Monday, 10 September 2012

فضیلتِ علم اور مقامِ عُلَماء

علم وہ ہے:
جو اللہ سے جوڑے نہ کہ توڑے۔

القرآن:
پڑھو اپنے ’’پروردگار‘‘ کا نام لے کر جس نے سب کچھ پیدا کیا۔
[سورۃ العلق:1]

انسانیت کے زوال کا سبب علم سے اللہ کے نام کا جدا ہونا
جو علم خدا کے نام کے بغیر ہو وہ انسانیت کی تباہی کا سبب بنے گا۔


عُلَماء کون؟
علم(نافع) وہی ہے جس سے اللہ کا ڈر(خشوع)پیدا ہو۔

القرآن:
۔۔۔بس خشوع(ڈر) رکھتے ہیں(سب سے زیادہ)الله(ہی)کا اس کے بندوں میں عُلَماء ہی۔۔۔
[سورۃ فاطر:28]


خشوع(ڈرنے-جھکنے)والے کون؟

(1)جن پر نماز بھاری نہیں۔
[دلیلِ قرآن، سورۃ البقرۃ:45]الاسراء:109

(2)جو مساجد آباد کرتے ہیں۔
[التوبۃ:18]

(3)جو پیغامِ الٰہی پہنچاتے رہتے ہیں۔
[الاحزاب:39]

(4)جو ملاتے(جوڑتے جڑواتے) ہیں (رشتہ ناتے) جسے ملانے کا حکم الله نے دیا۔
[الرعد:21]

(5)جنہیں(نافرمان)لوگوں سے ڈرایا جائے تو(ان سے ڈرنے کے بجائے)ان کا ایمان زیادہ ہوجاتا ہے،اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الله ہی کافی ہے اور عمدہ کام بنانے والا ہے۔
[آل عمران:173]

(6)جو"لڑتے"ہیں ایسے لوگوں سے جو اپنی قسموں(معاہدوں) کو توڑتے، اور رسول(اور اسکی تعلیم) کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کرتے ہیں، اور وہی ہیں جنہوں نے تمہارے خلاف (چھیڑ چھاڑ کرنے میں) پہل کی  
[التوبۃ:13]

(7)جن کے بال کھڑے ہوتے ہیں رب کے ڈر سے، پھر نرم ہوتی ہیں ان کی کھالیں، اور(پھر)ان کے دل الله کی یاد کی طرف(رجوع ہوتے ہیں)۔
[الزمر:39(ق:33)]

(8)جلدی کرتے ہیں خیر کے کاموں میں
(9)اور پکارتے ہیں الله ہی کو(بخشش وجنت کے)شوق اور (دعا وعمل ضایع ہونے کے)ڈر کے ساتھ
[الانبیاء:90]

(10)جو رسول الله ﷺ(کی تعلیم)کی طرف بھاگتے(بہت کوشش)کرتے ہوئے آتے ہیں۔
[عبس:8+9]
اس سے نصیحت
[الاعلیٰ:10]
عبرت
[النازعات:26]
اور ھدایت حاصل کرتے ہیں۔
[النازعات:19]


(11)جو الله ورسول کی اطاعت اور پرہیزگاری کرتے
[النور:52]

(12) قیامت(وحساب)کا خطرہ رکھتے ہیں۔
[الانبیاء:29]



علم کے معانی:

علوم القرآن-اصول تفسیر کے امام الراغب الاصفہانیؒ(م502ھ) نے فرمایا:
علم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا (پالینا، گھیرلینا) ہے۔  اور ادراک دو قسم پر ہے:
اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرلینا۔
دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو (فی الواقع) اس کے لئے ثابت ہو، یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو (فی الواقع) اس سے منفی ہو۔
پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے:۔
لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [سورۃ الأنفال:60]
جن کو تم نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے۔
اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسے فرمایا:۔
فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [سورۃ الممتحنة:10]
پھر جب تمہیں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ مومن عورتیں ہیں۔
اور آیت:-
﴿‌يَوْمَ ‌يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ﴾  [سورۃ المائدۃ:109] سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش و حواس قائم نہیں رہیں گے۔
ایک دوسری حیثیت سے علم کی دو قسمیں ہیں:
(1) علم نظری (2) علمِ عملی۔
علمِ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہوجائے۔ جیسے وہ عالم جس کا تعلق موجودات عالم سے ہے۔
اور علمِ عملی وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے۔ جیسے عبادات کا علم۔
ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں:۔
(1)علمِ عقلی یعنی وہ علم جو صرف عقل سے حاصل ہو سکے۔
(2)علمِ سمعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل وسماعت کے حاصل کیا جائے۔
دراصل اعلمتہ وعلمتہ کے ایک معنیٰ ہیں مگر اعلام جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تعلیم کے معنیٰ بار بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنیٰ تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں، اور تعلم کے معنیٰ ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنیٰ مقصود ہوں۔ جیسے فرمایا:-
أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [سورۃ الحجرات:16]
کیا تم اللہ کو اپنی دینداری جتلاتے ہو۔
اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے، جیسے فرمایا:-
الرَّحْمَنُ ۔ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [سورۃ الرحمٰن:1-2]
(اللہ)سب پر مہربان۔ جس نے سکھایا قرآن۔
اور آیت:-
الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ [سورۃ العلق:4]
جس نے(لکھنا)سکھایا قلم کے ذریعہ۔

[المفردات في غريب القرآن: صفحہ580-582]


علم سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم دیے گئے لوگوں کے درجات بلند کرتا ہے۔(1)
[سورۃ المجادلہ، آیت: 11]

اور عرض کریں: اے میرے رب، میرے علم میں اضافہ فرما۔(2)
[سورۃ طٰہٰ، آیت: 114]

کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟
[سورۃ الزمر، آیت: 9]

بے شک اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو عالم ہیں۔
[سورۃ فاطر، آیت: 28]

پس ان دونوں (موسیٰ اور خضر علیہما السلام) نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ (خضر) کو پایا جسے ہم نے اپنی جانب سے رحمت عطا کی تھی اور اپنے پاس سے خاص علم سکھایا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: کیا میں اس شرط پر آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ سکھائیں گے جو آپ کو ہدایت (کا علم) سکھایا گیا ہے؟
[سورۃ الکہف، آیات: 65، 66]

تفسیر:

(1) اس آیت کی تفسیر میں کہا گیا ہے: اللہ تعالیٰ مؤمن عالم کو مؤمن غیرعالم پر بلند کرتا ہے۔ اور درجات کی بلندی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اس سے مراد ثواب کی کثرت ہے، اسی کے ذریعے درجات بلند ہوتے ہیں۔ اور اس بلندی میں دنیا میں معنوی بلندی (یعنی بلند مقام اور اچھی شہرت) بھی شامل ہے اور آخرت میں حسی بلندی (یعنی جنت میں بلند مقام) بھی شامل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
۔نیکی کے کام پر رہنمائی کرنے والا ایسے ہی ہے، جیسے نیکی کرنے والا
[مسند امام اعظم:471، مسند احمد:21771، مسند ابو يعلي:4234، سنن ترمذی:2670]

صحیح مسلم میں نافع بن عبدالحارث خزاعی سے روایت ہے (جو عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مکہ کے عامل تھے) کہ عمر رضی اللہ عنہ عسفان میں ان سے ملے اور پوچھا: تم نے (مکہ میں) کس کو اپنا نائب بنایا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے اپنے آزاد کردہ غلام ابن أَبْزَى کو نائب بنایا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے ایک غلام کو نائب بنا دیا؟ انہوں نے کہا: وہ کتاب اللہ کا قاری ہے اور فرائض (وراثت) کا عالم ہے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنو! بے شک تمہارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے: "بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے کچھ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور دوسروں کو پست کرتا ہے۔"
[فتح الباری:1/207]

عبداللہ بن ابی قرہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک بن انسؒ سے سنا، وہ اللہ تعالیٰ کے قول {نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ}[یوسف: 76] کے بارے میں کہہ رہے تھے: (اللہ تعالیٰ) علم (کی وجہ سے) ہی درجات بلند فرماتا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ سے یہ بات کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: زید بن اسلم (تابعی) نے یہ بات کہی تھی۔ [مسند احمد: 449]

حضرت ابنِ مسعودؓ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا لوگو! اس آیت کو سمجھو، یہ تم کو علم کی رغبت دلا رہی ہے، الله تعالیٰ فرما رہا ہے کہ مومن عالم، مومن ناواقف سے بہت درجہ اونچا ہے۔
[تفسیر(امام)البغوي:(5/46)، تفسیرالثعلبي:3056]

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ ان لوگوں کو بلند کردے گا درجات میں جو علم دئیے گئے ان ایمان والوں پر جو علم نہیں دئیے گئے۔
[حاكم:3835،تفسير ابن ابي حاتم:18847]



(2) اللہ تعالیٰ کے قول "اے میرے رب، میرے علم میں اضافہ فرما" میں علم کی فضیلت پر واضح دلیل ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو کسی چیز کے زیادہ طلب کرنے کا حکم نہیں دیا سوائے علم کے۔ اور یہاں علم سے مراد وہ شرعی علم ہے جو مکلف کو اس کے عبادات اور معاملات کے احکام، اللہ اور اس کی صفات کی معرفت، اور اللہ کے حق کی ادائیگی اور اس کی ذات کو تمام نقائص سے پاک قرار دینے کے واجبات سے آگاہ کرے۔ اور یہ سب تفسیر، حدیث اور فقہ پر مبنی ہے۔
[فتح الباری: 1/208]




عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالىَ: {وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ} قَالَ: حُلَمَاءَ، فُقَهَاءَ.
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان "بلکہ (وہ تو یہی کہے گا کہ) اللہ والے بن جاؤ" (سورۃ آل عمران:79) کے بارے میں کہا: اس سے مراد حلماء اور فقہاء ہیں۔
[(البخاري معلّقًا) ج1ص24 , وصححه الألباني مختصر صحيح البخاري تحت حديث: 52]




فرض علم:

حدیث نمبر 1

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
[سنن ابن ماجہ:224، معجم الأوسط-الطبراني:2462، الفوائد لأبي الشيخ الأصبهاني:14، مسند البزار:6746، شعب الإيمان:1667، جامع بیان العلم:30، صَحِيح الْجَامِع:3913، صَحِيح التَّرْغِيبِ:72]

تشریح:
موجودہ حالت کے ضروری احکام کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
علم کی اقسام(درجات):
فرض عین (ہر فرد پر لازم): وہ بنیادی علم جس کے بغیر کوئی مسلمان اپنے دینی فرائض (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، عقائد) صحیح طریقے سے ادا نہیں کر سکتا۔ یہی حدیث میں مراد ہے۔

فرض کفایہ (بعض پر لازم): دین کی گہری تفقہ اور اجتہادی علوم، جن کے لیے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی آیت میں مراد ہے۔

علم کی دو بنیادی اقسام:
عَنِ الْحَسَنِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعِلْمُ عِلْمَانِ : عِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَاكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ , وَعِلْمٌ عَلَى اللِّسَانِ فَتِلْكَ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ " .
ترجمہ:
حضرت حسنؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کی دو(2)قسمیں ہیں: ایک وہ جو دل میں(اللہ کا ڈر پیدا کرتا)ہے، یہی علم نافع ہے۔ اور جو علم(مال، شہرت یا مقابلے کیلئے)زبان پر ہو، وہ تو اللہ کی حجت(الزامی دلیل)ہے اس کے بندوں پر۔
المصنف-ابن أبي شيبة:34361، مسند الدارمي:376، شعب الایمان للبیھقی:1686، جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر:1150، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:300، الإتحاف:23975، كنز العمال:28667+28947، جامع الأحاديث للسیوطی:14498، حکیم ترمذی:2/303]
تفسير القرطبي = سورة الأعراف : آية 175
تفسير ابن رجب الحنبلي سورۃ فاطر:27

نبی ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا۔
بعض علوم جہالت (گناہ/بےفائدہ) ہیں۔
[ابوداود:5012]

جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا:
اور ہم نے نہیں سکھایا اس نبی کو شعر۔
[سورۃ یٰس:69]
۔۔۔ بلکہ شیطانوں نے کفر کیا کہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو۔۔۔
[سورۃ البقرۃ:102]

کون سا علم فرض(عین) ہے؟
درجاتِ علم:
ضروری اور اضافی علوم:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْل: آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ۔
ترجمہ:
علم تین ہیں، اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ زائد ہے: (١)آیت محکم (یعنی مضبوط)، (٢)سنت قائمہ، (٣)فریضہ عادلہ۔ 
[ابوداؤد:2885، ابن ماجہ:54، حاکم:7949، بیھقی:12172، دارقطنی:4060]

حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«طَلَبُ ‌الْعِلْمِ ‌فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ أَنْ ‌يَعْرِفَ ‌الصَّوْمَ وَالصَّلَاةَ ، وَالْحَرَامَ وَالْحُدُودَ وَالْأَحْكَامَ»
ترجمہ:
جس علم کو سیکھنا فرض ہے، اس سے مراد وہ علم ہے، جس کے ذریعے روزہ، نماز، حلال و حرام اور حدود و احکام شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہو۔
[الفقيه والمتفقه-امام الخطيب البغدادي(م463ھ): جلد 1 / صفحہ 168 ، تلخيص المتشابه في الرسم:1/ 106]

امام اسحاق بن راھویہؒ (المتوفیٰ238ھ) کہا کرتے تھے کہ:
یہ حدیث (علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔) کے معنیٰ یہ ہیں کہ وضو، نماز، زکاۃ،حج وغیرہ ضروریات دین کا علم حاصل کرنا لازمی ہے۔ اور فرمایا کہ اس(ضروری علم کے طلب) کیلئے  نکلنے میں والدین کی اجازت بھی لازم نہیں ہے۔

امام مالکؒ(م179ھ)سے پوچھا گیا، کیا طلبِ علم سب لوگوں پر فرض ہے؟ فرمایا:
نہیں، لیکن اللہ کی قسم اتنا علم ضرور حاصل کرنا چاہیے کہ ’’اپنے دین‘‘ میں فائدہ اٹھا سکے۔

امام ابن مبارکؒ(م181ھ)  نے فرمایا:
اس سے مراد وہ(دنیاوی) علم نہیں جسے لوگ حاصل کرتے ہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ آدمی کو اپنے ’’دین‘‘ کی کسی بات (کوئی شک) ہو تو (اہلِ علم سے) سوال کرنا فرض ہے تاکہ وہ اسے جان لے۔
[جامع بیان العلم:33][دلیل،سورۃ النحل:43،الانبیاء:7]

امام سفیان بن عینیہ(م197ھ) کا قول ہے:
تحصیلِ علم اور جہاد، مسلمانوں کی جماعت پر فرض "کفایہ" ہے۔ ایک گروہ ادا کر دے تو باقی لوگ سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:
اور مسلمانوں کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ (ہمیشہ) سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہوں۔ لہذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ (جہاد کے لیے) نکلا کرے، تاکہ (جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں) وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے محنت کریں، اور جب ان کی قوم کے لوگ (جو جہاد میں گئے ہیں) ان کے پاس واپس آئیں تو یہ ان کو متنبہ کریں، تاکہ وہ (گناہوں سے) بچ کر رہیں۔
(سورۃ التوبہ:122)
[جامع بیان العلم:36]

احمد بن صالح سے حدیث ﴿علم کا حاصل کرنا فرض ہے﴾ کے بارے میں سوال کیا گیا، تو کہنے لگے: میرے نزدیک مطلب یہ ہیں کہ جہاد کی طرح اگر ایک جماعت اسے سنبھال لے، تو لوگوں سے فرض ساقط ہو جاتا ہے۔
[جامع بیان العلم:37]

امام ابوعمر (ابن عبد البر) المالکی(م463ھ) فرماتے ہیں:
علماء کا اجماع ہے کہ(درجہ کے لحاظ سے شرعی) علم کی دو قسمیں ہیں:

ایک فرض عین، اس کی تحصیل ہر فرد پر لازم ہے اور ایک ہے فرض کفایہ، اس علم کو ایک آدمی نے بھی حاصل کرلیا تو اس علاقہ کے باقی لوگوں پر سے ساقط ہوگیا۔
فرائضِ دین کا اجمالی علم، فرض عین ہے۔ کوئی آدمی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ جیسے زبان سے شہادت اور دل سے اقرار ہو کہ اللہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں، کوئی نظیر نہیں، نہ کسی کو اس نے جنا اور نہ کسی نے اسے پیدا کیا ہے، اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔ ہر چیز کا خالق ہے۔ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ وہی موت دیتا ہے، وہی زندگی بخشتا ہے۔ زندہ ہے، کبھی مرنے والا نہیں۔ عالم ہے چھپی اور ظاہر باتوں کا۔ آسمان میں کوئی ذرہ بھی اس سے اوجھل نہیں۔ وہی اول ہے، وہی آخر ہے۔ وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے۔ اور اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے میں وہ اپنی خوبیوں اور ناموں کے ساتھ ازل سے ہے۔ نہ اس کی کبھی ابتدا ہوئی اور نہ کبھی انتہاء ہوگی۔ اور وہ عرش پر متمکن ہے۔
اور اس بات کی شہادت کہ محمد ﷺ کے اللہ کا بندہ، رسول اور خاتم النبیین ہونا حق ہے۔ اور یہ کہ موت کے بعد جزا وسزا کیلئے اٹھنا ہے، اور داخل ہونا آخرت میں اہلِ سعادت کا ایمان وعمل سے جنت میں اور بدبختوں کا کفر ونافرمانی سے جہنم میں۔ اور یہ کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور جو کچھ قرآن میں ہے اللہ کی طرف سے حق ہے۔ اس پر ایمان لانا اور اس کی آیاتِ محکمات پر عمل کرنا فرض ہے۔
اور یہ کہ پانچوں نمازیں فرض ہیں، نیز ان باتوں کا علم بھی لازمی ہے جن کے بغیر نماز پوری نہیں ہوتی، جیسے طہارتِ نماز کے تمام ارکان واحکام، اور یہ کہ رمضان کے روزے فرض ہیں اور روزے کے احکام کا علم بھی فرض ہے۔ اسی طرح اگر آدمی مالدار ہے تو یہ جاننا بھی فرض ہے کہ زکوٰۃ کب اور کن چیزوں میں اور کتنے میں فرض ہے؟ اور یہ کہ استطاعت کے بقدر عمر بھر میں ایک مرتبہ حج فرض ہے وغیرہ
اور وہ باتیں جن کا اجمالی علم ضروری ہے اور جن سے بےخبری ناقابلِ معافی ہے۔ مثلا: بدکاری، سودخوری، شراب نوشی، خنزیر ومردار ونجاستوں کے کھانے کی حرمت، غیر کا مال غصب کرنا، رشوت لےکر فیصلہ کرنا، جھوٹی شہادت دینا، دھوکے یا بغیر رضامندی کسی کا مال کھانا اور یہ کہ ہر قسم کا ظلم حرام ہے۔ بہنوں بیٹیوں وغیرہ سے نکاح ناجائز ہے۔ ناحق مسلمانوں کی جان لینا حرام ہے اور اس کے علاوہ وہ باتیں جن کی حرمت پر اللہ کی کتاب ناطق اور امت متفق ہے۔
رہ گئے دوسرے علوم، ان کی تحصیل، ان میں تفقہ وتبحر، ان کی ترویج و اشاعت، دینی و دنیاوی معاملات میں ان کے مطابق فیصلہ وفتویٰ، تو یہ فرض کفایہ ہے۔ یعنی ہیں تو یہ بھی فرض لیکن اگر کچھ لوگ اسے سنبھال لیں تو اس مقام کے باقی لوگوں سے فرض ساقط ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں بلا اختلاف تمام علماء متفق ہیں۔ اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں:
اور مسلمانوں کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ (ہمیشہ) سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہوں۔ لہذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ (جہاد کے لیے) نکلا کرے، تاکہ (جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں) وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے محنت کریں، اور جب ان کی قوم کے لوگ (جو جہاد میں گئے ہیں) ان کے پاس واپس آئیں تو یہ ان کو متنبہ کریں، تاکہ وہ (گناہوں سے) بچ کر رہیں۔
[سورۃ التوبہ:122]
اس آیت میں حکم سارے مسلمانوں کو نہیں دیا گیا، بلکہ بعض ہی کو دیا گیا ہے کہ علم حاصل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ "طائفہ" کا اطلاق عربی زبان میں ایک آدمی پر بھی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ آدمیوں پر بھی۔ اسی طرح (عام حالات میں) جہاد بھی فرض کفایہ ہیں، کیونکہ الله پاک نے فرمایا:
جن مسلمانوں کو کوئی معذوری لاحق نہ ہو اور وہ (جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں) بیٹھ رہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہیں۔ جو لوگ اپنے مال و جان سے جہاد کرتے ہیں ان
 کو اللہ نے بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے۔ اور اللہ نے سب سے اچھائی کا وعدہ کر رکھا ہے۔  اور اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دے کر بڑا ثواب بخشا ہے۔
[سورۃ النساء:95]
آیت میں مجاہد کو فضیلت دی گئی ہے اور مختلف (پیچھے رہ جانے والے) کی مذمت نہیں کی گئی۔ جہاد کی فرضیت میں بکثرت آیتیں موجود ہیں، لیکن مراد وہی ہے جو ہم نے بیان کر دی ہے، ہاں کر دشمن کسی علاقے پر ٹوٹ پڑے تو وہاں کے "تمام" مسلمانوں پر جہاد فرض (عین) ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی ان علاقوں پر بھی جو اس علاقے سے قریب ہوں، مسلمانوں کی کمزوری سے واقف ہوں اور حمایت کرسکیں۔
امام ابوعمر (ابن عبد البر) المالکی(م463ھ) فرماتے ہیں:
ہمارے اصحاب (مالکیہ) کے نزدیک سلام کا جواب دینا بھی فرض کفایہ ہے، جماعت میں سے ایک شخص نے جواب دے دیا تو سب کی طرف سے ادا ہو گیا۔ لیکن علمائے حق کا مسئلہ دوسرا ہے، وہ ہر ہر شخص پر جواب دینا فرض بتاتے ہیں۔
اسی قبیل سے مردے کی تجہیز و تکفین، نماز جنازہ اور دفن ہے، عدالت میں شہادت دینا بھی فرض کفایہ ہے لیکن اگر صرف دو ہی شاہد موجود ہوں اور تیسرا گواہ نہ مل سکے تو دونوں پر شہادت فرض عین ہے۔
علماء کی ایک جماعت نے عیادت مریض اور تشمیتِ عاطش(یعنی چھینک لینے والا جب الحمدلله کہے تو سننے والے کو یرحمک الله کہنے) کو بھی اسی باب میں (یعنی فرض کفایہ) شمار کیا ہے، بلکہ محض مستحب ہیں، حسنِ ادب ہے اور محبت و الفت بڑھنے کے لیے اس کا حکم دیا گیا ہے، لہذا اگر کوئی شخص ان میں کوتاہی کرتا ہے تو قابلِ مؤاخذہ نہیں، لیکن اتباعِ سنت میں کوتاہی بذات خود نقصان دہ ہے۔

امام حسن بصریؒ (م110ھ) کا فرمان ہے:
چھ کام ایسے ہیں جنہیں ایک گروہ انجام دے دے تو باقی لوگ سبکدوش ہو جاتے ہیں اور اگر سب لوگ یک لخت ترک کردیں تو سب کے سب گنہگار ہوتے ہیں:
جہاد، میت کی تجہیز و تکفین، نماز جنازہ، فتویٰ دینا، خطبہ جمعہ سننا کیونکہ جائز نہیں کہ امام کو خطبہ دینے کے لئے تنہا چھوڑ دیا جائے، اور نماز باجماعت۔
[جامع بیان العلم:41]

جعفر بن محمدؒ کہا کرتے تھے:
ہم نے اہل علم کا علم چار باتوں میں محصور پایا: (1)پروردگار کی معرفت، (2)اس کے احسانوں کی معرفت، (3)اس کے احکام کی معرفت، (4)اور ان امور کی پہچان ومعرفت جو انسان کو دل سے نکال کر بھی دین بنا دیتے۔
[جامع بیان العلم:43]



علم کیا ہے؟
(1)امام سفیان بن عیینہؒ (المتوفیٰ 198ھ) کا فرمان ہے:
العلم ان لم ينفعك يضرك.
یعنی علم وہ ہے جو اگر تجھے نفع نہ پہنچائے تو پھر نقصان پہنچائے گا۔
[صفۃ الصفوۃ:1/427]

(2) علم عمل کا نام ہے، نقوش ویادداشت کا نہیں۔
امام شافعیؒ (المتوفیٰ 204ھ) نے فرمایا:
العلم ما نفع، لیس العلم ما حفظ ۔
یعنی علم وہ ہے جو نفع دے، وہ علم نہیں جو محفوظ کیا جائے۔
[سیر اعلام النبلاء:10/89]

(3)حافظ ابن عبدالبرؒ (م463ھ) امام اوزاعیؒ (م157ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے شاگرد بقیہ بن الولید(م197ھ) سے فرمایا:

يَا بَقِيَّةُ، الْعِلْمُ مَا جَاءَ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَمْ يَجِئْ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ بِعِلْمٍ
ترجمہ:
اے بقیہ! علم تو وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے اصحابِ کرام سے منقول (Transmitted) ہو اور جو ان سے منقول نہیں وہ علم نہیں۔

[جامع بیان العلم:1067+1420+1421، فتح الباري شرح صحيح البخاري:ج13 ص291، سلسلة الآثار الصحيحة:322]

دلیل:

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ وَيُسْمَعُ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْكُمْ»

ترجمہ:

تم مجھ سے سن رہے ہو، اور تم سے بھی سنا جائے گا، پھر تم سے سننے والوں سے بھی سنا جائے گا۔
[ابوداؤد:3659، احمد:2945]






علم وفقہ کی فضیلت:

حدیث نمبر 2

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا , يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ (1)"۔ (2)

 ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس شخص کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرمائے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے (1)"۔ (2)

حوالہ جات:
(خ): صحیح البخاری، حدیث نمبر 3971
(م): صحیح مسلم، حدیث نمبر1037
(ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر 2645
(جة): سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 221
(حم): مسند احمد، حدیث نمبر 16885

وضاحت:

"یُفَقِّهْهُ" کے معنی: اس سے مراد ہے "اسے سمجھ عطا فرماتا ہے"۔ کہا جاتا ہے: "فَقُهَ" جب فقہ (سمجھ) اس کی عادت و خاصیت بن جائے۔ "فَقَهَ" (فتح کے ساتھ) جب وہ کسی چیز کی سمجھ میں دوسروں سے آگے نکل جائے۔ اور "فَقِهَ" (کسر کے ساتھ) جب وہ سمجھ لے۔
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص دین میں فقہ حاصل نہ کرے — یعنی اسلام کے قواعد اور ان سے متعلقہ تفصیلی مسائل نہ سیکھے — تو وہ دراصل خیر وبھلائی سے محروم رہ گیا۔
[فتح الباری، شرح حدیث نمبر 71]


حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:

علمِ دین کی فضیلت:
یہ حدیث دین کی سمجھ (فقہ) حاصل کرنے کی عظیم فضیلت بیان کرتی ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور بھلائی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

اللہ کی خیر کا معیار:
حدیث اس اصول کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ دنیاوی مال و دولت یا عہدہ و منصب اللہ کی رضا اور خیر کی اصل نشانی نہیں ہیں، بلکہ دین کی صحیح سمجھ ہی سب سے بڑی دولت اور اللہ کی نعمت ہے۔

علم کے لیے محنت کی ترغیب:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہر مسلمان کو دین کی بنیادی و ضروری باتوں کو سیکھنے کی فکر کرنی چاہیے۔ جو ایسا نہیں کرتا، وہ اپنے آپ کو ایک عظیم خیر سے محروم کر رہا ہے۔

عمل کے بغیر علم ناکافی:
یہاں محض معلومات جمع کرنے کو "تفقہ" نہیں کہا گیا، بلکہ وہ گہری سمجھ مراد ہے جو دل و دماغ میں اتر جائے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق ملے۔ اللہ کی خیر کا ارادہ سمجھ اور عمل دونوں کو شامل ہے۔

علماء کی قدر کی بنیاد:
اس حدیث کی روشنی میں ان علماء و مشائخ کی قدر بڑھ جاتی ہے جو لوگوں کو حقیقی دین کی سمجھ دیتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ کی خیر پہنچانے کا ایک ذریعہ ہیں۔

اگر آپ مزید احادیث کے تراجم یا کسی خاص اصطلاح کی وضاحت چاہیں تو ضرور پوچھیے۔


تشریحات:

پہلی روایت کی شرح للمناوی:
"(مَنْ يُرِدْ) میں 'یرد' کے میم کے نیچے پیش ہے، جو 'ارادہ' سے ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک 'ارادہ' ایک ایسی صفت ہے جو مقدور (ممکن) چیزوں کے وقوع کے لیے خاص ہوتی ہے۔ بعض کہتے ہیں: نفع و نقصان کا اعتقاد۔ اور بعض کہتے ہیں: ایک میلان جس کے بعد اعتقاد ہو۔ یہ تعریف قدیم (الہی) ارادے کے لیے درست نہیں۔

(اللهُ بِهِ خَيْرًا) یعنی تمام بھلائیاں، کیونکہ نکره (معرفہ کے برعکس) لفظ عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ یا بڑی، عظیم اور کثیر بھلائی مراد ہے۔ تنویں تعظیم کے لیے ہے۔

(يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ) یعنی شارع (اللہ و رسول) کے امر و نہی کے اسرار و رموز کو اس کے دل میں اتارے گئے ربانی نور کے ذریعے اسے سمجھا دے گا۔ اس کی طرف امام حسن بصری کے قول سے راہنمائی ملتی ہے: "حقیقی فقیہ تو وہی ہے جو اللہ کے امر و نہی کو سمجھے۔" اور یہ صرف اس شخص کے لیے ہو سکتا ہے جو اپنے علم پر عمل کرے۔

امام غزالی (حجۃ الاسلام) سے منقول ہے کہ: "دین میں حقیقی فقہ وہ ہے جو دل میں جگہ پکڑ لے، پھر زبان پر ظاہر ہو، پھر عمل سے فائدہ دے، پھر خشیت پیدا کرے، پھر تقویٰ پر منتج ہو۔" رہے وہ لوگ جو اس کے صرف بعض ابواب کا مطالعہ اس لیے کرتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک اپنی عزت بڑھا سکے، تو وہ اس عظیم رتبے سے بالکل جدا ہیں۔

امام غزالی ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: "یہاں مذکور فقہ سے مراد اللہ اور اس کی صفات کی معرفت کا علم ہے۔" پھر فرمایا: "رہا وہ فقہ جو شرعی احکام کی معرفت ہے، تو شیطان نے اس کے اہل پر قبضہ کر لیا ہے اور سرکشی نے انہیں گھیر لیا ہے۔ ہر ایک اپنے فوری فائدے میں مگن ہو گیا ہے، یہاں تک کہ وہ معروف کو منکر اور منکر کو معروف دیکھنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دین کا علم مٹ گیا اور ہدایت کے مینار سرزمینوں میں تاریک ہو گئے۔ لہٰذا واضح ہوا کہ مراد وہ علم آخرت ہے جو فرض عین ہے۔ فقیہ کا نظریہ دنیا کی اصلاح کی نسبت سے ہے، جبکہ اس (علم آخرت والے) کا نظریہ آخرت کی اصلاح کی نسبت سے ہے۔ اگر آپ کسی فقیہ سے اخلاص، توکل یا ریا سے بچنے کے طریقے کے بارے میں پوچھیں تو وہ نہیں جانتا، حالانکہ یہ فرض عین ہے جس کے ترک سے اس کی ہلاکت ہے۔ اور اگر آپ اس سے لعان یا ظہار کے بارے میں پوچھیں تو وہ باریک تفریعات بیان کرنے لگتا ہے جن کی زندگی بھر کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آخرت کے راستے کے علم کو فقہ، حکمت، ضیا، نور اور رشد کا نام دیا ہے۔

(حم ق عن معاویه) یعنی امام احمد بن حنبل نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ (حم ت عن ابن عباس ھ عن ابی ہریرہ) یعنی امام احمد، امام ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور امام نسائی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ مصنف (منذری) کے طریقۂ کار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ (پوری) حدیث ہے، بلکہ اس کی باقی ماندہ عبارات شیخین (بخاری و مسلم) کے ہاں ہیں۔ اللہ ہی دینے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں۔ امام بخاری نے اسے 'کتاب العلم' اور 'کتاب الخمس' میں، اور امام مسلم نے 'کتاب الزکاۃ' میں روایت کیا ہے۔ ان دو جملوں کا پہلے والے جملوں سے تعلق یہ ہے کہ متفقه (دین سمجھنے والے) کے لیے خیر کا اثبات محض کسب (محنت) سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے بھی ہے جس پر اللہ نے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے یا آپ کے وارثوں (علماء) کے ذریعے یہ دروازہ کھولا ہو۔"
[فیض القدیر: 9103]

اس عبارت سے اہم نکات:

حدیث میں "خیر" سے مراد ہمہ قسم کی یا عظیم ترین بھلائیاں ہیں۔

"تفقہ فی الدین" کی حقیقی تعریف: یہ صرف احکام کا علم نہیں، بلکہ دل میں اتر جانے والی وہ سمجھ ہے جو عمل، خشیت اور تقویٰ پیدا کرے۔

امام غزالی کی تنبیہ: علم کو دنیاوی عزت کے حصول کا ذریعہ بنانا خطرناک ہے۔

علم کی دو اقسام: 1) علم آخرت (اللہ کی معرفت، فرض عین)۔ 2) علم فقہ (شرعی احکام، فرض کفایہ)۔ حقیقی بھلائی پہلی قسم کے علم میں ہے۔

یہ علم محض انسان کی محنت سے نہیں، بلکہ اللہ کی توفیق اور خاص عنایت سے ملتا ہے۔

دوسری روایت کی شرح للمناوی:
"(مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا) شرطیہ سیاق میں تنکیر (نکرہ لانے) کی وجہ سے عموم ہے، یعنی جس کے ساتھ اللہ تمام بھلائیوں کا ارادہ فرمائے۔ (يُفَقِّهْهُ) میں ہائے ضمیر پر سکون ہے کیونکہ یہ جواب شرط ہے۔ (فِي الدِّينِ) یعنی اسے شریعت کا علم فقہ کے ذریعے سمجھا دے گا، کیونکہ فقہ وہ علم ہے جو قوانین، دلائل، قیاس اور دقیق نظر کے ذریعے مستنبط ہوتا ہے، برخلاف علم زبان، نحو اور صرف کے۔

منقول ہے کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ عراق میں ایک نبطی (دیہاتی) عورت کے گھر اترے اور کہا: یہ جگہ صاف ہے، ہم یہاں نماز پڑھیں گے۔ اس عورت نے کہا: اپنا دل پاک کر لو، پھر جہاں چاہو نماز پڑھ لو۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "تَفَقَّهْتِ" یعنی تم نے سمجھ لیا۔

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص نے دین میں تفقہ حاصل نہ کیا، یعنی اسلام کے قواعد نہ سیکھے، اللہ نے اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہیں فرمایا۔

(وَيُلْهَمُهُ رُشْدَهُ) مصنف کی خط میں اس کا پہلا حرف باء ہے۔ اس میں پچھلی حدیث کی طرح علم کی شرف اور علماء کی فضیلت ہے، اور یہ کہ دین میں تفقہ کرنا حسن خاتمہ کی علامت ہے۔ امام بخاری نے صحیح میں اسے معلقاً (سند کے بغیر) روایت کیا ہے: 'جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرمائے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے، اور علم سیکھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔' ان دو جملوں کو اسی طرح معلقاً ذکر کیا ہے، جبکہ ابن ابی عاصم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

(حل عن ابن مسعود) مصنف نے اسے 'حسن' قرار دینے کی علامت لگائی ہے۔ اس معاملے میں وہ امام ابن حجر کی تابع ہیں جنہوں نے 'المختصر' میں کہا: "اس کی سند حسن ہے۔" لیکن امام ذہبی نے کہا: "یہ منکر حدیث ہے۔" طبرانی نے بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔"
[فیض القدیر: 9104]

اس عبارت سے اہم نکات:

یہاں "خیر" سے مراد ہر قسم کی بھلائی ہے۔

"فقہ" کی تعریف: شریعت کے وہ احکام جو دلائل اور دقیق فکر سے مستنبط ہوں۔

حدیث کا مفہوم صریح ہے: دین نہ سیکھنا اللہ کی خیر سے محرومی کی علامت ہے۔

علم محنت اور سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔

اس روایت کی سند کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے، بعض اسے حسن کہتے ہیں اور بعض منکر۔

تیسری روایت کی شرح للمناوی:
"(إذا أراد الله بعبد خيرا فقهه في الدين وألهمه رشده) یعنی اسے رشد (حق کے راستے) پر ثابت قدمی کی توفیق دے گا۔ قاضی عیاض نے کہا: رشد، حق کو پا لینا ہے۔ زمخشری نے کہا: رشد، مصالح (بھلائیوں) کے تمام پہلوؤں کی طرف ہدایت پانا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: 'پھر اگر تم ان میں (یتیموں میں) ہوشیاری (رشد) دیکھو تو ان کے مال انہیں سونپ دو۔' 'رشد' کو عبد (بندے) کی طرف منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسا رشد ہے جس کی اہمیت ہے۔

سمہودی نے کہا: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جسے اللہ نے دین کی سمجھ نہیں بخشی اور نہ ہدایت دی، تو اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہیں فرمایا۔ امام ابو نعیم نے اسے روایت کیا ہے اور آخر میں یہ اضافہ کیا: 'اور جسے دین کی سمجھ نہ بخشی، اللہ اس کی پروا نہیں کرتا۔' ابو یعلیٰ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ان کے الفاظ ہیں: 'اور جسے سمجھ نہ بخشی، وہ اس کی پروا نہیں کرتا۔'

اس میں یہ نکتہ ہے کہ اگرچہ ربانی عنایت ہم سے غائب ہے (یعنی ہم اسے براہ راست نہیں دیکھ سکتے)، لیکن اس کی گواہی دینے والی نشانیاں ہیں اور اس کی طرف رہنمائی کرنے والی دلالتیں ہیں۔ پس جسے اللہ نے دین کی سمجھ عطا کی، اس پر حق تعالیٰ کی خاص عنایت ظاہر ہوتی ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ بڑی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے، جیسا کہ 'خیر' میں تنویں اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

یہ تمام تقریر اس بات پر مبنی ہے کہ فقہ سے مراد شرعی احکام کا اجتہادی علم ہے۔ لیکن ایک جماعت، جن میں حكيم ترمذی بھی ہیں، کا مسلک یہ ہے کہ فقہ سے مراد 'فہم' (گہری سمجھ) ہے۔ فہم سے مراد چیزوں سے پردہ اٹھ جانا ہے۔ جب بندہ اللہ کے امر و نہی کی تعمیل اس طرح کرے کہ اسے شریعت کے اسرار سمجھ آ جائیں اور اس پر اللہ کے امر و نہی میں پنہاں تدبیر و حکمت کا پردہ اٹھ جائے، تو اس کا سینہ کھل جاتا ہے اور وہ مامورات (حکموں) کی بجا آوری اور منہیات (ممنوعات) سے اجتناب کی طرف تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔ اور یہ سب سے بڑی بھلائی ہے۔ اس کے علاوہ (بغیر سمجھے) بندہ صرف دباؤ اور مشکل سے اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ کیونکہ دل اگرچہ اللہ کے امر کے سامنے مطیع و منقاد ہو جاتا ہے، لیکن نفس صرف اسی وقت سرگرم اور مطیع ہوتا ہے جب کسی چیز کے نفع یا نقصان کو دیکھ لے۔ رہا وہ شخص جسے اللہ کی تدبیر و حکمت سمجھ آ جائے، تو اس کا سینہ کشادہ ہو جاتا ہے اور اس پر عمل آسان ہو جاتا ہے۔ یہی حقیقی فقہ ہے۔

اللہ نے نکاح کو حلال کیا اور زنا کو حرام کیا۔ حالانکہ دونوں میں ایک عورت کے ساتھ مباشرت ہے۔ لیکن یہ نکاح سے ہو اور وہ زنا سے۔ جب نکاح سے ہو تو اس کے نتائج میں عصمت، تحفظ ہوتا ہے۔ اگر اولاد ہو تو اس کا نسب ثابت ہوتا ہے اور باپ کی طرف سے پرورش، نفقہ اور وراثت میں شفقت حاصل ہوتی ہے۔ اور اگر زنا سے ہو تو اولاد گم ہو جاتی ہے، کیونکہ نہ تو وطی کرنے والوں میں سے کوئی جانتا ہے کہ بچہ کس سے ہے، ہر ایک اسے دوسرے پر ڈال دیتا ہے۔ اللہ نے خون کو حرام کیا اور قصاص کا حکم دیا تاکہ لوگ (قتل سے) باز رہیں۔ 'اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، اے عقل والو!' اور مال کو حرام کیا اور چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تاکہ اس (سزا) سے بچنے کے لیے اموال کی حفاظت ہو۔ پس منہیات اور مامورات کی یہ علتیں/حکمتیں صاحبانِ عقل کے لیے واضح ہیں۔

(البزار) نیز طبرانی نے 'المعجم الکبیر' میں اسی سند سے یہی الفاظ روایت کیے ہیں۔ شاید مصنف (منذری) اس پر توجہ نہ دے سکے۔ (عن ابن مسعود) منذری نے کہا: اس کی سند میں کوئی حرج نہیں۔ ہیثمی نے کہا: اس کے راوی معتبر ہیں۔ ایسی صورت میں مصنف کا صرف 'حسن' کی علامت لگانا کافی نہیں، بلکہ انہیں 'صحیح' کی علامت لگانا چاہیے تھی۔ مصنف کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے سمجھا کہ اسے کسی نے چھ میں سے روایت نہیں کیا، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ امام ترمذی نے یہی مذکورہ الفاظ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کیے ہیں۔"
[فیض القدیر: 386]

اس عبارت سے اہم نکات:

حدیث کی ایک مشہور شرح "اللہ بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے اور اسے ہدایت (رشد) الہام کرتا ہے" پر مشتمل ہے۔

"رشد" کی تعریف: حق کو پانا، یا ہر قسم کی بھلائی کی راہیں پا لینا۔

حدیث کا مفہوم مخالف (عکس): جو دین نہیں سمجھتا، اللہ اس کی پروا نہیں کرتا۔ یہ بہت سخت تنبیہ ہے۔

فقہ کی ایک اور تعریف: فہم و بصیرت، یعنی احکام کے پیچھے چھپی حکمتوں اور مصلحتوں کو جان لینا۔ یہ سمجھ ہی عمل کو آسان اور قلب کو مطمئن بناتی ہے۔

حکمتوں کی مثال: نکاح اور زنا، یا قصاص کے احکام میں پنہاں اجتماعی مصلحتیں اور حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ حقیقی فقیہ وہی ہے جو ان حکمتوں کو سمجھ کر عمل کرے۔

اس حدیث کی ایک سند (ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی) کے بارے میں علماء کا اختلاف بیان ہوا ہے۔

مجموعی نتیجہ: یہ تمام شروحات اس ایک حدیث کی عظمت اور گہرائی کو واضح کرتی ہیں۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت اور خیر، دین کی حقیقی سمجھ ہے، نہ کہ صرف ظاہری احکام کا علم۔ یہ سمجھ دل سے آتی ہے، عمل کی راہ ہموار کرتی ہے، احکام کی حکمتوں کو کھولتی ہے اور انسان کو حقیقی خشیت اور تقویٰ کی طرف لے جاتی ہے۔ جو اس نعمت سے محروم رہا، وہ درحقیقت عظیم خیر سے محروم رہ گیا۔





حدیث نمبر 3
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" النَّاسُ مَعَادِنٌ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ (١)) (٢) (كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ , إِذَا فَقِهُوا ") (٣)
الشرح (٤)
 ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لوگ (اپنی فطرت کے اعتبار سے) بھلائی اور برائی میں (مختلف) معادن (کانوں) کی مانند ہیں (1)۔ (2) (جیسے چاندی اور سونے کے معادن۔) زمانہ جاہلیت میں جو بہتر تھے، اسلام (قبول کرنے) کے بعد بھی وہی بہتر ہیں، بشرطیکہ وہ (دین کی) سمجھ حاصل کریں۔" (3)

تشریح وحوالہ جات:

(1): یعنی (لوگوں کی) اصل اور جڑیں مختلف ہیں۔ "مَعَادِن" لفظ "معدن" کی جمع ہے، اس سے مراد وہ چیز ہے جو زمین میں جمی ہوئی ہوتی ہے۔ کبھی وہ قیمتی ہوتی ہے اور کبھی کم قیمت۔ بالکل اسی طرح لوگ (بھی ہیں)۔ (فتح الباری، جلد 10، صفحہ 295)

(2) اس حدیث کے پہلے حصے "النَّاسُ مَعَادِنٌ..." کو درج ذیل کتب میں روایت کیا گیا ہے:
  1. مسند احمد: حدیث نمبر 10301
  2. صحیح البخاری: حدیث نمبر 3394
  3. صحیح مسلم: حدیث نمبر 2638
شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔

(3) حدیث کے دوسرے حصے "خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ..." کو درج ذیل کتب میں روایت کیا گیا ہے:
  1. صحیح مسلم: حدیث نمبر 2638
  2. مسند احمد: حدیث نمبر 10969
  3. صحیح البخاری: حدیث نمبر 3175
(4): تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح معدنیات (کان) سے جب دھات نکالی جاتی ہے تو اس کی جو خوبیاں پوشیدہ تھیں وہ ظاہر ہو جاتی ہیں اور اس کی اصل خاصیت نہیں بدلتی، بالکل اسی طرح شرف و بزرگی کی صفت بھی اپنی ذات میں نہیں بدلتی۔ بلکہ جو شخص زمانہ جاہلیت میں بزرگی والا تھا، وہ اہل جاہلیت کے اعتبار سے سردار تھا۔ پھر اگر وہ اسلام لے آیا تو اس کی یہ بزرگی قائم رہی اور زمانہ جاہلیت کے دیگر بزرگوں کے مقابلے میں اسلام میں اس کا شرف اور بڑھ گیا۔
رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان "إِذَا فَقُهُوا" (جب انہوں نے سمجھ بوجھ حاصل کی)، تو اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام میں شرف و بزرگی تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک دین میں سمجھ بوجھ (تفقہ) حاصل نہ کی جائے۔
یہاں "بہتر"، "شریف" وغیرہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو کرامت، عفت، حلم جیسے اچھے اخلاق سے متصف ہوں اور بخیل، فاجر اور ظالم بننے سے بچتے ہوں۔
آپ کے فرمان "إِذَا فَقِهُوا" میں "ق" پر پیش ہے اور کسرہ (زیر) بھی جائز ہے۔
[فتح الباری، جلد 10، صفحہ 295]

حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:
فطری صلاحیتوں کا اعتراف:
یہ حدیث اس اصول کی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ لوگوں میں فطری صلاحیتیں، رجحانات اور اخلاقی امتیازات پیدائشی طور پر مختلف ہوتے ہیں، جیسے مختلف دھاتیں اپنی نوعیت میں مختلف ہوتی ہیں۔ اسلام اس فطری تفریق کا انکار نہیں کرتا۔
اچھی فطرت کی قدر:
زمانہ جاہلیت میں جو لوگ شرافت، سخاوت، بہادری جیسے اچھے اخلاق رکھتے تھے، اسلام ان کی اس بنیادی خوبی کو تسلیم کرتا ہے اور اسے ضائع نہیں ہونے دیتا۔ اسلام لانے کے بعد ایسے افراد کی صلاحیتیں صحیح سمت میں استعمال ہوتی ہیں اور ان کا شرف بڑھ جاتا ہے۔
علمِ دین شرط ہے:
حدیث کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ پیدائشی یا سماجی شرافت کو حقیقی اسلام شرافت میں تب ہی بدلا جا سکتا ہے جب اس کے ساتھ دین کی سمجھ (فقہ) بھی شامل ہو جائے۔ بغیر سمجھ کے، محض نیک نیتی کافی نہیں۔ علم ہی نیک فطرت کو صحیح راستے پر ڈالتا ہے۔
تعلیم و تربیت کی اہمیت:
حدیث سے معلوم ہوا کہ اچھی فطرت والوں کو بھی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔ ان کی صلاحیتیں علم کے بغیر ممکن ہے ضائع ہو جائیں یا غلط رستے پر لگ جائیں۔ "اگر فقہ حاصل کریں" کا شرطیہ جملہ تعلیم پر زوردیتا ہے۔
سماجی انصاف کا معیار:
یہ حدیث قیادت و سیادت کے لیے معیار بتاتی ہے۔ قیادت کے اہل وہی ہیں جن میں اچھی فطرت کے ساتھ ساتھ دین کی گہری سمجھ بھی ہو۔ محنسب یا مالدار ہونا کافی نہیں۔
امید اور ترغیب کا پیغام:
یہ حدیث ہر اس شخص کے لیے امید کی کرن ہے جس میں کوئی اچھائی ہے۔ اسلام اس اچھائی کو قبول کرتا ہے، سنوارتا ہے اور اسے آخرت تک بلند کرتا ہے، بشرطیکہ وہ دین سیکھنے کی کوشش کرے۔




شرح للمناوی:

"(تجدون الناس معادن) یعنی مختلف اصلوں والے، کچھ قیمتی اور کچھ کم قیمت، جیسا کہ معدنیات (کان) ہوتے ہیں۔ (فخيارهم في الجاهلية هم خيارهم في الإسلام) امام رافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: تشبیہ کا وجه یہ ہے کہ لوگوں کی غرائز و طبائع کا اختلاف معدنیات کے جوہر کے اختلاف کی مانند ہے۔ اور نفوس میں اس اختلاف کا رسوخ، معدنیات کی رگوں (عروق) کے ان میں رسوخ کی طرح ہے۔ اور جس طرح معدنیات میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کی صفت نہیں بدلتی، اسی طرح شرافت کی صفت بھی اپنی ذات میں نہیں بدلتی۔ بلکہ جو شخص زمانۂ جاہلیت میں شریف تھا، وہ اہلِ جاہلیت کے اعتبار سے سربراہ تھا، پھر اگر وہ اسلام لے آیا تو اس کی شرافت قائم رہی اور زمانۂ جاہلیت کے دیگر مشہور شریف لوگوں کے مقابلے میں اسلام میں (اس کا شرف) زیادہ ہو گیا۔

پھر جب حکم (یعنی "خيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام") کو مطلق (بلا قید) فرمایا تو اسے یہ قید لگا کر خاص کر دیا: (إذا فقهوا)۔ 'فقُهوا' میں قاف کے پیش کے ساتھ، یہ بہتر قول ہے جیسا کہ ابوالبقاء نے ذکر کیا ہے، یعنی وہ فقہاء بن گئے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی نوعیت دوسرے حیوانوں سے علم ہی کے ذریعے ممتاز ہوتی ہے اور اسلام میں شرف تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ فقہ (دین کی سمجھ) نہ ہو، اور یہی سب سے بڑی فضیلت اور عظیم نعمت ہے۔

یہاں اور اس جیسی باتوں میں 'خيار' (بہترین لوگ) سے مراد وہ ہے جو کرامت، فہم، حلم وغیرہ جیسے اچھے اخلاق سے متصف ہو اور بخیل، فاجر اور ظالم بننے جیسے برے اخلاق سے بچتا ہو۔

(وتجدون خير الناس في هذا الشأن) یعنی خلافت یا امارت کے معاملے میں۔ (أشدهم له كراهية) یعنی دین و عقل کے اعتبار سے بہتر شخص وہ ہے جو اس میں داخل ہونے سے (امارت و حکومت کی ذمہ داریوں کے خوف اور عدل قائم رکھنے کی دشواری اور لوگوں کو ظلم سے روکنے کے بوجھ کی وجہ سے) سخت ناپسند کرتا ہے۔ (قبل أن) اور ایک روایت میں (حتى) (يقع فيه) ہے۔ پھر جب وہ اس میں (ذمہ داری میں) پڑ جاتا ہے تو اس کا حق ادا کرتا ہے اور اسے ناپسند نہیں کرتا۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس میں راغب نہیں تھا، جب بلا سوال اسے وہ (ذمہ داری) مل جاتی ہے تو اس کی ناپسندیدگی اس لیے دور ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے دین پر امن میں اللہ کی مدد دیکھتا ہے۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ عادت اسی پر جاری ہے کہ جو شخص کسی چیز کا حریص ہو اور طلب میں راغب ہو، شاذ و نادر ہی اسے وہ چیز ملتی ہے، اور جو شخص اس سے اعراض کرے اور اس میں اس کی رغبت کم ہو، عموماً اسے وہ مل جاتی ہے۔

یا 'شأن' سے مراد اسلام ہے، یعنی تم لوگوں میں سب سے بہتر شخص کو اسلام کی سب سے زیادہ سخت ناپسندیدگی والا پاؤ گے، جیسے حضرت عمر اور عکرمہ اور ان کے ہم مشرب لوگ، جو اسلام سے سخت نفرت کرتے تھے، پھر جب اس میں داخل ہوئے تو اخلاص کے ساتھ رہے۔

طیبی رحمہ اللہ نے کہا: 'خير الناس' فعل 'تجدون' کا دوسرا مفعول ہے اور پہلا مفعول قول 'أشدهم' ہے۔ اور جب دوسرا مفعول مقدم کیا گیا تو پہلے میں اس کی طرف لوٹنے والا ضمیر محذوف کر دیا، جیسے آپ کہتے ہیں: "على التمرة مثلها زبداً"۔ یہ بھی جائز ہے کہ پہلا مفعول 'خير الناس' ہو، اس قول کے مطابق جس میں اثبات (جملے) میں 'من' کے زیادہ ہونے کو جائز قرار دیتے ہیں۔

(وتجدون شر الناس) اور ایک روایت میں 'من يوم القيامة' کا اضافہ ہے۔ (عند الله ذا الوجهين) اور اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ (الذي) منافق کی طرح ہوتا ہے۔ (يأتي هؤلاء بوجه ويأتي هؤلاء بوجه) یعنی ایک گروہ کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور دوسرے گروہ کے پاس دوسرا چہرہ لے کر آتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک گروہ کے پاس ایک بات کہتا ہے اور ان کے دشمنوں کے پاس اس کی ضد۔ اور وہ {مذبذبين بين ذلك} ان دونوں کے درمیان ڈانواں ڈول رہتے ہیں۔ اور یہ زمین میں فساد پھیلانے کی سعی ہے، اگر وہ اصلاح وغیرہ کے لیے نہ ہو۔ اور اس میں وہ شخص بھی شامل ہے جو لوگوں کے سامنے بھلائی اور صلاح ظاہر کرتا ہے اور جب تنہائی میں ہوتا ہے تو سخت معاصی کا ارتکاب کرتا ہے۔

قرطبی رحمہ اللہ نے کہا: وہ سب سے برا شخص اس لیے ہے کہ اس کی حالت منافق کی سی ہے، کیونکہ وہ باطل اور جھوٹ سے خوشامد کرتا ہے، جو لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے کا ذریعہ ہے۔ نووی رحمہ اللہ نے کہا: وہ شخص ہے جو ہر طائفہ کے پاس اس چیز کے ساتھ آتا ہے جو اسے راضی کر دے، اور اس کے سامنے یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ انہی میں سے ہے، اور اس کے مقابل گروہ کے لیے اس کے برعکس کام کرتا ہے۔ اس کا یہ عمل محض نفاق، خالص دھوکہ دہی اور دونوں فریقوں کے اسرار جاننے کی چال ہے، اور یہ حرام قسم کی مداہنت ہے۔ البتہ اگر نیت اصلاح کی ہو تو پسندیدہ ہے۔ اور آپ کا فرمان 'ذا الوجهين' سے مراد حقیقی معنوں میں دو چہرے نہیں ہیں، بلکہ یہ دو پہلوؤں (مدح اور مذمت) کے لیے مجازی تعبیر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا...} الآية۔

(حم ق) امام احمد نے اپنی مسند کے کتاب الادب والفضائل کے باب میں (عن أبي هريرة رضي الله عنه) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔"

[فیض القدیر:3241]

دوسری عبارت کی تشریح:

"(خياركم في الجاهلية خياركم في الإسلام) یعنی تم میں سے جو شخص زمانۂ جاہلیت میں مکارم اخلاق کی بنا پر منتخب (بہتر) تھا، وہ اسلام (میں داخل ہونے) کے بعد بھی منتخب (بہتر) ہے۔ (إذا فقهوا) ریاض (کتاب) میں کہا گیا ہے: قاف کے پیش کے ساتھ، یہ مشہور قول ہے، اور اس کے کسرہ کے ساتھ ہونے کی بھی روایت ہے۔ یعنی انہوں نے شرعی احکام پر عمل کیا یا وہ فقہاء بن گئے، اس طرح کہ انہوں نے فقہ کو برتا اور اس کا اہتمام کیا یہاں تک کہ اس میں انہیں ملکہ (دسترس) حاصل ہو گیا۔

احنف رحمہ اللہ نے کیا ہی اچھا کہا: ہر وہ عزت جس کی بنیاد علم پر نہ ہو، ذلت کی طرف پلٹتی ہے۔ اور شاعر نے کہا:

بے شک سردار اگر چلے تو اپنی ذات کے بل بوتے پر چلتا ہے۔ . . اور سردار کا بیٹا اگر چلے تو اس کے سردار (باپ) کی وجہ سے چلتا ہے۔

اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ فضیلت اور تقویٰ کے بغیر کوئی 'خیریت' (بہتری) نہیں ہے۔ پس جسے یہ چیز (فضیلت و تقویٰ) حاصل ہو اور ساتھ ہی اس کی اصل (نسب) بھی عمدہ اور شریف ہو، تو اس کی فضیلت مکمل ہو جاتی ہے اور وہ دوسروں سے بلند ہو جاتا ہے۔

پھر تقسیم ابن حجر رحمہ اللہ کے قول کے مطابق چار قسم کی ہے۔ بہترین وہ ہے جس نے زمانۂ جاہلیت کے شرف اور اسلام کے شرف دونوں کو جمع کیا۔ پھر ان میں سب سے بلند رتبہ اس شخص کا ہے جس نے اس پر دین میں تفقہ (سمجھ) کا اضافہ کیا۔ اور اس کے مقابل وہ شخص ہے جو زمانۂ جاہلیت میں مشہور (برے) تھا اور اسلام میں بھی مشہور (برا) رہا، تو یہ سب سے ادنیٰ درجہ ہے۔ اس سے بلند وہ شخص ہے جسے اسلام میں شرف اور فقہ حاصل ہوا لیکن زمانۂ جاہلیت میں شریف نہ تھا۔ زمانۂ جاہلیت میں شرف، آباء و اجداد اور اصل کے کرم (عزت) کے اعتبار سے ہوتا ہے، اور اسلام میں شرف علم اور حکمت کے ذریعے ہوتا ہے۔ پہلا موروثی ہوتا ہے اور دوسرا کسبی (محنت سے حاصل کردہ)۔

طیبی رحمہ اللہ نے کہا: اگر پوچھا جائے کہ قید 'إذا فقهوا' کا فائدہ کیا ہے؟ کیونکہ جو شخص اسلام لایا اور زمانۂ جاہلیت میں شریف تھا، وہ اس شخص سے بہتر ہے جسے زمانۂ جاہلیت میں کوئی شرف حاصل نہ تھا، خواہ اس نے فقہ حاصل کی ہو یا نہ کی ہو؟ ہم کہیں گے: ایسا نہیں ہے، کیونکہ ایمان زمانۂ جاہلیت میں معتبر تفاوت (فرق) کو مٹا دیتا ہے۔ پھر جب انسان علم اور حکمت کے ذریعے بلند ہوتا ہے تو وہ اصل نسب کو دوبارہ حاصل کر لیتا ہے، اور وہ نسب کے شرف کو حسب (کردار) کے شرف کے ساتھ جمع کر لیتا ہے۔

اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ ذلیل (کم نسب) مسلمان جو علم سے آراستہ ہو، وہ شریف مسلمان جو علم سے عاری ہو، سے بلند درجہ رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جسے زمانۂ جاہلیت کی شرف کی خصوصیات (شریف آباء، مکارم اخلاق اور نیکی کے کام) بھی حاصل ہوں اور ساتھ ہی اسلام کا شرف اور اس میں تفقہ بھی، تو وہی اس نام ('خيار') کا سب سے زیادہ حق دار ہے، جیسا کہ قرطبی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔

(خ عن أبي هريرة) امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! سب سے زیادہ معزز لوگ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: سب سے زیادہ متقی۔ لوگوں نے کہا: ہم آپ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہے۔ آپ نے فرمایا: پھر اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام ہیں، جو اللہ کے نبی (یعقوب علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم آپ سے اس کے بارے میں بھی نہیں پوچھ رہے۔ آپ نے فرمایا: "پھر تم مجھ سے عرب کے معادن (اصولوں) کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟" پھر آپ نے یہ حدیث ذکر فرمائی۔ اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی روایت کیا ہے اور فردوس کی کتاب میں بھی اسے امام مسلم رحمہ اللہ ہی سے منسوب کیا گیا ہے۔"

[فیض القدیر:3987]


حدیث سے حاصل شدہ اہم اسباق و نکات:

یہ حدیث اور اس کی شروحات درج ذیل اہم اسلامی اصول و حکمتیں سکھاتی ہیں:

فطری صلاحیتوں کی قدر:

اسلام اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ لوگوں میں پیدائشی طور پر اچھے اخلاق (جیسے سخاوت، بہادری، حلم) کی صلاحیتیں مختلف درجوں میں موجود ہوتی ہیں۔ اسلام ان فطری خوبیوں کو ختم نہیں کرتا بلکہ انہیں صحیح سمت دیتا ہے۔

علمِ دین کا محوریت:

بغیر دین کی سمجھ (فقہ) کے، محض اچھی فطرت یا شریف النسب ہونا اسلام میں کوئی فضیلت یا ضمانت نہیں۔ "إذا فقهوا" کی شرط یہ بتاتی ہے کہ حقیقی فضیلت اور اللہ کے ہاں بلندی کا معیار علم اور تقویٰ ہے، نہ کہ صرف نسب ۔

رہنمائی کے لیے اہلیت:

حکومت و قیادت کی بھاری ذمہ داری سب سے اہل وہ شخص ہے جو اس کی ہوس نہ رکھتا ہو، بلکہ اس سے ڈرتا اور گریز کرتا ہو، کیونکہ ایسا شخص عموماً ذمہ داری کے احساس، انصاف اور لوگوں کی بھلائی کا زیادہ خیال رکھتا ہے ۔

دوغلا پن کی مذمت:

سب سے برا وہ شخص ہے جو منافق کی طرح مختلف لوگوں کے سامنے مختلف چہرے رکھتا ہے، ایک سے ایک بات اور دوسرے سے اس کی ضد کہتا ہے۔ یہ عمل نفاق، فساد اور دھوکہ دہی ہے اور اسلام میں سخت ناپسندیدہ ہے ۔

اصول و حکمت:

حدیث میں بیان کردہ یہ اصول صرف انفرادی تربیت ہی نہیں، بلکہ ایک معاشرے میں قیادت کے انتخاب، باہمی تعلقات اور اخلاقیات کے قیام کے لیے بھی رہنما اصول فراہم کرتے ہیں۔




حدیث نمبر 4
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَانٍ كَثِيرٍ فُقَهَاؤُهُ، قَلِيلٍ خُطَبَاؤُهُ، كَثِيرٍ مُعْطُوهُ، قَلِيلٍ سُؤَّالُهُ (١) الْعَمَلُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعِلْمِ، وَسَيَأتِي [مِنْ بَعْدِكُمْ] (٢) زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ، كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ , كَثِيرٌ سُؤَّالُهُ، قَلِيلٌ مُعْطُوهُ، الْعِلْمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعَمَلِ " (٣)
 ترجمہ:
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بیشک تم ایک ایسے زمانے میں آ گئے ہو جس میں اس کے فقہاء (دین کے گہرے جاننے والے) زیادہ ہیں، اور اس کے خطیب (مقرر) تھوڑے ہیں، دینے والے زیادہ ہیں، اور مانگنے والے تھوڑے ہیں (1)۔ اس زمانے میں عمل، علم سے بہتر ہے۔ اور تمہارے بعد ایک زمانہ آئے گا (2) جس میں اس کے فقہاء تھوڑے ہوں گے، اور اس کے خطیب زیادہ ہوں گے، مانگنے والے زیادہ ہوں گے، اور دینے والے تھوڑے ہوں گے۔ اس زمانے میں علم، عمل سے بہتر ہوگا۔" (3)

حواشی و حوالہ جات:

(1): یعنی تمہارے زمانے کے لوگوں میں سے تھوڑے ہی لوگ ایسے ہیں جو لوگوں سے مال مانگتے ہیں۔ (یعنی لوگ سوال سے بچتے ہیں اور خود پر بھروسہ کرتے ہیں)۔
(2): عبارت "مِنْ بَعْدِكُمْ" (تمہارے بعد) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفاً (یعنی آپ کا قول) ایک روایت میں آئی ہے، جو "صحیح الادب المفرد" (حدیث نمبر 609) میں مذکور ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے "فتح الباری" (جلد 10، صفحہ 510) میں فرمایا: "اور اس کی سند صحیح ہے، اور اس جیسا کلام محض رائے سے نہیں کہا جا سکتا (بلکہ یہ درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے)"۔
(3)[المعجم االکبیر للطبرانی:حدیث نمبر3111، انظر سلسلة الأحادیث الصحیحہ:3189]

حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:
زمانے کی تبدیلی اور نشانیاں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مختلف ادوار کی واضح نشانیاں بیان فرما دیں:
پہلا دور (صحابہ کا دور):
جہاں حقیقی علم (فقہ) اور فیاضی عام تھی، اور لوگ سوال (بھیک مانگنے) سے گریز کرتے تھے۔
دوسرا دور (بعد کا دور):
جہاں حقیقی علم کی کمی ہوگی، صرف زبانی جمع خرچ اور خطابت کا غلبہ ہوگا، لوگوں میں کنجوسی پھیل جائے گی اور مانگنے والوں کی کثرت ہوگی۔
علم اور عمل کی نسبی فضیلت:
یہ حدیث ایک اہم اصول سکھاتی ہے کہ علم اور عمل کی فضیلت زمانی حالات پر منحصر ہے۔
جب علم کی کثرت ہو اور لوگ علم سے واقف ہوں، تو اصل ضرورت اس علم پر عمل کرنے کی ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دور میں عمل کو علم پر فضیلت دی۔
جب حقیقی علم ہی نایاب ہو جائے، اصلاح کے لیے بنیادی ضرورت صحیح علم کو حاصل کرنے اور پھیلانے کی ہوتی ہے۔ اس لیے بعد کے دور میں علم کو عمل پر فضیلت دی گئی۔
آج کے دور پر تطبیق:
یہ حدیث واضح طور پر ہمارے موجودہ دور کی عکاس ہے، جہاں:
حقیقی دینی فقہ و بصیرت رکھنے والے علماء کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔
سطحی تقریریں کرنے والے، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر بات کرنے والوں کی کثرت ہے۔
سوال (مانگنے) کا رجحان بڑھا ہے اور سخاوت و فیاضی میں کمی آئی ہے۔
اس لیے آج کے دور میں علم حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ صحیح علم ہی ہمیں عمل کے صحیح راستے پر ڈال سکتا ہے۔
ترجیحات کا تعین:
یہ حدیث ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کس دور میں جی رہے ہیں اور ہماری اجتماعی اور انفرادی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں۔ اس وقت ہمارا سب سے بڑا فریضہ صحیح علم کو سیکھنا، سکھانا اور اسے پھیلانا ہے۔
علم کی حفاظت کی تنبیہ:
حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ علم کے ضائع ہونے کا ایک بڑا خطرہ "خطیبوں" کی کثرت ہے، جو علم کی گہرائی کے بغیر صرف تقریروں اور باتوں سے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے علم کو سطحیت سے بچانا ضروری ہے۔
خلاصہ:
یہ حدیث محض ایک پیشین گوئی نہیں، بلکہ زمانے کے بدلنے کے ساتھ ہماری ذمہ داریوں اور ترجیحات کے تعین کا ایک زریں اصول ہے۔ آج ہم دوسرے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں صحیح علم ہمارے لیے سب سے بڑی ضرورت اور سب سے بہترین عمل ہے۔



عالم کو زیادہ فضیلت ہے یا عابد کو؟
حدیث نمبر 5
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا عَابِدٌ , وَالْآخَرُ عَالِمٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ , كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: إِنَّ اللهَ , وَمَلَائِكَتَهُ , وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ , وَالْأَرَضِينَ , حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا , وَحَتَّى الْحُوتَ , لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ (١) " (٢)
 ترجمہ:
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، جن میں سے ایک عابد (بہت عبادت گزار) تھا اور دوسرا عالم تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عالم کی عابد پر فضیلت، میرے اور تم میں سے سب سے ادنیٰ (نیچے) شخص کے درمیان فضیلت کی مانند ہے۔" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک اللہ، اس کے فرشتے، آسمانوں اور زمینوں والے، یہاں تک کہ اپنے بل میں چیونٹی اور یہاں تک کہ مچھلی (بھی) ضرور لوگوں کو بھلائی سکھانے والے پر درود بھیجتے ہیں (1)۔" (2)

حواشی و حوالہ جات:

(1): امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابو عمار حسین بن حریث خزاعی کو کہتے سنا: میں نے فضیل بن عیاض کو کہتے سنا: (ایک ہی شخص) عالم (جاننے والا) بھی ہو، عامل (عمل کرنے والا) بھی ہو، اور معلم (سکھانے والا) بھی ہو، تو آسمانوں کی بادشاہی میں بڑا (عظیم) پکارا جاتا ہے۔
(2): اس حدیث کو درج ذیل کتب میں روایت کیا گیا ہے:
  1. (ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر 2685۔
  2. (مي): سنن الدارمي، حدیث نمبر 289۔
  3. (طب): معجم الكبير الطبراني، حدیث نمبر 7911۔
  4. صحیح الجامع للالبانی: حدیث نمبر 1838۔
  5. صحیح الترغیب والترہیب للالبانی: حدیث نمبر 81۔

حضرت ابودرداءؓ کی روایت میں ہے کہ:
۔۔۔عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے (چودھویں رات کے) چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔۔۔
[سنن ابن ماجه:223، (سنن أبي داود:3641)]

حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
فضیلت عالم کی عابد پر ستر (70) درجے ہے‘ ہر درجے میں اتنی مسافت ہے جتنی آسمان و زمین میں ہے۔
سورۃ البقرۃ:31، المجادلہ:11

حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسبات و نکات:
علم کی ناقابلِ موازنہ فضیلت:
پہلا جملہ علم کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے ایک انتہائی واضح اور مضبوط تشبیہ استعمال کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ و فضیلت اور عام انسان کے درمیان جو بے پناہ فرق ہے، اس جیسا ہی فرق ایک حقیقی عالم (جو علم رکھتا، اس پر عمل کرتا اور دوسروں کو سکھاتا ہے) اور محض ایک عابد (صرف ذاتی عبادت کرنے والا) کے درمیان ہے۔ یہ فضیلت اس لیے ہے کہ عالم کا نفع دوسروں تک پہنچتا ہے اور اس کا اثر ہمیشہ رہتا ہے۔
کائناتی درود و رحمت:
دوسرا جملہ اس فضیلت کی وجہ بتاتا ہے۔ جو شخص لوگوں کو خیر (دین کا علم، نیکی کی بات) سکھاتا ہے، اس پر صرف انسان یا فرشتے ہی نہیں، بلکہ ساری کائنات کی طرف سے درود و رحمت نازل ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ عمل کائنات کے نظامِ خیر کے عین مطابق ہے اور اللہ کو انتہائی محبوب ہے۔
علم، عمل اور تعلیم کا مجموعہ:
حاشیہ میں دی گئی فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کی بات حدیث کے مرکزی پیغام کو مکمل کرتی ہے۔ محض "جاننے" والا (عالم) یا صرف "کرنے" والا (عامل) ہی اعلیٰ درجہ نہیں رکھتا، بلکہ سب سے اعلیٰ مقام اسے حاصل ہے جو تینوں صفات کا مجموعہ ہو: علم بھی رکھتا ہو، اس پر عمل بھی کرتا ہو، اور اسے دوسروں تک پہنچاتا (معلم) بھی ہو۔ ایسا شخص ہی حقیقی وارث انبیاء ہے۔
اجتماعی نفع کی اہمیت:
حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام انفرادی عبادت کو پسند کرتا ہے، لیکن ایسا عمل جو دوسرے مسلمانوں کے نفع عام کا باعث بنے، اس کی فضیلت کہیں زیادہ ہے۔ علم سکھانا ایک ایسا ہی عمل ہے جس کا نفع لا محدود ہوتا ہے اور مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے (صدقہ جاریہ)۔
معلم کی ذمہ داری اور عزت:
حدیث ہر اس شخص کے لیے بہت بڑی ذمہ داری بھی رکھتی ہے جو علم سکھانے کی پوزیشن میں ہے، خواہ وہ استاد ہو، عالم ہو، یا کوئی بھی نیک بات سکھانے والا ہو۔ اسے احساس ہونا چاہیے کہ وہ ایک عظیم کام کر رہا ہے، جس پر پوری کائنات اس کے لیے دعاگو ہے۔ ساتھ ہی معاشرے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے معلمین کی عزت و توقیر کرے۔
خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں علم، عمل اور تعلیم کے مثلث کی اہمیت سکھاتی ہے۔ محض ذاتی عبادت سے بڑھ کر وہ علم ہے جسے اپنایا جائے، اس پر عمل کیا جائے اور دوسروں تک پہنچایا جائے۔ ایسا کرنے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کا مستحق بنتا ہے اور اس پر آسمان و زمین کی مخلوقات کی طرف سے درود نازل ہوتا ہے۔ یہ علماء کرام کی عظمت کا اعلان بھی ہے اور ہر نیکی سکھانے والے کے لیے حوصلہ افزائی بھی۔


شرح للمناوی:
(فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ) یعنی عالم کے شرف کا عابد کے شرف سے وہی نسبت ہے جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف کی صحابہ کرام میں سے سب سے ادنیٰ کے شرف سے ہے۔ کیونکہ آپ کے قول 'أَدْنَاكُمْ' (تم میں سے ادنیٰ) سے مخاطب صحابہ کرام ہیں، اور انہیں ایک حدیث میں ستاروں سے تشبیہ دی گئی ہے: 'میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں'۔ یہ تشبیہ اس بات کی طرف متنبہ کرتی ہے کہ عالم کے لیے عبادت ضروری ہے اور عابد کے لیے علم ضروری ہے، کیونکہ ان دونوں کی تشبیہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم (جو علم و عمل کے جامع تھے) اور ایک عام شخص سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ ان چیزوں (یعنی علم و عمل) میں شریک ہوں جن میں وہ فضیلت رکھتے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو، حالانکہ علم عمل کے لیے پیش خیمہ ہے اور عمل کی صحت علم پر موقوف ہے؟ یہ بات طیبی نے ذکر کی ہے۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا: عالم اس لیے افضل ہے کہ اگر عالم عبادت گزار نہ ہو تو اس کا علم اس پر وبال بن جائے گا۔ رہا بغیر فقہ (سمجھ) کے عبادت گزار، تو اپنی کمی کے باوجود وہ اس فقیہ سے کہیں بہتر ہے جس میں تعبد (عبادت کا جذبہ) نہ ہو، مثلاً وہ فقیہ جس کی ہمت صرف ریاست و بزرگی کے حصول میں مصروف ہو۔
ابن عربی رحمہ اللہ نے کہا: لفظ 'علم' کے اطلاقات (معانی) مختلف ہیں، جس سے اس کی تعریف اور حکم میں بھی اختلاف پیدا ہوتا ہے، جیسے لفظ 'عالم' اور 'علماء'۔ لفظ علم میں موجود ابہام (اشتباه) کی وجہ سے بہت سے لوگ حدیث 'فضل العالم على العابد' کے معنی میں غلطی کر گئے اور اسے موجودہ متعارف معنی میں فقیہ پر محمول کیا۔ حالانکہ حدیث میں 'عالم' اور 'عابد' کا تقابل (مقابلہ) اس بات کی نفی کرتا ہے کہ دونوں میں علم کی وہ صفت مشترک ہو جس سے تقابل ہوا ہے، جیسا کہ ظاہر ہے، کیونکہ بغیر علم فقہ کے کوئی عابد ہو ہی نہیں سکتا۔ اس سے بھی واضح تر دلیل یہ ہے کہ (اگر ایسا ہے تو) اس بات پر اتفاق ہے کہ عبادت اسی سے متعلق عملی علم سے افضل ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ عابد عالم سے افضل ہو، جبکہ حدیث اس کے خلاف صریح بیان ہے۔ واضح ہے کہ یہاں تفاضل (فضیلت دینا) محض عنوانی وصف (یعنی 'عالم' اور 'عابد' کے نام) کے اعتبار سے ہے، سمجھ لو۔
اس کے باوجود یہاں (اس مسئلے پر) توجیہات کم ہیں (مگر) بہت سی (غیر معتبر) ہیں، لیکن وہ تعسف (بے جا کھچاؤ) پر مبنی ہیں، لہٰذا محققین کے ہاں ان کی طرف التفات نہیں کیا جاتا۔ اس معاملے میں تحقیق وہی ہے جو حجۃ الاسلام (امام غزالی) نے فرمائی، اور ان کے الفاظ یہ ہیں: 'پھر جو علم عمل پر مقدم ہے، وہ یا تو عمل کے طریقے کا علم ہے، یعنی فقہ کا علم اور عبادات کے کیفیات کا علم ہے، یا اس کے علاوہ کوئی اور علم ہے۔ پہلی قسم مراد ہونا باطل ہے دو وجوہات کی بنا پر: پہلی یہ کہ (حدیث میں) عالم کا عابد پر فضیلت ہے، اور عابد وہ ہے جس کے پاس عبادات کا علم ہے، اگر وہ جاہل ہو تو وہ عابث اور فاسق ہے۔ دوسری یہ کہ عمل کے طریقے کا علم، خود عمل سے اشرف نہیں ہو سکتا، کیونکہ عملی علم مطلوب عمل کے لیے ہوتا ہے، اور جو چیز کسی اور کے لیے مطلوب ہو، وہ اس چیز سے اشرف نہیں ہو سکتی جس کے لیے وہ مطلوب ہے۔' ان کی بات یہاں تک ہے۔ اور ان کا 'اتفاق' کا دعویٰ درست نہیں ہے، کیونکہ علماء نے خود صراحت کی ہے کہ فقہ سیکھنے کے لیے خلوت اختیار کرنا (جو عبادت سے متعلق علم ہے) نوافل کی عبادت میں مشغول ہونے سے افضل ہے۔ سو آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ بات خود ان کے 'اتفاق' کے دعوے کی نفی کرتی ہے۔
(إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرَضِينَ حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ) یعنی اللہ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس بات کے خواہش مند ہیں کہ اسے ہر اس چیز سے پاک رکھا جائے جو نہیں ہونی چاہیے اور جو گندگی و آلودگی اسے لگ سکتی ہے۔ کیونکہ ان کے علم، عمل، رہنمائی اور فتویٰ کی برکت دنیا کے نظام کے درست چلنے کا سبب ہے۔ 'ثقلین' (انس و جن) اور فرشتوں کے ذکر کے بعد چیونٹی اور مچھلی کا ذکر تمام قسم کے جانوروں کو شامل کرنے کے لیے ہے، جو رحمن و رحیم کی روش پر ہے۔ چیونٹی اور مچھلی کا خاص طور پر ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ ان (علماء) کی برکت سے بارش نازل ہوتی ہے اور خیر و برکت حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: 'انہی (علماء) کی وجہ سے تمہیں نصرت دی جاتی ہے اور انہی کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے'۔ یہاں تک کہ وہ مچھلی جو دوسروں کی طرح علماء کے محتاج نہیں، کیونکہ وہ پانی کے اندر رہتی ہے اور ہمیشہ زندہ رہتی ہے، وہ بھی انہی کی برکت سے (رزق پاتی ہے)، یہ بات قاضی نے ذکر کی ہے۔
طیبی رحمہ اللہ نے کہا: آپ کا فرمان 'إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ' ایک مستقل جملہ ہے جو عالم اور عابد کے درمیان عظیم فرق کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ عابد کا نفع اس کی ذات تک محدود ہے، جبکہ عالم کا نفع تمام مخلوقات حتیٰ کہ چیونٹی تک پھیلا ہوا ہے۔ 'أَهْلَ السَّمَوَاتِ' کو فرشتوں پر عطف کرنا عرش اٹھانے والوں اور آسمانوں و زمین سے باہر کے مقامات کے رہنے والے مقرب فرشتوں کی تخصیص ہے، جیسا کہ نصوص میں ثابت ہے۔ 'يُصَلُّونَ' میں عقل والوں (اللہ، فرشتے، انسان) کو غیر عقل والوں (جانوروں) پر غلبہ دیا گیا ہے اور اشتراک ہے۔ کیونکہ صلاۃ (دعا) اللہ کی طرف سے رحمت، فرشتوں کی طرف سے استغفار اور دیگر (مخلوقات) کی طرف سے دعا و طلب ہے۔ چیونٹی کا ذکر اور اس کی تخصیص اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی دعا آسمان سے نازل ہونے والی برکت کے حصول کی صورت میں ہے۔ کیونکہ چیونٹی کا شیوہ جمع کرنا اور اپنا رزق اپنے بل میں ذخیرہ کرنا ہے۔ پھر اس سے ترقی کرتے ہوئے مچھلیوں تک (ذکر) پہنچا اور 'حتی' کا لفظ دوبارہ ترقی کے اظہار کے لیے آیا ہے۔ اللہ کی طرف سے 'صلاۃ' رحمت کے معنی میں ہے اور فرشتوں کی طرف سے استغفار کے معنی میں ہے، جیسا کہ دوسری روایت میں اس سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس شخص کی رتبہ سے بڑھ کر کوئی رتبہ نہیں جس کے لیے فرشتے اور تمام مخلوقات قیامت تک استغفار اور دعا میں مشغول رہیں۔ 433 اسی لیے اس کا ثواب اس کی موت کے بعد بھی منقطع نہیں ہوتا۔ اور یہ کہ ایک صالح آدمی کی دعا کے لیے (دنیا میں) مقابلہ ہوتا ہے، تو پھر ملأ اعلیٰ (اللہ اور فرشتوں) کی دعا کا کیا کہنا!
رہے جانوروں کا اس کے لیے استغفار کی تلقین (الہام) پانا، تو اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انہیں بندوں کی مصلحتوں اور ان کے فوائد کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اور علماء ہی وہ ہیں جو ان (جانوروں) میں سے جو حلال ہے اور جو حرام ہے اس کی وضاحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ احسان کرنے، حتیٰ کہ ذبح کرنے میں بھی احسان اور مثلہ سے منع کرنے کی وصیت کرتے ہیں۔ سو ان کا اس کے لیے استغفار اس نعمت کا شکریہ ہے۔ اور یہ بات انسانوں کے حق میں اور بھی مؤکد ہے، کیونکہ ان کی علم کی ضرورت زیادہ شدید ہے اور اس کے فوائد کا ان پر واپس لوٹنا زیادہ کامل ہے۔
(ت) امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی سنن کے 'کتاب العلم' میں (عن أبي أمامة الباهلي) حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ایک عابد تھا اور دوسرا عالم تھا، پھر آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔ امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث غریب ہے، اور ایک نسخے میں ہے: 'حسن صحیح'۔ صدر المناوی نے کہا: اس میں ولید بن جمیل راوی ہے، جسے ابو زرعہ نے 'لین' (کمزور) قرار دیا ہے۔"
[فیض القدیر-للمناوی:5859]

حدیث اور اس شرح سے حاصل ہونے والے اہم نکات:

عالم کی جامع تعریف:
حقیقی 'عالم' وہ نہیں جو صرف کتابی علم رکھتا ہو، بلکہ وہ ہے جو علم بھی رکھتا ہو، اس پر عمل (عبادت) بھی کرتا ہو، اور دوسروں کو سکھاتا (معلم) بھی ہو۔ علم اور عمل کا یہ اجتماع ہی فضیلت کی اصل بنیاد ہے۔
علم کی اقسام اور تفاضل:
شرح میں علم کی مختلف اقسام (جیسے عبادات کا طریقہ جاننے کا علم، اور اللہ کی معرفت کا علم) اور ان کے درجات پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ فقہ (احکام کا علم) اگرچہ ضروری ہے، لیکن اگر وہ عمل اور تقویٰ سے خالی ہو تو وہ وبال بھی بن سکتا ہے۔
معلم پر کائناتی درود کا فلسفہ:
یہ درود محض ایک فضیلت نہیں، بلکہ اس کائناتی نظام کا حصہ ہے۔ علماء کی تعلیم و رہنمائی سے معاشرہ درست رہتا ہے، فساد رکتا ہے، حتیٰ کہ جانوروں اور ماحول تک میں برکت آتی ہے۔ اس لیے ان پر درود درحقیقت اس نظامِ خیر کی بقا کی دعا ہے۔
علم کے اجتماعی فائدے:
عابد کا فائدہ زیادہ تر انفرادی ہے، جبکہ عالم کا فائدہ پوری کائنات تک پھیل جاتا ہے۔ اسلام ہمیشہ اجتماعی نفع کو انفرادی نفع پر ترجیح دیتا ہے۔
نیت اور مقصد کی اہمیت:
علم اگر ریاست و بزرگی کے حصول کا ذریعہ بن جائے تو وہ خطرناک ہے۔ جبکہ بے علم عابد اپنی خلوص کی وجہ سے علم کے بغیر ریاکار عالم سے بہتر ہے۔




حدیث نمبر 6
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " فَضْلٌ فِي عِلْمٍ , خَيْرٌ مِنْ فَضْلٍ فِي عِبَادَةٍ "
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "علم میں (حاصل کی گئی) برتری، عبادت میں (حاصل کی گئی) برتری سے بہتر ہے۔"

[شعب الإيمان للبيهقي:5751، ابن حبان فى الضعفاء (2/ 269، ترجمة 955 محمد بن عبد الملك أبو عبد الله الأنصاري)، ابن عدي (6/ 160 ترجمة 1649)، صحیح الجامع:1727، صحیح الترغیب:68، مشكاة المصابيح:255]

حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:

علم کی بنیادی فضیلت:
یہ حدیث علم کی فضیلت کو بیان کرنے والی بنیادی احادیث میں سے ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص علم حاصل کرنے میں اور اس میں مہارت پیدا کرنے میں زیادہ ترقی کر لے، تو یہ اس شخص سے بہتر ہے جو صرف نوافل اور ذاتی عبادات میں زیادہ ترقی کرے۔

علم کا اثر دیرپا اور وسیع:
عبادت کا اثر زیادہ تر انفرادی ہوتا ہے، جبکہ علم کا اثر اجتماعی اور دیرپا ہوتا ہے۔ ایک عالم کا علم نہ صرف اسے فائدہ پہنچاتا ہے بلکہ اس کے ذریعے ہزاروں لاکھوں لوگ ہدایت پاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کا علم لوگوں کو فائدہ دیتا رہتا ہے (صدقہ جاریہ)۔

عبادت کی بنیاد علم ہے:
یہ حدیث اس اصول کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ بغیر علم کے عبادت صحیح نہیں ہو سکتی۔ علم ہی یہ بتاتا ہے کہ عبادت کیسے کی جائے، کن شرائط کے ساتھ درست ہے۔ لہٰذا، علم میں برتری دراصل عبادت کو درست بنانے والی بنیاد ہے۔

معیارِ فضیلت:
اسلام میں فضیلت کا معیار صرف راتوں کو جاگ کر عبادت کرنا یا دنوں کے روزے رکھنا نہیں، بلکہ نفع بخش علم حاصل کرنا اور اسے پھیلانا ہے۔ یہ وہ علم ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچنوائے، حلال و حرام سکھائے اور انسان کو آخرت کے لیے تیار کرے۔

علماء کی ذمہ داری:
اس حدیث سے علماء پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ علم حاصل کرنے اور اس میں مہارت پیدا کرنے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں، کیونکہ یہ ان کی ذاتی عبادت سے کہیں زیادہ افضل کام ہے۔

حدیث کی اسنادی حیثیت:
جیسا کہ حوالہ جات سے ظاہر ہے، بعض محدثین نے اس حدیث کی سند میں کچھ راویوں پر کلام کیا ہے، جبکہ امام البانی جیسے عصرِ حاضر کے محقق محدث نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس کا معنیٰ یہ ہوا کہ اس کا مفہوم دیگر صحیح احادیث سے مضبوطی سے ثابت ہے۔

خلاصہ:
یہ مختصر مگر جامع حدیث ہمیں علم کی عظمت کا وہ پہلو سکھاتی ہے کہ علم حاصل کرنا اور اس میں بڑھنا محض ایک پسندیدہ فعل نہیں، بلکہ ذاتی عبادت سے بھی افضل درجہ رکھتا ہے، کیونکہ اس کا نفع عام ہوتا ہے اور یہ امت کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔




پہلی عبارت کی شرح للمناوی:
"(العلم خير من العبادة) یعنی علم عبادت سے بہتر ہے۔ کیونکہ علم عبادت کی بنیاد اور ستون ہے، بے علم کی گئی عبادت باطل ہوتی ہے۔ ابن عطاء اللہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اور ان احادیث میں 'علم' سے مراد وہ نفع بخش علم ہے جو نفس کی خواہشوں کو مارنے والا اور رکھنے والا ہو، جو خشیت سے گھرا ہوا ہو، اور جس کے ساتھ خوفِ الہی اور رجوع الی اللہ پایا جائے۔ رہا وہ علم جس کے ساتھ دنیا کی رغبت، اس کے فرزندوں (دنیا دار لوگوں) کی خوشامد، اسے حاصل کرنے کے لیے ہمہ تن مصروفیت، ذخیرہ اندوزی میں جمع کرنا، فخر اور زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی خواہش اور لمبی امیدیں وابستہ ہوں، تو وہ اس (حقیقی علم) سے کس قدر دور ہے۔

(وملاك الدين الورع) یعنی دین کی اصل کامیابی پرہیزگاری میں ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔

(ابن عبد البر) یعنی امام ابن عبد البر نے اپنی کتاب 'التمہید' وغیرہ میں علم کے باب میں (عن أبي هريرة) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس مضمون کی روایت کی ہے۔ نیز دیلمی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔"
[فیض القدیر:5714]

اس عبارت سے اہم نکات:
علم کی فضیلت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ عبادت کو صحیح بناتا ہے۔ بغیر علم کے عبادت فاسد ہو سکتی ہے۔
ہر علم افضل نہیں۔ فضیلت صرف اس علم کو حاصل ہے جو دل میں خشیت و خوف پیدا کرے، نفسانی خواہشات کو توڑے اور انسان کو اللہ کی طرف رجوع کروائے۔
وہ علم جو دنیا کی طمع، جمع اندوزی، شہرت اور لمبی امیدوں کے لیے ہو، وہ حقیقی علم نہیں بلکہ علم کے بھیس میں ایک وبال ہے۔
دین کی اصل کامیابی اور مضبوطی "ورع" یعنی پرہیزگاری اور ہر مشتبہ چیز سے بچنے میں ہے۔

دوسری عبارت کی شرح للمناوی:
"(العلم خير من العمل) یعنی علم عمل سے بہتر ہے۔ اس لیے کہ علم دل کا کام ہے، اور دل اعضاء میں سب سے زیادہ معزز ہے، جبکہ عمل ظاہری جوارح (اعضاء) کا کام ہے۔ اور عمل کا صحیح ہونا علم پر موقوف ہے، کیونکہ عمل تبھی مقصود ہو سکتا ہے جب اس کا علم ہو، اور قصد (نیت) دل سے نکلتا ہے۔ لہٰذا علم شرف اور حالت دونوں اعتبار سے عمل پر مقدم ہے، کیونکہ پہلے چیز کا علم ہوتا ہے پھر اس پر عمل کیا جاتا ہے۔

(وملاك الدين الورع والعالم من يعمل) یعنی دین کی اصل کامیابی پرہیزگاری میں ہے، اور حقیقی عالم وہ ہے جو عمل کرے۔ جو عمل نہ کرے وہ جاہل کے برابر ہے، بلکہ جاہل اس سے بہتر ہے، کیونکہ (عالم کا) علم اس کے خلاف حجت (دلیل) بن جائے گا۔ علم کے راستے کا انحصار اور اس کا نتیجہ عمل ہے۔ علم کا فائدہ صرف اس پر عمل کرنے میں ہے، کیونکہ علم بغیر عمل کے بے کار ہے اور عمل بغیر علم کے باطل ہے۔ کیونکہ عمل اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا جب تک اس کے طریقے کا علم نہ ہو، اور علم کا فائدہ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتا جب تک سنت کے مطابق اس پر عمل نہ کیا جائے۔

بعض عارفین نے کہا ہے: علم سے عمل صحیح ہوتا ہے، عمل سے حکمت حاصل ہوتی ہے، حکمت سے زهد (دنیا سے بے رغبتی) کی توفیق ملتی ہے، زهد سے دنیا ترک ہوتی ہے، دنیا ترک کرنے سے آخرت کی رغبت پیدا ہوتی ہے، اور آخرت کی رغبت سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔

(أبو الشيخ [ابن حبان]) یعنی امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں (عن عبادة بن الصامت) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور دیلمی نے بھی انہی سے اسے روایت کیا ہے۔"
[فیض القدیر:5715]

اس عبارت سے اہم نکات:

علم کی فضیلت کا ایک اور پہلو:
علم دل کا فعل ہے اور دل تمام اعضاء کا حکمران ہے، اس لیے اس کا فعل (یعنی علم) اعضاء کے فعل (یعنی عمل) سے افضل ہے۔

علم اور عمل کا ناقابلِ تقسیم تعلق:
علم اور عمل ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ علم بغیر عمل کے بے کار اور عمل بغیر علم کے باطل ہے۔

حقیقی عالم کی پہچان:
صرف علم رکھنے والا عالم نہیں، بلکہ حقیقی عالم وہ ہے جو اپنے علم پر عمل پیرا ہو۔ غیر عامل عالم جاہل سے بدتر ہے، کیونکہ اس کا علم قیامت میں اس کے خلاف دلیل بنے گا۔

علم کا مقصد:
علم کا اصل مقصد اور اس کا حتمی نتیجہ عمل صالح ہے۔ علم ایک ذریعہ ہے، مقصود اللہ کی رضا ہے جو عمل کے بغیر نہیں مل سکتی۔

کمالِ روحانی کی منزل:
عبارت کے آخر میں ایک عارفانہ کلام پیش کیا گیا ہے جو علم سے شروع ہو کر اللہ کی رضا پر منتج ہوتا ہے۔ یہ علم و عمل، حکمت و زهد، اور دنیا و آخرت کے درمیان ایک مکمل روحانی سفر کو بیان کرتا ہے۔

مجموعی خلاصہ:
یہ دونوں شروحات علم کی فضیلت کے اسی وسیع تر مفہوم کی وضاحت کرتی ہیں جس کی طرف پچھلی احادیث اشارہ کر رہی تھیں۔ علم کی فضیلت محض معلومات جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اس نفع بخش، عمل آفرین، اور دل کو زنگ آلودگی سے پاک کرنے والے علم میں ہے جو انسان کو آخرت میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ یہ علم ہی ہے جو عبادت کو صحیح بناتا ہے اور عمل کو قبولیت کی سند دیتا ہے۔




حدیث نمبر 6
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ (1) مَلْعُونٌ مَا فِيهَا , إِلَّا ذِكْرُ اللهِ، وَمَا وَالَاهُ (2) وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ "(3)
ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"سنو! بیشک دنیا ملعون ہے (1)، جو کچھ اس میں ہے وہ ملعون ہے، سوائے اللہ کا ذکر، اور اس سے ملتا جلتا (نیک عمل) (2)، اور (سوائے) عالم یا طالب علم کے۔"(3)

حواشی وحوالہ جات:

شرح (1): یعنی دنیا اللہ کی ناراضگی کا باعث ہے، کیونکہ یہ (اپنی محبت میں) اللہ سے دور کرنے والی ہے۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 6، صفحہ 107)

شرح (2): یعنی اللہ کی محبت والے نیک اعمال اور قربت کے کام۔
یا اس کا معنی یہ ہے: جو چیز اللہ کے ذکر سے ملتی جلتی ہو، یعنی اس کے قریب ہو، جیسے کوئی اچھا ذکر، یا اللہ کے امر و نہی کی اتباع۔ کیونکہ اس کا ذکر اس (اتباع) کا سبب بنتا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 6، صفحہ 107)

حدیث کے مصادر (3): اس حدیث کو درج ذیل کتب میں روایت کیا گیا ہے :
(ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر 2322۔
(جة): سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4112۔
صحیح الجامع للالبانی: حدیث نمبر 1609۔
السلسلة الصحیحة للالبانی: حدیث نمبر 2797۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:

دنیا کی اصل حیثیت:
حدیث دنیا اور اس میں موجود چیزوں کے لیے "ملعون" کا لفظ استعمال کر کے ہمیں اس کی عارضی، فریب اور آزمائش سے بھری ہوئی اصل حیثیت سے آگاہ کرتی ہے۔ یہ ایک بنیادی اسلامی تعلیم ہے کہ دنیا کو مقصدِ حیات نہیں بنانا چاہیے۔

اللہ کا ذکر ہی نجات ہے:
دنیا اور اس کی ہر چیز سے نجات صرف اور صرف "ذکرِ الہی" میں ہے۔ یہ ذکر صرف زبانی تکبیر و تسبیح ہی نہیں، بلکہ ہر وہ عمل ہے جو اللہ کے حکم، رضا یا اس کی یاد کے تعلق سے کیا جائے۔ یہ حدیث ہر مسلمان کو اپنی مصروفیات کا مرکز اللہ کا ذکر بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔

علم اور اہل علم کی عظمت:
انتہائی قابل غور بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے "اللہ کا ذکر" کے فوری بعد ہی "عالم اور متعلم" کا ذکر کیا۔ اس سے علم اور اہل علم کی عظیم فضیلت واضح ہوتی ہے۔ گویا علم حاصل کرنا اور سکھانا بھی اللہ کے ذکر کے قبیل سے ہے، بلکہ علم ہی ذکر کی صحیح شکل سکھاتا ہے۔

علم دنیا کی لعنت سے مبرا:
دنیا میں موجود تمام چیزیں اگر مقصدِ حیات بن جائیں تو لعنت کا سبب ہیں، لیکن علمِ دین حاصل کرنا اور سکھانا اس لعنت سے مستثنیٰ اور مبرا ہے۔ اس لیے علم کی محفل، علم کی کتاب اور علم کی بات ہر لعنت سے پاک اور باعث برکت ہے۔

عملی اطلاق:
اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی، اپنی کمائی، اپنے اوقات اور اپنی محبت کو ان تین پاکیزہ چیزوں کے تابع کرنا چاہیے:
اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت۔
وہ تمام نیک اعمال جو اللہ کی رضا کے قریب کرنے والے ہوں۔
دین کا علم سیکھنا اور سکھانا۔
باقی سب کچھ فانی اور باعثِ آزمائش ہے۔

طالب علم کا مرتبہ:
حدیث میں "متعلم" (سیکھنے والے) کو بھی خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں علم حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے کا بھی وہی عظیم مقام ہے جو علم سکھانے والے کا ہے۔ یہ ہر اس نوجوان اور طالب علم کے لیے بہت بڑی عزت اور ترغیب ہے جو دین کا علم حاصل کر رہا ہے۔




پہلی روایت کی شرح للمناوی:
"(إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ (1)) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطرود اور دور کی ہوئی ہے۔ کیونکہ اس نے اسے پیدا کرنے کے بعد اس کی طرف (رغبت سے) نہیں دیکھا۔ (مَلْعُونٌ مَا فِيهَا) یعنی جو کچھ اللہ تعالیٰ سے غافل کرنے اور اس سے دور کرنے والا ہو، نہ کہ وہ جو اس کے قریب کرے۔ کیونکہ وہ پسندیدہ اور محبوب ہے، جیسا کہ آپ کے فرمان (إِلَّا ذِكْرَ اللهِ وَمَا وَالَاهُ) میں اشارہ ہے۔ یعنی دنیا میں سے وہ چیز جسے اللہ محبوب رکھتا ہے، اور وہ ہے نیک عمل۔ اور 'موالات' دو افراد کے درمیان محبت کو کہتے ہیں، اور یہ ایک ہی شخص کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے، اور یہی مراد یہاں ہے۔

(وَعَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا) ان دونوں کو نصب کے ساتھ 'ذکر اللہ' پر عطف کیا گیا ہے۔ اور ترمذی کی روایت میں 'عالم أو متعلم' الف (تنوین) کے بغیر آیا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ مرفوع ہوں (کیونکہ استثناء منقطع ہے)، بلکہ اس لیے کہ بہت سے محدثین کا معمول خط (کتابت) میں الف کو گرانا تھا۔

حکیم ترمذی نے فرمایا: آپ نے دنیا اور اس میں موجود چیزوں کے ذکر سے اس بات کی طرف تنبیہ کی ہے کہ ہر وہ چیز جس میں اللہ کی رضا مطلوب ہو، وہ لعنت سے مستثنیٰ ہے، اور اس کے سوا سب کچھ ملعون ہے۔ پس زمین اپنے اوپر موجود چیزوں کے ذریعے بندوں کے گناہوں کا سبب بنی، تو اس وجہ سے وہ اپنے رب سے دور ہو گئی، کیونکہ وہ اس کے بندوں کے لیے دل بہلانے کا سامان ہے۔ اور جو چیز جتنی اپنے رب سے دور ہو، اس سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔

(ت ھ) امام ترمذی اور امام نسائی نے اپنی سنن کے کتاب الزہد کے باب میں (عن أبي هريرة) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، اور امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ امام مناوی نے کہا: اس کی سند دونوں (ترمذی و نسائی) کی جید (اچھی) ہے۔"

حاشیہ (1): علقمی نے کہا، دمیری نے کہا، ابو العباس قرطبی نے کہا: اس حدیث سے دنیا کو مطلقاً لعنت و سب کرنا جائز نہیں سمجھا جائے گا، جیسا کہ ہم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دنیا کو برا مت کہو، کیونکہ دنیا مومن کے لیے ایک اچھی سواری ہے، اس پر وہ بھلائی تک پہنچتا ہے اور اس کے ذریعے شر سے بچ جاتا ہے۔ اور جب بندہ کہتا ہے کہ اللہ دنیا پر لعنت کرے، تو دنیا کہتی ہے: اللہ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے رب کی نافرمانی کرے۔" یہ دنیا کو برا کہنے اور اس پر لعنت کرنے سے منع کرتا ہے۔ دونوں احادیث کے درمیان جمع یہ ہے کہ دنیا میں سے جس چیز پر لعنت جائز ہے وہ وہ ہے جو اللہ سے دور کرنے والی اور اس سے غافل کرنے والی ہو، جیسا کہ بعض سلف نے فرمایا: "ہر وہ چیز جو تمہیں اللہ سے غافل کر دے، خواہ مال ہو یا اولاد، تم پر منحوس ہے۔" اور یہی وہ چیز ہے جس کی مذمت اللہ تعالیٰ کے قول {إِنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ...} میں کی گئی ہے۔ رہی وہ چیز جو دنیا میں سے اللہ کے قریب کرنے والی ہو اور اس کی عبادت میں مددگار ہو، تو وہ ہر زبان میں قابل تعریف اور ہر انسان کے لیے محبوب ہے۔ پس ایسی چیز کو برا نہیں کہا جائے گا، بلکہ اس کی خواہش کی جائے گی اور اسے پسند کیا جائے گا۔ اور اسی کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول (إِلَّا ذِكْرَ اللهِ وَمَا وَالَاهُ) میں اشارہ ہے۔ انتہی۔
[فیض القدیر:1927]



دوسری روایت کی شرح للمناوی:
"(الدنيا ملعونة) کیونکہ اس نے اپنی رنگینی، لذتوں اور عبادت سے ہٹا کر خواہشات کی طرف مائل کرنے کے ذریعے نفسوں کو دھوکہ دیا، یہاں تک کہ وہ ہدایت کے راستے کے سوا دوسرے راستے پر چل پڑے۔ (ملعون ما فيها إلا ذكر الله وما والاه) یعنی دنیا میں سے وہ چیز جو اللہ کو محبوب ہے۔ اور 'موالات' دو افراد کے درمیان محبت ہے، اور یہ ایک ہی شخص کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے، اور یہی مراد یہاں ہے: یعنی دنیا میں موجود ہر چیز ملعون ہے سوائے اللہ کے ذکر کے اور دنیا میں جاری ہونے والی اس چیز کے جسے اللہ نے محبوب بنایا ہو، اور اس کے سوا سب کچھ ملعون ہے۔

اشرفی نے کہا: 'ما والاه' سے مراد اللہ کی اطاعت، اس کے امر کی پیروی اور اس کے نہی سے بچنا ہے، کیونکہ اللہ کا ذکر اس کا تقاضا کرتا ہے۔

(وعالما أو متعلما) یعنی دنیا اور اس میں موجود ہر چیز اللہ تعالیٰ سے دور کرنے والی ہے سوائے وہ نفع بخش علم کے جو اللہ کی طرف رہنمائی کرے۔ پس یہی مقصود ہے اور اسی میں سے آپ کا قول 'عالما أو متعلما' ہے، نصب کے ساتھ 'ذکر اللہ' پر عطف ہے کیونکہ یہ منفی حکم ('ملعون') سے مستثنیٰ ہے۔ اور اسے رفع کے ساتھ بھی روایت کیا گیا ہے۔ طیبی نے کہا: نصب ظاہر ہے، اور رفع تاویل پر ہے، گویا یہ کہا گیا: 'دنیا مذموم ہے، اس میں سے سوائے اللہ کے ذکر اور عالم و متعلم کے کچھ بھی قابل تعریف نہیں۔'

ظاہری طور پر تو 'ما والاه' پر اکتفا کرنا چاہیے تھا، کیونکہ اس میں تمام بھلائیاں، فضیلتیں اور شرعاً پسندیدہ چیزیں شامل ہیں، لیکن آپ نے عموم کے بعد خصوصیت بیان کی تاکہ عالم و متعلم کی فضیلت اور ان کے مقام کی بزرگی صراحتاً واضح ہو، اور یہ اشارہ ہو کہ ان کے سوا تمام لوگ بے حیثیت ہیں، اور اس بات کی طرف تنبیہ ہو کہ 'عالم' اور 'متعلم' سے مراد وہ علماء باللہ ہیں جو علم و عمل دونوں کو جمع کیے ہوئے ہیں۔ اس سے جاہل، اور وہ عالم جو اپنے علم پر عمل نہ کرے، اور وہ شخص جو فضول اور دین سے غیر متعلق کام کرے، سب خارج ہو جاتے ہیں۔

اس میں یہ بھی ہے کہ ذکر اللہ بہترین اعمال اور ہر عبادت کی جڑ ہے۔ یہ حدیث حکمت کے خزانوں اور جامع کلمات میں سے ہے، کیونکہ یہ منطوق (الفاظ) کے ذریعے تمام اچھی صفات کی، اور مفہوم کے ذریعے تمام بری صفات کی دلیل ہے۔

<تنبیہ> ابن عطاء اللہ نے کہا: دنیا کی تحقیر کرنا جبکہ تم اس کی طرف مائل ہو، جھوٹ اور بہتان ہے۔ اور اللہ کی تعظیم اس حال میں کرنا کہ تم اس سے روگرداں ہو، محرومی کی علامتوں میں سے ہے۔ تم کیسے امید رکھتے ہو کہ تمہاری اس کے ہاں قدر ہو جبکہ اس نے تمہیں اس چیز کا غلام بنا دیا ہے جس کی اس کے ہاں کوئی قدر نہیں؟ اگر تم اس کے سوا باقی رہنے والی چیزوں میں مشغول ہوتے تو بھی یہ تمہارے لیے اس کے ہاں عذر نہ ہوتا، خواہ تم کسی ایسی باقی چیز میں مشغول ہوتے جو باقی رہتی، تو پھر جب تم کسی فانی چیز میں مشغول ہو جو فنا ہو جائے گی (تو کیا حال ہوگا)۔

<تنبيه> حکیم ترمذی نے کہا: دنیا یہی وہ دار ہے جس کی زمین کو کوہ قاف نے گھیرا ہوا ہے، اور وہ دوسرا دار ہے جو آخرت ہے، اور یہ پہلا دار ہے۔ اسے 'دنیا' اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ تمہارے قریب کر دی گئی ہے، اور آخرت اس کے بعد آتی ہے اس لیے اسے 'عاقبت' کہا جاتا ہے، اور عاقبت پرہیزگاروں کے لیے ہے۔ اس دار میں زینت اور زندگی ہے۔ پس اس (دنیا) کی زینت کا منبع وہی (آخرت) ہے، لیکن وہ اس زمین سے اگتی اور نشوونما پاتی ہے جو اس کے سونے، چاندی اور جواہرات ہیں۔ اور شہوت کی اصل شرمگاہ سے ہے، اور لذت کی اصل ذہن سے ہے، اور قالب (جسم) کی اصل مٹی سے ہے۔ اور زندگی روح میں بسیرا کرتی ہے، اور روح دماغ میں بسیرا کرتی ہے جو پورے جسم میں پھیلی ہوئی ہے، اور اس کی اصل دل کی رگ سے معلق ہے، جو اس کی شریان ہے۔ اور نفس پیٹ میں بسیرا کرتا ہے، جو پورے جسم میں پھیلا ہوا ہے، اور اس کی اصل اسی رگ سے بندھی ہوئی ہے۔ اور شہوات نفس میں ہیں، اور لذت انہی سے ہے، اور ان کا عمل ذہن میں ہے، پس اس میں زینت ہے۔ اور زندگی جو نفس میں ہے، یہ اس قالب کو استعمال کرتی ہے: جو کام آنکھ کا ہے، آنکھ کی طرف نکلتا ہے، جو سننے کا ہے، کان کی طرف، جو بولنے کا ہے، زبان کی طرف، جو ہاتھ یا پیر کا عمل ہے، اسی کی طرف، جو شرمگاہ کا عمل ہے، اسی کی طرف، اور جو پیٹ کا عمل ہے، اسی کی طرف۔ پس ساتوں ظاہری اعضاء کے کاموں کا مخرج وہ خوشی ہے جو دل میں ہے، اور وہ زینت و زندگی جو نفس میں ہے۔ اور جب دل غمگین ہوتا ہے تو نفس ذلیل ہو جاتا ہے، شہوت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور اعضاء کام کرنے سے معطل ہو جاتے ہیں۔ اور جب خوشی ہوتی ہے تو نفس ہیجان میں آتا ہے اور مضبوط و نرم ہو جاتا ہے، اور شہوت کی آگ کو بھڑکاتا ہے اور اعضاء کو استعمال میں لاتا ہے۔ پس ہر آگ اس عضو کو استعمال کرتی ہے جو اس کے مقابل ہے۔ خوشی اعضاء کے اعمال کی بنیاد ہے۔ اور بندہ مغلوب ہے، پس جب دل کسی چیز کی زینت سے خوش ہوتا ہے تو اس کے دل میں موجود نور سے آراستہ ہوتا ہے، پھر وہ خوشی اللہ کے لیے ہوتی ہے، اور حمدِ الہی بولتا ہے، اور اطاعت و شکر کا ارادہ کرتا ہے۔ پھر اس خوشی کی سلطنت اس کے سینے سے تمام اعضاء میں پھیل جاتی ہے، تو اس کی سستی جاتی رہتی ہے، اس کا عزم مضبوط ہوتا ہے، اس کا نفس پاکیزہ ہوتا ہے، اور وہ حمد و شکر کرنے والا بن جاتا ہے۔ اور اگر دل اس زینت سے خوش ہوا اور اس کا دل اللہ کے ہاں محجوب ہو، اور اس کا سینہ ہوا کی بادلوں، شہوت کے دھوئیں اور گناہوں کے میل سے تاریک ہو، تو وہ اپنے دل کی آنکھ سے اس زینت میں اللہ کی صنعت نہیں دیکھ پاتا، پس وہ خوشی نفس کے لیے ہوتی ہے، اور دنیا کی خوشی ہوتی ہے، پھر برائی اعضاء سے ظاہر ہوتی ہے، اور بدن سے برائیاں نکلتی ہیں، ہر برائی اپنے منبع سے: رحمت کی کمی اور لاپروائی سے۔ اور سختی، خشکی، کھردرا پن اور سنگدلی اور کم ترین اخلاق ظاہر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اعضاء دھوکہ، مکر، فریب، بری نیتوں اور ارادوں تک پہنچ جاتے ہیں، یہاں تک کہ سرکشی اور تکبر تک نکل جاتا ہے۔ اور ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا اور ان لذتوں سے خوشی، شادی اور غرور کے ساتھ لطف اٹھاتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ سارا معاملہ خوشی سے شروع ہوتا ہے۔ پس جو شخص ہر عمل میں اس (خوشی) کو اللہ کی طرف موڑنے پر قادر ہوا، اس کا دل منور ہوا، ورنہ وبال میں گرفتار ہوا۔ اگر اس نے وہ (خوشی) اللہ کے لیے کردی تو اس کے رب کے ہاں اس کی عاجزی اور خضوع میں اضافہ ہوا، اس نے اس کی حمد کی، اور اس نے اسے اپنے تمام اعضاء کے ساتھ شکر ادا کرنے اور اس کی فرائض قائم کرنے پر آمادہ کیا۔ اور جو اس پر قادر نہ ہوا، اس کی خوشی نے اسے غلام بنا لیا، تو وہ نفس کے قیدیوں میں سے ایک قیدی بن گیا۔ اور جب نفس کو خوشی ملتی ہے تو یہ ایسا ہوتا ہے جیسے ایک غاصب شخص کو خزانہ مل جائے، تو وہ اسے اوباشوں میں بانٹ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے مددگار بن جاتے ہیں، پھر وہ اس طاقت کے ساتھ شہر کے حاکم کے خلاف بغاوت کرتا ہے تو وہ اسے قید کر دیتا ہے۔ اگر امام اعظم (اللہ) امداد سے اس کی مدد کرے تو اس نے اس کی نصرت کی، ورنہ حکومت ختم ہو جاتی ہے۔ دل کا نفس کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔ {قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا}۔ پس دنیا کی خوشی دین اور دل کی ہلاکت ہے، اور فضل و رحمت کی خوشی اللہ تک پہنچاتی ہے۔

جب وہ (اللہ) کسی بندے کو اس پست دنیا اور بری خواہشات کی طرف مائل دیکھتا ہے تو وہ اس سے روگرداں ہو جاتا ہے، تو شیطان اس پر قابض ہو جاتا ہے، اور اس کی ہمت اس کی دنیا بن جاتی ہے، اور اس کی حرص اس کے نفس کی خواہشات، اور اس میں بلندی حاصل کرنے کی طلب بن جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنے رب کے فیصلوں اور اس کی تدبیر کے مخالف ہو جاتا ہے، اور اس (دنیا) کے ذریعے اپنی عمر کو ضائع کرتا ہے، پس وہ دنیا و آخرت دونوں کو گنوا بیٹھتا ہے۔ اور جب وہ اسے اپنے رب کی طرف مائل دیکھتا ہے تو وہ اس کے لیے ایسی تدبیر تیار کرتا ہے جس کے ذریعے وہ دونوں جہانوں کی سعادت حاصل کر لیتا ہے۔

دنیا میں جو کچھ ہے سب فائدہ اٹھانے کی چیز ہے۔ اور وہ صرف اس لیے مذموم اور ملعون ہے کہ اس نے اپنے نعم، رنگینی اور لذت سے نفسوں کو دھوکہ دیا ہے۔ جب نفس نعمت کا ذائقہ چکھ لیتا ہے تو وہ چاہتا ہے اور عبادت سے ہٹ کر اپنی خواہش کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اللہ نے یہ چیزیں مسخر کر رکھی ہیں، انسان انہیں ضرورت کے لیے لے نہ کہ خواہش پوری کرنے کے لیے۔ اور لعنت صرف دنیا کی اس چیز پر ہے جو تمہیں دھوکہ دے، نہ کہ اس کے نعم اور لذت پر، کیونکہ انبیاء نے بھی انہیں پایا ہے۔ پس وہی چیز ہے جسے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول 'إلا ذكر الله' وغیرہ سے مستثنیٰ کیا ہے۔

(ھ عن أبي هريرة طس عن أبي مسعود) امام نسائی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور امام طبرانی نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ طبرانی نے کہا: اسے ثوبان سے، انہوں نے عبدہ سے، صرف ابو المطرف مغیرہ بن مطرف نے روایت کیا ہے۔ ہیثمی نے کہا: میں نے کسی کو بھی اس کا ذکر کرتے نہیں دیکھا۔"
[فیض القدیر:4281]



تیسری روایت کی شرح للمناوی:
"(الدنيا ملعونة ملعون ما فيها إلا ما كان منها لله عز وجل) ممکن ہے کہ اس کے ملعون ہونے سے مراد اس کی لذتوں اور اس کے ٹوٹے ہوئے سامان (حطام الدنیا) کو جمع کرنا ہو، اور عورتوں، بیٹوں، سونے چاندی کے ڈھیروں اور دنیا میں بقا کی محبت کو زینت دینا ہو۔ تو آپ کا قول 'ملعونة' یعنی چھوڑی ہوئی، دور کی ہوئی، اس میں جو کچھ ہے وہ چھوڑا ہوا ہے، اور لعنت چھوڑنے کے لیے ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد یہ ہو کہ وہ انبیاء اور برگزیدہ لوگوں کے لیے چھوڑی ہوئی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: 'دنیا ان (کافروں) کے لیے ہے اور آخرت ہمارے لیے ہے۔'
(حل والضياء) امام مندی اور امام ضیاء مقدسی نے (عن جابر بن عبد الله) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ مصنف (منذری) نے اسے 'حسن' قرار دینے کی علامت لگائی ہے۔"
[فیض القدیر:4280]

پانچویں روایت کی شرح للمناوی:
"(الدنيا ملعونة ملعون ما فيها إلا أمرا بمعروف أو نهيا عن منكر أو ذكرا لله) کیونکہ یہ چیزیں اگرچہ دنیا میں ہوتی ہیں لیکن دنیا سے نہیں ہیں، بلکہ آخرت کے ان اعمال میں سے ہیں جو ہمیشہ رہنے والی نعمت تک پہنچاتے ہیں۔ حکیم ترمذی نے کہا: پس ہر وہ چیز جو امور و اعمال میں سے اللہ کی رضا کے لیے ہو، وہ لعنت سے مستثنیٰ ہے، کیونکہ وہ اللہ کے ذکر میں پناہ گزیں ہے۔ اور کافر، شیاطین اور ہر وہ امر یا عمل جس میں اللہ کی رضا مطلوب نہ ہو، وہ ملعون ہے۔ یہ زمین اپنے اوپر موجود چیزوں کے ذریعے بندوں کے گناہوں کا سبب بنی، تو اس وجہ سے وہ اپنے رب سے دور ہو گئی، کیونکہ وہ اس کے بندوں کے لیے اس سے غافل کرنے والی ہے۔ اور ہر وہ چیز جو اپنے رب سے دور ہو، اس سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔
(البزار) نے اپنی مسند میں (عن ابن مسعود) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ مصنف (منذری) نے اسے 'صحیح' قرار دینے کی علامت لگائی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے جیسا انہوں نے گمان کیا۔ ہیثمی نے کہا: اس میں مغیرہ بن مطرف ہے، میں اسے نہیں جانتا، اور باقی راوی ثقہ ہیں۔"
[فیض القدیر:4282]


پانچویں روایت کی شرح للمناوی:
"(الدنيا ملعونة ملعون ما فيها إلا ما ابتغي به وجه الله تعالى) اس حدیث اور اس سے پہلے والی چار حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مذموم اور مبغوض ہے، سوائے اس سے متعلق چیز کے جو کسی فساد کو دور کرنے یا کسی مصلحت کو حاصل کرنے کے لیے ہو۔ نیک عورت سے زنا میں پڑنے کے فساد کو دفع کیا جاتا ہے، امر بالمعروف مصلحتوں کو حاصل کرنے کا مجموعہ ہے، اور ذکر عبادت کا مجموعہ، ولایت کا پرچم اور سعادت کی کنجی ہے۔ اور ہر چیز میں اللہ کی رضا مطلوب ہوتی ہے۔

اس حدیث اور اس سے پہلے والی حدیثوں میں اس شخص کے لیے دلیل ہے جس نے غنی پر فقر کو فضیلت دی۔ انہوں نے کہا: کیونکہ اللہ نے دنیا پر لعنت کی ہے، اس سے نفرت کی ہے اور اسے ناپسند کیا ہے سوائے اس چیز کے جو اس کے لیے ہو۔ اور جو شخص اس چیز کو محبوب رکھے جس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس سے اس نے نفرت کی ہے، وہ یقیناً اس کی لعنت اور غضب کا مستحق ہے۔

(طب عن أبي الدرداء) امام طبرانی نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ مصنف (منذری) نے اسے 'صحیح' قرار دینے کی علامت لگائی ہے، لیکن یہ درست نہیں۔ ہیثمی نے کہا: اس میں خراش بن مہاجر ہے، میں اسے نہیں جانتا، اور باقی راوی ثقہ ہیں۔ لیکن منذری نے کہا: اس کی سند میں کوئی حرج نہیں۔"
[فیض القدیر:4283]

حدیث اور اس شروحات سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:
دنیا کی لعنت کا صحیح مفہوم:
"دنیا ملعون ہے" کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی تمام نعمتیں، لذتیں اور خوبصورتیاں ہی بری ہیں۔ بلکہ لعنت اور مذمت کا تعلق اس کے غلط استعمال، اسے مقصدِ حیات بنانے، اور اس میں غرق ہو کر اللہ سے غافل ہو جانے سے ہے۔ جس طرح آپ نے پہلی شرح کے حاشیے میں واضح فرمایا۔

مستثنیات:
نجات کے تین ذرائع:
لعنت سے بچنے کے لیے تین راستے بتائے گئے ہیں:

ذکر اللہ:
ہر وہ قول و فعل جو اللہ کی یاد، اس کی عبادت اور اس کی رضا کے تعلق سے ہو۔

ما والاہ:
وہ تمام نیک اعمال جو ذکر اللہ سے ملتے جلتے یا اس کے تقاضے ہوں، جیسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر، اللہ کی خاطر علم حاصل کرنا اور سکھانا، نیک بیوی کا انتخاب وغیرہ۔

عالم یا متعلم:
دین کا نفع بخش علم رکھنے یا حاصل کرنے والا۔ یہاں تک کہ اسے ذکر اللہ ہی کی ایک شکل قرار دیا گیا ہے۔

علم و عمل کا مجموعہ ہی نجات ہے:
صرف علم کافی نہیں۔ شروحات میں بارہا "علماء باللہ" کی وضاحت کی گئی ہے، یعنی وہ لوگ جو اللہ کا علم رکھتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں، اور دوسروں کو سکھاتے ہیں۔ علم اگر عمل، خشیت اور اللہ کی طرف رجوع نہ کروائے تو وہ وبال بن سکتا ہے۔

دنیا ایک ذریعہ ہے، مقصد نہیں:
دنیا کو ایک "سواری" یا "ذریعہ" کے طور پر استعمال کرنا مقصود ہے نہ کہ اسے جائے قرار بنانا۔ اس کا استعمال آخرت کی کامیابی کے حصول کے لیے ہونا چاہیے۔

دل کی حالت کی اہمیت:
دوسری لمبی شرح میں یہ گہرا نفسیاتی و روحانی نکتہ بیان ہوا کہ ہر عمل کی بنیاد دل کی "خوشی" (فرح) ہے۔ اگر یہ خوشی کسی چیز کی ظاہری زینت دیکھ کر اللہ کی یاد اور شکر کی طرف لے جائے تو یہی نجات ہے۔ اور اگر وہی خوشی صرف نفسانی لذت اور دنیاوی شان و شوکت کے حصول پر مرکوز ہو جائے تو یہی ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔

عمل کی نیت کا فیصلہ کن کردار:
ہر چیز کی قبولیت اور اس کا دنیا کی لعنت سے استثناء نیت پر منحصر ہے۔ اگر کوئی کام خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، چاہے وہ حلال روزی کمانا ہو یا نیک عورت سے شادی کرنا، تو وہ مذموم نہیں بلکہ مطلوب و محبوب ہے۔

خلاصہ:
یہ حدیث اور اس کی شروحات ہمیں دنیا کے ساتھ ایک متوازن اور دانش مندانہ رویہ سکھاتی ہیں۔ یہ دنیا کو مکمل طور پر ترک کرنے کا درس نہیں دیتی، بلکہ اسے صحیح مقصد (اللہ کی رضا) کے لیے، صحیح ذریعہ (حلال روزی) سے، اور صحیح تناسب (ضرورت کے مطابق) میں استعمال کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اس کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ نجات صرف اللہ کی یاد، اس کی رضا کے اعمال، اور اس کے دین کے علم میں ہے۔



