور مصر کے عالم شیخ ابو ذر القلمونی نے ”فتنة تصویر العلماء “ کے نام سے ان کا رد لکھا ہے ، نیز علماء نے اپنے اپنے فتاوی میں بھی اس پر کلام کیا ہے ۔اسی طرح ڈش آنٹینا جس کا فساد اب حد سے تجاوز کرگیا ہے اور اس نے انسانوں کی تباہی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے، اس کے بارے میں بھی علماء عرب کے فتاوی میں حرمت کا حکم اور اس سے بچنے کی تلقین موجود ہے ۔
حرمتِ تصویر اور علماء ہند وپاک
                جیسا کہ اوپر عرض کیا گیاکہ کیمرے کی عکسی تصویر کی حرمت میں اگر چہ معاصر علماء کے درمیان میں اختلاف ہوا ہے ،اور ایک چھوٹی سی جماعت اس کے جواز کی جانب مائل ہو ئی ہے ،لیکن اس میں کیا شک ہے کہ تصویر کی حرمت جمہور امت کا متفقہ فتوی و فیصلہ ہے ، عرب سے لے کر عجم تک جمہور امت نے اسی کو قبول کیا ہے ۔
                جہاں تک علماء ہند و پاک کا تعلق ہے ،بات بالکل واضح و مسلم ہے ۔ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب  نے تو اپنے رسالہ ”التصویر لأحکام التصویر“میں یہ تصریح کی ہے کہ ان کے زمانے تک کم از کم ہندوستان (جو اس وقت تک غیر منقسم تھا)میں حضرت مولانا سید سلیمان ندوی کے علاوہ کسی نے جواز پر قلم نہیں اٹھایااور پھر انھوں نے بھی اس سے رجوع کر لیا۔ (جواہر الفقہ: ۳/۱۷۱)
                یہاں یہ عرض کردینا مناسب ہوگا کہ حضرت مولانا سید سلیمان ندوی  نے ماہنامہ ” معارف“ کی متعدد قسطوں میں ایک مضمون عکسی تصویر کے جائز ہونے پر لکھا تھا ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اس کے رد میں ”التصویر لأحکام التصویر“ لکھی ، اس کو دیکھ کر حضرت مولانا سید سلیمان ندوی نے اپنے جواز کے قول سے رجوع کر لیا تھا ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں کہ یہ رجوع و اعتراف کا مضمون علامہ سید صاحب کے کمال علم اور کمال تقوی کا بہت بڑا شاہکار ہے ، اس پر خود حضرت مرشد تھانوی سیدی حکیم الامت رحمة اللہ علیہ نے غیر معمولی مسرت کا اظہار نظم میں فرمایا ۔
                اس سلسلہ میں دوسری بڑی شہادت و گواہی یہ ہے کہ عالم اسلام کی مشہور و معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت اقدس مولانا ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمہ نے بھی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ہندوستان کے تمام مسلمان تصویر کے حرام ہو نے پر متفق ہیں ۔ چنانچہ آپ کی کتاب لاجواب ” ما ذا خسر العالم بانحطاط المسلمین “ کے شروع میں فضیلة الشیخ الاستاذ احمد الشرباصی نے حضرت والا کا جو تعارف لکھا ہے ،اس میں وہ لکھتے ہیں کہ :
                ” آپ ہر قسم کی تصویر کو برا سمجھتے تھے ،اور خود پر اس کو پوری سختی سے حرام قرار دیتے تھے ۔ کہتے ہیں کہ میں ایک بار آپ کے ساتھ قاہرہ کے ایک بڑے مطبع میں گیا تو مطبع کے مصور نے آپ کی ایک یاد گار تصویر اتارنے کی اجازت چاہی تو آپ نے منع کردیا اور ذکر کیا کہ : ان المسلمین في الھند متفقون علی حرمة التصویر“ (ہندوستان کے مسلمان تصویر کی حرمت پر متفق ہیں)(ماذا خسر العالم: ۲۱)
                اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا ابو الحسن ندوی علیہ الرحمہ بھی خود تصویر کو حرام سمجھتے تھے اور اس کو کم از کم ہندوستان کے تمام علماء کا متفقہ فیصلہ قرار دیتے تھے ۔
                اور یہاں یہ بھی عرض کر دینا خالی از فائدہ و عبرت نہیں کہ حضرت مولانا ابو الکلام آزاد صاحب مرحوم جنھوں نے مدتِ دراز تک اپنا مشہور اخبار ” الہلال“ با تصویر شائع کیا ، جب وہ رانچی کی جیل میں تھے،آپ کے متعلقین نے آپ کی سوانح شائع کرنا چاہی تو آپ سے سوانح کے ساتھ شائع کرنے کے لیے ایک تصویر کا مطالبہ کیا ، اس پر مولانا ابو لکلام آزاد نے جو جواب دیا وہ خود اسی ” تذکرہ“ میں شائع کیا گیا ہے ، جس میں آپ نے لکھا ہے کہ:
                ”تصویر کا کھنچوانا ، رکھنا ، شائع کرنا سب ناجائز ہے ، یہ میری سخت غلطی تھی کہ تصویر کھنچوائی اور” الہلال“ کو باتصویر نکالا تھا ، اب میں اس غلطی سے تائب ہوچکا ہوں ، میری پچھلی لغزشوں کو چھپانا چاہئے نہ کہ از سر نو ان کی تشہیر کرنا چاہیے “ ۔ (بحوالہ جواہر الفقہ: ۳/۱۷۱)             الغرض اس سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کم از کم ہندوستان کے علماء کا تصویر کے عدم جواز پر اتفاق تھا ۔اور رہا حضرت سلیمان ندوی کا جواز کاخیال ،تو آپ نے خود اس سے رجوع کر لیا اور سب کے موافق عدم جواز کے قائل ہو گئے ۔
تصویر کے بارے میں علماء عرب و مصر کا موقف
                اسی طرح دیگر ممالک اسلامیہ میں بھی جمہور علماء کا فتوی تصویر کے ناجائز ہو نے ہی کا ہے ، عام طور پر لوگ مصر کے علماء کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں، مگر یہاں بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ بھی مصر کے چند علماء کا فتوی ہے ، سب کا اور جمہور کا نہیں ،اس کی شہادت مصر ہی کے ایک عالم شیخ ابو ذر القلمونی کی یہ عبارت دیتی ہے جو انھوں نے اپنی کتاب ” فتنة تصویر العلماء “ میں لکھی ہے کہ :
                ” ثم حريّ بطلبة العلم تدارک ھذہ الفتنة، اذ تحریم التصاویر کان مستقرا بین اخواننا، ثم في العقد الاخیر اخذ ھذا المنکر یفشو و یذیع ،حتی صار ھو الاصل، وصار المحق عازفا عن الانکار، اجتنابا للذم“․ (فتنة تصویرالعلماء :۵)
                اس سے معلوم ہوا کہ مصر میں بھی جمہور علماء کے مابین یہی بات مسلم و طے شدہ تھی کہ تصویر حرام ہے ۔لہٰذا مطلقا یہ کہنا کہ مصر کے علماء اس کو جائز کہتے ہیں خلاف واقعہ ہے ۔
                اور سعودی حکومت کی جانب سے قائم کردہ دار الافتاء اور علمی مسائل کی تحقیق کا ایک بڑا و معتبر عالمی مرکز”اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والإفتاء“ نے ایک فتوی میں کہا کہ:
                ”القول الصحیح الذي دلت علیہ الأدلة الشرعیة وعلیہ جماھیر العلماء :أن أدلة تحریم تصویر ذوات الأرواح تضم التصویر الفوتوغرافي والیدوي،مجسما أو غیر مجسم ،لعموم الادلة“․
                 (صحیح قول جس پر شرعی دلائل دلالت کرتے ہیں اور جس پر جمہور علماء قائم ہیں یہ ہے کہ جاندار چیزوں کی تصویر کی حرمت کے دلائل فوٹوگرافی کی تصویر اور ہاتھ سے بنائی جانے والی تصاویر سبھی کو شامل ہیں ،خواہ وہ مجسم ہو یا غیر مجسم ہو ،دلائل کے عام ہو نے کی وجہ سے ) (فتاوی اسلامیة:۴/۳۵۵)
                اس سے بھی معلوم ہوا کہ جمہور امت خواہ وہ مصر کے لوگ ہوں یا سعودی کے یا کسی اور علاقے کے وہاں جمہور اس کے عدم جواز پر متفق ہیں۔
                نیز یہ بھی سنتے چلیے کہ ایک مرتبہ عربی مجلہ ”عکاظ “ میں سات علماء کا تصویر کے جواز کا فتوی شائع ہوا، تو علماء نے اسی وقت اس کا رد کیا ۔ سعودی عرب کے ایک مفتی شیخ حمود بن عبد اللہ بن حمود التویجری نے ” تحریم التصویر“ کے نام سے اس کا باقاعدہ رد لکھا ہے،اس رسالہ میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
                ” جریدہ عکاظ والوں نے اس شاذ فتوی کا جو رسول اللہ ﷺ کے تصاویر کو مٹانے کے حکم کے مخالف ہے ، اس کا جو عنوان رکھا ہے وہ ہے : علماء مصلحت پر متفق ہیں ، اور یہ کہ تصویر حرام نہیں ہے ۔ اس باطل عنوان کو قائم کرنے میں اہل جریدہ کو بہت بڑی خطا لگی ہے ،کیونکہ اس سے عوام یا خواص کالعوام کو یہ وہم ہو تا ہے کہ مصلحت کی وجہ سے تصویر لینے کے حلال ہو نے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اور یہ کتاب اللہ و سنت رسول کو مضبوط پکڑنے والے متقدمین و متأخرین علماء پر ایک بہتان ہے ؛کیونکہ وہ تو تصویر سے منع کرتے اور اس میں سختی کرتے ہیں،اور ان سہولت پسند لوگوں کا کوئی اعتبار نہیں جو فتوی دینے میں بغیر تثبت کے جلد باز ی کرتے ہیں ؛کیونکہ شریعتِ مطہرہ میں مصلحت سے یا بغیر مصلحت کسی بھی وجہ سے تصویر کا حلال ہو نا وارد نہیں ہے ۔اور اگر ان مسائل میں سے کسی مسئلہ میں جس میں کوئی نص نہ ہو ،سات علماء ایک قول پر اجماع کر لیں اور ان کی بات معقول بھی ہو تب بھی ان کا قول اجماع نہیں ہے جس کا ماننا لازم ہو ،بلکہ ان کے اور دیگر علماء کے اقوال کو دیکھا جائے گا اور ان کی بات قبول کی جائے گی ،جن کا قول کتاب اللہ و سنت سے موٴید ہو ۔(تحریم التصویر: ۲)
                دیکھیے کس قدر صفائی کے ساتھ اس فتوی کو شاذ اور مخالف احادیث قرار دیا ہے اور جمہور علماء کے نقطہٴ نظر سے ٹکرانے والا قرار دیا ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ حجاز و مصر کے جمہور علماء بھی حرمتِ تصویر پر متفق ہیں ۔
تصویر کے باب میں اختلاف کی حیثیت
                ہاں بعض علماء جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، انھوں نے ضرور عکسی تصویر کے متعلق جواز کا فتوی دیا ہے ، مگر اس کے بارے میں غور طلب بات یہ ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف کی حیثیت و نوعیت کیا ہے ؟
                کیونکہ بنظرِ غائر مطالعہ سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ہر اختلاف ایک ہی درجہ کا نہیں ہوتا ، اور اس کی وجہ سے مسئلہ میں تخفیف نہیں ہوجاتی ، بلکہ اس میں بھی اختلاف کی نوعیت و حیثیت کا لحاظ رکھنا پڑے گا ،ورنہ غور کیجیے کہ ڈاڑھی منڈانے کے مسئلہ میں بھی مصریوں کا اختلاف ہے ،جمہور امت یہ کہتی ہے کہ حرام ہے جبکہ مصریوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے ، حتی کہ جامعة الازھر کے بعض مفتیوں نے بھی اس کو صرف سنت کہتے ہوئے منڈانے کو جائز کہا ہے ۔ (دیکھو فتاوی الازھر :۲/۱۶۶)
                کیا اس کا کوئی اثر جمہور امت نے قبول کیا ؟اورکیا اس کی وجہ سے حرمت کے فتوے میں کوئی گنجائش برتی گئی ؟کیا یہاں بھی یہ کہا جاسکے گا کہ ڈاڑھی منڈانے کے مسئلہ میں چونکہ مصریوں کا اختلاف ہے ،اس لیے اس میں بھی شدت نہ برتی جائے اور منڈانے والوں کو گنجائش دی جائے، اور اگر امام لوگ بھی منڈائیں، تو ان پر بھی کوئی نکیر نہ کی جائے؟
                اسی طرح ربا یعنی سود کی حرمت ایک متفقہ امر ہے مگر چند برسوں سے بینکوں کے نظام کے تحت وصول ہو نے والے سود کو بعض لوگ جائز کہنے لگے ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اور نزول قرآن کے وقت جو سود رائج تھا وہ ذاتی و شخصی ضروریات پر لیے جانے والے قرضوں کی بنیاد پر لیا جاتا تھا اور یہ واقعی ایک ظلم ہے ،لہٰذا وہ ناجائز ہے ،مگر بینکوں کے اس دور میں قرضے ذاتی ضرورت کے بجائے تجارتی ضرورت کے لیے لیے جاتے ہیں اور اس میں حرمتِ سود کی وہ علت نہیں پائی جاتی جو اُس دور میں تھی ،لہٰذا یہ بینکوں والا سود جائز ہے ۔ اور لکھنے والوں نے اس پر مضامین بھی لکھے اور کتابیں بھی لکھیں ،جیسے ایک صاحب نے ” کمر شیل انٹرسٹ کی فقہی حیثیت “ لکھی ہے ۔فرمائیے کہ کیا اس اختلاف کو بھی موٴثر ماناجائے گا ؟ اور اس کی وجہ سے سود کی حرمت بھی حدودِ جواز میں داخل سمجھی جائے گی اور اس میں سختی کرنا فعل مکروہ اور غیر دانشمندانہ کام ہو گا؟