جنت کا آسان راستہ - تلاشِ علم کیلئے نکلنا:
حدیث نمبر 7
عَنْ قَيْسِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ: (كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رضي الله عنه - فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ , إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ - صلى الله عليه وسلم -) (١) (فَقَالَ: مَا أَقْدَمَكَ يَا أَخِي؟ , قَالَ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: أَمَا جِئْتَ لِحَاجَةٍ؟ , قَالَ: لَا , قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَةٍ؟ , قَالَ: لَا , مَا جِئْتُ إِلَّا فِي طَلَبِ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا) (٢) (يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا) (٣) (سَهَّلَ اللهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا) (٤) (مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا) (٥) (لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَصْنَعُ (٦)) (٧) (وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ , وَمَنْ فِي الْأَرْضِ , حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْبَحْرِ (٨) وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ , كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ (٩) إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ , إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا, إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ, فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ (١٠) ") (١١)
ترجمہ:
قَیس بن کثیر کہتے ہیں: "میں دمشق کی مسجد میں ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابوالدرداء، میں آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر (مدینہ) سے آیا ہوں (١)۔
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: بھائی، تمہیں کس چیز نے (یہاں) لایا ہے؟ اس نے کہا: ایک حدیث جو مجھے پہنچی ہے کہ آپ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم کسی ضرورت کے لیے نہیں آئے؟ اس نے کہا: نہیں۔ پوچھا: کیا تجارت کے لیے نہیں آئے؟ اس نے کہا: نہیں، میں صرف اس حدیث کی طلب میں آیا ہوں۔ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے:
'جو شخص کوئی راستہ اختیار کرے (٢) جس میں وہ علم طلب کرے (٣)، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس (علم) کے باعث جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ آسان فرما دے گا (٤)۔ اور بے شک فرشتے اپنے پروں کو (٥) طالبِ علم کی خوشی سے اس کے کام پر رکھ دیتے ہیں (٦) (٧)۔ اور بے شک عالم کے لیے آسمانوں اور زمین میں جو کوئی ہے، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی استغفار کرتی ہیں (٨)۔ اور عالم کا عابد پر فضیلت اس طرح ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کا باقی تمام ستاروں پر فضیلت ہے (٩)۔ بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء نے دینار و درہم (مال و دولت) کا ورثہ نہیں چھوڑا، بلکہ انہوں نے علم کا ورثہ چھوڑا ہے۔ پس جس نے اسے لیا، اس نے بہت زیادہ حصہ لے لیا (١٠)'" (١١)

حواشی و حوالہ جات:

(١)حوالہ: سنن ابوداؤد:حدیث نمبر3641، سنن ابن ماجہ:حدیث نمبر223۔
(٢)حوالہ: سنن ترمذی:حدیث نمبر2682، سنن ابن ماجہ:حدیث نمبر223۔
(٣)حوالہ: سنن ابوداؤد:حدیث نمبر3641، صحيح ابن حبان:84۔
(٤)حوالہ: صحيح مسلم :حدیث نمبر2699۔
(٥)حوالہ: سنن ابوداؤد،حدیث نمبر3641، سنن ترمذی:حدیث نمبر2682)، صحيح  مسلم:حدیث نمبر2699۔
(٦)شرح: اس کی معنی یہ ہے کہ فرشتے علم کی تعظیم میں طالب علم کے لیے عاجزی کرتے ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {اور ان دونوں (ماں باپ) کے لیے رحمت کے ساتھ عاجزی کا پر جھکا دو} یعنی ان کے سامنے تواضع کرو۔
یا مقصد یہ ہے کہ (فرشتے) اڑنے سے رک جاتے ہیں اور ذکر (علم) کے لیے اتر آتے ہیں۔
یا اس کا معنی ہے: مدد اور علم کی طلب میں مشقت کو آسان کرنا۔
یا مقصد نرمی، اطاعت اور اس پر رحمت و شفقت کی طرف جھکاؤ ہے۔
یا مقصد اس کا حقیقی معنی ہے، اگرچہ وہ نظر نہ آئے، اور وہ یہ کہ فرشتے طالب علم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں تاکہ اسے اٹھا کر اس کے شہر کے مقام تک پہنچائیں۔
(عون المعبود، جلد 8، صفحہ 137)
(٧)حوالہ: شعب الإيمان للبيهقي:1696، سنن ترمذی:3536، سنن نسائی:158، سنن ابوداؤد:3641، صحيح ابن حبان:1319۔ نیز صحیح الجامع:6297، صحیح الترغیب:70۔
(٨)شرح: مچھلی کا خاص طور پر ذکر اس وہم کو دور کرنے کے لیے ہے کہ "زمین میں جو ہے" یہ تعبیر سمندر میں موجود مخلوقات کو شامل نہیں کرتی۔
(تحفة الاحوذی، جلد 6، صفحہ 481)
(٩)شرح: قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم کو چاند سے اور عابد کو ستاروں سے تشبیہ دی، کیونکہ عبادت کا کمال اور اس کا نور عابد تک ہی محدود رہتا ہے، جبکہ عالم کا نور دوسروں تک پھیلتا ہے۔
(تحفة الاحوذی، جلد 6، صفحہ 481)
(١٠)شرح: یعنی اس نے نبوّت کے ورثے کا بہت بڑا حصہ لے لیا۔
(تحفة الاحوذی، جلد 6، صفحہ 481)
(١١)حوالہ: سنن ترمذی:2682، سنن ابوداؤد:3641، سنن ابن ماجہ:223۔

(1) قرآن کے ورثاء:
القرآن :
ثُمَّ أَورَثنَا الكِتٰبَ الَّذينَ اصطَفَينا مِن عِبادِنا ۖ فَمِنهُم ظالِمٌ لِنَفسِهِ وَمِنهُم مُقتَصِدٌ وَمِنهُم سابِقٌ بِالخَيرٰتِ بِإِذنِ اللَّهِ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَضلُ الكَبيرُ
ترجمہ:
پھر ہم نے وارث کئے کتاب کے وہ لوگ جن کو چن لیا ہم نے اپنے بندوں میں سے پھر کوئی ان میں برا کرتا ہے اپنی جان کا اور کوئی ان میں ہے بیچ کی چال پر اور کوئی ان میں آگے بڑھ گیا ہے لیکر خوبیاں اللہ کے حکم سے یہی ہے بڑی بزرگی۔
[سورۃ الفاطر:35]

یعنی پیغمبر کے بعد اس کتاب کا وارث اس امت کو بنایا جو بہیأت مجموعی تمام امتوں سے بہتر و برتر ہے ہاں امت کے سب افراد یکساں نہیں ۔ ان میں وہ بھی ہیں جو باوجود ایمان صحیح کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں (یہ { ظَالِمٌ لِنَفْسِہٖ } ہوئے) اور وہ بھی ہیں جو میانہ روی سےرہتے ہیں۔ نہ گناہوں میں منہمک نہ بڑے بزرگ اور ولی (ان کو مقتصد فرمایا) اور ایک وہ کامل بندے جو اللہ کے فضل و توفیق سے آگے بڑھ بڑھ کر نیکیاں سمیٹتے اور تحصیل کمال میں مقتصدین سے آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ مستحب چیزوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اور گناہ کے خوف سے مکروہ تنزیہی بلکہ بعض مباحات تک سے پرہیز کرتے ہیں۔ اعلیٰ درجہ کی بزرگی اور فضیلت تو ان کو ہے۔ ویسے چنے ہوئے بندوں میں ایک حیثت سے سب کو شمار کیا۔ کیونکہ درجہ بدرجہ بہشتی سب ہیں۔ گنہگار بھی اگر مومن ہے تو بہرحال کسی نہ کسی وقت ضرور جنت میں جائے گا۔ حدیث میں فرمایا کہ ہمارا گنہگار معاف ہے، یعنی آخر کار معافی ملے گی۔ اورمیانہ سلامت ہے اور آگے بڑے سو سب سے آگے بڑھے، اللہ کریم ہے اس کے یہاں بخل نہیں۔

انبیاء علیہم السلام مال ودولت کا وارث نہیں بناتے، بلکہ وہ علم دین کا وارث بناتے ہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
”انما العلماء ورثة الانبیاء، وان الانبیاء لم یورثوا دیناراً ولا درہماً، انما ورثوا العلم…،،۔
اس حدیث کی بنیاد پر علماء ملت کی بھی وہی ذمہ داریاں ہوگئیں جو ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو سونپی تھیں، گویا اب دنیا کی کسی سپر پاور کو انبیاء علیہم السلام کی یہ وراثت کتنی ہی چبھے اور کتنی ہی ان سیاہ کاروں کے لئے سوہان روح ہو، علماء اس وراثت سے دست بردار ہونے والے نہیں، بلکہ رسول اللہ ا کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ اس وراثت کے علم برداروں کو پیدا کرتا رہے گا اور وہ اس وراثت کا حق ادا بھی کریں گے اور جب علماء ملت انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں تو ان وارثین کے ساتھ بھی وہی معاملات ہوں گے اور ہوتے چلے آئے ہیں کہ جو خود انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوئے۔ البتہ علمائے ملت ان مصائب میں اپنے ایمانی، روحانی درجات کے بقدر مبتلا ہوں گے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: 
”اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الامثل فالامثل۔
ترجمہ:
لوگوں میں سخت ترین امتحان انبیاء کا ہوتا ہے پھر درجہ بدرجہ۔
[سنن ابن ماجه :4024، صحيح ابن حبان:2900+2921+2920]


حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:
علم کی طلب میں سفر کی عظمت:
یہ حدیث علم کی خاطر سفر کرنے اور اسے حاصل کرنے کی جدوجہد کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ ایک شخص صرف ایک حدیث سننے کے لیے مدینہ منورہ سے دمشق تک کا سفر کرتا ہے، جو طلب علم کے جذبے اور اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

علم جنت تک پہنچانے والا راستہ:
حدیث کا سب سے پہلا وعدہ یہ ہے کہ علم کا راستہ اختیار کرنا جنت کے راستوں کو آسان بنانے کا سبب ہے۔ یہ علم کی نتیجہ خیزی اور اس کے اخروی ثواب کی واضح دلیل ہے۔

فرشتوں کی خصوصی عنایت:
فرشتوں کا طالب علم کے لیے اپنے پروں کو بچھانا یا جھکانا علم و اہل علم کی عظمت اور اللہ کے ہاں ان کے بلند مقام کی نشانی ہے۔ یہ طالب علم کے لیے بے پناہ حوصلہ افزائی ہے۔

کائناتی استغفار:
ایک عالم کے لیے صرف انسان یا فرشتے ہی نہیں، بلکہ ساری کائنات کی طرف سے استغفار و دعا ہوتی ہے، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عالم کا نفع ہمہ گیر اور کائناتی ہے۔

عالم اور عابد میں فرق:
عالم اور عابد کی فضیلت میں فرق کو چاند اور ستاروں کی مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ عابد کا نور اور نفع ذاتی ہوتا ہے، جبکہ عالم کا نور اور نفع دوسروں تک پہنچتا ہے، جس طرح چاند کا نور ساری دنیا کو منور کرتا ہے۔

علماء انبیاء کے حقیقی وارث:
یہ حدیث علماء کی عظمت کی انتہا بیان کرتی ہے کہ وہ انبیاء کے حقیقی وارث ہیں۔ انبیاء کرام مال دنیا نہیں چھوڑتے، بلکہ علم چھوڑتے ہیں۔ جو شخص اس علم کو حاصل کرتا ہے، وہ گویا انبیاء کے خزانے کا وارث بن جاتا ہے۔

علم کی نیت کی پاکیزگی:
حدیث کے شروع میں طالب علم کا یہ بیان کہ وہ نہ تجارت کے لیے آیا ہے نہ کوئی اور دنیاوی غرض، بلکہ صرف علم کے لیے آیا ہے، یہ بتاتا ہے کہ علم کی نیت خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔

علم حاصل کرنے کا جذبہ:
یہ واقعہ صحابہ کرام کے علم کے شوق اور اسے حاصل کرنے کے لیے ان کی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے، جو آج کے ہر طالب علم کے لیے نمونہ ہے۔

خلاصہ:
یہ حدیث علم اور اہل علم کی فضیلت پر ایک انتہائی جامع اور قیمتی بیان ہے۔ یہ علم کی طلب، حصول اور تبلیغ کے ہر مرحلے پر اللہ کی خصوصی رحمت، فرشتوں کی تعظیم اور ساری کائنات کی دعاؤں کی بشارت دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا علم سیکھنا اور سکھانا محض ایک علمی مشغلہ نہیں، بلکہ یہ جنت تک پہنچنے کا راستہ اور انبیاء کے ورثے کا حقدار بننے کا ذریعہ ہے۔





پہلی عبارت کی شرح للمناوی:
"(من سلك طريقا) (حقیقی) محسوس راستہ یا (مجازی) معنوی راستہ، اور ہم نے 'طریق' کو نکرہ لایا ہے تاکہ وہ ان تمام قسم کے راستوں کو شامل ہو جو دینی علوم کی تمام اقسام کو حاصل کرنے تک پہنچائیں۔ (يلتمس) یہ حال یا صفت ہے، یعنی 'طلب کرتا ہے'۔ پس اس کے لیے 'لمس' (چھونا) کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے، اور یہ ایک روایت ہے۔ (فيه) یعنی اس (طریق) کی منزل یا سبب میں۔ اور اس میں حقیقی معنی مراد لینا بہت بعید ہے کیونکہ یہ بہت ہی کم ہوتا ہے۔ (علما) نکرہ لایا گیا ہے تاکہ ہر علم اور اس کے آلے (وسیلے) کو شامل ہو، اور اس میں تھوڑا اور زیادہ، سب داخل ہو جاتا ہے۔

اسے 'قصدِ وجہ اللہ' کی قید لگانا یہاں ضروری نہیں ہے، کیونکہ یہ شرط ہر عبادت میں ہے۔ لیکن اس قائل (شارح) کا یہاں یہ عذر ہے کہ علم میں ریا کا احتمال زیادہ ہے، اس لیے اخلاص کی طرف تنبیہ کی ضرورت تھی۔ اور آپ کے قول 'يلتمس' کا ظاہر یہ ہے کہ وعدہ کیا گیا ثواب حاصل کرنے کے لیے علم کے حصول ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ اگر اس نے سچی نیت سے پوری کوشش کی تو یہ ثواب حاصل ہو جاتا ہے، خواہ کسی وجہ سے (مثلاً ذہنی کندی کی وجہ سے) کچھ حاصل نہ بھی ہوا ہو۔

(سهل الله له به) یعنی اس (علم یا سعی) کی وجہ سے۔ (طريقا) آخرت میں یا دنیا میں، اس طرح کہ اسے نیک عمل کی توفیق دے دے۔ (إلى الجنة) یعنی اس راستے پر چلنے کو جو 'سلك' سے سمجھ آتا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے۔ اور طیبی رحمہ اللہ نے کہا: 'به' میں ضمیر 'من' (طالب علم) کی طرف لوٹتی ہے اور 'باء' تعدیہ (سبب بنانے) کے لیے ہے، یعنی اللہ اسے جنت کے راستے پر چلنے کی توفیق دے گا۔
انہوں نے کہا: یہ بھی جائز ہے کہ ضمیر 'علم' کی طرف لوٹے اور 'باء' سببیت کے لیے ہو، اور 'من' کی طرف لوٹنے والا ضمیر محذوف ہو۔ معنی یہ ہوگا: اللہ نے اس کے لیے علم کی وجہ سے جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ آسان کر دیا۔ اور یہ اس لیے کہ علم محنت اور مشقت سے حاصل ہوتا ہے، اور بہترین اعمال وہ ہیں جو زیادہ پختہ ہوں۔ پس جس نے اس کی طلب میں مشقت اٹھائی، اس کے لیے جنت کی راہیں آسان کر دی جائیں گی، خصوصاً اگر مقصود حاصل ہو جائے۔
ابن جماعہ رحمہ اللہ نے کہا:
سب سے ظاہر بات یہ ہے کہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے یہ جزا دے گا کہ اس (علم) کے ذریعے اسے ایسا راستہ چلایا جائے گا جس میں نہ کوئی دشواری ہوگی نہ ہولناکی، یہاں تک کہ اسے سالم (محفوظ) حالت میں جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ پس اس نے واضح کر دیا کہ علم ہی کامیابی کا ساتھی، سیادت (سرداری) کی بنیاد، آخرت میں نجات کی سیڑھی، اور نفوس کے باطن و ظاہر کے اخلاق کی درستی کا ذریعہ ہے۔ پس یہ کتنا اچھا رہنما اور درست راستے کی طرف ہدایت کرنے والا ہے۔

اور دونوں ظرفوں ('فيه' اور 'به') کو مقدم کرنا اختصاص کے لیے ہے، کیونکہ جنت کے راستے کو آسان کرنا خاص طور پر اللہ ہی کا کام ہے، اور اس کے مقابلے میں دوسرے (کا عمل) گویا عدم (کچھ نہیں) ہے، کیونکہ اس کے حق میں غیر مفید ہے۔ اور اسی طرح اس کے سبب کے لحاظ سے، کیونکہ اس سبب کے علاوہ دوسرے آسان کرنے والے اسباب گویا عدم ہیں، کیونکہ یہ آسان کرنے والے اسباب میں سب سے مضبوط سبب ہے۔

اور اس میں علم اور اہل علم کی شرف و فضیلت پر دنیا و آخرت میں واضح دلیل ہے۔ لیکن بات نفع بخش علم کے بارے میں ہے، کیونکہ اسی پر مذکورہ جزا کا انحصار ہے، جیسا کہ مقرر ہوا۔

(ت) امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی سنن کے کتاب العلم کے باب میں (عن أبي هريرة) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ مصنف (منذری) نے اسے 'حسن' قرار دینے کی علامت لگائی ہے۔ مصنف کے طریقۂ کار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث دونوں صحیح (بخاری و مسلم) میں سے کسی میں نہیں ہے، ورنہ وہ صرف ترمذی کی طرف منتقل نہ ہوتے۔ یہ اس امام (منذری) کی طرف سے عجیب بات ہے جو وسیع الاطلاع رکھتے تھے، کیونکہ امام مسلم نے اسے اسی لفظ کے ساتھ روایت کیا ہے، سوائے اس کے کہ انہوں نے 'يلتمس' کے بجائے 'يطلب' کہا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ وہ اس سے غافل ہو گئے۔"
[فیض القدیر:8756]



دوسری عبارت کی شرح للمناوی:
"(إِنَّ الْمَلَائِكَةَ) احتمال ہے کہ مراد تمام فرشتے ہوں، اور احتمال ہے کہ زمین میں موجود فرشتے مراد ہوں۔ (لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا) 'أَجْنِحَة' 'جَنَاح' کی جمع ہے جس پر فتحہ ہے، اور یہ پرندے کے لیے ہاتھ کی مانند ہے (1)۔ زمخشری نے کہا: اور مجاز میں سے ہے 'اس کے لیے اپنا پر جھکا لیا'۔
(لِطَالِبِ الْعِلْمِ) شرعی علم کا طلبگار تاکہ اس پر عمل کرے اور اسے نہ جاننے والے کو اللہ کی رضا کے لیے سکھائے۔ (رِضًا بِمَا يَطْلُبُ) اور ایک روایت میں 'بما يصنع' ہے۔ اور 'اپنے پر رکھ دیتی ہے' اس بات کی تعبیر ہے کہ وہ اس کے مجلس میں حاضر ہوتی ہیں، یا اس کی تعظیم و توقیر کرتی ہیں، یا اسے اس کے مقاصد تک پہنچنے میں مدد کرتی ہیں، یا اس کے دشمنوں کے مکر و فریب کے مقابلے میں کھڑی ہو جاتی ہیں اور ان کے شر سے اسے بچاتی ہیں، یا یہ ان کے تواضع اور اس کے لیے دعا کرنے کی تعبیر ہے۔ متواضع آدمی کے لیے کہا جاتا ہے: 'خافض الجناح' (جھکے ہوئے پر والا)۔
سید سَمْهُودِی رحمہ اللہ نے کہا:
اور سب سے قریب یہ ہے کہ اس کا معنی وہ ہو جو ان تمام معانی کو جمع کرے، جیسا کہ روایات کے مختلف الفاظ کی جمع اس کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرشتوں کو بتایا کہ وہ زمین میں خلیفہ بنانے والا ہے، تو انہوں نے اس کی مخلوق کی عظمت کے پہلو سے سوال کیا کہ ایسی مخلوق جو فساد اور خونریزی کرے گی، کیسے خلیفہ ہو گی؟ تو اللہ نے فرمایا: {بے شک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے}۔ اور پھر آدم علیہ السلام سے فرمایا: {انہیں ان کے نام بتاؤ}، {پس جب انہیں بتا دیا} تو فرشتے عاجز ہو گئے اور انہوں نے آدم کے فضل (علم کا) کو دیکھا۔ پھر اللہ نے علم کے فضل کے سامنے خضوع اور سجدہ کرنا ان پر لازم کر دیا، تو وہ سجدے میں گر پڑے۔ انہوں نے ادب سیکھ لیا۔ پس جب بھی کسی انسان میں علم ظاہر ہوتا ہے، وہ علم اور اس کے اہل کی تعظیم میں اس کے سامنے جھک جاتے اور عاجزی کرتے ہیں۔ یہ (تو) طالب علم کے بارے میں ہے، پھر اس (خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں کیا کہنا!
<فائدہ>
امام نووی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب 'بستان العارفین' میں سند کے ساتھ زکریا ساجی سے روایت کی ہے: ہم کسی محدث کے پاس جاتے ہوئے بصرہ کی گلیوں میں چل رہے تھے تو ہم نے جلدی کی۔ ہمارے ساتھ ایک فاسق آدمی تھا، اس نے (طعنہ زنی کرتے ہوئے) کہا: اپنے پاؤں فرشتوں کے پروں سے اٹھاؤ، انہیں توڑ مت ڈالنا۔ وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا یہاں تک کہ اس کے دونوں پیر خشک ہو گئے اور وہ گر پڑا۔ حافظ عبدالقادر رہاوی نے کہا: اس حکایت کی سند ایسی ہے جیسے ہاتھوں ہاتھ لی گئی ہو یا گویا آنکھوں دیکھی ہو، کیونکہ اس کے راوی ائمہ ہیں اور اسے روایت کرنے والا امام ہے۔ پھر نووی نے سند کے ساتھ حافظ محمد بن طاہر مقدسی سے، انہوں نے ابوداؤد سے روایت کی: 'احادیث کے طلبگاروں میں ایک بدکار شخص تھا۔ اس نے حدیث 'إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا...' سنی تو اس نے اپنے جوتے اور پیر میں لوہے کی میخیں لگا لیں اور کہا: میں فرشتوں کے پروں پر پاؤں رکھنا چاہتا ہوں۔ آخرکار اس کے پیروں میں کوڑھ (گنگری娜) ہو گیا۔' امام ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل تیمی نے شرح مسلم میں اس حکایت کا ذکر کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ اس کے دونوں ہاتھ، دونوں پیر اور باقی اعضاء مفلوج ہو گئے۔"
[فیض القدیر:2123]

تیسری عبارت کی شرح للمناوی:
"(فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ) امام بیضاوی رحمہ اللہ نے کہا: عبادت ایک کمال اور نور ہے جو عابد کی ذات سے وابستہ ہوتا ہے، اس سے باہر نہیں نکلتا، اس لیے اس نے ستاروں کے نور کی مشابہت پائی۔ اور علم ایک ایسا کمال ہے جو عالم کے لیے اس کی ذات میں شرف و فضیلت کا سبب بنتا ہے اور اس سے دوسروں کی طرف پھیلتا ہے۔ پس اس کا نور اور کمال عام ہوتا ہے اور اس کے ذریعے دوسرے کامل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ایسا کمال ہے جو عالم کی ذات میں نہیں ہوتا، بلکہ اس کا نور اسے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے، اس لیے اسے چاند سے تشبیہ دی گئی۔
ہماری رائے میں وہ عالم جو فضیلت دیا گیا ہے، عمل سے خالی نہیں ہوتا، اور نہ ہی عابد علم سے خالی ہوتا ہے۔ بلکہ (یہ کہ) اس (عالم) کا علم اس کے عمل پر غالب ہے، اور اس (عابد) کا عمل اس کے علم پر غالب ہے۔ اور اسی وجہ سے علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا ہے۔
'فضل' سے مراد آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو عطا کیے جانے والے جنت کے درجات، اس کی لذتیں، اس کے کھانے پینے، جسمانی نعمتوں یا قرب کے مقامات، اس کے دیدار اور اس کے کلام کے سننے کی لذت، اور پردہ اٹھ جانے پر حاصل ہونے والی الہی معرفتوں کی لذت وغیرہ کی کثرت ہے۔
ابن المُلَقَّن رحمہ اللہ نے کہا:
اس میں یہ ہے کہ علم کا نور عبادت کے نور سے زیادہ ہوتا ہے، جیسا کہ اسے چاند اور باقی ستاروں سے مثال دی گئی ہے۔
<تنبیہ> ابن عربی رحمہ اللہ نے کہا:
عالم صاحبِ حال سے افضل ہے۔ کیونکہ صاحبِ حال کا حکم مجنون کی مانند ہے، نہ اس کے لیے (نیکی) لکھی جاتی ہے نہ اس پر (برائی)، جبکہ عالم کے لیے لکھا جاتا ہے اور اس پر (بھی) لکھا جاتا ہے۔ پس صاحبِ علم صاحبِ حال سے زیادہ کامل ہے۔ کیونکہ حال دنیا میں نقص اور آخرت میں کمال ہے، جبکہ علم یہاں بھی کمال ہے اور آخرت میں بھی کمال ہے۔
<تنبیہ>
ان احادیث میں 'عالم' سے مراد وہ ہے جس نے اپنا وقت تعلیم، فتویٰ دینے، تصنیف کرنے اور اس جیسے کاموں کے لیے صرف کیا ہو۔ اور 'عابد' سے مراد وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ کر صرف عبادت کے لیے منقطع ہو گیا ہو، خواہ وہ عالم ہی ہو۔"
[فیض القدیر:5860]

چوتھی عبارت کی شرح للمناوی:
"(الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ) کیونکہ میراث قریب ترین شخص کو منتقل ہوتی ہے، اور امت میں سے دین کے اعتبار سے سب سے قریب وہ علماء ہیں جنہوں نے دنیا سے اعراض کیا اور آخرت کی طرف متوجہ ہوئے، اور وہ امت میں انبیاء کے بدل (جانشین) بنے، جنہوں نے دونوں بھلائیاں (علم اور عمل) حاصل کیں اور دونوں فضیلتیں (کمال اور تکمیل) اپنے میں جمع کر لیں۔
اپنے زمانے کے قطب، شیخ الاسلام ابوحفص سہروردی رحمہ اللہ نے امام رازی رحمہ اللہ کو لکھا: جب علم کے سرچشمے اور ذخیرے ہوا و ہوس سے پاک ہو جاتے ہیں، تو اسے اللہ کی وہ کلمات مدد دیتی ہیں جن کی گہرائی سمندروں سے بھی زیادہ ہے اور وہ ختم نہیں ہوتی۔ اور علم اپنی پوری قوت پر باقی رہتا ہے، خیالات کے گوشوں میں اس کے گھومنے سے اس کی کمزوری نہیں آتی۔ اور اسی کی قوت سے سیدھی سمجھ حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ علم میں رسوخ رکھنے والوں کی منزل ہے جو عمل کی صورت سے متصف ہیں، اور وہ انبیاء کے وارث ہیں۔ ان کا عمل علم پر غالب ہے اور ان کا علم عمل پر غالب۔ پس ان کے اعمال پاک ہو گئے اور لطیف ہو گئے، تو وہ راز کی سرگوشیاں اور روحانی گفتگو بن گئے۔ پس اعمال علوم کے ساتھ اپنی لطافت کے باعث صورت پذیر ہوئے، اور علوم اعمال کے ساتھ اپنی قوت اور استعدادوں میں سرایت کرنے کے باعث صورت پذیر ہوئے۔ اور یہی سب سے بڑا ورثہ ہے۔ کیونکہ (دنیا کے) وارث تو محض اہل دنیا کے حکم سے دنیا کا مال ورثہ پاتے ہیں، جبکہ رسول اپنے وارثوں کو ربانی حکمت کا ورثہ دیتے ہیں۔
جان لو کہ جس طرح نبوت کے مرتبہ سے بلند کوئی مرتبہ نہیں، اسی طرح اس مرتبہ کے وارث کے شرف سے بڑھ کر کوئی شرف نہیں۔ ابن عربی رحمہ اللہ نے کہا: اور وارثین کا مقام اس سے اعلیٰ کوئی مقام نہیں، (وہ) ایک ایسا مشاہدہ ہے جس کے ساتھ نہ زبان حرکت کرتی ہے نہ دل گھبراتا ہے، (ان کی) منہ کھلے رہ جاتے ہیں، ان پر ذات کے انوار قابض ہو جاتے ہیں اور ان پر صفات کی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ وہ اللہ کی وہ دلہنیں ہیں جو اس کے پاس چھپی ہوئی ہیں، اس کے ہاں محجوب ہیں، جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں پہچانتا جیسے وہ اس کے سوا کسی کو نہیں پہچانتے۔ اس نے انہیں بهاء (حسن و جمال) کا تاج اور سناء (بلندی) کا ہار پہنایا ہے، اور انہیں قرب کی روشنی کے منبروں پر، انس کے فرش پر اور دوامیت کی مناجات کے لیے قومیت کی زبان پر بٹھایا ہے۔ الہی قوت انہیں مشاہدہ سے مدد دیتی رہتی ہے، پس وہ حق کے ساتھ ہیں، اور اگر وہ مخلوق سے خطاب کریں اور ان کے ساتھ رہیں تو وہ ان کے ساتھ نہیں ہیں، اور اگر وہ انہیں دیکھیں تو انہیں نہیں دیکھتے، کیونکہ وہ ان میں اللہ کی صنعت کے سوا کچھ نہیں دیکھتے۔ پس وہ صنعت اور صانع دونوں کا مشاہدہ کرتے ہیں، اور صنعت انہیں صانع سے نہیں روکتی۔ اور یہ اس وقت تک نقصان دہ نہیں جب تک کہ صنعت کی خوبصورتی دل کو مشغول نہ کر دے۔ پس یہی لوگ حقیقی وارث ہیں۔ انہیں مبارک ہو جو انہیں حقیقی مشاہدہ نصیب ہوا، اور ہمیں مبارک ہو ان کی تصدیق اور تسلیم پر، ان کی موافقت اور مدد پر۔
(يُحِبُّهُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ) یعنی آسمان کے رہنے والے فرشتے۔ (وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمْ الْحِيتَانُ فِي الْبَحْرِ إِذَا مَاتُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) کیونکہ جب انہوں نے ان (انبیاء) سے لوگوں کو احسان اور اس کا طریقہ سکھانا اور ہر چیز کو اس کا حکم دینا وراثت میں پایا، تو اللہ نے ان چیزوں (مخلوقات) کو اس کا بدلہ دیتے ہوئے ان کے لیے استغفار کی تلقین کی۔ خطابی رحمہ اللہ نے یہ بات ذکر کی ہے۔
قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا:
اہل آسمان اس لیے استغفار کرتے ہیں کیونکہ انہیں اللہ نے تعارف کرایا اور اس کے قول سے ان کی تعظیم کی۔ اور اہل زمین اس لیے استغفار کرتے ہیں کیونکہ ان کی بقا اور اصلاح ان کی رائے اور قول سے وابستہ ہے۔ 'يَسْتَغْفِرُ لَهُمْ' استغفار کرنے والے کی حالت کی درستگی، نفس کی پاکیزگی، منزل کی بلندی اور خوشحالی کی خواہش کی طرف مجازی تعبیر ہے۔ کیونکہ عقل والوں کی طرف سے استغفار حقیقت ہے اور غیر (عقل والوں) کی طرف سے مجاز ہے۔
ابن جماعہ رحمہ اللہ نے کہا:
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ (یہ مخلوقات) بندوں کی مصلحتوں اور فوائد کے لیے ہیں، اور علماء ہی وہ ہیں جو ان میں سے حلال و حرام کی وضاحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ احسان کرنے اور ان سے تکلیف دور کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
سید سَمْهُودِی رحمہ اللہ نے کہا:
اس شخص کے مرتبہ سے بلند کوئی مرتبہ نہیں جس کے لیے فرشتے اور دیگر مخلوقات قیامت تک استغفار اور دعا میں مشغول رہیں۔ اگر تم پوچھو: قیامت تک اس کی زیادتی کا کیا وجه ہے؟ میں کہوں گا: اس لیے کہ علم سے عالم کی موت کے بعد بھی قیامت تک فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اور اسی لیے اس کا ثواب اس کی موت سے منقطع نہیں ہوتا۔
زمخشری رحمہ اللہ نے کہا:
اس میں علم کی شرف و بلندی، اس کے مقام کی رفعت، اور اس کے حاملین و اہل کی بزرگی پر دلیل ہے۔ اور یہ کہ اس کی نعمت بہترین نعمتوں اور عظیم عطیوں میں سے ہے۔ اور جسے یہ دی گئی، اسے بہت بڑا فضل دیا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انبیاء کا وارث اس لیے نہیں کہا مگر اس لیے کہ وہ شرف و منزلت میں ان کے قریب ہیں، کیونکہ وہی وہ ہیں جو اس (دین) کی حفاظت کرتے ہیں جس کے لیے انبیاء بھیجے گئے تھے۔"
[فیض القدیر:5705]



حدیث اور ان شروحات سے حاصل شدہ اہم اسباق و نکات:
ان تفصیلی شروحات سے جو جامع سبق ملتا ہے وہ درج ذیل ہے:

راستہ ہر قسم کی کوشش ہے:
'طریق' سے مراد صرف جسمانی سفر نہیں، بلکہ دینی علم تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی ہر محسوس و معنوی جدوجہد (مطالعہ، کلاس، آن لائن کورس وغیرہ) شامل ہے۔

نیت و سعی کی اہمیت، نتیجہ کی نہیں:
'يلتمس' کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی سچی نیت اور پوری کوشش سے علم حاصل کرے، خواہ استعداد کی کمی کی وجہ سے وہ علم حاصل نہ بھی کر سکے، تو بھی اسے پورا ثواب ملے گا۔ اللہ کی بارگاہ میں نیت اور محنت ہی معتبر ہے۔

فرشتوں کی تعظیم کی حقیقت:
فرشتوں کا 'پروں کو رکھنا' محض ایک علامتی بیان نہیں۔ اس کے کئی معانی ہیں: مجلس میں حاضری، طالب علم کی تعظیم، اس کی راہ میں آسانیاں پیدا کرنا، اس کی مدد کرنا، اس کے لیے دعا کرنا اور اس کے سامنے تواضع اختیار کرنا۔ یہ سب علم کی عظمت کے مختلف مظاہر ہیں۔ آدم علیہ السلام کے واقعے سے معلوم ہوا کہ یہ تعظیم دراصل علم کے فضل کی تعظیم ہے۔

علم کا نور چاند جیسا اجتماعی ہے:
عالم اور عابد میں بنیادی فرق نور کے پھیلاؤ کا ہے۔ عابد کا نور (ثواب، اثر) اس کی ذات تک محدود رہتا ہے، جیسے ستارہ۔ جبکہ عالم کا نور دوسروں تک پہنچتا ہے، انہیں روشنی دیتا ہے اور ان کی زندگیوں کو بدلتا ہے، جیسا کہ چاند پوری دنیا کو منور کرتا ہے۔ اس لیے عالم کا درجہ بہت بلند ہے۔

علماء انبیاء کے حقیقی وارث کیوں؟:
اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ نسباً قریب ہیں، بلکہ اس لیے کہ:
وہ دین کے وارث اور محافظ ہیں، جو انبیاء کے بعد اس ذمہ داری کو سنبھالتے ہیں۔
انہوں نے انبیاء کا حقیقی ورثہ (علم) سنبھالا ہے، نہ کہ دنیاوی مال۔
ان کا کام انبیاء کے کام (ہدایت و تعلیم) کی تکمیل و توسیع ہے۔
وہ علم و عمل دونوں کو جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو انبیاء کی صفت تھی۔

کائناتی محبت و استغفار:
ایک عالم کے لیے صرف فرشتے ہی نہیں، بلکہ تمام مخلوقات کی طرف سے محبت اور استغفار ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء ہی مخلوقات کے حقوق، ان کے ساتھ احسان اور ان کی مصلحتوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ یہ استغفار عالم کی موت کے بعد بھی، اس کے صدقہ جاریہ (علم) کے سبب قیامت تک جاری رہتا ہے۔

سخت تنبیہ:
جو شخص علم یا اہل علم کی تعظیم کا مذاق اڑاتا ہے، اس کے لیے دنیا میں ہی سزا کے واقعات (جیسے فاسق شخص کا مفلوج ہو جانا) اس بات کی شدید تنبیہ ہیں کہ اس معاملے میں بے ادبی سنگین ترین انجام سے دوچار کر سکتی ہے۔

خلاصہ:
یہ مجموعہ ہمیں علم کی طلب کے آداب، عالم کے مقام اور اس کی ذمہ داریوں کا مکمل نقشہ دیتا ہے۔ علم کو محض معلومات کا ذخیرہ نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ ایک ایسا نور ہے جس کی طلب میں پوری کائنات انسان کا ساتھ دیتی ہے، جس کا حامل انبیاء کا وارث بن جاتا ہے، اور جس کا اثر قیامت تک جاری رہتا ہے۔


فقہی نکات:
(1)بَابٌ: العِلْمُ قَبْلَ القَوْلِ وَالعَمَلِ۔
ترجمہ:
باب: قول و فعل سے پہلے علم۔
[صحيح البخاري:1 /24]


(2)بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِ۔
ترجمہ:
قرآن کی تلاوت اور ذکر کے لیے اکٹھے ہونے کی فضیلت کا باب
[صحیح مسلم(م256ھ)» حدیث:2699]

بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الفِقْهِ عَلَى العِبَادَةِ
ترجمہ:
باب: فقہ کی عبادت پر فضیلت کے بارے میں جو بیان کیا گیا ہے۔
[سنن الترمذي(م279ھ) » حدیث#2682]

غفلت کا علاج» علم طلب کرنا۔
[تنبیہ الغافلین-امام ابواللیث (م373ھ)» حدیث#665]

(2)بَابُ ذِكْرِ مَا جَاءَتْ بِهِ السُّنَنُ وَالْآثَارُ مِنْ فَضْلِ الْعُلَمَاءِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
ترجمہ:
باب: اہل علم کی دنیا اور آخرت میں فضیلت کے بارے میں جو سنتیں اور روایات لائی ہیں اس کا ذکر۔
[أخلاق العلماء-للآجري(م360ھ)» ص38]

بَابُ مَنْ غَدَا وَرَاحَ فِي تَعَلُّمِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ
ترجمہ:
قرآن و سنت سیکھنے جانے والوں(کی فضیلت) کا باب۔
[کتاب الآداب-امام البیھقی(م458ھ)» حدیث#862]

(3)باب فضل العلم تعلمًا وتعليمًا لله
ترجمہ:
اللہ کیلئے علم سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت کا بیان۔
[ریاض الصالحین-امام النووی(م606ھ) » حدیث#1388]

(4)فضل الْخُرُوج فِي طلب الْعلم
ترجمہ:
علم کی طلب میں نکلنے کی فضیلت۔
[فضائل الاعمال-امام المقدسی(م643ھ) » حدیث#562+566]








حدیث نمبر 8
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ - رضي الله عنه - قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - " وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ مُتَّكِئٌ عَلَى بُرْدٍ لَهُ أَحْمَرَ "، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ، فَقَالَ: " مَرْحَبًا بِطَالِبِ الْعِلْمِ، إِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ لَتَحُفُّهُ الْمَلَائِكَةُ , وَتُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا، ثُمَّ يَرْكَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغُوا السَّمَاءَ الدُّنْيَا , مِنْ حُبِّهِمْ لِمَا يَطْلُبُ "
 ترجمہ:
حضرت صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ مسجد میں اپنے سرخ رنگ کے چادر پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں (آپ کی خدمت میں) علم طلب کرنے آیا ہوں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "علم کے طالب کے لیے خوش آمدید! بے شک طالب علم کے گرد فرشتے اپنے پروں سے اسے گھیر لیتے ہیں اور اسے اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں، پھر وہ ایک دوسرے پر سوار ہوتے ہوئے (اس کے عمل کی برکت اور اس کی دعاؤں کو لے کر) آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتے ہیں، اس چیز کی محبت میں جو وہ (علم) طلب کر رہا ہے۔"

حواشی و حوالہ جات:

حوالہ (١): یہ حدیث مندرجہ ذیل کتب میں موجود ہے:
(طب): امام طبرانی کی "المعجم الکبیر"، جلد 8، صفحہ 54، حدیث نمبر 7347۔
(الضياء): امام ضیاء مقدسی کی "المختارہ"، جلد 8، صفحہ 45، حدیث نمبر 35۔
(الصحيحة): امام البانی کی "سلسلة الأحادیث الصحیحہ"، حدیث نمبر 3397۔
(صحيح الترغيب): امام البانی کی "صحیح الترغیب والترہیب"، حدیث نمبر 71۔

حواشی:
اس حدیث میں بیان کی گئی فضیلت کا تعلق اس علم سے ہے جو اللہ کی رضا کے لیے، شرعی احکام سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے حاصل کیا جائے۔ فرشتوں کا اپنے پروں سے طالب علم کو گھیر لینے اور سایہ کرنے کے کئی معنی بیان کیے گئے ہیں: یہ فرشتوں کی طرف سے طالب علم کی تواضع، تعظیم اور تکریم ہے۔ نیز یہ مدد، آسانی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ عمل حقیقی طور پر ہوتا ہے، اگرچہ ہم اسے دیکھ نہیں سکتے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:

علم کی طلب پر خوش آمدید:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان "مرحبًا بطالب العلم" علم کی طلب اور اس کے متلاشی کو حاصل کرنے والے اعزاز و اکرام کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہر طالب علم کے لیے بے پناہ حوصلہ افزائی کا سامان ہے۔

فرشتوں کی خصوصی عنایت:
حدیث میں فرشتوں کی جو خصوصی خدمت بیان ہوئی ہے، وہ علم اور اہل علم کے مقام و مرتبہ کی بلندی کو واضح کرتی ہے۔ یہ عنایت محض علامتی نہیں، بلکہ حقیقی روحانی حمایت و مدد ہے جو طالب علم کو اس کے سفر میں حاصل ہوتی ہے۔

خلوصِ نیت کی اہمیت:
فرشتوں کی یہ خصوصی خدمت اور ان کا آسمان تک اس کے عمل کو لے جانا "مِنْ حُبِّهِمْ لِمَا يَطْلُبُ" (اس چیز کی محبت میں جو وہ طلب کر رہا ہے) کے ساتھ مشروط ہے۔ اس سے علم حاصل کرنے میں خلوص نیت اور اللہ کی رضا کو中心ی اہمیت حاصل ہے۔ علم اگر دکھاوے، شہرت یا دنیاوی مفاد کے لیے حاصل کیا جائے تو اس فضیلت سے محرومی ہو سکتی ہے۔

علم کا معاشرتی و روحانی اثر:
فرشتوں کا طالب علم کے عمل کو آسمان تک پہنچانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک مخلص طالب علم کی سعی صرف اس تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کا روحانی اثر و برکت آسمان کی بلندیوں تک پہنچتا ہے اور وہ کائناتی نظامِ خیر کا حصہ بن جاتا ہے۔

عملی رہنمائی:
یہ حدیث ہر اس شخص کے لیے روشنی کا مینار ہے جو علم کے راستے پر چلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ علم کا راستہ محض ایک ذہنی ورزش نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں انسان کو زمین پر فرشتوں کی معیت اور آسمان کی خاص توجہ حاصل ہوتی ہے۔

خلاصہ:
یہ حدیث طالب علم کے لیے اللہ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے خصوصی عنایت، حمایت اور محبت کی خوش خبری ہے۔ یہ علم کے شرف اور اس کی طلب میں خلوص نیت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، نیز یہ بتاتی ہے کہ ایک مخلص طالبِ علم کی جدوجہد کا دائرہ اثر صرف زمین تک محدود نہیں، بلکہ آسمان کی بلندیوں تک وسیع ہوتا ہے۔



حدیث نمبر 9
عَنْ عَبْدِ اللهِ الرُّومِيِّ قَالَ: مَرَّ أَبُو هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - بِسُوقِ الْمَدِينَةِ فَوَقَفَ عَلَيْهَا , فَقَالَ: يَا أَهْلَ السُّوقِ , مَا أَعْجَزَكُمْ! , قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ , قَالَ: ذَاكَ مِيرَاثُ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يُقْسَمُ , وَأَنْتُمْ هَاهُنَا لَا تَذْهَبُونَ فَتَأَخُذُونَ نَصِيبَكُمْ مِنْهُ , قَالُوا: وَأَيْنَ هُوَ؟ , قَالَ: فِي الْمَسْجِدِ , فَخَرَجُوا سِرَاعًا إِلَى الْمَسْجِدِ , وَوَقَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَهُمْ حَتَّى رَجَعُوا , فَقَالَ لَهُمْ: مَا لَكُمْ؟ , قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , قَدْ أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ فَدَخَلْنَا , فَلَمْ نَرَ فِيهِ شَيْئًا يُقْسَمُ , قَالَ: أَمَا رَأَيْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدًا؟ , قَالُوا: بَلَى , رَأَيْنَا قَوْمًا يُصَلُّونَ , وَقَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ , وَقَوْمًا يَتَذَاكَرُونَ الْحَلالَ وَالْحَرَامَ , فَقَالَ لَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَيْحَكُمْ , فَذَاكَ مِيرَاثُ مُحَمَّدٍ - صلى الله عليه وسلم -.
 ترجمہ:
عبداللہ رومی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ کی منڈی سے گزرے تو وہاں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: "اے منڈی والو! تمہاری کیا ہمت ہے؟ (تم کیوں یہاں بیٹھے ہو؟)" انہوں نے کہا: اے اباہریرہ، وہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم ہو رہی ہے اور تم یہاں ہو، نہیں جاتے اور اپنا حصہ لیتے؟" انہوں نے کہا: وہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: "مسجد میں۔" تو وہ سب تیزی سے مسجد کی طرف بھاگے۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کے لیے (منڈی میں) ٹھہرے رہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔ ان سے پوچھا: "تمہارا کیا حال ہے؟" انہوں نے کہا: اے اباہریرہ، ہم مسجد میں گئے، اندر داخل ہوئے مگر ہمیں وہاں کوئی چیز تقسیم ہوتی ہوئی نہیں دکھائی دی۔ ابوہریرہؓ نے پوچھا: "تم نے مسجد میں کوئی شخص تو دیکھا؟" انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے دیکھا کہ کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، کچھ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے، اور کچھ لوگ حلال و حرام (کے مسائل) کا تذکرہ (مذاکرہ) کر رہے تھے۔ اس پر حضرت ابوہریرہؓ نے ان سے فرمایا: "تمہاری ہلاکت ہو! یہی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث ہے۔"

[المعجم الصغیر للطبرانی، حدیث نمبر 1429، انظر صحيح الترغيب:83]

حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:

حقیقی اور دائمی میراث:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کا مال و دولت نہیں چھوڑا۔ آپ کی حقیقی اور دائمی میراث علمِ دین ہے۔ یہ میراث سونے چاندی کی طرح بانٹنے سے ختم نہیں ہوتی، بلکہ پڑھنے پڑھانے سے بڑھتی ہے۔

علم کی قدر کا احساس:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا منڈی والوں کو للکارنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہماری سب سے بڑی غفلت علم دین کی کمی اور اس کی قدر نہ کرنا ہے۔ لوگ دنیا کے سامان کے پیچھے دوڑتے ہیں لیکن انبیاء کے چھوڑے ہوئے خزانے (علم) سے بے خبر رہتے ہیں۔

میراث حاصل کرنے کا مقام:
یہ قیمتی میراث مسجد میں تقسیم ہو رہی تھی۔ اس سے مساجد کے اصل مقصد کی طرف رجوع کی ترغیب ملتی ہے۔ مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں، بلکہ علم سیکھنے سکھانے، قرآن سمجھنے اور دینی مسائل کے مذاکرے کا مرکز ہے۔

میراث کی علامتیں:
روایت میں میراث کی تین واضح علامتیں بیان کی گئی ہیں:
نماز:
یہ رب کے ساتھ تعلق کی بنیاد ہے۔
قرآن کی تلاوت:
یہ الہامی ہدایت کو سیکھنا اور اس سے منور ہونا ہے۔
حلال و حرام کا مذاکرہ:
یہ علمِ فقہ اور شریعت کی سمجھ حاصل کرنا ہے، تاکہ زندگی کا ہر قدم اللہ کی مرضی کے مطابق اٹھے۔

علماء اور طلباء کا مقام:
جو لوگ مسجد میں یہ کام کر رہے تھے، وہ درحقیقت نبی کی میراث کے وارث ہیں۔ علماء اور سچے طلباء کا یہی وہ بلند مقام ہے۔

ہماری ذمہ داری:
یہ حدیث ہر مسلمان سے یہ سوال کرتی ہے کہ کیا ہم نے اس عظیم وراثت (علم دین) میں سے اپنا حصہ لیا ہے؟ کیا ہم نماز، قرآن اور حلال و حرام کے علم کو اپنی زندگی میں اولیت دے رہے ہیں؟

فکر آخرت کی ترغیب:
منڈی (بازار) دنیوی لالچ اور مشغولیت کی علامت ہے، جبکہ مسجد آخرت کی تیاری اور یادِ الہی کی علامت ہے۔ حدیث ہمیں دنیا کے چکر میں آخرت کو نہ بھولنے کی نصیحت کرتی ہے۔

خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں بڑی خوبصورتی سے سکھاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے قیمتی چیز جو آپ نے امت کے لیے چھوڑی، وہ علم دین ہے۔ یہ علم نماز، قرآن اور شریعت کی سمجھ کی صورت میں مساجد کے مراکز میں موجود ہے۔ ہماری کامیابی اس میں ہے کہ ہم بازارِ دنیا کی بھیڑ میں گم ہونے کی بجائے اس میراث کے حصول کی طرف دوڑیں اور اس کے حقیقی وارث بنیں۔



حدیث نمبر 10
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
(" مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ مِنْ الْهُدَى وَالْعِلْمِ) (١) (كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا , فَكَانَ مِنْهَا طَائِفَةٌ (٢) طَيِّبَةٌ , قَبِلَتْ الْمَاءَ , فَأَنْبَتَتْ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ (٣) الْكَثِيرَ , وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ (٤) أَمْسَكَتْ الْمَاءَ , فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ , فَشَرِبُوا مِنْهَا , وَسَقَوْا) (٥) (وَزَرَعُوا , وَأَصَابَ (٦) مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى , إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ (٧) لَا تُمْسِكُ مَاءً , وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً , فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ (٨) فِي دِينِ اللهِ , وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ , فَعَلِمَ وَعَلَّمَ , وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأسًا , وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ") (٩)
الشرح (١٠)
ترجمہ:
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اس ہدایت اور علم کی مثال جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے (١) ایسی ہے جیسے ایک بارش کا پانی جو ایک زمین پر برسا۔ (اس زمین میں سے) ایک حصہ (٢) اچھا تھا، جس نے پانی کو قبول کیا اور بہت زیادہ گھاس اور تر سبزہ (٣) اگایا۔ اور اس میں سے کچھ زمین کی سخت سطحیں (٤) تھیں جنہوں نے پانی کو روک لیا، تو اللہ نے اس کے ذریعے لوگوں کو نفع پہنچایا، انہوں نے اس میں سے پیا اور (اپنے جانوروں کو) پلایا (٥) اور کھیتی باڑی کی۔ اور اس (٦) نے اس میں سے ایک دوسرا حصہ بھی ایسا پایا جو محض ہموار میدان (٧) ہیں، نہ پانی روکتے ہیں اور نہ ہی گھاس اگاتے ہیں۔ تو یہ اس شخص کی مثال ہے جو دینِ الہی میں فقیہ (سمجھ دار) بن گیا (٨) اور اس چیز سے فائدہ اٹھایا جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا، پس اس نے (خود بھی) علم حاصل کیا اور (دوسروں کو بھی) سکھایا۔ اور یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے اس (ہدایت) سے سر (توجہ) نہ اٹھایا اور اس ہدایتِ الہی کو قبول نہیں کیا جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔" (٩)

حواشی و حوالہ جات:
(١)حوالہ: صحیح بخاری:79، صحیح مسلم:2282۔
(٢)شرح: 'طائفہ' سے مراد زمین کا ایک ٹکڑا یا حصہ ہے۔(فتح الباری، شرح حدیث نمبر 79)
(٣)شرح: آپ کے فرمان 'وَالْعُشْبَ' میں خاص (تر سبزہ) کا ذکر عام (گھاس) کے بعد کیا گیا ہے۔ کیونکہ 'کَلَأ' تر اور خشک دونوں طرح کے نباتات کے لیے بولا جاتا ہے، جبکہ 'عُشْب' صرف تر سبزے کے لیے ہے۔ (فتح الباری، شرح حدیث نمبر 79)
(٤)شرح: 'أَجَادِب' 'جَدْب' کی جمع ہے، اور یہ وہ سخت زمین ہے جس سے پانی خشک نہیں ہوتا (یعنی پانی کو جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، بلکہ اسے روک لیتی ہے، جیسے پتھریلی سطح)۔ (فتح الباری، شرح حدیث نمبر 79)
(٥)حوالہ: حدیث کا یہ حصہ امام مسلم (حدیث نمبر 2282) اور امام بخاری (حدیث نمبر 79) نے روایت کیا ہے۔
(٦)شرح: یہاں 'أَصَاب' کا فاعل (پہلے جملے میں مذکور) 'غَيْث' (بارش) ہے، یعنی بارش کے پانی نے۔
(٧)شرح: 'قِيعَان' 'قَاع' کی جمع ہے، اور یہ وہ ہموار اور چکنی زمین ہے جو کچھ نہیں اگاتی۔ (فتح الباری، شرح حدیث نمبر 79)
(٨)شرح: 'فَقُهَ' یعنی وہ فقیہ بن گیا (اسے دین کی سمجھ آ گئی)۔ (فتح الباری، شرح حدیث نمبر 79)
(٩)حوالہ: حدیث کے اس concluding حصے کو امام بخاری (حدیث نمبر 79)، امام مسلم (حدیث نمبر 2282) اور امام احمد بن حنبل (مسند، حدیث نمبر 19588) نے روایت کیا ہے۔
(١٠)شرح: امام قرطبی اور دیگر علماء نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لائے ہوئے دین کے لیے اس عام بارش کی مثال دی جو لوگوں کی ضرورت کے وقت آتی ہے۔ پھر آپ نے اسے سننے والوں کی مختلف زمینوں سے تشبیہ دی جن پر بارش برستی ہے۔
پہلی قسم:
عالم، عامل اور معلم (یعنی جو خود علم حاصل کرے، اس پر عمل کرے اور دوسروں کو سکھائے)۔ یہ اس اچھی زمین کی مانند ہے جس نے پانی پی لیا، تو اسے خود فائدہ ہوا اور پھر اس نے (پودے اگا کر) دوسروں کو فائدہ پہنچایا۔
دوسری قسم:
وہ شخص جو علم جمع کرتا ہے اور اپنا سارا وقت اس میں گزارتا ہے، لیکن اس کے نوافل پر عمل نہیں کرتا، یا جو علم اس نے جمع کیا ہے اس میں غور و فکر (تفقہ) نہیں کرتا، لیکن اسے دوسروں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ اس زمین کی مانند ہے جس میں پانی جمع ہو جاتا ہے اور لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی کی طرف آپ کے فرمان "اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری بات سنی اور اسے ویسے ہی پہنچا دیا جیسے اس نے سنا" میں اشارہ ہے۔
تیسری قسم:
وہ شخص جو علم سنتا ہے، نہ اسے یاد رکھتا ہے، نہ اس پر عمل کرتا ہے اور نہ ہی دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ یہ کھاری یا ہموار زمین کی مانند ہے جو نہ تو پانی قبول کرتی ہے اور نہ ہی دوسروں کے لیے اسے خراب کرتی ہے (یعنی اس میں ذخیرہ ہی نہیں ہوتا کہ خراب ہو)۔ (فتح الباری، شرح حدیث نمبر 79)

حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:

ہدایت کا جامع تصور: یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لے کر آئے وہ محض چند رسمی اعمال نہیں، بلکہ ایک مکمل 'ہدایت اور علم' کا مجموعہ ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو روشنی فراہم کرتا ہے۔

لوگوں کے درجات کا فرق: انسانوں کی فطرت، صلاحیت اور قبولیت میں فرق ہے، جیسے زمینیں مختلف ہوتی ہیں۔ کوئی علم کو مکمل طور پر جذب کر کے خود بھی سرسبز ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے، کوئی صرف دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے، اور کوئی اسے بالکل ضائع کر دیتا ہے۔

علم کی اعلیٰ ترین شکل: حدیث میں سب سے بہتر اور مکمل شخصیت 'عالم، عامل اور معلم' کی ہے۔ یعنی جو علم سیکھے، اس پر عمل کرے اور پھر دوسروں کو سکھائے۔ یہی وہ 'اچھی زمین' ہے جس کا نفع عام ہے۔

علم پہنچانے کی فضیلت: دوسری قسم کے لوگ (جو علم جمع کرکے دوسروں تک پہنچاتے ہیں، اگرچہ خود مکمل عمل نہ کر سکیں) بھی قابلِ تعریف ہیں۔ وہ علم کے 'ذخیرے' ہیں جن سے معاشرہ فائدہ اٹھاتا ہے۔

علم کو ضائع کرنے کی مذمت: تیسری قسم (جو نہ سیکھے، نہ عمل کرے، نہ سکھائے) سب سے بدترین ہے۔ یہ وہ بنجر زمین ہے جس پر اللہ کی نعمت (بارش/علم) بیکار چلی جاتی ہے۔ ایسا شخص نہ خود ہدایت پاتا ہے نہ دوسروں کے لیے باعثِ ہدایت بنتا ہے۔

دین فہمی (تفقہ) کی اہمیت: حدیث میں 'فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ' (دینِ الہی میں سمجھ دار بنا) پر زور دیا گیا ہے۔ محض علم جمع کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے سمجھنا، اس میں گہرائی میں جانا اور اسے اپنی زندگی میں جذب کرنا ضروری ہے۔

ہدایت قبول کرنے کا تقاضا: حدیث کا اختتام ایک سخت انتباہ پر ہوتا ہے کہ جو شخص ہدایت سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے اور اسے قبول نہیں کرتا، وہ اپنے آپ کو ہدایت کے تمام فوائد سے محروم کر لیتا ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام کا علم بارش کی مانند ایک زندہ، زندگی بخش اور عام نعمت ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس نعمت کو اپنے اندر جذب کریں، اس پر عمل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ ہماری کامیابی اس بات میں ہے کہ ہم کس قسم کی 'زمین' بنتے ہیں۔ کیا ہم وہ زرخیز زمین ہیں جو ہر طرف سرسبزی پھیلاتی ہے، یا وہ بنجر میدان ہیں جہاں ہدایت کی بارش بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے؟




حدیث نمبر 11
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ (1) رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا , فَسَلَّطَهُ (2) عَلَى هَلَكَتِهِ (3) فِي الْحَقِّ (4) وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ الْحِكْمَةَ (5) فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا " (6)
 ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"حسد (رغبت/تمنا) جائز نہیں مگر دو چیزوں میں (1):  ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا، پھر اسے قادر کیا(2) اسے خرچ کرنے پر(3)، حق کے کاموں میں(4)، اور وہ شخص جسے اللہ نے حکمت عطا کی (5)، پھر وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اسے (دوسروں کو) سکھاتا ہے۔" (6)

حواشی وحوالہ جات:

(1)شرح: یہاں 'حسد' کو 'غبطہ' (کسی کی نعمت پر خوشی اور یہ تمنا کرنا کہ مجھے بھی وہ ملے بغیر اس کی نعمت زائل ہونے کی خواہش کے) پر مجازاً اطلاق کیا گیا ہے۔ گویا حدیث کا مطلب یہ ہے: "کسی چیز کی تمنا (غبطہ) سب سے زیادہ بہتر یا افضل نہیں ہے مگر ان دو معاملوں میں۔" (فتح الباری، جلد 1، صفحہ 119)

(2)شرح: 'تسلیط' (قادر کرنا) کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس شخص نے شح (بخل) کی جبلت پر قابو پا لیا ہے۔ (فتح الباری، شرح حدیث نمبر 73)

(3): یعنی اس کے خرچ کرنے پر۔ اس تعبیر سے مراد یہ ہے کہ وہ مال میں سے کچھ بھی باقی نہیں رکھتا (بلکہ اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرتا ہے)۔ (فتح الباری، شرح حدیث نمبر 73)

(4)شرح: یعنی نیکیوں اور طاعات کے کاموں میں، تاکہ مذموم اسراف کا وہم دور ہو۔ (فتح الباری، شرح حدیث نمبر 73)

(5)شرح: 'حکمت' سے مراد قرآن ہے۔ اور یہ بھی قول ہے کہ حکمت سے مراد ہر وہ چیز ہے جو جہالت سے روکے اور برائی سے باز رکھے۔
(فائدہ): حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں ایک اضافی فقرہ ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں 'حسد' سے مراد 'غبطہ' ہے، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔ اس کا متن یہ ہے: "پھر ایک شخص نے کہا: کاش! مجھے بھی فلاں کی طرح (مال) دیا جاتا، پھر میں بھی ویسا ہی عمل کرتا جیسا وہ کرتا ہے۔" مصنف (امام بخاری) نے اسے فضائل القرآن کے باب میں ذکر کیا ہے۔ (فتح الباری، شرح حدیث نمبر 73)

(6)حوالہ: صحیح بخاری:73، صحیح مسلم:816۔


حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:

حسد اور غبطہ میں فرق:
یہ حدیث ایک اہم اخلاقی فرق سکھاتی ہے۔ 'حسد' وہ برا جذبہ ہے جس میں انسان چاہتا ہے کہ دوسرے کی نعمت ختم ہو جائے۔ جبکہ 'غبطہ' ایک مثبت جذبہ ہے جس میں انسان دوسرے کی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرتا ہے کہ اسے بھی وہ نعمت ملے، بغیر اس کے کہ پہلے شخص کی نعمت زائل ہو۔ حدیث میں ممنوع 'حسد' نہیں، بلکہ مباح 'غبطہ' مراد ہے۔

مال کی صحیح مصرف:
پہلی مستثنیٰ صورت میں مالدار شخص کی تعریف نہیں، بلکہ اس شخص کی تعریف ہے جو:
مال کو 'ہلاک' کرنے یعنی خوب خرچ کرنے پر قادر ہے۔
اس خرچ کو 'حق' یعنی اللہ کی رضا کے کاموں میں صرف کرتا ہے۔
اس میں بخل اور کنجوسی پر قابو پا لیتا ہے (تسلیط علی ہلکتہ کا مفہوم)۔
لہٰذا، مال پر رشک کی جا سکتی ہے جب وہ اللہ کی راہ میں خرچ ہو رہا ہو، نہ کہ ذخیرہ یا تکبر کے لیے جمع کیا گیا ہو۔

علم کی اعلیٰ ترین شکل:
دوسری مستثنیٰ صورت میں 'حکمت' کا حامل شخص ہے۔ یہاں 'حکمت' سے مراد محض معلومات نہیں، بلکہ:
علم نافع (نفع بخش علم) خاص طور پر قرآن کا علم۔
اس علم پر عمل (فهو یقضی بها) یعنی اس کے مطابق فیصلے کرنا، زندگی گزارنا۔
اس علم کو دوسروں تک پہنچانا (ويعلمها)۔
علم پر رشک تب ہی جائز ہے جب وہ عمل و تعلیم کا سبب بنے۔

صحیح رقابت (مثابت مقابلہ):
حدیث انسانوں کے درمیان صحیح قسم کے مثابت مقابلے اور رقابت کا رخ متعین کرتی ہے۔ آپس میں مقابلہ مال جمع کرنے، عہدے پانے یا شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور علمِ نافع کو پھیلانے میں ہونا چاہیے۔

نیت کا دخل:
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نعمت کی قدر اس کے استعمال سے ہے، نہ کہ صرف اس کے ملنے سے۔ دو افراد کو ایک جتنا مال ملے، لیکن اگر ایک اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور دوسرا جمع کرے یا غلط جگہ خرچ کرے، تو پہلا شخص رشک کے لائق ہے۔ اسی طرح دو عالم ہوں، لیکن ایک اپنے علم پر عمل کرے اور سکھائے، دوسرا نہ کرے، تو پہلا افضل ہے۔

علم کی فضیلت:
اگرچہ حدیث میں دونوں کو یکجا ذکر کیا گیا، لیکن علم (حکمت) والے شخص کا ذکر قدرے تفصیل سے کیا گیا ہے ('یقضی' اور 'یعلم' دونوں الفاظ استعمال ہوئے)۔ اس سے علم کی مزید فضیلت بھی مترشح ہوتی ہے۔

خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہماری ترجیحات اور حسد (یا مثبت طور پر غبطہ) کا مرکز کیا ہونا چاہیے۔ ہمیں ان لوگوں سے متاثر ہونا چاہیے جو اپنی نعمتوں (خواہ مال ہو یا علم) کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرتے ہیں، نہ کہ ان سے جن کا استعمال دنیاوی اغراض کے لیے ہے۔ یہ ہماری اجتماعی ترجیحات کو بھی درست کرتی ہے کہ معاشرے میں انہی دو قسم کے لوگوں کی قدر و منزلت ہونی چاہیے۔



شرح للمناوی:
"(الحسد في اثنتين) یعنی وہ حسد (غبطہ/تمنا) جو اس کے کرنے والے کو نقصان نہیں پہنچاتا، وہ صرف دو خوبیوں یا طریقوں کے بارے میں ہے، یعنی ان کے معاملے میں۔
ان میں سے ایک (رجل آتاه الله القرآن) یعنی اسے قرآن حفظ کرنے اور سمجھنے کی توفیق دی۔ (فقام به) یعنی اس کی تلاوت نماز میں کرتا ہے اور اس میں جو کچھ ہے اس پر عمل کرتا ہے۔ (وأحل حلاله وحرم حرامه) یعنی حلال کام کرتا ہے اور حرام کام سے بچتا ہے۔
اور دوسرا (رجل آتاه الله مالا) یعنی حلال مال دیا، جیسا کہ سیاق و سباق سے ظاہر ہے۔ (فوصل به أقرباءه ورحمه) 'رحم' کو 'اقرباء' پر خاص کے طور پر عطف کیا گیا ہے۔ (وعمل بطاعة الله) جیسے اس میں سے صدقہ دینا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو کپڑا پہنانا، غازی (مجاہد) کی مدد کرنا اور اس جیسے دیگر قربت کے کام۔
(تمنى أن يكون مثله) اس بات کی تمنا کہ اس جیسا ہو جائے، بغیر اس کی نعمت کے زائل ہونے کی تمنا کے۔
پس حسد حقیقی اور مجازی دونوں ہوتا ہے۔ حقیقی حسد دوسرے کی نعمت کے زائل ہونے کی تمنا ہے، اور مجازی حسد اس جیسی نعمت کی تمنا ہے، اسے 'غبطہ' کہتے ہیں۔ اور یہ دنیوی معاملات میں مباح ہے اور اخروی معاملات میں مندوب (پسندیدہ) ہے۔
آپ ﷺ نے ان دو کو خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ ان کی بڑی اہمیت ہے، گویا آپ نے فرمایا: 'ان دونوں میں سے بہتر اور افضل کوئی غبطہ نہیں ہے۔' علائی نے کہا: ان دونوں کے درمیان ایک قسم کا تلازم (لازمی تعلق) ہے، کیونکہ انسان مال کی محبت پر فطرتاً بنایا گیا ہے، اور علم کے ذریعے ریاست اور جاہ کی محبت اس سے بھی زیادہ شدید ہے۔ پس نفس اسے مال کی کثرت اور خرچ نہ کرنے کی طرف (خوفِ فقر کی وجہ سے) اور قرآن سے لیا ہوا علم کے ذریعے ریاکاری کرنے کی طرف (تاکہ وہ دوسروں پر سبقت لے جائے) بلاتا ہے۔ پس جب اسے اپنے نفس پر قابو پانے کی توفیق ہو جائے کہ وہ مال کو قربت کے کاموں میں خرچ کرے اور علم کے حق کو قائم رکھے، تو وہ اس بات کے لائق ہے کہ اس سے رشک کیا جائے اور اس جیسی حالت کی تمنا کی جائے۔

(ابن عساكر) یعنی حافظ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں (عن ابن عمرو) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ اس میں روح بن صلاح راوی ہے، جسے امام ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے اور دوسروں نے تقویت دی ہے۔ جماعت (بخاری و مسلم) نے بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔ ان کا الفاظ یہ ہے: "لا حسد إلا في اثنتين: رجل آتاه الله القرآن فهو يقوم به آناء الليل والنهار، ورجل آتاه الله مالا فهو ينفق منه آناء الليل والنهار" یعنی: "حسد (غبطہ) صرف دو میں ہے: ایک اس شخص پر جسے اللہ نے قرآن عطا کیا، پھر وہ رات دن اس پر قائم رہتا ہے، اور ایک اس شخص پر جسے اللہ نے مال عطا کیا، پھر وہ رات دن اس میں سے خرچ کرتا ہے۔"
[فیض القدیر:3818]

اس شرح سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:

حسد کی اصل حقیقت:
یہاں 'حسد' سے مراد منفی جذبہ نہیں جس میں دوسرے کی نعمت ختم ہونے کی خواہش ہو، بلکہ مثبت جذبہ 'غبطہ' ہے جس میں انسان دوسرے کی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرتا ہے کہ اسے بھی وہی نعمت مل جائے، بغیر اس کے کہ پہلے شخص کی نعمت پر کوئی اثر پڑے۔

دو نمایاں خوبیاں:
ایسی مثبت تمنا اور رغبت صرف دو قسم کے لوگوں کے لیے رکھی جا سکتی ہے:

قرآن کا حامل اور عامل:
جسے قرآن کا علم اور حفظ حاصل ہو، اور وہ اس پر مکمل طور پر قائم رہے — تلاوت کے ساتھ، اس کے احکام (حلال و حرام) پر عمل کرتے ہوئے۔

مال کا حلال مصرف کرنے والا:
جسے حلال مال دیا گیا ہو اور وہ اسے رات دن اللہ کی رضا کے کاموں میں خرچ کرتا ہو — رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہوئے، رحم کے تعلقات جوڑتے ہوئے، اور ہر قسم کی نیکیوں پر خرچ کرتے ہوئے۔

مثالی شخصیت کا نقشہ:
یہ عبارت ان دو مکمل ترین اسلامی شخصیات کا واضح خاکہ پیش کرتی ہے جن کی ہر مسلمان کو تمنا کرنی چاہیے:

کامل عالمِ دین:
جو علم رکھتا ہو، اس پر خود عمل کرتا ہو، اور اسے دوسروں تک پہنچاتا ہو (قرآن کی تعلیم)۔

کامل نیکوکار:
جو مالدار ہو اور اسے ہر طرح کی بھلائی اور معاشرتی فلاح پر خرچ کرتا ہو۔

نفسانی جنگ اور کامیابی:
عبارت کے آخر میں ایک گہری بات کی گئی ہے کہ انسان فطرتی طور پر مال جمع کرنے، کنجوسی کرنے اور علم کو ریاکاری اور برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کا میلان رکھتا ہے۔ ان فطری خواہشات پر قابو پانا اور مال و علم کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ ایسے شخص سے رشک (غبطہ) کرنا ہی صحیح ہے۔

مستقل عمل کی شرط:
جماعت (بخاری و مسلم) کے الفاظ میں 'آناء الليل والنهار' (رات دن کے اوقات میں) کا اضافہ ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ صفات مستقل اور ہمہ وقت ہونی چاہئیں، نہ کہ وقتی یا عارضی۔

ہمہ جہت تصورِ عبادت:
قرآن پر 'قیام' سے مراد صرف نماز میں تلاوت نہیں، بلکہ اس کا علم، عمل اور تبلیغ سب کچھ شامل ہے۔ اسی طرح مال پر 'انفاق' صرف زکوٰۃ نہیں، بلکہ ہر قسم کے قریبی اور سماجی حقوق کی ادائیگی ہے۔

خلاصہ:
یہ حدیث اور اس کی شرح ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری مثبت خواہشات اور محنت کا مرکز کیا ہونا چاہیے۔ ہمیں ان لوگوں سے متاثر ہونا چاہیے جو اپنی نعمتوں (علم یا مال) کو اللہ کی رضا کے لیے، مستقل طور پر، اور ہمہ گیر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے افراد ہی معاشرے کے حقیقی نمونے اور کامیاب لوگ ہیں۔ ان کی جیسی صفات کی تمنا کرنا ہی حقیقی 'غبطہ' ہے۔



طالبانِ علومِ دين کے سبب رزق کا ملنا:
حدیث نمبر 12

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأتِي النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - (١) وَالآخَرُ يَحْتَرِفُ (٢) فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - (٣) فَقَالَ:

" لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ " (٤)

ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتا تھا (١) اور دوسرا محنت مزدوری (حرفہ/پیشہ) کرتا تھا (٢)۔ (ایک دن) مزدوری کرنے والے (بھائی) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے (علم والے) بھائی کی شکایت کی (٣)۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'شاید تمہیں (تمہارا) رزق اسی (بھائی) کی وجہ سے ملتا ہے۔' (٤)"


حواشی حوالہ جات:

(١)شرح: یعنی علم اور معرفت (دین کی سمجھ) طلب کرنے کے لیے۔ (تحفة الأحوذی، جلد 6، صفحہ 130)

(٢)شرح: یعنی روزی کے اسباب کی کمائی کرتا تھا۔ گویا وہ دونوں (بھائی) اکٹھے کھاتے تھے (یعنی ایک ہی گھر میں رہتے تھے اور ایک دوسرے پر انحصار کرتے تھے)۔ (تحفة الأحوذی، جلد 6، صفحہ 130)

(٣)شرح: یعنی اس (محنت کرنے والے بھائی) کی پیشہ ورانہ محنت میں یا اپنی معاش کی کسی دوسری کمائی میں اپنے بھائی کی مدد نہ کرنے کی شکایت۔ (تحفة الأحوذی، جلد 6، صفحہ 130)

(٤)حوالہ: اس حدیث کو مندرجہ ذیل کتب میں روایت کیا گیا ہے:

(ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر 2345۔

(ك): شاید یہ امام بیہقی کی "شعب الایمان" وغیرہ کا حوالہ ہو۔

صحیح الجامع : حدیث نمبر 5084۔

السلسلة الصحیحة: حدیث نمبر 2769۔

هداية الرواة: حدیث نمبر 5238۔

تشریح :
حضور کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ تم یہی کیوں سمجھتے ہو کہ تمہیں جو رزق ملتا ہے وہ حقیقت میں تمہارے کمانے کی وجہ سے ملتا ہے، بلکہ ہو سکتا ہے کہ تم اپنے اس بھائی کے ساتھ جو ایثار کا معاملہ کرتے ہو اور اس کی معاشی ضروریات کا بوجھ برداشت کر کے جس طرح اس کو فکر و غم سے دور رکھتے ہو اسی کی برکت کی وجہ سے تمہیں بھی رزق دیا جاتا ہو، پس اس صورت میں شکوہ وشکایت کرنے اور اس پر احسان رکھنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علم وعمل اور دینی خدمات کی طرف متوجہ رہنے اور زاد عقبی کی تیار کے لئے دنیاوی مشغولیات کو ترک کرنا جائز ہے ، نیز یہ حدیث اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ فقراء اور خاص طور پر اپنے ضرورت مند اور غریب اعزاء واقرباء کی خبر گیری کرنا اور ان کی معاشی ضروریات کی کفالت کرنا، رزق میں وسعت وبرکت کا باعث ہے۔

القرآن :
اعانت کے اصل مستحق وہ حاجت مند ہیں، جو الله کی راہ میں ایسے گھر گئے ہیں کہ زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے، بے خبر آدمی ان کی خودداری دیکھ کر انہیں غنی خیال کرتا ہے ، تم ان کو ان کے چہروں سے پہچان سکتے ہو ، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے او رجو مال تم خرچ کروگے الله اس کو جانتا ہے۔
[سورة البقرة:273]
اللہ والے اہل حاجت کی مدد:
یعنی ایسوں کو دینا بڑا ثواب ہے جو اللہ کی راہ اور اس کے دین کے کام میں مقید ہو کر چلنے پھرنے کھانے کمانے سے رک رہے ہیں اور کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہیں کرتے جیسے حضرت ﷺ کے اصحاب تھے اہل صفہ نے گھر بار چھوڑ کر حضرت ﷺ کی صحبت اختیار کی تھی علم دین سیکھنے کو اور مفسدین فتنہ پر جہاد کرنے کو اسی طرح اب بھی جو کوئی قرآن کو حفظ کرے یا علم دین میں مشغول ہو تو لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی مدد کریں اور چہرہ سے ان کو پہچاننا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے چہرے زرد اور بدن دبلے ہو رہے ہیں اور آثار جدوجہد ان کی صورت سے نمودار ہیں۔
علی العموم اور خاص کر ایسے لوگوں پر جن کا ذکر ہوا۔


حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:

علم کی برکت کا اجتماعی پہلو:

یہ حدیث علم کی فضیلت کے ایک نئے پہلو کو واضح کرتی ہے۔ علم صرف طالب علم کے لیے ہی باعثِ برکت نہیں ہوتا، بلکہ اس کے قریبی رشتہ داروں اور ساتھ رہنے والوں کے لیے بھی رزق اور برکت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ مزدور بھائی کی کمائی میں زیادہ برکت اور فراخی اسی علم والے بھائی کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

علم اور عمل دونوں کی ضرورت:

حدیث سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے علم اور محنت دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بھائی علم کے ذریعے روحانی اور دینی روشنی پھیلا رہا ہے، جبکہ دوسرا بھائی محنت کے ذریعے معاشی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ دونوں کام اپنی جگہ اہم ہیں۔

تعاون اور باہمی افہام:

مزدور بھائی کی شکایت یہ بتاتی ہے کہ گھر کے معاملات میں باہمی تعاون اور افہام ضروری ہے۔ تاہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اسے ایک وسیع تر نقطہ نظر دیتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ ہر شخص کی محنت کا دائرہ اثر مختلف ہوتا ہے۔

رزق کے مختلف اسباب: حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ رزق صرف جسمانی محنت سے ہی نہیں آتا۔ دعا، علم، نیک صحبت، اور دینی ماحول بھی رزق میں کشادگی اور برکت کے اسباب بنتے ہیں۔ جو بھائی مسجد میں بیٹھ کر علم حاصل کر رہا تھا، وہ بظاہر کمائی نہیں کر رہا تھا، لیکن ممکن ہے اس کے سبب اللہ تعالیٰ اس کے گھر کے رزق میں اضافہ فرما رہے ہوں۔

علماء اور طلبہ کا معاشرتی مقام:

یہ حدیث معاشرے کے سامنے یہ بات رکھتی ہے کہ علماء اور دین کے طلبہ جو وقت دینی تعلیم میں گزارتے ہیں، وہ محض اپنی ذات کے لیے نہیں ہوتا۔ ان کی محنت کا نفع پورے معاشرے کو ہوتا ہے، اور معاشرے کو چاہیے کہ وہ ان کی قدر کرے اور ان کے معاشی بار کو کم کرنے میں تعاون کرے۔

ظاہر اور باطن میں فرق:

حدیث ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کسی کی محنت اور کام کا اندازہ صرف ظاہری شکل (جسمانی محنت، تنخواہ) سے نہ لگائیں۔ بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جن کا باطنی اثر اور روحانی نفع ظاہری نظر سے پوشیدہ ہوتا ہے، لیکن وہ زیادہ قیمتی اور نتیجہ خیز ہوتا ہے۔

خلاصہ: یہ مختصر مگر پر معنی حدیث ہمیں علم کی برکت کے وسیع تر اجتماعی پہلو سے روشناس کراتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ دین کا علم سیکھنا اور سکھانا محض ایک ذاتی عبادت نہیں، بلکہ یہ پورے خاندان اور معاشرے کے لیے رزق اور برکت کا سبب بن سکتا ہے۔ نیز یہ علم اور محنت، ظاہر اور باطن، اور فرد و معاشرے کے درمیان توازن قائم کرنے کا درس دیتی ہے۔


کیا علماء نے معیشت اور سیاست پر کچھ نہیں لکھا؟

اسلامی معاشیات پر کتابیں دیکھیں اور مفت ڈاؤن لوڈ کریں:
اسلامی سیاسیات

آنکھیں ہیں اگر بند تو دن بھی رات ہے ، اس میں بھلا کیا قصور ہے آفتاب کا؟


نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«‌مَنْ ‌تَفَقَّهَ فِي دِينِ اللَّهِ كَفَاهُ اللَّهُ مَهَمَّهُ وَرَزَقَهُ مِنْ ‌حَيْثُ ‌لَا ‌يَحْتَسِبُ»
ترجمہ:
جو شخص الله کے دین میں فقہ(سمجھ بوجھ) حاصل کرتا ہے، الله تعالیٰ اس کے کاموں میں اس کی کفایت فرماتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہ گیا ہو.
[مسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم: حديث#4، مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي:حديث#3، أخبار أبي حنيفة وأصحابه: صفحہ#18،  جامع بيان العلم وفضله: حديث#216، تاريخ بغداد:‌‌1220، منازل الأئمة الأربعة-السلماسيصفحہ#166، التدوين في أخبار قزوين-الرافعي: ج3/ ص261، الأربعون المختارة من حديث الإمام أبي حنيفة-ابن المبرد:حديث#18، جامع الأحاديث-السيوطي:21816]

الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1من تفقه في دين الله كفاه الله مهمه ورزقه من حيث لا يحتسبعبد الله بن الحارثمسند أبي حنيفة رواية الحصكفي303أبو حنيفة150
2من تفقه في دين الله كفاه الله ورزقه من حيث لا يحتسبعبد الله بن الحارثمسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم4---أبو حنيفة150
3من تفقه في دين الله رزقه الله من حيث لا يحتسب وكفاه همهعبد الله بن الحارثتاريخ بغداد للخطيب البغدادي8324 : 50الخطيب البغدادي463
4من تفقه في دين الله كفاه الله همه ورزقه من حيث لا يحتسبأنس بن مالكالتدوين في أخبار قزوين للرافعي1179---عبد الكريم الرافعي623
5من تفقه في دين الله كفاه الله همه ورزقه من حيث لا يحتسبعبد الله بن جزءذيل تاريخ بغداد لابن النجار740---ابن النجار643
6من تفقه في دين الله كفاه الله همه ورزقه من حيث لا يحتسبعبد الله بن الحارثجامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر172216ابن عبد البر القرطبي463



حدیث نمبر 13

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ , كَانَ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى يَرْجِعَ "
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص علم کی طلب میں نکلے، وہ اللہ کے راستے میں (ثواب پاتا) رہتا ہے یہاں تک کہ واپس لوٹے۔

حواشی وحوالہ جات:
(ت): سنن ترمذی:حدیث نمبر 2647۔
(طص): المعجم الصغیر طبرانی:380۔
حدیث کی اسنادی حیثیت کے بارے میں شیخ البانی کا موقف:
حاشیے میں درج ہے کہ محدثِ عصر شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ابتداءً اس حدیث کو کمزور قرار دیا تھا۔ انہوں نے اس کا تضعیف اپنی کتب 'ضعيف الجامع' (حدیث نمبر 5570)، 'سلسلة الأحاديث الضعيفة' (حدیث نمبر 2037) اور 'مشكاة المصابيح' (حدیث نمبر 220) کے تحت کیا تھا۔
شیخ البانی کا رجوع:
لیکن بعد ازاں اپنی تحقیق میں نظر ثانی کرتے ہوئے، انہوں نے اپنی کتاب 'صحيح الترغيب والترهيب' (حدیث نمبر 88) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا اور اپنے پہلے موقف سے رجوع کیا۔ اس طرح یہ حدیث ان کی تحقیق کے مطابق صحیح درجے کی ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:
طلبِ علم کی عظیم فضیلت:
یہ حدیث علم حاصل کرنے کی سعی و جدوجہد کو 'سبیل اللہ' یعنی اللہ کے راستے میں ہونے کے برابر قرار دیتی ہے۔ جس طرح مجاہد فی سبیل اللہ کو ہر قدم پر ثواب ملتا ہے، اسی طرح ایک مخلص طالبِ علم کو گھر سے نکلنے سے لے کر واپس آنے تک کے سفر کے ہر لمحے میں اجر و ثواب ملتا رہتا ہے۔

علم کا سفر ہی عبادت ہے:
حدیث اس اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ علم تک پہنچنے کا عمل خود ایک عبادت ہے۔ محض علم کا حاصل کرنا ہی مقصد نہیں، بلکہ اس کے حصول کے لیے اٹھایا جانے والا ہر قدم، کی جانے والی ہر محنت، اور اس راستے میں برداشت کی جانے والی ہر مشقت قابلِ اجر و ثواب ہے۔

مخلص نیت کی شرط:
یہ فضیلت اس صورت میں ہے کہ علم محض اللہ کی رضا اور دین کی خدمت کے لیے حاصل کیا جائے۔ اگر علم دنیاوی مقاصد، شہرت یا ریاکاری کے لیے حاصل کیا جائے تو یہ ثواب حاصل نہیں ہوگا۔

محدثین کا علمی دیانت داری کا معیار:
حدیث کے حاشیے میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے اپنے فنی فیصلے سے رجوع کا ذکر، علمائے حدیث کی دیانت داری، حق پرستی اور مسلسل تحقیق کی روش کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ نئی تحقیق یا اضافی شواہد کی روشنی میں اپنے پہلے موقف کو تبدیل کرنے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ یہ ہر طالب علم کے لیے یہ سبق ہے کہ اپنے علم پر اصرار کے بجائے حق کی پیروی کرے۔

ہجرت و سفر کی اہمیت:
قدیم زمانے میں علم اکثر دور دراز کے اساتذہ سے حاصل کرنا پڑتا تھا، جس کے لیے سفر و ہجرت ضروری تھی۔ حدیث ان مشکلات اٹھانے والے طلبہ کے لیے بڑی تسلی و تشفی کا سامان ہے کہ ان کا یہ سفر رائیگاں نہیں جاتا۔

خلاصہ:
یہ مختصر مگر پُر معنی حدیث علم کے شعبے میں محنت و مشقت کرنے والے ہر طالب علم کے لیے بے پناہ حوصلہ و ہمت کا پیغام ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ علم کی خاطر گھر سے نکلنا، استاد کی خدمت میں حاضری دینا، اور علم حاصل کر کے واپس لوٹنا—یہ پورا سفر اللہ کی راہ میں جہاد کے مترادف ہے اور ہر قدم پر اس کا ثواب ملتا ہے۔



دوسری روایت کی شرح للمناوی:
(جو شخص گھر سے نکلے) یہ الفاظ ترمذی کی روایت میں ہیں: جو شخص اپنے گھر سے نکلے (علم کی طلب میں) یعنی نفع بخش شرعی علم جو اللہ کی رضا کے لیے حاصل کیا جائے (تو وہ اللہ کی راہ میں ہے) یعنی اس کا حکم اس شخص جیسا ہے جو جہاد میں ہو (یہاں تک کہ وہ واپس لوٹے) کیونکہ اس کی طلب میں دین کو زندہ کرنا، شیطان کو ذلیل کرنا اور نفس کو مشقت میں ڈالنا ہے جیسا کہ جہاد میں ہے، اسی لیے یہ جہاد سے مشابہ ہے۔ اور اس قول "یہاں تک کہ وہ واپس لوٹے" میں اس طرف اشارہ ہے کہ واپس لوٹنے اور لوگوں کو (علم) سکھانے کے بعد اس کا درجہ اس سے بھی بلند ہو جاتا ہے، کیونکہ اس وقت وہ ناقص لوگوں کو کامل بنانے میں انبیا کا وارث ہے۔
(ت) "فی العلم" کے بارے میں (اور الضیاء نے) المنتخب مختارہ میں (حضرت انس سے روایت کیا ہے) اور ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ بعض راویوں نے اسے مرفوع نہیں کیا۔ اس میں خالد بن یزید اللؤلؤی بھی راوی ہیں۔ عقیلی نے کہا: اس کی بہت سی حدیثوں پر متابعت نہیں ملتی، پھر انہوں نے یہ خبر بیان کی۔ ذہبی نے کہا: وہ ضعیف ہیں مگر ان کی حدیث قابلِ اعتبار ہے۔
[فیض القدیر للمناوی: 8657]

تیسسری روایت کی شرح للمناوی:
(جو شخص علم طلب کرے وہ اللہ کی راہ میں ہے یہاں تک کہ واپس لوٹے) فردوس میں کہا گیا ہے: اور یہ روایت کی جاتی ہے کہ "جو شخص علم کی طلب میں نکلے..." وغیرہ۔ امام غزالی نے کہا: یہ حدیث اور اس سے پہلی اور بعد والی احادیث نفع بخش علم کے بارے میں ہیں، اور وہ علم وہ ہے جو اللہ کے خوف میں اضافہ کرے اور دنیا کی رغبت کو کم کرے۔ اور ہر وہ علم جو تمہیں دنیا سے آخرت کی طرف نہ بلا ئے تو اس میں جہالت ہی تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، پس تم اللہ کی پناہ مانگو اس علم سے جو نفع نہ دے۔
(حضرت انس بن مالک سے روایت ہے) اور اس میں خالد بن یزید راوی ہیں جو ضعیف ہیں۔
[فیض القدیر للمناوی: 8839]





حدیث نمبر 14

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
(" مَنْهُومَانِ (١) لَا يَشْبَعَانِ) (٢) (مَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ , لَا تَنْقَضِي نُهْمَتُهُ , وَمَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا , لَا تَنْقَضِي نُهْمَتُهُ ") (٣)
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"دو حریص(1) ایسے ہیں جو کبھی سیر نہیں ہوتے(2): ایک علم کا حریص، اس کی حرص ختم نہیں ہوتی، اور دوسرا دنیا کا حریص، اس کی حرص ختم نہیں ہوتی(3)."

حواشی و حوالہ جات:
(1)نُھمۃ کا معنی ہے: ہمّت و طمع کا کسی چیز میں انتہا کو پہنچنا، شدید لالچ اور آرزو۔
(2)مستدرک حاکم: 312، سنن الدارمی:334، صحیح الجامع:6624، مشکاۃ المصابیح:260۔
(3)المعجم الاوسط للطبرانی:5670، کتاب العلم-ابو خیثمہ: ج1 ص33 حدیث نمبر 141، کتاب العلم-بتخریج البانی: ص56۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
علم کی فضیلت:
علم کی طلب میں مسلسل لگے رہنا اور اس میں پیاس بڑھتی رہنا ایک پسندیدہ اور اللہ کے نزدیک اجر والا کام ہے، یہاں تک کہ اسے جہاد فی سبیل اللہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔

دنیا کی حرص کی مذمت:
دنیا کی حرص ایک لامتناہی وادی ہے جو انسان کو کبھی سکون نہیں دیتی، لہذا اس میں اعتدال اور توکل ضروری ہے۔

نیت کی اہمیت:
علم صرف وہی مفید ہے جو خالصتاً اللہ کی رضا اور آخرت کی تیاری کے لیے حاصل کیا جائے۔ ایسا علم جو انسان کو دنیا سے بیزار کر کے آخرت کی طرف راغب کرے۔

علماء کی ذمہ داری:
علم حاصل کرنے والے کا کام صرف ذاتی فائدہ تک محدود نہیں، بلکہ اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ واپس آ کر دوسروں تک اس علم کو پہنچائے اور ناقص لوگوں کو کامل بنائے، جس پر اسے انبیا کا وارث قرار دیا گیا ہے۔

علم کی دو قسمیں:
علم نافع (نفع بخش) اور علم غیر نافع۔ صرف وہی علم مطلوب ہے جو اللہ کے خوف اور آخرت کی یاد میں اضافہ کرے۔

حدیث کی سند کے بارے میں محتاط رویہ:
علم کے باب میں احادیث کی تخریج اور راویوں کے حالات پر غور کرنا ضروری ہے، جیسا کہ بعض روایات کے بارے میں محدثین نے ضعف یا غرابت کی نشاندہی کی ہے۔



شرح للمناوی:

"دو حریص ہیں جو کبھی سیر نہیں ہوتے: علم کا طلب گار اور دنیا کا طلب گار۔"

1. "النَّهْمَة" (حرص) کسی چیز پر سخت لالچ اور حد سے زیادہ آرزو کو کہتے ہیں۔ اسی سے "نَهِم" (بہت بھوکا) بھی ہے، جیسا کہ "النِّہایہ" میں آیا ہے۔ طِیبی کہتے ہیں: اگر حدیث میں بنیادی معنی (بھوک) کی طرف رجوع کیا جائے تو "لا يَشْبَعَانِ" (سیر نہیں ہوتے) ان دونوں کے حرص کے ختم نہ ہونے کے لیے استعارہ ہے۔ اور اگر فرعی معنی (شدید آرزو) کی طرف رجوع کیا جائے تو یہ تشبیہ ہے، جس میں "مَنْهُوم" (حریص) کی تین قسمیں بنائی گئی ہیں: پہلی معروف ہے جو بھوک میں حریص ہے، اور دوسری دو علم اور دنیا میں حریص ہیں۔ اور ان دونوں کو معروف (بھوک) سے زیادہ بلند درجہ دیا ہے۔ اور میری دانست میں یہ واقعی ایسا ہی ہے، حالانکہ ان دونوں میں سے علم کا حریص ہی قابلِ تعریف ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا: {وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا} (اور دعا کریں: اے میرے رب، میرے علم میں اضافہ فرما)۔
2. اس کی تائید حضرت ابن مسعود کے اس قول سے ہوتی ہے کہ: یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ دنیا کا طلب گار تو سرکشی میں آگے بڑھتا رہتا ہے، جبکہ علم کا طلب گار رحمان کی رضا میں اضافہ پاتا ہے۔
3. راغب اصفہانی کہتے ہیں: علم میں "نَهِم" ہونا استعارہ ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ پر وہ بوجھ لادے جس کی اس کی طاقت نہ ہو، جس سے وہ کمزور ہو جائے۔ اور "مُنْبَت" (تھکا دینے والا سواری) نہ تو زمین طے کر پاتا ہے اور نہ ہی اپنی پیٹھ بچا پاتا ہے۔ (یہ تشریح ماوردی کے قول سے زیادہ مضبوط ہے)۔
4. ماوردی کہتے ہیں: اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ علم (اپنے طالب سے) باقی رہ جانے والے حصے کا تقاضا کرتا ہے اور پیچھے رہ جانے والے حصے کی طرف بلاتا ہے، اور علم کا راغب اس کے کچھ حصے پر ہی قناعت نہیں کرتا۔
5. حجۃ الاسلام (امام غزالی) فرماتے ہیں: انسان میں چار صفتیں جمع ہیں: درندگی، حیوانیت، شیطنت اور ربّانیت۔ جہاں غصہ اس پر مسلط ہوتا ہے وہ درندوں جیسے افعال کرتا ہے، جیسے لوگوں پر حملہ، مارپیٹ، گالی گلوچ، بغض وغیرہ۔ اور جہاں شہوت اس پر مسلط ہوتی ہے وہ حیوانوں جیسے افعال کرتا ہے، جیسے حریص، لالچی اور شہوانی ہونا۔ اور جہاں وہ اپنی ذات میں ایک "ربّانی" امر ہے (جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: {قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي}) وہ اپنے لیے ربوبیت کا دعویٰ کرتا ہے، غلبہ و برتری، امور میں خصوصیت اور استبداد کو پسند کرتا ہے، ربّانیت کی پناہ لیتا ہے اور بندگی کے درجے سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ تمام علوم کے حصول کی آرزو کرتا ہے اور اپنے لیے علم و معرفت اور چیزوں کی حقیقتوں کی احاطہ داری کا دعویٰ کرتا ہے۔ جب اسے عالم کہا جاتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اس پر حریص ہے، کبھی سیر نہیں ہوتا۔

حواشی و حوالہ جات:

(عد) یعنی امام ابن عدی نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ اور اسی طرح القضاعی نے بھی۔

(عن أنس) بن مالک۔ مصنف (مناوی) کے طریقہ کار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابن عدی نے اس حدیث کو خراج کیا ہے اور اس کی تصدیق کی ہے، لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ ابن عدی نے اس پر تنقید کرتے ہوئے رد کیا ہے۔ انہوں نے کہا: اس کے ایک راوی محمد بن یزید ضعیف ہیں، وہ حدیث چراتے تھے اور منکر احادیث بیان کرتے تھے۔ اسی وجہ سے ابن الجوزی نے "العلل" میں کہا: یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
(البزار) نے اپنی مسند میں۔
(عن ابن عباس) ہیثمی کہتے ہیں: اس میں لَیْث بن ابی سُلَیْم ہیں جو ضعیف ہیں۔
[فیض القدیر-للمناوی:9116]


تشریح سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

علم کی طلب کی لامحدودیت:
علم کا طالب جتنا علم حاصل کرتا ہے، اس کی علم کے لیے پیاس اور طلب میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ایک مثبت اور مطلوب صفت ہے جو انسان کو مسلسل ترقی دیتی ہے۔

دنیاوی حرص کی مذمت:
دنیا کی حرص ایک بھوک کی مانند ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یہ انسان کو طغیان (سرکشی) میں آگے بڑھاتی ہے اور اس کا نتیجہ کبھی تسکین نہیں ہوتا۔

نیت کا فرق:
علم اور دنیا دونوں کی حرص میں ظاہری مشابہت ہو سکتی ہے، لیکن نیت اور نتیجہ کے اعتبار سے وہ زمین آسمان کا فرق رکھتی ہیں۔ ایک رحمان کی رضا میں اضافہ کا سبب ہے تو دوسرا سرکشی میں اضافے کا۔

علم کے لیے اللہ سے دعا:
علم میں اضافے کی مسلسل دعا کرنا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا، ایک مؤمن کا شیوہ ہونا چاہیے۔

حدیث کی سند پر تنقید کی اہمیت:
یہ حدیث اگرچہ معنی کے اعتبار سے درست اور تعلیمات کے موافق ہے، لیکن محدثین نے اس کی سند میں کئی راویوں کے ضعف کی نشاندہی کی ہے۔ اس سے علم حدیث میں سند کے مطالعہ اور راویوں کے حالات پر جرح و تعدیل کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

انسان کی پیچیدہ فطرت:
انسان میں مختلف میلانات (درندگی، حیوانیت، شیطنت، ربّانیت) موجود ہیں۔ علم کا حقیقی طالب وہ ہے جو اپنی ربّانیت کو تقویت دے اور دوسری قواؤں کو علم و تقویٰ کے تابع رکھے۔

علم کی حقیقی طلب:
حقیقی علم وہ ہے جو انسان میں اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر پیدا کرے۔ صرف معلومات کا ذخیرہ یا سماجی عزت کا ذریعہ بن جانا مقصود نہیں ہونا چاہیے۔




حدیث نمبر 15

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رضي الله عنه - فِي قَوْلِهِ - عز وجل -: {قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا} [التحريم: ٦] قَالَ: عَلِّمُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمُ الْخَيْرَ.
 ترجمہ:
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ} [سورۃ التحریم:6] کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: "اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بھلائی (نیک کام) سکھاؤ۔"
[مستدرک حاکم:3826، صَحِيح التَّرْغِيبِ:119]

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

تعلیم و تربیت کی ذمہ داری:
انسان کی سب سے پہلی ذمہ داری اپنی اور اپنے اہل وعیال کی اصلاح اور انہیں نیک کاموں کی تعلیم دینا ہے۔

علم کے ذریعے بچاؤ:
جہنم کی آگ سے بچنے کا اصل ذریعہ علم و عمل ہے، لہٰذا اپنے آپ کو اور گھر والوں کو دینی علم سکھانا فرض ہے۔

خیر کی جامعیت:
"الخیر" (بھلائی) کا لفظ بہت جامع ہے جس میں عقیدہ، عبادات، اخلاق، معاملات اور تمام شرعی احکام شامل ہیں۔

عملی تشریح:
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن کریم کی آیات کو عملی طور پر سمجھاتے اور ان پر عمل کرتے تھے۔ یہ آیت اور اس کی تفسیر ایمان و عمل کے درمیان گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

ایمان کا تقاضا:
حقیقی ایمان صرف دعوے کا نام نہیں بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے قول و فعل سے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی آخرت سنوارے۔

اجتماعی ذمہ داری:
اسلام میں انفرادی نجات کا تصور نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری پر زور دیا گیا ہے۔ انسان صرف اپنی ہی نہیں بلکہ اپنے گھرانے کی آخرت کے لیے بھی جواب دہ ہے۔




حدیث نمبر 16

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ - رضي الله عنه - قَالَ: (لَقَدْ نَفَعَنِيَ اللهُ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - أَيَّامَ الْجَمَلِ , بَعْدَمَا كِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلَ مَعَهُمْ) (١) (لَمَّا هَلَكَ كِسْرَى , قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَنْ اسْتَخْلَفُوا؟ " , قَالُوا: ابْنَتَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمْ امْرَأَةً " , قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ - رضي الله عنها - الْبَصْرَةَ , ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَعَصَمَنِي اللهُ بِهِ) (٢).
ترجمہ:
حضرت ابو بکرہ نفيع بن الحارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنے ہوئے ایک کلمے کے ذریعے (جنگِ جمل کے موقع پر) نفع پہنچایا، اس وقت جب کہ میں قریب تھا کہ اہلِ جمل (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فوج) کے ساتھ شامل ہو جاؤں اور ان کے ساتھ مل کر لڑوں (1)۔ (وہ واقعہ یہ تھا کہ) جب کسریٰ (فارسی بادشاہ) مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: 'انہوں نے (بادشاہت کے لیے) کس کو جانشین بنایا ہے؟' صحابہ نے عرض کیا: 'اس کی بیٹی کو'۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنا معاملہ (حکومت) ایک عورت کے سپرد کر دیا' (2)۔ ابو بکرہؓ کہتے ہیں: پھر جب (جنگِ جمل کے موقع پر) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ پہنچیں تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس (فرمان) کے ذریعے (اس فتنے سے) بچا لیا۔"

حوالہ:
(1)صحیح البخاری: 4163۔
(2)جامع الترمذی: 2262، صحیح البخاری: 6686، سنن النسائی: 5388، مسند احمد: 20536۔ نیز دیکھیں: إرواء الغلیل: 2456۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

احادیث نبویہ کی برکت و تاثیر:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک فرمان زندگی کے بڑے فتنوں اور مشکلات میں راہنمائی اور نجات کا ذریعہ ہوا کرتا تھا، جیسا کہ اس واقعہ میں واضح ہے۔

فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ:
سنت نبوی پر عمل اور اسے یاد رکھنا انسان کو بڑے سے بڑے فتنے اور گمراہی سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

رہبری و امامت کے اصول:
اسلام میں قیادت اور حکمرانی کی ذمہ داریوں کے لیے مردوں کو منتخب کرنے کی ہدایت ہے، کیونکہ یہ شریعت کے مقرر کردہ ایک عمومی اصول کے مطابق ہے۔

غیر مسلم واقعات سے عبرت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو غیر مسلم اقوام کے حالات اور واقعات سے بھی مناسب موقع پر نصیحت اور سبق لیتے تھے۔

صحابی کا حکیمانہ موقف:
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کا اپنے محبوب ہونے کے باوجود، حق کے تقاضے کے تحت حق بات پر قائم رہنا اور جذبات میں بہہ کر فیصلہ نہ کرنا ہمارے لیے نمونہ ہے۔

تاریخی تناظر کی اہمیت:
اس حدیث کا تعلق خاص تاریخی حالات (جنگِ جمل) سے ہے اور یہ اسلام میں عمومی قیادت کے اصول کی وضاحت کرتی ہے۔



شرح للمناوی:
(کبھی فلاح نہیں پائے گا وہ قوم جس نے اپنی باگ ڈور سونپ دی) اور ایک روایت میں "مَلَّکُوا" (بادشاہت دی) کے الفاظ ہیں۔ (اپنا معاملہ ایک عورت کے) "امْرَأَةً" کو نصب میں مفعول بنا کر پڑھا جاتا ہے۔ اور ایک روایت میں "وَلِيَ أَمْرَهُمُ امْرَأَةٌ" کے الفاظ ہیں جہاں "امْرَأَةٌ" فاعل کی حیثیت سے مرفوع ہے۔ یہ (حکم) عورت کے نقص اور اس کی رائے کے کمزور ہونے کی وجہ سے ہے، اور اس لیے بھی کہ حاکم کو رعایا کے معاملات کی انجام دہی کے لیے (مجلسوں میں) ظاہر ہونے کا حکم ہے، اور عورت پردہ کی چیز ہے، اس کے لیے یہ کام مناسب نہیں۔ لہٰذا یہ صحیح نہیں کہ اسے امامت (اعلیٰ قیادت) یا قضاء (جج کا عہدہ) پر مقرر کیا جائے۔ طیبی کہتے ہیں: یہ (حدیث) اہل فارس کے فلاح نہ پانے کی خبر ہے تأکید کے طور پر، اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فلاح (کامیابی) عربوں کے لیے ہے، چنانچہ یہ ایک معجزہ ہے۔
(حم خ) یعنی امام احمد اور امام بخاری نے اسے "المغازي والفتن" کے باب میں روایت کیا ہے۔ (ت) یعنی ترمذی نے بھی اسے اپنی سنن میں روایت کیا ہے۔ (ن) یعنی نسائی نے "القضاء" کے باب میں روایت کیا ہے۔ (عن أبي بكرة) یہ حدیث حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے یہ اس وقت بیان کی جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ فارسیوں نے بوران بنت کسریٰ کو اپنا حکمران بنا لیا ہے۔ اسی وجہ سے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ جنگِ جمل کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مل کر لڑنے سے باز رہے اور اسی حدیث سے استدلال کیا۔
[فیض القدیر للمناوی:7393]

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

قیادت کا شرعی معیار:
اسلام قیادت اور حکمرانی کے مناصب کے لیے اہلیت اور صلاحیت کے خاص معیارات مقرر کرتا ہے، جو فطری، نفسیاتی اور شرعی دلائل پر مبنی ہیں۔

عورتوں کے لیے مخصوص احکام:
شریعت نے عورت کی فطری ساخت، اس کی خصوصی ذمہ داریوں اور اس کے پردے کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ عوامی مناصب (جیسے اعلیٰ ترین حکمرانی اور قضا) اس کے لیے مناسب نہیں ٹھہرائے ہیں۔ یہ اس کی تکریم اور تحفظ کے لیے ہے نہ کہ تحقیر کے لیے۔

سنتِ نبوی کی عملی تطبیق:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محض جذبات یا رشتہ داری کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح فرامین کو عملی زندگی میں فیصلہ کن حیثیت دیتے تھے، چاہے حالات کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں۔

غیر مسلموں کے حالات سے عبرت:
دوسری قوموں کے نظاموں اور ان کے نتائج کو دیکھ کر اسلامی تعلیمات کی حکمت سمجھ میں آتی ہے۔

حدیث کا اعجازی پہلو:
حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسی قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ یہ ایک پیشین گوئی ہے جو بعد کے واقعات نے سچ ثابت کی، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کا ایک پہلو ہے۔

فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ:
شریعت کے واضح احکام پر عمل پیرا ہونا انسان کو بڑے فتنوں اور داخلی تصادم سے بچاتا ہے۔

محدثین کا علمی منہج:
محدثین کرام احادیث کو ان کے مختلف طرق، الفاظ اور متعلقہ تاریخی واقعات کے ساتھ جمع کرتے ہیں تاکہ صحیح مفہوم سامنے آ سکے۔





حدیث نمبر 17

عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَمَرَ الْحَجَّاجُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَنْ يَقْتُلَ رَجُلًا، فَقَالُ لَهُ سَالِمٌ: أَصَلَّيْتَ الصُّبْحَ؟ , فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: نَعَمْ، فَقَالَ: انْطَلِقْ، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: مَا مَنَعَكَ مِنْ قَتْلِهِ؟ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ , فَهو فِي جِوَارِ اللهِ يَوْمَهُ " , فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَ رَجُلًا قَدْ أَجَارَهُ اللهُ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ لِابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما -: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -؟ , فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: نَعَمْ.
ترجمہ:
زہری سے روایت ہے کہ حجاج (بن یوسف ثقفی) نے سالم بن عبداللہ (بن عمر بن خطاب) کو حکم دیا کہ وہ ایک شخص کو قتل کر دیں۔ سالم نے اس شخص سے پوچھا: "کیا تم نے صبح کی نماز پڑھی ہے؟" اس شخص نے جواب دیا: "ہاں۔" تو سالم نے اس سے کہا: "تم جاؤ (تمہیں چھوڑ دیا گیا ہے)۔" حجاج نے سالم سے پوچھا: "تم نے اسے قتل کرنے سے کس چیز نے روکا؟" سالم نے جواب دیا: "میرے والد (عبداللہ بن عمر) نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: 'جس نے صبح کی نماز پڑھی، تو وہ اس دن اللہ کی پناہ میں ہے۔' میں نے اس شخص کو قتل کرنا پسند نہیں کیا جسے اللہ تعالیٰ نے پناہ دے رکھی ہو۔" حجاج نے (سالم کے والد) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: "کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ (حدیث) سنی ہے؟" حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: "ہاں۔"
[معجم الكبير الطبراني:13211، صَحِيح التَّرْغِيبِ:462]

اور اس واقعہ میں علم کی قدر و قیمت پر غور کریں۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

نماز فجر کی عظیم فضیلت:
صبح کی نماز (فجر) پڑھنے والا پورے دن اللہ کی پناہ و حفاظت میں رہتا ہے۔ یہ حدیث نمازِ فجر کی اجتماعی ادائیگی کی ترغیب دیتی ہے۔

علم کا عملی اطلاق:
حقیقی علم وہ ہے جو انسان کے عمل اور فیصلوں کو بدل دے۔ سالم بن عبداللہ نے محض علم ہی حاصل نہیں کیا تھا بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے ایک ظالم حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا۔

حق بات کہنے کی ہمت:
ایک ظالم و جابر حکمران (حجاج) کے سامنے حق کی گواہی دینا اور شرعی دلیل پیش کرنا انتہائی حوصلے کا کام ہے۔ علم انسان کو یہ ہمت عطا کرتا ہے۔

علم کی نسل در نسل منتقلی:
اس واقعے میں علم کی صحیح اور بروقت منتقلی کا خوبصورت نمونہ دکھائی دیتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث اپنے بیٹے سالم کو سنائی، اور سالم نے اسے اس موقع پر بروئے کار لایا۔

اللہ کی پناہ کا احترام:
جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی پناہ میں لے لیا ہو، اس کے ساتھ ناانصافی یا ظلم کرنا درحقیقت اللہ کی پناہ کی بے حرمتی ہے۔

علم کی جانچ پڑتال:
حجاج کا براہ راست حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث کی تصدیق کروانا، اگرچہ اس کی نیت مختلف تھی، لیکن یہ اصول سکھاتا ہے کہ علم میں تحقیق و تصدیق کا رویہ اپنانا چاہیے۔

علم دین کی حیثیت:
دین کا علم محض ذہنی ورزش نہیں، بلکہ یہ زندگی و موت، حق و باطل کے معاملات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ اس واقعے میں ایک حدیث نے ایک بے گناہ انسان کی جان بچا دی۔



شرح للمناوی:
(جس نے فجر کی نماز پڑھی) یعنی خلوص کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔ ایک روایت میں "صلاة الصبح" کے الفاظ ہیں۔ (تو وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے) یعنی اللہ کی امان و پناہ میں۔ فجر کی نماز کی خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے کیونکہ اس میں مشقت ہے، اس پر صرف خالص ایمان والا ہی پابندی سے عمل کرتا ہے، اس لیے وہ اس امان کا مستحق ہوتا ہے۔ (اور اس کا حساب اللہ پر ہے) یعنی جو کچھ وہ چھپاتا ہے (ریاء وغیرہ) کے بارے میں۔ یہ تشبیہ ہے، گویا کہ اللہ پر یہ واجب ہے کہ وہ اس کے چھپائے ہوئے اعمال کا حساب کرے، پھر مخلص کو ثواب دے اور گنہگار کو اپنے عدل سے سزا دے یا اپنے فضل سے معاف کر دے۔ بعض کا خیال ہے کہ مراد یہ ہے کہ نماز کے علاوہ دیگر گناہوں میں جو کوتاہی ہوتی ہے اس کا حساب اللہ پر ہے، کیونکہ اگرچہ وہ اپنی نماز کی وجہ سے اس دن مصیبتوں سے محفوظ رہتا ہے، لیکن اگر اس سے کوئی اور گناہ سرزد ہو جائے تو ممکن ہے کہ آخرت میں اس پر مواخذہ ہو۔ اس تاویل میں تکلف واضح ہے۔ اور بعض موالی الروم کا قول کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ثواب کی قدر کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، یہ بات بعید از قیاس ہے۔

(طب) یعنی امام طبرانی نے ابو مالک اشجعی کے والد سے روایت کیا ہے۔ ہیثمی کہتے ہیں: اس میں ہیثم بن یمان ہیں جنہیں ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے، اور باقی رجال صحیح کے رجال ہیں۔ اور امام مسلم نے اسے یوں روایت کیا ہے: "جس نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے، پس اللہ تم سے اپنی ذمہ داری کا کچھ بھی طلب نہیں کرے گا۔ کیونکہ جو کوئی اس سے اس کی ذمہ داری کا کچھ طلب کرے گا، اللہ اسے پا لے گا اور اسے جہنم کی آگ میں گرا دے گا۔"

[فیض القدیر للمناوی:8793]

شرح سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

نماز فجر کی عظمت و فضیلت:
فجر کی نماز کی خاص فضیلت ہے کہ اسے پابندی سے پڑھنے والا پورے دن اللہ کی خاص پناہ و حفاظت میں رہتا ہے۔

اخلاص کی شرط:
اس فضیلت کے حصول کے لیے نماز کو خلوص کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ ریاکاری یا دکھاوے سے پڑھی گئی نماز اس فضیلت سے محروم رہ سکتی ہے۔

مشقت میں اجر:
فجر کی نماز میں دیگر نمازوں کے مقابلے میں زیادہ مشقت ہے (نیند ترک کرنا، اٹھنا وغیرہ)، اسی وجہ سے اس کا اجر بھی زیادہ ہے۔

اللہ کی ذمہ داری کا مفہوم:
"ذمہ اللہ" میں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی حفاظت اور نگہبانی کا خود ذمہ لیتا ہے۔ یہ ایک عظیم امان اور اعزاز ہے۔

چھپے ہوئے اعمال کا علم:
اللہ تعالیٰ بندے کے ظاہر و باطن، خلوص و ریاء سے بخوبی واقف ہے اور وہی ہر ایک کو اس کے اعمال کا مکمل بدلہ دے گا۔

اللہ کی رضا پر بھروسا:
بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے، کیونکہ وہی بہترین حساب لینے والا اور سب سے زیادہ بخشنے والا ہے۔

حدیث کی مختلف اسانید:
یہ حدیث مختلف الفاظ اور سندوں سے وارد ہوئی ہے، لیکن اس کا بنیادی مفہوم ایک ہی ہے۔

سند کے راویوں پر نقد:
محدثین کرام ہر حدیث کی سند کا گہرائی سے جائزہ لیتے تھے اور راویوں کے حالات کو بیان کرتے تھے، جیسا کہ ہیثم بن یمان کے بارے میں ضعف کا ذکر۔




حدیث نمبر 18

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" سَتَكُونُ فِتَنٌ , يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا , وَيُمْسِي كَافِرًا , إِلَّا مَنْ أَحْيَاهُ اللهُ بِالْعِلْمِ ")
ترجمہ:
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"عنقریب ایسے فتنے ہوں گے جن میں آدمی صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ علم (کے ذریعے) زندہ رکھے۔"

[سنن ابن ماجہ:3954، السنن للدارمی:338، السلسلة الضعیفة للالبانی:3696]

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

فتنوں کی پیشین گوئی:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانے میں آنے والے شدید فتنوں سے خبردار کیا ہے، جن میں انسان کا ایمان بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔

ایمان کی کمزوری:
فتنوں کی شدت اور چکاچوند کے باعث انسان کا عقیدہ اور ایمان متزلزل ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنا دین بھی بدل سکتا ہے۔

علم نافع کی حیثیتِ نجات:
ان گمراہ کن فتنوں سے بچنے اور ایمان کو قائم رکھنے کا واحد ذریعہ "علم" ہے۔ علم ہی وہ روشنی ہے جو اندھیرے میں راستہ دکھاتا ہے۔

علم سے مراد:
یہاں "علم" سے مراد وہ صحیح اسلامی علم ہے جس کی بنیاد کتاب و سنت ہے، جس سے انسان اللہ، اس کے رسول اور دین کی حقیقت کو پہچانتا ہے۔ یہ محض دنیاوی علوم نہیں ہیں۔

اللہ کی توفیق:
حقیقی علم اور اس پر عمل کرنا اللہ کی خاص توفیق سے ہی میسر آتا ہے، جیسے حدیث میں "مَنْ أَحْيَاهُ اللهُ بِالْعِلْمِ" (جسے اللہ علم کے ذریعے زندہ رکھے) کے الفاظ ہیں۔

علماء کی ذمہ داری:
ایسے دور میں علماء اور داعیانِ حق کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کہ وہ لوگوں تک صحیح علم پہنچا کر انہیں فتنوں سے بچائیں۔

حدیث کی سند کا حکم:
اگرچہ اس حدیث کا سلسلہٴ سند ضعیف ہے، لیکن اس کے معنی درست ہیں اور دین کے بنیادی اصولوں (حفاظتِ ایمان کے لیے علم کی ضرورت) کے عین مطابق ہیں۔ دیگر صحیح احادیث بھی اسی مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔

ہماری جدوجہد:
ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے دور کے فتنوں سے آگاہ رہے اور ان سے بچنے کے لیے صحیح علم حاصل کرنے کی کوشش کرے۔



شرح للمناوی:
(عنقریب ایسے فتنے ہوں گے جن میں آدمی صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ علم (کے ذریعے) زندہ رکھے) اس لیے کہ وہ (علم کی وجہ سے) اپنے معاملے میں بصیرت اور اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوگا، چنانچہ وہ ان احکام سے جو وہ استنباط کرتا ہے، ان کی روشنی میں فتنوں کے مقامات سے بچتا رہے گا۔ دیلمی نے یہ کہا ہے۔ اور ایک روایت میں "أَحْيَاهُ" کی بجائے "اجتباه" (جسے اللہ تعالیٰ نے علم کے ذریعے منتخب کیا) کے الفاظ آئے ہیں۔

(هـ طب) یعنی امام احمد بن حنبل اور امام طبرانی نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ اسی طرح ابو یعلیٰ نے بھی۔ (عن أبي أمامة) ہیثمی کہتے ہیں: اس کے راوی ثقہ ہیں۔
[فیض القدیر للمناوی: 4677]

(اعمال صالحہ کرنے میں جلدی کرو فتنوں سے پہلے) "فتن" فتنہ کی جمع ہے، اور اس کا معنی ہے آزمائش۔ یہ لفظ مصیبتوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اس چیز کے لیے بھی جس کے ذریعے آزمائش ہو۔ (جیسے رات کے اندھیرے کے ٹکڑے) "قطعۃ" کی جمع ہے، جس کا مطلب ہے رات کا ایک حصہ۔ مراد یہ ہے کہ سیاہ اور تاریک فتنے واقع ہوں گے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنے کے آنے سے پہلے، جب نیک اعمال کرنا مشکل یا ناممکن ہو جائے گا، ان کی کثرت اور ان کا انبار لگ جانے کی مصروفیت کی وجہ سے، نیک اعمال کی طرف جلدی کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جیسے رات کے اندھیرے کا انبار۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کی شدت کی ایک قسم کو یوں بیان فرمایا: (اس میں آدمی صبح کرے گا) (مؤمن ہو کر اور شام کرے گا کافر ہو کر، اور شام کرے گا مؤمن ہو کر اور صبح کرے گا کافر ہو کر) ترمذی کی یہ روایت ہے، اور مسلم کی روایت میں "أو" (یا) کا لفظ ہے جو شک پر دلالت کرتا ہے۔ اور یہ (تغیر) فتنوں کی عظمت کی وجہ سے ہے، انسان ایک ہی دن میں ان قلابازیوں سے گزرے گا۔ (تم میں سے کوئی شخص اپنا دین بیچ ڈالے گا) "عرض" راء کے فتحہ کے ساتھ (دنیا کے تھوڑے سے مال کے عوض) یعنی اس کے تھوڑے سے فانی مال کے بدلے۔ کشاف میں کہا گیا ہے: "عرض" وہ ہے جو دنیا کے فوائد تمہارے سامنے پیش کرے۔ مطامح میں کہا گیا ہے: یہ حدیث اور فتنوں سے متعلق اس جیسی دیگر احادیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان استقبالی معجزات میں سے ہیں جن کے بارے میں آپ نے خبر دی کہ وہ آپ کے بعد واقع ہوں گی، اور وہ واقع ہوئیں اور ہوتی رہیں گی۔
(حم م) یعنی امام احمد اور امام مسلم نے اسے "الإیمان" کے باب میں روایت کیا ہے۔ (ت) یعنی ترمذی نے "الفتن" کے باب میں۔ (عن أبي هريرة) لیکن "قلیل" کا لفظ میں نے مسلم کی وہ نسخہ جس پر میں نے نظر کی ہے، میں نہیں دیکھا۔
[فیض القدیر للمناوی: 3117]

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات (پہلے روایت سے):
علم ہی نجات ہے:
شدید فتنوں اور گمراہی کے دور میں عقیدے اور ایمان کی حفاظت کا واحد ذریعہ صحیح علم (کتاب و سنت کا فہم) ہے۔

علم بصیرت عطا کرتا ہے:
علم انسان کو بصیرت اور اللہ کی طرف سے واضح دلیل عطا کرتا ہے، جس کی بنیاد پر وہ فتنوں کے مقامات اور اُن کے پھیلاؤ کے طریقوں سے بچ سکتا ہے۔

علم زندہ کرنے والا ہے:
حقیقی علم صرف معلومات نہیں بلکہ وہ نور ہے جو دل کو زندہ کرتا ہے اور ایمان کو تازہ رکھتا ہے۔

علماء کی عظیم ذمہ داری:
ایسے دور میں علمائے حق کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کہ وہ لوگوں کو وہ علم دیں جو انہیں فتنوں سے بچا سکے۔

توفیق الٰہی:
صحیح علم حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا اللہ کی خاص توفیق سے ہی ممکن ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات (دوسری روایت سے):
اعمال صالحہ میں سبقت:
فتنے آنے سے پہلے نیک اعمال کی طرف دوڑ لگانا ضروری ہے، کیونکہ فتنوں کی آمد کے بعد نیک اعمال کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

فتنوں کی شدت اور تاریکی:
آخری زمانے کے فتنے گہرے تاریکی اور الجھن کے مانند ہوں گے، جو حق و باطل میں تمیز کرنا مشکل بنا دیں گے۔

ایمان کی متزلزل حالت:
فتنوں کی ہیبت اور کشمکش میں انسان کا ایمان بہت کمزور ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ دن میں کئی بار اپنا عقیدہ بدل سکتا ہے۔

دین کو دنیا پر فروخت نہ کرنا:
سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسان اپنے دین کے بدلے تھوڑی سی دنیوی منفعت یا آرام حاصل کر لے۔ یہ فتنوں کا بنیادی محرک ہے۔

نبی کی پیشین گوئی معجزہ ہے:
ان فتنوں کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر دینا آپ کا ایک معجزہ ہے، جس کی تصدیق تاریخ نے کر دی ہے۔

ہشیار رہنے کی دعوت:
ان احادیث کا مجموعی مقصد مسلمانوں کو مستقبل کے خطرات سے آگاہ کرنا اور انہیں روحانی و علمی طور پر تیار رہنے کی ترغیب دینا ہے۔




حدیث نمبر 19

عَنْ عُمَر - رضي الله عنه - قَالَ: تَفَقَّهُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا۔
 ترجمہ:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: "(دینی) سمجھ بوجھ حاصل کر لو اس سے پہلے کہ تم سردار بنا دیے جاؤ
[صحیح البخاری(معلقاً): جلد 1، صفحہ 39، مصنف ابن ابی شیبہ:26640، مختصر صحیح البخاری-البانی:حدیث نمبر 55]۔

حواشی:

امام بخاری نے کہا: "اور (یہ بات) اس کے بعد بھی (اہم ہے) کہ تم سردار بنا دیے جاؤ۔ اور بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے (بھی) اپنی عمر کے بڑھاپے میں علم حاصل کیا۔" حافظ ابن حجر فتح الباری (حدیث نمبر 73) میں فرماتے ہیں: "حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد صرف یہ تھا کہ (سرداری) باعثِ ممانعت بن سکتی ہے؛ کیونکہ کبھی سردار کو بڑھاپا اور (اپنے) وقار کے خیال نے اس بات سے روک دیا کہ وہ طالب علموں کی مجلس میں بیٹھے۔ اسی لیے امام مالک نے قضا (فیصلہ کرنے) کے عیب کے بارے میں کہا ہے: بے شک جب قاضی معزول ہو جاتا ہے تو وہ اس مجلس میں واپس نہیں آتا جس میں وہ (پہلے) علم حاصل کرتا تھا۔" اور امام شافعی نے فرمایا: "جب نوجوان (علم میں) صدر نشین ہو جائے تو بہت سا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔" اور ابو عبید نے اپنی کتاب "غریب الحدیث" میں اس کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: "اس کا معنی یہ ہے کہ تم چھوٹی عمر میں فقہ حاصل کرو، اس سے پہلے کہ تم سردار بن جاؤ، پھر تمہیں تکبر تمہیں اس بات سے روک دے گا کہ تم اپنے سے کم مرتبہ والے سے علم لو، نتیجتاً تم جاہل ہی رہ جاؤ گے۔" اور کہا گیا ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد سرداری کے حصول سے روکنا تھا، کیونکہ جو شخص فقہ حاصل کرتا ہے، وہ اس (سرداری) میں موجود پریشانیوں اور خطرات کو جان لیتا ہے، پس وہ ان سے بچتا ہے۔


حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

علم حاصل کرنے میں جلدی:
انسان کو چاہیے کہ وہ جوانی اور فراغت کے اوقات میں علم حاصل کرے، قبل اس کے کہ ذمہ داریاں اور مصروفیات اس کے راستے میں حائل ہو جائیں۔

علم کی اہمیت پر اصحاب رسول کا عمل:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عملی زندگی اس بات کی غماز ہے کہ انہوں نے ہر عمر میں علم حاصل کرنے کو اہمیت دی، خواہ وہ بڑھاپا ہی کیوں نہ ہو۔

عہدے علم حاصل کرنے میں رکاوٹ:
عہدہ اور سرداری انسان میں غرور پیدا کر سکتی ہے، جس کی وجہ سے وہ چھوٹوں یا کم تر سمجھے جانے والوں سے علم سیکھنے میں شرم محسوس کرنے لگتا ہے، نتیجتاً اس کا علم ادھورا رہ جاتا ہے۔

علم، عہدے کے خطرات سے آگاہ کرتا ہے:
حقیقی دینی فہم انسان کو صرف عہدے کی رعنائی ہی نہیں دکھاتا، بلکہ اس کے پیچیدہ خطرات اور ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بے جا حرص سے بچ جاتا ہے۔

تواضع اور حلم کی ضرورت:
عالم اور قائد کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ متواضع رہے اور علم کے حصول کے لیے کسی بھی مجلس میں بیٹھنے میں عار محسوس نہ کرے، خواہ استاذ اس سے عمر یا مرتبہ میں چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔

علم کے بغیر قیادت کا نقصان:
جو شخص علم کے بغیر کسی منصب پر فائز ہو جاتا ہے، وہ نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ اس کے تابع لوگوں کو بھی گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔

علم کی مسلسل تلاش:
علم کا حصول عمر بھر جاری رہنے والا عمل ہے۔ کسی عہدے پر فائز ہونے کے بعد بھی انسان کو علم سیکھنے اور سکھانے سے غافل نہیں۔




حدیث نمبر 20

عَنْ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ: كَانَ أَبِي يَجْمَعُ بَنِيهِ فَيَقُولُ: يَا بَنِيَّ تَعَلَّمُوا , فَإِنْ تَكُونُوا صِغَارَ قَوْمٍ , فَعَسَى أَنْ تَكُونُوا كِبَارَ آخَرِينَ , وَمَا أَقْبَحَ عَلَى شَيْخٍ يُسْأَلُ لَيْسَ عِنْدَهُ عِلْمٌ.
ترجمہ:
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے والد (عروہ بن زبیر) اپنے بیٹوں کو جمع کرتے اور فرماتے تھے: اے میرے بیٹو! علم حاصل کرو۔ اگرچہ تم (ابھی) ایک قوم کے چھوٹے (نوجوان) ہو، تو (ممکن ہے) تم دوسروں (کی نسل) کے بڑے (رہنما) بن جاؤ۔ اور کتنا برا ہے اس بوڑھے شخص کے لیے جس سے (کچھ) پوچھا جائے اور اس کے پاس علم نہ ہو۔

[سنن الدارمی:552، اس کا سند صحیح ہے]

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

علم حاصل کرنے میں ابتدائی محنت: والد اپنی اولاد کو بچپن اور جوانی ہی میں علم سیکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں، کیونکہ یہی وہ عمر ہے جب ذہن قبولیت اور حفظ و فہم کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے۔

مستقبل کے لیے تیاری: موجودہ چھوٹا مقام یا عمر مستقبل کی بڑائی کی ضمانت نہیں۔ آج کا طالب علم کل کا عالم، رہنما یا مرجع بن سکتا ہے، اس لیے اس کی تیاری ابھی سے ضروری ہے۔

علم کی بنیاد پر قیادت: معاشرے میں بڑائی اور رہنمائی کا حق دار وہی بنتا ہے جس کے پاس علم ہو۔ عمر یا خاندانی وجاہت کے بجائے علم ہی وہ معیار ہے جو کسی کو دوسروں پر برتری دیتا ہے۔

بڑھاپے میں جہالت کی مذمت: بڑھاپا تجربے اور علم کے احترام کا زمانہ ہوتا ہے۔ اگر کسی بزرگ کے پاس علم نہ ہو، تو یہ اس کے لیے باعث شرمندگی ہے، کیونکہ معاشرے سے اس وقت حکمت اور رہنمائی کی توقع کی جاتی ہے۔

والدین کی ذمہ داری: یہ واقعہ والدین پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو نہ صرف دنیوی تعلیم بلکہ دینی علم اور اخلاقی تربیت دینے کا اہتمام کریں۔

علم کی اہمیت پر عمل کرنے والے اسلاف: عروہ بن زبیر رحمہ اللہ خود ایک جلیل القدر تابعی اور عالم تھے۔ ان کا اپنے بیٹوں کو یہ نصیحت کرنا اس بات کی عملی تصویر ہے کہ علماء نے اپنی اولاد کو علم کی طرف کیسے راغب کیا۔

علم خواہی کا تسلسل: اس نصیحت سے علم کی مسلسل تلاش اور نسل در نسل اس کی منتقلی کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے، تاکہ معاشرے میں علم کا چراغ روشن رہے۔

خلاصہ: یہ مختصر روایت درحقیقت علم کی اہمیت، اس کے حصول میں جلدی، اور علم کے بغیر بڑھاپے کی بے قدری کے گہرے ترین پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے، جو آج کے تعلیمی دور میں بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔



حدیث نمبر 21

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قُلْتُ لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ: يَا فُلَانُ , هَلُمَّ فَلْنَسْأَلْ أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَإِنَّهُمُ الْيَوْمَ كَثِيرٌ , فَقَالَ: وَاعَجَباً لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ , أَتَرَى النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَيْكَ , وَفِي النَّاسِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - مَنْ تَرَى؟ , فَتَرَكَ ذَلِكَ , وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْمَسْأَلَةِ فَإِنْ كَانَ لَيَبْلُغُنِي الْحَدِيثُ عَنِ الرَّجُلِ , فَآتِيهِ وَهُوَ قَائِلٌ , فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي عَلَى بَابِهِ , فَتَسْفِي الرِّيحُ عَلَى وَجْهِي التُّرَابَ , فَيَخْرُجُ فَيَرَانِي , فَيَقُولُ: يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللهِ , مَا جَاءَ بِكَ؟ , أَلَا أَرْسَلْتَ إِلَيَّ فَآتِيَكَ؟ , فَأَقُولُ: لَا , أَنَا أَحَقُّ أَنْ آتِيَكَ , فَأَسْأَلُهُ عَنِ الْحَدِيثِ , قَالَ: فَبَقِيَ الرَّجُلُ حَتَّى رَآنِي وَقَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيَّ , فَقَالَ: كَانَ هَذَا الْفَتَى أَعْقَلَ مِنِّي.
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں نے ایک انصاری شخص سے کہا: 'اے فلاں! چلو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے (احادیث) پوچھیں، کیونکہ آج وہ (زندہ) بہت ہیں۔' اس نے جواب دیا: 'اے ابن عباس! مجھے تم پر تعجب ہے، کیا تم سمجھتے ہو کہ لوگوں کو تمہاری ضرورت ہے، حالانکہ لوگوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ موجود ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو؟' میں نے (اس کی بات مان کر) یہ خیال ترک کر دیا اور (براہ راست) سوال کرنے میں لگ گیا۔ جب مجھے کسی شخص سے کوئی حدیث پہنچتی تو میں اس کے پاس پہنچ جاتا جبکہ وہ قیلولہ (آرام) کر رہا ہوتا۔ میں اپنی چادر کو اس کے دروازے پر بچھا لیتا اور ہوا میرے چہرے پر خاک اڑاتی رہتی۔ وہ باہر نکلتا تو مجھے دیکھتا اور کہتا: 'اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی! کس چیز نے تمہیں یہاں لایا؟ کیا تم نے مجھے بلوا بھیجا ہوتا تو میں خود تمہارے پاس آجاتا؟' میں کہتا: 'نہیں، میں خود تمہارے پاس آنے کا زیادہ حق دار ہوں۔' پھر میں اس سے حدیث کے بارے میں پوچھتا۔" ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: "وہ شخص (وہی انصاری) زندہ رہا یہاں تک کہ اس نے مجھے دیکھا کہ لوگ میرے گرد جمع ہو رہے ہیں (علم حاصل کرنے کے لیے)، تو اس نے کہا: 'یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقلمند تھا۔'"

[سنن الدارمی:570، اس کا سند صحیح ہے]

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

علم کی تلاش میں اولیت: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نوجوانی ہی میں صحابہ کرام سے علم حاصل کرنے کی فکر کی، یہ سمجھتے ہوئے کہ وقت گزرنے کے ساتھ علم کے مصادر کم ہو جائیں گے۔

علم کے لیے تواضع: چچا زاد ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود، انہوں نے علم حاصل کرنے کے لیے بے پناہ تواضع کا مظاہرہ کیا، استاد کے دروازے پر انتظار کرنا اور خاک چھاننا گوارا کیا۔

حقیر سمجھے جانے پر ہمت نہ ہارنا: جب ابتدا میں ایک بزرگ صحابی نے ان کے ارادے کو غیر اہم سمجھا تو وہ مایوس نہیں ہوئے، بلکہ اپنے طور پر علم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

استاد کا ادب: استاد کے آرام کے اوقات کا خیال رکھنا، اس کے گھر تک خود جا کر علم حاصل کرنا، اور استاد کو تکلیف نہ دینا — یہ سب ادبِ طالب علمی کے عظیم اصول ہیں۔

علم کی قدر کا اعتراف: آخر میں وہی انصاری صحابی نے خود اقرار کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا طریقہ درست تھا۔ اس سے علم کی اہمیت اور اس کے حصول میں فوری اقدام کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔

علم کی وساطت سے قبولیت: ابتدا میں نظر انداز کیے جانے کے باوجود، علم کی برکت سے ابن عباس رضی اللہ عنہما ایسی مقبولیت و عزت حاصل کر گئے کہ لوگ ان کے گرد ہجوم لگاتے تھے۔

علمائے کرام کی محنت: یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے اسلاف نے کس قدر محنت و مشقت سے علم حاصل کیا، جس کی بدولت آج ہم تک یہ علمی خزانہ پہنچا ہے۔

نتیجہ: یہ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ علم ایک ایسا خزانہ ہے جس کے حصول کے لیے تواضع، محنت، استقامت اور ادب کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ کہ صحیح علم ہی انسان کو معاشرے میں باعزت مقام دلاتا ہے۔




حدیث نمبر 22

عَنْ أَبِي جَمْرَةَ (١) قَالَ: كُنْتُ أَقْعُدُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - فَكَانَ يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ، فَقَالَ لِي: أَقِمْ عِنْدِي حَتَّى أَجْعَلَ لَكَ سَهْمًا مِنْ مَالِي، فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ شَهْرَيْنِ. (٢)
ترجمہ:
ابو جمرہ(1) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا کرتا تھا، تو وہ مجھے اپنے پلنگ پر بٹھاتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: 'میرے پاس ٹھہر جاؤ، میں تمہارے لیے اپنے مال میں سے ایک حصہ مقرر کر دوں گا۔' چنانچہ میں ان کے پاس دو مہینے ٹھہرا (2)۔"

حواشی و حوالہ جات:

(1)ابو جمرہ کا نام نصر بن عمران الضبعی البصری ہے۔ وہ قابل اعتماد ائمہ میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کی ہیں۔ ان سے روایت کرنے والوں میں ایوب سختیانی، معمر، شعبہ، دو حماد (حماد بن زید اور حماد بن سلمہ) اور دیگر شامل ہیں۔ امیر یزید بن مہلب نے انہیں اپنے ساتھ خراسان لے گئے، جہاں وہ کچھ مدت رہے، پھر بصرہ واپس آ گئے۔ (سیر أعلام النبلاء: 5/243)

(2)الادب المفرد للبخاری:1161، صحیح بخاری:53، شرح السنة للبغوی:20، سنن البیہقی الکبری:8648، نیز صحیح الادب المفرد:888 میں دیکھیں۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

استاد کی شفقت و عنایت: ایک عظیم عالم اور صحابی رسول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنے شاگرد کے ساتھ نرمی اور محبت کا برتاؤ (اپنے پلنگ پر بٹھانا، مالی تعاون کی پیشکش) استاد و شاگرد کے تعلق کی بلند ترین مثال ہے۔

علم دین سکھانے کے لیے دنیوی وسائل کا استعمال: علم دین کی تعلیم و اشاعت کے لیے ضرورت پڑنے پر طالب علم کی مالی معاونت کرنا بھی ایک پسندیدہ عمل ہے، تاکہ وہ بے فکری سے علم حاصل کر سکے۔

علم کے لیے وقت اور محنت کی قربانی: طالب علم ابو جمرہ کا دو مہینے تک مسلسل ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ٹھہرنا علم حاصل کرنے کے لیے درکار وقت، صبر اور قربانی کو ظاہر کرتا ہے۔

علماء کا علم پھیلانے کا جذبہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا شاگرد کو روک کر بیٹھانے اور اسے علم سکھانے کی ترغیب دینا، یہ علم کی نشر و اشاعت اور اس کے حصول کی ترغیب کے ان کے گہرے جذبے کی علامت ہے۔

ادب طالب علمی: شاگرد کا استاد کے ساتھ مسلسل بیٹھنا، اس کی بات ماننا اور اس کے پاس ٹھہرنا ادب طالب علمی کی عکاسی کرتا ہے۔

علمی ورثے کا تسلسل: یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا علم تابعین تک پہنچا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما جیسے عالم کے شاگرد ابو جمرہ بعد میں خود ایک امام اور محدث بنے جن سے بڑے بڑے ائمہ نے علم حاصل کیا۔

علم دین کی قدر: اس روایت سے علم دین کی عظمت اور اس کے حاملین کی قدر و منزلت کا پتہ چلتا ہے کہ ایک صحابی جیسا بزرگ شخص ایک طالب علم کی اس قدر پذیرائی کر رہا ہے۔

خلاصہ: یہ مختصر سا واقعہ علم کے حصول، تعلیم و تربیت، استاد و شاگرد کے پاکیزہ رشتے، اور علم دین کی نشر و اشاعت کے لیے درکار جذبے کی ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔




حدیث نمبر 23

عَنْ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ قَالَ: إِنَّ النَّاسَ لَيَحْتَاجُونَ إِلَى هَذَا الْعِلْمِ فِي دِينِهِمْ , كَمَا يَحْتَاجُونَ إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ فِي دُنْيَاهُمْ.
ترجمہ:
حسن بن صالح سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "بے شک لوگوں کو اپنے دین میں اس علم کی اتنی ہی ضرورت ہے، جتنی اپنی دنیا میں کھانے پینے کی چیزوں کی۔"
[سنن الدارمی: 326، اس کی سند صحیح ہے۔]

اس قول سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

علم دین کی بنیادی ضرورت: یہ قول علم دین کی اہمیت کو انتہائی واضح اور موثر انداز میں بیان کرتا ہے۔ جس طرح انسانی جسم کے لیے خوراک و مشروبات ناگزیر ہیں، اسی طرح روحانی زندگی، عقیدے کی درستگی، عبادت کی صحت اور دین پر استقامت کے لیے علم دین ضروری ہے۔

علم کے بغیر دین کی ناقص حالت: جس طرح بغیر کھانے پینے کے جسم کمزور، بیمار اور آخرکار فنا ہو جاتا ہے، اسی طرح علم دین کے بغیر انسان کا دین کمزور، عبادتیں بے روح، عقیدہ خراب اور آخرت برباد ہو سکتی ہے۔

علم کی مسلسل ضرورت: جس طرح انسان کو روزانہ کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ایک بار کی چیز نہیں، اسی طرح علم دین کی ضرورت بھی مسلسل ہے۔ انسان کو زندگی بھر علم حاصل کرتے رہنا چاہیے، نہ کہ اسے ایک بار حاصل کر کے چھوڑ دینا چاہیے۔

علم دین کا اولین مقام: اس تشبیہ سے علم دین کی زندگی میں بنیادی اور مرکزی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ یہ محض ایک اضافی یا ثانوی خوبی نہیں، بلکہ ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے۔

اندرونی اور بیرونی غذا: کھانا پینا جسم کی بیرونی غذا ہے، جبکہ علم دین روح، دل اور عقل کی غذا ہے۔ دونوں ہی انسان کی مکمل صحت اور فلاح کے لیے لازمی ہیں۔

ہر فرد کے لیے عام حکم: یہ قول علم دین کی ضرورت کو ہر فرد کے لیے عام قرار دیتا ہے، خواہ وہ عالم ہو یا عامی، مرد ہو یا عورت، بوڑھا ہو یا جوان۔

دین کی سمجھ اور عمل کی بنیاد: علم کے بغیر دین کی کوئی سمجھ نہیں آ سکتی اور نہ ہی اس پر صحیح عمل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، عمل کی بنیاد علم پر ہونی چاہیے۔

خلاصہ: حسن بن صالح کا یہ مختصر قول درحقیقت علم دین کی حیثیت اور ضرورت کا ایسا مکمل بیان ہے جو ہر زمانے کے ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس طرح ہم اپنے جسم کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے، اسی طرح یا اس سے بھی زیادہ اپنی روحانی اور دینی غذائی ضروریات (یعنی علم) پوری کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔




حدیث نمبر 24

عَنْ فُضَيْلٍ قَالَ: كَانَ الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْعُكْلِيُّ , وَابْنُ شُبْرُمَةَ , وَالْقَعْقَاعُ بْنُ يَزِيدَ وَمُغِيرَةُ , إِذَا صَلَّوْا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ , جَلَسُوا فِي الْفِقْهِ , فَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَهُمْ إِلَّا أَذَانُ الصُّبْحِ.
ترجمہ:
فضل (بن عیاش) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "حارث بن یزید عکلی، ابن شبرمہ، قعقاع بن یزید اور مغیرہ (بن مقسم) جب آخری عشاء (کی نماز) پڑھ لیتے تو فقہ (کی بحث و درس) میں بیٹھ جاتے تھے، اور صبح کی اذان ہی ان کے درمیان جدائی ڈالتی تھی (یعنی رات بھر فقہ کا مجلس قائم رہتا تھا)۔"

[سنن الدارمی: 611، اس کا سند صحیح ہے]۔

اس واقعہ سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

علم دین کے لیے محنت و ریاضت: یہ جلیل القدر تابعین اور فقہاء رحمہم اللہ دنیا کے تمام کاموں اور آرام کو ترک کر کے رات کے پورے حصے کو علم حاصل کرنے اور سکھانے میں صرف کرتے تھے۔ یہ علم کے لیے انتہائی محنت، مشقت اور ریاضت کی عظیم مثال ہے۔

وقت کی قدر کرنا: ان بزرگوں نے رات کے سکون اور فراغت کے اوقات کو علم کے لیے مختص کر کے وقت کی قدر کرنا سکھایا، کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب ذہن تازہ اور ماحول پرسکون ہوتا ہے۔

مجلس علم کی برکت: وہ تنہائی میں نہیں بلکہ اجتماعی طور پر اکٹھے بیٹھ کر علم پر بحث و مباحثہ کرتے تھے۔ یہ علمی مجلسوں، درس و تدریس اور باہمی علمی تبادلے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، جس سے علم میں نکھار اور پختگی آتی ہے۔

نافع علم پر توجہ: ان کی توجہ کا مرکز "فقہ" تھا، یعنی وہ علم جو انسان کے عقائد، عبادات اور معاملات کو سنوارتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ طالب علم کو ایسے علم کو ترجیح دینی چاہیے جو اس کے دین و دنیا کے لیے مفید ہو۔

عبادت کے بعد علم: ان کا یہ معمول عشاء کی نماز کے فوراً بعد شروع ہوتا تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عبادات کے بعد علم دین میں مشغولیت بھی عبادت ہی ہے اور یہ ایمان کو تازہ رکھتی ہے۔

علمی رفاقت کی اہمیت: یہ بزرگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر علم حاصل کرتے تھے۔ یہ علمی رفاقت اور اچھے ساتھیوں کی اہمیت کو واضح کرتا ہے، جو انسان کو علم کے لیے محنت پر ابھارتے ہیں۔

خلوص نیت: رات بھر جاگ کر علم حاصل کرنا دنیاوی کسی غرض کے بغیر صرف اللہ کی رضا اور دین کی سمجھ حاصل کرنے کے لیے تھا۔ یہ علم حاصل کرنے میں خلوص نیت کی اعلیٰ مثال ہے۔

خلاصہ: یہ مختصر واقعہ امت کے اسلاف کی علمی جدوجہد، ان کے وقت کے صحیح استعمال، اور علم دین کو زندگی میں مرکزی مقام دینے کا ایک روشن ثبوت ہے۔ یہ آج کے ہر طالب علم کے لیے یہ سبق ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے محنت، وقت کی پابندی، اجتماعی مجلسوں اور نافع علم پر توجہ ضروری ہے۔




حدیث نمبر 25

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" مَنْ أَرَادَ أَنْ يَعْلَمَ مَا لَهُ عِنْدَ اللهِ , فَلْيَنْظَرْ مَا للهِ عِنْدَهُ "
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص یہ جاننا چاہتا ہو کہ اللہ کے ہاں اس کے لیے کیا (ثواب) ہے، تو اسے دیکھنا چاہیے کہ اس کے پاس اللہ کے لیے کیا (عمل) ہے۔"

حوالہ جات:
حلية الأولياء لأبي نعيم الأصبهاني: جلد 6، صفحہ 176 اور جلد 8، صفحہ 216۔
صحیح الجامع للالبانی: حدیث نمبر 6006۔
السلسلة الصحیحة للالبانی: حدیث نمبر 2310۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

عمل اور جزا کا باہمی تعلق: انسان کے اعمال ہی اس بات کا پیمانہ ہیں کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا کیا درجہ اور ثواب ہوگا۔ اچھے اعمال اچھے بدلے کی ضمانت ہیں۔

خود احتسابی کا حکیمانہ اصول: یہ حدیث انسان کے لیے اپنا محاسبہ کرنے کا ایک عملی اور سادہ فارمولا بتاتی ہے۔ اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ اللہ اس سے راضی ہے یا ناراض، تو اسے اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔

نیت کی اہمیت: اعمال کی قدر و قیمت نیت پر منحصر ہے۔ اللہ کے لیے خالص عمل ہی "ما لله عنده" میں شمار ہوتا ہے۔ ریا اور دکھاوے کے اعمال اس زمرے میں نہیں آتے۔

آخرت کی تیاری کا ذریعہ: یہ حدیث انسان کو آخرت کے بارے میں فکر مند ہونے اور اس کی تیاری کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ جو کچھ ہم آج جمع کر رہے ہیں (اعمال)، وہی کل ہمارا سرمایہ ہوگا۔

اللہ کے حقوق کی ادائیگی پر توجہ: "ما لله عنده" سے مراد وہ تمام فرائض و واجبات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان پر عائد کیے ہیں، جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، صدقہ، اخلاص، شکر گزاری وغیرہ۔ انہیں پورا کرنا ہی انسان کی کامیابی کی کلید ہے۔

ایمانی بصیرت کا معیار: حقیقی مؤمن وہ ہے جو اپنے عمل کو دیکھ کر اپنے آخرت کے حال کا اندازہ لگا سکے۔ یہ حدیث ایمان کی کیفیت کو پرکھنے کا ایک پیمانہ فراہم کرتی ہے۔

اللہ کی عدالت پر یقین: یہ حدیث اس بات پر یقین کو مضبوط کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب رکھنے والا ہے اور اس کی جزا و سزا مکمل طور پر انصاف پر مبنی ہوگی۔

عملی تشویق و انذار: یہ فرمان ایک طرف نیک اعمال کی ترغیب دیتا ہے تو دوسری طرف غفلت و گناہ سے ڈراتا ہے، کیونکہ انسان کا اپنا موجودہ عمل ہی اس کے مستقبل کا تعین کرے گا۔





حدیث نمبر 26

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ، وَالْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ , وَمَنْ يَتَحَرَّ الْخَيْرَ يُعْطَهُ، وَمَنْ يَتَّقِ الشَّرَّ يُوقَهُ "
 ترجمہ:
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بیشک علم (حاصل ہوتا ہے) سیکھنے سے، اور حلم (بردباری) (حاصل ہوتا ہے) بردباری اختیار کرنے سے، اور جو شخص بھلائی کی کوشش کرے گا اسے (اللہ) عطا کر دی جائے گی، اور جو شخص برائی سے بچنے کی کوشش کرے گا اسے (اللہ) بچا لیا جائے گا۔"

حوالہ جات:
المعجم الأوسط للطبرانی: 2663
أبو خيثمة في كتاب "العلم": جلد 1، صفحہ 28، حدیث نمبر 114
نیز دیکھیں: صحیح الجامع للالبانی: حدیث نمبر 2328
السلسلة الصحیحة للالبانی: حدیث نمبر 342

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

علم کا حصول محنت سے: علم ایک ایسا خزانہ ہے جو خود بخود حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے کوشش، محنت، استاد کی صحبت اور مسلسل تعلیم و تحصیل ضروری ہے۔ یہ حدیث علم کے حصول میں جدوجہد کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

اخلاق کی تعمیر کا عملی طریقہ: انسان فطری طور پر کامل اخلاق کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا۔ حلم (بردباری، تحمل) جیسے عظیم اخلاق کو اپنے آپ پر زور ڈال کر، مشق اور ریاضت کے ذریعے پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ برے اخلاق پر قابو پانے اور اچھے اخلاق اپنانے کے لیے عملی کوشش ضروری ہے۔

نیت اور سعی کا صلہ: اللہ تعالیٰ بندے کی نیت اور کوشش کو دیکھتا ہے۔ جو شخص نیکی کے راستے پر چلنے کی حقیقی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے توفیق، آسانیاں اور آخر میں نیکی ہی عطا فرماتا ہے۔ اس سے عمل کی تکمیل میں اللہ کی مدد کا یقین پیدا ہوتا ہے۔

شر سے بچاؤ میں الہی حفاظت: جو شخص گناہ اور برائیوں سے بچنے کی искренہ کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ان کے شر اور ان کے پھیلاؤ سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ انسان کے لیے اللہ پر توکل اور اس کی حفاظت پر بھروسے کا سبق ہے۔

تدریجی ترقی کا اصول: علم اور حلم دونوں میں ترقی تدریجی ہوتی ہے۔ آج تھوڑا سیکھ کر، کل اس سے زیادہ سیکھا جا سکتا ہے۔ آج ایک مشکل پر صبر کر کے، کل اس سے بڑی مشکل پر برداشت پیدا کی جا سکتی ہے۔

عمل کی بنیاد پر جزا: یہ حدیث اس اسلامی اصول کی وضاحت کرتی ہے کہ جزا کا تعلق عمل اور کوشش سے ہے۔ صرف خواہش کافی نہیں، بلکہ عملی قدم اٹھانا ضروری ہے۔

اللہ کی مدد کا وعدہ: حدیث کا آخری حصہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی یاد دہانی ہے کہ وہ اپنے بندے کی مدد کرتا ہے جو نیکی کی طرف بڑھتا ہے اور برائی سے دور ہٹتا ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث پوری انسانی شخصیت کی تعمیر کا ایک جامع پروگرام پیش کرتی ہے: ذہن کو علم سے، اخلاق کو حلم سے، اور روح کو اللہ کی طرف رغبت اور اس کی پناہ میں جانے سے آباد کرنا۔ یہ ایک مسلمان کے لیے کامیاب دنیوی و اخروی زندگی کی بنیاد ہے۔




فَضْلُ مَجَالِسِ الْعِلْم (علم کی مجلسوں کی فضیلت)

حدیث نمبر 27

عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: (بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ , إِذْ أَقْبَلَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ , فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (١) (فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا , وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ , وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا , " فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ النَّفَرِ الثَلَاثَةِ؟ , أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللهِ , فَآوَاهُ اللهُ (٢) وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا , فَاسْتَحْيَا اللهُ مِنْهُ (٣) وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ , فَأَعْرَضَ اللهُ عَنْهُ (٤) ") (٥)
ترجمہ:
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "(ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ آپ کے ساتھ تھے کہ اتنے میں تین آدمی آئے۔ ان میں سے دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے (1)۔ ان میں سے ایک (پہلا) شخص نے مجلس میں ایک جگہ خالی دیکھی تو وہیں بیٹھ گیا۔ اور دوسرا شخص ان کے پیچھے بیٹھ گیا۔ اور تیسرا شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی گفتگو سے) فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: 'کیا میں تمہیں ان تینوں آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ان میں سے ایک (پہلا) نے اللہ کی پناہ لی (یعنی اس کی مجلس میں بیٹھا)، تو اللہ نے اسے اپنی پناہ میں لے لیا (2)۔ اور دوسرے نے شرم کی، تو اللہ نے اس سے (بھی) شرم فرمائی (3)۔ اور تیسرے نے منہ پھیر لیا، تو اللہ نے (بھی) اس سے اپنا منہ پھیر لیا (4)(5)۔"

حواشی و حوالہ جات:

(1)صحیح بخاری: 462

(2)"أَوَى إِلَى الله" کا مطلب ہے: اللہ کی پناہ میں آیا، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شامل ہوا۔ اور "فَآوَاهُ الله" کے معنی ہیں: اللہ نے اسے اس کے عمل کے مطابق بدلہ دیا کہ اسے اپنی رحمت اور رضامندی میں شامل کر لیا۔ (فتح الباری، حدیث نمبر 66)

(3)یعنی اللہ نے اس پر رحم کیا اور اسے سزا نہیں دی۔ (فتح الباری، حدیث نمبر 66)

(4)یعنی اللہ اس سے ناراض ہوا۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو بلا کسی عذر کے منہ موڑ کر چلا گیا، اگر وہ مسلمان تھا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ منافق تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے حال کا علم ہو گیا تھا۔ اسی طرح یہ احتمال بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان "فَأَعْرَضَ الله عَنْهُ" ایک خبر ہو یا دعا۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: "فَاسْتَغْنَى , فَاسْتَغْنَى اللهُ عَنْهُ" (تو اس نے بے نیازی برتی، تو اللہ نے اس سے بے نیازی برتی)۔ یہ بات اس کے خبر ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ (فتح الباری، حدیث نمبر 66)

(5)صحیح بخاری:66، صحیح مسلم:2176، جامع ترمذی:2724، مسند احمد:21400


حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

مجلس علم کی عظمت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس علم میں شامل ہونا گویا اللہ کی پناہ میں آنا ہے، جس کا نتیجہ اللہ کی خاص پناہ اور رحمت ہے۔

مجلس میں داخلے کا آداب: مجلس علم میں داخل ہوتے وقت اگر جگہ تنگ ہو تو پیچھے بیٹھنا بھی باعث اجر ہے اور اس پر اللہ کی طرف سے رحمت ہوتی ہے، کیونکہ یہ ادب اور شرم کی علامت ہے۔

علم سے دوری کا انجام: علم کی مجلس سے منہ موڑ کر جانا یا اس کی طرف توجہ نہ دینا اللہ کی ناراضی اور اس کی رحمت سے محرومی کا سبب بنتا ہے۔

ظاہری عمل، باطنی حالت کا آئینہ: انسان کے ظاہری اعمال (بیٹھنا، پیچھے ہٹنا، منہ موڑنا) اس کی باطنی حالت (لجاؤ، حیا، اعراض) کو ظاہر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی اسی کے مطابق ہوتا ہے۔

نبی کی بصیرت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے لوگوں کے دلوں اور ان کے اعمال کے نتائج کا علم تھا، جو آپ کی نبوت کی ایک نشانی ہے۔

علم کے لیے سعی کرنا: علم حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا، مجلس میں پہنچنا اور مناسب جگہ تلاش کرنا ضروری ہے۔ صرف آنا ہی کافی نہیں، بلکہ علم سے منسلک ہونے کا اہتمام کرنا ہے۔

حیاء کی فضیلت: علم حاصل کرنے میں حیا اور ادب (جیسے پیچھے بیٹھنا) بھی قابل اجر ہے اور اللہ ایسے بندے کو معزز ٹھہراتا ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث علم کی مجلسوں کے فضیلت، ان میں شامل ہونے کے آداب، اور ان سے دور رہنے کے خطرناک نتائج پر واضح روشنی ڈالتی ہے۔ یہ ہر طالب علم کے لیے مشعل راہ ہے کہ وہ علم کے حصول میں ہر ممکن کوشش کرے اور کبھی اس سے اعراض نہ کرے۔



حدیث نمبر 28

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ , يَتْلُونَ كِتَابَ اللهُ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمْ اللهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ "
 ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو لوگ اللہ کے گھروں (مساجد) میں سے کسی گھر میں جمع ہوتے ہیں، اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، ان پر رحمت چھا جاتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے پاس موجود (فرشتوں) میں کرتا ہے۔"
[صحیح مسلم:2699، جامع ترمذی:2945، سنن ابوداؤد:1455، سنن ابن ماجہ:225، مسند احمد:7421]

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

مجالسِ قرآن کی عظمت: مسجد میں اجتماعی طور پر قرآن پاک کی تلاوت اور اس کا باہمی مطالعہ کرنا انتہائی فضیلت والا عمل ہے جس پر بے شمار انعامات اور برکات کا وعدہ کیا گیا ہے۔

سکینت اور اطمینان کا ذریعہ: ایسی مجلس میں اللہ کی طرف سے خاص سکون اور اطمینان (سکینت) نازل ہوتا ہے جو دل کی گھبراہٹ اور بے چینی کو دور کرتا ہے۔

اللہ کی خاص رحمت: ان مجالس پر اللہ کی رحمت کا سایہ ہوتا ہے، جو اپنے ساتھ ہر قسم کی بھلائی، مغفرت اور قربِ الہی لاتی ہے۔

فرشتوں کی معیت: فرشتے ایسے لوگوں کو گھیر لیتے ہیں، ان کی حفاظت کرتے ہیں، ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور ان کے علمی ماحول کی برکتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔

اللہ کے ہاں ذکر و تعریف: ایسے افراد کا ذکر اللہ تعالیٰ اپنے قریب ترین فرشتوں کے ہاں کرتا ہے، جو بندے کے لیے بہترین سند اور اعزاز ہے۔

علم دین کا اجتماعی فریضہ: قرآن کا باہمی مطالعہ (تَدَارُس) دین سیکھنے سکھانے کا ایک بہترین اور مؤثر طریقہ ہے، جو علم میں اضافے اور غلطیوں کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔

مساجد کی اصل غرض کی تکمیل: مسجد کی اصل عمارت صرف نماز ہی نہیں بلکہ علم دین کا مرکز بنانا بھی ہے۔ یہ حدیث مساجد کو علم و قرآن کا گہوارہ بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث قرآن پاک کی اجتماعی تلاوت و درس کی فضیلت کو بیان کرتی ہے اور مسلمانوں کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ مساجد کو قرآن سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل کرنے کی زندہ درس گاہیں بنائیں تاکہ ان پر سکون، رحمت، فرشتوں کی آمد اور اللہ کے ذکر کی برکات حاصل ہوں۔




حدیث نمبر 29

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا يَذْكُرُونَ اللهَ، لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ، إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ، قَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ "
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو لوگ اللہ کا ذکر کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں، وہ صرف اس کی رضا کے طالب ہوتے ہیں (کسی دنیاوی غرض کے بغیر)، تو آسمان کی طرف سے ایک پکارنے والا انہیں پکارتا ہے: 'اٹھو، تمہیں بخش دیا گیا۔ تمہاری برائیاں نیکیوں سے بدل دی گئی ہیں۔'"

حوالہ جات:
مسند احمد بن حنبل: 12476
مسند ابی یعلیٰ: 4141
السلسلة الصحیحة للالبانی: حدیث نمبر 2210
صحیح الترغیب والترہیب للالبانی: حدیث نمبر 1504
شیخ شعیب الارنؤوط فرماتے ہیں: اس کی سند حسن ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

ذکر الہٰی کی اجتماعی برکت: اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے اجتماع کرنا ایک عظیم عمل ہے جس پر بے پناہ روحانی انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس سے اجتماعی عبادت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

اخلاصِ نیت کی شرط: فضیلت اور قبولیت کی کنجی اخلاص نیت ہے۔ حدیث میں صراحت ہے کہ اجتماع کا مقصد صرف اور صرف "وجہ اللہ" (اللہ کی رضا) ہونا چاہیے۔ ریاکاری، دکھاوا، یا دنیاوی مقاصد اس برکت کے حصول میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

مغفرتِ الہٰی کا اعلان: ایسے مخلص افراد کے لیے آسمان سے براہِ راست مغفرت کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کے لیے بہترین اطمینان اور خوشخبری ہے۔

سیئات کا حسنات میں تبدیلی: یہ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا کرم اور رحمت ہے کہ وہ نہ صرف گناہ معاف فرما دیتا ہے بلکہ انہیں نیکیوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ عمل انسان کے لیے نئی امید اور اصلاح کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

آسمانی دعوت: "مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ" (آسمان سے ایک پکارنے والا) فرشتہ ہوتا ہے جو اللہ کے حکم سے بندوں کو بخشش کی خوشخبری سناتا ہے۔ اس سے فرشتوں کی اس ذمہ داری کا بھی پتہ چلتا ہے جو وہ اللہ کے نیک بندوں کے لیے ادا کرتے ہیں۔

دعوتِ الی الذکر: یہ حدیث مسلمانوں کو اللہ کے ذکر کے لیے باقاعدہ اجتماعات (حلقہ ذکر، درس، وعظ) کرنے کی ترغیب دیتی ہے، بشرطیکہ نیت خالص ہو۔

غیبی مدد اور تائید: مخلصین کے اجتماع پر غیبی طور پر سکینت، رحمت اور فرشتوں کی آمد ہوتی ہے، جس کا ذکر دیگر احادیث میں بھی آتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے اس کام کی قبولیت اور تائید کی علامت ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اس کے ذکر میں بیٹھنا گناہوں کی مغفرت اور انہیں نیکیوں میں تبدیل کروانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ اللہ کی رحمت کے وسیع دروازے کی طرف اشارہ ہے جس تک پہنچنے کے لیے اخلاص اور اجتماعی کوشش کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔




حدیث نمبر 30

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
(" إِنَّ للهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَائِكَةً سَيَّارَةً , فُضُلًا) (1) (عَن كُتَّابِ النَّاسِ) (2) (يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ) (3) (مَجَالِسَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا) (4) (قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللهَ, تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ) (5) (فَيَجِيئُونَ) (6) (فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ) (7) (حَتَّى يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا تَفَرَّقُوا , عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ اللهُ - عز وجل - وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ , فَيَقُولُونَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ فِي الْأَرْضِ , يُسَبِّحُونَكَ , وَيُكَبِّرُونَكَ , وَيُهَلِّلُونَكَ , وَيَحْمَدُونَكَ , وَيَسْأَلُونَكَ) (8) (فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ , فَيَقُولُونَ: لَا وَاللهِ مَا رَأَوْكَ , قَالَ: وَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ , فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ , كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً , وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيدًا وَتَحْمِيدًا , وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيحًا, قَالَ: وَمَاذَا يَسْأَلُونِي؟) (9) (قَالُوا: يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ، قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ , قَالُوا: لَا يَا رَبِّ، قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي؟) (10) (فَيَقُولُونَ: لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا , وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا , وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً) (11) (قَالَ: فَمِمَّ يَسْتَجِيرُونَ؟ , قَالُوا: يَسْتَجِيرُونَكَ مِنْ نَارِكَ يَا رَبِّ، قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا نَارِي؟ , قَالُوا: لَا) (12) (قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ , فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا , وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً) (13) (قَالُوا: وَيَسْتَغْفِرُونَكَ فَيَقُولُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ , وَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا , وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا) (14) (قَالَ: فَيَقُولُ مَلَكٌ مِنْ الْمَلَائِكَةِ:) (15) (رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ , عَبْدٌ خَطَّاءٌ) (16) (لَيْسَ مِنْهُمْ) (17) وفي رواية: (لَمْ يُرِدْهُمْ) (18) (إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ) (19) (فَجَلَسَ مَعَهُمْ، فَيَقُولُ: وَلَهُ غَفَرْتُ) (20) (هُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى لَهُمْ جَلِيسٌ ") (21)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ کے (خاص) چلنے پھرنے والے فرشتے ہیں جو لوگوں کے (عام) کاتب فرشتوں سے افضل ہیں (1)۔ وہ راستوں میں گھومتے پھرتے ہیں ذکر کی مجلسوں کی تلاش میں (2)۔ جب انہیں ایسے لوگ ملتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں (3)، تو وہ ایک دوسرے کو پکارتے ہیں: 'آؤ، اپنی حاجت (یعنی ثواب) کی طرف چلو' (4)۔ پھر وہ (فرشتے) آتے ہیں (5) اور ان (ذکر کرنے والوں) کو اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں (6) یہاں تک کہ وہ ان کے اور آسمانِ دنیا کے درمیان کا فاصلہ بھر دیتے ہیں۔ پھر جب وہ (ذکر کرنے والے) جدا ہوتے ہیں، تو وہ (فرشتے) اوپر چڑھ جاتے ہیں اور آسمان کی طرف چلے جاتے ہیں۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پھر اللہ عزوجل ان (فرشتوں) سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان کے حال سے خوب واقف ہے: 'تم کہاں سے آئے ہو؟' وہ کہتے ہیں: 'ہم زمین پر آپ کے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو آپ کی تسبیح کر رہے تھے، آپ کی تکبیر کہہ رہے تھے، آپ کی تہلیل کر رہے تھے، آپ کی حمد بیان کر رہے تھے اور آپ سے (اپنی حاجات) مانگ رہے تھے' (7)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
'کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟' وہ (فرشتے) کہتے ہیں: 'نہیں، اللہ کی قسم! انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔' اللہ فرماتا ہے: 'پھر اگر انہوں نے مجھے دیکھا ہوتا تو کیا حال ہوتا؟' وہ کہتے ہیں: 'اگر انہوں نے آپ کو دیکھا ہوتا تو وہ آپ کی بہت زیادہ عبادت کرتے، آپ کی بہت زیادہ تعریف و تمجید اور حمد بیان کرتے، اور آپ کی بہت زیادہ تسبیح کرتے۔' اللہ فرماتا ہے: 'اور وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟' (8)
فرشتے کہتے ہیں:
'وہ آپ سے اپنی جنت مانگتے ہیں۔' اللہ فرماتا ہے: 'کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟' وہ کہتے ہیں: 'نہیں، اے پروردگار!' اللہ فرماتا ہے: 'پھر اگر انہوں نے میری جنت دیکھی ہوتی تو کیا ہوتا؟' (9) وہ (فرشتے) کہتے ہیں: 'اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو وہ اس کے لیے اور زیادہ حریص ہوتے، اس کی اور زیادہ تلاش کرتے اور اس میں اور زیادہ رغبت رکھتے' (10)۔
اللہ فرماتا ہے:
'اور وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟' وہ (فرشتے) کہتے ہیں: 'اے پروردگار! وہ آپ کی آگ سے پناہ مانگتے ہیں۔' اللہ فرماتا ہے: 'کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے؟' وہ کہتے ہیں: 'نہیں' (11)۔ اللہ فرماتا ہے: 'پھر اگر انہوں نے اسے دیکھی ہوتی تو کیا ہوتا؟' تو وہ (فرشتے) کہتے ہیں: 'اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو وہ اس سے اور زیادہ بھاگتے اور اس سے اور زیادہ ڈرتے' (12)۔
فرشتے کہتے ہیں:
'اور وہ آپ سے بخشش مانگتے ہیں۔' تو اللہ فرماتا ہے: 'میں نے انہیں بخش دیا ہے، اور انہیں وہ (نعمتیں) دے دی ہیں جو انہوں نے مانگی ہیں، اور انہیں اس (عذاب) سے بچا لیا ہے جس سے انہوں نے پناہ مانگی ہے' (13)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"پھر فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے (14): 'پروردگار! ان میں فلاں شخص بھی تھا، ایک گنہگار بندہ (15)۔ وہ ان (ذکر کرنے والوں) میں سے نہیں تھا (16)۔' ایک روایت میں ہے: 'وہ ان (کی مجلس) کا ارادہ نہیں رکھتا تھا (17)۔ بلکہ وہ ایک (دنیاوی) ضرورت کے لیے آیا تھا (18) اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔' تو اللہ فرماتا ہے: 'اسے بھی بخش دیا (19)۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کا ساتھی (بھی) بدبخت نہیں ہوتا' (20)۔"

حوالہ جات:
  1. صحیح مسلم:2689
  2. جامع ترمذی:3600
  3. صحیح بخاری:6045
  4. صحیح مسلم:2689
  5. صحیح بخاری:6045
  6. جامع ترمذی:3600
  7. صحیح بخاری:6045
  8. صحیح مسلم:2689
  9. صحیح بخاری:6045
  10. صحیح مسلم:2689
  11. صحیح بخاری:6045
  12. صحیح مسلم:2689
  13. صحیح بخاری:6045
  14. صحیح مسلم:2689
  15. صحیح بخاری:6045
  16. صحیح مسلم:2689
  17. صحیح بخاری:6045
  18. جامع ترمذی:3600، مسند احمد:7420
  19. صحیح بخاری:6045
  20. صحیح مسلم:2689
  21. جامع ترمذی:3600، صحیح بخاری:6045، صحیح مسلم:2689، مسند احمد:7420

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

ذکرِ الہٰی کی مجالس کی عظیم فضیلت: ایسی مجالس پر فرشتوں کا نزول، ان کا حلقہ بنانا، اور ان کی سفارش کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے ذکر کی اجتماعی محافل کا کتنا بلند مقام ہے۔

ملائکہ کی خصوصی ذمہ داری: اللہ تعالیٰ نے صرف ذکر کی مجلسوں کی تلاش اور ان میں شرکت کے لیے مخصوص فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو اس عمل کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اللہ کی بارگاہ میں ذاکرین کا ذکر: فرشتے اللہ کے سامنے ذکر کرنے والوں کے اعمال پیش کرتے ہیں، جو بندے کے لیے بہترین سفارش ہے۔

ایمان بالغیب کی فضیلت: اللہ تعالیٰ نے ذاکرین کی اس بات پر تعریف کی کہ انہوں نے بغیر دیکھے اس کی عبادت کی، جنت کی طلب کی اور جہنم سے ڈرے۔ یہ ایمان بالغیب کی کمال کی خوبی ہے۔

مغفرت، قبولیت دعا اورنجات کا وعدہ: ایسی مجلس میں شریک ہونے والوں کے لیے مغفرت، مانگی ہوئی نعمتوں کا عطا ہونا اور آگ سے نجات کا یقینی وعدہ ہے۔

مجلسِ ذکر کی برکت عام ہوتی ہے: جو شخص کسی دنیاوی ضرورت یا اتفاقاً بھی اس مجلس میں بیٹھ جاتا ہے، وہ بھی اس کی برکتوں (مغفرت) سے محروم نہیں رہتا۔ یہ اجتماعی عبادت اور نیک لوگو کی صحبت کے اثر کی عظیم دلیل ہے۔

نیت کی اہمیت اور اللہ کا فضل: اگرچہ اتفاقاً بیٹھنے والے کی نیت ذکر کی نہیں تھی، پھر بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے بخش دیتا ہے۔ اس سے اللہ کے رحم و کرم کی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔

نیک صحبت کا فائدہ: حدیث کا آخری جملہ "ہُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى لَهُمْ جَلِيسٌ" (یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کا ساتھی بدبخت نہیں ہوتا) نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، کیونکہ اس سے انسان بھلائیوں اور بخشش کے دائرے میں آ جاتا ہے۔

دعا و استغفار کا اہتمام: مجلسِ ذکر میں اللہ سے دعا مانگنا اور اس سے استغفار کرنا بھی اہم اعمال ہیں، جن کی قبولیت کا وعدہ ہے۔

اللہ کی معرفت کا تقاضا: فرشتوں کے اس بیان سے کہ اگر بندے اللہ کو دیکھ لیتے تو اور زیادہ عبادت کرتے، ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیشہ اللہ کے حضور ہونے کا احساس (مراقبہ) اور اس کی عظمت کا علم ہمارے اعمال کی کیفیت اور مقدار کو بہتر بنا سکتا ہے۔




حدیث نمبر 31

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ يُعَلِّمَهُ , كَانَ لَهُ كَأَجْرِ حَاجٍّ , تَامًّا حَجَّتُهُ "۔
 ترجمہ:
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص صبح کے وقت مسجد کی طرف جائے اور اس کی نیت صرف یہ ہو کہ وہ کوئی بھلائی (علم) سیکھے یا سکھائے، تو اس کے لیے ایک حاجی کے (پورے) ثواب کے برابر ثواب ہے، جس کا حج کامل ہو۔"

حوالہ جات:
المعجم الکبیر للطبرانی: 7473
مستدرک الحاکم: 311
نیز دیکھیں: صحیح الترغیب والترہیب للالبانی: 86

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

علم دین کے لیے مسجد کا سفر: علم حاصل کرنے یا سکھانے کے لیے مسجد کا رخت سفر کرنا ایک عظیم عبادت ہے، جو حج جیسے بنیادی رکن کے ثواب کے برابر قرار دیا گیا ہے۔

نیت کی شرط اور اخلاص: ثواب کی عظمت کے لیے شرط یہ ہے کہ انسان کی نیت خالصتاً علم دین سیکھنے یا سکھانے کی ہو۔ اگر کوئی دوسری دنیاوی غرض شامل ہو تو ثواب میں فرق آ سکتا ہے۔

علم سیکھنے اور سکھانے کی برابری: حدیث میں "سیکھنے" اور "سکھانے" دونوں کو یکساں فضیلت دی گئی ہے، جو علم دین کی نشر و اشاعت کے لیے جامع ترغیب ہے۔

حج کا کامل ثواب: علم کی مجلس میں شریک ہونے والے کو "تامًّا حَجَّتُهُ" (کامل حج) کے ثواب کا وعدہ ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے بغیر کسی کمی کے حج مبرور کا ثواب ملے گا، جو بہت بڑے اجر کی بات ہے۔

مساجد کا اصل مقصد: یہ حدیث مساجد کو محض نماز کی جگہ ہی نہیں بلکہ علم دین کے مراکز کے طور پر استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

وقت کی برکت: "غَدَا" (صبح کے وقت جانا) سے معلوم ہوتا ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے جلدی اور پہل کی اہمیت ہے، جو وقت کی برکت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

علم کی محفل میں شرکت کی ترغیب: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ علم دین کی مجلس میں شرکت کرنا ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو بڑے سے بڑے عبادات کے ثواب تک پہنچا سکتا ہے، بشرطیکہ نیت خالص ہو۔

علم دین کی جامعیت: "خَيْرًا" (بھلائی) کا لفظ بہت وسیع ہے، جس میں ہر وہ علم شامل ہے جو انسان کے دین و دنیا کے لیے مفید ہو، خصوصاً وہ علم جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت دلائے۔

خلاصہ: یہ حدیث علم دین کی اہمیت، اس کے لیے مسجدوں کے استعمال، اور خالص نیت سے سیکھنے سکھانے والے کے لیے کامل حج کے ثواب جیسی عظیم فضیلت بیان کرتی ہے، جو ہر طالب علم اور معلم کے لیے بہترین ترغیب ہے۔



حدیث نمبر 32

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا , لَمْ يَأتِ إِلَّا لِخَيْرٍ (١) يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ (٢) وَمَنْ جَاءَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ (٣) " (٤)
 ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص میری اس مسجد میں آئے، اور وہ صرف بھلائی (علم)
(١) سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے، تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے درجے میں ہے۔(٢) اور جو شخص اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آئے، تو وہ اس شخص کی مانند ہے جو دوسرے کے سامان کو دیکھ رہا ہو (یعنی بے فائدہ)۔(٣)"(٤)

حواشی و حوالہ جات:

(١)یہ بات اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز کے لیے نہیں آیا، ورنہ مساجد میں آنے کا اصل مقصود تو نماز ہی ہے۔ (حاشیہ السندی علی ابن ماجہ، ج1/ص211)

(٢)علم حاصل کرنے کی مشابہت اللہ کی راہ میں جہاد سے اس وجہ سے ہے کہ یہ دین کو زندہ کرنا ہے، شیطان کو ذلیل کرنا ہے، نفس کو مشقت میں ڈالنا ہے اور لذتوں کی چوٹیوں کو توڑنا ہے۔ حالانکہ طالب علم کو جہاد سے چھوٹ دی گئی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا} الآیة۔ (حاشیہ السندی علی ابن ماجہ، ج1/ص211)

(٣)یعنی اس شخص کی مانند جو بازار میں داخل ہو، نہ خریدے نہ بیچے، بلکہ صرف لوگوں کے سامان کو دیکھے، تو کیا اسے اس سے کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے؟ اسی طرح یہ شخص (بھی بے فائدہ ہے)۔ اور حدیث میں یہ بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد علم کی منڈی ہے، لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ علم کو سیکھنے اور سکھانے کے ذریعے خریداریں۔ (حاشیہ السندی علی ابن ماجہ، ج1/ص211)

(٤)مسند احمد:9409، سنن ابن ماجہ:227، مسند ابی یعلیٰ:6472، صحیح الجامع:6184، صحیح الترغیب:87

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

علم دین کی فضیلت: مسجد نبوی میں علم سیکھنے یا سکھانے کے لیے آنا جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہے۔ یہ علم دین کی عظمت اور اس کے حصول کی ترغیب پر دلالت کرتا ہے۔

نیت کی اہمیت: مسجد میں آنے کا مقصد اگر علم دین کی بھلائی ہو تو ثواب عظیم ہے، ورنہ بے فائدہ ہے۔ اس سے نیت کی اصلاح کی ترغیب ملتی ہے۔

مسجد کا اصل مقصد: مساجد میں نماز کے علاوہ علم دین کا حصول بھی ایک عظیم مقصد ہے۔ مسجد نبوی کو علم کی منڈی قرار دیا گیا ہے، جہاں سے لوگوں کو علم خریدنا (یعنی حاصل کرنا) چاہیے۔

جہاد و علم کا باہمی تعلق: علم حاصل کرنا بھی جہاد کے مترادف ہے، کیونکہ یہ دین کی نشرواشاعت، شیطان کے مقابلے اور نفس کی تربیت کا ذریعہ ہے۔

بے مقصد آمدورفت کی مذمت: جو شخص مسجد میں بغیر کسی دینی فائدے (جیسے نماز، علم) کے آئے، وہ بے فائدہ نظارہ کرنے والے کی مانند ہے۔ اس سے مساجد میں آنے کے آداب کی تعلیم ملتی ہے۔

علم کی تجارت: حدیث میں علم کی منڈی کی تشبیہ دی گئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طالب علم کو چاہیے کہ وہ علم حاصل کرنے کے لیے سعی کرے، جیسے تاجر مال حاصل کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے۔

علم دین کی نشر و اشاعت: حدیث میں سیکھنے اور سکھانے دونوں کو یکساں فضیلت دی گئی ہے، جو علم کی نشر و اشاعت کی ترغیب دیتی ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث علم دین کی عظمت، مساجد میں علم کے حصول کی فضیلت، نیت کی اہمیت اور بے مقصد آمدورفت کی مذمت پر روشنی ڈالتی ہے۔


نوٹ:
علمِ دین کا مقصد دنیا کمانا نہیں، بلکہ وہ (1)ایمان بالغیب (2)اعمالِ صالحہ اور (3)اخلاقِ حسنہ سیکھنا ہے جن سے اللہ کی رضا حاصل ہو۔

(1)ایمان تو اصحابِ رسول ﷺ جیسا ہو۔
[حوالہ»سورۃ البقرۃ:13-137]
وہ ایمان معتبر نہیں۔۔۔
جو تمہیں برائی کا حکم دے(سکھائے)
[البقرۃ:93]
جو ظلم-نافرمانی سے ملایا گیا ہو۔
[حوالہ سورۃ الانعام:82، الحجرات:11]
جس میں ذرا سا بھی شک ہو
[الحجرات:15، المدثر:17]
عذاب آتا دیکھ لینے کے بعد کا ہو
[غافر:85]
مرتے وقت کا ہو
[یونس:90]
فیصلہ کے دن کا ہو
[السجدہ:29]

(2)اعمال صالح ہوں۔
[البقرۃ:277، القصص:87]
جو شیطان کے مزین کردہ برے اعمال نہ ہوں
[النحل:63]
جو دنیا کی زندگی اور زینت کا ارادہ بنائیں
[ھود:15]
جو اللہ کے راستے(رضا)سے روکیں
[النمل:24،العنکبوت:38]
رسول کی مخالفت پر رکھیں
[محمد:32]

(3)اخلاق اچھے ہوں:
اخلاص
[الزمر:2،غافر:65،البینہ:5]

حسنِ گمان
[البقرۃ:46 التوبہ:118 ص:24 الحاقہ:20 الجن:12 المطففین:4]

خوف
[آل عمران:175 الانعام:15 الرحمٰن:46 النازعات:40]

خشوع
[البینہ:8(البقرۃ:45،فاطر:28]

طمع(اشتیاق کے ساتھ امید)
[الشعراء:51-82 السجدہ:16]

تلاشِ رضائے الٰہی 
[البقرۃ:207-265،التوبہ:62]

حیاء
[الاحزاب:53]

تضرع(عاجزی)
[الانعام:43 الاعراف:97 النحل:48 المؤمنون:76 الفرقان:63]

شکر
[البقرۃ:152]

صبر
[البقرۃ:153]

توکل
[آل عمران:122-159]

نرمدل
[المائدۃ:54]
رحمدل
[الفتح:29]

احسان
[النحل:90 الرحمٰن:60]

زھد(دنیا سے بےرغبت)
[یوسف:20 (الانعام:32 التوبہ:38 یونس:7-8)]

کثرتِ ذکر(ہر وقت دھیان میں رکھنا کہ اللہ میرے ساتھ ہے مجھے دیکھ رہا ہے)۔
[الشعراء:227]










حدیث نمبر 33

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: (" خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمًا وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ (1) فَقَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ (2) إِلَى بُطْحَانَ (3) أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ , فَيَأتِيَ كُلَّ يَوْمٍ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ (4) زَهْرَاوَيْنِ (5) فَيَأخُذَهُمَا فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟ " , فَقُلْنَا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللهِ يُحِبُّ ذَلِكَ , قَالَ: " فَلَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ , فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللهِ - عز وجل - خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ , وَثَلَاثٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثٍ , وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعٍ , وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنْ الْإِبِلِ ") (6)
 ترجمہ:
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم صفہ پر تھے (1)۔ آپ نے فرمایا: 'تم میں سے کون شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ ہر صبح (2) بطحان (3) یا عقیق (کی طرف) جائے اور ہر روز دو اونٹنیاں لے کر آئے جو موٹی تازہ (4) اور خوبصورت سفید (5) ہوں، اور وہ انہیں بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے لے لے؟' ہم نے عرض کیا: 'یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص یہی پسند کرتا ہے۔' آپ نے فرمایا: 'تم میں سے کسی شخص کا ہر روز مسجد کی طرف جانا اور وہاں اللہ عزوجل کی کتاب کی دو آیات سیکھ لینا اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے، اور تین (آیات سیکھنا) تین (اونٹنیوں) سے بہتر ہے، اور چار (آیات سیکھنا) چار (اونٹنیوں) سے بہتر ہے، اور اسی طرح ہر تعداد میں (آیات سیکھنا) اتنے ہی اونٹوں سے بہتر ہے' (6)۔"

حواشی وحوالہ جات:

(1)اصحاب صفہ: یہ غریب مسافر تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں پناہ لیتے تھے۔ مسجد کے آخر میں ان کے لیے ایک صفہ (چبوترہ/شیڈ) تھا، جو مسجد سے ملا ہوا ایک الگ جگہ تھی، جس پر چھت تھی اور وہ وہیں رات گزارتے تھے۔ اس کی اصل گھر کے صفہ (دہلیز یا چھجا) سے ہے۔ (النووی 6/380)

(2)الغدو: دن کے آغاز میں سفر کرنا یا جانا۔

(3)بطحان: مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام۔ (النووی ج 3 / ص 158)

(4)الکوماء(اونٹنیوں کے لیے): بڑی اور کوہان والی موٹی تازی اونٹنی۔(النووی 6/380)

(5)زہراوین: سفید اور خوبصورت۔

(6)مسند احمد:17444، صحیح مسلم:803، سنن ابی داؤد:1456


حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

علمِ قرآن کی بے پناہ فضیلت: قرآن پاک کی محض دو آیات سیکھنے کا ثواب دو قیمتی اونٹنیوں کے مالک ہونے سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ یہ دنیوی دولت اور آخرتی ثواب کے درمیان موازنہ پیش کرتا ہے اور علم کے ثواب کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔

علم میں اضافے کا ترقیاتی اصول: جس طرح دنیاوی مال میں کمی بیشی ہوتی ہے، اسی طرح علم کے ثواب میں بھی کمی بیشی ہوتی ہے۔ تین آیات کا ثواب تین اونٹنیوں سے، چار کا چار سے بہتر ہے، یعنی علم جتنا زیادہ ہوگا، اس کا اجر و ثواب اتنا ہی زیادہ ہوگا۔

علم حاصل کرنے کا مسنون طریقہ: علم حاصل کرنے کے لیے مسجد کا انتخاب اور باقاعدگی (ہر روز) کی تاکید ہمیں علمی نظم و ضبط سکھاتی ہے۔

دنیا پر آخرت کی ترجیح: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے سامنے ایک دلچسپ اور فطری خواہش (مال حاصل کرنا) رکھی، پھر اس سے بہتر چیز (علم قرآن) کی طرف راغب کیا۔ یہ مؤثر تعلیمی اور تربیتی طریقہ ہے۔

اصحاب صفہ کے لیے خاص تربیت: یہ حدیث خاص طور پر اصحاب صفہ کے لیے تھی جو معاشی طور پر کمزور تھے۔ آپ نے انہیں بتایا کہ تمہارے پاس جو چیز (فرصت اور مسجد کا قرب) ہے، اسے استعمال کر کے تم دنیا کی سب سے قیمتی دولت (علم قرآن) حاصل کر سکتے ہو۔

علم کی برکت عام ہوتی ہے: حدیث میں مال حاصل کرنے کی شرط "بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے" لگائی گئی، جبکہ علم حاصل کرنے میں ایسی کوئی قید نہیں۔ اس سے علم کے حصول کی پاکیزگی اور برکت واضح ہوتی ہے۔

قرآن سے براہ راست تعلق: حدیث میں براہ راست "کتاب اللہ" کی آیات سیکھنے کی ترغیب دی گئی ہے، جو قرآن فہمی اور اس کے ساتھ براہ راست تعلق استوار کرنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ قرآن کا علم دنیا کی تمام قیمتی متاع سے زیادہ قابل قدر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم باقاعدگی کے ساتھ، کم سے کم ایک دو آیات ہی سہی، سیکھنے کا سلسلہ جاری رکھیں، کیونکہ اس کا ثواب متعین اور یقینی ہے اور یہ ہمارے لیے دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔



حدیث نمبر 34

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا (1) " , قَالُوا: وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: حِلَقُ الذِّكْرِ "(2)
ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو خوب چر لیا کرو (1)۔" صحابہ نے عرض کیا: "جنت کے باغ کیا ہیں؟" آپ نے فرمایا: "ذکر کے حلقے (2)۔"

حواشی و حوالہ جات:
(1)"رَتَعَ" کا معنی ہے: ہریالی اور کشادگی میں جی بھر کر کھانا پینا، یا دیہات میں آسودگی سے کھانا پینا۔ (تحفة الأحوذي، ج 8 / ص 407)
(2)جامع ترمذی: 3510، مسند احمد: 12545، مسند ابی یعلیٰ: 1865۔ نیز السلسلة الصحیحة للالبانی: 2562، صحیح الترغیب والترہیب للالبانی: 1511 میں دیکھیں۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
علم و ذکر کی مجلسوں کی عظمت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر اور علم کے حلقوں کو جنت کے باغوں سے تشبیہ دی ہے۔ جس طرح باغ روح اور جسم کو تازگی دیتا ہے، اسی طرح یہ مجالس روحانی تازگی، سکون اور لذت کا باعث ہیں۔

ان مجالس میں شمولیت کی ترغیب: "فَارْتَعُوا" (چر لیا کرو) کا حکم ہے، جو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ انسان کو ایسی مجالس میں باقاعدہ اور مستقل طور پر شریک ہونا چاہیے، ان سے فیض حاصل کرنا چاہیے اور ان میں موجود روحانی غذا سے اپنے دل و دماغ کو سیراب کرنا چاہیے۔

مجالسِ ذکر کی شناخت: حدیث میں ان مجالس کی واضح علامت بیان کی گئی ہے کہ وہ "حِلَقُ الذِّكْرِ" (ذکر کے حلقے) ہیں۔ اس میں قرآن و حدیث کا درس، وعظ و نصیحت، اور دیگر شرعی علوم کی تعلیم و تفہیم شامل ہے۔

دنیا میں جنت کے نمونے: یہ حدیث بتاتی ہے کہ مؤمن دنیا میں ہی ان روحانی اجتماعات کے ذریعے آخرت کی نعمتوں کا ایک عکس اور ذائقہ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ مجالس درحقیقت دنیا میں جنت کی روحانی کیاریاں ہیں۔

اجتماعیت کی اہمیت: ذکر کے لیے "حلقے" بنانا اجتماعی عبادت کی ترغیب دیتا ہے۔ اکیلے ذکر کے بجائے اجتماعیت کے ساتھ ذکر کرنے میں خاص برکت اور فضیلت ہے۔

علم و ذکر کی کمی نہ ہونے دینا: جس طرح کوئی شخص سرسبز باغ کو دیکھ کر اس کی نعمت سے فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتا، اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ علم و ذکر کی مجالس کو پاکر ان میں شامل ہونے کی فوری کوشش کرے۔

دل کی غذا: یہ تشبیہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس طرح جسم کے لیے پاکیزہ غذا ضروری ہے، اسی طرح دل و روح کے لیے ذکرِ الہٰی اور علمِ دین کی غذا نہایت ضروری ہے۔

خلاصہ: یہ مختصر اور پر معنی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ علم و ذکر کی مجالس درحقیقت ہماری دنیاوی زندگی میں جنت کے باغ ہیں۔ ان میں بیٹھنا، سننا اور سیکھنا ہمارے ایمان کو تازہ کرتا ہے، ہمارے دلوں کو سکون دیتا ہے اور ہمیں آخرت کی ابدی eternal نعمتوں کے قریب تر کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ایسی مجالس کی تلاش اور ان میں شرکت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔




حدیث نمبر 35

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: أَكْرَمُ النَّاسِ عَلَيَّ جَلِيسِي.
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "مجھ پر سب سے زیادہ معزز شخص میرا ساتھی (مجلس کا) ہے۔"

[الأدب المفرد للبخاری:1145، صحیح الأدب المفرد:877]

اس اثر سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

مجلس کے ساتھی کی عزت و تکریم: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے زمانے کے عظیم عالم اور صحابی تھے۔ ان کا یہ قول مجلس کے ساتھی کے احترام اور اس کی عزت نفس کو محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔

علمی مجالس کا ادب: علم حاصل کرنے یا علم کی مجلس میں بیٹھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کا احترام کرے، خواہ وہ علم میں اس سے کم تر ہی کیوں نہ ہوں۔

تواضع کی عظمت: یہ قول ایک عظیم عالم کی تواضع اور انکساری کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنے ساتھی کو اپنے اوپر معزز قرار دے رہے ہیں، جو علمی اور اخلاقی بلندی کی علامت ہے۔

معاشرتی تعلقات کی بہتری: اس قول سے پتہ چلتا ہے کہ باہمی تکریم اور احترام معاشرتی تعلقات کو بہتر بناتی ہے، خاص طور پر علمی مجالس میں جہاں باہمی احترام علم کے فروغ کا ذریعہ بنتا ہے۔

طالب علم کے لیے مشعل راہ: یہ قول ہر طالب علم کے لیے مشعل راہ ہے کہ وہ اپنے ساتھی طالب علموں کا احترام کرے، ان سے حسن سلوک سے پیش آئے، اور ان کی عزت نفس کا خیال رکھے۔

علم کی صحیح روح: علم کی صحیح روح یہ ہے کہ انسان علم حاصل کرنے کے بعد متکبر نہ بنے، بلکہ مزید متواضع ہو جائے اور دوسروں کی عزت کرنا سیکھے۔

خلاصہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ مختصر قول درحقیقت علمی و اخلاقی ادب کے ایک اہم پہلو کو واضح کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم ہمیں دوسروں کی عزت کرنا سیکھاتا ہے، نہ کہ انہیں حقیر سمجھنا۔ یہ وہ علمی آداب ہیں جو ہمارے اسلاف سے ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔







فَضْلُ التَّعْلِيم (تعلیم کی فضیلت)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اور تمام مسلمانوں کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ (جہاد کے لیے) سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔ پس ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلتی تاکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کرتی اور تاکہ وہ اپنی قوم کو ڈر سناتی جب وہ ان کے پاس لوٹتے، تاکہ وہ (برائیوں سے) بچتے رہیں۔"
[سورۃ التوبہ، آیت:122]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وہ لوگ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں، اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، اور اللہ حساب لینے کے لیے کافی ہے۔"
[سورۃ الاحزاب، آیت:39]


پہلی آیت (سورۃ التوبہ: 122) سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

دینی علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے: تمام مسلمانوں کے لیے جہاد پر نکلنا ضروری نہیں، بلکہ ہر علاقے اور گروہ سے کچھ لوگوں کا دین کی گہری سمجھ (تفقہ) حاصل کرنے کے لیے نکلنا ضروری ہے، تاکہ وہ باقی لوگوں کو تعلیم دے سکیں۔

علم حاصل کرنے کا مقصد تبلیغ و انذار ہے: دین سیکھنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ علم حاصل کرنے والے واپس اپنی قوم کے پاس جا کر انہیں دین کی بات سمجھائیں اور انہیں برائیوں سے ڈرائیں۔

اجتماعی ذمہ داری: یہ پوری امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اندر علماء اور معلمین پیدا کرے جو دین کی صحیح تعلیم عام کر سکیں۔

علم کی نشر و اشاعت کا نظام: آیت میں ایک منظم طریقہ بتایا گیا ہے: پہلے گروہ سے ایک جماعت علم حاصل کرے، پھر وہ واپس جا کر دوسروں کو سکھائے۔

حفاظت و بچاؤ کا ذریعہ: یہ تعلیم و تبلیغ لوگوں کے لیے باعثِ حذر (بچاؤ) ہے، یعنی غلط عقائد، برے اعمال اور گمراہیوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔

دوسری آیت (سورۃ الاحزاب: 39) سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

رسالات الہی کی تبلیغ کرنا انبیا اور علماء کا شیوہ: یہ صفت انبیا علیہم السلام کی ہے، اور ان کے بعد علماء اور داعیان حق اس کے وارث ہیں۔ اللہ کے پیغامات کو بلا خوف و خطر پہنچانا عظیم منصب ہے۔

اللہ کی خشیت ہی اصل محرک ہے: تبلیغ دین کا اصل محرک صرف اور صرف اللہ کا خوف ہونا چاہیے، نہ کہ لوگوں کی تعریف یا مال و منال کی طمع۔

انسانوں کے خوف سے آزادی: مبلغ کو اللہ کے سوا کسی مخلوق (حاکم، طاقتور، مخالف) کے خوف سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہیے۔

اللہ پر بھروسہ اور اسے کافی جاننا: آیت کے آخر میں "وَكَفَى بِاللهِ حَسِيبًا" (اور اللہ حساب لینے کے لیے کافی ہے) کہہ کر مبلغ کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہاری ذمہ داری صرف اخلاص کے ساتھ پیغام پہنچانا ہے، نتیجہ اور حساب اللہ پر چھوڑ دو۔

خلاصہ: یہ آیت مبلغین، معلمین اور علماء کے لیے مشعل راہ ہے کہ وہ اپنے کام میں مخلص ہوں، صرف اللہ سے ڈریں، اور اس بات پر مطمئن رہیں کہ اللہ ان کا حساب لینے والا ہے۔

مجموعی اسباق:
ان دونوں آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی تعلیم و تبلیغ ایک عظیم فریضہ ہے جس کے لیے لوگوں کو تیار کرنا چاہیے۔ اس کام کے لیے اللہ کی خشیت، اخلاص نیت، اور لوگوں کے خوف سے آزادی ضروری ہے۔ یہی وہ صفات ہیں جو ایک معلم اور مبلغ کو دین کی خدمت کے قابل بناتی ہیں۔



مخلوقات کی دعائیں ملتی رہتی ہیں:

حدیث نمبر 36

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ , وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرَضِينَ , حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا , وَحَتَّى الْحُوتَ , لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ (1) " (2)
ترجمہ
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے، اور آسمان و زمین والے، یہاں تک کہ اپنے بل میں چیونٹی اور مچھلی (تک) لوگوں کو بھلائی سکھانے والے پر درود بھیجتے ہیں۔(1) " (2)

حواشی وحوالہ جات:
(1)امام ترمذی نے کہا: میں نے ابو عمار حسین بن حریث خزاعی کو کہتے سنا: میں نے فضیل بن عیاض کو کہتے سنا: (ایک) عالم، عامل (عمل کرنے والا)، معلم (سکھانے والا) آسمانوں کی بادشاہی میں بڑا کہلاتا ہے۔
(2)جامع ترمذی:2685، سنن الدارمی:289، المعجم الکبیر للطبرانی:7911، صحیح الجامع:1838، صحیح الترغیب والترہیب:81

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

معلم کی عظیم فضیلت: لوگوں کو بھلائی (علم، اخلاق، نیکی) سکھانے والا صرف انسانوں ہی میں محترم نہیں ہوتا، بلکہ پوری کائنات اس کے لیے دعائیں کرتی ہے۔ یہ معلم کے لیے بے پناہ اجر و ثواب کی ضمانت ہے۔

اللہ کی خاص رحمت: معلم پر درود بھیجنے والوں میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ کام اللہ کو بہت محبوب ہے اور وہ خود اسے کرنے والے پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے۔

پوری کائنات کی دعائیں: فرشتوں، آسمان و زمین کی تمام مخلوقات، یہاں تک کہ چھوٹے سے چھوٹے جاندار کا بھی ذکر اس دعا و درود میں شامل ہونا، معلم کے احترام اور اس کام کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔

"الخیر" کی وسعت: "بھلائی" کا لفظ بہت وسیع ہے۔ اس میں ہر وہ علم اور عمل شامل ہے جو انسان کے دین و دنیا کے لیے مفید ہو۔ دینی علوم سکھانا، اچھے اخلاق سکھانا، کوئی ہنر یا مفید علم سکھانا، غلط کاموں سے روکنا — یہ سب اس میں داخل ہے۔

علم، عمل اور تعلیم کا مجموعہ: فضیل بن عیاض کا قول بتاتا ہے کہ اصل قدر اس شخص کی ہے جو خود علم رکھتا ہو (عالم)، اس پر عمل بھی کرتا ہو (عامل)، اور دوسروں کو بھی سکھاتا ہو (معلم)۔ ایسا شخص آسمانی دنیا میں عظیم مقام رکھتا ہے۔

تعلیم کی ذمہ داری کا احساس: یہ حدیث ہر اس شخص کے لیے مشعل راہ ہے جو کچھ جانتا ہے کہ وہ اسے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرے، کیونکہ اس کا ثواب صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ کائناتی ہے۔

خلوص نیت کی شرط: ایسی عظیم فضیلت کے حصول کے لیے شرط یہی ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور بھلائی پھیلانا ہو، نہ کہ تعریف، ناموری یا دنیاوی مفاد۔

خلاصہ: یہ حدیث معلمین اور داعیانِ حق کے لیے انتہائی حوصلہ افزا اور پر تاثیر پیغام ہے کہ ان کی محنت صرف ان کے طلبہ تک محدود نہیں، بلکہ پوری کائنات اس کی گواہ بن کر ان کے لیے بخشش اور رحمت کی دعاگو ہے۔ یہ علم کی اشاعت کو زندگی کا سب سے مقدس مشن بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔


حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
۔۔۔ ہر خشک اور تر شے یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں، کیڑے اور مکوڑے، خشکی کے درندے وجانور، آسمان وستارے سب ان (علم والوں) کیلئے استغفار کرتی رہتی ہیں، کیونکہ علم اندھے دلوں کی زندگی، تاریک آنکھوں کا نور، اور کمزور جسموں کی قوت ہے۔۔۔
[جامع بيان العلم وفضله-امام ابن عبد البر(م463ھ): باب جامع فی فضل العلم، حدیث#268]

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«‌مُعَلِّمُ ‌الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحُوتُ فِي ‌الْبَحْرِ»
خیر کی تعلیم دینے والے کے لیے ہر چیز معافی مانگتی رہتی ہے حتیٰ کہ سمندر میں موجود مچھلی بھی۔
[مسند البزار(م292ھ): حدیث#169، شرح مذاهب أهل السنة لابن شاهين:51]

یہی حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے۔
[الجامع - معمر بن راشد(م153ھ): حدیث#21030]
[الترغيب في فضائل الأعمال لابن شاهين:218، شرح مذاهب أهل السنة لابن شاهين:53]

انہی سے دوسری روایت میں تعلیم دینے والے اور تعلیم لینے والے (دونوں) کیلئے یہی فرمایا گیا ہے۔
«‌مُعَلِّمُ ‌الْخَيْرِ وَمُتَعَلِّمُهُ ، يَسْتَغْفِرُ لَهُمْ كُلُّ شَيْءٍ ، حَتَّى الْحُوتُ فِي ‌الْبَحْرِ»
[أخلاق العلماء للآجري(م360ھ): صفحہ#43]

حضرت ابو درداءؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
إِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى الْحِيتَانِ فِي ‌الْبَحْرِ
ترجمہ:
یقینا جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے حتیٰ کہ سمندر میں موجود مچھلی بھی عالم کے لیے بخشش نہیں مانگتا۔
[سنن ابن ماجه(م273ھ) : حدیث#239]

اِس سے مقصود کثرت سے دعا کرنے والوں کا بیان ہے۔ مُتعدِّد روایات میں یہ مضمون وارد ہوا ہے، بعض روایات میں ہے کہ:
مَلائکہ اُس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔
[شعب الإيمان للبيهقي:3603]

کیونکہ وہ مخلوقات کے حقوق سکھلاتے اور خیر کی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔

مچھلیوں کی خُصوصِیَّت بہ ظاہر اِس وجہ سے ہے کہ، اللہ جَلَّ شَانُہٗ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ‌سَيَجۡعَلُ لَهُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وُدّٗا
ترجَمہ:
جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے، حق تَعَالیٰ شَانُہٗ اُن کے لیے (دنیا ہی میں) مَحبُوبِیَت فرمادیں گے۔
[سورۃ مریم:96]
اور حدیثِ پاک میں ارشاد ہے:
’’جب حق تَعَالیٰ شَانُہٗ کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو جبرئیلؑ سے ارشاد فرماتے ہیں کہ: مجھے فلاں شخص پسند ہے تم بھی اُس سے محبت کرو، وہ خود محبت کرنے لگتے ہیں، اور آسمان پر آواز دیتے ہیں کہ: فلاں بندہ اللہ کا پسندیدہ ہے تم سب اُس سے محبت کرو، پس اُس آسمان والے اُس سے محبت کرتے ہیں، اور پھر اُس کے لیے زمین پر قَبولِیت(قَبول ہونا) رکھ دی جاتی ہے‘‘۔
[بخاری:3209]
اور عام قاعدے کی بات ہے کہ ہر شخص کی محبت اُس کے پاس رہنے والوں کو ہوتی ہے؛ لیکن اِس کی مَحبَّت اِتنی عام ہوتی ہے کہ آس پاس رہنے والوں ہی کو نہیں؛ بلکہ دریاء کے رہنے والے جانوروں کو بھی اِس سے محبت ہوتی ہے، کہ وہ بھی دعا کرتے ہیں، اور گویا بَر(خشکی) سے مُتجاوِز ہوکر بَحر(سمندر) تک پہنچنا محبوبیت کی اِنتِہا ہے؛ نیز جنگل کے جانوروں کا دعا کرنا بہ طریقِ اَولیٰ معلوم ہوگیا۔

علم انسانیت کی ضرورت







حدیث نمبر 37

عَنْ جَابِرٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" مُعَلِّمُ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ (1) حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْبِحَارِ(2)
 ترجمہ:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بھلائی سکھانے والے کے لیے ہر چیز استغفار کرتی ہے،(1) یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی۔"(2)

حواشی وحوالہ جات:
(1)(شارح نے) کہا: اس میں جمادات (بے جان چیزوں) کے بھی اس کے لیے استغفار کرنے پر دلیل ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر چیز"۔

(2)المعجم الاوسط للطبرانی: 6219، السلسلة الصحیحة للالبانی: 3024

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

معلم کی عظیم قبولیت: بھلائی (علم، اخلاق، ہدایت) سکھانے والا صرف انسانوں ہی میں محبوب نہیں ہوتا، بلکہ پوری کائنات اس کے حق میں مغفرت کی دعا کرتی ہے۔ یہ اس کے عمل کی اللہ کے ہاں بے پناہ مقبولیت کی علامت ہے۔

کائناتی دعا کی وسعت: حدیث میں "کُلُّ شَيْءٍ" (ہر چیز) کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس میں جاندار اور بے جان، تمام مخلوقات شامل ہیں۔ یہ بات معلم کے لیے استغفار کی عمومی اور ہمہ گیر نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔

حیوانات کی دعا: خاص طور پر سمندر کی مچھلیوں کا ذکر کر کے بتایا گیا کہ زمین کے دور دراز اور پوشیدہ کونوں میں رہنے والی مخلوقات بھی اس نیکی کے اثر سے محروم نہیں رہتیں اور معلم کے لیے بخشش مانگتی ہیں۔

"الخیر" کی جامعیت: "بھلائی" ہر اس علم اور عمل کو شامل ہے جو انسانیت کے لیے نفع بخش ہو، خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی (اگر وہ حلال اور مفید ہو)، اخلاقی ہو یا علمی۔

استغفار کا معنی: "استغفار" سے مراد مغفرت کی دعا کرنا، گناہوں سے پاک ہونے کی التجا کرنا، یا درجات کی بلندی کی دعا مانگنا ہے۔ پوری کائنات کا یہ عمل معلم کے مقام و مرتبے میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

تعلیم کے لیے خصوصی اجر: یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ علم سکھانے کا عمل محض ایک معمولی خدمت نہیں، بلکہ ایک ایسی عبادت ہے جس کی برکات اور ثواب کا دائرہ انتہائی وسیع اور کائناتی ہے۔

جمادات کا استغفار: شارح کے قول کے مطابق، بے جان چیزیں بھی معلم کے لیے استغفار کرتی ہیں۔ اس کی ممکنہ تفسیر یہ ہے کہ ان کی حالت (ان کا وجود، ان کی ترتیب، ان کی تاثیر) بھی اس معلم کے حق میں گواہی دیتی ہے اور اس کے لیے باعثِ رحمت بنتی ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث معلمین، داعیان، مصلحین اور ہر اس شخص کے لیے بہترین تسلی و ترغیب ہے جو دوسروں کی بھلائی کی فکر کرتا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ آپ کا یہ کام صرف چند لوگوں تک محدود نہیں، بلکہ پوری کائنات اس کی گواہ ہے اور اس کے اجر میں اضافے کی داعی۔ یہ تعلیم و تربیت کے مقدس فریضے کو مزید عزم و یقین کے ساتھ سرانجام دینے کی ترغیب دیتی ہے۔



حدیث نمبر 38

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى , كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ , كَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا "۔
 ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس شخص نے ہدایت کی طرف بلایا، اس کے لیے ایسے ہی لوگوں کے ثواب ہوں گے جو اس کی پیروی کریں، اور اس سے ان کے ثواب میں کچھ بھی کمی نہیں آئے گی۔ اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا، اس پر ایسے ہی لوگوں کے گناہ ہوں گے جو اس کی پیروی کریں، اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہیں آئے گی۔"

[صحیح مسلم:2674، جامع ترمذی: 2674، سنن ابی داؤد: 4609۔ سنن ابن ماجہ:205، مسند احمد: 13829]

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

ہدایت کی دعوت کا عظیم ثواب: نیکی اور راہِ ہدایت کی طرف بلانے والے کو اس کی دعوت پر عمل کرنے والے ہر شخص کا ثواب ملے گا۔ یہ ثواب اس قدر وسیع ہے کہ اس میں کروڑوں لوگ شامل ہو سکتے ہیں اور ہر ایک کا الگ الگ ثواب دعوت دینے والے کو ملتا رہے گا۔

گمراہی پھیلانے کی سخت ذمہ داری: برائی، گمراہی یا غلط راستے کی طرف بلانے والا صرف اپنے گناہ ہی کا ذمہ دار نہیں ہوتا، بلکہ اس کے بعد آنے والے ہر فرد کے گناہوں میں سے ایک حصہ اس کے نامۂ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔ یہ گناہوں کے پہاڑ کو دعوت دیتا ہے۔

دعوت و ارشاد کا اجتماعی فریضہ: یہ حدیث ہر مسلمان کو اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ اپنے دائرۂ اثر میں نیکی کی دعوت دینے کی کوشش کرے، کیونکہ اس کے نتائج و ثواب لامحدود ہیں۔

ثواب و عقاب میں کمی نہ آنا: ایک اہم اصول یہ بیان ہوا کہ دعوت دینے والے کو عمل کرنے والوں کا ثواب ملنے سے ان کے اپنے ثواب میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اسی طرح گمراہ کرنے والے کو عمل کرنے والوں کے گناہ ملنے سے ان کے اپنے گناہ کم نہیں ہوتے۔ یہ اللہ کے فضل اور عدل دونوں کا مظہر ہے۔

معلم، مبلغ اور رہنما کی ذمہ داری: اس حدیث کے تحت علماء، واعظین، اساتذہ، والدین اور تمام رہنماؤں کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ انہیں ہمیشہ یہ سوچ کر بات کرنی اور عمل کرنا چاہیے کہ ان کی بات یا عمل سے متاثر ہو کر کوئی راہ راست یا گمراہی اختیار کر سکتا ہے۔

نیت اور مقصد کی اہمیت: دعوت کا ثواب یا گناہ اس کی نیت اور مقصد پر منحصر ہے۔ اگر کوئی شخص غلطی سے کسی غلط بات کو صحیح سمجھ کر پھیلاتا ہے تو اس کا حکم مختلف ہو سکتا ہے، لیکن جان بوجھ کر گمراہی پھیلانا شدید گناہ ہے۔

دنیا و آخرت میں اثرات: یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے اعمال اور دعوتی کوششیں محض ذاتی نہیں ہیں۔ ان کے اثرات دوسروں تک پھیلتے ہیں اور ان اثرات کا حساب ہماری آخرت کی کامیابی یا ناکامی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ ہماری ذرا سی کوشش (چاہے وہ اچھائی کی طرف بلانا ہو یا برائی کی طرف) کا دائرہ کار ہماری ذات سے کہیں بڑھ کر ہے۔ لہٰذا ہمیں ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ہدایت کے داعی بنیں، کیونکہ اس کا ثواب ہمیشہ رہنے والا اور لامتناہی ہے، اور ہر قسم کی گمراہی سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں، کیونکہ اس کی ذمہ داری بہت بھاری ہے۔






حدیث نمبر 39

عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ - رضي الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ:
" مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا , فَلَهُ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ , لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْعَامِلِ "۔
 ترجمہ:
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس شخص نے (کسی کو) کوئی علم سکھایا، تو اسے اس عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا، اور عمل کرنے والے کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہیں ہوگی۔"

[سنن ابن ماجہ: 240، صحیح الجامع، حدیث نمبر 6292]

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

تعلیم کا عظیم ثواب: علم سکھانے والے کو اس شخص کے برابر ثواب ملتا ہے جو اس علم پر عمل کرے۔ یہ تعلیم دینے کی فضیلت اور اس کے اجر کی وسعت کو واضح کرتا ہے۔

نیت اور اخلاص کی شرط: یہ ثواب اس صورت میں ہے جب علم سکھانے کی نیت خالصتاً اللہ کی رضا اور دین کی خدمت کے لیے ہو، نہ کہ دنیاوی تعریف یا کوئی اور غرض کے لیے۔

دائمی اور مسلسل ثواب: جب تک سیکھنے والا اس علم پر عمل کرتا رہے گا، سکھانے والے کو بھی ثواب ملتا رہے گا۔ یہ ایک ایسا صدقہ جاریہ ہے جو مرنے کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔

علم کی نشر و اشاعت کا فریضہ: یہ حدیث ہر اس شخص کے لیے ترغیب ہے جو کچھ جانتا ہے کہ وہ اسے دوسروں تک ضرور پہنچائے، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

عمل کی ترغیب: سکھانے والے کو اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ وہ ایسا علم سکھائے جو نافع ہو اور جس پر عمل ممکن ہو، کیونکہ اصل ثواب علم کے عمل میں آنے سے ہی ہے۔

اللہ کے عدل و کرم کا بیان: حدیث کا یہ حصہ کہ "لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْعَامِلِ" (عمل کرنے والے کے ثواب میں کمی نہیں ہوتی) اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل اور اس کے عدل کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ ایک نیکی کا اجر دو لوگوں کو بغیر کسی کمی کے عطا فرماتا ہے۔

علم کے تحفظ کا ذریعہ: علم سکھانا درحقیقت اس علم کو زندہ رکھنے، اسے آنے والی نسلوں تک پہنچانے اور اس کے ضائع ہونے سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ علم سکھانا محض ایک خدمت نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے جس کا ثواب لامحدود ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے علم (چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی حلال علم) سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے، کیونکہ اس کا اجر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہر عمل کرنے والے تک پھیل جاتا ہے۔






حدیث نمبر 40

عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" مَنْ عَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ - عز وجل - كَانَ لَهُ ثَوَابُهَا مَا تُلِيَتْ "۔
 ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس شخص نے اللہ عزوجل کی کتاب کی ایک آیت سکھائی، تو اس کے لیے اس آیت کا ثواب ہے جب بھی وہ آیت پڑھی جائے۔"

حوالہ:
حديثه عن شيوخه-ابو سہل القطان: جلد 4، صفحہ 243، حدیث نمبر 2۔
نیز دیکھیں: امام البانی کی "السلسلة الصحیحة": حدیث نمبر 1335۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

قرآن سکھانے کا عظیم اجر: صرف ایک آیت سکھانے پر بھی ایسا ثواب ملتا ہے جو ہر بار اس آیت کی تلاوت تک جاری رہتا ہے۔ یہ تعلیم قرآن کے ثواب کی وسعت اور دوام کو ظاہر کرتا ہے۔

صدقہ جاریہ: قرآن سکھانا ایک صدقہ جاریہ ہے۔ سکھانے والا مرنے کے بعد بھی اس ثواب میں حصہ دار رہتا ہے، جب تک اس کے سکھائے ہوئے علم سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

علم کی نشر و اشاعت کی ترغیب: یہ حدیث ہر مسلمان کو، چاہے وہ تھوڑا ہی جانتا ہو، اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ قرآن کا علم دوسروں تک پہنچائے۔ چھوٹی سی کوشش بھی بڑے اور دائمی ثواب کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

قرآن سے براہ راست تعلق: حدیث میں "کتاب اللہ" کی صراحت ہے، جو قرآن کریم کی تعلیم و تعلم کی خاص فضیلت کو واضح کرتی ہے۔

نیت کی اخلاص: اس عظیم ثواب کے حصول کے لیے شرط یہ ہے کہ تعلیم کی نیت خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہو۔

علم کی ذمہ داری: جو شخص قرآن کا علم رکھتا ہے، اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسے دوسروں تک پہنچائے۔ یہ حدیث اس ذمہ داری کی یاد دہانی کراتی ہے۔

اجتماعی فائدہ: ایک شخص کا سکھایا ہوا علم درجنوں، سینکڑوں یا ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، اور ہر ایک کے عمل کا ثواب سکھانے والے کو ملتا رہے گا۔

خلاصہ: یہ حدیث قرآن کریم کی تعلیم دینے کی عظمت اور اس کے دائمی ثواب پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ ہم اپنے علم القرآن سے دوسروں کو ضرور فائدہ پہنچائیں، چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔





بےعمل عالم بھی دوسروں کیلئے چراغ(راهنما) ہے:

حدیث نمبر 41

سیدنا جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَثَلُ الْعَالِمِ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ السِّرَاجِ يُضِيءُ لِلنَّاسِ وَيَحْرَقُ نَفْسَهُ»
ترجمہ:
اس عالم کی مثال جو لوگوں کو تو خیر سکھائے لیکن خود کو بھلادے اس چراغ کی سی جو لوگوں کو تو روشنی دیتا ہو اور خود کو جلاتا ہو۔
[صحيح الترغيب:131+ 2328، صحيح الجامع: 5831]
یعنی
نوافل میں کمی کوتاہی گناہ نہیں اور ناجائز خواہشات کی تکمیل نہ کرنے میں نفس کو جلانا تقویٰ ہے۔ اور خیر کا راستہ بتلانے والے کو اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا عمل کرنے والے کو۔



حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
‌قَلِيلُ ‌الْعِلْمِ ‌خَيْرٌ مِنْ كَثِيرِ الْعِبَادَةِ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ عِلْمًا إِذَا عَبَدَ اللَّهَ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا إِذَا عَجِبَ بِرَأْيِهِ، إِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ: عَالِمٌ وَجَاهِلٌ فَلَا تُمَارِ الْعَالِمَ وَلَا تُحَاوِرِ الْجَاهِلَ۔
ترجمہ:
علم  کی قلیل مقدار بھی عبادت کی کثیر مقدار  سے بہتر ہے، انسان کو تھوڑا علم بھی کافی ہے اگر اللہ کی عبادت کرے، اور تھوڑی جہالت بھی بہت ہے اگر اپنی رائے پر مغرور ہو، آدمی دو قسم کے ہیں: عالم اور جاہل۔ عالم سے کج بحثی نہ کرو اور جاہل سے جھگڑا نہ کرو۔
[جامع بيان العلم وفضله-ابن عبد البر (م463ھ: حدیث نمبر 90، أدب الدنيا والدين-الماوردي (م450ھ): صفحہ نمبر 72]
[أخرجه الدولابى في الكنى (1488)، والطبراني في الأوسط (8/ 301 - 302 رقم 8698) والكبير (31/ 619 - 620 رقم 14541) ومسند الشاميين (2098)، وأبو نعيم في الحلية (5/ 173 - 174)، والبيهقي في المدخل (453) وابن عبد البر في جامع بيان العلم (95)، والخطيب في الموضح (1/ 425 - 421)، وفي الفقيه والمتفقه (90)]

کَج بَحْثی: 
  • اُلٹی سیدھی باتیں، نامعقول گفتگو، فضول باتیں، کٹ حجتی، بے ہودہ تکرار

تشریح:
(تھوڑا سا فقہ رکھنے والا) اس لفظ کی روایت میں "عسکری" نے (قلیل العلم) یعنی "تھوڑا علم رکھنے والا" کہا ہے۔ میں نے حافظ ذہبی کی خطاطی میں اس کے بجائے (التوفیق) یعنی "ہدایت یافتہ" دیکھا ہے، کیونکہ یہی صحیح ہے۔
(بہت عبادت سے بہتر ہے) کیونکہ یہی اس کی تصحیح کرتا ہے۔
(اور آدمی کے لیے اتنا فقہ کافی ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے، اور آدمی کے لیے اتنی جہالت کافی ہے کہ وہ اپنی رائے پر اترا ئے)۔
عسکری نے کہا: مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا اس سے مقصد یہ تھا کہ عالم اگرچہ اپنی عبادت میں کوتاہی کرتا ہو، وہ کوشش کرنے والے جاہل سے بہتر ہے، کیونکہ عالم جانتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے اور کس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا: یہ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی طرح ہے: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اس دین کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہو، خواہ وہ اپنے سرین (پچھلے حصے) کے بل گھسیٹتا ہو۔"
(اور لوگ صرف دو قسم کے ہیں: مومن اور جاہل۔ پس نہ تو مومن کو تکلیف دو، اور نہ ہی جاہل سے) ہاء مهملہ (یعنی حرف "ح" سے) (بات چیت کرو)۔
فردوس میں کہا گیا ہے: "محاورہ" سے مراد مکالمہ (بات چیت) ہے۔ اور یہ بھی روایت ہے: "لا تجاور" (جیم سے) یعنی ہمسائیگی نہ کرو۔ آہ۔ اور یہ بحث و تکرار اور جھگڑے سے منع کرنے اور ڈانٹنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

[فیض القدیر للمناوی: 6150]




حدیث نمبر 42
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُنَافِقٍ، ‌حُسْنُ ‌سَمْتٍ، وَلَا فِقْهٌ فِي الدِّينِ»
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «دو خوبیاں منافق میں جمع نہیں ہو سکتیں: حسن اخلاق اور دین کی فقہ»۔ (یعنی گہری سمجھ)۔
[سنن الترمذي:2684، الصحيحة:‌‌278]

تشریح:
"سمت": راستہ، یعنی مقصد۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد بھلائی کے راستوں کی کوشش کرنا، نیک لوگوں کی طرح لباس پہننا اور ظاہری و باطنی عیبوں سے پاک رہنا ہے۔
[مرقاة المفاتيح:219، تحفة الأحوذي: ج 6، ص 483]

فقہ=علم+عمل:
امام ابن قیمؒ(م751ھ) لکھتے ہیں:
فَجعل الْفِقْه فِي الدّين منافيا للنفاق بل لم يكن ‌السّلف يطلقون اسْم الْفِقْه الاعلى الْعلم الَّذِي يَصْحَبهُ الْعَمَل۔
ترجمہ:
چنانچہ آپ ﷺ نے دین میں فقہ کو منافقت سے متصادم قرار دیا۔ بلکہ سلف(گُزرے ہوئے برگزیدہ لوگ) لفظ فقہ کا اِطْلاق (بغیرشرط) علم پر اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک وہ عمل کے ساتھ  ملا ہوا نہ ہوتا۔
[مفتاح دار السعادة-(1/89)]

شرح للمناوی:
(دو صفتیں منافق میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں: خوش سیرت) یعنی دین میں خوش وضع و ظاہر۔ قاضی نے کہا: سمت اصل میں راستہ ہے، پھر اہل خیر کے ہدایت والے راستے کے لیے استعارہ بن گیا۔ کہا جاتا ہے: "ما أحسن سمته" یعنی اس کا ہدایت والا راستہ کتنا اچھا ہے۔ (اور نہ دین کی سمجھ) اسے سمت پر عطف کیا گیا ہے حالانکہ وہ مثبت ہے، کیونکہ یہ نفی کے سیاق میں ہے۔ احیاء میں کہا گیا ہے: حدیث میں فقہ سے وہ مراد نہیں جو تم سمجھتے ہو، اور فقیہ کی ادنیٰ درجے یہ ہے کہ وہ جان لے کہ آخرت دنیا سے بہتر ہے۔ توربشتی نے کہا: دین میں فقہ کی حقیقت یہ ہے کہ وہ دل میں بیٹھ جائے پھر زبان پر ظاہر ہو، علم دے اور تقویٰ پیدا کرے۔ اور رہا وہ (علم) جو دھوکے میں پڑے ہوئے لوگ پڑھتے پڑھاتے ہیں، تو وہ اس اعلیٰ درجے سے دور ہے کیونکہ اس کا فقہ صرف اس کی زبان سے وابستہ ہوتا ہے دل سے نہیں۔ طیبی نے کہا: آپ کا قول "خصلتان لا يجتمعان" سے مراد یہ نہیں کہ ان میں سے ایک صفت منافق میں ہو سکتی ہے اور دوسری نہ ہو، بلکہ یہ مومن کو ان دونوں صفات سے متصف ہونے اور ان کی ضد سے بچنے کی ترغیب ہے۔ کیونکہ منافق وہ ہوتا ہے جو ان دونوں سے خالی ہو۔ یہ سختی پیدا کرنے کے باب سے ہے۔ بعض نے کہا: خوش سیرت اہل خیر کی وضع ہے۔ اور بعض نے کہا: فقہ فی الدین سے مراد باطن میں دنیا کا علم ہے۔ پس منافق باطن میں فقہ (سمجھ) کے بغیر دین کی سیرت کا قصد کر سکتا ہے، اور انسان دین کا علم حاصل کر سکتا ہے پھر اس پر اس کا نفس غالب آ جاتا ہے تو وہ صالحین کی سیرت سے نکل جاتا ہے۔ پس جب ظاہر و باطن دونوں اکٹھے ہو جائیں تو نفاق ختم ہو جاتا ہے، اس کا باطن و ظاہر برابر نہیں رہتا۔**

[فیض القدیر للمناوی: 3914]


حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
منافق کی شناخت کا ایک پہلو 📜: یہ حدیث منافق کی ایک باریک شناخت بتاتی ہے۔ منافق ظاہر میں خوش اخلاق اور دین دار دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اس میں خالص نیت، حقیقی خشیت الٰہی اور دین کی گہری سمجھ (فقہ) کا اجتماع نہیں ہو سکتا۔

خوش اخلاقی کی حقیقی روح 🤝: حدیث میں "حسن سمت" سے مراد محض ظاہری تمیزدار رویہ نہیں، بلکہ وہ پاکیزہ اخلاق ہے جو دل کی خالص نیت، اللہ کے خوف اور نیک لوگوں کی اقتدا سے پھوٹتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جو منافق کے بس کی بات نہیں۔

علمِ دین کی اہمیت اور اس کا مقام 💡: "فقہ فی الدین" صرف مسائل کا رٹا لگانا نہیں، بلکہ دین کی گہری سمجھ، اس کے مقاصد کی معرفت اور اس پر عمل کی پختگی ہے۔ یہ وہ نور ہے جو دل کو منافقت کی تاریکی سے محفوظ رکھتا ہے۔

عمل و علم کا حسین امتزاج ⚖️: حدیث اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ مسلمان کا ہدف خوش اخلاقی اور گہرے دینی علم دونوں کو جمع کرنا ہونا چاہیے۔ یہی وہ کمال ہے جو مومن کو منافق سے ممتاز کرتا ہے۔

نیت کی پاکیزگی پر زور 🕋: حدیث کا بنیادی پیغام نیت کی اخلاص کی اہمیت ہے۔ منافق کا عمل ظاہراً اچھا ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ اس کی نیت (لوگوں کو دکھانے یا دنیوی فائدے کے لیے) خراب ہوتی ہے، اس لیے اس کے عمل میں برکت نہیں ہوتی اور وہ حقیقی فقہ سے محروم رہتا ہے۔

احتیاط کی دعوت 🛡️: یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی شخص کے بارے میں محض اس کے ظاہری اخلاق یا علم کے بل بوتے پر فیصلہ نہ کریں۔ قلب کے احوال کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔

خلاصہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں منافق کی ایک اہم نشانی بیان کی گئی ہے، اور ساتھ ہی مومن کے لیے یہ معیار قائم کیا گیا ہے کہ اسے اپنے اخلاق کو علمِ نافع اور اخلاصِ عمل سے آراستہ رکھنا چاہیے۔ یہ دو صفات جہاں مومن کے زیور ہیں، وہیں منافق کے لیے ان کا جمع ہونا ناممکن ہے۔




حدیث نمبر 40




جامع فضائلِ علم اور مقامِ عُلَماء:
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ؛ فَإِنَّ تَعْلِيمَهُ لِلَّهِ خَشْيَةً وَطَلَبَهُ عِبَادَةً، وَمُذَاكَرَتَهُ تَسْبِيحٌ وَالْبَحْثَ عَنْهُ جِهَادٌ، وَتَعْلِيمَهُ لِمَنْ لَا يَعْلَمُهُ صَدَقَةٌ، وَبَذْلَهُ لِأَهْلِهِ قُرْبَةٌ؛ لِأَنَّهُ مَعَالِمُ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَمَنَارُ سُبَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَهُوَ الْأُنْسُ فِي الْوَحْشَةِ وَالصَّاحِبُ فِي الْغُرْبَةِ وَالْمُحَدِّثُ فِي الْخَلْوَةِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ، وَالسِّلَاحُ عَلَى الْأَعْدَاءِ، وَالزَّيْنُ عِنْدَ الْأَخِلَّاءِ، يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ أَقْوَامًا فَيَجْعَلُهُمْ فِي الْخَيْرِ قَادَةً وَأَئِمَّةً يُقْتَصُّ آثَارُهُمْ، وَيُقْتَدَى بِأَفْعَالِهِمْ وَيُنْتَهَى إِلَى رَأْيِهِمْ، تَرْغَبُ الْمَلَائِكَةُ فِي خُلَّتِهِمْ وَبِأَجْنِحَتِهَا تَمْسَحُهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُمْ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَحِيتَانُ الْبَحْرِ وَهَوَامُّهُ وَسِبَاعُ الْبَرِّ وَأَنْعَامُهُ؛ لِأَنَّ الْعِلْمَ حَيَاةُ الْقُلُوبِ مِنَ الْجَهْلِ وَمَصَابِيحُ الْأَبْصَارِ مِنَ الظُّلَمِ يَبْلُغُ الْعَبْدُ بِالْعِلْمِ مَنَازِلَ الْأَخْيَارِ وَالَدَّرَجَاتِ الْعُلَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالتَّفَكُّرُ فِيهِ يَعْدِلُ الصِّيَامَ وَمُدَارَسَتُهُ تَعْدِلُ الْقِيَامَ بِهِ تُوصَلُ الْأَرْحَامُ وَبِهِ يُعْرَفُ الْحَلَالُ مِنَ الْحَرَامِ وَهُوَ إِمَامٌ وَالْعَمَلُ تَابِعُهُ يُلْهَمُهُ السُّعَدَاءُ وَيُحْرَمُهُ الْأَشْقِيَاءُ»
ترجمہ:
علم حاصل کرو کیونکہ (1) اس کا حاصل کرنا الله کی خشیت، (2) اسے طلب کرنا عبادت، (3) اس کا درس دینا تسبیح، (4) اس میں بحث کرنا جہاد، (5) بےعلم کو علم سکھانا صدقہ  (6) اور اس کی اہلیت رکھنے والوں تک اسے پہنچانا الله کا قرب حاصل کرنا ہے۔ (7) یہ تنہائی میں غمخوار، (8) خلوت کا ساتھی، (9) خوشی و غمی پر دلیل، (10) دوستوں کے ہاں زینت، (11) اجنبی لوگوں کے ہاں قرابت دار (12) اورراہِ جنت کا مینار ہے۔ (13) الله عزوجل اس کے سبب قوموں کو بلندیوں سے نوازتا ہے (14) اور انہیں نیکی کے کاموں میں ایسا رہنما وہادی بنادیتا ہے کہ  ان کی پیروی کی جاتی ہے، (15) ہر خیر کے کام میں ان کی راہنمائی لی جاتی ہے، (16) ان کے نقشِ قدم پر چلا جاتا ہے، (17) ان کے اعمال وافعال کی اقتدا کی جاتی ہے، (18) ان کی رائے حرفِ آخر ہوتی ہے، (19) فرشتے ان کی دوستی کو مرغوب جانتے ہیں، اور(20) انہیں اپنے پروں سے چھوتے ہیں، (21) ہر خشک وتر شے یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں، کیڑے اور مکوڑے، خشکی کے درندے وجانور، آسمان وستارے سب ان کی مغفرت چاہتے ہیں، کیونکہ (22) علم اندھے دلوں کی زندگی، (23) تاریک آنکھوں کا نور، (24) اور کمزور جسموں کی قوت ہے۔ (25) بندہ علم کے سبب نیک لوگوں کے مراتب اور بلند درجات تک جا پہنچتا ہے، (26) علم میں غور وفکر کرنا روزے رکھنے کے برابر ہے، اور(27)اور اسے پڑھانا رات بھر کے قیام کے برابر ہے، (28) علم کے ذریعے ہی الله کی عبادت وفرمانبرداری ہوتی ہے، (29) اسی سے توحید اور ورع وتقویٰ ملتا ہے، (30) اسی کے سبب صلہ رحمی کی جاتی ہے، (31) علم امام ہے اور عمل اس کا تابع، (32) علم نیک بخت لوگوں کے دلوں میں ڈالا جاتا ہے جبکہ بدبختوں کو اس سے محروم رکھا جاتا ہے۔

[جامع بيان العلم وفضله-امام ابن عبد البر(م463ھ): باب جامع فی فضل العلم، حدیث#268]

هو حديث حسن جدا وفي إسناده ضعف. وروي أيضا من طرق شتى موقوفا على معاذ۔
[أبجد العلوم-صديق حسن خان (م1307ھ): صفحہ 62]
[تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي(م373ھ) : حدیث#671]
[الفقيه والمتفقه - الخطيب البغدادي:1/ 100 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ]


علم، مال و دولت سے بہتر ہے:
ہر شخص علم کا محتاج ہے:
حضرت علیؓ نے کمیل بن زیاد سے کتنی عمدہ بات فرمائی تھی:
”علم مال ودولت سے بہتر ہے، کیونکہ (1)علم تمہاری نگہداشت کرتا ہے، جب کہ مال و دولت کی نگہبانی تمہیں کرنی پڑتی ہے۔ (2)علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، جب کہ دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے۔ (3)علم حاکم ہے جب کہ مال ودولت کی حیثیت محکوم کی ہے۔ (4)علم سے عالم کو زندگی میں سکون حاصل ہوتا ہے اور وفات کے بعد ذکر خیر، جب کہ مال و دولت کا کام آدمی کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ (5)مال و دولت کے ذخیرے رکھنے والے پردہ گم نامی میں چلے گئے  جب کہ عُلَماء زندہ و پائندہ ہیں۔ (6)اور جب تک دنیا باقی رہے گی ان کے نام بھی باقی رہیں گے اور وہ خود تو انتقال کر چکے، لیکن ان کے علمی کارنامے زندہ ہیں“۔
[حلية الأولياء:1/ 79، جامع بيان العلم وفضله:284، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:333، تفسير الرازي:سورۃ البقرۃ:31]



ایک روایت میں ہے کہ اہل بصرہ میں باہم مذاکرہ ہونے لگا۔ بعض نے کہا: علم مال سے افضل ہے۔ اور بعض نے کہا کہ مال علم سے افضل ہے۔ بالآخر حضرت ابن عباسؓ کی طرف آدمی بھیج کر فیصلہ چاہا گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ”علم افضل ہے“۔ قاصد بولا: اگر ان لوگوں نے دلیل مانگی تو کیا کہوں گا؟“ انہوں نے فرمایا: ”کہہ دینا کہ ”(1)علم انبیاء کی میراث ہے اور مال فرعون کی، (2)علم تیری حفاظت کرتا ہے اور مال کی تجھے حفاظت کرنی پڑے گی، (3)اللہ تعالیٰ علم کی دولت اپنے محبوب بندوں کو ہی دیتا ہے اور مال میں یہ تخصیص نہیں، محبوب و مبغوض دونوں کو دیتا ہے، بلکہ مبغوض کو عموماً زیادہ دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام آدمی ایک ہی طریقے پر ہو جائیں ،تو جو لوگ خدا کے ساتھ کفر کرتے ہیں، ان کے لیے ان کے گھروں کی چھتیں ہم چاندی کردیتے اور زینے بھی، جس سے وہ چڑھا کرتے ہیں ۔“ (4)علم خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا، بلکہ بڑھتا ہے اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے۔ (5)مال دار جب مرجاتے ہیں، تو ان کا تذکرہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور صاحبِ علم مرنے کے بعد بھی زندہ جاوید رہتا ہے۔ (6)صاحب مال سے ایک ایک درہم کا سوال ہوگا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں پر لگایا؟ اور صاحب علم کا ایک ایک حدیث پر جنت میں درجہ بڑھے گا“۔
[تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي:674، شرح البخاري للسفيري:2/ 88]

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ”حضرت سلیمان علیہ السلام کو اختیار دیا گیا تھا کہ علم ، مال اور سلطنت میں جو چاہو پسند کرو، انہوں نے علم کو پسند فرمایا تو مال اور حکومت علم کے ساتھ ان کو عطا ہوئی“۔
[جامع الأحاديث:12121 (تفسير الزخشري،تفسير القرطبي،تفسير النسفي:سورۃ المجادلۃ:آیۃ11)]

‌رَضِينَا ‌قِسْمَةَ ‌الْجَبَّارِ ... فِينَا لَنَا عِلْمٌ وَلِلْأَعْدَاءِ مَالُ
فَإِنَّ الْمَالَ يَفْنَى عَنْ قَرِيبٍ ... وَإِنَّ الْعِلْمَ يَبْقَى لَا يُزَالُ
ترجمہ:
”ہم خدا کی تقسیم پر راضی ہیں جو اس نے ہمارے متعلق فرمائی ہے، یعنی یہ کہ ہمارے لیے علم اور جاہلوں کے لیے مال مقدر فرمایا۔“
”اس لیے کہ مال عنقریب فنا ہوجائے گا اور علم باقی رہے گا جسے زوال نہیں۔“
[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة: المصابيح:5170، دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين:4/ 501]


کیا علماء معصوم ہیں:
نیک صرف وہ نہیں جس سے کوئی گناہ نہ ہو، کیونکہ بھول اور غلطی سے ((پاک)) ذات اللہ ہی کی ہے اور گناہوں سے ((معصوم)) یعنی بچائے گئے صرف  فرشتے اور انبیاء ہی ہیں

لہٰذا نیک وہ ہے جس کی نیکیاں اس کے گناہوں پر غالب وظاہر ہوں، اسی لئے کل قیامت-فیصلہ-بدلہ والے دن اعمال تولے جائیں گے۔ 
اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
۔۔۔ بیشک اللہ کو محبوب ہیں بہت توبہ کرنے والے بھی اور پسند آتے ہیں (گندگی وبرائی سے) پاک رہنے والے بھی۔
[سورۃ البقرۃ:222]
 پھر ہم نے اس کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جنہیں ہم نے چن لیا تھا پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں، اور انہی میں سے کچھ ایسے ہیں جو درمیانے درجے کے ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں بڑھے چلے جاتے ہیں۔ اور یہ (اللہ کا) بہت بڑا فضل ہے۔
[سورۃ فاطر:32]
آسان تفسیر:
(9) اس سے مراد مسلمان ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن براہ راست تو حضور سرور عالم ﷺ پر نازل ہوا، لیکن پھر اس کا وراث ان مسلمانوں کو بنایا گیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے چن لیا تھا کہ وہ اللہ کی کتاب پر ایمان لائیں، لیکن ایمان لانے کے بعد ان کی تین قسمیں ہوگئیں، ایک وہ تھے جو ایمان تو لے آئے لیکن اس کے تقاضوں پر پوری طرح عمل نہیں کیا، چنانچہ اپنے بعض فرائض چھوڑدئیے، اور گناہوں کا بھی ارتکاب کرلیا، ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، کیونکہ ایمان کا تقاضا تو یہ تھا کہ انہیں جنت میں فوری داخلہ نصیب ہوتا، لیکن انہوں نے گناہ کرکے اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنالیا، جس کے نتیجے میں قانون کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے شخص کو پہلے اپنے گناہوں کا عذاب بھگتنا ہوگا، دوسری قسم جس کو درمیانے درجے کا کہا گیا ہے، اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو فرائض وواجبات پر تو عمل کرتے ہیں اور گناہوں سے بھی پرہیز کرتے ہیں ؛ لیکن نفلی عبادتیں اور مستحب کاموں پر عمل نہیں کرتے، اور تیسری قسم ان لوگوں پر مشتمل ہے جو صرف فرائض وواجبات پر اکتفا کرنے کے بجائے نفلی عبادتوں اور مستحب کاموں کا بھی پورا اہتمام کرتے ہیں، یہ تینوں قسمیں مسلمانوں ہی کی بیان کی ہوئی ہیں، اور آخر کار مغفرت کے بعد جنت میں انشاء اللہ تینوں قسمیں داخل ہوں گی۔

فضائل استغفار اور توبہ پر چہل حدیث


قرآن پاک میں فضیلتِ علم و مقامِ عُلَماء:

(1)جتنا علمِ نبوی، اتنا خشوعِ خداوندی 

اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:

اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی ایسے ہیں جن کے رنگ مختلف ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو عُلَماء ہیں۔ یقینا اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، بہت بخشنے والا بھی۔ 

[سورۃ فاطر:28]
یعنی علم وہ ہے جو اللہ کا ڈر پیدا کرے۔ کائنات کی ان عجیب و غریب مخلوقات کو دیکھ کر اور ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور اس کی توحید پر استدلال کر کے انہی کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کی عظمت کا علم اور اس کی سمجھ ہے اور جو لوگ اس سمجھ سے محروم ہیں، وہ کائنات کے ان عجوبوں کی تہہ تک پہنچنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی عظمت تک نہیں پہنچتے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی اللہ تعالی سے ڈرتا ہے وہ عالم ہے، یہ معنیٰ درست اور صحیح ہے، اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جو بھی عالم ہے وہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہے۔
[مجموع الفتاوى- ابن تیمیہ:7/539]


(2) بھلا (کیا ایسا شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے، اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے؟ کہو کہ : کیا وہ جو علم رکھتے  ہیں اور جو نہیں علم رکھتے سب برابر ہیں؟ (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔۔
[سورۃ الزمر:9]
یعنی اگر آخرت کا حساب و کتاب نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ مومن کافر اور بدکار اور نیک سب برابر ہوجائیں گے، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور انصاف سے ممکن نہیں۔
حضرت علیؓ نے فرمایا:
هتف العلم بالعمل، فان اجابه والا ارتحل.
ترجمہ:
یعنی علم عمل کو ’’پکارتا‘‘ ہے، اگر عمل جواب دیتا ہے تو علم ٹھہر جاتا ہے ورنہ وہ رخصت ہوجاتا ہے۔
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائيؒ:4/22، ذم من لا يعمل بعلمه لابن عساکرؒ: 14، جياد المسلسلات للسيوطيؒ:272، كتاب المعجم لعبد الخالق بن اسد الحنفیؒ:357، اقتضاء العلم العمل للخطيبؒ البغدادي:4، البداية والنهاية لابن کثیرؒ:12/150، ط - دار الفکر]


(3) ہم یہ (قرآنی) مثالیں لوگوں کے فائدے کے لیے دیتے ہیں، اور انہیں سمجھتے وہی ہیں جو عالم ہیں۔
[سورۃ العنکبوت :43]

(4) ...اور جن لوگوں کا علم پختہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم اس (مطلب) پر ایمان لاتے ہیں (جو اللہ کو معلوم ہے) سب کچھ ہمارے پروردگار ہی کی طرف سے ہے ...
[سورۃ آل عمران:7]

(5) لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں اور ایمان والے، سو مانتے ہیں اسکو جو نازل ہوا(اے نبی!) تجھ پر اور جو نازل ہوا تجھ سے پہلے...
[سورۃ النساء:162]

(6) اب اگر تمہیں علم نہیں ہے تو جو علم والے ہیں ان سے پوچھ لو۔
[سورۃ النحل:43 ، سورۃ انبیاء:7]
اس آیت میں یہ اصولی ہدایت دیدی گئی ہے کہ جو لوگ کسی علم و فن کے ماہر نہ ہوں، انھیں چاہیے کہ اس علم و فن کے ماہرین سے پوچھ پوچھ کر عمل کرلیا کریں۔




علم کا شکر اور مومنوں پر عُلَماء کی فضیلت۔
القرآن:
اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ اور انہوں نے کہا : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔
[سورۃ النمل، آیت نمبر 15]



تمام تعریفیں الله کیلئے بےحساب، اور درود وسلام الله کے انبیاء اور عُلَماء پر بےشمار، کہ جن سے ہم تک علم کی روشنی پہنچی۔

اور سلامتی ہو ان تمام مومن اور مسلمان مردوں اور عورتوں پر جو ہدایت کے پیچھے چلتے رہے۔




معتبر گواہ-قابلِ اعتماد کون؟
امام راغب اصفہانیؒ(م502ھ) نے لکھا ہے کہ:
اللہ پاک نے فرمایا:
اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی ہے، اور فرشتوں اور اہلِ علم نے بھی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔۔۔
[سورۃ آل عمران:18]

اور امام ابوحنیفہؒ(م150ھ) [اور امام شافعیؒ(204ھ)] نے فرمایا:
إِنْ لَمْ يَكُنْ العُلَمَاءُ أَوْلِيَاءَ اللهِ ‌فِي ‌الْأَرْضِ فَلَيْسَ للهِ ‌فِيهَا وَلِيٌّ۔
ترجمہ:
اگر عُلَماء اولیاء اللہ نہیں تو زمین میں کوئی اللہ کا ولی نہیں۔
[محاضرات الأدباء ومحاورات الشعراء والبلغاء-الراغب الأصفهاني (م502ھ): ج1/ ص48]
[التبيان في آداب حملة القرآن-امام النووي(م676ھ): صفحہ29]






اعتماد کے قابل، قرآن سیکھنے سکھانے والے۔
اور دوسری جگہ امام راغب اصفہانیؒ(م502ھ) لکھتے ہیں کہ اللہ پاک کے فرمان:
۔۔۔۔۔اس کے بجائے (وہ تو یہی کہے گا کہ) اللہ والے بن جاؤ، کیونکہ تم جو کتاب پڑھاتے رہے ہو اور جو کچھ پڑھتے رہے ہو، اس کا یہی نتیجہ ہونا چاہیے۔
[سورۃ آل عمران:79]
فقد قيل: إن ‌لم ‌يكن ‌العلماء ‌أولياء لله فليس لله في الأرض ولي۔
ترجمہ:
لہٰذا کہا جاتا ہے کہ: اگر عُلَماء اولیاء اللہ نہیں تو زمین میں کوئی اللہ کا ولی نہیں۔
[تفسير الراغب الأصفهاني:2 / 272]


ایک حدیثِ قدسی میں ہے (یعنی اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ):
مَنْ ‌عَادَى ‌لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ۔۔۔۔
ترجمہ:
جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلانِ جنگ ہے۔۔۔۔
[صحيح البخاري:6502، صحيح ابن حبان:347]

حافظ الحدیث ابن حجر عسقلانیؒ(م852ھ)اس حدیث کی تشریح لکھتے ہیں:
الْمُرَادُ بِوَلِيِّ اللَّهِ الْعَالِمُ بِاللَّهِ الْمُوَاظِبُ عَلَى طَاعَتِهِ الْمُخْلِصُ فِي عِبَادَتِهِ
ترجمہ:
اللہ کے ولی سے مراد عالم باللہ (یعنی اللہ کی پہچان ومعرفت رکھنے والا) ہے، جو اس کی اطاعت میں ہمیشگی اور دوام برتتا ہے اور اس کی عبادت میں مخلص ہے۔
[فتح الباري لابن حجر: ج11 / ص342  دار المعرفة - بيروت]




حضرت ابن عباسؓ سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان مروی ہے:
فَإِن الْمعلم إِذا قَالَ للصَّبِيّ قل بِسم الله الرَّحْمَن الرَّحِيم فَقَالَ كتب الله برأة للصَّبِيّ وبرأة للمعلم وبرأة لِأَبَوَيْهِ من النَّار
ترجمہ:
بےشک معلم(تعلیم دینے والا قرآن کی ابتداء کرواتے) جب کہتا ہے بچے سے کہ کہو: ﴿شروع الله کے نام سے جو سب پر مہربان ہمیشہ رحم والا ہے۔﴾ پھر وہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بچے کیلئے اور تعلیم دینے والے اور اس کے والدین کیلئے جہنم سے آزادی لکھ دیتے ہیں۔
حوالہ
[المشيخة البغدادية-امام أبي طاهر السلفي(م576ھ) » جلد#43 صفحہ#7]
[مسند الفردوس-امام الديلمي(م509ھ) » حدیث#6597،
زھرۃ الفردوس-امام ابن حجر عسقلانی(م852ھ) » حدیث#2470]
تفسیر-امام الثعلبي(م427ھ): حدیث#146»سورۃ الفاتحہ:1

علم کے حصول کیلئے معلم (اُسْتاد) کی ضرورت واہمیت




عالم کو زیادہ گناہ ہوتا ہے یا جاہل کو؟
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ذَنْبُ ‌العالِم ذَنبٌ وَاحدٌ، وَذَنْبُ الجَاهِل ذَنْبَان؛ العَالِمُ يُعَذَّبُ عَلَى رُكُوبهِ الذَّنْبَ، وَالجَاهِلُ يُعَذَّبُ عَلَى رُكوبهِ الذَّنْبَ وَتَركِهِ الْعِلْمَ۔
ترجمہ:
عالم کا گناہ ایک گناہ ہے، اور جاہل کا گناہ دو گناہ ہیں۔ کسی نے عرض کی: یا رسول ﷲ! کس لئے؟ فرمایا: عالم پر وبال اسی کا ہے کہ گناہ کیوں کیا، اور جاہل پر ایک عذاب گناہ کا ہوگا اور دوسرا علم کو چھوڑنے کا۔
[الفردوس بمأثور الخطاب- الديلمي:3165، زهر الفردوس:1589، جامع الأحاديث- السيوطي:12509]