                ایک اور مسئلہ سنیے کہ چاند کے ثبوت کا مدار شریعت نے رویت پر رکھا ہے ،نہ کہ فلکیاتی حسابات پر ، جمہور امت نے اسی کو اختیار کیا ہے ،اور اس سے ہٹ کر ایک طائفہ قلیلہ نے چاند کے ثبوت کے لیے فلکیاتی حسابات کو بھی معیار مانا ہے مگر اس کو علماء نے مذہب باطل قرارد یا ہے ۔
                اسی طرح گانا بجانا مزامیر کے ساتھ حرام ہے ،مگر اس میں علامہ ابن حزم ظاہری ، علامہ محمد بن طاہر المقدسی اور علامہ ابو الفرج اصفہانی نے اختلاف کیا ہے اور اس کو جائز قرار دیا ہے ۔اور بالخصوص آخری دو حضرات نے تو اس سلسلہ میں مواد فراہم کرنے کی بڑی کوشش کی ہے حتی کہ ابو الفرج نے اپنی کتاب ” الاغانی“ میں شرابیوں کبابیوں ، گویوں اور موسیقاروں کے حالات بھی خوب جمع کردئے ہیں مگر کیا اس اختلاف کو کسی بھی معتبر عالم و مفتی نے در خورِ اعتناء سمجھا اور گانے بجانے کی حرمت کو خفیف و معمولی قرار دیا ؟
                اسی طرح ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہوتی ہیں یا تین؟ اس میں جمہور امت کا موقف یہ ہے کہ تین طلاق تین ہی ہو تی ہیں خواہ مجلس ایک ہو یا الگ الگ ۔ مگرعلامہ ابن تیمیہ نے اس میں بعض حضرات صحابہ و ائمہ کے اختلاف کا ذکر کیا ہے ،اور امت کے علماء و عوام میں سے اہل حدیث و اہل ظواہر نے اسی کو اختیار کیا ہے اوروہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دیتے ہیں ،مگر جمہور امت نے اس کو قبول نہیں کیا ، بلکہ ہمیشہ فتوی اسی پر دیا گیا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی ہو تی ہیں ۔دیکھئے اختلاف ہو نے کے باوجد اس کا کوئی اثر حرمت کے فتوے پر نہیں پڑا ۔ کیا کسی معتبر عالم و مفتی نے اس اختلاف کے پیش نظر ایک مجلس کی تین طلاق میں ایک قرار دینے کی گنجائش دی؟
                اس کی ایک اور مثال لیجیے کہ اسلاف میں سے بعض بڑی اہم شخصیات سے متعہ کا جواز نقل کیا گیا ہے، جس کو جمہور امت نے قبول نہیں کیا ، اور بعد کے ادوار میں تو اس کی حرمت پر اجماع ہی ہو گیا ۔(دیکھو فتح الباری: ۹/۱۷۳)
                اسی طرح بعض بڑے بڑے صحابہ و ائمہ سے جواز وطی فی الدبر کا قول بھی منقول ہے ،اگرچہ کہ بعض کی جانب اس کا انتساب صحیح طور پر ثابت نہیں؛لیکن بعض حضرات جیسے ابن عمر سے اس کا بروایت صحیحہ ثابت ہونا، ابن حجر نے فتح الباری میں بیان کیا ہے؛لیکن حضرت ابن عباس نے ان کی بات کو وہم قرار دیا ہے ۔اسی طرح بعض نے امام مالک سے اس کا ثابت ہونا لکھا ہے ،اگرچہ کہ ان کے اصحاب اس کا انکار کرتے ہیں ۔(دیکھو تفسیر القرطبی: ۳/۹۳، الدر المنثور: ۲/۶۱۰-۶۱۲، فتح الباری: ۸/۱۹۰، عمدة القاری: ۲۶/۴۶۲)
                اس سے معلوم ہوا کہ ہر اختلاف ایک درجہ کا نہیں ، کہ اس کو اہمیت دی جائے اور اس کی وجہ سے مسئلہ میں خفت و ہلکا پن خیال کیا جائے؛لہٰذا جو حضرات اس کو ایک اختلافی مسئلہ قرار دیکر اس کی حرمت کو ہلکا سمجھتے یا سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ایک سعی لاحاصل میں لگے ہوئے ہیں۔
اختلاف سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے قابل غور بات
                لہٰذایہاں ان حضرات کے لیے جو اختلاف سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں دو باتیں قابل غور ہیں :
                ایک تو یہ کہ تصویر کو جائز کہنے والوں نے کسی مضبوط دلیل کی بنیاد پر جواز کو اختیار نہیں کیا ہے، بلکہ بعض احادیث کے سمجھنے میں غلط فہمی کا شکار ہو کر جواز کی بات کہی ہے۔ اور وہ غلط فہمی کیا ہے؟ اس کا ذکر اس رسالہ میں علماء کے فتاوی سے معلوم ہو جائے گی؛لہٰذا کسی غلط فہمی کی بنیاد پر اختلاف کو دلیل کی بنیاد پر اختلاف کے درجہ میں سمجھنا ایک اصولی غلطی ہے۔اس اختلاف کی مثال ڈاڑھی منڈانے میں اختلاف سے دی جا سکتی ،جس کو محض ایک غلط فہمی کہا جا سکتا ہے؛لہٰذا ان مجوزین کا قول ایک شاذ قول کی حیثیت رکھتا ہے، جس کو معمول بہ بنانا اور اس پر عمل در آمد کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ بالخصوص اس صورت میں جب کہ جواز کے دلائل کے ضعف و کمزوری کو حضرات علماء نے واضح کر کے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا اور جائز قرار دینے والوں کی غلط فہمی کو دور کردیا ہے ۔
                دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ جوازِ تصویر کے قائلین اور حرمتِ تصویر کے قائلین ان دونوں کے علمی و عملی مقام و حیثیت اوران کے تفقہ و دیانت کے معیار میں محاکمہ کیا جائے تو حرمت کے قائلین کے لحاظ سے جواز کے قائلین کا کوئی خاص مقام و حیثیت نہیں معلوم ہو تی ۔ ایک جانب حرمت تصویر کے قائلین میں اپنے زمانے کے آسمانِ علم و عمل کے آفتاب و مہتاب فقہاء نظر آئیں گے ،جن کے علم و عمل ، تقوی وطہارت ،تفقہ و بصیرت ، ثقاہت و دیانت اہل اسلام کے نزدیک مسلمات میں سے ہیں،تو دوسری جانب جواز کے قائلین وہ حضرات ہیں، جن میں سے بیشتر کو عام طور پر جانا پہچانا بھی نہیں جاتا اور اگر جانا پہچانا جاتا ہو تو ان کا مقام و درجہ فتوی و فقہ کے بارے میں وہ نہیں جو پہلے طبقے کے لوگوں کو حاصل ہے؛ لہٰذا ان دونوں میں سے کیا ان کا فتوی قابل عمل و لائق توجہ ہونا چاہیے جن کی شان تفقہ و افتاء اور ،جن کی ثقاہت و عدالت مسلم ہے یا ان کا جن کو یہ درجہ حاصل ہی نہیں ؟ اس پر غور کیا جائے ۔
                ایک اور بات قابل توجہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں اگرچہ اختلاف ہوا ہے ؛ مگر فتوی کے لیے علماء نے حرمت ہی کے قول کو ترجیح دی ہے ،ہندوستان و پاکستان کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ یہاں کے علماء نے ہمیشہ اس کے عدم جواز ہی کا فتوی دیا ہے ،اور اسی طرح عرب دنیا میں بھی یہی صورت حال ہے ،سعودی عرب کے ایک عالم شیخ ولید بن راشد السعیدان نے ” حکم التصویر الفوتوغرافی“ میں لکھا ہے کہ عکسی تصویر کے بارے میں اختلاف ہے ، بعض نے اس سے منع کیا ہے اور یہ حضرات اکثر ہیں اور اسی قول پر سعودی عرب کے اندر فتوی ہے ۔ (حکم التصویر الفوتوغرافی:۱۱)
                جب فتوی حرمت پر ہے تو اس سے اعراض کرنا اور اس کے خلاف کو ترجیح دینا چہ معنے دارد ؟ یہ بات قابلِ غور ہے ؛کیونکہ بلا وجہ مفتی بہ قول کو چھوڑ کر شاذ قول پر عمل کرنا صحیح نہیں ہے ۔
                الغرض تصویر کے مسئلہ میں جب ایک جانب جمہورِ امت ہے اور اس کے اساطین و ائمہ ہیں اور وہ سب کے سب تقریباً اس کی حرمت پر متفق ہیں ،اور جمہور کے نزدیک مجوزین کی رائے غلط فہمی کا نتیجہ اور بے دلیل ہے ،اور پھر جمہور نے ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ کردیا اور حق کو دلائل کی روشنی میں واضح کردیا ہے ،تو ان کے قول سے گریز کرنا اور ایک چھوٹی سی جماعت کے قول ہی کو ترجیح دینا کس بنیاد پر ہے؟ کیا جمہورِ امت کا موقف اس لائق نہیں کہ اس کو ترجیح دی جائے ؟بلکہ جمہور علماء عرب و عجم کی بات کو قبول نہ کر کے ایک شاذ قول کا اس قدر احترام کرنا کہ گویا وہی صحیح ہے اور حرمت کا قول گویا باطل و غلط ہے ،کیا یہ طرزِ عمل کسی صالح معاشرے و نیک ذہن کی پیداوار ہے یا کسی بیمار ذہنیت کا نتیجہ ؟ امام حدیث عبد الرحمن بن مھدی نے اسی لیے فرمایا کہ:”لاَ یَکُونُ اِمَالاً في الْعِلْمِ مَنْ أَخَذَ بِالشَّاذِ مِنَ الْعِلْمِ“ (جو شخص علماء کے شاذ قول کو لیتا ہے وہ علم کی دنیا میں امام نہیں ہو سکتا ) (جامع بیان العلم: ۲/۴۸)
مسئلہٴ تصویر میں جمہور علما کی شدت
                پھر یہاں ایک اور بات قابلِ لحاظ ہے کہ اگر مسئلہ ٴ تصویر ایک اختلافی مسئلہ ہو نے کی وجہ سے اس میں شدت بلکہ اس پر نکیر کوئی غلط بات ہو تی تو جمہور علماء امت نے اس پر کیوں نکیر کی اور پوری شدت سے کی ؟ چنانچہ علماء عرب و عجم نے تصویر کو جائز قرار دینے والوں پر جس قدر شدت برتی ہے ، اس سے بھی یہ بات واضح ہو تی ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف کی وہ حیثیت نہیں جو مسائل اختلافیہ کو حاصل ہے ورنہ ان حضراتِ اکابر کا یہ شدت برتنا جائز نہ ہو تا ؛کیونکہ علماء نے تصریح کی ہے کہ مسائلِ اختلافیہ میں ایک دوسرے پر اعتراض جائز نہیں اور یہاں صورت حال یہ ہے کہ جواز کے قول کی سختی سے تردید کی گئی ہے ۔ جس کے نمونے اس رسالہ میں موجود اکابرین کے فتاوی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
                مثلا علامہ شیخ ابن باز نے بعض فتاوی میں لکھا ہے کہ: ” ہم نے جواب میں جو احادیث اور اہلِ علم کا کلام نقل کیا ہے، اس سے حق کے متلاشی پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لوگ جو کتابوں ،مجلوں ،رسالوں اورجریدوں میں جاندار کی تصویر کے سلسلہ میں وسعت برت رہے ہیں، یہ واضح غلطی اور کھلا ہوا گناہ ہے ۔“ (فتاوی شیخ ابن باز: ۴/۱۷۹-۱۸۹)
                مفتی علامہ شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ نے لکھا ہے کہ:
                ” جس نے یہ خیال کیا کہ شمسی تصویر منع کے حکم میں داخل نہیں اور یہ کہ منع ہونا مجسم صورت اور سایہ دار چیزوں کی تصویر کے ساتھ خاص ہے، تو اس کا خیال باطل ہے۔“ (فتاوی و رسائل شیخ محمدبن ابراہیم :۱/۱۳۴)
                اللجنة الدائمة کے ایک فتوی میں لکھا ہے کہ :
                ”انسان و حیوان وغیرہ جاندار چیزوں کی شمسی وعکسی تصویر لینا اور ان کو باقی رکھنا حرام ہے؛ بلکہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔“(فتاوی اللجنة الدائمة : ۱/۴۵۹،رقم الفتوی:۱۹۷۸)
                اورعلامہ شیخ عبد الرحمن بن فریان ”شمسی تصویر کی حرمت“ پر تفصیلی کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
          ”وَلاَ تَغْتَرِّ اَیُّہا الْمُسْلِمُ بِمَنْ تَنَطَّعَ بِمَعْسُولِ الکلامِ وَقَامَ یُحَلِّلُ ویُحَرِّمُ، بِغَیْرِ دَلِیلٍ وبرہانٍ، بل بمجردِ الرأي والہذَیانِ، مِنْ بَعْضِ مُتَعَلِّمَةِ ہذہ الأزمان، وأجاز الصُّوَرَ الضَوْئِیَّة وجَعَلَ المَنْعَ خَاصًا بِما لَہ أجسامٌ، سبحان اللّٰہ! مِنْ أینَ ہذا التفریقُ وَلَمْ یَجِیْ لاَ فِي سُنَّةٍ وَلاَ قرآنٍ“
(اے مسلم ! تو اس زمانے کے بعض علم کی جانب منسوب لوگوں سے دھوکہ نہ کھانا جو چکنی چپڑی باتیں کرتے اور بلا دلیل و برہان ، محض اپنی رائے اور بکواس سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر تے ہیں ، اور عکسی تصویر کو جائز قرار دیتے اور منع کو صرف ان تصویروں سے خاص کرتے ہیں جو مجسمہ کی شکل میں ہوں ۔ سبحان اللہ ! یہ فرق کہاں سے آیا ؟ جب کہ نہ تو سنت میں یہ فرق آیا اور نہ قرآن میں آیا ؟ )
                پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:
          ”فَیْجِبُ عَلی المُسْلِمِیْنَ انْکَارُ ہَذا المُنْکَرِ وَلاَ یَجُوْزُ لَہُمْ السُّکُوتُ وَلاَ یُغترّ بِفَشْوِہ وروَاجِہ فَاِنَّ المُنکَرَ ہو بحالہ منکَرٌ کما ہو في الشَرْعِ ولا یُحِلّلہ کثرتُہ و رواجُہ ولا محبةُ البعض وارتکابُہ“ (الدر السنیة: ۱۵/۲۳۴)

(لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس منکر پر انکار و نکیر کریں اور اس پران کی خاموشی جائز نہیں ہے، اور تصویر کے رواج اور عام ہو جانے سے دھوکہ نہ کھایا جائے؛کیونکہ منکر تو ہر حال میں منکر ہے ،اس کا عام ہو جانا اور رواج پاجانا اس کو حلال نہیں کر دیتا اور نہ بعض لوگوں کی اس سے محبت اور اس کا مرتکب ہو نا اس کو جائز کر تا ہے)
                قابلِ غور یہ ہے کہ اگر تصویر کے مسئلہ میں اختلاف اس درجہ کا ہوتا جو مختلف فیہ مسائل میں ہوتاہے تو کیا اس قدر شدت کا جواز تھا ، جو ان حضرات نے اختیار کیا ہے ، اور تصویر کو حرام؛ بلکہ گناہ کبیرہ قرار دیا ہے اور جواز کے قائلین کو کھلی غلطی و واضح گناہ پر ٹھیرایا ہے ؟اور اہل اسلام کو اس پر انکار و نکیر کرنا ضروری قرار دیا ہے اور خاموشی کو ناجائز کہا ہے اور اس کے عام ہو جانے اور رواج پا جانے کو بے اثر ٹھیرا یا ہے ؟ نہیں ، اس سے معلوم ہوا کہ اس اختلاف کو وہ حضرات کوئی قابلِ لحاظ ہی نہیں مانتے تھے ۔
                اسی طرح ہند و پاک کے علماء کا بھی رویہ رہا ہے ،ایک دو حضرات کے اس سلسلہ میں فتاوی نقل کردینا اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی نے ایک اسکول کے جلسہ (جس میں تصویر لی جاتی ہے )کے بارے میں سوال پر لکھا ہے کہ:
                ”یہ معصیت کی مجلس ہے، جس میں شرکت قطعاًجائز نہیں؛ بلکہ دورانِ مجلس اس قسم کی حرکت شروع ہو تب بھی روکنے کی قدرت نہ ہونے والے ہر شخص پر اٹھ جانا واجب ہے “، نیز لکھا کہ تصویر سازی شریعت کی رو سے ایک کبیرہ گناہ ہے ۔ نیز فرماتے ہیں کہ: انتہائی قلق کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ تصویر کی لعنت عوام سے تجاوز کرکے خواص؛ بلکہ علماء تک پھیل گئی ہے جس کا افسوسناک نتیجہ سامنے آرہا ہے کہ بہت سے لوگ ان حضرات کے اس طرزِ عمل کو دیکھ کر اس قطعی حرام کو حلال باور کرنے لگے۔ (احسن الفتاوی: ۸/۴۱۷، ۴۱۸،۴۳۴)
                پاکستان میں ایک جگہ ایک مسجد میں رمضان میں ختم قرآن کے موقعہ پرجلسہ ہوا ، اس میں ایک وہیں کے مدرس صاحب نے جلسہ کی تصاویر لیں ،لوگوں کے منع کرنے پر اس نے بتایا کہ یہ ریل امام صاحب نے بھروائی ہے ، اور ان ہی کی اجازت سے تصویر لے رہا ہوں ، اور ایسا سب جگہ ہوتا ہے ، الغرض اس نے ضد میں تصاویر کھینچیں اور خود ان امام صاحب کے مائک پر آنے پر ان کی بھی تصاویر لیں ، ااس واقعہ کا ذکر کر کے کسی نے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے سوال کیا تو اس کے جواب میں حضرت نے لکھا ہے کہ :
”تصویریں بنانا خصوصاً مسجد کو اس گندگی کے ساتھ ملوث کرنا حرام اور سخت گناہ ہے۔ اگر یہ حضرات اس سے علانیہ توبہ کا اعلان کریں اور اپنی غلطی کا اقرار کر کے اللہ تعالی سے معافی مانگیں تو ٹھیک ہے ،ورنہ ان حافظ صاحب کو امامت سے اور تدریس سے الگ کر دیا جائے ۔اور ان کے پیچھے نماز ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہے“ (آپ کے مسائل اور ان کاحل : ۷/۶۱)
                اسی طرح علماء و بزرگان کی آئے دن اخبارات میں شائع ہو نے والی تصاویر کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: تصویر بنانا اور بنوانا گناہ ہے؛ لیکن اگر قانونی مجبوری کی وجہ سے ایسا کرنا پڑے تو امید ہے کہ مواخذہ نہ ہوگا۔ باقی بزرگان دین نے اول تو تصویریں اپنی خوشی سے بنوائی نہیں، اور اگر کسی نے بنوائی ہوں تو کسی کا عمل حجت نہیں ،حجت خدا و رسول ﷺ کا ارشاد ہے ۔ (آپ کے مسائل: ۷/۶۲)
                ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : فلم اور تصویر آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے حرام ہے ، اور ان کو بنانے والے ملعون ہیں ۔ (آپ کے مسائل:۷/۶۷)
                 پاکستان کے وزیر خارجہ سردار آصف احمد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ: اسلام میں رقص وموسیقی اور تصویر سازی پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اس کا رد کرتے ہوئے آپ نے اولاً ان امور کے بارے میں احادیث نقل کیے ہیں پھر لکھا ہے کہ : آنحضرت ﷺ کے ارشادات کے بعد سردار آصف احمد کا یہ کہنا کہ اسلام میں ان چیزوں پر کوئی پابندی نہیں ،قطعاً غلط وخلافِ واقعہ ہے اور ان کے اس فتوی کا منشأ یا تو ناقص مطالعہ ہے یا خاکم بدہن صاحب شریعت ﷺ سے اختلاف ہے ۔ پہلی وجہ جہل مرکب اور دوسری وجہ کفرِ خالص ۔(آپ کے مسائل:۷/۷۶)
                علماء کی تصاویر اور ان کا ٹی وی پر آنا عوام کو یا تو بے چین کرتا ہے یا یہ کہ وہ اس سے اس کے جواز پر استدلال کرتے ہیں ، ایک صاحب نے آپ سے جب اس سلسلہ میں علماء کے فعل کا حوالہ دیا تو جواب لکھا کہ :
”یہ اصول ذہن میں رکھیے کہ کہ گناہ ہر حال میں گناہ ہے ،خواہ ساری دنیا اس میں ملوث ہو جائے ۔ دوسرا اصول یہ بھی ملحوظ رکھیے کہ جب کوئی برائی عام ہوجائے تو اگرچہ اس کی نحوست بھی عام ہو گی ؛مگر آدمی مکلف اپنے فعل کا ہے ۔ پہلے اصول کے مطابق علماء کا ٹی وی پر آنا اس کے جواز کی دلیل نہیں ، نہ امامِ حرم کا تراویح پڑھانا ہی اس کے جواز کی دلیل ہے ،اگر طبیب کسی بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو بیماری بیماری ہی رہے گی ، اس کو صحت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔(آپ کے مسائل:۷/۸۱)