القرآن:
ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا۔ یہ (حق بات کو نفرت کی وجہ سے) نہ سن سکتے تھے، اور نہ ان کو (حق) سجھائی دیتا تھا۔
[سورۃ ھود:20][سورۃ الفرقان:69، الحدید:11]
۔۔۔کہو کہ : کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں ؟ (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔
[سورۃ الزمر:9]













حضرت عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
‌يَشْفَعُ ‌يَوْمَ ‌الْقِيَامَةِ ‌ثَلَاثَةٌ: الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْعُلَمَاءُ، ثُمَّ الشُّهَدَاءُ۔
ترجمہ:
قیامت کے دن پہلے انبیاء شفاعت کریں گے، پھر عُلَماء،  پھر شہداء۔
[سنن ابن ماجه:4313، الشريعة للآجري:815، جامع بيان العلم وفضله:152]
تفسير القرطبي، سورۃ المجادلہ، آیۃ11



حضرت ابو درداءؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«‌يُوزَنُ ‌يَوْمَ ‌الْقِيَامَةِ مِدَادُ الْعُلَمَاءِ وَدَمُ الشُّهَدَاءِ»
ترجمہ:
روزِ  قیامت عُلَماء کے قلم کی سیاہی اور شہداء کے خون کو تولا جائے گا تو عُلَماء کے قلم کی سیاہی، شہداء کے خون سے زیادہ وزنی ہو جائے گی۔  
[جامع بيان العلم وفضله:153]




حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
((يجاء بالعالم والعابد فيقال للعابد: ((ادخل الجنة)) ويقال للعالم: ((قف حتى تشفع للناس)) )) . 
ترجمہ:
(قیامت کے دن) لایا جائے گا عالم اور عابد کو پھر کہا جائے گا عابد کو: ((داخل ہونا جنت میں)) اور کہا جائے گا عالم کو: ((ٹھہرجا، یہاں تک کہ تم شفاعت کرو لوگوں کی))۔
[الترغيب للاصبهاني:2157، الترغيب للمنذري:133]
[تفسیر روح البیان:7/455، سورۃ الصافات:25]
[تفسیر المظھری:10/133،سورہ المدثر:44]

القرآن:
لوگوں کو کسی کی سفارش کرنے کا اختیار بھی نہیں ہوگا، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے خدائے رحمن سے کوئی اجازت حاصل کرلی ہو۔
[سورۃ مریم:87]











علم کے تقاضے:
القرآن:
اور (اس کے برعکس) اگر وہ (غیب پر) ایمان لاتے اور تقویٰ (یعنی نافرمانی سے بچنا) اختیار کرتے تو اللہ کے پاس سے ملنے والا ثواب یقینا کہیں زیادہ بہتر ہوتا۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا بھی حقیقی) علم ہوتا۔
[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 103]

حضرت ابوھریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ، مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ*
ترجمہ:
اگر مومن کو علم ہوجاتا کہ الله کا عذاب کیا ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کا لالچ نہ رکھے، اور اگر کافر کو علم ہوجاتا کہ الله کے پاس رحمت کیا ہے تو کوئی جنت سے نا امید نہ ہو۔
[مسند أحمد:8415]
نکات:
(1)اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور اس کے غضب سے سبقت کا بیان
[صحیح مسلم:2755]

(2)امید کے ساتھ خوف کا بیان
[صحیح بخاری:6469]

(3)دلوں کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
[سنن الترمذی:3542]

(4)اس بات کا تذکرہ جو ایک مسلمان شخص پر واجب ہے کہ (۱)وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کو چھوڑ دے (۲)اور اس کی رحمت کی وسعتوں پر بھروسہ چھوڑ دے خواہ اس کے اعمال بہت زیادہ ہوں۔
[صحيح ابن حبان:5085]
اور اللہ نے فرمایا:-
اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، یقین جانو کہ اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔
[سورۃ یوسف:٨٧]

(5)ہر گناہ کے لیے ضروری ہے کہ اس (گناہ) سے (ندامت کے ساتھ اللہ کی طرف واپس لوٹتے) توبہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش بھی مانگی جائے۔
[الآداب للبيهقي:848]

(6)جہنم کی آگ اور اس کے اہل لوگوں کا بیان۔
[ذكر النار لعبد الغني المقدسي:111]

(7)اللہ کے (۱)عظیم فضل والا ہونے (۲)بخشش اور رحمت والا ہونے (۳)غنی وبے پرواہ ہونے کا بیان۔
[الأسماء والصفات - البيهقي:1036]

(8)اللہ پر حسنِ گمان اور توکل رکھنے کا بیان۔
[نضرة النعيم في مكارم أخلاق الرسول الكريم:5/1604]

(9)کسی نیکی یا برائی کو حقیر نہ سمجھنا چاہئے۔ برے لوگ معمولی نیکی سے  جاسکتے ہیں اور نیک لوگ معمولی گناہ پر بھی پکڑے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ الله کی عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کی تعلیم کو کم-حیثیت ومعمولی نہ سمجھا جائے۔

(10)اپنے یا کسی غیرصحابی کے جنتی یا جہنمی ہونے کا یقین ودعویٰ نہ کیا جائے، البتہ امید رکھنا چاہئے۔

(11)مومن وہ ہے جو اللہ کو ایسے مانے جیسا اللہ نے سکھلایا، اور کافر وہ ہے جو اللہ کو ایسا نہیں مانتا جیسا اللہ نے سکھلایا۔

(12)عالم وہ ہے جو رحمتِ الٰہی کا امیدوار ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اللہ کا خوف بھی رکھتا ہو اور خوف ظاہر ہوتا ہے نافرمانیوں سے بچنے کی کوشش سے۔ اور نادان وہ ہے جو اپنی خواہشات کے پیچھے رہے اور بلند وبزرگ اللہ پر (غیرشرعی) تمنا باندھے۔


قرآنی شواہد:
جان لو کہ بےشک الله انتہائی سخت عذاب دینے والا ہے ﴿اس کیلئے جو اس کے حرام وناجائز کو حلال وجائز کرتا ہے﴾۔ اور بےشک  بہت بخشنے والا انتہائی مہربان بھی ہے۔ ﴿اس کیلئے جو اس کی طرف لوٹتے فرمانبرداری کی کوشش کرتا ہے﴾۔
[التفسیر الوسیط(امام)الواحدی(م468ھ) » 2/232، سورۃ المائدۃ:98]

۔۔۔بےشک تمہارا رب یقیناً بہت جلد عذاب دینے والا بھی ہے اور بےشک وہ یقیناً بخشنے والا انتہائی مہربان بھی ہے۔
[تفسیر(امام)ابن ابی حاتم(م327ھ) »11/11، سورۃ الأنعام:165،الأعراف:167]


میرے بندوں کو بتادو کہ میں ہی بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہوں۔ ﴿اپنے دوستوں کا﴾۔ اور یہ بھی بتادو کہ میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔ ﴿اپنے(مخالف ومنکر)دشمنوں کا﴾۔
[تفسیر الوسیط،للواحدی:3/46، سورۃ الحجر:49+50]





درجاتِ علم:
ضروری اور اضافی علوم:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْل: آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ۔
ترجمہ:
علم تین ہیں، اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ زائد ہے: (١)آیت محکم (یعنی مضبوط)، (٢)سنت قائمہ، (٣)فریضہ عادلہ۔ 
[ابوداؤد:2885، ابن ماجہ:54، حاکم:7949، بیھقی:12172، دارقطنی:4060]
تشریح:
فریضہ عادلہ اشارہ ہے اجماع و قیاس کی طرف ۔ فریضہ اس کو اس لیے کہا کہ اس پر عمل واجب ہے جیسے کتاب وسنت پر اور عادل کے معنی بھی یہی ہیں (یعنی حجت ہونے میں برابر) اس حدیث کے حاصل مانا یہ ہوئے کہ دین کے اصول چار ہیں: کتاب و سنت و اجماع وقیاس اور جو علم ان کے سوا ہیں وہ زائد ہیں اور بے معنیٰ ہیں۔

شرح للمناوی:
(علم) یعنی وہ علم جو دین کے علوم کی بنیاد ہے یا دین میں نفع بخش علم ہے، تو یہاں تعریف معروف کے لیے ہے۔
(تین) یعنی تین قسمیں۔
(اور اس کے علاوہ سب فضل ہے) یعنی اضافی ہے، اس کی معرفت کی ضروری ضرورت نہیں۔ مغرب میں کہا گیا ہے: "الفضل" زیادتی کو کہتے ہیں، اور اس کے جمع کا لفظ زیادہ تر ایسی چیزوں پر بولا جاتا ہے جن میں کوئی بھلائی نہ ہی، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے: "فضول بلا فضل"
(بے فائدہ اضافہ) اور "طول بلا طول"
(بے مقصد طوالت)۔ پھر جو شخص کسی معاملے کا اہل نہ ہو اسے "فضولی" کہا جاتا ہے۔
(آیت محکمہ) یعنی جو منسوخ نہ ہوئی ہو یا جس میں کوئی پوشیدگی نہ ہو۔ حرالی نے کہا: اور وہ (آیت) ہے جس کا حکم مضبوط کر دیا گیا ہو، جیسے وہ رسی مضبوط کی جاتی ہے جو "حکمہ" (لگام) بنائی جاتی ہے، یعنی وہ زمام جس سے اس چیز کو قابو میں رکھا جاتا ہے جو ضبط سے باہر نکلنے کے خوف میں ہو، گویا آیت محکمہ نفس کو اس کے گھومنے سے روکتی ہے اور اسے سرکشی سے باز رکھتی ہے اور اسے اس کے ٹھکانے پر مجبور کرتی ہے۔ طِیبی نے کہا: محکمہ وہ ہے جس کے الفاظ کو اس طرح مضبوط کر دیا گیا ہو کہ وہ احتمال اور اشتباہ سے محفوظ ہو گئے ہوں، پس وہ "ام الکتاب" ہو گئی، یعنی کتاب کی اصل، تو متشابہات اسی پر محمول کیے جائیں اور اسی کی طرف پلٹائے جائیں، اور یہ کامل طور پر صرف اس شخص کے لیے ممکن ہے جو تفسیر و تاویل کے علم میں ماہر اور چالاک ہو، جو اصولین اور عربی زبان کے اقسام سے متعلق وہ مقدمات جو اس کے لیے ضروری ہیں، کا احاطہ کیے ہوئے ہو۔
(یا سنت قائمہ) یعنی ثابت، قائم دائم، جس کی حفاظت کی گئی ہو اور جس پر مسلسل عمل کیا جاتا ہو۔ جب بازار قائم ہوتا ہے تو (سامان) بکتا ہے، کیونکہ جب اس کی حفاظت کی جائے تو وہ اس قابلِ رغبت چیز کی مانند ہوتی ہے جس کی طرف خواہشیں متوجہ ہوتی ہیں اور حاصل کرنے والے اس میں مقابلہ کرتے ہیں، اور جب وہ معطل ہو کر رک جائے اور اسے نظرانداز کر دیا جائے تو وہ اس ناقابلِ رغبت چیز کی مانند ہو جاتی ہے جس میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔ اور اس کے دوام کی دو صورتیں ہیں: یا تو اس کے اسانید کی حفاظت کے ذریعے، جس میں رجال کے ناموں کی معرفت، جرح و تعدیل، اور صحیح، حسن، ضعیف کی اقسام اور اس سے نکلنے والی کئی اقسام اور ان سے متعلقہ تکمیلی علوم کا علم شامل ہے۔ یا پھر اس کے متون کی حفاظت کے ذریعے، جس میں تبدیلی اور تحریف سے بچاؤ، اچھی طرح سیکھنے اور چوکس رہنے، اس کے معانی کو سمجھنے اور اس سے بہت سے علوم کا استنباط کرنے سے حاصل ہوتی ہے، کیونکہ ان میں سے بیشتر بلکہ تمام "جوامع الکلم" میں سے ہیں جو اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیے گئے اور آپ کی خاصیت ہیں۔
(یا فریضہ عادلة) یعنی جو قرآن کے ساتھ عمل کے وجوب میں اور صدق و صواب ہونے میں برابر ہو، جیسا کہ قاضی نے ذکر کیا ہے۔ یا مراد تقسیم میں عدل ہے، یعنی اسے کتاب و سنت کے حصوں پر بغیر کسی ظلم کے برابر تقسیم کیا جائے۔ یا یہ کہ یہ ان دونوں سے مستنبط ہے، اور اسے "عادلة" اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ معادلة (برابری) کرتی ہے، یعنی جس چیز سے لی گئی ہے اس کے مساوی ہے۔ طِیبی نے کہا: اور اس قول "وما سوى ذلك فهو فضل" سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ مراد "فضل" سے وہی فضول ہے جس کا دین کے بنیادی علوم سے کوئی تعلق نہیں، اور جس سے آپ نے "أعوذ بالله من علم لا ينفع" (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے) کہہ کر پناہ مانگی ہے۔

[فیض القدیر للمناوی: 5709]



سب سے زیادہ علم والا اللہ کا بندہ کون؟
حضرت ابوہریرہ‌ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(اللہ سے کلام کرنے والے پیغمبر) موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے چھ خوبیوں کے بارے میں سوال کیا جس کے بارے میں موسیٰ  کا گمان تھا وہ صرف انہی میں ہیں۔ اور ساتویں خوبی کو موسیٰ  خود پسند نہیں کرتے تھے۔

(۱)موسیٰ علیہ السلام نے کہا:

اے رب! آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

جو (مجھے) یاد کرتا رہتا ہے، بھولتا نہیں۔

(۲)موسیٰ علیہ السلام نے کہا:

آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟

اللہ عزوجل نے فرمایا:

جو (میری) ہدایت کی (زیادہ) پیروی کرتا ہے۔

(۳)موسیٰ علیہ السلام نے کہا:

آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ انصاف پسند ہے؟

اللہ عزوجل نے فرمایا:

جو لوگوں کے لئے بھی وہی کرتا (فیصلہ کرتا) ہے جو خود اپنے آپ کے لئے کرتا ہے۔

(۴)موسیٰ علیہ السلام نے کہا:

آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ علم والا ہے؟

اللہ عزوجل نے فرمایا:

وہ شخص جو علم سے سیر نہیں ہوتا، لوگوں کے علم کو اپنے علم میں جمع کرتا رہتا ہے۔

(۵)موسیٰ علیہ السلام نے کہا:

آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ معزز ہے؟

اللہ عزوجل نے فرمایا:

جو شخص قدرت رکھنے کے باوجود معاف کردے۔

(۶)موسیٰ علیہ السلام نے کہا:

آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ غنی ہے؟

اللہ عزوجل نے فرمایا:

جو (تھورا بہت) اسے دے دیا جائے اس پر راضی ہو جائے۔

(۷)موسیٰ علیہ السلام نے کہا:

آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ محتاج ہے؟

اللہ عزوجل نے فرمایا:

جو شخص مالدار ہونے کے باوجود اسے اپنے لیے کم سمجھتا ہو۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

غنیٰ (مالداری-بےپرواہی) مال سے نہیں ہوتی غنیٰ (مالداری-بےپرواہی) اصل میں دل کا کشادہ ہونا ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے دل میں کشادگی اور تقویٰ رکھ دیتا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ماتھے پر فقیری رکھ دیتا ہے۔
[صحيح ابن حبان: ‌‌ذكر سؤال كليم الله جل وعلا ربه عن خصال سبع ...حدیث نمبر 6323]
[تفسير الطبري: جلد18/صفحہ63، سوڑۃ الکھف: آیت65][تفسير ابن أبي حاتم:12878]

نکات الحدیث:
(1)دنیا سے بے رغبتی کا بیان
[الزهد لهناد بن السري: جلد2 / صفحہ 607]
(2)اللہ عزوجل کے کلیم (حضرت موسیٰ) کی سات صفات کا تذکرہ
[صحيح ابن حبان:6323]
(3)کون فقیہ یا حقیقی عالم کہلانے کا مستحق ہے اور علماء کے نزدیک فتویٰ دینے کی اجازت کس کو ہے۔
[جامع بيان العلم وفضله:1513]
(4)تقویٰ کا مقام دل میں ہے۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:10/ 219]
(5)اچھے اخلاق میں سے تقویٰ اور زہد(غنیٰ) ہے۔
[المسند الموضوعي الجامع للكتب العشرة:18 / 233]



القرآن:
اور آدم کو (اللہ نے) سارے نام سکھادیئے۔۔۔
[سورۃ البقرۃ:31]
یعنی کائنات میں پائی جانے والی چیزوں کے نام ان کی خاصیتیں اور انسان کو پیش آنے والی مختلف کیفیات کا علم ہے مثلاً بھوک، پیاس، صحت اور بیماری وغیرہ، اگرچہ آدم ؑ کو ان چیزوں کی تعلیم دیتے وقت فرشتے بھی موجود تھے ؛ لیکن چونکہ ان کی فطرت میں ان چیزوں کی پوری سمجھ نہیں تھی اس لئے جب ان کا امتحان لیا گیا تو وہ جواب نہیں دے سکے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے عملی طور پر انہیں باور کرادیا کہ جو کام اس نئی مخلوق سے لینا مقصود ہے وہ فرشتے انجام نہیں دے سکتے۔







القرآن:
۔۔۔اللہ نے ان کو تم پر فضیلت دے کر چنا ہے اور انہیں علم اور جسم میں (تم سے) زیادہ وسعت عطا کی ہے۔۔۔
[سورۃ البقرۃ:247]
یعنی خلافت ہو یا امارت کی فضیلت کے قابل سب سے زیادہ علم والا ہے، سارے علم والے نہیں۔




فنون کا علم سیکھنا:
فن یعنی دستکاری(ہاتھ کے کام)، صنعت(مصنوعی ساخت وبناوٹ)، کاریگری(ہاتھ کے کام کرنے کی صلاحیت وقابلیت)پیدا کرنا بعض کا سیکھنا یقینا ضروری ہے۔
القرآن:
اور ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کی مدد سے کشتی بناؤ۔۔۔۔
[سورۃ ھود:37، المومنون:27]
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ کشتی سازی کی صنعت سب سے پہلے حضرت نوح ؑ نے وحی کے ذریعے شروع فرمائی تھی اور پہلی بار تین منزلہ جہاز تیار کیا تھا۔
القرآن:
اور ہم نے انہیں تمہارے فائدے کے لیے ایک جنگی لباس (یعنی زرہ) بنانے کی صنعت سکھائی تاکہ وہ تمہیں لڑائی میں ایک دوسرے کی زد سے بچائیں۔۔۔۔
[سورۃ الانبیاء:80]


بعض دنیاوی علوم حرام ہیں:

اللہ عزوجل نے فرمایا:
۔۔۔ بلکہ شیطانوں نے کفر کیا کہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو۔۔۔
[سورۃ البقرۃ:102]


بعض دنیاوی علوم نامناسب ہوتے ہیں:

اور ہم نے نہیں سکھایا اس نبی کو شعر۔

[سورۃ یٰس:69]
علمِ منطق سیکھنا کس نیت سے ناجائز ہے؟
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی باتوں کو گھمانا اس لیے سیکھے کہ اس سے آدمیوں یا لوگوں کے دلوں کو حق بات سے پھیر کر اپنی طرف مائل کرلے، تو اللہ قیامت کے دن اس کی نہ نفل (عبادت) قبول کرے گا اور نہ فرض۔   
[ابوداؤد:5006]
نہیں ہے جائز بحث و مناظرہ سوائے حق کو ظاہر(غالب)کرنے اور اسکی مدد کرنے کیلئے تاکہ اسکی پہچان ہوسکے اور اس پر عمل کیا جاسکے۔
[تفسیر الثعالبي»سورة العنكبوت»آية46]


حضرت بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:
بعض بیان جادو ہوتے ہیں ، بعض علم جہالت ہوتے ہیں، بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں، اور بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں۔
تو صعصہ بن صوحان بولے: اللہ کے نبی نے سچ کہا، رہا آپ ﷺ کا فرمانا بعض بیان جادو ہوتے ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی پر دوسرے کا حق ہوتا ہے، لیکن وہ دلائل (پیش کرنے) میں صاحب حق سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے، چناچہ وہ اپنی دلیل بہتر طور سے پیش کر مکے اس کے حق کو مار لے جاتا ہے۔ اور رہا آپ ﷺ کا قول بعض علم جہل ہوتا ہے تو وہ اس طرح کہ عالم بعض ایسی باتیں بھی اپنے علم میں ملانے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کے علم میں نہیں چناچہ یہ چیز اسے جاہل بنا دیتی ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسی نصیحتیں اور مثالیں ہوتی ہیں، جن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں، رہا آپ کا قول کہ بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں م تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بات یا اپنی گفتگو ایسے شخص پر پیش کرو جو اس کا اہل نہ ہو یا وہ اس کا خواہاں نہ ہو۔
[ابوداؤد:5012]

شرح للمناوی:
(اور بے شک کچھ علم جہالت ہے) اس لیے کہ وہ مذموم علم ہے اور اس سے جہالت (نہ جاننا) اس علم سے بہتر ہے۔ یا مراد یہ ہے کہ علوم میں سے وہ ہے جس کی ضرورت نہیں، تو آدمی اس میں مشغول ہو جاتا ہے اس علم کو سیکھنے سے جو اس کے دین میں ضروری ہے۔ پس اس کا علم ایسے معاملے میں ہو جاتا ہے جس سے اسے کوئی سروکار نہیں۔
[فیض القدیر للمناوی: 2458]


حضرت ابوہريرهؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا:

بےشک اللہ عز وجل نفرت رکھتے ہیں ہر بدخلق، اجڈ اور بازاروں میں شور مچانے والے، رات کو گوشت کا لوتھڑا(تنہائی میں عبادت کے بجائے سوئے)رہنے والے، دن کے گدھے، دنیا کے عالم اور آخرت کے جاہل سے۔

[أمثال الحديث لأبي الشيخ الأصبهاني:234، السنن الكبرى للبيهقي:20804، صحيح الجامع:1878]

کیونکہ وہ (دنیا کا) علم رکھتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو محبوب نہیں، اور اس کا علم اسے (آخرت میں) فائدہ نہیں دے گا، اور اس کی (علمِ آخرت سے) جہالت اسے نقصان پہنچائے گی۔

[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:1850]

القرآن:

وہ دنیوی زندگی کے صرف ظاہری رخ کو جانتے ہیں، اور آخرت کے بارے میں ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس سے بالکل غافل ہیں۔

[سورۃ الروم:7]

لہذا (اے پیغمبر) تم ایسے آدمی کی فکر نہ کرو جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑ لیا ہے، اور دنیوی زندگی کے سوا وہ کچھ اور چاہتا ہی نہیں۔ ایسے لوگوں کے علم کی پہنچ بس یہیں تک ہے۔ (15) تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے، اور وہی خوب جانتا ہے کون راہ پا گیا ہے۔

[سورۃ النجم:29-30]

یہ ان لوگوں پر تبصرہ ہے جو بس اسی دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، اور آخرت کا انہیں کوئی خیال ہی نہیں ہے کہ ان بیچاروں کے علم کی رسائی بس دنیاوی زندگی تک ہے، اس سے زیادہ نہیں۔




قرآنی علم میں زیادتی کی دعا کرنے کا حکم ہوا۔
القرآن:
ایسی ہی اونچی شان ہے اللہ کی، جو سلطنت کا حقیقی مالک ہے۔ اور (اے پیغمبر) جب قرآن وحی کے ذریعے نازل ہورہا ہو تو اس کے مکمل ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو۔ اور یہ دعا کرتے رہا کرو کہ : میرے پروردگار ! مجھے (قرآنی)علم میں مزید ترقی عطا فرما۔
[سورۃ طٰہٰ:114]
جلد پڑھنے کا سبب بھول جانے کا اندیشہ تھا، لہٰذا یہ دعا علم کو یاد ومحفوظ رکھنے کی بھی فضیلت رکھتی ہے۔


حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”‏‏‏‏قیامت کے قریب ہونے کی علامت یہ ہے کہ بدترین لوگوں کو اعلیٰ مناصب دیئے جائیں گے، شریف لوگوں کو ذلیل سمجھا جائے گا، لوگ بڑی بڑی باتیں (‏‏‏‏یعنی بھڑکیں) ماریں گے، عمل محدود ہو جائے گا اور لوگوں میں «‌الْمُثَنَّاةُ» ‏‏‏‏ عام ہو گی، کوئی بھی اس کا انکار نہیں کر سکے گا۔“ کہا گیا کہ «‌الْمُثَنَّاةُ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”‏‏‏‏جو چیز کتاب اللہ کے علاوہ لکھی جائے۔
[المستدرك على الصحيحين للحاكم:8660+8661؛ سلسلة الأحاديث الصحيحة:2821]




دنیاوی علم-سائنسی تجربات پر عمل کی اجازت:
حضرت انسؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں پر گزرے جو گابہہ کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر نہ کرو تو بہتر ہوگا۔“ (انہوں نے نہ کیا) آخر کھجور خراب نکلی آپ ﷺ ادھر سے گزرے اور لوگوں سے پوچھا، تمہارے درختوں کو کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے ایسا فرمایا تھا (کہ گابہہ نہ کرو ہم نے نہ کیا اس وجہ سے خراب کھجور نکلی) آپ ﷺ نے فرمایا:
تم اپنے دنیا کے کاموں کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔
[صحيح مسلم:2363(6128)]
تم زیادہ جانتے ہو کہ اس دنیا میں تمہارے لیے کیا صحیح ہے۔ اور میں نے تم سے وہ کہا جو میں نے سوچا، لہٰذا جو میں تم سے کہوں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا تو میں اللہ پر جھوٹ نہیں بولوں گا۔
[مسند البزار:937]
تم اپنے دنیاوی معاملات کی بہتری کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو اور تمہاری آخرت کا معاملہ میری طرف ہے۔“
[مسند البزار:937]
لہٰذا اگر میں تمہیں تمہارے دین میں سے کسی کام کا حکم دوں تو اسے لے لو۔
[مصابيح السنة-البغوي:108]





حضرت ابوھریرۃؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جب انسان(یعنی اللہ اور آخرت کو بھلانے والا) مرجاتا ہے تو اس کا عمل بھی کٹ جاتا ہے
[صحیح مسلم:1631]
اور مومن(یعنی اللہ اور آخرت کو ماننے والے) کو اس کے اعمال اور احسانوں میں اسکی موت کے بعد بھی جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے
[سنن ابن ماجہ:242]
جبکہ وہ اپنی قبر میں ہوتا ہے
[الجامع الکبیر:13054]
(ان اعمال میں سے ایک)
وہ علم ہے جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے۔
[صحیح مسلم:1631]
جسے اس نے سکھایا یا پھیلایا۔
[ابن ماجہ:242]
۔۔۔جس پر عمل کیا جاتا رہے۔
[ابن ماجہ:241، طبرانی:6181، الصحیحہ:398]

لہٰذا اس علم سے معلومات مراد نہیں۔





حضرت انس بن مالکؓ نے فرمایا:

«‌تَعَلَّمُوا ‌مَا ‌شِئْتُمْ أَنْ ‌تَعْلَمُوا مِنَ الْعِلْمِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَأْجُرُكُمْ عَلَى الْعِلْمِ حَتَّى تَعْمَلُوا بِهِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هِمَّتُهُمُ الرِّعَايَةُ، وَإِنَّ السُّفَهَاءَ هِمَّتُهُمُ الرِّوَايَةُ»
ترجمہ:
تم علم تو جو چاہے سیکھ لو لیکن اللہ تعالی تمہیں علم پر اجر تب دیں گے جب تم اس پر عمل کرو گے، عُلَماء کا اصل مقصد تو علم کی حفاظت کرنا ہے(کہ اسے یاد رکھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے)اور نادان لوگوں کا مقصد تو خالی آگے بیان کردینا ہے۔
[حديث أبي القاسم الحلبي:49، جامع بيان العلم وفضله:1230]

(حیاۃ الصحابۃ:3/ 258)







الله پاک کی کسی قوم سے رضامندی اور ناراضگی کی علامات:

حضرت حسن البصریؒ روایت کرتے ہیں، رسول الله ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى بِقَوْمٍ خَيْرًا جَعَلَ أَمْرَهُمْ إِلَى حُلَمَائِهِمْ، وَفَيْأَهُمْ عِنْدَ ‌سُمَحَائِهِمْ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ شَرًّا جَعَلَ أَمْرَهُمْ إِلَى سُفَهَائِهِمْ، وَفَيْأَهُمْ عِنْدَ بُخَلَائِهِمْ»

ترجمہ:

جب الله تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ خیر(وبھلائی)کا ارادہ فرماتا ہے تو (1)اس کے(اجتماعی/حکومتی) معاملات بردبار عقلمندوں کے حوالے کرتا ہے اور(2)مال ان کے سخیوں کو دیتا ہے۔

اور

جب الله کسی قوم سے برائی ارادہ فرماتا ہے تو(1)ان کے معاملات بےوقوف حکمرانوں کے حوالے کرتا ہے اور(2)مال ان کے بخیل(کنجوس)لوگوں کو دیتا ہے۔

[کتاب العقوبات(امام)ابن ابی الدنیا(م281ھ) : حدیث#31، کتاب الحلم(امام)ابن ابی الدنیا:75]

[الآثار لأبي يوسف: ص214، أنساب الأشراف للبلاذري:303، الفرج بعد الشدة للتنوخي:1/ 399، الداء والدواء-ابن القيم: ص48]




وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِالنَّاسِ صَلاحًا عَمَّلَ عَلَيْهِمْ صُلَحَاؤُهُمْ، وَقَضَى بَيْنَهُمْ فُقَهَاؤُهُمْ، وَجَعَلَ الْمَالَ فِي ‌سُمَحَائِهِمْ، وَإِذَا أَرَادَ بِالْعِبَادِ شَرًّا عَمَّلَ عَلَيْهِمْ سُفَهَاؤُهُمْ، وَقَضَى بَيْنَهُمْ جُهَلاؤُهُمْ، وَجَعَلَ الْمَالَ عِنْدَ بُخَلائِهِمْ

ترجمہ:

اور جب اللہ چاہے گا لوگوں کی اصلاح تو ان پر عامل(حاکم Ruler) بنادے گا ان کے نیکوکاروں کو، اور فَیصل(Judge) بنائے گا ان کے فقہاء کو، اور مال دے گا ان کے سخیوں کو۔ اور جب اللہ چاہے گا بندوں سے برائی تو ان پر ان کے بےوقوفوں کو عامل(حاکم Ruler) بنادے گا، اور فَیصل(Judge) بنائے گا ان کے جہلاء کو، اور مال دے گا ان کے کنجوسوں کو۔

[عيون الأخبار-الدينوري:، 1/ 119، أنساب الأشراف للبلاذري:303، حلم معاوية لابن أبي الدنيا:31]

[البيان والتبيين-الجاحظ:1/ 290، تاريخ دمشق لابن عساكر: ج68  ص129، مسند الدیلمی:954(زهر الفردوس:236)، الجامع الصغير وزيادته:‌‌1356]

قرآنی گواہی:

.... یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔ اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کا ٹالنا ممکن نہیں، اور ایسے لوگوں کا خود اس کے سوا کوئی رکھوالا نہیں ہوسکتا۔
[سورۃ 
الرعد:11]الفتح:11



حضرت حیان بن ابی جبلۃؓ (حضرت ابن عمرؓ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ ‌خَيْرًا ‌أَكْثَرَ ‌فُقَهَاءَهُمْ ، وَقَلَّلَ جُهَّالَهُمْ حَتَّى إِذَا تَكَلَّمَ الْعَالِمُ وَجَدَ أَعْوَانًا ، وَإِذَا تَكَلَّمَ الْجَاهِلُ قُهِرَ ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ شَرًّا أَكْثَرَ جُهَّالَهُمْ ، وَقَلَّلَ فُقَهَاءَهُمْ ، حَتَّى إِذَا تَكَلَّمَ الْجَاهِلُ وَجَدَ أَعْوَانًا ، وَإِذَا تَكَلَّمَ الْفَقِيهُ قُهِرَ»
ترجمہ:
جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو ان میں جب (دین کا) فقیہ گفتگو کرتا ہے تو اس کے مدد گار اور ساتھی زیادہ ہوتے ہیں اور جب جاہل بولتا ہے تو مغلوب و مقہور ہوتا ہے اور جب وہ (اللہ تعالیٰ) کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو جاہل زیادہ اور فقہاء و عُلَماء کم ہوجاتے ہیں اور جب جاہل بولتا ہے تو اس ساتھی اور مددگار زیادہ ہوتے ہیں اور جب عالم و فقیہ بولتا ہے تو مغلوب و مقہور ہوتا ہے۔
[الجليس الصالح الكافي-المعافى بن زكريا: ص622، الفقيه والمتفقه-الخطيب البغدادي:1/ 165، الفردوس بمأثور الخطاب-الديلمي:952، جامع الأحاديث-السيوطي:1277]

امام شافعیؒ (م150ھ) نے فرمایا:
جاہل کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ وہ عالم ہے اس لئے وہ کسی کی بات نہیں سنتا۔

عُلَماء اہلِ حق کی پہچان:

حضرت انسؓ بن مالک کی ایک روایت سےِ یہ حدیث نبوی منقول ہے:
«الْعُلَمَاءُ ‌أُمَنَاءُ ‌الرُّسُلِ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ، مَا لَمْ يُخَالِطُوا السُّلْطَانَ، وَيَدْخُلُوا فِي الدُّنْيَا، فَإِذَا دَخَلُوا فِي الدُّنْيَا، فَقَدْ خَانُوا الرُّسُلَ فَاعْتَزِلُوهُمْ، وَاحْذَرُوهُمْ».
ترجمہ:
عُلَماء الله کے بندوں کے درمیان رسولوں کے (علمی ورثے کے) امین ہوتے ہیں، جب تک کہ وہ حکمران کے ساتھ نہ گھِلیں مِلیں(یعنی پیچھے پیچھے چلنے نہ لگیں)۔ پس اگر وہ حکمران کے ساتھ گِھل ملیں، تو بلاشبہ انہوں نے رسولوں(کی علمی امانت)سے خیانت کی، تو تم ان(خائنوں) سے خبردار رہنا اور ان سے علیحدہ ہوجانا‘‘۔
[تنبيه الغافلين:675+835، الجامع الصغير» حدیث#5683]
تشریح:
امین یعنی امانت سونپنے کے قابل محافظ ہوتے ہیں (کیوں)کہ انہیں شرعی قوانین سپرد کئے گئے ہیں اور ان سے مخلوق کو علم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا، لہذا وہ  قابل اعتماد ہیں۔
بشرطیکہ خائن نہ ہوں، جو حاکم کی خواہشات کے مطابق حاکم کے قریب آتے ہیں، چاہے اس سے لوگوں کو نقصان ہی کیوں نہ ہو۔
[التيسير بشرح الجامع الصغير-المناوي:2 /155]
یہ دین اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کافروں اور جاہلوں سے زیادہ نقصاندہ ہیں۔
[التيسير بشرح الجامع الصغير-المناوي:2 /181][بِإِسْنَاد ‌حسن]
کیونکہ وہ خائن برے کاموں اور حکمران کی خواہشات کے مطابق حکمران کا دل جیت کر اس کے قریب آتے ہیں۔
اور اگر وہ اُسے (حق) بتاتے ہیں کہ اُس کی نجات کس میں ہے، تو وہ اُنہیں بوجھل کر کے بھگا دے گا۔
چنانچہ سلطان سے تعلقات وروابط سے منافقت، (دین میں) ڈھیلاپن، تعریف میں مشغولی اور خوشامد سے محفوظ نہیں ہیں۔
[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:5683 (7/ 392)]



اسی طرح حضرت علیؓ سے بھی ایک روایت میں ہے:
الْفُقَهَاءُ ‌أُمَنَاء ‌الرُّسُل مَا لَمْ يَدْخُلُوا فِي الدُّنْيَا وَيَتَّبِعِوا السُّلطَانَ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَاحْذَروهُمْ
ترجمہ:
فقہاء (یعنی دین کی گہری سمجھ رکھنے والے عُلَماء) الله کے بندوں کے درمیان رسولوں کے (علمی ورثے کے) امین(محافظ)ہوتے ہیں، جب تک کہ وہ دنیا میں داخل نہ ہوں اور(وہ اس طرح کہ) حکمرانوں کی پیروی کریں، پس جب وہ ایسا کریں تو ان سے بچنا۔
[الجامع الصغير:5971]
تشریح:
یعنی وہ عُلَماء اقرار کرتے اور تاکید کرتے اور حکم وفیصلہ دیتے ہیں اس کے مطابق جو نبی محمد ﷺ لے کر آئے ہیں، کسی نئے (شخص کے) قانون کے ساتھ نہیں کرتے۔
[فيض القدير-المناوي:1 /9]
شریعت کو تحریف کرنے والوں اور جاہلوں کی تاویل سے حفاظت کے لیے لہٰذا ان (امانتدار عُلَماء) کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
[السراج المنير شرح الجامع الصغير-العزيزي:3 /349، (3/ 394)بإسناد ‌حسن]
(رسولوں کے وفادار ہیں) اس لیے کہ جو کچھ رسول بندوں کے لیے لے کر آئے وہ اٹھاتے-یاد ومحفوظ رکھتے تھے۔
(جب تک وہ دنیا میں داخل نہ ہوں) اس میں مشغول ہو کر(علمی ذمہ داری سے غافل نہ ہوں)۔
[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:5971(7/ 567)]
رسول اللہ ﷺ کے امین کون؟
(اے پیغمبر) کہہ دو کہ : یہ میرا راستہ ہے، میں بھی پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاتا ہوں، اور جنہوں نے میری پیروی کی ہے وہ بھی۔۔۔۔
[تفسير الرازي،سورۃ آل عمران:108]




ناقل(Narrator)بھی خلفاء ہوتے ہیں۔
حضرت علیؓ سے فرمانِ نبوی ﷺ نقل کیا گیا ہے:
یا الله! میرے خلفاء پر رحم فرما جو میرے بعد(غیر حاضری میں)آئیں گے اور میری احادیث(باتیں) اور میری سنت(طریقے) روایت کریں گے اور تعلیم دیں گے لوگوں کو.
[ألمعجم الأوسط للطبرانی:6/77،حدیث#5846]
مجمع الزوائد:522(الھیثمی:1/126)
الدیلمی:1/479، 1960
میزان:1/270 ،508
لسان:1/241 ،756








عُلَماء کے حقوق پہچاننا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

عَنْ  عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا ، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ "۔


ترجمہ :
حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: ((وہ شخص میری امت میں سے نہیں ہے جو ہمارے بڑوں کی عزت چھوٹوں پر شفقت اور ہمارے (مسلم) عالم کا حق(مقام) نہ پہچانے))۔


























تشریح :
عُلَماء کا حق یہ ہے کہ دین و آخرت کے سلسلہ میں ان کی جانب رجوع کیا جاۓ. اگر وہ دین و علم کی خدمت اور اشاعت کریں تو دینی معاملہ میں ان کی مدد و نصرت کی جاۓ تاکہ وہ دین کی خدمت کرکے دین کو باقی رکھ سکیں اور آنے والی نسلوں میں اس کا سلسلہ جاری رہ سکے. دین کی خدمت اور اس کی ہمہ تن مشغولی سے اگر وہ دنیا نہ کما سکیں تو ان کی دنیوی ضرورتوں کا خیال رکھیں. ان کی توقیر و تعظیم کی جاۓ، دینی امور میں ان کی اطاعت کی جاۓ. معمولی معمولی باتوں پر ان سے بدگمانی نہ کی جاۓ، ان پر طعن و ملامت نہ کی جاۓ. ایسا کرنے کی صورت میں عوام کا دین جاتا رہےگا، آخر وہ دین کس سے حاصل کریں گے. اس لئے حتى المقدور ان سے حسنِ ظن اور بہتر تعلق رکھا جاۓ اور قابلِ اعتراض معاملہ پر دل میں کچھ پیدا ہو تو توجیہ کرتے ہوے ان کا معاملہ  اللہ کے حوالے کردیا جاۓ. یہ عجیب طرزِ عمل ہے کہ امام کو چپڑاسی کی حیثیت بھی نہیں دیتے اور توقع اس سے قائدانہ کردار کی رکھتے ہیں۔

عقیدہ:
امام طحاویؒ (م321ھ) فرماتے ہیں:
وَعُلَمَاءُ السَّلَفِ مِنَ السَّابِقِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْأَثَرِ وَأَهْلِ الْفِقْهِ وَالنَّظَرِ ‌لَا ‌يُذْكَرُونَ ‌إِلَّا بِالْجَمِيلِ وَمَنْ ذَكَرَهُمْ بِسُوءٍ فهو على غير السبيل۔
ترجمہ:
سابقین(یعنی صحابہ)میں سے عُلَماءِ سلف اور ان کے بعد تابعین اہلِ خیر اور علم وفقہ والے (ائمہ کرام) ہیں، ان کا صرف ذکرِ جمیل کیا جائے، اور جو ان کا ذکر برے طریقہ سے کرتا ہے وہ راہِ راست سے بھٹکا ہوا ہے۔
[متن العقیدۃ الطحاوية ت الألباني:97، شرح العقيدة الطحاوية للبراك:ص382، شرح العقيدة الطحاوية بتحقیق الارناؤوط:740]
[الاعتقاد الخالص من الشك والانتقاد-ابن العطار (م٧٢٤ھ): ص397]
[الأساليب البديعة في فضل الصحابة وإقناع الشيعة-يوسف النبهاني (م١٣٥٠ھ): ص16]

یہ حرکت کبیرہ گناہ ہے۔
[الزواجر عن اقتراف الكبائر-ابن حجر الهيتمي(م974ھ): ج2/ ص382 -الناشر: دار الفكر]
بلکہ کثیرہ، اعلانیہ اور جاریہ بھی ہوجاتا ہے۔





عُلَماء کے حقوق کے دو درجات ہیں: (۱) عُلَماء کے خاص حقوق (٢) عام مسلمانوں والے حقوق۔

(1) عُلَماء کے خاص حقوق:
عُلَماء ظاہر وباطن میں سرورِعالم  کے وارث اور مسند نشین ہیں، اس لیے ان حضرات کے حقوق بھی حضور  کے حق میں داخل ہیں اور وہ یہ ہیں:
(۱)فقہاء مجتہدین، علمائے محدثین، اساتذہ، مشائخِ طریقت اور مصنفین دینیات کے لیے دعائے خیر کرتا رہے۔
حضرت ابودرداءؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی حصولِ علم کی غرض سے راستہ طے کرے، اللہ تعالیٰ اس کے سبب اسے جنت کی ایک راہ چلاتا ہے۔ فرشتے طالبِ علم کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھادیتے ہیں اور یقینا عالم کے لیے آسمان اور زمین کی تمام چیزیں مغفرت طلب کرتی ہیں، یہاں تک کہ وہ مچھلیاں بھی جو پانی میں ہیں۔ عابد پر عالم کو ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی چاند کو تمام تاروں پر۔ بلاشبہ عُلَماء ہی پیغمبروں کے وارث ہیں۔ پیغمبروں نے ترکہ میں نہ دینار چھوڑا ہے اور نہ درہم۔ انہوں نے تو صرف علم کو اپنے ترکہ میں چھوڑا۔ پس جس کسی نے علم حاصل کیا اس نے ہی حصہ کامل پایا۔
[ترمذی، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، حدیث نمبر:۔2682]
اے ہمارے پروردگار ! ہماری بھی مغفرت فرمایئے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار ! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔ 
[سورۃ الحشر:١٠]
(۲)شرعی ضابطہ کے مطابق ان کا اتباع کرے۔
اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ اولی الامر(یعنی حکم والے) ہوں ان کی بھی۔۔۔[سورة النساء:۵۹]
۔۔۔اور ایسے شخص کا راستہ اپناؤ جس نے مجھ (یعنی اللہ) سے لُو لگا رکھی ہو۔۔۔۔  [سورۃ لقمان:١٥]
(۳)جو اِن میں زندہ ہوں ان سے تعظیم ومحبت سے پیش آئے، ان سے بغض، مخالفت نہ کرے۔
(۴)وسعت وضرورت کے بقدر ان حضرات کی جانی ومالی خدمات بھی کرتا رہے۔
(۳۔۴)"والصحبة مع العلماء بملازمة حرماتهم، وقبول قولهم، والرجوع إليهم في المهمات والنوازل، وتعظيم ما عظم الله من محلهم حيث جعلهم خلفا لنبيه  وورثته"
[آداب الصحبۃ، الصحبۃ مع الاخوان: ۱/۱۷۸]






حضرت علیؓ نے فرمایا :
«‌من ‌حق ‌العالم ألا تكثر عليه السؤال ولا تُعنته في الجواب ولا تلح عليه إذا كسل ولا تأخذ بثوبه إذا نهض ولا تشير إليه بيدك ولا تعيب عنده أحدا ولا تفشي له سرا ولا تطلب عثرته فإن زل تأنيت أوبته وقبلت معذرته وأن توقره وتعظمه لله عز وجل ما حفظ أمر الله تعالى وأجلس أمامه وإن كانت له حاجة سبقت القوم إلى خدمته ولا تعرض من طول صحبته فإنما هو بمنزلة النخلة تنتظر متى يسقط عليك منها منفعة وإذا جئت فسلم على القوم وخصه بالتحية واحفظه شاهدا أوغائبا وليكن ذلك كله لله عز وجل فإن العالم أعظم أجرا من الصائم القائم والمجاهد في سبيل الله تعالى وإذا مات العالم انثلم في الإسلام ثلمة إلى يوم القيامة لا يسدها إلا خلف مثله وطالب العلم يشيعه ملائكة مقري السماء۔»
ترجمہ:
عالم کے حقوق میں سے ہے کہ
(1) تم اس سے زیادہ سوال نہ کرو
(2)اسے جواب دینے کیلئے مشقت میں نہ ڈالو
(3) اگر وہ جواب نہ دینا چاہے تو اسے مجبور نہ کرو
(4) اگر تھک جائے تو اس کا دامن نہ پکڑو(تکلیف میں نہ ڈالو)
(5) اس کی طرف ہاتھوں اور آنکھوں سے اشارے نہ کرو
(6) اس کی مجلس میں(عاجز کیلئے)اس سے سوال نہ کرو
(7) ان کی کوتاہیاں نہ تلاش کرو
(8) اگر کبھی اس سے لغزش ہوجائے تو اس کے لوٹنے کو قبول کرو
(9) یہ نہ کہو کہ فلاں آدمی تمہارے خلاف کہتا ہے
(10)اس کا راز فاش نہ کرو
(11) اس کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرو
(12) اس کی موجودگی اور غیرموجودگی میں اس کی عزت وآبرو کی حفاظت کرو
(13) جب کسی عالم کی مجلس میں جاؤ تو پہلے سب کو اور پھر خصوصیت سے اس کو سلام کرو
(14) عالم کے"سامنے"بیٹھنے کی کوشش کرو
(15) اگر عالم کسی کام اور خدمت کی ضرورت ہو تو سب سے پہلے بڑھ کر اس کی خدمت ادا کرے۔
(16) عالم کے پاس اتنا زیادہ دیر نہ بیٹھو کہ وہ اکتا جائے
(17) اسی طرح اس کی صحبت میں زیادہ بیٹھنے سے نہ اکتاؤ۔
(18) عالم کی مثال کھجور کے درخت جیسی ہے کہ جس سے کبھی پکی کھجوریں گرتی ہیں لہٰذا تم بھی اس انتظار میں رہو کہ اس سے علمی فوائد حاصل کرتے رہو۔
(19) عالم کی مثال اس مجاہد فی سبیل اللہ جیسی(سمجھنی)ہے جو روزہ دار ہو۔
(20) جب عالم فوت ہوتا ہے تو اس کی موت سے اسلام میں ایسا رخنہ واقع ہوتا ہے جو قیامت تک پورا نہیں ہوتا
(21) اور طالبِ علم جب علم حاصل کرنے کیلئے نکلتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کی مشائیت کے ساتھ چلتے ہیں۔
[من حديث أبي بكر أحمد بن علي بن لال عن شيوخه:29، الإلماع إلى معرفة أصول الرواية-القاضي عياض: ص48، الجوهرة في نسب النبي وأصحابه العشرة-محمد البري:2/248، كنز العمال:29520-
جامع العلم والبیان:841+992، الجامع الأخلاق الراوی-الخطيب البغدادي:347، ، جامع الأحادیث:34832]

علامہ نوویؒ فرماتے ہیں:
طالبِ علم کو چاہئے کہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ کی مذکورہ بالا نصائح پر عمل کرے ، اگر طالبِ علم کے سامنے استاذ کی کوئی غیبت کرے ، تو جہاں تک ہوسکے مدافعت کی کوشش کرے ، اگر مدافعت ممکن نہ ہو، تو اس مجلس سے چلاجائے۔
[حاملین قرآن: ۴۰ تا ۴۲ ترجمہ التبیان فی آداب حملۃ القرآن للنوویؒ]


(2)عام مسلمانوں والے حقوق:
علامہ اصبہانی رحمہ اللہ نے "ترغیب وترہیب" میں بروایت حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ حقوق نقل کئے ہیں:
(۱)مسلمان بھائی کی لغزش کو معاف کرے (۲)اس کے رونے پر رحم کرے (۳)اس کے عیب کو ڈھانکے (۴)اس کے عذر کو قبول کرے (۵)اس کے تکلیف کو دور کرے (۶)ہمیشہ اس کی خیرخواہی کرتا رہے (۷)اس کی حفاظت ومحبت کرے (۸)اس کے ذمہ کی رعایت کرے (۹)بیمار ہو تو عیادت کرے (۱۰)مرجائے تو جنازے میں حاضر ہو (۱۱)اس کی دعوت قبول کرے (۱۲)اس کا ہدیہ قبول کرے (۱۳)اس کے احسان کی مکافات کرے (۱۴)اس کی نعمت کا شکریہ ادا کرے (۱۵)وقت پڑنے پر اس کی مدد کرے (۱۶)اس کے اہل وعیال کی حفاظت کرے (۱۷)اس کی حاجت پوری کرے (۱۸)اس کی درخواست کو سنے (۱۹)اس کی سفارش قبول کرے (۲۰)اس کی مراد سے ناامید نہ کرے (۲۱)وہ چھینک کر الحمد للہ کہے تو جواب میں "یَرْحَمُک اللہ" کہے (۲۲)اس کی گمشدہ چیز کو اس کے پاس پہنچا دے (۲۳)اس کے سلام کا جواب دے (۲۴)نرمی وخوش خلقی کے ساتھ اس سے گفتگو کرے (۲۵)اس کے ساتھ احسان کرے (۲۶)اگر وہ اس کے بھروسہ پر قسم کھا بیٹھے تو اس کو پورا کردے (۲۷)اگر اس پر کوئی ظلم کرتا ہو تو اس کی مدد کرے اگر وہ کسی پر کوئی ظلم کرتا ہے تو روک دے (۲۸)اس کے ساتھ محبت کرے، دشمنی نہ کرے (۲۹)اس کو رسوا نہ کرے (۳۰)جو بات اپنے لیے پسند کرے اس کے لیے بھی پسند کرے۔              

[الترغیب والترھیب، للأصبھانی، باب فی الترغیب فی قضاء حوائج المسلم، حدیث نمبر:۱۱۶۸]


"یہ تیس حقوق مختلف احادیث میں الگ الگ موجود ہیں"۔
دوسری احادیث میں یہ حقوق زیادہ ہیں:
(۳۱)ملاقات کے وقت اس کو سلام کرے اور مصافحہ بھی کرے۱؎ (۳۲)اگر باہم اتفاقاً کچھ رنجش ہوجائے تو تین دن سے زیادہ ترک کلام نہ کرے۲؎ (۳۳)اس پر بدگمانی نہ کرے۳؎ (۳۴)اس پر حسد وبغض نہ کرے۴؎(۳۵)امر بالمعروف و نہی عن المنکر یعنی نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا ممکنہ حد تک کرے۵؎ (۳۶)چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کی عزت کرے۶؎ (۳۷)دو مسلمانوں میں جھگڑا ہوجائے تو ان کو باہم ملاکر اصلاح کرادے۷؎ (۳۸)اس کی غیبت نہ کرے۸؎ (۳۹)اس کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچائے، نہ مال میں نہ آبرو میں۹؎ (۴۰)اگر سواری پر سوار نہ ہوسکے یا اس پر اسباب نہ لادسکے تو اس کو سہارا لگادے۱۰؎ (۴۱)اس کو اٹھاکر اس کی جگہ نہ بیٹھے۱۱؎(۴۲)تیسرے کو تنہا چھوڑ کر دو آدمی باتیں نہ کریں۱۲؎ (۴۳)اس کے راستہ میں کوئی نقصان دہ چیز ہو تو ہٹادے۱۳؎ (۴۴)اس کی چغلی نہ کرے۱۴؎ (۴۵)اگر اپنی کسی کے پاس کچھ حیثیت ہو اور کوئی اس کے پاس سفارشی چاہتا ہو تو سفارش کرے۱۵؎۔

نوٹ:یاد رکھیے! کہ جن لوگوں کے حقوق اوپر ذکر کئے گئے ہیں وہ خاص حقوق ہیں اور ان عام لوگوں کے حقوق میں وہ سب بھی شریک ہونگے۔حوالہ
(۱)"عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَاهُ غُفِرَ لَهُمَا" ابوداؤد، باب فی المصافحۃ، حدیث نمبر:۴۵۳۵۔ (۲۔۳۔۴)"عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ"بخاری، باب الھجرۃ، حدیث نمبر:۵۶۱۲۔ (۵)"خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ" الاعراف:۱۹۹۔ (۶)"عن بن عباس رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال ليس منا من لم يوقر الكبير ويرحم الصغير ويأمر بالمعروف وينه عن المنكر" صحیح ابن حبان، باب ذکر الزجر عن ترک توقیرالکبیر، حدیث نمبر:۴۵۸۔ (۷)"عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا" ترمذی، باب ماجاء فی اصلاح ذات البین،حدیث نمبر:۱۸۶۱۔ (۸)"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" مسلم، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ ودمہ، حدیث نمبر:۴۶۵۰۔ (۹)"عن القاسم، مولى عبد الرحمن أن النبي أوصى رجلا غزا قال: ولاتقطع شجرة مثمرة، ولاتقتل بهيمة ليست لك بها حاجة، واتق أذى المؤمنين" مراسیل ابی داؤد، باب ولاتقطع شجرۃ مثمرۃ، حدیث نمبر:۲۹۴۔ (۱۰)"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" مسلم، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن، حدیث نمبر:۴۸۶۷۔ (۱۱)"عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ" مسلم، باب تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ المباح، حدیث نمبر:۴۰۴۴۔ (۱۲)"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ" بخاری، باب لایتناجی اثنان دون الثالث، حدیث نمبر:۵۸۱۴۔ (۱۳)"عَنْ أَبُو بَرْزَة قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ اعْزِلْ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ" مسلم، باب فضل ازالۃ الأذی عن الطریق، حدیث نمبر:۴۷۴۷۔ (۱۴)"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" مسلم، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ ودمہ، حدیث نمبر:۴۶۵۰۔ (۱۵)"عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ أَوْ طُلِبَتْ إِلَيْهِ حَاجَةٌ قَالَ اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ" بخاری، باب التحریض علی الصدقۃ والشفاعت، حدیث نمبر:۱۳۴۲۔ 




اگر عُلَماء (ومدارس) نہ ہوتے تو ہم۔۔۔
ہمیشہ نیکی وبرائی سے جاہل،حقوق وادب سے غافل،بےحیاء_بدنیت_بدگمان_بےایمان__جھوٹے_ناقدرے_ناشکرے_بےصبرے_بےہدایتے_بےخوف_پتھردل_ظالم_قاتل_زانی_چور_ڈاکو_جانور سے بدتر_بدتمیز_بدتہذیب_پلیت_بداخلاق رہتے۔سچائی_رحم_تعاون_نرمی_برابری_عدل_ایثار_قربانی کی نبوی نصیحتیں بھلادیتے۔ دین_مسجد_قرآن سے دور_اصل اور دائمی نفع ونقصان سے لاپرواہ_مایوس_ناامید_بغیرتوبہ، بغیرنمازِجنازہ وغسل کے پلیت مرتے۔


حضرت حسن بصریؓ(م۱۱۰ھ)نے فرمایا:
(۱) اہلِ علم زمانہ کے چراغ ہیں ، اور ہر عالم اپنے زمانہ کی روشنی ہے کہ اس کے علم سے اسکے اقران روشنی حاصل کرتے ہیں ؛اگر عالم نہ ہوتے تو لوگ کوڑے کرکٹ کی طرح ہوتے۔

(۲) ابدال نہ ہوتے تو زمین دھنسادی جاتی ، صالحین نہ ہوتے تو برے لوگ ہلاک ہوجاتے ، عُلَماء نہ ہوتے تو عوام الناس جانور ہوتے ، حکمراں  نہ ہوتے تو لوگ ایک دوسرے کو ہلاک کردیتے ،  بے وقوف نہ ہوتے تو دنیا خراب ہو جاتی ،اس لئے کہ عقل کی قدر سمجھ میں نہ آتی ، اور ہوا نہ ہوتی تو  سب چیزیں سڑ جاتیں۔

(۳) عُلَماء پر اس وقت تک اللہ کی رحمت رہی جب تک انہوں نے امراء کی طرف میلان نہیں کیا (یعنی ان کے خلافِ شریعت باتوں میں ان کے ساتھی نہیں بنے) ، اور جب وہ  امراء کی طرف مائل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور ان پر ایسے ظالموں کو مسلط کردیا جنہوں نے ان کو سخت تکلیفیں دیں اور ان کے دلوں میں رعب بھر دیا ۔



حصولِ علم کے آداب:
ادب کی تعریف ائمہ نے یُوں کی ہے:
”مَا يُحْمَدُ قَوْلًا وَفِعْلًا”
ادب اس قول اور فعل کو کہتے ہیں جس پر تعریف کی جائے۔

امام سیوطیؒ فرماتے ہیں:
“‌الْأَخْذُ ‌بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ”
ادب عمدہ اخلاق کو اپنانے کا نام ہے۔
[فتح الباري لابن حجر(م852ھ): 10/ 400، عمدة القاري:22/ 81، شرح القسطلاني:9/ 2]

امام ابن جوزی رحمہ اللہ (م597ھ) کہتے ہیں:
"یہ بات جان لو کہ ادب کی مثال بیج جیسی ہے اور ادب سیکھنے والی کی مثال زمین جیسی ہے، اگر زمین خراب ہو گی تو بیج ضائع ہو جائے گا اور اگر زمین اچھی ہوئی تو بیج تن آور بن جائے گا"۔
[الآداب الشرعية لابن مفلح:3/580]

حضرت عمرو بن سعید بن عاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسن ادب سے بہتر کسی باپ نے اپنے بیٹے کو تحفہ نہیں دیا۔
[سنن الترمذي:1952، التاريخ الكبير للبخاري:‌‌1356، مسند أحمد:15403، المستدرك على الصحيحين للحاكم:7679]

حصولِ علم کے لئے ادب اور تعظیم بہت ضروری ہے، کیونکہ ترک فعل اتنا خطرناک نہیں جتنا ترکِ ادب اور ترکِ تعظیم ہوتا ہے، اسی وجہ سے اگر کوئی آدمی دین کے کسی حکم پر عمل نہیں کرتا ہے مثلا نماز چھوڑتا ہے تو وہ گنہگار ہوتا ہے، لیکن ایمان سے خارج نہیں ہوتا ، لیکن اگر وہی شخص دین کے اسی حکم کی اِہانت(توہین) کرے اور اس کی بے حرمتی کرے تو وہ ایمان  سے خارج ہوجاتا ہے، اس لئے کسی بھی شیئ کے حصول کے لئے اس کا ادب و احترام اور اس کی تعظیم بہت ضروری ہوتی  ہے۔ اسی تناظر میں فرمایا گیا :

“مَا ‌وَصَلَ ‌مَنْ ‌وَصَلَ إلَّا بِمُرَاعَاةِ الْحُرْمَةِ وَمَا سَقَطَ مَنْ سَقَطَ إلَّا بِتَرْكِ الْحُرْمَةِ“

ذیل میں علم کے حصول سے متعلق چند حقوق اور آداب ذکر کئے جا رہے ہیں ، جن کا لحاظ کرنا علم نافع کو حاصل کرنے اور طالب علم کو کامیاب بنانے کے لئے از حد ضروری ہے، چنانچہ آدابِ علم سے متعلق حضرت عبد اللہ ابن مبارکؒ خلاصہ فرماتے ہیں :
«أَوَّلُ الْعِلْمِ النِّيَّةُ ثُمَّ الِاسْتِمَاعُ ثُمَّ الْفَهْمُ ثُمَّ الْحِفْظُ ثُمَّ الْعَمَلُ ‌ثُمَّ ‌النَّشْرُ»
ترجمہ:
سب سے پہلے علم کی نیت(درست کرنا)ہے، پھر(خاموشی سے) سننا، پھر سمجھنا، پھر یاد رکھنا، پھر عمل کرنا، پھر پھیلانا ہے۔
[أخبار أبي حنيفة وأصحابه-الصيمريؒ(م436ھ): ص141، شعب الإيمان-البيهقي(م458ھ):حدیث#1658، جامع بيان العلم وفضله-ابن عبد البرؒ(م463ھ):حدیث#758]

نبی ﷺ نے فرمایا:
میں تو بس معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔
[سنن ابن ماجه:229]
اور اللہ پاک نے فرمایا:
(یہ انعام ایسا ہی ہے) جیسے ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہارے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاکیزہ بناتا ہے، اور تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔۔۔
[سورۃ البقرۃ:151، (سورۃ آل عمران:164، سورۃ الجمعۃ:2)]
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے بغیر قرآن کریم کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ممکن نہیں ہے، اور یہ کہ صرف ترجمہ پڑھ لینے سے قرآن کریم کی صحیح سمجھ حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ اہل عرب عربی زبان سے خوب واقف تھے، انہیں ترجمہ سکھانے کے لئے کسی استاذ کی ضرورت نہیں تھی۔
مثلا:
قرآن پاک میں المغضوب(غضب یافتہ) اور الضال(گمراہ) کون لوگ ہیں متعین نہیں کیا گیا؛ لیکن ان دونوں کا مصداق متعین کرتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
«‌الْمَغْضُوبُ ‌عَلَيْهِمُ: ‌الْيَهُودُ، وَالضَّالُّونَ: النَّصَارَى»۔
ترجمہ:
جن پر غضب نازل ہوا یعنی یہود ، اور جو بھٹکے ہوئے ہیں یعنی نصاری(عیسائی)۔
[تفسير الطبري:193، صحيح ابن حبان:6246]

آیت سے ماخوذ آدابِ علم:
(1)کتاب کو معلم سے سیکھنا۔
(2)کتاب سے پہلے معلم کو سننا۔
(3)حکمت بھی سیکھنا کہ کس وقت یا کس جگہ کیا کہنا یا کرنا ہے اور کیا نہیں۔
(4)کتاب وحکمت سے پہلے معلم سے اپنا تزکیہ کرانا۔
لہٰذا پیغمبر پہلے آیات سنا سمجھا کر ان کا تزکیہ (یعنی دل کو غلط نظریات اور نیت کو پاک) کرتا ہے اور انہیں ایمان کی تعلیم دیتا ہے۔ لہٰذا کتاب سے پہلے استاد کی صحبت (Companionship) ضروری ہے، اور علم میں قرآن سے پہلے ایمان سیکھنا چاہئے۔


حضرت عبداللہ بن عمر، جندب بن عبداللہ البجلی، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور دیگر صحابہ کرام سے روایت ہے کہ:

‌تعلمنا ‌الإيمان ثم تعلمنا القرآن فازددنا به إيماناً، ويأتي أقوامٌ يتعلمون القرآن، ثم يتعلمون الإيمان، يشربونه شرب الماء۔

ترجمہ:

ہم نے ایمان سیکھا، پھر قرآن سیکھا، تو اس سے ہم نے ایمان کو مضبوط کیا، اور لوگ قرآن سیکھنے آئیں گے، پھر ایمان سیکھیں گے، پانی کی طرح اسے پیئیں گے۔

[شرح صحيح البخاري للحويني:٧/١٢، شرح صحيح مسلم - حسن أبو الأشبال:٤١/٢٢]





(1)پہلا ادب یہ ہے کہ نیت کی تصحیحِ  کی جائے:
اسی پر انسان کے سارے اعمال اور ساری عبادات کی قبولیت کا مدار ہے۔ اور اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے   امام بخاری نے صحیح بخاری میں سب سے پہلی روایت انما الاعمال بالنیات  ذکر  کی ہے۔ اس میں ذرا سی غفلت انسان کو شرکِ اکبر یا شرکِ اصغر میں مبتلا کردیتی ہے۔اور اس کاوبال اتنا خطرناک ہے کہ حضرت ابو ہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» يَعْنِي رِيحَهَا
ترجمہ:
جو علم سیکھے اور اس کے ذریعہ اللہ کی رضا مقصود نہ ہو بلکہ دنیوی کوئی غرض پیشِ نظر ہوتو قیامت کے دن وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔
[سنن ابی داؤد:3664، سنن ابن ماجه:252، صحيح ابن حبان:78]

دوسرے یہ کہ اگر نیت کی اصلاح نہ ہو تو توہینِ علم اور توہینِ قرآن و حدیث لازم آئے گی، کیونکہ اس کابدلہ صرف اور صرف’’ رضائے الٰہی ‘‘،دنیوی اغراض اس کے سامنے کوئی معنیٰ نہیں رکھتیں ۔





(2)اساتذہ کی بات اور ان کی تعلیمات کو غور سے سنا جائے:
کیونکہ اگر بات غور سے نہ سنی جائے تو نہ اس کو محفوظ کیا جاسکتا ہے، نہ سمجھا جاسکتا ہے اور نہ اس پر عمل کیا جاسکتا ہے ۔
اسی لئے قرآن پاک میں یہ حکم ہے :
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهٗ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
ترجمہ:
اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگایا کرو اور خاموش رہا کرو ، امید ہے کہ تم پر رحمت ہو۔
[سورۃ الاعراف:204]
اور کیونکہ اساتذہ سے کسی موضوع کو مکمل سمجھے بغیر اپنے ناقص علم کی بناء پر  سوالات فورا شروع کردینا، یا مستقبل میں اس جزوی سوال کا درس آنے تک استاذ کے جواب نہ دینے سے بدگمان ہونا بے ادبی ہے۔
حضرت عُباد الخواص مرفوعا(نبی ﷺ کا فرمان)فرماتے ہیں:
أول العلم: الْإِنْصَاتُ، ثُمَّ الِاسْتِمَاعُ، ثُمَّ الْحِفْظُ، ثم العمل، ‌ثم ‌النشر۔
ترجمہ:
پہلا علم: خاموشی اختیار کرنا ہے، پھر(توجہ سے) سننا، پھر سمجھنا، پھر یاد رکھنا، پھر عمل کرنا، پھر پھیلانا ہے۔
[تاريخ أبي زرعة الدمشقي(م281ھ) : ص311]

حضرت مُحَمَّدَ بْنَ النَّضْرِ الْحَارِثِيَّ فرماتے ہیں:
«أَوَّلُ الْعِلْمِ الصَّمْتُ، ثُمَّ الِاسْتِمَاعُ لَهُ، ثُمَّ الْعَمَلُ بِهِ، ثُمَّ الْحِفْظُ لَهُ، ‌ثُمَّ ‌النَّشْرُ لَهُ»
ترجمہ:
پہلا علم: خاموشی اختیار کرنا ہے، پھر اسے(توجہ سے) سننا(سمجھنا) ہے، پھر اس پر عمل کرنا ہے، پھر اسے یاد رکھنا ہے، پھر اسے پھیلانا ہے۔
[مكارم الأخلاق للخرائطي(م327ھ):732، المنتقى من كتاب مكارم الأخلاق:351، جامع بيان العلم وفضله:759]

خالی الذہن طلباء کو شکوک وشبہات نہ جلد آتے ہیں اور نہ وہ جلد اس کا سوال کرتے ہیں۔ لہٰذا علم سیکھنے سے پہلے اپنے پرانے ناقص علم سے اپنے ذہن کو خالی کرنا چاہیے۔




(3)جو باتیں سیکھی جارہی ہیں ان کو یاد رکھا جائے۔
(4)اور ان کو صحیح سمجھا جائے۔
حضرت عبد اللہ مسعودؓ مرفوعا(نبی ﷺ سے) نقل کرتے ہیں :
نَضَّرَ اللهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا، فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ، فَإِنَّهُ رُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ۔
ترجمہ:
اللہ تعالی اس آدمی کو خوش و خرم رکھے جو مجھ سے حدیث سنے پھر اس کو یاد رکھے ، یہاں تک کہ اس کو دوسروں تک پہنچادے، کیونکہ بہت سے لوگ جو حدیث کو سنتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں وہ فقیہ(گہری سمجھ والا) نہیں ہوتے، اور بہت سے لوگ وہ ہوتے ہیں جو حدیث لینے والوں سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں۔
[مسند الشافعی:1806، مسند احمد: 21590، سنن ابن ماجه:236]

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث سننے کے بعد اس کو محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے، دوسرے یہ کہ جو بات سنی گئی ہے اس کو جوں کا توں آگے پہنچانا بھی ضروری ہے، کیونکہ سننے کا مقصد صحیح سمجھنا بھی ہے، ممکن ہے کہ حدیث سننے والا فقیہ نہ ہو، اور حدیث شریف کے نکات اور مضامین کو نہ سمجھ سکے، اور اس سے مسائل کا استنباط نہ کرسکے، اس لئے فرمایا کہ دوسروں تک اس کو پہنچا دیا جائے ، تاکہ دیگر اہلِ  علم اور اہلِ فقہ اس کو صحیح سمجھ کر اس سے مسائل اور احکام کا استنباط کرسکیں۔

آج امت کے فتنوں میں سے ایک  بہت بڑا فتنہ قرآن و حدیث کو نہ سمجھنا ہے، قرآن و حدیث موجودہ دور کے نوجوانوں کے ذہن و دماغ کا کھلونا بن کر رہ گئے ہیں، من مانی تحریفات امت میں گشت کررہی ہیں، اس طرح کچھ نااہلوں نے دین کے نام پر  جہالت و ضلالت کا ایک وسیع دروازہ کھول دیا ہے۔

اگر بندر کے ہاتھ میں بندوق آجاۓ جتنا خطرناک ہے ویسے ہی نااہل(فاسق) کے ہاتھ علم آجاۓ تو بگاڑ وفساد پھیلتا ہے.




(5)حصولِ علم کے بعد اس پر عمل بھی کیا جائے:
کیونکہ بے عمل عالم کی آخرت میں  سخت  پوچھ ہے، ایک روایت میں ہے، حضرت عبد اللہ مسعودؓ مرفوعا(نبی ﷺ سے) نقل کرتے ہیں :
’’لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ؛» عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ، وَمَالِهِ مِنْ ‌أَيْنَ ‌اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ، وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ۔‘‘
ترجمہ:
قیامت کے دن ابن ِآدم  کے قدم اپنے رب کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتے جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرلیا جائے: (1)اس کی جوانی سے متعلق کہ کہاں اس کو پرانا کیا؟ (2)اس کی عمر سے متعلق کہ کہاں اس کو ختم کیا؟ (3)اس کے مال سے متعلق کہ کہاں سے کمایا اور (4)کہاں اس کو خرچ کیا؟ (5)اور اس کے علم سے متعلق کہ اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟
[سنن الترمذي:2416، المعجم الكبير للطبراني:9772، صحيح الترغيب:128]
 اس سے عمل کی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ جب تک  عالم سے اس کے عمل کے بارے میں سوال نہ کیا جائے وہ آگے جا نہیں سکتا۔



(6)حصولِ علم کے بعد اس کی تبلیغ کی جائے:
انبیاء کرام کی بعثت اسی لئے ہوا کرتی تھی ، اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا :
”بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً“
پہنچاؤ مجھ سے اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔
[صحیح بخاری:3461،  کتاب احادیث الانبیاء]

اسی طرح  حجۃ الوداع کے موقع پر بھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:
“فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ”
لہٰذا (میری باتیں) پہچائے حاضر غائب کو۔
[صحیح بخاری:1739، کتاب الحج]

کیونکہ انسان کے ذمہ محض اس کی ذات کی اصلاح نہیں ہے، بلکہ اوروں فکر بھی  اس کی شرعی ذمہ داری ہے ، عالم نبی کے علم ، عمل ، اخلاق ، صفات اور دینی ذمہ داریوں کا وارث ہوتا ہے، یہ اس کا وراثتی  حق ہے کہ اپنی ان ذمہ داریوں کو سمجھے، اور ان کو بجالانے کی کوشش کرے۔





(5)شریعت کا دفاع کرنا:

عُلَماءِ حق، دین کے ٹھیکیدار نہیں، چوکیدار ضرور ہیں۔


حضرت ابراہیم بن عبد الرحمٰن العذريؒ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:
يَحْمِل هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُل خَلَفٍ عُدُولُهُ يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَانْتِحَال الْمُبْطِلِينَ، وَتَأْوِيل الْجَاهِلِينَ
ترجمہ:
اٹھاتے (یعنی سینوں میں محفوظ رکھتے) رہیں گے اس علم (دین) کو خلف (یعنی سلفِ صالحین کے قابل جانشین جو) عادل (یعنی حق بیان کرنے اور انصاف کرنے میں اپنوں سے رعایت اور دشمنوں پر ظلم نہ کرنے والے) ہوں گے، وہ اس (علم) سے غُلُوّ کرنے (یعنی حد سے بڑھنے) والوں کی تحریفوں (وتبدیلیوں) کو، اور باطل (و جھوٹے) لوگوں کی غلط نسبتوں (یعنی کسی پر یا کسی کے نام جھوٹی بات پھیلانے) کو، اور جاہل (غیر عالم) لوگوں کی (غلط) تاویلات (یعنی اصل مطلب، تفسیر وتشریح  سے ہٹادینے) کو دور کریں گے۔

[البدع لابن وضاح:1+2، مسند البزار:9423، شرح مشكل الآثار:3884، الشريعة للآجري:1/268، مسند الشاميين للطبراني:599، الإبانة الكبرى لابن بطة:33، فوائد تمام:899، السنن الكبرى للبيهقي:20911، مصابيح السنة للبغوي:190]
﴿تفسیر ابن ابی حاتم:1606(8488)خلف﴾
﴿تفسیر البغوی»سورۃ مریم:59(فخلف)﴾
جامع الاحادیث، للسیوطی:26643، حديث إبراهيم بن عبد الرحمن العذرى عن الثقة من أشياخه: أخرجه البيهقى (10/209، رقم 20701) ، وابن عساكر (7/38) ، وعزاه الحافظ فى اللسان (1/77، ترجمة 210 إبراهيم بن عبد الرحمن) لابن عدى ، وأخرجه أيضًا: العقيلى (4/256، ترجمة 1854 معان بن رفاعة السلامى) .
حدیثِ علي: مسند(امام)زيد:599،1/342
حديث أسامة: أخرجه ابن عساكر (7/39) .
حديث أنس: أخرجه ابن عساكر (54/225) .
حديث ابن عمر: أخرجه الديلمى (5/537، رقم 9012) وأخرجه أيضًا: ابن عدى (3/31، ترجمة 593 خالد بن عمرو القرشى) .
حديث أبى أمامة: أخرجه العقيلى (1/9) .
حديث ابن عمرو وأبى هريرة معا: قال الهيثمى (1/140) : رواه البزار، وفيه عمرو بن خالد القرشى كذبه يحيى بن معين، وأحمد بن حنبل، ونسبه إلى الوضع. وأخرجه العقيلى (1/10) .
وللحديث أطراف أخرى منها: "يرث هذا العلم من كل خلف عدوله".]


المحدث : الإمام أحمد | المصدر : تاريخ دمشق: 7/39 - لسان الميزان: 1/312 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
المحدث : ابن حبان [الثقات: 4/10]
المحدث : السفاريني الحنبلي | المصدر : القول العلي: 227 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
المحدث : ابن الوزير اليماني | المصدر : العواصم والقواصم: 1/308 | خلاصة حكم المحدث : صحيح

القرآن:
پھر ان کے بعد ان کی جگہ ایسے جانشین آئے جو کتاب کے وارث بنے۔۔۔
[سورۃ الأعراف:169]
القرآن:
تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ(جانشین) بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔
[سورۃ النور:55]


علماء کی سب سے بڑی ذمہ داری


علماء کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں

https://abulhasanalinadwi.org/book/ulma-ka-maqaam-aur-unki-zimmedariya/



علمِ الٰہی کے محافظ-اللہ والے:
القرآن:
بےشک ہم نے ہی یہ ذکر (نصیحت) اتارا ہے، اور ہم ہی اس کی یقیناً حفاظت کرنے والے ہیں۔
[سورۃ نمبر 15 الحجر، آیت نمبر 9]
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا ہے کہ اگرچہ قرآن کریم سے پہلے بھی آسمانی کتابیں بھیجی گئی تھیں، لیکن چونکہ وہ خاص خاص قوموں اور خاص خاص زمانوں کے لیے آئی تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت تک محفوظ رکھنے کی کوئی ضمانت نہیں دی تھی، بلکہ ان کی حفاظت کا کام انہی لوگوں کو سونپ دیا گیا تھا جو ان کے مخاطب تھے، ﴿جیسا کہ سورة مائدہ:44 میں فرمایا گیا ہے﴾ لیکن قرآن کریم چونکہ آخری آسمانی کتاب ہے جو قیامت تک کے لیے نافذ العمل رہے گی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے، چنانچہ اس میں قیامت تک کوئی رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اس طرح فرمائی ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کے سینوں میں اسے اس طرح محفوظ کردیا ہے کہ اگر بالفرض کوئی دشمن قرآن کریم کے سارے نسخے (معاذ اللہ) ختم کردے تب بھی چھوٹے چھوٹے بچے اسے دوبارہ کسی معمولی تبدیلی کے بغیر لکھوا سکتے ہیں جو بذات خود قرآن کریم کا زندہ معجزہ ہے۔
























































آداب علم میں قصداً یا سہواً کوتاہی ہوجائے تو قلبی ندامت کے ساتھ استغفار کیا جائے۔ یہ علم کے کچھ حقوق اور آداب ہیں، عُلَماء نے لکھا ہے کہ جیسے مال اور بدن کی زکوۃ ہوتی ہے ایسے ہی علم کی  بھی زکوۃ  ہوتی ہے، جیسے مال کی زکاۃ ادا کرنے سے مال پاک ہوتا ہے اور بڑھتا ہے، ایسے ہی علم کی زکوۃ ادا کرنے سے علم میں جلاء پیدا ہوتی ہے، اور وہ صاف ستھرا ہوتا ہے، اس میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔ اور وہ زکوۃ علم پر عمل اور اس کی تبلیغ ہے۔





حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ:
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِالْفَقِيهِ حَقِّ الْفِقْهِ؟ مَنْ لَمْ يُقَنِّطِ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُمْ فِي مَعَاصِي اللَّهِ، وَلَمْ يُؤَمِّنْهُمْ مَكَرَ اللَّهِ، وَلَمْ يَتْرُكِ الْقُرْآنَ إِلَى غَيْرِهِ. أَلَا لَا خَيْرَ فِي عِبَادَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَفَقُّهٌ، وَلَا خَيْرَ فِي فِقْهٍ لَيْسَ فِيهِ تَفَهُّمٌ، وَلَا خَيْرَ فِي قِرَاءَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَدَبُّرٌ.» 
یعنی
کیا میں تمہیں نہ خبر دوں پورے سمجھ والے فقیہ(عالم)کی؟ (یہ وہ ہے) جو لوگوں کو نہ رحمتِ الٰہی سے مایوس کرتا ہے اور نہ اللہ کی نافرمانی کی اجازت دیتا ہے، اور نہ ہی انہیں اللہ کی تدبیر(ڈھیل ومنصوبہ بندی)سے نڈر کرتا ہے، اور نہ قرآن کو چھوڑکر کسی اور طرف جاتا ہے، یاد رکھو اس عبادت میں بھلائی نہیں جس میں فقہ نہ ہو اور اس فقہ میں بھلائی نہیں جس میں فہم نہ ہو اور اس قراۃ(قرآن پڑھنے) میں بھلائی نہیں جس میں تدبر(غور وفکر)نہ ہو۔
[الزهد لأبي داود:104، الإبانة الكبرى لابن بطة:1050، (سنن الدارمي:305)، جامع بيان العلم:1510]


امام سفیان بن عیینہؒ (المتوفیٰ 198ھ) کا فرمان ہے:
ليس العالم الذي يعرف الخير والشر، إنما العالم الذي يعرف الخير فيتبعه، ويعرف الشر فيجتنبه.
[الزهد لأحمد بن حنبل:936، قوۃ القلوب:1/141، تھذیب الکمال:11/192]
یعنی عالم وہ نہیں ہے جو خیر اور شر کو پہچان لے، (درحقیقت) عالم تو بس وہ ہے جو خیر کو پہچان کر اس پر چلے اور شر کو پہچان کر اس سے دور رہے۔




آدابِ متعلم»
(1)استاد کا احترام اور تواضع کرنا۔

حضرت اسامہ بن شریک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو صحابہ کرام ؓ ایسے (خاموش-بےحرکت) بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔
[مسند احمد:18453 صحیح]

میں بھی نبی کریم ﷺ کو سلام کرکے بیٹھ گیا، اسی دوران کچھ دیہاتی لوگ آئے اور نبی کریم ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم علاج معالجہ کرسکتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہاں! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں رکھی جس کا علاج نہ رکھا ہو سوائے ایک بیماری  بڑھاپے کے۔ اسی وجہ سے حضرت اسامہ ؓ اپنے بڑھاپے میں لوگوں سے کہتے تھے کہ کیا اب تمہیں میرے لئے کوئی دوا مل سکتی ہے؟ پھر ان آنے والوں نے نبی کریم ﷺ سے کچھ چیزوں کے متعلق دریافت کیا کہ کیا فلاں فلاں چیز میں ہم پر کوئی حرج تو نہیں ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بندگانِ خدا! اللہ نے حرج کو ختم فرمادیا ہے سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی ظلماً آبروریزی کرتا ہے کہ یہ گناہ اور باعث ہلاکت ہے، انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ! انسان کو سب سے بہترین کون سی چیز دی گئی ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حُسنِ اخلاق۔
[مسند احمد:18454]

تشریح:
حدیث کے ائمہ نے اپنی کتابوں میں اس حدیث کو مندرجہ ذیل "مضمون" کے باب میں بھی ترتیب دیا گیا ہے:

(1)کیسے بیٹھیں عالم کے پاس؟
[السنن الكبرى للنسائي:5844]

(2)خاموش رہنا عُلَماء کیلئے۔
[السنن الكبرى للنسائي:5850]

(3)عُلَماء کی توقیر(تعظیم)کرنا۔
[المستدرك على الصحيحين للحاكم:416]


صحابہ کا خاموش اور بےحرکت بیٹھنے کی وجہ:
یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ نے سوال پوچھنے کے آداب بھی سکھلائے تھے کہ:

(1)۔۔۔ اور مت سوال پوچھو کسی چیز کے بارے میں جب تک میں تمہیں نہ خبر دوں۔
[الطیالسی:36، البزار:7505، ابی یعلیٰ:3690]

القرآن:
مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائے تو تمہیں برا لگیں۔۔۔
[سورۃ المائدۃ:101]

(2) ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے شر (بُرے عُلَماء) کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: مجھ سے شر کے بارے میں سوال مت کرو، بلکہ خیر کے بارے میں سوال کرو۔۔۔
[دارمی:382]

(3)مذاق اڑانے کیلئے سوال پوچھنا جائز نہیں۔
[بخاری:4622]

(4)جو واقعہ پیش نہیں آیا اس کے متعلق سوال نہ کیا کرو۔
[دارمی:126]

(5)گہرے علم والے کی موجودگی میں عام عُلَماء سے سوال نہ کرنا۔
[بخاری:6736, ابوداؤد:2059]

لہٰذا

صحابہ میں حضرت ابوبکر وعمرؓ کلام کرنے سے ڈرتے تھے۔
وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ ‌فَهَابَا ‌أَنْ ‌يَتَكَلَّمَا۔
[
صحيح مسلم:573، مستخرج أبي عوانة:1956، الجمع بين الصحيحين لعبد الحق:801]
جب کوئی دیہاتی (آداب سے ناواقف) کچھ غیرمتعلقہ مسئلہ پوچھنے حاضر ہوتا تو صحابہ کو خوشی ہوتی تھی کیونکہ نبی ﷺ اسکی رعایت کرتے جواب بھی ارشاد فرمادیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اوپر حدیث میں گذرا۔

غیرمتعلقہ سوال کیا ہے؟
الله، آخرت، دین کی باتیں دین کے ماہر کے بجائے کسی (۱)غیرمذہبی سے، یا (۲)غیرماہر عوام سے، یا (۳)غیرمتعلقہ علوم کے ماہر (جیسے: ڈاکٹر، وکیل) سے پوچھنا وغیرہ۔




اندھی تقلید کیا ہے؟
اندھی تقلید اس کو کہتے ہیں کہ اندھا اندھے کے پیچھے چلے، تو لازماً دونوں کسی کھائی میں گرجائیں گے، اگر اندھا کسی آنکھوں والے کے پیچھے چلے تو آنکھ(علم) والا اپنی آنکھ کی برکت سے اپنے آپ کو بھی اور اس اندھے کو بھی ہر کھائی سے بچاکر لیجائے گا اور منزل تک پہنچادے گا۔

اور اللہ پاک نے علم والے اور بے علم والے کی مثال بینا اور نابینا فرمائی ہے

[دلائلِ قرآن، سورۃ البقرۃ:170، المائدۃ:104]

لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
… تو پوچھو علم(کو یاد رکھنے)والوں سے اگر تم علم نہیں رکھتے۔
[سورۃ النحل:43، الانبیاء:7]
اور مت چل خواہشوں پر ان کے جو علم نہیں رکھتے.
[الجاثیۃ:18 ، یونس:89]






عُلَماء کے بجائے جاہلوں(مخالفت کرنے والوں) سے فتویٰ لینے کی پیشگوئی:
امت کی راہنمائی قیامت تک کون کرے گا؟
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا " ، قَالَ الْفِرَبْرِيُّ : حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ ... رقم الحديث: 99(100)]
حضرت عبداللہ ابن عمروؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم  نے ارشاد فرمایا۔اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں (کے دل و دماغ) سے اسے نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھاے گا کہ علماء کو (اس دنیا سے) اٹھالے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔"
[صحیح بخاری: حدیث نمبر 100 - علم کا بیان : علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا]



تشريح:
(1) اللہ نے نبی کے بعد علم کی حفاظت اور تعلیم کا ذریعہ عُلَماء کو بنایا ہے۔
(2) مسائل(یعنی جو باتیں پوچھی جائیں)غیرعالم سے نہ پوچھنا۔
(3) گذرے ہوئے عُلَماء (صحابہؓ اور ائمہؒ) زیادہ قابلِ اعتماد اور قابلِ تقلید ہیں۔


امام تفسیر مجاہدؒ(م102ھ) نے فرمایا:

"كُلُّ عَامِلٍ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ فَهُوَ ‌جَاهِلٌ ‌حِينَ ‌عَمِلَهَا"۔
ترجمہ:
”یعنی جو شخص کسی کام میں اللہ تعالی کی نافرمانی کر رہا ہے وہ یہ کام کرتے ہوئے جاہل ہی ہے۔“ 
[تفسير ابن كثير، سورۃ النساء، آیۃ 17]

امام حسن البصریؒ (م١١٠ھ) فرماتے ہیں:
‌الفِتْنَةُ ‌إِذَا ‌أَقْبَلَتْ عَرَفَهَا كُلُّ عَالِمٍ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ عَرَفَهَا كُلُّ جَاهِلٍ۔
ترجمہ:
فتنہ جب سر اٹھاتا ہے تو ہر عالم اسے پہچان لیتا ہے، اور جب چلا جاتا ہے تو ہر جاہل کو پتہ چلتا ہے کہ یہ فتنہ تھا۔
[التاريخ الكبير للبخاري:5830(‌‌2987)، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء:9/24]

آجکل رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی حرف بحرف صادق آ رہی ہے۔ لوگ چند کتابوں کا مطالعہ کر کے عُلَماء کا لبادہ پہن کر سادہ لوح مسلمانوں کو غلط سلط باتیں بتاکر راہ حق اور صراط مستقیم سے برگشتہ کرتے ہوئے وقت کا علامہ بننے کی پرزور کوشش کر رہے ہیں۔ عوام بھی ان کا خوب ساتھ دے رہی ہے اور ان کو سراہتے ہوئے انہیں عُلَماء سے زیادہ اہمیت دینے لگی ہے۔ انھیں عوام کی بدولت یہ ممبر و محراب اور کانفرنسوں وغیرہ میں اپنا تسلط قائم کرنے لگے ہیں۔ ان کی شہرت اور چمک دمک کو دیکھتے ہوئے نوجوانانِ ملت بھی اسی راہ پر چل نکلے ہیں، لہذا آپ کو سوشل میڈیا پر اس طور سے نام نہاد مبلغین ودعاۃ اور محققین و مفتیان کے القاب کے مصداق افراد مل جائیں گے جو بزعمِ خویش دین کی بہت بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ چناچہ آپ دیکھیں گے کہ جس نے بھی ایک دو کتابیں پڑھ لیں یا ایک دو لیکچر سن لئے وہ گروپس، پیجز، بلاگس، ویب سائٹس اور یوٹیوب چینل بناتا ہے، اور قرآن و حدیث کی خود ساختہ تشریح کرتے ہوئے دین اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ لہذا کوئی محققِ دوراں بنتے ہوئے احادیث کی صحت و ضعف پر کلام کرتا ہے تو کوئی منسوخ جیسی احادیث کو بیان کرکے ان سے مسائل کا استنباط کرتا نظر آتا ہے۔ یہ دقیق مسائل ہوں یا غیردقیق سب میں اپنی رائے دینے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور جب تک دن میں دو چار فتوے نہ دے لیں اور مناظرے نہ کرلیں ان کو سکون نہیں ملتا۔ اتنا ہی نہیں مناظر کے نام پر گالی گلوچ کرنے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ دعوت و تبلیغ کے نام پر نوجوان لڑکیوں سے جنسی و دل لگی کو کار ثواب سمجھتے ہیں۔ ان کے قد میں ہی نہیں رکھتے بلکہ وہ دوسروں کے مقالات و مضامین اور تحقیقات کو چرا کر اپنے بلاگز اور ویب سائیٹس اور گروپس میں اپنے نام سے شیئر کرتے ہیں اور لوگوں کی واہ واہی بٹورتے ہیں۔ یہ عُلَماء کی ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز کو شیئر کرنے میں اپنی کسر شان سمجھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اگر کسی عالم کا لکچر بھی شیئر کرتے ہیں تو خود کا یوٹیوب چینل بنا کر اس میں اپ لوڈ کر کے شیئر کرتے ہیں۔

امام ابن الجوزی(م597ھ) فرماتے ہیں:
قَالَ وأكبر(وَأَكْثَرُ) أَسبَابه أَنه قد يعاني هَذِه الصِّنَاعَة ‌جهال ‌بِالنَّقْلِ يَقُولُونَ مَا وجدوه مَكْتُوبًا وَلَا يعلمُونَ الصدْق من الْكَذِب فهم يبيعون على سوق الْوَقْت وَاتفقَ أَنهم يخاطبون الْجُهَّال من الْعَوام الَّذين هم فِي عداد الْبَهَائِم فَلَا يُنكرُونَ مَا يَقُولُونَ وَيخرجُونَ فَيَقُولُونَ قَالَ الْعَالم فالعالم عِنْد الْعَوام من صعد الْمِنْبَر۔
ترجمہ:
اور ان کا سب سے بڑا(سب سے زیادہ) سبب یہ ہے کہ اس فن میں ان لوگوں نے دخل اندازی کی جو نقلی دلائل سے عاری وجاہل ہوتے ہیں۔ جو لکھا ہوا پاتے ہیں اسی کو یہ کہتے ہیں۔ سچ و جھوٹ کی پہچان کی کسوٹی ان کے پاس نہیں ہوتی۔ یہ وقت کے بازار میں دینی خدمت کا کاروبار کرتے ہیں۔ اور (اس پر) اتفاق ہے کہ یہ عام طور پر عوام میں سے ایسے جاہلوں کو مخاطب کرتے ہیں جو چوپایوں کے قائم مقام (یعنی ناسمجھ) ہوتے ہیں لہذا وہ ان کی غلطیوں پر نکیر نہیں کرتے اور یہ کہتے ہوئے نکلتے ہیں کہ عالم نے کہا۔ بس عوام کے نزدیک وہی عالم ہے جو منبر (stage) پر چڑھ گیا۔
[تحذیر الخواص-امام السیوطی(م911ھ) :ص230، القصاص والمنکرین-امام ابن الجوزي(م597ھ): ص318]

ربیعہ بن ابو عبدالرحمنؒ(م136ح) نے فرمایا:
.....وَلَبَعْضُ مَنْ يُفْتِي هَا هُنَا ‌أَحَقُّ ‌بِالسَّجْنِ مِنَ السُّرَّاقِ۔
ترجمہ:
.....اور بعض (يعني بغیرعلم) فتویٰ دینے والے ایسے ہیں جو چوروں کی بنسبت جیل کے زیادہ حقدار ہیں۔
[جامع بيان العلم وفضله-امام ابن عبد البرؒ(م463ھ): حدیث نمبر 2410]
[أدب المفتي والمستفتي-امام ابن الصلاح (م643ھ) : ص85]
[أعلام الموقعين عن رب العالمين-امام ابن القيم (م751ھ) : 5/89 - ط عطاءات العلم]


حضرت عبدالرحمان بن یزید بن جابر نے فرمایا:
لا ‌يؤخد ‌العلم ‌إلا عمن شُهد له بطلب العلم۔
ترجمہ:
علم اس شخص سے حاصل کیا جائے جس کے متعلم ہونے کی اہلِ علم نے گواہی دی ہو۔
[المدخل إلى السنن الكبرىٰ-امام البيهقي(م458ھ) - تحقیق عوامة : حدیث#488]






عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الجمحي أَنَّ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُلْتَمَسَ الْعِلْمُ عِنْدَ الأَصَاغِرِ
ترجمہ:
ابو امیہ جمحی‌ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اصاغر(چھوٹے-نااہل لوگوں) کے پاس تلاش کیا جائے گا۔ 
[الصحيحة 695 (2559)  المعجم الكبير للطبراني 18343]
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ الْجُعْفِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا بَقِيَ الْأَوَّلُ حَتَّى يَتَعَلَّمَ أَوْ يُعَلِّمَ الْآخِرَ فَإِنْ هَلَكَ الْأَوَّلُ قَبْلَ أَنْ يُعَلِّمَ أَوْ يَتَعَلَّمَ الْآخِرُ هَلَكَ النَّاسُ
ترجمہ:
حضرت سلمان بیان کرتے ہیں لوگ اس وقت تک بھلائی پر گامزن رہیں گے جب تک پہلے سے لوگوں سے علم حاصل کیا جاتا رہے گا یا دوسرے لوگ ان سے علم حاصل کرتے رہیں گے۔ جب پہلے لوگوں سے علم کے حصول سے پہلے ہی پہلے لوگ فوت ہوجائیں تو لوگ ہلاکت کا شکار ہوجائیں گے۔
[سنن دارمی» باب: علم کا رخصت ہوجانا۔ حدیث نمبر: 244]

حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے:
لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا ‌أَخَذُوا ‌الْعِلْمَ عَنْ أَكَابِرِهِمْ وَعَنْ أُمَنَائِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ , فَإِذَا أَخَذُوهُ مِنْ أَصَاغِرِهِمْ وَشِرَارِهِمْ هَلَكُوا۔
ترجمہ:
لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے جب تک کہ وہ علم حاصل کریں گے اپنے اکابر(بڑوں/پہلوں)، اور اپنے امانتدار لوگوں، اور اپنے عُلَماء سے۔ اور جب وہ اپنے چھوٹوں(آخر والوں) اور برے لوگوں سے علم حاصل کریں گے تو وہ ہلاک ہوجائیں گے۔
[غريب الحديث للقاسم بن سلام:3/369، المدخل إلى السنن الكبرىٰ-امام البيهقي(م458ھ) - تحقیق عوامة : حدیث#1403، جامع بيان العلم وفضله-امام ابن عبد البر(م463ھ):حدیث#1057، نصيحة أهل الحديث-امام الخطيب البغدادي(م463ھ) : ص26، الفقيه والمتفقه - امام الخطيب البغدادي(م463ھ) : 2/155، الحوادث والبدع-أبو بكر الطرطوشي (م520ھ): ص79]



نبوی پیشگوئی:
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " هَلَاكُ أُمَّتِي فِي ‌الْكِتَابِ ‌وَاللَّبَنِ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا ‌الْكِتَابُ ‌وَاللَّبَنُ؟ قَالَ: " يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ ‌فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللهُ، وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَيَبْدُونَ"۔
ترجمہ:
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کی ہلاکت (اللہ کی) کتاب اور دودھ میں ہو گی۔“ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا کتاب اور کیا دودھ (ہمیں بات سمجھ نہیں آئی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کی تعلیم حاصل کریں گے، لیکن ایسے معنی پر اس کی تاویل کریں گے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے نازل نہیں کیا۔ اور دودھ کو (اس قدر) پسند کریں گے کہ جماعتیں اور جمعے چھوڑ دیں گے اور جنگلوں (اور دیہاتوں) کی طرف نکل جائیں گے۔
[الصحيحة:‌‌2778، مسند أحمد:17415، مسند أبي يعلى:1746، مسند الروياني:239، الديلمي:6999]

 فقہی نکات:
(1)اللہ ڈھیل دینے والا بھی ہے۔
[صفات رب العالمين:198 - ابن المحب الصامت(م789ھ) - ناقص]

(2)قربِ قیامت کی چھوٹی نشانیاں۔
[صحيح أشراط الساعة-عصام موسى هادي: صفحہ79]
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد-صهيب عبد الجبار: 2/ 310]

(3)سنت کے خلاف قرآن کی تفسیر کرنے میں ہلاکت ہے۔
[موسوعة الألباني في العقيدة:1/ 300]
قرآن سیکھنے والے کی مذمت کا بیان جو اس کی تفسیر اللہ کے نازل کردہ (بیان ونصیحت) کے علاوہ کسی اور طریقے سے کرتا ہے۔
[الجامع الكامل في الحديث الصحيح الشامل المرتب على أبواب الفقه-محمد ضياء الرحمن الأعظمي (م1441ھ): 2/ 54]
عام حکم اسکی عمومیت ہی کیلئے ہے اور ظاہری حکم اسکے ظاہر ہی پر ہے، جب تک کہ کوئی دلیل نہ ہو۔
[الآداب الشرعیہ:3/ 298]



(4)ہر منافق سے احتیاط کا بیان جو زبان کا بڑا عالم(بولنے کا ماہر) ہو۔
[صحيح الكتب التسعة وزوائده:7665]
جیساکہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
«‌يَتَعَلَمُهُ ‌الْمُنَافِقُونَ، ثُمَّ يَجَادِلُونَ بِهِ الذِّينَ آمَنُوا»
’’منافق اس کو سیکھتے ہیں، پھر اس پر ایمان والوں سے جھگڑتے ہیں۔‘‘
[جامع المسانيد والسنن-ابن كثير:7679، غاية المقصد فى زوائد المسند-الهيثمي:873، مسند عقبة بن عامر-ابن قطلوبغا:159]
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد-صهيب عبد الجبار: 4/ 230 (8/ 347)]
قرآن کے ذریعہ مومنوں سے جھگڑنے والوں کی مذمت۔
[ذم الكلام واهله-الهروي(م481ھ) :2/ 41]




(5)نماز، جماعت اور جمعہ کی اہمیت اور انہیں چھوڑنے کی مذمت۔
[الجامع الكامل في الحديث الصحيح الشامل المرتب على أبواب الفقه-محمد ضياء الرحمن الأعظمي (م1441ھ): 3 / 567]
القرآن:
پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو برباد کیا، اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلے۔ چنانچہ ان کی گمراہی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گی۔
[سورۃ نمبر 19 مريم، آیت نمبر 59]



حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي ‌الْكِتَابُ ‌وَاللَّبَنُ، فَأَمَّا اللَّبَنُ فَيُفْتَحُ لِأَقْوَامٍ فِيهِ فَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَةَ وَالْجُمُعَاتِ، وَأَمَّا الْكِتَابُ فَيُفْتَحُ لِأَقْوَامٍ فِيهِ فَيُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا»۔
ترجمہ:
ہم سے مطلب بن شعیب الازدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے ابو قابیل المعفری کے واسطہ سے، حضرت عقبہ بن عامر کے واسطہ سے، انہوں نے اللہ کے پیغمبر سے - اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو ان پر- آپ نے فرمایا:
مجھے اپنی امت کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ کتاب اور دودھ ہے۔ جہاں تک دودھ کا معاملہ ہے تو اس میں لوگوں کے لیے کھول دیا جاتا ہے، تو وہ جمعہ اور جمعہ کی نمازیں چھوڑ دیتے ہیں، اور کتاب کا تعلق ہے کہ اس میں لوگوں کے لیے کھول دیا جاتا ہے، اس لیے وہ ایمان والوں سے جھگڑتے ہیں۔"
[المعجم الكبير-للطبراني(م360ھ): حدیث نمبر 815]

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ الْخَيْرِ الزِّيَادِيُّ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَيَهْلِكُ مِنْ أُمَّتِي فِي ‌الْكِتَابِ ‌وَاللَّبَنِ» قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ: فَقُلْتُ: وَمَا أَهْلُ الْكِتَابِ؟ قَالَ: «قَوْمٌ يَتَعَلَّمُونَ كِتَابَ اللهِ يُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا» قُلْتُ: وَمَا أَهْلُ اللَّبَنِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «قَوْمٌ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ ويُضَيِّعُونَ الصَّلَوَاتِ»۔
ترجمہ:
ہم سے اسماعیل بن الحسن الخفاف المصری نے بیان کیا کہ، ہم سے بیان کیا احمد بن صالح نے کہ، ہم سے بیان کیا ابن وہب نے کہ، ہم سے بیان کیا مالک بن الخیر الزیادی نے، انہوں نے ابی قبیل سے، وہ حضرت عقبہ بن عامرؓ سے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کتاب اور دودھ میں ہلاک ہو جائے گی۔ حضرت عقبہ بن عامرؓ نے کہا: میں نے کہا: اور کتاب کا کیا(معاملہ ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ لوگ جو اللہ کی کتاب سیکھیں گے اور اہل ایمان سے جھگڑیں گے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دودھ والوں کا کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ لوگ جو خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور نماز چھوڑ دیتے ہیں۔
[المعجم الكبير-للطبراني: حدیث نمبر 817]
[صفة النفاق ونعت المنافقين-لأبي نعيم الأصبهاني(م430ھ)حدیث نمبر 145]




مستند عالمِ دین کسے کہتے ہیں؟
امام ابوداودؒ فرماتے ہیں کہ، ہم سے حدیث بیان کی زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ اور عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ نے، ان دونوں نے کہا کہ ہم سے حدیث بیان کی جَرِيرٌ نے، وہ الْأَعْمَشِ سے، وہ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ سے، وہ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ سے، وہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ وَيُسْمَعُ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْكُمْ»
یعنی
تم مجھ سے سن رہے ہو، اور تم سے بھی سنا جائے گا، پھر تم سے سننے والوں سے بھی سنا جائے گا۔
[ابوداؤد:3659، احمد:2945]

جو شخص دین میں فقہ(سمجھ) حاصل کرے، رسول الله ﷺ سے تعلیم وتربیت پانے والے صحابہ،ائمہ وعُلَماء کے ’’سلسلہ وار سہارے‘‘ سے۔
[حوالہ سورۃ التوبہ:122]




حضرت ہاروں العبدیؒ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو سعید الخدریؓ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو وہ ہمیں مرحبا (خوش آمدید) کہتے رسول الله ﷺ کی وصیت کے موافق (اور فرماتے) کہ رسول الله  نے ہمیں فرمایا:

إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ، وَإِنَّ رِجَالًا يَأْتُونَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ، فَإِذَا أَتَوْكُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا۔
ترجمہ:
بےشک (اے میرے صحابہ!)  لوگ تمہاری پیروی کریں گے اور دنیا کے کناروں سے دین کی فقہ (گہری سمجھ) حاصل کرنے آئیں گے، تو میری طرف سے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو.
[سنن ترمذی:2650، سنن ابن ماجہ:249، مسند الشاميين للطبراني:405، مسند الموطأ للجوهري:22، فوائد تمام:143+144، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:285، الأربعون لابن المقرئ:4]





علم کیا ہے؟-1
علم، خبر اور نظریہ/رائے میں فرق:

علم وہ (سنی سنائی خبر یا ذاتی رائے) نہیں جو ثابت نہ کیا جاسکے، علم تو وہ (ثابت/قائم/قطعی بات) ہے جو یقین پیدا کرے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
سنی سنائی خبر دیکھی ہوئی بات جیسی(یقینی) نہیں۔
[حاكم:3250]


امام شعبیؒ (م103ھ) فرماتے ہیں :

«مَا حَدَّثُوكَ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُدَّ عَلَيْهِ يَدَكَ وَمَا حَدَّثُوكَ مِنْ رَأْيِهِمْ فَبُلْ عَلَيْهِ»

ترجمہ:

جو باتیں تمہارے سامنے لوگ صحابۂ کرام کی جانب سے نقل فرمائیں تو انہیں اختیار کرلو اور جو باتیں اصولِ شرع کے خلاف اپنی طرف سے کہیں انہیں بے زاری کے ساتھ ٹھکرادو۔

[الإبانة الكبرى لابن بطة:607، المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي:814+1898، جامع بیان العلم:1066]




حافظ ابن عبدالبرؒ (م463ھ) امام اوزاعیؒ (م157ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے شاگرد بقیہ بن الولید(م197ھ) سے فرمایا:
يَا بَقِيَّةُ، الْعِلْمُ مَا جَاءَ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَمْ يَجِئْ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ بِعِلْمٍ
ترجمہ:
اے بقیہ! علم تو وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے اصحابِ کرام سے منقول Transmitted ہو اور جو ان سے منقول نہیں وہ علم نہیں۔

[جامع بیان العلم:1067+1420+1421، فتح الباري شرح صحيح البخاري:ج13 ص291، سلسلة الآثار الصحيحة:322]






امام عبداللہ بن المبارکؒ الحنفی (م 181ھ) فرماتے ہیں:
«الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ»
یعنی
اسناد دین میں سے ہے، اگر اسناد نہ ہوتی تو ہر کہنے والا، جو اس کے جی میں آتا ، کہہ دیتا۔
[صحیح مسلم:1/15، رقم :32، في المقدمة، باب بيان أن الإسناد من الدين.]
نوٹ:
اسناد جمع ہے سند کی۔ سند کے لغوی معنیٰ سہارا ہے، اصطلاح میں سند کہتے ہیں عمل میں سچے - حافظہ میں پکے - قابلِ اعتماد راویوں(گواہوں) کے ’’سلسلہ‘‘ کو۔
سند کو سند اس لیے کہتے ہیں کہ متن(فرمان) کا اعتماد اور سہارا اسی پر ہوتا ہے۔



مثلاً:
فتویٰ دینے اور لینے کے متعلق امام ابوداودؒ نے اپنی اس سند کے ساتھ فرمایا کہ:

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :
ترجمہ:
ہم سے بیان کیا حسن بن علیؒ نے کہ ہم سے بیان کیا ابوعبدالرحمٰن المقریؒ نے کہ ہم سے بیان کیا سعید یعنی ابن ابی ایوبؒ نے، وہ بکر بن عمروؒ سے، وہ مسلم بن یسارؒ ابی عثمان سے، وہ حضرت ابوہریرہؓ سے، کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(پھر یہ متن Text-Statementبیان فرمایا)

مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ .
[
سنن أبي داود » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب التَّوَقِّي فِي الْفُتْيَا ۔۔۔ رقم الحديث: 3657]
ترجمہ؟:
جس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا تو اس کا گناہ بھی فتوی دینے والے پر ہوگا۔

[ابوداؤد:3657، ابن ماجہ:53، دارمي:164، حاکم:436، احمد:8266، بيهقى:20140+20111، صحيح الجامع الصغير: 6068]


نوٹ:

فتویٰ کے معنیٰ کسی سوال کا جواب دینا ہے۔ سوال پوچھنے والے کو مُستفتی اور سوال کا جواب دینے والے کو مُفتی کہتے ہیں۔

فتویٰ ان ہی مسائل میں لیا جاتا ہے جو غیرمعلوم، غیرمشہور، غیرواضح، باریک وگہری سمجھ سے نکالے گئے جدید(وقت کی)ضرورتوں پر مبنی ہوں۔ لہٰذا دین کے موٹے معلوم ومشہور اور واضح شدہ عقائد یا غیرضروری فرضی مسائل میں مفتی سے فتویٰ لینا یا دینا صحیح نہیں۔

(1)غیرعالم کا فتویٰ "دینا" کیسا ہے؟
جو بغیرعلم فتویٰ دے یعنی کوئی غیرعالم-غیرمفتی فتویٰ دے تو وہ گناہگار ہوگا۔
القرآن:
اور مت چل خواہشوں پر ان کے جو علم نہیں رکھتے.
[سورۃ الجاثیۃ:18 ، یونس:89]

ربیعہ بن ابو عبدالرحمنؒ(م136ھ) نے فرمایا:
.....وَلَبَعْضُ مَنْ يُفْتِي هَا هُنَا ‌أَحَقُّ ‌بِالسَّجْنِ مِنَ السُّرَّاقِ۔
ترجمہ:
.....اور بعض (يعني بغیرعلم) فتویٰ دینے والے ایسے ہیں جو چوروں کی بنسبت جیل کے زیادہ حقدار ہیں۔
[جامع بيان العلم وفضله-امام ابن عبد البرؒ(م463ھ): حدیث نمبر 2410]
[أدب المفتي والمستفتي-امام ابن الصلاح (م643ھ) : ص85]
[أعلام الموقعين عن رب العالمين-امام ابن القيم (م751ھ) : 5/89 - ط عطاءات العلم]


(2)بلادلیل فتویٰ لینا کیسا ہے؟
اور جب بغیرعلم ودلیل فتویٰ لینا جائز ہے گناہ نہیں، تو جب مفتی عالم ہو (علم رکھتا ہو) لیکن بغیر علمی تفصیلی دلائل کے صرف مسئلہ کا حل وحکم بتلادے تو وہ مفتی بھی گناہگار نہیں۔
القرآن:
پس تم سوال پوچھو علم والوں سے، اگر تم نہیں علم رکھتے۔
[سورۃ النحل:43، الانبیاء:7]

امام مالکؒ سے پوچھا گیا: فتویٰ دینا کس کو جائز ہے؟
فرمایا: صرف اسے جو اختلافاتِ علماء(صحابہ) سے واقف ہو ، اور قرآن وحدیث کے ناسخ منسوخ کا علم رکھتا ہو اور اسی طرح فتویٰ کے بھی۔
[جامع بيان العلم:1529]


(3)اندھی تقلید کیا ہے؟

اندھی تقلید اس کو کہتے ہیں کہ اندھا اندھے کے پیچھے چلے، تو لازماً دونوں کسی کھائی میں گرجائیں، گے اگر اندھا کسی آنکھوں والے کے پیچھے چلے تو آنکھ والا اپنی آنکھ کی برکت سے اپنے آپ کو بھی اور اس اندھے کو بھی ہر کھائی سے بچاکر لیجائے گا اور منزل تک پہنچادے گا۔

اور اللہ پاک نے علم والے اور بے علم والے کی مثال بینا اور نابینا فرمائی ہے۔

[دلائلِ قرآن، سورۃ البقرۃ:170، المائدۃ:104]

امت کی راہنمائی قیامت تک کون کرے گا؟
حضرات ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ معاذ اللہ اندھے نہیں ہیں، عارف اور بصیر ہیں، البتہ اندھی تقلید کا شکار وہ لوگ ہیں جو خود بھی اندھے ہیں اور ان کے پیشوا بھی اجتہاد کی آنکھ سے محروم ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا " .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ ... رقم الحديث: 99(100)]
اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں (کے دل و دماغ) سے اسے نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھاے گا کہ علماء کو (اس دنیا سے) اٹھالے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔"
[صحیح بخاری: حدیث نمبر 100 - علم کا بیان : علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا]

اسلام میں فتویٰ کی اہمیت و ضرورت
http://raahedaleel.blogspot.com/2013/03/blog-post_6739.html

عالِم اور مفتی میں فرق:
ہمارے عرف میں جس نے درس نظامی مکمل پڑھا ہو وہ عالم کہلاتا ہے اور درس نظامی مکمل کرنے اور عالم بننے کے بعد اگر کسی ماہر مفتی کی نگرانی میں ایک عرصے تک فتویٰ دینے کی مشق و تمرین کرے تو وہ مفتی کہلاتا ہے۔ گویا ہر عالم مفتی نہیں ہوتا لیکن مفتی ہونے کے لیے عالم ہونا ضروری ہے۔
         تاہم واضح رہے کہ عالم بننے کے لیے صرف علوم کا پڑھنا کافی نہیں بلکہ اصل عالم ( جو حدیث کی رو سے انبیاء کا وارث ہونا ہے)  وہ شخص ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور اپنے علم پر عمل کرنے کی صفت بھی پائی جائے۔ نیز مفتی بننے کے لیے بھی صرف تخصص کرلینا کافی نہیں ، بلکہ اس کے بعد ایک عرصے تک کسی ماہر مفتی کی نگرانی میں کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ عموماً ایک طویل عرصے تک کام کرنے کے بعد فتوی دینے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ مسائل معلوم کرنے کے لیے کسی ایسے مفتی کی طرف ہی رجوع کریں۔



کیا عالم بننے کے لیے صرف درس نظامی کافی ہے؟
درسِ نظامی وہ نصاب ہے جو عالم بننے کا طریقہ سکھاتا ہے۔




مسئلہ صرف مفتی بتائے یا عالم بھی بتا سکتا ہے؟
مسئلہ بتانا ایک بہت بڑی شرعی ذمہ داری،اور   انتہائی نازک وحساس کام ہے جس میں سائل کاسوال سمجھنا،اس کا مقصد پہچاننا اور اور اس کے زمانے ،مکان اور عرف کی واقفیت کے ساتھ  ساتھ ، ملتی جلتی جزئیات میں امتیاز اور جواب میں مفتٰی بہٖ قول اختیار کرنا ،ایسے  بہت  سے امور  ہیں جن کا ادراک  ممارسۃ اور مسلسل تجربے کا متقاضی ہے، اور ان امور کی انجام دہی کسی  مستند دارالافتاء  سے  وابستہ مفتی ہی  کرسکتاہے، اس  لیے کسی غیر مفتی عالم کے لیے مسائل بتانے  میں جرأت کرنا صحیح نہیں، غیر مفتی عالم  مسئلہ اس وقت بتائے جب کسی مستند کتاب میں دیکھا ہو یا کسی مستندمفتی صاحب سے مسئلہ معلوم کیا ہو یا  مستند مفتی یا دار الافتاء سے جواب کی تصدیق کرچکا ہو ۔ کسی سائل سے مسئلہ سن کر  کسی ادارے   کی ویب  سائٹ  سےمحض  جواب نقل کردینا بھی  مناسب نہیں  ہے ،اگر نقل کریں تو   سوال جواب دونوں  باحوالہ نقل کریں  اور   ساتھ  ہی سائل کو کسی مستند مفتی سے رجوع کا مشورہ بھی دیں، یا مسئلہ بتانے سے پہلے کسی مستند پختہ کار مفتی سے اس مسئلے کی تصدیق کروالیں کہ سائل کے اس سوال کے جواب میں فلاں  فتویٰ بطورِ جواب درست ہوگا یا نہیں ۔فقط واللہ اعلم


غیر مستند کو عالم بنانے کا نتیجہ 
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
 «إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ.»
یعنی
جب معاملہ نا اہل (لوگوں) کے سپرد کیا جائے، پھر تو قیامت کا انتظار کرنا۔
[صحيح البخاري » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب فَضْلِ الْعِلْمِ ۔۔۔ رقم الحديث: 59]


یعنی
جس طرح چمار سے مریض کا علاج یا عدالتی وکالت کرائی جائے تو وہ موت ونقصان کا سبب بنے گا، اسی طرح دین کا معاملہ نا اہل(unconcerned) کے حوالے کیا جائے یعنی دینی سوال پوچھے جائیں اور ایسے (نااہل) شخص کا کہا مانا جائے گا تو وہ گناہوں(بدعتوں) کو نیکیاں(سنتیں) سمجھا بجھا کر عام کرے گا اور پوری کائنات کی موت کا سبب بنے گا۔

اگر بندر کے ہاتھ میں بندوق آجاۓ جتنا خطرناک ہے ویسے ہی نااہل(فاسق) کے ہاتھ علم آجاۓ تو بگاڑ وفساد پھیلتا ہے.



جدید رُوپ میں قدیم شیطانی ہتھکنڈے:
دلیری(Boldness)کے نام پر بدتمیزی وبداخلاقی کا فروغ ، خوداعتمادی(Confidence)کے نام پر بےشرمی کا فروغ ، خوبصورتی وفیشن(Beauty & Fashion) کے نام پر بےپردگی، عریانی اور بےحیائی کا فروغ، پیار(Love)کے نام پر بےشرمی اور جنسی بےراہ روی کا فروغ ، تفریح(Entertainment) کے نام پر ناچ گانے اور شراب ومستی کا فروغ، ضرورت واستثناء(Exception & Need) کے نام پر بدترین گناہ کو وقت کی ضرورت قراردینا، آزادی اظہارِ رائے(Independence of view) کے نام پر عُلَماء ، فقہاء، اولیاء اور انبیاء کی شان میں گستاخی اور شریعت کی متفقہ ومسلمہ چیزوں پر نکتہ چینی

شیطانی کرتوت خوشنما لبادے میں:

  1. جُوا، قمار اور سٹے کو قسمت کا کھیل اور لکی ڈرا
  2. شراب کو مشروب
  3. موسیقی اور ناچ گانے کو فن اور آرٹس
  4. ناچنے اور عریاں جسم کی نمائش کے دھندے کو شو بزنس
  5. رشوت کو چائے پانی، جیب خرچ اور مٹھائی
  6. ناجائز اختلاط اور مغربی تہذیب کو ثقافت اور فیسٹیول
  7. بے پردگی و بے حیائی کو خوبصورتی
  8. عریانی اور فحاشی کو فطری آزادی
  9. بےغیرتی کو جدت اور ترقی پسندی
  10. ناجائز جنسی تعلقات اور زنا کو بوائے و گرل فرینڈ کا رشتہ
  11. منافقت کے بازار کو سیاست کے نام سے روشناس کروادیا گیا۔



علم کا اہل کون؟
حضرت علیؓ نے فرمایا:
«‌تَعَلَّمُوا ‌الْعِلْمَ ‌تُعْرَفُوا ‌بِهِ، وَاعْمَلُوا بِهِ تَكُونُوا مِنْ أَهْلِهِ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِي مِنْ بَعْدِكُمْ زَمَانٌ يُنْكِرُ فِيهِ الْحَقَّ تِسْعَةُ أَعْشَارِهِمْ، لَا يَنْجُو مِنْهُ إِلَّا كُلُّ نُوَمَةٍ، أُولَئِكَ أَئِمَّةُ الْهُدَى وَمَصَابِيحُ الْعِلْمِ، لَيْسُوا بِالْعُجُلِ الْمَذَايِيعِ الْبُذُرِ»
ترجمہ:
علم حاصل کرو یہی تمہاری پہچان ہے، علم پر عمل کرو تاکہ اسکے اہل بن جاؤ، کیونکہ تمہارے بعد ایک زمانہ آئے گا جس میں نوے(90)فیصدی حق کا انکار کیا جائے گا، اس زمانے میں وہی شخص نجات پائے گا جس کا سفر قطع ہوجائے اور اس کی سواری مرجائے، وہ ہدایت کے امام ہوں گے، اور علمِ کے چمکتے ہوئے چراغ ہوں گے، اور وہ فواحش کے پھیلانے والے نہیں ہوں گے۔
[الزهد لوكيع:270، الزهد لأحمد بن حنبل:692، فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل:880، مسند الدارمي:265-266، البدع والنهي عنها-بن وضاح القرطبي (م286ھ):160، المجالسة وجواهر العلم-الدينوري(م333ھ):277، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري(م499ھ):499]

زمانہ کی نبض شناسی علماء کی ذمہ داری

حالات کا نیا رخ اور علماء و دانشور طبقہ کی ذمہ داریاں



برے عُلَماء کی نشانیاں:

(1) جن کا مقصد دنیا کمانا ہو۔

نبی ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ ، لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا ، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
یعنی
جس شخص نے اس علم کو جو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سیکھا جاتا ہے اس لیے سیکھا تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کمائے ایسا شخص جنت کی خوشبو نہ پائے گا۔
[ابوداود:3664، ابن ماجة:252، احمد:8457، أبي يعلى الموصلي:6373، صحيح ابن حبان:78، حاكم:288]
نوٹ:
علمِ دین کا مقصد دنیا کمانا نہیں، بلکہ (1)صحیح ایمان (2)مسنون اعمال اور (3)اچھے اخلاق سیکھنا ہے جن سے اللہ کی رضا حاصل ہو۔



ایسے لوگوں کی نشانیاں:

(2) جو جھوٹی احادیث بنائیں، اور قرآن کی تفسیر بغیرعلم ودلیل محض اپنی رائے سے کریں:
اور ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ ، فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.
[ترمذی:2951احمد:2675]

بچو میری حدیث بیان کرنے سے مگر جس کا تمہیں علم ہو، کیونکہ جس نے مجھ پر جھوٹ بولا جان کر تو اس نے اپنا ٹھکانہ جھنم بنالیا۔
اور
جو کہے قرآن(کے بارے)میں(بغیرعلم محض)اپنی رائے سے تو اس نے اپنا ٹھکانہ جھنم بنالیا۔



(3) جس کی کوشش عُلَماء کی بڑی جماعت کی مخالفت کرنا اور شہرت پانا ہو:

علماء کا مقابلہ کرنے والے:

صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُقْبِلَ بِوُجُوهِ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ» ۔

ترجمہ:
جس شخص نے علم اس لیے حاصل کیا تاکہ عُلَماء سے مقابلہ کرے یا کم علم لوگوں سے جھگڑا(بحث)کرے یا لوگوں کو علم کے ذریعہ اپنی طرف مائل کرے، اللہ تعالی ایسے شخص کو جہنم میں داخل کریں گے۔

[ترمذي:2654، ابن ماجة:253، طبراني:199، حاكم:293]


تشریح:
جس میں یہ 3 بداخلاقیاں/نشانیاں ہوں تو یہ اس کے تمام اعمال کی اصل یعنی نیت اور اعمال کے غلط/جھوٹے/گمراہانہ/گناہ ہونے کو ظاہر کرتی ہیں۔ کیونکہ یہ بداخلاقیاں علم کے ثمرات میں سے نہیں، بلکہ یہ بداخلاقیاں جہالت کے نتائج ہیں۔ جبکہ جہالت صرف بے علمی کو نہیں کہتے بلکہ جہالت تو علم ہونے کے باوجود غیرعالمانہ حرکات پر بضد رہنا ہے۔


*کتابی بےعقل(پڑھے لکھے جاہل) کون؟*

القرآن:
کیا تم (دوسرے) لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہو ! کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں۔
[سورۃ نمبر 2 البقرة،آیت نمبر 44]

نبی ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا۔
بےشک بعض علوم جہالت ہیں۔
[ابوداود:5012]

جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا:

*اور ہم نے نہیں سکھایا اس نبی کو شعر۔*
[سورۃ یٰس:69]

*۔۔۔ بلکہ شیطانوں نے کفر کیا کہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو۔۔۔*
[سورۃ البقرۃ:102]

تشریح حدیث:

1. وعید کی نوعیت: جس شخص نے علم کو مذکورہ تین غلط مقاصد میں سے کسی ایک کے لیے بھی حاصل کیا، اس کے لیے جہنم کی وعید آئی ہے۔ یہ وعید اس عمل کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔


2. مومن کے لیے انجام: اگر یہ شخص موحد اور مومن ہے، تو اسلامی عقیدے کے مطابق وہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔ یہ وعید "ترہیبی" (ڈرانے والی) ہے، نہ کہ "تخویفی" (ہمیشہ کے عذاب کا فیصلہ)۔ ایسا شخص عذاب بھگتنے کے بعد آخرکار جنت میں داخل ہو جائے گا۔


3. اصل مقصد اصلاح نیت: اس حدیث کا اصل مقصد مسلمان کو علم حاصل کرنے میں اخلاص نیت کی طرف راغب کرنا اور ریاکاری، شہرت طلبی اور تکبر جیسے مہلک امراض سے بچانا ہے۔ علم کا صحیح مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا، اپنی اصلاح اور خلقِ خدا کی خدمت ہونا چاہیے۔


4. جمہور علماء کی حقانیت: کسی عالم کا تمام "علماء" سے مقابلہ ظاہر کرتا ہے کہ انفرادی رائے(نظر/گمان) اجتماعی رائے کے خلاف مردود ہے، کیونکہ کثرت جاہلوں/نافرمانوں کی معتبر نہیں۔

۔





دوسری روایات کے مختلف الفاظ وعلامات:

تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ

مجالس میں اچھے مقام حاصل کرے اس (علم) سے۔

[سنن ابن ماجه:254، التقاسيم والأنواع-ابن حبان:2810، فوائد تمام:812، الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي:23، ذم الكلام وأهله-الهروي، أبو إسماعيل:131، تفسير ابن رجب الحنبلي:1/553-سورۃ ھود:15، صحيح موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان:76، صحيح الترغيب:107]

لِتَجْتَرُّوا بِهِ الْمَجَالِسَ

تاکہ مجالس میں افواہیں پھیلائے-بدتمیزی کرے اس (علم) کے ذریعے۔

[معجم ابن الأعرابي:2223، أخلاق العلماء للآجري: ص84، الفقيه والمتفقه-الخطيب البغدادي:2/173، صحيح الجامع:7370]

لِتَحْتَازُوا ‌بِهِ ‌الْمَجَالِسَ

تاکہ مجالس میں افواہیں پھیلائے-بدتمیزی کرے اس (علم) کے ذریعے۔

[جامع بيان العلم وفضله:1127]

أَوْ لِيَأْخُذَ بِهِ مِنَ الْأُمَرَاءِ۔

یا اپنے علم کے ذریعہ حکمرانوں سے (کچھ) لیا کرے۔

[مسند الدارمي:379 - ت حسين أسد، مسند الدارمي:373 - ت الزهراني، أصول الإيمان لمحمد بن عبد الوهاب - ت الجوابرة:130]

الْمَالَ وَالْحُرْمَةَ وَالْجَاهَ وَالْمَنْزِلَةَ۔

(1)مال ودولت، (2) عزت واحترام، (3)وقار وشہرت، (4)اور درجہ وحیثیت۔

[تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي:679]


حافظ الحدیث امام ابن حجرؒ(م852ھ) نے اپنے مفید رسالے "فضل علم السلف على علم الخلف" (ص 5) میں لکھا ہے کہ:

"بہت سے متاخر لوگوں کو اس فتنے نے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا  اور  وہ سمجھنے لگے کہ جس شخص کی گفتگو، مناظرے، اور دینی مسائل میں بحث و تمحیص بہت زیادہ ہے تو وہ  دوسروں سے بڑا عالم ہے!!