                ان فتاوی پر غور کیجیے کہ کیا ایک اختلافی مسئلہ پر کسی کو ملعون کہنا ،اور اس کام کے ارتکاب پر امامت سے ہٹانے کی تجویز رکھنا بلکہ اس کا فتوی صادر کرنا صحیح ہو سکتا ہے ،اگر نہیں اور یقینا نہیں تو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس مسئلہ کی وہ نوعیت نہیں جو اختلافی مسائل کی ہو تی ہے؛بلکہ ان حضرات علماء کے نزدیک اس مسئلہ میں اختلاف غلط فہمی کا نتیجہ ہے ،نہ یہ کہ اس کی بنیاد دلائل ہیں ۔
مجوزین کی ایک لچر دلیل کا جواب
                یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ موجودہ دور کے مجوزّین ِتصویر میں سے بعض کو سنا گیا کہ وہ دلیل جواز یہ دیتے ہیں کہ آج کل تصویر کا عام رواج ہو چکا ہے ، کوئی محفل و مجلس اس سے خالی نہیں ، عوام تو عوام علماء بھی لیتے ہیں ،تو کب تک اس کو ناجائز کہتے رہیں گے ؟ ابھی قریب میں ہمارے مدرسہ میں ایک مفتی صاحب کا ورود ہوا، میں تو سفر پر تھا ،لہٰذا ملاقات نہیں ہوئی ،دیگر اساتذہ کے درمیان انھوں نے یہ باتیں کہیں ،اور تصویر کو ناجائز کہنے والوں پر طنز و تعریض کی ۔
                مگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو پھر تمام حرام کاموں کو جائز ہو جانا چاہیے ؛کیونکہ آج شراب بھی عام ہے ،موسیقی و گانا بجانا بھی عام ہے ، موبائیل فون سے گانے بجانے کی ٹیون ہم نے علماء کو بھی رکھتے دیکھا ہے ،اور بے پردگی بھی عام ہے ، سود و جوا بھی عام ہے،اور رشوت خوری کا بھی خوب چلن ہے؛بلکہ غور کرنا چاہیے کہ کونسا گناہ ایسا ہے جو آج کے معاشرے میں رواج نہیں پا رہا ہے ،لہٰذا یہ سب کے سب حرام کام اس لیے جائز ہو جانا چاہیے کہ ان کا رواج عام ہو گیا ہے ،لہٰذا کب تک اس کو حرام کہتے رہیں؟ لا حول ولا قوة الاباللہ ،اگر یہ مفتیانہ منطق چل جائے تو اسلام کا خدا ہی حافظ !   
                یہاں ان مفتی صاحب کی دلیل کے جواب میں صرف یہ بات کافی ہے کہ ہم حضرت اقدس مفتی محمد شفیع صاحب علیہ الرحمة کے رسالہ ” گناہ بے لذت“ سے ایک عبارت نقل کیے دیتے ہیں ،بغور ملاحظہ کیجیے: حضرت لکھتے ہیں کہ:
                ”آج کل یہ گناہ اس قدر وباء کی طرح تمام دنیا پر چھا گیا ہے کہ اس سے پرہیز کرنے والے کو زندگی کے ہر شعبے میں مشکلات ہیں ،ٹوپی سے لے کر جوتے تک کوئی چیز بازارمیں تصویر سے خالی ملنا مشکل ہوگیا ہے ،گھریلو استعمال کی چیزیں ،برتن ،چھتری ،دیا سلائی، دواوٴں کے ڈبے اور بوتلیں اخبارات ورسائل یہاں تک کہ مذہبی اور اصلاحی کتابیں بھی اس گناہِ عظیم سے خالی نہ رہیں، فالی اللہ المشتکی! اور غور کیا جائے تو ان میں سے اکثر حصہ تصاویر کا محض بے کار وبے فائدہ، گناہِ بے لذت ہے ، مسلمان کو چاہیے کہ گناہ کے عام ہوجانے سے اس کو ہلکا نہ سمجھے؛ بلکہ زیادہ اہمیت کے ساتھ اس سے بچنے اور دوسرے مسلمانوں کو بچانے کی فکر کریں“ ۔(گناہ بے لذت: ۵۲)
                حضرت مفتی محمد شفیع صاحب جیسے اپنے زمانے کے مفتیِ بے مثال تو تصویر کے عام ہو جانے کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ: عام ہو جانے سے دھوکہ نہ کھائیں اور اس کو ہلکا نہ سمجھیں؛ بلکہ اس سے مسلمانوں کو بچانے کی فکر کریں اور یہ جدید الخیال و روشن خیال مفتی صاحب یہ کہتے ہیں کہ جب یہ عام ہو گئی تو اب حرام کو حرام نہیں؛ بلکہ حلال کہو۔ فیا للعجب!

$           $           $



Digital Camera Ki Tasveer Ki Hurmat Per Mufassal
ڈیجیٹل کیمرہ کی تصاویر
دورِ حاضر میں مسلمانوں میں بے دینی، فحاشی و عریانی پھیلانے کی جس قدر کوششیں ہو رہی ہیں شاید ہی اس سے پہلے ہوئی ہوں ۔ بدعات اور خلافِ شرع رسومات سے مسلمانوں کے عقیدے و نظریات کو بگاڑ نے ، اسلامی تعلیمات سے دور کرنے اور کفر کی دہلیز پر پہنچانے کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں ۔ فحاشی و عریانی پھیلانے میں گانا بجانا، موسیقی، تصاویر چاہے ویڈیو کی شکل میں ہو یا پرنٹ تصاویر ہوں سب سے بڑا ہتھیار ہیں ۔ تصاویر کا استعمال شرعاً کہاں جائز ہے کہاں ناجائز کون سی تصاویر مطلقاً حرام کون سی مختلف فیہ؟ نیز ڈیجیٹل کیمرہ کی تصاویر اور ہاتھ سے بنی ہوئی تصاویر میں کچھ فرق ہے یا دونوں کا ایک ہی حکم ہے ؟ زیرِ نظر کتاب ’’تصویر اور سی ڈی کے شرعی احکام‘‘ میں علماء کرام کی مختلف آراء اور فتاوٰی پیش کیے گئے ہیں ۔ نیز ٹی وی پر دینی پروگرام پیش کرنا اور سی ڈی کی تصویر سے متعلق فقہاء کے فتاوٰی جات کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور اپنے بندوں کو اس سے فائدہ پہنچائے ۔

کسی بھی جاندار کی تصویر کھینچنا یا بنانا، چاہے اس کھینچنے یا بنانے کے لیے کوئی سا آلہ استعمال کیا جائے، ناجائز اور حرام ہے۔ اہل علم و اہل فتوی کی ایک بڑی تعداد کی تحقیق کے مطابق تصویر کے جواز وعدم جواز کے بارےمیں ڈیجیٹل اور غیر ڈیجیٹل کی تقسیم شرعی نقطہ نظر سے ناقابل اعتبار ہے۔ الیکٹرنک آلہ بند کرنے سے تصویر تحلیل ہوجاتی ہے مگر مواد موجود رہتا ہے اور کمانڈ دینے سے پھر آ موجود ہوتا ہے ،پس جب اصل غلط ہے تو اس کا مواد محفوظ رکھنا بھی غلط ہے۔




شریعت اسلام مین کسی جاندار کی تصویر کھینچنا اور بنانا خواہ ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعے ہو یا دوسرے کسی قسم کے کیمرے کے ذریعے، بہرصورت ناجائز وحرام ہے۔ احادیث میں تصویر بنانے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ اس مسئلے سے متعلق دارالعلوم دیوبند کا ایک مفصل ومدلل فتوی منسلک ہے۔ ملاحظہ فرمالیں۔

------------------------------

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب وباللہ التوفیق:حامدا ومصلیا ومسلما! 