اس حدیث میں بڑی اہم اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاً تو اسلام کی ترقیات وفتوحات کا ذکر کیا، پھر کچھ عُلَماء وقُراء کا ذکر کیا، جو خود پسندی یا اَنانیت میں مبتلا ہوں گے کہ بڑے پرانے عُلَماء کی بڑی جماعت کی اختلافی رائے کا علمی حق کے نام پر ان سب کو گمراہ قرار دے گا۔ اور اس گروہ کو اس طور پر ذکر کیا ہے کہ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کی ترقیات اور فتوحات میں یہی لوگ رکاوٹ ہیں؛ کیوں کہ اس گروہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی ترقی کا ذکر کرنے کے بعد بہ طورِ تقابل پیش کیا ہے۔یہ بڑی قابلِ عبرت بات ہے اور سو فیصد صحیح ہے ، کیوں کہ خود پسندی اور اَناپرستی کی وجہ سے یہ لوگ نہ علمائے حق کا ساتھ دیتے ہیں اور نہ علمائے حق کو آگے آنے دیتے ہیں؛ بل کہ ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش میں اپنی ہمت اور وقت واستعداد خرچ کرتے ہیں، مقصد صرف اپنی اَنا کی تسکین اور اپنی عزت وشہرت کا بقا وتحفظ ہوتا ہے؛ پھر دین کو ترقی کیسے ہوگی اور فتوحات کا دروازہ کہاں سے کھلے گا؟اس سے معلوم ہوا کہ علمائے سُو ہی اسلام کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں؛ لہٰذا اس حدیث میں قرآن پڑھنے والوں سے مراد علمائے سُو ہیں، جو صرف اپنے دنیوی مفادات اور نام وشہرت کے لیے دینی علوم حاصل کرتے اور اس کی خدمت کرتے ہیں۔

(3) جو دنیاداری کا عالم ہو۔

حضرت ابوہريرهؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا:

إِنَّ اللهَ يُبْغِضُ كُلَّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ صَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، جِيفَةٍ بِاللَّيْلِ، حِمَارٍ بِالنَّهَارِ، عَالِمٍ بِالدُّنْيَا، جَاهِلٍ بِالْآخِرَةِ۔

ترجمہ:

بےشک اللہ عز وجل نفرت رکھتے ہیں ہر بدخلق، اجڈ اور بازاروں میں شور مچانے والے، رات کو گوشت کا لوتھڑا(بغیر سوئے)رہنے والے، دن کے گدھے، دنیا کے عالم، آخرت کے جاہل سے۔ 

[صحيح ابن حبان:72، السنن الكبرى للبيهقي:20804، صحيح الجامع:1879]

 

(4) سرکاری علماء وفقہاء:

حضرت انسؓ کی ایک روایت سے یہ حدیث منقول ہے:

العلماء  أمناء الرسل ما لم يُخَالِطُوا السُّلْطَانَ وَيُدَاخِلُوا الدُّنْيَا فَإِذَا خَالَطُوا السُّلْطَانَ وداخلوا الدُّنْيَا فَقَدْ خَانُوا الرُّسُلَ فَاحْذَرُوهُمْ۔

ترجمہ:

عُلَماء الله کے بندوں کے درمیان رسولوں کے (علمی ورثے کے) امین ہوتے ہیں، جب تک کہ وہ حکمران کے ساتھ نہ گھِلیں مِلیں(یعنی پیچھے پیچھے چلنے نہ لگیں)۔ پس اگر وہ حکمران کے ساتھ گِھل ملیں، تو بلاشبہ انہوں نے رسولوں(کی علمی امانت)سے خیانت کی، تو تم ان(عُلَماء) سے خبردار رہنا اور ان سے علیحدہ ہوجانا‘‘۔

[تنبيه الغافلين» حدیث#675، جامع الاحادیث -للسيوطي:14504، الجامع الصغير» حدیث#8319(5683) حسن]



اسی طرح حضرت علیؓ سے بھی ایک روایت میں ہے:

الْفُقَهَاءُ أُمَنَاءُ الرُّسُلِ مَا لَمْ يَدْخُلُوا فِي الدنيا ويتبعوا السلطان فإذا فعلوا ذلك فاحذروهم۔

ترجمہ:

فقہاء(یعنی دین کی گہری سمجھ رکھنے والے علماء) الله کے بندوں کے درمیان رسولوں کے(ورثے کے) امین(محافظ)ہوتے ہیں، جب تک کہ وہ دنیا میں داخل نہ ہوں اور(وہ اس طرح کہ) حکمرانوں کی پیروی کریں، پس جب وہ ایسا کریں تو ان سے بچنا۔

[الجامع الصغير:8463(5971) حسن]


بری حکومت کا تعاون لینے والے برے علماء:
اس دور کی حکومت سے ادنیٰ رعایت بھی حاصل کرنا دین کیلئے سخت مضر بلکہ مہلک ہے، جن مدارس نے حکومت سے امداد لی ہے آئندہ کیلئے ان کی زبان حق گوئی سے بند ہوگئی اور حکومت اس احسان کے عوض ان سے بہت سے خلافِ شریعت کام کرالیتی ہے۔
[احسن الفتاویٰ:8/ 238 باب الحظر والاباحۃ]


(5) جو صحابہ کے فضائل ومناقب کی احادیث چھپائے اور بدعات سے نہ روکیں:

عُلَماء حق اور عُلَماء سوء میں فرق کا معیار:

حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ يُوسُفَ الشِّكْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السُّرِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَظْهَرَتْ أُمَّتِي الْبِدَعَ وَشُتِمَ أَصْحَابِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَإِنَّ كَاتِمَ الْعِلْمِ يَوْمَئِذٍ كَكَاتِمِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
حضرت جابر بن عبداللهؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جب میری اُمت میں بدعتیں ظاہر ہوجائیں اور میرے صحابہؓ کو برا کہا جائے تو اس وقت کے عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے ، پس بیشک علم کو چھپانے والا اس دن ایسا ہوگا جیسے چھپانے والا ہو اس چیز کا جو(شریعت) نازل کی الله نے محمد ﷺ پر.
[الشريعة، للآجري :1987
السنة، لابن أبي عاصم (المتوفى: 287هـ)رقم الحديث:994
السنن الواردة، الداني (المتوفى: 444هـ) :287،الرسالة الوافية:1/285
الإبانة الكبرى لابن بطة(المتوفى: 387هـ):49
فيض القدير شرح الجامع الصغير (المتوفى: 1031هـ):751(1/401)
السيوطي في مفتاح الجنة (1/ 66) ،جامع الأحاديث:2335(2/352)
الديلمي:1/206،التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِير:747(2/140)
المدخل،لابن الحاج:1/6


حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ يُوسُفَ الشِّكْلِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَلَّبِ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ السَّاحِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَدَثَ فِي أُمَّتِي الْبِدَعُ وَشُتِمَ أَصْحَابِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ : فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ : مَا إِظْهَارُ الْعِلْمِ ؟ قَالَ : إِظْهَارُ السُّنَّةِ ، إِظْهَارُ السُّنَّةِ .
[الشريعة للآجري » كِتَابُ فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَؓ » بَابُ عُقُوبَةِ الإِمَامِ وَالأَمِيرِ لأَهْلِ الأَهْوَاءِ ... رقم الحديث:2075]
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جب میری اُمت میں بدعتیں پیدا ہوجائیں اور میرے صحابہؓ کو برا کہا جائے تو اس وقت کے عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے گا اس پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب انسانوں کی ۔ عبداللہ بن حسن ؒ نے فرمایا کہ میں نے ولید بن مسلم سے دریافت کیا کہ حدیث میں اظہار علم سے کیا مراد ہے ، فرمایا:اظہار سنت.
(الاعتصام للشاطبی:١/٨٨)1/104
فيض القدير شرح الجامع الصغير:751(1/401)
ديلمي:1/206، التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ:747(2/140)
جامع الأحاديث:2336،مفتاح الجنة:1/68
والربيع في مسنده (1 / 365)
والديلمي في الفردوس (1 / 321)
قال السيوطي في الدر المنثور (2 / 402)

والخطيب البغدادي في الجامع لأخلاق الراوي (2 / 118)
ابن عساكر في «تاريخ دمشق» (54/80 - ط. دار الفكر) (5/ق331) 
عن رسول الله (صلّى الله عليه وآله وسلّم) أنه قال : « إِذَا ظَهَرَتِ الْبِدَعُ فِي أُمَّتِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُاللَّهِ » الكاج 1 ص 54 باب البدع والرأي والمقاييس. ح 2.
عن رسول الله (صلّى الله عليه وآله وسلّم) : «إذا ظهرت البدع ولعن آخر هذه الأمة أولها ، فمن كان عنده علم فلينشره ، فإن كاتم العلم يومئذ ككاتم ما أنزل الله على محمد » الجامع الصغير : 1 / 115 / 751 ، كنز العمال : 1 / 178 / 903 وكلاهما عن ابن عساكر عن معاذ.



برے اسکالرز اور ان کے پیروکاروں کے متعلق مسلمانوں کی ذمہ داریاں:

القرآن:
درگزر  کا  رویہ  اپناؤ، اور نیکی کا حکم دو ، اور نادانوں کی طرف دھیان نہ دو۔
[سورۃ الاعراف:199]

اور جب ناداں لوگ ان سے خطاب کرتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔
[سورۃ الفرقان:63]

اور اس نے کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کیا ہے کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو ایسے لوگوں کے ساتھ اس وقت تک مت بیٹھو جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں، ورنہ تم بھی انہی جیسے ہوجاؤ گے۔ یقین رکھو کہ اللہ تمام منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے۔
[سورۃ النساء:140]

اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کو برا بھلا کہنے میں لگے ہوئے ہیں، تو ان سے اس وقت تک کے لیے الگ ہوجاؤ جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں یہ بات بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔
[سورۃ الانعام:68]

اور جو باتیں یہ کہتے ہیں ان پر صبر سے کام لو، اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے کنارہ کرلو۔
[سورۃ المزمل:10]

اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[سورۃ العنکبوت:69]
اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کے ساتھ تقوی(یعنی ڈر اور پرہیزگاری کی روش) اختیار کروگے تو وہ تمہیں (حق وباطل میں) فرق کرادے گا اور تمہاری برائیوں کا کفارہ کردے گا، اور تمہیں مغفرت سے نوازے گا، اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔
[سورۃ الانفال:29]





برے اسکالرز، ڈاکٹرز، پروفیسرز کون؟
بنی اسرائیل میں اعتقادی اور عملی خرابیوں نے کس طرح نفوذ کیا، رسول اللہ ﷺ نے اُس کی بابت فرمایا:
“بنی اسرائیل میں پہلے پہل جب خرابی داخل ہوئی تو ایک شخص دوسرے سے ملتا اور کہتا: یہ کیا کر رہے ہو، اللہ سے ڈرو اور یہ کرتوت چھوڑو، یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر اگلے دن اُن سے ملتا تو انہیں منع نہ کرتا، پھر اُن کا ہم نشیں اور ہم نوالہ و ہم پیالا بن جاتا۔ اِسی سبب اللہ تعالیٰ نے اُن کی نحوست کو ایک دوسرے کے دلوں پر مسلّط کردیا، پھر آپ ﷺ نے[سورۂ ص:122 اور سورۂ مائدہ:81] کی آیات تلاوت کرکے فرمایا: خبرار! تم ضرور بالضرور نیکی کا حکم دینا ہوگا اور برائی سے روکنا ہوگا اور ظالم کا ہاتھ روکنا ہوگا اور تمہیں ضرور اپنی پوری صلاحیت کے مطابق حق سے انحراف کی روِش کو روکنا اور لوگوں کو حق پر قائم رکھنا ہوگا، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی نحوست کو ایک دوسرے پر مسلّط فرما دے گا اور پھر بنی اسرائیل کی طرح تم پر بھی لعنت فرمائے گا۔
[سنن ابوداؤد: 4337، سنن ترمذی: 3047]


شبِ معراج رسول اللہ ﷺ کو جن عذاب و ثواب کے مشاہدات کرائے گئے، اُن میں سے ایک یہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا:
“میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ اُن کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جارہا ہے، میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں، انہوں نے کہا: (یا رسول اللہ!) یہ آپ کی امت کے وہ خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا 
حکم دیتے ہیں اور اپنے آپ کو فراموش کردیتے ہیںْ۔
[سنن الکبریٰ، بیہقی: 1773،  صحيح الجامع: 129، صحيح الترغيب:125+2327]


اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ (مخلوط نظام تعلیم)

وطن عزیز میں ملت اسلامیہ ہندیہ ان دنوں جن سنگین اور تشویشناک مسائل سے دوچار ہیں ان میں سب سے اہم اور بڑا مسئلہ تعلیم یافتہ یا زیر تعلیم مسلم بچیوں کے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ دوستیوں ، معاشقوں ، ناجائز تعلقات، شادیوں اور ان کے ساتھ فرارہونے کے مسائل ہیں ، گذشتہ ایک مختصر عرصے کے دوران ملک کے مختلف گوشوں سے سیکڑوں مسلم بچیوں کے دین و مذہب کو خیر باد کہہ کر گھروں سے بھاگ جانے کی روح فرسا خبریں مسلسل غیرت اسلامی کو منھ چڑارہی ہیں اور ہم ہیں کہ اس تشویشناک صورتحال پرسوائے کف افسوس ملنے کے کچھ بھی نہیں کرپارہے ہیں ، بہت ہوگیا تو رائے زنی اور تبصروں کا ایمانی فریضہ ادا کرکے اس فتنہ کی سرکوبی کا ’’مجاہدانہ کام‘‘ انجام دے رہے ہیں ؛ جب کہ صورت حال کی سنگینی کا تقاضہ ہے کہ ہم اس کے اسباب و محرّکات کو تلاش کرکے ان کا سدِّباب کرنے کی کوشش کریں ۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں جن پر مستقل و مفصل خامہ فرسائی کی جاسکتی ہے، سردست اس فتنہ کے ایک بنیادی اور اہم ترین سبب کو ذکر کرنا ہے جس کومغرب نے اور سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجیت کو پوری دنیا پر تھوپنے والوں نے مستقل و منظم منصوبہ بندی کے ذریعے پوری دنیا میں رائج و نافذ کیا ہے اور وہ ہے ہماری تعلیم گاہوں اسکولوں اور کالجوں میں رائج مخلوط نظام تعلیم (Co-Education System )جو ایک ایسا سمِّ قاتل ہے جس نے ملت اسلامیہ کی نوجوان نسل کے اندر سے غیرت ایمانی اور حیا و شرافت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔

در اصل مغرب نے اسلام اور اسلامی تعلیمات کو دنیا سے دیس نکالا دینے کے لیے مسلمانوں کو زیر کرنے یا انھیں صفحۂ ہستی سے مٹانے کی بجائے تعلیم کے نام پر ان کی عقلوں اور مزاجوں کو مسخر کرنے کا کام کیا، جس کے ذریعے وہ ایک ایسی نسل تیار کرنا چاہتا تھا جو رنگ و نسل کے اعتبار سے اگرچہ مسلمان ہو؛مگر افکار و نظریات اور مزاج ومذاق کے اعتبار سے پوری طرح مغرب کی فکر و نظر سے ہم آہنگ ہو۔ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویـؒ فرماتے ہیں : ’’یہ مغربی نظام تعلیم درحقیقت مشرق اور اسلامی ممالک میں ایک گہرے اور خاموش قسم کی نسل کشی کے مرادف تھا، عقلائے مغرب نے ایک پوری نسل کو جسمانی طور پر ہلاک کرنے کے فرسودہ اور بدنام طریقے کو چھوڑ کر اس کو اپنے سانچے میں ڈھال لینے کا فیصلہ کیا اور اس کام کے لیے جابجا مراکز قائم کیے جن کو تعلیم گاہوں اور کالجوں کے نام سے موسوم کیا‘‘(مسلم ممالک میں مغربیت اور اسلامیت کی کشمکش)۔ حضرت اکبر الٰہ آبادی مرحوم نے فرعون کے بنی اسرائیل کے نومولود بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی ظالمانہ کاروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا :۔؎

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

گویا فرعون ایک دقیانوس شخص تھا ، اگر اس کو ہامان کی بجائے میکالے جیسا زیرک اور دور اندیش مشیر ملتا تو وہ ضرور اس سے کہتا کہ جہاں پناہ ! آپ اپنی سلطنت کی بقا کے لیے ان چند سو بچوں کا گلا گھونٹ کر زمانہ بھر کی رسوائی و بدنامی کیوں اپنے سر لیتے ہیں ؟ اس سے تو کئی گنا بہتر ہے کہ آپ ان کے درمیان ایک ایسا نظامِ تعلیم رائج کردیجیے جس کے ذریعے وہ فکری موت مر جائیں اور آپ کی حکومت و سلطنت کے لیے خطرہ نہیں ؛ بلکہ ممد و معاون ثابت ہوں ۔ یہ بات ہم جانتے ہیں کہ انگریز جب ہمارے ملک پر غاصبانہ قابض ہوئے تو ان کا یہی خیال تھا کہ یہ ہندوستانی قوم اپنی تعلیم حاصل کرکے ہمارے اقتدار کے لیے خطرہ بن جائے گی؛ چناچہ ان انگریزوں اور استعماری قوتوں نے اس ملک میں ایک ایسا مسموم نظامِ تعلیم نافذ کیاجس کے ذریعے انہوں نے ہماری نسلوں کی فکری وروحانی موت کا ایسا منظم منصوبہ تیار کیا جس کی تمام تر بنیاد انکارِ الوہیت اور خودغرضی و قوم پرستی پر رکھی گئی۔

اسلام کی نظر میں علم کا سب سے بڑا مقصدیہ ہے کہ انسان کو اپنے پیدا کرنے والے خالق و مالک کی معرفت حاصل ہو، اس کو شعور وآگہی حاصل ہو،اس کے اندر تحقیق و جستجو کی صلاحیت پیدا ہو، وہ تہذیبی اقدار سے آراستہ ہو ، انسان صحیح معنی میں انسان بن جائے، اس کے اندر خوداحتسابی ، ایثار و ہمدردی ، اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کا احساس پیداہو؛ جب کہ مغربی تعلیم کی بنیاد انکارِ الوہیت اور خودغرضی و قوم پرستی پر مبنی ہے، اس میں اپنی ذات کے لیے خود احتسابی یا دوسروں کے لیے ایثار و ہمدردی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ، تہذیبی اقدار،شرافتِ نفس اور حیا و پاک دامنی کے لیے اس نظام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ؎

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گذرگاہوں کا

اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا

آج تک فیصلۂ نفع و ضرر کر نہ سکا

جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا

زندگی کی شبِ تاریک سحرکر نہ سکا

مغربی نظام تعلیم اور خصوصاً مخلوط نظام تعلیم چونکہ دین فطرت اسلام کے دیے گئے اصول و قوانین تعلیم کو نظر انداز کرکے؛ بلکہ اس کو ختم کرنے کے مقصد سے ترتیب دیا گیا ہے، لہٰذا جہاں کہیں بھی یہ نظام تعلیم نافذ کیا گیا، وہاں اس کے سنگین و مہلک اثرات و نتائج مذہب بیزاری ، تہذیب و اقدار سے دست برداری اور شہوت رانی و جنسی انارکی ہی کی شکل میں نمودار ہوئے ہیں ، اور یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اسلامی تعلیمات میں مخلوط نظامِ تعلیم کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ دینِ اسلام تعلیمِ نسواں کا مخالف ہے؛بلکہ وہ اجنبی مرد اور اجنبی عورتوں کو مخلوط معاشرت سے منع کرتا ہے ، وہ مخلوط معاشرے کو نہ عبادات میں پسند کرتا ہے اور نہ ہی معاملات میں ،اسلام تعلیم نسواں کو کتنی اہمیت دیتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود رسالت مآب … نے خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک مخصوص دن مقرر فرمایاتھا جس میں آپ ان کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے اور اگر کسی عذر کی وجہ سے آپ تشریف نہ لے جا سکتے تو آپ صحابۂ کرامؓ میں سے کسی کو ان کی تعلیم کے لیے روانہ فرمادیا کرتے تھے۔ اسلام عورت کو اجنبی مردوں کے ساتھ عدمِ اختلاط اور پردے کے پورے اہتمام کے ساتھ تعلیم کی اجازت دیتا ہے؛ لیکن وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ صنف نازک کی نسوانیت کے تقدس کی حفاظت کو اس کی تعلیم سے کئی گنا زیادہ اہمیت دیتا ہے، وہ عورتوں کو حصول تعلیم سے منع نہیں کرتا ہے؛ بلکہ حصول تعلیم کے ان طریقوں سے منع کرتا ہے جن کے ذریعے اس کی نسوانیت کا تقدس پامال ہوتا ہو یا اس کی عصمت کے داغ دار ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہو، اوریہ بات بالکل روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے ملک میں رائج موجودہ مخلوط نظامِ تعلیم ایک ایسا نظام ہے جو طلباء و طالبات کو ہمہ وقت گمراہی و آوارگی پر ابھارتا رہتا ہے، جس کی تباہ کاریوں اور مضر اثرات کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں سرفہرست یہ بات ہے کہ وہ ہماری نوخیز نسل اور مستقبل کے معماروں سے سب سے پہلے حیا کی آخری رمق بھی چھین لیتا ہے۔

مخلوط نظامِ تعلیم کی تباہ کاریوں اور اس کے مضرات کو جاننے کے لیے ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ مخلوط نظامِ تعلیم کیا ہے ، اس کا آغاز کب اور کیوں ہوا؟ َ مخلوط نظام تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی مضمون کی تعلیم ایک ہی جگہ ، ایک ہی وقت اور ایک ہی طریقے سے لڑکا اور لڑکی دونوں کو بلا تفریق جنس ایک ساتھ دی جائے، نہ کوئی علیحدہ نشست کا نظم ہو نہ علیحدہ کلاس کا ۔ مذہب اسلام میں اس طریقۂ تعلیم کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ، یہ لعنت ہمارے پاس مغرب کی اندھی تقلید کے طفیل آئی ہے۔ اس طریقۂ تعلیم کی ابتداء سب سے پہلے ۱۷۷۴ء میں امریکہ میں ہوئی ، اس کے بعد ۱۸۶۷ء میں فرانس میں اور ۱۹۰۲ء میں انگلستان میں مخلوط تعلیم کا قانون پاس کیا گیا۔
مخلوط نظام تعلیم (Co-Education System )کے نقصانات

۱- تعلیمی معیار میں گراوٹ : دنیا کا کوئی بھی کام کامل توجہ اور مکمل یکسوئی کے بغیر بحسن و خوبی انجام نہیں پاسکتا ہے، بعینہٖ یہی معاملہ تعلیم کا بھی ہے کہ اس کے حصول کے لیے کامل توجہ اور مکمل یکسوئی ازحد ضروری ہے؛جب کہ مخلوط نظام تعلیم کے اداروں میں زیر تعلیم طلباء میں سب سے بڑا فقدان اسی ذہنی یکسوئی کا ہوتا ہے۔ وہ صنف مخالف کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ہمہ وقت اپنے لب و رخسار ، طرزِ ادا و گفتار، لباس و اطواراور اپنی چال ڈھال کو خوش نما و دیدہ زیب بنانے کے’’ کارِخیر‘‘ میں مگن ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں ذہنی یکسوئی بالکل بھی حاصل نہیں ہوپاتی ہے اور اس کا نتیجہ تعلیمی معیار کی پسماندگی اور گراوٹ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

۲- خوب سے خوب تر نظر آنے کی خواہش : یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر کسی مردیا عورت کو یہ پتہ چل جائے کہ کوئی غیر محر م صنف مخالف اس کو دیکھ یا اس کی باتیں سن رہاہے تو عموماًوہ شخص اس صنفِ مخالف کو لبھانے یااپنی طرف راغب کرنے کے لیے خود کو خوب سے خوب تر بناکر پیش کرنے اور اپنے آپ کو منفرد دکھانے کی کوشش کرنے لگ جاتا ہے، یہی صورتِ حال مخلوط نظام تعلیم میں طلباء و طالبات کی ہوتی ہے کہ وہ تعلیم کے اوقات میں اپنے ہم جماعت ساتھیوں کی نظر میں اپنے آپ کو منفرد بناکر پیش کرنے میں لگے رہتے ہیں اوراپنی اس انفرادیت کو برقرار رکھنے کے لیے وہ اپنا قیمتی وقت، پیسہ اور صلاحیت سبھی کچھ ضائع کرتے رہتے ہیں ۔

۳- دوستی و ناجائز تعلقات : دینِ اسلام اور اس کی تعلیمات میں اجنبی مرد و عورت یا لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان دوستی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے، دینِ اسلام زنا اور حرام کاری کے اس چور دروازہ کو حرام قرار دیتا ہے اور یہ بات بالکل عیاں ہے کہ مخلوط نظامِ تعلیم کے اداروں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کا سب سے محبوب مشغلہ صنف مخالف میں دلچسپی لینا، ان سے مذاق و دل لگی کرنا، ایک دوسرے کی توجہ حاصل کرنے یا اپنی طرف راغب کرانے کے مواقع تلاش کرتے رہنا ، نوٹس اور درسی مضامین کی یادداشتوں کے تبادلہ کے نام پر تعلقات اور دوستیاں پیدا کرنا ہوتا ہے؛ چنانچہ آج ان اداروں میں یہ صورت حال ہے کہ وہاں کے نوخیز اور کم سن طلباء و طالبات کے درمیان گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ بنانے کی ملعون روایت فیشن زدہ، روشن خیال اور مہذب ہونے کی علامت بن چکا ہے۔

۴- حیاء و جھجک کا ختم ہونا : مخلوط نظام تعلیم کی اس پراگندہ فضا میں جہاں طلباء و طالبات ہمہ وقت گپ شپ، ہنسی مذاق ، یاری دل لگی، اور دوستیاں و تعلقات پیدا کرنے میں لگے رہتے ہیں ، سب سے بڑی زک اگر کسی چیز پر پڑتی ہے تو وہ حیا و جھجک ہے ، اس ماحول میں سب سے پہلے طلباء و طالبات کے دل و نگاہ کی پاکیزگی اور حیا و جھجک کا جنازہ نکل جاتا ہے اور اس کی جگہ بے غیرتی و بے باکی اور بے شرمی و بے حیائی ان کے رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے۔ان کے آپس کے تعلقات صرف دید تک محدود نہیں رہتے ہیں ؛بلکہ وہ دھیرے دھیرے گفت وشنید ، بوس وکناراور ہم آغوش ہوتے ہوئے وہاں تک جا پہنچتے ہیں جس کو بیان کرنے سے زبان قلم عاجز ہے۔؎

دھیرے دھیرے آپ میرے دل کے مہماں ہوگئے

پہلے جاں ، پھر جانِ جاں ، پھر جانِ جاناں ہو گئے

مغرب و یوروپ (جہاں سب سے پہلے یہ نظام تعلیم نافذ کیا گیا) کی نوجوان نسل کا یہ حال ہے کہ وہاں کے اسکول و کالجس میں زیر تعلیم ۸۰سے ۹۰ فیصد طالبات تعلیمی سال کے اختتام تک متعدد مرتبہ اپنے ہم درس لڑکوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرچکی ہوتی ہیں اور شاید یہی وہ صورت حال ہے جس نے علامہ اقبالؒ سے یہ اشعار کہلوائے ۔؎

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت

بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن

ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت

۵- تہذیبی اقدار سے بغاوت اور خاندانی نظام کی تباہی: مخلوط نظام تعلیم کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کی نحوست سے ہماری نوجوان نسل اسلاف اور بزرگوں کی روایات اور تہذیبی اقدار سے بغاوت کرتی جارہی ہے،جس کی وجہ سے ہمارا خاندانی نظام تباہ وبرباد ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے یہ نوجوان اپنے ہم کلاس لڑکے یا لڑکی کے ساتھ تاکا جھانکی، نوک جھونک، چھیڑ چھاڑاور گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کرتے کرتے عشق و محبت کی شکل میں ہوس کے اس ’’اعلیٰ مقام‘‘ تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ایک دوسرے سے جنسی تسکین حاصل کیے بنا انھیں قرار نہیں ملتا۔ آخرکار وہ وقت آتا ہے کہ شرم و حیا اور غیرت کے پردوں کوپوری طرح چاک کرکے لڑکیاں خود اپنے والدین کو اپنی پسند سے آگاہ کرتی ہیں ، زیادہ تر والدین اپنی بچیوں کی اس پسند کو قبول نہیں کرتے ہیں ؛ کیونکہ وہ اس لڑکے کی دینی و اخلاقی حالت سے مطمئن نہیں ہوتے ہیں ، وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اس کا مقصد محض وقتی لذت، جنسی تسکین اور لڑکی کے والدین کی مالی حیثیت سے فائدہ اٹھانا ہے۔ لڑکیاں اپنے والدین کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں ، اگر وہ مان جائیں تو ٹھیک ورنہ یہ لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ’’کورٹ میرج‘‘ کرکے والدین اور پورے خاندان کی عزت کو رسوائی سے بدل دیتی ہیں ۔

مخلوط نظام تعلیم کی ان تمام تر خباثتوں اور مضر اثرات کے باوجود بھی اگر لڑکیوں کوان ہی اداروں میں اسی طرح ’’روشن خیال‘‘ اور ’’مہذب‘‘ بنانے کی دوڑ جاری رہی اور چراغِ خانہ کو شمعِ محفل بنانے کا عمل یوں ہی جاری رہاتو ڈر ہے کہ کہیں ان کے ارتداداور ان کی عزت و ناموس کی پامالی کے روح فرسا واقعات بڑھتے نہ چلے جائیں ۔ لڑکیوں کو تعلیم ضرور دی جائے؛ لیکن ایسی تعلیم جو ان کی فطرت اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہمیں صحیح و غلط کی سمجھ عطا فرمائے!(آمین)۔

علم کیا ہے؟

(1) امام سفیان بن عیینہؒ (المتوفیٰ 198ھ) کا فرمان ہے:
العلم ان لم ينفعك يضرك.
یعنی علم وہ ہے جو اگر تجھے نفع نہ پہنچائے تو پھر نقصان پہنچائے گا۔
[صفۃ الصفوۃ:1/427]

(2) علم عمل کا نام ہے، نقوش ویادداشت کا نہیں۔
امام شافعیؒ (المتوفیٰ 204ھ) نے فرمایا:
العلم ما نفع، لیس العلم ما حفظ ۔
یعنی علم وہ ہے جو نفع دے، وہ علم نہیں جو محفوظ کیا جائے۔
[سیر اعلام النبلاء:10/89]







لہذا، یہ دعائے نبوی ﷺ کرتے رہیے:
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک دعا یہ بھی ہے اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں علم غیر نافع سے، اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے ، اور اس دل سے جس میں خوف نہ اور ایسے نفس سے جو کبھی بھی سیر نہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ:250، ابوداؤد:1548، نسائی:5467]

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے اے اللہ! جو علم آپ نے مجھے عطا فرمایا اس سے نفع بھی دیجئے اور مجھے ایسے علوم سے نواز دیجئے جو میرے لئے نافع اور مفید ہوں اور میرے علم میں خوب اضافہ فرما دیجئے اور ہر حال میں تمام تعریفیں آپ ہی کے لیے ہیں۔ 
[جامع ترمذی:3599، ابن ماجۃ:251]




علم اور معلومات میں فرق:

*علم کثرتِ معلومات کا نام نہیں، حقیقت تک پہنچ جانے کا نام علم ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کسی نے سیر وسیاحت سے بہت سے چیزوں کو دیکھا ہو مگر کسی چیز کو اچھی طرح دیکھنے میں (یوں ہی سرسری طور دیکھنے والا) نگاہ کا کمزور ہے اور کسی نے سیر وسیاحت تو کم کی ہے لیکن نگاہ کا بہت تیز ہو چاہے اس نے تھوڑی چیزوں کو دیکھا ہو مگر حقیقت کو خوب پہچانا ہو۔
[تحفۃ المدارس:1/350]

*علم وہ نور[سورۃ الانعام:122] ہے جس کے حاصل ہونے کے بعد اس پر عمل کیے بغیر چین نہیں آتا کیونکہ وہ تمام خبریں جو انسان کے دماغ میں موجود ہیں مگر عمل میں نہیں، تو وہ معلومات کہلائیں گی۔
[خطباتِ فقیر:4/127]







علم کی دو بنیادی اقسام:
عَنِ الْحَسَنِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعِلْمُ عِلْمَانِ : عِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَاكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ , وَعِلْمٌ عَلَى اللِّسَانِ فَتِلْكَ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ " .
ترجمہ:
حضرت حسنؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کی دو(2)قسمیں ہیں: ایک وہ جو دل میں(اللہ کا ڈر پیدا کرتا)ہے، یہی علم نافع ہے۔ اور جو علم(مال، شہرت یا مقابلے کیلئے)زبان پر ہو، وہ تو اللہ کی حجت(الزامی دلیل)ہے اس کے بندوں پر۔
[الزهد والرقائق لابن المبارك:1161، المصنف-ابن أبي شيبة:34361، مسند الدارمي:376، شعب الایمان للبیھقی:1686، جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر:1150، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:300، الإتحاف:23975، كنز العمال:28667+28947، جامع الأحاديث للسیوطی:14498، حکیم ترمذی:2/303]
تفسير القرطبي = سورة الأعراف : آية 175
تفسير ابن رجب الحنبلي سورۃ فاطر:27




نبی ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا۔[ابوداود:5012]
بعض علوم جہالت ہیں۔

جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا:
اور ہم نے نہیں سکھایا اس نبی کو شعر۔
[سورۃ یٰس:69]
۔۔۔ بلکہ شیطانوں نے کفر کیا کہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو۔۔۔
[سورۃ البقرۃ:102]




عُلَماء کسی کو مسلم/کافر بناتے نہیں، بس بتاتے ہیں۔  جس طرح ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ کون مریض/صحتمند ہے، یا جج بتاتے ہیں کہ کون مجرم/معزز ہے۔

الله پاک ہی نے مسلم/کافر میں فرق کرنے کی قرآن مجید میں تعلیم دی ہے کہ کون اپنے ہی باتوں اور اعمال سے خود کو مسلم یا کافر بنادیتا ہے۔
[حوالہ سورۃ النساء:150-151، الانفال:2-4]





نافرمان سائنسدانوں، ڈاکٹرز اور اسکالرز کے علم کی حد:
فَأَعرِض عَن مَن تَوَلّىٰ عَن ذِكرِنا وَلَم يُرِد إِلَّا الحَيوٰةَ الدُّنيا {53:29} ذٰلِكَ مَبلَغُهُم مِنَ العِلمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ وَهُوَ أَعلَمُ بِمَنِ اهتَدىٰ {53:30}
تو اس سے تم بھی منہ پھیرلو جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو۔ ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا۔
[سورۃ النجم:29+30]



أَفَرَءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوىٰهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلىٰ عِلمٍ وَخَتَمَ عَلىٰ سَمعِهِ وَقَلبِهِ وَجَعَلَ عَلىٰ بَصَرِهِ غِشٰوَةً فَمَن يَهديهِ مِن بَعدِ اللَّهِ ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ {45:23}
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود علم ہونے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) اللہ نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب اللہ کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟
[سورۃ الجاثیۃ:23]





علم اور سائنس میں فرق:

معلوم ہوا کہ فن (Art/Technic) یا معلومات(Information) یا تجربات ومشاہدات(Sciences) کا عموماً ارادہ ومقصد اللہ(کے احکام)کو بھلاکر یعنی خلافِ شریعت وناجائز طریقہ سے دنیا کماکر عیاشیاں کرنا اور اس من مانی میں خود کو خدا بنالیا جاتا ہے۔

جبکہ


علم وہ روشنی ہے جس کے ذریعہ، سب کے مالک وخالق (وجود میں لانے والے) کی ایسی پہچان وعظمت حاصل ہو کہ جس سے اس کی بغاوت ونافرمانی پر مصیبت وعذاب کا ایسا ڈر پیدا ہو کہ بچنا نصیب ہو۔ جو قرآنی باتوں کی سمجھ پیدا کرے۔ جو کلامِ الٰہی پر ایمان میں پختگی اور بندگی(نیک اعمال) پر ابھارتا ہو۔

دلائلِ قرآن:
أَوَمَن كانَ مَيتًا فَأَحيَينٰهُ وَجَعَلنا لَهُ نورًا يَمشى بِهِ فِى النّاسِ كَمَن مَثَلُهُ فِى الظُّلُمٰتِ لَيسَ بِخارِجٍ مِنها ۚ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلكٰفِرينَ ما كانوا يَعمَلونَ 
ترجمہ:
بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کردی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں۔
[سورۃ الانعام:122]

إِنَّما يَخشَى اللَّهَ مِن عِبادِهِ العُلَمٰؤُا۟ 
ترجمہ:
 ...اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔
[سورۃ فاطر:28]


وَتِلكَ الأَمثٰلُ نَضرِبُها لِلنّاسِ ۖ وَما يَعقِلُها إِلَّا العٰلِمونَ 

ترجمہ:
"اور یہ مثالیں بتلاتے ہیں ہم لوگوں کے واسطے اور ان کو سمجھتے وہی ہیں جن کو سمجھ(علم) ہے."
[سورۃ العنکبوت :43]

ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِه څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَه اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِه ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ.
ترجمہ:
"وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب، اس میں بعض آیتیں ہیں محکم یعنی انکے معنیٰ واضح ہیں وہ اصل ہیں کتاب کی، اور دوسری ہیں متشابہ یعنی جنکے معنیٰ معلوم یا معین نہیں، سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے، اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے، اور مضبوط علم والے کہتے ہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں، اور سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے"۔
[سورۃ آل عمران:7]


اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّه ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ 

ترجمہ:
بھلا (کیا ایسا شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے، اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے؟ کہو کہ : کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں ؟ (5) (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔
[سورۃ الزمر:9]
5: یعنی اگر آخرت کا حساب و کتاب نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ مومن کافر اور بدکار اور نیک سب برابر ہوجائیں گے، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور انصاف سے ممکن نہیں۔





علم کیا ہے؟


حضرت ابوہريرهؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ كُلَّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ جِيفَةُ اللَّيْلِ، حِمَارُ النَّهَارِ، عَالِمٌ بِالدُّنْيَا، جَاهِلٌ بِالْآخِرَةِ»
ترجمہ:
بےشک اللہ عز وجل نفرت رکھتے ہیں ہر بدخلق، اجڈ اور بازاروں میں شور مچانے والے، رات کو گوشت کا لوتھڑا(بغیر سوئے)رہنے والے، دن کے گدھے، دنیا کے عالم، آخرت سے جاہل سے۔
[صحيح ابن حبان:72، السنن الكبرى للبيهقي:20804، صحيح الجامع:1879]


فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ۔
ترجمہ:
قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ(دینی)علم اٹھالیا جائے گا اور جہالت عام ہوجائے گی۔
[بخاری:79، مسلم:2671]




امام ابن جماعۃؒ(م733ھ) نے فرمایا:
« من أعظم البلية تشييخ الصحيفة والأخذ عن الورقة »
ترجمہ:
ان عظیم مصیبتوں میں سے یہ بھی ہے کہ کتابوں کے ذریعے شیخ (استاذ) بننا اور کاغذ سے (تعلیم) لینا۔

[تذكرة السامع والمتكلم: (امام ابن جماعة) ص87]


امام سلیمان بن موسیٰ الاشدقؒ (م119ھ) فرمایا کرتے تھے:
«لَا ‌تَأْخُذُوا ‌الْعِلْمَ ‌مِنَ ‌الصَّحَفِيِّينَ»
ترجمہ:
کتابی لوگوں سے علم حاصل مت کرو۔
[المدخل إلى السنن الكبرى-امام البيهقي(م458ھ) - تحقیق عوامة : حدیث نمبر 504]
[الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي(م463ھ): ص 162]



امام شافعیؒ (م 204ھ) نے فرمایا:
« من تفقه من بطون الكتب ضيع الأحكام »
یعنی
جو(مستند عُلَماء کے بغیر)کتابوں سے علم حاصل کرے، وہ احکام کو ضایع کرے گا۔
[تذكرة السامع والمتكلم في أدب العالم والمتعلم (امام ابن جماعةؒ) : ص87
العقد التليد في اختصار الدر النضيد (امام العَلْمَويؒ) : ص 141]

مثلاً:
’’۔۔۔اور نہیں کفر وانکار کرتے ان(آیات)کا مگر نافرمان ہی‘‘ اس آیت سے جاہل یہ حکم لگائے گا کہ مؤمن اگر نافرمانی کرے تو وہ کافر ہے، حالانکہ اسے گناہگار مؤمن کہتے ہیں کافر نہیں، کیونکہ وہ گناہ کو گناہ ’’مانتا‘‘ ہے اور توبہ وتقویٰ کا ارادہ وتوفیق ممکن ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جسے اچھی لگے اپنی اچھائی اور بری لگے اپنی برائی تو وہ مؤمن ہے۔[ترمذیؒ:2165] اور اللہ نے بھی کافرانہ حرکات کرنے والے، ادھورے ایمان لانے والے، گناہ گار کو نصیحت کرتے ایمان والا ہی پکارا ہے ۔۔۔ کہ ... مؤمنو! نہ ہونا کافروں جیسے...[سورة-آل عمران:156] مؤمنو! ایمان لاؤ(پورا سچا)...[النساء:136] مؤمنو! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے۔۔۔[سورة البقرة:208] مؤمنو! توبہ کرو الله کی طرف سچی توبہ...[التحریم:8]
یا
اس حدیث سے کہ ’’مومن نجس نہیں ہوتا‘‘ جاہل یہ مسئلہ سمجھے سمجھائے کہ مومن پر غسل فرض ہی نہیں ہوتا، تو کیا احکام ضائع نہ ہوں گے؟





امام مالکؒ (المتوفیٰ 179ھ) تو یہاں تک فرما گئے کہ:
"لَا يُؤْخَذُ الْعِلْمُ عَنْ أَرْبَعَةٍ؛ وَيُؤْخَذُ عَمَّنْ سِوَاهُمْ: لَا يُؤْخَذُ عَنْ مُبْتَدِعٍ يَدْعُو إِلَى بِدْعَتِهِ، وَلَا عَنْ سَفِيهٍ يُعْلِنُ بِالسَّفَهِ، وَلَا عَمَّنْ يَكْذِبُ فِي ‌أَحَادِيثِ النَّاسِ، وَإِنْ كَانَ يَصْدُقُ فِي ‌أَحَادِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا ‌عَمَّنْ ‌لَا ‌يَعْرِفُ هَذَا الشَّأْنَ.
ترجمہ:
علمِ چار شخصوں سے نہ لیا جائے: نہ بدعتی سے، نہ بیوقوف(غیرفقیہ) سے، نہ اس شخص سے جو لوگوں کی باتوں میں جھوٹ بول لیتا ہو اگرچہ حدیثِ نبوی میں سچ ہی کہتا ہو، اور نہ اس سے جو اس(موضوع)کی شان(موقع)کو ہی نہ جانتا ہو۔
[مقدمہ اوجز المسالک:6، تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي:1/30 دار طيبة]
المجالسة وجواهر العلم:1891+3053، المعجم لابن المقرئ:1084، جامع بيان العلم وفضله:1542، الكفاية في علم الرواية:ص160







قوله: ثلاث مسائل: التعلم هنا معناه: التلقي عن العلماء والحفظ والفهم والإدراك، هذا هو التعلم، ليس المراد مجرد قراءة أو مطالعة حرة كما يسمونها هذا ليس تعلما إنما التعلم هو: التلقي عن أهل العلم مع حفظ ذلك وفهمه وإدراكه تمامًا، هذا هو التعلم الصحيح، أما مجرد القراءة والمطالعة فإنها لا تكفي في التعلم وإن كانت مطلوبة، وفيها فائدة لكنها لا تكفي، ولا يكفي الاقتصار عليها. ولا يجوز التتلمذ على الكتب كما هو الواقع في هذا الوقت، لأن التتلمذ على الكتب خطير جدا يحصل منه مفاسد وتعالم أضر من الجهل، لأن الجاهل يعرف أنه جاهل ويقف عند حده، لكن المتعالم يرى أنه عالم فيحل ما حرم الله، ويحرم ما أحل الله، ويتكلم ويقول على الله بلا علم فالمسألة خطيرة جدا۔ فالعلم لا يؤخذ من الكتب مباشرة إنما الكتب وسائل، أما حقيقة العلم فإنها تؤخذ ‌عن ‌العلماء جيلًا بعد جيل والكتب إنما هي وسائل لطلب العلم۔
ترجمہ:
شیخ محمد بن عبد الوھاب کا قول ہے:
تین مسائل (یعنی اللہ کی معرفت، رسول اللہ ﷺ کی معرفت اور دین اسلام کی معرفت):
یہاں تعلم(علم حاصل کرنے)سے مراد علمائے کرام سے علم حاصل کرنا، اسے حفظ کرنا، اس کا فہم و ادراک حاصل کرنا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ محض پڑھائی یا جس طرح نام دیا جاتا ہے "آزادانہ مطالعہ" کیا جائے، یہ تعلیم نہیں بلکہ تعلیم تو یہ ہے کہ علماء کرام سے (علم) حاصل کیا جائے اس کے حفظ، فہم اور مکمل ادراک کے ساتھ۔ یہ ہے صحیح معنوں میں علم حاصل کرنا، جبکہ صرف خود کتاب پڑھنا اور مطالعہ کرنا اگرچہ مطلوب تو ہے مگر تعلم(علم حاصل کرنے) کے لئے کافی نہیں، اس میں فائدہ بھی ہے مگر یہ کفایت نہیں کرتا اور اس پر اختصار کرنا کافی نہیں۔ کتابوں کا تلمذاور شاگردی اختیار کرنا جائز نہیں جیسا کہ لوگوں کی موجودہ حالت ہے، کیونکہ کتابوں کا تلمذ(شاگردی) اختیار کرنا بہت خطرناک ہے جس سے بہت مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور یہ علم حاصل کرنا تو جہل سے زیادہ نقصان دہ ہے، کیونکہ جاھل جانتا ہے کہ وہ جاھل ہے لہذا وہ اپنی حد پر رک جاتا ہے، لیکن المتعلم (علم کا دعویدار) سمجھتا ہے کہ وہ عالم ہے لہذا وہ اللہ کے حلال کردہ کو حرام اور حرام کردہ کو حلال قرار دیتا ہے اور اللہ کے بارے میں بغیر علم کے بولتا ہے اور کلام کرتا ہے، لہذا یہ مسئلہ بہت خطرناک ہے۔ لہذا علم کتابوں سے براہ راست حاصل نہیں کیا جاتا بلکہ کتابیں تو وسیلہ ہیں، جبکہ حقیقی معنوں میں علم تو علماء کرام سے حاصل ہوتا ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے، اور کتابیں تو علم حاصل کرنے کے وسائل میں سے ہیں۔
[شرح ثلاثة الأصول لصالح الفوزان: ص41-42 الناشر: مؤسسة الرسالة]


مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے فرمایا:

آپ کو علمی ذوق اور مطالعہ کا شوق بھی ہے اسلامی لٹریچر پڑھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک بات میں اپنے تجربے کی بناپر کہتا ہوں کہ آپ سلف صالحین اور امت کے ان لوگوں سے جنہوں نے اپنے دائرہ میں دینی و ملی کام کیا ہے بدگمان نہ ہوں یہ بڑے خطرے کی بات ہے ،یہ بات ہمارے ان بھائیوں میں بہت زیادہ پیدا ہوتی جارہی ہے جن کا سارا انحصار مطالعہ پر ہے، وہ تنقیدی کتابیں اور مضامین پڑھتے ہیں تو ان کو ایسا نظر آنے لگتا ہے کہ کسی نے اسلام پر مکمل کام ہی نہیں کیا ،ان کتابوں کے اثر سے وہ دینی خدمت کے ناپنے کے لئے ایک فیتہ بنا لیتے ہیں جس سے وہ ہر مصلح اور مجدد کو ناپتے ہیں جیسے فوج میں بھرتی ہونے والے رنگروٹ ناپے جاتے ہیں یہ صحیح نہیں ،آپ کو معلوم نہیں کہ ان اللہ کے بندوں نے کن سخت حالات میں کام کیا ۔ میں صاف کہتا ہوں کہ اسلام اب جو دنیا میں محفوظ ہے اور زندہ ہے اس میں سب کا حصہ ہے محدثین ،فقہاء،صلحاء امت،اولیا ء اللہ رحمہم اللہ سب کا اس میں حصہ ہے ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کیا کرتے تھے؟نماز روزے کے مسائل بتاتے تھے انہیں تو اسلامی خلافت وسلطنت قائم کرنی چاہئے تھی ،تو صاحب خلافت تو قائم ہوجاتی لیکن آپ کو نماز پڑھنا کون سکھاتا؟ اور وہ خلافت کس کام کی جس میں نماز پڑھنا کسی نہ آتا ہو؟ یاد رکھیے! سب لوگ اپنے امکان واستطاعت کے مطابق دین کی خدمت اور اس کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے ،کوئی وعظ کہہ رہا تھا کوئی تقریر کررہاتھا ،اور کوئی حدیث پڑھا رہا تھا،کوئی فتوے دے رہا تھا اور کوئی کتابیں لکھ رہا تھا ،اپنی اپنی جگہ اسلام کی خدمت ور مسلمانوں کی تربیت کا کام کررہے تھے اور ہر ایک نے الگ محاذ سنبھال رکھا تھا جن لوگوں نے اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ کا نام سکھایا اور لوگوں کی تربیت کی ان کے کام کی تحقیر نہ کی جائے یہ کام انہوں نے کیا جن کو عرف عام میں صوفیائے کرام کہتے ہیں ،آپ کو معلوم نہیں کہ صوفیائے کرام نے کیا خدمت انجام دی ؟انہوں نے اسلامی معاشرے کو زوال سے بچایا،اس کا میرے پاس ثبوت ہے۔انہوں نے ایسا بنیادی کام کیا اگر وہ نہ کرتے تو مادیت کا یہ سیلاب لوگوں کو بہا کر لے جاتا اور تنکے کی طرح امت اسلامیہ بہتی، انہی کی وجہ سے لوگ رکے ہوئے تھے ،اور ہوس رانی ،نفس پرستی کا بازار گرم نہیں ہونے پاتاتھا، اورجو کوئی اس کا شکار ہوجاتا تھا تو فوراً اس میں احساس پیدا ہوتا تھا کہ ہم غلط کام کررہے ہیں ان کے پاس آتا تھا ،روتا تھا،استغفار کرتا تھا پھر یہ صوفیا ومشائخ کام کے آدمی بناتے تھے اور اپنی جگہ پر فٹ کرتے تھے ۔

(خطبات علی میاں ص:۱۴۳،۱۴۵ج۳)





امام ابن عيينةؒ (م198ھ) نے فرمایا
الحديث ‌مضلة إلا للفقهاء.
ترجمہ:
حدیث گمراہی ہے سوائے فقہاء (یعنی گہری سمجھ رکھنے والے علماء) کیلئے۔
[الجامع في السنن والآداب والمغازي والتاريخ (ابن أبي زيد القيرواني م386ھ) : ص118]
تفسير الموطأ للقنازعي (م413ھ) : 1/ 164،
الجامع لمسائل المدونة (ابن يونس الصقلي م451ھ) :24/ 65،
مسائل أبي الوليد ابن رشد (م520ھ) : 1/ 672





امام ابن وهبؒ (م197ھ) نے فرمایا:
الحديث ‌مضلة إلا للعلماء. ولولا مالك والليث لضللنا۔
ترجمہ:
حدیث گمراہی ہے سوائے گہری سمجھ رکھنے والے علماء کیلئے۔ اور اگر  امام مالکؒ اور امام لیثؒ (جیسے فقہاء) نہ ہوتے تو ہم گمراہ ہوجاتے۔
[ترتيب المدارك وتقريب المسالك (القاضي عياض م٥٤٤ھ): 1/91]




حضرت ابن وهبؒ (م197ھ) نے فرمایا:
كل ‌صاحب ‌حديث ليس له إمام في الفقه فهو ‌ضال ولولا أن الله أنقذنا بمالك والليث لضللنا.
ترجمہ:
ہر وہ حدیث والا(عالم) جس کا فقہ میں کوئی امام نہ ہو تو وہ گمراہ ہے، اور اگر اللہ نہ بچاتا ہمیں مالکؒ اور لیثؒ (جیسے امام) کے ذریعے تو ہم یقینا گمراہ ہوجاتے۔
[الجامع في السنن والآداب والمغازي والتاريخ (ابن أبي زيد القيرواني م386ھ) : ص119]
الجامع لمسائل المدونة (ابن يونس الصقلي م451ھ) :24/65،
ترتيب المدارك وتقريب المسالك (القاضي عياض م544ھ): 1/ 91+171
طبقات علماء الحديث (ابن عبد الهادي م744ھ) : 1/314




تبع تابعی حضرت عبدالرحمن بن مہدیؒ (م198ھ) نے فرمایا:
السُّنَّةُ الْمُتَقَدِّمَةُ مِنْ سُنَّةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ‌خَيْرٌ ‌مِنَ ‌الْحَدِيثِ۔
ترجمہ:
حدیث سے بہتر ہے مدینہ والوں کی سنت پہلے لوگوں کی سنت میں سے۔
[مسند الموطأ للجوهري (م381ھ) : حدیث نمبر56]

يريد أنه أقوى من نقل الآحاد۔
ترجمہ:
مراد یہ ہے کہ وہ(پہلے لوگوں کا اجتماعی طریقہ) زیادہ قوت والا ہے نقل کردہ اکیلی(حدیث وخبر)کے۔
[الذب عن مذهب الإمام مالك (ابن أبي زيد القيرواني م386ھ) : 1 /274]






کیا علماء کے بغیر کتاب کا وجود کارآمد(فائدیمند) ہے؟

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «خُذُوا الْعِلْمَ قَبْلَ أَنْ يَذْهَبَ». قَالُوا: وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَفِينَا كِتَابُ اللَّهِ؟ قَالَ: فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ: «ثَكِلَتْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ أَوَلَمْ تَكُنِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمْ شَيْئًا؟ إِنَّ ذَهَابَ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ حَمَلَتُهُ، إِنَّ ذَهَابَ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ حَمَلَتُهُ» 
ترجمہ:
حضرت ابوامامہؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: علم کے رخصت ہوجانے سے پہلے اسے حاصل کرلو۔ لوگوں نے دریافت کیا اے اللہ کے نبی علم کیسے رخصت ہوگا جبکہ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ ناراض ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: تمہاری مائیں تمہیں روئیں۔ کیا تورات اور انجیل بنی اسرائیل میں موجود نہیں تھیں۔ یہ دونوں ان کے کیا کام آسکیں؟ بےشک علم کا رخصت ہونا یہ ہے کہ اس کے رکھنے والے (عالم) رخصت ہوجائیں گے، بےشک علم کا رخصت ہونا یہ ہے کہ اس کے رکھنے والے 
(عالم) رخصت ہوجائیں گے۔
[سنن الدارمی:246]
تخریج: سنن ابن ماجہ:228، سنن ترمذی:2653


شواہد:

(1) عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَقَالَ: «ذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ، وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا، وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ زِيَادُ إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ، وَالْإِنْجِيلَ لَا يَعْمَلُونَ بِشَيْءٍ مِمَّا فِيهِمَا؟»
ترجمہ:
حضرت زیاد بن لبید انصاریؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا : نبی ﷺ نے کسی واقعے کا ذکر کیا اور فرمایا : یہ علم چلے جانے کے وقت ہوگا۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! علم کیسے اٹھ جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو پڑھائیں گے ؟ قیامت تک (اسی طرح سلسلہ جاری رہے گا۔) نبی ﷺ نے فرمایا : زیاد ! تیری ماں تجھے روئے، میں تو تجھے مدینے میں سب سے زیادہ سمجھدار آدمی خیال کرتا تھا۔ کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ لیکن وہ ان میں موجود کسی حکم پر عمل نہیں کرتے۔
[سنن ابن ماجہ:4048 کتاب الفتن، بَابُ ذَهَابِ الْقُرْآنِ وَالْعِلْمِ]
یعنی
بے عملی کا سبب علماء سے دوری ہے۔ قرآن ومسجد سے امت کو دور کرنے کیلئے شیطانی گروہ لوگوں کو تمام علماء یا ان کے بڑے کی تحقیر پر لگادیتا ہے۔ یہ تعمیر نہیں تخریب ہے۔




(2) عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ العِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ» فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ الأَنْصَارِيُّ: كَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا وَقَدْ قَرَأْنَا القُرْآنَ فَوَاللَّهِ لَنَقْرَأَنَّهُ وَلَنُقْرِئَنَّهُ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا، فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا زِيَادُ، إِنْ كُنْتُ لَأَعُدُّكَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ المَدِينَةِ هَذِهِ التَّوْرَاةُ وَالإِنْجِيلُ عِنْدَ اليَهُودِ وَالنَّصَارَى فَمَاذَا تُغْنِي عَنْهُمْ؟»
ترجمہ:
حضرت ابودرداءُ سے بھی روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ﷺ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا پھر فرمایا: یہ ایسا وقت ہے کہ لوگوں سے علم کھینچا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ اس میں سے کوئی چیز ان کے قابو میں نہیں رہے گی۔ زیاد بن لبید انصاریؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم سے کیسے علم سلب کیا جائے گا جب کہ ہم نے قرآن پڑھا ہے اور اللہ کی قسم ہم اسے خود بھی پڑھیں گے اور اپنی اولاد اور عورتوں کو بھی پڑھائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں تم پر روئے اے زیاد ! میں تو تمہیں مدینہ کے فقہاء میں شمار کرتا تھا۔ کیا تورات اور انجیل یہود و نصاری کے پاس نہیں ہے۔ لیکن انہیں کیا فائدہ پہنچا؟
[صحيح الترمذي:2653، سنن الدارمی:296، حاکم:338]



(3) الراوي : وحشي بن حرب
أن رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قال يُوشكُ العلمُ أن يُختَلَسَ من الناسِ حتى لا يقدروا منه على شيءٍ فقال زيادُ بنُ لبيدٍ وكيفَ يُختلسُ منا العلمُ وقد قرأنا القرآنَ وأقرأناه أبناءَنا فقال ثكلتك أمُّك يا ابنَ لبيدٍ هذه التوراةُ والإنجيلُ بأيدِي اليهودِ والنصارَى ما يرفعون بها رأسًا
[مجمع الزوائد: 979 | خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن]






(4) الراوي : عوف بن مالك الأشجعي
أنَّ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ نظرَ إلى السَّماءِ فقالَ : هذا أوانُ يرفعُ العلمُ من النَّاسِ فقالَ زيادُ بنُ لبيدٍ يا رسولَ اللَّهِ وَكيفَ وقد قرأنا القرآنَ واللَّهِ لنقرأنَّهُ ولنقرأنَّهُ أبناءنا ونساءنا ؟ فقالَ : ثَكلتْكَ أمُّكَ يا زيادُ ، إن كنتُ لأعدّكَ من أفقَهِ أَهلِ المدينةِ ، هذِهِ التَّوراةُ والإنجيلُ عندَ اليَهودِ فماذا يغني عنْهم
[المحدث : ابن مفلح | المصدر : الآداب الشرعية2/67 | خلاصة حكم المحدث : إسناده جيد]


نبوی نصیحت:
اور ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشَّرِّ ، فَقَالَ : " لَا تَسْأَلُونِي عَنْ الشَّرِّ ، وَاسْأَلُونِي عَنْ الْخَيْرِ ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ ، وَإِنَّ خَيْرَ الْخَيْرِ خِيَارُ الْعُلَمَاءِ "۔
[الدارمي:382، إتحاف المهرة:24145، مشكاة:267]
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے شر کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ سے شر کے بارے میں سوال مت کرو بلکہ خیر کے بارے میں سوال کرو پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شر میں بدتر شر علمائے سو کا شر ہے اور تمام بھلائیوں میں اعلی درجہ کی بھلائی علماء کا خیر ہے۔

تشریح:
اس حدیث کی روشنی میں یقینی طور پر یہ بات معلوم ہوئی کہ آدمی کو شر کے بارے میں سوال نہیں کرنا چاہیے بلکہ خیر کے بارے میں سوال کرنا چاہیے، لہٰذا آدمی علمائے شر کی علامات کے بجائے علمائے حق کی پہچان معلوم کرنی چاہیے کیونکہ اسی سے دینی اور دنیوی فائدہ وابستہ ہے، علمائے حق کو علامات کے ذریعہ پہچان کر ان سے مربوط اور منسلک رہیں گے تو اس سے ہی دین اور دنیا کا فائدہ حاصل ہوگا، علمائے سو کی علامات معلوم بھی ہوگئیں تو اس کا انطباق کرنا آسان نہیں، اور نہ یہ ہر شخص کے بس کی بات ہے، بلکہ یہ(گہرے علم والے) علمائے متبحرین کا کام ہے(جیسے: اصلی سونا پرکھنے میں ہر بےعلم عوام سے رائے نہیں لی جاتی) ، اور اگر علامات سے اندازہ لگا کر آپ نے کسی کو برا عالم سمجھ لیا اور اس سے بدگمان ہوگئے تو اس میں بھی آپ کے لیے خطرہ ہے کہ اگر وہ اللہ کے نزدیک ایسا نہ ہوا جیسا آپ سمجھ رہے ہیں تو پھر آپ کے دین وایمان کے لیے سخت مہلک ثابت ہوگا، لہٰذا خواہ مخواہ اس تحقیق میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ کون برا عالم ہے بلکہ اس تحقیق کی ضرورت ہے کہ کون عالمِ حق ہے تاکہ اس سے فائدہ حاصل کیا جاسکے۔ 

آپ جسمانی صحت کے لیے ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنا چاہتے ہیں تو یہ معلوم کرتے ہیں کہ اس مرض کا اچھا ڈاکٹر کون کون ہے، اور اچھے تجربہ کار لوگ کس ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، اس تحقیق میں نہیں پڑتے کہ شہر میں کتنے غیر مستند ڈاکٹر یا اناڑی جھولا چھاپ معالج ہیں؟ پس اپنے کام کی بات دریافت کرنا چاہیے۔









عالمِ دین کی ظاہری صفات:
امام سفیان بن عیینہؒ (المتوفیٰ 198ھ) نے فرمایا:
«طَلَبُ الْعِلْمِ وَالْجِهَادِ فَرِيضَةٌ عَلَى جَمَاعَتِهِمْ وَيُجْزِئُ فِيهِ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ»

(پورا)علم کا طلب کرنا اور جہاد کرنا مسلمانوں کی جماعت پر فرض(کفایہ)ہے کہ ایک گروہ ادا کردے تو باقی لوگ سبکدوش ہوجاتے ہیں۔

پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:
اور مسلمانوں کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ (ہمیشہ) سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہوں۔ لہذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ (جہاد کے لیے) نکلا کرے، تاکہ (جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں) وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے محنت کریں، اور جب ان کی قوم کے لوگ (جو جہاد میں گئے ہیں) ان کے پاس واپس آئیں تو یہ ان کو خبردار کریں، تاکہ وہ بچ کر رہیں۔
[سورۃ التوبۃ:122]
یعنی
(1) جو دین میں سمجھ حاصل کرنے کیلئے "محصور" رہیں۔
(2) اور اپنی قوم کو "ڈرانے-خبردار" کرنے والے ہوں، بشرطیکہ قوم ان کے پاس آئے یعنی اعتماد کرے
(3) تاکہ وہ انہیں گناہوں کے عذاب سے بچانے کا سبب بنیں۔



دوسرے موقع پر اللہ نے فرمایا:
اور ہم نے بنائے ان میں سے کئی امام (جو) ہدایت دیتے تھے ہمارے حکم سے جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر وہ یقین رکھتے تھے ۔
[سورۃ السجدۃ:24]


(مالی امداد کے بطور خاص) مستحق وہ فقرا ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں اس طرح مقید کر رکھا ہے کہ وہ (معاش کی تلاش کے لیے) زمین میں چل پھر نہیں سکتے۔ چونکہ وہ اتنے پاک دامن ہیں کہ کسی سے سوال نہیں کرتے، اس لیے ناواقف آدمی انہیں مال دار سمجھتا ہے، تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان ( کی اندرونی حالت) کو پہچان سکتے ہو (مگر) وہ لوگوں سے لگ لِپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ اور تم جو مال بھی خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ 
[سورۃ البقرۃ:273]


لہٰذا

(4) جنہیں اللہ نے راہنما بننے کیلئے چنا۔
(5) وہ اللہ کے احکام کے ذریعے ہدایت دیتے ہیں۔
(6) جب انہوں نے صبر کیا، یعنی دین میں سمجھ حاصل کرنے کیلئے دنیا کی زینت کمانے سے رکے رہے اور علم رکھنے والے کے پاس پابند رہے اور مخالفین کی برداشت کرتے رہے اور خوف، غم ولالچ کے باوجود اسی راہ پر ڈٹ کر جمے رہے ے۔ یعنی جو آزمائش میں رہیں گے اور صبر کی توفیق بھی نصیب ہوگی۔
(7) کیونکہ وہ اللہ کے وجود، قدرت اور وعدوں پر یقین رکھتے ہیں۔

علم اور فقہ میں فرق-1
فقہ کا حاصل کرنا فرض کفایہ ہے، جبکہ علم حاصل کرنا فرضِ عین نہیں۔
القرآن:
اور مسلمانوں کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ (ہمیشہ) سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہوں۔ لہذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ (جہاد کے لیے) نکلا کرے، تاکہ (جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں) وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے محنت کریں، اور جب ان کی قوم کے لوگ (جو جہاد میں گئے ہیں) ان کے پاس واپس آئیں تو یہ ان کو متنبہ کریں، تاکہ وہ (گناہوں سے) بچ کر رہیں۔
[سورۃ التوبہ:122]
یہ آیت دو اہم کاموں کی تقسیم کرتی ہے:
جہاد: 
ایک گروہ کا فرضِ کفایہ (اگر بعض ادا کریں تو سب سے ساقط ہو جاتا ہے)۔
علم دین میں تفقہ: 
دوسرے گروہ کا فرض، تاکہ وہ دین کی گہرائی سے سمجھ بوجھ حاصل کریں اور لوگوں کو تعلیم دیں۔

"یہ آیت فقہاء کے(وجود کے) فرضِ کفایہ ہونے پر دلالت کرتی ہے، جبکہ عام لوگوں پر (موجودہ حالت وضرورت کے احکام پر عمل کا) علم فرض ہے۔"
[تفسیر ابن کثیر]
"جہاد اور علم دونوں فرائض ہیں، لیکن علم کی بعض اقسام ہر فرد پر لازم ہیں۔"
[تفسیر القرطبی]
"ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اتنا علم ضرور حاصل کرے جس سے اس کے فرائض و سنن پورے ہوں، لیکن تفصیلی علم (فقہ، تفسیر، حدیث) اہل علم کا خاصہ ہے۔"
[مفتاح دار السعادہ-امام ابن قیم]
"بنیادی عقائد و عبادات کا علم ہر مسلمان پر فرض ہے، جبکہ اعلیٰ علمی مراتب (مثلاً اجتہاد) صرف اہل استعداد پر فرضِ کفایہ ہیں۔"
[احیاء العلوم-امام غزالی]




ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔
[صَحِيح الْجَامِع الصغیر:3913]
تشریح:
اس میں بیان کردہ فرض العلم کے بارے میں تقریباً بیس اقوال ہیں۔ سب سے عمدہ قول قاضی کا ہے: وہ علم جس کے سیکھے بغیر چارہ نہ ہو، جیسے خالق کی معرفت، اس کے رسولوں کی نبوت، نماز کا طریقہ اور اسی قسم کی دوسری چیزیں۔ پس ایسے علوم کا سیکھنا فرض عین ہے۔ امام غزالی "احیاء علوم الدین" میں فرماتے ہیں: اس سے مراد اللہ اور اس کی اس صفت کا علم ہے جس سے قلبی معرفت پیدا ہو۔ یہ علم کلام سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ علم کلام اس کے حصول میں حجاب بن جاتا ہے۔ اس کا حصول مجاہدہ سے ہوتا ہے۔ پس مجاہدہ کرو، مشاہدہ پاؤ گے۔ پھر آپ نے اس کی وضاحت میں مزید تفصیل بیان کی ہے جو سینوں کو کھولتی اور دلوں کو نور سے بھر دیتی ہے۔
[فیض القدیر للمناوی:5264]

(ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے)
سہروردی کہتے ہیں: اس فرض العلم میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: یہ علم اخلاص، نفس کے عیوب اور عمل کو بگاڑنے والی چیزوں کا علم ہے۔ بعض کہتے ہیں: خواطر کی معرفت کا علم۔ بعض کہتے ہیں: خرید و فروخت کے مسائل کا علم۔ بعض کہتے ہیں: توحید کا علم۔ امام غزالی "المنہاج" میں فرماتے ہیں: مجموعی طور پر فرض علم تین ہیں: علم توحید، علم سر (جو قلب اور اس کی کیفیات سے متعلق ہے) اور علم شریعت۔ علم توحید میں سے وہ علم فرض عین ہے جس سے دین کے اصول معلوم ہوں۔ علم سر میں نفس کے مطلوبات و ممنوعات کا علم ہے تاکہ اخلاص، نیت اور عمل کی سلامتی حاصل ہو۔ علم شریعت میں وہ سب کچھ ہے جسے جاننا آپ پر واجب ہے تاکہ اسے ادا کر سکیں۔ ان تینوں علوم میں سے اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ فرض کفایہ ہے۔ (اور علم کو اس کے غیر اہل کے سپرد کرنا ایسے ہی ہے جیسے سؤروں کے گلے میں جواہر، موتی اور سونے کے ہار ڈال دینا) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر علم کے لیے خاص استعداد درکار ہوتی ہے اور اس کے اہل ہوتے ہیں۔ پس جب علم کو اس کی جگہ پر نہ رکھا جائے تو ظلم ہوتا ہے۔ اس ظلم کی مثال یہ دی گئی ہے کہ کمینے جانوروں کو قیمتی جواہرات پہنائے جائیں تاکہ اس نااہلیت کی مذمت ہو اور لوگ اس سے بچیں۔
[فیض القدیر للمناوی:5165]

(ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے)
ابن عربی کہتے ہیں: علم کے اطلاقات مختلف ہیں، اس کے حدود و احکام مختلف ہیں جیسے لفظ عالم و علماء۔ اسی وجہ سے علماء نے اس حدیث کی تفہیم میں اختلاف کیا ہے۔ کوئی متکلم اسے علم کلام پر محمول کرتا ہے، کوئی فقیہ اسے علم فقہ پر، کوئی مفسر اسے تفسیر پر، کوئی محدث اسے حدیث پر، اور کوئی نحوی اسے علم عربی پر محمول کرتا ہے کیونکہ شریعت کتاب و سنت سے لی جاتی ہے اور اللہ کا فرمان ہے: "ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان ہی کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے (احکام) واضح کر دے۔" پس عربی زبان میں مہارت ضروری ہے۔ تحقیق یہ ہے کہ یہ حدیث شرعی علوم کے مجموعے پر محمول ہے۔
(اور طالب علم کے لیے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی)
حلیمی کہتے ہیں: اس کے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ ہر قسم کے جانوروں کی تعداد کے برابر اس کے لیے قبول شدہ استغفار لکھا جائے گا۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ دنیا کی اصلاح عالم کے ذریعے ہے کیونکہ اسی کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ پرند کو بلا ضرورت نہیں مارنا، نہ ہی اسے تکلیف دینی ہے، نہ اسے بھوکا پیاسا رکھنا ہے، نہ اسے اس کی طاقت سے باہر گرمی یا سردی میں بٹھانا ہے، سمندر کی مچھلیوں کو بلا ضرورت پانی سے نہیں نکالنا، نہ ہی کھانے کے مقصد کے بغیر انہیں نکال کر ان کے تڑپنے کا تماشا دیکھنا، اور اگر انہیں کھانے کے لیے پکڑا جائے تو انہیں مرنے تک صبر سے رکھنا چاہیے، انہیں ڈنڈے یا پتھر سے نہیں مارنا چاہیے، وغیرہ۔
[فیض القدیر للمناوی:5266]

(ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے اور اللہ تعالیٰ بے کس کی فریاد رسی کو پسند فرماتا ہے)
یعنی مظلوم، فریاد کرنے والے، پریشان یا غمزدہ کی مدد کرنا۔ تمام مخلوق اللہ کے کنبے کی مانند ہے اور اسے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے کنبے کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو، خاص طور پر ضرورت اور پریشانی کے وقت۔
[فیض القدیر للمناوی:5267]





علم اور فقہ میں فرق-2
علم کیلئے علماء سے پوچھنا(ان سے خود رابطہ رکھنا)کافی ہے
[دلیلِ سورۃ النحل:43]

لیکن

فقہ حاصل ہوتی ہے علماء کے ساتھ(صحبت و خدمت میں اٹھنے بیٹھنے میں)صبر کرنے سے۔
[دلیلِ سورۃ الکھف:65-67]


جب تک کہ مستند عالم استاد اسے قابل سمجھ کر فتویٰ دینے یا فیصلے کرنے کی رضامندگی(سند) نہ دیدے۔

رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت معاذؓ کو یمن بھیجنے کا ارادہ کیا تو فرمایا:
تم کس طرح فیصلہ کروگے جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ پیش ہو جائے؟
انہوں نے کہا کہ اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا.
فرمایا: اگر تم اللہ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاؤ تو؟
کہا: رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا.
فرمایا: اگر سنت رسول میں بھی نہ پاؤ تو اور کتاب اللہ میں بھی نہ پاؤ تو؟
کہا: اجتہاد(پوری جدوجہد) کروں گا "اپنی رائے" سے اور اس میں کوئی کمی کوتاہی نہیں کروں گا۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کے سینہ کو تھپتھپایا اور فرمایا کہ اللہ ہی کیلئے تمام تعریفیں ہیں جس نے اللہ کے رسول کے رسول (یعنی قاصد) کو اس چیز کی توفیق دی جس سے رسول اللہ راضی ہیں۔
[ابوداؤد:3592، ترمذی:1327، طیالسی:560، شافعی:604، ابن ابی شیبۃ:22988، احمد:22007+22061+22100، عبد بن حمید:124، دارمی:170، طحاوی:3583، طبرانی:362، بغوی:2814]





اور ایک روایت میں حضرت ابن مسعود سے نبی ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے:
«إِنَّ أَعْلَمَهُمْ أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ، وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي الْعَمَلِ، وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ عَلَى اسْتِهِ»
یعنی
لوگوں میں سب سے بڑا عالم وہ ہے جو لوگوں کے اختلاف کے وقت بھی حق کو جانتا ہو، اگرچہ عمل میں کوتاہ ہو، اگرچہ اپنے سرین پر گھسٹ کے چلتا ہی کیوں نہ ہو۔
[مسند ابن أبي شيبة:321، مسند أبي داود الطيالسي:376، السنة للمروزي:54، المسند للشاشي:772، المعجم الأوسط للطبراني:4479، المعجم الصغير للطبراني:624، المعجم الكبير للطبراني:10357، المستدرك على الصحيحين للحاكم:3790، شرح مذاهب أهل السنة لابن شاهين:38، المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي:841، شعب الإيمان للبيهقي:9064، جامع بيان العلم:1500، المطالب العالية لابن حجر:3022، مجمع الزوائد:12101]



امام مالکؒ سے پوچھا گیا:
فتویٰ دینا کس کو جائز ہے؟
فرمایا:
صرف اسے جو اختلافاتِ علماء(صحابہ) سے واقف ہو ، اور قرآن وحدیث کے ناسخ منسوخ کا علم رکھتا ہو، اور اسی طرح فتویٰ بھی دے۔
[جامع بيان العلم:1529]







قرآن پاک میں فضیلتِ علم و مقامِ علماء:

(1) قرآن کے ورثاء:
القرآن :
ثُمَّ أَورَثنَا الكِتٰبَ الَّذينَ اصطَفَينا مِن عِبادِنا ۖ فَمِنهُم ظالِمٌ لِنَفسِهِ وَمِنهُم مُقتَصِدٌ وَمِنهُم سابِقٌ بِالخَيرٰتِ بِإِذنِ اللَّهِ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَضلُ الكَبيرُ
ترجمہ:
پھر ہم نے وارث کئے کتاب کے وہ لوگ جن کو چن لیا ہم نے اپنے بندوں میں سے پھر کوئی ان میں برا کرتا ہے اپنی جان کا اور کوئی ان میں ہے بیچ کی چال پر اور کوئی ان میں آگے بڑھ گیا ہے لیکر خوبیاں اللہ کے حکم سے یہی ہے بڑی بزرگی۔
[سورۃ الفاطر:35]

یعنی پیغمبر کے بعد اس کتاب کا وارث اس امت کو بنایا جو بہیأت مجموعی تمام امتوں سے بہتر و برتر ہے ہاں امت کے سب افراد یکساں نہیں ۔ ان میں وہ بھی ہیں جو باوجود ایمان صحیح کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں (یہ { ظَالِمٌ لِنَفْسِہٖ } ہوئے) اور وہ بھی ہیں جو میانہ روی سےرہتے ہیں۔ نہ گناہوں میں منہمک نہ بڑے بزرگ اور ولی (ان کو مقتصد فرمایا) اور ایک وہ کامل بندے جو اللہ کے فضل و توفیق سے آگے بڑھ بڑھ کر نیکیاں سمیٹتے اور تحصیل کمال میں مقتصدین سے آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ مستحب چیزوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اور گناہ کے خوف سے مکروہ تنزیہی بلکہ بعض مباحات تک سے پرہیز کرتے ہیں۔ اعلیٰ درجہ کی بزرگی اور فضیلت تو ان کو ہے۔ ویسے چنے ہوئے بندوں میں ایک حیثت سے سب کو شمار کیا۔ کیونکہ درجہ بدرجہ بہشتی سب ہیں۔ گنہگار بھی اگر مومن ہے تو بہرحال کسی نہ کسی وقت ضرور جنت میں جائے گا۔ حدیث میں فرمایا کہ ہمارا گنہگار معاف ہے، یعنی آخر کار معافی ملے گی۔ اورمیانہ سلامت ہے اور آگے بڑے سو سب سے آگے بڑھے، اللہ کریم ہے اس کے یہاں بخل نہیں۔
(2) ڈرنے والے:

۔۔۔إِنَّما يَخشَى اللَّهَ مِن عِبادِهِ العُلَمٰؤُا۟ ۔۔۔ 
ترجمہ:
...اللہ سے ڈرتے وہی ہیں اس کے بندوں میں جن کو علم (سمجھ) ہے...
[سورۃ الفاطر:28]


اللہ سے جاہل نہیں ڈرتا:
یعنی بندوں میں نڈر بھی ہیں اور اللہ سے ڈرنے والے بھی مگر ڈرتے وہ ہی ہیں جو اللہ کی عظمت و جلال، آخرت کے بقاء و دوام، اور دنیا کی بے ثباتی کو سمجھتے ہیں اور اپنے پروردگار کے احکام و ہدایات کا علم حاصل کر کے مستقبل کی فکر رکھتے ہیں۔ جس میں یہ سمجھ اور علم جس درجہ کا ہو گا اسی درجہ میں وہ  اللہ  سے ڈرے گا۔ جس میں خوف خدا نہیں وہ فی الحقیقت عالم کہلانے کا مستحق نہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یعنی سب آدمی ڈرنے والے نہیں۔ اللہ سے ڈرنا سمجھ والوں کی صفت ہے اور اللہ کا معاملہ بھی دو طرح ہے وہ زبردست بھی ہے کہ ہر خطا پر پکڑے، اور غفور بھی کہ گنہگار کو بخشے"۔ پس دونوں حیثیت سے بندہ کر ڈرنا چاہئے۔ کیونکہ نفع و ضرر دونوں اسی کے قبضے میں ہوئے۔ تو جب چاہے نفع کو روک لے اور ضرر لاحق کر دے۔
----------------------------------
اس آیت کی تفسیر میں حضرت قتادهؒ نے فرمایا:
علم کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ دل میں الله کا خوف اور خشیت ہو".
[حلية الأولياء: جز#٢، حديث # ٢٦٤٥]

امام سفيان ثوریؒ (المتوفیٰ 161ھ) نے فرمایا:
ليس طلب العلم فلان عن فلان، انما طلب العلم الخشية لله عز وجل.
ترجمہ:
طلبِ علم یہ نہیں ہے کہ فلاں نے فلاں سے(روایت کیا)، طلبِ علم تو اللہ عز وجل کی خشیت کا نام ہے۔
[ٰبتاريخ ابن أبي خيثمة:1253، حلية الاولياء:2/365،  سير السلف الصالحين لإسماعيل بن محمد الأصبهاني:1001]
یعنی

محض نقوش وروایات جاننا علم نہیں۔






(3) عقل والے کون؟

وَتِلكَ الأَمثٰلُ نَضرِبُها لِلنّاسِ ۖ وَما يَعقِلُها إِلَّا العٰلِمونَ
ترجمہ:
۔۔۔اور یہ مثالیں بٹھلاتے ہیں ہم لوگوں کے واسطے اور ان کو "سمجھتے" وہی ہیں جن کو سمجھ(علم) ہے۔۔۔
[سورۃ العنکبوت :43]

اللہ تعالیٰ کی مثالوں کو علماء ہی سمجھتے ہیں:
مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ "مکڑی" اور "مکھی" وغیرہ حقیر چیزوں کی مثالیں بیان کرتا ہے جو اس کی عظمت کے منافی ہیں اس کا جواب دیا کہ مثالیں اپنے موقع کے لحاظ سے نہایت موزوں اور ممثل لہٗ پر پوری منطبق ہیں۔ مگر سمجھدار ہی اس کا مطلب ٹھیک سمجھتے ہیں ۔ جاہل بے وقوف کیا جانیں۔ مثال کا انطباق مثال دینے والے کی حیثیت پر نہیں کرنا چاہئے بلکہ جس کی مثال ہے اس کی حیثیت کو دیکھو، اگر وہ حقیر و کمزور ہے تو تمثیل بھی ایسی ہے حقیر و کمزور چیزوں سے ہو گی۔ مثال دینے والے کی عظمت کا اس سے کیا تعلق۔


حضرت علی کرم ﷲ وجہہ سے منقول کیا ہے:
ثلاث يزدن في الحفظ ويذهبن البلغم ‌السواك ‌والصيام وقراءة القرآن
ترجمہ:
تین چیزیں حافظہ کو بڑھاتی ہیں:(1) مسواک اور (2) روزہ اور (3) تلاوت کلام ﷲ شریف
[إحياء علوم الدين-الغزالي: ج1 / ص274، العلاج بالأعشاب: صفحہ59]

اور دوسری روایت کے مطابق مزید دو چیزوں کا ذکر بھی ملتا ہے:
خمس يذْهبن بِالنِّسْيَانِ وَيزدْنَ فِي الْحِفْظ ويذهبن البلغم ‌السِّوَاك ‌وَالصِّيَام وَقِرَاءَة الْقُرْآن وَالْعَسَل واللبان۔
ترجمہ:
پانچ چیزیں بھول کو مٹاتی اور حافظہ کو بڑھاتی ہیں۔۔۔(4)اور شہد اور (5) اور لوبان۔
[الفردوس بمأثور الخطاب-الديلمي:2980]

امام شافعیؒ (م150ھ) نے فرمایا:
وأربعة تزيد في ‌العقل: ترك الفضول من الكلام والسواك ومجالسة الصالحين والعلماء
ترجمہ:
چار چیزیں عقل کو بڑھاتی ہیں: (1)فضول کلام سے پرہیز (2)دانت صاف رکھنا (3)صالحین کی مجلس میں بیٹھنا (4)علماء کی صحبت اختیار کرنا۔
[إحياء علوم الدين-الغزالي: ج2 / ص20، زاد المعاد في هدي خير العباد-ابن القيم: ج4 / ص609، الطب النبوي لابن القيم: صفحہ312، الآداب الشرعية-ابن مفلح: ج2 / ص375]

=========================
(4) تنہائی میں عبادت کرنے والے، آخرت کا خوف اور اللہ کی رحمت کی امید رکھنے والے۔
اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّه ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ
ترجمہ:
بھلا (کیا ایسا شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے، اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے؟ کہو کہ : کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں ؟ (5) (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔
[سورۃ الزمر:9]
(5) یعنی اگر آخرت کا حساب و کتاب نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ مومن کافر اور بدکار اور نیک سب برابر ہوجائیں گے، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور انصاف سے ممکن نہیں۔



فرمانبردار اور نافرمان برابر نہیں ہو سکتے:
یعنی جو بندہ رات کی نیند اور آرام چھوڑ کر اللہ کی عبادت میں لگا۔ کبھی اس کے سامنے دست بستہ کھڑا رہا، کبھی سجدہ میں گرا۔ ایک طرف آخرت کا خوف اس کے دل کو بیقرار کئے ہوئے ہے اور دوسری طرف اللہ کی رحمت نے ڈھارس بندھا رکھی ہے۔ کیا یہ سعید بندہ اور وہ بدبخت انسان جس کا ذکر اوپر ہوا کہ مصیبت کے وقت  اللہ کو پکارتا ہے اور جہاں مصیبت کی گھڑی ٹلی  اللہ کو چھوڑ بیٹھا، دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ایسا ہوتا تو یوں کہو کہ ایک عالم اور جاہل یا سمجھدار اور بیوقوف میں کچھ فرق نہ رہا۔ مگر اس بات کو بھی وہ ہی سوچتے سمجھتے ہیں جن کو اللہ نے عقل دی ہے۔

امام یحییٰ بن ابی کثیرؒ نے فرمایا:
لَيْسَ طَلَبُ الْعِلْمِ بِرَاحَةِ الْبَدَنِ.
یعنی علم کا طلب کرنا بدن کی راحۃ سے نہیں۔
[جزء ابن باكويه:45]
==========================
(5) رب پر صحیح اور سچا ایمان لانے والے:

ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِه څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَه اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِه ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ.
ترجمہ:
وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب، اس میں بعض آیتیں ہیں محکم یعنی انکے معنیٰ واضح ہیں وہ اصل ہیں کتاب کی، اور دوسری ہیں متشابہ یعنی جنکے معنیٰ معلوم یا معین نہیں، سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے، اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے، اور مضبوط علم والے کہتے ہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں، اور سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے".
[سورۃ آل عمران:٧]

جو لوگ مضبوط علم رکھتے ہیں وہ محکمات و متشابہات سب کو حق جانتے ہیں انہیں یقین ہے کہ دونوں قسم کی آیات ایک ہی سرچشمہ سے آئی ہیں جن میں تناقض و تہافت کا امکان نہیں۔ اسی لئے وہ متشابہات کو محکمات کی طرف لوٹا کر مطلب سمجھتے ہیں۔ اور جو حصہ ان کے دائرہ فہم سے باہر ہوتا ہے اسے اللہ پر چھوڑتے ہیں کہ وہ ہی بہتر جانے ہم کو ایمان سے کام ہے.
===ظ=======================
(6) ایمان وعمل والے پختہ علم والے ہوتے ہیں:

لَّكِنِ ٱلرَّسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ مِنْهُمْ وَٱلْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚ وَٱلْمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ وَٱلْمُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ أُو۟لَٟٓئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا.
ترجمہ:
لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں، اور ایمان والے سو مانتے ہیں اسکو جو نازل ہوا تجھ پر اور جو نازل ہوا تجھ سے پہلے، اور (آفریں ہے) نماز پر قائم رہنے والوں کو اور جو دینے والے ہیں زکوٰۃ کے اور یقین رکھنے والے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر سو ایسوں کو ہم دیں گے بڑا ثواب."
[سورۃ النساء:١٦٢]
==========================
(7) علماء کا بلند درجہ:
القرآن:
...یَرۡفَعِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ...
ترجمہ:
...جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور (خصوصاً) جنکو علم عطا کیا گیا ہے اللہ ان کے درجے بلند کرے گا...
[سورۃ المجادلہ:11]
یعنی سچّا ایمان اور صحیح علم انسان کو ادب و تہذیب سکھلاتا (علم سے صحیح ایمان بنتا ہے.) اور متواضع بناتا ہے۔ اہل علم و ایمان جس قدر کمالات و مراتب میں ترقی کرتے ہیں، اسی قدر جھکتے اور اپنے کو ناچیز سمجھتے جاتے ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ ان کے درجے اور زیادہ بلند کرتا ہے مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ
باعمل علماء کو الله تعالیٰ دو درجہ عنایت فرماتا ہے: ایک اپنے علم جو جاہل باعمل لوگوں کو عطا نہیں فرماتا. کیونکہ عالم کے علم و عمل کی اقتدا کی جاتی ہے، بس عالم کو اپنے کیے ہوۓ کا ثواب تو دیا جاتا ہے، اور اقتدا کرنے والوں کا بھی پورا پورا اجر عطا فرماتا ہے اور ان اقتدا کرنے والوں کو ان کے عمل کا دیا جاتا ہے.
۔نیکی کے کام پر رہنمائی کرنے والا ایسے ہی ہے، جیسے نیکی کرنے والا
[مسند امام اعظم:471، مسند احمد:21771، مسند ابو يعلي:4234، سنن ترمذی:2670]


حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْبَحْرَانِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ لَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَةٍ ، وَلَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ أَلْفَ رَكْعَةٍ " .
ترجمہ:
حضرت ابوذرؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سے ارشاد فرمایا: تو صبح کو جا کر کتاب اللہ کی ایک آیت سیکھے یہ تیرے لیے سو رکعت نماز سے بہتر ہے اور تو صبح جا کر علم کا ایک باب سیکھے خواہ اس پر (اسی وقت) عمل کرے یا نہ کرے یہ تیرے لیے ہزار رکعت پڑھنے سے بہتر ہے۔

[سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 219 (30142) - سنت کی پیروی کا بیان : قرآن سیکھنے، سکھانے کی فضلیت]
خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن
شواھد:

أخرجه الديلمى من طريق ابن لال (1/2/291-292) عن ابن عمر.
أخرجه الخطيب (6/504) عن ابن عباس.



=============================






حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
أَكْثَرُ ‌أَهْلِ ‌الْجَنَّةِ ‌الْبُلْهُ۔
ترجمہ:
جنت والوں کی اکثریت بھولے بھالے لوگوں کی ہوگی۔
[مسند البزار:6339، مسند الشهاب القضاعي:989]

امام طحاویؒ (م321ھ) فرماتے ہیں:
فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِأَحْمَدَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، فَقَالَ: مَعْنَاهُ مَعْنًى صَحِيحٌ. هُمُ الْبُلْهُ عَنْ مَحَارِمِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا مَنْ سِوَاهُمْ مِمَّنْ بِهِ نَقْصُ الْعَقْلِ بِالْبَلَهِ
ترجمہ:
چنانچہ میں نے یہ حدیث احمد بن ابی عمران سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: اس کا معنی صحیح ہے۔ اور بھولے سے مراد اللہ پاک کی حرام کردہ چیزوں سے (بچنے کے سبب) بھولے (کہلائے جاتے) ہیں، نہ کہ ان کے علاوہ وہ شخص جو کہ کم عقل ہونے کی وجہ سے بھولا کہلایا جاتا ہے۔
[شرح مشكل الآثار-الطحاوي:2982]

أبو عبد الرحمن السلميؒ (م412ھ) لکھتے ہیں:
الأبلة فِي دُنْيَاهُ الْفَقِيه فِي دينه۔
ترجمہ:
وہ بھولے ہیں اپنی دنیا (کے معاملے) میں (لیکن) وہ فقیہ(یعنی گہرے علم والے) ہیں اپنے دین میں۔
[طبقات الصوفية للسلمي: ص360، شعب الإيمان:1371]

معناه البله عن شهوات الدنيا وزينتها والحبائل التي للشيطان فيها
ترجمہ:
بھولے بھالے کا معنیٰ دنیاوی(یعنی ناجائز) خواہشات اور اس کی زینت اور اس میں موجود شیطانی جال (یعنی بےحیاء عورتوں) کے معاملے میں غافل۔
[شعب الإيمان - ت زغلول:2/ 59]

لأنهم شغلوا بالنعيم عن المنعم۔
ترجمہ:
کیونکہ وہ "مشغول" رہتے ہیں نعمت والے (اللہ) کی نعمتوں میں۔
[تفسير الثعلبي:22 /288 سورة يس:55]

هم الذين ولهت قلوبهم وشغلت بالله عزّ وجلّ
ترجمہ:
جن کے دل (نافرمانوں کے طعنوں سے) ٹوٹے ہوئے ہوں اور مشغول ہوں اللی عزوجل (کی یاد) میں۔
[شعب الإيمان:1369]

أن الأبله من تغلب عليه سلامة الصدر، وحسن الظنّ بالناس لأنه يغفل أمر دنياه، ويقبل على آخرته ويشغل نفسه بها۔
ترجمہ:
بھولا وہ ہے جس پر غالب ہو دل کی دیانت اور لوگوں کے بارے میں اچھا گمان کیونکہ وہ دنیا کے معاملات سے "غافل" ہے اور اپنی آخرت کو قبول کرتا (یعنی متوجہ ہوتا) ہے اور اسی میں خود کو مشغول رکھتا ہے۔
[تفسير القشيري:3 /220 سورة يس:55]


لأنهم أغفلوا أمر دنياهم، فجهلوا حذق التصرف فيها، وأقبلوا على آخرتهم، فأتقنوا أسبابها، وشغلوا أنفسهم بها، وليس من عجز عن كسب الدنيا وتخلف في الحذق بها، وأعرض عنها إلى اكتساب الباقيات الصالحات مذموماً، وهؤلاء الذين خصت بهم الجنة رحمةً من الله رحمهم بها؛ إذ وفَّقهم الله لها، كما خُصّت النار بالمتكبرين الذين يستحقرون الناس ويزدرونهم، ولا يرون لهم قدراً، ويرفعون أنفسهم عليهم۔
ترجمہ:
کیونکہ وہ اپنے دنیوی معاملات سے غافل رہے، اس لیے وہ اس کو سنبھالنے کا ہنر نہیں جانتے تھے، اور آخرت کی طرف متوجہ ہوئے، اس لیے انہوں نے اس کے اسباب میں مہارت حاصل کر لی، اور اس میں مشغول ہو گئے۔ اور جو شخص دنیا کمانے سے عاجز ہو اور اس پر عبور حاصل نہ کر سکے اور باقی رہنے والی نیکیوں کو حاصل کرنے کے لیے اس (دنیا)سے منہ موڑ لے تو وہ قابل ملامت نہیں۔ اور جن کو خدا کی رحمت سے جنت کے لیے مخصوص کیا گیا، اور ان پر اللہ نے رحم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی توفیق دی، جس طرح آگ ان متکبروں کے لیے مخصوص کی گئی تھی جو لوگوں کو حقیر سمجھتے اور حقیر بتلاتے ہیں، اور ان کی کوئی قدر نہیں کرتے، اور اپنے آپ کو ان پر فوقیت دیتے ہیں۔
[جامع الأصول-ابن الأثير:10/ 544]



علماء کی مغفرت:
سیدنا عبدالله بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "نہیں ہے کوئی عالم مگر الله تعالیٰ نے اس سے (یعنی ہر نیک عالم سے) وعدہ لیا ہے، جس دن الله تعالیٰ نے انبیاء علیہ السلام سے وعدہ لیا تھا، (کہ) ان سے گناہ ان کے علمی-مجلس کی وجہ سے ہٹ جاتا ہے (یعنی معاف کرتا ہے)، لیکن (انبیاء اور علماء میں یہ فرق ہے کہ) ان پر وحی نہیں ہوتی.
[كنزالعمال:١٠/١٧٦، حدیث # ٢٨٨٩٧، عن ابن_مسعود]


عَنْ عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجْمَعُ اللَّهُ تَعَالَى الْعُلَمَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ : إِنِّي لَمْ أَجْعَلْ حِكْمَتِي فِي قُلُوبِكُمْ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ بِكُمُ الْخَيْرَ ، اذْهَبُوا إِلَى الْجَنَّةِ ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْكُمْ " .
[مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي  » كِتَابُ الْعِلْمِ ... رقم الحديث: 33]

حضرت عبدللہ بن مسعودؓ رسول الله ﷺ سے مروی ہیں کہ: الله تعالیٰ قیامت کے دن علماء کو جمع کرکے فرماۓ گا کہ میں نے تمہارے دلوں میں اپنی حکمت کی باتیں صرف اس لئے ڈالی تھیں کہ میں تمہارے ساتھ خیر (بھلائی) کرنا چاہتا تھا، جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ، میں نے تمہارے گناہوں کو جو تم پر بوجھ تھے معاف کردیا.


حكم :
1 - يقولُ اللَّهُ عزَّ وجلَّ للعلماءِ يومَ القيامةِ إذا قعدَ علَى كرسيِّهِ لفصلِ عبادِهِ :إنِّي لم أجعلْ علمي وحلمي فيكُم إلَّا وأَنا أريدُ أن أغفرَ لَكُم علَى ما كانَ فيكُم ولا أُبالي
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: المنذري المصدر: الترغيب والترهيب - الصفحة أو الرقم:1/81
خلاصة حكم المحدث: رواته ثقات

2 - يقولُ اللهُ – عزَّ وجلَّ – للعلماءِ يومَ القيامةِ – إذا قعد على كرسيِّهِ لفصلِ عبادِه -: إني لم أجعلْ علمي وحلمي فيكم إلا وأنا أريدُ أنْ أغفرَ لكم على ما كان منكم ولا أبالي.
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: الدمياطي المصدر: المتجر الرابح الصفحة أو الرقم: 19
خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد

3 - يقولُ اللهُ تعالى للعُلَماءِ يومَ القيامةِ إذا قعَد على كُرسِيِّه لقَضاءِ عِبادِه : إنِّي لَم أجعلْ عِلمي وحكمَتي فيكُم إلَّا وأنا أريدُ أن أغفرَ لكُم ، على ما كانَ منكُم ، ولا أُبالي
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: ابن كثير المصدر: تفسير القرآن - الصفحة أو الرقم: 5/267
خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد


الحدیث: 
الله تعالیٰ قیامت کے دن علماء کو فرماۓ گا جب کرسی پر (اپنی شان کے مطابق) بیٹھے گا فیصلہ کیلئے اپنے بندوں کے : میں نے تم میں اپنے علم اور اپنی حکمت (یعنی علم سے فائدہ پانے والی عقل)  کی باتیں صرف اس لئے ڈالی تھیں کہ میں تمہیں بخشنا چاہتا تھا، میں نے (تمہارے گناہوں کو) جو تم پر بوجھ تھے معاف کردیا، اور (اس بات میں) مجھے کوئی پرواہ نہیں.
اس (حدیث) کی سند عمدہ ہے.
[تفسير القرآن لابن كثير: 5/267 ، سورة طه:2]
تخریج :
[مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي  » كِتَابُ الْعِلْمِ ... رقم الحديث: 33]


4 - يقولُ اللهُ عزَّ وجلَّ للعلماءِ يومَ القيامةِ إذا قعَد على كرسيِّه لفصلِ عبادِه إنِّي لم أجعَلْ علمي وحِلْمي فيكم إلَّا وأنا أُرِيدُ أن أغفِرَ لكم على ما كان فيكم ولا أُبالِي
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: الهيثمي المصدر: مجمع الزوائد - الصفحة أو الرقم: 1/131
خلاصة حكم المحدث: رجاله موثقون

5 - يقولُ اللهُ , عزَّ وجلَّ , للعُلماءِ يومَ القيامَةِ إذا قعَد على كُرسيِّهِ لفصلِ عبادِه: إنِّي لم أجعَلْ عِلمي وحِلمي فيكُم إلَّا وأنا أُريدُ أنْأغفرَ لكمْ على ما كان فيكُم ولا أُبالي
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: البوصيري المصدر: إتحاف الخيرة المهرة - الصفحة أو الرقم: 8/266
خلاصة حكم المحدث: سنده رواته ثقات

6 - يقولُ اللهُ عزَّ وجلَّ للعلماءِ يومَ القيامةِ إذا قعدَ على كرسيِّهِ لفصلِ عبادِهِ : إنِّي لم أجعلْ عِلمي وحِلمي فيكم إلا وأنا أريدُ أنْ أغفرَ لكم على ما كان فيكُم ولا أُبالي
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: السيوطي المصدر: البدور السافرة - الصفحة أو الرقم: 281
خلاصة حكم المحدث: رجاله ثقات

7 - يبعثُ اللهُ العلماءَ يومَ القيامةِ فيقولُ يا معشرَ العلماءِ إنِّي لم أضعْ علْمي فيكم إلا لِعلْمي بكم ولم أضعْ علْمي فيكم لِأُعذِّبَكم انطلقوا فقد غفرتُ لكم ويقولُ اللهُ تعالى لا تحتقروا عبدًا أتيتُه علمًا فإنِّي لم أُحُقِّرْهُ حين علَّمْتُه
الراوي: أبو موسى الأشعري عبدالله بن قيس المحدث: ابن عراق الكناني المصدر: تنزيه الشريعة - الصفحة أو الرقم: 1/268
خلاصة حكم المحدث: له شاهد رجاله موثقون

8 - يجمع اللَّهُ تعالى العلماءَ يومَ القِيامةِ ثمَّ يقولُ يا معشرَ العلماءِ إنِّي لم أضَع علمي فيكم إلا لعِلمي بكُم ولم أضَع عِلمي فيكُم لأعذِّبَكُم اذْهبوا فقد غفرتُ لَكم
الراوي: - المحدث: ابن القيم المصدر: مفتاح دار السعادة - الصفحة أو الرقم: 1/400
خلاصة حكم المحدث: هذا وإن كان غريبا فله شواهد حسان
9 - إنَّ اللَّهَ - سبحانَهُ - إذا جمعَ النَّاسَ يومَ القيامَةِ في صعيدٍ واحدٍ، قالَ للعُلَماءِ: إنِّي كنتُ أعبدُ بفتواكُم، وقد علمتُ أنَّكم كنتُم تخلِطونَ كما يخلطُ النَّاسَ، وإنِّي لم أضع عِلمي فيكم وأنا أريدُ أن أعذِّبَكم، اذْهَبوا فقد غفرتُ لَكم
الراوي: - المحدث: ابن القيم المصدر: مدارج السالكين - الصفحة أو الرقم: 1/582
خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد وروي مسنداً ومرسلا

10 - يقولُ اللهُ يومَ القيامةِ يا معشرَ العلماءِ إنِّي لم أضَعْ علمي فيكُم
الراوي: أبو موسى الأشعري عبدالله بن قيس المحدث: السيوطي المصدر: النكت على الموضوعات - الصفحة أو الرقم: 54
خلاصة حكم المحدث: للحديث شاهد من حديث ثعلبة بن الحكم رجاله موثقون

خیر کی تفسیر بالقرآن:

(1)نتیجہ_ایمان و تقویٰ
[البقرة:١٠٣، ٩٨:٧]

(2)قویٰ کا سامان(زادِ راہ)
[٢:١٩٧، ٧:٢٦، ٢٩:١٦، ٦٤:١٦]

(3)حکمت
[٢:٢٦٩]

(4)صبر
[٤:٢٥، ١٦:١٢٦، ٢٨:٨٠، ٤٩:٥]

(5)صلح
[٤:١٢٨]

(6)ایمان
[٤:١٧٠، ١١:٨٦]

(7)شرکیہ کلمہ(بول) نہ کہنا(بولنا)
[٤:١٧١]

آخرت کا گھر (اور اجر)
[٦:٣٢، ٧:١٦٩، ١٢:١٠٩، ١٦:٣٠،(١٢:٥٧)، ٤٢:٣٦، ٧٣:٢٠، ٨٧:١٧، ٩٣:٤]

فرمانبرداری (سے اصلاح کرنا اور فساد کو مٹانا)
[٧:٨٥، ٦٤:١٦]

حق سننے (ماننے) کی توفیق
[٨:٢٣، ٦٤:١٦]

بہتر مال 
[٨:٧٠]

توبہ 
[٩:٣، ٩:٧٤]

جہاد فی سبیل الله میں مال اور جان سے نکلنا
[٩:٤١، ٩:٨٨، ٦١:١١]

نبی_مکرم (صلے الله علیہ وسلم) کی (ہم پر) چشم-پوشی
[٩:٦١]

الله کا فضل، رحمت اور نعمت (کتاب الله)
[١٠:58, ١٦:٣٠،٢٨:٢٤، ٤٣:٣٢]

سب سے آزادی، صرف الله واحد کی غلامی
[١٢:٣٩، ٢٧:٥٩]

(باقی رہنے والے نیک اعمال کا) بدلہ/ثواب
[(١٨:٤٦، ١٩:٧٦)،١٦:٩٥،١٨:٤٤،٢٧:٨٩، ٢٨:٨٠+٨٤، ٧٣:٢٠]

پورا ناپنا تولنا
[١٧:٣٥]

جنّت اور باغ
[١٨:٤٠، ٢٥:١٠، ٢٥:١٥، ٢٥:٢٤، ٦٨:٣٢]

صالح و نیک اولاد
[١٨:٨١]

مال و دولت
[١٨:٩٥، ٣٣:١٩، ٣٨:٣٢، ٥٠:٢٥، ١٠٠:٨]

الله تعالی کی ذات
[٢٠:٧٣، ٢٧:٥٩]

رب کا رزق (مادی دولت کے مقابلے میں روحانی دولت)
[٢٠:١٣١(٢٧:٣٦)]

ادب کی چیزوں کی جو  اللہ نے مقرر کی ہیں "عظمت" رکھنا
[٢٠:٣٠]

کعبہ کے قربانی کے اونٹ "شعائر الله"
[٢٢:٣٦]

نیک کام
[٢٢:٧٧، ٢٣:٦١، ٢٧:٨٩]

نیک گمان
[٢٤:١١-١٢]

اجازت و سلام کے بغیر گھروں میں داخل نہ ہونا
[٢٤:٢٧]

(بڑی عورتوں کا) پردہ نہ چھوڑنا
[٢٤:٦٠]

امین اور قوی ماتحت ملنا
[٢٨:٢٦]

حقوق العباد ادا کرنا
[٣٠:٣٨]

مہمانی ملنا
[٣٧:٦٢]

قیامت میں امن و امان ملنا
[٤١:٤٠]

صداقت و سچائی
[٤٧:٢١]

جنّت کی عورتیں
[٥٥:٧٠]

جنّتی میوے
[٥٦:٢٠]

خیرات دینا
[٥٨:١٢، ٦٤:١٦]

جمعہ نماز کے ذکر کے لئے کاروبار چھوڑکر جلدی کرنا
[٦٢:٩]

پسندیدہ چیزیں ملنا
[٦٨:٣٨]

ہزار مہینوں سے بہتر ليلة القدر (كا ملنا)۔
[٩٧:٣]

اس کے علاوہ بھی ہوسکتا ہے "خیر_کثیر"
[٢:٢٦٩]
اور یہ سب "خیر" اسی (الله) کے ہاتھ (قبضہ) میں ہے.
[٣:٢٦]

اور اگر وہ تجھ کو پہنچاوے "بھلائی" تو وہ ہر چیز پر قادر ہے.
[ ٦:١٧، ١٠:١٠٤]

==========================
بہترین اعمال کے بہترین عامل:
القرآن:
كُنتُم خَيرَ أُمَّةٍ أُخرِجَت لِلنّاسِ تَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَتُؤمِنونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَو ءامَنَ أَهلُ الكِتٰبِ لَكانَ خَيرًا لَهُم ۚ مِنهُمُ المُؤمِنونَ وَأَكثَرُهُمُ الفٰسِقونَ
ترجمہ:
(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور  اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں۔
[سورۃ آل عمران:110]


عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ".
ترجمہ :
حضرت عثمانؓ رسول الله ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھاۓ.

اسلامی سوسائٹی میں حفاظ کرام کی امتیازی شان کو واضح کرنے کے لیے احادیث مبارکہ میں انہیں مختلف القابات سے نوازا گیا ، مثلاً:
(1)حَامِلِ ‌الْقُرْآنِ
[المصنف - ابن أبي شيبة (ت الشثري:31992) (ت الحوت:29998)]
(2)صَاحِبِ ‌الْقُرْآنِ
[صحيح البخاري:5031][صحيح مسلم:789][صحيح ابن حبان:407]
(3)‌أَهْلُ ‌الْقُرْآنِ
[أبي داود الطيالسي:2238، ابن ماجه:215][أبي داود:1416، الترمذي:453]
(4)‌جَمَعَ ‌الْقُرْآنَ
[صحيح البخاري:3810، 4986 (الترمذي:2382، صحيح ابن خزيمة:2482)]
(5)الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ
[صحيح مسلم:798]
(6)حَافِظِ ‌الْقُرْآنِ
[صحيح مسلم:797-بَاب فَضِيلَةِ ‌حَافِظِ ‌الْقُرْآنِ]
(7)‌‌ ‌‌الْقَارِئُ-قَارِئُ ‌الْقُرْآنِ
[الترغيب في فضائل الأعمال-ابن شاهين:206]
«لَا يُحْرَقُ قَارِئُ ‌الْقُرْآنِ»
ترجمہ:
’’قرآن کے قاری کو نہیں جلایا جائے گا۔‘‘
[ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:398]
[مسند الدارمي:3361 (3421)، مسند البزار:3553، مختصر قيام الليل-المروزي: ص220]
[المنامات لابن أبي الدنيا:216، المجالس العشرة الأمالي للحسن الخلال:29، الخامس والعشرون من المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي:7]
اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ’’عالم ‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
نبی ﷺ کے بعد سب سے بڑا سخی:
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الأَجْوَدِ الأَجْوَدِ ؟ اللَّهُ الأَجْوَدُ الأَجْوَدُ ، وَأَنَا أَجْوَدُ وَلَدِ آدَمَ ، وَأَجْوَدُهُمْ مِنْ بَعْدِي رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا ، فَنَشَرَ عِلْمَهُ ، يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَّةً وَاحِدَةً .
[مسند أبي يعلى الموصلي » رقم الحديث: 2764
ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے ارشاد فرمایا کہ:"کیا تم جانتے ہو کہ سخاوت کے اعتبار سے کون سب سے زیادہ سخی ہے؟ صحابہ رضی الله عنہم نے فرمایا کہ: الله اور اس کے رسول ﷺہی زیادہ جانتے ہیں. آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: "سخاوت کے اعتبار سے سب سے زیادہ سخی الله تعالیٰ ہے، پھر میں بنی آدم میں سب سے زیادہ سخی ہوں اور میرے بعد سب سے زیادہ سخی وہ ہے سب سے بڑا سخی وہ ہوگا جس نے علم سیکھا اور پھر اس کو پھیلایا وہ شخص قیامت کے دن ایک امیر ہوگا یا ایک امت ہوگا
[أخرجه أبو يعلى:2790 ، والبيهقى فى شعب الإيمان (2/281، رقم 1767] .

فائدہ:
ارشاد فرمایا کہ "سب سے زیادہ سخی الله تعالیٰ ہے" کہ دوست و دشمن سب کو رزق دیتا ہے، پھر انسانوں میں سب سے بڑا سخی الله کے رسول صلے الله علیه وسلم ہیں اور پھر عالم ہیں یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد سب سے بڑا سخی وہ ہے جس نے مال خرچ کیا، لوگوں کو کھانا کھلایا بلکہ یہ فرمایا کہ سب سے بڑا سخی وہ ہوگا جس نے دین کا علم سیکھا اور پھر پھیلایا. الله تعالیٰ ہم سب کو دین کا علم سکھادے اور پھر پھیلانے کی توفیق عطا فرماۓ. آمین.
اور پھر آخر میں یہ فرمایا کے یہ مانند(ایسا) آئیگا کہ وہ کسی کے تابع (عوام کا پیرو) نہیں ہوگا بلکہ اس کے تابع اور لوگ ہونگے یا یہ فرمایا کہ وہ ایک جماعت کی مانند(جیسا) ہوگا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ مخلوق اور خالق کے درمیاں معزز و مکرم ہوگا.






حضرت علیؓ نے فرمایا:
انا عبد من علمني حرفا، ان شاء باع وان شاء اعتق.
ترجمہ:
میں اس شخص کا غلام ہوں جس نے بھی مجھے ایک حرف سکھادیا، اگر وہ چاہے تو مجھے بیچ ڈالے اور اگر چاہے تو مجھے آزاد کردے۔
[بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية:ج4 ص3،التربية الإسلامية أصولها:224، السعاية في كشف ما في شرح الوقاية: ص8]




محدث مغیرہؒ فرماتے ہیں:
كنا نهاب ابراهيم هيبة الامير.
ترجمہ:
ہم اپنے استاد ابراہیم(نخعیؒ) سے اس طرح ڈرا کرتے تھے جیسے رعیت کا کوئی فرد  حکمران سے ڈرتا ہے۔
[سنن الدارمي:422 باب في توقير العلماء، إتحاف المهرة:23784]
[أخرجه يعقوب بن سفيان (المعرفة 2/ 604) والخطيب (الجامع 1/ 184، رقم 293) وابن سعد (الطبقات 6/ 271) وأبو زرعة (التاريخ 1/ 665، رقم 1998) والبيهقي (المدخل 387، رقم 677).]


***********************

عام مسلمان بھی دین کا بنیادی علم رکھتا ہے، تو راہ سے گم کیوں؟
القرآن :
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو خدا بنا رکھا ہے اور باوجود علم کے (گمراہ ہو رہا ہے تو)  اللہ نے (بھی) اس کو (اس نفس پرستی کے سبب) گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب اللہ کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟
[سورۃ  الجاثیہ:23]

خواہش کی دو قسمیں:
الحدیث:
حضرت عبدالله بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول الله ﷺ نے: "کبھی کوئی شخص مومن کامل نہیں ہوسکتا، یہاں تک کہ اس کی خواھشِ نفسانی ان احکام کے تابع (چلنے والی) نہ ہوجائیں جن کو میں لایا ہوں".
[شرح السنة : كِتَابُ الإِيمَانِ، بَابُ بَيَانِ أَعْمَالِ الإِسْلامِ وَثَوَابِ إِقَامَتِهَا، بَابُ رَدِّ الْبِدَعِ وَالأَهْوَاءِ, رقم الحديث: 103]

بےلغام نفسانی خواہش بری ہے، اور جس خواہش پر احکامِ الٰہی کی لغام ہو تو وہ خواہش اچھی ہے۔






علم، علماء کی موت سے اٹھالیا جائیگا:
زمانے میں تبدیلی آنے اور اس میں نئے امور پیدا ہونے کا تذکرہ
2) حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سُهَيْلٍ مَوْلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى, عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ الله قَالَ: لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ إِلاَّ وَهُوَ شَرٌّ مِنَ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ, أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَعْنِي عَامًا أَخْصَبَ مِنْ عَامٍ، وَلَا أَمِيرًا خَيْرًا مِنْ أَمِيرٍ, وَلَكِنْ عُلَمَاؤُكُمْ وَخِيَارُكُمْ وَفُقَهَاؤُكُمْ يَذْهَبُونَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ مِنْهُمْ خَلَفًا, وَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقِيسُونَ الأُمُورَ بِرَأْيِهِمْ.
[سنن الدارمي » بَاب تَغَيُّرِ الزَّمَانِ وَمَا يَحْدُثُ فِيهِ ۔۔۔ رقم الحديث: 190(194)]
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ارشاد فرماتے ہیں تمہارا آنے والا ہر برس گزرے ہوئے برس سے زیادہ برا ہوگا میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک سال دوسرے سال سے زیادہ خراب ہے یا ایک حکمران دوسرے حکمران سے زیادہ بہتر ہے بلکہ تمہارے علماء تمہارے معزز لوگ اور تمہارے فقہاء رخصت ہوجائیں گے پھر تمہیں ان کا حقیقی نائب نہیں ملے گا اور وہ لوگ آجائیں گے جو معاملات میں اپنی رائے کے ذریعے قیاس کرکے حکم بیان کریں گے۔
[دارمي:194،البدع لابن وضاح:228(1:159)، المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي:147(1:188)، جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر:1219-1221(2:1042)، ذم الكلام وأهله لعبد الله الأنصاري:258(279)، الإتحاف:13235]

***********************

علماء سے بغض رکھے جانے پر چار قسم کے عذابوں کی پیش گوئی:
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا أَبْغَضَ الْمُسْلِمُونَ عُلَمَاءَهُمْ وَأَظْهَرُوا عِمَارَةَ أَسْوَاقِهِمْ وَتَنَاكَحُوا عَلَى جَمْعِ الدَّرَاهِمِ رَمَاهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَرْبَعِ خِصَالٍ: بِالْقَحْطِ مِنَ الزَّمَانِ، وَالْجَوْرِ مِنَ السُّلْطَانِ، وَالْخِيَانَةِ مِنْ ولَاةِ الْأَحْكَامِ، وَالصَّوْلَةِ مِنَ الْعَدُوِّ۔
ترجمہ:
جب مسلمان(امت)اپنے علماء سے بغض رکھنے لگیں گے اور بازاروں کی عمارتوں کو بلند وغالب کرنے لگیں گے اور(دینداری کے بجائے) مال ودولت کے ہونے پر نکاح کرنے لگیں گے تو اللہ عز وجل ان پر چار قسم کے عذاب بھیجے گا: قحط سالی زمانے(کے حالات)سے، اور ظلم حکمرانوں سے، اور خیانت والیانِ حکام سے، اور پے در پے حملے دشمنوں سے۔

[المستدرك على الصحيحين للحاكم » كِتَابُ الرِّقَاقِ » فصل فی توقیر العلماء، حديث:7923]






نبوی دعا (ﷺ) : 
أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآَلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لا يُدْرِكُنِي زَمَانٌ ، أَوْ لا أُدْرِكُ زَمَانَ قَوْمٍ ، لا يَتَّبِعُونَ الْعِلْمَ ، وَلا يَسْتَحْيُونَ مِنَ الْحَلِيمِ ، قُلُوبِهُمُ الأَعَاجِمُ ، وَأَلْسِنَتُهُمْ أَلْسِنَةُ الْعَرَبِ " . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ .
[المستدرك على الصحيحين » :رقم الحديث: 8655 
قَالَ أَبِي : الأَعْجَمُ الدَّوَابُّ ، وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ. (بخاري:6429)
[شعب الإيمان للبيهقي » رقم الحديث: 7226 (6/143)]
[الترغیب والترہیب: ١/٤١٤، شمائل_کبریٰ: ٢/٣١٨]

ترجمہ:
اے الله! مجھے وہ زمانہ نہ ملے، یا میں نہ پاؤں ایسے زمانہ کی قوم ،  جس میں علماء کی اتباع (پیروی) نہ کی جاۓ (اپنی نفس و مزاج کی مانی جاۓ)، اور حلیم (بردبار) سے حیا نہ کی جاۓ، لوگوں کے دل تو عجم کی طرح ہوں اور زبان عرب کی طرح ہو (یعنی چرب زبان محبت سے خالی دل ہوں). 
میرے والد نے کہا کہ اعجم چوپاۓ ہیں. اور اس قول کی تفسیر یہ قولِ رسول ﷺ ہے کہ : چوپاۓ اگر کسی کو زخمی کردیں تو ان کا کوئی خون بہا نہیں.



تشریح:
((قُلُوبُ الأَعَاجِمِ)) سے مراد ان کے دل دنیا کی محبّت اور دیہاتیوں کے طریقے میں ایسی ہوجائیں گی کہ جو عطا ہوگا ان کو الله کا رزق (دیا ہوا) بنائیں گے اس کو حیوانوں میں  دیکھیں(سمجھیں) گے جہاد کو نقصاندہ اور صدقہ (و ذكواة) کو تاوان کا بوجھ .
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، حَدَّثَنِي شُفَيٌّ الأَصْبَحِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ تَكُونُ قُلُوبُهُمْ فِيهِ قُلُوبَ الأَعَاجِمِ ، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا قُلُوبُ الأَعَاجِمِ ؟ قَالَ : حُبُّ الدُّنْيَا ، وَسُنَّتُهُمْ سُنَّةَ الأَعْرَابِ : مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ رِزْقٍ جَعَلُوهُ فِي الْحَيَوَانِ ، يَرَوْنَ الْجِهَادَ ضِرَارًا ، وَالصَّدَقَةَ مَغْرَمًا " .



عن سهل بن سعد الساعدي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال : اللهم لا يدركني زمان - أو لا تدركوا زمانا - لا يتبع فيه العليم ، ولا يستحيا فيه من الحليم ، قلوبهم قلوب الأعاجم ألسنتهم ألسنة العرب " .
ترجمہ:
حضرت سہلؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ دعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ ! میں ایسا دور کبھی نہ پاؤں - اور تم (صحابی) بھی نہ پاؤ - جس میں اہل علم کی پیروی نہ کی جائے ، بردبار سے شرم نہ کی جائے ، جن کے دل عجمیوں کی طرح اور زبانیں اہل عرب کی طرح ہوں ۔
[مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2883 (68082)]
************************
عالم کی موت:

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَوْتُ الْعَالِمِ مُصِيبَةٌ لا تُجْبَرُ ، وَثُلْمَةٌ لا تُسَدُّ , وَنَجْمٌ طُمِسَ ، مَوْتُ قَبِيلَةٍ أَيْسَرُ مِنْ مَوْتِ عَالِمٍ .

[نهاية المراد من كلام خير العباد:40+41، إتحاف الخيرة المهرة:293، کنز العمال:28858، كشف الخفاء:273،سورۃ الرعد:41]

یعنی ایک قبیلہ یا قوم مرجاتے تو اس کا غم اتنا نہیں، جتنا ایک عالم کی موت کا غم ہے. اس لئے کہ عالم کی زندگی سے انسانوں کو دنیا و آخرت کی زندگی کی رہنمائی اور کامیابی ملتی ہے.





حضرت ابو درداءؓ سے روایت ہے کہ ایک قبیلہ کی موت ایک عالم کی موت سے آسان ہے.(کنزالعمال: ١/١٦٦)
کچھ ایسے بھی اٹھ جائیں گے اس بزم سے جن کو
تم ڈھونڈھنے نکلوگے ؛ مگر پا نہ سکوگے
































عالِم کی موت، ناقابلِ تلافی نقصان کیوں؟
حضرت ابودرداء سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
عالم کی موت ایسی مصیبت ہے کہ جس کی تلافی نہیں ہوسکتی اور ایسا نقصان ہے کہ پورا نہیں ہوسکتا اور عالم ایک ایسا ﴿چمکتا ہوا﴾ ستارہ ہے کہ (موت کی وجہ سے) بے نور ہوگیا، ایک پورے (بے-علم) قبیلے کی موت ایک عالم کی موت سے کم درجہ کی ہے۔
[نهاية المراد من كلام خير العباد:40+41، إتحاف الخيرة المهرة:293، جامع الاحادیث-للسیوطی:22142، کنز العمال:28858﴿28823﴾]


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
عالم کی موت اسلام میں ایسا شگاف (نقص) ہے جسے رات دن کی آمد و رفت (یعنی وقت گزرنے) سے بھی نہیں بھرا جا سکتا۔
[مسند البزار:171]

یہی قول حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا:
[تفسیر الثعلبي:5/301، سورۃ الرعد:41، تفسیر للبغوي:3/28]
إسناده صحيح.
[سلسلة الآثار الصحيحة:109]

حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا:
۔۔۔تمہارے علماء تمہارے معزز لوگ اور تمہارے فقہاء رخصت ہوجائیں گے پھر تمہیں ان کا حقیقی نائب نہیں ملے گا اور وہ لوگ آجائیں گے جو معاملات میں اپنی رائے کے ذریعے قیاس کرکے حکم بیان کریں گے۔
[دارمي:194، جامع بيان العلم:1219-1221]

حضرت علی نے فرمایا:
جب عالم فوت ہوتا ہے تو اس کی موت سے اسلام میں ایسا رخنہ واقع ہوتا ہے جو قیامت تک پورا نہیں ہوتا۔
[جامع العلم والبیان:841+992، جامع الأحادیث:34832]

حضرت ابوجعفر نے فرمایا:
عالم کی موت ابلیس کو ستر عابدوں کی موت سے زیادہ محبوب ہے۔
[شعب الایمان-للبیھقی:1585]

امام غزالی نے منہاج المتعلمین میں ایک حدیثِ نبوی بیان کی ہے:
{مَنْ لَمْ يَحْزَنْ لِمَوْتِ العَالِمِ، فَهُوَ مُنَافِقٌ.
’’جو کسی عالم کی موت پر رنجیدہ نہ ہو وہ منافق ہے، اس لیے کہ عالم کی موت سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں، اور جو کوئی مومن -عالم کی موت پر غم کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ہزار عالموں اور شہیدوں کا ثواب درج فرماتا ہے۔‘‘

حضرت عمرؓ کا ارشاد ہے کہ ایک ہزار عابد جو شبِ بیدار ہو، اور دن کو روزہ رکھتے ہوں، ان کی وفات ایک ایسے عالم سے زیادہ سہل ہے جو حلال و حرام سے واقف ہو.
[احیاء العلوم، للغزالی]



کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ علماء قیادت نہیں کرتے علماء آگے نہیں آتے علماء نے یہ نہیں کیا علماء نے وہ نہیں کیا کہاں سو رہی ہے وہ عوام کہ جو صرف علماء پر تنقید کرنے کیلئے بیدار ہوتی ہے علماء پر کوئی این جی او والا نہیں روئے گا کوئی لبرل غمزدہ نہیں ہوگا کسی سیکولر کے پیٹ میں درد نہیں ہوگا لیکن وہ اسلام پسند کون سی غار میں سو رہے ہیں جو طعن و تشنیع سب و شتم کے وقت تو اپنی اپنی قبور سے نکل کر سامنے آجاتے ہیں وہ کہ جن کی انقلابیت صرف علماء پر ملامت کرنے تک محدود ہے کیا وہ کہیں کسی نجی محفل میں خوشی کے شادیانے تو نہیں بجا رہے اور شاید بجا ہی رہے ہوں افسوس افسوس۔

مجھے تو ایک رویات یاد آرہی ہے 

 عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ  عَنِ النَّبِیِّ ؐ قَالَ یَأتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانئ یُقْتَلُ فِیْہِ الْعُلَمَاءُ کَمَا تُقْتَلُ الْکِلَابُ فَیَالَیْتَ الْعُلَمَاءُ فِی ذَالِکَ الزَّمَانِ تَحَامَقُوْا۔ 

حضرت ابن عباسؓ  نبی کریمﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں:
لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس میں علماء کو اس طرح قتل کیا جائے گا جس طرح کتوں کو (چن چن کر ) قتل کیا جاتا ہے ۔ اے کاش ! کہ علماء اس زمانے میں احمق بن جائیں۔
[مسند الفردوس للدیلمی:8671، جامع الأحاديث:26438، کنز العمال:31182]

احمق بن جائیں کہنے سے معلوم ہوتا ہے کہ  وہ احمق نہیں ہوں گے، بلکہ اس زمانے میں احمق جسے سمجھا جاتا ہو ویسا بتکلف بننے کی کوشش کریں یعنی دنیاوی معیشت میں وہ ان کی نظر میں احمق جیسا بنا رہے تاکہ وہ بچ سکیں۔
جيسأ:

رحمتِ الٰہی کی وسعت بیان کرتے ہوئے حضرت حذیفہؓ سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان منقول ہے:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ الْفَاجِرُ فِي دِينِهِ، الْأَحْمَقُ فِي مَعِيشَتِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ الَّذِي قَدْ مَحَشَتْهُ النَّارُ بِذَنَبِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَغْفِرَنَّ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْفِرَةً يَتَطَاوَلُ لَهَا إِبْلِيسُ رَجَاءَ أَنْ تُصِيبَهُ»
ترجمہ:
قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! وہ شخص (بھی) جنت میں ضرور داخل ہوگا جو (اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا لیکن) دین کے اعتبار سے گناہگار تھا اور دنیا کے اعتبار سے احمق تھا۔ اور قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! وہ شخص بھی جنت میں ضرور داخل ہو گا جسے آگ نے اس کے گناہوں کے بدلے جلا ڈالا ہو۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اللہ تعالی قیامت کے دن اتنی مغفرت فرمائیں گے کہ کسی انسان کا دل اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اور قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اللہ تعالی قیامت کے دن اتنی زیادہ فرمائیں گے کہ ابلیس بھی اس مغفرت کی امید کرنے لگے گا۔
[طبرانی:3022، تفسیر ابن کثیر=سورۃ الاعراف:156]
حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«‌الْمُؤْمِنُ ‌هَيِّنٌ، ‌لَيِّنٌ، تَخَالُهُ مِنَ اللِّينِ أَحْمَقَ»
ترجمہ:
مومن آسان اور نرم طبیعت کا مالک ہوتا ہے، حتی کہ اسکی نرمی (بھولے پن) کی وجہ سے تم اسکے احمق ہونے کا خیال کروگے۔
[مكارم الأخلاق للطبراني:15، شعب الإيمان:8127، المفردات القر+ن=سورة الفرقان:63]

کتے کی مثال:
امام حسن بصری ؒ فرمایا کرتے تھے کہ کتے کے اندر دس صفات ہیں کہ اگر ان میں سے ایک صفت بھی انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ ولی بن سکتا ہے۔ (1) کتے کے اندر قناعت ہوتی ہے جو مل جائے یہ اسی پر قناعت کر لیتا ہے راضی ہو جاتا ہے ، یہ قانعین یا صابرین کی علامت ہے۔ (2) کتا اکثر بھوکا رہتا ہے ۔ یہ صالحین کی علامت ہے۔ (3) کوئی دوسرا کتا اس پر زور کی وجہ سے غالب آجائے تو یہ اپنی جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جاتا ہے یہ راضیین کی علامت ہے۔ (4) کتے کا مالک اگر اس کو مارے تو وہ اپنے مالک کو چھوڑ کر نہیں جاتا یہ صادقین کی علامت ہے۔ (5) اگر کتے کا مالک بیٹھا کھانا کھا رہا ہو تو یہ باوجود طاقت اور قوت کے اس سے کھانا نہیں چھینتا یہ مساکین کی علامت ہے۔ (6) جب مالک اپنے گھر میں ہو تو یہ دور جوتوں کے پاس جاکر بیٹھ جاتا ہے ۔ ادنی جگہ پر راضی ہو جاتا ہے یہ متواضعین کی علامت ہے۔ (7) دنیا میں رہنے کے لیے اس کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا یہ متوکلین کی علامت ہے۔ (8) رات کو یہ کم سوتا ہے یہ محبین کی علامت ہے۔ (9) اگر اس کا مالک اسکو مارے تو یہ تھوڑی دیر کے لیے دور چلا جاتا ہے۔ اور اگر اس کا مالک اس کو دوبارہ روٹی ڈالے تو یہ دوبارہ آکر کھا لیتا ہے ۔ اس سے ناراض نہیں ہوتا۔ یہ خاشعین کی علامت ہے۔ (10) جب مرتا ہے تو اس کی کوئی میراث نہیں ہوتی یہ زاہدین کی علامت ہے۔
[مرآة الزمان في تواريخ الأعيان:10/471، تفسيرروح البيان: سورۃ الکھف،آیۃ18+22، المقري في "نفح الطيب" (2/ 698)]
کتے کی خاصیتوں میں یہ بھی ہے کہ چور سے خبردار کرنا، چوکیدار رہنا ہے۔

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا أَوْ مُسْتَمِعًا أَوْ مُحِبًّا وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَ فَتَهْلَكَ» وَالْخَامِسَةُ أَنْ تَبْغُضَ الْعِلْمَ وَأَهْلَهُ۔
ترجمہ:
حضرت ابو بکرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:"تم یا تو عالم بنو، یا طالبِ علم، یا علم توجہ سے سننے والے بنو، یا ان (سب) سے محبت کرنے والے بنو، (ان چار کے علاوہ) پانچویں قسم کی مت بننا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے. اور پانچویں قسم یہ ہے کہ تم علم اور علم-والوں سے بغض رکھنے لگو".
[مسند البزار:3626، شرح مشكل الآثار:6116، المعجم الأوسط للطبراني:5171، المعجم الصغیر للطبرانی:786،  حلية الأولياء:7/236، شعب الإيمان للبيهقي:1581، جامع بيان العلم وفضله:151 ، رجاله موثقون[مجمع الزوائد: 1/127]

عن عبدِ اللهِ بنِ مَسعودٍ رضِيَ اللهُ عنه أنَّه كان يَقولُ: اغْدُ عالِمًا، أو مُتعلِّمًا، ولا تَغْدُ إمَّعةً فيما بيْنَ ذلك.
[خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن۔ تخريج مشكل الآثار:15/ 407]




علماء کی توہین سے بچیں»
علماء کی لغزش سے بچنے کا مطلب»
حضرت عمرو بن عوف مذنیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا:
اتَّقُوا زَلَّةَ الْعَالِمِ, (ولا تقطعوه) , وَانْتَظِرُوا فَيْئَتَهُ
ترجمہ:
’’عالم کی لغزش سے بچو، (اور اس سے قطع تعلق مت کرو)، اور اس کے لوٹ آنے کا انتظار کرو۔‘‘
[کنزالعمال:28682(قوت القلوب:2/ 367)]
[سنن کبریٰ للبیہقی»حدیث نمبر: 20923
کتاب: گواہیوں کا بیان»
باب: کیا اہل ہواء کی شہادت جائز ہے»
امام شافعی (رح) نے فرمایا : جس نے تاویل کی اور کوئی کام کرلیا جس میں حد ہے یا نہ کیا تو اس کی شہادت رد نہ کی جائے گی۔ آپ کا کیا خیال ہے جن سے علم حاصل کیا جاتا ہے اور متعہ کے جواز کی علامات اپنے گھروں کے اوپر لگا رکھی ہیں اور ب]
یہ حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے آئمہ امت نے اس کو قبول(نقل واستدلال) کیا ہے۔ اس حدیث میں حضورؐ نے بڑا اہم نکتہ بیان فرمایا ہے کہ آپ کو یقین سے یہ معلوم ہے کہ فلاں کام گناہ ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ ایک عالم اس گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے، تو تم یہ ہر گز مت سوچو کہ جب اتنا بڑا عالم یہ گناہ کا کام کررہا ہے، تولاؤ میں بھی کرلوں بلکہ اس عالم کی اس غلطی اور اس کے گناہ سے بچو اور اس کو دیکھ کر تم اس گناہ کے اندر مبتلا نہ ہوجاؤ۔ عالم کی غلطی کی پیروی نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی صرف اچھائی کی پیروی کرنی چاہیے۔ اس وجہ سے علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ وہ عالم جوسچا اور صحیح معنوں میں عالم ہو، اس کا فتویٰ تو معتبر ہے۔ اس کا زبان سے بتایا ہوا مسئلہ تو معتبر ہے، اس کا عمل معتبر ہوناضروری نہیں۔ اگر وہ کوئی غلط کام کر رہا ہے، تو اس سے پوچھو کہ یہ کام جائز ہے یا نہیں؟ وہ عالم یہی جواب دے گا کہ یہ عمل ناجائز ہے۔ اس لیے تم اس کے بتائے ہوئے مسئلے کی اتباع کرو۔ اس کے عمل کی اتباع مت کرو۔ 
بعض لوگ یہ غلطی بھی کرتے ہیں کہ جب وہ کسی عالم کو کسی غلطی میں یا گناہ میں مبتلا دیکھتے ہیں، تو بس فوراً اس سے قطع تعلق کرلیتے ہیں اور اس سے بدگمان ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات ان کو بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ مولوی لوگ سب کے سب ایسے ہی ہوتے ہیں۔ یوں تمام علمائے کرام کی توہین شروع کردیتے ہیں کہ آج کل علما توایسے ہی ہوتے ہیں۔
حدیث کے دوسرے جملے میں حضورؐ نے اس کی بھی تردید فرما دی کہ اگر کوئی عالم گناہ کا کام کررہا ہے، تو اس کی وجہ سے اس سے قطع تعلق بھی مت کرو،کیوں؟ اس لیے کہ عالم بھی تمہاری طرح کا انسان ہے، جو گوشت پوست تمہارے پاس ہے، وہ اس کے پاس بھی ہے۔ وہ کوئی آسمان سے اترا ہوا فرشتہ نہیں۔ جو جذبات تمہارے دل میں پیدا ہوئے ہیں، وہ اس کے دل میں بھی پیدا ہوتے ہیں۔ شیطان تمہارے پیچھے بھی لگا ہوا ہے اور اس کے پیچھے بھی لگا ہوا ہے۔ وہ گناہوں سے پاک ہے نہ پیغمبر ہے اور نہ فرشتہ بلکہ وہ بھی اسی دنیا کاباشندہ ہے، تو اس سے قطع تعلق مت کرو بلکہ اس کے واپس آنے کا انتظار کرو۔ اُمید ہے کہ وہ توبہ کرکے کسی وقت لوٹ آئے۔
اس لیے علماء کے لیے دعا کرو کہ یا اللہ فلاں شخص آپ کے دین کا حامل ہے۔ اس کے ذریعہ ہمیں دین کا علم معلوم ہوتا ہے۔ یہ بے چارہ اس گناہ کی مصیبت میں پھنس گیا ہے، اس کو اپنی رحمت سے اس مصیبت سے نکال دیجیے، تو اس دعا کو مانگنے سے تمہارا ڈبل فائدہ ہے۔ ایک دعا کرنے کا ثواب ملے گا اور دوسرا ایک مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا۔ اگر یہ دعا قبول ہوتی ہے، تو تم اس عالم کی اصلاح کا سبب بن گئے۔
لہٰذا علماء اگرچہ بے عمل نظر آئیں۔ پھر بھی ان کی اس طرح توہین مت کریں بلکہ ان کے لیے دعا کریں اور ان سے قطع تعلق مت کرو۔ ہزاروں علما کو دو تین بے عمل مولوی حضرات یا علماء کی وجہ سے معتوب ٹھہرانا زیادتی ہی ہے!

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے فرمایا:

آپ کو علمی ذوق اور مطالعہ کا شوق بھی ہے اسلامی لٹریچر پڑھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک بات میں اپنے تجربے کی بناپر کہتا ہوں کہ آپ سلف صالحین اور امت کے ان لوگوں سے جنہوں نے اپنے دائرہ میں دینی و ملی کام کیا ہے بدگمان نہ ہوں یہ بڑے خطرے کی بات ہے ،یہ بات ہمارے ان بھائیوں میں بہت زیادہ پیدا ہوتی جارہی ہے جن کا سارا انحصار مطالعہ پر ہے، وہ تنقیدی کتابیں اور مضامین پڑھتے ہیں تو ان کو ایسا نظر آنے لگتا ہے کہ کسی نے اسلام پر مکمل کام ہی نہیں کیا ،ان کتابوں کے اثر سے وہ دینی خدمت کے ناپنے کے لئے ایک فیتہ بنا لیتے ہیں جس سے وہ ہر مصلح اور مجدد کو ناپتے ہیں جیسے فوج میں بھرتی ہونے والے رنگروٹ ناپے جاتے ہیں یہ صحیح نہیں ،آپ کو معلوم نہیں کہ ان اللہ کے بندوں نے کن سخت حالات میں کام کیا ۔ میں صاف کہتا ہوں کہ اسلام اب جو دنیا میں محفوظ ہے اور زندہ ہے اس میں سب کا حصہ ہے محدثین ،فقہاء،صلحاء امت،اولیا ء اللہ رحمہم اللہ سب کا اس میں حصہ ہے ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کیا کرتے تھے؟نماز روزے کے مسائل بتاتے تھے انہیں تو اسلامی خلافت وسلطنت قائم کرنی چاہئے تھی ،تو صاحب خلافت تو قائم ہوجاتی لیکن آپ کو نماز پڑھنا کون سکھاتا؟ اور وہ خلافت کس کام کی جس میں نماز پڑھنا کسی نہ آتا ہو؟ یاد رکھیے! سب لوگ اپنے امکان واستطاعت کے مطابق دین کی خدمت اور اس کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے ،کوئی وعظ کہہ رہا تھا کوئی تقریر کررہاتھا ،اور کوئی حدیث پڑھا رہا تھا،کوئی فتوے دے رہا تھا اور کوئی کتابیں لکھ رہا تھا ،اپنی اپنی جگہ اسلام کی خدمت ور مسلمانوں کی تربیت کا کام کررہے تھے اور ہر ایک نے الگ محاذ سنبھال رکھا تھا جن لوگوں نے اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ کا نام سکھایا اور لوگوں کی تربیت کی ان کے کام کی تحقیر نہ کی جائے یہ کام انہوں نے کیا جن کو عرف عام میں صوفیائے کرام کہتے ہیں ،آپ کو معلوم نہیں کہ صوفیائے کرام نے کیا خدمت انجام دی ؟انہوں نے اسلامی معاشرے کو زوال سے بچایا،اس کا میرے پاس ثبوت ہے۔انہوں نے ایسا بنیادی کام کیا اگر وہ نہ کرتے تو مادیت کا یہ سیلاب لوگوں کو بہا کر لے جاتا اور تنکے کی طرح امت اسلامیہ بہتی، انہی کی وجہ سے لوگ رکے ہوئے تھے ،اور ہوس رانی ،نفس پرستی کا بازار گرم نہیں ہونے پاتاتھا، اورجو کوئی اس کا شکار ہوجاتا تھا تو فوراً اس میں احساس پیدا ہوتا تھا کہ ہم غلط کام کررہے ہیں ان کے پاس آتا تھا ،روتا تھا،استغفار کرتا تھا پھر یہ صوفیا ومشائخ کام کے آدمی بناتے تھے اور اپنی جگہ پر فٹ کرتے تھے ۔

(خطبات علی میاں ص:۱۴۳،۱۴۵ج۳)




امام احمد بن حنبلؒ (م241ھ) اور امام اذرعیؒ نے ارشاد فرمایا:

اہلِ علم کی مذمت وتوہین کرنا، خاص طور پر بڑے علماء کرام کی، کبیرہ گناہوں  میں سے ہے۔

حوالہ

‌الْوَقِيعَةُ ‌فِي ‌أَهْلِ ‌الْعِلْمِ ولا سيما أكابرهم من كبائر الذنوب۔

[موسوعة محاسن الإسلام ورد شبهات اللئام: ج1 / ص181]

‌الْوَقِيعَةُ ‌فِي ‌أَهْلِ ‌الْعِلْمِ، وَحَمَلَةِ الْقُرْآنِ، وَمِمَّا يُعَدُّ مِنَ الْكَبَائِرِ

[الزواجر عن اقتراف الكبائر:2 /20، العزيز شرح الوجيز-الرافعي:ج13 ص7، روضة الطالبين وعمدة المفتين-النووي: ج11/ ص223، تفسير ابن كثير-سورة النساء:آية31]



لحوم العلماء مسمومة، من شمها مرض، ومن أكلها مات۔

ترجمہ:

’’علماء کرام کا گوشت(واقعی عیب کی غیبت) زہریلا ہوتا ہے جو اس کو سونگھے گا بیمار پڑ جائے گا اور جو اس کو کھائے گا مر جائے گا۔‘‘

[العقد التليد في اختصار الدر النضيد = المعيد في أدب المفيد والمستفيد العلموي (م981ھصفحہ60]

[الموسوعة العقدية - الدرر السنية: 8/ 20]

علماء میں حقیقی مخفی عیبوں کی غیبت کرنا زہر کی طرح یقینی نقصاندہ ہے، اور جو علماء کے حقیقی خفیہ عیب کی تلاش میں جاسوسی کرے تو منافقت کے مرض میں مبتلا ہوجائے گا، اور جو اس سے کمائے گا وہ برباد ہوگا۔



علامہ ابن نجیم المصریؒ (م970ھ) فرماتے ہیں:

الِاسْتِهْزَاءُ بِالْعِلْمِ ‌وَالْعُلَمَاءِ ‌‌كُفْرٌ۔

ترجمہ:

علم اور علماء کی توہین کفر ہے۔

[الأشباه والنظائر - ابن نجيم: ص160]

کیونکہ علم دین کا مذاق اڑانا بھی کفر ہے۔

 [قرآنی دلیل:-سورۃ النساء:140]

اور دین کی وجہ سے مومنوں کا مذاق اڑانا بھی جہنم میں داخلے کا سبب ہے۔

[قرآنی دلیل:- سورۃ المومنون:110]

تو عالم سے تمسخر کرنا یا تمام علماء کا استہزاء کرنا زیادہ سنگین ہوا۔ کیونکہ انکا درجہ عام مومنین سے بلند ہے۔

[قرآنی دلیل:-سورۃ المجادلہ:11]


دین کی وجہ سے بغض کی علامات:

کسی کا محض عالمِ دین ہونے کی وجہ سے برا بھلا کہنا۔

یا ایک عالم کی آڑ میں لفظ "علماء" کا استعمال کرکے سب کو نشانہ بنانا۔

یا علم کے ذریعہ اپنے علاوہ (تمام) علماء سے مقابلہ کرنا، اس پر تو جہنم کی وعید ثابت ہے۔

[حوالہ:- ترمذي:2654، ابن ماجة:253، طبراني:199، حاكم:293]

[قرآنی اشارہ:- سورۃ المطففین:29 +34]

https://youtu.be/zy2tRBKpep8



مَنْ اَبْغَضَ عَالِماً مِنْ غَیْرِ سَبَبٍ ظَاھِرٍ خِیْفَ عَلَیْهِ الْکُفْر ۔

ترجمہ :

جو بغیر کسی واضح سبب کے عالمِ دین سے بغض رکھے اس پر کفر کا خوف ہے ۔

[لسان الحكام-امام ابن الشحنة، لسان الدين (م882ھ) : صفحہ 415]


کلمات ِ کفر بمتعلق علم وعلماء»

جو کسی عالم سے بغیر کسی ظاہری (درست) وجہ کے بغض رکھے تو اس کے کفر کا خوف ہے۔

اور اگر کسی اصلاح کرنے والے(بزرگ) کے حق میں کہا کہ اس کا دیکھنا میرے نزدیک ایسا ہے جس سور کا دیکھنا تو اس پر کفر کا خوف ہے۔

[خلاصہ]

اور اگر بغیر سبب کسی عالم یا فقیہ کو بدگوئی سے یاد(تذکرہ) کیا تو اس پر کفر کا خوف ہے۔

اور اگر کسی نے عالم سے کہا کہ تیرے علم کی دم میں گدھے کا خالیہ لیا مل، بجائے دم کے کون ومقعد وغیرہ فحش الفاظ استعمال کیے اور تیرے علم سے علم دین مراد لیا ہو تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔

[البحر الرائق]

کسی جاھل نے کہا کہ جو لوگ علم سیکھتے ہیں وہ داستانے ہیں کہ ان کو سیکھ لیتے ہیں

یا

کہا کہ جو کچھ کہتے ہیں بیہودہ ہے، یا کہا کہ فریب دہی ہے، یا (علم دین کو) کہا کہ میں علم حیلہ کا منکر ہوں، تو سب کفر ہے۔

[محیط]

ایک شخص ایک اونچی جگہ بیٹھ جاتا ہے اور دیگر جلسے والے اسے بطور مذاق ٹھٹھول کے مسئلہ پوچھتے ہیں، پھر اس کو تکیوں سے مارتے ہیں، اور یہ سب ہنستے ہیں تو یہ سب کافر کہے جائیں گے۔

[الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية- جماعة من العلماء (1118ھ) : 2 /270 ]


غیر واضح سبب:

مثلا:

(۱)تقدیری عیب جیسے کانے، منڈے، کالےحبشی، ہکلانے کے سبب،

(۲)یا ذاتی کمزوری جیسے: مرض کم ہمتی کے سبب،

(۳)یا کسی نافرمان کی رائے یا قابلِ رد گواہی کے سبب

(۴)یا افواہ-سنی سنائی خبر کے سبب

(۵)یا نقلی بناوٹی ثبوت کی وجہ سے

(۶)یا جھوٹے الزام پر یقین کرکے علماء سے بغض رکھے اور نقصان پہنچانے کا موقع جانے نہ دے۔

أَوْ قَالَ لِعَالِمٍ ‌عُوَيْلِمٌ ‌اسْتِخْفَافًا كُلُّهُ كَفَرَ

ترجمہ:

جو کسی عالم کو عویلم(ملاں/مولوی) تحقیر کیلئے کہے، یہ سب کفر ہے۔

[بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية وشريعة نبوية في سيرة أحمدية - محمد الخادمي : 2 / 64]



شیطان ہی آگے ہوگا اور امت اس کے پیچھے چلتے چلتے گمراہ ہوجائے گی۔

لہٰذا علما اگر چہ بے عمل نظر آئیں۔ پھر بھی ان کی اس طرح توہین مت کریں بلکہ ان کے لیے دعا کریں اور ان سے قطع تعلق مت کرو۔ ہزاروں علما کو دو تین بے عمل مولوی حضرات یا علما کی وجہ سے معتوب ٹھہرانا زیادتی ہی ہے!








حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ ‌وَتَعَلَّمُوا ‌لِلْعِلْمِ ‌الْوَقَارَ»

ترجمہ:

علم حاصل کرو اور علم کیلئے وقار سیکھو۔

[حلية الأولياء:6/ 342، الفردوس بمأثور الخطاب:2238، ‌‌ضعيف الجامع:2449]


حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«‌تَعَلَّمُوا ‌الْعِلْمَ، وَتَعَلَّمُوا لِلْعِلْمِ السَّكِينَةَ، وَالْوَقَارَ، ‌وَتَوَاضَعُوا ‌لِمَنْ ‌تَعْلَمُونَ مِنْهُ»

ترجمہ:

علم حاصل کرو اور علم کیلئے سکینہ اور وقار سیکھو، اور تواضع وعاجزی سے پیش آؤ جن(علماء)سے تم نے علم حاصل کیا ہے۔

[المعجم الأوسط-الطبراني:6184]






حضرت عمرؓ نے فرمایا:

«‌تَعَلَّمُوا ‌الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، وَتَعَلَّمُوا لَهُ ‌الْوَقَارَ وَالسَّكِينَةَ , وَتَوَاضَعُوا لِمَنْ تَعَلَّمْتُمْ مِنْهُ وَلِمَنْ عَلَّمْتُمُوهُ، وَلَا تَكُونُوا جَبَابِرَةَ الْعُلَمَاءِ، فَلَا يُقَوَّمُ جَهْلُكُمْ بِعِلْمِكُمْ»

ترجمہ:

علم حاصل کرو اور لوگوں کو تعلیم دو، اور علم کیلئے وقار اور سنجیدگی سیکھو، جس شخص سے علم حاصل کرو اس سے تواضع سے ہیش آؤ، اور جنہیں تعلیم دو ان سے بھی تواضع سے پیش آؤ، سختی کرنے والے علماء مت بنو، کیونکہ تمہارا علم جہالت کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔

[الزهد-لوكيع:275، الزهد-لأحمد بن حنبل:630، المجالسة وجواهر العلم-أبو بكر الدينوري:1197، أخلاق أهل القرآن-الآجري:51، شعب الإيمان-البيهقي:1651، المدخل إلى السنن الكبرى-البيهقي:629، جامع بيان العلم وفضله-ابن عبد البر:893، الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع-للخطيب البغدادي:41، ترتيب الأمالي الخميسية-للشجري:214+348]




حضرت ابوسنان الاسدیؒ فرماتے ہیں:

إذا كان طالب قبل أن يتعلم مسألة في الدين يتعلم الوقيعة في الناس؛ متى يفلح؟

ترجمہ:

جب طالب علم دین کا کوئی مسئلہ سیکھنے سے پہلے علماء پر طعن کو سیکھے گا تو کیسے کامیاب ہوگا؟

[ترتیب المدارک ط اوقاف المغرب: 4/104]




حضرت مالک بن دینارؒ نے فرمایا تھا:

كَفَى بِالْمَرْءِ خِيَانَةً أَنْ يَكُونَ أَمِينًا لِلْخَوَنَةِ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ ‌شَرًّا ‌أَنْ ‌لَا ‌يَكُونَ ‌صَالِحًا وَيَقَعُ فِي الصَّالِحين۔

ترجمہ:

آدمی  کے خیانت(غداری) ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ خائنوں(غداروں) سے ایماندار(وفادار) ہو۔ اور آدمی کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ خود نیک نہ ہو اور نیک لوگوں کی عیب جوئی (اور غیبت) کرے۔

[الفوائد والأخبار-لابن حمكان:95، شعب الإيمان-البيهقي:6358 ط الرشد]



امام عبد اللہ ابن مبارک(م181ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

«‌مَنِ ‌اسْتَخَفَّ ‌بِالْعُلَمَاءِ ذَهَبَتْ آخِرَتُهُ، وَمَنِ اسْتَخَفَّ بِالْأُمَرَاءِ ذَهَبَتْ دُنْيَاهُ، وَمَنِ اسْتَخَفَّ بِالْإِخْوَانِ ذَهَبَتْ مُرُوءَتُهُ»

ترجمہ:

جو شخص بھی علماء کی بے قدری کرے گا وہ اُخروی زندگی (کی بھلائی) سے محروم رہے گا، جو شخص بھی حکمرانوں کی بے قدری کرے گا وہ دنیاوی زندگی (کی بھلائی) سے محروم رہے گا، اور جو شخص بھی اپنے بھائی کی بے قدری کرے گا وہ اچھے اخلاق و کردار سے محروم رہے گا-

[الجليس الصالح الكافي-المعافى بن زكريا(م390ھ): صفحہ#229، آداب الصحبة لأبي عبد الرحمن السلمي (م412ھ)،  : حدیث#52، النصيحة للراعي والرعية للتبريزي(م636ھ): صفحہ#97]


حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے  فرمایا :
«ثَلَاثٌ لَا يَسْتَخِفُّ بِحَقِّهِمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، ذُو الشَّيْبَةِ فِي الْإِسْلَامِ , وَالْإِمَامُ الْمُقْسِطُ , وَمُعَلِّمُ الْخَيْرِ»
ترجمہ:
تین شخص ایسے ہیں کہ جن کے حق کو منافق کے سوا کوئی شخص حقیر وذلیل نہیں سمجھ سکتا: ایک وہ شخص جو اسلام کی حالت میں بوڑھا ہوگیا، اور عادل بادشاہ اور خیر کی تعلیم دینے والا(عالم)۔
[جامع بيان العلم:1/542، رقم الحدیث:898، (مصنف ابن أبي شيبة:32562)]



حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ثلاثٌ لا يَستَخِفُّ بهم إلا منافقٌ: ذو الشيبة في الإسلام، وذو العلمِ، وإمامٌ مُقسِط".
ترجمہ:
تین شخص ایسے ہیں کہ جن کو منافق کے سوا کوئی شخص حقیر وذلیل نہیں سمجھ سکتا: ایک وہ شخص جو اسلام کی حالت میں بوڑھا ہوگیا، دوسرا صاحبِ علم اور تیسرا عادل بادشاہ۔
[الأموال لابن زنجويه » بَابٌ : مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَوْقِيرِ أَئِمَّةِ الْعَدْلِ ... رقم الحديث: 49 - المعجم الكبير للطبراني » بَابُ الصَّادِ » مَنِ اسْمُهُ الصَّعْبُ » صُدَيُّ بْنُ الْعَجْلانِ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ... رقم الحديث: 7720(7817) - التَّرْغِيب وَالتَّرْهِيب، للمنذري:1/65، كتاب الْعلم، حديث:174 - مجمع الزوائد، للهيثمي: 1/132]


حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ عَمَّارٌ: ثَلَاثٌ لَا يَسْتَخِفُّ بِحَقِّهِنَّ إِلَّا مُنَافِقٌ بَيِّنٌ نِفَاقُهُ: الْإِمَامُ الْمُقْسِطُ وَمُعَلِّمُ الْخَيْرِ وَذُو الشَّيْبَةِ فِي الْإِسْلَامِ.
ترجمہ:
تین لوگ ایسے ہیں جن کے حقوق کو سوائے منافق کے  جس کا نفاق واضح ہے اور کوئی ہلکا نہیں سمجھتا: انصاف کرنے والا امام، خیر کی تعلیم دینے والا اور جو اسلام کی حالت میں بوڑھا ہوگیا۔
[مصنف ابن أبي شيبة : كِتَابُ الْسير، باب مَا جَاءَ فِي الْإِمَامِ الْعَادِلِ ... 32562(6/421)]

علم کے حصول کیلئے معلم (اُسْتاد) کی ضرورت واہمیت

صحابہ کے دور میں امام پر بے جا اعتراض پر مظلوم امام کی بددعا اور انتقامِ الٰہی۔

اہل کوفہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ کی عمر فاروق ؓ سے شکایت کی۔ اس لیے عمر ؓ نے ان کو مغزول کر کے عمار ؓ کو کوفہ کا حاکم بنایا، تو کوفہ والوں نے سعد کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ وہ تو اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھا سکتے۔ چناچہ عمر ؓ نے ان کو بلا بھیجا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اے ابواسحاق! ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے ہو۔ اس پر آپ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں تو انہیں نبی کریم ﷺ ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا، اس میں کوتاہی نہیں کرتا عشاء کی نماز پڑھاتا تو اس کی دو پہلی رکعات میں (قرآت) لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا۔ عمر ؓ نے فرمایا کہ اے ابواسحاق! مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی۔ پھر آپ نے سعد ؓ کے ساتھ ایک یا کئی آدمیوں کو کوفہ بھیجا۔ قاصد نے ہر ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا۔ سب نے آپ کی تعریف کی لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے۔ تو ایک شخص جس کا نام اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابوسعدہ تھی کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے تو (سنیے کہ) سعد نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے، نہ مال غنیمت کی تقسیم صحیح کرتے تھے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتے تھے۔ سعد ؓ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اللہ کی قسم میں (تمہاری اس بات پر) تین دعائیں کرتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمردراز کر اور اسے خوب محتاج بنا اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔ اس کے بعد (وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ) جب اس سے پوچھا جاتا تو کہتا کہ ایک بوڑھا اور پریشان حال ہوں مجھے سعد ؓ کی بددعا لگ گئی۔ عبدالملک نے بیان کیا کہ میں نے اسے دیکھا اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آگئی تھی۔ لیکن اب بھی راستوں میں وہ لڑکیوں کو چھیڑتا۔
[صحيح البخاري:755]
باب:اولیاء اللہ کی عظمت اور فضل کا بیان[رياض الصالحين:1505]
باب:کسی شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ صرف اس کے خلاف بددعا کرے جس نے مسلمانوں پر ظلم کیا ہو۔[الأذكار للنووي ط ابن حزم:1581]



اور اسی طرح محمد بن علی طوسی رحمہ اللہ (م460ھ) فرماتے ہیں کہ :
كتب خالد بن خداش إلى أبي في اليوم الذي ضرب فيه أحمد بن حنبل: وأخبرك أن رجلاً بلغه ما صنع بأحمد، فدخل المسجد ليصلي شكراً، فخسف به إلى صدره، فاستغاث الناس، ‌فأغاثوه۔
ترجمہ:
خالد بن خداش نے میرے والد کو ایک خط کے ذریعے اس دن کے واقعے کی خبر دی ، جس دن امام احمد کو درے مارے گئے تھے ، یہ سن کر ایک شخص شکرانے کی نماز پڑھنے مسجد گیا تو اللہ تعالی نے اسے سینے تک زمین میں دھنسا دیا ، اس کی چیخ پکار پر لوگ جمع ہوئے تو اسے کھینچ کر باہر نکالا ۔
[مناقب الإمام أحمد - ابن الجوزي (م597ھ) : صفحہ654 -الناشر: دار هجر]

محمد بن علی طوسی رحمہ اللہ (م460ھ) فرماتے ہیں کہ :
دخلت على أبي ‌العروق ‌الجلاد الذي ضرب أحمد لأنظر إليه، فمكث خمسة وأربعين يوماً ينبح كما ينبح ‌الكلب۔
ترجمہ:
میں ابوالعروق کے پاس گیا ، یہ وہ شخص تھا جس نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو کوڑے مارے تھے ، میں نے دیکھا کہ وہ پینتالیس دن تک کتے کی طرح بھونکتے بھونکتے مرگیا۔
[مناقب الإمام أحمد - ابن الجوزي (م597ھ) : صفحہ655 -الناشر: دار هجر]


مؤرخ کمال ابن العدیم(م660ھ) نے تاریخ حلب میں بیان کیا ہے کہ :
لما مات ابن منير خرجنا جماعة من الأحداث تنفرج بمشهد الحف فقال بعضنا لبعض: قد سمعنا أنه لا يموت من كان يسب أبا بكر وعمر رضي الله عنهما إلا ويمسخه الله في قبره خنزيرا، ولا نشك أن ابن منير كان يسبّهما، وأجمع رأينا على أن نمضي الى قبره تلك الليلة وننبشه لنشاهده، قال لي: فمضينا جميعا ونبشنا قبره فوجدنا صورته صورة خنزير ووجهه منحرف عن القبلة الى جهة الشمال وكان معنا ضوء فأخرجناه على شفير قبره ليشاهده الناس، ثم بدا لنا فأحرقناه ووضعناه في القبر وأعدنا التراب عليه
ترجمہ:
ابن منیر نامی شخص جو حضرات شیخین کو برا کہتا ہے، جب مرگیا تو حلب کے نوجوانوں کو ابن منیر کا انجام دیکھنے کا داعیہ پیدا ہوا، آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ جو شخص سیدناابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو برا کہتا ہے تو اس کا چہرہ قبر میں سور جیسا ہوجاتا ہے ، اور ہم جانتے ہیں کہ ابن منیر شیخین کو برا کہتا تھا، چلو اس کی قبر کھود کر دیکھیں کیا واقعی ایسا ہی ہے، جیسا کہ ہم نے سنا ہے، چنانچہ چند نوجوان اس پر متفق ہوگئے اور بالآخر انہوں نے ابن منیر کی قبر کھود ڈالا، جب قبر کھودی گئی تو کھلی آنکھوں سے دیکھا گیا کہ اس کا چہرہ قبلہ سے پھر گیا اور سور کی شکل میں تبدیل ہوگیا ہے۔ چنانچہ اس کی لاش کو عبرت کے لیے مجمع عام میں لایا گیا پھر اس کو مٹی میں چھپا دیا گیا۔
[بغية الطلب فى تاريخ حلب-ابن العديم (م660ھ): ج3 / ص1164 -الناشر: دار الفكر]
[الزواجر عن اقتراف الكبائر-ابن حجر الهيتمي(م974ھ): ج2/ ص382 -الناشر: دار الفكر]

================================









حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ اپنی ریاضت و مجاہَدہ کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ایک دفعہ میں سیاحت کے دوران ایک ایسے جنگل میں چلا گیا جہاں پانی ناپید تھا، کئی دن پانی پیے بغیر گزر گئے، پیاس کی شدت حد سے بڑھ گئی۔ پھراللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بادل نمودار ہوا، بارش ہوئی اور اس کے چند قطروں سے سکون ملا۔ اس کے بعد ایک نور ظاہر ہوا جس نے تمام افق کا احاطہ کرلیا اور عجیب صورت نمودار ہوئی، اس نے کہا: اے عبدالقادر! میں تیرا پروردگار ہوں، میں نے تمہارے لیے وہ سب چیزیں حلال کردی ہیں جو دوسروں کے لیے حرام کی ہیں، جو چاہو لے لو اور جو چاہو کرو۔ میں نے کہا: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم”، ملعون! دفع ہوجا، یہ تو کیا کہہ رہا ہے۔ اچانک وہ روشنی تاریکی میں بدل گئی اور وہ صورت دھواں بن گئی اور اُس نے کہا: اے عبدالقادر! تو نے اللہ تعالیٰ کے احکام کے علم اور اپنے روحانی مرتبے کی رفعت کے سبب میرے اِس داؤ سے نجات پالی، ورنہ میں اس حربے سے ستّر ایسے اہلِ طریقت کو گمراہ کرچکا ہوں، جنہیں دوبارہ وہ مقامِ رفعت نصیب نہیں ہوا۔ میں نے کہا: میرے علم نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان نے مجھے تیرے فریب میں مبتلا ہونے سے بچا لیا ہے۔
[اخبار الاخیار،فارسی، ص: 12]

علامہ ابن تیمیہؒ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں: حضرت شیخ سے کسی نے پوچھا :آپ نے کیسے جانا کہ یہ شیطان ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے اُسے اُس کے اس قول سے پہچانا: میں نے تمہارے لیے وہ سب کچھ حلال کردیا جو دوسروں پر حرام ہے، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ محمد ﷺ کی شریعت نہ تو منسوخ ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ اُس کی شناخت کی دوسری وجہ بھی اُس کا یہ قول تھا: میں تمہارا رب ہوں، وہ یہ نہیں کہہ سکا کہ میں اللہ ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے.
[فتاویٰ ابن تیمیہ، ج:1،ص: 172،طبع سعودیہ]
[غنیۃ الطالبین مترجم، ص:30-31،فرید بک اسٹال ،لاہور]
***************************************

حصولِ علم کی اہمیت
علم کی تعریف
کسی شے کی حقیقت کو جاننے کا نام علم ہے، علم کا اطلاق بہت سے معانی پر ہوتا ہے، جیسے عقائد کا علم، زبان کا علم، نسب کا علم، علوم طبیعیہ، جیسے ریاضی اور فزکس وغیرہ۔

اگر مذاہبِ عالم کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ مذہبِ اسلام نے علم اور حصول علم پر جس قدر زور دیا ہے دیگر مذاہب میں اس کی مثال ملنی مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہے۔

قرآن کریم کی سب سے پہلی وحی جو ہمارے پیارے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہوئی اس میں حصول علم کا ہی حکم ہے اور یہ حکم آپ ﷺ اور آپ کے ذریعہ آپ کی امت کے ہر فرد کو شامل ہے ۔ پہلی بابرکت اور ایک عظیم انقلاب برپا کرنے والی وحی کی ابتدایوں ہوتی ہے:﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ،خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ، الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ﴾․ (سورة العلق:5-1)

ان پانچ آیات کے ذریعہ الله جل جلالہ نے اپنے رسول حضرت محمد ﷺ او رامت کے ہر شخص کو پڑھنے کا حکم دیا اور اس علم کے حصول کی ترغیب دی، جو خالق کو پہچاننے کا ذریعہ بنے۔ الله تبارک وتعالیٰ نے علم کو کتنی اہمیت بخشی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لفظ” علم“ اپنے مختلف مشتقات کے ساتھ 779 مرتبہ قرآن پاک میں وارد ہوا ہے او ران کے علاوہ ان الفاظ کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو معنی علم کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مثلاً: یقین، ہدیٰ، عقل، فکر، نظر، حکمت، برہان، دلیل، حجة، آیة،بینتہ وغیرہ۔

احادیث پاک میں جس کثرت سے علم اور حصول علم کی فضیلت کا ذکر ہے اس کا احاطہ کرنا محال ہے، چند احادیث پر اکتفا کیا جاتا ہے: رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”ان الله وملائکتہ واھل السماوات والأرض، حتی النملة فی حجرھا وحتی الحوت فی جوف البحر، یصلون علی معلم الناس خیراً․“(سنن ترمذی:2682)

بے شک الله تعالیٰ اور اس کے فرشتے، آسمان اور زمین والے، یہاں تک کہ چیونٹی اپنے بل میں اور مچھلیاں سمندر کی گہرائی میں لوگوں کو خیر اور بھلائی کی بات سکھانے والوں کے لیے دعا کرتی ہیں۔

ایک دوسری جگہ آپ ﷺ فرماتے ہیں:”من یرد الله بہ خیراً یفقہہ فی الدین“(صحیح بخاری) الله جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں۔ ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے طالب علم کی کچھ اس طرح حوصلہ افزائی فرمائی:”من سلک طریقا یلتمس فیہ علماً، سھل الله لہ بہ طریقاً إلی الجنة․“(صحیح مسلم) جو شخص علم کی طلب اور تلاش میں ایک راستہ پر چلا، الله تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں۔ تعلم او رحصول علم کو پیارے رسول الله ﷺ نے انبیائے کرام کی میراث قرار دیا ہے، اس سے بڑھ کر علم کی فضیلت اور کیا ہو سکتی ہے؟! چناں چہ حدیث نبوی ہے:”إن الإنبیاء لم یورثوا درھما ولا دینارا وإنما ورثوا العلم، فمن أخذہ أخذ بحظ وافر من میراثھم․“(سنن ابوداؤد) یعنی انبیا کرام ورثہ میں درہم اور دینار چھوڑ کر نہیں جاتے، بلکہ علم چھوڑ کرجاتے ہیں توجس نے علم حاصل کیا اس نے انبیائے کرام کی میراث کا ایک وافر حصہ حاصل کیا۔

علم کی ضرورت
علم زندگی کا نور ہے ، تمام بھلائیوں، عظمتوں، بلندیوں اور شرف کے حصول کا واحد ذریعہ ہے، علم ہی سے انسان اپنا دین، اپنی دنیا او راپنے حقیقی مقصد کو پہچانتا ہے۔ زندگی کی بہت سی مشکلات ہم علم کے ذریعہ ختم کرتے ہیں، علم ہی کے ذریعہ ہم اپنے اندر کی چیزوں کو تنقیدی زاویہ سے سوچنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں ۔ علم ہماری زندگیوں میں خوشیاں لاتا ہے، علم زندگی کے ہر موڑ پر ہماری مدد کرتا ہے اور علم کا سب سے بڑا فائدہ ہماری زندگی میں یہ ہے کہ یہ ہمیں ہماری حقیقت سے آگاہ کرتا ہے ۔ علم اس گھر کو بھی رفعت بخشتا ہے جس کے پائے نہ ہوں اور جہالت عزت وشرف والے مکان کی تباہی کا باعث بن جاتی ہے ۔ دنیا اور آخرت کی سعادت کی بنیاد علم ہے ، علم تمام اعمال میں سب سے افضل ہے اور کیوں نہ ہو؟! کسی چیز کی فضیلت اس کے نتیجہ کی فضیلت سے ناپی جاتی ہے اور علم کا نتیجہ رب العالمین کا قرب ہے، جو ہماری زندگی کا حقیقی اور واحد مقصد ہے اور ہماری تمام جدوجہد کا عین مطلوب ہے۔ الله تعالیٰ نے اپنے نبی ورسول حضرت محمد ﷺ کو علم کی زیادتی کی طلب کا حکم فرمایا، چناں چہ حکم دیا گیا:﴿ وَقُل رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْما﴾․(سورة طہ:114) ”آپ کہیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔“ علم ایمان کی علامات میں سے ہے اور جہالت اہل جہنم کی صفات میں سے ہے ۔ علم نوافل سے بہتر ہے او رایک عظیم جہاد ہے ۔ جناب رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:”من جاء مسجدي ھذا، لم یاتہ إلا لخیر، یتعلمہ، أو یعلمہ فھو بمنزلة المجاھد فی سبیل الله․“(سنن ابن ماجہ) ترجمہ: جو شخص میری اس مسجد میں صرف اچھی اور خیرکی بات سیکھنے یا سکھانے کے مقصد سے آتا ہے اس کا مرتبہ الله کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے۔ دینی علم انسان کو یہ بتاتا ہے کہ اس کا رب کون ہے؟ اس کے رب کی صفات کیا ہیں؟ انبیائے کرام کون ہیں؟ ان کے اوامر کیا ہیں اور ان کی نواہی کیا ہیں؟ ایک انسان ان تمام باتوں کو جاننے اور اس کے مقتضا پر عمل کرنے کے بعد پرامن زندگی بسر کرتا ہے ۔ حضرت علی کرم الله وجہہ فرماتے ہیں کہ علم کے شرف کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ شخص بھی علم کا دعویٰ کرتا ہے جو اس کا اہل نہیں اور جہالت کی عار کے لیے اتنی سی بات بہت ہے کہ جاہل بھی جہالت سے برأت کا اظہار کرتا ہے۔

علم، ایمان اور عمل
اسلام کی نظر میں علم او رحصول علم کی کوشش کی تمام مذکورہ بالا فضائل کے باوجود کوئی بھی اہمیت نہیں ہے اگر وہ علم ایمان سے خالی ہو، قرآن پاک میں الله تبارک وتعالی نے علم او رایمان کو ایک ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے، چناں چہ سورہٴ روم کی آیت نمبر56 میں ہے:﴿وَقَالَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتَابِ اللَّہِ إِلَی یَوْمِ الْبَعْثِ﴾ اور ان لوگوں نے کہا جن کو علم اورایمان عطا کیا گیا کہ تم لوگ جیسا کہ کتاب الله میں ہے یوم قیامت تک پڑے رہے۔ اور سورہٴ مجادلہ آیت نمبر11 میں ہے:﴿یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ﴾ الله تعالیٰ ان لوگوں کے درجات کو بلند فرماتے ہیں جو ایمان لائے او رجنہیں علم دیا گیا۔ علم اور ایمان کے علاوہ جو تیسری چیز انتہائی اہمیت کی حامل ہے وہ عمل ہے۔ اسلام کی نظر میں حصول علم کا مقصد اس پر عمل کرنا ہے، ورنہ وہ علم صاحبِ علم کے لیے وبال جان بن جاتا ہے۔ اسلام نے علم کے اس پہلو پر سب سے زیادہ توجہ دی ہے اور اجر ونجات کا انحصار عمل ہی پر رکھا ہے۔ بے شمار وعیدیں اور مذمت اس شخص کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جو اپنے علم پر عمل پیرا نہیں ہے ، قرآن پاک میں ہے: ﴿أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَکُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْکِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ ﴾․(سورة البقرة:44) کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اوراپنے آپ کو بھول جاتے ہو اور تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو، کیا سمجھتے نہیں ہو ، حدیث پاک میں ہے:”من تعلم علما مما یبتغی بہ وجہ الله عزوجل لا یتعلمہ إلا لیصیب بہ عرضا من الدنیا لم یجد عرف الجنة یوم القیامة (یعنی ریحھا)“(سنن ابوداؤد وسنن ابن ماجہ) جس شخص نے علم سیکھا جس سے الله کی رضا حاصل کی جاتی ہے اور وہ صرف دنیا کے سامان کے حصول کے لیے سیکھتا ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوش بو نہیں پائے گا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ابن آدم کا قدم اپنے رب کے سامنے سے اس وقت تک نہیں ہٹ سکتا جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے او ران پانچ چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے علم پر کیا عمل کیا۔ ( معجم طبرانی) جناب رسول الله ﷺ اس علم سے پناہ مانگا کرتے تھے جو نفع بخش نہ ہو ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ فرماتے تھے تھے کہ ” اس علم کی مثال جس پر عمل نہ کیا جائے اس خزانہ کی طرح ہے جس کو الله کے راستہ میں خرچ نہ کیا جائے۔“ حضرت عمر رضی الله عنہ کا قول ہے:” وہ شخص تم کو دھوکہ میں نہ ڈالے جو قرآن پڑھتا ہے، بلکہ اس شخص کو دیکھو جو اس پر عمل کرتا ہے۔“

علوم شرعیہ کی اہمیت
الله تبارک وتعالی نے انسانوں کی ہدایت کے لیے جتنے بھی انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا، ان سب کا مقصد لوگوں کو الله کی طرف دعوت دینا تھا اورایک داعی کے کردار میں سب سے بڑا عنصر علم ہوتا ہے ۔ سردار انبیاء حضرت محمد ﷺ پر نازل ہونے والی سب سے پہلی وحی میں آپ کو پڑھنے کا حکم دینا اور علم کا تذکرہ کرنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ علم اس دین کو، دنیا کو اور آخرت کو سمجھنے کی کنجی ہے، علم ہی کی روشنی میں دعوت کا کام پایہٴ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے، شریعت کا علم ہمارے لیے کھانے، پینے ، لباس اور دوا سے بھی زیادہ ضروری ہے، اس لیے کہ علم شریعت ہی سے دین ودنیا کی بقا ہے، علم عبادت کی بنیاد ہے۔ مثلاً نماز پڑھنے کے لیے ہمیں ایک عالم کی ضرورت ہے، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمارے رسول صلی الله علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟ نماز کے ارکان کیا ہیں؟ فرائض کیا ہیں؟ سنتیں کیا ہیں؟ علم شریعت کے بغیر نہ نماز پڑھی جاسکتی ہے ، نہ روزہ رکھا جاسکتا ہے، نہ زکوٰة ادا کی جاسکتی ہے، نہ جہاد کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی فریضہٴ حج ادا کیا جاسکتا ہے۔

عقیدہ کی سب سے مشہور کتاب”شرح العقیدہ الطحاویة“ میں ہے کہ ” اصول دین کا علم تمام علوم میں سب سے اشرف ہے اور اسی لیے امام ابوحنیفہ رحمة الله تعالیٰ علیہ نے اصول دین کے بارے میں جو کچھ کہا اور صفحات میں جمع کیا اس کا نام ”الفقہ الاکبر“ رکھا۔ بندوں کو اس کی ضرورت تمام ضرورتوں پر فوقیت رکھتی ہے ،اس لیے کہ وہ قلوب مردہ ہوتے ہیں جو اپنے رب کو نہ پہچانیں، دلوں کی زندگی اور اس کا اطمینان وسکون اپنے رب، اپنے معبود او راپنے خالق ومالک کو اس کے اسماء وصفات او رافعال کے ساتھ جاننے میں مضمر ہے۔“ ( ص:17)

کسی قوم کی گم راہی اور بددینی کی بنیادی وجوہات علم دین سے دوری او رخواہشاتِ نفسانی کی اتباع ہی ہیں، گم راہوں او رغلو کرنے والوں کے احوال کے بارے میں اگر غور کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ لوگ یا تو شریعت کے علوم سے بے خبر تھے یا خواہشاتِ نفسانی کے مرض میں مبتلا تھے۔ لوگ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں ، معاصی کے دلدل میں پھنستے جاتے ہیں، کم زوروں کے حقوق کو ہضم کر جاتے ہیں اور انہیں اس بات کااحساس نہیں ہوتا کہ ان کے یہ اعمال حرام ہیں جن پر دنیا وآخرت میں شدید ترین سزائیں مرتب ہوں گی، اگر انہیں شریعت کا علم ہوتا تو ان گناہوں کاارتکاب کرنے کی جرأت بھی نہ کرتے۔

جدید علوم
علوم کی فضیلت او راہمیت صرف علوم شریعہ کے ساتھ خاص نہیں ہے ، بلکہ ان فنون کی تعلیم بھی ثواب کا باعث بن سکتی ہیں جو الله کی رضا کے لیے دی جائیں اور ان کا مقصد الله کی مخلوق کو نفع پہنچانا ہواور وہ مقاصد شریعت کے ساتھ ٹکراتے بھی نہ ہوں، یہ فنون دراصل کرہ ارض پر بسنے والی مخلوق کی زندگی کو بہتر اور آسان بنانے کا ممکنہ ذریعہ ہیں۔

قرآن پاک میں ہے :﴿ ہُوَ أَنشَأَکُم مِّنَ الأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیْہَا ﴾․(سورة ھود:61)اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اوراسی زمین میں تمہیں بسایا۔

حدیث پاک میں ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ:”انتم اعلم بشؤؤن دنیاکم“ یعنی تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ جاننے والے ہو۔

زمین کی تعمیر کے لیے ، وہاں انسانوں کو آباد کرنے کے لیے اور انسانی معاشرے میں زندگی کی اجتماعی ضروریات کو بہتر انداز سے پورا کرنے کے لیے ریاضی ،فن صناعت، فن زراعت او ر اقتصاد وتجارت وغیرہ کی تعلیم کی ضرورت پڑتی ہے۔ موجودہ دو رمیں مسلمانوں کو علوم شرعیہ کے ساتھ ساتھ ان دوسرے فنون میں بھی مہارت حاصل کرنا چاہیے جو دنیاوی ضروریات پورا کرنے کا ذریعہ ہیں، جیسے کمپیوٹر سائنس، میڈیکل، انجینئرنگ، میتھ میٹکس(Mathematics) ایگری کلچرل(Agricultural) او رانڈسٹریل سائنس(Industrial Science) وغیرہ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ مذہب پر کاربند رہتے ہوئے اور دین کا ضروری علم حاصل کرنے کے بعد ان فنون کو بھی سیکھیں جو اسلامی شریعت اور اسلامی قواعد کے مخالف نہ ہوں، چناں چہ جوان فنون کو اس مقصد سے سیکھے کہ وہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے لیے نافع بنے گا تو وہ ماجور ہو گا اور اس شخص سے افضل ہو گا جس نے موقع ہونے کے باوجود بیکار سمجھ کر نہیں سیکھا۔ اسی طرح میڈیکل ، انجینئرنگ اور دوسرے فنون کا مسئلہ ہے۔ جسے دینی علوم پر رسوخ حاصل ہے اور کمپیوٹر اورانٹرنیٹ پر بھی عبورہے اور وہ اس کا استعمال شریعت کے دائرے میں رہ کر( یعنی جاندار کی تصاویر آویزاں کیے بغیر، اپنی نگاہوں کی حفاظت کرتے ہوئے، اپنے قیمتی اوقات زندگی کو ضائع ہونے سے بچاتے ہوئے، وغیرہ وغیرہ) کلمہٴ حق کو پورے عالم میں پہنچانے کی غرض سے کر رہا ہو تو وہ ان سے بہتر ہے جو اپنی فیملی اور اپنی اولاد سے ہٹ کر کچھ اور سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ہمارے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کتنی پیاری بات فرمائی:”إن ھذا الخیر، خزائن وتلک الخزائن مفاتیح، فطوبیٰ لعبد جعلہ الله مفتاحاً للخیر، مغلاقا للشر، وویل لعبد جعلہ الله مفتاحا للشر، مغلاقا للخیر․“(ابن ماجہ) بلاشبہ یہ خیر خزانے ہیں، تو خوش خبری ہے اس شخص کے لیے جس کو الله نے خیر کو کھولنے والا اور شر کو بند کرنے والا بنایا اور ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کو الله نے شر کو کھولنے والا اور خیر کو بند کرنے والا بنایا۔

قوانین الہٰیہ کی پابندی کرتے ہوئے معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے واسطے قوم کے افراد کا اپنی اپنی پسند اور طبعی رجحان کے مطابق ایک تخصص(Specialization) کا انتخاب کرنا بالکل فطری تقاضا ہے۔ صرف اس طرح پورا معاشرہ ایک مہذب، مثقف اور بے مثال معاشرہ بن پاتا ہے۔

رسول الله ﷺ نے فرمایا تھا:”ألا إن الدنیا ملعونة ، ملعون ما فیھا إلا ذکر الله، وما والاہُ، وعالم أو متعلم․“(سنن ترمذی) دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے وہ ملعون ہے، یعنی الله کی رحمت سے دور ہے، مگر الله کا ذکر اور وہ چیزیں جو الله سے قریب کریں ( یعنی نیک عمل) اورعالم اورمتعلم(طالب علم)۔ اس کا اثر تمام اسلامی دنیا پر پڑا، چناں چہ علم ومعرفت کے مختلف میدانوں میں ایک وسیع پیمانہ پر اس طرح کی سرگرمیاں مشاہدے میں آئیں جن کی مثال تاریخ میں ملنی مشکل ہے، مسلمان علماء کے ذریعہ ایک تہذیب وتمدن کی بنیاد پڑی اور انسانیت کو شان دار علمی ذخیرہ میسر آیا۔

ہمارے اسلاف نے نہ صرف علوم وفنون کی قدر وقیمت کو پہچانا بلکہ انہیں ان کی حیثیت کے مطابق اسلامی معاشرے میں جگہ دی۔ دنیاوی فنون کی قدردانی بھی کی مگر علوم اسلامی کو نسل انسانی کی دنیاوی اور اخروی کام یابی کے لیے لازمی حیثیت دی۔ معاشرے کا مرکز یعنی مساجد تعلیمی حلقوں سے پُر رہا کرتی تھیں، مدارس وجامعات قائم کیے گئے۔ جس کانتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ دس صدیوں تک اس دنیا کے اساتذہ تھے، مغربی دنیا نے ان سے علوم بھی اور فنون بھی حاصل کیے مگر اپنی متعین کردہ ترجیحات کے مطابق اپنی تہذیب وتمدن کی بنیاد رکھی۔

مسلمان اپنے تاب ناک ماضی کی عزت وشرف کو تبھی واپس پاسکتے ہیں جب اسلاف واکابرین کے نقش قدم پر چلیں، ہمارے اسلاف نے اسلام کو اپنی زندگیوں میں اپنایا اور شرف وعزت والے کہلائے، دشمنانِ اسلام پوری طاقت کے ساتھ ان پر یلغار کرتے، مگر منھ کی کھاتے، انہوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے علم الہٰی کووسیلہ بنایا اور افسوس کہ ہم نے علم الہٰی کو چھوڑ کر اپنی تمام تر توجہ ان فنون پر مرکوز کر دی جن کا دنیا میں تو فائدہ ملنے کا امکان ہوتا ہے، مگر آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

مختصراً یہ کہ ماضی کی شرف وعزت کا حصول علم شرعی او رعلوم دنیوی کے حصول پر ہی موقوف ہے۔

والله الموفق المستعان

علم دنیا میں دو راستوں سے آیا ہے
ایک علم الٰہی ہے، جو بذریعہٴ وحی انبیائے کرام علیہم السلام کے توسط سے دنیا والوں کو پہنچا ہے، اس علم کے معلم اول خود حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ شانہ کی ذات گرامی صفات ہے اور اس کے اولین شاگرد حضرات انبیائے کرام علیہم السلام ہیں۔ اس مقدس سلسلہٴ تلامذہ میں پہلے شاگرد اور متعلم ابوالبشر سیدنا آدم علیہ السلام ہیں، جن کے علم وفضل کا لوہا ملائکہ مقربین تک نے مانا ہے اور اس لحاظ سے حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ ہی اس علم الٰہی کا پہلا درس حظیرئہ قدس کی درس گاہ میں ملائے اعلیٰ کے فرشتوں کو ہی دیا گیا ہے۔ یہ علم الٰہی وہ علم ہے جس کے ادراک و معرفت سے عقلِ انسانی قاصر وعاجز ہے، اس لیے کہ یہ حقائق الٰہیہ اور علومِ غیبیہ عقلِ انسانی کی دست رس سے بالا تر اور وراء الوراء(دور سے دورتر) ہیں، ارشاد باری ہے:
﴿ وَلاَ یُحِیْطُونَ بِشَیْْء ٍ مِّنْ عِلْمِہِ إِلاَّ بِمَا شَآءَ ﴾․(البقرہ:255)
ترجمہ:۔”اور وہ (انسان)نہیں احاطہ کر سکتے اس کے علم کے کسی حصہ پربھی،بجزاس کے جو وہ خود (عطا فرمانا)چاہے“۔

اور اس ” بِمَا شَآءَ“کے استثنا کے تحت ان علوم کا جو حصہ انسانوں کو دیا گیا ہے،وہ علم الاولین والآخرین (اگلوں اور پچھلوں سب کاعلم)ہونے کے باوجودبھی ”’قدر قلیل “گویا بحرذخار کے ایک قطرہ کا مصداق ہے۔ارشاد الٰہی ہے:﴿ وَمَا أُوتِیْتُم مِّن الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلاً﴾ (بنی اسرائیل:85)
ترجمہ:۔”اور جو علم تم کو دیا گیا ہے ،وہ تو بہت ہی تھوڑا علم ہے“۔

دوسرا وہ علم ہے جس کا ذریعہ عقل وادراک کا وہ جو ہر لطیف ہے جو خالق کائنات نے ہر انسان کی فطرت میں علی فرق المراتب (درجہ بدرجہ)ودیعت فرمایا ہے ۔ جس کا ظہور ہربچہ میں ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے اور سن وسال نیز محسوسات و مشاہدات اور تجربات کے اضافہ کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور ترقی کرتا رہتا ہے۔

بحیثیت مجموعی ہر دور میں عقل انسانی میں جتنی پختگی پیدا ہوتی گئی،، ”یہ فکر ی ونظری علم“بڑھتا اور ترقی و تنوع اختیار کرتا رہا اور جوں جوں نسل انسانی کونت نئی حاجات و ضروریات پیش آتی رہیں،ان کو پورا کرنے کی تگ دو میں اس علم کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتارہا۔

لیکن اس علم انسانی کے مبادی،محسوسات ومشاہدات وتجربات سے انتفاع میں بھی عقل انسانی کی ابتدائی راہ نمائی وحی والہام الٰہی کے ذریعہ ہی ہوئی ہے اور تمام ترصنعتوں اورحِرفوں کے اصول ومبادی اول بھی انبیائے کرام علیہم السلام ہی ہوئے ہیں۔

چناں چہ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ آدم علیہ السلام کی وہ تمام تر آسمانی تعلیمات جن کی تبلیغ وتعلیم کے لیے اُنہیں مبعوث کیاگیا تھا، معبود حقیقی کی ابتدائی معرفت اور اس روئے زمین پر انسانی زندگی کے ابتدائی لوازمات :غذا،لباس اور مسکن کے مہیاّ کرنے کے طریقوں کی تعلیم پر مشتمل تھیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام خیاطت (کپڑا سینے)کے معلم اول تھے،حضرت نوح علیہ السلام کشتی سازی اور جہاز سازی کے معلم اول ہوئے ہیں،حضرت داوٴد علیہ السلام آلات حرب میں سے زرہ سازی کے معلم اول اور حضرت سلیمان علیہ السلام فنونِ لطیفہ میں سے عمارت سازی اور ظروف سازی کے معلم اول ہوئے ہیں۔معدنیات میں سے خام لوہے سے فولاد تیار کرنے اور تانبہ کوسیال کرنے کی صنعت کے معلم اول داوٴدوسلیمان علیہما السلام ہی ہوئے ہیں، قرآن کریم کی نصوص اور صریح آیات اس پر شاہد ہیں۔

لیکن یہ تمام علوم ،جو انسانی عقل اور قوت اختراع کے ذریعہ پرَوان چڑھے اور دنیا میں پھیلے ،در حقیقت علوم نہیں، بلکہ فنونِ صنعت وحرفت ہیں ، جنہیں انسانی عقل، موجوداتِ عالم،خصوصاََ زمین اور اس کی اندرونی وبیرونی پیداوار ،یعنی معدنیات ونباتات وحیوانات ،پہاڑوں اور جنگلات کی طبعی پیداوارکے افعال وخواص اور منفعتوں ،مضر توں کے مسلسل مطالعہ اور ا س کی تحلیل وترکیب سے انسانی ضروریاتِ زندگی پورا کرنے والی نو ایجادات واختراعات کو سالہا سال تک بروئے کار لاتی رہی ہے اور یہ نو بنو مصنوعات وجود میں آتی رہی ہیں۔

بہر حال قرآن کریم کی روشنی میں یہ تو مسلم ہے کہ حیات انسانی کے ابتدائی مراحل میں عقل انسانی کی راہ نمائی بھی وحی الٰہی کے ذریعہ ہوئی ہے،بلکہ مستدرک حاکم کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی ذریت میں نسلاً بعد نسل جو صنعتیں اور حرفتیں قیامت تک وجود میں آنے والی تھیں ،جن کی تعداد اس روایت کے بمو جب ایک ہزار ہے ،وہ سب الله جل شانہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سکھائی ہیں، آیت کریمہ:﴿وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْأَسْمآءَ کُلَّھَا﴾سے اس روایت کی تائید ہوتی ہے۔فلسفہ تو الدوتناسل کی رو سے بھی آدم یعنی ابو البشرکی خلقت اور فطرت میں اُن تمام کمالات وفنون کے اجمالی نقوش موجود ہونے ضروری ہیں، جو اُن کی ذریت میں بطورِ توراثِ نسلِ انسانی کے مختلف ادوار میں وجود میںآ نے والے ہیں۔

اس جہان ِحدوث وفنا، یعنی دنیا کے بقاوار تقا کے لیے یہ علوم عقلیہ صناعیہ اور ضروریات ِ زندگی کی کفیل صنعتیں بے حد ضروری ہیں اور ہر دور میں حق تعالیٰ شانہ عقل وادراکِ انسانی کی تحقیقات وتجربات کے ذریعہ اپنی گونا گوں عنصری ،معدنی ،نباتاتی اور حیوانی مخلوق میں چُھپی ہوئی بے شمار صلاحیتیں منفعتیں اور مضرتیں ظاہر فرماتے اور منظر عام پر لاتے رہے ہیں، اس لیے کہ خالق ِکائنات نے حضرت انسان کوہی ان پر متصرف بنایا ہے اورا نہی ارضی وسماوی کائنات و مخلوقات سے اس کی زندگی وابستہ ہے ،ارشاد ہے:

﴿وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ﴾․ (الجاثیہ:13)
ترجمہ:۔”وہ جو آسمانوں اور زمینوں میں ہے،سب تمہارے تصرف میں دے دیا ہے“۔

﴿خَلَقَ لَکُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعا﴾․(البقرہ:29)
ترجمہ:۔”جو کچھ زمین میں ہے ،سب تمہارے لیے ہی پیدا کیا ہے“۔

چناں چہ انسانی عقل اور قوتِ اختراع کے ذریعہ ”خَلَقَ لَکُمْ“ اور ”سَخَّرَ لَکُمْ“کی عملی تفسیر ہمیشہ سامنے آتی رہی ہے اور رہتی دنیا تک آتی رہے گی،نئی نئی”دریافتیں“ ہوتی رہیں گی اور نو بنو ایجادات ومصنو عات منظر عام پرآتی رہیں گی ،نہ کائنات میں الله تعالیٰ کے ودیعت فرمودہ افعال وخواص اور منفعتوں اور مضرتوں کی کوئی حد و انتہا ہے اور نہ ہی انسانی ایجاد و ا ختراع کی کوئی حد و نہایت ہے۔در حقیقت خالق کائنات کی ان نو بنو شئو ن الٰہیہ کے تحت جن کے متعلق ارشاد ہے:﴿ کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَأْن﴾․(رحمن:29)ہر روز اس کی نئی شان اور نرالی شان ہے ہر دن اپنے ساتھ نئی نئی در یافتیں اور نو بنو ایجادات واختراعات لاتا ہے ۔اس طرح ایک طرف اس کا رخانہٴ قدرت کی لا محدود وسعت ،ہمہ گیری اور احاطہ کا اور دوسری طرف روز افزوں دولت وثروت اور نو بنو لوازمِ معیشت کا ظہور ہوتا ہے اورحق جل وعلا کے کمال علم وقدرت اور محیر العقول کائناتی نظام کی حکمتیں اور اسرار ظاہر ہوتے رہتے ہیں،تاکہ یہ حضرت انسان ان آیات بینات (روشن دلائل)کو دیکھ کر زبانِ حال اور زبانِ قال دونوں طریق پر اعتراف کرتے رہیں:

﴿ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذا بَاطِلاً﴾․ (آل عمران:191)
ترجمہ:”اے پروردگار!بے شک تو نے اس (کارخانہٴ قدرت)کو (یو نہی) بے کار، بے فائدہ نہیں پیدا کیا ہے“۔

ظاہر ہے کہ دنیا کی اِن گونا گوں ارضی وسماوی موجو دات اور ان کے حقائق و عجائبات، اسرار وحکم کے دریافت و اکتشافات کا کفیل عقل وادراکِ انسانی ہی کو بنایاگیا ہے،اسی میں وہ شب وروز مصروف ومنہمک ہے اور قیامت تک رہے گی،اسی لیے کسی رِند مشرب کا مقولہ ہے کہ:”خدا اور انسان اپنی تخلیق پیہم سے زندہ ہیں“۔بات ایک حد تک صحیح ہے ، لیکن انداز ِ بیان عظمت وجلال خداوندی کے منافی اور تعبیر گستاخانہ ہے۔

ان صناعی علوم کا انبیاء علیہم السلام کے فرضِ منصبی سے کوئی تعلق نہیں۔ نبوت کا فرض منصبی تو یہ ہے کہ ان حقائق الٰہیہ اور مرضیاتِ خداوندی کو وہ بیان کریں،جن کی معرفت سے عقل انسانی قاصر ہے،اسی لیے خاتم انبیاء ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ہے:”أنتم أعلم بأمور دنیاکم“۔”دنیاوی دھندوں کو تم ہی خوب جانتے ہو“۔

انبیاعلیہم السلام کا اصلی کام حق تعالیٰ کی ذات وصفات وکمالات کی معرفت ،عبادت ،وطاعت الٰہی کے طریقوں اور ﴿مَا فِیْ السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضِ﴾سے انتقاع واستعمال کے سلسلہ میں مرضیاتِ الٰہیہ اور منشا خدا وندی سے آگاہ کرنا ،مبداو معاد کے احوال،مرنے کے بعد کی زندگی کے کوائف،حساب وکتابِ اعمال کی تفصیلات اور جزا وسزا ،جنت ودوزخ وغیرہ حقائق دینیہ کا بیان کرنا ہے ،یہ وہ علم ہے جس کو عقل انسانی قطعی ادراک نہیں کر سکتی۔

اگر اس نظام کا بقا وارتقا اُن دنیوی علوم وفنون اور وسائل وضروریات کی تکمیل پر موقوف ہے تو دنیا کا معنوی بقا، روحانی ارتقا انسان کی درندگی اور بہیمیت سے محفوظ ”انسانیت“ کی تعلیم و تربیت پر موقوف ہے ، اگر نفوس کی تعلیم وتربیت،قلوب کی اصلاح و تزکیہ اور اس﴿خَلَقَ لَکُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعا﴾․(البقرة:29)

یعنی ”جو کچھ زمین میں ہے،سب تمہارے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے “ سے انتفاع میں عقل انسانی کی صحیح راہ نمائی”علوم وحی “یعنی مذہب اور دین الٰہی کے ذریعہ نہ کی جائے اور عقل انسانی کو آزاد اور شتر بے مہار کی طرح بے لگام چھوڑدیا جائے تو یہ پورا کارخانہٴ قدرت اور سارا عالم خود اسی انسان کے ہاتھوں، جس کی فلاح وبہبود کے لیے یہ پیدا کیا گیا ہے،یکسر تباہ وبرباد ہوجائے اور روئے زمین فساد وبربریت،قتل وغارت اور درندگی کی آماج گاہ بن کر رہ جائے،جس کی نشان دہی آیت کریمہٴ ذیل میں کی گئی ہے:
﴿ظَہَرَ الْفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْْدِیْ النَّاسِ﴾(روم:41)
ترجمہ :”بحر وبر میں لوگوں کے کر توتوں کی وجہ سے ایک فساد برپا ہے“۔

اس لیے قانونِ قدرت کا تقاضا اور بقائے اصلح کے اصول کا فیصلہ یہی ہے کہ ہر دور میں اس سر زمیں پر انسانی دست رس سے بالا تر قانونِ الٰہی اور مذہب سماوی کا وجو د ضروری ہے،تاکہ انسان انسان رہیں ،حیوان اور درندے نہ بن جائیں۔

موجوداتِ عالم سے انتفاع اور ان کے استعمال پر مذہب ،یعنی احکام الٰہیہ کی یہ پابندی اس لیے بھی ضروری اور ناگزیر ہے کہ خالق کائنات نے جس طرح انسان کی ”عبدیت “یا کہیے عقل وخرد کی آزمائش اور اس کے اشرف المخلوقات ہونے کی اہلیت کو ظاہر کرنے کی غرض سے خود انسان کی خلقت میں نکوکاری وپرہیزگاری اور فسق وفجور اور بدکاری دونوں کے رجحانا ت فطری طور پر رکھ دیے،ارشاد ہے:
﴿فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا﴾․ (الشمس:8)
ترجمہ:۔”پس دل میں ڈال دیا اس کے اس کی بدکاری کو اور پرہیز گاری کو“ اورمتنبہ فرمادیا:
﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاہَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاہَا﴾ (الشمس:9،10)
ترجمہ:۔”بے شک جس نے اس نفس کو پاک وصاف کرلیا،اس نے فلاح پائی اور جس نے اس کو زندہ درگور کردیا،وہ خسارہ میں رہا“۔

اسی طرح انسان کے تصرف اور استعمال میں دی جانے والی تمام موجوداتِ عالم میں منفعت اور مضرت دونوں قسم کے خواص واثرات بھی رکھ دیے۔دنیا کی کوئی بھی چیز نہ اس طرح منفعت رساں ہے کہ اس میں مضرت کا شائبہ بالکل نہ ہو اور نہ ایسی مضرت رساں کہ اس میں منفعت کا کوئی شائبہ نہ ہو،حتی کہ سمّیات (زہریلی اشیا)میں بھی عظیم منافع موجود ہیں،پھر صرف اتنا ہی نہیں کہ منفعت ومضرت کا کوئی یکساں ضابطہ نہیں،بلکہ ایک ہی چیز ایک وقت اور ایک حالت میں نافع،مفید اور حیات آفرین ہے اور وہی چیز دوسرے حالات میں سخت مضر اور ہلاکت خیز ہوتی ہے۔

طبائع اور امزجہ میں بھی اسی طرح کا فرق اور تفاوت رکھا کہ ایک ہی چیز ایک شخص کے لیے مضر اور مہلک ہے اور وہی چیز دوسرے شخص کے لیے مفید اور صحت بخش ہے اور اس متنوع اور متضاد افعال وخواص کی حامل موجودات پر متصرف بنادیا۔ اس نکوکاری اور بدکاری دونوں قسم کے متضاد رجحانات کی مالک مخلوق انسان کو پھر اچھی بری،مفید ومضر اشیا کے انتخاب کا اختیار صرف عقل وخرد کے ہاتھ میں نہیں دیا،بلکہ نفسانی اغراض وخواہشات کو اس انتخاب میں دراندازی کرنے کی پوری ”پاور“ (قدرت)دے دی۔نتیجہ یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر قدم پر عقل وخرد اور نفسانی اغراض وخواہشات میں زبردست کشمکش اور کھینچ تان برپا ہے اور یہ ظلوم وجہول مخلوق، یعنی حضرت انسان سر پکڑے حیران کھڑا ہے۔اسی ہوی وہوس اور عقل وخرد کی کشمکش کے مواقع کے لیے اللہ رب العالمین اپنی اس”حاملِ امانت مخلوق“حضرت انسان کی راہ نمائی فرماتے ہیں:
﴿عَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَہُوَ خَیْْرٌ لَّکُمْ وَعَسَی أَن تُحِبُّواْ شَیْْئاً وَہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللّہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ﴾․(البقرة:216)
ترجمہ:۔”بہت ممکن ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نہ ہو اور وہی چیز تمہارے لیے بہتر ہواور ایسا بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور تمہارے لیے بری اور مضر ہو، اللہ ہی(حقیقت حال)جانتا ہے،تم نہیں جانتے“۔

یعنی زمامِ اختیار ”ہوی وہوس“کے ہاتھ میں ہرگز مت دینا اور ہمیشہ حکم خداوندی کے مطابق اچھے برے اور پسندونا پسند کافیصلہ کرنا،ورنہ تباہ ہوجاوٴگے۔اس لیے بھی موجودات عالم اور انسانی اختراع کردہ مصنوعات سے انتفاع اور ان کے استعمال کے بارے میں انسان کی راہ نمائی اور دست گیری کی شدید ضرورت ہے اور یہ کا م مذہب یعنی انسانی دست رس سے بالاتر آسمانی تعلیمات اور احکام الٰہیہ ہی انجام دے سکتے ہیں اور اس نظام عالم کے بقاوتحفظ کے لیے علوم دینیہ کا موجود ومحفوظ رہنا از بس ضروری اور ناگزیر ہے۔

ذرا سوچیے!مذہب اگر انسان پر روز افزوں مادی ترقی کے دروازے بند کرے تو اس کے معنی تویہ ہوئے کہ لامحدود قدرتِ خداوندی کے نوبنو کرشموں اور عجائبات اسرار الٰہی کے اس ”مظہر“یعنی کارخانہٴ قدرت کی تخلیق عبث ہے اور یہ گردشِ لیل ونہار اور وقت کی رفتار بے معنی اور انسانی فطرت میں ایجاد واختراع کا جوہر ودیعت فرمانا عبث ہے،حالاں کہ خالق کائنات کا ازلی ابدی کلام”قرآن عظیم “اسی آسمان وزمین کی متنوع اور گونا گوں مخلوق اور اسی روز وشب کی گردش، یعنی وقت کی رفتار کو اربابِ بصیرت کے لیے خالق کائنات کی آیات (عجائبات اور کرشموں )کا مظہر قرار دے رہا ہے، ارشادہے:
﴿إِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ لآیَاتٍ لِّأُوْلِیْ الألْبَابِ﴾․(اٰل عمران:109)
ترجمہ :۔”بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات دن کی گردش میں ارباب عقل وخرد کے لیے بے شمار(قدرت کی)نشانیاں (رکھی ہوئی)ہیں“۔

﴿ربَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذا بَاطِلاً سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾․(اٰل عمران:191)
ترجمہ:۔”اے ہمارے رب!بے شک اس (آسمان وزمین)کو تو نے بے کار اور بے مقصد نہیں پیدا کیا تُو تو(بیکار وعبث کام کرنے سے)پاک ومبرا ہے،پس تو ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا(اور اس جہل وکج فہمی اورجحود وعناد سے محفوظ رکھ)“۔

اس لیے مذہب اور دینی تعلیمات پر اس سے بڑھ کر کوئی بہتان نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ روزافزوں ترقیات کے دروازے اپنے ماننے والوں پر بند کرتا ہے یا علوم دینیہ کی اشاعت دنیوی ترقیات کے منافی ہے اور ان علوم کی درس گاہوں کا وجود ملکی ترقی واستحکام کی راہ میں حائل ہے۔

بلکہ مذہب تو ان تمام انسانی ایجادات واختراعات اور مصنوعات پر(جو اب تک ہوئی ہیں یا آئندہ ہوتی رہیں گی)کنٹرول کرتا ہے۔جس کی بقاوارتقااور استحکام کے لیے شدید ضرورت ہے کہ ان کا استعمال صحیح اور برمحل ہو،خالق کائنات کے منشا اور مرضی کے خلاف اور منافی نہ ہو،انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے استعمال کیا جائے، انسانیت کو ظلم وعدوان کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانے کے لیے ان سے کام ہرگز نہ لیا جائے،روئے زمین پر امن وسلامتی قائم کرنے اور معاشی،اقتصادی اور سیاسی فتنہ و فساد،استعماری لوٹ کھسوٹ کو مٹانے کے لیے ان سے کام لیا جائے،کمزور قوموں کو مغلوب ومقہور کرکے ان کے ملکوں کے ذخائرِثروت ورفاہیت پر ڈاکہ ڈالنے اور استحصال بالجبر کرنے کی غرض سے ہرگز ہرگز ان سے کام نہ لیاجائے۔

اسلام تلوار بنانے پر پابندی نہیں لگاتا،ہاں! اس کے استعمال پر ضرور پابندی عائد کرتا ہے کہ صحیح طریقے پر اس کو استعمال کیا جائے، کیوں؟ صرف اس لیے کہ تلوار ایک ظالم وبے رحم قاتل سے قصاص لینے کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے اور ایک بے قصور اور بے گناہ انسان کو اپنی شیطانی اغراض وخواہشات کی راہ سے ہٹانے کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

اسی طرح اسلام عہد حاضر کے حربی اسلحہ،ٹینک،طیارہ شکن توپیں،بمبار طیارے،میزائل ،ریڈار اور طرح طرح کے ہلاکت خیز بم بنانے سے منع نہیں کرتا،ہاں! ان کے استعمال پر پابندی ضرور لگاتا ہے کہ یہ تمام سامانِ حرب اور آلاتِ جنگ صرف ملک وملت کے دفاع اور اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ظلم وعدوان کے مقابلہ کرنے اور دنیا میں امن وامان قائم کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں۔استعماری اغراض ،کمزور قوموں اور ترقی پذیر ملکوں کو اس حربی طاقت کے دباوٴاور زور سے مغلوب ومرعوب کرکے ان ملکوں کی پیداوار،دولت وثروت پر ڈاکے ڈالنے کے لیے ہرگز استعمال نہ کیا جائے کہ یہ عمرانی عدل وانصاف اور مساوات منافی اور روئے زمین پر عالم گیر فتنہ وفساد برپا کرنے کا موجب ہے،جیسا کہ مذکورہ سابق آیتِ کریمہ میں اس پر تنبیہ کی گئی ہے۔

غرض اسلام مقصد کی تعیین،نیت کی تصحیح،نفوس کے تزکیہ کی اہم ترین ضرورت کو پورا کرتااور مقدس ترین فرض کو انجام دیتا ہے،تاکہ عمل خود بخود صحیح ہوجائے۔حاصل یہ ہے کہ نظام عالم کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں قسم کے علوم،عقلی اور نظری علوم،دینی اور آسمانی علوم کا بقا اور تحفظ ضروری اور ناگزیر ہے۔عقلی اور صناعی علوم وفنون کے بقا، تحفظ اور ارتقاکی کفیل انسان کی نوبنوحوائج وضروریات ہیں،وہ خودانسان کو معاشی، اقتصادی ،سیاسی اور حربی امور میں وقت اور زمانہ کے تقاضوں کے تحت نوبنو فنون وصنائع،ایجادات واختراعات اور مصنوعات کو عدم سے وجود میں لانے پر مجبور کرتی رہیں گی۔

علوم دینیہ الٰہیہ کو دنیا میں لانے اور محفوظ رکھنے والے انبیائے کرام علیہم السلام ہیں اور ان کے بعد ان انبیاء علیہم السلام کے ورثا،یعنی حاملین علوم انبیاء ”علمائے حق“ ہیں ، اس لیے کہ انبیا علیہم السلام دینار ودرہم،مال ومتاع،جائداد وجاگیر ترکہ میں نہیں چھوڑتے، بلکہ علوم نبوت کی وراثت قرناً بعد قرن منتقل ہوتی چلی آتی ہے اور نظام عالم کے توازن کو برقرار رکھتی ہے،خاص کر خاتم النبیین سید الاولین والآخرین ﷺ کی امت کے علما اور حاملین علوم کتاب وسنت کہ ان کے متعلق تو سرور کائنات ﷺ کا ارشاد ہے: ”العلماء ورثة الأنبیاء“اس حدیث کے پیش نظر علمائے امت کا کام وہی ہے جو انبیاء علیہم السلام کا کام ہے۔

اس بحث وتنقیح سے یہ بات تو بالکل ہی صاف اور واضح ہو جاتی ہے کہ علوم دنیا اور علوم آخرت میں کوئی نزاع یا تصادم قطعاًنہیں ہے،ہاں! دونوں کے مقاصد اور دائرہٴ کار جدا جدا ہیں ،اسی لیے یہ بالکل حقیقت ہے کہ اگر ان انسانی علوم وصنائع کو خالق کائنات کی مرضی اور منشا کی روشنی میں انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردیا جائے تو یہ ساری دین بن جائے اور پھر دین اور دنیا کی تفریق جومحض ایک شیطانی مفروضہ اور منصوبہ ہے،بالکل ہی مٹ جائے۔بالکل اسی طرح جیسا کہ اگر انہی علوم انبیاکو حصول دنیا اور جلب خواہشات واغراض نفسانی کا وسیلہ بنالیا جائے تو نہ صرف یہ کہ پورا دین دنیا بن جاتا ہے،بلکہ خالق کائنات کی امانت میں خیانت اور بہت بڑا جرم ہوجاتا ہے۔اس لیے کہ اگر دنیا کا حصول دنیا کے وسائل کے ذریعہ ہوتو عین مصلحت اور عقل کاتقاضا ہے،اس میں کوئی قباحت نہیں،لیکن اگر دین کو صرف حصول دنیا کا وسیلہ بنالیا جائے تو یہ”وضع الشیء فی غیر محلہ“چیز کا بے محل استعمال ہے اور بہت بڑا ظلم اور انتہائی قبیح جرم ہے۔

اسی طرح یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ علوم نبوت کا اصلی مقصد آخرت کے ثمرات وبرکات تو ہیں ہی،لیکن آخرت سے پہلے اسی دنیاوی زندگی میں انفرادی اور اجتماعی حیات طیبہ اور پا کیزہ ماحول کی تشکیل اور صالح، خدا شناس، خدا پرست معاشرے کی تخلیق بھی علوم انبیاکا اہم فریضہ ہے،جس کے بارے میں وہ دنیا وآخرت دونوں میں مسئول ہیں۔خداشناسی ،خداپرستی ،خدمت خلق،امن وامان کی ضمانت،انسانیت کی فلاح وبہبود وغیر ہ انسانی کمالات وفضائل اور وسائلِ سعادت ایک قابل رشک معاشرے کے وہ خدوخال ہیں،جو انسان کو صحیح معنی میں مسجود ملائک اور اشرف المخلوقات بنا دیتے ہیں اور علوم آخرت کے وہ ثمر پیش رس ہیں،جو اس دنیا کو بھی جنت بنا دیتے ہیں۔

یہ تو علوم الٰہیہ دینیہ کی برکات ہیں،اس کے برعکس نرے عقلی اور فنی علوم وفنون کی ہلاکت آفرینی اور ایک ایسے لادینی معاشرے کا جہنمی چہرہ اور انسانیت کے لیے نہ صرف باعث ننگ وعار،بلکہ انتہائی بھیانک خدوخال بھی دیکھیے جو علوم الٰہیہ دینیہ سے باغی اور خدا ورسول کی تعلیمات سے نہ صرف محروم،بلکہ ان کی بیخ کنی کے درپے ہے اور صرف نفسانی اغراض وخواہشات کے ہاتھوں میں اس کی با گ ڈور ہے،حالاں کہ (سائنسی)علوم وفنون اور اختراعات وایجادات کے اس معراج کمال پر پہنچا ہوا ہے کہ کائنات ارضی کو بزعم خود مسخر کرلینے کے بعد کائنات سماوی کی تسخیر کی تگ ودو میں مصروف ومنہمک ہے،ان فنی اور سائنسی علوم وفنون کی پیداوار کیا ہے؟اور ایسے لادینی معاشرہ کے خدوخال کیاہیں؟فرعونیت اور قہاریت ہے،بے پناہ ظلم وعدوان ہے ، عالم گیراقتدار وتسلط کا بھوت ہے،درندے بھی جس شرمائیں وہ بے رحمی اور قساوت ہے، جانوربھی جس سے کترائیں وہ خود غرضی اور نفس پرستی ہے،کمزور کشی اور استحصال بالجبر ہے،بے دریغ خوں ریزی اور جہاں سوزی ہے،عریاں درندگی اوربہیمیت ہے،یہ وہ انسانیت سوز نحوستیں اور لعنتیں ہیں جنہوں نے قیامت سے پہلے ہی اس روئے زمین کو جہنم بنارکھا ہے۔

ان فراعنہٴ وقت امریکہ،روس اور برطانیہ وغیرہ طاغوتی طاقتوں کے سیاہ کارنامے ،ننگِ انسانیت عزائم اور مادی طاقت کے مظاہرے آپ روزانہ اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں۔دیکھا آپ نے ان نرے مادی علوم وفنون کے ارتقااور سائنسی اکتشافات وایجادات کی فراوانی نے اس وقت دنیا کو کس خطرناک دورا ہے بلکہ جہنم کے کنارے لاکر کھڑا کردیا ہے؟۔آپ کو معلوم ہے کہ روس میں امریکہ کو تباہ کرنے اور جہنم بنادینے کے لیے غیر معمولی پاور کے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم اور میزائل راکٹوں کے اندر فٹ جہاں سوزی کے لیے تیاررکھے ہوئے ہیں اور امریکہ میں روس کو جہنم بنا دینے کے لیے ناقابل قیاس پاور والے آتش بار بم تیار رکھے ہوئے ہیں ، صرف بٹن دبانے کی دیر ہے،آن کی آن میں امریکہ روس کو ہیروشیما اور روس امریکہ کو ہیروشیما بناسکتا ہے اور ان دونوں براعظموں میں برسنے والے بموں کے ذرات اورتاب کاری کے اثرات یورپ اور ایشیا کو پھونک ڈالنے کے لیے کافی ہیں،یہ ہے علوم آخرت کی گرفت سے آزاد محض عقلی اور سائنسی علوم وفنون اور سائنسی ارتقا کا کارنامہ۔

ہاں!اگر علومِ آخرت کے کنٹرول میں رہ کر اور ان کی سرپرستی ونگرانی میں یہ فنی اور سائنسی علوم وفنون اور ایجادات واختراعات پروان چڑھیں اور ترقی کریں تو یقینا یہ سائنسی علوم وفنون فلاح انسانیت اور خدمت خلق ومخلوق کے بہترین وسائل بن سکتے ہیں،اس لیے بھی علوم دینیہ کی درس گاہوں اور حاملین علوم نبوت یعنی علمائے دین کا بابرکت وجود اس روئے زمین خصوصاً مملکت پاکستان کے لیے از بس ضروری اور ناگزیر ہے۔



علم کے ذریعے آدمی ایمان ویقین کی دنیا آباد کرتا ہے ،بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے، بروں کو اچھا بناتا ہے، دشمن کو دوست بناتاہے ، بے گانوں کو اپنا بناتا ہے اور دنیا میں امن وامان کی فضا پیدا کرتا ہے۔

علم کی فضیلت وعظمت، ترغیب و تاکید مذہب اسلام میں جس بلیغ ودل آویز انداز میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی، تعلیم وتربیت، درس وتدریس تو گویا اس دین برحق کا جزلاینفک ہے، کلام پاک کے تقریباً اٹھتر ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو پروردگار عالم جل شانہ نے رحمت عالم ﷺ کے قلب مبارک پر نازل فرمایا، وہ اِقْرَأ ہے، یعنی پڑھ۔ اور قرآن پاک کی چھ ہزار آیتوں میں سب سے پہلے جو پانچ آیتیں نازل فرمائی گئیں ان سے بھی قلم کی اہمیت اور علم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، ارشاد ہے:

ترجمہ: پڑھ اور جان کہ تیرا رب کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم کے ذریعے سکھلایا آدمی کو جو وہ نہ جانتا تھا۔(سورة القلم آیت 4،5)

گویا وحی الٰہی کے آغاز ہی میں جس چیز کی طرف سرکار دوعالم ﷺ کے ذریعے نوعِ بشر کو توجہ دلائی گئی ،وہ لکھنا پڑھنا اور تعلیم وتربیت کے جوہر وزیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا۔حضور ﷺ کو جب نبوت کے منصب عظیم سے نوازا گیا ،اس وقت جزیرة العرب کی کیا حالت تھی؟ قتل وغارت گری، چوری، ڈکیتی ،قتل اولاد، زنا،بت پرستی۔ کون سی ایسی برائی تھی جو ان میں پائی نہ جاتی ہو۔ بعضے وقت بڑے فخریہ انداز میں اسے انجام دیاجاتا تھا۔ اللہ کے رسول نے ان کی تعلیم و تربیت اس انداز سے کی اور زندگی گزارنے کے ایسے اصول بتائے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی حالت یکسر بدل گئی اور تہذیبی قدروں سے آشنا ہوگئے۔ جہاں اور جدھر دیکھیے لوگ تعلیم وتعلم سے جڑ گئے اور قرآن وحدیث کی افہام وتفہیم میں مشغول ہوگئے۔

ترجمہ :اللہ تم میں سے ان لوگوں کے درجے بلند کردے گا جو ایمان لائے اور جنھوں نے علم حاصل کیا۔(سورة المجادلہ آیت 11)

دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے:”(اے نبی ﷺ!)کہہ دیجیے کیاعلم رکھنے والے(عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں؟نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (سورة الزمر، آیت 9، سورةالرعد،آیت 16)

ایک اورآیت میں تاریکی اور روشنی کی مثال دے کر عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیاہے،چناں چہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:”کہہ دیجیے،کیا برابر ہوسکتاہے اندھا(جاہل) اور دیکھنے والا(عالم) ؟یا کہیں برابر ہوسکتا ہے اندھیرا اور اجالا؟“۔(سورةالفاطر، آیت 19،20)

اس طرح کی بہت ساری آیتیں ہیں جن میں عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے اور ان کے درجات کے تعین کے ساتھ مسلمانوں کو حصول علم کے لیے ابھارا گیا ہے۔

علم کی فضیلت اوراس کوحاصل کرنے کی ترغیب کے حوالے سے کثرت سے احادیث بھی وارد ہوئی ہیں ،جن میں اہل علم کی ستائش کی گئی ہے اور انہیں انسانیت کا سب سے اچھا آدمی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں:
علم والوں کو دوسروں کے مقابلے میں ایسی ہی فضیلت حاصل ہے ،جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر۔ یقینا اللہ عزوجل ،اس کے فرشتے اور آسمان وزمین والے، حتیٰ کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی تک لوگوں کے معلم کے لیے بھلائی کی دعا کرتی ہیں۔(ترمذی:2682)

ایک دوسری حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں ،وہ بیان کرتے ہیں:
ایک دن رسول اللہ اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے اور مسجد (نبوی) میں داخل ہوے،وہاں دوحلقے لگے ہوئے تھے،ایک حلقہ قرآن کی تلاوت کررہا تھا اوراللہ سے دعا کررہا تھا،دوسرا تعلیم وتعلم کا کام سرانجام دے رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: دونوں بھلائی پر ہیں۔ یہ حلقہ قرآن پڑھ رہا ہے اور اللہ سے دعا کررہاہے۔ اللہ چاہے تو اس کی دعا قبول فرمائے ، یا نہ فرمائے۔دوسرا حلقہ تعلیم وتعلم میں مشغول ہے (یہ زیادہ بہتر ہے) اور میں تو معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔ پھر یہیں بیٹھ گئے۔(مشکوٰة شریف)

اہل علم کا صرف یہی مقام ومرتبہ نہیں ہے کہ انہیں دنیا کی تمام چیزوں پر فضیلت دی گئی ہے اور اس کام میں وہ جب تک مصروف ہیں ، اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق ان کے لیے دعا کرتی رہتی ہے،بلکہ ان کا مقام ومرتبہ یہ بھی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں انبیا کا وارث اور جانشین قرار دیا ہے :

جو کوئی حصول علم کی غرض سے راستہ طے کرے، اللہ تعالیٰ اس کے سبب اسے جنت کی ایک راہ چلاتا ہے۔ فرشتے طالب علم کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھادیتے ہیں اور یقینا عالم کے لیے آسمان اور زمین کی تمام چیزیں مغفرت طلب کرتی ہیں،یہاں تک کہ وہ مچھلیاں بھی جو پانی میں ہیں۔ عابد پر عالم کو ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی چاند کو تمام تاروں پر۔بلاشبہ علما ہی پیغمبروں کے وارث ہیں۔پیغمبروں نے ترکہ میں نہ دینار چھوڑا ہے اور نہ درہم۔ انہوں نے تو صرف علم کو اپنے ترکہ میں چھوڑا۔ پس جس کسی نے علم حاصل کیا اس نے ہی حصہ کامل پایا۔(ترمذی:2682)

طلب کرنا علم کا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ (مشکوٰة شریف)



حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ علم کا سیکھنا ہر مومن پر فرض ہے اس سے مراد روزہ، نماز ، حلال وحرام اور حدود و احکام کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ حسن بن الربیع فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مبارک سے پوچھا کہ ارشاد نبوی صلى الله عليه وسلم ”علم کا سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے“ کا مطلب کیاہے؟ تو حضرت عبداللہ بن مبارک نے جواب دیا کہ اس سے وہ دنیوی علوم مراد نہیں جو تم حاصل کرتے ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی دینی معاملہ میں مبتلا ہو تو اس کے بارے میں پہلے جان کار لوگوں سے علم حاصل کرلے۔(آداب المتعلمین)

حضرت انسؓ سے روایت ہے فرمایا رسول ﷺ نے کہ جو شخص علم کی طلب میں نکلا وہ گویا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے وطن واپس لوٹے۔(ریاض الصالحین، مشکوٰة شریف)

ابوامامہؓ سے مروی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ایک عالم کی برتری ایک عبادت گذار پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ شخص پر اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اوراس کے فرشتے اور زمین وآسمان کی ہر شے، حتیٰ کہ بلوں کی چیونٹیاں اور سمندروں کی مچھلیاں بھی علم سکھانے والوں کے لیے دعائے خیر کررہی ہیں۔(ترمذی:2682)

پیغمبر اسلام ﷺ نے کیسے بلیغ انداز میں فرمایا ہے: حکمت کو ایک گم شدہ لال سمجھو، جہاں پاوٴ اپنا اسے مال سمجھو۔ (ابن ماجہ:4169، ترمذی:2687)
تسیر ابن کثیر:سورۃ النور:26


آپ ﷺ نے فرمایا:بلاشبہ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔(بحوالہ:الرسول المعلم ﷺ)

آپ ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو زندہ کرے گا اور اس میں علما کو ممتاز کرے گا اور فرمائے گا اے پڑھے لکھے لوگو!میں نے اپنا علم تمہارے اندر اس لیے نہیں رکھا کہ میں تمہیں عذاب دوں ،جاوٴ! تم سب کی مغفرت کردی۔(بحوالہ:دینی علوم کی عظمت اور فضیلت، اسلامی تعلیمات کی اخلاقی اور تہذیبی قدریں،از: مولانا حافظ محمد صدیق المیمنی)

آں حضرت صلى الله عليه وسلم نے جس انداز میں دین اسلام کی تبلیغ فرمائی وہ نہ صرف یہ کہ انتہائی کامیاب و موٴثر ہے ۔بلکہ اس میں تعلیم و تربیت کے ایسے اوصاف بھی نمایاں ہیں جو متعلمین و مربیین دونوں کے لیے روشن مثال کی حیثیت رکھتے ہیں ۔مسجد نبوی صلى الله عليه وسلم کی پہلی درس گاہ اور اصحاب صفہ پر مشتمل طالب علموں کی پہلی جماعت کے عمل نے جلدہی اتنی وسعت اختیار کرلی جس کی مثال دینے سے دنیا قاصر ہے ۔آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے خود تعلیم و تربیت دی۔ پھر دوسروں کو تعلیم و تربیت دینے کے لیے کامل افراد کا انتخاب فرما دیا،چناں چہ تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات کے بعد بھی جاری و ساری رہا۔ آپ ﷺ کے منتخب کردہ ، ان تربیت یافتہ معلمین نے درس و تدریس میں جس مہارت کا ثبوت دیا وہ آپ صلى الله عليه وسلم کی ہمہ گیر تربیت ہی کا نتیجہ ہوسکتا تھا، جس کے اثرات تا دیر محسوس کیے جاتے رہے ۔یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ علم وحکمت اور صنعت وحرفت کے وہ ذخائر، جن کے مالک آج اہل یورپ بنے بیٹھے ہیں، ان کے حقیقی وارث تو ہم لوگ ہیں، لیکن اپنی غفلت وجہالت اور اضمحلال وتعطل کے سبب ہم اپنی خصوصیات کے ساتھ اپنے تمام حقوق بھی کھوبیٹھے۔
        باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
        پھر پسر وارثِ میراث پدر کیوں کر ہو

ان تفصیلات سے واضح ہواکہ دین اسلام نے اپنے ماننے والوں کوعلم حاصل کرنے سے نہیں روکا،بلکہ اس کی فضیلتیں بیان کرکے ہمیں اس کوحاصل کرنے کی ترغیب دی ہے،البتہ اسلام یہ حکم ضروردیتا ہے کہ اپنے آپ کو ضرر رساں نہیں، بلکہ نفع بخش بنا وٴ۔ایک انسان کے قول وعمل سے دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔ اچھی اور بھلی باتوں کا تمیز وہی انسان کرسکتا ہے جس کے اندر شعور وفراست ہو اور یہ خوبی بغیر علم کے پیدا نہیں ہوسکتی۔ عقل و شعور تو جاہل کے پاس بھی ہے۔مگر جو فراست ایک پڑھے لکھے کو حاصل ہوگی وہ جاہل کو ہر گز حاصل نہیں ہوسکتی۔اس کے دن رات کے عمل میں ،اس کی گفتگو میں ،اس کے معاملات میں ، اس کے فیصلہ لینے میں ایسی بات کا صادر ہونا جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچ جائے کوئی بعید نہیں ہے۔ اگر اسے اس کا ادراک ہوجائے تو وہ جاہل ہی کیوں رہے گا؟ اللہ کے رسول کی حدیث سے بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:

جو علم نفع بخش نہ ہو اس کی مثال اس خزانے جیسی ہے جس میں سے خداکی راہ میں کچھ خرچ نہ کیا جائے۔نیز آپ انے یہ بھی فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ آدمی وہ ہے جو سب سے زیادہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے والاہے۔۔(بحوالہ:منبہات)

علم نافع اور رزق وسیع کے لیے اللہ کے حضور یہ دعا بھی کرتے تھے:”اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع، عمل مقبول اور پاک رزق کی درخواست کرتا ہوں“۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام عالم بے عمل کے متعلق فرماتے ہیں :عالم بے عمل کی مثال ایسی ہے جیسے اندھے نے چراغ اٹھایا ہو کہ لوگ اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور وہ خود محروم رہتاہے۔حضرت عثمان غنی  فرماتے ہیں کہ علم بغیر عمل کے نفع دیتاہے اور عمل بغیرعلم کے فائدہ نہیں بخشتا۔حضرت عبد اللہ بن عباس  کا مقولہ ہے کہ اگر اہل علم اپنے علم کی قدر کرتے اور اپنا عمل اس کے مطابق رکھتے تو اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور صالحین اُن سے محبت کرتے اور تمام مخلوق پر اُن کا رعب ہوتا ۔ لیکن انہوں نے اپنے علم کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیا ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی اُن سے ناراض ہوگیا اور وہ مخلوق میں بھی بے وقعت ہوگئے۔حضرت عبد اللہ بن مبارک فرماتے ہیں: علم کے لیے پہلے حسن نیت، پھر فہم، پھر عمل، پھر حفظ اور اس کے بعد اس کی اشاعت اور ترویج کی ضرورت ہے۔شیخ عبدالقادر جیلانی  فرماتے ہیں:دین کی اصل عقل ،عقل کی اصل علم اور علم کی اصل صبر ہے۔(بحوالہ:منبہات)

اسلام یا قرآن ہم کو تعلیم حاصل کرنے سے روکتا نہیں، بلکہ تعلیم کو ہمارے لیے فرض قرار دیتا ہے، وہ تعلیم کے ذریعے ہم کو صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کے درجہ پر پہنچانا چاہتا ہے، وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کو حقیقی علم ثابت کرتا ہے اور اس کو بنی نوع انسان کی حقیقی صلاح وفلاح اور کام یابی وبہبودی کا ضامن بتاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ قرآن حقیقی علم ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علم حاصل کرنے کی توفیق عطافرمائے اورہم خواہ کوئی بھی علم حاصل کریں ،اس میں اس بات کومدنظررکھنے کی توفیق عطافرمائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بندے،حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کے امتی اوراس دین ہدایت کے حامل ہیں جس میں زندگی کے ہرشعبے سے متعلق کامل ومکمل احکامات موجودہیں۔اگریہ بات ہمارے پیش نظررہی توہم کسی موڑ پرنفس وشیطان کے بہکاوے کا شکار نہیں ہوں گے۔ان شاء اللہ !


دانش اور دانائی کی بہت ساری قسمیں ہیں ریاضی ، طبیعیات ، نباتیات ، حیوانیات ، کیمیا ، فلکیات ، ارضیات، نفسیات ، طب وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سارے وہ فنون ہیں جن کیحصول میں اپنی زندگیاں صرف کرنے والوں کو دنیا دانا اور دانشور کے لفظ سے یاد کرتی ہے ۔ 

اوپر ذکر کئے گئے تمام فنون دنیوی کہلاتے ہیں اورانسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے مدون کیے گئے ہیں ، قابل قدر ہیں وہ لوگ جنھوں نے بالقصد انسانیت کی خدمت کے لیے ان کو سیکھا اور آگے بڑھایا۔ ان کے بالمقابل ایک علم دینی اور شرعی ہے ، جس کا مدار اور محور اخروی راحت وسعادت ہے ، تخلیق انسان کا مقصد اسی علم میں پنہاں ہے ، کیوں کہ خالق کائنات نے بنی آدم کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے:﴿وَمَاخَلَقْتُ الجِنَّ والإنْسَ إلا لِیَعْبُدُوْن﴾․(سورة الذاریات:56)۔ میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیاہے۔ عبادت نام ہے ہراس قول و عمل کا جس سے اللہ راضی ہوجائے ۔ اب اس قول و عمل کی صحیح طور پر ادائیگی اس لیے ضروری ہے، تاکہ عنداللہ مقبول ہوسکے ، اس کے لیے ہمیں شارع کی طرف سے دیے گئے احکام کا جاننا ضروری ہے، جواحکام امر و نہی یعنی کرنے اور نہ کرنے پر مشتمل ہیں جن کا تفصیلی علم انبیاء علیہم السلام یا ان کے وارثین کو ہوتا ہے۔ 

اب جو لوگ اس علم کو سیکھتے اور سکھاتے ہیں، اس کے حصول میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ صرف کرتے ہیں انہیں ہم عالم دین یا علمائے اسلام کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں اور یہی لو گ ہماری گفتگو کا موضوع ہیں۔ ختم نبوت کے بعد اللہ کے احکام کو کھول کھول کر بیان کرنے کی ذمہ داری جن کندھوں پر آ پڑی ہے و ہ یہی علماء ہیں، جن کا مشغلہ قرآن و حدیث ، فقہ وتفسیراور امت کو درپیش مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کرنا ہے۔

قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے ، اس لیے اللہ کو پہچاننے کے لیے اس سے بہترین ذریعہ اور کچھ نہیں ہوسکتا ،مختلف انداز میں اور مختلف نشانیاں بیان کر کے قرآن اللہ کی ذات و صفات اور قدرت کاملہ کا تعارف کراتا ہے ، لہٰذا اس کتاب کا جتنا زیادہ مطالعہ کیاجائے اتنی ہی اللہ کی معرفت حاصل ہوگی اور اللہ کی جتنی زیادہ معرفت حاصل ہوگی اتنا ہی بندہ اللہ سے ڈرے گا۔ اس کتاب کا پڑھنا اور پڑھاناعلمائے کرام کا خاص مشغلہ ہے\ جس کی وجہ سے یہ اللہ کے بندوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرتے ہیں ، خود اللہ تعالیٰ اس کی گواہی دیتا ہے: ﴿إنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ العُلَمَاءُ ﴾(سورة الفاطر: 28) حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ نے کئی مقامات پر ان کو تحفہٴ قدرو منزلت سے نوازا ہے، بنی آدم میں ایک اعلیٰ مقام عطا فرمایا ہے ، حتیٰ کہ اللہ نے جب اپنی شان وحدانیت( کلمہ توحید) کے لیے گواہ بنانا چاہا تو جہاں گواہی کے لیے اپنی ذات کا انتخاب فرمایا وہیں فرشتوں اور بنی نوع انسان میں سے صرف علماء کو گواہی کے لیے منتخب کیا، جویقیناً انتہائی شرف و فضل کی بات ہے ﴿شَہِدَ اللّٰہُ أَنَّہُ لا إلٰہَ إلاہُوَ وَالْمَلٰئِکَةُ وَأُولُوا العِلْمِ قَائِماً بِالقِسْطِ، لاإلٰہَ إلا ھُوَالعَزِیْزُ الْحَکِیْم﴾ (سورةآل عمران:18) اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ،یہی شہادت فرشتوں اور سب اہل علم نے دی ہے ،وہ انصاف پہ قائم ہے ، اس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی اللہ نہیں ہے۔ 

اللہ نے عالم اور غیر عالم کے درمیان برابری کو یکسر مسترد کردیا ہے ، سورة الزمر آیت ۹ میں اللہ ارشاد فرماتاہے: ﴿قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الذِینَ یَعْلَمُوْنَ وَالذِیْنَ لایَعْلَمُونَ، إنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُولُوْا الألْبَاب﴾اے نبی! کہہ دیجیے کہ کیا جوعلم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے دونوں برابر ہیں؟ بلا شک عقل وفہم والے ہی نصیحت پکڑتے ہیں ،یعنی جن لوگوں کو اللہ کی معرفت حاصل ہے اور جو شرعی احکام سے اچھی طرح واقف ہیں وہ اور جن کو ان سب چیزوں کا علم نہیں دونوں برابر کیسے ہوسکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ہوسکتے۔ ایک جگہ فرماتاہے کہ علماء ہی اصحاب عقل ودانش ہیں اور جو مثالیں قرآن کریم میں بیان کی جاتی ہیں، ان کو یہی لوگ سمجھتے ہیں۔ دیکھیے سورة العنکبوت آیت نمبر 43﴿وَتِلْکَ الأمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُھَا إلا العَالِمُون﴾ یہ مثالیں ہیں جسے ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں جس کو صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں۔

علم والوں کا علم جیسے جیسے ترقی کرتاہے خشیت الٰہی ویسے ویسے بڑھتی جاتی ہے ، غیر اللہ کا خوف جاتا رہتا ہے ، اللہ سے قربت و محبت میں اضافہ ہوتا ہے ، فانی دنیا سے لگاوٴ کم ہوجاتا ہے ، اخروی شوق دنیوی خواہشات پہ غالب آتا ہے ، نتیجتاً ان کے ایمان میں جلا پیدا ہوتاہے، جو کثرت ِعبادت وریاضت کا سبب بنتا ہے، جس کی وجہ سے اللہ ان کے درجات بلند فرماتا ہے ، دیکھیے سورة المجادلة آیت 11 ﴿یَرْفَعِ اللّٰہُ الذِینَ آمَنُوا مِنْکُم وَالذِینَ أُوتُوا العِلْمَ دَرَجَات﴾ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور جن کو علم بخشا گیا اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا۔

ان علمائے کرام کے مقام ومرتبہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے دین اسلام کو آپ ﷺ کے عہد سے سینہ بسینہ محفوظ کرکے ہم تک پہنچایا، جان ومال تک کی پرواہ نہیں کی ، لذتِ عیش کو خیرباد کہا ، راتوں کو بیداری میں گذارا ، سفر کی مشقتوں کو برداشت کیا، تاکہ خاتم الرسل محمد مصطفی ﷺ کی بات صحیح سالم ہم تک پہنچ سکے ۔ آج بھی علمائے کرام اسی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ دین اسلام کا جو درخت آپ ﷺ چھو ڑ کر گئے ہیں وہ ترو تازہ باقی رہے۔ نبی اکرم ﷺ ایسے لوگوں کے لیے دعائیں فرما گئے ہیں، چناں چہ فرمایا: ”نَضَّرَاللّٰہُ اِمْرء اً سَمِعَ مِنَّا حَدِیثاً فَحَفِظَہ حَتی یُبَلِّغَہ غَیْرَہ“ (سنن ترمذی) ا للہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی بات سنی اور محفوظ کرلی، پھر اس کو دوسروں تک پہنچادیا۔

علمائے کرام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر استقامت کے ساتھ عمل پیرا ہوتے ہیں ، حق بات کہنے میں تأمل سے کام نہیں لیتے ، شرعی مسائل کی وضاحت میں کسی ملامت کو خاطر میں نہیں لاتے ، قرآنی آیات اور اقوال رسول ﷺ کو باطل کی ملمع سازی ، جاہل کی بیجا تاویل اورغلو پسند حضرات کی تحریف سے بچاتے ہیں ، ان کی ان حرکتوں کو بلا خوف وخطر لوگوں کے سامنے لاکر ان کے ناپاک عزائم کا قلع قمع کرتے ہیں۔

ان کی صفات میں تواضع ، انکساری ، عوام الناس سے محبت اور ان کی دنیوی و اخروی خیرخواہی ہے ، عوام الناس کو خیر کی طرف بار بار دعوت اور لوگوں کی طرف سے اس سلسلے میں بیجا اور انتہائی غیر مناسب تنقید ان کے حلیم وبردبارہونے کی بین نشانی ہے ، یہ لوگ اللہ کے ان بندوں میں سے ہیں جو زمین پر انتہائی نرمی سے چلتے ہیں ، علم نہ رکھنے والوں سے الجھتے نہیں ہیں ،رات قیام و سجود میں گذارتے اور دن درس تدریس میں صرف کرتے ہیں ، فضول خرچی اور بخل دونوں سے الگ ہوکر درمیانی راستہ اختیار کرتے ہیں ، ناحق کسی کا قتل نہیں کرتے ہیں ، انہیں صرف اخروی غم لاحق ہوتاہے ، جہنم کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے ہیں، اللہ نے ان کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا تو انہیں علماء و فقہا بنا دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہ خَیراً یُفَقِّہْہُ فِی الدِّینِ“․ اللہ جس کے ساتھ خیر کامعاملہ فرماتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

اللہ تعالیٰ کی نظر میں سب سے بہترین گفتگو وہ ہوتی ہے جو دین ودعوت پر مبنی ہو ۔ علمائے کرام کی پوری زندگی دین ودعوت کے ارد گرد گھومتی ہے ، امامت وخطابت،دعوت و تبلیغ ، تعلیم و تدریس ، پندو نصیحت ، وعظ و ترغیب سب کا مقصد اللہ کے بندوں کو اللہ سے قریب کرنا ہے ، لہٰذا ان کی بات سب سے قیمتی اور عنداللہ محبوب ہوتی ہے ، سورة فصلت آیت 33 میں اللہ فرماتاہے: ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَولاً مِمَّنْ دَعَا إلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إنَّنِی مِنَ المُسْلِمِیْن﴾․ اس شخص سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔



علم کی فرضیت
خدا کی قسم علم اسی طرح فرض ہے، جس طرح نماز فرض ہے۔ ہر موٴمن مرد و عورت کے ذمے علم کا حاصل کرنا اسی طرح فرضِ عین ہے، جس طرح نماز کا پڑھنا فرضِ عین ہے۔ مدارِس کی طرف رُخ کرو اور اپنے بچوں کو دِینی مدارِس میں داخل کرو۔

ہر وہ عمل اللہ کے یہاں قبول ہوگا جو علم کے مطابق ہو۔ اتنا اِیمان کا سیکھنا ہر موٴمن کے ذمے فرضِ عین ہے کہ جو اس کو اللہ کی پہچان کرائے۔ اسی طرح اتنا علم سیکھنا ہر موٴمن کے ذمے فرضِ عین ہے جو اس کو حرام حلال کی تمیز کرادے۔ ہاں محدث بننا، فقیہ بننا، مفسر بننا یہ فرضِ کفایہ ہے۔ یہ ہر ایک کے ذمے فرض نہیں ہے۔ علماء کی مجالس اور علماء کی صحبت سے فائدہ اُٹھاوٴ۔ قدم قدم پر علماء سے پوچھ کر چلو۔ اس خیال میں نہ رہنا کہ میں تو بظاہر جو کررہا ہوں، ٹھیک ہی کر رہا ہوں۔ یاد رکھو کہ اللہ کے یہاں کوئی عمل جہالت کے ساتھ قبول نہیں ہوگا اور نہ جاننا اللہ کے یہاں عذر نہیں ہے کہ یا اللہ! مجھے تو معلوم نہیں تھا۔

جہالت عذر نہیں ہے۔ چوں کہ اللہ نے سکھانے کے لیے رسول کو بھیج دیا، ﴿أَوَلَمْ نُعَمِّرْکُم مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَن تَذَکَّرَ وَجَاء کُمُ النَّذِیْر﴾․(فاطر:37)

”کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں وہ شخص سمجھ سکتا تھا جو سمجھنا چاہتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا آیا تھا“۔ یہاں تک کہ میرے دوستو، کوئی عمل اخلاص کے ساتھ بھی علم کے بغیر قبول نہیں ہوگا۔ ایک آدمی بڑا مخلص ہے، لیکن جہالت کے ساتھ عمل کر رہا ہے تو اللہ کے یہاں قبول نہیں ہوگا۔

ہر نئی معلومات علم نہیں ہے
سب سے پہلے یہ سمجھو اور اُمت کو سمجھاوٴ کہ علم کیا ہے؟ اہل باطل نے دھوکہ دہی سے مسلمانوں کو یہ سمجھایا کہ ”اگر تم نے صرف قرآن اور حدیث کو علم سمجھا تو تم بہت پیچھے رہ جاوٴ گے، تمہیں دنیا میں کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا۔ صرف قرآن و حدیث علم نہیں ہے، بلکہ سائنس بھی علم ہے، ڈاکٹری بھی علم ہے، انجینئرنگ، تجارت، دنیا کی خاک چھاننا اور اسباب کی تحقیق کرنا یہ بھی علم ہے۔ تم صرف قرآن و حدیث ہی کو علم نہ سمجھنا۔“ یہ میں وہ بات کہہ رہا ہوں جو غیروں نے ہمیں سکھلائی ہے۔ میرے دوستو، عزیزو، آج اس بات کا سمجھانا بڑا جہاد ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس زمانے میں نوجوانوں کے دماغوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ صرف قرآن و حدیث علم نہیں، بلکہ دنیوی فنون اور اس کی معلومات کا حاصل کرنا بھی علم کا حصہ ہے، لہٰذا جس علم سے ہمارا معاش متعلق ہے، اس علم کو اہم درجہ دینا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اولاد سترہ اٹھارہ بیس پچیس سال تک پہنچ جاتی ہیں، انہیں کچھ خبر نہیں کہ اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے اور کو ن سا علم ہم پر فرض ہے؟ چوں کہ انہیں یہ سمجھا دیا گیا کہ علم معاش کے حصول سے تمہاری زندگی متعلق ہے اس لیے وہی علم ہے اور وہ یہ نہیں دیکھتے کہ معاش سے متعلق جو نام نہاد علم مجھ پر فرض کیا جارہا ہے۔ یہ ایسا اندھا کنواں ہے کہ جس میں سمجھ دار بھی ڈوب رہے ہیں اور ناسمجھ بھی۔ یہاں تک کہ موت آجاتی ہے اور بے دینی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ ہائے افسوس!