شریعت ِاسلامیہ میں جاندار کی تصویر سازی اور تصویر بنانا، خواہ ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعے ہو یا دوسرے کسی قسم کے کیمرو ں کے ذریعے، تصویر چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، بہر صورت ناجائز اور حرام ہے، اس مسئلے میں احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم (۱)،افعالِ صحابہ اور عباراتِ اکابرِ امت  موجود ہیں۔

حاشیہ (۱)
(۱) عن عبداللّہ بن مسعود قال:سمعت النبيَّ صلّی اللّہ علیہ وسلّم یقول:”إن أشد النّاس عذابا عنداللّہ المصورون“(صحیح البخاري:رقم:۵۹۵۰، باب بیان عذاب المصورین یوم القیامة)۔
وعن ابن عباس قال:سمعت رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم یقول:کل مصوّر في النار… مشکاة المصابیح: ۳۸۵، ط: دار الکتاب دیوبند۔
إن رسول اللّہ صلّی اللّہ علیہ وسلّم قال:إن الذین یصنعون ہٰذہ الصور یعذبون یوم القیامة یقال لہم أحیوا ما خلقتم۔(صحیح البخاري:رقم:۵۹۵۱، باب بیان عذاب المصورین یوم القیامة)
نیز آپ کی یہ تحقیق کہ ”اس جدید دور میں کیمروں میں فرق ہوگیا ہے کہ پرانے کیمروں میں ریل اور فلم ڈالی جاتی تھی، پھر فوٹو کھنچتا تھا، اس کے بعد اس کو دھوکر تصویر بنتی تھی؛ لیکن اب ڈیجیٹل کیمرے آگئے ہیں، جن میں فلم نہیں ہوتی ؛بلکہ یہ عکس کو الیکٹرونک طریقے سے جذب کرتے ہیں“۔
یہ تحقیق اور آپ کا یہ نظریہ اپنی جگہ پر ٹھیک ہے ؛ لیکن آپ کی اس تحقیق سے نفسِ مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا؛کیوں کہ یہ بات مسلم ہے کہ کسی شئی کے حلال یا حرام ہونے میں اس کے ذرائع وآلات کا کوئی اعتبار نہیں، اگر کوئی چیز حرام ہے، تو اس کا وجود ہاتھوں سے ہوا ہو، یا سانچوں اور مشینوں کے ذریعے، اگر وہ حرام ہے تو اختلاف ِآلات کی بناپر اس میں کوئی فرق نہیں آتا، مثلاً: شراب چاہے دیسی مٹکوں میں بنائی جائے یا جدید آلات ومشینوں کے ذریعے ، بہر صورت اگر اس میں نشہ ہے تو حرام کہاجائے گا، اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کو آلہٴ جارحہ سے قتل کرے، یا گولی مار کر قتل کرے، یا پھانسی پر لٹکا کر جان لے، یازہر کھلا کر، یا کرنٹ لگا کر، یا زہرکا انجیکشن دے کر مارے، ان سب صورتوں کو قتل ہی کہیں گے؛ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کنواری لڑکی سے زنا کرے یا اپنا مادہٴ منویہ بذریعہ ٹیوب اجنبیہ کے رحم میں داخل کرے،ہر صورت میں پیدا ہونے والا بچہ حرام ہوگا؛ لہٰذا تصویر سازی جو کہ حرام ہے، وہ کسی بھی ذریعے سے ہو حرام ہوگی اور جس طرح کاغذ پر اترنے کے بعد یہ تصویر حرام ہے، اسی طرح جس وقت اس کے اصل کو کیمرے کی ڈسک میں محفوظ کیا جارہا ہو تو عملاً اس کا حکم بھی تصویر محرم کا حکم ہوگا ،چاہے محفوظ ہونے والی شکل ابتداءً ذرات کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو ۔
وفي التوضیح: قال أصحابنا وغیرہم: تصویر صورة الحیوان حرام أشد التحریم وہو من الکبائر وسواء صنعہ لما یمتہن أو لغیرہ فحرام بکل حال؛ لأن فیہ مضاہاة لخلق اللہ، وسواء کان في ثوب أو بساط أ و دینار أو درہم أو فلس أو إناء أو حائط ․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․ وبمعناہ قال جماعة العلماء مالک والثوري وأبو حنیفة وغیرہم رحمہم عمدة القاري شرح البخاري:۱۰/۳۰۹، باب عذاب المصورین یوم القیامة۔ (ط: دارالطباعة العامرة)۔)۔
وکذا في الفتاوی الہندیة :۵/۳۵۹۔وکذا في البدائع :۱/۱۱۶ وکذا في الدّر مع الرّد :۲/۴۰۹، مطلب: إذا تردد الحکم بین سنة وبدعة۔ وکذا ذکر العلامة النووي في شرحہ علی صحیح مسلم:۲/۱۹۹
نیز تصویر سازی کی حرمت کے متعلق کم وبیش چالیس حدیثیں آپ علیہ الصلوة و السلام سے مروی ہیں، اور تمام کی تمام مطلق تصویر کے متعلق ہیں (کسی بھی ذریعے سے تصویر تیار کی جائے )اس کے بر عکس تصویر کے جواز کی کوئی روایت نہیں ملتی،نیز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کا ،صحابہ کرام  سے بڑھ کر کوئی شارح نہیں ہو سکتا، یہ حضرات آپ علیہ الصلوة و السلام کے حقیقی رمز شناس اور ہر قول وفعل کے عینی شاہد ہیں، ان حضرات نے بھی تصویر سے متعلق تمام احادیث سے یہی مفہوم اخذ کیا ہے کہ یہ ارشادات ہر قسم کی تصاویر سے متعلق ہیں اور ہمیشہ کے لیے ہیں۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نصاری کی دعوت یہ فرما کر رد کردی کہ تمہارے یہاں تصویر ہوتی ہیں ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ا بو الہیاج اسدی کو بھیجا کہ شہر میں تمام تصاویر مٹادیں اور فرمایا کہ مجھے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہم پر بھیجا تھا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک مکان میں تصویر دیکھ کر دروازے سے لوٹ آئے۔
(سب واقعات بخاری ومسلم میں مذکور ہیں )
حضراتِ اکابر کی تصریحات سے بھی یہی تائید ہوتی ہے کہ کسی بھی طریقے سے تصویر کھینچی جائے، وہ تصویر ہی کے حکم میں ہے اور اس پر تصویر ہی کے احکام مرتب ہوں گے ۔
چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی علیہ الرحمة عکس اور فوٹو کے درمیان فر ق کرتے ہوئے تحریرکرتے ہیں :
”سب سے بڑا فرق دونوں میں یہی ہے کہ آئینہ وغیرہ کا عکس پائیدار نہیں ہوتا اور فوٹو کا عکس مسالہ لگا کر قائم کرلیا جاتاہے ،پس وہ اسی وقت تک عکس ہے، جب تک اسے مسالے سے قائم نہ کیا جائے اور جب اس کو کسی طریقے سے قائم وپائیدار کرلیا جائے وہی تصویر بن جاتا ہے“۔(آلات جدیدہ کے شرعی احکام:۱۴۱-۱۴۲)