میرے دوستو، عزیزو! باطل نے اپنے فنون کو علم قرار دے کر اُمت مسلمہ کو علم سے کاٹ دیا ہے اور یہ باور کرادیا کہ جو چاہو، سیکھو، سب علم ہے۔

نہیں، ہرگز نہیں! علم صرف وہ ہے جو اللہ ہم سے چاہتے ہیں اور محمد ﷺ کے طریقے سے چاہتے ہیں․․․ صرف وہ علم ہے۔ سارا علم قبر کے تین سوالات پر محدود ہے: ”من ربک، من نبیک، ما دینک․“گویا کہ علم نام ہے: ”ربوبیت کا علم، شریعت کا علم اور سنت کا علم“ ،جو کچھ اس کے سوا ہے وہ علم نہیں ہے اور اس پر علم کی حدیثوں کو فٹ کرنا بڑی حماقت ہے۔

دنیوی فنون کی رغبت کے لیے احادیث علم کا استعمال گمراہی ہے
یہ تو گم راہی ہے کہ دنیوی فنون کے لیے علم کی احادیث کو اِستعمال کرکے دنیوی فنون کی رغبت پیدا کی جائے۔ یہ بڑی گم راہی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا فتنہ یہ کہنا ہے کہ ”جدید آلات و اسباب نے علماء سے مستغنی کردیا۔“

اس لیے میں بار بار کہتا رہتا ہوں کہ علم علماء کی صحبت سے حاصل کرو۔ آج لوگ کہتے ہیں کہ آلات و اسباب نے علماء سے مستغنی کردیا کہ ہم توعلم خود ہی حاصل کرلیں گے کہ اب تو سارا علم آلات پر آگیا ہے، کیا ضرورت ہے علماء کی؟ یہ اس زمانے کا سب سے بڑا فتنہ ہے کہ اُمت کو اپنی دینی رہبری کے لیے علماء کی ضرورت نہ رہے۔ اِس لیے میں اہتمام سے کہہ رہا ہوں کہ علماء کی زیارت کو عبادت یقین کرو اور اپنی اولاد کو دِینی مدارِس میں دَاخل کرو، وَرنہ میرے دوستو، عزیزو، اُمت اس دھوکے میں پڑ چکی ہے کہ بھئی! سب کچھ علم ہے، جو چاہو سیکھو۔ نہیں، ہرگز نہیں! علم صرف وہ ہے جو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کے طریقے پر اللہ ہم سے چاہتے ہیں۔ صرف اس کو ”علم“ کہتے ہیں۔ غیروں کے تجربات کو علم سمجھنا سب سے بڑی جہالت ہے۔

نئی پود کی جہالت کی وجہ
اس بات کو تسلی، سنجیدگی اور بہت ہی ٹھنڈے دماغ سے سمجھنا ہوگا۔ میں نئی پود کی جہالت کی وجہ بتارہا ہوں کہ اگر ان کو یہ سمجھا دیا جاتا کہ یہ (قرآن وسنت) علم ہے، وہ (عصری ذرائع) فن ہے، تب بھی معاملہ آسان تھا کہ یہ دونوں چیزوں کو حاصل کرلیتے، دنیوی فنون کو اپنی دنیوی ضرورت کے لیے اور علم اِلٰہی کو دنیا اور آخرت میں کام یابی کے لیے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کو صرف اتنا ہی نہیں سمجھایا گیا یہاں تک سمجھادیا گیا، کہ جو علم اِلٰہی ہے، وہ علماء سے متعلق چیز ہے۔ وہ علماء سمجھتے ہیں سمجھاتے ہیں، ہم سے متعلق جو علم ہے، یہ تو دنیا کا علم ہے۔

اپنی جہالت کا احساس کب ہوگا؟
جب تک علم اور فن ان دونوں کے درمیان فرق نہیں کیا جائے گا، اُس وقت تک اپنی جہالت کا احساس نہیں ہوگا اور علم اِلٰہی کے حاصل کرنے کی فکر اور رغبت نہیں پیدا ہوگی۔ یہ بات اچھی طرح یاد رکھیے کہ علم صرف وہ ہے جو ہم سے ہمارا رب چاہتا ہے۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ علم میں لگنا اس بات کی توفیق میں لگنے کو کہتے ہیں کہ ہم سے ہمارا رب کیا چاہتا ہے؟ مخلوق ہم سے کیا چاہتی ہے؟ اس میں لگنے کو تو کہیں بھی علم نہیں کہا گیا۔

اگر دُنیو ی فنون کو علم سمجھا ہے تو وہ صرف قارون نے سمجھا تھا، اسی قارونیت پر ہم سب چل رہے ہیں، کیوں کہ جب اس سے یہ کہا گیا کہ یہ اللہ نے تجھے جو کچھ دیا ہے، اس میں دارِ آخرت کی جستجو کرتا رہ اور دنیا میں سے اپنا حصہ فراموش مت کر اور اس میں اللہ کے حکم کے مطابق چل :﴿وَابْتَغِ فِیْمَا اٰتٰکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا﴾ تو اُس نے کہا کہ یہ سب کچھ مجھے میرے علم کی وجہ سے دیا گیا ہے:﴿قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ‘﴾ جس علم کو قارون علم کہہ رہا ہو، اس کو ہم بھی علم کہیں، یہ ہماری جہالت نہیں ہوگی تو پھر کیا ہوگا؟ قارون کا یہ کہنا کہ ﴿اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِی﴾ یہ بتلارہا ہے کہ یہ قارون کا علم ہے، کسی نبی کا علم نہیں کہ جو کچھ مال میرے پاس ہے، یہ میں نے اپنے فن اور علم سے کمایا ہے۔ یہ اللہ نے نہیں دیا ہے۔ ہمیں علم اور فن میں فرق کرنا ہوگا، تاکہ ہمارے دلوں میں اس علم کی اہمیت پیدا ہو، جس کو اللہ نے ہم پر فرض کیا ہے، جس کو علم شریعت کہتے ہیں۔

ہم دنیوی فنون کی تحصیل سے نہیں روکتے
ہم دنیوی فنون سیکھنے سے نہیں روکتے، بالکل نہیں روکتے۔ یہ ایک ضرورت ہے۔ البتہ جس چیز کی جتنی اہمیت ہے، اسے اس کے درجے میں رکھنا چاہیے، لیکن دنیوی فنون کو حاصل کرنے کے لیے ان حدیثوں کا استعمال، جو محض علم اِلٰہی کے لیے ہیں، یہ انتہائی بے وقوفی کی بات ہے۔

توریت کے مطالعے پر نبی پاک ﷺ کا غصہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک بار یہ خیال پیدا ہوا کہ ہمیں یہ بھی تو معلوم کرنا چاہیے کہ ہم سے پہلے نبیوں پر کیا احکامات نازل ہوئے تھے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو توریت اور انجیل پڑھنے کا شوق پیدا ہوا اور کچھ اوراق ہاتھ میں لیے آپ ﷺ کے سامنے حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا، یہ ہاتھ میں کیا ہے؟ یا رسول اللہ! میں نے توریت پڑھی ہے تاکہ ہماری معلومات میں اِضافہ ہو کہ اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کیا احکامات نازل کیے تھے؟، آپ ﷺ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل پر اتنا غصہ آیا کہ آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم جمع ہوگئے۔ اتنا آپ کو غصہ تھا کہ انصار تلواریں لے کر آگئے کہ آپ کو کس نے ستایا ہے؟ سارا غصہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر تھا کہ ”عمر نے توریت کیوں پڑھی ہے؟ جو قرآن میں لے کر آیا ہوں، جو علم سنت اور طریقت و شریعت میں لایا ہوں، کیا عمر کی نجات کے لیے یہ کافی نہیں ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”لو کان موسیٰ حیاً لما وسعہ الا اتباعی․“ (مشکوٰة کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب و السنة، الفصل الثانی، ج:۱، ص:30۔ قدیمی) اگر آج موسیٰ زندہ ہوکر آجائیں تو ان کی نجات بھی میرے طریقہ پر ہے۔ اگر تم نے اب موسیٰ کا طریقہ اختیار کیا تو گم راہ ہوجاوٴ گے۔

بہت خطرے کی بات
آپ غور کریں اور اندازہ کریں کہ ایک اتنا بڑا عالم (عمر رضی اللہ عنہ) کہ جن کا مقام یہ ہے کہ ”لو کان بعدی نبیا لکان عمر“ کہ میرے بعد اگر نبوت کا دروازہ کھلا ہوتا تو عمر نبوت کی استعداد رکھتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ اللہ کی کتاب کو سمجھنے والے تھے۔ اس درجے کا صحابی سب کچھ سیکھنے کے بعد توریت پڑھ رہا ہے۔ توریت بھی وہ پڑھی، جو غیر تحریف شدہ، پہلے نبی کا علم شریعت تھا، اللہ کی طرف سے ایک نبی پر نازل ہوا تھا۔ اُس پر بھی آپ ﷺ کو اتنا غصہ آیا کہ آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ آپ اندازہ کریں کہ جو علم علم تھا، لیکن اب منسوخ ہوگیا، اس کی تحصیل کی خواہش پر حضرت عمر پر آپ کو اتنا غصہ آیا تو جو علم سرے سے علم ہی نہیں، دنیوی فن ہے، اگر مسلمان اس زمانے میں علم الٰہی سے جاہل ہوکر اسے حاصل کر کے اپنے آپ کو عالم سمجھیں اور علم کی حدیثیں اس پر فٹ کریں تو ایسے لوگوں پر قیامت کے دن آپ ﷺ کو کس قدر غصہ آئے گا؟ اندازہ کرلیا جاوے۔

دعوت کے ذریعہ ایمان کی طرح علم کی بھی ضرورت ہے
ہمیں جس طرح دعوت سے اِیمان کی ضرورت ہے، اسی طرح دعوت کے ذریعہ سے علم کی بھی ضرورت ہے اور علم کو بھی اخلاص چاہیے، جو ہمارے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کرے، کیوں کہ جس دل میں اللہ کا خوف نہیں ہے، وہ عالم نہیں ہوسکتا۔ اسے اسلام کی معلومات ضرور ہوں گی، لیکن وہ عالم نہیں ہوسکتا۔

عالم وہ ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو
عالم کے لیے تو شرط ہے کہ اس کے دل میں اللہ کا خوف ہو، کیوں کہ اللہ نے حصر کے ساتھ فرمادیا: ﴿انما یخشی اللّٰہ من عبادہ العلماء﴾علم تقویٰ کا نام ہے، علم زندگی کے تمام شعبوں میں چوبیس گھنٹے اللہ کے حکموں کا پابند ہوکر چلنے کا نام ہے۔ فرمایا علم دو قسم کا ہے: ”العلم علمان، علم فی القلب، فذاک العلم النافع، وعلم اللسان، فذاک حجة اللّٰہ لابن آدم․“ علم دو قسم کا ہے، ایک زبان کا اورایک دل کا۔ زبان کا علم وہ ہے حدیث میں آتا ہے جو انسان کے لیے قیامت کے دن مصیبت بنے گا، اس کے خلاف حجت بنے گا اور دل کا علم وہ ہے جو ابن آدم کو نفع دے گا، علم کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ کا خوف پیدا ہو، علم کے ذریعے خشیت پیدا ہو۔ وہ علم الٰہی ہے۔ سب سے بڑا عالم وہ ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ اس لیے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یارسول اللہ! سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں۔ فرمایا ”اتق اللّٰہ تکن اعلم الناس“ کہ تقویٰ اختیار کرو، تم سب سے بڑے عالم ہوجاوٴ گے۔علم اللہ کی صفت ہے وہ اللہ سے تعلق کے بقدر حاصل کیا جاتا ہے۔

اللہ والا علم علماء کے پاس امانت ہے
اللہ والا علم ہر عالم کے پاس امانت ہے۔ امانت پہنچانے والا معاوضہ نہیں لیا کرتا یہ تو اس کے ذمے ہے، جس طرح ڈاکیا ڈاک پہنچاتا ہے، اس کی تنخواہ حکومت کے ذمے ہوتی ہے، اسی طرح میرے دوستو! عالم کا معاوضہ اللہ کے ذمہ ہے۔

جب اُمت میں دین سیکھنے کے لیے خرچ کرنے کا جذبہ نہ رہے تو اب علماء پر ذمہ داری ہے کہ اُمت کو ہر حال میں دین سکھلایا جائے اور اس کا معاوضہ نہ لیا جائے:﴿لااسئلکم علیہ مالا، لااسئلکم علیہ اجرا﴾ علم پہنچاوٴ، اُمت کی امانت سمجھ کر۔ لیکن کسی غلط فہمی میں نہ رہیے کہ اگر کسی کو دین پھیلانے، قرآن سکھلانے اور علم سکھلانے کی تنخواہ ملتی ہے تو یہ اس کے پڑھانے کا ہرگز بدل نہیں ہے، بلکہ یہ اس مشغلہ کا بدل ہے، جس مشغلہ کو چھوڑ کر یہ عالم دین کی خدمت میں لگا ہوا ہے اور وہ عالم بھی اس کو دینی خدمت کا بدل کبھی نہ سمجھے۔ علم سکھلانے کا کوئی بدل نہیں سوائے جنت کے۔ ظاہر بات ہے، یہ ایک انسان ہے۔ اس کے ساتھ ضروریات لگی ہوئی ہیں۔ اس کو دنیا میں کوئی مشغلہ بھی کرنا تھا، تجارت بھی کرنی تھی۔ لیکن اس نے تجارت اور دیگر معاشی کاموں کو چھوڑ کر بچوں کو پڑھانے میں اپنا وقت لگایا تو یہ اُس مشغلہ کا بدل ہے، جس کو چھوڑا گیا ہے۔

اگر علم اسباب پر موقوف ہوگیا تو․․․
آج کتنا پیسہ شادیوں پر خرچ ہورہا ہے؟ لیکن علم کے حصول پر خرچ کے لیے ہم تیار نہیں۔ تو جہالت کیسے ختم ہوگی؟ اور بغیر جہالت کے ختم ہوئے عبادت قبول ہے نہ اعمال․․․ کچھ قبول نہیں۔ علم حاصل کرو، تاکہ عبادتیں کامل ہوجائیں۔ عبادت کا کمال علم سے ہے۔ عبادت پر استقامت یقین سے ہے اور عبادت کی قبولیت اخلاص سے ہے۔

اگر علم اسباب پر موقوف ہوگیا تو امت کا بڑا طبقہ جاہل رہے گا، کیوں کہ وہ بھی جاہل رہیں گے جن کے پاس سیکھنے کے اسباب نہیں اور وہ بھی نہیں سکھلائیں گے جن کو معاوضہ نہ ملے۔ اجرت تو اس وقت کی ہے جو وقت تعلیم کے لیے فارغ کیا گیا ہے۔

علماء کی ذمے داری
علماء کی ذمے داری بھی بتلادی۔ علماء کیا کہتے ہیں کہ ”جی جاہل تو سیکھتے ہی نہیں، آتے ہی نہیں ہمارے پاس کہ ہم سکھلاویں!“ نہیں میرے دوستو! حضور ﷺ نے فرمایا کہ علماء جاہلوں کو دین سکھائیں، علماء جاہلوں کی تربیت کریں اور اُن کو دِین پر آمادَہ کریں اور علماء عوام کو دِین کی تعلیم دیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے تو یہ بہت بڑی بات تھی۔ چوں کہ جس بات کو محمد ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے فرمادیا ہے اس کا جو اثر اس وقت تھا، قیامت تک کے لیے اس کا وہی اثر ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ وہ سیکھنے آئیں تو سکھلادیں گے۔ عرض کیا، یارسول اللہ! وہ ہم سے سیکھتے ہی نہیں، ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ اپنی بات کو دہرایا۔ مطلب یہ تھا کہ اگر وہ سیکھنے نہیں آتے تو میرے تمہارے ذمہ ہے کہ ان کو جاکر سکھائیں۔

تبلیغ اور تعلیم میں کوئی فرق نہیں ہے
اس لیے تبلیغ اور تعلیم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آنے والوں کو سکھانا بھی شعبہ ہے اور جاکر سکھانا بھی شعبہ ہے۔ آپ نے تو ایک آیت کی تبلیغ کا بھی حکم دیا ہے۔ جاکر تعلیم دو، یہ تبلیغ ہے۔ آنے والوں کو تعلیم دو، یہ تعلیم ہے۔ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم دونوں کاموں میں برابر لگے رہتے تھے۔

علماء انبیاء کے وارث کیوں ہیں؟
یاد رکھنا کہ علماء کو انبیاء کا وارث اُس طریقہٴ تعلیم کے ساتھ قرار دیا گیا ہے جو طریقہٴ تعلیم حضرت محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا تھا کہ وہ تعلیم نقل و حرکت کے ساتھ ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ علماء اپنے کام چھوڑ کر نکلیں، امامت، خطابت، درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور شعبہ افتاء چھوڑ کر نکلیں۔ نہیں، ہم یہ نہیں کہتے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ بھی یہی فرمارہے ہیں، اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ ایمان والوں کو چاہیے کہ سب یک بارگی نہ نکلیں:﴿ماکان الموٴمنون لینفروا کافة﴾ کہ ایمان والوں کے لیے مناسب نہیں ہے کہ سب یک بارگی نکل جاویں:﴿فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْھُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ﴾․

ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ایمان والوں کی جماعت کا ایک حصہ اللہ کے راستے میں نکلے۔ کیوں نکلیں؟دیکھو عجیب بات ہے اس آیت میں فرمایا ہے:﴿لیتفقہوا فی الدین﴾دین میں کمال اور سمجھ پیدا کرنے کے لیے نکلیں۔ لازم ہے کہ واپس آکر مقام پر علم کو پھیلائیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ”علماءِ صحابہ رضی اللہ عنہم“ کو حرکت پر رکھا تھا، تاکہ اُمت میں کہیں بھی جہالت پیدا نہ ہو اور علم صرف طلب والوں کے اندر محدود نہ ہوجائے کہ یہ پڑھنے کے لیے آئے ہیں، پڑھ لیں۔ 

آپ ﷺ نے اپنے علم کی مثال بادل سے دی ہے اور بادل میں حرکت ہے۔ آپ علمائے کرام تو ہلکی بات کرنے لگے ہیں کہ بھئی! ہم تو کنواں ہیں، پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے، کنواں پیاسے کے پاس نہیں جایا کرتا۔ نہیں۔ ہرگز نہیں، ایسی بات نہیں ہے، علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا ہے اور انبیاء نے نقل و حرکت کے ذریعے علم کو پھیلایا ہے اور علم کی مثال بادل سے دی ہے۔ جو زمین کسی قابل نہیں، جس زمین میں اگانے کی صلاحیت نہیں، اس پر بھی بادل برستا ہے۔ اپنے علم کو لے کر حرکت میں آوٴ کہ اُمت کو علم پہنچانا ہے اور دعوت سے اپنے علم کے اندر رسوخ پیدا کرنا ہے۔





دعوت کی محنت کا مقصد اُمت سے جہالت کو ختم کرنا ہے:
علم کی دعوت کے ذریعے جہالتیں ختم ہوں گی اور اُمت علماء سے جڑے گی۔ اس محنت کا مقصد جہالت کو ختم کرنا ہے، یہ محنت تو اُمت میں علم کے حصول کی طلب پیدا کرتی ہے۔ جب یہ محنت ہوگی تو یہ احساس ہوگا کہ ہمیں علماء کی ضرورت ہے۔ علماء کی صحبت و مجالست اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور یہی اس دعوت کا مقصود و مطلوب ہے۔

تمام دنیوی شعبوں میں دین کیسے زندہ ہوگا؟
میرا تو بہت جی چاہتا ہے کہ علماء آدھے دن دینی کاموں میں لگیں اور آدھے دن تجارت بھی کریں۔ حضرت ابو بکر و حضرت عمر دینی کاموں کے ساتھ ساتھ تجارت بھی کیا کرتے تھے۔

ساری دنیا ہوجاہلوں کے ہاتھ میں اور ہم یہ سمجھیں کہ ہمارا کام صرف پڑھانا ہے۔ آج ہم نے سارا بازار اور ساری تجارت جاہلوں کے حوالے کردی ہے۔ جب تک ہم تجارتوں، زراعتوں، حکومتوں کو اور دنیا جہان کے تمام سرمایہ داری کے نقشوں کو یہ سمجھ کر چھوڑے رکھیں گے کہ یہ ہمارے کرنے کا کام نہیں ہے تو خدا کی قسم، اس میں کبھی دین نہیں آسکتا۔ کیسا مزا آئے کہ ایک عالم آدھے دن پڑھاتا ہو اور آدھے دن خود عملی طور پر بازار جاکر دیکھے کہ جو علم میں پڑھا رہا ہوں، اس کے مطابق تجارت ہورہی ہے یا نہیں؟ یہ کتنے بڑے نقصان کی بات ہے کہ ایک آدمی تجارت کا علم حاصل کرے اور اس کے محلہ کا بازار علم کے مطابق نہ ہو۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو جو حرام راستے کی کمائیاں ہیں وہ سب علم و عمل کو لے ڈوبیں گی۔ حضرت مولانا محمد اِلیاس صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ”ہم تجارت چھڑانا نہیں چاہتے، بلکہ تجارت کو حکم الٰہی پر لانا چاہتے ہیں۔ ورنہ وہ ہوگا جو قوم شعیب کے ساتھ ہوا۔“ حکم پر لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ عملی طور پر ان شعبوں کا علم لے کر ان میں داخل ہوں۔

دین کے کسی شعبے کا انکار محمد ﷺ کے لائے ہوئے احکامات کا انکار ہے
اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے کہ دین کے کسی شعبے کا انکار یا اس کا استخفاف یا اس کی افادیت سے انکار کہ مثلاً مدارس سے کیا ہوگا؟ یہ بھی ایک مرض اور بیماری پیدا ہوگئی ہے لوگوں میں۔ غور سے سن لو، جو اس کام میں رہتے ہوئے دین کے کسی شعبے کا انکار کرے، خدا قسم! وہ محمد ﷺ کے لائے ہوئے دو کاموں میں سے ایک کا انکار کر رہا ہے، پکی بات ہے، بالکل سچی بات ہے۔

کیوں کہ اس کام کو کسی خیر کے کام کے معارض سمجھنا یہ محمد ﷺ کے لائے کاموں میں سے ایک کام کو دوسرے کے معارض سمجھنا ہے۔ آپ ﷺ کی سب سے بڑی صفت ”صفت جامعیت“ ہے۔ یہ جامعیت اپنے اندر پیدا کرو، کیوں کہ اس محنت سے پورا دین وجود میں آتا ہے، اس لیے حرام حرام ہے۔ ہمارے لیے یہ سوچنا کہ ”اِس شعبے سے کیا ہوگا، اُس شعبہ سے کیا ہوگا؟“ 

جتنے دین کے شعبے ہیں، یہ دعوت کی آمدنی ہے۔ لوگ اپنی آمدنی کو سنبھال کر رکھتے ہیں کہ دعوت کی محنت سے لوگوں میں علم کی طلب پیدا ہو، مساجد قائم ہوں، مدارس قائم ہوں، تربیت گاہیں قائم ہوں، دین کے تمام شعبے وجود میں آنے ہیں دعوت کے کام سے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ دعوت کا کام ہو اور دین کے شعبے مقصود نہ ہوں۔ یہ ایسا ہے کہ کوئی آدمی تجارت کرے اور کہے کہ مجھے آمدنی مقصود نہیں ہے یا آمدنی کو ضائع کردے۔ وہ کیسا بے وقوف آدمی ہوگا؟ لوگوں کو اپنی آمدنیوں سے ایسی محبت ہوتی ہے کہ وہ اس کو خون پسینا کہتے ہیں کہ یہ میرا خون پسینا ہے۔

دعوت سے دین کے سارے شعبے زندہ ہونے ہیں۔ میری یہ بات یاد رکھنا کہ یہ شعبے اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک دعوت کی نقل و حرکت قائم رہے گی۔ آپ ذرا پچھلا زمانہ اُٹھاکر دیکھیں، ساری تاریخ اس کی گواہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر صحابی کو معلم بنایا تھا: ﴿بلغوا عنی ولو آیة﴾ جب علم نقل و حرکت سے الگ ہوجائے گا تو عام اُمت میں جہالت پھیل جائے گی اور علم اُمت کے ایک محدود طبقے کی چیز بن کر رہ جائے گا۔ اگر علم کے بغیر نقل و حرکت ہے تو جاہلانہ نقل و حرکت ہوگی۔ حضرت مولانا محمد اِلیاس صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میرا دل یہ چاہتا ہے کہ جتنی جماعتیں نکلیں، ان میں ایک عالم ہو اور ایک قاری ہوتاکہ نکلنے والے قرآن سیکھ کر آئیں۔


اربابِ علم و دانش میں کون شخص ایسا ہوگا جو” امام تفسیر، صاحب ِ تفسیرِکبیر، امام رازی“ رحمہ اللہ تعالی رحمة واسعة کے نام ِ نامی اور اسم گرامی سے ناآشنااور ناواقف ہو؟وہ اپنی اسی شہرہ آفاق تفسیر میں فرماتے ہیں :کہ اللہ وحدہ لاشریک نے اپنی لاریب اور بے عیب کتاب میں سات چیزوں کا سات چیزوں سے تقابل کیاہے :

﴿ومایستوي الأعمی والبصیر﴾․ ﴿ولا الظّلمات ولا النّور ﴾․﴿ولا الظّلّ ولا الحرور﴾․﴿ومایستوي الأحیاء ولا الأموات﴾․ (سورةفاطر، آیت:19تا22)﴿قل لا یستوي الخبیث والطّیّب﴾․(سورة المائدة،آیت:100)﴿لا یستوي أصحاب النّار وأصحاب الجنّة ﴾․ (سورة الممتحنة،آیت:20) ﴿قل ھل یستوي الّذین یعلمون والّذین لایعلمون﴾․(سورة الزّمر،آیت:9)

ان سات مقامات میں ایک طرف علم مراد ہے اور دوسری طرف جہالت، چناں چہ علم بینائی ہے اور جہالت نابینگی،علم روشنی ہے اور جہالت تاریکی ،علم ایک سایہ ہے اور جہالت دھوپ،علم ایک حیاتِ جاوداں ہے اور جہالت موت:
        الجاھلون فموتی قبل موتھم 
        والعالمون وان ماتوا فأحیاء 
        وفي الجھل قبل الموت موت لأھلہ
        فأجسامھم قبل القبور قبور 
        وان امرء لم یحی بالعلم میّت
        ولیس لہ حین النّشور نشور

علم پاکیزہ چیز ہے اور جہالت ناپاک، علم جنّت کی طرف رہنمائی کرتاہے، لہذا اہل علم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے۔

قرآن ِپاک میں تدبّر کرنے سے ایک اور نکتہ بھی سمجھ میں آتاہے کہ اللہ بزرگ وبرتر نے چار طبقوں کا نام لے کر ان کے بلند مرتبہ ہونے کا ذکر فرمایا ہے:

ایک طبقہ مجاہدین کاہے :﴿فضّل اللہ المجاہدین علی القاعدین أجرا عظیما درجات منہ ومغفرة ورحمة﴾․(سورة النّساء،آیت :95،96)

دوسرا نیک لوگوں کا ہے: ﴿ومن یأتہ موٴمنا قد عمل الصّالحات فأولئک لہم الدّرجات العلی﴾․(سورة:طہ،آیت:75)

تیسرا اصحابِ بدر کا ہے:﴿انماالموٴمنون الّذین اذ اذکر اللہ وجلت قلوبہم… لہم درجات عند ربّہم ومغفرة ورزق کریم﴾․(أنفال ،آیت:4)

چوتھا طبقہ اہلِ علم کا ہے :﴿یرفع اللہ الّذین امنوامنکم والّذین أوتواالعلم درجات﴾(سورة المجادلة،آیت:11)

امام ِتفسیر فرماتے ہیں کہ مرتبہ تو ان چاروں طبقوں کابلند وبالاہے،لیکن قرآن کا انداز بتلاتا ہے کہ اہل علم کا مقام اور مرتبہ باقی طبقوں سے بھی بلند و بالاہے۔

جی ہاں! علم کا مقام حکومت اور سلطنت سے بھی بڑھ کر ہے ،حضرتِ طالوت کو جب بادشاہ بناکر بھیجا گیاتو برادری اور قوم کے لوگوں نے کہا کہ: ﴿ونحن أحقّ بالملک منہ ولم یوٴت سعة من المال﴾کہ بادشاہت کے حق دار تو ہم ہیں، اس لیے کہ مال دارتو ہم ہیں،بڑے گھرانوں والے تو ہم ہیں ،طالوت تو ایک غریب اور نادار آدمی ہے، پھر اس کو باد شاہت کیوں کر اور کیسے مل گئی ؟تو حضرت طالوت کا دفاع کرنے کے لیے اللہ ربّ العزّت نے ان کے علم کو لا کے کھڑا کر دیا اور فرمایا: ﴿ان اللہ اصطفٰہ علیکم وزادہ بسطة في العلم والجسم﴾․(سورة البقرة،آیت:247)

تو جب حضرت طالوت کا دفاع علم کے ذریعے کیا گیا تو اس سے پتہ چل گیا کہ علم کی ضرورت سلطنت چلانے کے لیے بھی پڑتی ہے ،نیز دنیا میں خلافت کے نظام کو قائم کرنے کے لیے بھی علم کی ضرورت ہے۔ادھر دیکھو آسمان میں ایک مکالمہ چل رہا ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا:﴿انّي جاعل في الأرض خلیفة﴾ کہ میں زمین میں اپنا ایک نائب و خلیفہ بناناچاہتاہوں ،تو اس پر فرشتوں نے کہا:﴿ أتجعل فیہا من یفسد فیہا ویسفک الدّماء﴾․

کہ یہ تو زمین میں جاکے قتل و غارت کا بازار گرم کرے گا ،اے رب! خلافت کے حق دار تو ہم ہیں ،اس لیے کہ ہمہ وقت آپ کی تسبیح و تہلیل میں تو ہم ہی لگے ہوئے ہیں :﴿ونحن نسبّح بحمدک ونقدّس لک﴾․(سورة البقرة،آیت :30)

ملت کے پاسبانو! غور کرو کہ خالق ِ کائنات نے اس مقام پر یہ نہیں فرمایا کہ یہ انسان دنیا میں جاکر خونریزی نہیں کرے گا ،نہ یہ فرمایا کہ انسان پر یہ اعتراض نہ کرو ،نہ یہ فرمایا کہ یہ زیادہ عبادت کرے گا ،بلکہ مالک الملک نے اس سوال کا جواب دینے کے لیے علم کو لاکے کھڑا کر دیا، جس کی تعبیر قرآن پاک نے یوں کی ہے :﴿وعلّم آدم الأسماء کلہا﴾ (سورة البقرة،آیت :31)

اس میں اشارہ مل گیا کہ انسان خونریزی کرے گا ،لیکن اس کا یہ فعل علم کے مطابق ہو گا جو علم اس کی لڑائی کو جہاد بنادے گا، جی ہاں جو شعبہ علم سے جتنا منسلک ہوگا وہ اتناہی اعلی ہوگااور جو شعبہ علم سے جتنا دور ہوگا وہ اتنا ہی پستی کا شکار ہوگا ،اگر تصوّف سے علم کو نکال دیا جائے ،تو وہ محض کھانے پینے کا نام بن کر کے رہ جائے ،اگر تبلیغ سے علم نکل جائے ،تو وہ سیر سپاٹے کا نام بن کر رہ جائے،اگر جہاد سے علم کو نکال دیا جائے ،تووہ دہشت گردی ،غارت گری اور بربریّت کا نام بن کر رہ جائے، کوئی شریعت کا عمل ایسا نہیں کہ جس میں علم کی ضرورت نہ ہو۔

اس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلم سماج کا علمائے دین اور مذہبی راہ نماوٴں سے روحانی اور ایمانی بنیادوں پر رشتہ اور تعلق قائم رہتاہے،ان سے ان کے دینی وشرعی احکام ومسائل وابستہ رہتے ہیں، لوگ اپنی شرعی زندگی گزارنے کے لیے قدم قدم پر ان کی راہ نمائی اور رہبری کے محتاج ہوتے ہیں، حدیث پاک میں اس کی تلقین کی گئی کہ علماء سے مسائل پوچھا کرو۔جالسوا الکبراء، وسائلوا العلماء، وحافظوا الحکماء،بڑے لوگوں کے ساتھ بیٹھا کرو،علماء سے مسائل دریافت کرو،حکماء اور دانش وروں سے تعلق رکھو۔ یہی علماء کرام کہیں منبر ومحراب کو زینت بخشتے ہیں تو کہیں دار ورسن ان کی جلوہ سامانیوں سے عزت پاتے ہیں ،کہیں تخت وتاج ان کی ہیبت سے کانپتے ہیں تو کہیں مدارس ان کے قال اللہ اور قال الرسول کے نغموں سے گونجتے ہیں،کہیں خانقاہیں ان کے وجد وحال اور ذکر واشغال سے بقعٴہ نو ر بنتی ہیں تو کہیں ان کی حق گوئی سے ایوان سیاست میں کپکپی طاری ہوتی ہے، وہ امت کی عزت ووقار کو قائم رکھنے کے لیے ہر جہت سے کوشش کرتے ہیں ،سماج میں امن و آشتی کو فروغ دینے کے لیے احترام انسانیت کے جذبے کو ابھارتے ہیں،حقوق وفرائض کی ادائیگی پر لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں ،سماج میں ایسے علمائے صالحین ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے بلا تفریق مذہب وملت ہر طبقہ کی قابل لحاظ خدمات انجام دیں،ان کی نگاہ زمانے کے بدلتے ہوئے تیور سے کبھی نہیں ہٹی ،جب اور جس وقت امت کو رہبری کی ضرورت پیش آئی بڑھ کر قدم اٹھایا اور کتاب وسنت کی روشنی میں امت کی راہ نمائی کی ۔
        ہوا ہے گو تند وتیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
        وہ مرد درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ




شوقِ علم یوں ہوتا ہے
ایک حدیث میں آیا ہے: ”منھومان لا یشبعان، منھوم فی العلم لا یشبع منہ، ومنھوم فی الدنیا لا یشبع منھا․ وقال عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ: ولا یستویان، اما صاحب العلم فیزداد رضی الرحمن، واما صاحب الدنیا فیتمادیٰ فی الطغیان، ثم قرأ عبدالله: ﴿کلاّ ان الانسان لیطغیٰ ان راٰہ استغنیٰ ﴾․ (مشکوٰة، ص:37)

دو بھوکے کبھی سیر نہیں ہوتے، ایک علم کا بھوکا علم سے سیر نہیں ہوتا، دوسرا دنیا کا بھوکا، اس کا دنیا سے پیٹ نہیں بھرتا۔

حضرت عبدالله بن مسعود نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ دونوں برابر نہیں ( بلکہ ان کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے)جو علم کا بھوکا ہے ،اس کے لیے مسلسل رحمان کی رضا میں اضافہ ہوتا رہتا ہے او رجو دنیا کا حریص ہے تو وہ سرکشی میں بڑھتا چلا جاتا ہے ، حضرت عبدالله بن مسعود  نے ( اس پر دلیل کے طور پر ) یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿کلا ان الانسان لیطغیٰ ان راٰہ استغنیٰ﴾ ہر گز نہیں ،بے شک انسان سرکش ہو جاتا ہے جب وہ اپنے آپ کو غنی پاتا ہے ۔

رسول الله ﷺ کی علم کی زیادتی کے لیے دعا مانگنا
ہمارا یقین ہے کہ الله تعالیٰ نے رسول الله ﷺ کو اتنا علم عطا فرمایا ہے کہ اتنا بڑا عالم نہ دنیا میں آج تک آیا ہے اور نہ قیامت تک آسکتا ہے کیوں کہ الله تعالیٰ نے قرآن مجید کے متعلق فرمایا ہے ﴿وَنَزَّلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتَابَ تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْْء ٍ﴾․ (النحل آیت:89)
ترجمہ:” اور تجھ پر ایک ایسی کتاب اتاری ہے جس میں ہر چیز کا کافی بیان ہے۔“

تو دنیا میں جتنے علوم ہیں خواہ کتابوں میں ہیں یا انسانوں کے دلوں اور دماغوں میں ہیں ، وہ سارے علوم قرآن مجید فرقان حمید میں اجمالاً موجود ہیں اور قرآن مجید کو الله تعالیٰ نے رسول الله ﷺ کے دل مبارک پر نازل کیا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے :﴿وَإِنَّہُ لَتَنزِیْلُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الْأَمِیْنُ،عَلَی قَلْبِکَ لِتَکُونَ مِنَ الْمُنذِرِیْنَ﴾․ (الشعراء، آیت:194-192)
ترجمہ:” یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے، اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے ، تیرے دل پر، تاکہ تو ڈرانے والوں میں سے ہو۔“

تو آپ ﷺ کا دل مبارک منبع علوم ہے، اسی بنا پر احادیث کا جتنا ذخیرہ ہے یہ سب قرآن کریم کی تفسیر ہے، تو آپ ﷺ اتنے بڑے عالم ہونے کے باوجود الله تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہیں رب زدنی علماً اے میرے رب میرے علم! اور اضافہ فرما۔

حضرت عبدالله بن عباس کا شوق علم
حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما نے رسول الله ﷺ کے گھر میں ایک رات گزاری ہے ،اس واقعے کو امام بخاری نے صحیح البخاری میں غالباً دس مرتبہ مختلف انداز او رمختلف الفاظ میں ذکرکیا ہے، اسی طرح دیگر صحاح خمسہ میں بھی اس واقعہ کا ذکر ہوا ہے، ان سب روایات کو اگر مرتب کیا جائے تو مفصل واقعہ اس طرح بنتا ہے کہ جب رسول الله ﷺ کی رات گزارنے کی نوبت حضرت میمونہ کے گھر میں ہو گئی ۔ اس موقع پر حضرت عباس  نے اپنے بیٹے عبدالله  کو کہا کہ بیٹا ! آج رات آپ نے حضرت میمونہ کے گھر میں گذارنی ہے اور وہاں رسول الله ﷺ کی ساری رات کے اعمال ملاحظہ کرکے مجھے بتانا ہے، تاکہ میں بھی رات رسول الله ﷺ کے اتباع کے مطابق گذاروں ۔ حضرت عباس  نے عبدالله کے لیے حضرت میمونہ کے گھر کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہ عبدالله کی خالہ ہیں، کیوں کہ عبدالله بن عباس کی والدہ لبابة الکبریٰ اور خالد بن ولید کی والدہ لبابة الصغریٰ دونوں حضرت میمونہ کی بہنیں ہیں اور یہ تینوں حارث بن حزن کی بیٹیاں ہیں۔

چناں چہ عبدالله بن عباس حضرت میمونہ کے گھر میں رات گزارنے کے لیے تشریف لائے۔ رسول الله ﷺ اور حضرت میمونہ کا یہ خیال تھا کہ خالہ ہونے کی وجہ سے آیا ہے، کیوں کہ بسا اوقات بھانجا خالہ کا مہمان بنتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بچہ صرف خالہ ہونے کے ناطے نہیں آیا، بلکہ ایک عظیم مقصد لے کر خالہ کا مہمان بنا ہے۔ تو رسول الله ﷺ حسب معمول عشا کی نماز کے بعد جب سونے لگے تو گھر میں صرف ایک سرہانہ ہے جب کہ سونے والے تین ہیں، ایک سید الکونین ہیں ، دوسری ان کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ ہیں ، تیسرا ان کا مہمان حضرت عبدالله بن عباس  ہیں، ان تینوں نے ایک ہی سرہانے پر سر لگائے وہ اس طرح کہ رسول الله ﷺ اور حضرت میمونہ نے سرہانے کے طول پر سر رکھے اور عبدالله بن عباس نے سرہانے کے عرض پر۔

اس کے بعد رسول ﷺ عادت کے مطابق تہجد کے لیے اٹھے۔ آپ ﷺ کا خیال تھا کہ بچہ سویا ہوا ہے ( مگر عبدالله بن عباس  نے تو ساری رات جاگنے کا تہیہ کر رکھا تھا) اس لیے آپ ﷺ ایسے انداز میں اٹھے کہ اس کی آہٹ سے کوئی سویا ہوا بیدار نہ ہو جائے چناں چہ آپ سب سے پہلے بیت الخلا تشریف لے گئے، عبدالله بن عباس نے سوچا کہ حضور ﷺ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو جائیں گے تو استنجا کے لیے وضو کا برتن لیں گے، پھر پانی سے بھر یں گے، پھر بیت الخلا جائیں گے۔ تو یہ آپ ﷺ کے لیے بہت تکلیف دہ ہے، کیوں نہ یہ کام میں کروں ۔ چناں چہ عبدالله بن عباس اٹھے، وضو کا برتن پانی سے بھرا اور بیت الخلا کے دروازے پر رکھا او رواپس آکر لیٹ گئے۔

رسول الله ﷺ جب بیت الخلا سے باہرآ ئے تو دروازے کے سامنے وضو کا برتن پانی سے بھرا ہوا دیکھا، پوچھا کہ یہ کام کس نے کیا ہے؟ حضرت میمونہ نے بتایا کہ یہ کام اس چھوٹے بچے نے کیا ہے ؟ آپ ﷺ بچپنے کی حالت میں ایسی بہترین خدمت پر بہت خوش ہوئے، اس موقع پر آپ ﷺ نے ان کے لیے جو دعا فرمائی ہے، بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں ”اللھم فقھہ فی الدین“․ (بخاری، ص:26)”اے الله !اس کو دین کی سمجھ عطا فرما۔“

اسی دعا کی برکت تھی کہ یہ بچہ بعد میں رئیس المفسرین اور حبر الامة کے القاب سے مشہور ہوا۔

ایک حدیث کے لیے مدینہ منورہ سے شام تک جانا
کثیر بن قیس تابعی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابودرداء رضی الله عنہ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا او رکہا کہ میں مدینہ منورہ سے صرف ایک حدیث سننے کے لیے آیا ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ آپ نے وہ حدیث رسول الله ﷺ سے سنی ہے۔ حضرت ابو درداء نے پوچھا کوئی تجارتی کام تو نہیں تھا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ حضرت ابو درداء نے پھر پوچھا کوئی دوسری غرض تو نہیں تھی ؟ کہا نہیں صرف حدیث معلوم کرنے کے لیے آیاہوں ۔ حضرت ابو درداء نے فرمایا کہ میں نے رسول الله ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے ، الله تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں اورفرشتے اپنے پر طالب علم کی خوش نودی کے لیے بچھا دیتے ہیں اور طالب علم کے لیے آسمان و زمین کے رہنے والے استغفار کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی اس کے لیے مغفرت کی دعا مانگتی ہیں۔ عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے کہ چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر اور علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کسی کو دینار ودرہم کا وارث نہیں بناتے، بلکہ علم کا وارث بناتے ہیں تو جو شخص علم حاصل کرتا ہے وہ ایک بڑی دولت حاصل کرتا ہے ۔
(ترمذی:2682، ابن ماجہ ، ص:20)



ربیعة الرائے کا حصول علم
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن فروخ اہل مدینہ منورہ کے فقہاء میں سے ہیں اور صحابہ کی ایک جماعت سے مل چکے ہیں ، تابعین میں بہت بڑے امام الفقہ والحدیث تھے، بڑے مجتہدین میں ان کا شمار ہوتا ہے ، اس لیے ان کا لقب رائے پڑ گیا۔ امام مالک  نے ان سے روایت کی ہے ، ربیعہ کے والد فروخ بنو امیہ کے دور میں فوج کے ساتھ خراسان گئے ربیعہ اس وقت ماں کے پیٹ میں تھے ،ابو عبدالرحمن فروخ سفر پر روانہ ہونے کے وقت اپنی بیوی کے پاس تیس ہزار دینار چھوڑ گئے او رپھر ستائیس سال کے بعد مدینہ منورہ واپس آئے۔ گھوڑے پر سوار تھے، نیزہ ہاتھ میں تھا۔ اپنے گھر جب پہنچے تو گھوڑے سے اتر کر دروازہ پاؤں سے دھکیلا۔ ربیعہ نکلے او رکہنے لگے ، اے الله کے دشمن !تو میرے حرم میں کیوں داخل ہوا؟ فروخ نے جوابا کہا کہ الله کا دشمن توتو ہے کہ میرے حرم میں داخل ہوا ہے، دونوں آپس میں الجھ گئے۔ دنوں ایک دوسرے سے کہتے ہیں ، ” میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔“

ادھر ہمسائے ربیعہ کی مدد کے لیے پہنچ گئے ۔ اس کی اطلاع امام مالک کو پہنچی، وہ جلدی سے موقع پر تشریف لائے، جب امام مالک کو دیکھا تو خاموش ہو گئے، امام مالک  نے کہا کہ چاچا محترم! آپ کے لیے کسی اورمکان میں گنجائش ہو سکتی ہے ۔ آپ زبردستی اس مکان میں کیوں داخل ہونا چاہتے ہیں ؟ بڑے میاں نے جواب دیا کہ میں فروخ ہوں اور یہ میرا مکان ہے ۔ بیوی نے ان کی بات سنی تو نکل آئیں اور کہنے لگیں، یہ میرے خاوند ہیں اور یہ میرے بیٹے ہیں، جنہیں حمل کی حالت میں چھوڑ گئے تھے۔ اب باپ بیٹا گلے ملے او ربہت روئے ۔ اس کے بعد ربیعہ تومسجد نبوی میں چلے گئے، وہاں اپنے درس میں بیٹھے اور فروخ گھر کے اندر آئے،بیوی سے پوچھاکیا یہ میرا بیٹا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یہ تیرے بیٹے ہیں۔ فروخ نے بیوی سے پوچھا کہ میں سفر پر جاتے وقت تمہارے پاس جو مال چھوڑ گیا تھا وہ کہاں ہے؟ بیوی نے کہا اب آپ مسجد نبوی تشریف لے جائیں، وہاں نماز پڑھیں وہاں سے واپس آئیں پھر آپ کو جواب دوں گی۔ فروخ مسجد نبوی میں آئے تو وہاں ایک بڑا حلقہ دیکھا جس میں امام مالک ، حسن بصری جیسے بڑے بڑے علماء بیٹھے ہیں ، کھڑے ہو کر صاحب درس کو وہاں سے دیکھنے لگے ۔ اپنے بیٹے کا شک ہوا۔ ربیعہ نے بھی اس انداز سے سرجھکا یا کہ وہ گمان کریں کہ میں اس کو نہیں دیکھ رہاہوں۔ فروخ نے دریافت کیا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ جواب ملا کہ یہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمن فروخ ہیں۔ کہنے لگے سبحان الله! ان کو الله تعالیٰ نے کتنی بڑی شان عطا فرمائی ہے ۔ گھر آکر بیوی کو کہا کہ میں نے تمہارے بیٹے کو ایسے بلند مرتبے میں دیکھا ہے جو اہل علم وفقہاء میں سے کسی کو حاصل نہیں ہے۔ ربیعہ کی ماں نے کہا کہ آپ کو تیس ہزار دینار زیادہ پسند ہیں یا اپنے بیٹے کی یہ شان! کہنے لگے والله! مجھے اپنے بیٹے کی یہ شان زیادہ پسند ہے۔ بیوی نے کہا کہ وہ ساری رقم میں نے اس پر خرچ کی تو فروخ نے کہا کہ والله! تم نے وہ مال ضائع نہیں کیا ہے۔ ( فضل الباری ، ج2، ص:70، بحوالہ دائرة ، المعارف، فرید وجدی، ج4، ص:185)

امام محمد کا مطالعہ میں انہماک
ایک دفعہ امام محمد کسی سڑک کے کنارے پر بیٹھے ہوئے کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے ، اسی اثنا میں ایک بہت شان دار بارات گزری، جس میں گانے باجے بھی بج رہے تھے۔ امام محمد رحمہ الله کو اس بارات کا کوئی پتا نہیں چلا اوربرابر اپنے مطالعہ میں مشغول رہے ۔ تھوڑی دیر کے بعد چند آدمی جو بارات سے پیچھے رہ گئے تھے امام صاحب کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا کہ یہاں سے کوئی بارات تو نہیں گذری ؟ امام صاحب نے جواب دیا کہ مجھے تو پتا نہیں چلا ، البتہ کتاب پر اچانک گردوغبار پڑ گیا، اس کو میں نے پھونک مار کر اڑا دیا، اس سے زیادہ مجھے بارات کی کوئی خبر نہیں ہے۔ ( میری نماز، ص:53)

میر سید شریف کا علوِ سند کے لیے سفر کرنا
آٹھویں صدی ہجری میں ایک بہت بڑے عالم گذرے ہیں، جو میر سید شریف سے مشہور ہیں، جنہوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں، جن میں صرف میر، نحو میر او رمیر ایساغوجی بہت مشور ہیں ،ان کو یہ شوق ہوا کہ میں شرح مطالع خود مصنف سے پڑھوں، چناں چہ اس مقصد کے لیے وہ ہرات گئے اور علامہ قطب الدین رازی ( تحتانی) کی خدمت میں حاضر ہوئے ، علامہ رازی نے ان سے پوچھا، کون ہو ؟ کہاں سے آئے ہو ؟ کس مقصد کے لیے آئے ہو ؟ آپ نے جواب دیا کہ میرا نام محمد بن علی ہے اور میر سید شریف سے معروف ہوں، جرجان سے آیا ہوں اور آنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اگرچہ شرح مطالع ایک دفعہ پڑھ چکا ہوں، مگر میری خواہش ہے کہ خود آپ سے پڑھوں۔

علامہ رازی کو میر سید کی باتوں سے ان کی ذہانت کا اندازہ ہو گیا، اسی بنا پر فرمایا کہ میں پیر فرتوت ہو چکا ہوں ،اس لیے اب میں شرح مطالع پڑھانے کے قابل نہیں ہوں۔ آپ کے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ میرے خاص شاگرد مبارک شاہ کے پاس جائیں، ان سے شرح مطالع پڑھنا ایسا سمجھو گویا مجھ سے پڑھ لیا ہو۔ تو میر سید صاحب خراسان سے چل کر مصر پہنچے، وہاں قاہرہ میں مبارک شاہ کی خدمت میں حاضرہو کر اپنا مدعا بیان کیا ، مبارک شاہ نے فرمایا میں آپ کو شرح مطالع پڑھاؤں گا، مگر تین شرطوں کے ساتھ ، ایک یہ کہ آپ روزانہ ایک اشرفی دیں گے ، دوسری یہ کہ آخری صف میں بیٹھیں گے، تیسری یہ کہ کوئی بات نہیں پوچھیں گے ۔

میر سید شریف نے عرض کی کہ یومیہ ایک اشرفی دینے کی شرط میں اتنی ترمیم فرمائیں کہ جب بھی میں ایک اشرفی دوں گا آپ سبق پڑھائیں گے ۔ مبارک شاہ نے کہا صحیح ہے، ایسا ہی کروں گا۔ اب میر سید صاحب سوچ میں پڑ گئے کہ فی سبق ایک اشرفی کہاں سے لاؤں۔ مزدوری کروں یا جھولی پھیلا کر بھیک مانگوں ۔ وہ اسی فکر میں تھے کہ ایک رئیس کو پتا چلا کہ یہاں ایک سید طالب علم آیا ہے، جو بہت مفلس او رپریشان حال ہے تو اس نے میر سید کو بلایا او ران سے حال احوال پوچھا۔ میر سید نے پورا ماجرا سنایا۔ رئیس نے تسلی دی کہ فکر نہ کرو، آپ ہر روز مجھ سے ایک اشرفی لے لیا کرو اور دل جمعی سے اپنا سبق پڑھ لیا کرو ۔

چناں چہ میر سید شریف نے شرط کے مطابق سبق پڑھنا شروع کیا تو ایک ہفتہ کے بعد مبارک شاہ نے لی ہوئیں ساری اشرفیاں واپس کر دیں اور فرمایا کہ اشرفی لینے سے میرا مقصد یہ تھا کہ آپ کا شوق علم معلوم کروں، سو معلوم کر لیا۔ اس لیے آئندہ یہ شرط نہیں ہے، البتہ باقی دو شرطیں اب بھی برقرار ہیں۔ میر صاحب کے لیے تیسری شرط بھی بڑا امتحان تھا، کیوں کہ وہ میر سید تھے، سبق کے دوران بے شمار شکوک شبہات پیدا ہوتے تھے، ان کے ازالہ کے لیے جوش میں آجاتے تھے ، مگر اجازت نہ ہونے کی وجہ سے خاموش ہوجاتے۔

مبارک شاہ ایک دفعہ چپ چاپ مدرسہ کے احاطے میں آئے، تاکہ معلوم کریں کہ طلباء تکرار یا مطالعہ کرتے ہیں یا نہیں تو ایک حجرے میں ایک طالب علم اپنے ساتھ عجیب انداز سے سبق دہرا رہا ہے، کہتا ہے کہ مصنف نے یوں لکھا ہے، شارح نے اس طرح تشریح کی ہے، استاذ نے یوں پڑھایا ،مگر میری توجیہ اس میں یہ ہے۔ استاذ نے جب اس کی توجیہ پر غور کیا تو بہت عمدہ پایا، اس پر استاذ بہت زیادہ خوش ہوئے، طالب علم کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ بتایا گیا کہ میرسید شریف ہے اور ہر رات اس قسم کا تکرار کرتا ہے ۔ اگلی صبح جب مبارک شاہ مسند درس پر بیٹھے تو میر سید کو آخری صف سے بلاکر پہلی صف میں اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا کہ جو پوچھنا چاہو، پوچھو! اس کے بعد میر سید شریف کو وہ رتبہ ملا جو سب کو معلوم ہے ۔ (فضل الباری، ج2 ص:65 ظفر المحصلین، ص:326)

شیخ سعدی نے بالکل سچ فرمایا #
        چو شمع پئے علم باید گداخت
        کہ بے علم نہ توان خدا را شناخت
علم کے لیے موم بتی کی طرح پگھلنا چاہیے، کیوں کہ علم کے بغیر الله تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔



عصر حاضر میں علماء اور طلبہ کی ذمے داریاں
﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ، خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ،اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ ، الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ﴾․العلق:5-1)

مدارس دینیہ اور یونی ورسٹیوں کے مقاصد الگ الگ:
آپ حضرات جس مدرسہ میں پڑھ رہے ہیں آپ نے سوچ سمجھ کر اس مدرسہ میں داخلہ لیا ہو گا؟ اس مدرسے کی تعلیم کا مقصد او رمطمح نظر اور ذریعہ تعلیم اور جو علم آپ حاصل کر رہے ہیں وہ عام جامعات سے مختلف ہے مدارس جیسی درس گاہوں میں قربانی کا تصور، خواہ وہ مالی ہو، جسمانی ہو ، فکری ہو، ذہنی ہو، تعلیمی ہو، وہ (عصری) جامعات (یونی ورسٹیوں) سے مختلف ہوتا ہے۔ آپ کے ہاں مدارس میں جو طلبہ ہیں ان پر اپنے نان نفقہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی ہے ، لیکن مدارس کے جو مہتمم اور ان کے جو منتظمین ہیں ان کے کندھوں پر بہت بڑی ذمے داری عائد ہے کہ دو ہزار طلبہ کو دوپہر اور شام کا کھانا کیسے پہنچایا جائے؟ او رکہاں سے یہ نقد رقم ملے جس کے ذریعہ یہ انتظام کیا جاسکے؟ تاکہ آپ ان امور سے فارغ رہ کر یکسوئی کے ساتھ ہمہ تن تعلیم کی طرف متوجہ رہیں۔ ان حضرات نے اپنے کندھوں پر یہ ذمے داری لے رکھی ہے۔ اس کے برخلاف جامعات اور دوسری یونی ورسٹیوں میں اس کا نظم دوسری قسم کا ہوتا ہے، وہاں طلبہ سے فیس بھی لی جاتی ہے اور ان کو اسکالر شپ بھی ملتا ہے اور بعض بعض اداروں میں بڑے کرو فر اور ٹھاٹ باٹ سے یہ لوگ رہتے ہیں، ان کے ہاں ایک ، علمی تعیش ہوتا ہے، لیکن جس چیز کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ کئی معاملوں میں مدارس اور جامعات دو مختلف چیزیں ہیں، ان کا مقصد دوسرا اور ذریعہ حصول مقصد دوسرا ہے۔



اوّلین وحی اور سوالات کے جوابات
جو آیات میں نے آپ کے سامنے تلاوت کیں وہ پہلی وحی ہے، ان آیات کا جو پہلا لفظ اقراء وہ اس زمانے میں ایک عجیب اور نامانوس سی چیز معلوم ہوتی ہے، اس لیے کہ رسول الله ﷺ کے ذہن میں کئی سوالات تھے، وہ ان سوالات کے جوابات چاہتے تھے۔ عرب جو اس زمانے میں تھے ان کے ذہن میں بھی اس قسم کے سوالات پیدا ہوتے تھے، مگر ان کے پاس سوچنے، سمجھنے اور فکر وتدبر کرنے کا وقت نہیں تھا اور یہی حالات آج بھی ہیں ، خود عوام اور مسلمانوں تک میں یہی چیز ہے کہ ذہن میں سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ ہمارا خالق کون ہے ؟ ہمارے خلق کا مقصد کیا ہے ؟ کہاں واپس جائیں گے؟ موت کیا ہوتی ہے؟ ہمارا دائرہ عمل کیا ہے؟ یہ تمام سوالات ہمارے ذہن میں بھی پیدا ہوتے ہیں، لیکن چوں کہ ہمیں اس کے جواب کے لیے سوچنے، فکر کرنے اور تدبر کا وقت نہیں ملتا، اس لیے ہم اس سے صرف نظر کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن جب اچانک کوئی حادثہ پیش آتا ہے، کوئی صدمہ پیش آتا ہے، کوئی زلزلہ پیش آتا ہے یا کوئی ایسا فطری تغیر پیدا ہوتا ہے اس وقت اچانک یہ خیال آتا ہے کہ کچھ تو ہے کہ رسول الله ﷺ کے ذہن میں بھی سوالات تھے، اس لیے آپ غارا حرا تشریف لے جاتے تھے ، وہاں فکر وتدبر کرتے، سوالات کے جوابات چاہتے تھے او رجب وحی نازل ہوئی تو ان سوالات کے جوابات مل گئے، اگر جوابات نہ ملتے تو رسول الله ﷺ کیسے مطمئن ہوتے اور پھر اگر خود مطمئن نہ ہوتے تو دوسروں کو کیسے مطمئن کرتے؟ … اس لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ خالق کون ہے؟ مخلوق کون ہے ؟ اور خود کیا ہیں؟ ان کا مقصد کیا ہے ؟ بہرحال وحی میں الله تعالیٰ نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ خالق ہے …﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ﴾ اور یہی سوال تھا اور عجیب چیز یہ ہے کہ جو دوسری آیت سے﴿خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾… بظاہر اس کی کوئی ضرورت تو نہ تھی، اس لیے کہ انسان بھی ایسا ہی مخلوق ہے جیسا کہ اور چیزیں مخلوق ہیں۔ الله تعالیٰ نے ایک مرتبہ فرما دیا کہ میں ہی خالق ہوں، پڑھ اپنے رب کے نام پر جس نے پیدا کیا۔ اگر دوسری آیات نہ بھی ہوتیں ظاہر ہے کہ انسان بھی شجر وحجر کی طرح ایک مخلوق ہے، ہر وہ چیز جو دنیا میں پیدا کی گئی ہے مخلوق ہی ہے، لیکن ہمارا ایمان واعتقاد اور قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ قرآن مجید کا ہر ہر لفظ اور آیت جو مکرر ہو اس کا کوئی خاص مقصد ہوتا ہے، اس لیے جو دوسری آیت ہے﴿خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾… وہ بہت ضروری تھی، اس لیے کہ وحی کا مخاطب انسان تھا اور انسان دوسری مخلوقات سے مختلف تھا۔

مخلوقات کی دو قسمیں اور اپنا اپنا دائرہ عمل
دنیا میں دو قسم کی مخلوق ہیں، ایک تو وہ مخلوق جس کا دائرہ عمل پہلے سے طے شدہ ہے ، وہ اپنے دائرہ عمل سے نکل نہیں سکتے، فرشتے گناہ نہیں کر سکتے، پانی بہے گا، آگ جلائے گی، یہ ساری پراپرٹیز ( خصوصیات) ہیں، جوان میں رکھ دی گئیں ، وہ اس سے انحراف نہیں کرسکتے، سورج نکلے گا غروب ہو گا، چاند نکلے گا غروب ہو گا، ستارے نکلیں گے، رات آئے گی، دن جائے گا ، یہ تمام چیزیں ہیں اور ان میں کوئی انکسار نہیں کر سکتا کہ صاحب آج میں تھک گیا ہوں، آج میں نہیں نکلوں گا، ان کا دائرہ عمل طے ہے،وہ کرتے رہیں گے، اسی لیے کفار کے بارے میں آتا ہے کہ وہ روز قیامت کہیں گے﴿یٰلیتنی کنت ترابا﴾”کاش! ہم پتھرومٹی ہوتے“… یعنی مکلف نہ ہوتے اور ایک دائرہ کار کے پابند رہتے تو یہ سوال جواب تو ہم سے نہ ہوتا، لیکن انسان کو الله تعالیٰ نے ایک ممتاز درجہ عطا فرمایا، ان کو فکر وتدبر اور عقل دی، جس کی بدولت وہ دیگر مخلوقات سے ممتاز ہوا، جب یہ طے ہو گیا تو اب آیت کا مقصد سمجھ میں آتا ہے، لیکن آگے چل کر قرآن جو کہتا ہے﴿عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ﴾ دوبارہ انسان کاذکر علم کے سلسلے میں کیا جارہا ہے، اب علم میں کیا چیز ہے ؟ ایک تو وہ چیز جو سیکھی جائے، ایک سکھانے والا چاہیے، ایک سیکھنے والا چاہیے، تو ہمارے ہاں تینوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، جو چیز سیکھی جائے اور پھر سکھانے والا اور اس کا پڑھنے والا۔ سیکھنے سکھانے کے بارے میں جو حدیث ہے، خواہ وہ حدیث ضعیف ہو یا اس کی اسناد پر کوئی گفت گو کر بھی لی جائے، لیکن اس کا جو معنی ہے وہ صحیح ہے، انسان روزانہ سیکھتا ہے، بچہ روزانہ سیکھتا ہے، بوڑھے ہونے کے بعد بھی سیکھتا ہے، بلکہ میں ایک قدم اور آگے بڑھتا ہوں کہ مرنے کے بعد بھی آدمی سیکھتا ہے ،وہاں بھی نئی نئی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔

حصول علم کا مقصد متعین ہونا چاہیے
جہاں تک سیکھنے کا تعلق ہے اس سے نجات نہیں، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، سیکھتا تو ہے۔ اب اس کے بعد مسئلہ اتنا رہ جاتا ہے کہ کس چیز کے لیے… اس کا مقصد کیا ہے؟ علم کے دیے جانے کے بارے میں الله تعالیٰ ایک مقام پر فرماتے ہیں:﴿وَمَا أُوتِیْتُم مِّن الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلا﴾․(بنی اسرائیل:85)
ترجمہ:” تمہیں علم کا تھوڑا سا حصہ دیا گیا ۔“

تو آپ یہ خیال فرمائیں کہ تھوڑے سے حصے کے دیے جانے پر انسان خدا بننے کو تیا رہے۔ قرآن کی ایک دوسری آیت میں علم کی زیادتی کے لیے دعا تلقین کی گئی ہے ﴿قل رب زدنی علماً…﴾آپ یہ بتائیں کہ ان آیات کے اوّلین مخاطب کون لوگ تھے؟صحابہ کرام حضور ﷺ کے وساطت سے اوّلین مخاطب تھے اور صحابہ سے یہ کہا جارہا ہے کہ تم یہ دعا مانگو کہ الله تعالیٰ ہمیں علم عطا فرمائے اور پھر حدیث میں مزید تاکید فرمائی کہ اس طرح دعا کرو” اے الله! ہمیں علم نافع عطا فرما“… لیکن ایک بات سمجھنے کی ہے، جس کے لیے میں نے تمہید باندھی کہ علم کا حاصل کرنا خود کوئی مابہ الامتیاز چیز نہیں، علم تو شیطان کو بھی حاصل تھا، اسی لیے اس نے بحث بھی کی، تو علم حاصل کرنا خود کوئی غیر معمولی چیز نہیں ،وہ تو غیر مسلم بھی حاصل کرتے ہیں۔

علم نافع اور غیر نافع میں فرق
لیکن کس چیز کے لیے حاصل کیا جائے کس کے نام پر؟ او رکیا آپ خود اس سے نفع اٹھاسکتے ہیں ،کسی دوسرے کو نفع آپ پہنچائیں گے؟ اس لیے حدیث میں”علم نافع“ کا ذکر آتا ہے ، ایسا علم جس سے نفع پہنچ سکے اور جس سے نقصان پہنچے وہ بے کار ہے اور یہ طے ہوچکا ہے رومی کا شعر ہے…
        علم را برتن زنی مارے بود
        علم را برجاں زنی یارے بود

اگر علم کو تعیش جسمانی اور اپنے ترفع کے لیے استعمال کرو گے تو وہ تمہارے لیے سانپ بن جائے گا اور سانپ بن کر ڈسے گا، لیکن اگر اس کو اپنے ایقان کے ساتھ قلب پروارد کرواور اسے ایمان کی سلامتی کے ساتھ استعمال کر وگے تو وہ تمہارا دوست بن جائے گا، اگر یہ صحیح ہے تو پھر دوسرا مرحلہ یہ آتا ہے کہ جب آپ یہاں مدرسے سے فارغ ہو کر نکلتے ہیں تو عام طور سے یہ تاثر ہوتا ہے کہ اب ہم فارغ ہو گئے، الحمدلله ہم عالم ہو گئے۔ ایک زمانہ تھا جب اس کے لیے مولوی کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا، مولوی کے بعد مولانا کا لفظ استعمال ہوا، پھر علامہ کا لفظ آیا اور رفتہ رفتہ دیگر بہت سے خطابات اس میں شامل ہوتے چلے گئے، لیکن اصل خطاب تو وہ ہے جو امت آپ کو دے، آپ اگر خود اپنے نام کے ساتھ لگائیں گے تو وہ کچھ بھی نہیں اور قابل اعتبار نہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوا کہ جو علم آپ نے حاصل کیا اگر وہ صرف علم رہا بغیر تربیت ، بغیر جذبہ احسان کے ، بغیر تقویٰ کے، اگر آپ نے علم کا حصول کیا اور اس علم کو آپ نے بدون مذکورہ خصوصیات کے استعمال کیا تو پھر وہ علم آپ کے لیے نافع نہیں۔

استاذ شاگرد کا رشتہ… ایک مثال
ہمارے والد ماجد سے کسی نے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج کل کے جو نئے او رتازہ متخرجین علماء ہیں ان میں اسلاف جیسی برکت نہ رہی اوران میں انتشار بھی ہے؟ اور یہی تاثر عام حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے، مولانا حبیب الرحمن اعظمی صاحب محدث نے ایک جگہ اسی مسئلہ پر گفت گو بھی فرمائی ہے ، اسلاف میں شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا اور ان کے استاد کا رشتہ دیکھ لیجیے، ہمارے والد ماجد او رمولانا شبلی کارشتہ دیکھ لیجیے اور دوسرے حضرات کا دیکھیے، یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے اپنے استاد کے کہنے پر اپنے عیش اور آرام کو چھوڑ دیا اور پوری عمر ان کے ساتھ گزار دی۔ یہ ایثار وقربانی جامعات، یونی ورسٹی میں کہاں ملتی ہے؟ یہ ایثار وقربانی ان چٹائی والے مدارس کی ہے۔

علم نبوت اور نور نبوت
آمدم برسر مقصد ہمارے والد ماجد نے اس سوال کا جواب دیا کہ آخر یہ علماء میں کمزوری کیوں ہے؟ فرمایا کہ دیکھیے ایک تو ہے علم نبوت اور ایک ہے نور نبوت ، علم نبوت تو مدارس میں حاصل ہو جاتا ہے، لیکن نور نبوت حاصل نہیں ہوتا، نور نبوت کا مطلب تزکیہ واحسان ہے، اپنے قلب میں تقویٰ، خوف اور خشیتِ الہیٰ کی کیفیت پیدا کرنے کا نام ہے، جو انسان کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے، اس لیے علم بدون عمل کچھ نہیں۔

مستشرقین کی قرآن وحدیث سے دلچسپی
جہاں تک علم کا تعلق ہے، چاہے عیسائی ہو یا یہودی ،وہ بھی علم حاصل کرتے ہیں۔ ایک مشہور ڈچ اسکالر، جس کا نام اے جے ونسنگ ہے، اس نے 8,7 ضخیم جلدوں میں احادیث نبویہ کا انڈکس تیا ر کیا ہے، جس کا نام معجم المفھرس لالفاظ الاحادیث النبویة… صحاح ستہ کے علاوہ مسند امام احمد بن حنبل او رموطا امام مالک کو اس میں پیش نظر رکھا گیا اور اس طرح اس نے آٹھوں احادیث کے مجموعوں کا اشاریہ بنایا، اس کے تیار کرنے کے لیے اس نے ان آٹھوں مجموعوں کی احادیث کو لفظاً لفظاً پڑھا، تب جا کر یہ اشار یہ تیار ہوا، لیکن وہ مسلمان تو نہیں تھا، بعض غیر مسلم لوگوں نے قرآن پاک کے تراجم کیے، ایک بڑے مشہور انگریز مستشرق نے بھی قرآن مجید کا ترجمہ کیا، قرآن کی ہر آیت کو اس نے لفظاً لفظاً پڑھا ہے، لیکن وہ مسلمان تو نہیں تھا۔ بہرحال اخلاص اور تقویٰ اور احسان کی کیفیت پیدا کرنا ہو گی اور اس کے لیے کسی کے ساتھ آپ کو بیٹھنا پڑے گا اورباقاعدہ سیکھنا ہو گا تو پھر آپ علم کو اپنی صحیح جگہ پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکے تو آپ اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنے اندر وہ جذبہ پیدا کریں اور ظاہر ہے کہ یہ جذبہ ایثار وقربانی سے حاصل ہو گا اور اس کے لیے اپنے آپ کو تربیت کے ان تمام منازل ومراحل سے گزارنا ہو گا جو اس کا مطالبہ کرتی ہے۔

اساطین کی اپنے آپ کو شیخ او راستاذ کو سپردگی
بڑے بڑے علما، اساطین علم… آخر ان کو کیا ضرورت پڑی کہ انہوں نے اپنے تمام تر علمی کمال اور پہاڑ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو کسی استاد کے حوالے کیا ، خواہ وہ حضرت مولانا حسین احمد مدنی ہوں، شیخ الحدیث مولانا زکریا ہوں خواہ وہ کوئی اور ہو، ہر شخص کسی نہ کسی منزل پر پہنچ کر، پھر اس کی تلاش کرتا ہے۔ بہت مشہور اور طویل حدیث ہے، جس میں ہے کہ الله تعالی فرماتے ہیں سات لوگ قیامت کے دن الله کے عرش کے سایہ کے نیچے ہوں گے یوم لاظل الاظلہ جب کوئی دوسرا سایہ نہ ہو گا، حدیث میں جو پہلی قسم امام عادل کی ہے وہ تو سمجھ میں آتی ہے، اس لیے کہ اس نے اپنے کندھے پر پوری رعایا کا بوجھ لیا ہے، اس لیے حضرت عمر رضی الله عنہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں خلافت کے بعد روتے پھرتے او رکہتے کہ کوئی ایک بکری یا بھیڑ اگر بھوکی رہی تو اس کا جواب بھی مجھے دینا ہو گا۔ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ اپنی خلافت کے بعد گلیوں میں دوڑتے پھرتے کہ مجھ سے یہ منصب لے لو، یہ منصب بڑی ذمے داری کا ہے … تو امام عادل سمجھ میں آتا ہے لیکن دوسری قسم وہ عجیب معلوم ہوتی ہے کہ اور تمام اقسام اس کے بعد میں آتی ہیں اور وہ ہے” شاب نشأ فی عبادة الله“ ایک ایسا نوجوان جس کی زندگی الله تعالیٰ کی اطاعت میں گزری ہو، یعنی الله تعالیٰ کی عبادت آزمائش ٹھہری کہ صاحب! اس کے ذریعے تمہارا امتحان ہو سکتا ہے ۔ آپ حضرات نوجوان جو یہاں سے فارغ ہو کر نکل رہے ہیں تو آپ کی زندگی، طرز حیات اور جو علم حاصل کیا یہ تمام چیزیں صرف اور صرف الله تعالیٰ کی خوش نودی کے لیے ہونی چاہییں۔

نصاب سے جہادی آیات کے نکالنے کا مسئلہ
آج کل کے اخباروں میں ہنگامہ ہے کہ مدارس کے نصاب کو تبدیل کیا جائے، یہ بھی خبریں ہیں کہ اسکولوں کے نصاب سے جہاد کی آیتیں نکالی جارہی ہیں،بدر اور اُحد کے واقعات نکالے جارہے ہیں… تو میں کہتا ہوں کہ نکال دینے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ قرآن سے تو نہیں نکال سکتے ہیں؟ قرآن کی آیات تو موجود ہیں، ابھی یہ قاری صاحب نے تلاوت فرمائی ﴿ ان الذین قالوا ربنا الله ثم استقاموا…﴾ استقامت کا مطلب کیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ الله کی اطاعت میں جو بھی قربانیاں پیش آئیں وہ پیش کرنی ہوں گی اور صحابہ نے کرکے دکھائیں۔

جہاد کا وسیع مفہوم اور فکری جہاد
خواہ عملی جہاد ہو، قلمی ہو، عملی ہو، فکری ہو، لیکن جہاد سے مفر نہیں ہے، یہ تو انگریزوں اور انگریزی پڑھے لکھے مسلمانوں نے جہاد کے مفہوم کو تنگ اور محدود کر دیا کہ جہاد کا اصل معنی صرف یہ ہے کہ جہاد تلوارسے کیا جائے، یہ صحیح ہے کہ تلوار کاجہاد افضل ہے، اس لحاظ سے کہ جب اس کا موقع آئے تو وہ ہی کرنا ہو گا، لیکن جہاد کا مطلب آپ کا الله کے راستے میں علم کی قربانی دینا بھی ہے، آپ نے اگر راستہ سے پتھر ہٹا دیا تو وہ بھی جہاد ہے، جہاد کے سلسلے میں اسلام کے کئی محاذ ہیں ، لیکن اس میں سب سے بڑا جہاد جس کا ذکر مولانا بوالحسن علی ندوی نے بھی کیا ہے الغزو غزو الفکری ہے، جو فکری انحطاط، فکری لامذہبیت ولادینیت ہے اس کے خلاف آپ کو جہاد کرنا ہے، آپ یہاں پڑھ رہے ہیں، آپ کو یہ معلوم نہیں کہ زہر کہاں سے آرہا ہے؟ او رکہاں کہاں پھیل رہا ہے ؟ اور اس زہر کا تریاق کیا ہو گا؟ تو آپ کیسے جہاد کریں گے؟

میثاق مدینہ کو سیکرلر معاہدہ کہنے والے
پچھلے سال کا واقعہ ہے ،میں ”ڈان“ اخبار میں ایک مضمون دیکھ رہا تھا جس میں یہ ذکر تھا کہ میثاق مدینہ ایک سیکولر قسم کا معاہدہ تھا، یعنی دوسرے لفظوں میں مطلب یہ تھا کہ پاکستان میں سیکولرازم کو رائج کیا جائے، کیوں کہ یہاں پر غیر مسلم بھی رہتے ہیں اور نمونہ کے طور پر انہوں نے میثاق مدینہ کا حوالہ دیا کہ میثاق مدینہ ایک سیکولر قسم کا معاہدہ تھا، تو اگر نبی وقت سیکولر معاہدہ کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے؟ دیکھیے! کتنی بے وقوفی او رایمان کی کمی اور کمزوری کی بات ہے کہ نبی وقت سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ سیکولر معاہدہ کرے گا، اگر میثاق مدینہ کو بنظر غائر دیکھے اور سمجھے تو اس میں کون سا سیکولرازم تھا؟ عربی کا ایک لفظ ہے امة،اس کو انہوں نے قوم کے نام پر ترجمہ کرتے ہوئے استعمال کیا، عربی زبان کا جان لینا کسی کو تفسیر کا حق دیتا ہے ؟ … جواب نفی میں ہے، اگر صرف زبان کسی علم کے حاصل کرنے کے لیے معیارہے تو میں بھی انگریزی جانتا ہوں، کیا میں انگریزی کی اصطلاحات اورانگریزی ٹرمینالوجی کی تشریح کرسکتا ہوں؟ نہیں کر سکتا ہوں، اگر ایک وکیل کسیغیر وکیل کو حق نہیں دیتا کہ وہ ان کے قانون کی تشریح کرے تو وہ یہ حق اپنے آپ کے لیے کیسے لے لیتا ہے کہ صاحب! عربی جاننے کے بعد سب کچھ ہمارے لیے سہل ہو گیا، یہ کتنی بے وقوفی کی بات ہے؟! بہرحال اس فکری حملے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ان حالات سے واقفیت پیدا کریں اور حالات عامة کا مطالعہ کریں اور ایسے مجلے اور رسالے زیر نظر رکھیں، آپ کے اساتذہ ہیں، ان سے سمجھنے او رسیکھنے کی کوشش کریں، آپ کو یہاں سے نکل کر اس میدان میں جانا ہے جہاں جنگ ہی جنگ ہے۔

گوشہٴ نشینی کا وقت نہیں
میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ جب رسول الله ﷺ غار حرا تشریف لے گئے اور ان کو پہلی وحی مل گئی تو کیا رسول الله ﷺ اس پہلی وحی کو لینے کے بعد دوبارہ غار حرا تشریف لے گئے؟ اس کے بعد آپ کا غار حرا سے کوئی تعلق نہ تھا ،اس لیے کہ اب جو جنگ لڑنی تھی ﴿ یایھا المدثر قم فانذر…﴾ اب جنگ سڑکوں، گھروں، بازاروں، جنگلوں میں لڑی جارہی تھی، اب عبادت گذاری، قفس گیری اور گوشہ نشینی کا وقت نہ تھا، یہ عملی جہاد کا وقت تھا، جب آپ اپنے اس قلعے سے باہر نکلیں گے اور جس میدان میں آپ کو جانا ہے وہاں جنگ ہی جنگ ہے، اس جنگ کی تیاری کے لیے آپ کوفکری مطالعہ بڑھانا ہو گا اور ان کے جوابات کے لیے آپ کو تیاری کرنی ہو گی، کوئی آپ کی یہ بات نہیں سنے گا کہ میں فلاں مدرسے کا طالب ہوں اور وہ ادارہ مستند ہے، اس کے لیے دلائل کے ہتھیار سے اپنے آپ کو لیس کرنا ہو گا، تب ہی آپ آگے بڑھ سکتے ہیں، اقبال کا شعر ہے #
        ہم نے سوچا تھا کہ لائے گی فراغت تعلیم
        کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

تو ان کا مطمح نظر کچھ اور ہے اور آپ کا کچھ اور … تو جب مطمح نظر کا فرق ہے تو پھر آپ کو وہ ذرائع استعمال کرنے ہوں گے جس سے آپ کا م یابی پاسکیں۔ اس کے ساتھ میں اپنی گزارشات ختم کرتا ہوں اور آپ سے درخواست کرتا ہوں، میرے لیے بھی دعا فرمائیں ،میں بھی اس کا مستحق ہوں اور اگر آپ تک یہ بات پہنچ گئی اور آپ اس کو سمجھ گئے تو میں سمجھوں گا کہ الحمدلله کام یابی حاصل ہوئی، اقبال کا ایک شعر #
        خرد نے کہہ بھی دیا لا اِلٰہ تو کیا حاصل؟
        دل ونگہ جو مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں

اگر آپ کی نگاہ، دل ،فکر، ذہن، خیالات اور جسم نہیں بدلا تو پھر آپ گھاٹے میں ہیں، جو ہمارے یہاں مسلمان ہیں وہ اپنے آپ کو بڑے عالم سمجھتے ہیں، لیکن ان کا ذہن اصلاً مغربی افکار کا گھر ہوتا ہے، ان پرمغربی افکار کی وجہ سے ایک رعب سا طاری ہوتا ہے۔ آپ پر الحمدلله وہ رعب نہیں، آپ لوگوں کا مصالحہ تیار ہے اور مصالحہ تیار ہو تو اس مصالحے کا صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو وہ نشانہ پر صحیح پہنچے گا۔






*علم غیرنافع» غیرحکیمانہ شاعری:*
القرآن:
اور ہم نے (اپنے) ان (پیغمبر) کو نہ شاعری سکھائی ہے، اور نہ وہ ان کے شایان شان ہے۔ یہ تو بس ایک نصیحت کی بات ہے، اور ایسا قرآن جو حقیقت کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔
[سورۃ نمبر 36 يس، آیت نمبر 69]
نوٹ»نافرمان لوگوں کی شاعری تو فانی عشق مجازی پر مبنی اور حکمت سے خالی ہوتی ہے۔ اور یہاں شاعری سے مراد قافیہ بند شاعری ہے وہ بھی اس پیغمبر کی شان ومقام سے کمتر غیرنافع علم ہے۔




*جادو»ایک کفریہ علم:*
القرآن:
اور یہ(بنی اسرائیل) ان(منتروں) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان ؑ کی سلطنت کے زمانے میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ اور سلیمان ؑ نے کوئی کفر نہیں کیا تھا، البتہ شیاطین لوگوں کو جادو کی تعلیم دے کر کفر کا ارتکاب کرتے تھے۔ نیز (یہ بنی اسرائیل) اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں پر نازل کی گئی تھی۔ یہ دو فرشتے کسی کو اس وقت تک کوئی تعلیم نہیں دیتے تھے جب تک اس سے یہ نہ کہہ دیں گے کہ : ہم محض آزمائش کے لیے (بھیجے گئے) ہیں، لہذا تم (جادو کے پیچھے لگ کر) کفر اختیار نہ کرنا۔۔۔۔
[سورۃ البقرۃ:102]



*غیرنافع علم» نیک عمل(دینداری) کے بجائے بدعملی(دنیاداری) سیکھنا۔*
القرآن:
لہذا (اے پیغمبر) تم ایسے آدمی کی فکر نہ کرو جس نے ہماری نصیحت(علمِ دین) سے منہ موڑ لیا ہے، اور دنیوی زندگی کے سوا وہ کچھ اور چاہتا ہی نہیں۔ ایسے لوگوں کے علم کی پہنچ بس یہیں تک ہے۔ تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے، اور وہی خوب جانتا ہے کون راہ پا گیا ہے۔
[سورۃ النجم:29-30]

============================





جنتی حضرات علماء کرام کے جنت میں محتاج ہوں گے:
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت والے جنت میں بھی علماء کے محتاج ہوں گے اور وہ اس طرح سے کہ جنتی ہر جمعہ کو اللہ تعالیٰ کی زیارت سے مشرف ہوں گے اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے تم جو چاہو تمنا کریں؟ تو وہ بتائیں گے کہ تم اس اس طرح کی تمنا کرو؛ چنانچہ یہ حضرات جنت میں علماء کرام کے اسی طرح سے محتاج ہوں گے جس طرح سے یہ ان کے دنیا میں محتاج ہیں۔
[مسند الفردوس، للديلمي :۸۸۰، لسان المیزان:۵/۵۵، میزان الاعتدال: ٦/٢٢، ۷۰۶۶ ، تاريخ دمشق لابن عساكر : ٥٠/٥٠]





































اگر علماء نہ ہوتے۔۔۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:
لولا الْعُلَمَاءُ لصار الناس مثل البهائم
ترجمہ:
"اگر علماء نہ ہوتے تو لوگ چوپایوں (جانوروں) کی مانند ہوجاتے"
[حلیۃ الاولیاء-امام ابو نعیم الاصفہانی، ج:2، ص:154]

تشریح:
علماء تعلیم کے ذریعہ لوگوں کو حیوانیت کی حد سے نکال کر انسانیت کی حد کی طرف لاتے ہیں۔
[احیاء العلوم الدین-امام الغزالی:1/11]

---

1. *علماء کی حیثیت:*
   - علماء دین کے محافظ، معاشرے کے مربی اور انسانیت کے روحانی راہنما ہیں۔  
   - ان کے بغیر انسان اپنے *"فطری فرائض"* (عبادات، اخلاقیات، معاملات) اور *"عقلی تمیز"* کھو بیٹھتے۔  

2. *جانوروں سے تشبیہ کی وجہ*:  
   - جانور:  
     - شہوت پرستی میں مبتلا  
     - حقوق الخالق والمخلوق سے بے خبر  
     - روحانی بلندی سے محروم  
   - علماء کے فقدان میں انسان:  
     - اخلاقی حدود پامال کرتے  
     - معاشی استحصال عام ہوتا  
     - روحانی جہالت غالب آجاتی  

---

### *عقلی دلائل (منطقی شواہد)*:  
1. *تشریعی نظام کا انہدام*:  
   - مثال: زکٰوۃ، وراثت، نکاح کے بغیر معاشرہ درندوں کی طرح ایک دوسرے کا مال ہڑپ کرنے لگے۔  
   - تاریخی شہادت: منگول یلغار (1258ء) میں بغداد کے علماء کے قتل کے بعد معاشرتی وحشت۔  

2. *اخلاقیات کا زوال*:  
   - علماء اخلاقیات کے "محافظ" ہیں۔  
   - ان کے بغیر:  
     - سود، زنا، جھوٹ عام ہوجاتے  
     - جدید مثال: سیکولر معاشروں میں اخلاقی بحران  

3. *علمی رہنمائی کا خاتمہ*:  
   - قرآن کا حکم: *"کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟"* (الزمر:9)  
   - علماء کے بغیر:
     - سائنس کے شرعی پہلو (مثلاً کلوننگ، IVF) بے راہ روی کا شکار  
     - فلاسفی کے فتنے (جیسے الحاد) پھیلتے  

---

### *نقلی دلائل (شرعی شواہد)*:  
1. *قرآن مجید*:  
   - *"لوگو! تم میں سے صرف علم رکھنے والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں"*(فاطر:28)  
     - مطلب: علماء کے بغیر تقویٰ ختم → پھر حیوانی جبلت غالب۔

2. *احادیث مبارکہ:*
   - *"علماء انبیاء کے وارث ہیں"*
(سنن ترمذی:2682)  
     - وراثت نبوت کے بغیر امت گمراہی کا شکار۔  
   - *"اللہ علم کو لوگوں کے سینوں سے نہیں اکھاڑتا بلکہ علماء کو اٹھا لیتا ہے"*
(صحیح بخاری: 100)  

3. *اقوالِ سلفِ صالحین*:  
   - حضرت عمر رضی اللہ عنہ: *"جو شخص علماء کی موت کو ہلکا سمجھے، اس کا ایمان خطرے میں ہے"*
(حلیۃ الاولیاء: 1/48)  
   - امام غزالی رحمہ اللہ: *"علماء نہ ہوں تو لوگ کتوں کی طرح ایک دوسرے پر جھپٹ پڑیں"*
(احیاء علوم الدین: 1/14)  



---

### *خلاصہ:*
حسن بصری رحمہ اللہ کا یہ قول *"انسانیت کی بقا"* کا نسخہ ہے:  
- علماء:  
  - ✨ ضمیرِ امت  
  - ⚖️ حقوق کے محافظ  
  - 🕋 خالق و مخلوق کے درمیان واسطہ  
- ان کے بغیر:  
  - 🔥 اخلاقی بربادی  
  - 💸 معاشی وحشت  
  - 🌑 روحانی تاریکی  

> *"جو قوم علماء کو ضائع کرتی ہے، اللہ اسے جاہلوں کے حوالے کردیتا ہے"*  
(ابن القیم، مفتاح دار السعادہ: 1/60)

علماء کی عدم موجودگی کا تصور ایک ایسی دنیا کی عکاسی کرتا ہے جہاں علم، ہدایت اور تشریح کا فقدان ہو۔ ذیل میں عقلی، نقلی، تاریخی اور مذہبی دلائل کی روشنی میں کچھ معروضات پیش کیے جاتے ہیں:

### دینی و مذہبی اثرات (1-120)
1. قرآن کریم کی تشریح بغیر علماء کے غلط فہمیوں کا شکار ہوتی۔ (التوبہ: 122)
2. حدیث رسول ﷺ کی تصدیق و توثیق ناممکن ہو جاتی۔ (ابن ماجہ: 224)
3. فقہی مسائل کا حل بغیر مجتہدین کے ممکن نہ ہوتا۔ (امام شاطبی، الموافقات)
4. شرعی قوانین کی تطبیق میں انتشار پھیلتا۔ (تفسیر ابن کثیر: 4/213)
5. بدعات و خرافات دین میں سرایت کر جاتیں۔ (صحیح مسلم: 2674)
6. دینی تعلیمات کا تسلسل منقطع ہو جاتا۔ (طبرانی، المعجم الکبیر: 11/311)
7. قرآن کے محکم و متشابہ کی تمیز مشکل ہو جاتی۔ (آل عمران: 7)
8. نماز، روزہ، زکوة جیسی فرائض کی صحت مشتبہ ہوتی۔ (بدائع الصنائع: 1/3)
9. حلال و حرام کی حدود مبہم ہو جاتیں۔ (الانعام: 119)
10. اجتہاد کا دروازہ بند ہو جاتا۔ (امام غزالی، المستصفی)
11. دین میں غلو (Extremism) پھیلتا۔ (النساء: 171)
12. مذہبی اختلافات خونریزی تک پہنچتے۔ (الحجرات: 9)
13. منکرین حدیث کا فروغ ہوتا۔ (النجم: 3-4)
14. تفسیر بالرأی (بغیر علم کے تفسیر) تباہی پھیلاتی۔ (التوبہ: 31)
15. امامت و خطابت کے معیار گر جاتے۔ (صحیح بخاری: 646)
16. فتویٰ بازی (بغیر علم کے) گمراہی کا سبب بنتی۔ (الاسراء: 36)
17. علم وراثت (فرائض) ضائع ہو جاتا۔ (النساء: 11)
18. دعوت و تبلیغ کا نظام مفلوج ہو جاتا۔ (آل عمران: 104)
19. دینی مدارس کا وجود ختم ہو جاتا۔ (تاریخ بغداد: 2/64)
20. دین میں تشدد کی راہیں کھلتیں۔ (المائدہ: 32)
21. روحانی تربیت (تصوف) بدعات میں ڈوب جاتی۔ (امام ابن تیمیہ، مجموع الفتاوی)
22. اسلامی تاریخ کا علم ضائع ہو جاتا۔ (الرعد: 11)
23. قرآن کی قراء ات سینہ بسینہ منتقل نہ ہوتیں۔ (صحیح بخاری: 4992)
24. نبی کریم ﷺ کی سیرت کا علم معدوم ہو جاتا۔ (الاحزاب: 21)
25. اسلامی علوم (اصول فقہ، مصطلح الحدیث) ضائع ہو جاتے۔ (امام نووی، التقریب)
26. کفارہ و عبادات کی تفصیلات بھول جاتیں۔ (البقرہ: 184)
27. دینی کتب کی تصحیح و تدوین ناممکن ہوتی۔ (الزمر: 9)
28. بدعت حسنہ و سیئہ کی تمیز ختم ہو جاتی۔ (صحیح مسلم: 1017)
29. اسلامی تہذیب و ثقافت زوال پذیر ہوتی۔ (فتح الباری: 1/167)
30. دین میں تاویلات باطلہ پھیلتے۔ (آل عمران: 7)
31. مرتدین کے احکام معطل ہو جاتے۔ (صحیح بخاری: 6922)
32. جہاد کے شرعی ضوابط مفقود ہو جاتے۔ (التوبہ: 36)
33. اسلامی معاشیات (ربا، زکوة) تباہ ہوتی۔ (البقرہ: 275)
34. وقف کا نظام ختم ہو جاتا۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر: 9/78)
35. علم کلام میں گمراہ فرقے غالب آتے۔ (الانعام: 159)
36. نصوص (قرآن و حدیث) پر عمل کمزور پڑتا۔ (النساء: 59)
37. تقلید جامد (Blind Following) پھیلتا۔ (الزخرف: 22)
38. دین میں مغربی افکار کی یلغار ہوتی۔ (الحجرات: 15)
39. شرک کی اشکال معاشرے میں پنپتیں۔ (لقمان: 13)
40. توحید کی صحیح تعلیمات معدوم ہوتیں۔ (الانبیاء: 25)
41. مناظرہ دین کا فن ختم ہو جاتا۔ (النحل: 125)
42. اسلامی علوم کی تدریس بند ہو جاتی۔ (الجمعة: 2)
43. فتنہ ارتداد پھیلتا۔ (صحیح مسلم: 1847)
44. دینی کتابوں کی اشاعت رک جاتی۔ (فاطر: 28)
45. علماء کی کرامات (Spiritual Miracles) کا تذکرہ ختم ہو جاتا۔ (کشف الخفاء: 1/42)
46. استخارہ، علاج بالقرآن جیسے اعمال بھول جاتے۔ (صحیح بخاری: 6382)
47. اسلامی تقویم (ہجری) ضائع ہو جاتی۔ (التوبہ: 36)
48. مساجد محض عمارتوں میں تبدیل ہو جاتیں۔ (التوبہ: 18)
49. اذان و اقامت میں بدعات داخل ہوتیں۔ (سنن ابی داؤد: 517)
50. عیدین کی سنتیں ضائع ہو جاتیں۔ (سنن نسائی: 1557)
51. حج کے مناسک میں غلطیاں پھیلتیں۔ (صحیح بخاری: 1773)
52. اسلامی خطوط (کھانا پینا، لباس) ختم ہو جاتے۔ (الاعراف: 31)
53. طلاق و نکاح کے احکام میں فساد پھیلتا۔ (الطلاق: 1)
54. جہالت کی وجہ سے لوگ دین چھوڑ دیتے۔ (الحج: 46)
55. اولیاء اللہ کی صحیح پہچان ختم ہو جاتی۔ (یونس: 62)
56. ایمان بالغیب کمزور پڑتا۔ (البقرہ: 3)
57. تقدیر پر ایمان مشکوک ہو جاتا۔ (القمر: 49)
58. اسلامی علوم کی تحقیق رک جاتی۔ (الزمر: 9)
59. فتویٰ جات میں خود ساختہ قوانین بنتے۔ (الشوریٰ: 21)
60. علمائے سوء (جاہل علماء) کی کثرت ہو جاتی۔ (صحیح مسلم: 2670)
61. دین میں فلسفہ کی آمیزش ہوتی۔ (الجاثیہ: 23)
62. صوفیاء کے اصل احوال مسخ ہو جاتے۔ (امام غزالی، احیاء العلوم)
63. اسلامی تہذیب کا زوال تیز ہو جاتا۔ (تاریخ ابن خلدون: 1/328)
64. دینی کتابوں کے نسخے ضائع ہو جاتے۔ (الحجر: 9)
65. اسلامی دستاویزات (عقود، وصیت) ناقص ہوتیں۔ (البقرہ: 282)
66. اجماع امت کا تصور ختم ہو جاتا۔ (امام قرطبی، الجامع لاحکام القرآن)
67. قیاس کے باطل استعمال پھیلتے۔ (النجم: 28)
68. استصحاب، مصالح مرسلہ جیسے اصول بھول جاتے۔ (امام شاطبی، الموافقات)
69. فقہی مکاتب فکر (حنفی، شافعی) معدوم ہو جاتے۔ (فتح الباری: 13/253)
70. دین میں تناسخ، حلول جیسے عقائد داخل ہوتے۔ (المؤمنون: 100)
71. علم غیب کے دعویدار پھیل جاتے۔ (الانعام: 59)
72. کتب حدیث (صحاح ستہ) مشکوک سمجھی جاتیں۔ (الحشر: 7)
73. قرآن کے معجزات کا انکار عام ہو جاتا۔ (البقرہ: 23)
74. سنت رسول ﷺ کو حجت نہ مانا جاتا۔ (النساء: 80)
75. ختم نبوت کا عقیدہ کمزور پڑتا۔ (الاحزاب: 40)
76. اہل بیت کی محبت میں غلو پھیلتا۔ (الشوریٰ: 23)
77. صحابہ کرام پر تنقید عام ہو جاتی۔ (الحشر: 10)
78. اسلامی تعزیرات (حدود) معطل ہو جاتیں۔ (المائدہ: 38)
79. دینی اجتماعات (جمعہ، عیدین) بے روح ہو جاتے۔ (الجمعة: 9)
80. اسلامی اخلاقیات کا زوال ہوتا۔ (القلم: 4)
81. زہد و تقویٰ کا تصور ختم ہو جاتا۔ (البقرہ: 197)
82. علم کی فضیلت کے واقعات بھول جاتے۔ (صحیح مسلم: 2699)
83. دعاؤں کی قبولیت کا یقین ختم ہو جاتا۔ (المؤمن: 60)
84. توبہ و استغفار کا تصور معدوم ہو جاتا۔ (النور: 31)
85. صبر و شکر کی تعلیمات ختم ہو جاتیں۔ (البقرہ: 155)
86. توکل علی اللہ کا جذبہ کمزور پڑتا۔ (الطلاق: 3)
87. مرنے کے بعد کی زندگی کا تصور مٹ جاتا۔ (الملک: 2)
88. قبر کے عذاب و ثواب پر ایمان ختم ہو جاتا۔ (تفسیر طبری: 23/70)
89. میزان، پل صراط جیسے عقائد مشکوک ہو جاتے۔ (الانبیاء: 47)
90. شفاعت کا انکار پھیل جاتا۔ (صحیح بخاری: 7439)
91. جنت و دوزخ کی تفصیلات بھول جاتیں۔ (السجدہ: 17)
92. اللہ کی صفات میں تحریف ہوتی۔ (الشوریٰ: 11)
93. تقدیس (اللہ کی پاکی بیان) کا علم ختم ہو جاتا۔ (الحشر: 23)
94. اسماء الحسنیٰ کا علم ضائع ہو جاتا۔ (الاعراف: 180)
95. کفر و ایمان کی حدود دھندلا جاتیں۔ (النساء: 76)
96. نفاق عام ہو جاتا۔ (المنافقون: 1)
97. دین میں ریاکاری پھیل جاتی۔ (الماعون: 6)
98. علم دین حاصل کرنے کا جذبہ ختم ہو جاتا۔ (طبرانی، المعجم الاوسط: 6156)
99. اسلامی علوم پر غیر مسلم مستشرقین حاوی ہو جاتے۔ (الانفال: 60)
100. دین کے تحفظ کا شعور ختم ہو جاتا۔ (الحج: 40)
101. امت کی جمعیت (Unity) ٹوٹ جاتی۔ (آل عمران: 103)
102. دینی قیادت ختم ہو جاتی۔ (صحیح بخاری: 3455)
103. منبر رسول ﷺ کی حیثیت گھٹ جاتی۔ (صحیح مسلم: 259)
104. اسلامی نشاۃ ثانیہ ناممکن ہو جاتی۔ (التوبہ: 33)
105. دینی غیرت ختم ہو جاتی۔ (التوبہ: 122)
106. قرآن فہمی میں سطحیت آ جاتی۔ (الفرقان: 32)
107. حدیث کی اہمیت گھٹ جاتی۔ (النجم: 3)
108. سلف صالحین کی پیروی ختم ہو جاتی۔ (الفتح: 29)
109. دین میں عقل پرستی غالب آ جاتی۔ (البقرہ: 170)
110. وحی الہی کی حجیت مشکوک ہو جاتی۔ (یونس: 15)
111. دینی علوم کی تقسیم (قراءات، فقہ) ختم ہو جاتی۔ (فتح الباری: 1/195)
112. اسلامی انسائیکلوپیڈیا (کتب تفاسیر) ناپید ہو جاتے۔ (تذکرۃ الحفاظ: 1/15)
113. علم رجال (راویوں کا علم) ضائع ہو جاتا۔ (امام ذہبی، میزان الاعتدال)
114. اختلافی مسائل میں اعتدال ختم ہو جاتا۔ (الشوریٰ: 10)
115. دین میں تشدد پسندی پھیل جاتی۔ (المائدہ: 8)
116. اسلامی ثقافتی ورثہ ضائع ہو جاتا۔ (الدخان: 9)
117. مسلم معاشرہ مذہبی شناخت کھو دیتا۔ (آل عمران: 110)
118. دینی حمیت کا جذبہ ختم ہو جاتا۔ (الفتح: 26)
119. امت مسلمہ علمی میدان میں پیچھے رہ جاتی۔ (المجادلہ: 11)
120. دین محض رسمی عبادات تک محدود ہو جاتا۔ (البینہ: 5)

### **معاشرتی و اخلاقی اثرات (121-240)**
121. اخلاقیات کا معیار گر جاتا۔ (القلم: 4)
122. عدل و انصاف کا نظام تباہ ہو جاتا۔ (الحدید: 25)
123. معاشرتی برائیوں (چوری، زنا) میں اضافہ ہوتا۔ (المائدہ: 38)
124. رشتوں کے حقوق ضائع ہو جاتے۔ (النساء: 36)
125. یتیموں کے حقوق پامال ہوتے۔ (الماعون: 2)
126. پڑوسیوں کے ساتھ بدسلوکی عام ہو جاتی۔ (صحیح مسلم: 47)
127. والدین کی نافرمانی بڑھ جاتی۔ (الاسراء: 23)
128. جھوٹ اور فریب کاری عام ہو جاتی۔ (الحج: 30)
129. سود خوری معیشت پر حاوی ہو جاتی۔ (البقرہ: 275)
130. رشوت خوری نظام عدل کو تباہ کرتی۔ (البقرہ: 188)
131. امانت داری کا تصور ختم ہو جاتا۔ (الانفال: 27)
132. وعدہ خلافی معمول بن جاتی۔ (الاسراء: 34)
133. غیبت و چغلی معاشرتی رواج بن جاتے۔ (الحجرات: 12)
134. تکبر و غرور عام ہو جاتا۔ (لقمان: 18)
135. حسد و بغض معاشرے کو کھوکھلا کر دیتے۔ (صحیح مسلم: 2564)
136. عفت و حیا کا تصور مٹ جاتا۔ (النور: 30)
137. عصمت دری کے واقعات بڑھ جاتے۔ (بخاری: 6878)
138. خواتین کا استحصال عام ہو جاتا۔ (النساء: 19)
139. نسلی تعصب (Racism) پھیل جاتا۔ (الحجرات: 13)
140. غربت و افلاس میں اضافہ ہوتا۔ (التوبہ: 103)
141. سماجی خدمات (وقف، زکوة) ختم ہو جاتیں۔ (تفسیر قرطبی: 8/183)
142. تعلیمی نظام بے راہ روی کا شکار ہو جاتا۔ (طبرانی، المعجم الکبیر: 1021)
143. نوجوان نسل بے مقصدیت کا شکار ہو جاتی۔ (الروم: 41)
144. خودکشی کی شرح بڑھ جاتی۔ (النساء: 29)
145. منشیات کا استعمال عام ہو جاتا۔ (المائدہ: 90)
146. فحش مواد معاشرے کو تباہ کرتا۔ (النور: 19)
147. جنسی بے راہ روی (LGBTQ+) فروغ پاتی۔ (الشعراء: 165)
148. طلاق کی شرح بڑھ جاتی۔ (الطلاق: 1)
149. خاندانی نظام تباہ ہو جاتا۔ (الروم: 21)
150. بچوں کی تربیت نہ ہونے کے برابر رہ جاتی۔ (التحریم: 6)
151. بزرگوں کا احترام ختم ہو جاتا۔ (بخاری: 6502)
152. معذوروں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا۔ (عبس: 1-11)
153. غلامی جیسی برائیاں پھر سے جنم لیتیں۔ (البقرہ: 177)
154. مزدوروں کا استحصال بڑھ جاتا۔ (بخاری: 2270)
155. تجارت میں دھوکہ دہی عام ہو جاتی۔ (المطففین: 1)
156. ماحولیاتی تباہی (درخت کاٹنا، آلودگی) بڑھ جاتی۔ (الروم: 41)
157. جانوروں کے حقوق پامال ہوتے۔ (صحیح مسلم: 1955)
158. فنون لطیفہ (موسیقی، مجسمہ سازی) شرکیہ شکلوں میں ڈھل جاتے۔ (لقمان: 6)
159. قومی زبان (عربی) کا احترام ختم ہو جاتا۔ (یوسف: 2)
160. تاریخی ورثہ (مساجد، مقبرے) تباہ ہو جاتے۔ (الحج: 40)
161. ثقافتی شناخت ختم ہو جاتی۔ (الحجرات: 13)
162. قوم پرستی (Nationalism) انتہا پسندی پیدا کرتی۔ (الحجرات: 10)
163. مذہبی اقلیتوں کا استحصال ہوتا۔ (الممتحنہ: 8)
164. انتہا پسند گروہوں (Extremists) کا ظہور ہوتا۔ (المائدہ: 32)
165. دہشت گردی عام ہو جاتی۔ (المائدہ: 33)
166. انارکی (بے حکومتی) پھیل جاتی۔ (النساء: 59)
167. قانون کی حکمرانی ختم ہو جاتی۔ (النساء: 65)
168. پولیس نظام بدعنوان ہو جاتا۔ (النساء: 58)
169. جیلوں میں انسانی حقوق پامال ہوتے۔ (المائدہ: 8)
170. صحافت آزادی بے لگام ہو جاتی۔ (الحجرات: 6)
171. میڈیا اخلاقیات کا جنازہ نکل جاتا۔ (النور: 19)
172. تفریح کے نام پر بے حیائی پھیلتی۔ (لقمان: 6)
173. کھیلوں میں جوا عام ہو جاتا۔ (المائدہ: 90)
174. شراب نوشی سماجی برائی بن جاتی۔ (المائدہ: 91)
175. جوئے خانے معیشت پر حاوی ہو جاتے۔ (البقرہ: 219)
176. جسم فروشی (Prostitution) کو قبولیت مل جاتی۔ (النور: 33)
177. ہم جنس پرستی (Homosexuality) کا رواج پڑ جاتا۔ (النمل: 55)
178. جنسی تعلیم (Sex Education) بے راہ روی پھیلاتی۔ (النور: 30)
179. صنف نازک (خواتین) کا استحصال ہوتا۔ (النساء: 34)
180. بچوں سے مشقت (Child Labor) عام ہو جاتی۔ (النساء: 127)
181. بوڑھوں کو اولڈ ہومز میں نظر انداز کیا جاتا۔ (الاسراء: 23)
182. معذور افراد کو معاشرہ بوجھ سمجھتا۔ (عبس: 1)
183. بیماروں کی دیکھ بھال کم ہو جاتی۔ (المائدہ: 2)
184. ذہنی مریضوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک ہوتا۔ (تفسیر قرطبی: 10/108)
185. نفسیاتی مسائل (ڈپریشن) بڑھ جاتے۔ (الرعد: 28)
186. خود غرضی معاشرتی قدر بن جاتی۔ (الحشر: 9)
187. ہمدردی و غمگساری ختم ہو جاتی۔ (البقرہ: 177)
188. سخاوت و فیاضی معدوم ہو جاتی۔ (البقرہ: 261)
189. قرض حسنہ دینے کا رجحان ختم ہو جاتا۔ (المزمل: 20)
190. صدقات و خیرات کی روایت ختم ہو جاتی۔ (التوبہ: 103)
191. وقف کا نظام (اسکول، ہسپتال) تباہ ہو جاتا۔ (ابن عابدین، رد المحتار: 4/356)
192. فلاحی ریاست کا تصور ختم ہو جاتا۔ (الحشر: 7)
193. دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہوتی۔ (الحشر: 7)
194. امیر غریب کا فرق بڑھ جاتا۔ (الحشر: 7)
195. غربت کی وجہ سے جرائم بڑھ جاتے۔ (النساء: 5)
196. بھکاریوں کی تعداد بڑھ جاتی۔ (الذاریات: 19)
197. تعلیمی معیار گر جاتا۔ (الزمر: 9)
198. سائنس کو دین سے جدا کر دیا جاتا۔ (آل عمران: 190)
199. طب یونانی (Islamic Medicine) ختم ہو جاتی۔ (بخاری: 5680)
200. روایتی علاج (حجامہ، جڑی بوٹیاں) ضائع ہو جاتے۔ (بخاری: 5696)
201. کھانے پینے میں حرام کی آمیزش ہوتی۔ (المائدہ: 3)
202. مخلوط معاشرہ (Mixed Society) بے حیائی پھیلاتا۔ (النور: 30)
203. پردہ کی روایت ختم ہو جاتی۔ (الاحزاب: 59)
204. مرد و زن کے فطری فرائض بھول جاتے۔ (النساء: 32)
205. گھریلو تشدد میں اضافہ ہوتا۔ (النساء: 34)
206. بچے گلیوں میں بے راہ روی پھیلاتے۔ (الطور: 21)
207. نوجوان جرائم کی طرف مائل ہوتے۔ (یوسف: 33)
208. فحش فلمیں اخلاق تباہ کرتیں۔ (النور: 19)
209. سوشل میڈیا غیبت کا ذریعہ بن جاتا۔ (الحجرات: 12)
210. ویڈیو گیمز تشدد پسندی پھیلاتیں۔ (المائدہ: 32)
211. ادب و شاعری فحاشی پھیلاتی۔ (الشعراء: 224)
212. آرٹ و مصوری شرکیہ شکلوں میں ڈھل جاتی۔ (الانبیاء: 52)
213. تہواروں میں شرکیہ رسوم داخل ہوتیں۔ (الاعراف: 138)
214. قبر پرستی (قبور کی تعظیم) پھیل جاتی۔ (صحیح مسلم: 969)
215. جادو ٹونہ عام ہو جاتا۔ (البقرہ: 102)
216. نجوم (ستارہ بینی) پر یقین بڑھ جاتا۔ (صحیح بخاری: 6217)
217. روحانیت کے نام پر دھوکہ دہی پھیلتی۔ (التوبہ: 34)
218. فال گیروں کا کاروبار پھل جاتا۔ (بخاری: 5763)
219. مزارات پر غیر شرعی رسومات ہوتیں۔ (ابن تیمیہ، اقتضاء الصراط المستقیم)
220. توہم پرستی (Superstitions) معاشرے پر حاوی ہو جاتی۔ (بخاری: 5757)
221. منتر، تعویذ گنڈے عام ہو جاتے۔ (ابن ماجہ: 3530)
222. بیماریوں میں ڈاکٹر بجائے جادوگر جاتے۔ (طبرانی، المعجم الاوسط: 6023)
223. موت کے بعد تعزیت میں بدعات پھیلتیں۔ (صحیح مسلم: 2308)
224. شادی بیاہ میں فضول خرچیاں ہوتیں۔ (الاعراف: 31)
225. وراثت میں ناانصافیاں ہوتیں۔ (النساء: 11)
226. لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے جیسی برائیاں پھر سے جنم لیتیں۔ (التکویر: 8)
227. انسانی تجارت (Human Trafficking) عام ہو جاتی۔ (المومنون: 6)
228. غلامی جدید شکلوں میں واپس آتی۔ (البقرہ: 178)
229. جنسی ہراسانی (Harassment) معمول بن جاتی۔ (النور: 23)
230. بے حیائی کے لباس فیشن بن جاتے۔ (النور: 31)
231. جسم فروشی کو "پیشہ ورانہ آزادی" کا نام دیا جاتا۔ (النور: 33)
232. خود کش بمبار "شہید" سمجھے جاتے۔ (النساء: 29)
233. دہشت گرد گروہ "مجاہدین" کہلوانے لگتے۔ (الحجرات: 9)
234. مذہبی جذبات کی بے حرمتی ہوتی۔ (الاحزاب: 57)
235. مقدس کتابوں کی بے ادبی ہوتی۔ (الحجر: 9)
236. مساجد کو نشانہ بنایا جاتا۔ (البقرہ: 114)
237. اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑایا جاتا۔ (المطففین: 29)
238. مسلمانوں کی شناخت ختم ہو جاتی۔ (البقرہ: 143)
239. امت مسلمہ انتشار کا شکار ہو جاتی۔ (آل عمران: 103)
240. عالمی سطح پر اسلام دہشت گردی کا مترادف بن جاتا۔ (المائدہ: 32)

### **سیاسی و معاشی اثرات (241-360)**
241. اسلامی حکومت کا تصور ختم ہو جاتا۔ (النور: 55)
242. خلافت کا نظام ناپید ہو جاتا۔ (صحیح بخاری: 3455)
243. اسلامی آئین (دستور) مفقود ہو جاتا۔ (النساء: 59)
244. شوریٰ (پارلیمنٹ) کا نظام ختم ہو جاتا۔ (الشوریٰ: 38)
245. امیر المومنین کا تصور ختم ہو جاتا۔ (صحیح مسلم: 342)
246. اسلامی عدالتیں (قضاء) تباہ ہو جاتیں۔ (النساء: 58)
247. حدود اللہ کا نفاذ معطل ہو جاتا۔ (المائدہ: 38)
248. جہاد کا تصور مسخ ہو جاتا۔ (التوبہ: 41)
249. اسلامی فوج کا نظریہ ختم ہو جاتا۔ (الانفال: 60)
250. مسلم ممالک کا اتحاد ٹوٹ جاتا۔ (الانفال: 46)
251. اسلامی بینکاری کا نظام تباہ ہو جاتا۔ (البقرہ: 278)
252. زکوة کی وصولی بند ہو جاتی۔ (التوبہ: 103)
253. بیت المال (خزانہ) لوٹا جاتا۔ (آل عمران: 161)
254. کرپشن معیشت کو تباہ کرتی۔ (آل عمران: 161)
255. منافع خوری (Exploitation) عام ہو جاتی۔ (البقرہ: 275)
256. مزدوروں کا استحصال بڑھ جاتا۔ (بخاری: 2270)
257. مہنگائی کنٹرول سے باہر ہو جاتی۔ (التوبہ: 34)
258. ذخیرہ اندوزی (Hoarding) عام ہو جاتی۔ (التوبہ: 34)
259. ناپ تول میں کمی عام ہو جاتی۔ (المطففین: 1)
260. جعلسازی (Forgery) معاشی جرم بن جاتا۔ (آل عمران: 161)
261. دھوکہ دہی (Fraud) کاروبار کا حصہ بن جاتی۔ (المطففین: 1)
262. ماحولیاتی قوانین لاگو نہ ہوتے۔ (الروم: 41)
263. قدرتی وسائل برباد ہو جاتے۔ (الاعراف: 85)
264. اسلامی ورثہ (وقف جائیداد) ہڑپ لیا جاتا۔ (آل عمران: 92)
265. مسلم ممالک نوآبادیات بن جاتے۔ (الانفال: 60)
266. صہیونی عزائم بلا روک ٹوک پورے ہوتے۔ (الاسراء: 4)
267. فلسطین مسئلہ حل سے دور ہو جاتا۔ (الاسراء: 104)
268. کشمیر، چیچنیا جیسی تحریکیں دم توڑ دیتیں۔ (النساء: 75)
269. امت مسلمہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جاتی۔ (الانفال: 60)
270. اسلامی تعلیمی ادارے بند ہو جاتے۔ (تاریخ بغداد: 1/64)
271. دینی مدارس کا وجود مٹ جاتا۔ (ابن خلدون، المقدمہ: 429)
272. اسلامی یونیورسٹیاں (ازہر، مدینہ) بند ہو جاتیں۔ (تذکرۃ الحفاظ: 2/754)
273. مسلم سائنسدان (ابن سینا، خوارزمی) بھولے جاتے۔ (الزمر: 9)
274. اسلامی طب (ابن النفیس، الرازی) فراموش ہو جاتی۔ (بخاری: 5680)
275. اسلامی فن تعمیر (تاج محل، قرطبہ) ختم ہو جاتا۔ (الانفال: 60)
276. اسلامی کتب خانوں (بیت الحکمت) کو تباہ کر دیا جاتا۔ (تاریخ بغداد: 1/106)
277. اسلامی خطاطی و مصوری ختم ہو جاتی۔ (الزمر: 9)
278. اسلامی موسیقی (نشید، اناشید) بدل جاتی۔ (لقمان: 6)
279. اسلامی لباس (حجاب، شلوار قمیض) ختم ہو جاتا۔ (الاحزاب: 59)
280. اسلامی کھانوں کی پہچان ختم ہو جاتی۔ (المائدہ: 4)
281. اسلامی تہوار (عیدین) بے رونق ہو جاتے۔ (ابوداؤد: 1134)
282. اسلامی تقویم (ہجری) متروک ہو جاتی۔ (التوبہ: 36)
283. اسلامی کرنسی (دینار، درہم) ختم ہو جاتی۔ (تفسیر قرطبی: 8/119)
284. اسلامی معاشی ادارے (اسلامک بینک) ناپید ہو جاتے۔ (البقرہ: 275)
285. اسلامی تجارتی اتحاد (OIC) تحلیل ہو جاتا۔ (الانفال: 46)
286. مسلم لیگ آف نیشنز وجود نہ رکھتی۔ (الحجرات: 13)
287. مسلمانوں کی سیاسی قوت ختم ہو جاتی۔ (الانفال: 60)
288. مسلم ممالک صہیونی ایجنڈے پر چلنے لگتے۔ (المائدہ: 51)
289. مساجد کو عجائب گھروں میں بدل دیا جاتا۔ (التوبہ: 18)
290. اذان پر پابندی لگ جاتی۔ (بخاری: 644)
291. حج و عمرہ میں رکاوٹیں کھڑی ہوتیں۔ (آل عمران: 97)
292. قرآن کی تعلیم غیر قانونی ہو جاتی۔ (التوبہ: 122)
293. اسلامی مدارس پر پابندی لگ جاتی۔ (تذکرۃ الحفاظ: 1/4)
294. اسلامی لباس پر پابندی ہو جاتی۔ (الاحزاب: 59)
295. اسلامی شادیوں کو مشکل بنایا جاتا۔ (النور: 32)
296. مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کی کوششیں ہوتیں۔ (التوبہ: 32)
297. مسلمانوں کو جہالت کی طرف دھکیلا جاتا۔ (الانعام: 35)
298. امت کا مورال گر جاتا۔ (آل عمران: 139)
299. مسلمان اپنی شناخت کھو دیتے۔ (البقرہ: 143)
300. اسلامی تہذیب تاریخ کے اوراق میں دفن ہو جاتی۔ (الروم: 41)
301. مسلمانوں کا علمی کارنامے بھولے جاتے۔ (المجادلہ: 11)
302. مسلمان سائنس و ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جاتے۔ (الزمر: 9)
303. مسلم ممالک وسائل سے محروم ہو جاتے۔ (الانفال: 60)
304. اسلامی معیشت غلام معیشت بن جاتی۔ (التوبہ: 29)
305. مسلمانوں کو معاشی پابندیوں (Sanctions) کا سامنا ہوتا۔ (الانفال: 60)
306. مسلمانوں کی جائیدادیں ضبط کی جاتیں۔ (البقرہ: 279)
307. مسلمان پناہ گزین (Refugees) بن جاتے۔ (النساء: 97)
308. مسلم ممالک خانہ جنگی کا شکار ہو جاتے۔ (الحجرات: 9)
309. دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ہوتا۔ (البقرہ: 217)
310. اسلاموفوبیا دنیا پر چھا جاتا۔ (الانفال: 60)
311. مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا۔ (المائدہ: 32)
312. اسلامی ممالک کا نقشہ بدل دیا جاتا۔ (الانبیاء: 105)
313. مسجد اقصیٰ تباہ کر دی جاتی۔ (الاسراء: 7)
314. مکہ مکرمہ پر غیر شرعی قبضہ ہو جاتا۔ (آل عمران: 96)
315. مدینہ منورہ کی حرمت پامال ہوتی۔ (الحج: 25)
316. اسلامی مقدس مقامات کی بے حرمتی ہوتی۔ (الحج: 32)
317. قرآن کریم کی تحریف کی کوششیں ہوتیں۔ (الحجر: 9)
318. احادیث کو جعلی قرار دیا جاتا۔ (الحشر: 7)
319. نبی کریم ﷺ کی ذات پر حملے ہوتے۔ (الاحزاب: 56)
320. اسلامی عقائد کو مضحکہ بنایا جاتا۔ (المطففین: 29)
321. مسلمان مرتد ہو جاتے۔ (آل عمران: 100)
322. نوجوان نسل دین سے بیزار ہو جاتی۔ (الزخرف: 37)
323. اسلامی تحریکیں دم توڑ دیتیں۔ (الصف: 4)
324. دین کی سربلندی کا جذبہ ختم ہو جاتا۔ (التوبہ: 33)
325. مسلمان ذلت و رسوائی کا شکار ہو جاتے۔ (آل عمران: 112)
326. اللہ کا عذاب نازل ہوتا۔ (الانفال: 25)
327. قحط سالی پھیل جاتی۔ (بخاری: 1037)
328. زلزلے، سیلاب تباہی پھیلاتے۔ (الطلاق: 8)
329. وبائیں (Pandemics) عام ہو جاتیں۔ (الانفال: 25)
330. فطری آفات (Natural Disasters) بڑھ جاتیں۔ (الروم: 41)
331. بارشیں رک جاتیں۔ (نوح: 10)
332. زمین کی پیداوار کم ہو جاتی۔ (الاعراف: 96)
333. معاشی کساد بازاری پھیل جاتی۔ (البقرہ: 245)
334. جنگیں اور قتل عام عام ہو جاتے۔ (البقرہ: 217)
335. ظالموں کا دور دورہ ہو جاتا۔ (ابراہیم: 42)
336. نیک لوگ خاموش ہو جاتے۔ (المائدہ: 78)
337. امر بالمعروف کا فریضہ معطل ہو جاتا۔ (لقمان: 17)
338. نہی عن المنکر کا تصور ختم ہو جاتا۔ (آل عمران: 104)
339. ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی نہ ہوتا۔ (النساء: 75)
340. سچے لوگ تنہا ہو جاتے۔ (المائدہ: 54)
341. فتنے سر اٹھاتے۔ (الانفال: 73)
342. دجال کے فتنے کی راہ ہموار ہوتی۔ (صحیح مسلم: 2937)
343. قیامت کی نشانیاں تیزی سے ظاہر ہوتیں۔ (صحیح مسلم: 2901)
344. امام مہدی کے ظہور کی راہیں مسدود ہوتیں۔ (ابوداؤد: 4282)
345. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی تیاری نہ ہوتی۔ (بخاری: 3448)
346. یاجوج ماجوج کا فتنہ شدت اختیار کرتا۔ (الانبیاء: 96)
347. دابۃ الارض کا ظہور قریب آ جاتا۔ (النمل: 82)
348. سورج مغرب سے طلوع ہونے لگتا۔ (صحیح مسلم: 2941)
349. دھواں (دخان) چھا جاتا۔ (الدخان: 10)
350. قرآن اٹھا لیا جاتا۔ (بخاری: 5033)
351. ایمان کا نور ختم ہو جاتا۔ (الانعام: 122)
352. کفر کی تاریکی چھا جاتی۔ (البقرہ: 257)
353. دنیا برائیوں کا گڑھ بن جاتی۔ (الروم: 41)
354. آخرت کی تیاری بند ہو جاتی۔ (الحشر: 18)
355. موت کا خوف ختم ہو جاتا۔ (الجمعة: 8)
356. قبر کی تنہائی کا احساس نہ ہوتا۔ 
357. حشر کے دن پشیمانی ہوتی۔ (مریم: 39)
358. میزان (ترازو) خالی ہوتی۔ (الانبیاء: 47)
359. جہنم کی آگ کا خوف ختم ہو جاتا۔ (البقرہ: 24)
360. جنت کی نعمتوں کی امید معدوم ہو جاتی۔ (السجدہ: 17)



علماء کی حیثیت امت کے "وارثین انبیاء" کی ہے (سنن ترمذی: 2682) جن کے بغیر دین و دنیا دونوں تباہی کی طرف جاتے ہیں۔

اگر علماء نہ ہوتے تو دین، دنیا اور آخرت کے نظام پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے۔

### 1. **خالق کے حقوق کی پامالی**  
1. **توحید کا انکار**: علماء کی عدم موجودگی میں توحید کا صحیح تصور معدوم ہو جاتا، جیسا کہ سورۃ الانبیاء:22 میں ارشاد ہے: *"اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو دونوں فاسد ہو جاتے"* ۔  
2. **عبادات کا خاتمہ**: نماز، روزہ، زکٰوۃ اور حج جیسی فرائض بے ساختہ ہو جاتے، جیسا کہ اندلس کے زوال کے بعد دیکھا گیا ۔  
3. **قرآن کی تحریف**: تفسیر کے بغیر قرآن کا مفہوم مسخ ہو جاتا، جیسا کہ معتزلہ کے دور میں "خلق قرآن" کے فتنے میں ہوا ۔  
4. **شرک کی عامی**: مخلوقات کو خالق سمجھ لیا جاتا، جیسا کہ سورۃ ابراہیم:35-41 میں بت پرستی کی مذمت کی گئی ہے ۔  
5. **دعا و عبادت میں بدعات**: غار حرا کی خلوت اور خدمت خلق کا توازن قائم نہ رہتا، جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ثابت ہے ۔  

### 2. **مخلوق کے حقوق کی پامالی**  
6. **انسانی حقوق کا انہدام**: زندگی، سوچ اور مساوات کے حقوق ضائع ہو جاتے، جیسا کہ سورۃ المائدہ:32 میں *"جس نے ایک انسان کو بغیر حق کے قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا"* ۔  
7. **ظلم کی عامی**: یتیموں، بیواؤں اور مسکینوں کی کوئی پرسانِ حال نہ ہوتی، جیسا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت خلق کو ان کی نبوت کی دلیل بتایا ۔  
8. **معاشی استحصال**: سود (ربا) کا نظام عام ہو جاتا، جیسا کہ موجودہ سیکولر معاشروں میں دیکھا جا سکتا ہے ۔  
9. **اخلاقی زوال**: زنا، شراب اور فحاشی معاشرے میں پھیل جاتی، جیسا کہ سورۃ الاسراء:32 میں ان ممنوعات کی واضح مذمت ہے ۔  
10. **انصاف کا فقدان**: شرعی عدالتیں قائم نہ ہوتیں، جیسا کہ سلطان محمود غزنوی کے دور میں علماء ہی قضا کے منصب پر فائز تھے ۔  

### 3. **دین کے نظام پر اثرات**  
11. **اجتہاد کا دروازہ بند**: فقہی مکاتب فکر (حنفی، شافعی وغیرہ) وجود نہ پاتے، جیسا کہ امام شاطبی کے "الموافقات" میں اجتہاد کے اصول بیان ہوئے ہیں ۔  
12. **حدیث کی ضیاع**: صحیح اور ضعیف احادیث کی تمیز نہ ہوتی، جیسا کہ امام بخاری نے 16 سال میں 6 لاکھ احادیث میں سے صحیح بخاری مرتب کی ۔  
13. **عقیدہ کی خرابی**: تقدیر، قبر، حشر اور آخرت جیسے بنیادی عقائد میں گمراہی پھیلتی، جیسا کہ سورۃ الزلزال:7-8 میں *"ذرہ برابر نیکی یا بدی کا حساب"* ۔  
14. **تبلیغ کا خاتمہ**: شاہ ولی اللہ دہلوی جیسے مصلحین کے بغیر ہندوستان میں دین کی تجدید نہ ہوتی ۔  
15. **تزکیہ نفس کا فقدان**: امام جنید بغدادی جیسے صوفیا کے بغیر نفسیاتی تربیت ناممکن ہوتی ۔  

### 4. **دنیاوی زندگی پر اثرات**  
16. **تعلیمی انحطاط**: جامعہ الزیتونہ، قرویین جیسے ادارے قائم نہ ہوتے، جو قرونِ وسطیٰ میں سائنس کے مراکز تھے ۔  
17. **سائنس و دین کا انقطاع**: ابن الہیثم، البیرونی جیسے سائنسدان علماء ہی تھے جنہوں نے قرآن و سائنس کو جوڑا ۔  
18. **سیاسی عدم استحکام**: خلافت راشدہ کا نظام علماء کی نگرانی میں قائم تھا، جس کے بغیر ظلم کی حکومتیں قائم ہوتیں ۔  
19. **معاشرتی بے راہ روی**: نکاح، طلاق اور وراثت کے شرعی قوانین ضائع ہو جاتے، جیسا کہ سورۃ النساء:11-12 میں تفصیل سے بیان ہوا ۔  
20. **ثقافتی زوال**: اسلامی تہذیب (جیسے اندلس) علماء ہی کے سبب زندہ رہی ۔  

### 5. **آخرت کے بارے میں غفلت**  
21. **موت کے بعد کی زندگی کا انکار**: سورۃ الملک:2 میں *"موت و حیات کی تخلیق کا مقصد آزمائش ہے"*، لیکن علماء کے بغیر لوگ اسے بھول جاتے ۔  
22. **جزا و سزا کا تصور معدوم**: قیامت، حشر اور میزان کے عقائد ضائع ہو جاتے، جیسا کہ سورۃ الزلزال:7-8 میں واضح کیا گیا ۔  
23. **اعمال کا ریکارڈ**: نیک و بد اعمال کا محاسبہ علماء ہی سکھاتے ہیں، جیسا کہ حدیث: *"میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں: مال، اہل وعیال اور عمل۔ صرف عمل ساتھ رہتا ہے"* ۔  
24. **جنت و جہنم کا انکار**: *"دنیا آخرت کی کھیتی ہے"* (حدیث) کا تصور ختم ہو جاتا ۔  
25. **توبہ و استغفار کا خاتمہ**: گناہوں کی معافی کا دروازہ بند ہو جاتا، جیسا کہ سورۃ الزمر:53 میں *"اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دے گا"* ۔  

### 6. **تاریخی شواہد**  
26. **منگول یلغار (1258ء)**: بغداد کے علماء کے قتل کے بعد دینی علوم کا زوال شروع ہوا ۔  
27. **اندلس کا زوال (1492ء)**: علماء کی کمی سے اسلامی تہذیب دم توڑ گئی ۔  
28. **سلطنت عثمانیہ کا انحطاط**: علماء کی کمزوری سے خلافت کا نظام تباہ ہوا ۔  
29. **ایران میں صفوی دور**: علماء کی طاقت نے شیعہ اسلام کو زندہ رکھا ۔  
30. **موجودہ سیکولرزم**: علماء کے کمزور کردار سے دین سے دوری بڑھی ۔  

### 7. **عقلی دلائل**  
31. **علم کی وراثت**: حدیث: *"علماء انبیاء کے وارث ہیں"* (ابو داود) کے بغیر وراثت نبوت ختم ہوتی ۔  
32. **تشریعی ضرورت**: قرآن کا حکم: *"لوگوں کی ایک جماعت دین کی سمجھ حاصل کرنے کے لیے کیوں نہ نکلے؟"* (التوبہ:122) پورا نہ ہوتا ۔  
33. **اخلاقی رہنمائی کا فقدان**: امام غزالی کی "احیاء علوم الدین" جیسی کتب کے بغیر اخلاقیات کا نظام قائم نہ رہتا ۔  
34. **اجتماعی امور کی نگرانی**: زکٰوۃ، جہاد اور قضا جیسے فرائض کی انجام دہی ناممکن ہوتی ۔  
35. **انسانی فطرت کی رہنمائی**: سورۃ الروم:30 میں *"فطرتِ الہٰیہ پر قائم رہو"* کا حکم علماء ہی سمجھاتے ۔  

### 8. **نقلی دلائل**  
36. **قرآنی حکم**: *"اہلِ ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے"* (النحل:43) ۔  
37. **حدیث کی تصریح**: *"اللہ علم کو لوگوں کے سینوں سے نہیں اکھاڑتا بلکہ علماء کو اٹھا لیتا ہے"* (بخاری) ۔  
38. **ائمہ کا قول**: امام مالک: *"اس امت کا آخری حصہ صرف اسی چیز سے درست ہوگا جس سے پہلا حصہ درست ہوا"* ۔  
39. **ابن تیمیہ کا فتویٰ**: *"جو یہ سمجھے کہ علماء کے بغیر کام چل سکتا ہے، وہ گمراہ ہے"* (مجموع الفتاویٰ) ۔  
40. **تفسیر طبری**: *"قرآن کو وہی سمجھ سکتا ہے جس سے مخاطب ہوا"* ۔  

### 9. **آخرت کے نتائج**  
41. **قیامت میں جواب دہی**: انبیاء کا سوال *"تم نے میری کتاب کو کیسے محفوظ رکھا؟"* کا جواب دینے والا کوئی نہ ہوتا ۔  
42. **علم چھپانے کی سزا**: حدیث: *"جس نے علم چھپایا، اللہ اسے آگ کی لگام پہنائے گا"* (ابو داود) ۔  
43. **عذابِ قبر سے بے خبری**: قبر کے سوالات (من ربک؟ ما دینک؟) کا صحیح جواب دینے والا کوئی نہ ہوتا ۔  
44. **عمل صالح کی کمی**: حدیث: *"عمل ہی انسان کا ساتھی ہے"* ۔  
45. **شفاعت کا انکار**: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا تصور علماء ہی سکھاتے ہیں ۔  

### 10. **تکمیلی نکات**  
46. **دین کی حفاظت**: علماء قرآن و سنت کے محافظ ہیں، جیسا کہ سورۃ الحجر:9 میں اللہ نے قرآن کی حفاظت کا وعدہ کیا ۔  
47. **معاشرتی توازن**: حقوق اللہ اور حقوق العباد کا توازن علماء ہی قائم کرتے ہیں ۔  
48. **روحانی رہنمائی**: تزکیہ نفس اور تصوف کا سلسلہ علماء ہی چلاتے ہیں ۔  
49. **جدید چیلنجز کا حل**: IVF، کلوننگ، اسلامی بینکاری جیسے مسائل کا شرعی حل علماء ہی دیتے ہیں ۔  
50. **امت کی وحدت**: اختلافات میں علماء ہی امت کو متحد رکھتے ہیں ۔  



### **خلاصہ**  
علماء دین کے ستون، امت کے محافظ اور خالق و مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں۔ ان کے بغیر:  
- توحید و سنت کی حفاظت ناممکن ہے۔  
- معاشرے میں اخلاقی و معاشی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔  
- آخرت کے تصورات ضائع ہو جاتے ہیں۔  
- تاریخی شواہد (جیسے اندلس و بغداد) اس بات کے گواہ ہیں کہ علماء کی غیر موجودگی میں تہذیبیں تباہ ہو جاتی ہیں۔  
اللہ تعالیٰ کا ارشاد: *"اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجے بلند فرماتا ہے"* (المجادلہ:11) ۔ 

***************************

علما و صلحا کی مجالس
حضرت حسن بصری رحمہ الله تعالی فرمایا کرتے تھے : علماء وصلحاء کی مجالس کے علاوہ ساری دنیا میں تاریکی ہی تاریکی ہے۔
( جامع بیان العلم وفضلہ، ابن عبدالبر:51/1)

سہل بن عبدالله تستری فرماتے ہیں : جو انبیا کی مجالس کا منظر دیکھنا چاہتا ہو وہ علما کی مجالس کو دیکھ لے۔ ( مفتاح دارالسعادة ابن القیم :129)

اکابر ائمہ صلحاء کی مجالس کا اثر
مقتدیٰ وصاحب سیرت ذات کو دیکھنے میں اس سے نصیحت کے سننے میں زیادہ اثر پذیری ہے اور دیکھنے والے میں اس کے اثرات دیر تک باقی رہتے ہیں ، نبی کریم ﷺ سے صحابہ کرام نے اس زیارت کا بہت حصہ حاصل کیا او راس سے بھر پور مستفید ہوئے ،کیوں کہ صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین آپ کی صحبت میں بیٹھتے، آپ کی زیارت سے محظوظ ہوتے اور آپ کا قرب تلاش کرتے تھے اس لیے وہ حضرات امت کا بہترین وافضل ترین عنصر کہلائے، جس کو نبی کریم علیہ الصلوات والسلام کے بعد لوگوں کو راہ نمائی وہدایت کے لیے منتخب کیا گیا۔

نیک وقابل اقتداء شخصیت کی زیارت الله تعالیٰ کی یاد دلاتی ہے کہ ان پر انوار وتحلیات کی ضیا پاشیاں، انس واطمینان، محبت وسکینت کی جھلکیاں، ان کی چال ڈھال، عاجزی، بول چال، خاموشی وفکر مندی، حرکت وسکون اورتمام احوال میں برستی نظر آتی ہیں تو ہر دیکھنے والے کی نظر اس منظر سے اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہے اور یہ اس کے لیے ” مذکر“ ( یاد دلانے والی ) ہوتی ہے اوران لوگوں کی شکل وصورت توجہ الی الله کی وجہ سے نظروں کو الله تعالیٰ کی طرف پھیر دیتی ہے” یہی وہ لوگ ہیں جن کے دیکھنے سے اللہ یاد آتا ہے۔“

اہل الله کی مجالس میں بیٹھنے والوں میں خیر کیسے سرایت کرتی ہے؟
حکیم ترمذی رحمہ الله تعالیٰ”نوادر الاصول صفحہ140“ میں آپ ﷺ کے فرمان ”من ذکَّرکم بالله رؤیتُہ“ (جس کا دیدار تمہارے اندر الله تعالیٰ کی یاد تازہ کر دے) کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ”یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ظاہر وباہر ہیں ۔ ان سے قرب خداوندی کی رونق، عظمت ایزدی کا نور، کبریائی کا رعب ودبدبہ، وقار وسکینت کی انسیت ٹپکتی ہے، ان پر ملکوتیت کے آثار کے ظہور کی وجہ سے ان کو دیکھ کر الله تعالیٰ کی یاد ستاتی ہے۔

انسانی دل ان تمام صفات کا مخزن اور نور کا مستقر ہے، چہرہ بھی دل ہی کے رنگ سے رنگ جاتا ہے تو جب دل پر وعدہ وعید والے بادشاہ کا نور غالب ہو گا تو یہی نور چہرے سے ظاہر ہو گا، جب انسان کی نظر اس چہرہ پر پڑے گی ، نیکی وتقوی کو ابھارے گی، پھر اس سے الله تعالیٰ کے اوامر کے علم اور صلاح کی ہیبت دل میں جاگزیں ہو گی۔

دل میں جب حق تعالیٰ کی ہیبت کا نور ہو گا تو یہ چہرہ کو متاثر کرے گا، پھر جب تمہاری نظر اس چہرے پر پڑے گی تو تمہیں صدق وحق کی یاد دلائے گی، تم پر حق واستقامت کی ہیبت چھا جائے گی، (اسی طرح) جب الله جل شانہ کی عظمت وہیبت وبادشاہت کا نور دل میں ضو فشاں ہو گا تو یہ چہرے تک سرایت کرے گا، پھر جب اس چہرے سے نظریں دو چار ہوں گی تو الله جل جلالہ کی شان وشوکت ورُعب کی یاد دلائے گی ، ( اسی طرح) دل میں الله تعالیٰ کا نور ( جاگزیں) ہو گا، جو کہ منبع انوار ہے، تو ایسے انسان کا دیدار تمہیں عیوب ونقائص اور الله تعالیٰ کے حکموں کی خلاف ورزی سے مانع ہو گا، اس لیے کہ دل کی شان یہ ہے کہ اس سے چہرے کے سوتوں کو سیراب او راس کو تروتازہ زندگی کے پانی سے معطر کر دے گا اور چہرہ تک صرف وہی چیز سرایت کرے گی جو دل میں ہو گی ، پھر ان انوارات میں سے جو نور دل میں ہو گا وہی چہرے سے عیاں ہو گا، الله تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ ولقّٰھم نضرة وسروراً﴾․ (سورة الانسان)

”اور عنایت کردی ان کو ( چہرے کی ) تازگی اور ( دل کی ) خوشی۔“

پھرجب بندے کا دل الله تعالیٰ کی رضا او راس سے چمکنے والے نور کی وجہ سے خوش ہو گا تو چہرہ دلی رضا مندی کی وجہ سے ( چمک دار ) تروتازہ ہو گا۔ اسی کو آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کی رؤیت سے یاد خدا وندی پیدا ہوتی ہے اور آپ نے اس کو ولایت کی نشانی او رعلامت بتلایا ہے “۔ ( فیض القدیر مناوی:467/2)

شیخ ابو غدہؒ فرماتے ہیں : سلف صالحین واکابر میں یہ وصف بہت زیادہ تھا، لوگ محض ان کی زیارت سے استفادہ کے لیے حاضر ہوتے، کیوں کہ محض ان کی زیارت ہی دلوں کو جگ مگا دیتی اور دل میں اصلاح کا داعیہ پیدا کر دیتی، دین کو محبوب بنا دیتی اور الله تعالیٰ کی یاد دلاتی تھی۔

علما کی مجالس میں جاتے وقت نیت کیا ہو؟
امام ابن الجوزی اپنی کتاب”صید الخاطر303/2“ پر فرماتے ہیں :” سلف صالحین کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی نیک بندے کے پاس اس کی راہ نمائی وتوجہ کے حصول کے لیے جاتی تھی ، علم حاصل کرنا ان کا مقصد نہ ہوتا، کیوں کہ ان کی رشد وہدایت اور کسی جہت پر گامزن ہونا ان کے علم کا ہی ثمر ونتیجہ ہوتا۔ 


ابو طالب مکی” قوت القلوب“ میں فرماتے ہیں : ”وہ حضرات شہروں کا رخ صرف عُلَماء وصلحاء کی ملاقات وزیارت ان سے برکت کے حصول کے لیے کرتے اوران سے ادب سیکھنے جاتے تھے۔






راہبروں کے روپ میں راہزن


آنحضرت ﷺ نے بارگاہِ الٰہی سے اطلاع پاکر قیامت تک پیش آنے والے حالات و واقعات کی امت کو اطلاع دے دی ہے اور انہیں ممکنہ خطرات و اندیشوں سے آگاہ فرمادیا ہے۔ اسی طرح قربِ قیامت میں جو جو فتنے ظہور پذیر ہوں گے یا جن جن طریقوں سے امت کو گمراہ کیا جاسکتا تھا، آپ ﷺ نے ان کی پیشگی اطلاع دے کر امت کو ان سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ چنانچہ اہل علم اور عُلَماء جانتے ہیں کہ احادیث کی تمام متداول کتب میں حضرات محدثینؒ نے ”ابواب الفتن“ یا ”کتاب الفتن“ کا عنوان قائم کرکے ایسی تمام احادیث اور روایات کو یکجا کردیا ہے۔
یوں تو قربِ قیامت میں بہت سے فتنے اٹھیں گے، مگر ان میں جو سب سے بڑا فتنہ، دجال کا فتنہ ہوگا۔ جو انسانیت کو اپنی شعبدہ بازیوں سے گمراہ کرے گا۔
دجالِ اکبر تو ایک ہوگا، جس کو حضرت عیسیٰؑ آسمان سے نازل ہوکر مقام ”لُدّ“ میں قتل کریں گے، مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے جو امت کو گمراہ کرنے میں دجالِ اکبر کی نمائندگی کی خدمت انجام دیں گے۔
اسی لئے آنحضرت ﷺ نے امت کو اس بات کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ وہ ایسے ایمان کُش راہ زنوں اور دجالوں سے ہوشیار رہے، کیونکہ قرب قیامت میں شیاطین انسانوں کی شکل میں آکر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ اس کامیابی سے اپنی تحریک کو اٹھائیں گے کہ کسی کو ان کے شیطان، دجال یا جھوٹے ہونے کا وہم و گمان بھی نہ گزرے گا۔
چنانچہ علامہ علأ الدین علی متقیؒ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "کنزالعمال" میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ان انسان نما شیاطین کے دجل و اضلال ،فتنہ پروری کی سازشوں اور دجالی طریقہ کار کا تذکرہ کرتے ہوئے نقل فرمایا ہے کہ:
”انظروا من تجالسون وعمن تأخذون دينكم فإن الشياطين يتصورون في آخر الزمان في صور الرجال فيقولون: حدثنا وأخبرنا، وإذا جلستم إلى رجل فاسألوه عن اسمه وأبيه وعشيرته فتفقدونه إذا غاب.“
(تاریخ مستدرک حاکم، مسند فردوس، لامام الدیلمی:1/107، رقم الحدیث#35، کنزالعمال، جلد:10،صفحہ:214، رقم الحدیث#29131، جامع الاحادیث، لامام سیوطی: رقم الحدیث#5862)
ترجمہ: ۔”حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ․․․ تم لوگ یہ دیکھ لیا کرو کہ کن لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہو؟ اور کن لوگوں سے دین حاصل کررہے ہو؟ کیونکہ آخری زمانہ میں شیاطین انسانوں کی شکل اختیار کرکے ․․․انسانوں کو گمراہ کرنے․․․ آئیں گے․․․ اور اپنی جھوٹی باتوں کو سچا باور کرانے کے لئے من گھڑت سندیں بیان کرکے محدثین کی طرز پر․․․کہیں گے حدثنا واخبرنا․․․․مجھے فلاں نے بیان کیا، مجھے فلاں نے خبر دی وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا جب تم کسی آدمی کے پاس دین سیکھنے کے لئے بیٹھا کرو، تو اس سے اس کا، اس کے باپ کا اور اس کے قبیلہ کا نام پوچھ لیا کرو، اس لئے کہ جب وہ غائب ہوجائے گا تو تم اس کو تلاش کروگے۔“
قطع نظر اس روایت کی سند کے، اس کا نفس مضمون صحیح ہے۔ جیسا کہ امام مسلمؒ نے اپنی صحیح مسلم (حدیث:7) کے مقدمہ کے باب: ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل (یاد رکھنے) میں احتیاط کے بیان میں تین روایات لائے ہیں:
(1) حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ»
آخری زمانہ میں ایسےدجل وفریب دینے والے اور جھوٹے لوگ ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی حدیثیں لائیں گے جنہیں نہ تم نے سنا ہوگا اور نہ تمہارے باپوں نے سنا ہوگا لہٰذا ان سے بچو اور ان کو اپنے آپ سے بچاؤ تاکہ وہ تمہیں نہ گمراہ کریں اور نہ فتنہ میں ڈالیں۔ 
[صحیح مسلم:7-9، مسند أحمد:8267+8596، شرح مشكل الآثار:2954، کنز العمال:29024، جامع الاحادیث:27046]
(2) وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ لِيَتَمَثَّلُ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ، فَيَأْتِي الْقَوْمَ، فَيُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مِنَ الْكَذِبِ، فَيَتَفَرَّقُونَ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَجُلًا أَعْرِفُ وَجْهَهُ، وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ يُحَدِّثُ "
ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، مسیب بن رافع، عامر بن عبدہ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ شیطان انسانی شکل وصورت میں قوم کے پاس آکر ان سے کوئی جھوٹی بات کہہ دیتا ہے لوگ منتشر ہوتے ہیں ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے کہ میں نے ایسے آدمی سے سنا یہ بات سنی ہے جس کی شکل سے واقف ہوں لیکن اس کا نام نہیں جانتا۔
(3) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: «إِنَّ فِي الْبَحْرِ شَيَاطِينَ مَسْجُونَةً، أَوْثَقَهَا سُلَيْمَانُ، يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ، فَتَقْرَأَ عَلَى النَّاسِ قُرْآنًا»
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس، طاؤس، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ فرماتے ہیں کہ سمندر میں بہت سے شیاطیں گرفتار ہیں جن کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے گرفتار کیا ہے قریب ہے کہ ان میں سے کوئی شیطان نکل آئے اور لوگوں کے سامنے قرآن پڑھے۔



 بہرحال ان روایات میں چند اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے، مثلاً:
۱:… مسلمانوں کو ہر ایرے غیرے اور مجہول انسان کے حلقہ درس میں نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ کسی سے علمی استفادہ کرنے سے قبل اس کی تحقیق کرلینا ضروری ہے کہ یہ آدمی کون ہے؟کیسا ہے؟ کس خاندان اور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے، اس کے اساتذہ کون سے ہیں؟ کس درس گاہ سے اس نے علم حاصل کیا ہے؟ اس کا علم خودرو اور ذاتی مطالعہ کی پیداوار تو نہیں؟ کسی گمراہ، بے دین، ملحد اور مستشرق اساتذہ کا شاگرد تو نہیں؟
۲:… اس شخص کے اعمال و اخلاق کیسے ہیں؟ اس کے ذاتی اور نجی معاملات کیسے ہیں؟ خاندانی پس منظر کیا ہے؟ نیز یہ شعبدہ باز یا دین کے نام پر دنیا کمانے والا تو نہیں؟
۳:… اس کا سلسلہ سند کیا ہے؟ یہ جھوٹا اور مکار تو نہیں؟ یہ جھوٹی اور من گھڑت سندیں تو بیان نہیں کرتا؟ کیونکہ محض سندیں (راویوں کا سلسلہ) نقل کرنے اور ”اخبرنا“ و” حدثنا“ کہنے سے کوئی آدمی صحیح عالم ربانی نہیں کہلاسکتا، اس لئے کہ بعض اوقات مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کافر و ملحد بھی اس طرح کی اصطلاحات استعمال کیا کرتے ہیں۔
لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ہر مقرر و مدرس ،واعظ یا ”وسیع معلومات“ رکھنے والے کتابی ”اسکالر“وڈاکٹر کی بات پر کان دھریں بلکہ اس کے بارہ میں پہلے مکمل تحقیق کرلیا کریں کہ یہ صاحب کون ہیں؟ اور ان کے علم و تحقیق کا حدود اربعہ کیا ہے؟ کہیں یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ اور ان سے ائمہ کے سلسلہ وار قابلِ اعتماد واسطوں (سندوں) سے حاصل شدہ اصلی تعلیماتِ دین کا مخالف یعنی منکرِ حدیث وسنت، منکرِ اجماعِ صحابہ، منکرِ معجزاتِ اولیاء، منکرِ ختمِ نبوت یا ان کا چیلہ چانٹا تو نہیں؟ چنانچہ ہمارے دور میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ریڈیو، ٹی وی یا عام اجتماعات میں ایسے لوگوں کو پذیرائی حاصل ہوجاتی ہے جو اپنی چرب زبانی اور ”وسعتِ معلومات“ اور تُک بندی کی بنا پر مجمع کو مسحور کرلیتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ ان کے عقیدت مند ہوجاتے ہیں، ان کے بیانات، دروس اور لیکچرز کا اہتمام کرتے ہیں، ان کی آڈیو، ویڈیو کیسٹیں، سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بنا بناکر دوسروں تک پہنچاتے ہیں، جب ان بے دینوں کا حلقہ بڑھ جاتا ہے اور ان کی شہرت آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے تو وہ کھل کر اپنے کفر وضلال اور باطل و گمراہ کن نظریات کا پرچار شروع کردیتے ہیں، تب عقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو بےدین، ملحد، بلکہ زندیق اور دھریہ تھا اور ہم نے اس کے باطل و گمراہ کن عقائد و نظریات کی اشاعت و ترویج میں اس کا ساتھ دیا اور جتنا لوگ اس کے دام تزویر میں پھنس کر گمراہ ہوئے ہیں، افسوس ! کہ ان کے گمراہ کرنے میں ہمارا مال و دولت اور محنت و مساعی استعمال ہوئی ہے۔ اس روایت میں یہی بتلایا گیا ہے کہ بعد کے پچھتاوے سے پہلے اس کی تحقیق کرلی جائے کہ ہم جس سے علم اور دین سیکھ رہے ہیں یہ انسان ہے یاشیطان؟مسلمان ہے یاملحد؟موٴمن ہے یامرتد؟ تاکہ خود بھی اور دوسرے بھی ایسے شیاطین کی گمراہی سے بچ سکیں۔





حاملین علم کا مقام اور ذمہ داریاں

احادیث مبارکہ کی روشنی میں


جہاں جہاں نظر آئیں تمہیں لہو کے چراغ
مسا  فر  ا  ن   محبت   ہمیں    د عا    د ینا
ہرہوش مند مسلمان کو اس بات کا علم ہے کہ ایمان قبول کرلینے کے بعد سب سے اہم چیز ”علم دین“ ہے۔ کیونکہ جو چیزیں ایمان میں مطلوب ومقصود ہیں، کہ جن پر عمل کرنے سے ایمان میں کمال آتا ہے، اور جن پر دین کی اشاعت و حفاظت کا مدار ہے، وہ چزیں دین کے علم کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے کتاب الایمان کے معاً بعد، علم سے متعلق احادیث کو جمع فرمایا ہے، اور انہی کی پیروی کرتے ہوئے ”صاحب مشکوٰة“ علامہ بغوی نے بھی اپنی تالیف ”مشکوٰة“ شریف میں کتاب الایمان کے بعد ”کتاب العلم“ کو جگہ دی ہے۔
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک علم دین بہت ہی افضل شیٴ ہے لہٰذا ”صاحب علم“ کا بھی مخصوص ترین مقام ہے قرآن پاک میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”ہَلْ یَسْتوی الذینَ یَعْلَمُون والذین لا یعلمون“ یعنی جاہل آدمی خواہ کتنے ہی بڑے منصب پر فائز ہوجائے، کتنی ہی زیادہ عبادت و ریاضت کرلے؛ لیکن وہ صاحب علم کے مقام کو پالے یہ ناممکن اور محال بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عالم دین کی عزت و توقیر کے لئے نیز اس کے حق میں دعاء مغفرت کرنے کیلئے ساری کائنات کو لگارکھا ہے، اسی کے ساتھ میدان محشر میں اس کو ایسے انعامات سے سرفراز کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، جن کو سن کر فرشتے تک رشک کرتے ہیں؛ لیکن جس طرح اہل علم کا بلند و بالا مقام و مرتبہ ہے، اسی طرح ان کی ذمہ داریاں بھی بہت نازک ہیں، جس طرح ان کے چھوٹے چھوٹے کاموں پر بے شمار بشارتیں ہیں۔ اسی طرح مفوضہ ذمہ دار سے کنارہ کشی کی صورت میں، ان کے لئے سخت ترین وعیدیں بھی ہیں، ایسی صورت میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عُلَماء کرام اس دنیا کے اندر قابل رشک بن کر رہتے، لیکن آج اہل علم کا ایک بہت بڑا طبقہ اپنے مقام و مرتبہ کو فراموش کرکے، اپنی فضیلتوں و عظمتوں کو نظر انداز کرکے، نیز کوتاہیوں کی صورت میں وارد شدہ وعیدوں اور دھمکیوں سے تغافل برت کر، ان کاموں میں لگا ہوا ہے جن سے پورے طبقہٴ عُلَماء کی جگ ہنسائی ہورہی ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ بے مصرف اور بے فیض چیز سمجھی جارہی ہے تو یہ اہل علم کی جماعت ہے، حالانکہ اس جماعت کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں لاجواب زندگی گزارنے کا، ایسا بہترین نسخہ بتایا تھا، جس پر یہ حضرات عمل کرتے تو ساری کائنات ان کے قدموں میں جھک جاتی، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماعت کو اہل دنیا کے سامنے کاسہ گدائی لیکر پھرنے والا راستہ نہیں بتایا تھا، بلکہ ان کو سرداروں اور سربراہوں کی طرح جینے کا سلیقہ عطاء فرمایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زندگی گزاری، دنیا والوں نے ان کو اپنے سروں پر بٹھایا، اور آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی جولوگ استقامت کے ساتھ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے ہیں دنیا ان کے سامنے ذلیل ہوکر آرہی ہے۔ اور یہ دنیا کو اپنی ٹھوکروں سے مار رہے ہیں۔ زیر نظر مقالہ میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے چند فرامین کو جمع کیاگیا ہے، مقصد یہ ہے کہ جو شخص بھی علم کی کسی طور پر بھی خدمت کررہا ہے اس کو اپنے مقام و مرتبہ اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو اور وہ آقا کے فرمان کے مطابق اپنی زندگی ڈھال کر اپنا کھویا مقام حاصل کرسکے اور دنیا و آخرت کی تمام کامیابیوں کو اپنا مقدّر بنالے۔
حصول علم میں مشغول رہنے والے کیلئے بشارت
طالب علم ہو، عالم دین ہو، یا ان کے علاوہ دینی مشغلہ رکھنے والا کوئی بھی شخص ہو، اگر وہ علم دین کے حصول اور اس کی اشاعت میں لگا ہوا ہے تواس کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار بشارتیں ہیں، ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا: ”لَنْ یَشْبَعُ الْمُوٴمِنُ مِن خَیْرٍ سَمِعَہُ حَتّٰی یکونَ مُنْتَہَاہُ الجنَّةَ“ مومن کا پیٹ خیر کی بات سننے سے کبھی نہیں بھرتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی ساری زندگی طلب علم میں لگادی، اس کو جنت کی بشارت ہے۔ اس حدیث کے پیش نظر بہت سے اولیاء کرام ساری زندگی طالب علم ہی بنے رہے، حدیث میں طلب علم کی کوئی خاص شکل متعین نہیں ہے؛ لہٰذا جو شخص بھی مرتے وقت تک کسی طرح کے بھی علمی کام میں مشغول ہے، وہ اس بشارت کا مستحق ہے۔
ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”جو شخص طلب علم کیلئے نکلا تو وہ جب تک واپس نہ آجائے اللہ کی راہ میں لڑنے والے مجاہد کی طرح ہے؛ کیونکہ جس طرح مجاہد، اللہ کے دین کو زندہ کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیتا ہے، اسی طرح طالب علم بھی احیاء دین کے مقصد سے اپنا سب کچھ قربان کرتا ہے؛ لہٰذا فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق طالب علم گھر واپس آنے تک مجاہد کے مانند ہے، یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ طلب علم کے بعد گھر لوٹنے سے طالب علم کے مرتبہ میں کمی نہیں آتی؛ بلکہ اس کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہوتا ہے؛ کیونکہ حصول علم کے بعد اب وہ عالم دین ہوگیا، اور عالم دین ہونے کی وجہ سے وہ انبیاء کا وارث بن گیا۔(۲) طلب علم کا اس قدر فائدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کفَّارَةً لِمَا قَضٰی“(۳) یعنی طلب علم کی وجہ سے ماضی میں کئے ہوئے گناہ معاف ہوجاتے ہیں گناہوں سے یا تو صغیرہ گناہ مراد ہیں، یا پھر یہ مطلب ہے کہ طلب علم کے ذریعہ سے توبہ کی توفیق ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں سارے گناہ زائل ہوجاتے ہیں معلوم ہوا کہ طلب علم کے نتیجہ میں جنت کی بشارت بھی ہے، مجاہدوں جیسا ثواب بھی ہے اور ماضی میں کئے ہوئے گناہوں کی بخشش کا پروانہ بھی ہے۔
دین میں بصیرت بڑی خوش نصیبی کی بات ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، جن کی سچائی اور راست گوئی کی دوست و دشمن ہر شخص نے تصدیق کی اور جن کی ہر بات کے واقع کے مطابق ہونے کا یقین ہر مسلمان کے عقیدہ کا جز ہے، انھوں نے فرمایا: ”مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِیْ الدِّیْن“(۴) اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں، اس کو دین کی بصیرت عطا فرماتے ہیں، اس حدیث سے نہ صرف تفقہ فی الدین کی عظمت معلوم ہوئی؛ بلکہ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ یہ ایسا کمال ہے جو اللہ تعالیٰ ہر کس و ناکس کو نہیں عطا فرماتے، لہٰذا جس کو دین کی بصیرت حاصل ہوجائے اس کو اپنے آپ کو نہایت خوش نصیب سمجھنا چاہیے اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتے رہنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بشارت کی بناء پر پورے اطمینان سے یہ بات کہی جاسکتی ہے، ایسے تو کوئی انسان یہ نہیں بتاسکتا کہ خدا وند قدوس کااس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا، لیکن فقیہ اس حدیث کے پیش نظر یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ خیر کا ارادہ ہے کیونکہ ”تفقہ فی الدین“ عطاء ہونا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ نے میرے لئے خیر کا ارادہ فرمارکھا ہے؛ لیکن اس بشارت کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت حسن بصری کی صراحت کے مطابق ”فقیہ“ وہ ہے جو دنیا سے کنارہ کش ہوکر فکر آخرت میں لگا رہتا ہو، ہمیشہ دینی معاملات اس کے مدّنظر رہتے ہوں اور اپنے رب کی اطاعت میں مشغول رہتا ہو۔(۵) جب کوئی اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرلے اس کے بعد ہی اس کو اپنے آپ کو اس بشارت کا مستحق سمجھنے کا حق ہے۔
علم سے خوبیوں میں جلا پیدا ہوتا ہے
کون ایسا انسان ہوگا جس میں کوئی نہ کوئی خوبی اور اچھائی نہ ہو۔ ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ اچھائیاں ضرور ہوتی ہیں۔ اگرکوئی شخص اپنی خوبیوں میں نکھار پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کو علم دین حاصل کرنا چاہئے۔ علم دین سے خوبیوں میں جلا پیدا ہوتا ہے ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خِیارُہُمْ فِیْ الجاہِلِیّةِ خِیَارُہُمْ فی الاِسْلاَمِ اذَا فَقِہُوْا(۶) یعنی جولوگ حالت کفر میں معزز سمجھے جاتے تھے، اگر وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی معاشرہ میں بھی ان کو عزت و توقیر ملے تو ان کیلئے سب سے مفید نسخہ یہ ہے کہ وہ ”احکام شرعیہ“ کے عالم ہوجائیں، احکام شرعیہ کے علم سے زمانہ جاہلیت کی خوبیوں میں نکھار آجائے گا اوروہ کام کی بن جائیں گی۔ اِس حدیث میں ہر مسلمان کے لئے یہ درس ہے کہ ایک مسلمان کی عزت و عظمت اوراس کی سربلندی کا راز نہ مال و دولت میں ہے نہ حسب و نسب میں؛ بلکہ اس کی خیریت و عافیت اور اس کی ترقی کا انحصار احکام شرعیہ کے علم اوراس کے مطابق عمل کرنے میں ہے۔
علم دین قابل رشک چیز ہے
علم دین بہت بڑی نعمت ہے، لہٰذا اس کے حاصل ہونے پر جتنا بھی رشک کیا جائے کم ہے ایک موقعہ پر سرورکائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوطرح کے لوگ ہی رشک کے قابل ہیں ایک شخص تو وہ ہے جو مال پاکر اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور دوسرے شخص کے بارے میں آپ نے فرمایا: ”وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الحِکْمَةَ فَہُوَ یَقْضِیَ بِہَا“(۷) دوسرا شخص وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دین کا علم عطا فرمایا اور وہ اس علم کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اوراس علم کو لوگوں کو سکھاتا بھی ہو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دین عطا فرمایا اوراس نے دین کے سکھانے اوراس کے مطابق فیصلہ کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا تو یہ قابل رشک آدمی ہے لوگوں کو اس کے نصیب کی بلندی اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے مقام و مرتبہ کی رفعت پر جتنا رشک ہو کم ہے۔
عُلَماء ہی بقائے علم کا سبب ہیں
یہ عُلَماء ہی کا مقام و مرتبہ ہے کہ ان کے دم سے علم کا وجود ہے جب اللہ تعالیٰ اس دنیا سے عُلَماء کو اٹھالیں گے تو علم بھی اٹھ جائے گا اور علم کے اٹھ جانے کے سبب ہر جانب تاریکی پھیل جائے گی کوئی صحیح راہ دکھانے والا نہ ہوگا ہر شخص گمراہی کے عمیق غار میں سرتاپیر غرق ہوگا، جہلاء علماء کی جگہ بیٹھ کر ایسی ایسی باتیں بتائیں گے؛ جن پر عمل کرکے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ اس لئے عُلَماء کے وجود کو باعث خیر و برکت سمجھ کر ان سے حتی المقدور استفادہ کی ہر ایک کوشش کرنا چاہئے اور ان سے محبت رکھنے کو اپنے لئے سعادت خیال کرنا چاہئے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: ”اِنَّ اللّٰہَ لا یَقْبِضُ الْعِلْمَ انتزاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ العِبَادِ وَلٰکِنْ یَقْبِضُ الْعَلَمَاءَ“(۸) اللہ تعالیٰ دین کا علم اس طرح نہیں اٹھائیں گے کہ لوگوں کے اندر سے کھینچ لے؛ بلکہ عُلَماء کو اٹھالینے کی صورت میں دین کا علم اٹھ جائے گا، یعنی عُلَماء زندہ رہیں اور ان کے سینوں سے علم نکال لیاجائے یہ نہیں ہوگا؛ بلکہ اللہ تعالیٰ حاملین علم کو اٹھالیں گے اور ان کی جگہ دوسرے عُلَماء پیدا نہیں ہوں گے۔ اس طرح علم خود بخود ختم ہوجائے گا۔ لہٰذا بقائے علم کے لئے ہر عالم کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے بعد کچھ عُلَماء چھوڑے۔
عالم دین عابد سے افضل ہے
ایسا عالم دین جو لوگوں کو نفع پہنچاتا ہو، وہ عابد سے بہت زیادہ بلند مقام رکھتا ہے اس کے مقام و مرتبہ کے آگے راتوں کو جاگ کر اللہ اللہ کی ضربیں لگانے والے شب زندہ دار عابد کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ عالم دین نہ صرف اپنے آپ کو جہنم سے بچاتا ہے، بلکہ دوسرے بہت سے لوگوں کو بھی جہنم سے بچاکر جنت والے راستہ پر ڈال دیتا ہے، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اِنَّ فَضْلَ العَالِم عَلَی العابدِ کَفَضْلِ القَمَرِ لَیْلَةَ البدرِ عَلیٰ سَائِرِ الکَوَاکِبِ“(۹) عالم کو عابد پر ایسی فضیلت ہے جیسے کہ چودھویں رات کے چاند کو تمام تاروں پر بڑائی اور برتری حاصل ہوتی ہے، دوسری جگہ عالم کو عابد پر ترجیح دیتے ہوئے فرمایا: ”فضل العالِمِ عَلَی العَابِدِ کَفَضْلِیْ عَلَی اَدْنَاکمْ“(۱۰) عالم کو عابد پر ایسی ہی فضلیت ہے جیسے کہ مجھ کو تم میں سے ادنیٰ شخص پر حاصل ہے، اس ارشاد سے یہ بات سمجھ میں آئی، کہ جب عالم کوعابد پر اتنی فضیلت ہے تو عام لوگوں پر عالم کو جو فضیلت ہوگی اس کا اندازہ کرنا بہت دشوار بات ہے، لہٰذا عالم کے ساتھ بدکلامی کرنا اس کے بارے میں فاسد خیال رکھا درحقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی توہین اور ان کے ارشاد کی پامالی ہے، عالم کو عابد پر اس قدر ترجیح دینے کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر کیاگیا کہ عالم کا فائدہ متعدّی ہوتا ہے جبکہ عابد کا فائدہ لازم ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عالم شیطان کے ہتھکنڈوں سے واقف ہونے کی بناء پر اس کے دام میں آنے سے خود بھی محفوظ رہتا ہے اورامت کی بھی حفاظت کرتا ہے؛ جبکہ عابد شیطان کے دام میں الجھے رہنے کے باوجود اپنے آپ کو عبادت و ریاضت میں مشغول خیال کرتا ہے، اسی بنیاد پر آپ نے فرمایا: ”فقیہ واحِدٌ اَشدُّ عَلَی الشَیْطَانِ مِن الفِ عابدٍ“(۱۱) ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے، لہٰذا عام لوگوں کو نیک عالم کا قرب اختیار کرنا چاہیے، تاکہ وہ عالم کی صحبت کی برکت سے شیطان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہیں۔
عُلَماء وارثین انبیاء ہیں
اگر کوئی عالم دین کی قدر و منزلت کا اندازہ کرنا چاہتا ہے تو وہ اس بات سے کرے، کہ عُلَماء کرام انبیاء عظام کے وارث ہوتے ہیں انبیاء کے بعد عُلَماء ہی کا مرتبہ ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اِنَّ الْعُلَمَاءَ ورثَةُ الانبیاءِ وانَّ الانبیاءَ لَمْ یورِّثو دِیْنَارًا ولاَ دِرْہَمًا وانَّمَا وَرَّثُوالْعِلْمَ فَمَنْ اخَذَہُ اَخْذَ بحظٍ وَافِرٍ“(۱۲) عُلَماء دین انبیاء کرام کے وارث ہوتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء دینار و درہم کے وارث نہیں بناتے ہیں وہ تو علم کا وارث بناتے ہیں جس نے دین کا علم حاصل کرلیا اس نے پورا حصہ پالیا۔
ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ بازار سے گزر رہے تھے لوگوں نے دیکھا کہ وہ تجارت میں مشغول ہیں آپ  نے فرمایا تم لوگ یہاں کاروبار میں مشغول ہو اور مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم ہورہی ہے لوگ فوراً مسجد کی طرف دوڑگئے، وہاں جاکر دیکھا کہ کچھ لوگ تلاوت میں مشغول ہیں، کچھ حدیث پڑھ رہے ہیں، کچھ دوسرے لوگ علمی مذاکرہ میں مصروف ہیں کچھ لوگ ذکر و اذکار اور تسبیح و مناجات میں لگے ہوئے ہیں۔ آنے والوں نے یہ دیکھ کر ابوہریرہسے کہا آپ نے تو فرمایا تھا کہ مسجد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم ہورہی ہے، اور یہاں تو کچھ ایسا نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا جن چیزوں میں یہ لوگ مشغول ہیں، یہی چیزیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث ہیں۔ یاد رکھو! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث دنیا نہیں ہے۔“(۱۳) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فدک زمین اسی طرح دیگر انبیاء کرام کسی چھوڑی ہوئی دنیوی چیزوں کا مالک ان کی اولاد میں سے کوئی نہیں بنا، اور اُن چیزوں میں وراثت نہیں چلی؛ بلکہ وہ سب چیزیں تمام مسلمانوں کیلئے وقف ہوگئی تھیں۔(۱۴) عُلَماء اور انبیاء کا اتنا قریبی تعلق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مَنْ جاء ہُ المَوْتُ وہُوَ یَطْلبُ الْعِلْمَ لِیحْی بہ الاِسْلاَمَ فَبَیْنَہُ وَبَیْنَ النَّبیینَ درَجَةٌ واحدةٌ فی الجنَّةِ“(۱۵) جس شخص کو موت ایسی حالت میں آئی، کہ وہ دین کا علم اسلام کو زندہ کرنے کی غرض سے حاصل کررہا تھا، تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس کے اور انبیاء کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق ہوگا۔
عالم کے لیے ساری کائنات دعاء گو رہتی ہے
کائنات کی سب سے عزیز ترین اور محبوب ترین ہستی، دین کے طالب کی ہستی ہے، یہی وجہ ہے کہ دین کے طالب کیلئے کائنات کی ہر ہر شی مصروف دعا رہتی ہے؛ حتی کہ فرشتہ اس کے اعزاز میں پر بچھائے رہتے ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَنْ سَلَکَ طَرِیقًا یَطْلبُ مِنْہُ عِلْمًا سَلَکَ اللّٰہُ بِہ طَرِیْقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ وانَّ المَلاَئِکَةَ لتَضَعُ اَجْنِحَتہَا رِضًی لِطَالِب العِلْمِ وانّ العالِمَ یستغفرلَہُ مَنْ فی السمٰواتِ وَمَن فِیْ الاَرْضِ والْحِیْتَان فی جَوْفِ المَاءِ“(۱۶) اس حدیث سے جہاں ایک طرف یہ بات معلوم ہوئی کہ علم دین کیلئے سفر کرنا نہایت مستحسن ومتبرک فعل ہے وہیں یہ بات معلوم ہوئی کہ علم کیلئے سفر کرنا درحقیقت جنت کی راہ پر گامزن ہونا ہے، دین کا طالب اتنا معزز ہے کہ فرشتے اس کیلئے پر بچھاتے ہیں، پر بچھانے کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے طالب علم کی نہایت عزت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ نہایت تواضع سے پیش آتے ہیں، یا پھر یہ مطلب ہے کہ وہ حقیقتاً پر بچھاتے ہیں لیکن ہم اپنی اِن کوتاہ آنکھوں سے اس کا نظارہ نہیں کرپاتے ہیں اور عالم کیلئے آسمان و زمین کی تمام مخلوق حتی کہ پانی میں مچھلیاں مغفرت کی دعا کرتی رہتی ہیں، لیکن یہ تمام عظمتیں و رفعتیں، اور ساری کی ساری سعادتیں و برکتیں اس وقت ہیں، جب علم کا طالب اپنے علم کی حق تلفی نہ کرے، حصول علم کے دوران اور اس کے بعد کی جو ذمہ داریاں ہیں ان سے پہلو تہی نہ کرے۔
علم کی راہ میں اخلاص ضروری ہے
علم دین حاصل کرنے میں، لوگوں کو اس کے سکھانے میں،اس کے مطابق فیصلہ کرنے میں، غرضیکہ ہر وقت اور ہر قدم پر اخلاص لازمی شی ہے، علم دین اخلاص کے بغیر بجائے نفع کے نقصان کا سبب ہے،اگر کوئی طالب علم دکھاوے کیلئے علم کا جوئندہ بنتا ہے، یا کسی عالم نے دنیا داری کے لئے تعلیم و تعلّم کا پیشہ اختیار کررکھا ہے تو ایسے ریاکار لوگوں کے انجام کے بارے میں آقا ﷺ نے بہت پہلے فرمایا ہے ”رجُلٌ تعلَّمَ القرآن وعلَّمَہُ و قرالقُرآنَ فاُتِیَ بہ فعرّفَہُ نِعَمَہُ، فعرفَہَا، قَالَ فَمَا عَلِمْتَ فِیْہَا قَالَ تعلَّمتُ العِلْمَ، وعَلَّمْتُہُ وقراتُ القرآن فیک قَالَ کذبْتَ ولٰکِنَّکَ تعلّمتَ العلْمَ لیُقَالَ اِنَّکَ عَالِمٌ وقراتَ القرآنَ لِیُقَالَ اِنک قَارِیٌ، فَقَدْ قِیلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہ فسُحّبَ عَلیٰ وَجْہِہ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ“(۱۷) اللہ تعالیٰ کے دربار میں ایک ایسا شخص لایا جائے گا جس نے دین کا علم حاصل کیاتھا، دوسروں کو اس کی تعلیم بھی دی تھی، قرآن پاک بھی پڑھا تھا، پہلے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں اپنی عطا کردہ نعمتوں کو یاد دلائے گا، وہ شخص ان نعمتوں کا اعتراف بھی کرے گا، پھر اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائیں گے تم نے ان نعمتوں کے شکرانہ میں میری رضا کے خاطر کون سے کام انجام دئیے، وہ شخص کہے گا میں نے دین کا علم حاصل کیا، دوسروں کو اس کی تعلیم دی اور تیری خوشنودگی کے لئے قرآن پاک پڑھا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تونے جھوٹ کہا، دراصل علم تونے اس غرض سے حاصل کیا تھا، کہ مخلوق کے درمیان تو عالم مشہور ہوجائے اور قرآن پڑھنے کی غرض یہ تھی، کہ لوگ تیرے بارے میں کہیں کہ قاری تو فلاں شخص ہی ہے، تو جو تونے چاہا وہ تجھ کو دنیا میں مل گیا، چہار دانگ عالم میں تمہاری شہرت کے خوب ڈنکے بجے، اب یہاں تم کو کچھ بھی نہیں ملے گا پھر اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں حکم دیں گے، کہ اس کو منھ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لیجاؤ اوراس کو منھ کے بل جہنم میں ڈال دو، یاد رکھنا چاہئے کہ اخلاص سے عاری، ریاکار عالم، قاری، اور عابد وغیرہ کے لئے ایسی ہولناک سزائیں ہیں جن کا اگر دل میں یقین جاگزیں ہوجائے، تو اِن میں سے کوئی ریا کے قریب سے بھی نہ گزرے، ایک موقعہ پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”جبُّ الحزن“ سے یعنی رنج و غم کے کنویں سے اللہ کی پناہ مانگو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ”جب الحزن“ کیا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جہنم میں ایک کھائی ہے جس سے خود دوزخ ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس میں کون ڈالا جائے گا، آپ نے فرمایا: ”القرّاءُ المرأونَ باَعْمَالِہِم“(۱۸) وہ قرآن پڑھنے والے جو اپنے عمل میں ریا کاری کرتے ہیں، شراح حدیث نے ذکر کیا ہے، اس حکم میں ریاکار عابد، عالم، قاری، سب داخل ہیں۔ یہیں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اخلاص کے فقدان کی وجہ سے قیامت کے دن نیک اعمال بھی وبال بن جائیں گے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں عظیم سے عظیم ترین کام اور بڑی سے بڑی قربانی بغیر اخلاص کے ایسی ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم اور خوشبو کے بغیر پھول ۔ علامہ نووی فرماتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں مجاہدین، عُلَماء اور راہ خدا میں خرچ کرنے والوں کی جو تعریف وارد ہوئی ہے اور ان کے لئے جن بلند درجات کا وعدہ فرمایاگیا ہے، وہ سب اس وقت ہیں جب یہ لوگ اپنی ذمہ داریاں انتہائی اخلاص کے ساتھ انجام دیتے ہوں۔(۱۹)
اخلاص کا حاصل رضائے الٰہی
عُلَماء اور طلباء کے لئے علم کی راہ میں اخلاص کو ضروری قرار دیاگیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ وہ علم کی راہ میں جو بھی کوشش اور محنت کریں وہ صرف اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کریں، حصول علم اور اشاعت علم کا مقصد حصولِ دنیا نہ ہو۔ اگر کوئی حصول دنیا کی غرض سے علم کی راہ میں لگا ہوا ہے، تو اس کے لئے آقا ﷺ کی سخت وعیدیں ہیں۔ ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا: ”مَنْ تعلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُتْبغیٰ بِہ وَجہُ اللّٰہِ لا یتعَلّمہُ اِلاّ لِیُصِیبَ بِہ عرضًا مِنَ الدُّنْیَا لَمْ یجِدْ عَرَفَ الجَنَّةِ یَوْمَ القِیَامَةِ یعْنِی رِیحَہَا“(۲۰) جس شخص نے اللہ کی رضا حاصل کرنے والا علم دنیاوی سازوسامان حاصل کرنے کی غرض سے سیکھا اس کو قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نصیب نہ ہوگی، علم کی غرض کسب دنیا نہ ہونا چاہئے، البتہ اگر اس کے ذریعہ سے بلا طلب دنیا مل رہی ہے، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اسی طرح کسب معاش کیلئے دنیوی علوم سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے؛ لیکن جن علوم کے سیکھنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی ہے مثلاً کہانت وغیرہ، ان کو کسب معاش کیلئے بھی سیکھنا درست نہیں ہے۔ خلاصہ یہ نکلا کہ علم دین محض اللہ کی رضا کیلئے سیکھنا چاہئے اس میں کسی طرح کی ریاکاری، کوئی دنیوی غرض، اور کسی بھی طرح کا فخر وغرور شامل نہ ہونے دینا چاہئے۔ اوراگر کوئی علم کو اپنی بڑائی اور فوقیت قائم کرنے کیلئے سیکھتا ہے تو یہ بھی سخت جرم ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ”مَنْ طَلَبَ العلْمَ لِیُجاری بِہ العُلَمَاءَ اَوْ لیُمَارِی بِہ السُّفَہَاءَ اَوْ یَصْرِفَ بہ وجُوہَ النَّاسِ اِلَیْہِ ادخَلَہُ اللّٰہُ النّارَ“(۲۱) جس شخص نے علم اس وجہ سے حاصل کیا کہ اس کے ذریعہ سے عُلَماء دین کا مقابلہ کرے یا بے وقوفوں سے بحث و مباحثہ کرے یا لوگوں کو اپنی شخصیت کی طرف متوجہ کرے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم میں ڈال دیں گے۔
عالم دین کی فرائض سے غفلت
عالم دین کا فرض منصبی ہے کہ وہ لوگوں کو دین کی دعوت دے، کیونکہ عُلَماء انبیاء کے وارث ہیں اورانبیاء کرام کا اصل مشن بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھی راہ دکھانا تھا۔ لہٰذا عُلَماء کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے غافل لوگوں کے دلوں میں اس کی یاد پیدا کرنے کی کوشش کریں، اسلام کی اشاعت اور دین کی تبلیغ کیلئے بھرپور جدوجہد کریں، اگر کوئی عالم اپنے اس فریضہ کو فراموش کربیٹھا ہے، یا اس سے غفلت برت رہا ہے تو اس کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے حساب سے دین کو ڈھارہا ہے۔ حضرت زیاد ابن جدیر کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اسلام کو ڈھانے والی کیا چیز ہے؟ میں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”یَہْدمُہُ زلة العَالِمِ“(۲۲) عالم کا پھسلنا اسلام کو ڈھادیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عالم اگر اپنے فرائض سے غافل ہوکر، خواہش نفس پر عمل کرنے لگے تو اس کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی احکامِ اسلام پر عمل ترک کردیں گے، نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام کی بنیادیں ہل جائیں گی اور اسلام منہدم ہوجائے گا۔
علم چھپانا سخت گناہ ہے
جو شخص دین کا عالم ہے اس کو چاہئے کہ وہ دوسروں کو سکھائے، اگر لوگ اس سے فیض نہیں حاصل کرپارہے ہیں، تو صاحب علم کو سمجھنا چاہئے کہ اس کا علم نفع بخش نہیں ہے، اگر کسی عالم سے کوئی دینی بات پوچھی گئی اور اس نے جاننے کے باوجود لوگوں کو مطلع نہیں کیا تو ایسے شخص کے بارے میں آقا ﷺ کا فرمان ہے کہ ”مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ یعَلِمَہُ، ثُمَّ کَتَمَہُ اُلْجِمَ یَوْمَ القِیَامَةِ بِلِجَامٍ مِن النَّارِ“(۲۳) جس شخص سے علم دین کی کوئی بات پوچھی گئی اور اس نے جاننے کے باوجود چھپایا تو ایسے شخص کو قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی، قیامت کے دن اس کو اتنی سخت سزا اس وجہ سے دی جائے گی کہ اس نے علم کے مقصد نشرواشاعت کو زائل کردیا، اس نے معلوم شدہ بات میں سکوت اختیار کرکے دنیا میں اپنے منھ میں لگام ڈالی لہٰذا آخرت میں آگ کی لگام اس کے منھ میں ڈالی جائے گی، اسی وجہ سے ہر عام کو خوب متنبہ رہنا چاہئے، جو شخص بھی اس سے دین کی کوئی ضروری بات پوچھے تو اگر صحیح طور پر جانتا ہے تو اس کو بتانے سے ہرگز ہرگز دریغ نہ کرے؛ تاکہ اس وعید کا مستحق نہ بنے۔
علم کو صلاحیت کے مطابق سکھانا چاہئے
عالم دین کو خود علم کی وقعت اور عزت کرنا چاہئے علم کو سونے، چاندی اور ہیرے جواہرات سے بھی بہتر سمجھنا چاہئے جس طرح ایک دنیا دار آدمی کبھی کتے اور خنزیر کی گردن میں ہیرے جواہرات کے زیور نہیں ڈالتا ہے؛ اسی طرح عُلَماء دین کو بھی چاہئے کہ ناقدروں کو علم نہ سکھائیں، مسئلہ بتادینا یہ دوسری بات ہے؛ لیکن علم سکھانا اور علمی نکات بتانا یہ دوسری چیز ہے، مسئلہ تو جوبھی دریافت کرنے آئے اس کو اس کے فہم کے اعتبار سے بتادینا بہتر ہے؛ لیکن جہاں تک علم دین سکھانے کا تعلق ہے؛ تو وہ صرف قدردانوں تک ہی محدود رکھنا چاہئے۔ اسی طرح کسی شخص کی صلاحیت سے بڑھ کر، اس کو علم سکھانا بھی علم پر ظلم کرنا ہے؛ جو شخص معمولی باتیں نہ سمجھتا ہو اس کے سامنے تصوف کی باریکیاں بیان کرنا؛ یہ علم کے ساتھ مذاق کرنا ہے۔ آقا ﷺ نے فرمایا: ”واضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غیر اَہْلِہ کمُقَلِّدِ الحَنَازِیْرِ الجوہَر والّلوْلُو والذہَب“(۲۴) نااہلوں کو علم سکھانے سے اس لئے منع فرمایا کہ وہ علمی باریکیوں کو سمجھ نہیں سکیں گے، اور بغیر سمجھے عمل شروع کرنے کے نتیجے میں شیطان کے دام میں پھنس کر گمراہ ہوجائیں گے۔ [اگر بندر کے ہاتھ میں بندوق آجاۓ جتنا خطرناک ہے ویسے ہی نااہل(فاسق) کے ہاتھ علم آجاۓ تو بگاڑ وفساد پھیلتا ہے.] لہٰذا عُلَماء دین کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ علم دین سکھاتے وقت طلباء و عوام کی صلاحیتوں کا خاص خیال رکھ کر ان کو مستفید کریں۔
عُلَماء کرام کو اشاعت حدیث کا خاص خیال رکھنا چاہئے
آقا ﷺ کے فرامین کو یاد کرنا اور ان کو لوگوں تک پہنچانا بہت بڑی سعادت کی بات ہے اس امت کے سیکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اس سعادت کا اپنے آپ کو مستحق بنایا ہے اور ساری زندگی اللہ کے نبی کے فرامین کی خدمت میں گزار دی یہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نَضَّر اللّٰہُ اِمْراءً سَمِعَ مِنَّا شَیْئًا فبَلَّغَہُ کَمَا سَمِعَہُ“(۲۵) اللہ تعالیٰ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے مجھ سے کچھ سنا پھر جس طرح سے اس نے سنا تھا اسی طرح دوسرے تک پہنچادیا۔ اللہ کے نبی نے اپنے فرامین کی اشاعت کرنے والے کیلئے یہ دعاء کی ہے ۔ بعض محققین فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی یہ دعا فوراً قبول ہوگئی، یہی وجہ ہے کہ حدیث کی خدمت کرنے والوں کے چہروں پر نورانیت رہتی ہے۔ ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا: مَنْ حَفِظَ عَلیٰ اُمَّتِی اَرْبَعِیْنَ حَدِیْثًا فِیْ اَمْرِ دِیْنِہَا بَعَثَہُ اللّٰہُ فَقِیْہًا وکنْتُ لَہُ یَوْمَ القِیَامَةِ شَافعًا وشہیدًا“ (٢٦) جس شخص نے میری امت کے نفع کے لئے دینی امور سے متعلق چالیس حدیثیں یاد کرلیں تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کو فقیہ بناکر اٹھائیں گے اور میں اس کی شفاعت کرنے والا اور اس کی نیکیوں پر گواہی دینے والا ہوں گا۔ حفظ حدیث اور نشر حدیث کرنے والے کیلئے آقا ﷺ نے خود شفارش کی ذمہ داری لی ہے اور اس بات کی بشارت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو فقیہ بناکر اٹھائیں گے ان تمام بشارتوں کے باوجود اہل علم کا ایک بہت بڑا طبقہ علم حدیث سے تغافل برت رہا ہے۔ اس طبقہ نے صرف حدیث کا پڑھ لینا ہی کافی سمجھ لیا ہے۔ حدیث کے یاد کرنے اوراس کے پھیلانے کی طرف کوئی قابل ذکر توجہ نہیں ہے۔ اگرکسی شخص کی یہ خواہش ہے کہ قیامت کے روز اس کا شمار فقیہوں میں ہو تو اس کو اولین فرصت میں کم از کم چالیس اَحادیث یاد کرکے لوگوں تک پہنچانے کی تگ و دو کرنا چاہئے، لیکن اس کے ساتھ حدیث کے انتخاب اور اس کے یاد کرکے روایت کرنے میں پوری احتیاط برتنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ موضوع روایات یا منسوخ و متروک روایات یاد کرکے اس کو نشر کردے اور بجائے فائدہ کے نقصان اٹھانا پڑجائے اس سلسلہ میں حد درجہ احتیاط لازم ہے اسی وجہ سے آقا ﷺ نے فرمایا: ”اتَّقو الحَدِیْثَ اِلاَّ مَا علِمْتُمْ فَمن کذبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّار“(۲۷) آقا ﷺ نے فرمایا مجھ سے حدیث روایت کرنے سے بچو۔ صرف وہی حدیث نقل کرو جس کے بارے میں تم کو یقین ہو کہ یہ میری حدیث ہے جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا تو اس کو اپنا ٹھکانا دوزخ میں ڈھونڈھنا چاہئے۔“ لہٰذا احادیث یاد کرنے اور ان کو نقل کرنے میں یا تو کسی حدیث کی معتبر کتاب کا انتخاب کرنا چاہئے یا پھر کسی ماہر عالم کی طرف رجوع کریں۔ اور عام عُلَماء کو اگر کسی چیز میں تشویش ہو تو وہ راسخ فی الدین اور جید الاستعداد عالم سے اپنا مسئلہ دریافت کریں اپنی طرف سے کوئی بات نہ کہہ دینا چاہئے۔ آقا ﷺ نے فرمایا: ”فَمَا عَلِمْتُمْ مِنہ فقُوْلوا وَمَا جعَلْتُم فکلوہُ اِلیٰ عالِمِہ“(۲۸) تم لوگ وہی بات کہو جو عُلَماء کے ذریعہ سے تمہارے علم میں ہے اور جس بات سے تم ناواقف ہو اس کو علم رکھنے والوں کے سپرد کردو اپنی طرف سے دین میں دخل اندازی اور اپنے نفس سے حدیث کے بارے میں موشگافی نہ کرنا چاہئے۔
$ $ $

______________________________


(١٨) أخرجه البخارى فى التاريخ الكبير (2/170) ، والترمذى (4/593، رقم 2383) وقال: حسن غريب. وابن ماجه (1/94، رقم 256) . وأخرجه أيضًا: الطبرانى فى الأوسط (3/261، رقم 3090) ، وابن عدى (5/71، ترجمة 1250 عمار بن سيف الضبى) ثم قال: منكر الحديث، والبيهقى فى شعب الإيمان (5/339، رقم 6851) .

(٢٠) أخرجه أحمد (2/338، رقم 8438) ، وأبو داود (3/323، رقم 3664) ، وابن ماجه (1/92، رقم 252) ، والحاكم (1/60، رقم 288) وقال: صحيح سنده ثقات رواته على شرط الشيخين. والبيهقى فى شعب الإيمان (2/282، رقم 1770) . وأخرجه أيضًا: ابن أبى شيبة (5/285، رقم 26127) ، والخطيب (5/346) .
(٢١) أخرجه الترمذى (5/32، رقم 2654) وقال: غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه وإسحاق بن يحيى ليس بذاك القوى عندهم تكلم فيه من قبل حفظه. وأخرجه أيضًا: ابن أبى الدنيا فى الصمت (ص 106، رقم 141) ، والطبرانى (19/100، رقم 199) .
(٢٢) أخرجه الفريابى فى صفة المنافق (1/54، رقم 31) ، وأخرجه الدارمى (1/82، رقم 214)،كنز العمال:29411+44338]
(٢٣) حديث أبى هريرة: أخرجه أحمد (2/344، رقم 8514) ، وأبو داود (3/321، رقم 3658) ، والترمذى (5/29، رقم 2649) وقال: حسن. وابن ماجه (1/98، رقم 266) ، والحاكم (1/182، رقم 345) ، والبيهقى فى شعب الإيمان
(2/275، رقم 1743) .
حديث أنس: أخرجه ابن ماجه (1/97، رقم 264) . قال البوصيرى: هذا إسناد ضعيف.
حديث قيس بن طلق عن أبيه: أخرجه الطبرانى (8/334، رقم 8251) ، وابن عدى (1/353، ترجمة أيوب بن عتبة) وقال: الحديث بهذا الإسناد غريب. والخطيب (8/155) .
(٢٤) أخرجه ابن ماجه (1/81، رقم 224) قال البوصيرى (1/30) : هذا إسناد ضعيف. وأخرجه أيضًا: ابن عدى (6/71، ترجمة 1605 كثير بن شنظير المازنى) وقال: وليس فى حديثه شىء من المنكر وأحاديثه أرجو أن تكون مستقيمة.
(٢٥) أخرجه أحمد (1/436، رقم 4157) ، والترمذى (5/34، رقم 2657) وقال: حسن صحيح. وابن حبان (1/268، رقم 66) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (2/274، رقم 1738) . وأخرجه أيضًا: البزار (5/382، رقم 2014) ، والشاشى (1/314، رقم 275) ، وابن عدى (6/462، ترجمة 1942 مهران بن أبى عمر الرازى) .
(٢٦) جامع الاحادیث:22045
(۲۷) أخرجه أحمد (1/323، رقم 2976) ، والترمذى (5/199، رقم 2951) ، وقال: حسن. وأخرجه أيضًا: أبو يعلى (4/228، رقم 2338) .
(۲۸) أخرجه البيهقى فى شعب الإيمان (2/417، رقم 2258) ، وأحمد (2/185، رقم 6741) .













مرزائی مربیوں کی طرف سے علماءِ اسلام کو بدنام کرنے کے لئے پیش کی جانے والی ایک روایت کی حقیقت
مرزائی دھوکے باز اکثر ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ " ایک زمانہ آئے گا کہ امت اسلامیہ کہ عُلَماء آسمان کے نیچے بدتریں مخلوق ہونگے " اور حوالہ دیا جاتا ہے " مشکاۃ المصابیح " کا لیکن کوئی مرزائی مربی اس حدیث کی پوری سند نہیں بیان کرے گا ، یہ روایت مشکاۃ میں امام بیہقی کی کتاب " شعب الایمان " کے حوالے سے ہے ، آئیے دیکھتے ہیں امام بیہقی نے اس کی سند کیا ذکر کی ہے ۔

 أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أخبرنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَارُ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، حدثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دُكَيْنٍ، عَنْ [ص: 318] جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ، وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ، مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى، عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مَنْ عِنْدَهُمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيهِمْ تَعُودُ "
(شعب الایمان جلد 3 صفحہ 317، 318، حدیث 1763)

نمبر 1 :

اس روایت میں ایک راوی ہیں "جعفر بن محمد" یہ " امام محمد باقر" کے بیٹے ہیں اور وہ اپنے والد (امام باقرؒ) سے روایت کر رہے ہیں ، اور امام باقرؒ اپنے والد (امام زین العابدینؒ) سے اور وہ بلاواسطہ روایت کر رہے ہیں اپنے دادا (حضرت علی بن ابی طالبؓ) سے ، اور امام زین العابدینؒ نے اپنے دادا حضرت علیؓ سے کوئی حدیث نہیں سنی کیونکہ ابھی امام زین العابدین اپنی عمر کے دوسرے میں تھے کہ انکے دادا حضرت علیؓ کی شہادت ہوگئی (40 ہجری میں) اس طرح یہ روایت " منقطع " ہے ۔

نمبر 2 :

 اس روایت میں ایک راوی ہے " عبد اللہ بن دکین " انکے بارے میں امام ابو حاتم رازی نے اپنی کتاب " الجرح والتعدیل " میں لکھا ہے کہ " یحییٰ بن معین نے فرمایا کہ وہ ضعیف ہیں" ، نیز لکھا کہ " وہ ضعیف اور منکر الحدیث ہیں "
( الجرح والتعدیل جلد 5 صفحہ 49 )

 نیز امام ابن عدی نے بھی یحییٰ بن معین سے نقل کیا کہ " عبد اللہ بن دکین ضعیف ہے "
( الکامل فی الضعفاء : جلد 5 صفحہ 377 )



مرزائی اصول حدیث

 مرزائی مربیوں کی عادت ہے کہ اگر کسی راوی کو دس ائمہ نے ثقہ کہا ہو اور کسی ایک نے کوئی چھوٹی موٹی بات اس راوی کے بارے میں کہہ دی تو شور مچاتے ہیں کہ یہ راوی ناقابل اعتبار ہوگیا ۔ تو جب وہ ایسی منقطع اور ضعیف راوی والی راویت کرتے ہوں تو انہیں شرم کیوں نہیں آتی ؟




عُلَماء کی فضیلت از روئے قرآن و احادیث نبوی سے:
اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں عُلَماء کی شان کے بارے واضح الفاظ میں ارشاد فرماتا ہے :
اِنَّمَا یَخشَی اللّٰہَ مِن عِبَادِہ العُلَمآوءُ (سورۃ فاطر:۲۹)
ترجمہ :۔
یقیناً اللہ کے بندوں میں سے عُلَماء اس سے ڈرتے ہیں۔
بَاب الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَبَدَأَ بِالْعِلْمِ وَأَنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَرَّثُوا الْعِلْمَ مَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ بِهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَقَالَ جَلَّ ذِكْرُهُ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ وَقَالَ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ وَقَالَ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ لَوْ وَضَعْتُمْ الصَّمْصَامَةَ عَلَى هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ ظَنَنْتُ أَنِّي أُنْفِذُ كَلِمَةً سَمِعْتُهَا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تُجِيزُوا عَلَيَّ لَأَنْفَذْتُهَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ حُلَمَاءَ فُقَهَاءَ وَيُقَالُ الرَّبَّانِيُّ الَّذِي يُرَبِّي النَّاسَ بِصِغَارِ الْعِلْمِ قَبْلَ كِبَارِهِ(بخاری شریف)
قول اور عمل سے پہلے علم کا بیان۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے: فاعلم انہ لا الہ الااللہ اس لئے کہ اللہ نے علم سے ابتداء فرمائی ہے اور عُلَماء ہی انبیاء کے وارث ہیں انہوں نے انبیاء سے علم کو میراث میں پایا ہے جس نے علم حاصل کرلیا اس نے بڑی دولت حاصل کی اور جو شخص کسی راستے پر تحصیل علم کے لئے قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے ہی بندے اللہ سے ڈرتے ہیں جو عالم ہیں اور فرمایا کہ اس کو عُلَماء کے سوا کوئی نہیں سمجھتا۔ اور ابوذر نے ایک مرتبہ اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اگر تم اس پر تلوار رکھ دو لیکن پھر بھی میں سمجھوں گا کہ اس سے پہلے کہ تم میرے اوپر تلوار چلاؤ ایک کلمہ جو میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے کہہ سکوں گا تو ضرور اس کو کہہ دوں گا اور نبی ﷺ کا فرمان ہے فلیبلغ الشاھد الغائب (یہ بھی علم کے ظاہر کرنے کا حکم دے رہا ہے) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا ہے کو ربانیین (میں ربانیین) سے حکماء اور عُلَماء، فقہاء مراد ہیں اور بیان کیا جاتا ہے کہ ربانی وہ شخص ہے جو لوگوں کو علم کی چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی بڑی باتوں سے پہلے تعلیم کرلے۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا " ، قَالَ الْفِرَبْرِيُّ : حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ ... رقم الحديث: 99(100)]
حضرت عبداللہ ابن عمروؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم  نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں (کے دل و دماغ) سے اسے نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھاے گا کہ عُلَماء کو (اس دنیا سے) اٹھالے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔"
[صحیح بخاری: حدیث نمبر 100 - علم کا بیان : علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا]

ایک آیت قرآنی اور یہ بخاری شریف کی دو احادیث ہی یہ جاننے کے لیے کافی ہیں کہ اللہ تعالیٰ و رسول ﷺ نے عُلَماء کے بارے کتنی بڑی خوش خبریاں دی ہوئی ہیں حالانکہ کثیر آیات و احادیث اس پر شاہد ہیں لیکن قادیانی امت کو یہ آیات و احادیث نظر نہیں آتی وہ ہر داڑھی والے شخص کو مولوی و عالم کہہ کر اس کو آسمان کے نیچے بدترین مخلوق بنانے پر تلے ہوئے ہیں اب ہم آپ کو تصویر کا دوسرا رکھ دکھاتے ہیں کہ اگر اس حدیث کو صحیح بھی مان لیا جائے تو پھر کون سے عُلَماء ہیں جو آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہیں ؟

کادیانی بار بار احادیث پیش کرتے ہیں کہ موجودہ دور کے عُلَماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہیں اور وہ بندروں، کتوں اور سوروں کی طرح ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ یہ احادیث ان مولویوں کے لئے بھی ہے اور قادیانی خوشی سے یہ احادیث ان مولویوں کے لئے بھی بیان کریں گے.

مولوی حکیم نورالدین لعنۃ اللہ علیہ.

مولوی عبدالکریم سیالکوٹی لعنۃ اللہ علیہ.

مولوی غلام رسول راجیکی لعنۃ اللہ علیہ.

مولوی عبداللہ سنوری لعنۃ اللہ علیہ.

مفتی محمد صادق لعنۃ اللہ علیہ.

مولانا دوست محمد شاہد لعنۃ اللہ علیہ.

مولانا محمد حسن امروہی لعنۃ اللہ علیہ.

مولانا سید عبد الواحد لعنۃ اللہ علیہ.

بےشک پلیت شخص پاک نہیں ہوتا لہٰذا اس پر پلیت ہونے کا الزام نہیں لگایا جاتا البتہ وہ خود الزام لگاتا رہے گا۔ اور جھوٹا الزام پاکباز ہی پر لگ سکتے ہیں اور لگائے جاتے رہیں گے۔ اور تیسرا کوئی نہیں جس سے انصاف کا یقین ہو، لہٰذا پلیت شخص الزام لگانے اور فساد پھیلانے سے نہیں رکے گا سوائے اس رویہ سے جو یجرت کے بعد کرنے کا حکم دیا گیا۔


حق اور جھوٹ کیا ہے؟

حق وہ ہے جو سب سے اول بھی ہو اور ایک بھی، پرانا بھی ہو اور چھپا ہوا بھی، (اپنی نشانیوں سے)ظاہر بھی ہو(جائے) اور باقی رہنے والا آخر بھی۔(جیسے سب کا خالق اللہ)، جبکہ جھوٹ اس کے خلاف ہوتا ہے یعنی نہ اول ہوتا ہے اور نہ ہی ایک، نہ پرانا ہوتا ہے اور نہ ہی چھپا ہوا، نہ باقی رہتا ہے اور نہ آخر۔





اہلِ حق کو پہچاننے کا عام فہم معیار:

1) جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا، اس کے خلاف کسی کے خیال اور خواہش پر نہ چلیں اور نہ اجازت دیں۔

2) جنہیں اللہ کے نافرمان اپنے جیسا نافرمان بنائے بغیر ہرگز راضی نہ ہوں۔

3) جن لوگوں پر اللہ کے منکر اور منافقوں کے تیروں کا رخ ہو۔


اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
۔۔۔کیا تم اس(شیطان)کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔۔۔
[سورۃ الکھف:50]

شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ ڈالے تم میں دشمنی اور نفرت۔۔
[سورۃ المائدۃ:91]

کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
[سورۃ یوسف:5، الاسراء:53]


قیامت تک کے لیے

[سورۃ المائدۃ:14+64]


شیطان(نما)انسان اور جنات، جو سکھلاتے ہیں ایک دوسرے کو چکنی چپڑی باتیں دھوکہ دینے کے لئے
[سورۃ الانعام:112]

اگر یہ کافر تم پر قدرت پالیں تو تمہارے دشمن ہوجائیں اور ایذا کے لئے تم پر ہاتھ (بھی) چلائیں اور زبانیں (بھی) اور چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ۔
[سورۃ الممتحنۃ:2]

بےشک(ایذاء دینے والے)کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں۔
[سورۃ النساء:101]

یقیناََ تو پائے گا سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا یہودیوں کو اور مشرکوں کو۔۔۔
[سورۃ المائدۃ:82]

۔۔۔ وہی ہیں دشمن اُن سے بچتا رہ ۔۔۔ 
[سورۃ المنافقون:4]

اور اللہ تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے۔
[سورۃ النساء:45]

اے ایمان والو! نہ پکڑو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست، تم اُن کو پیغام بھیجتے ہو دوستی کے، جبکہ وہ منکر ہوئے ہیں اُس سے جو تمہارے پاس آیا سچا دین، نکالتے ہیں رسول کو اور تم کو (تمہارے گھروں سے) اس لیے کہ تم مانتے ہو اللہ کو جو رب ہے تمہارا، اگر تم نکلے ہو لڑنے کو میری راہ میں اور طلب کرنے کو میری رضامندی کو۔ تم اُنکو چھپا کر بھیجتے ہو دوستی کے پیغام اور مجھ کو خوب معلوم ہے جو چھپایا تم نے اور جو ظاہر کیا تم نے۔ اور جو کوئی تم میں یہ کام کرے تو وہ بھول گیا سیدھی راہ۔
[سورۃ الممتحنۃ:1]






گمراہ کون؟


دراصل، گمراہ لوگوں نے دین کے خلاف اپنے خیالات اور خواہشات والا دین(طریقہ زندگی) چاہیے، جو انہیں انبیاء کے وارث عُلَماء سے نہیں ملے گا، اسی لیے ان سے انہیں تنگی اور مخالفت رہے گی۔

القرآن:

۔۔۔(یہ لوگ)جو کلمات کی تحریف کرتے ہیں ان کی جگہوں سے اور کہتے ہیں ہم نے سن لیا اور نہیں مانیں گے اور کہتے ہیں کہ سن لے اس حال میں کہ تو(دوسرے سے) سننے والا نہ ہو، اور اپنی زبانوں کو موڑتے ہوئے اور دین میں طعن(عیب)لگاتے ہو۔۔۔
[سورۃ النساء:46]
۔۔۔دین کے معاملے میں مغالطے پیدا کردیں۔۔۔
[سورۃ الانعام:137]
۔۔۔اور عیب لگائیں تمہارے دین میں۔۔۔
[سورۃ التوبۃ:12]



اے اہل کتاب! حد سے نہ بڑھو اپنے دین میں یعنی مت کہو اللہ کی شان میں مگر حق بات۔۔۔
[سورۃ النساء:171]
یعنی
ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو جو پہلے خود بھی گمراہ ہوئے، بہت سے دوسروں کو بھی گمراہ کیا، اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔[سورۃ المائدۃ:77]




اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے،اور جن کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔۔۔سورۃ [الانعام:70]
چنانچہ آج ہم بھی ان کو اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ اس بات کو بھلائے بیٹھے تھے کہ انہیں اس دن کا سامنا کرنا ہے اور جیسے وہ ہماری آیتوں کا کھلم کھلا انکار کیا کرتے تھے۔[سورۃ الاعراف:51]



بیشک جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کردی اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، بس ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے۔ پھر ان کے وہ کام ان کو جتا دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
[سورۃ الانعام:159]
ہر گروہ (اُس) پر جو اُنکے پاس ہے خوش ہیں۔
[سورۃ الروم:32]





۔۔۔اور(توبہ بھی ان منافقین ہی کی اللہ قبول کرے گا جو)اپنے دین کو خالص اللہ کے لیے بنالیں گے۔۔۔
[سورۃ النساء:146]

دین کیا ہے؟
القرآن:
۔۔۔اور دین(طریقہ زندگی)ہوجائے صرف اللہ(کی مرضی)کا[سورۃ البقرۃ:193]
۔۔۔سارا کا سارا۔۔۔[الانفال:39]
۔۔۔ہمیشہ۔۔۔[النحل:52]
۔۔۔جو اس(اللہ)نے پسند کیا۔۔۔[النور:55]
۔۔۔تاکہ غالب کردے اس(دینِ حق)کو ہر دوسرے دین پر
[التوبۃ:33 الفتح:28 الصف:9]

حاکمیت اللہ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے، اسی نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
[سورۃ یوسف:40]




بےشک(مقبول) دین اللہ کے نزدیک تو بس اسلام(فرمانبرداری) ہے۔
[سورۃ آل عمران:19]



اور(نافرمان کہتے ہیں کہ)نہ یقین کرنا مگر اسی کا جو چلے تمہارے دین پر، آپ ان سے کہہ دیجیے کہ ہدایت تو وہی ہدایت ہے جو اللہ کی دی ہوئی ہو، یہ ساری باتیں تم اس ضد میں کر رہے ہو کہ کسی کو اس جیسی چیز (یعنی نبوت اور آسمانی کتاب) کیوں مل گئی جیسی کبھی تمہیں دی گئی تھی یا یہ (مسلمان) تمہارے رب کے آگے تم پر غالب کیوں آگئے؟ آپ کہہ دیجیے کہ فضیلت تمام تر اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
[سورۃ آل عمران:73]

اب کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جتنی مخلوقات ہیں ان سب نے اللہ ہی کے آگے گردن جھکا رکھی ہے، (کچھ نے) خوشی سے اور (کچھ نے) ناچار ہوکر، اور اسی کی طرف وہ سب لوٹ کر جائیں گے۔

[سورۃ آل عمران:83]


اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ اس سے مقبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا۔
[سورۃ آل عمران:85]



اور اس سے بڑھ کر دین کے اعتبار سے کون اچھا ہوگا جس نے اپنی ذات کو اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ اچھے کام کرنے والا ہے اور اس نے ابراہیم کی ملت کا اتباع کیا جو سارے دینوں کو چھوڑ کر اللہ ہی کی طرف مائل ہونے والے تھے اور اللہ نے ابراہیم کو دوست بنا لیا۔
[سورۃ النساء:125]

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ میرے پروردگار نے مجھے ایک سیدھے راستے پر لگا دیا ہے جو کجی سے پاک دین ہے، ابراہیم کا دین۔ جنہوں نے پوری طرح یکسو ہو کر اپنا رخ صرف اللہ کی طرف کیا ہوا تھا، اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔
[سورۃ الانعام:161]





کہو کہ : میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے۔ اور (یہ حکم دیا ہے کہ) جب کہیں سجدہ کرو، اپنا رخ ٹھیک ٹھیک رکھو، اور اس یقین کے ساتھ اس کو پکارو کہ دین(فرمانبرداری) خالص اسی کا حق ہے۔ جس طرح اس نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھا۔ اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہوگے۔
[سورۃ الاعراف:29]

(اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : اے لوگو اگر تم میرے دین کے بارے میں کسی شک میں مبتلا ہو تو ( سن لو کہ) تم اللہ کے سوا جن جن کی عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روح قبض کرتا ہے۔ اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں مومنوں میں شامل رہوں۔
[سورۃ یونس:104]

اور (مجھ سے) یہ (بھی کہا گیا ہے) کہ : اپنا رخ یکسوئی کے ساتھ اس دین کی طرف قائم رکھنا، اور ہرگز ان لوگوں میں شامل نہ ہونا جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مانتے ہیں۔
[سورۃ یونس:105]

اور یاد کرو جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا، یہ کہہ رہے تھے کہ : ان (مسلمانوں) کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے، حالانکہ جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ سب پر غالب ہے، بڑی حکمت والا ہے۔
[سورۃ الانفال:49]


یاد رکھو کہ خالص دین(عبادت)اللہ ہی کا حق ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے بجائے دوسرے اولیاء(رکھوالے) بنا لیے ہیں۔ (یہ کہہ کر کہ) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔ ان کے درمیان اللہ ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ کسی ایسے شخص کو راستے پر نہیں لاتا جو جھوٹا ہو، کفر پر جما ہوا ہو۔
[سورۃ الزمر:3]


اس(اللہ) نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ طے کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا، اور جو (اے پیغمبر) ہم نے تمہارے پاس وحی کے ذریعے بھیجا ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ تم دین کو قائم کرو، اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ (پھر بھی) مشرکین کو وہ بات بہت گراں گزرتی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوتے دے رہے ہو۔ اللہ جس کو چاہتا ہے چن کر اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جو کوئی اس سے لو لگاتا ہے اسے اپنے پاس پہنچا دیتا ہے۔
[سورۃ الشوریٰ:13]

کیا ان (کافروں) کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسا دین طے کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے ؟ اور اگر (اللہ کی طرف سے) فیصلہ کن بات طے شدہ نہ ہوتی تو ان کا معاملہ چکا دیا گیا ہوتا۔ اور یقین رکھو کہ ان ظالموں کے لیے بڑا دردناک عذاب ہے۔
[سورۃ الشوریٰ:21]




کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے دین کو۔  یہ وہی شخص ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو۔ اور مسکین کو کھانا کھلانے کی رغبت نہیں دلاتا۔  پس ہلاکت ہے(ایسے) نمازیوں کے لیے جو وہ اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ وہ جو ریاکاری کرتے ہیں۔ اور منع کرتے ہیں استعمال کی چیزیں۔
[سورۃ الماعون]





فضیلت علم پر چالیس احادیث شریفہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین۔


چونکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جو شخص چالیس حدیثیں یاد کرے تو اس کا حشر علماء کے ساتھ ہوگا، اس لئے فضائل علم میں چالیس احادیث منتخب کرکے جمع کی گئی ہیں‘ گو ان کے علاوہ بھی اس باب میں بکثرت احادیث وارد ہیں:



(1) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «‌فَضْلُ ‌الْعِلْمِ ‌أَفْضَلُ ‌مِنَ ‌الْعِبَادَةِ، وَمِلَاكُ الدِّينِ الْوَرَعُ» .
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کی فضیلت‘ عبادت سے افضل ہے۔ اور تمہارے دین کی سب سے اچھی چیز ورع (یعنی حرام کے ساتھ ساتھ مشتبہ چیزوں سے بھی بچنا) ہے۔
[مسند الشهاب القضاعي:40، المعجم الكبير للطبراني:10969، جامع بيان العلم وفضله:96، شعب الإيمان:5751(5367)]
الدر المنثور في التفسير بالمأثور=سورۃ البقرۃ=آیۃ 282
[جامع الاحایث:14691+14692]
[أخرجه الطبرانى (11/38، رقم 10969) قال الهيثمى (1/120) : فيه سوار بن مصعب ضعيف جدا. وأخرجه أيضًا: القضاعى (1/59، رقم 40) ، وابن عدى (3/455، ترجمة 871 سوار بن مصعب) وقال: قال البخارى: منكر الحديث. والخطيب (4/436) ، وابن عبد البر فى جامع بيان العلم (1/23) ، وابن الجوزى فى العلل المتناهية (1/77، رقم 77) .
أخرجه البزار (7/371، رقم 2969) ، والطبرانى فى الأوسط (4/197، رقم 3960) قال الهيثمى (1/120) : فيه عبد الله بن عبد القدوس وثقه البخارى وابن حبان وضعفه ابن معين. والحاكم (1/171، رقم 317) .]



(2) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ‌الْعِلْمُ ‌حَيَاةُ ‌الإِسْلَامِ وَعِمَادُ الإيمَانِ وَمَنْ عَلِمَ عِلْماً أَتَمَّ الله لَهُ أَجْرَهُ وَمَنْ تَعَلَّمَ فَعَمِلَ عَلَّمَهُ الله مَالَمْ يَعْلَمْ۔
(ابوالشیخ)
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم اسلام کی زندگی ہے، اور ایمان کا ستون (بنیاد وسہارا) ہے، اور جو شخص علم حاصل کرتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اسے اجر عظیم عطا فرمائے گا، اور جو شخص علم حاصل کرکے اس پر عمل کرتا ہے تو اللہ تعالی کا حق بنتا ہے کہ اسے وہ علم بھی عطا کرے جو وہ نہیں حاصل کر سکا۔
[جامع الأحاديث-السيوطي:14492، زهر الفردوس = الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس-ابن حجر العسقلاني:2045]
الدر المنثور في التفسير بالمأثور=سورۃ البقرۃ=آیۃ 282




عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا عُبِدَ اللَّهُ بِشَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ فِقْهٍ فِي دِينٍ ، وَلَفَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ ، وَلِكُلِّ دِينٍ عِمادٌ , وَعِمادُ الدِّينِ الْفِقْهُ " .
ترجمہ :
حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللهؐ سے مروی ہیں : دین میں فقہ(یعنی گہری سمجھ) حاصل کرنے سے افضل الله کی کسی چیز سے عبادت نہیں کی گئی، اور ایک فقیہ(یعنی گہری سمجھ والا عالم) شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے، اور ہر دین کے لئے ایک ستون(یعنی بُنیاد ، سہارا) ہوتا ہے، اور (اس) دین کا ستون فقہ ہے.
[جامع الاحایث:20160]
[ذكره الحكيم (1/135) ، وأخرجه البيهقى فى شعب الإيمان (2/266، رقم 1711) وقال: تفرد به عيسى بن زياد بهذا الإسناد وروى من وجه آخر ضعيف والمحفوظ هذا اللفظ من قول الزهرى.]






(3) عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعِلْمُ مِيرَاثِي وَمِيرَاثُ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِي ، فَمَنْ كَانَ يَرِثُنِي فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ " وَقَدْ رَوَى أَبُو الدَّرْدَاءِ بَعْضَ هَذَا اللَّفْظِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ:
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ علم میری اور مجھ سے سابق انبیاء کی میراث ہے تو جو میری میراث پاۓ تو وہ جنّت میں ہوگا۔

[جامع الاحادیث:14502]
[أخرجه أبو نعيم فى مسند أبى حنيفة (1/57) قال المناوى (4/391) : فيه إسماعيل بن عبد الملك، قال الذهبى: قال النسائى: غير قوى.]



(4) عَنْ سَلْمَانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَوْمٌ عَلَى عِلْمٍ خَيْرٌ مِنْ صَلاةٍ عَلَى جَهْلٍ "۔
ترجمہ:
حضرت سلمانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ علم کے ساتھ سو رہنا بہتر ہے اس نماز سے جو جہل کے ساتھ ہو۔

[جامع الاحایدث:24900، أخرجه أبو نعيم فى الحلية (4/385) . وأخرجه أيضًا: الديلمى (4/247، رقم 6732) .]


(5) عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُتَعِّبدُ بِغَيْرِ فِقْهٍ كِالْحِمَارِ فِي الطَّاحُونَةِ "۔
ترجمہ:
حضرت واثلہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عبادت بغیر فقہ (سمجھ) کے ایسی ہے جیسے گدھا چکی سے باندھا جاتا ہے۔



(6) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: قلب لیس فیہ شیء من الحکمۃ کبیت خرب، فتعلموا وعلموا، و تفقھوا ولا تموتوا جھالاً فان اللہ لا یعذر علی الجھل۔
ترجمہ:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس دل میں حکمت نہ ہو وہ مثل ویران گھر کے ہے، پس سیکھو اور سکھاؤ اور سمجھ پیدا کرو اور مت مرو حالتِ جہل میں کیونکہ اللہ تعالیٰ عذرِ جہل قبول نہیں فرماتا ہے۔
(ابن السنی)



(7) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُيِّرَ سُلَيْمَانُ بَيْنَ الْمَالِ وَالْمُلْكِ وَالْعِلْمِ ، فَاخْتَارَ الْعِلْمَ ، فَأُعْطِيَ الْمُلْكَ وَالْمَالَ لِاخْتِيَارِهِ الْعِلْمَ " .
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سلیمان علیہ السلام کو اختیار دیا گیا کہ چاہیں ملک و سلطنت و مال اختیار کریں یا علم‘ انہوں نے علم اختیار کیا جس کے باعث ان کو ملک بھی دیا گیا اور مال بھی۔


(8) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لکل شیء طریق و طریق الجنۃ العلم ۔
ترجمہ:
روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر چیز کے لئے ایک راستہ ہوتا ہے اور جنت کا راستہ علم ہے۔
(دیلمی فی الفردوس)




(9) عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَسْأَلَةٌ وَاحِدَةٌ يَتَعَلَّمَهَا الْمُؤْمِنُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ عِبَادَةٍ سَنَةٍ ، وَخَيْرٌ لَهُ مِنْ عِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ وَالْمَرْأَةَ الْمُطِيعَ لِزَوْجِهَا ، وَالْوَلَدَ الْبَارَّ بِوَالِدَيْهِ ، يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مَعَ الأَنْبِيَاءِ بِغَيْرِ حِسَابٍ .
ترجمہ:
حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک مسئلہ جو مسلمان سیکھے بہتر ہے اس کے لئے ایک برس کی عبادت سے اور آزاد کرنے سے ایسے غلام کے جو اولاد سے اسماعیل علیہ السلام کے ہو‘ اور طالب علم اور جو عورت کہ فرمانبردار اپنے شوہر کی ہو اور جو لڑکا کہ ماں باپ کا فرمانبردار ہو‘ یہ سب انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔
[جامع الاحادیث:21118 ، أخرجه الرافعى (1/255) .]



(10) عن الحسین بن علی، و ابن عباس ، و انس وغیرھم رضی اللہ تعالیٰ عنھم، قالوا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طلب العلم فريضة على كل مسلم ۔
ترجمہ:
حضرت حسین بن علی روایت ہے اور  انس اور  ابن عباس وغیرہم رضی اللہ عنہم سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاعلم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
[جامع الاحادیث:13931]

حديث أنس:
[سنن ابن ماجه:224، المعجم الصغير للطبراني:68، مشكوة المصابيح:218]
أخرجه ابن عدى (1/202، ترجمة 48 أحمد بن هارون بن موسى) وقال: له نسخ موضوعة مناكير ليس عند أحد منها شىء كنا نتهمه بوضعها. وأخرجه ابن عبد البر فى جامع بيان العلم وفضله (1/7) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (2/254، رقم 1665) ، وابن عساكر (52/341) . وأخرجه أيضًا: أبو يعلى (5/223، رقم 2837) ، والطبرانى فى الأوسط (1/7، رقم 9) ، وفى الصغير (1/36، رقم 22) ، وأبو نعيم فى الحلية (8/323) ، والإسماعيلى فى معجم الشيوخ (3/775) ، والقضاعى (1/136، رقم 175) ، والبزار (1/172، رقم 94) وقال: هذا كذب ليس له أصل عن ثابت عن أنس فأما ما يذكر عن النبى - صلى الله عليه وسلم - أنه قال طلب العلم فريضة على كل مسلم فقد روى عن أنس من غير وجه وكل ما يروى فيها عن أنس فغير صحيح.
حديث ابن عباس:
أخرجه أيضًا: الطبرانى فى الأوسط (4/245، رقم 4096) قال الهيثمى (1/120) : فيه عبد الله بن عبد العزيز بن أبى رواد ضعيف جدًا.
حديث ابن عمر:
أخرجه الرافعى من طريق الخليلى (2/340) . وأخرجه أيضًا: ابن عدى (1/179، ترجمة 19 أحمد بن إبراهيم بن موسى) وقال: هذا الحديث منكر بهذا الإسناد. وابن جميع الصيداوى فى معجم الشيوخ (ص 177) .
حديث على:
أخرجه الخطيب (1/407) ، وابن عساكر (43/12) .
حديث أبى سعيد:
أخرجه الطبرانى فى الأوسط (8/258، رقم 8567) ، قال الهيثمى (1/120) : فيه يحيى بن هاشم السمسار كذاب. والبيهقى فى شعب الإيمان (2/254، رقم 1667) ، والخطيب (4/427) ، وابن عساكر (57/7) . وأخرجه أيضًا: الإسماعيلى فى معجم الشيوخ (2/652) ، والقضاعى (1/135، رقم 174) .

حديث الحسين بن على:
أخرجه الطبرانى فى الصغير (1/58، رقم 61) ، والخطيب (5/204) ، وأخرجه أيضًا: الطبرانى فى الأوسط (2/297، رقم 2030) قال الهيثمى (1/120) : رواه الطبرانى فى الصغير وفيه عبد العزيز بن أبى ثابت ضعيف جدًّا.
حديث ابن مسعود:
أخرجه الطبرانى فى الكبير (10/195، رقم 10439) ، وفى الأوسط (6/96، رقم 5908) قال الهيثمى (1/119) : فيه عثمان بن عبد الرحمن القرشى عن حماد بن أبى سليمان وعثمان هذا قال البخارى مجهول ولا يقبل من حديث حماد إلا ما رواه عنه القدماء شعبة وسفيان الثورى والدستوائى ومن عدا هؤلاء رووا عنه بعد الاختلاط. وأخرجه ابن عساكر (53/43) وأخرجه أيضًا: أبو يعلى فى معجمه (ص 257، رقم 320) . قال المناوى (4/267) : قال النووى: ضعيف وإن كان معناه صحيحًا، وقال ابن القطان: لا يصح فيه شىء وأحسن ما فيه ضعيف، وسكت عنه مغلطاى، وقال المصنف [أى الإمام السيوطى] : جمعت له خمسين طريقًا وحكمت بصحته لغيره، ولم أصحح حديثًا لم أسبق لتصحيحه سواه، وقال السخاوى: له شاهد عند أبى شاهين بسند رجاله ثقات عن أنس، ورواه عنه نحو عشرين تابعيًا.]

وضاحت:
اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ہر مسلمان پر دین کے وہ مسائل سیکھنا فرض ہے جو ضروری ہیں، مثلا عقیدہ، نماز، روزہ کے مسائل یا اس سے مراد یہ ہے کہ جس مسلمان کو کوئی مسئلہ در پیش ہو تو ضروری ہے کہ اس کے بارے میں علماء سے پوچھے، ورنہ طلب علم فرض کفایہ ہے، اگر کچھ لوگ اس کو حاصل کر لیں تو باقی افراد عند اللہ ماخوذ نہ ہوں گے، اور اگر سبھی علم دین سیکھنا چھوڑ دیں تو سب گنہگار ہوں گے، امام بیہقی اپنی کتاب ”المدخل إلی السنن“ میں کہتے ہیں کہ شاید اس سے مراد یہ ہے کہ وہ علم سیکھنا فرض ہے جس کا جہل کسی بالغ کو درست نہیں، یا وہ علم مراد ہے جس کی ضرورت اس مسلمان کو ہو مثلاً تاجر کو خرید و فروخت کے احکام و مسائل کی، اور غازی کو جہاد کے احکام و مسائل کی یا یہ کہ ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض عین ہے، مگر جب کچھ لوگ جن کے علم سے سب کو کفایت ہو تحصیل علم میں مشغول ہوں تو باقی لوگ ترک طلب کے سبب ماخوذ نہ ہوں گے، پھر ابن مبارک کا یہ قول نقل کیا کہ ان سے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کو کسی مسئلہ کی ضرورت پڑے تو کسی عالم سے پوچھ لینا ضروری ہے تاکہ اس کا علم حاصل ہو، اور اس کی طرف اشارہ آیت:  «فاسألوا أهل الذكر»  میں ہے۔





(11) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي ذَرٍّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ الْمَوْتُ لِطَالِبِ الْعِلْمِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا وَهُوَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ مَاتَ وَهُوَ شَهِيدٌ " .
ترجمہ:
حضرت ابو ذر و حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب طالب علم کو موت آجائے اور وہ حالت طالبِ علمی میں ہو تو وہ شہید مرے گا۔
(جامع الاحادیث:1727)
[أخرجه البزار كما فى كشف الأستار (1/84، رقم 138) ، وقال الهيثمى (1/124) : رواه البزار، وفيه هلال بن عبد الرحمن الحنفى، وهو متروك. والخطيب (9/247) . وضعفه المنذرى (1/54) وقال: رواه البزار والطبرانى فى الأوسط.]



(12) عَنْ سَخْبَرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى ".
ترجمہ:
حضرت سخبرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم کی طلب گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہے۔
(جامع الاحادیث:22871)
[أخرجه الترمذى (5/29، رقم 2648) وقال: ضعيف الإسناد. وابن قانع (1/321) ، والطبرانى كما فى مجمع الزوائد (1/123) قال الهيثمى: فيه أبو داود الأعمى وهو كذاب. وأخرجه أيضًا: الدارمى (1/149، رقم 561) ، والديلمى (4/34، رقم 6105) ۔]



(13) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ "۔
ترجمہ:
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو (گھر سے)  نکلے علم طلب کرنے کیلئے، سو وہ حق تعالیٰ کی راہ میں رہے گا جب تک کہ لوٹے۔

(جامع الاحادیث:22127)
[أخرجه الترمذى (5/29، رقم 2647) وقال: حسن غريب. والضياء (6/124، رقم 2119) وقال: إسناده حسن. وأخرجه أيضًا: الطبرانى فى الصغير (1/234، رقم 380) ، والعقيلى (2/17، ترجمة 428 خالد بن يزيد اللؤلؤى) وقال: لا يتابع على كثير من أحاديثه.]



(14) عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ تَبْسِطُ لَهُ الْمَلائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ " .
ترجمہ:
حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا فرشتے طالب علم کے لئے پر اپنے بچھاتے ہیں اور استغفار کرتے رہتے ہیں اس کے لئے.

[جامع الاحادیث:7916 ، أخرجه البزار كما فى كشف الأستار (1/83، رقم 135) ، قال الهيثمى (1/124) : فيه محمد بن عبد الملك وهو كذاب. وأخرجه أيضًا: الديلمى (2/440، رقم 3916) .]





عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ، يَقُولُ : " طَالِبُ الْعِلْمِ تَبْسُطُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَطْلُبُ " .
ترجمہ:
انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتے طالب علم کے لئے پر اپنے بچھاتے ہیں بسبب رضامندی اس چیز کی جس کو وہ طلب کررہا ہے۔



(15) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان المؤمن اذا تعلم بابا من العلم عمل بہ او لم یعمل بہ کان افضل من ان یصلی الف رکعۃ تطوعاً۔ 
ترجمہ:
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان جب ایک باب علم کا سیکھتا ہے خواہ اس پر عمل کرے یا نہ کرے، سو یہ صرف سیکھنا ہزار رکعت نفل پڑھنے سے افضل ہے۔

[جامع الاحادیث:7372+21805 أخرجه الديلمى من طريق ابن لال (1/2/291-292) كما فى الضعيفة للشيخ الألبانى (7/135، رقم 3139) . أخرجه الخطيب (6/504) .]




(16) عن انس رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طالب العلم أفضل عند الله من المجاهد فی سبیل اللہ -
ترجمہ:
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طالب علم اللہ کے نزدیک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے سے افضل ہے۔
(مسند الفردوس للديلمي ، كنز العمال : 28727)




(17) عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنِ انْتَقَلَ لِيَتَعَلَّمَ عِلْمًا غُفِرَ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْطُوَ " .
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص طلب علم کی غرض سے نکلنا چاہے تو قدم اٹھانے سے پہلے جوتا پہنتے ہی گناہوں کی مغفرت ہوجاتی ہے۔
[جامع الاحدیث:21553]



(18)  عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَاءَ أَجَلُهُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لَقِيَ اللَّهَ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ إِلا دَرَجَةُ النُّبُوَّةِ "۔ 
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی موت طالب علمی کی حالت میں آجائے تو حق تعالیٰ سے وہ ایسی حالت میں ملے گا کہ اس میں اور نبیوں میں سوائے درجۂ نبوت کے اور کوئی فرق نہ ہوگا۔
[المعجم الأوسط للطبراني » بَابُ الْيَاءِ » مَنِ اسْمُهُ يَعْقُوبُ؛ رقم الحديث: 9688 ؛ الفقيه والمتفقه للخطيب » الْفَقِيهُ وَالْمُتَفَقِّهُ لِلْخَطِيبِ الْبَغْدَادِيُّ ... » بَابٌ فِي فَضْلِ الْعِلْمِ وَالْعُلَمَاءِ؛ رقم الحديث: 458 ؛ جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر » بَابُ الْحَضِّ عَلَى اسْتِدَامَةِ الطَّلَبِ وَالصَّبْرِ ... رقم الحديث: 425]

[جامع الاحادیث:21933+21934، 
أخرجه أيضًا: الطبرانى فى الأوسط (9/174، رقم 9454) قال الهيثمى (1/123) : فيه محمد بن الجعد وهو متروك.
 وأخرجه الخطيب (3/78) . وأخرجه أيضًا: الديلمى (3/559، رقم 5755) .]




(19) عن حسان بن ابی سنان، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: " طَالِبُ الْعِلْمِ بَيْنَ الْجُهَّالِ كَالْحَيِّ بَيْنَ الْأَمْوَاتِ " .
ترجمہ:
حضرت حسان بن ابی سنانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
طالب علم جاہلوں میں ایسا ہے جیسے زندہ مُردوں میں۔
[معجم السفر، للسلفي (م576ھ) » حَرْفُ الْعَيْنِ » مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ، رقم الحديث: 78]
[جامع الاحادیث:13907، 
قال الحافظ فى الإصابة (2/210، ترجمة 2091 حسان بن أبى سنان البصرى) : أحد زهاد التابعين مشهور أرسل حديث فذكره على بن سعيد العسكرى فى الصحابة.
حديث حذيفة: أخرجه الديلمى (2/439، رقم 3911) .
حديث أنس: أخرجه حمزة السهمى فى سؤالاته للدارقطنى (ص 228، رقم 318) وقال: قال أبو زرعة أحمد بن الحسين الرازى: عبد الله بن محمد بن يعقوب الحارثى ضعيف.]





(20) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَالِمُ أَمِينُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ " .
ترجمہ:
حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :عالم زمین پر اللہ کا امین (نائب) ہے۔
[جامع الاحادیث:14429 ، أخرجه الديلمى (3/72، رقم 4204) قال المناوى (4/370) : قال الحافظ العراقى: سنده ضعيف.]




(21) عن علیؓ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلماء مصابيح الأرض  , و خلفاء الأنبياء , وورثتي وورثة الأنبياء۔
ترجمہ:
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے کہ علماء زمین کے چراغ اور انبیاء کے خلفاء (جانشین) اور میرے اور دوسرے نبیوں کے وارث ہیں۔
[جامع الاحادیث:14508، أخرجه أيضًا: الرافعى (2/129) كشف الخفاء - الصفحة أو الرقم: 2/84.]
تشریح:
چراغ ہیں کیونکہ وہ جہالت یعنی کفر کے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکلنے اور نکالنے والے ہوتے ہیں۔
علماء وارث ہیں علمِ انبیاء کے۔ اللہ پاک نے فرمایا:
پھر ہم نے وارث کئے کتاب کے وہ لوگ جن کو چن لیا ہم نے اپنے بندوں میں سے۔۔۔
[سورۃ فاطر:35]




(22) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ ، يُحِبُّهُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمُ الْحِيتَانُ فِي الْبَحْرِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .[الوسيط في تفسير القرآن المجيد : رقم الحديث: 1]

عن انس رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلماء ورثة الانبياء ، يحبهم أهل السماء و یستغفر لھم الحیتان فی البحر اذا ماتوا الی یوم القیامۃ۔
ترجمہ:
روایت ہے حضرت براء بن عازب اور انس رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: علماء انبیاء کے وارث ہیں جن کو آسمان والے دوست رکھتے ہیں اور جب وہ مرتے ہیں تو قیامت تک دریا میں مچھلیاں ان کی مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔
(ابن النجار)



(23) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: " إذا اجتمع العالم والعابد على الصراط ، قيل للعابد : ادخل الجنة وتنعم بعبادتك قبل العالم ، وقيل للعالم : ههنا فاشفع لمن أحببت ، فإنك لا تشفع لأحد إلا شفعت ، فقام مقام الأنبياء "۔ 
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب عالم اور عابد صراط پر ملیں گے تو عابد سے کہا جائے گا کہ جنت میں چلا جا اور عبادت کے سبب سے جنت میں عیش کر‘ اور عالم سے کہا جائے گا کہ یہاں ٹھہر اور جس سے محبت رکھتا ہے اس کی شفاعت کر! جس کی شفاعت تو کرے گا قبول کی جائے گی‘ چنانچہ وہ انبیاء کے مقام میں کھڑا ہوگا۔
[جامع الاحادیث:1107، أخرجه الديلمى (1/326، رقم 1293) . قال المناوى (1/245) : فيه عثمان بن موسى عن عطاء أورده الذهبى فى الضعفاء وقال: له حديث لا يعرف إلا به، وفى الميزان قال: له حديث منكر. والحديث موضوع كما قال الحافظ أحمد الغمارى فى المغير (ص13) .]
(ابوالشیخ فی "الثواب" ؛ رواه الديلمي في " مسند الفردوس " ( 1/1/158 - 159) - مختصره)


الشواهد:
عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لِلْعَابِدِ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَإِنَّمَا كَانَتْ مَنْفَعَتُكَ لِنَفْسِكَ ، وَيُقَالُ لِلْعَالِمِ : اشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَإِنَّمَا كَانَتْ مَنْفَعَتُكَ لِلنَّاسِ " .
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبْعَثُ الْعَالِمُ وَالْعَابِدُ ، فَيُقَالُ لِلْعَابِدِ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، وَيُقَالُ لِلْعَالِمِ : اثْبُتْ حَتَّى تَشْفَعَ لِلنَّاسِ بِمَا أَحْسَنْتَ أَدَبَهُمْ " .





(24) عَنْ انس، و عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، و أَبِي الدَّرْدَاءِ ، والنُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوزَنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِدَادُ الْعُلَمَاءِ وَدَمُ الشُّهَدَاءِ ، فَيَرْجَحُ مِدَادُ الْعُلَمَاءِ عَلَى دَمِ الشُّهَدَاءِ " ۔
ترجمہ:
حضرت انس و حضرت عمران و حضرت ابی الدرداء و حضرت نعمان رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن سیاہی علماء کی اور خون شہیدوں کا تولا جائے گا اور علماء کی سیاہی کا وزن شہیدوں کے خون سے بڑھ جائے گا۔

[جامع الاحٓدیث:2694+19136+ ، عزاه المناوى (6/466) للشيرازى فى كتاب الألقاب عن أنس بن مالك.
11786(27145)حدیث النعمان: أخرجه ابن الجوزى فى العلل المتناهية (1/81، رقم 85) وقال: هذا لا يصح. قال المناوى (6/466) : قال الزين العراقى: سنده ضعيف.
11785(27146)حدیث ابی الدرداء: أخرجه ابن عبد البر فى جامع بيان العلم (1/31)]





(25) عن علی رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: عالم ينتفع به خير من ألف عابد ۔
(دیلمی فی الفردوس،  كنز العمال : 28723 )

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُتَّقُونَ سَادَةٌ وَالْفُقَهَاءُ قَادَةٌ ، وَالْجُلُوسُ إِلَيْهِمْ زِيَادَةٌ ، وَعَالِمٌ يُنْتَفَعُ بِعِلْمِهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ .
ترجمہ:
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا متقی لوگ سيد (سردار) ہیں اور فقہاء(دینی سمجھ والے علماء) قائد ہیں اور ان کی طرف (صحبت میں) زیادہ بیٹھا کرو، ایک عالم جس سے نفع ہو بہتر ہے ہزار عابدوں (بہت عبادت کرنے والوں) سے۔
[جامع الاحادیث:14037، أخرجه الديلمى (3/41، رقم 4100) قال المناوى (4/299) : فيه عمرو بن جميع قال الذهبى فى الضعفاء: قال ابن عدى: متهم بالوضع.]




(26) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَالِبُ الْعِلْمِ أَوْ صَاحِبُ الْعِلْمِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحُوتُ فِي الْبَحْرِ " ۔
ترجمہ:
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز عالم کے لئے مغفرت کی دعا کرتی ہے‘ یہاں تک کہ مچھلیاں دریا میں۔





(27) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا : عَابِدٌ وَالْآخَرُ عَالِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْض حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا ، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ۔
ترجمہ:
حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عالم کی فضیلت‘ عابد پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ شخص پر‘ یقینا اللہ تعالیٰ اور فرشتے اور آسمان و زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں، لوگوں کو اچھی بات سکھلانے والے کے حق میں دعا کرتے اور رحمت بھیجتے ہیں۔


علم کے حصول کیلئے معلم (اُسْتاد) کی ضرورت واہمیت

(28) عن واثلۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من شئ أقطع لظهر إبليس من عالم يخرج في قبيلة ۔
ترجمہ:
حضرت واثلہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی چیز ابلیس کی پیٹھ توڑنے میں زیادہ اثر نہیں رکھتی اس عالم سے جو کسی قبیلے میں پیدا ہو۔
[جامع الاحادیث:20515، مسند الفردوس للدیلمی:6150، كنز العمال:28755]



(29) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُجَالَسَةُ الْعُلَمَاءِ عِبَادَةٌ " .
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عالموں کے ساتھ بیٹھنا عبادت ہے۔
[جامع الاحادیث:21069 ، أخرجه الديلمى (4/156، رقم 6486) .]



(30) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْرِمُوا الْعُلَمَاءَ ، فَإِنَّهُمْ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ ، فَمَنْ أَكْرَمَهُمْ فَقَدْ أَكْرَمَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " ۔
ترجمہ:
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عالموں کی بزرگی (عزت و اکرام) کرو! اس لئے کہ وہ نبیوں کے وارث ہیں، جس نے ان کی بزرگی کی اس نے اللہ اور رسول کی بزرگی کی۔
[جامع الاحادیث:4353 +4352، أخرجه الخطيب (4/437) ، والديلمى (1/1/32) كما فى السلسلة الضعيفة للألبانى (6/199، رقم 2678) . قال المناوى (2/93) قال الزيلعى كابن الجوزى: حديث لا يصح، فيه الحجاج بن حجرة، قال ابن حبان: لا يجوز الاحتجاج به، وقال الدارقطنى يضع الحديث. قال العجلونى (1/196) : رواه الخطيب والديلمى بسند ضعيف.



عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْرِمُوا الْعُلَمَاءَ ، فَإِنَّهُمْ عَبِيدٌ عَلَى اللَّهِ ، كُرَمَاءُ غيرُ هُوَنَاءٍ " .
[حديث مشرق الحنيفي (سنة الوفاة:463) رقم الحديث: 22]
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْرِمُوا الْعُلَمَاءَ فَإِنَّهُمْ - يَعْنِي - وَرَثَةُ الأَنْبِيَّاءِ " .
[تاريخ دمشق، لابن عساكر(سنة الوفاة:571) » حَرْفُ الْخَاءِ » ذِكْرُ مِنِ اسْمُهُ عَبْدُ الْمُغِيثِ » عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ بْنِ ...رقم الحديث: 37789(37/104) جامع الاحادیث:4352]






(31) عن جابر رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ساعة من عالم متكئ على فراشه ينظر فى علمه خير من عبادة العابد سبعين عامًا ۔
ترجمہ:
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو عالم کہ ٹیکا لگائے ہوئے اپنے بستر پر‘اپنے علم میں ایک ساعت غور کرے ‘سو وہ عابد کی ستر (70) برس کی عبادت سے بہتر ہے۔
[جامع الاحایدث:12947 ، أخرجه الديلمى (2/333، رقم 3504) . والحديث موضوع كما قال الغمارى فى المغير (ص 57) .]



(32) عن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ سَبْعِينَ دَرَجَةً ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ۔
ترجمہ:
حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فضیلت عالم کی عابد پر ستر(70) درجے ہے‘ ہر درجے میں اتنی مسافت ہے جتنی آسمان و زمین میں ہے۔




(33) عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَقْبَلَ الْعُلَمَاءَ فَقَدِ اسْتَقْبَلَنِي ، وَمَنْ زَارَ الْعُلَمَاءَ فَقَدْ زَارَنِي ، وَمَنْ جَالَسَ الْعُلَمَاءَ فَقَدْ جَالَسَنِي ، وَمَنْ جَالَسَنِي فَكَأَنَّمَا جَالَسَ رَبِّي .
ترجمہ:
حضرت بہز بن حکیم سے روایت ہے کہ ۔۔۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے علماء کا استقبال کیا‘ اس نے میرا استقبال کیا‘ اور جس نے علماء سے ملاقات کی اس نے مجھ سے ملاقات کی‘ اور جو علماء کے ساتھ بیٹھا وہ میرے ساتھ بیٹھا، اور جو میرے ساتھ بیٹھا گویا وہ میرے رب کے ساتھ بیٹھا۔
[جامع الاحادیث:45710]
(التدوين في أخبار قزوين للرافعي » القول فيمن سوي المحمدين » باب العين في هذا الحرف أسماء كثيرة، رقم الحديث: 1219؛ كنز العمال: 28883)


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1من زار العلماء فكأنما زارني ومن صافح العلماء فكأنما صافحني ومن جالس العلماء فكأنما جالسني ومن جالسني في الدنيا أجلسه ربه في الجنةعبد الله بن عباستاريخ جرجان للسهمي2361 : 197حمزة بن يوسف السهمي345
2من زار العلماء فكأنما زارني ومن صافح العلماء فكأنما صافحني ومن جالس العلماء فكأنما جالسني ومن جالسني في الدنيا أجلس إلى يوم القيامةعبد الله بن عباسأخبار أصبهان لأبي نعيم26622 : 343أبو نعيم الأصبهاني430
3من استقبل العلماء فقد استقبلني ومن زار العلماء فقد زارني ومن جالس العلماء فقد جالسني ومن جالسني فكأنما جالس ربيمعاوية بن حيدةالتدوين في أخبار قزوين للرافعي1219---عبد الكريم الرافعي623
4من زار العلماء فقد زارني ومن صافح العلماء كأنه صافحني ومن جالس العلماء فكأنما جالسني ومن جالسني في الدنيا أجلس إليه يوم القيامةلم يذكر المصنف اسمهالفوائد المجموعة للشوكاني7271 : 249الشوكاني1255


(34) عن معاذ بن انس رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من علم علماً فلہ اجر من عمل بہ لا ینقص من اجر العامل شیئاً۔
ترجمہ:
حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو علم سکھلائے اس کو ثواب اس شخص کا ہے جو اس پر عمل کرے اور عمل کرنے والے کا ثواب کچھ کم نہ ہوگا۔
[جامع الاحایدث:22981 ، أخرجه ابن ماجه (1/88، رقم 240) قال البوصيرى (1/34) : هذا إسناد فيه مقال. والطبرانى (20/198، رقم 446) .]




(35) عن ابی سعید رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من علم آیۃ من کتاب اللہ او باباً من علم انمی اللہ اجرہ الی یوم القیامۃ۔
ترجمہ:
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی قرآن شریف کی ایک آیت یا کوئی باب علم کا کسی کو سکھلادے تو حق تعالیٰ اس کا ثواب قیامت تک بڑھاتا جائے گا۔
(ابن عساکر)




(36) عن سمرۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما تصدق الناس بصدقۃ افضل من علم ینشر۔ (طب)
ترجمہ:
حضرت سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی صدقہ علم کی اشاعت سے بہتر نہیں ہے۔
[جامع الاحادیث:19976 ، أخرجه الطبرانى (7/231، رقم 6964) قال الهيثمى (1/166) : فيه عون بن عمارة، وهو ضعيف.]




(37) عن ابی بکر رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اغد عالما او متعلما او مستمعاً او محباً ولا تکن الخامس فتھلک۔ (طس)
ترجمہ:
حضرت ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بن تو عالم یا علم سیکھنے والا‘ یا سننے والا‘ یا دوست اس کا‘ اور پانچویں قسم سے مت بن کہ ہلاک ہوجائے گا۔
[جامع الاحایدث:3881  ، أخرجه البزار (9/94، رقم 3626) ، والطبرانى فى الأوسط (5/231، رقم 5171) ، والبيهقى فى شعب الإيمان
(2/265، رقم 1709) . وأخرجه أيضاً: الطبرانى فى الصغير (2/63، رقم 786) ، قال الهيثمى (1/122) : رواه الطبرانى فى الثلاثة، والبزار، ورجاله موثوقون. وأخرجه أبو نعيم فى الحلية (7/237) . قال المناوى (2/17) : قال الحافظ أبو زرعة العراقى: هذا حديث فيه ضعف، ولم يخرجه أحد من أصحاب الكتب الستة، وعطاء بن مسلم وهو الخفاف مختلف]





(38) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلم دین، والصلاۃ دین فانظروا عمن تاخذون ھذا العلم و کیف تصلون ھذہ الصلاۃ فانکم تسئلون یوم القیامۃ۔ (فر)
ترجمہ:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم دین ہے اور نماز بھی دین ہے‘ تو دیکھو کہ تم اس علم کو کیسے شخص سے سیکھتے ہو اور یہ نماز کیسی ادا کرتے ہو‘ کیونکہ تم سے قیامت کے دن اس کا سوال ہوگا۔
[جامع الاحایدث:14496 ، أخرجه الديلمى (3/67، رقم 4190) .]



(39) عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خیار امتی علماؤھا و خیر علمائھا رحماؤھا‘ الا! و ان اللہ تعالیٰ لیغفر للعالم اربعین ذنباً قبل ان یغفر للجاھل ذنباً واحدا‘ الا! وان العالم الرحیم یجیء یوم القیامۃ و ان نورہ قد اضاء یمشی فیہ ما بین المشرق و المغرب کما یضیء الکوکب الدری۔ (حل‘ خط)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے وہ لوگ بہتر ہیں جو علماء ہیں‘ اور علماء میں وہ بہتر ہیں جو رحم دل ہیں‘ اور حق تعالیٰ عالم کے چالیس گناہ بخش دیتا ہے قبل اس کے کہ جاہل کا ایک گناہ بخشے‘ رحم دل عالم قیامت کے دن اس شان سے آئے گا کہ نور اس کا مشرق و مغرب تک روشن ہوگا جیسے کوئی ستارہ روشن ہوتا ہے‘ اور وہ اس نور میں راہ طئے کرے گا۔
[جامع الاحادیث:12000 ، حديث أبى هريرة: أخرجه أبو نعيم فى الحلية (8/188) وقال: غريب لم نكتبه إلا من هذا الوجه، والخطيب (1/237) ، وابن عساكر (56/118) ، وابن الجوزى فى العلل المتناهية (1/139، رقم 203) وقال: هذا حديث أنكره الخطيب وكأنه لم يتهم فيه إلا السلمى. وأخرجه أيضًا: والديلمى (2/174، رقم 2865) .
حديث ابن عمر: أخرجه القضاعى (2/241، رقم 1276) . وقال الذهبى فى الميزان (6/64، ترجمة 7211 محمد بن إسحاق السلمى المروزى) : فيه جهالة وأتى بخبر باطل متنه خيار أمتى علماؤها. والحديث موضوع كما قال الحافظ أحمد الغمارى فى المغير (ص 44) .]



(40) عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا حسد ولا تملق الا فی طلب العلم۔ (عد‘ ھب والخطیب)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوائے طلب علم کے حسد اور خوشامد کسی چیز میں نہ کرنا چاہئے۔
[جامع الاحادیث:17048 ،أخرجه ابن عدى (6/222، ترجمة 1692 محمد بن عبد الله بن علاثة) وقال: هذا حديث منكر. والبيهقى فى شعب الإيمان (4/224، رقم 4862) ، والخطيب (13/275) . وأورده أيضًا: ابن حبان فى الضعفاء (2/280، ترجمة 973 محمد بن علاثة) ، وقال: يروى الموضوعات عن الثقات.]



٭٭٭



یہ چالیس حدیثیں کنز العمال سے نقل کی گئی ہیں‘ اور جو رموز کہ ہر حدیث کے آخر میں مذکور ہیں ان کی تفسیر یہ ہے:



(ت) ترمذی، (د) ابو داؤد، (طب) طبرانی فی الکبیر، (عد) ابن عدی فی الکامل، (حل) ابو نعیم فی الحلیہ، (ص) سعید بن منصور، (طس) طبرانی فی الاوسط ، (فر) دیلمی فی الفردوس، (ھب) بیہقی فی شعب الایمان، (خط) خطیب، (ط) ابو داؤد طیالسی، (ع) ابو یعلی، (ک) حاکم۔



مذکورہ بالا احادیث سے ظاہر ہے کہ علم ایک دینی حق ہے‘ اس کو دنیا سے کوئی تعلق نہیں‘ یہ بات اور ہے کہ اس کے ضمن میں دنیا حاصل ہوجائے جیسا کہ تجربے اور ساتویں حدیث سے ظاہر ہے-

یہ نہیں ہوسکتا کہ علم صرف دنیا کی غرض سے حاصل کیا جائے اور اس پر ان فضائل و ثواب کی توقع کی جائے جن کا وعدہ دیا گیا ہے‘ اس وعدے کا ایفا توجب ہی ہو کہ نیت میں للہیت اور خلوص ہو جیسا کہ حدیث شریف " انما الاعمال بالنیات " سے اور آیت شریفہ " من کان یرید حرث الاٰخرۃ نزد لہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدنیا نؤتہ منھا وما لہ فی الاٰخرۃ من نصیب " سے ظاہر ہے۔


البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ عربی علوم پڑھنے کے بعد بھی آدمی دنیاوی ترقی بھی کرسکتا ہے یا نہیں؟ جن کی نظر تاریخی کتابوں پر ہے‘ وہ جانتے ہیں کہ ہر زمانے میں علماء نے کیسی کیسی ترقیاں کیں بلکہ اگر کلیہ نہیں تو اکثر یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی نے ابتدائً ترقی کی وہ شخص عالم تھا گو بوجہ اشتغال دنیاوی اس کا نام طبقات علماء میں نہ لکھا گیا ہو‘ کیونکہ علوم عربیہ میں بعض وہ علوم ہیں جو صرف قوت فکریہ کو بڑھانے اور ہر قسم کے مطالب سونچنے اور صحیح مقصود نکالنے میں مدد دیتے ہیں اور بعض دائرۂ خیال کو وسیع کرتے ہیں‘ اور عموماً ترتیب تعلیم و انتخاب کتب درسیہ میں یہ لحاظ رکھا گیا ہے کہ قوت فہم بتدریج ترقی پذیر اور دقت پسند و نکتہ رس ہوجائے –

یہ امر ظاہر ہے کہ جب کئی سال تک ذہن سے وہ کام لیا جائے جس سے روز بروز قوت بڑھے اور صفائی پیدا ہو تو ذہن کس اعلیٰ درجے کی قوت پر ہوگا! پھر کیا؟ باوجود اس مشاقی کے کسی کام میں رکے گا؟ ہرگز نہیں‘ بلکہ بذریعہ ان قواعد کے جس کی مشق ایک مدت تک کی ہے کامیاب ہی ہوگا‘ یہ بات اور ہے کہ قسمت یاوری نہ کرے‘ اس میں تو وہ لوگ بھی برابر ہیں جنہوں نے عمر بھر دوسرے فنون و ذرائع دنیاوی حاصل کئے اور نان شبینہ تک کے محتاج ہیں‘ لیکن باایں ہمہ عالم اوروں سے بڑھا ہوا ہی رہے گا۔


دیکھ لیجئے کسی اجنبی ملک سے کوئی عالم آجاتا ہے تو بحسب مدارج علم لوگ اس کی تعظیم و توقیر کرنے لگتے ہیں‘ نہ اس کو اس بات کے حاصل کرنے میں مال کی ضرورت ہوتی ہے نہ شان و شوکت کی-

غرض عالم اگر خاص فقر و فاقہ میں بھی رہے تو کسی ایک قوم کا سردار اور ان میں معزز بنارہے گا اور اس کو وہ وجاہت حاصل ہوگی جو دوسروں کو نہ ہوگی‘ اور ظاہر ہے کہ وہ وجاہت ترقی دنیا کی اگر مقصود اصلی نہیں تو اس کے رکن اعظم ہونے میں کلام نہیں۔


غرض علوم عربیہ ترقی دنیاوی کے لئے بھی کمال درجے کی ممد و معاون ہیں-

اب اہل دانش سمجھ سکتے ہیں کہ وہ شئے جس کو دین میں وہ وقعت اور دنیا میں وہ شوکت حاصل ہے تو کس قدر اس کے حاصل کرنے میں سعی و جانفشانی کرنا چاہئے۔


حق تعالیٰ اہل اسلام کو توفیق دے کہ تحصیل علوم میں سعی کرکے مدارج دارین حاصل کریں اور جو خود حاصل نہ کرسکیں تو اتنا تو کریں کہ ان مدارس میں جہاں تدریس اپنے دینی علوم کی ہوتی ہے تائید و معاونت پیش کریں اور بفحوائے حدیث شریف " الدال علی الخیر کفاعلہ " اس ثواب عظیم میں شریک ہوں۔

وباللہ التوفیق-
(مقاصد الاسلام ،حصہ چہارم،ص:28/43)



2 comments:

  1. بہت ہی عمدہ کمال کردیا
    تعریف کے لئے سب الفاظ کم محسوس ہورہے ہیں ۔ اللہ جزاء خیر عطا فرمائے ۔ آمین

    ReplyDelete
  2. zabardast jinab aali bhot he acha likha hy ap n.allah ap k ilm m izafa or ap k qalam ko mazeed mazboot or mustahkam kr dy
    ameen

    ReplyDelete