دوسری جگہ مفتی اعظم مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں:
”حاصل یہ ہے کہ عکس جب تک مسالہ وغیرہ کے ذریعے سے پائیدار نہ کر لیا جائے، اس وقت تک وہ عکس ہے اور جب اس کو کسی طریقے سے قائم وپائیدار کر لیا جائے تو وہی تصویر بن جاتا ہے اور عکس جب اپنی حد سے گزر کر تصویر کی صورت اختیار کرے گا، خواہ وہ مسالے کے ذریعے ہو یا خطوط ونقوش کے ذریعے اور خواہ یہ فوٹو کے شیشے پر ہو یا آئینہ وغیرہ شفاف چیزو ں پر، اس کے سارے احکام وہی ہوں گے جو تصویر کے متعلق ہیں “۔ (آلات جدیدہ کے شرعی احکام :۱۴۲)
اسی طرح مفتی رشید احمد صاحب ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اس کو عکس کہنا بھی صحیح نہیں؛ اس لیے کہ عکس اصل کے تابع ہوتا ہے او ریہاں اصل کی موت کے بعد بھی اس کی تصویر باقی رہتی ہے “۔ (احسن الفتاوی:۹/۸۹)
دوسری جگہ مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
”تصویر اور عکس دو بالکل متضاد چیزیں ہیں، تصویر کسی چیز کا پائیدار اور محفوظ نقش ہوتا ہے ،عکس ناپائیدار اور وقتی نقش ہوتا ہے، اصل کے غائب ہوتے ہی اس کا عکس بھی غائب ہوجاتا ہے، ویڈیو کے فیتے میں تصویر محفوظ ہوتی ہے،جب چاہیں جتنی بار چاہیں ٹی وی کی اسکرین پر اس کا نظارہ کرلیں اور یہ تصویر تابع اصل نہیں؛ بلکہ اس سے بالکل لاتعلق اور بے نیاز ہے، کتنے لوگ ہیں جو مر کھپ گئے، دنیا میں ان کا نام ونشان نہیں؛ مگر ان کی متحرک تصاویر ویڈیو کیسٹ میں محفوظ ہیں، ایسی تصویر کو کو ئی بھی پاگل عکس نہیں کہتا، صرف اتنی سی بات کو لے کر کہ ویڈیو کے فیتے میں ہمیں تصویر نظر نہیں آتی، تصویر کے وجود کا انکار کردینا کھلا مغالطہ ہے“۔ (احسن الفتاوی:۸/۳۰۲)
حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی  کا ایک فتوی ”تصویر اور سی ڈی کے شرعی احکا م“ میں ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا گیا ہے :
”ٹی وی اور ویڈیو فلم کا کیمرہ جو تصویر یں لیتا ہے وہ اگرچہ غیر مرئی ہیں؛ لیکن تصویر بہر حال محفوظ ہے اور اس کو ٹی وی پر دیکھا اور دکھایا جاتاہے ،اس کو تصویر کے حکم سے خارج نہیں کیا جا سکتا، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہاتھ سے تصویر بنانے کے فرسودہ نظام کے بجائے سائنسی ترقی نے تصویر سازی کا ایک دقیق طریقہ ایجاد کر لیا ہے؛ لیکن جب شارع نے تصویر کو حرام قرار دیا ہے تو تصویر سازی کا خواہ کیسا ہی طریقہ ایجاد کرلیا جائے، تصویر تو حرام ہی رہے گی“۔ 
(تصویر اور سی ڈی کے شرعی احکام :ص:۹۴، نعیمیہ)
قدیم زمانے میں تصویر ہاتھ سے بنتی تھی، پھر کیمرے کی ایجاد نے اس قدیم طریقے میں ترقی کی اور تصویر ہاتھ کے بجائے مشین سے بننے لگی،اب اس عمل میں نئی نئی سائنسی ایجادات نے مزید ترقی کی اور جدت پیدا کی اور جامد وساکن تصویر کی طرح اب چلتی پھرتی، دوڑتی بھاگتی تصویر کو محفوظ کیا جانے لگا،یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اس کو قرار وبقاء نہیں ہے ،اگر اس کو بقاء نہ ہوتی تو ٹی وی اسکرین پر نظر کیسے آتی ۔
بہر حال ان اقتباسات سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ کسی جان دار کا مطلق عکس محفوظ کرنا، خواہ وہ کسی بھی طریقے پر ہو اگر اس میں استقلال واستقرار پیدا ہوجائے کہ جب چاہیں اس کو دیکھ سکیں تو یہ تصویر سازی میں داخل ہوگا، اور اس پر تصویر سازی کے احکامات مرتب ہوں گے ۔
نیز حضرات اکابر میں جن کے سامنے بھی حفظ عکس کی یہ جدید صورت اور ترقی یافتہ شکل سامنے آئی، انہوں نے بھی عکس کی مذکورہ حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے، اس کے تصویر ہونے کا ہی حکم دیا، اسی طرح اگر کوئی چیز منافع ومفاسد پر مشتمل ہوتی ہے تو اس میں غالب ہی کا اعتبار ہوتاہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوے کے متعلق ارشاد فرمایا: ”واِثْمُہُمَا اَکْبَرُ مِن نَفْعِہِمَا“(سورة البقرة)
اور فقہ کا بھی قاعدہ ہے کہ : درء المفاسد أولیٰ من جلب المصالح، فإذا تعارضت مفسدة ومصلحة قدم دفع المفسدة غالباً(الأشباہ والنظائر)
ٹھیک ہے کہ بعض موقعوں پر فوٹو کی شدید ضرورت ہوتی ہے اور ضرورتِ شدید کے موقع پر فقہاء کرام ومفتیان عظام نے قاعدہ ”الضّرورات تبیح المحظورات“کے پیش نظر فوٹو کی اجازت بھی دی ہے ؛ لیکن چوں کہ کیمروں کا استعمال غالباً وعامةً غلط اور ناجائز کاموں کے لیے ہوتا ہے ؛ اس لیے صرف کیمروں کی مرمت کرنا کراہت سے خالی نہیں ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بے غبار اور پاک صاف نہیں کہا جا سکتا ؛اس لیے آپ کو چاہیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد : ”یِآاِیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا“پرعمل پیرا ہوتے ہوئے حلال اور پاک وصاف کاروبار کی تلاش جاری رکھیں، جب تک جائز وحلال کاروبار نہ مل سکے، تب تک بادلِ ناخواستہ اسی کام کو کرتے رہنے کی گنجائش ہے، ساتھ ساتھ توبہ واستغفار کرتے رہیں اور حلال کاروبار میسر آجانے کے بعد اس کام سے بالکلیہ کنارہ کشی اختیار کرلیں۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم

No comments:

Post a Comment